کالم

جوہری طاقتوں کے درمیان تصادم خطرناک ہو سکتا ہے

کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارت ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کشیدگی میں بتدریج اضافہ کر رہاہے۔سرحد پر آئے روز اندھا دھند فائرنگ سے پاکستانی شہری شہید و زخمی ہو رہے ہیں۔ سکردو اور ملحقہ علاقوں میں بھارتی فوج نے جان بوجھ کر جارحیت اور کشیدگی کا آغاز کیا شاید وہ کارگل میں شکست کی شرمندگی مٹانا چاہتی ہے۔ بھارتی جارحیت قابل مذمت ہے۔ بھارت مذاکرات کی طرف آئے کیونکہ پاکستان پڑوسی ممالک کے ساتھ تعمیری بات چیت اور امن کا خواہاں ہے لیکن اگر بھارت نے اپنی ڈگر نہ چھوڑی تو پھر جنگ پاکستان کو بھی کرنا آتی ہے۔بھارتی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کے جوانوں کی شہادت سے دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی نئی کوششوں کوخطرہ لاحق ہوگیاہے۔اگر بھارتی جارحیت کی وجہ سے یہ جنگ شروع ہوتی ہے تو خطرہ ہے کہ کہیں تیسری عالمی جنگ کا روپ نہ دھار لے ۔بھارت اس وقت پاکستان دشمنی میں پاگل ہو رہا ہے کیونکہ بھارت میں اگلے چند ماہ میں عام انتخاب ہونے ہیں لہذا معمولی واقعہ کو بھی بہت بڑا دکھایا جارہا ہے۔ اسی ضمن میں بھارتی وزیر دفاع نے دھمکی دی تھی کہ پاکستان کسی دھوکے میں نہ رہے، ہم سخت جواب دیں گے۔ دوسری طرف بھارتی آرمی چیف نے بھی اپنی مرضی کا محاذ کھولنے کی دھمکی دی اور ایسی ہی ایک دھمکی جموں کے کور کمانڈر نے بھی جاری کی ہے۔کسی کا کہنا ہے کہ ایک بھارتی فوجی کے بدلے پانچ پاکستانی فوجیوں کی جان لی جائے۔اسی طرح پاکستان دشمنی میں بھارت کا یہ حال ہے کہ بھارتی میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا کہ پاکستان سے تربیت یافتہ عسکریت پسند جنوبی بھارت پر حملوں کے لئے سری لنکا کی سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ مہاراشٹر پولیس نے مرکزی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے موصول دہشت گردی کے خلاف الرٹ جاری کی کہ پاکستان سے تربیت یافتہ آٹھ عسکریت پسند سری لنکا سے جنوبی بھارت پر حملوں کے لئے داخل ہو سکتے ہیں جن میں سے چار دہشت گرد پنجابی جب کہ باقی کشمیری یا پٹھان ہیں جو تامل ناڈو میں مادورائی کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ لشکر طیبہ بھارت پر حملے کر سکتی ہے اور آٹھ مشتبہ عسکریت پسند پاکستان سے تربیت یافتہ ہو سکتے ہیں۔سری لنکا کے ا خبا ر ’’کولمبو گزٹ‘‘ کے مطابق سری لنکن فوج نے بھارتی میڈیا کی ایسی تمام رپورٹوں کو مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد قرار دیا ہے۔ سری لنکن فوج کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل جگاتھ جے سوریا نے کہا کہ بھارتی میڈیا کی رپورٹیں بے بنیاد ہیں ۔انتہائی کشیدگی اور جنگی ماحول کی اس فضا میں ہمارے حکمرانوں اور عسکری قیادتوں کو دفاع وطن کے تقاضے نبھانے کی تیاری کرنی چاہیے یا اب بھی بھارت کے ساتھ مذاکرات کا راگ الاپنا چاہیے؟ اگر بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے مسلسل یہ پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ مذاکرات کیلئے پہلے پاکستان کو بھارت کی مرضی کے مطابق سازگار ماحول بنانا ہوگا تو ہمارے حکمرانوں کو ملکی سلامتی اور قومی مفادات کے تقاضوں کے برعکس بھارت کے ساتھ مذاکرات کی کیا جلدی ہے؟ حد تو یہ ہے کہ بھارت کی ہر دھمکی اور ہر جارحیت کا جواب ہماری جانب سے مذاکرات کی خواہش کے اعادہ کی صورت میں دیا جاتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کے دوران قومی خارجہ پالیسی کا تذکرہ کیا تو اس میں بھی پاکستان بھارت مذاکرات کے ذریعے قیام امن کی یکطرفہ خواہش کا اظہار کیا۔ ہمارے حکمرانوں کی ایسی فدویانہ پالیسیوں کے بعد کیا توقع رکھی جا سکتی ہے کہ بھارت ہماری سالمیت کیخلاف اپنے جارحانہ عزائم سے باز آجائیگا اور مذاکرات کی میز پر مسئلہ کشمیر کے یو این قراردادوں کے مطابق حل سمیت تمام متنازعہ ایشوز کے تصفیہ پر آمادہ ہو جائیگا جبکہ ہمارے حکمران تو بھارت کو ہماری سالمیت کیخلاف جارحیت کے ارتکاب کا نادر موقع فراہم کر رہے ہیں۔ اگر بھارت کو ہماری ایٹمی صلاحیتوں کے حوالے سے اپنی سالمیت کے معاملہ میں کسی قسم کا خوف ہی لاحق نہیں ہو گا تو وہ مذاکرات کی میز پر ہمارے مؤقف کو تسلیم کرنا تو کجا‘ مذاکرات کا راستہ ہی اختیار نہیں کریگا جس کا واضح عندیہ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کے حالیہ بیان سے مل رہا ہے۔ اس تناظر میں موجودہ صورتحال بھارت کے ساتھ مذاکرات کی نہیں‘ اسکے جارحانہ جنگی عزائم کا ٹھوس اور دوٹوک جواب دینے کی تیاریوں کی متقاضی ہے جس میں کسی قسم کی نرمی ملک کی سالمیت کے دفاع میں نرمی کے مترادف ہو گی جبکہ ہمارے پاس اب ملک کی سالمیت کے تحفظ کے معاملہ میں کسی ہلکی سی کوتاہی کی بھی گنجائش نہیں ہے۔

***

انسانی حقوق کا عالمی دن اور بھارتی چیرہ دستیاں! (1 )

asgher ali shad

اگرچہ دور حاضر کو بہت سے حلقے انسانی تہذیب و تمدن اور انسانی حقوق کے احترام کے حوالے سے مثا لی قرار دیتے نہیں تھکتے، مگر زمینی حقائق پر نگاہ ڈالیں تو اس تاثر کی تائید کرنا خاصا مشکل ہو جاتا ہے، خصوصاً آج بھی دنیا میں ایسے بہت سے بد قسمت خطے موجود ہیں جہاں انسانی حقوق کی پامالیوں کا بدترین سلسلہ اپنی پوری شدت اور تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور ایسے علاقوں میں یقیناًمقبوضہ کشمیر اور فلسطین سر فہرست ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی افواج کی جانب سے گذشتہ 71سالوں سے غیر انسانی مظالم کی انتہا ہو چکی ہے مگر اسے عالمی ضمیر کی بے حسی ہی کہا جا سکتا ہے کہ اس جانب عالمی برادری نے ہنوذ خاطر خواہ توجہ نہ دی اور اسی وجہ سے اس علاقے میں کشمیریوں کی نسل کشی کا قبیح عمل نہ صرف جاری ہے بلکہ ہر آنے والے دن کے ساتھ اس کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ جنگی جرائم بالعموم دو طرح کے ہوتے ہیں۔ پہلی قسم کو امن کے خلاف جرم قرار دیا گیا ہے، اس ضمن میں جارحیت کے نقطہ نظر سے جنگ کی منصوبہ بندی، تیاری اور عملی جارحیت شامل ہیں۔ جنگی جرائم کی دوسری قسم وہ ہے جس کے مطابق انسانی اقدار کے خلاف جرائم ہوتے ہیں اور ایسی صورتحال کے مطابق اگر دو ممالک یا گروہوں کے مابین بوجوہ جنگ کی نوبت آ ہی جائے تو اس جنگ کے دوران شہریوں کی ہلاکت، عوام پر جان بوجھ کر گولہ باری، زیر حراست افراد کے خلاف دوران حراست تشدد اور ہلاکتیں اور شہری ٹھکانوں کو تباہ کرنا شامل ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق اگر کوئی فرد یا گروہ جان بوجھ کر اس قسم کے جرائم کا مرتکب ہوتا ہے تو عالمی برادری کا فرض ہے کہ جنگی جرائم کے ٹربیونل قائم کر کے ایسے افراد کے خلاف باقاعدہ مقدمات چلائے جائیں اور انھیں قرار واقعی سزا دی جائے۔یاد رہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد ’’نورم برگ‘‘ میں عالمی برادری نے اسی بین الاقوامی قانون اور روایت کے تحت بہت سے نازی جرمنی کے اہلکاروں اور کئی جاپانیوں کو باقاعدہ مقدمہ چلانے کے بعد مختلف نوعیت کی سنگین سزائیں دی تھیں اور پھر گذشتہ برسوں میں یوگوسلاویہ کے ٹوٹنے کے بعد سربیا کے حکمران ’’ملازووچ‘‘ اور اس کے کئی ساتھیوں کو گرفتار کیا اور ہیگ (ہالینڈ میں قائم جنگی جرائم کے ٹربیونل ) میں ان کے خلاف مقدمات چلائے گئے۔ اس کے علاوہ کمبوڈیا کے سابق حکمران ’’پول پاٹ‘‘ کے قریبی ساتھیوں کے خلاف بھی جنگی جرائم کے ارتکاب کے جرم میں بھی مقدمات چلے۔ ایسی صورتحال میں بہت سے حلقوں کی یہ رائے خاصی وزن اختیار کر گئی ہے کہ ربع صدی سے بھی زائد عرصے سے جس بڑے پیمانے پر جموں کشمیر کی مقبوضہ ریاست میں انسانی اقدار کی دھجیاں اڑائی گئیں اور جس شدت سے یہ سلسلہ جاری ہے، ہزاروں افراد کو زندہ رہنے کے حق سے محروم کر دیا گیا،ان جرائم کے مرتکب بھارتیوں کے خلاف بین الاقوامی سطح پر قائم جنگی جرائم کے ٹربیونل میں مقدمات کیوں نہ چلائے جائیں؟ مقبوضہ کشمیر میں دہلی کے انسانیت سوز مظالم کا جائزہ لیں تو حیرانگی اور بے پناہ افسوس ہوتا ہے کہ اس جدید دور میں بھی زمین کے کسی خطے پر اس قدر مظالم روا رکھے جا سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ جنوری 1989 سے لے کر 30 نومبر 2018 تک مقبوضہ کشمیر میں 95,234 بے قصوروں کو شہید کر دیا گیا جبکہ 7,120 لوگ حراست کے دوران شہید ہوئے۔ 109,183دکانوں اور مکانوں کو مسمار یا نذر آتش کر دیا گیا۔ 107,751بچوں کے سروں سے والدین کا سایہ چھین لیا گیا اور 22,894خواتین کو بیوگی کے لق و دق صحرا میں دھکیل دیا گیا۔ 11,107خواتین کے ساتھ اجتماعی بے حرمتی کے واقعات پیش آئے۔ اسی تناظر میں دس دسمبر کو انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جا تا ہے ۔ نہتے فلسطینیوں ، کشمیریوں اور خود بھارتی اقلیوں کے بنیادی انسانی حقوق کو جس برے طریقے سے مجروح کیا جا رہا اسے ایک ستم ظریفی ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف ایک روز قبل ہندوستان بھر کے مسلمانوں نے 6 دسمبر کو یومِ سیاہ کے طور پر منایا کیونکہ 26 برس قبل یعنی 6 دسمبر 1992 کو جنونی ہندوؤں نے بابری مسجد کو شہید کر کے بھارتی مسلمانوں کے جذبات کو جو ٹھیس پہنچائی تھی اس کا مداوا آج تک نہیں ہو سکا بلکہ انتہا پسند ہندو گروہ کھلے عام اپنے اس غیر انسانی جرم کو بطور کارنامہ بیان کرتے ہیں اور سنگھ پریوار میں شامل BJP سمیت ساری جماعتیں اس دن کو ’’ گرو دیوس‘‘ یعنی یومِ فخر کے طور پر مناتی ہیں ۔ کچھ روز قبل بھارتی صوبے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’جو رام کا نہیں، وہ ہمارے کسی کام کا نہیں‘‘۔

(جاری ہے۔۔۔)
***

خارزارصحافت اورروز نیوزکے بیورو چیف نورالحسن کا صحافتی قتل

صحافت ایک آئینہ ہے جس میں سماج ،معاشرہ قوم اور ملک کی سیاسی اور سماجی زندگی کی جھلک نظر آتی ہے ۔یہ صرف لکھنے پڑھنے کانام نہیں بلکہ موجودہ دور کی ایک ضرورت بن چکی ہے اور اس کے اثرات سیاست،سماج، معاشرے ،ملک اور قوم پر دور رس اور ہمہ گیر ہیں اس وجہ سے اس شعبہ کی ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں یہ دنیا جو اربوں انسانوں اور لاکھوں مربع میل رقبہ پر محیط ہے اب یہ گلوبل ویلج میں تبدیل ہو چکی ہے۔انسان کی عزو منزلت میں یہ پہلو بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ اسے عقل و شعور دیا گیا ہے اور اس نے لکھنے پڑھنے کے ذریعے نظام حیات و کائنات میں تجسس سے کام لے کر اپنے منصب کو پہچاننے ،مقصد حیات کو سمجھنے اور زندگی کو بہتر طور پر برتنے کی ارتقائے انسان کی ہر دور میں کوشش کی ہے اور یہ کوشش اپنی فطرت کے مطابق جاری و ساری رکھے ہوئے ہے اور تا ابد جاری رکھے گا۔جمہوری دنیا میں ریاست کا جوتصور پیش کیا گیا ہے اس میں پریس کو ریاست کا چوتھا ستون قرار دیا گیا ہے اس دور جدید میں الیکٹرانک میڈیا بھی پریس کا ایک حصہ ہے تین ستونوں کی مضبوطی کا انحصار اس چوتھے ستون کی مضبوطی پر ہے ریاست کے تین ستون بھی اہمیت کے حامل ہیں لیکن چوتھا ستون منزل کی طرف راہنما خطوط متعین کرتا ہے منزل کا پتہ دیتا ہے یہی چوتھا ستون صحافت آج لوگوں کی بصارت اور سماعت کا مترادف بن چکی ہے یہ ہر آن سماج کے بدلتے ہوئے حالات اور اقدار میں راہنمائی بخشتی ہے کہ ہمارا ماضی کیا تھا ،حال کیسا ہے اور مستقبل کیسا ہو گا اور اس سلسلے میں ہمیں کیا کچھ کرنا چاہیے یہ سماجی و معاشرتی برائیوں کی نشاندہی کر کے اصلاح قوم و معاشرت کا اہم کام بھی انجام دیتی ہے جب بھی اس چوتھے ستون کو جبراًگل کرنے کی سعی لاحاصل کی جائے گی تو دوسرے تین ستون بھی نظروں سے اوجھل ہو جائیں گے ماضی اس پر شاہد ہے کہ جب بھی اس ستون کی آزادی چھیننے کی کوشش کی گئی کسی کو کچھ نہیں ملافیض احمد فیض نے کہا تھا

زباں پہ مہر لگی تو کہا کہ رکھ دی ہے
ہر حلقہ زنجیر میں زباں میں نے
پاکستان کے جرنلسٹ،دانشور،شاعر اور ادیب آمریت کے خلاف ہراول بنے سبھی اپنی آواز ،اپنے الفاظ ،اپنی تصاویر اور کارٹونوں کے ساتھ زیر عتاب بھی آئے جیل گئے بیڑیاں پہنیں کوڑے کھائے پولیس گردی کا شکار ہوئے لیکن ان کی ثابت قدمی متزلزل نہ کی جاسکی کئی ایسے بھی تھے جو آج آزادی صحافت کے علمبردار بنے ہوئے ہیں ضیاء الحق کے ہراول دستے میں شامل ہو کر مرادیں پا گئے طوفانی اور سچی تحریریں پڑھ کر آمریت کے کاخ ایوان لرزتے ضرور ہیں اور نشے میں مدہوش آمر سہم جاتے ہیں ویسے بھی دنیا کا ہر شعبہ اچھے اور برے انسانوں کی آمیزش پر مشتمل ہوتا ہے باضمیر صحافی سچ کی خاطر اپنی ترقیوں اور ملازمتوں کو خطرے میں ڈالنے سے گریز نہیں کرتے نڈر اور بے باک مالکان اخبار وجرائد حکومت سے اشتہارات کی بندش اور ڈکلریشن کی منسوخی تک مول لے لیتے ہیں اسی طرح جرأت مند اور پیشہ وارانہ امانت کے حامل رپورٹر صحیح اور درست خبروں کو لانے کیلئے جنگی میدانوں میں بے خوف و خطر گھس جاتے ہیں اور جان تک کی پرواہ نہیں کرتے یہ محکمانہ بد عنوانیوں اور اخلاقی سکینڈلوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش میں حادثات کا شکار ہونے کی پرواہ نہیں کرتے ۔رپورٹنگ محض کیچڑ اچھالنے اور کسی کی شہرت کو نقصان پہنچانے کیلئے نہیں ہونی چاہیے بلکہ عظیم تر قومی مفاد میں سچائی اور حقائق کو سامنے لانے کا نام ہے مثبت اور تعمیری رپورٹنگ میں سکینڈلز کو بے نقاب کیا جاتا ہے اور قانون کی خلاف ورزیوں کو نمایاں ۔اس فیلڈ میں کام کرنے والے صحافی معاشرے میں ہونے والی انفرادی اور اجتماعی برائیوں کا نوٹس لیتے ہوئے ان کی اصلاح کا کام کرتے ہیں اس رپورٹنگ کے نتیجے میں قوم اربوں روپے کی لوٹ مار سے محفوظ ہو جاتی ہے اور اداروں کی پالیسیوں میں مثبت تبدیلی آتی ہے بھارت کا تہلکہ ڈاٹ کام ہو یا امریکہ میں صدر نکسن کے دور کا واٹر گیٹ سکینڈل ،بل کلنٹن کے دور کا مونیکا لیو نسکی کیس،فلپائن کے صدر ایسٹر ا ڈاکو کو ملنے والی سزا ان سب کے پس منظر میں نیوز رپورٹنگ کا ہی کردار نظر آتا ہے ۔معزز و محترم قارئین یہ بھی دنیا کی سب سے بڑی سچائی ہے کہ سچ لکھنا اور سچ کہنا ایک کڑا امتحان ہے ۔سچ کہنے بولنے اور سچ لکھنے کیلئے کبھی زہر کا پیالہ پینا پڑتا ہے ،کبھی پھانسی کے پھندے پر جھولنا مقدر بنتا ہے ۔باجرأت ،بے باک،نڈر لوگوں کو موت کا خوف سچ کہنے ،سچ بولنے اور سچ لکھنے سے باز نہیں رکھ سکتا سچ کی خاطر اذیتیں سہنا تو انبیاء کا شیوہ رہا ہے سچ کہہ کر فرعونان وقت سے ٹکر لینا آسان نہیں ہوتا اس خار دار کھٹن راستے کا چناؤ بھی بہادر ہی کرتے ہیں جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے میں وہ لرزہ بر اندام نہیں ہوتے وقت کی مصلحتیں ایسے انسانوں کیلئے سدّراہ نہیں بنتیں ایسے لوگ بکاؤ مال نہیں ہوتے نہ ہی چڑھتے سورج کے پجاری شاعر نے انہیں کی عظمت کو اس شعر میں بیان کیا ہے۔

انسان کی عظمت کو ترازو میں نہ تولو
انسان ہر دور میں انمول رہا ہے
صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے اس ستون کی بنیادوں میں سچائی کے ان گنت علمبرداروں کا لہو شامل ہے اس وقت وطن عزیز کئی اقسام کے ملک دشمن مافیاز میں گھر چکا ہے جب بھی کسی پر کوئی افتاد پڑتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ اس کے پیچھے فلاں مافیا سرگرم ہے اور یہ اس قدر طاقتور ہے کہ حکومت کا کوئی ادارہ کسی غلط فہمی میں اس پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے منہ کی کھانی پڑتی ہے ۔ان مختلف جرائم پیشہ مافیاز کی سرکوبی کیلئے جہاں قانون محافظ ادارے نبرد آزما ہوتے ہیں وہاں صحافت کا شعبہ بھی ان کیلئے سدراہ بنتا ہے صحافت سے وابستہ افراد کو سچ کی تلاش اور سماج کی اصلاح کیلئے قدم قدم پر خطرات کا سامنا رہتا ہے وطن عزیز میں ایسے صحافی اور رپورٹر بھی موجود ہیں جو جان کے نذرانے پیش کر کے ملک و قوم کے سامنے سرخرو ہوئے ۔یہ بے باک صحافی دہشتگردی کا شکار ہوگئے لیکن قانون دشمن عناصر کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے انکاری رہے اگر سماج کا کوئی معززفرد ،صحافی یا پولیس کا اہلکار آنکھیں بند کر کے اپنے سامنے جرم یا کوئی غیر قانونی کام ہوتے دیکھتا ہے مگر خاموش ہے تو وطن، معاشرے اور اپنے پیشے سے انصاف ہی نہیں کر رہا بلکہ اس سے غداری کا مرتکب ہو رہا ہے صحافت ایک معنوں میں عوام اور حکومت کے درمیان سفارت کاری ہے ۔صحافی قومی سفیر ہوتے ہیں ۔کوئی غنڈہ قومی سفیر کو اپنی بر بریت کا نشانہ بناتا ہے تو اسے کوئی ڈر نہں ہوتا پشاور میں موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں کی فائرنگ سے روزنیوز کے خیبر پختونخواہ کے بیورو چیف نورالحسن شہید ہوگئے جبکہ کیمرہ مین شبیر شدید زخمی ہوگیا۔بیوروچیف نورالحسن کا تعلق نوشہرہ سے تھا وہ گاڑی میں پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کیلئے حیات آباد سے پشاور جا رہے تھے کہ رنگ روڈ پر نامعلوم موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی جس سے وہ موقع پر شہید ہوگئے جبکہ کیمرہ مین شبیر شدید زخمی ہو گیا ۔تہذیبی ارتقاء کے دامن میں اس سے زیادہ بد نما داغ ممکن ہی نہیں ہوتا کہ راہ چلتے انسان کو گولیوں کی بوچھاڑ پر رکھ کر موت سے ہمکنار کر دیا جائے اور یہ معلوم ہی نہ ہو سکے کہ اسے کن لوگوں نے کس جرم کی پاداش میں قتل کیا۔قتل کے ان مجرموں کی گرفتاری اور ان کو کیفر کردار تک پہنچانا اصل معرکہ ہے تاکہ ایسی وارداتوں کے منصوبہ ساز اور ان پر عمل درآمد کرنے والے عبرت پکڑیں پاکستان کو صحافتی اعتبار سے دنیا کا خطرناک ترین ملک قرار دیا گیا ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ میدان صحافت کے دوسرے شہداء کی طرح نورالحسن کا کیس بھی وقت کی راہداریوں میں گم ہوجاتا ہے یا پھر نورالحسن شہید کے قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جاتی ہے۔
***

عمران خان نے چھکا مار دیا

Mian-Tahwar-Hussain

گزشتہ سے پیوستہ

ہندوستان کی طرف بوڈر سے کچھ فاصلہ پر بابا گرونانک کا جبہ یا چولا محفوظ جگہ میں رکھا ہوا ہے اس جگہ سے کرتارپور کا فاصلہ بہت کم رہ جاتا ہے۔ یہاں کوریڈور بن جانے سے سکھوں کے مذھبی مقامات پر آمد و رفت انہیں روحانی تسلی عطا کرے گی۔ 28 نومبر کو اس کوریڈور کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا آئندہ سال کے اختتام تک راہداری اور ریلوے لائن بھی مکمل ہوجانے کے جانسسز ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات میں یہ ایک مثبت پیش رفت ہے دونوں ممالک کے عوام امن پسند ہیں اچھے ہمسائیوں کی طرح رہنا چاہتے ہیں۔ عوامی ترقی اور خوشحالی سب کی خواہش ہے اگر اپنے مفادات کے لئے مغربی ممالک اکھٹے ہو کر ترقی کی راہ پر چل سکتے ہیں تو پھر ہندوستان اور پاکستان ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر امن کی راہ کیوں نہیں اختیار کرسکتے۔ ہندوستان کی حکومت کا رویہ سخت بے لچک اور ہمیشہ جارحانہ رہا ہے۔ انہیں سیاست کے لیے دونوں ممالک کی عوامی خوشحالی اور امن کو قربان نہیں کرنا چاہیے۔ دونوں ممالک ایٹمی قوت ہیں دونوں کو معلوم ہے کہ جنگ سے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی کی طرح شہروں کو کھنڈرات اور آبادی کو بھوتوں کی آماچکاہ تو بنایا جاسکتا ہے لیکن حاصل کچھ بھی نہیں بہتر یہی ہے کہ قریبی ہمسایہ ہونے کی وجہ سے متنازع مسائل کو باہمی گفت و شنید سے حل کرنے کی طرف پیش قدمی کی جائے۔ لوگوں کے آپس کے روابط ہی ٹینشن فری ماحول پیدا کرنے کا سبب بنیں گے۔ ہندوستانی وزیر خارجہ کے حالیہ بیانات افسوس ناک ہیں۔ بغل میں چھری منہ میں رام رام کے مصداق ان کا رویہ ہوتا ہے جب تک دونوں ملکوں کو ایک دوسرے پر ٹرسٹ نہیں پیدا ہو گا اس وقت تک بات چیت کے دروازے بند رہنے کے خطرات منڈلاتے رہیں گے۔ اس وقت موجود نوجوت سدھو امن کے سفیر بن چکے ہیں۔ حکومت پاکستان نے بھی انہیں کھلے دل سے خوش آمدید کہا ہے۔ پاکستان ہمیشہ پرامن بقائے باہمی جذبے کے تحت مذاکرات کا پرجوش حامی رہا ہے۔ اب بھارت کو چاہیے کہ موقع سے فائدہ اٹھائے۔ یہی وقت کا تقاضہ ہے۔ کرتارپور سرحد دونوں ممالک کے عوام کے لیئے امن کی پیعمبر ثابت ہوگی۔ تجارت میں اضافے کا پیش خیمہ ہو گئی۔ بتدریج دیرینہ تنازعات کے حل بھی سامنے آئیں گے جو پیسہ دفاعی ضروریات اور اخراجات پر صرف ہو رہا ہے اس میں نمایاں کمی ہونے کے آثار پیدا ہوں گے اور وہ ہی پیسہ ترقیاتی اسکیموں پر خرچ کرنے سے عوام کی خوشحالی اور بہتری ہوگی سارک ممالک کی ایک دوسرے کے زیادہ قریب آنے کے مواقع پیدا ہوں گے اور آنے والے وقت میں سارک ممالک کی کنفیڈریشن بنانے میں بھی سوچ عملی روپ اختیار کر سکتی ہے۔ یہ تو بڑے بڑے منصوبے ہیں جو امید کی کھڑکی کھل جانے سے ذہن کے افق پر ابھر رہے ہیں۔ ہر سال پاکستان سے عقیدت مند اجمیر شریف اور دہلی حضرت علی احد صابر پاک، خواجہ معین الدین چشتی اجمیری اور حضرت خواجہ نظام الدین اولیا اور حضت امیر خسرو کے مزارات پر حاضری دینے جاتے ہیں انہیں بھی ویزے کے حصول کے لئے سہولتیں فراہم کرنا چاہیں ہرسال ہندوسکھ جن کی مذہبی یادگاریں پاکستان میں ہیں ان پر حاضری اور زیارت کے لئے آتے ہیں پاکستان میں ان مذہبی یادگاروں کی بہترین دیکھ بھال ہورہی ہے۔ کٹاس راج کا کیس ہمارے سامنے ہے۔ عوامی رابطے تنا کھچا کی فضا جو کہ بھارتی حکومت کی طرف سے زبردستی پیدا کی گئی ہے اس میں حقیقت پسندی معاملہ فہمی کا عنصر غالب آنے کے مواقع پیدا ہوں گے۔ عمران خان نے اپنی دانشمندی سے امن کا چھکا مار دیا ہے مثبت رویہ نے اپنا اثر دکھا دیا سکھ قوم خوش ہے وہ پاکستان سے زیادہ محبت کریں گے لیکن ہمیں اپنی سیکورٹی کو بھی ضرور مدنظر رکھنا ہوگا۔

زلمے خلیل زاد کی آمد۔۔۔ پاکستان بھی افغان امن کا خواہاں

adaria

امریکہ کیلئے افغانستان وہ کمبل بن چکا ہے جس کو وہ چھوڑنا چاہتا ہے مگر اب کمبل اس کو نہیں چھوڑ رہا، افغانستان میں امریکہ بری طرح پھنس چکا ہے ، وہ اپنی عزت بچانے کیلئے کسی نہ کسی صورت مفر حاصل کرنے کا خواہاں ہے مگر اسے ابھی تک کوئی راستہ نہیں مل رہا، گو کہ اِدھراُدھر وہ ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہے مگر ہاتھ میں کچھ بھی نہیں آرہا چونکہ امریکہ کا صدر ٹرمپ ہے جس سے کسی وقت بھی کسی بھی قسم کی بات بعید از خیال نہیں۔ ٹرمپ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں، پہلے امریکہ نے پاکستان پر دباؤ بڑھایا اور مختلف قسم کے الزامات عائد کیے لیکن وزیراعظم عمران خان نے جب ڈونلڈ ٹرمپ کو آڑے ہاتھوں لیا تو امریکہ نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے یوٹرن لے لیا اور ساتھ ہی ٹرمپ نے طالبان سے مذاکرات کیلئے پاکستان کو خط لکھ دیا اور باقاعدہ اس سلسلے میں مدد طلب کی ، یقینی طورپر یہ پاکستان کی ایک قابل تحسین سفارتی فتح ہے۔ امریکہ یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ پاکستان کے بغیر افغان جنگ سے اس کا نکلنا ناممکن ہے لیکن اس کے باوجود بھی وہ پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کرنے سے باز نہیں آتا، اب اسی مدد کو عملی جامہ پہنانے کیلئے امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد کو خصوصی طورپر پاکستان بھیجا ہے انہوں نے یہاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے باقاعدہ ملاقات کی۔ جہاں انہوں نے ٹرمپ کے خط کے حوالے سے خصوصی طورپر گفتگو کی اور پاکستان سے مدد بھی طلب کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق زلمے خلیل زاد نے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کو افغانستان مفاہمتی عمل کے سلسلے میں پاکستان کے تعاون کے حصول کیلئے امریکی صدر کی طرف سے وزیر اعظم عمران خان کو لکھے گئے خط کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ وزیر خارجہ نے اس موقع پر ان سے کہا کہ پاکستان، افغانستان میں سیاسی تصفیہ کیلئے، خلوصِ نیت کے ساتھ، اپنا تعاون جاری رکھے گا کیونکہ افغانستان میں قیام امن، پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے۔ امریکی مندوب کو بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان نے افغان مصالحتی عمل میں پاکستان کے تعاون کے حصول کیلئے صدر ٹرمپ کے پیغام کا خیرمقدم کیا ہے ۔امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے ایک بار پھر پاکستان سے افغانستان میں امن کیلئے تعاون کی درخواست کی ہے۔ زلمے خلیل زاد غیر ملکی ائر لائن کی پرواز کے ذریعے دبئی سے اسلام آباد پہنچے۔ پاکستانی وفد کی قیادت سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے کی جبکہ اجلاس میں دونوں جانب سے سفارتی، سکیورٹی اور دفاعی حکام نے بھی شرکت کی۔ ملاقات میں افغانستان میں امن اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بات چیت کے دوران افغانستان میں امن و استحکام اور افغان تنازعہ کے سیاسی تصیفے سے متعلق امور پر زیر بحث لائے۔زلمے خلیل زاد نے ایک بار پھر امریکی صدر ڈونلڈ کی جانب سے افغانستان میں امن مذاکرات کیلئے پاکستان سے تعاون کی درخواست کی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکی وفد کو افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کی جانب سے جلد اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔پاکستان افغانستان اور چین کے درمیان وزرا خارجہ کی سطح پر افغانستان میں امن و سلامتی کے موضوع پر سہ فریقی مذاکرات 15 دسمبر کو کابل میں منعقد ہونگے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پاکستان کی نمائندگی کریں گے تینوں ممالک کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کا یہ دوسرا دور ہے اس سلسلے میں پہلا دور گزشتہ سال دسمبر میں بیجنگ میں ہوا تھا تینوں ممالک نے گزشتہ سال سہ فریقی مذاکرات میکانزم پراتفاق کیا تھا مذاکرات میں چینی وفد کی قیادت وزیر خارجہ وانگ ذی کریں گے جبکہ افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی اپنے ملک کے وفد کی قیادت کریں گے۔امریکی وزیردفاع جیمز میٹس کا کہنا ہے کہ 40 سال افغان جنگ کیلئے بہت ہیں افغان امن معاملے پر اب سب کو شریک کرنے کا وقت آگیا ہے۔ امریکہ کو چاہیے کہ اب وہ الزام تراشیوں اور بہانے بازیوں سے باہر آئے، جب پاکستان سے مدد حاصل کی ہے تو یقینی طورپر اس حوالے سے پاکستان جو بھی تجاویز دیتا ہے اس پر امریکہ کو عمل کرنا ہوگا اس کے باوجود اس مسئلے کا اور کوئی حل نہیں۔ امریکہ کو یہ ادراک ہوچکا ہے کہ خطے میں امن پاک افغان امن سے منسلک ہے تاہم اس موقع پر مسئلہ کشمیر کو بھی کسی صورت پس پشت نہیں ڈالا جاسکتا ۔ بین الاقوامی برادری کو یہ بھی چاہیے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو ہر صورت بند کرائے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل کیا جائے۔

غیرملکی سرمایہ کاروں کو ون ونڈو آپریشن سہولت دی جائے
غیر ملکی سرمایہ کاری لانا سب سے اہم ٹاسک ہے اور حکومت اس پر شب و روز کوشاں ہے، جب تک غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں دلچسپی نہیں لیں گے اس وقت تک ہماری معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہوسکے گی۔ معیشت کی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ حکومت باہر سے آنے والے سرمایہ کاروں کو ون ونڈو آپریشن کے تحت تمام تر سہولیات ایک ہی چھت کے نیچے فراہم کرے اور یہ سرمایہ کاری زیادہ تر صنعت کے شعبے میں ہوتو اس سے نہ صرف ملکی حالات بہتر ہونگے بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہونگے۔ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان سے صدرٹیلی نارگروپ نے ملاقات کی۔ اس دورانوزیراعظم نے کہا ہے کہ حکومت سرمایہ کاری میں شفافیت لانا چاہتی ہے، سرمایہ کاروں کو مکمل سہولیات فراہم کرے گی، ایسا نظام بنانا چاہتے ہیں جو حکومتی ترقیاتی ایجنڈے کی مدد کرے۔ پاکستانی معیشت میں بہت زیادہ ممکنہ صلاحیت کا سرمایہ کاروں کو پورا فائدہ اٹھانا چاہئے۔ وزیراعظم عمران خان سے سیلولر کمپنی ٹیلی نار گروپ کے صدر نے ملاقات کی ، صدرٹیلی نارگروپ نے کہا کہ پاکستان میں 3.5 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کی اورسرمایہ کاری سے 5 ہزار لوگوں کو روزگار ملا۔ وزیراعظم سے عثمان ڈار نے ملاقات کی جس میں وزیراعظم نے انہیں اپنا معاون خصوصی برائے یوتھ افیئرز مقرر کیا جبکہ وزیراعظم کی منظوری کے بعد کابینہ ڈویژن نے عثمان ڈار کی تقرری کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا۔ وزیراعظم نے آئندہ چند روز میں نیا پاکستان یوتھ پروگرام لانچ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے جبکہ قومی پالیسی اور یوتھ پروگرام کی تیاری کا ٹاسک عثمان ڈار کو سونپا گیا ہے، مزید برآں وزیراعظم عمران خان سے ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ٹاسک فورس قائم کرنے کی منظوری دیدی۔ ٹاسک فورس معاشی بہتری سے متعلق قومی ترجیحات کا فائدہ لے گی ٹاسک فورس حکمت عملی اور ایکشن پلان ترتیب دے گی۔ ٹاسک فورس ملک کے نامور سائنسدانوں، انجینئرز پرمشتمل ہو گی۔ وزیراعظم نے فیصلہ سابق چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر عطا الرحمن سے ملاقات میں کیا۔

امریکہ پاکستان کی اہمیت سے واقف ہوگیا، ایس کے نیازی
پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے کہاکہ امریکی صدر کا وزیراعظم پاکستان کو طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے خط پاکستان کی بہت بڑی فتح ہے ۔امریکہ یہ جان چکا ہے کہ افغانستان کے مسئلے میں پاکستان کتنی اہمیت کا حامل ہے اسی وجہ سے آج اس نے پاکستان کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں جو کل تک ہرزہ سرائی کرنے سے بھی باز نہیں آتا تھا۔ روز نیوز کے پروگرام’’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ایس کے نیازی نے کہاکہ حکومت پاکستان اس وقت صحیح سمت میں چل رہی ہے تاہم ابھی آگے دیکھنا ہے کہ معاملات کیسے بہتر ہونگے، سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ملزمان کا تاحال پتہ نہیں چل سکا یہ ایک لمحہ فکریہ ہے اس حوالے سے بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔

یومِ شہادت بابری مسجد۔دلخراش سانحہ

آرایس ایس کے دیوانے‘سرپھرے‘ جنونی متشدد کارسیکوں کی سیاسی تنظیم بی جے پی نے مودی کی قیادت میں آج سے ساڑھے چار برس قبل نئی دہلی کی مرکزی حکومت کا اقتدارجب اپنے ہاتھوں میں لیا تھا تواقتدار کے حصول کے پس منظرمیں دیش میں پہلے سے اقلیتوں پر جاری ظلم وستم اورمذہبی تعصب کی کھلی ہوئی نفرتوں پر مبنی وحشت زدہ انسانیت سوز فلسفہ کی عکاسی ہر کسی کو واضح نظر آرہی تھی یوں لگ رہا تھا کہ بھارت اب سیکولر دیش نہیں رہا دیش کوخالص’ہندوریاست ڈکلیئر‘کرنے کی راہ میں نہ کوئی رکاوٹ باقی ہے نہ ہی مستقبل میں کوئی رکاوٹ برداشت کی جائے گی اکثرپوچھا جاتا ہے کہ بھارت اپنے قیام کے بعد کسی دور میں کبھی ‘سیکولر’ اسٹیٹ رہا؟ گاندھی جی خود اور نہرو سمیت کانگریس کے صف اؤل کے دیگر اہم رہنما اپنے سیاسی اعمال و افعال کے نتیجے میں کبھی’سیکولر’دکھائی دئیے ،نہرو سے اندراگاندھی تک بھارت کے جتنے حکمران رہے کیا وہ ‘سیکولر’تھے؟ خو د مختار ریاست جموں وکشمیر پربھارتی فوجیں اتارنا، ایک آزادوخود مختار پڑوسی ملک پاکستان کے ایک حصہ میں اپنی خفیہ ایجنسی’را’ کے ذریعے اپنے ایجنٹس بھیج کرمشرقی پاکستان( آج کے بنگلہ دیش )میں سیاسی انارکی پھیلانا’سیاسی وانتخابی افراتفری کی آڑ میں انتشار وافتراق کو ہوا دینا لسانی عصبیت اکسانا بھارت کویہ سب زیب دیتا تھا؟ پاکستان کو بھارت نے کبھی دل سے تسلیم کیا نہ ہی بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں کو’بھارتی نژاد مسلمان’ مانا گیا، بھارتی نژاد مسلم اقلیت کو بھارت میں ہمیشہ تعصب اور تنگ نظری سے دیکھا جاتا ہے، اْن کے بنیادی حقوق برابری کی بنیاد پراْنہیں کبھی دئیے ہی نہیں گئے تقسیم ہند کے بعد بھارت نے دنیا کو دھوکہ دینے کی غرض سے اپنے دوغلے چہرے پر ‘سیکولر ازم’ کا نقاب چڑھا یا تھا اور سیکولرازم کی آڑ میں ابتداء میں کانگریس نے خصوصاً مسلمانوں پر خون آشام مظالم ڈھائے دیگر غیر ہندو اقلیتیں جن میں عیسائی’بدھسٹ اورسکھ شامل تھے جنونی انتہا پسند ہندووں نے کسی اقلیت کو نہیں بخشا مذہبی نفرتوں کے ایسے شعلے بھڑکائے اِن بھڑکتے شعلوں میں عیسائیوں کے گرجا گھروں کو خاکستر کیا گیا دیش کے بعض مقامات پر تو غیر دیشی عیسائیوں کو اُن کی عورتوں اور بچوں کو زندہ جلا دیا گیا انسانیت کے احترام کو بھارت میں نجانے اعلیٰ وارفع مقام کیوں نہیں دیا جاتا؟ ذات پات اورچھوت چھات کے برسہا برس کے صدیوں پر قائم نسلی امتیازات اور تعصب کی منافرت کے عذاب سے نجانے بھارت میں انسانیت کے احترام کا انسانیت پرور نظام وہاں کبھی قائم ہوگا یا نہیں؟ فسطائی ہندو جنونیت پرسلگائی ہوئی منافرت کے شعلوں میں بھارتی نژ اد مسلمان گزشتہ71 برس میں محفوظ رہے نہ عیسائی اور نہ ہی اْن کے گرجا گھروں کا احترام کیا گیا، سکھ محفوظ رہے نہ اْن کے مقدس گولڈن ٹمپل میں اْن کا اکال تخت محفوظ رہا ‘وشوا ہندو پریشد’بجرنگ دل اوربھاجپا کے وحشت ناک نعروں نے ہر غیر ہندو اقلیت کو غیر محفوظ کردیا ہے آج بھارتی نژاد مسلمانوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر کے مسلمان ‘بابری مسجد کی شہادت’ پراپنے شدید غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے نئی دہلی سرکار کو باور کرانا چاہ رہے ہیں کہ وہ اپنے آرایس ایس کے چھٹے ہوئے بے لگام غنڈوں کو لگام دے بھارت میں آباد مسلمانوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے آج کا دن’ 6 ؍دسمبر کا دن‘ اس اعتبار سے ناقابلِ فراموش دلخراش دن ہے آج سے26 برس قبل 6 ؍دسمبر1992 کو اترپردیش کے شہرایودھیا میں عہد مغلیہ کی تاریخی ’بابری مسجد‘کو دن دھاڑے شہید کیا گیا تھا جس کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں نے بھرپور احتجاج کیا ،اُس وقت بھارت میں کانگریس کی حکومت تھی نرسہماراؤ وزیراعظم تھے بھارت کی ایک مصدقہ ومعتبر تفتیشی ویب سائٹ ‘کوبراپوسٹ’ نے2014 میں انکشاف کیا تھاکہ ’بابری مسجد‘ کو جنونی ہندوتنظیموں نے منظم سازش کے تحت شہید کیا تھااس خطرناک سازش سے ایل کے ایڈوانی ‘ منوہر جوشی اوراس وقت کے مرکزی وزیراعظم نرسہماراؤ باخبرتھے ’کوبراپوسٹ‘ کے مطابق مسجد کو شہید کرنے والوں کو سابق فوجیوں نے گجرات میں تربیت دی تھی جبکہ نظریاتی تربیت وشواہندوپریشدکی اعلیٰ قیادت نے دی یاد رہے کہ بابری مسجد کی شہادت کو بھارتی نژاد مسلمان اور اہل پاکستان کبھی نہیں بھول سکتے جہاں تک بھارتی ہندوقیادت کا یہ کہنا ہے کہ وہ بابری مسجد کی جگہ رام کا مندر بنائیں گے اُن کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوسکتا دنیا کواب تو یہ سمجھ آجانی چاہیئے کہ بھارت میں جنونی متشدد حکومت قائم ہے جو’رام راج’ اور’دھرم’کی آڑ میں بھارت میں آباد مسلمان اقلیت کو زیر کرکے متنازعہ مندر کی تعمیر کرنے میں اخلاقی و قانونی تقاضوں کو اپنے جوتوں کی نوک پر رکھتی ہے بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی شہادت میں شریک ملزمان پر فرد جرم عائد کردی ہے بابری مسجد کی ایکشن کمیٹی نے بارہا اپنا ٹھوس موقف دنیا کے سامنے پیش کیا ہے کہ’ وہ کسی صورت مسلم قوم کی مسجد کا سودا نہیں ہونے دیں گے’بابری مسجد کا تنازعہ1949 میں پہلی مرتبہ اُس وقت پیش آیا جب تقسیم ہند کا زمانہ تھا پورا ملک دنگے فساد کی زد میں تھا ایسے میں چند شرارتی ہندوپنڈتوں نے بابری مسجد میں داخل ہوکر وہاں رام بھگوان کی مورتیاں رکھ کر اُن کی پوجا پاٹ شروع کردی، جس پر لکھنو کے بااثر مسلمانوں نے اس معاملہ پر اپنا اثررسوخ استعمال کیا یوں معاملہ رفع دفع ہوا تاریخ ہند پر گہری اورموثر تحقیق رکھنے والے غیر جانبدار اور غیر متعصب ماہرین کی رائے ہے کہ مسلمان حکمرانوں نے چاہے وہ خاندانِ غوری ہو یا سوری خاندان کے بادشاہ ہوں مغلیہ عہد ہو یا افغانستان کے درانیوں کا عہد ہو ہندوؤں کے کسی مندر کو کسی مسلمان حکمران نے منہدم نہیں کیا اُن کے مذہبی حقوق کا احترام کیا گیا کھلے دلوں کے ساتھ ہندوؤں سے برابری کا برتاؤ روا رکھا گیا تقسیم ہند کے بعد انگریز کے جب واپس چلے گئے تو ہندوؤں کے سازشی منافق لیڈرٹولے نے جن کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف زہریلا بغض وعناد بھرا ہوا تھا وہ کھل کر سامنے آگیا جس کا ادراک علامہ اقبال اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے بروقت کیا کہ’ہندو اور مسلمان دوعلیحدہ قومیں ہیں ‘ اب وہ جو اپنے آپ کوبڑا ’لبرل‘ اور ’روشن خیال سمجھتے ہیں ذرا وہ دیکھیں تو سہی! آرایس ایس والوں کو کہ ’ پاکستان کی ایماء پر خطہ میں امن کی راہ ہموار کردی گٗی ’’کرتارپورہ کوریڈور ‘‘کا کھلنا اُنہیں کیسے زیب دیتا ہے؟‘۔

چینی قونصل خانے پر حملے کے پس پردہ محرکات

rana-biqi

گزشتہ سے پیوستہ
جس میں اب سعودی عرب اور دیگر دوست ممالک بھی سرمایہ لگانے کیلئے سامنے آ رہے ہیں ۔ البتہ امریکی حمایت یافتہ بھارت ایران چاہ بہار تجارتی منصوبہ خطے میں متبادل تجارتی روٹ کی حیثیت سے افغانستان اور وسط ایشیائی ملکوں میں بھی تاحال خدشات کا شکار ہے جبکہ سی پیک منصوبے کو وسط ایشائی ممالک سے لیکر روس تک پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے بلکہ یورپ اور برطانیہ میں بھی سی پیک منصوبے میں فراہم کی گئی تجارتی سہولتوں کو مثبت انداز سے دیکھا جا رہا ہے ۔ چنانچہ یہی وہ سیاسی چبھن ہے جسے بھارت ، اسرائیل و امریکا تکون جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں اپنے سیاسی و معاشی مفادات کے برعکس سمجھتے ہوئے بلوچستان اور کراچی میں نام نہاد بلوچ لبریشن آرمی اور کنٹریکٹ دہشت گرد ایجنسیوں کے ذریعے سی پیک منصوبے کی اہمیت کم کرنے کیلئے ملک میں اندرونی خلفشار پھیلانے میں پیش پیش ہیں اور چینی قونصل خانے پر حملہ اِسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ درج بالا تناظر میں امریکا ، اسرائیل و بھارت کی حمایت سے نہ صرف بلوچستان کی نام نہاد آزادی کی جدوجہد کے نام پر فنڈز جمع کئے جا رہے ہیں جن کا بیشتر حصہ پاکستان بل خصوص بلوچستان اور کراچی میں دہشت گردی کو جنم دینے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے بلکہ اسرائیل میں گریٹر بلوچستان تحریک کے حامی میر آزاد خان بلوچ کی سرکردگی میں میں نام نہاد آزاد بلوچستان کا دفتر یروشلم میں قائم کیا گیاہے ۔ اگر گزشتہ عشرے میں بلوچ دہشت گردوں کی سیاسی و معاشی سپورٹ کے حوالے سے بیرونی صورتحال کا ایک غیر جانبدار جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے آتی ہے کہ پاکستان مخالف مخصوص مفادات کے پیش نظر امریکاو اسرائیلی ایجنسیوں اور بھارتی سفارتی مشن کی مدد سے امریکہ میں احمد مستی خان بلوچ کی قیادت میں بلوچ یہودی ہندو اتحاد قائم کیا گیا ہے جبکہ ڈاکٹر واحد بخش بلوچ امریکا میں ہندو ، یہودی کمیونٹی کی مدد سے بلوچستان کی نام نہاد آزادی کی تحریک کیلئے کام کر رہے ہیں جسے امریکا میں حق خوداختیاری کے تھنک ٹینک کے سربراہ والٹر لینڈری اور بھارتی راء کے سفارتی افسران و ریسرچ سکالرزپر مشتمل ساؤتھ ایشین ہندو تھنک ٹینک کی حمایت حاصل ہے اور جو ایک منصوبہ بندی کے تحت پاکستان میں بلوچ شدت پسندی کو اُبھارنے میں پیش پیش ہیں۔ گو کہ پاکستان خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پُر جوش ہے اور جس کیلئے پاکستان فوج ، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے علاوہ پاکستانی عوام نے بھی ستر ہزار سے زیادہ افراد کی قربانی پیش کی ہے جسے دنیا مانتی بھی ہے لیکن امریکہ بھارت ا سرائیل اتحاد خطے میں اپنے مذموم سامراجی عزائم کی تکمیل کیلئے پاکستان پر امریکی صدر ٹرمپ کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی پالیس پر بدستور قائم ہیں جسے گزشتہ دس برس میں بل خصوص پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کے دور میں معذرت آمیز پالیسی اختیار کئے جانے کے باعث فروغ حاصل ہوتا رہا ہے۔ البتہ ملک میں تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کے قیام کے بعد اُس وقت تبدیلی کی فضا دیکھنے میں جب موجودہ وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ بھارت نواز بیانات کے بعد امریکہ کو صاف طور پر بتا دیا کہ موجودہ حکومت اب کسی بیرونی ملک کے جنگی عزائم کا حصہ نہیں بنے گی بلکہ پاکستان کے مفاد کیلئے کام کریگی۔یہی فکر صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیانات کے جواب میں پاکستان کے سپہ سالار جنرل قمر باجوہ اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیانات سے بھی جھلکتی ہے۔ حیرت ہے کہ خطے میں امن و امان اور جنوبی ایشیا کی اقوام کے درمیان امن و بھائی چارے کی فضا پیدا کرنے کیلئے پاکستان کی زبردست کوششوں کے باوجود امریکی صدر ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی بدستور پاکستان کے خلاف معاندانہ پروپیگنڈے کو مہمیز دینے میں مصرف ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ یقیناًمبارک باد کے مستحق ہیں کہ اُنہوں نے امریکہ بھارت دفاعی و سیکورٹی اتحاد کی موجودگی میں پاکستان مخالف مذموم پروپیگنڈے کے باوجود ہمسایہ ممالک کی اقوام کے درمیان دوستی اور امن و امان کی پالیسی کو فروغ دینے کی کوششوں کوجاری رکھا ہے چنانچہ سکھ قوم کے متبرک تاریخی مقام گردوارہ بابا گرونانک کو نہ صرف 72 برس کے بعدکھول دیا ہے بلکہ بھارتی سکھ یاتریوں کی سہولت کیلئے کرتارپور سرحد سے چند کلو میٹر کی دوری پر گردوارہ بابا گرونانک تک پہنچنے کیلئے سڑک و ریل کی سہولتیں مہیا کرنے اور یاتریوں کے ٹھہرنے کیلئے ایک جدید ہوسٹل بنانے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ یقیناًحکومت پاکستان کا یہ اقدام خطے کی مذہبی قوتوں کے درمیان بھائی چارے کے جذبات کو تقویت پہنچانے کیلئے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ البتہ پاکستان کیلئے پریشان کن بات یہی ہے کہ ماضی میں جنرل مشرف حکومت کی جانب سے افغانستان میں امریکا نیٹو اتحاد کی مدد کئے جانے کے باوجود امریکا ، اسرائیل اور بھارت خطے میں ایک گریٹر گیم پلان کے ذریعے افغانستان اور بھات کو مضبوط تر اور پاکستان کو اندرونی خلفشار میں مبتلا دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ پاکستان خطے میں پُر امن بقائے باہمی کے تحت امن و استحکام قائم کرنے کا حامی ہے؟خطے میں پاکستان کی امن کی خواہش کے جواب میں بھارت کا رویہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف جنگی جنون پر مبنی لگتا ہے جس کی تصدیق بھارتی آرمی چیف کے سرحد پار حملے کرنے کے متعدد دھمکی آمیز بیانات اور کشمیر کنٹرول لائین کی ایک تسلسل سے خلاف ورزی سے بھی ہوتی ہے جبکہ بھارت میں 2014 کے عام انتخابات سے قبل راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (RSS) کے چیف ڈاکٹر موہن بھگوت، سنگھ پریوار کی تمام جماعتوں کے اشتراک عمل سے ماضی میں کہہ چکے تھے کہ انتخابات کے بعد نریندر مودی کے وزارت عظمیٰ پر فائز ہونے کی صورت میں بھارت ماتا کے سیکولر کردار کو حقیقی معنوں میں ہندو ریاست میں تبدیل کر دیا جائیگا ۔ چنانچہ مودی سرکار کے قیام کے بعد آر ایس ایس کی فکر کو آگے بڑھانے کیلئے بھارت میں مسلمانوں عیسائیوں اور دلتوں کے خلاف تعصب کی آگ کو اسقدر پھیلایا گیا ہے کہ ہندو انتہا پسند سنگھ پریوار کے عسکریت پسند گروپوں نے بھارتی پولیس کی خاموش حمایت سے مسلمانوں کو گائے کا گوشت کھانے کے ناکردہ جرم میں اُن کے گھروں کے دروازوں پر تشدد کرکے موت کے گھاٹ اُتارنے سے بھی گریز نہیں کیا جبکہ اِسی شدت پسندانہ سلوک کا مستحق عیسائی مشنری کی ٹیموں ، پادریوں اورد لتوں کو سمجھا جا رہا ہے ۔ اِسی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ بھارتی فوج کی مدد سے شیو سینا، بجرنگ دل، ویشوا ہندو پریشد اور آر ایس ایس کے متعصب انتہا پسند ہندو گروپ، شدت پسندی کی اِسی آگ کو مقبوضہ کشمیر کے طول و ارض میں پھیلانے میں بھی پیش پیش ہیں ۔ بھارتی مسلمان جو اپنی مذہبی رسومات چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہیں کو کہا جا رہا ہے کہ وہ بھارت چھوڑ کر پاکستان چلے جائیں جبکہ مسلم دانشوروں کو کہا جا رہا ہے کہ اگر وہ بھارت میں رہنا چاہتے ہیں تو وہ ہندوازم سے اپنے روابط استوار کریں اور اسلامی اصطلاح استعمال کرنے کے بجائے بھارتی تہذیب کیمطابق ہندو بھارت میں اپنے آپ کو محمڈن ہندو کہلوائیں ۔ حیدرآباد دکن سے تعلق رکھنے والے بھارتی مسلما ن سیاسی رہنما اکبرا لدین اویسی نے اِس اَمر کی تصدیق کی ہے کہ بھارتی انتہا پسند ہندو تواتر سے یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر وہ مسلمان ہیں تو پھر وہ پاکستان چلے جائیں ۔ اِسی فکر کے تحت نریندرا مودی حکومت ایک مرتبہ پھر انتخابات 2019 کی الیکشن مہم جوئی میں پاکستان کے خلاف مذموم پروپیگنڈے میں مصروف ہے حتیٰ کہ کرتار پور سرحد کھولنے کی تقریب میں بھی بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے نہ صرف پاکستان آنے سے گریز کیا بلکہ ایک مرتبہ پھر اعلان کر دیا کہ بھارت پاکستان میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کریگا جس سے بھارت کے خطے میں مذموم عزائم کا بخوبی ادراک ہوتا ہے۔ صد افسوس کہ پاکستان کی جانب سے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کی پالیسی کو فروغ دینے کی بہترین کوششیں کئے جانے کے باوجود جنوبی ایشیا میں امریکا، بھارت ، اسرائیل اتحاد بھارت کو خطے پر مسلط کرنے اور پاکستان کو بھارت کی طفیلی ریاست بنانے میں مذموم کردار ادا کرنے میں مصروف ہیں۔ بھارت نے نریندرا مودی کی قیادت میں سابق وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کی فیملی سے دوستی کا لبادہ اُوڑھ کر اینٹی پاکستان فکر کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا اور جناح و اقبال کی اسلامی تمدن کی فکر کو بھی ہندوازم میں جذب کرنے کیلئے پر تولتا رہا ہے۔چنانچہ پاکستان میں گزشتہ عشرے کی جمہوری حکومتوں نے صورتحال کی نزاکت کو سمجھنے اور فکرِ جناح و اقبال کو وفاق اور صوبائی سطح پر متحرک کرنے کے بجائے پاکستان میں نئی نسل کے طلبأ و طالبات کو دین اسلام اور تحریک پاکستان سے نابلد رکھنے کیلئے اسکولوں اور کالجوں کے نصاب میں مغربی سیکولرازم کو تقویت پہنچانے کیلئے تبدیلی کی ابتدا کی گئی جسے مملکت خدادداد پاکستان کی سلامتی کے منافی ہی سمجھا جانا چاہیے۔ البتہ عمران خان کی نئی وفاقی حکومت کے آنے کے بعد عوام کو یقین ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نہ صرف جناح و اقبال کی فکرِ اسلامی کو آگے بڑھانے میں موثر کردار ادا کریگی بلکہ چین پاکستان سی پیک منصوبے کے خلاف بھارتی تخریب کاری کا بھی موثر تدارک کرتی رہیگی کیونکہ سی پیک منصوبہ ہی پاکستان کی معاشی ترقی کا ضامن ہے ۔

امریکہ اب ناگزیر نہیں!

سچی بات یہ ہے کہ آج تک امریکہ نے ہمیں جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیاہے۔ حال ہی میں امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی روکی جانیوالی امداد کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے پاکستان کو ایک ارب 30 کروڑ ڈالر سالانہ امداد دی، مگر اب ہم پاکستان کو امداد نہیں دینگے کیوں کہ پاکستان نے ہمارے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹس میں کہا کہ پاکستان کو اربوں ڈالرز نہیں دیے جائیں گے، پاکستان ان ممالک میں سے ہے جو امریکہ سے لیتا تو بہت کچھ ہے مگر امریکہ کے لیے کچھ نہیں کرتا۔اس سے قبل بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو آیندہ سے کسی بھی قسم کی امداد نہ دینے کی دھمکی دی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ گذشتہ پندرہ برسوں میں ہم نے پاکستان کو 33 ارب ڈالرز کی امداد دی جو بے وقوفی تھی۔ اب پاکستان کو کوئی امداد نہیں ملے گی۔انہوں نے الزام عاید کیا کہ ہم پاکستان کو بھاری امداد دیتے رہے لیکن دوسری جانب سے ہمیں جھوٹ اور فریب کے سوا کچھ نہیں دیا گیا۔حالانکہ پاکستان میں دہشت گردی کے مرتکب عناصر کو امریکہ نے افغانستان میں بھیٹایا ہوا ہے اور ان کی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کیں ہیں۔پاکستان نے امریکہ کو دو ٹوک جواب دیا ہے پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان نے خطے کے امن کیلئے کام کرتے ہوئے دہشتگردی کیخلاف جنگ بھی کامیابی سے لڑی ہے اور افغان امن کیلئے وہ کچھ کیا ہے جو دنیا کے کسی اور ملک نے نہیں کیا۔انہوں نے واضح کیا کہ عسکری، معاشی، سیاسی اور سماجی لحاظ سے سب سے زیادہ قیمت بھی پاکستان نے ہی چکائی ہے جس کا اعتراف کیا جانا چاہئے۔اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر کے پاکستان پر الزامات کا جواب دے دیا، کہتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنا ریکارڈ درست کریں، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان نے 75 ہزار جانوں کی قربانی دی، 123 ارب ڈالر کا نقصان اٹھایا، امریکا نے صرف 20 ارب ڈالر دیئے، امریکا اپنی ناکامیوں پر پاکستان کو قربانی کا بکرا نہ بنائے۔ عراق ، افغانستان ، شام ، یمن اور لیبیا میں امریکی پالیسیوں کی ناکامی سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ مشرق وسطی کے واقعات میں بڑی طاقتوں کے سیاسی فیصلوں کی اب کوئی وقعت نہیں رہی ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی انسان دشمن پالیسیاں اور جمہوریت کے نام پر فوجی دھمکیاں اور اپنی معیشت کے حوالے بلند بانگ دعوے سب کھوکھلے ثابت ہو رہے ہیں۔جب سے امریکہ نے اپنے آپ جمہوریت کے نام پر بین الاقوامی جنگوں میں الجھایا ہے اس کی معیشت تباہی کے دھانے پر ہے جبکہ اس کے مقابل چائنا نے اپنے آپ کو جنگوں سے بچایا ہے تو چائنا کی معاشی ترقی دنیا کیلئے اچھی مثال ہے جبکہ امریکہ اپنی غلط حکمت عملیوں اور جنگوں میں الجھنے کی وجہ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی اقتصادی اور سیاسی پاور ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کاسب سے بڑا مقروض ملک بن گیا ہے امریکی قرضے143 کھرب ڈالر سے تجاوز کرچکے ہیں حتیٰ کہ جب تک امریکی حکومت کو قرض لینے کی حد میں اضافے کی منظوری نہیں ملتی تو امریکی وزارت خزانہ کے پاس ادائیگیوں کے لیے رقم تک نہ ہوتی یہی وجہ ہے کہ عراق، لیبیا اور افغانستان میں بے مقصد لڑنے والے فوجیوں کو تنخواہوں کی ادائیگی بھی مشکل سے ہوتی ہے۔‘‘۔ امریکی اقتصادی بحران کا اندازہ اسی بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت مانے جانے والے امریکہ پر فی سیکنڈ40ہزار ڈالر کاقرض بڑھ رہا ہے ۔امریکی وزارت خزانہ کی ایک رپورٹ کے مطابق حکومتی خزانے میں نقد رقم صرف 73ارب 70کروڑ ڈالر رہ گئی ہے اوراگر قرض لینے کی حد میں اضافہ کی منظوری نہیں دی گئی ہوتی تو حکومت کو اپنے واجبات کی ادائیگی کے لیے رقم کی شدید کمی کا سامنا ہو سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں حکومت دیوالیہ ہوکردھندہ ہوسکتی ہے۔ایک رپورٹ میں یہ ایک دلچسپ خبر ہے کہ دنیا کے امیر ترین ملک امریکہ کے خزانے میں اتنے ڈالر بھی نہیں ہیں جتنے ایپل کمپنی کے پاس ہیں۔ امریکی ریزروبینک میں 73.76ارب ڈالر رہ گئے ہیں جب کہ ٹکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑا نام ایپل کمپنی کی تجوری میں نقد رقم 75.87ارب ڈالر جاپہنچی ہے۔یہ بھی پیشنگوئی ہے کہ امریکہ چھ خود مختار ریاستوں میں تبدیل ہوسکتاہے اگر سویت یونین ٹوٹ سکتا ہے تو امریکہ کیوں نہیں امریکہ کا جنگوں میں الجھنے کا سب سے ذیادہ فائدہ روس اور چین نے اٹھایا ہے اور اب یہ دنیا کی بڑی معاشی قوتیں ہیں اور لگتا یہ ہے کہ چین اور امریکہ مستقبل میں دنیا کے نئے مگر اہم کھلاڑی ہوں گے اور ناقص حکمت عملیوں کی وجہ سے سویت یونین کی طرح امریکہ کی بھی ٹوٹ پھوٹ شروع ہوجائے گی اور اس کے دیوالیہ ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔ امریکہ میں قرضوں کے بحران کی وجہ سے دیوالیہ ہونے کا خطرہ پہلی بار نہیں ہوا ایسا اس سے قبل 1790پھر1933پھر ایک جزوی بالی بحران 1979اور پھر سابق صدر جارج بش کے آخری دور2008میں اقتصادی بحران اپنے پنجے گاڑ چکا ہے اس بحران نے تو امریکی ٹیکس دہندگان کو گھروں سے بے گھر کر کے فٹ پاتھ پر لابٹھایا تھا لیکن جارج بش نے دنیا کو جنگوں کی �آگ میں جھونکے رکھا یہی وجہ ہے کہ آج خود امریکی سیاستداں اپنے ملک کی ان جنگ جو قسم کی پالیسیوں سے بے زاری کا کھلم کھلا اظہار کررہے ہیں۔ امریکہ کے سابق انٹلی جینس چیف ونس بلیئر نے کہا ہے کہ محض 4ہزار دہشت گردوں کی پکڑ دھکڑکے لیے سالانہ 80ارب ڈالر خرچ کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 9/11کا واقعہ گویا امریکہ نے اپنے پاؤں پر خود کلھاڑی سے وار کیا ہے اور اس واقعہ کے بعد اربوں ڈالر جنگوں میں جھونک دئے گئے ہیں جس کے نتائج سب کے سامنے ہیں اور لاکھوں بے گناہ انسانوں کا خون بھی اس کے ذمہ ہے ۔اور یہ امراب کسی سے پوشیدہ نہیں رہا ہے کہ امریکہ دہشتگردوں کو اپنے سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتا ہے امریکہ دہشتگرد گروہوں کو اپنی مخالف حکومتوں کے خلاف استعمال کررہا ہے۔

(بقیہ سامنے صفحے پر)

Google Analytics Alternative