کالم

جنوبی ایشیا میں مسلم مملکت کےلئے اقبالؒ کی ویژن

rana-baqi

شاعر مشرق ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبالؒ برّصغیر ہندوستان کے طول و ارض میں پھیلے مسلمانوں میں اسلامی مذہبی احساسات و محسوسات کی یکجہتی کو مشترکہ صفت سمجھتے تھے اور بل خصوص جنوبی ایشیا کے مسلم اکثریتی خطوں میں اسلامی کلچر کی بنیاد پر بّرصغیر ہندوستان کے مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ اسلامی فلاحی مملکت کے داعی تھے ۔ علامہ اقبال وجدانہ صفت رکھنے والی ویژن کے مالک تھے جبکہ اُنکی ویژن کو عملی شکل دینے کےلئے غیر معمولی فکر و نظر رکھنے والے قائد کی ضرورت تھی۔ چنانچہ قائداعظم محمد علی جناح جو غیر معمولی خدا داد سیاسی فہم و فراست اور تدبرکے مالک تھے ، نے علامہ اقبال کی اِس ویژن کا بروقت ادراک کیا اور حصولِ پاکستان کےلئے ناقابلِ شکست سیاسی جدوجہد کے ذریعے پاکستان حاصل کیا ۔ اِس حقیقت کو پیش نظر رکھنا چاہیے کہ ہندوستان میں انگریز ہندو گٹھ جوڑ اور غیرمعمولی انتہا پسند ہندو اکثریتی آبادی کی موجودگی میں مسلمانانِ ہند میں علیحدہ مسلم مملکت کی جوت جگانا کوئی معمولی کام نہیں تھا۔ یہ درست ہے کہ مغلیہ دورِ حکومت میں شہروں اور دیہاتوں میں ہندو اور مسلمان آبادیاں معاشرتی توازن کےساتھ co-existکرتی رہیں لیکن مغلیہ سلطنت کے خاتمے پر مسلمان آبادیوں کے مسائل میں اُس وقت بے حد اضافہ ہوا جب انگریز کمپنی بہادر اور برطانوی حکومتِ ہند نے جو بتدریج مسلمان نوابین اور مغلیہ سلطنت کی جگہ اقتدار میں آئی تھی ، نے مسلمانوں کو سیاسی اور معاشی طور پر تباہ کرنے کےلئے انتہا پسند ہندوﺅں کو برطانوی حکومت ہند کے اقتدار اعلی میں شریک کیا ۔ پروفیسر محمد منور اپنی کتاب تحریکِ پاکستان کے تاریخی خدوخال میں لکھتے ہیں ” بّر صغیرکے مسلمانوں کے خلاف ہندوﺅں اور انگریزوں نے کس طرح باہم گٹھ جوڑ کر لیا یہ ایک طویل اور دردناک کہانی ہے ۔ اِن دونوں قوموں نے مسلمانوں کے حقوق پامال کئے اور اُنہیں یکسر برباد کرنے کےلئے سارا زور لگا ڈالا ۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی تاریخ بھی ایسی گھناﺅنی کوششوں سے پُر ہے ۔ بنگال میں جہاں انگریزی حکومت سب سے پہلے قدم جمانے میں کامیاب ہوئی ، وہاں جملہ انتظامی مشینری ہندوﺅں کے حوالے کر دی گئی ۔ مسلمان چپڑاسی سے بڑھ کر کسی عہدے کی اُمید نہیں رکھ سکتے تھے ۔ یہ وہ حقائق ہیں جن کی تائید تاریخی دستاویزات کرتی ہیں۔ اندریں حالات مسلمانوں کےلئے یہ ایک مشکل تر مرحلہ تھا جس کا ہندو انڈیا کے حوالے سے جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔
قارائین کرام ، جواہر لال نہرو کو جدید ہندوستان کا بانی سمجھا جاتا ہے ۔ نہرو جدید دنیا کے علوم کے ماہر تھے، تاریخ پر اُن کی گہری نظر تھی چنانچہ اُن کی فکر پر ماضی میں جنوبی ایشیا میں کابل سے بنگال تک پھیلی ہوئی ہندو ریاست کے بانی چندر گپت موریا اور اُس کے وزیر و مشیر اور ہندو تاریخ کے مشہور سیاسی دانشور چانکیہ کوٹلیہ کی سوچ ہمیشہ ہی حاوی رہی۔ یہ نہروکی ہی سیاسی شخصیت تھی جس نے جنوبی ایشیا میں بھارت ماتا کے نام پر وحدت ہندوستان یا اکھنڈ بھارت کے تصور کو پھر سے زندہ کیا ۔ وہ چانکیہ کی فکر و نظر کے قائل تھے اور چانکیہ کو بہت ہی لائق و فائق سیاسی دانشور گردانتے تھے ۔ اُن کی فکر کے مطابق چانکیہ نہ صرف بڑا فاضل بلکہ چندر گپت کی سلطنت کے قیام ، ترقی اور استحکام میں زبردست شریک اور مددگارتھا جسے موجودہ دور کے میکاولی سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے ۔ نہرو سمجھتے تھے کہ وہ اپنے عمل اور ذہنی قابلیت میں میکا ولی سے بھی بڑھ کر تھا کیونکہ چانکیہ اپنے مقصد کی پیروی اور حصول میں اخلاقی اصول سے بے نیاز اور ارادے کا پختہ تھا ۔ نہرو کا کہنا تھا کہ چانکیہ نے آخری فتح اِس طرح حاصل کی کہ سکندر اعظم کی ہندوستان پر قابض فوج جسے وہ دشمن کی فوج سے تعبیر کرتے تھے میں پہلے تو سازشوں کے ذریعے بے چینی اور بے اطمینانی کا بیج بویا اور جب یہ بیج پھل لے آیا تو اُس نے چندر گپت کے ساتھ مل کر ہندوستان میں موثر مرکزی حکومت قائم کی ۔ جواہر لال نہرو نے چونکہ چانکیہ کی سیاسی حکمت عملی کا گہرا مطالعہ کیا تھا ، لہذا وہ چندرگپت کی طرح ہی گاندہی جی کےساتھ مل کر وحدتِ ہندوستان کے نام پر جنوبی ایشیا میں ایک عظیم ہندو ریاست کی بنیاد رکھنا چاہتے تھے ۔ جواہر لال نہرو اِس اَمر کو اچھی طرح جانتے تھے کہ آٹھویں صدی عیسوی میں سندھ سے شروع ہونے والی اسلامی فتوحات جنہیں افغانستان کی جانب سے آنے والے مسلم لشکروں کی آمد نے ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک ہزار سالہ حکمرانی میں تبدیل کر دیا تھا ، ہندو سماج کےلئے ہمیشہ ہی ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی تھی ۔ وہ جانتے تھے کہ اسلام کی ہندوستان میں آمد کے بعد ہندو ازم کی امتزاج و جذب کی معاشرتی قوت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے کیونکہ گذشتہ کئی صدیوں میں لاکھوں ہندوﺅں نے ہندوستان کے طول و ارض میں اسلام قبول کیا ۔ نہرو اپنی کتاب تلاشِ ہند میں لکھتے ہیں کہ اعلیٰ ذاتوں کے ہندو تو فرداً فرداً اسلام قبول کرتے تھے لیکن نچلی ذات کے ہندوﺅں میں پوری برادری یا پور ا گاﺅں اسلام قبول کرتا تھا ۔ وادی¿ کشمیر میں مدت سے ہندو اسلام قبول کرتے رہے ہیں اور وہاں کی نوے فی صد آبادی مسلمان بن چکی ہے ۔ ماضی میں (مسلم دور حکومت میں) لوگوں نے خواہ انفرادی طور پر اسلام قبول کیا یا جماعتی طور پر کیا ، ہندو قوم نے اِس کی مخالفت نہیں کی لیکن آجکل (انگریز ہندو گٹھ جوڑ کے بعد) معاملہ اِس کے بالکل برعکس ہے ، اگر کوئی شخص اسلام قبول کرتا ہے تو ہر طرف غم و غصہ کے جذبات مشتعل ہو جاتے ہیں ۔
درج بالا تناظر میں اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اورنگزیب عالمگیر کی وفات کے بعد اٹھارویں صدی میں جب مسلمانوں کی عظیم الشان مغلیہ سلطنت پر زوال کے آثار نمایاں ہونے شروع ہوئے اور انگریز کمپنی بہادر کی اُبھرتی ہوئی سامراجی سیاسی قوت نے مسلمان نوابین کے باہمی انتشار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی بہتر سیاسی ، فوجی اور انتظامی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اونچی ذات کے ہندوﺅں کو اپنے ساتھ ملایا اور بتدریج بّرصغیر ہندوستان پر قابض ہوگئے ۔ کیونکہ انگریزوں نے ہندوستان میں اقتدار مسلمانوں سے حاصل کیا تھا چنانچہ اُنہوں نے ہندوﺅں کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کی اور مسلمانوں کو بحیثیت قوم کرش کرنے کی پالیسی اپنائی ۔ یہی وہ پس منظر تھا جب ابتدائی طور پر سر سید احمد خان نے مسلمانانِ ہند کو مکمل تباہی سے بچانے کےلئے انگریز حکمرانوں کےساتھ صلح کن رویہ اختیار کیا اور مسلمانوں کو مستقبل کی سیاسی جد و جہد کےلئے جدید تعلیم کے حصول کےلئے رضامند کیا ۔ سرسید احمد خان کی وفات کے بعد علامہ اقبالؒ نے اپنی فکری شاعری کے ذریعے نہ صرف قوم کو جگایا بلکہ ہندوستان میں مسلم قومیت کے فلسفے کو آگے بڑھاتے ہوئے مسلمانوں میں ایک علیحدہ مملکت کی جہت کی جوت جگا کر بے مثال کام کیا ۔ علامہ اقبال ، اسلامی تہذیب و تمدن پر مغرب کی یلغار کے سبب مسلم قوم کی بگڑتی ہوئی حالتِ زار پر کڑتے تھے اور مسلمانوں کو غلامی سے نجات کےلئے آزادی و سربلندی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے تھے اور اِسی حوالے سے اُن کی شاعری نے مسلمانانِ ہند میں خود آگہی ، خودی و ذاتی بصیرت کی تلاش اورسنہرے مستقبل کی جستجو کےلئے جذبہءحریت کو بیدار کر دیا ۔ بلاشبہ حکیم الااُمت ڈاکٹر علامہ اقبال نے اُمتِ اسلامیہ کو زوال کی کیفیت سے نکالنے کےلئے اپنی شہرہ آفاق نظموں شکوہ اور جواب شکوہ کے ذریعے مسلمانانِ ہند کی کھوئی ہوئی عظمت کا احساس دلانے کےلئے اُمتِ اسلامیہ کے ضمیر کو جھنجھوڑا اور مسلمانانِ ہند کے دلوں کو عظمتِ رفتہ کے عظیم مناظر دکھا کر گرمایا ۔ اُنہوں نے شکوہ اور جوابِ شکوہ میں مسلمانوں کی اسلامی تعلیمات سے غفلت ، فرقہ پسندی ، باہمی انتشار اور عملی زندگی میں سرزد ہونے والی کوتاہیوں کی نشان دہی کی اور بیداری¿ فکر سے انسانی جدوجہد کے جذبے کو مہمیز دینے کےلئے تیز تر کرنے کےلئے اپنے پیغامی کلام کے ذریعے مسلمانانِ ہند کو خواب غفلت سے جگانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ درحقیقت علامہ اقبال نے دسمبر 1930 میں اپنے صدارتی خطبہ¿ الہ آباد میں اِس اَمر کی کی قدرے وضاحت کر دی تھی کہ ہندوستان کے شمال مغرب میں مستقبل کی مسلم ریاست مسلم اکثریتی خطوں میں ہی قائم کی جا سکتی ہے۔ قائداعظم ، علیحدہ مسلم ریاست کے حوالے سے فکرِ اقبال سے متفق تھے لیکن 1937 میں تحریک پاکستان کے باقاعدہ آغاز کے باوجود قرارداد لاہو کی شکل میں قرارداد پاکستان 1940 سے قبل نہیں لائی جا سکی کیونکہ قائداعظم ہندوستان کے ہندو اکثریتی صوبوں میں مسلمانوں کی حالت زار پر مسلسل غور و فکر کرتے رہے لیکن 1938 میں علامہ اقبال کی وفات کے بعد بلاآخر قائداعظم طویل سوچ و بچار کے بعد اِسی نتیجے پر پہنچے کہ بّرصغیر میں مسلمانوں کو مکمل تباہی سے بچانے کےلئے مسلم اکثریتی صوبوں میںعلیحدہ مسلم مملکت کا مطالبہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ قائداعظم نے 1937/38 میں علامہ اقبال کی جانب سے قائداعظم کو لکھے گئے خطوط جو علامہ اقبال کی وفات (1938) کے بعد 1943/44 میں شائع ہوئے ، کے دیباچے میں قائداعظم نے اِس اَمر کا اعتراف کیا کہ علامہ اقبال 1938 میں اپنی وفات سے قبل اُن سے ایک آزاد مسلم ریاست کے مطالبے کے اصول کو منوا چکے تھے ۔ قائد نے مزید لکھا ” اقبال کی رائے بنیادی طور پر میری رائے کے مطابق ہی تھی اور آخر کار یہ رائے مجھے اُن نتائج تک پہنچا کر رہیں جو مجھے ہندوستان کے دستوری مسائل پر گہرے غور و فکر کے بعد حاصل ہوئیں اور یہی فکری نتائج مسلمانانِ ہند کے متحدہ عزم کی شکل میں ظاہر ہوئے اور قراردادِ لاہور میں شامل ہوئے ۔ حقیقت یہی ہے کہ علامہ اقبال کی مسلمانوں کی علیحدہ مملکت کی ویژن کی موجودگی میں مسلمانوں کی بھاری اکثریت نے نہرو کے وحدتِ ہندوستان کے تصور کو مسترد کر دیا اور قائداعظم کی تحریک پاکستان نے بّرصغیر کی تاریخ کے دھارے کا رخ موڑکر رکھ دیا ۔ ختم شد

مودی کی آمد پر کشمیری سراپا احتجاج

riaz-ahmed

بھارتی وزیراعظم نریند مودی کی مقبوضہ کشمیر کے ایک روزہ دورہ پر آمد کے موقع پر پوری وادی سراپا احتجاج بن گئی۔ سرینگر میں غیراعلانیہ کرفیو نافذ تھا۔ شہریوں کی نقل و حرکت پر مکمل پابندی تھی۔ پوری ریاست کو عملاً فوجی چھاو¿نی میں تبدیل کردیا گیا۔ مودی کا اعلان کردہ 12.1 ارب ڈالر (8 سو ارب بھارتی روپے) کا اقتصادی پیکیج بھی کام نہ آیا۔کٹھ پتلی حکومت نے پوری مقبوضہ وادی میں تاریخ کا سب سے بڑا کریک ڈاو¿ن کرتے ہوئے سرینگر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا دیا۔ وادی میں تمام کاروباری سرگرمیاں‘ موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی۔ سرینگر کی گلیاں سنسان رہیں جن میں قابض بھارتی فوج گشت کرتی رہی۔مودی کی وادی مےں آمد کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ مودی کے جلسے کو کامیاب بنانے کے لئے خصوصی طور پر دہلی سے شیو سینا کے کارندے بھی بلائے گئے تھے۔ شیرکشمیرسٹیڈیم کے آس پاس تمام علاقوں میں سڑکوں اور گلی کوچوں میں رکاوٹیں کھڑی کی گئےں کسی شخص کوچلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سٹیڈیم کو پولیس اور فورسز نے چاروں اطراف سے گھیر لیا گےا تھا۔ پل پل کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کےلئے سٹیڈیم کے گردونواح میں نہ صرف اضافی خفیہ کیمرے نصب کئے گئے تھے بلکہ فورسز کی ایسی درجنوں گاڑیاں گشت کررہی تھےں جن پر سی سی ٹی وی نصب تھے۔ زیرو برج سے سٹیڈیم کی طرف جانے والا راستہ رام منشی باغ تک گاڑیوں کی آمدورفت کےلئے بند کر دیا گیا۔ رام منشی باغ تھانے کے قریب لکڑی کا ایک بڑا گیٹ تیار کیا گیا تھااور علاقہ میں سیکورٹی کا جال بچھایا گیا تھا۔ ملےن مارچ کے راستوں کو سےل کر دےا گےا تھا۔ اہم پلوں اور چوراہوں پر خار دار تارلگائی گئی۔ سڑکوں اور چوراہوں پر پولیس اور فورسز کے اضافی دستے ہر طرف نظر آرہے تھے۔ لوگوں کو گھروں کے اندر محصور رکھا گیا۔ سخت ترین پابندیوں کی وجہ تاریخی جامع مسجد اور دیگر کئی چھوٹی بڑی مساجد میں نماز کی ادائیگی نہ ہوسکی۔ کئی مقامات پر راہ گیروں کی جامہ تلاشی لی گئی۔ لال چوک میں اگرچہ لوگوں کے چلنے پھرنے پر پابندی عائد نہیں تھی لیکن بازاروں میں کاروباری سرگرمیاںمعطل رہیں اور ہڑتال کی گئی۔ ٹریفک کی نقل و حرکت بند رہی سکول اور کالجوں کے ساتھ ساتھ سرکاری دفاتر میں ملازمین کی حاضری برائے نام رہی۔ مقبوضہ وادی میں کرفیو اور پابندیوں کے باوجود مودی کی آمد پر کشمیریوں نے احتجاجی مظاہرے کئے، کئی مقامات پر بھارتی فوج اور پولیس سے جھڑپیں ہوئیں۔ کشمیریوں نے سیاہ پرچم لہرائے۔ سرینگر سمیت مختلف شہروں میں ہزاروں افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ کل جماعتی حرےت کانفرنس کے قائدےن علی گےلانی، مےر واعظ عمرفاروق، ےاسےن ملک، شبےر شاہ سمےت تمام قےادت بدستور نظر بند تھی۔حریت رہنما علی گیلانی نے نظربندی توڑ کر گھر سے نکلنے کی کوشش کی جس پر پولیس نے انہیں گرفتار کرکے تھانے میں بند کردیا ۔ کشمیریوں کی طرف سے نریندر مودی کی آمد پر احتجاجاً سیاہ غبارے فضا میں چھوڑے گئے۔ نریندر مودی کی آمد پر احتجاجی ریلی کی قیادت کرنے والے ایم ایل اے انجینئر رشید کو سیاہ پرچم لہرانے پر گرفتار کر لیا گیا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مقبوضہ جموں وکشمےر پر روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے، اس معاملے پر بےن الاقومی کردار اور کسی کے مشورے کی ضرورت نہےں، میں کشمیر پر دنیا میں کسی کی نہیں سنتا۔ کشمیر کے بغیر بھارت ادھورا ہے،کشمیریوں نے بہت کچھ جھیلا اور مشکلات دیکھی ہیں۔ کشمیریت، خدمت اور انسانیت کے جذبے سے آگے بڑھیں گے۔حریت رہنماو¿ں نے نریندر مودی کا 12 ارب ڈالر کا پیکیج مسترد کردیا ہے۔ بزرگ حریت پسند رہنما سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ کشمیری آزادی کی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیں گے۔ کشمیر میں مالیاتی پیکیجز مسائل کا حل نہیں، کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دینے سے ہی مسائل حل ہوں گے کشمیر میں بھارت نواز قوتیں بھارتی فوج کے اشاروں پر چلتی ہیں۔ نریندر مودی عالمی امن کیلئے خطرہ ہیں۔ عالمی برادری کشمیر میں ہونے والی زیادتیوں کا نوٹس لیتے ہوئے مسئلے کے جلد سے جلد حل کو یقینی بنائے۔ محمد یاسین ملک نے جیل سے اپنے پیغام میں کہا کہ بھارتی وزیاعظم نریندر مودی کے جلسے کو کامیاب بنانے اور آزادی پسندوں کے احتجاج کو روکنے کیلئے بھارتی پولیس اور انتظامیہ نے ہزاروں گرفتار افراد کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ مفتی کی کٹھ پتلی حکومت تھانوں، جیل خانوں اور دوسرے مراکز پر قید حریت پسندوں پر 1990ءکی دہائی کی طرح مظالم ڈھا رہی ہے۔ نظربندوں کو باہر کی دنیا سے لاتعلق رکھا جاتا ہے اور ان کو گھر والوں کے ساتھ ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔ مودی پیکیج پر ردعمل میں مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ مودی نے کشمیر کے مسئلے کو روپے پیسے میں تولنے کی غلطی دہرائی ہے۔ سات لاکھ بھارتی فوج اور ایک لاکھ پولیس کو وسیع اختیار دیکر وادی کو عملاً جیل میں تبدیل کر دیا گیا ۔ بھارت کشمیریوں کا حق آزادی زیادہ دیر تک دبا کر نہیں رکھ سکتا۔ کشمیری اپنی منزل پر پہنچ کر دم لیں گے۔ ملین مارچ ہو ہوگا اور دنیا جان لے گی کہ کشمیری کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔ مودی کی جماعت بھارت میں فسادات کرنے کی ذمہ دار ہے جس میں ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔ مودی نے کشمیر پیکج دے کر کشمیریوں کو خریدنے کی کوشش کی۔ مودی کے اس حربے پر کشمیریوں کو ڈوگرہ راجہ کی یاد آگئی جس نے کشمیر کو پچھتر لاکھ روپے میں انگریزوں سے خرید لیاتھا۔ عمر عبداللہ نے بھی کہا ہے کہ مودی نے کشمیریوں کی قیمت لگانے کی غلطی دہرائی ہے۔ گلی گلی رکاوٹیں، سڑکوں پر سناٹا، شہروں میں ہو کا عالم، مقبوضہ سری نگر پر کوئی قیامت نہیں ٹوٹی، آج یہاں بھارتی وزیراعظم مودی اترے ہیں۔ کشمیری کشمیر کے مسئلے کا سیاسی حل چاہتے ہیں، پیکیج مسئلہ کشمیر کا حل نہیں۔ نریندر مودی کا دورہ کشمیر مظلوم کشمیری مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ بھارت سرکار پاکستان سے بات چیت کیلئے تیار نہیں اور حریت قیادت کو مذاکرات کی دعوت دیکر دنیا کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔اقتصادی پیکج کے اعلانات سے کشمیریوں کو مرعوب نہیں کیا جاسکتا۔کشمیریوں کا احتجاج اور شدید ردعمل دیکھ کربھارت سرکار کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔

بھارتی کسانوں میں خودکشیوں کا بڑھتا ہوا رجحان؟

nasir-raza-kazmi

بھارت دنیا میں مہلک سے مہلک اور جدید سے جدید اسلحہ کی خریداری میں پہلے نمبر پر ‘لیکن اپنے عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی میں دنیا کی سب سے نچلی سطح پر کیوں گنا جارہا ہے اِس کی کئی توجیحات ہیں، مختلف النوع کئی جہات ہیں کن کن کا یہاں پر تذکرہ کریں کالم کی تنگی نے قلم کا دامن پکڑ ا ہوا ہے بھارت کے پڑوس میں کون سا ایسا ملک ہے جسکی بھارت کے ساتھ سرحدی چپقلش نہیں ‘ نیپال ‘ بنگلہ دیش ،خصوصاً پاکستان اور چین ہر کسی چھوٹے بڑے ایٹمی غیر ایٹمی پڑوسی ملک کے ساتھ بھارت نے زبردستی کے گنجلک نوعیت کے انتہائی پیچیدہ جھگڑے مول لے رکھے ہیں اگر اُسے کوئی فکر وتشویش نہیں ہے تو وہ ہے بھارتی عوام کی آئے روز کی بڑھتی ہوئی اور سطح ِ غریب کا گراف بڑھتا جارہا ہے آجکل بھارت میں تیزی سے فروغ پانے والا ایک اور سنگین مسئلہ یہ ہے کہ دیش میں کسانوں کی خودکشیوں کی تعداد میں زیادہ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے نئی دہلی کی مودی انتظامیہ کو نجانے اِس کی کوئی فکر ہے یا نہیں مگر دنیا کے با وثوق ومعتبر میڈیا کی خبروں کے مطابق گزشتہ دوڈھائی برسوں میں اب تک بھارت میں تقریباً پندرہ سو کسانوں نے صرف اِس وجوہ کی بناءپر اپنے آپ کو موت کی بانہوں میں دیدیا چونکہ اُن کے پاس حکومت سے لیئے گئے زرعی قرضہ وقت پر واپس کرنے کے لئے ایک ’پائی ‘ باقی نہیں بچی تھی کہیں بارش نے اُن کی کپاس کی فضل تباہ کی تو کہیں اُنہیں سرکاری محکموں کے ٹھیکیداروں نے نقلی ‘ جعلی کیڑے مار ادوایات فراہم کیں جن کے اسپرے کی وجہ سے اُن کی گندم اور چاول کی فصلیں بار آور ثابت نہیں ہوسکیں یہ سچی کہانی مہاراشٹر کے ایک گاو¿ں کے کسان’ رام راو¿ نارائن پنچ لینیوار‘ کے لواحقین نے میڈیا کو سنائی ہے ’ اُس نے خود ہی سرکاری قرضہ کی پہلی قسط کی ادائیگی کے لئے روپیہ نہ ہونے کی وجہ سے زہر پینا گوارا کرلیا ’ رام راو¿ نارائن پنچ لینیوار‘ نامی یہ کسی ایک کسان کی داستان نہیں ہے یہ سن کر پاکستان میں ”بھارت کی مالا جپنے والے حلقوں“ کے لئے یقینا ایک ’معلوماتی خبر ‘ ہوگی کہ بھارت دنیا کا وہ ملک ہے جہاں پر کسانوں کو جو زرعی قرضہ اگر کہیں ملتا بھی ہے تو اُس کی واپسی تین گنا زیادہ کرنی ہوتی ہے اور مدت ابھی اِتنی کم کہ اگلی کاشت کرنے کے لئے ’قرض‘ کے حصول کی خاطر وہ پھر ریاست کی طرف د یکھنے لگتا ہے بھارتی کسانوں کی مجبوراً خودکشیوں کا ریکارڈز نئی دہلی کی نریندر مودی انتظامیہ کی نااہلیت کو جانچنے کے لئے بھارتی نیشنل کرائم بیورزکی ویب سائٹ کاوزٹ کرنے والے کہتے ہیں’ ماضی قریب میں تباہ کن بارشوں ‘ سیلاب یا ژالہ باریوں سے فصلوں کی تباہی کے بعد کسانوں پر شائد ہی کبھی بھارتی سرکار نے سرکاری مالیہ معاف کیا ہو ؟موسموں کی طوفانی شدتیں نہ بڑے کسانوں کو چھوڑتی ہیں نہ یا ہی چھوٹے کسان بچ پاتے ہیں بڑے بڑے جاگیرداروں کے زرعی نقصان کی کیا اہمیت ہوگی ؟ انسانی فطرت کی خاصہ یہ ہے آفات سماوی ہوں یا زمینی ہمیشہ ایسی آفات چھوٹے محنت کش اپنے ہاتھوں سے اپنی زمینوں کو سینچنے والوں پر قیامت بن کر ٹوٹتے ہیں اگر اتفاقاً کہیں آبرسیں تو سب سے زیادہ نقصان چھوٹے کسانوں کا ہی تو ہوتا ہے بھارت کا چھوٹا کسان ویسے بھی چھوٹا اور پھر ذات پات میں بھی چھوٹا ‘ شائد یہ وہ وجوہات ہوں کہ اُن پر سماوی آفات کی مصیبتوں اور زمینی ذات پات کی نفرتوں کا سار ا عذاب بوجھ بن جاتا ہے جبکہ نئی دہلی سرکار کے زیادہ قریب کسانوں کو زیادہ سے زیادہ مالی بلکہ نہ صرف اور مراعات بھی دیدی جاتی ہیںاُن کے کروڑوں کے زرعی و صنعتی قرضے بھی معاف ہوجاتے ہیں تیسری دنیا کے ترقی پذیر ممالک کی طرح بھارت کا شمار بھی اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں کا کسان اپنی فصل کے ثمرآور نتائج کی امیّد میں مستقبل کے خواب بنتا ہے اُس کے کچے مکان کی تزئین ‘ بھائی بہن بیٹیوں اور بیٹوں کی شادی کے سہانے سپنے یہ سب اُس کی فصل سے جڑے ہوتے ہیں لہٰذا ساتھ ہی سرکارسے بیچوں کے لئے جوقرض اُس نے لیا ہوتا ہے اُس کی واپسی فصل کی فروختگی سے منسلک ہوتی ہے بھارتی کسان کی ایسی انتہائی ناگفتہ حالت ِ زار بیان کرنے والے موثر تفتیشی نامہ نگاروں نے دیش کی جو افسوس ناک صورتحال اپنی رپورٹوں میں لکھیں وہ ’امیّد وبیم ‘ کی کشمکش اور ’موسموں ‘ کی شدتوں سے زیادہ ریاستی قرضوں پر سود کی بے پناہ بڑوھوتی (زیادتی)اور واپسی کی مدت کی کمی کی داستانیں سناتی ہیں، حالیہ ہفتوں میں بھارت کے کئی حصوں میں بہت بارشیں ہوئیں غیر متوقع ژ الہ باری نے مہاراشٹر میں زرعی نظام کو ناقابل ِ تلافی نقصان پہنچایا، کپاس اور گندم کی فصلیں بُری طرح سے تباہ ہوئیں، پھلوں کے باغات کو بڑا نقصان پہنچا یہاں سوال یہ ہے کہ بی جے پی کی ریاستی اور مرکزی حکومتوںنے انتخابات میں اپنے ووٹروں سے جو بلند بانگ وعدے کیئے تھے کہ بی جے پی نئی دہلی میں حکومت بنانے میں اگر کامیاب ہوگی تو وہ بھارتی سماجی زندگیوں میں معاشی انقلاب پیدا کردے گی یہ وعدے کہا ں مرکھب گئے؟ بھارتی کسان کیوں خود کشیاں کرنے مجبور ہیں کھیت کی پیداوار کھیت کی پیداوار کے ہنر مند کسانوں کی محنت کا معاوضہ اُنہیں کیوں نہیں مل رہا اب تو نریندر مودی جیسا جنونی ہندو قائد نئی دہلی کے تخت پر بیٹھا ہوا کیا بھارتی عوام کی اکثریت نے اُسے اِس لئے نئی دہلی کے ایوان ِ اقتدار تک پہنچا یا تھا کہ وہ بجائے بھارتی عوام کی فلاح و بہبود میں انقلابی تبدیلیاں لانے کے بھارتی اقلیتوں خصوصاً بھارتی نژاد مسلمانوں پر اپنے سیاسی ہتھیار بند وں کی فوج کشی کرتا پھرے بھارتی عوام کی سماجی ومعاشی ضرورتوں کو پس پشت ڈال کر پورے دیش کے ارد گرد جنگ زدہ ماحول پیدا کردے ؟بھارتی کسانوں کی پے درپے خودکشیوں کی خبروں نے دنیا کو دہلا دیا ہے نریندر مودی کی کان پر جوں رینگی یا نہیں ؟بے گناہ انسانوں کی آہ وبکا نریندر مودی اور اُس کے حالی موالیوں کو بحیرہ ¾ ِ ہند میں غرق کردے گی یہی کچھ اُس کی ’جنم بھومی ‘ لکھا ہے آخری اطلا ع ابھی ابھی موصول ہوئی ہے ’ ریاست بہار کے انتخابات نتائج نے اِسی جنونی نریندر مودی کا ”تختہ “ نہیں کردیا‘ ۔

مودی ”سونامی“ کے آگے بند ؟

asghar-ali

بھارتی صوبہ ” بہار “ کے عام صوبائی انتخابات کے نتائج آ چکے ہیں ۔ یہ انتخابات پانچ مراحل یعنی بارہ اکتوبر ، سولہ اکتوبر ، اٹھائیس اکتوبر ، یکم نومبر اور پانچ نومبر کو ہوئے ۔ 243 رکنی اسمبلی کے لئے بھر پور انتخابی مہم چلائی گئی ۔ نریندر مودی نے ذاتی طور پر اس مہم کی قیادت کی اور بہار میں بارہ انتخابی جلسوں میں حصہ لیا ۔ ان کے مقابلے میں ” نیتش کمار “ ، ” لالو پرشاد یادو “ اور ” کانگر س “ کا گرینڈ الائنس تھا مگر نتائج نے ثابت کر دیا کہ بہار کے مسلمان ووٹروں نے نریندر مودی کی جنونی سونامی کے آگے ایک مضبوط بند باندھ کر اسے واپسی کی راہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے ۔ یاد رہے کہ بہار میں تقریباً 17 فیصد مسلمان ووٹر ہیں جن میں سے پچاسی فیصد نے BJP کی قیادت والے NDA نامی اتحاد کے خلاف ووٹ دیا ۔ اسی کے ساتھ لالو پرشاد کے حق میں ” یادو “ ذات کے ووٹروں نے ووٹ ڈالا اور ” کرمی “ ذات کے ہندوﺅں نے ” نیتش کمار “ کے حق میں فیصلہ دیا ۔ یوں ان تینوں نے اتفاق رائے سے ہندوﺅں کے سب سے بڑے تہوار ” ویوالی “ سے محض چار روز پہلے مودی کا ” دیوالیہ “ نکال دیا ۔
جب انتخابی مہم شروع ہوئی تو BJP اور اس کے ہم نواﺅں نے ” ترقی“ اور ” وکاس “ کے ایشوز کو بڑا انتخابی مدا بنایا مگر جوں جوں انتخابی مہم آگے بڑھی RSS اور BJP کی جانب سے مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف بیانات میں تیزی آتی چلی گئی۔ لوگوں کے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے BJP نے گﺅ ما تا کے گوشت کے مسئلے کو سر فہرست رکھ لیا ۔ یوں گائے کی دم پکڑ کر انتخابی دریا کو عبور کرنے کی کوشش کی گئی ۔
اسی کے ساتھ BJP کے سربراہ ” امت شاہ “ نے بار بار کہا کہ ” اگر مودی ہار گئے تو پاکستان میں خوشیاں منائی جائیں گی اور وہاں فتح کے شادیانے بجےں گے اور اظہار مسرت کے طور پر پٹاخے پھوٹیں گے “ ۔ یوں سیدھے طور پر پاکستان کو بھارت کی داخلی سیاست کا اہم ایشو بنا دیا گیا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان انتخابات کے دوران فریقین کی جانب سے جو زبان استعمال کی گئی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی سیاست میں اخلاقیات ثانوی حیثیت اختیار کر چکی ہے ۔ تبھی تو مودی نے 2 نومبر کو کہا کہ ” چھ روز بعد بہار کے عوام لالو اور نتیش کو ان کی اوقات یاد دلا دیں گے “ ۔ جواب میں لالو پرشاد یادو کا کہنا تھا کہ ” چھ روز بعد بہاری مودی کو چھٹی کا دودھ یاد دلائیں گے “ ۔ انتخابی مہم کے آغاز میں ہی مودی نے کہا تھا کہ ” نتیش کمار کے DNA ہی میں خرابی ہے “ ۔ اس جملے کو نتیش اور لالو نے سیاسی مہارت سے استعمال کرتے ہوئے بہار کے تمام عوام کے لئے ایک گالی قرار دیا اور عام بہاریوں میں یہ تاثر پختہ کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ مودی نے بہار کے عوام کے خراب DNA کی بات کہہ کر در اصل یہ کہا ہے کہ ” اس صوبے کے عوام کا خمیر ہی برائی سے اٹھا ہے “ ۔ اس کے علاوہ مودی نے لالو پرشاد یادو کی بیٹی ” میسا بھارتی “ کے بارے میں انتخابی جلسے میں کہا کہ ” لالو نے اپنی بیٹی کو ” SET “ ( سیٹ ) کرانے کے لئے پورے بہار کو ” Deset “ ( ڈی سیٹ ) کرنے کا منصوبہ بنایا ہے “ ۔ جواب میں ” میسا بھارتی “ نے کہا کہ ” مودی نے ” Set“ کرانے کی گالی دے کر پورے بہار کی خواتین کے خلاف نا شائستہ زبان استعمال کی ہے اور یوں بھی چونکہ مودی جی کو تو اپنی دھرم پتنی کے سمان ( احترام ) تک کی پروا نہیں ، انھیں بھلا دوسری کسی عورت کی عزت نفس کا خیال کیسے ہو سکتا ہے “ ۔ ایک جلسے میں مودی نے ” لالو پرشاد یادو “ کے لئے شیطان کا لفظ استعمال کیا جبکہ ” لالو “ کے حامیوں میں یہ دلچسپ نعرہ عام تھا کہ ” سموسے میں جب تک آلو رہے گا ، پٹنہ بہار میں لالو رہے گا “ ۔
اس ضمن میں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ڈیڑھ برس قبل مودی نے بھارتی عوام سے ترقی اور خوشحالی کے لمبے چوڑے دعوے کیے تھے اوریہاں تک کہا تھا کہ ” ہر بھارتی شہری کے کھاتے ( اکاﺅنٹ ) میں پندرہ لاکھ روپے جمع کرائے جائیں گے اور یہ کام بیرونی ملکوں میں جمع کرائے گئے کالے دھن کو واپس لا کر کیا جائے گا مگر عملی طور پر صوتحال یہ ہوئی کہ اپنے عہد اقتدار کا چوتھا حصہ گزارنے کے باوجود موصوف بھارتی عوام کے لئے کچھ بھی نہ کر پائے ۔ انھوں نے اپنا سارا زور بیرونی دوروں پر رکھا یا پھر پاکستان کے خلاف بیان بازی اور LOC پر جارحیت پر ۔ بھارت کے اندر بھی RSS اور BJP نے مسلمانوں ، عیسائیوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف آئے روز بد زبانی کو اپنا معمول بنا لیا جس وجہ سے بھارت کے اندر عدم برداشت کی بد ترین فضا پیدا ہو چکی ہے ۔ ہندوﺅں کو رام زادے اور دیگر مذہبی اقلیتوں کو ح ۔ زادے کہا جانا معمول کی بات بن چکی ہے جس کی وجہ سے وہاں کی سول سوسائٹی کے عناصر نے ایوارڈ ز واپسی کی فعال مہم شروع کر رکھی ہے ۔ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں جاری ریاستی دہشتگردی میں خطر ناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے ۔
بہر کیف بہار کے عوام نے تو مودی کے جنونی طرز عمل کے آگے بند باندھنے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔ امید کی جانی چاہیے کہ عالمی برادری بھی چند روز بعد مودی کے دورہ برطانیہ و فرانس کے دوران اپنی انسانی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے موصوف کی روش کی حوصلہ شکنی کے ضمن میںاپنا انسانی فریضہ نبھائے گی ۔

بلدیاتی انتخابات کے نتائج کیا اندھیروں کاراستہ ہیں ؟

aisha-masood

 پاکستانی عوام کی زیادہ تعداد کی یہ عادت ہے کہ دن بھر کی مصروفیات کے بعد شام کے سرمگیں سائے کے بعد اور رات کے اندھیرے سے کچھ دیر قبل ٹی وی چینلز بدل بدل کر دیکھتے ہیں تاکہ کسی اہم خبر ‘ کسی اہم تبصرے یا تجزیے سے آگاہی حاصل کر سکیں۔ اس دوران کسی شخصیت کا کوئی نقطہ اہم ہو یا کوئی دلچسپ بحث مباحثہ ایسا ہو کہ جو معلومات میں اضافہ کررہا ہو تب لوگ اس چینل پر رک جاتے ہیں ورنہ چینل بدل بدل کر طبیعت پر ایک غبار چھانے لگتا ہے۔
بقول گلزار بخاری :
آنکھوں میں دھول جھونکتا پھرتا ہے شہر شہر
سر پر بٹھا لیا ہے ہوا نے غبار کو
اسی طرح ایک دن چینل بدلتے بدلتے میں رک گئی۔ کیونکہ آنے والے وقتوں کے لئے ایک ایسے خدشہ کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ جو ملک کے لئے خطرناک ہو سکتا ہے۔ ویسے تو ہم بے شمار خطروں میں گھرے ہوئے ہیں اور ان سے نبرد آزما بھی رستے ہیں مگر یہ حقیقت ہے کہ بیرونی خطرات سے مقابلہ کرنے کےلئے پوری قوم کا متحد اور یکجا ہونا ضروری ہوتا ہے اور اگر یہ یکجائی اور اتحاد نہ رہے تو پھر کچھ بھی باقی بچنے کا امکان بھی نہیں رہتا۔ جو شخصیت ایک اہم خدشہ کا اظہار کر رہے تھے۔ ان کے بارے میں ڈاکٹر مجید نظامی نے بھی ایک مرتبہ کہا تھا کہ وہ پاکستانیت اور نظریہ پاکستان پر یقین رکھنے والے محب وطن صحافی ہیں۔ معروف صحافی سردار خان نیازی اپنی گفتگو میں بلدیاتی انتخابات کے نتائج پر توجہ مبذول کروا رہے تھے کہ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ مسلم لیگ ”ن“ نے برتری حاصل کر لی یا پھر پیپلز پارٹی نے برتری حاصل کر لی بلکہ فرق اس بات سے پڑ سکتا ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی پنجاب میں ن لیگ اور سرحد میں پی ٹی آئی اور بلوچستان میں کوئی اور پارٹی جیت جائے تو ملکی یکجہتی کا کیا ہو گا اور مرکزی حکومت کا ”مرکز“ بنا کر تمام صوبوں میں کردارکیسے ادا ہو گا اور اپوزیشن کون ہو گا ؟مرکزی حکومت کمزور ہوگی اور صوبائی حکومتوں کا کمزور ہونا ملک کے لئے خطرناک بات ہے اس سے پاکستان کے اتحاد کو خطرات لاحق ہونگے۔
ملکی منظر نامے پر سیاسی پارٹیاں اور ان کے لیڈر کیا کردار ادا کر رہے ہیں کہیں وہ اپنے اپنے ٹھکانوں کی حفاظت میں جمہوریت کو مضبوط کرنے کی بجائے کسی خطرناک ڈگر کی طرف نہیں چل پڑے اور شاید وہ اس خیال کو بھی ترک کر چکے ہیں کہ وہ پوری پاکستانی قوم کے لیڈر ہیں۔ کیا قائد اعظم نے یہ روش اپنائی تھی ؟ سردار خان نیازی ایک سینئر جرنلسٹ ہونے کی بنیاد پر تکرار کر رہے تھے کہ ہم اندھیروں کی طرف جا رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگلے الیکشن میں آج کے بلدیاتی انتخابات کے منظر کے بعد کیا دیکھنے کو ملے گا اور کون سے نتائج اگلے پانچ سالوں کے لئے سامنے آئیں گے ان پر سوچ بچار کرنا ضروری ہو چکا ہے۔ جناب سردار خان نیازی نے بڑے اہم نکتہ پر انگلی اٹھا دی ہے۔ اب سیاستدانوں اور حکمرانوں کو سوچنا ہو گا کہ انہیں فقط اپنی اپنی بقاءکی جنگ کے لئے ملک کو صوبائیت کی ہوا میں نہیں دھکیل دینا ہے بلکہ انہیں اس ملک کی بقا اور سلامتی کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ یہ سچ ہے کہ ملک میں ”لیڈر شپ“ کی کمی ہے اور بدقسمتی سے پاکستانی عوام کو انہیں کی طرف مڑ مڑ کر دیکھنا پڑتا ہے اور اگر وہ عمران کے پیچھے کسی تبدیلی کی طرف سے چل بھی پڑے تھے تو عمران بھی اقتدار کی خواہش میں بے تاب ہو گئے تھے اور پھر یہ اعلان بھی پبلک میں کر ڈالا تھا کہ جلدی سے نیا پاکستان بن جائے تاکہ وہ شادی کریں۔ خود شادی کا اعلان پبلک میں کرتے ہیں اور ج عوام میں سے کوئی ریحام خان کے بارے میں سوال پوچھے تو اس کی بے عزتی کرتے ہیں۔ لہذا عمران خان سے بھی عوام کو مایوسی ہوئی ہے مگر ایسے میں ان لیڈروں کو عقل اور ہوش مندی کی روش اختیار کرنا پڑے گی کیونکہ آرمی چیف راحیل شریف اس قوم کے ایسے ہیرو بن چکے ہیں جنہوں نے اس ملک کی حفاظت کا ایسا بیڑہ اٹھایا ہے کہ ہر دل میں بسنے لگے ہیں۔ جنرل راحیل شریف ایک مضبوط کردار اور شخصیت کے طور پر سامنے آئے ہیں اور ان کے دور میں اور ان کی قیادت میں افواج نے بڑی مشکل جنگ لڑی ہے اور ملک کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنایا لیکن اگر حکمران اپنی سیاست کے انداز ایسے اختیار کریں گے کہ اپنے اپنے صوبے میں اپنی اپنی کرسی پکی کرنے کے چکر میں ملک کی مرکزی حکومت اور واضح اپوزیشن کے کردار کو دائو پر لگا کر ملک کو صوبائیت کی طرف دھکیل دیں گے تو اگلے پانچ برسوں میں پھر سے کہیں ایسی نوبت نہ آ جائے کہ فوج کو ملک بچانے کے لئے اقتدار کے ایوانوں تک نہ آنا پڑ جائے۔ ماضی میں جب بھی مارشل لاءلگایا گیا اس میں حکمرانوں اور سیاستدانوں کے کردار کی کمزوریاں اور غلطیاں شامل تھیں۔ یہ علیحدہ بات کہ ڈکٹیٹرز کو واپس جانے کا دل نہیں چاہتا رہا۔ موجودہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج کے بعد سردار خان نیازی جیسے محب وطن سینئر صحافی نے اپنی دانش مندانہ اور دانش ورانہ رائے کا بروقت اور سچا اظہارکر دیا ہے۔ اب حکمرانوں ‘ سیاستدانوں اور پاکستانی عوام کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ کیا ہم نے اندھیروں کا سفر اختیار کر لیا ہوا ہے ؟
ادائے خاص سے غالب ہوا ہے نکتہ سرا
صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لئے
اپنا خیال رکھیئے گا۔
بشکریہ نوائے وقت

سیاست نہیں کرکٹ

uzair-column

ہمارے یہاں سیاست ایک ایساشعبہ ہے جس میں کسی بھی وقت کسی کی بھی پگڑی اچھل سکتی ہے مگراس کا نشہ اتنا برا ہے کہ جس کو ایک دفعہ لگ جائے تو وہ اس سے باہر نہیں نکل سکتا چونکہ سیاست میں سیاسی قلابازیاں ساتھ ساتھ چلتی ہیں کچھ پتہ ہی نہیں چلتا کہ کس وقت کون سا سیاستدان کہاں چلا جائے ،کس کی وفاداریاں کس کے ساتھ ہوجائیں ،انتخابات میں فتح حاصل کرنے کے بعد کس کی حمایت کرے ،مفادات اٹھانے کیلئے کس کا دامن تھام لے ،اس ہی کو سیاست کہتے ہیں ۔سیاست سے ہی ملتا جلتا ایک اورکھیل ہے وہ سیاسی کھیل نہیں کرکٹ کا کھیل ہے ۔کیونکہ کرکٹ میںبھی گگلی چلتی ہے اور گگلی کا پتہ نہیں چلتاکہ گیند کہاں سے کیسے گھوم کر وکٹ کو جا ٹکرائے پھر کبھی ان سوئنگ ہوتی ہے،کبھی آﺅٹ سوئنگ ہوتی ہے،کبھی یارکر ہوتا ہے ،کبھی باﺅنسر ہوتا ہے تو کبھی گیند سیدھی رہتی ہے ،کبھی وائڈ ہوجاتی ہے ،کبھی سنک ہوجاتی ہے ،کبھی کاٹ بیہائینڈ ہوجاتا ہے ،مطلب اورمقصد یہ ہے کہ کسی بھی آنیوالے بال کے بارے میں یہ نہیں کہاجاسکتا کہ یہ کھلاڑی آﺅٹ کرے گی،اس کو چوکا لگا،اس کو چھکا لگے گا ،یہ نو بال ہوجائے گی یا پھر وائڈ یا کھلاڑی اس کو کھیلتے وقت کیچ آﺅٹ ہوجائیگا۔اسی طرح سیاسی حالات ہیںکہ آنیوالے لمحے کے بارے میں سیاستدان کچھ بھی نہیں کہہ سکتا کہ کس وقت اس کی اورکہاں پر پگڑی اچھل جائے ۔وہ بھی جذبات سے سیاسی میدان میں نعرے لگا لگا کر شور مچا رہا ہوتا ہے اور کھلاڑی بھی پچ پر کھڑا ہوکر پوری طاقت سے شارٹ کھیل رہا ہوتا ہے ۔یہ تو سیاست اورکرکٹ کا موازنہ ۔اب بات دراصل یہ ہے کہ کون کہاں کامیاب ہوتا ہے ،ابھی تک پاکستان کے حصے میں ایک ورلڈ کپ آیا ہے جو کہ 1992ءمیں جیتا گیا اور اس کا سہرا عمران خان سرجاتا ہے ۔بس اسی جیت نے کپتان کا دماغ خراب کردیا اور انہوں نے سوچا کہ وہ اپنے گیارہ افراد کی ٹیم سے ورلڈ کپ کو جیت سکتے ہیںتو وہ کیوں نہ سیاست کی دنیا میں چھلانگ لگائیں اسی طرح وہ ملک کا انتظام وانصرام چلا سکتے ہیں مگر شاید وہ یہ بھول گئے کہ کرکٹ ٹیم کو چلانا اور ملک کو چلانے میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ایک اچھا منیجر وہی ہوتا ہے جو اپنی زندگی کو مینج کرے اور پھر آگے نکلتا چلا جائے ۔بہرحال کپتان نے سیاست میں قدم رکھا پاکستان تحریک انصاف بنائی ۔خراماں خراماں سفر طے کرتے رہے پھر اچانک ایک دن ایسا ہوا کہ مینار پاکستان پر جلسہ کیا وہیں سے کپتان نے محسوس کیا کہ اب اس کے مقابلے کا اس ملک میں کوئی نہیں ۔بس پھر پی ٹی آئی کی ہوا چلی ،اس ٹرین میں لوگ سوار ہوتے چلے گئے ،جاوید ہاشمی جیسے بھی زیرک سیاستدان کپتان کے ساتھ مل گئے ۔مگر ساتھ ہی انہوں نے یہ کہہ دیا تھا کہ کپتان یہ جان لے کہ میں باغی ہوں اور پھر وہی ہوا کہ جاوید ہاشمی نے بغاوت کردی ۔عمران خان کو معاملات سمجھ نہ آئے اور وہ چلتے رہے ان کی پارٹی میں لوگ شامل ہوتے گئے ۔اس زوعم میں انہوں نے دھرنا بھی دیا ،طاہرالقادری کی جانب بھی قدم بڑھایا ،مگر کچھ بھی حاصل نہ ہوسکا ۔ایوانوں کا بائیکاٹ کیا ،استعفے دئیے ،این اے 122میں دھاندلی ثابت کرنے کیلئے اتنا شوروغوغا مچایا کہ وہاں پر آخر دوبارہ الیکشن ہوئے مگر پھر بھی منہ کی کھانا پڑی ۔شاید کپتان یہ سمجھ رہاتھا کہ یہ کوئی بھی ورلڈ کپ جیسا میچ ہے مگراس سیاسی وکٹ پر بڑے بڑے مہاپُرش کھلاڑیوں سے واسطہ پڑا انہوں نے عمران خان کو ایسی ایسی گگلی کرائی کہ انہیں پتہ ہی نہیں چلا کہ گیند کہاں سے گھوم کر کیسے آرہی ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ این اے 122میں انہیں باﺅنسر لگا تو غلط نہ ہوگا۔اب جہاں تک آزاد امیدواروں کی بلدیاتی انتخابات میں کامیابیوں کی کہانی ہے تو ان میں سے بھی اکثریت ن لیگ ہی کی طرف جارہی ہے ۔گو کہ عمران خان کرکٹ کی ٹیم کیلئے کامیاب کپتان ہوں گے لیکن سیاست کی پچ پر نوازشریف نے عمران خان کو باﺅنسر پر باﺅنسر مارے ،قدم قدم پر کلین بولڈ کرتے رہے ،ان سوئنگ کرا کر وکٹ کے پیچھے کیچ آﺅٹ بھی کیا ،ان سے چھکے بھی لگوائے مگر باﺅنڈری پر پھر کیچ کرلیا مقصد یہ ہے کہ پی ٹی آئی گراﺅنڈ کے اندر بھاگتی رہی ن لیگ نے اس کو خوب فیلڈنگ کرائی ،تھکا تھکا کر اتنا دوڑایا کہ آخرکار کپتان کو یہ تسلیم کرنا ہی پڑا کہ اب تو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ انتخابات 2018ءمیں ہی ہونگے ۔اس بیان کے بعد تو کم از کم کپتان کو یہ چاہیے تھا کہ وہ اس سیاسی دنیا کو خیرآباد کہہ دیتے کیونکہ یہ بھی جان لینا چاہیے تھا کہ وہ اس سیاست کیلئے ان فٹ ہیں ۔لہذا عمران خان کو چاہیے کہ وہ اس سیاسی پچ کو خیر آباد کہہ دیں اوربہتر تو یہ ہے کہ دنیائے کرکٹ میں واپس جاکر نئے آنیوالے کھلاڑیوں کی کوچنگ کریں کیونکہ اس وقت کپتان کی عمر لگ بھگ 62سال کی ہوچکی ہے ۔2018ءکے ہونیوالے انتخابات میں وہ 65سال کے ہوجائیں گے اور جب 2023ءکے انتخابات ہوں گے تو وہ ستر سال کے ہوچکے ہوں گے ۔2018ءمیں تو ایسا کوئی چانس نظر نہیں آرہا کہ وزارت عظمیٰ کا تاج عمران خان کے سر پر سجے البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ مخلوط حکومت بنے اور اس مرتبہ وزارت عظمیٰ کا تاج شہباز شریف کے سر پر سجے ۔پنجاب کے حالات بھی کچھ اسی طرح ہونگے ۔2023ءمیں تو حالات پھر کچھ اور ہی فیصلہ کریں گے لہذا یا تو کپتان سیاست کو خیرآباد کہیں یا پھر 2018ءکے انتخابات میں کچھ وزن بنانا ہے تو کے پی کے پر جاکر بھرپور توجہ دیں ۔

ریحام خان کا مقدمہ

asif

میڈیا میں عمران کا مقدمہ پورے اہتمام سے پیش کیا جا رہا ہے،ریحام کامقدمہ کہاں ہے؟

عصبیت اور رومان شمشیر بکف ہو کر عمران کے دفاع میں کھڑے ہو گئے ہیں۔ارشادِ تازہ یہ ہے کہ عمران تو بہت سادہ، بہت معصوم اور نہایت درویش صفت انسان ہیں، یہ تو ریحام تھی جو شیطان کی خالہ تھی،صبح شام منادی ہے،عمران نے تو اسے بہت موقع دیا وہی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آ ئی،عمران تو گھر بسانا چاہتے تھے ریحام کے لیکن عزائم ہی کچھ اور تھے، وہ تو دولت کی ہوس میں مبتلا تھی،وہ تو ہے ہی ایک لالچی خاتون، اس نے پہلے خاوند کے ساتھ بھی یہی کیا،یہ اس کی عادت ہے،اس نے تحریکِ انصاف کے مالی معاملات میں دلچسپی اسی لیے لینا شروع کی کہ مخیر حضرات سے براہِ راست رابطہ کر کے مالی مفادات سمیٹ سکے، وہ ایک ایجنڈا لے کر آئی تھی، وہ برطانوی خفیہ ایجنسی کی ایجنٹ تھی، اس نے عمران کو قتل کر کے ان کی جگہ لینا تھی،وہ اتنی خطرناک عورت تھی کہ اس نے عمران کو زہر دینے کا منصوبہ بنایا ہوا تھا، اسی لیے اس نے آتے ہی بنی گالہ کے سارے ملازم تبدیل کر دیے تھے اور اپنے بندے تعینات کر دیے تھے، وہ تو خفیہ ایجنسی نے عمران کو بتا دیا اور ریحام کا منصوبہ ناکام ہو گیا ورنہ اس عورت نے تو عمران خان کو قتل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ایک صاحب نے جن کے ہر پروگرام میں خطرہ رہتا ہے کہ بریک لینے سے پہلی ہی قیامت نہ آ جائے آ گے بڑھ کر گرہ لگائی کہ صاحب زہر کا خطرہ نہیں تھا زہر دے دیا گیا تھا،یہ زہر عید کے موقع پرمٹھائی میں ملا کر دیا گیا جس سے عمران کی طبیعت خراب ہو گئی اور انہیں اسلام آباد کے ایک مقامی ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کا معدہ واش کر کے ان کی جان بچائی گئی۔گویا ریحام ایک ایسی خونی عورت تھی جس نے شادی کی پہلی عید پر ہی اپنے سہاگ کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ایک بڑھیا نے لکھا ریحام نے شادی کی ہی صرف اس لیے تھی کہ اس کا پروفائل ہائی ہو جائے ۔اب جب پروفائل ہائی ہو گیا تو اسے آگے بڑھ جانا تھا۔بڑھیا معلوم نہیں غصے میں تھی یا ماضی میں ایسی ہی کوششوں میں ناکامی کے دکھ اس کے قلم سے پھوٹ پڑے؟

عمران کا مقدمہ پیش کرنے والے معلوم ہوتا ہے کسی محاذ پر ہیں اور ایسا ایک منظم منصوبے کے تحت کیا جا رہا ہے۔ہمیں پورے خشوع و غضوع کے ساتھ بتایا جا رہا ہے کہ یہ ریحام کا ’مغرب زدہ ‘ ہونا بھی ہے جس نے مسائل کھڑے کیے۔عمران کی فیملی ایک مغربی عورت کو قبول نہ کر سکی۔یعنی ایک تیر سے دو شکار کیے گئے۔ایک تو ریحام کے کردار پر انگلی اٹھا لی گئی دوسرا عمران خان کو ایک انتہائی مذہبی شخص اور ان کے گھرانے کو ایک انتہائی مذہبی گھرانے کی صورت پیش کیا گیا تا کہ دنیائے سیاست میں سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آ ئے۔لیکن حیرت ہے بنی گالہ کے درباری یہ نہیں بتا رہے کہ جب عمران نے ریحام کو شریکِ حیات بنانے کا فیصلہ کیا تھااس وقت کیا ریحام شٹل کاک برقعہ پہنتی تھی اور ان کی پرہیز گاری سے متاثر ہو کر عمران نے شادی کر لی لیکن بعد میں معلوم ہوا وہ تو ایک ’ مغرب ذدہ‘ خاتون ہیں جس سے عمران کا جذبہِ ایمانی مجروح ہو گیا اور بات طلاق تک پہنچ گئی۔
ہمیں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ یہ ریحام کا ماضی تھا جو شادی کے بعد عمران کے علم میں آیا اور اس سے خرابیاں پیدا ہوئیں۔سوال یہ ہے کون سا ماضی ؟اگر بات ماضی تک جانی ہے تو عمران کا ماضی کیسا ہے؟اس دعوے کی شانِ نزول کیا ہے کہ ’’ میں خواتین کو خوب سمجھتا ہوں‘‘۔ریحام نے تو ایسا کوئی دعوی نہیں کیا تھا۔عمران خان کے ماضی کو ایک مبینہ توبہ کے پیچھے رکھ کر بھلا دینے کے وعظ کرنے والے کس بے حیائی سے ایک خاتون کی کردار کشی کر رہے ہیں۔آدمی کو گھن آ تی ہے۔

عمران کی محبت میں ایک دعوی یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ عمران کی بہنیں اس شادی سے خوش نہیں تھیں اور عمران اپنی بہنوں کے لاڈلے بھائی ہیں ااور ان سے بہت پیار کرتے ہیں اس لیے بہنوں کی یہ ناراضی بھی معاملات کی خرابی کا باعث بنی۔اس میں بھی عمران کی کردار سازی کا جذبہ کارفرما ہے کہ انہیں ایک ایسے فرد کے روپ میں پیش کیا جائے جو رشتوں کا بہت پاس رکھتا ہے۔رشتوں کا یہ پاس عمران کو اس وقت رکھنا چاہیے تھا جب وہ شادی کر رہے تھے اور بہنیں شامل نہیں ہو رہی تھیں۔کیا ہمیں معلوم نہیں ان کا سگا کزن فوت ہو گیا وہ جنازے میں شریک ہوئے نہ تعزیت کی البتہ اپنی سالگرہ کا کیک ضرور کاٹا۔رشتوں کا پاس اس وقت کہاں گیا تھا؟یہ حقیقت کب تک جھٹلائی جا تی رہے گی کہ رشتوں اور انسانی احساسات کی عمران نے کبھی پرواہ نہیں کی۔

ہمیں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ عمران ایک درویش منش انسان ہیں اور انہیں یہ بات پسند نہ آئی کہ ریحام نے شادی کے بعد بھاری مالیت کے تحائف لینا شروع کر دیا۔گویا ریحام پرلے درجے کی لالچی خاتون تھیں اور عمران دیو جانسن کلبی کے سچے پیروکار ہیں۔بتانے والے یہ بھی بتا دیتے کہ کیا خود عمران نے کبھی کسی دولت مند سے بھاری مالیت کے تھائف وصول کیے۔وہ جو کروڑوں کی مالیت کی گاڑی عمران کو ایک امیر ترین نے تحفے میں دی کیا وہ بنی گالہ ہی میں ہے یا اسے یہ کہہ کر واپس لودھراں بھیج دیا گیا ہے کہ عمران خان قیمتی تحفے لینے کے سخت خلاف ہیں۔

یہ دعوی بھی کیا جا رہا ہے کہ ریحام اتنی لالچی ہے کہ خاموش رہنے کے لیے لندن میں بہت بڑا گھر مانگ رہی ہے۔لیکن یہ نہیں بتایا جا رہا کہ اس کے ساتھ معاملہ کیا ہی کیوں جا رہا ہے؟اس کے بولنے سے کسی کو کیا خوف ہے؟اور کیا یہی خوف تو نہیں جو ریحام کی منظم کردار کشی کروا رہا ہے کہ اسے اتنا بے توقیر کر دو کہ جب وہ بولے تو اس سے کم سے کم نقصان ہو؟

معلوم نہیںیہ عمران سے محبت ہے یا احباب کی ریحام سے ’ پروفیشنل جیلسی‘ ۔۔لیکن ایک مرد کے فضائل بیان کیے جارہے ہیں اور ایک خاتون کی تذلیل کی جا رہی ہے۔حالانکہ ہماری تہذیب اور اخلاقیات کا تقاضا یہ ہے کہ ایک عورت کے بارے میں بات کرتے ہوئے زیادہ احتیاط سے کام لیا جائے۔عزت صرف اس کی نہیں ہوتی جو میدانِ سیاست میں ہو، عزت انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہے۔رشتہ ٹوٹ گیا ہے تو ایک شخص کی سیاسی ساکھ کو سہارا دینے کے لیے کیا لازم ہے کہ ایک عورت کی تذلیل کی جائے اور اسے گالیاں دی جائیں۔حقوقِ نسواں کے علمبردار کہاں ہیں؟

اب جب کہ بزرگ سیاستدان نے ایک صحافی کو ڈانٹتے ہوئے کہا ہے: ہماری کوئی تہذیب ہوتی ہے، تو بہت خوشی ہوئی کہ دیر ہی سے سہی انہیں بھی خیال آ گیا کہ ایک تہذیب ہوتی ہے۔تو جناب تہذیب یہ بھی ہوتی ہے کہ ایک عورت کی کردار کشی نہ کی جائے۔اور یہ بھی کہ مہمان بیٹھا ہو تو بسکٹ کتے کو نہیں مہمان کو پیش کیا جاتا ہے۔

نو ماہ بائیس دن

uzair-column

کپتان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ سیاستدان پبلک پراپرٹی ہوتا ہے اور اس کے معاملات بھی عوامی ہوتے ہیں عوام جاننا چاہتی ہے کہ اس کے شب وروز کیسے گزر رہے ہیں اس کی سرگرمیاں کیا ہیں ۔وہ کہاں جاتا ہے،وہ کس سے ملتا ہے ،اگر اس میں کوئی دخل اندازی کرے تو پھر محسوس نہیں کرنا چاہیے ۔گذشتہ روز صحافی کے سوال پر کپتان سیخ پا ہوگئے ۔یہ درست ہے کہ عمران اورریحام کے مابین جو کچھ بھی ہوا وہ ان کا ذاتی مسئلہ تھا مگراس سوال کا عمران خان اچھے طریقے سے بھی جواب دے سکتے تھے ۔مگر شرم کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے کسی بھی سیاستدان کو خود ہی خیال کرنا چاہیے شاید کپتان یہ بھول گئے ہیں کہ جب وہ دوبارہ ایوان میں گئے تھے تو وزیردفاع نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا تھا اور اسی قسم کے الفاظ استعمال کیے تھے کہ ”کوئی شرم ہونی چاہیے ،کوئی حیا ہونی چاہیے “جس پر پوری پی ٹی آئی سیخ پا ہوگئی تھی اور دوبارہ سے انہوں نے الٹی میٹم دینا شروع کردیا تھا کہ اب وہ ایوان میں نہیں جائیں گے ۔چونکہ سیاست ایک اعصاب کی گیم ہے اور جس کے اعصاب مضبوط ہوتے ہیں وہی فاتح ہوتا ہے ۔کپتان میں یہی سب سے بڑی خرابی ہے کہ وہ ایک دم غصے میں آجاتے ہیں اور معاملات بگڑ جاتے ہیں ۔گو کہ میڈیا نے اس ایشو کو بے تحاشا اٹھایا اورابھی تک سوشل میڈیا پر اس حوالے سے مختلف چیزیں سامنے آتی جارہی ہیں گو کہ ہم اس بات کے مخالف ہیں کہ کسی کی بھی ذاتی زندگی کو اچھالنا اخلاقیات سے بعید ہے مگر اگر کوئی سیاستدان سے ایسا سوال کر ہی بیٹھے تو پھر کم ازکم اس کو ہی صبر وتحمل سے جواب دینا چاہیے جو بھی سانحہ رونما ہونا تھا وہ تو ہو ہی ہوچکا ہے ۔اب بات یہ ہے کہ یہ جو نو مہینے اور بائیس دن ہیں یہ عمران خان کی ساٹھ ،باسٹھ سالہ زندگی پر بھاری ہیں ۔گو کہ ابھی معاملات دب جائیں گے ،حالات بھی درست ہوجائیں گے مگر گاہے بگاہے یہ دھول کہیں نہ کہیں سے اٹھتی رہے گی اور اگر کپتان اس مسئلے پر اسی طرح گرم وسرد ہوتے رہے تو پھر یقینی طور پر یہ ایشو کسی طرح بھی دب نہ سکے گا ۔ابھی تو ریحام کی جانب سے کوئی ایسا بیان سامنے نہیں آیا گو کہ شاید معاملہ یہ باہمی اتفاق سے ہی حل ہوا ہو مگر آخر کہیں نہ کہیں تو کوئی ایسی بات ضرور ہے کہ عین بلدیاتی انتخابات سے قبل اتنا بڑا وقوعہ رونما ہوگیا ۔جس کا تحریک انصاف کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ۔اب اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ عمران خان ان سارے معاملات کو بااحسن خوبی ہینڈل کریں ،غصہ کھانے کی ضرورت نہیں ہے ،صحافی تو پیدا ہی سوال کرنے کیلئے ہوا ہے ،وہ تو ملک وقوم کی آنکھ ہے ،اس نے ہر چیز عوام کے سامنے پیش کرنی ہے اگرمیڈیا خاموش ہوجائے پھر تو ملک وقوم کا اللہ ہی وارث ہے ۔یہی صحافی جب کسی سے اچھا سوال کریں تو وہ اس سیاستدان کے منظور نظر ہوجاتے ہیں اوراگر کوئی ناپسندیدہ سوال کرگزریں تو پھر وہ اس سیاستدان کی آنکھوں میں چبھنے لگتے ہیں ۔انہی عادات کی وجہ سے کپتان نے ہر موڑ پر نقصان اٹھایا ۔آج سے پہلے انہوں نے جو بھی زندگی میں یوٹرن لیے وہ اتنے قابل ذکر نہیں ہیں ۔گو کہ سیاسی دنیا میں عمران خان کو یوٹرن کا بادشاہ کہا جاتا ہے ،ان کا کوئی پتہ نہیں کہ کس وقت وہ کوئی فیصلہ کربیٹھیں چاہے وہ فیصلہ ان کی ذات کے ہی خلاف ہو ۔مگر دوسری شادی کے بعد عمران کا یہ یوٹرن ناقابل تلافی ہے ۔اس کامداوا کرنے کیلئے یقینی طور پر قربانی دینا پڑے گی ۔اب جو آنے والے دنوں میں سیاست کی جارہی ہے اس میں ن لیگ کی سیاست واضح طور پر کامیابی کی جانب گامزن ہے اور آزاد امیدواروں کی لاٹری نکل آئی ہے ۔دیکھنے اور سمجھنے کی یہ بات ہے کہ آخر کار پی ٹی آئی جو سر سے لیکر پاﺅں تک بلدیاتی انتخاب میں شامل تھی اس کو اتنی بری شکست کیوں ہوئی ۔عمران خان یہ سوچیں کہ ان کے مدمقابل ن لیگ ،وزیراعظم نوازشریف تھے ۔نوازشریف چونکہ انتہائی ٹھنڈے مزاج کے سیاستدان ہیں اورانہوں نے جو بھی سیاسی چال چلی اس میں ہر قدم پر انہیں کامیابی ملتی رہی ۔سڑکوں پر آنے کے بجائے انہوں نے ایوانوں میں آوازیں اٹھانے پر زور دیا پھر جب دھرنا دیا گیا تو اس وقت بھی پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا جس میں پیپلزپارٹی نے ن لیگ کا بھرپور ساتھ دیا ۔آخر ایسی کیا وجہ تھی کہ کپتان نے جس کو اپنا سیاسی کزن بنایا تھا وہ بھی ان کا ساتھ چھوڑ کر چلا گیا پھر آخر یہ دونوں تنہا تنہا رہ گئے اور حکومت فتح حاصل کرتی چلی گئی ۔وہ لائحہ عمل طے کرنا چاہیے جس سے جو بھی خامیاں ہیں ان کو دور کیا جاسکے ۔اندرون خبریں یہ ہیں کہ سنا جارہا ہے کہ پاکستان تحریک ا نصاف میں اختلافات پیدا ہوچکے ہیںاور توڑ پھوڑ جاری ہے ۔ایسے میں کپتان سب کو اعتماد میں لینے میں اگر کامیاب ہوگئے تو ٹھیک ہے ورنہ یہ نو ماہ بائیس دن پاکستان تحریک انصاف کو لے ڈوبیں گے ۔

Google Analytics Alternative