کالم

اندوہناک داستانیں

بلاشبہ ’سچائی‘ ایک پیچیدہ تصور ہےسچائی تک پہنچنااور عین ویسے ہی من وعن بیان کردینا بڑی ہمت وجرات کی بات ہوتی ہے اور خاص کر بھارت جیسے ملک میں جہاں آپ دیش بھرمیں پھیلی ہوئی سرکاری سرپرستی کی جنونی انارکی کوللکارنے نکل پڑیں’ایسی ہی کڑوی کسیلی اورتلخ سچائی سے وابستہ حیات آفریں تصور کے ساتھ چند دوسرے تصورات بھی آپ کے ذہنوں پریعنی سچائی لکھنے اوربولنے والوں کے ذہنوں پرلگاتاردستکیں دینے لگتی ہیں، مثلا تصدیق کی دستک ‘دیانت اورمحنت کی دستکیں’ان بے آوازدستکوں کااحساس اْنہیں یہ باور کراتا ہے کہ وہ انسانیت کے وقار کے لئے کمربستہ ہوچکے ہیں’لہذاء کسی قسم کے خوف کو اپنے قریب پھٹکنے نہ دیں جو سچ بولنے جارہے ہیں وہ سچ بول دیں، بھارت کی نامورعالمی شہرت یافتہ مصنف’صحافی اورممتازٹی وی اینکرپرسن محترمہ برکھادت نے زمینی وواقعاتی سچائی کی سرشاری میں محو ہوکردیش بھرمیں آباد مختلف نسلوں جنہیں ہمہ وقت انسانی محرومیوں نے اپنے حصار میں گھیرا ہوا ہے ایسوں کے ساتھ پیش آنے وا لے دردوالم کو محسوس کرکے بھارتی معاشرے میں بڑھتی ہوئی نسلی ولسانی فرقہ واریت کی متشدد جنونی مشکلات کی کھائی میں اس بہادرمصنفہ نے بلاآخر چھلانگ ہی لگادی ممکنہ پیش آنے والی مشکلات کی بالکل پرواہ نہ کی اور نکسل عوام کی ایک بڑی واضح اکثریت جوغربت وافلاس میں گھری ہوئی ہے اْن کی انتہائی لاچاریوں اوربے بسیوں کی جانب توجہ دلانے کے لئے برکھا دت نے’نکسل وادی’کے عوام کی آوازکواپنی عالمی شہرت یافتہ کتاب کاموضوع بنایا ہے’شورش زدہ سرزمین۔اوراندوہناک داستانیں’مس برکھادت نے ا پنی مقبول عام کتاب میں مغربی بنگالی صوبہ میں واقع نکسل باڑی کے بہادراورغیورمحنت کش عوام کے ساتھ روا رکھے جانے والی نئی دہلی سرکار کی برسہا برس کی متعصبانہ اور بے حس پالیسیوں پربڑے تفصیل سے گہری تفتیشی اندازمیں تنقیدی تاریخی رویہ اپنایا اوردنیا میں بھارتی جمہوریت کے داغدار چہرے کو بے نقاب کرکے اپنی صحافتی ذمہ داریوں کا حق اداکردیا ہے دنیا جاننا چاہتی ہے تو سن لے کہ’ نکسل عوام’ نے نئی دہلی اقتدارکو اگرچیلنج کیا ہے تو کیوں کیا ہے؟کوئی یہ سب کچھ جاننے کی کوشش کیوں نہیں کرتا ‘نکسلائٹ آئیڈیا لوجی’کے مسلح پس منظر میں ایسے کون سے عوامل کارفرما رہیں یا آج بھی کل کی طرح تروتازہ ہیں بقول مصنفہ برکھادت کہ نکسل عوام تک نئی دہلی سرکار نے انسانی سہولتوں کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کوممکن بنانے میں ہمیشہ تنگ نظری اور صرف نظر سے کام لیا ہے، مگراس ضمن میں نکسل عوام کوجو سب بڑا فائدہ ہوا ہے وہ یہ ہے کہ نکسل عوام کی نئی دہلی کی حاکمیت سے علیحدگی کی تحریک کی بابت بھارتی معاشرے میں اب ایک واضح لکیر وقت کے ساتھ ساتھ نمایاں ترہوتی جارہی ہے نکسل عوام اپنی الگ آزاد ریاست کے لئے اپنی کئی نسلوں کی قربانیاں دینے کے لئے ا پنے آپ کومکمل طور پر تیارکرچکے ہیں ،جس پرسینٹرل دیش کے اکثرسیاسی تجزیہ کار اور صحافی نکسلائٹ چھاپہ ماروں کوکسی طور بھی ‘ریاست مخالف’یا’دیش کے معاشرے کا دشمن خیال نہیں کرتے’بلکہ اکثرحلقوں کی ایک پختہ رائے یہ بھی ہے کہ نکسل عوام کاتعلق بھارتی معاشرے کے اْن محروم طبقات سے ہے جن کے ساتھ بھارتی ریاست’حکومت اور بھارتی ایلیٹ معاشرہ ہمیشہ سے بہت ہی بْری طرح کا غیر انسانی ظلم وستم کرتا چلاآیا ہے’لہذاء ان محروم اور پسماندہ طبقات نے اپنے بنیادی انسانی حقوق کے حصول کی جدوجہد کے لئے اب اپنا ‘مسلح راستہ’اپنا لیا ہے مصنفہ برکھادت نے اسی جانب اپنی کتاب میں اشارہ کیا ہے کہ جب کوئی بھی ریاست اپنی مجموعی آبادی کے ایک بڑے واضح حصہ کو زندہ رہنے کے لئے پینے کا صاف پانی تک فراہم نہ کرئے اْن کی ضروریات زندگی کے لئے روزگارکا کوئی بندوبست نہ کرئے اْنہیں صحت کی سہولیات میسرنہ ہوں علاقہ کے بڑے امیر و کبیر بڑی زمینوں وا لے جاگیرداراْن کی زمینوں پرقبضہ جماتے رہیں علاقائی پولیس تھانوں میں آئے روزاْن کی ظالمانہ چھترول کی جاتی ہو’پہلے سے محروم پسے ہوئے طبقات کوغلام بناکر زندہ رہنے پرمجبورکردیا جاتا ہواْن کی خواتین کی کھلے عام عصمت دری کی جاتی ہو توکیا ایسے محروم اور نادارعوام ہمیشہ کے لئے مہربہ لب اورخاموش رہ سکتے ہیں؟’نکسلائٹ آئیڈیا لوجی‘ کا یہی واحد ٹھوس نظریہ ہے جس نے اْنہیں باہم متحدہ ویکجا کیا ہے، نکسل باڑی تنظیم کی بحثیں کرتے ہوئے نام نہاد’متحدہ بھارت’ کے نام لیواوں کاجوخیال بھی ہو،مگر معروضی سچائی معروضی حقائق اورنظرآنے والے واقعات کو وہ یوں یکسررد نہیں کرسکتے’جیسا کہ مس دت نے محسوس کیا اور اپنی کتاب کے صفحات میں اْنہیں رقم کردیا کہ نکسل عوام کے ساتھ روا رکھے جانے والا متعصبانہ سلوک تاریخ کا حصہ بن سکے وہ بالکل حق بجانب ہیں گزشتہ 70 برسوں میں نئی دہلی سرکار نے چاہے کسی جماعت کی بھی مرکز میں حکومت رہی ہو یا آج بھی موجود ہے نکسل عوام کو کسی نے بھی وہ توجہ نہیں دی جو بھارت کے عام ‘ہندوجاتیوں’ کو دی جاتی ہے، بلکہ سنجیدگی سے اس کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی گئی تو پھراْنہوں نے بندوق اْٹھالی، نئی دہلی کے علاوہ علاقائی اورعالمی طاقتیں فورا سمجھ گئیں کہ ‘جنوبی ہند میں ضرورت سے زیادہ شورش برپا ہے جو بڑھتی جارہی ہے ا گرفکر نہیں ہے توجانتے بوجھتے ہوئے بھی نئی دہلی سرکارہے جوبے فکرہے کبھی چین پرالزام دھردیا جاتا ہے’ کبھی پاکستان کو اڑے ہاتھوں لے لیا جاتا ہے لیکن مسئلہ کا بامقصد حل تلاش نہیں کیا جاتا نئی دہلی کی اسی ناعاقبت اندیش اور تساہل پرست ہٹ دھرم سیاست نے دیش کو آج کل بارود کے ڈھیر پر ضرورپہنچا دیا ہے، مقبوضہ کشمیر سے لے کر جنوبی ہند تک سے ‘نئی دہلی حاکمیت’کی مرکزیت کے خلاف اْٹھنے والی جاندار اور موثرآوازوں پراپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونسنے والوں کوکیا اب یہ ہم بتائیں گے کہ اگر اُنہیں فرصت ملے تووہ مس دت کی کتاب کا مطالعہ کریں تاکہ اْنہیں علم ہوجائے کہ’نکسلائٹ تحریک’وسطی اورمشرقی دیش کے سبھی دیہی علاقوں تک پھیلتی ہی چلی جارہی ہے مس دت کی متذکرہ کتاب کافی ضخیم ہے اپنی کتاب میں مس دت نے بھارتی معاشرے میں بڑھتی ہوئی ہندوتوا تحریک پر بڑے زور دار سوالیہ انداز میں طنزیہ تبصرے کیئے ہیں خاص کر بی جے پی کی موجودہ سرکار پر جنہیں درپردہ آرایس ایس کی مکمل حمایت حاصل ہے دیش بھر میں ’ہندوتوا‘ کی نفرتوں بھری سیاست کی گندگی کو نمایاں کرکے دنیا تک مصنفہ نے پیغام پہنچا دیا ہے کہ بھارت میں جنونی انتہا پسندوں نے ایسا تنگ نظر ماحول پیدا کردیا ہے کہ یہ دیش اب ’لبرل اور روشن خیال اعتدال پسند سیکولر ازم پر چلنے والوں کے لیئے جہنم بنتا جارہا ہے جہاں نسل کی بنیادوں پر اچھوتوں کا کھلے عام استحصال ہوتا ہے، مذہبی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک سرکاری سرپرستی ہوتا ہے، مذہبی اقلیتوں میں عدم تحفظ کے احساسات بڑھتے چلے جارہے ہیں بھارت کی انتشار پسند ریاستوں کا یہ رخ کتنا بھیانک ہے بھارت اپنے پڑوسی ممالک کو گیدڑ بھبکیاں دینے میں بڑااتراتا ہے ذرا جھک کر اپنے ہی گریباں میں تو جھانک لے دنیا بھر کے تجزیہ نگاراس امر پر متفق ہوچکے ہیں نکسل وادی گوریلوں کی مسلح کارروائیوں کے نتیجے میں بھارت کے40% حصے پر 92000 مربع کلومیٹر علاقے میں نکسل اپنی عملداری قائم کرچکے ہیں ’ہندوتوا کی فرقہ واریت ‘کی نفرت نے آج بھارت کوکس قدر منقسم کردیا ہے ۔

بھارت کے آرمی

معزز قارئین کرام قبل اس کے بھی راقم آگ کے موضوع ،اس کے فوائد اور نقصانات پر قلم آرائی کر چکا ہے لیکن کیا کریں کہ کچھ وقفے کے بعد وطن عزیز کے کسی بڑے شہر میں کسی اہم مقام پر آگ لگنے کا پچھلے واقعات سے ملتا جلتا واقعہ پھر وقوع پذیر ہو جاتا ہے جو دوبارہ قلم اٹھانے کی زحمت سے دوچار کرنے کا باعث بنتا ہے۔آگ کی دریافت سے قبل انسان کی زندگی نامکمل تھی۔ عصر حاضر میں آگ سے انسان سو طرح کے کام لیتا ہے ۔آگ انسان کیلئے کھانا پکانے ،روشنی مہیا کرنے سمیت کسی بھی کام میں جوت دو وہ اپنی قوت خدمت کیلئے حاضر کر دیتی ہے ۔انجن ،جہاز اور صنعت آگ ہی کے زور اور اسی کے دم قدم سے آباد ہے ۔آگ کی قوتوں میں سے ایک بالا تر قوت برق ہےجسے گرتے دیکھ کر انسان لرزنے کے ساتھ استغفار کا ورد ضرور کرتا ہے ۔اس کے جنگل پر گرنے سے جنگل کا جل کر راکھ ہونا مقدر ٹھہرتا ہے۔آتش فشاں پہاڑوں میں آگ لگنے سے پیدا ہونے والے زلزلے دنیا میں بنی نوع انسان کی تباہی و بربادی کی داستانیں رقم کرتے ہیں ۔آگ لگنا اور گھر کے چراغ سے آگ لگنا ہمارے ہاں بطور محاورہ مستعمل اور عام سی بات ہے ۔وطن عزیز میں بعض محبت کے اسیر بہ اختیار و رغبت محبت کی ناکامی پر جوش محبت میں اپنے تئیں آگ لگا کر درد ناک موت سے دوچار ہوتے ہیں ۔ سماج میں آگ لگانے کے واقعات بھی خبروں کی شہ سرخیوں کی شکل میں قارئین تک پہنچتے رہتے ہیں ۔ محرومیاں ،مالی پریشانیاں ،غربت ،مہنگائی ،بے روز گاری،معاشرتی تضادات ،بے انصافیاں ،عدم مساوات اور گھریلو جھگڑوں سے تنگ ستم زدہ افراد بطور احتجاج دنیا کے مصائب و آلام سے ہمیشہ کی رہائی کیلئے خود کو جلا کر اذیت ناک موت کا انتخاب کرتے ہیں ۔ارض پاک میں چولہا جلانے کے دوران سماج کی کمزور و ناتواں مخلوق کے کپڑوں کو آگ پکڑ لیتی ہے جو ان کی درد ناک موت کا باعث بنتی ہے ۔اسے عورت کی غلطی یا خود کشی کا رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن واقعات سوختگی میں جلانے والے کبھی سزا نہیں پاتے۔ ہندوستان میں مردہ خاوند کی لاش کے ساتھ ان کی بیویوں کا چتا پر جلایا جانا رسم ستی کہلاتا تھا گو قانوناً تو اب اس رسم پر سخت پابندی ہے لیکن اس دور جدید میں بھی ہندوستان کے دور دراز پسماندہ علاقوں سے اب بھی کبھی کبھار رسم ستی پر قربانی کی بھینٹ چڑھائی جانے والی مظلوم عورت کی دلخراش خبر سننے کو مل جاتی ہے ۔سماج میں دکھ، درد اور اذیتیں سہتے ہوئے تلخ زندگی بسر کرنے والوں کو بھی کوئی داد نہیں ملتی اور نہ ہی مجبور جل مرنے والوں کے درد کو محسوس کیا جاتا ہے ۔کئی بے گناہ سماج میں جل رہے ہیں مگر دھواں تک نہیں اٹھتا اگر اٹھتا بھی ہے تو کوئی دیکھنے کی کوشش نہیں کرتا ،اگر کوئی دیکھتا بھی ہے تو آگ بجھانے کی تگ و دو سے غافل ہے یا پھر خاموش تماشائی ہے۔کچھ درد دل رکھنے والے ایمان کے کمزور ترین درجے پر کھڑے دل میں برا خیال کرنے اور استغفار کہنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں ۔دعا کریں کہ وہاں آگ نہ لگے جہاں اسے بجھانے والا کوئی نہ ہو ۔زندگی بھی آگ وخون کا دریا ہے جسے پار کرنا بدقسمت انسانوں کے بس کا روگ نہیں ۔میرے واجب تکریم قارئین بات ہو رہی تھی آگ لگنے یا لگانے کی کچھ ملک و اسلام دشمن عناصر پس پردہ رہ کر مختلف فرقوں کے درمیان فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دے کر نہ بجھنے والی آگ اس مہارت سے لگاتے ہیں کہ دو برادر مسلمان فریقوں میں قتل و غارت کا بازار گرم کروا دیتے ہیں ۔ جنگ ایک ایسی آگ ہے جس کا ایندھن بے گناہ انسانوں کو ہی بننا پڑتا ہے ۔جنگ ہلاکت ،بربادی و تباہی کی علامت ہے ۔ماضی قریب میں ہم سب نے دیکھا بھی اور سنا بھی انسان کے ہاتھوں لگائی گئی آگ آتش و آہن کی بارش ،جنگی طیاروں کی گھن گرج ،بمباری کی دلخراش آوازیں ،جدید اسلحہ کی داستانیں ،ایسی آگ آسمان جس کے شعلوں سے سرخ کر دیا گیا ،بے رحم بموں نے انسان کجا پتھروں کو بھی پگھلا دیا ۔اس آگ نے بے آب و گیاہ صحراؤں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ، اس آگ کے دریا میں لاکھوں بے گناہ انسان بہا دیے گئے۔ جنگ کے الاؤ سے اٹھنے والی چنگاریاں دور دور تک گرتی ہیں ۔عربی کا ایک محاورہ ہے اگر ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرف پھیلتی آگ بجھائی نہ جائے تو وہ آگ اس گھر تک پہنچ جاتی ہے جس سے دیا سلائی پھینکی گئی ہو ۔

اے چشم اشکبار ذرا دیکھ تو سہی
یہ گھر جو جل رہا ہے کہیں تیر ا گھر نہ ہو
مارچ2002ء میں ہونے والے فسادات میں ایک ریل گاڑی کو لگائی گئی آگ میں 59انتہا پسند ہندو ہلاک ہوئے اور نزلہ بر عضو ضعیف کے مصداق الزام بے چارے مسلمانوں پر ہی لگایا گیا اور اس ناکردہ جرم کی پاداش میں تین ہزار مسلمانوں کو قتل کیا گیا یا زندہ جلایا گیا ۔انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ مسلمانوں کی نسل کشی تھی اور یہ فسادات گجرات کی ریاستی حکومت کی در پردہ اجازت پر ہی کئے گئے۔کئی دفعہ آگ لگتی نہیں لگائی جاتی ہے ۔اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کیلئے ،نشان جرم مٹانے کیلئے لیکن جرم تو خود اپنی گواہی کا سامان پیدا کرتا ہے ،خود بولتا اور تمام ثبوت و شواہد مہیا کرتا ہے ۔یہ علیحدہ بات ہے کہ مجرم کو سماج میں سزا ملے یا نہ ملے لیکن جرم چھپائے نہیں چھپتا۔آگ ضروری دستاویزات ضائع کرنے کیلئے بھی ایک موثر اور معتبر ذریعہ ہے ۔وطن عزیز میں انشورڈ گاڑیوں،دکانوں ،بڑی عمارتوں اور کارخانوں میں قیمتی سامان کو آگ لگنے کا مشاہدہ میرے معزز ناظرین نے کیا ہو گا ۔ایسی لگی آگ کے پس پردہ ہمیشہ ذاتی محرکات و مفادات ہی کار فرما ہوتے ہیں ۔اکثر آگ لگنے کی وجوہات میں تان بجلی کا سرکٹ شارٹ ہونے پر ہی تان ٹوٹتی ہے۔بعد میں ذمہ داران کی طرف سے لگائی گئی انکوائریاں جامع تحقیقات سے گریز کے باعث قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹیں بنا کر کسی بھی مثبت نتیجے پر پہنچنے سے محروم رہتی ہیں۔بعد ازاں ایسے واقعات کو بھلانے اور ان پر مٹی ڈالنے پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے۔گزشتہ چند برسوں کے دوران سرکاری اور غیر سرکاری عمارتوں میں آگ لگنے اور اہم سرکاری ریکارڈ جلنے کے واقعات اس تواتر سے ہوئے ہیں کہ اس شبہ کو تقویت ملتی ہے کہ آتشزدگی کے یہ واقعات محض حادثات نہیں ۔لاہور میں اس قسم کے وقوعے نے صورت حال کو مزید مشکوک بنا دیا ہے۔سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے داماد کی ملکیت اس پلازے میں صاف پانی کمپنی کا دفتر واقع تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کمپنی پنجاب کی سابق حکومت کی بد عنوانیوں کا شاہکار ہے اور ان دنوں قومی احتساب بیورو اس کمپنی میں ہونے والی اربوں روپے کی کرپشن کی تحقیقات کر رہی ہے ۔ گزشتہ ماہ کے وسط میں لاہور میں پنجاب کو آپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز کے رجسٹرار آفس میں آگ لگنے کا ایسا ہی مشکوک واقعہ اتنی صفائی کے ساتھ رونما ہوا یاکیا گیا کہ مشکوک اور زیر تفتیش ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا اہم ترین ریکارڈ جلنے کے سوا اس سے کو ئی اور نقصان نہیں ہوا تھا ۔حالیہ برسوں میں سرکاری دفاتر میں آتشزدگی کا بدترین وقوعہ مئی 2013ء میں لاہور ہی میں ایل ڈی اے پلازہ میں پیش آیا جس میں لاہور میٹرو منصوبے کے علاوہ رئیل اسٹیٹ کا بہت سا اہم ریکارڈ ضائع ہو گیا اور 25افراد بھی اس خوفناک وقوعے کی نذر ہو گئے تھے مگر متعلقہ ادارے کی جانب سے ایک جلتی ہوئی ٹیوب لائٹ کو اس کو ذمہ دار قرار دے کر معاملے کو دبا دیا گیا۔
*****

بپن راوت! ہوش کے ناخن لو

Naghma habib

بھارت کے آرمی چیف بپن راوت نے بھڑک ماری اور بے سوچے سمجھے ماری کہ پاکستان کو سبق سکھانے کا وقت آگیا ہے جنرل صاحب بھول گئے کہ پاک فوج اور پاک عوام کو پہلے ہی پورا سبق یاد ہے اُسے معلوم ہے کہ دشمن چاہے اُس سے کئی گنا بڑی فوج رکھتا ہے ہتھیار بھی ہر سال خریدتا ہے اور ڈھیروں ڈھیر خریدتا ہے اُس سے کیسے نمٹناہے اُس کا مقابلہ کیسے کرنا ہے وہ یہ بھی بھول گیا کہ پاکستان کا نوجوان افسر اور سپاہی اْسی یعنی بھارت کی سازشوں کے نتیجے میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ لڑکر اُس کے جرنیلوں سے زیادہ تجربہ کار ہو گیا ہے وہ تو چھپے دشمن سے بڑی کامیابی سے لڑ رہا ہے تو جانے پہچانے سے جنگ تو اس کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ۔ وہ اِس دشمن کی ہر چال سے آگاہ ہے کہ آگے سے کیسے وار کرتا ہے اور پیچھے سے کس طرح چوروں کی طرح آتا ہے کیونکہ یہ سب ہی جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں دہشت گردی کامنصوبہ ساز کون ہے ہاں بپن کو یہ بھی یاد دلانا ہے کہ پاکستان بھوٹان اور سکم نہیں جو بھارت کی گود میں جا گرے گا ایک مسلمہ اور مصدقہ ایٹمی قوت ہے اور بھارت کا دور ترین شہر بھی ہمارے ایٹمی میزائلوں سے بس چند منٹ کے فاصلے پر ہے دلی، امرتسر اور چنائے جیسے شہر تو کوئی مسئلہ ہی نہیں اور جہاں تک بپن راوت یہ بولا ہے کہ پاکستان کو درد محسوس کرانا ہے تو بپن صاحب جو کچھ آپ نے پاکستانی عوام کے ساتھ کیا ہے اور جس دہشت گردی میں اُسے جھونکا ہے اپنے جتنے پالتو تم نے افغانستان میں لا کر بٹھائے ہیں اور وقتاََ فوقتاََ وہ تمہاری پکار پر دم ہلاتے ہوئے نکل کھڑے ہوتے ہیں اگر یہ سب انسانی حقوق کے کسی حقیقی اور منصف ادارے کے سامنے رکھ دیا جائے اور غیر جانبدار فیصلہ ہو تو بھارت یقیناًانسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والا بہت بڑا مجرم قرار دیا جائے گا۔ بھارت ساری دنیا میں پاکستان کے خلاف یہ پروپیگنڈا کرتا ہے کہ وہ اس کے ملک میں دراندازی کر رہا ہے اب بھی اُس نے ایک ایسے ہی واقعے کو بہانہ بنا کر مذاکرات سے انکار کیا ان کے ایک پولیس آفیسر کا کشمیری مجاہدین کے ہاتھوں قتل ہوا ہے اور پھر اس کی لاش کی بے حرمتی کی گئی ہے دراصل مودی سرکار نے غلطی سے مذاکرات کی دعوت قبول تو کر لی جو وزیراعظم عمران خان کی طرف سے دی گئی تھی لیکن بعد میں اُس نے اِن مذاکرات سے انکار کیا اور یوں بین الاقوامی اصولوں کی دھجیاں بکھیر دیں اور ساتھ ہی دو کام کیے ایک یہ کہ اپنی سرحدوں کے اندر ہونے والے ایک واقعے کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا دوسرا یہ کہ اُس کے آرمی چیف نے پاکستان کے لیے دھمکی آمیز لہجہ اور الفاظ استعمال کیے بغیر یہ سوچے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے ۔بھارت کی طرف سے یہ رویہ کوئی پہلی مرتبہ سامنے نہیں آیا وہ اکثر اوقات اپنی طاقت کے زعم میں بہک کر ایسی باتیں کرتا ہے اور خود کو خطے کا چودھری تسلیم کروانے کی کوشش کرتا ہے پاکستان کے بارے بھارت یہ پروپیگنڈا کرتا پھرتا ہے کہ وہ کشمیر میں تحریک آزادی کو مالی، عددی اور تکنیکی مدد فراہم کر رہا ہے بلکہ اس تحریک کو چلارہا ہے اور آئی ایس آئی ہی وہ ادارہ اور قوت ہے جو مجاہدین کشمیر کو بھارت کے خلاف آمادہ پیکار رکھتاہے چلیں مان لیا کہ ایسا ہے لیکن درجن بھر آزادی کی دیگر تحریکوں کے بارے میں بھارت کا کیا خیال ہے وہ کس کی ایما پر چل رہی ہیں کیا اُدھر بھی پاکستان کا ہاتھ ہے اور کیا وہ سب بھی پاکستان کے اشارے پر چل رہے ہیں اگر ایسا ہے تو کیا پھر بہتر نہیں کہ بھارت کی حکومت پاکستان کے حوالے کر دی جائے۔ دراصل جب بھی بھارت سے اپنے مسائل نہیں سنبھلتے تو اپنے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے وہاں کی حکومت یا کوئی بڑا عہدہ دار پاکستان کے خلاف کوئی بیان دے دیتا ہے اور پورا بھارتی میڈیا جنونی انداز میں اسے موضوع بحث بنا لیتا ہے معلوم نہیں بپن بچارے نے کس کیفیت میں یہ بیان دیا اور بھارت کے جنونیوں نے اسے سنجیدگی سے لے لیا اُس کی حکومت نے بھی مذاکرات سے انکار کر دیا لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ پاک فوج نے بڑی متانت اور سنجیدگی سے بڑا کرار جواب بھارت کو دیا اور اُسے یاد دلایا کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے اور اس کی فوج دنیا کی بہترین اور بہادر ترین افواج میں سے ہے اور یہ بھی کہ بحیثیت بہترین مسلمان فوج اور ایٹمی قوت کے وہ ایسی گری ہوئی حرکت نہیں کر سکتا کہ ایک لاش کو خراب کرے لہٰذا اُس کا الزام سراسر بے بنیاد ہے ہم جنگ کے لیے تیار ہونے کے باوجود امن کی خواہش رکھتے ہیں لیکن امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔بھارت کو پہلے بھی جب بھی جنگی جنون ہوا ہے اور اُسے یہ یاد کرو ا دیا گیاکہ وہ کسی معمولی ملک سے بات نہیں کر رہا بلکہ ایٹمی قوت سے مخاطب ہے تو اُس کے غبارے سے ہوا نکل جاتی ہے لیکن پھر کمزور یاد داشت کے باعث کچھ عرصے بعد وہ دوبارہ کسی ایسی حرکت کا مرتکب ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ بسا اوقات اُس کے اندرونی مسائل اور ناکامیاں ہوتی ہیں۔ اس وقت بھی بھارت وہ ملک ہے جس میں ترقی کے بے شمار دعوؤں کے باوجود غربت انتہا درجے پر پہنچی ہوئی ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ غریب یعنی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے اسی ملک میں بستے ہیں، پورے پورے خاندان فٹ پا تھوں پر زندگی گزار رہے ہیں۔ حکومت اسی بات سے پریشان ہے کہ ان کے لیے لٹرین کیسے بنائے جائیں گھر اور چھت تو دور کی بات ہے۔ حکومت بد عنوانیوں کے الزامات اور اقدامات میں الگ بُری طرح جکڑی ہوئی ہے عوام اس سب کچھ پر سراپا احتجاج ہیں۔ علحدگی کی تحریکیں اس کا سب سے بڑا درد سر ہے تری پورہ کو بھگتے تو خالصتان وہاں سے فرصت ملے تو نا گا لینڈ وہاں سے جان چھوٹے تو جھارکنڈکس کس کو بھارت روئے ایسے میں وہ بچارہ یہی کر سکتا ہے کہ کشمیر اور پاکستان پر سارا غصہ نکالے لہٰذا ایسے میں بپن اپنے عوام کو کسی اور رُخ لگائے گا اور یہی اُس نے کیا اور پاکستان کو دھمکی دیتے وقت اس نے اپنی سیاسی حکومت کے نمائندے کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی تا ہم پاکستانی عوام سیاسی جماعتوں اور حکومت سب نے جس طرح بیک زبان اُسے جواب دیا وہ اُسے آئینہ دکھانے کو کافی تھا۔ بپن کے لیے تجویزیہ ہے کہ اپنی حکومت کی ناکا میوں کو چھپانے کی کوشش نہ کرے بلکہ اُسے اپنے وسائل کو عوام کے مسائل پر خرچ کرنے کا مشورہ دے نہ کہ اُسے خطے میں بدامنی پر خرچ کرے اور اسلحے کے ڈھیر لگائے۔ اسلحے کے ڈھیر کی بجائے وہ فٹ پاتھوں پر کھلے آسمان تلے پڑے ہوئے خاندانوں کیلئے کوئی گھر بنادے تو زیادہ بہتر ہوگا ورنہ پاکستان کو دھمکیاں دیتا رہے گا جو کہ اُس کے لیے مہنگا سودا ثابت ہو گا۔

انگلستان کے عظیم سیاسی رہن

adaria

حکومت کی جانب سے انقلابی اقدامات سامنے آتے جارہے ہیں ،گزشتہ روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گوادر میں ریفائنری کے قیام کے لئے سعودی عرب کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت کے ساتھ پاکستان سعودی عرب کے مابین اربوں ڈالر کے معاہدوں کی منظوری دی گئی نیز حکومت نے100روزہ پلان کی تفصیلات کے لئے ویب سائٹ بھی لانچ کردی ہے یہ ایک خوش آئند اقدام ہے ۔ماضی میں رہنے والی حکومتوں نے غالباً ایساقدم نہیں اٹھایا جس سے ان کی کارکردگی اور نامکمل رہنے والے منصوبوں کاحکومتی ویب سائٹ سے علم ہوسکے ۔اس ویب سائٹ کے ذریعے عوام کو بہترانداز سے پتہ چل سکے گاکہ جووعدے وعید کئے گئے تھے ان پرکتناعمل کیاگیاہے۔ دوسری جانب اہم اداروں کے سربراہ بھی تبدیل کردیئے گئے ہیں جس میں نون لیگ کے وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے مقرر کردہ سٹیٹ بنک کے دو پٹی گورنر، چاربنکوں اورچارریگولیٹری اداروں کے سربراہ بھی شامل ہیں نیز وزیرخزانہ کاتقرری اختیار بھی ختم کردیاگیاہے۔کابینہ کے اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ پچاس لاکھ گھروں کی تعمیرکااعلان اسی ماہ میں کیاجائے گا۔وزیراطلاعات فواد چودھری اوروزیرپٹرولیم وقدرتی وسائل غلام سرور نے میڈیا بریفنگ میں اعلان کیاکہ نیلم جہلم ہائیڈروپاورپراجیکٹ اورنیو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کافرانزک آڈٹ کرایاجائے گا اور ذمہ داروں کوکیفرکردار تک بھی پہنچایاجائے گا۔یہ اقدام بھی اچھا ہے مگر اس کو صرف دو منصوبوں تک محدودنہیں رہناچاہیے آج سے پہلے جو بھی بڑے بڑے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچے یازیرپایہ تکمیل ہیں اُن سب کافرانزک آڈٹ ہوناچاہیے اس میں جو بھی گناہ گار ثابت ہواسے نہ صرف سزادی جائے بلکہ پراجیکٹ پرخرچ آنیوالی رقم کی وصولی بھی کی جائے۔ سربراہان کی تبدیلی سے مسائل کچھ حل کی جانب ضرورگامزن ہوں گے لیکن ان کابھی چیک اینڈ بیلنس کانظام انتہائی ضروری ہے اس وقت حکومت اور اپوزیشن میں ایک عجیب وغریب کھیل معافی نامے کاشروع ہے اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ چور کو چور ہی کہاجائے گا وہ شاہ نہیں ہوسکتا مگر جس پر الزام عائد کیاجائے اس کے حوالے سے حکومت کے پاس تمام تر ثبوت موجود ہونے چاہئیں اور جب عنان اقتدار میں بیٹھے ہوئے افراد کی جانب سے اپوزیشن کسی بھی شخص پرکرپشن کاالزام یا کوئی بھی لاقانونیت کے حوالے سے بات کی جائے تو اس کو ثابت کیاجائے پھرمعافی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی نہ مانگی،نہ دی جائے اوراگرالزام غلط ثابت ہوتوالزام عائد کرنے والے کے لئے بھی قرارواقعی سزا ہونی چاہیے اور جس نے کرپشن کی ہے اس کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیناچاہیے۔ الزام تراشی کی سیاست سے ہمیشہ نقصان ہی پہنچاہے حکومت حساب کتاب کرے کہ اگرگنجائش سے زیادہ کسی بھی محکمے میں بھرتیاں کی گئیں ان ملازمین نے اس عرصے میں جو بھی تنخواہیں یا اس کی مد میں مالی فوائد حاصل کئے وہ بھرتی کرنیوالے شخص سے برآمد کئے جانے چاہئیں۔ان فیصلوں اور ان پرعمل میں تیزی لانے کی ضرورت ہے تب ہی نظام درست ہوسکے گا اگر صرف بات نشستاً اوربرخاستاً تک محدود رہے گی تو پھر بس حکومت کاوقت ختم ہوجائے گا اور ایک دوسرے کوموردالزام ہی ٹھہراتے رہیں گے۔کابینہ نے جو سعودی عرب سے معاہدوں کی منظوری دی ہے وہ بھی خوش آئند ہے ان کے تحت سعودی عرب تیل اور گیس کے شعبے میں کئی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گاچونکہ دونوں ممالک میں انتہائی قریبی اوربرادرانہ تعلقات ہیں پھروہاں حرمین شریفین کی وجہ سے مسلمان امہ کی تو ایک خاص عقیدت ہے اس اعتبار سے دیکھاجائے تو ہمارے لئے سعودی عرب انتہائی محترم حیثیت رکھتاہے ۔سعودی عرب کی سرمایہ کاری سے ملک میں نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ ترقی بھی کرے گا لیکن یہ ضروری ہے کہ ان میں شفافیت کوملحوظ خاطررکھاجائے۔

بھارتی مظالم،بین الاقوامی برادری کی خاموشی۔۔۔؟
بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی انتہاہوچکی ہے دفترخارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں نہتے ،معصوم کشمیریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کررہاہے جو کہ بین الاقوامی قوانین کی سخت خلاف ورزی ہے، لیکن دنیابھرنے اس پرآنکھیں بندکررکھی ہیں جہاں بھی دیکھیں مسلمانوں کوتختہ مشق بنایاجارہاہے افغانستان ، فلسطین ،عراق ،شام ،مصر،لیبیاغرض کہ جہاں مسلمان پائے جاتے ہیں وہاں پر کسی نہ کسی صورت میں ان پرظلم ڈھایاجارہاہے بھارت نے تو انتہاکردی ہے مودی کے دور حکومت میں پورے بھارت میں مسلمانوں پرعرصہ حیات تنگ کردیاگیا ہے مقبوضہ کشمیرمیں تو انسانی حقوق کی اتنیخلاف ورزیاں ہورہی ہیں جتنا کہاجائے وہ کم ہے نہ جانے بین الاقوامی برادری نے کیوں اپنی آنکھیں موندرکھی ہیں ۔دنیا کے کسی بھی خطے میں اگر کوئی جرم ہورہا ہو تو اقوام متحدہ، امریکہ اوربرطانیہ کی چیخ وپکاردیکھنے اور سننے کے قابل ہوتی ہے مگر جہاں مسلمانوں کاقتل عام ہورہاہووہاں پرسراسیمگی چھاجاتی ہے ۔وقت تقاضا کررہاہے کہ مسلم امہ اپنے مفادات کی خاطر متحد ہوجائے ورنہ اسی طرح خوار ہوتی رہے گی اور یہ ہماری آزادیاں سلب کرتے رہیں گے۔
وزیرخارجہ کاامریکہ کاکامیاب دورہ
وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی12روزہ امریکی دورے کے بعدوطن واپس پہنچ گئے ہیں،اس دوران انہوں نے اقوام متحدہ میں وفد کے ہمرا ہ پاکستان کی نمائندگی کی،مختلف تقریبات میں شرکت کی۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔اُن کاخطاب قومی زبان اردو میں تھا اس پر شاید کچھ سیاسی رہنماؤں کو اعتراض بھی ہوا لیکن یہ ایک عظمت والی قوم کی نشانی ہے جس نے اپنی پہچان کو برقراررکھا آخروقت تک ہم فرنگی اوراس کی زبان سے متاثر رہیں گے جن جن قوموں نے ترقی کی انہوں نے ہمیشہ اپنی ہی روایات کاعَلم بلندرکھا۔ اس اعتبار سے وزیرخارجہ کو خراج تحسین پیش کرناچاہیے ان کے دورے کاکُلی جائزہ لیاجائے تو وہ کامیاب رہا۔ امریکہ کے لب ولہجہ میں بھی تبدیلی آئی افغانستان طالبان مذاکرات کے حوالے سے بھی انہوں نے اپنا نقطہ نظر واضح طورپر بیان کیا۔اپنے امریکی ہم منصب سے ملاقات کے دوران واضح کیاگیا کہ پاک امریکہ تعلقات کو افغانستان کی صورتحال کے تناظر میں نہیں دیکھناچاہیے اور امریکہ کہ یہ باورکرایاگیا کہ پاکستان کے بغیر افغانستان کے معاملے پرپیشرفت ممکن نہیں۔اب امریکہ پریہ بات بھی واضح ہوچکی ہے پاکستان کی سول وفوجی قیادت ایک صفحے پر ہیں ۔اس پیغام کے جانے سے نہ صرف امریکہ بلکہ دنیابھرمیں ہماری عزت وتکریم میں بہت زیادہ اضافہ ہوگا جب ہم باہمی اتحادکامظاہرہ کریں گے تو کبھی بھی دشمن یہ جرات نہیں کرسکتا کہ وہ آنکھ میں آنکھ ڈال کربات کرے۔

دیش میں 2019 کے الیکشن ،آرایس ایس کی خطرناک سازشیں

انگلستان کے عظیم سیاسی رہنما’ دانشور اور مدبر سرونسٹن چرچل کامشہورمقولہ ہے کہ ‘خراب جمہوریت کاعلاج مزید جمہوریت ہے’چرچل جیسے سیاسی بصیرت افروزدانشورانہ بلند قدو قامت کے سبھی سیاسی وسماجی مدبرمانتے ہیں کل اور آج کے یہ سبھی ماہرین اسی جانب اشارہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ جمہوریت کی اپنی پیداکردہ ثقافتی ومعاشرتی برائیاں اورسماجی وسیاسی تعصبات کی خرابیاں اسی طرح سے ختم کی جاسکتی ہیں کہ’جمہوریت کے سسٹم کورواں دواں چلتے رہنا چاہئیے’مغرب میں یہ جمہوری سسٹم بے انتہا کامیاب رہا ہے، آج بھی کامیاب ہے اور کئی دہائیوں سے اپنی تمام ترانسانی رویوں کی خوبیوں کی بدولت جمہوریت کے اصل فوائد عوام کے نچلے طبقات تک خودکار تکنیکی انداز میں پہنچ رہے ہیں پاکستان میں جمہوریت کے ساتھ کیا ہوا یہ ایک علیحدہ بحث ہے یہاں جمہوریت کے جاری سسٹم کی بات ہورہی ہے کیا وجوہ ہے کہ گزشتہ 71 برسوں سے دنیا بھی دیکھ رہی ہے ہم اورآپ بھی دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں بلا کسی رکاوٹ یا تعطل کے وہاں جمہوریت’ بظاہر‘چل رہی ہے، لیکن بھارت کی یہ نام نہاد ‘عظیم جمہوریت’بھارتی معاشرے اور سماج کے لئے آج تک عوامی فلاح وبہبود کے بنیادی فوائد اور ثمرات تو رہے ایک طرف’بھارتی جمہوریت کے ا س جاری سسٹم نے بھارت جیسے بڑے جغرافیائی بڑی آبادی رکھنے والے ملک میں عوامی سطح پرغربت و افلاس’ بھوک وننگ‘ تنگ دستی اوربے بسی و لاچاری کے علاوہ صحت وتعلیم کوعوامی دہلیزتک پہنچانے میں مستقلاً کامیابی حاصل کیوں نہیں کی؟دیش میں عدل وانصاف کا بلا امتیاز معیاری نظام قائم کرنے میں بھارتی جمہوریت اس قدر ناکام کیوں رہی ہے71 برسوں میں اورکچھ نہیں توبھارتی جمہوریت کے بطن سے دیش میں یکساں سماجی ومعاشرتی نظام کی کوئی ایک ہی جھلک دنیا دیکھ لیتی’ڈیموکریسی’جمہوریت کا مطلب یہی تو ہے’’عوام کی حکومت عوام کیلئے‘‘ 71 برس بیت گئے ،بھارتی جمہوریت کے خلاف دیش کے مختلف حصوں میں اپنے بنیادی حقوق کے لئے کئی ثقافتی وسماجی نسلوں نے ‘ہندواشرافیہ کی قائم کردہ جمہوریت کے مرکزیعنی’ نئی دہلی‘ کو للکارا ہوا ہے کئی بغاوتیں برپا کی ہوئی ہیں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ’کیا نئی دہلی کے اقتدار میں آنے والی جمہوری حکومتیں( مختلف پارٹیوں کی شکل میں اقتدار میں آنے والی حکومتیں) پورے دیش کے عوام کے ساتھ یکساں مساوی سلوک اور برتاؤ رکھتی ہیں ؟نہیں رکھتیں تب ہی تو وہاں ’سماجی وثقافتی ناانصافیوں‘ کا طوفان امڈا ہوا ہے وسطی اورمشرقی علاقوں سمیت جموں کشمیرمیں ’بھارتی یونین‘ کوکروڑوں عوام نے چیلنج کیا ہوا ہے’ ڈیموکریسی کا یہی مطلب ہے ‘عوام کی حکومت عوام کے لئے’ کا اہم اصول اگرجموں وکشمیرمیں لاگو نہیں ہوتا ہے تو پھریہی اصول بھارت میں نسلی بنیادی پرست اچھوتوں کا استحصال کیوں کررہا ہے؟ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا کیوں رکھا جارہاہے؟ اب جبکہ بھارت میں ا گلے انتخابات اپریل مئی 2019 میں ہونیوالے ہیں، ایک بارپھر بابری مسجد کی جگہ رام مندرکی تعمیرکا نعرہ کیا بھارت میں نہیں گونجنے لگے گا؟ دیش میں’ گؤ رکھشا’کے جو شیلے بھجن نہیں گائے جائیں گے؟ گائے کی ذبیحہ کے نام پر ‘کسی مسلمان کے گھر سے گائے کے گوشت کی برآمدگی کے نام پر‘ مسلمانوں کو نماز کے کھلے اجتماعات کی اجازت نہ دینے کے نام پر غنڈہ گردی کرنے جیسی گھٹیا و مذموم سرگرمیوں کی اجازت دی جائے گی یا اسی ’ایشو‘ کو بی جے پی کسی اور انداز میں اپنا انتخابی نعرہ بناکر انتخابی میدان کو گرم کرئے گی مسلمانوں اوردیگر اقلیتوں کو’انتخابی نعروں میں ٹارگٹ نہیں بنایا جائے گا بعض نامی گرامی ممتازعالمی سطح کے شہرت یافتہ لبرل اعتدال پسند روشن خیال غیر مسلم بھارتی دانشور سمجھتے ہیں کہ آرایس ایس کے جنونی کارسیکوں نے سوچی سمجھی ایک سازش تیارکی تھی یہ مودی کون ہے؟ اِن کا اپنا آدمی ہے کیا یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی ہوئی تھی ’را‘ نے بھارت کی اندرونی سیاست کے خدوخال پر اثرانداز ہونے کے لئے کل بھی ڈوریاں ہلائیں آج بھی وہ سرگرم ہے اورنئی دہلی کے ا قتدارپر مکمل قبضہ کے لئے اپنے تربیت یافتہ لوگوں کو بی جے پی کے ذریعے سے آج ’را‘ نے اس مقام تک پہنچا دیا ہے۔اب یہی متعصب چہرے بھارت کی بیرونی شناخت اور علامت بن چکے ہیں، جنہوں نے بھارت کا روشن خیال اور اعتدال پسند جمہوری سیکولر چہرہ بُری طرح سے داغدار کردیا ہے، بلکہ دیش کے سیکولرسسٹم پر مبنی جمہوریت کا جنازہ ہی نکال دیا ہے، کاش! آج سرونسٹن چرچل زندہ ہوتے تو ہم اُن سے پوچھتے کہ ’سر! بھارتی جمہوریت کی عمر 71 برس ہوچکی ہے بلا تعطل اور کہیں رکے بغیر جاری وساری بھارتی جمہوریت کو لاحق کئی اقسام کی بیماریوں کا مزید ایسی ہی یکطرفہ انتہا پسندانہ جنونی جمہوریت کی ’سیاسی میڈیسن‘ سے تشفی بخش علاج ممکن ہوگا؟بھارتی سماج کے دشمنوں نے مذہبی فرقہ واریت کے نام پر ’ہندوتوا‘ کے زبردستی پھیلاؤ کے نام پر ‘ ہندواکثریت کے بل بوتے کے نام پر دیش کی جمہوریت کوآر ایس ایس نے اپنے جنونی شکنجہ میں یرغمال بنا لیا ہے دنیا کی سمجھ میں مگر نہیں آرہا نئے نعرے ‘نئے خدشات ‘نئے جنونی جذباتیت سے بھرپور جمہوری سیاسی بلکہ ’سازشی منصوبے‘ ابھی وہاں پائپ لائن میں ہیں اور دور پرے کہیں کوئی رکاوٹ کوئی متبادل آرایس ایس کے کارسیکوں کی راہ کو رکنے ٹوکنے والا کسی کو نظر نہیں آرہا اور تو اور یہ بھارت کل والا بھارت بھی نہیں ہے یہ بھارت انسانی تباہیوں کے جدید بائیو کیمیکل ہتھیاروں سے لیس ایک ایٹمی ملک ہے کیا دنیا یونہی چپ سادھے بیٹھی تماشا دیکھتی رہے گی ایک جانب ڈونلڈ ٹرمپ اور دوسری طرف آرا یس ایس کا مودی یا اس جیسا کوئی اور جنونی نئی دہلی پر آدھمکا تو آئندہ جنوبی ایشیا میں کیسا منظر ہوگا دیش میں عین انتخابات کے نزدیک حکومتی سطح پر ’نئے اندیشوں ‘نئے وسووں اور نئے خدشات کا تبادلہِ عام دیکھنے سننے اور پڑھنے کو مل رہا ہے دیش بھر میں بڑی ہی خطرناک آلارمنگ صورتحال بنتی جارہی ہے ماو نواز نکسل مسلح گروہوں کے نام پر عام ہندوں کو خطرناک حد تک گمراہ کر نے کی ‘لِپس موومنٹ’چلائی جارہی ہے ’ہندو بیٹھکوں میں آنے والے چناؤ پر سیاست سے زیادہ اِن دِنوں تشدد کی باتیں زیادہ ہورہی ہیں جس کے پیچھے ہونہ ہو یقیناًآرایس ایس کے ٹاپ کے ا فراد ضرورشامل ہیں جو ماونوازنکسل مسلح علیحدگی پسندوں کے نام لئے کر یہاں تک بے سروپا لغویات دیش میں پھیلانے لگے ہیں کہ ماونوازنکسل گروہ کہیں نریندرامودی کو قتل ہی نہ کردیں ؟لہذاء مودی جی کی ضرورت سے ز یادہ اب سیکورٹی کوبڑھایا جا نا چاہیئے آرایس ایس والوں کی یہ کوئی معمولی شرارت نہیں ‘خطے کی سلامتی کے لئے بہت بڑی خطرناک سازش سمجھی جائے، بھارتی حساس سیکورٹی اداروں میں اعلیٰ پیمانے پر غیر ذمہ دار پیشہ ورانہ اہلیت وقابلیت کے اعتبار سے انتہائی ناموزوں واجبی سی تعلیم کے افراد کی تعیناتیوں سے دنیا کو عالمی امن کی خاطر اب تو ہوش آجانا چاہیئے مگرسی آئی اے اورموساد نے کہاں کہاں’اپنوں’کونہیں لابٹھلا دیا ‘ اُنہیں کی مرضی ومنشا کے مطابق بخوبی کام جو ہورہا ہے، پانچ برس مودی جی نے گزار لیے اقتدار کی قربت انسان کو کافی حد تک ’اچھا بُرا‘ سکھلادیتی ہے یہ سمجھنے کا موقع ہے لیکن ’امیت شا ‘ اجیت ڈول جیسوں کو شائد اب کچھ نیا چاہیئے وہ 2019 کے چناؤ کے سے قبل ’کچھ نیا‘ نہ کربیٹھیں؟لہٰذا دنیا اپنی آنکھیں اور اپنے کان کھول لے اور کچھ نہیں تو روس اور چین کو اس جانب متوجہ ہونا پڑے گا ، ایشیائی ترقیاتی دنیا کو نئے بھارتی چناؤ پر بڑی گہری وعمیق نظر رکھنی پڑے گی ایک ایشیائی ذمہ دار ایٹمی ملک پاکستانی فرد ہونے کے ناطے سے ہمارا یہ ایک صائب مشورہ ہے صاحبو!۔

*****

100 دن سے پہلے ہی اپوزیشن کے ڈرون حملے

عمران خان کی نئی حکومت پر اپوزیشن نے سو دن پورے ہونے اور ترجیحات ظاہر ہونے سے پہلے ہی ڈرون حملے شروع کر دیے گئے۔ اگر ہماپوزیشن کے موجودہ رویہ پر ذرا غور سے تجزیہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی ان ہونی بات نہیں۔اپوزیشن کو عمران خان کی ترجیحات پہلے سے معلوم تھیں فرق صرف یہ ہوا کہ اپوزیشن کی تواقعات کے برخلاف عمران ۲۰۱۸ء کے الیکشن جیت گئے۔اپوزیشن والے اچھے طریقے سے جانتے ہیں کہ عمران خان نے الیکشن، علامہ اقبالؒ کے پاکستان بارے خواب،قائد اعظم ؒ کے وژن اور کرپشن سے پاک ،پاکستان اور پاکستان کو مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست بنانے منشور کے تحت جیتے ہیں۔عمران خان کامنشور اپوزیشن کی ساری جماعتوں کی خواہشات کے برعکس ہے۔پیپلز پارٹی سیکولر اور روشن خیال منشور رکھتی ہے۔ جو عمران خان کے منشور سے لگا نہیں کھاتا۔نون لیگ کے سربراہ نے قائد اعظم ؒ کے دو قومی نظریہ جو پاکستان کی بنیاد ہے کی نفی کرتے ہوئے، امریکا اور بھارت کے بیانیہ کی حمایت کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ میں سیکولر ہوں۔ہندوؤں اور مسلمانوں میں کوئی فرق نہیں، صرف ایک لکیر نے ہم کو علیحدہ کیا ہوا ہے۔ یہ بیانیہ قائد اعظم ؒ کی وژن کے برخلاف ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے مخالفت برائے مخالفت کی بنیاد پر عمران خان کو یہودیوں کا ایجنٹ قرار دیا۔اسلام سے زیادہ انہیں اقتدار سے محبت ہے۔ وہ ہر حکومت وقت کے حمایتی رہتے ہیں اور فوائد اُٹھاتے ہیں۔ جس کو عوام نے پسندنہیں کیا۔اب جب عمران خان نے اپنے منشور پر عمل درآمدکرتے ہوئے ایک ایک کر کے اپنے وعدوں پر پورے کرنا شروع کر دیے۔ تو اپوزیشن نے سو دن کا انتظار ایک طرف رکھ کر عمران خان حکومت کے خلاف ٹھنڈے سوٹے اُٹھا لیے، اکٹھے ہو گئے اور ڈرون حملے شروع کر دیے ۔پیپلز پارٹی جو اپنے آپ کو سیکولر اور روشن خیال پارٹی کے طور پر عوام کے سامنے پیش کرتی ہے جوکرپشن کے حوالے سے مشہور و معروف ہے، کس طرح مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست کرپشن سے پاک پاکستان والے عمران خان حکومت کو برداشت کر سکتی ہے۔دنیا جانتی ہے کہ پیپلز پارٹی کے’’ کو‘‘ چیئرمین مسٹر ٹین پرسنٹ کے اعزاز سے مشہور ہوئے ۔ جب اپنی صدارت کے دوران وہ لندن دورے پرگئے تو لندن کی ایک اخبار نے سرخی لگائی تھی کہ’’ مسٹر ٹین پرسنٹ، ٹین ڈاؤن اسٹریٹ کے دورے پر‘‘اب جب ان کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمات، جو نواز شریف دور میں قائم ہوئے تھے پھر سے کھل گئے ہیں اور عمران خان کرپشن فری پاکستان کے اپنے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے ان کو کوئی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں۔ دوسری طرف ملک کی عدلیہ مکمل طور پر آزاد ہے۔ ان حالت میں پیپلز پارٹی، کیسے عمران خان عمران خان کو اپنی منشور پر عمل کرنے دے گی بلکہ اس پر دباؤ بڑھائے گی۔پیپلز پارٹی جو نون لیگ کی خلاف تھی۔ الیکشن میں نون لیگ سے اتحاد بھی نہیں کیا تھا اورعلیحدہ سے الیکشن لڑا۔ جب نون لیگ اور فضل الرحمان صاحب نے عمران خان کے خلاف احتجاج کیا اور کہا کہ آسمانی مخلوق (فوج) نے عمران خان کو جتایا ہے۔ پھر حلف نہ اُٹھانے اور حکومت نہ چلنے دینے کی پالیسی کا اعلان کیا تو پیپلز پارٹی نے مخالفت کی تھی اور پارلیمنٹ میں بیٹھ کر اپوزیشن کرنے کی بات کی تھی۔ بلکہ ایوان زیرین اور ایوان بالامیں نون لیگ کی پالیسی کے برخلاف ووٹ استعمال کیے۔پیپلز پارٹی کے’’کو‘‘ چیئرپرسن بار بار نواز شریف پر بے وفائی کا الزام لگاتے رہے۔لیکن اب سب اکٹھے ہوئے ہیں۔ عمران خان دشمنی میں زمنی الیکشن مل کر لڑنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے بیان دیا کہ ہم نے تو سو دن دینے کا اعلان کیا تھا مگر عمران خان کے شروع کے اقدامات کی وجہ سے پیپلز پارٹی عمران خان کی پالیسیوں کی مخالفت کرے گی۔ گو کہ پاکستان کی آزاد عدلیہ کی وجہ سے نواز شریف کی قید کے خلاف داہر اپیل کو سنا گیا۔ نیب کورٹ کی طرف سے قید کی سزاکو بھی معتل کر دیا۔نوز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر صاحبان کو رہا بھی کر دیا۔ مگر نواز لیگ نے اپنا پرانا فوج اور عدلیہ کے خلاف بیانیہ سے رجوع نہیں کیا۔ اپنی پُرانی چال پر عمل کرتے ہوئے پاکستانی فوج کو دنیا میں بدنام کرنے کیلئے اپنے ایک رہنما رانا مشہود سے بیان دلوا دیا کہ پاکستانی فوج سے نون لیگ کے تعلقات ٹھیک ہو گئے ہیں۔ کچھ مدت بعد پنجاب کی حکومت نو ن لیگ کی بن جائے گی۔ اس طرح نون لیگ کے بیانیہ کو پھر سے تازہ کیا گیا۔ جیسے سپریم کورٹ سے نا اہل قرار پانے پر کہا گیا تھا کہ جمہورت کو خطرہ ہے۔ فوج مارشل لا لگانے والی ہے۔ فوج اور عدلیہ نے مل کر نون لیگ حکومت کو ختم کیا ہے۔ پارلیمنٹ توڑ دی جائے گی۔جمہوریت کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔سینیٹ کے انتخابات نہیں ہونگے۔ فوج اور عدلیہ کو بدنام کرنے کے لیے یہ بیانیہ نون لیگ کے سربراہ، ان کی بیٹی، اس کے لیدڑوں ،ان کے سوشل میڈیا، ان کے حمایتی الیکٹرونک و پرنٹ میڈیا، ٹی وی اینکر اور صحافیوں نے خوب پھیلایا۔ ہم نے اپنے کالموں میں لکھا تھا کہ نہ مارشل لا لگے گا۔ نہ پارلیمنٹ ٹوٹے گی۔ نہ جمہوریت میں خلل پڑے گااور سینیٹ کے الیکشن وقت پر ہونگے۔پاکستان کے عوام کو یادہے کہ پاکستان کی فوج نے پیپلز پارٹی کے دور حکومت زرداری صاحب کی صدارت کے دوران،سابق سپہ سالار کیانی صاحب نے اپنے ڈی جی آئی ایس آئی کو ایوان زیرین میں بھیجا تھا ۔ آئی ایس آئی کے ڈی جی نے ایوان زیرین میں بیان دیا تھا کہ فوج نے آئی ایس آئی کا سیاسی ونگ ختم کر دیا ہے۔ فوج نے اس کے بعد پالیسی طے کر دی تھی کہ ملک کے حالت چاہے، سیاست دان کیسے بھی کر دیں، اب ملک میں مار شل لا نہیں لگائیں نگے۔ بلکہ جمہوری دنیا کے مروجہ طریقے کے مطابق فوج اپنا اثر رسوق استعمال کر کے ملک کے حالت درست کرنے کی کوشش کرے گی۔ موجودہ سپہ سالار نے فوج کی طے شدہ پالیسی پر عمل کرتے ہوئے مار شل نہیں لگایا۔ نواز لیگ کی عبوری حکومت کے دوران صرف حالات درست کرنے کی کوشش کی جو قابل تعریف ہے۔ نوز شریف کے نا اہل قرار دینے کے بعدنون لیگ کی تواقعات کے برخلاف ، پھر نہ آسان گھرا۔ نہ جمہوریت کی بساط لپیٹی گئی۔ نہ ایوان بالاکے الیکشن روکے گئے۔ نواز شریف کی نا اہلی کے بعد نون لیگ کے خاقان عباسی صاحب نے وزیر اعظم کا حلف اُٹھا لیا اور نون لیگ کی حکومت قائم رہی۔ایوان بالا کے الیکشن وقت پر ہوئے۔ پاکستان کے آئین کے مطابق جرنل الیکشن بھی ہوئے۔ سپہ سارلا نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایوان بالا کے بلانے پر خود آ کر منتخب ممبران کو بریفنگ دی۔ ہاں سپریم کورٹ کے پانچ معزز جج حضرات نے نوازشریف صاحب کو پاکستان کے آئین کے دفعہ ۶۲۔۶۳ پر پورا نہ اُترنے پرہمیشہ کے لیے سیاست سے نا اہل قرار دیا۔ پھر نیب میں آمدنی سے زیادہ اثاثوں پر مقدمہ چلا ۔ منی ٹرائیل نہ دینے پر نیب کورٹ نے نواز شریف،مریم نوازاور کیپٹن صفدر کو سزا سنائی۔ جس کو ہائی کورٹ نے اب معتل کر دیا۔ تینوں صاحبان اب آزاد ہیں۔ ان حالات میں نون لیگ کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے تھے۔ مگرنواز لیگ نے ایک بار پھر فوج پر حملہ کرنے اور فوج کو دنیا میں بدنام کرنے کے لیے اپنے پرانے فوج خلاف بیانیہ کو زندہ کیا۔ فوج کو بدنام کیا اور دنیا کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ دیکھو پاکستان میں فوج سے ڈیل ہو جائے تو حکومتیں بدلتیں ہیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ بیان کے پانچ گھنٹے بعد جب نون لیگ کے سوشل میڈیا اور الیکٹرنک میڈیا وغیرہ نے جب بیان کوخوب اُچھال لیا تو پھر تردید کی گئی۔ پہلے کی طرح رانا مشہود کی رکنیت معتل کی گئی اور تحقیق کے لیے کمیٹی قائم کی دی گئی۔صاحبو! ہمارا کہنا یہ ہے کہ اگر عمران خان پاکستان کو اپنی اصل سمت پر لے جانا چاہتا ہے۔جمہوری طریقے سے الیکشن لڑ کر جیتا ہے۔ اپنے منشور پر عمل کرنے کی شروعات بھی کر دیں ہیں۔ تو کیا یہ امرضروری نہیں کہ سیاست دان اپنی ستر سالہ پرانی پاکستان دشمن روش کوبدلیں۔ قائد اعظم ؒ کے بعد پاکستان کو سیکرلر اسٹیٹ بنانے کی بے سود کوشش سے رجوع کریں۔ پاکستان، اللہ نے برصغیر کے مسلمانوں کے اس وعدے پر عطاکیا تھا کہ انہوں نے اللہ کے سامنے اعلان کیا تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ۔ قائد اعظمؒ نے اپنی ساری تقریروں میں مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست کی کسی نہ کسی طرح برصغیر کے مسلمانوں کے سامنے تشریع کی تھی۔ تب اسلام سے محبت کے لیے جہاں پاکستان نہیں بننا تھا ان صوبوں کے مسلمانوں نے بھی پاکستان کے حق میں قربانیاں دیں۔ صدیوں سے رہنے والی جگہوں میں اپنے خاندان کے قبرستان، گلی کوچے،محلے اور جائیدادیں چھوڑدیں۔ دنیا کی سب سے بڑی ہجرت کی۔ پاکستان میں اپنی تمناؤں اور اپنے مذہب اور روایات کے مطابق زندگی گزرانے کی توقع پر پاکستان آئے۔ مگرقائد اعظمؒ کے بعدہر آنے والی ہر حکومت نے مسلمانوں کو اسلام کی مدینہ کی فلاحی ریاست سے دور ہی رکھا۔ اب اگر ستر سال بعد اگر عمران خان اپنے منشور پر عمل کرتے ہوئے قائد اعظم ؒ کے وژن کے مطابق پاکستان کو ڈھالنا چاہتا ہے ۔تو اپوزیشن نے عمران خان حکومت پر سو دن پورے ہونے سے پہلے ہی ڈرون حملے شروع کر دیے ہیں۔ اپوزیشن کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ اس نیک کام میں پاکستان کی ۹۰ فی صد خاموش آبادی اور نظریہ پاکستان اور قائد اعظم ؒ کے وژن پر اعتماد رکھنے والی اسلامی پارٹیا ں اس کے ساتھ ہیں۔عوام اپوزیشن کو مشورہ دیتے ہیں کہ اس تاریخی موڑ پر اپنی منزل کھوٹی نہ کریں ۔ آپ نے اگر پاکستان میں سیاست کرنی ہے تو دکھوں کی ماری اور اسلامی کی فلاحی مدینے کی ریاست کو سترسال سے ترسنے والے عوام کے سامنے سے ہٹ جائیں۔ عمران خان حکومت کو اپنے دستور پر عمل کرنے دیں ورنہ تاریخ آپ کو معاف نہیں کرے گی۔اللہ پاکستان کے سیاست دانوں کو ہدایت دے ۔آمین۔

علماء مدارس میں جدید نظام تعلیم رائج کریں

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مدارس کی خدمات کو نظر انداز کرنا اور ان کو دہشت گردی سے منسوب کرنا ناانصافی ہے۔ نظامِ تعلیم اور نصاب تعلیم کی بہتری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ملک میں تین مختلف نظام تعلیم کی موجودگی قوم کی تقسیم اور مختلف کلچرز کو پروان چڑھانے کا باعث رہی ہے۔ ایک قوم کی تعمیر کے لئے ضروری ہے کہ بنیادی نظام تعلیم اور نصاب تعلیم میں یکسانیت ہو۔ سماجی ترقی میں مدارس نے جو خدمات انجام دی ہیں انہیں نظر انداز کر دیا گیا اور مدارس کو دہشت گردی سے بھی جوڑا گیا جس کا کوئی جواز نہیں تھا۔ مدارس اور ان سے وابستہ تنظیموں پر الزام رہاہے کہ انہوں نے ملک میں فرقہ واریت پھیلائی اور مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچایا۔ ایسے میں ان مدارس کے سر پرستوں سے ملاقات انتہا پسند عناصر کی مزید حوصلہ افزائی بھی قرار دی جا رہی ہے۔ ماضی میں سعودی عرب پر یہ الزام رہا ہے کہ اس نے پاکستان میں ایسے مدارس کی مالی امداد کی، جو مذہبی منافرت، فرقہ پرستی اور انتہا پسندی پھیلانے میں ملوث رہے ہیں۔ ولی عہد محمد بن سلمان نے خود اعتراف کیا کہ ان کے ملک نے ماضی میں مغرب کے کہنے پر مدارس کھلوائے تھے۔ اب وہ اپنے ملک میں تو انہیں لگام ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن یہاں ایسے کوئی آثار نہیں کہ ان مدارس کے کردار کو ختم کیا جائے یا ان کے نصاب میں تبدیلی لائی جائے۔ اگر ایسا ہوا تو سعودی دباؤ بھی دیکھنے میں آئے گا۔کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں دینی مدارس کے نصاب میں کوئی اصلاحات ممکن ہے۔ اصلاحات کا مطلب یہ ہے کہ آپ مدارس کے بچوں کو ریاضی، طبیعیات، کیمیا، کمپیوٹر سائنس اور دوسرے مضامین پڑھائیں۔ کیا ہمارے مولوی حضرات یہ مضامین پڑھا سکتے ہیں؟ وہ تو اورنگزیب کے دور سے درسِ نظامی پڑھا رہے ہیں، جس کی عملی دنیا میں کوئی کھپت ہی نہیں۔ تو یہ حلقے کسی بھی تبدیلی کی مخالفت تو کریں گے۔پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ بھی اس خیال کے حامی ہیں کہ مدارس کی تعلیم کو جدید بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ طلبا معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔ وہ مدرسوں کے خلاف نہیں لیکن دینی مدارس میں صرف اسلامی تعلیمات کافی نہیں۔ چونکہ ہمارے مدارس میں صرف مذہبی تعلیم دی جا رہی ہے اس لئے وہاں کے طالب علم دنیاوی اور جدید علوم میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ مدارس کے طالب علم مدرسے سے فارغ ہونے کے بعد کہاں جائیں گے، ان کا مستقبل کیا ہے؟ ‘‘کیا وہ مولوی بنیں گے یا دہشت گرد۔ مدرسوں سے فارغ اتنے زیادہ طالب علموں کو روزگار دینے کے لئے تو بڑی تعداد میں مسجدیں بھی نہیں بنا سکتے۔پاکستان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت ملک میں 20000 سے زیادہ رجسٹرڈ مدارس ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مدرسوں کے نصاب میں اصلاحات کیلئے کام جاری ہے۔اگر علماء حضرات چاہیں تو مدرسوں میں اصلاحات ممکن ہیں۔گو کہ جنوبی ایشیا کے بہت سے دینی مدارس کے ارباب اختیار انگلش زبان اور کمپیوٹر ٹریننگ کو دینی مدارس کے نصاب میں شامل کرنے کی ضرورت تسلیم کرتے ہیں اور کئی مقامات میں اس کا کسی حد تک اہتمام بھی موجود ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہ اہتمام برائے نام ہے اور صرف کہنے کی حد تک ہے ۔ موجودہ حکومت کے وژن کے مطابق دینی مدارس سے تعلیم پانے والے فضلاء کو ایک بین الاقوامی زبان اور عالمی ذریعہ اظہار کے طور پر انگلش زبان کی مہارت حاصل کرنی چاہیے جو مضمون نویسی اور فی البدیہہ گفتگو اور تقریر کے معیار کی ہو۔ اسی طرح انہیں کمپیوٹر کے استعمال پر قدرت ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ لابنگ اور بریفنگ کی جدید ترین تکنیک بھی ان کی دسترس میں ہونی چاہیے۔ اس سے کوئی باشعور شخص انکار نہیں کرسکتا ۔ علماء حضرات بھی جدید معاشری چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے دینی مدارس میں عصری اور انفارمیشن ٹیکنالونی (آئی ٹی) کی تعلیم حاصل کرنے کے رجحان میں اضافہ،نئے سال کی داخلہ مہم میں عصری تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی سیکھانے کی ضرورت پر زور دیں اور اپنے اپنے مدارس میں جدید تعلیم کو فروغ دیں۔ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ زمانے کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مدارس نے دینی تعلیم کے ساتھ جدید عصری علوم کو بھی اپنے نصاب میں شامل کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ بعض مدارس نے طلباء کی ذہنی تربیت کے ساتھ انہیں جسمانی طور پر بھی صحت مند رکھنے کے لیے مختلف کھیل سکھانے کو بھی اپنی داخلہ مہم میں نمایاں طور پر بیان کیا ہے۔ بعض مدارس طلبہ کو دینی تعلیم کی جانب راغب کرنے کیلئے مدارس عصری تعلیم اور کمپیوٹر کی تعلیم بھی اپنا رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ہم طلبہ کا بہترین مستقبل چاہتے ہیں۔ حکومت عصری تعلیم کے لیے جو سہولیات دے رہی ہے اس سے فائدہ اٹھا کر مدارس اپنے طلباء کو جدید تعلیم سے آراستہ کر کے نہ صرف ان کیلئے بلکہ پاکستان کیلئے ایک جدیدو ترقی یافتہ نسل کو جنم دے سکتے ہیں۔

*****

نئی حکومت کے نئے پاکستان میں کس کس کی پگڑیاں….؟

اَب بہت ہوگئی ہے جی! نئی حکومت میں عوام کونئے پاکستان کا خواب دِکھانے والے کس کس کی پگڑیاں اُچھالیں گے ؟مُلک میں ستر سال سے یہی کچھ تو ہوتاآیاہے،اَب کچھ نیا ہوجائے، تو بات بنے گی ورنہ؟ کہاں راجا بھوج کہاں گنگواتیلی(کہاں رام رام کہاں ٹیں ٹیں) لگتا ہے کہ اِس حکومت کے بھی کھانے کے دانت اور ہیں اور دِکھانے کے اور…!!آج اگر سوروزہ حکومتی اقدامات اور احکامات کو دیکھیں، تویہ ٹھیک ہے کہ نوزائیدہ حکومت بظاہر کرپٹ نظر نہیں آرہی ہے۔ حکومت میں مُلک سے کرپشن اور کرپٹ عناصر کا قلع قمع کرنے کا جذبہ اور صلاحیت موجود ہے، اللہ کرے کہ یہ اِس میں سو نہیں تو کم ازکم ننانوے فیصد ضرور کامیاب ہوجائے ، اور مُلک کرپٹ عناصر سے پاک ہوجائے ،مگر ایساکچھ کہابھی تو نہیں جاسکتاہے کہ یہ سب ہوبھی جائے گا!!کیوں کہ اَب تک کہ 47روزہ حکومتی پروگرام میں بہت سی خامیاں موجود ہیں ، ہر فیصلے کے بعد یوٹرن لینے کا طریقہ حکومتی اقدامات اور احکامات پر سوالیہ نشان لگارہاہے۔ اگر حقیقی معنوں میں حکومت کو کچھ کرناہے۔ تو پھر بار بار یو ٹرن لینے کی روایات ختم کردینی چاہئے۔ تو حکومت کے آگے بڑھنے کے روشن امکانات موجود ہیں۔ نہیں توہماری یہ اپوزیشن جماعتیں جو نہ خود کرپشن کو ختم کرسکی ہیں۔ نہ نوزائیدہ حکومت کو کچھ کرنے دیں گے۔ بہتر اِسی میں ہے کہ حکومت اپنے فیصلے پر قائم رہے اور وہ کرگزرے جوکرنا چاہتی ہے۔بہر حال،اَب اداروں کے سہارے کسی کی پگڑی اُچھالے بغیر حقیقی معنوں میں مُلک سے مکمل طور کرپشن کے ناسُور کے خاتمے کے معاملے پر حکومت کو سنجیدگی سے اقدامات کرنے ہوں گے،ورنہ پاکستا نی قوم یہ سمجھنے میں زرابھی عارمحسوس نہیں کرے گی کہ کیا یہ حکومت بھی پوری کی پوری کرپشن سے کبھی بچ سکے گی؟ زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ آگے چل کر اِس حکومت کی بھی کرپشن کی سیریل شروع ہوجائے گی، کیوں کہ سرزمین پاک کی تاریخ بتاتی ہے کہ اَب تک اِس پر جتنے بھی حاکم آئے ہیں،اِنہوں نے کرپشن کی رسی تھام کر ایسی کرپشن کی ہے کہ آج تک اُس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑرہاہے ۔غرض یہ کہ عوام خاطر جمع رکھیں ، حالات بتارہے ہیں کہ موجودہ حکومت بھی کبھی نہ کبھی کرپشن کے دلدل میں اُندھے منہ ضرور گرے گی،تب یہ ہو گی اور کرپشن کی کڑاہی ہوگی ، اِس کے ہاتھ بھی کرپشن سے رنگے ہوں گے۔پھر پوچھیں گے کہ موجودہ حکومت نے کرپشن کو جڑسے ختم کرنے کا جو دعویٰ کیا تھا ؟ اُس کا کیا بنا ؟اقتدار میں آتے ہی نئی حکومت میں نئے پاکستان کانعرہ لگا کر کس کس کی پگڑیاں اُچھالیں تھیں،ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ دیکھتے ہیں کہ کہاں جاکر رکتاہے۔شیخ چلّی کو ئی کرپٹ تھوڑی تھا،بس! آج اِس کی شیخیوں نے اِسے مشہور کردیاہے، چلیں ،ایک لمحے کو مان لیں کہ ہماری نوزائیدہ حکومت کوئی کرپٹ تھوڑی ہے ۔بس! سمجھنے والوں کے لئے اشارہ کافی ہے کہ کرپشن کو روکنے کے بہانے کرپشن کے سوراخ ڈھونڈ رہی ہے،یہ بھی شیخ چلّی کی طرح ایسی شیخی بگھاررہی ہے کہ اِس کا اِتراناصاف دِکھائی دے رہاہے۔اِس میں شک نہیں ہے کہ نئی حکومت کے کرتادھرتاؤں سے عوام کو بڑی اُمیدیں وابستہ ہیں، مگر لگتا نہیں ہے کہ حکومت عوامی اُمنگوں اور آرزوؤں پر پورا اُترے گی، کیو ں کہ اقتدار میں آنے کے بعد جس گیڈرسنگی کولے کر یہ کرپشن کے خاتمے کی دعویدار بنی پھرتی تھی کم از کم ابھی سِوائے دعوؤں کے وہ گیڈر سنگی حکومت کے ہاتھ نہیں لگی ہے ،اِسی لئے حکومت نے ابھی گیڈربھبکی پر گزارا کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔جبکہ 25جولائی 2018ء کے عام انتخابات کے بعد وجود میں آنے والی حکومت کے سوروزہ پروگرام کے جیسے تیسے 47روز گزرچکے ہیں۔اِس عرصے میں حکومت نے جتنے اقدامات اوراحکامات جاری کئے ہیں۔اَب وہ بھی سب کے سا منے ہیں۔ یہ اچھے ہیں کہ بُرے اِن کے ثمرات آنے میں وقت لگے گا ۔ بہر کیف ،اَب یہ جیسے بھی ہیں ،سب کوزہرمرگ سمجھ کر برداشت ضرور کرنے ہوں گے۔تاہم، وفاق سمیت چاروں صوبائی حکومتوں میں ماہِ رواں کی 14اور 21تاریخوں میں قومی اورصوبائی اسمبلیوں کے لگ بھگ39حلقوں میں زورشور سے ضمنی انتخابات کا دنگل سجا ہواہے یوں ایک بار پھر سیاسی جماعتوں کے اُمیدواروں کی ہار جیت کا مقابلہ جاری ہے۔ حکمران جماعت اپنے اُمیدواروں اور اپوزیشن کی جماعتیں نہ چاہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو برداشت کی گُھٹی پی کر اتحاد بنارہی ہیں تاکہ اِن کے اُمیدوار کی جیت ہو اور اِن کا ایوان میں پلڑابھاری ہوجائے۔ تو یہ حکومت کو لوہے کے چنے چبوائیں۔ گو کہ دونوں ہی جانب کے انتخابی اُمیدواروں نے اپنی تجویروں کے منہ کھول دیئے ہیں۔ جن کا مقصد صرف انتخابی دنگل میں اپنی جیت کو یقینی بنا کرایوان کی دیلیز پر قدم رکھنا اور اپنے سامنے والے کی ناک میں دم کرناہے، ایوان میں قدم رنجا فرمانے کے بعدمُلک اور قوم کی خدمت کون کرتا ہے؟ بس اُمیدواروں کی جیت کا مقصد تو ایوانوں تک پہنچنا اور پروٹول لے کر زمینِ خدا پر اکڑ کر چلنا ہے۔ ذراسوچیں!آج جب حکمرانوں اور سیاستدانوں کی یہ سوچ ہوجائے تو پھر لامحالہ قوم یتیم اور مُلک کی بنیادوں میں دیمک لگ جایاکرتی ہے۔

Google Analytics Alternative