کالم

دہشت گردی میں بھارت ملوث

گزشتہ ماہ سری لنکن شہر کولمبواور دیگر تین شہروں کے تین ہوٹلوں اور تین گرجا گھروں میں بم دھماکے ہوئے ۔ اتوار کو خاص طورپرمسیحی برادری ایسٹر کا تہوار منانے کےلئے جمع تھے ۔ ان دھماکوں میں 350 کے قریب افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوئے ۔ ان حملوں کے بعد کم از کم 24 افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ۔ پاکستان دفتر خارجہ نے سری لنکا میں دھماکوں اور دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے ہر قسم کی امداد کی پیش کش کی ۔ پاکستان نے عشروں تک دہشت گردی جھیلی ہے لہذا ا س کا دکھ اور تکلیف جتنی پاکستان محسوس کر سکتا ہے کوئی اور نہیں ۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جو کامیابیاں حاصل کی ہیں ان سے فائدہ اٹھانے کےلئے سری لنکن حکومت نے پاکستان حکومت سے دھماکوں کے فارنزک کے لیے مدد مانگی جس پر محکمہ صحت پنجاب کی ٹیم دھماکوں میں ہلاک افراد کی شناخت کے لیے فوری طورپرسری لنکاپہنچ گئی ۔ سری لنکن وزیر دفاع روان وجےوردھنے کا کہنا تھا کہ ان دھماکوں کے پیچھے کسی ایک گروہ کا ہاتھ لگتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ہم ;39;ہر اس انتہاپسند گروپ کے خلاف تمام ضروری کارروائی کریں گے جو ہمارے ملک میں کام کر رہا ہے ۔ ہم ان کے پیچھے جائیں گے چاہے وہ جس بھی مذہبی انتہا پسندی کے پیروکار ہوں ۔ ;39; ;39;ہ میں یقین ہے کہ جو بھی مجرم اس بدقسمت دہشت گردی کی کارروائی میں ملوث ہیں ہم انھیں جتنا جلد ممکن ہو گرفتار کر لیں گے ۔ ;39;ایسٹر دھماکے کرنے والے دہشت گردوں تک پہنچنا ایک مشکل مرحلہ تھا ۔ بم دھماکوں کے ایک دن بعد حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایک مقامی بنیاد پرست تنظیم ’نیشنل توحید جماعت‘ ان دھماکوں میں ملوث ہوسکتی ہے ۔ اس تنظیم کے بارے میں زیادہ معلومات سامنے نہیں آئی ہیں لیکن اس کو سری لنکا میں موجود ایک اور تنظیم کا دھڑا سمجھا جارہا ہے ۔ اس تنظیم نے بدھ بھکشووں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف فسادات ہونے پر ضلع کیگالہ میں بدھا کے مجسموں کو نشانہ بنایا تھا ۔ لیکن پھر سری لنکن آرمی چیف نے آخر سراغ لگا ہی لیا کہ ان کی دھماکوں کے پس پشت کون ہے ۔ سری لنکن آرمی چیف نے بتایا کہ حملے کے طریقے کار اور نشانہ بنائی جانے والی جگہوں کو دیکھتے ہوئے اس بات کا ثبوت ملا کہ حملہ میں بھارت ملوث ہے ۔ ثابت ہوا کہ اس میں بیرونی عناصر ملوث تھے یا انہیں ہدایات موصول ہو رہی تھیں ۔ حملے میں ملوث ملزمان بھارت کا دورہ کرچکے تھے ۔ وہ بھارت کے زیرتسلط کشمیر، بنگلور اور ریاست کیرالا بھی گئے تھے ۔ سری لنکن آرمی چیف کا کہنا تھا کہ گزشتہ دس سالوں کے دوران بہت زیادہ آزادی اور امن تھا اور لوگ یہ بھول گئے کہ پچھلے 30 برسوں میں کیا ہوا تھا ۔ اسی طرح لوگ امن سے مستفید ہو رہے تھے اور سلامتی کو نظرانداز کر بیٹھے تھے اور دہشت گرد اپنا داوَ چل گئے ۔ سری لنکن پولیس حکام کے مطابق ایسٹر کے موقع پر ہونے والے خودکش دھماکوں میں ہلاک ہونے والے خودکش دھماکوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 359 ہوگئی ہے ۔ تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ان حملوں کے ماسٹر مائنڈ زہران ہاشم نے بھارت میں ٹریننگ لی اور کافی عرصہ بھارت میں گزارا ۔ دیگر نوجوانوں نے تامل ناڈو سے دہشت گردی کی تربیت لی ۔ زہران ہاشم کے فیس بک سے بھارتی رابطوں کا سراغ ملا ۔ اس کے فیس بک فالورز میں بھارتی شہری بھی ہیں ۔ اس سے قبل مودی سرکار نے سری لنکن دھماکوں کا الزام حسب معمول پاکستان پر بھی عائد کیا تھا مگر اب وہ ثبوت ملنے پر خاموش ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں بھارت نے نہ صرف سری لنکا کی حکومت کو تامل ٹائیگر باغیوں کی سرگرمیوں پر قابو پانے کےلئے ہتھیار فراہم کئے بلکہ ہندوستان نے تامل ٹائیگر کو بھی حکومت کے خلاف باغیانہ سرگرمیوں کی خاطر اسلحہ و بارود دیے ۔ بھارت کا یہ سیاہ چہرہ کئی مواقع پر بے نقاب ہوا جب سری لنکا کی سیکورٹی ایجنسیوں نے بھارت کی جانب سے فراہم کردہ اسلحہ کی کھیپ کئی بار پکڑی ۔ سری لنکا کو اسلحہ کی سمگلنگ کا انکشاف اس وقت ہوا جب گولہ بارود سے لدا ہوا ایک ٹرک ضلع سیوا گنگا کے مقام مانامادھورائے کے قریب حادثے کا شکار ہوا ۔ پولیس کی تفتیش سے پتہ چلا کہ تامل باغیوں کو یہ اسلحہ فراہم کرنے والا شخص کیرالہ کا رہائشی ہے ۔ چنانچہ تامل ناڈو کی پولیس نے اس بارے میں سراغ لگانے کےلئے اندھرا پردیش اور کیرالہ کی پولیس سے رابطہ کیا توپولیس کو پتہ چلا کہ یہ گروہ تامل ناڈو کے بعض دوسرے گروہوں کے ذریعے تامل باغیوں کو رامیش ورام کے ذریعے اسلحہ فراہم کرتا ہے ۔ اسی اثنا میں ماہی گیروں کو دو بار سمندر میں لکڑی کے ایسے بکس ملے جن میں راکٹ بھرے ہوئے تھے ۔ سری لنکا اور بھارت کے درمیان بحری سرحد کے قریب ایک ماہی گیر کے جال میں لکڑی کا ایک بکس پھنس گیا جس میں راکٹ لدے ہوئے تھے ۔ اس بکس میں سترہ کلو کا راکٹ اور گولیوں کے چھ پیکٹ تھے ۔ ہندوستانی بحریہ نے اس راکٹ پر قبضہ کر کے اسے وشاکاپتم کے بحری ڈپو کو بھیج دیا ۔ اسی طرح سری لنکا کے ایک جزیرے میں بھی اسلحہ سے بھرے ہوئے لکڑی کے دو بکس پائے گئے جن میں راکٹ تھے ۔ سری لنکا میں جاری اس خانہ جنگی میں آخر کا ایسا مقام بھی آیا جب سری لنکا کی فوج کے پاس اسلحہ تک ختم ہوگیا ۔ تب سری لنکن حکومت نے پاکستان سے مدد کی درخواست کی ۔ پاکستان نے مثبت میں جواب دیتے ہوئے صرف ایک سال کے اندر سری لنکا کو ان دہشت گردوں سے چھٹکارا پانے کے لیے 190 ملین ڈالرز مالیت کا اسلحہ دیا ۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کے الخالد ٹینک اور پاک فضائیہ کے فاءٹر پائلٹس نے بھی بھرپور انداز میں ان دہشت گردوں پر ہلا بولا ۔ پاک فوج کے مایہ ناز افسروں کو سری لنکن فوج کی تربیت کے لیے بھیجا گیا ۔ یہاں تک کے 2009 میں ان تامل ٹائیگرز کی کمر ٹوٹ گی، اور ان کا خاتمہ ہوگیا ۔ سری لنکا کی اس جیت میں پاکستان نے بہت اہم کردار ادا کیا ۔ بھارت کو پرامن سری لنکا پسند نہیں آیا لہذا اس نے دوبارہ اسے اپنے زیر اثر لانے کےلئے ریشہ دوانیاں شروع کر دیں ۔ مودی سرکار نے درحقیقت بھارت کو ہندو انتہاپسند ریاست میں تبدیل کرنے کیلئے ہمسایہ ممالک میں دخل اندازی کی ۔ تمام ہمسایوں میں اپنے تربیت یافتہ دہشت گردوں کے ذریعہ خودکش حملوں اور دہشت گردی کی دوسری گھناءونی وارداتوں کا سلسلہ شروع کیا ۔ سری لنکن بم دھماکے بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھے ۔ مودی سرکارعلاقائی امن و سلامتی تاراج کرنے پر تلی بیٹھی ہے ۔ بہر حال جنونی بھارت کو یہیں روکنے کی ضرورت ہے ورنہ وہ جنون میں کچھ بھی کر جائے گا اور یہ خطہ جنگ کی لپیٹ میں بھی آسکتا ہے ۔

ماہ رمضان اور ہم

رمضان المبارک کا ہو آغازہوچکا قرآن مجےد مےں اس بابرکت مہےنہ کے حوالے سے ارشاد خداوندی ہے کہ اے اےمان والو تم پر روزہ فرض کےا گےا ہے اس طرح جس طرح تم سے پہلے والوں پر فرض کےا گےا تھا تاکہ تم متقی اور پرہےز گار بن جاءو مذکورہ آیت کی روشنی مےں روزہ رکھنے سے انسان مےں پاکےزگی پےدا ہوتی ہے اور وہ متقی بن جاتا ہے روزہ چونکہ انسان کی ذات تک محدود ہوتا ہے اس لئے اس مےں خوف خدا اور خود ضبطی کا جذبہ پےدا ہوتا ہے اور ےہی تقویٰ ہے جو انسان کو ہر قسم کی برائی سے محفوظ رکھتا ہے اس لئے روزے کو ڈھال سے تشبےہہ دی گئی ہے گوےا روزہ انسان کی رشدو ہداءت کا باعث بنتا ہے ماہ رمضان تزکےہ نفس اور روحانی اقدار کی بلندی کا مہےنہ ہے اس برکت خےز مہےنے مےں جو بھی نےکی کی جائے اس کا بے شمار اجر ہوتا ہے اس ماہ مقدس مےں امت مسلمہ کے ہر فرد کو اس امر کا عہد کرنا چاہیے کہ وہ اس مہےنے مےں مکمل طور پر اپنے فراءض کی ادائےگی کے ذرےعے اپنے دامن کو نعمات سے مالا مال کرنے کے علاوہ اپنی جسمانی اور روحانی غذا فراہم کرنے کی ہمہ تن سعی کرے گا ۔ معزز و محترم قارئےن رمضان المبارک کے حوالے سے ہمارے منفی سماجی روےوں کے متعلق راقم کا مشاہدہ انتہا درجے کی بے چےنی اور تکلےف دہ احساس کی طرف اشارہ کرتا ہے مادےت کے اس لرزہ فگن دور مےں جس طرح تمام شعبہ ہائے زندگی مادےت پرستی کی زد سے نہےں بچ سکے اس طرح اعلیٰ انسانی ،روحانی اور مذہبی اقدار بھی مادےت کی چکا چوند کے سامنے بے بس نظر آتی ہےں جہاں رمضان المبارک کی آمد اپنے جلو مےں رحمتےں ،برکتےں اور مغفرتےں لئے ہوتی ہے وہاں ان رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ ساتھ ہمےں اس ماہ مقدس مےں مصنوعی مہنگائی سے بھی واسطہ پڑتا ہے تعجب خےز حقےقت ےہ ہے کہ ےہ مہنگائی کسی غےر ےا بےگانوں کی طرف سے نہےں بلکہ اپنوں کی پےدا کردہ ہوتی ہے ضروری تو ےہ تھا کہ ہم اس ماہ مقدس کے تقدس کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے دےانتداری اور اےمانداری کا مظاہرہ کرتے لےکن ہم نے اس ماہ کو خصوصی طور پر ناجائز کمائی کا ذرےعہ بنا لےا ہے ہر سال اسی مقدس مہےنے مےں ناجائز آمدن کو ذرےعہ معاش بناےا جاتا ہے ملاوٹ ،چور بازاری اور ذخےرہ اندوزی جےسی عادات اپنا کر اپنا بےنک بےلنس بڑھاےا جاتا ہے اپنے ضمےر کو ابدی نےند سلا کر غرےب آدمی کو تڑپانے کے سامان کئے جاتے ہےں کےا اےسے بظاہر مسلمان دکھائی دےنے والے مسلمان کہلانے کے حقدار ہےں ;238; روزے کا مقصد جےسا کہ آغاز مضمون مےں بےان کےا گےا ہے پرہےز گاری اور تقویٰ اختےار کر کے اپنے کو خود احتسابی کے عمل سے گزارنا ہے لےکن بدقسمتی کہ ہم الٹ چل پڑتے ہےں ہم نے روزے کی روح کو نہےں سمجھا اس کی افادےت و اصلےت سمجھنے سے قاصر رہے ماہ رمضان مےں ذخےرہ اندوزی کر کے چےزوں کی قےمتےں بڑھانا ہمارے ہاں معےوب نہےں سمجھا جاتا پورے عالم اسلام مےں عموماًاور عرب ممالک مےں خصوصاًاس بابرکت مہےنے کے احترام مےں حکومت ہی نہےں کاروباری اور تاجر طبقے کی طرف سے بھی اشےائے خوردونوش کی قےمتوں مےں خاطر خواہ کمی کر دی جاتی ہے اور ےہ نےک عمل تمام کاروباری طبقے حصول ثواب اور ا;203; تعالیٰ کی خوشنودی کےلئے کرتے ہےں پاکستان عالم اسلام کا قلعہ ہونے کے باوجود واحد اسلامی ملک ہے جہا ں ماہ رمضان مےں کاروباری طبقے اور تاجر برادری سے لےکر دکانداروں تک کھانے پےنے کی تمام اشےاء مےں دوگنا اضافہ کر دےتے ہےں مغرب مےں جہاں مادر پدر آزاد لوگ بستے ہےں وہاں کرسمس ےا کوئی اور تہوار ہو تو چےزوں کی قےمتےں کم کر دی جاتی ہےں تا کہ کم آمدنی والے لوگ بھی ان خوشےوں مےں شرےک ہو سکےں اس واقعہ کا اپنی تحرےروں مےں کئی بار اعادہ کر چکا ہوں کہ برطانےہ مےں اےک شخص نے اےک شرٹ دس پونڈ مےں خرےد لی کچھ دنوں بعد اس نے دےکھا کہ اس کا دوست بھی اسی کمپنی اسی ماڈل اسی ڈےزائن اور اسی کپڑے کی بنی ہوئی شرٹ پہنے ہوئے ہے اس دوست نے فطری تجسس سے اسے پوچھا کہ ےہ تم نے کتنے مےں اور کہاں سے خرےدی ہے جواب ملا کہ فلاں دکان سے اور پانچ پونڈ مےں ےہ وہی دکان تھی جہاں سے پہلے شخص نے شرٹ خرےدی تھی ےہ شخص بڑا حےران ہوا کہ مجھے تو ےہ شرٹ دس پونڈ کی ملی تھی اس نے متعلقہ دکان سے رابطہ کےا اور اپنی شکاءت رےکارڈ کروائی دکاندار نے اپنا لےجر چےک کےا تو کہا حضور آپ بھی درست کہتے ہےں اور آپ کا ےہ دوست بھی بجا کہتا ہے وجہ ےہ ہے کہ جب آپ نے ےہ شرٹ خرےدی تھی اس وقت بھی اور اب بھی اس کی قےمت دس پونڈ ہے لےکن جب آپ کے دوست نے ےہ شرٹ خرےدی تو کرسمس کی وجہ سے ہماری کمپنی نے اپنی مصنوعات کی قےمتےں کم کر دی تھےں تا کہ کم آمدنی والے لوگ بھی کرسمس کی خوشےاں انجوائے کر سکےں ےہ حالت ان لوگوں کی ہے جہاں اسلام کے پےروکاروں کو دہشت گرد اور انتہا پسند سمجھا جاتا ہے جہاں کی قدرےں جدا ،جہاں کا رہن سہن الگ لےکن وہ لوگ انسانےت کے ناطے خصوصی تہواروں کے مواقع پر دوسرے لوگوں کا خےال رکھتے ہےں ہمارے ہاں حالت ےہ ہے کہ چند روز قبل رمضان المبارک کے بابرکت مہےنے کی آمد آمد کی بابرکت خبروں سے ذہن کے درےچوں مےں اےک روح پرور سماں کا آغاز ہو ہی رہا تھا کہ سبزی پھل گوشت سمےت ہر چےز کو دوگنی قےمت پر کر دےا گےا ذہن حےرت کی اتھاہ گہرائےوں مےں گم ہے اور سوچنے پر مجبور کہ آےا ہم لوگوں کو ا;203; کی رحمتےں اور خوشنودی حاصل کرنے سے کوئی غرض نہےں رہی کےا ہم سب کےلئے دولت ہی سب کچھ بن کر رہ گئی ہے کےا چند پےسوں کے عوض ہم اپنی عاقبت کا سودا کرنے پر تےار ہو گئے ہےں ابھی بجٹ مےں مہنگائی کےلئے عوام چےخ وپکار کر رہے تھے کہ اب رمضان کی آمد آمد کے ساتھ ہی قےمتےں آسمان سے بھی اوپر جا پہنچی ہےں مہنگائی پر قابو پانا جہاں حکومت کا کام ہے وہاں اس کےلئے کاروباری اور تاجر طبقے کو بھی کچھ سوچنا چاہیے ناجائز منافع خوری سے ےہ لوگ جہنم کا اےندھن اکٹھا کر رہے ہےں اس دنےا کے بعد جو ہمےشہ رہنے والی ابدی زندگی ہے کچھ اس کےلئے بھی جمع کرنا چاہیے ۔ کسی بزرگ کا قول ہے کہ ہم مرنے کے بعد اپنے ساتھ اپنا پےسہ اور دولت بھی لے جا سکتے ہےں لےکن وہ دولت جو ہم ا;203; کی راہ مےں خرچ کرتے ہےں ۔ اس سال وفاقی حکومت کی جانب سے 2 ارب روپے کے رمضان پےکج کا اعلان کےا گےا ہے لےکن رمضان پےکج سبسڈی والی اشےاء ےوٹےلٹی سٹور کے ذرےعے فروخت کرنے کے فےصلے سے پورے ملک کے صارفےن استفادہ حاصل نہےں کر سکےں گے ۔ ےہ بھی ہمارے ہاں وطےرہ رہا ہے کہ گزشتہ کئی سال سے ےوٹےلٹی سٹور کے ملازمےن سبسڈی والی اشےاء صارفےن کو فروخت کرنے کے بجائے پچھلے دروازے سے مافےا کے ساتھ ساز باز کر کے کروڑوں روپے کما لےتے ہےں ۔ اگر جائزہ لےں تو ےہ حقےقت منکشف ہوتی ہے کہ ملک کی آبادی 21کروڑ ہے اور ملک بھر مےں ےوٹےلٹی اسٹورز کی تعداد5491ہے ۔ اب ذرا غور کرےں کس طرح ملک کے کروڑوں لوگوں کو سبسڈی سے فائدہ حاصل ہو سکتا ہے کےا ہی بہتر ہوتا کہ حکومت رمضان مےں اوپن مارکےٹ مےں فروخت ہونے والی اشےائے صرف کی قےمتوں مےں سبسڈی کا اعلان کرتی تاکہ عام صارف اپنے ہی محلے کی دکانوں پر کم قےمت مےں اشےاء دستےاب ہوتےں اور صارفےن ےوٹےلٹی اسٹوروں پر لمبی لمبی قطارےں بنانے اور اس مےں حائل مشقت سے بچے رہتے ۔ بہر حال ہمارے فےصلہ سازوں ،تاجروں ،دکانداروں سب کو ہی بحیثےت مسلمان سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے ہر عمل کےلئے ا;203; تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہےں اور رمضان المبارک کا مہےنہ انہےں ےہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ صحےح فےصلے کرےں لوگوں کے مفاد مےں درست فےصلے کرنا اور ان سے مناسب روےہ رکھنا بھی اےک صدقہ ہے اور ماہ رمضان المبارک مےں اس کا اجر بے حساب ہے ۔ حضرت امام حسےن علےہ السلام کا فرمان ہے کہ لوگوں کی ضرورتوں کا تم سے وابستہ ہونا ا;203; کی تم پر خاص عنایت ہے ۔ ےہ انسانی بس مےں ہے کہ اس ماہ مقدس مےں خود اختسابی پر عمل کرتے ہوئے خواہشات ناجائز کی غلامی سے ہمےشہ کےلئے پےچھا چھڑائےں ،ےہی انسانےت کا، ےہی دےن کا اور ےہی اسلام کا سبق ہے ۔

آئی اےم اےف کے ساتھ ڈیل ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !

پاکستان پیپلز پارٹی کے چےئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ ;34; اگر بےن الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی اےم اےف) کے ساتھ ڈےل کو پارلیمنٹ سے منظور نہ کراےا گےا تو اسے قبول نہیں کرےں گے ۔ پٹرول ، بجلی اور گےس کی قےمتوں سے مہنگائی ہوئی ۔ عوام مہنگائی کی سونامی میں ڈوب رہے ہےں ۔ مزدور، کسان اور بزرگ پنشنرز کا معاشی قتل ہورہا ہے ۔ پاکستانی عوام مہنگائی سے پرےشان ہیں ۔ ;34;ہمارے سےاستدان جمہورےت اور پارلیمنٹ کا گردان دھراتے رہتے ہیں ۔ جمہورےت اور پارلیمنٹ کی کامرانی کےلئے ہر شہری دعاگو ہے لیکن ےہ جمہورےت اور پارلیمنٹ عوام کے حقوق اور مفادات کےلئے ہونا چاہیے ۔ بلاول زرداری کی بات میں وزن ہے کہ آئی اےم اےف کے ساتھ ڈےل کو پارلیمنٹ سے منظور کروانا چاہیے ورنہ قبول نہیں کرےں گے ۔ حقےقت میں ہونا یہ چاہیے کہ اب تک جتنے بھی قرضےلیے گئے ہیں ،اگر وہ پارلیمنٹ سے منظور نہیں کیے گئے ہیں تو جس حکومت نےلیے ہیں ان حکمرانوں کے جائےداووں کو نےلام کرکے قرضے واپس کرنے چاہئیں ۔ ےہ بھی حقےقت ہے کہ کھربوں روپے قرضےلیے گئے لیکن عوام کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی بلکہ لوگ دو وقت کے کھانے کےلئے ترس رہے ہیں ۔ حکمرانوں نے ہمیشہ ملک اور عوام کا نام استعمال کرکے قرضےلیے ہیں لیکن ان قرضوں سے ملک اورملت کو فائدہ نہیں پہنچا بلکہ حکمرانوں کے اثاثہ جات میں اضافہ ہوا ۔ آئی اےم اےف کے شرائط بھی قابل غور ہیں ۔ آئی اےم اےف توانائی کے ذراءع بجلی ، گےس اور پٹرولیم مصنوعات کی قےمتوں میں اضافے کے شرائط پر زور دےتے ہیں لیکن حقےقی بچت ےعنی آئی اےم اےف ےہ شرط کیوں پیش نہیں کرتا کہ وزےراعظم ، وزےراعلیٰ، چےئرمین اور دےگر بالا تفرےق سب عہدہداران اپنی تنخواہ کے علاوہ کوئی مراعات نہ لےں ۔ دراصل آئی اےم اےف اےسی شرائط پرزور دےتا ہے جس سے غرےب عوام مزےد غرےب ہو ۔ مہنگائی کا اثر صرف اور صرف غرےب عوام پر پڑتا ہے ۔ غربت میں اضافے سے جرائم میں اضافہ ہوتا ہے اور لوگوں کا سکون برباد ہوجاتا ہے ۔ عوام مہنگائی سے بے حد پرےشان ہے ۔ بلاشبہ عوام مہنگائی کی سونامی میں ڈوب رہے ہےں لیکن عمران خان طفل تسلیاں دے رہا ہے ۔ ;34;اےک لطےفہ ہے کہ کسی نے اےک پٹھان سے پوچھا کہ کتنی عمر ہے;238; تو اس نے جواب دےا کہ پچاس سال ۔ اس شخص نے دس سال بعد دوبارہ پٹھان سے پوچھا کہ کتنی عمر ہے;238; پٹھان نے پھر وہی جواب دےا کہ پچاس سال ۔ اس شخص نے پوچھا کہ خان صاحب ! دس سال پہلے بھی پچاس سال اور اب دس سال کے بعد بھی پچاس سال ۔ ۔ ۔ ;238; پٹھان نے جواب دےا کہ دراصل خان کی اےک بات ہوتی ہے ۔ ;34; پٹھان اپنی بات اور الفاظ پر قائم رہتے ہیں ۔ ہمارے محترم وزےراعظم عمران خان صاحب اپنی حکومت سے پہلے فرماتے تھے کہ خودکشی کرلوں گا لیکن آئی ایم اےف سے قرض نہیں لوں گا ،ملکوں سے بھیک نہیں مانگوں گا اور اس کے علاوہ بڑے بڑے دعوے کرتے تھے ۔ خودکشی حرام ہے ،اس لئے اب عمران خان صاحب خودکشی نہ کرےں لیکن اپنے نام کے ساتھ خان کا لاحقہ نہ لگائےں کیونکہ خان کی بات اےک ہوتی ہے اور پٹھان ےو ٹرن نہیں لیتا ۔ وزےراعظم عمران خان صاحب ! لوگوں کو آپ پر اعتماد اور بھروسہ ہے لیکن آپ کی ٹےم میں زےادہ تر وہ صاحبان ہیں جو پچھلی حکومتوں میں رہ چکے ہیں ۔ اگر ےہ اتنے محنتی اور قابل ہوتے تو پھر ان لوگوں نے مشرف اور زرداری دور میں ملک کےلئے بڑے بڑے کارنامے سرانجام کیوں نہیں دیے;238;عمران خان صاحب پی ٹی آئی کے پرانے اور منتخب ورکرز پر مشتمل ٹےم بناتے تو شاےد ان کو ےوٹرن نہ لےنے پڑتے اورقرضوں کی بھیک نہ مانگنی پڑتی ۔ پہلے قرضوں سے مسائل حل نہیں ہوئے اور اب مزےد قرضوں سے کونسے مسائل حل ہونگے;238; قرضوں سے مسائل پےدا ہوتے ہیں ، قرضوں سے مسائل حل نہیں ہوتے ۔ قرضے مسائل کا حل نہیں ہےں ۔ آپ کی ٹےم تگڑی ہوتی تو وہ کھبی بھی آپ کو آئی اےم اےف وغےرہ سے قرضوں کےلئے محتاج نہ کرتے ۔ پاکستان قدرتی وسائل سے مالامال ہے اور انسانی وسائل بہت زےادہ ہیں ۔ پاکستان کے پاس جو کچھ ہے ،وہ بہت سے دےگر ممالک کے پاس نہیں ہے ۔ پاکستان میں مسئلہ صرف ےہ ہے کہ ےہاں پر انصاف کا فقدان ہے ۔ کرتا کوئی ہے لیکن بھگتا کوئی اور ہے ۔ غرےب عوام نے ہمیشہ سے قربانےاں دےں لیکن اےلےٹ طبقے نے ہمےشہ مفادات حاصل کیے ہیں ۔ چونکہ فےصلہ سازی کا اختےار اےلےٹ طبقے کے پاس ہے ،وہ کھبی قربانی دےنے کی طرف نہیں جاتے بلکہ غرےب طبقے سے قربانی مانگتے رہتے ہیں ۔ بہرحال اب بھی وقت ہے ،سب کو سنوارنے اور بہتری کی طرف جانا چاہیے ۔ بہترےن منصوبوں سے ملک اور ملت کی پوزےشن بہتر ہوسکتی ہے ۔ گاڑےوں اور بھینسوں کے بےچنے پر اکتفا نہیں کرناچاہیے بلکہ ملک و ملت کی خاطرسب کو بالاتفرےق تنخواہ کے علاوہ سب مراعات کو نہیں لینا چاہیے ۔ وطن عزےز کے خاطر صدر اور وزےراعظم سے لیکر سب کو مفت پٹرول ، بجلی ،گےس ، ٹےلی فون سمےت تمام مراعات کو نہیں لینا چاہیے ۔ سب کو ملک کےلئے چھوٹی سی قربانی دےنی چاہیے کیونکہ پاکستان ہماری جان اور پہچان ہے ۔

ٹائم میگزین کا سچ،کرتار پور راہداری اور گوادر حملہ

معروف امریکی جریدے ’ٹائم‘ نے اپنے حالیہ شمارے کے سرورق پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی تصویر ;73;ndia;39;s ;68;ivider in chief’’انڈیا کو تقسیم کرنے والا‘‘ کے عنوان کے ساتھ شاءع کر کے بلاشبہ ایک بڑی حقیقت کا اظہار کیا ہے کہ موصوف جب سے اقتدار میں ;200;ئے ہیں بھارت میں مذہبی،قوم پرستی اور لسانی تقسیم میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے ۔ ٹائم میگزین کا مئی کا یہ شمارہ ابھی اس کی ویب سائیٹ پر موجود ہے جو 20مئی کو چھپ کر مارکیٹ میں دستیاب ہو گا ۔ مذکورہ عنوان جریدے میں موجود ایک مضمون سے متعلق ہے، جس میں تجزیہ نگار نے بھارتی سیاست پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سوال پوچھا ہے کہ کیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت مزید پانچ سال مودی حکومت کو برداشت کرے گی ۔ مضمون نگار نے لکھا کہ 2014 میں نریندر مودی کا اقتدار میں ;200;نا یہ ظاہر کرتا ہے کہ’اصل میں ملک کی اشرافیہ جس بات پر یقین رکھتی ہے وہ ;200;زاد خیال مگر ہم ;200;ہنگ ثقافت ہے جبکہ بھارت واقعی مذہبی قوم پرستی، مسلم مخالف جذبات اور گہرے نسلی تعصب کی ایک دیگ ہے ۔ مودی نے بھارت میں زہریلی مذہبی قوم پرستی کے اتنے بیج بوئے ہیں اور اب اس حد تک بگاڑ ;200;چکا ہے کہ وہ اندرونی کشیدگی کو مزید قابو نہیں کر سکتے ۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ مودی کی تمام الیکشن مہم مذہبی اور قوم پرستانہ جذبات کو دو;200;تشہ کرنے کا سبب بنی ہے ،اگر مودی اگلے پانچ سال کےلvے دوبارہ منتخب ہو گئے تو اسکے پورے ریجن پر گہرے منفی اثرات مرتب ہونگے ۔ پاکستان اور چین سے بھارت اعلانیہ کشیدگی کی حالت میں ہے جبکہ سری لنکا نیپال اور دیگر پڑوسی ممالک بھی مودی کی جارحانہ پالیسیوں کا شکار ہیں جبکہ دوسری طرف داخلی طور بھارت کو قوم پرستی اور مذہبی تقسیم کا سامنا ہے ۔ علیحدگی پسند سکھ کمیونٹی خالصتان کےلئے برسوں سے کوشاں ہے اور 2020 ء کو ریفرنڈم کے سال کے طور پر منا رہے ہیں ۔ سکھ برادری بھارت کی مضبوط اقلیت ہے جودل و جان سے اپنا الگ وطن چاہتی ہے ۔ اگلے پانچ سال بھی اگر مودی کو بھارت پر مسلط کردیا گیا تو پھر خالصتان تحریک کا کام مزید ;200;سان ہو جائے ۔ کشمیر بھی بھارتی اسٹیبلشمنٹ کےلئے گلے کا پھانس بنا ہوا ہے ۔ ان دونوں ایشوز کی بنا پر بھارت پاکستان کو مورد الزام ٹھہراتا ہے اور کشیدگی کو ہوا دیتاہے حالانکہ علیحدگی کی یہ دونوں تحریکیں مکمل طور پر indegenouseیعنی مقامی اور عوامی ہیں ۔ پاکستان صرف انکے بنیادی حق کی بات کرتا ہے ۔ مودی سرکار کے زیر سایہ یہ دونوں اقلیتیں مذہبی ;200;زادی سے محروم ہو چکی ہیں ۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی اقلیتوں کو ان کے بنیادی حقوق سے جان بوجھ کے محروم رکھے جبکہ بھارت ایسا کھلے عام کررہا ہے ۔ اسی بنا پر پاکستان سکھ برادری کو اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کا ;200;زادانہ حق دیتا ہے ۔ سکھ مذہب کے دنیا بھر میں پھیلے پیروکار ہرسال ہزاروں کی تعداد میں حسن ابدال بابا گرونانک کی سالانہ تقریبات میں بھرپور حصہ لیتے ہیں اور پاکستان کو دعائیں دیتے ہوئے جاتے ہیں ۔ باباگرونانک کی حسن ابدال کے علاوہ ایک بڑی زیارت پاکستان کے علاقے ناروال کرتارپور میں بھی موجود ہے جو بھارتی سرحد سے متصل ہے ۔ سکھ مذہب کے بانی بابا گورونانک نے اپنی زندگی کے ;200;خری ایام کرتارپور میں گزارے تھے چنانچہ ہر سکھ کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ زندگی میں کم ازکم ایک بار ضرور کرتار پور کادرشن کرے ۔ بھارت میں لگ بھگ دو کروڑ سکھ بستے ہیں جنہیں بھارتی حکام کی منفی سوچ اور روش کے باعث پاکستان ;200;نے اور کرتارپور جانے میں زبردست مشکلات کا سامنا رہتاہے ۔ چنانچہ بھارت میں ;200;باد سکھوں کی سہولت کےلئے گزشتہ سال پاکستان نے بھارت کو راہداری بنانے کی پیش کش کی جس پر بھارت جز بز تو بہت ہوا مگر ناچار اسے یہ پیشکش قبول کرنا پڑی ۔ پاکستان نے اس راہداری کورواں سال نومبر میں گرو نانک کے 550ویں جنم دن کے موقع پر فعال کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ اس اہم منصوبے پر کام شروع ہو چکا ہے اور امید ہے کہ پاکستان اپنی سائیڈ کام رواں برس جون کے ;200;خر تک مکمل کر لے گا ۔ یہاں بدقسمتی یہ ہے کہ بھارت بظاہر سکھوں کو راضی رکھنے کے لیے راہداری کی تکمیل بھی چاہتا ہے لیکن وہ اس منصوبے کو تعطل کا شکار بھی رکھے ہوئے ہے ۔ ایک لابی ذراءع ابلاغ کے ذریعے اس سے کیڑے نکالنے میں لگی ہے ۔ بلاشبہ منصوبے کے اعلان نے سکھوں کے دل و دماغ جیت لیے اور پاکستان کے واری واری جا رہے ہیں ۔ دوسرے ممالک میں بھارتی سکھوں کی ایک بڑی تعداد بے چین ہے کہ وہ کب اس درگاہ کا درشن کریں گے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ جلد از جلد یہ منصوبہ پایا تکمیل کو پہنچے ۔ یہ بات بی جے پی اور ’ہندوتوا‘ مائنڈ سیٹ کو ہضم نہیں ہوئی اور رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں ۔ یہی وجہ ہے گزشتہ ماہ دو اپریل کو ایک اہم اجلاس ہونا تھا جو بھارت کے انکار کے بعد نہ ہو سکا ۔ تاہم پاکستان نے راہداری معاہدے پر بات جیت کی بحالی کی امید کا اظہار کیاہے کہ نئی دہلی راہداری پر مذاکرات جلد بحال کرے گا تاکہ جتنا جلدی ہوسکے دونوں ممالک کے درمیان ایک معاہدے کو حتمی شکل دی جائے ۔ پاکستان اس منصوبے کےلئے ہمہ وقت تیاریوں میں مصروف ہے،اویکیوٹرسٹ پراپرٹی بورڈ (;69848066;) اور سکھ گردوارہ پربندھک کمیٹی (;8083718067;) مل کر پاکستان میں سکھ کمیونٹی ویلفیئر اور دیگر امور کی نگرانی کر رہی ہیں ۔ اس راہداری کےخلاف جاری پروپیگنڈہ کے توڑ کےلئے ضروری ہے کہ کمیٹیاں اپنے امور کی کڑی نگرانی کریں اور اس منصوبے کی تکمیل میں حائل ہر رکاوٹ کو دور کریں ۔ حکومت پاکستان سفارتی سطح پر کوشش جاری رکھے کہ بھارت لغو پروپیگنڈے کے زور پر معاملے سے پیچھے نہ ہٹے ۔

ادھر کالعدم بلوچ لیبریشن ;200;رمی نے گوادر ہوٹل پردہشت گرد حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی ایل اے کے مجیدبریگیڈکے فدائیوں نے ہوٹل میں گھس کر کارروائی کی ۔ حملے میں مری قبیلے کے حمال فتح بلوچ المعروف حبیب ، منصیب بلوچ عرف کریم بلوچ اور کچکول بلوچ عرف کمانڈو شامل تھے ۔ بی ایل اے کی ویب ساءٹ بلوچ ورنا نیوز پر مسنگ پرسنز کی فہرست میں گوادرحملے میں شامل حمال فتح بلوچ کا نام بھی شامل ہے ۔ بی ایل اے کی جانب سے ہمیشہ یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ حمال فتح بلوچ پاکستان کی سیکورٹی فورسز کی حراست میں ہے مگر گزشتہ روز کے واقع میں مارے جانےوالے دہشت گردوں میں سے ایک کی شناخت حمال فتح عرف حبیب ولد قادر خان مری کے نام سے ہونے کے بعد بھانڈہ پھوٹ گیا اور سیکورٹی اداروں کا یہ موقف بھی سچ ثابت ہوگیا ہے ۔ پر مسنگ پرسنز کی بازیابی کےلئے قائم کمیشن کے روبرو بھی بلوچ رہنمابضدتھے کہ حمال بلوچ سیکورٹی اداروں کے قبضہ میں ہے، اسطرح کالعدم بلوچ تنظیموں کی جاری کردہ مسنگ پرسنز کی فہرست بھی غلط ثابت ہوگئی ہے ۔ دراصل مسنگ پرسنز کی فہرست میں زیادہ تر ایسے نوجوانوں کا نام شامل کیا گیا ہے جوکہ بھارت کی سرپرستی میں قائم کالعدم بی ایل اے کے کیمپوں میں تربیت حاصل کررہے ہیں ۔ گزشتہ روز کا حملہ ایک پلان تھا جو ناکام ہوا ۔ پاک فوج کے سخت ترین سیکورٹی اقدامات کی وجہ سے حملہ ;200;ور گوادر میں مقیم چینی انجینئرز اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو نشانہ بنانےکی اپنی شیطانی منصوبہ بندی میں فعل ہوئے ۔ بی ایل اے کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد حکومت پاکستان کا یہ موقف عالمی سطح پر بھی درست ثابت ہوگیا ہے کہ بھارت اور بعض دوسرے ممالک کی خفیہ ایجنسیاں پاک چائنہ راہداری اور گوادر پورٹ کے عظیم منصوبوں کو ناکام بنانے کےلئے دہشت گردی سمیت اپنے تمام تر شیطانی حربے استعمال کررہی ہیں ۔

گوادر ہوٹل حملہ،دشمن کی منصوبہ بندی ناکام،شاباش سکیورٹی فورسز

صدشکر بلوچستان کی ساحلی پٹی کے ایک اہم علاقے گوادر میں فائیو سٹار ہوٹل پر دہشت گردوں کے حملے کو ناکام بناتے ہوئے تینوں دہشت گردوں کو واصل جہنم کردیا گیا ۔ اپنی نوعیت کی یہ ایک خوفناک منصوبہ بندی تھی جو سکیورٹی فورسز نے جان پر کھیل کر مکمل طور ناکام بنائی ہے، تاہم ایک سکیورٹی گارڈاولین مزاحمت پر شہید ہوئے ۔ گزشتہ روز گوادر میں فائیو اسٹار ہوٹل پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تو سیکیورٹی گارڈ انہیں روکاجس پردہشت گردوں نے فائرنگ کر دی اور وہ موقع پر جاں بحق ہو گیا ۔ بعدازاں سکیورٹی فورسز موقع پر پہنچ گئیں جنہوں نے ہوٹل کو گھیرے میں لے کر اندر موجود افراد کو بحفاظت باہر نکالا،اور دہشت گردوں کو ہوٹل کی بالائی منزل پر جانے سے قبل سیڑھیوں میں گھیر لیا، یہ ایک کامیاب حکمت عملی تھی ۔ پولیس کے مطابق سہ پہر 4بج کر 50 منٹ پر یہ اطلاع ملی کہ 3سے 4دہشت گرد پرل کانٹی نینٹل ہوٹل میں داخل ہوئے ہیں ۔ حملہ ;200;وروں کے داخل ہوتے ہی ہوٹل کے الارم بجا دیئے گئے تھے ، خوش قسمتی سے چینی شہریوں سمیت کوئی بھی غیر ملکی شہری موجود نہیں تھا ۔ پولیس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شایدحملہ ;200;ور کشتی کے ذریعے ہوٹل میں حملہ کے لیے ;200;ئے ۔ اس حملے کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کی ہے جس کے ڈانڈے بھارت سے کس طرح ملتے ہیں اب یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ۔ یہی وہ دہشت گردگروہ ہے جو بلوچستان سے مسنگ پرسن کا بہت شور مچاتا ہے ،اب یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ اس حملے میں ایک حملہ آور حمل بلوچ نامی دہشت گرد بھی مارا گیا ہے ۔ اس طرح کی اطلاعات کراچی چینی قونصلیٹ حملے کے وقت بھی سامنے آئی تھیں ۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی ساکھ خراب کرنے اور سی پیک منصوبہ سبوتاژ کرنے کی منصوبہ بندی کس لیول تک کی جارہی ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے گوادر میں دہشت گردحملے کی مذمت اور سیکیورٹی فورسزکی بروقت کارروائی کی تعریف کی ہے ۔ وزیراعظم خان کا کہنا ہے کہ فورسزنے بروقت جوابی کارروائی سے قیمتی جانوں کونقصان سے بچایا ۔ ایسی دہشتگردانہ کارروائیاں پاکستان کی خوشحالی کو سبوتاژکرنےکی کوشش ہیں ،کسی صورت ایسے ایجنڈے کوکامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ پاکستانی عوام اورسیکیورٹی فورسزایسے عناصرکوشکست دیں گے ۔ اُدھرچین کی جانب سے گوادر میں ہوٹل پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دلیرانہ کارروائی قابل تحسین ہے ۔ ترجمان چینی سفارتخانے کا کہنا تھا کہ پاک فوج اور سیکیورٹی اداروں کے جرات مندانہ اقدام کو سراہتے ہیں اور حملے میں شہید سیکیورٹی گارڈ کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان اور چین کی طرف سے حملے کی مذمت اور سکیورٹی فورسز کی بہادری کو بجا طور پر سراہا گیا ہے کہ اگر خدانخواستہ دہشت گرد اپنے منصوبے میں کامیاب ہو جاتے تو بھاری جانی نقصان ہونا تھا اور سی پیک جیسے عظیم منصوبے کی ساکھ اور مستقبل داوَ پر لگ جانا تھا ۔ گوادر میں پرل کانٹی نینٹل ہوٹل، مغربی خلیج کے جنوب میں فِش ہاربر روڈ پر کوہ باطل پہاڑی پر واقع ہے، جبکہ ہوٹل میں اکثر کاروباری افراد اور سیر و تفریح کے غرض سے گوادر ;200;نے والے قیام کرتے ہیں ۔ سی پیک کے بعد یہ علاقہ پاکستان مخالف لابی خصوصاً بھارت کی آنکھ میں کھٹکتا ہے ۔ اس طرح کی کارروائیوں کی کئی بار کوشش کی گئی تاکہ سی پیک منصوبہ آگے نہ بڑھے ۔ قبل ازیں 8اپریل کو گوادر میں اورماڑہ کے قریب پاک بحریہ، فضائیہ اور کوسٹ گارڈ ز پر حملہ کیا گیا جس میں 14 اہلکار شہید ہوئے یہ حملہ تقریباً ایک ماہ بعد ہوا ہے ۔ اس وقت بزی ٹاپ کے علاقے میں رات 12;46;30 سے ایک بجے کے درمیان15 سے 20 مسلح افراد نے کراچی سے گوادر ;200;نے اور جانے والی متعدد بسوں کو روک کر اس میں موجود مسافروں کے شناختی کارڈ دیکھے اور انہیں گاڑی سے اتار کر شہید کر دیا تھا ۔ گوادر مستقبل کا بین الاقوامی معاشی حب بننے جا رہا ہے ۔ چین روابط بڑھانے اور تجارتی مقاصد کےلئے پاکستان کے ساتھ مل کر گوادر کی بندرگاہ تعمیر کر رہا ہے، اس مقصد کےلئے وہ 2015 میں پاک ۔ چین اقتصادی راہداری سی پیک کے نام سے سامنے ;200;نے والے میگا منصوبے کے تحت پاکستان میں 60 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کررہا ہے ۔ منصوبے کے تحت چین کے دور دراز مغربی صوبے سنکیانگ کو بلوچستان میں گوادر کی بندرگاہ سے جوڑا جا رہا ہے، جبکہ اس میں انفراسٹرکچر، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے متعدد منصوبے بھی شامل ہیں ۔ اس منصوبے کی اہمیت کے پیش نظر گزشتہ چند برسوں میں سیکیورٹی اداروں نے بلوچستان میں امن عامہ کی صورت حال کو بہتر کرنے کےلئے کئی اقدامات اٹھائے ہیں جن کے حوصلہ افزاء نتاءج سامنے آرہے ہیں ، جیسے کہ کلبھوشن یادیو کا پکڑا جانا اور اسکے نیٹ ورک کے ڈانڈوں کی تلاش جیسے اہم اقدامات قابل تحسین ہیں ۔ تاہم دہشت گرد عناصر تخریبی کارروائیوں کی کوشش میں کبھی کبھی کامیاب ہوجاتے ہیں ۔ پاک چین اقتصادی راہداری میں بلوچستان اور پاکستان کےلئے شہ رگ ہے پاکستان مخالف خفیہ ادارے حالات خراب کرنے کے در پے ہیں جو انشا اللہ ناکام ہوں گے ۔ ہ میں بھارت کی خفیہ ایجنسی را اور افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کی پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سرگرمیوں کو بے نقاب کرنا ہے اور اس نیٹ ورک کو بھی بے نقاب کرناہے جو اندرون ملک دشمن کے بیانیہ کوآگے بڑھاتا ہے ۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا کا غلط استعمال عام ہے، ایسے مواقع پر دشمن کنفیوژن پھیلا کراپنے مقاصد کےلئے راہ ہموار کرتا ہے ۔ پوری قوم کو ہوشیار رہنا ہوگا تاکہ دشمن اپنے منصوبے میں ناکام ہو ۔ گوادر حملہ سی پیک پر حملہ ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔

آئی ایس پی آر کی بر وقت وضاحت

پاک فوج کے شعبہِ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے تھریٹ الرٹ سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے عوام کے نام پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسی افواہوں پر کان نہ دھریں آئی ایس پی آر نے کوئی تھریٹ الرٹ جاری نہیں کیا ہے ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی تھریٹ الرٹ کی تصدیق کے لیے آئی ایس پی آر کی ویب ساءٹ یا پھر سوشل میڈیا کے آفیشل اکاءونٹس سے تصدیق کریں ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سماجی رابطوں کی ویب ساءٹ ٹویٹر، فیس بک اور یوٹیوب پر آفیشل اکاءونٹس موجود ہیں ، مصدقہ اکاوَنٹس سے ہی خبریں اور عوامی پیغامات ارسال کیے جاتے ہیں ۔ آئی پی آر ایک ذمہ دار قومی ادارہ ہے ،جس کے نام پر جعلی سوشل میڈیا اکاءونٹ کی بھر مار ہے ۔ سادہ لوح عوام اکثر ایسے جعلی اکاءونٹ کی پھیلائی ہوئی افواہوں کو سچ مان لیتے ہیں جس سے کنفیوژن پھیل جاتی ہے ۔ گزشتہ روز بھی آئی آیس پی آرکے نام سے ایک جعلی الرٹ نے راولپنڈی اسلام آباد میں خوف کی فضا پید اکردی تھی ۔ جس کی وضاحت بروقت کردی گئی ۔ تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والے اپنے طور بھی چھان پھٹک کرلیا کریں ۔ ہر سنی سنائی خبر یا سوشل میڈیا کی کسی پوسٹ پر یقین نہ کرلیا کریں اور نہ ہی اِسے آگے پھیلائیں ۔ یہ عادت عوام میں خوف و ہراس کا باعث بن رہی ہے اس سے اجتناب برتنا ہوگا ۔

ماوَ نواز تحریک بھارت کی سلامتی کیلئے خطرہ

مہاراشتر کے ضلع گڈچرولی میں پولیس کمانڈوز کی دو گاڑیوں کو سڑک کنارے نصب آئی ای ڈی ڈیوائس کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ۔ اس دھماکے میں دونوں گاڑیاں اور ان میں سوار 16 کمانڈوز ہلاک ہوگئے ۔ یہ سکیورٹی اہلکار ریاستی اسمبلی کے لیے بی جے پی امیدوار کے قافلے کی حفاظت پر مامور تھے ۔ چھتیس گڑھ کی ریاستی اسمبلی کے بی جے پی امیدوار بھیما منداوی بھی اس قافلے میں موجود تھے جب اس پر مشتبہ ماوَ نواز باغیوں نے حملہ کیا ۔ بھیما منداوی ابھی تک لاپتہ ہیں ۔ چھتیس گڑھ ان ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں پہلے مرحلے میں ووٹ ڈالے گئے تھے ۔ بھارت کی ماوَ نواز تحریک جسے عرف عام میں نکسلائیٹ بھی کہا جاتا ہے بھارت کی سلامتی کے لئے بہت بڑا خطرہ بن گئی ہے ۔ ماوَ نواز نکسل باڈی تحریک جس کا آغاز نکسل پارٹی سے ہوا تھا اب بھارت کی 20 ریاستوں تک پھیل گئی ہے ۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ بھارت کی حکومت کروڑوں لوگوں کو ان کی زندگی کی ضروریات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ یہی محرومی آگے چل کر حکومت وقت کے خلاف ایک بڑی تحریک بن گئی اوران کے علاقوں میں عملاً بھارتی عملداری ناکام ہو کر رہ گئی ہے ۔ اب یہ تحریک بھارت کے 626 اضلاع میں سے ایک تہائی اضلاع میں پھیل چکی ہے ۔ ماوَ نواز باغیوں کی تحریک بھارت پر زیادہ سیاسی اور فوجی دباو بڑھا رہی ہے ۔ 2006ء سے اب تک ماوَ نوازوں کے حملوں میں 4 ہزار افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ اس سال ماوَ نواز عناصر کے حملوں میں 990 افراد ہلاک ہوئے ہیں ۔ بھارتی حکومت اقتصادی ترقی کے لئے توانائی‘ کوئلہ اور تیل کی ضروریات کے لئے جن علاقوں میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے ان میں وہ علاقے شامل ہیں جو اس وقت ماوَ باغیوں کے قبضے میں ہےں ۔ کئی غیر ملکی کمپنیاں جو بھارت میں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہیں لیکن وہ ماوَ نواز باغیوں کے خوف سے ایسا کرنے سے گریز کر رہی ہیں ۔ علیحدگی پسند تنظیم ماوَ بھارت کو مفلوج کر کے 2050 ء تک اس پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ اس ضمن میں انہیں بھارت کے سابق فوجیوں کی حمایت بھی حاصل ہے ۔ گزشتہ 10 برسوں میں انہوں نے نکسلاءٹس بھارت تحریک کو بتدریج بڑھایا ہے ۔ ہندوستان کی حکومت مختلف ریاستوں میں سرگرم ماوَنواز باغیوں سے نمٹنے کے لیے ایک نئی حکمت عملی اختیار کرنے پر رضامند ہو گئی ہے ۔ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ریاستی پولیس ماوَنوازوں کے خلاف کارروائی میں اہم کردار ادا کرے گی جبکہ مرکزی فورسز انہیں ضروری مدد فراہم کریں گی ۔ نئی حکمت عملی کے مطابق تقریباً ستر ہزار سنٹرل پیرا ملٹری فورسز اور اعلیٰ سطح کے کمانڈوز کو ماوَنواز باغیوں کے خلاف آپریشن میں استعمال کیا جائے گا ۔ ان اہلکاروں کو فوج اور فضائیہ کے ہیلی کاپٹر بھی مدد فراہم کریں گے ۔ مرکزی حکومت اب مزید 14000 فوجی ان ریاستوں میں آپریشن کے لیے بھیج رہی ہے ۔ مرکزی فورسز کے علاوہ ان ریاستوں کے ہزاروں پولیس اہلکار بھی ماوَ نوازوں کے خلاف موجودہ آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں ۔ خفیہ اداروں کا کہنا ہے ماوَ نوازوں کے پاس تقریباً 20000 چھاپہ مار جوان ہیں جو اچھی طرح تربیت یافتہ او رمسلح ہیں ۔ کولکتہ سے تقریباً پونے دو سو کلو میٹر کے فاصلے پر لال گڑھ علاقے میں گزشتہ کئی ماہ سے حکومت کا کنٹرول نہیں ہے اور وہاں ماوَنواز باغیوں کا بول بالا ہے ۔ ریاست مغربی بنگال کی حکومت نے مغربی مدنا پور ضلع کے لال گڑھ علاقے میں ماوَنواز باغیوں کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے ۔ پولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورسز کے جوان علاقے میں پہنچنا شروع ہوگئے ہیں جس کے سبب وہاں حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں ۔ سینٹرل ریزرو فروس اور پولیس کی کچھ کمپنیاں لال گڑھ کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی ہیں اور مورچہ سنبھال لیا ہے ۔ حکومت کی کارروائی کے پیش نظر ماوَ نواز باغیوں نے بھی مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور درختوں کو کاٹ کرگاؤں کے راستوں کی ناکہ بندی کردی ہے ۔ ماوَنواز باغیوں نے راستے میں جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں اور انسانی دیوار بنا رکھی ہے ۔ ماوَ نواز باغیوں نے سب سے آگے خواتین اور بچوں کو رکھا ہے اور دوسرے نمبر پر معمولی ہتھیاروں سے لیس گاؤں والے ہیں ۔ سب سے پیچھے مسلح ماوَنواز ہیں جنہوں نے مورچہ سنبھال رکھا ہے ۔ ریاستی حکومت نے کارروائی سے پہلے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ماوَنوازوں سے دور ہٹ جائیں تاکہ لڑائی کے دوران وہ نشانہ نہ بن سکیں ۔ اس علاقے میں حالیہ دنوں میں تشدد کے واقعات میں ۔ مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے کئی کارکنان ہلاک ہوگئے تھے ۔ ان ریاستوں کے رہنے والوں کا مطالبہ ہے کہ و ہ بھارت کی غلامی میں رہنے پر ہرگز آمادہ نہیں لہذا انہیں آزاد کیا جائے ۔ علاقے کے تمام عوام اس مطالبے کے حق میں ہیں ۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ بھارت سے علیحدگی کا یہ مطالبہ ہرگز نیا نہیں بلکہ یہاں کے عوام پچھلے58 برس سے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں مگر بھارتی حکمران اپنی روایتی ریاستی دہشت گردی کی پالیسی پر عمل پیرا ہوکر بزور طاقت فی الحال اس صوبے کو اپنے ناجائز قبضے میں رکھنے میں کامیاب رہے ہیں ۔ ماوَ باغیوں کی گوریلا کارروائیاں بھارت میں ایک معمول بن چکی ہیں ۔ بھارت تو علیحدگی پسندوں کو ختم کرنے کا دعوی کررہا ہے لیکن میڈیا کا کہنا ہے کہ وہاں گروہ بندی ہو رہی ہے ۔ ان باغیوں نے یکجہتی کانفرنس بھی منعقد کی اور کوئی حکومت کا ذمہ دار ان سوالات کا جواب نہیں دے سکا کہ اس کانفرنس میں سو وفود کس طرح شریک ہوئے جن کا تعلق سولہ مختلف ریاستوں سے تھا ۔ اس کانفرنس میں پیپلز لبریشن آرمی بنانے کا فیصلہ کیا گیا اور یہ فیصلے بھی کئے گئے کہ تین سو خصوصی زونوں کو نشانہ بنایا جائے گا اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے داخلے کی مخالفت کی جائے گی ۔ بھارتی اخبار نے سوال کیا ہے کہ کیا اس ملک کے بنانے والوں نے اسی کا خواب دیکھا تھا اور کیا ہماری سیاست یہی کہتی ہے اور ہمارا مرکز ریاستوں کو اعتماد میں لینے میں ناکام رہا ہے ۔ اخبار نے زور دیا ہے کہ مرکزی حکومت صوبائی رہنماؤں کو اعتماد میں لے اور انٹیلی جنس اداروں کو بھی استعمال کیا جائے اور دہشت گردوں کے سامنے ہتھیار نہ ڈالے جائیں ۔ دنیا بھر کے فلاسفر اس پر متفق ہیں کہ جہاں کوئی حکومت ریاست کی عملداری اور بالادستی برقرار نہ رکھ سکے وہ ناکام ریاست ہی کہلاتی ہے اور بھارت مبینہ دہشت گردوں کو اتنی بڑی تعداد میں اضلاع دیکر اس راستے پر چل نکلا ہے ۔

دوحہ مذاکرات ۔ کابل انتظامیہ کی کوئی اہمیت نہیں

غیر ریاستی عناصراور کچھ غیر علاقائی عناصر جنوبی ایشیائی ممالک پاکستان اورافغانستان کی سرحد پر امن کے دشمن بنے کشیدگی کی شدت کوہوا دینے انسانی ماحول کوپراگندہ کرنے‘بدامنی پھیلانے اور خطہ میں نفرتیں اور دشمنیوں کے رجحانات پیدا کرنے میں اپنی حدیں پار کرنے لگے ہیں ، امریکی سرپرستی میں قائم کابل انتظامیہ کی پشت پناہی ان غیرریاستی اور غیر علاقائی عناصر کو حاصل ہے ایسا کیوں ہورہا ہے وہ اس لیئے کہ کابل انتظامیہ کے کٹھ پتلی سربراہ ڈاکٹراشرف غنی جو کانوں کے کچے ہی نہیں ہیں بلکہ ضرورت سے زیادہ اپنی اتھارٹی اور اپنا اعتماد جو پہلے ہی سے کمزور سہاروں پر لڑکھڑارہاہے اپنی کابینہ پر وہ اپنا سربراہی اختیاراب گنواتے جارہے ہیں افغانستان میں اْن کی کوئی سنتا ہی نہیں افغان سیکورٹی کا ادارہ جس کی پیشہ ورانہ اہلیت و مہارت پر پہلے سے کئی سوالات ہیں پیشہ ورانہ ڈسپلن کی اْن میں کمی ہے افغان فوج سے بلا اطلاع دئیے فرار ہوکر بدقماش عسکریت پسندوں سے جاملنا اپنے ہتھیاراْنہیں فروخت کردینا یہ افغانستان میں روز کا معمول ہے اْنہیں احکامات کہاں سے آرہے ہیں یہ کوئی نہیں بتاتا کابل انتظامیہ سے زیادہ احکامات وہ امریکی عسکری حکام کے مانتے ہیں اور افغان فوج کے کئی دستے ;39;را;39; سے پیسہ پکڑکر پاکستان کی سرحد پر فائرنگ کرنے آنکلتے ہیں مثلاً گزشتہ ماہ اپریل کی 15 تاریخ کو افغان سیکورٹی فررسنزکے ایسے ہی ایک دستہ نے پاکستانی قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں پاک افغان سرحد کے قریب ایک تشویش ناک جارحانہ حملہ کردیا 5پاکستانی سیکورٹی اہلکاروں کو شہید کئی پاکستانی فوجی اس حملہ میں شدید زخمی ہوئے معتبر ذراءع نے بتایا کہ افغان فورسز نے یہ حملہ کرم ایجنسی کی پاکستان سرحد پر اس وقت کیا جب پاکستانی سپاہی وہاں باڑ لگانے کے لیے ایک سروے کر رہے تھے یاد رہے افغانستان کی جانب سے جارحیت کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا مسلسل جارحیت کا یہ ایک بہت ہی افسوس ناک تسلسل ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے پاک افغان دوطرفہ مسائل ہر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ کشیدگی کا یہ ماحول اس وقت تک نہیں رکے گا بلکہ چلتا رہے گا جب تک خطے کی ریاستیں اور تمام ’اسٹیک ہولڈرز‘ اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتے جس میں اْن کا اشارہ خاص کر افغانستان;39; اور بھارت کی طرف ہے اور افغانستان میں گزشتہ17 برسوں سے اب تک وہاں موجود امریکا بھی اب ایک ;39;اسٹیک ہولڈر ;39;بن چکا ہے کہاں امریکا اور کہاں افغانستان کوئی تو بتلائے کہ یہ کیونکر ممکن ہوا اورکیسے ہوا ہے چاہے امریکا ہو یا بھارت پہلی فرصت میں علاقہ کوکسی اور نئی تباہی اور ممکنہ بربادی جیسے حالات پیدا کرنے سے پْرامن دوستانہ خیرسگالی کی پالیسیوں کی سمت امریکا کو اب آنا ہی پڑے گا تبھی پاکستان سمیت افغانستان میں حقیقی اور مستقل امن کی فضا قائم ہوگی اور اسی طرح سے افغان صدر غنی اور امریکی صدر ٹرمپ کو پاکستان پر لغوالزامات لگانے سے قبل اپنے گریبانوں میں جھانکنا لینا چاہیئے پاکستان پردہشت گردوں کی پشت پناہی کا یہ کتنا بیہودہ اور بے سروپا الزام ہے یہ اْنہیں کیوں دکھائی نہیں دیتا کہ دہشت گردی کو اْس کی جڑوں سمیت اکھاڑ پھینکنے اور دہشت گردوں کو عبرتناک سزائیں دینے میں پاکستان نے کتنی قیمتی قربانیاں دی ہیں ایک دنیا ان قربانیوں کی معترف ہے اسلام آباد کی یہ بات کہاں سنی جارہی ہے کہ پاکستان دشمن عناصر کو افغانستان میں پناہ مل رہی ہے جو وہاں سے پاکستانی علاقے میں حملے کرتے ہیں بنیادی طور پر یہی غیر ریاستی عناصر ہیں جو دونوں ممالک کے تعلقات کو خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں لیکن تھوڑا بہت نہیں بلکہ زیادہ ہاتھ امریکا اور دوسرے چند مسلم دشمن مغربی ممالک کا بھی ہے امریکا خطے میں بھارت کو زیادہ طاقتور بنانا چاہتا ہے اور اسے افغانستان میں کوئی کردار سونپنے کا بھی خواہاں ہے جب تک یہ امریکی پالیسی تبدیل نہیں ہو گی اور غیر ریاستی عناصر کو لگام نہیں ڈالی جائے گی دونوں ہمسایہ ممالک پاکستان اور افغانستان کے سرحدی تعلقات میں بہتری اور خطے میں دیرپا امن دونوں مشکل نظرآتے ہیں صدر غنی نجانے کن بدخواہوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنے ہوئے ایک ہی ضد پراڑے افغان مزاحمتی طاقت کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں جو افغانستان کے محفوظ مستقبل کی حقیقی ضامن قوت ہے، دوحہ مذاکرات اچھے خاصے چل رہے تھے، امریکا بھی کسی حد تک راضی معلوم دے رہاتھا افغان طالبان مزاحمتی قائدین کا کابل انتظامیہ کی بجائے براہ راست امریکا سے مذاکرات کرنے پراپنی آمادگی کا اظہار اس روشن امر کی شہادت دیتا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ پہلے امریکا جو غیر ملکی قابض قوت ہے وہ افغان سرزمین چھوڑ دے بعد میں کابل کی انتظامیہ سے افغان طالبان باہمی گفت وشنید کرلیں گے دنیا اب بہت بدل چکی ، ہے پلوں کے نیچے سے کافی پانی بہہ چکا ہے اور حالات تبدیل ہوچکے ہیں ، دوحہ میں مذاکرات کا چھٹا دور چل چکا ہے ایسے میں اشرف غنی کی جانب سے ;39;نیشنل یونٹی حکومت;39; بنانے کی بات کرنا امن مذاکرات کو یوں سمجھیں کہ وقت ضائع کرنا ہے اور کیا کہیں ;238;افغان طالبان کو پاکستان;39;روس اور چین نے کتنی تگ ودو کے بعد امریکا سے مذاکرات کرنے پر آمادہ کیا تھا یوں جنگ بندی کا مرحلہ بھی طے ہوجاتا امریکا بھی افغانستان سے جلد ازجلد اپنی باقی ماندہ فوج کو نکالنے کی کوئی قریبی حتمی تاریخ کا اعلان کرتا مگر اقتدار کی لالچ اور ہوس میں مبتلا اشرف غنی انتظامیہ ;39;را;39; کے ہاتھوں بنی بنائی گیم کا ستیاناس کرنے پر تلے دکھائی دیتے ہیں ایک اطلاع یہ بھی عالمی میڈیا میں گردش کررہی ہے کہ امریکا افغانستان میں ایک طرف طالبان کو مذاکرات میں مشغول کیئے ہوئے ہے جبکہ دوسری طرف بالا ہی بالا بھارتی اثررسوخ کو استعمال کرکے امریکا نے پرائیویٹ ملٹری ٹھیکیدارفورس ;39;بلیک واٹر;39; کے کچھ دستے افغانستان میں اتاردئیے ہیں مصدقہ ذراءع سے تاحال اس کی تصدیق نہیں ہوسکی لیکن امریکیوں سے کچھ بھی بعید نہیں وہ ایسا کرسکتے ہیں کیونکہ نئی دہلی امریکا کی ;39;حاضرسروس;39; کے بغیر ایک ہفتہ بھی غیور بہادر اور جرات مند افغان طالبان کا دوبدو مقابلہ نہیں کرسکتی یہیں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ;39;نیشنل یونٹی حکومت;39; کے شوشہ کے پیچھے ;39;سی آئی اے;39; کی ڈوریاں بھی ہل رہی ہیں یادرہے کہ افغان طالبان نے;39;نیشنل یونٹی حکومت;39; کے کابل انتظامیہ کے جھانسے میں آنے سے یکسر انکار کردیا ہے کیونکہ کابل انتظامیہ کے پاس دینے کے لئے کچھ نہیں ہے افغان طالبان تو افغانستان کے تقریباً 60 ۔ 70 فیصد رقبے پر اپنی حکومت چلا رہے ہیں ، لہٰذاء پاکستان چونکہ افغانستان کا انتہائی قریبی پڑوسی ملک ہے صدیوں پر محیط دونوں مسلم ممالک کے عوام گہرے ملی;39;ثقافتی اور کئی مقامات پر قبائلی خونی رشتوں میں باہم پیوست ہیں ہمارے نزدیک طالبان لائق احترام اور واجب احترام ‘ لہٰذا ہ میں بحیثیت پاکستانی قوم کسی اور کی باتیں کیا سنیں طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی اس بات میں کافی منطقی وزن ہے جیسا اْنہوں نے ترک نیوز چینل;39;ٹی آر ٹی ورلڈ;39;سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان اپنے مخالف افغانوں سے اس وقت بات کریں گے جب امریکہ کے ساتھ ہمارا کوئی اْصولی معاہدہ طے پا جا ئے گا اْنہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ’’طالبان نام نہاد افغان حکومت سے بات نہیں کریں گے کیونکہ ان کے بقول وہ ایسی کٹھ پتلی حکومت کو تسلیم ہی نہیں کرتے جسے امریکہ نے قائم کیا ہے اور جس پر امریکی اثرورسوخ ہے;3939; اب وقت بدل رہا ہے جتنی جلد ہوسکے امریکا کو افغانستان کی سرزمین چھوڑ دینی چاہئیے یہاں ہم بھارت پر بھی یہ واضح کردیں کہ وہ ایرانی بندرگاہ چاہ بہار کے تجارتی کنٹریکٹ پر زیادہ ’اُوچھا‘ بننے کی کوشش نہ کرئے امریکی جونہی افغانستان سے نکلنا شروع ہونگے ایرانی بندرگاہ بھی نئی دہلی کے ہاتھوں سے پھسل جائے گی جناب والہ! ایران نے سی پیک میں بھی شامل توہرصورت ہونا ہے ۔

چاہ بہار سے داتا دربار تک !

ایک روز قبل افطار سے کچھ دیر قبل گوادر کے فائیو سٹار ہوٹل میں دہشت گردی کی واردات انجام دینے کی کوشش کی گئی جسے قومی سلامتی کے اداروں نے فوری اور بروقت ایکشن کے ذریعے ناکام بنا دیا ۔ اس سے چند روز قبل لاہور میں حضرت سید علی ہجویری;231; المعروف داتا گنج بخش کے مزار کے باہر سفاک دہشت گردوں نے بہت سے بے گناہوں کا خونِ ناحق بہایاجس کی مذمت کیلئے لفظ ڈھونڈ پانا بھی خاصا مشکل ہے‘ اور پھر گزشتہ ایک ماہ کے اندر پشاور میں بھی بڑی دہشت گردی کو ناکام بنایا گیا ۔ اسی کے ساتھ وطن عزیز میں پولیو کے خلاف بھی ایک منظم مہم جاری ہے اور گزشتہ ایک ماہ کے دوران 4 پولیو ورکرز شہید ہو چکے ہیں ۔ کوسٹل ہائی وے سانحہ اور کوءٹہ میں ہزارہ برادری پر گزرنے والی قیامت بھی دہشت گردی کی اسی نئی لہر کا حصہ ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کے شیطانی گروہوں کی ڈوریاں نئے سرے سے ہلائی جا رہی ہیں ۔ سب جانتے ہیں کہ اس سب کے پیچھے وہ پاک دشمن گروہ ہے جن کا ایجنڈہ ہی پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے ۔ ماہرین کے مطابق بھارتی حکمرانوں نے پاکستان کے اندر ریشہ دوانیوں کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے، اس کی ایک طویل تاریخ ہے اور انہی مکروہ سازشوں کے ذریعے وطنِ عزیز کو دو لخت بھی کیا جا چکا ہے ۔ جس کا اعتراف آٹھ جون 2015 کو مودی نے اپنے دورہ بنگلہ دیش کے دوران کھلے عام کیا تھا ۔ بہر کیف ان تمام سازشوں کے باوجود ہندوستان عالمی برادری کے سامنے خود کو معصوم اور دودھ سے دھلا قرار دیتا نہیں تھکتا اور دنیا کے اکثر ملک بھی نہ صرف دہلی کے ان دعووں پر یقین کرتے ہیں بلکہ اپنے گناہ چھپانے کی اس بھارتی روش کی تائید اور حمایت بھی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ اسی تناظر میں ’’را‘‘ کا حاضر سروس افسر ’’کل بھوشن یادو‘‘ 3 برس قبل بلوچستان میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ موصوف نے دورانِ تفتیش اپنی تمام کارستانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ وہ انڈین نیوی میں کمانڈر کے عہدے پر فائز تھا ۔ یاد رہے کہ نیول کمانڈر کا منصب فوج کے لیفٹیننٹ کرنل کے مساوی ہوتا ہے ۔ انڈین نیوی میں اس کا سروس نمبر ’’41558‘‘ ہے اور وہ 16 اپریل 1970 کو پیدا ہوا اور 1991 میں اس نے بھارتی بحریہ میں کمیشن حاصل کیا ۔ کچھ عرصے بعد نیول انٹیلی جنس میں چلا گیا ۔ اس کی ’’اچھی ‘‘ کارکردگی کی بنا پر اس کو را میں شامل کر لیا گیا اور پاکستان میں ’’کور ایجنٹ‘‘ کے طور پر کام کرنے کے لئے اسے منتخب کیا گیا اور اس کا مسلمان نام ’’حسین مبارک پٹیل‘‘ رکھا گیا تھا ۔ اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر اس کو نہ صرف اسلام کی بنیادی تعلیمات دی گئیں بلکہ جسمانی طور پر بھی مسلمان ظاہر کرنے کےلئے اس کے ختنے وغیرہ بھی کیے گئے تا کہ کسی بھی مرحلے پر اس کی ہندوانہ اصلیت ظاہر نہ ہو سکے ۔ اسی مسلمان نام پر اس کو پاسپورٹ جاری کیا گیا جس کا نمبر ’’ایل 9630722‘‘ ہے ۔ اور پھر اس کو بلوچستان سے متصل ایرانی ساحلی شہر ’’چاہ بہار‘‘ میں را نے جیولری کی دکان کھول کر دی لیکن اس کا اصل کام بلوچستان آ کر اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ کراچی، بلوچستان میں علیحدگی پسند اور فرقہ وارانہ دہشتگردی کی وارداتیں انجام دینا تھا اور کئی برسوں سے وہ یہ سب کچھ کرتا آ رہا تھا ۔ وہ بلوچستان میں دہشت گردی کی مسلح تحریک کی ہر طرح سے سر پرستی کر رہا تھا اور اس ضمن میں کئی دوسرے غداروں کے علاوہ ’’حاجی بلوچ‘‘ نامی آدمی اس کا بڑا مہرہ تھا جس کے ذریعے وہ ’’مالی‘‘ اور ’’ لاجسٹک‘‘ امداد دہشت گرد تنظیموں کو فراہم کرتا تھا ۔ وہ اسی حوالے سے کراچی میں داعش کے قیام کی کوشش بھی کر تا رہا اور سانحہ صفورا میں بھی پوری طرح ملوث تھا جس میں تقریباً پچاس نہتے شہری شہید ہو گئے تھے ۔ یوں اسے محض جاسوس قرار دینا صحیح نہیں کیونکہ وہ در حقیقت اپنی سر پرستی میں دہشت گردی کا پورا نیٹ ورک چلا رہا تھا ۔ جرمنی، امریکہ، روس، چین، فرانس اور برطانیہ سمیت سبھی عالمی قوتوں کو اس بابت پاکستان نے ٹھوس ثبوت بھی فراہم کر رکھے ہیں ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے غیر جانبدار حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ یہ ایک کھلا راز ہے کہ بھارتی خفیہ ادارے خصوصاً ’’را‘‘ اور ’’آئی بی‘‘پاکستان کیخلاف براہ راست دہشت گردی میں ہمیشہ سے ملوث رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گردی میں انڈین آرمی کے حاضر سروس کرنل پروہت ، ’’میجر اپادھیا‘‘ اور ’’پرگیہ ٹھاکر‘‘ ( جو حالیہ لوک سبھا انتخابات میں بھوپال سے ;667480; کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہی ہے) کا کردار بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ گزشتہ کچھ عرصے سے اس بابت ہندو ستانی میڈیا نے جس طرح چپ سادھ رکھی ہے، اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں کا میڈیا کس حد تک آزاد ہے وگرنہ یہی صورتحال اگر پاکستان میں در پیش ہوتی تو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے اب تلک کلبھوشن یادو کے گھر کے ایڈریس پر جا کر اس کا پورا شجرہ نسب کھنگال ڈالا ہوتا ۔ مگر بھارتی میڈیا اور سول سوساءٹی کی خاموشی ظاہر کرتی ہے کہ اپنی قومی سلامتی کے ضمن میں انھوں نے کچھ حدود مقرر کر رکھی ہیں ۔ جس میں وطنِ عزیز کے میڈیا کےلئے بھی بہت کچھ پنہاں ہے ۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان کل بھوشن یادو کی کارستانیوں سے متعلقہ تمام دستاویزی ثبوت نہ صرف فوری طور پر دنیا بھر کے میڈیا کے سامنے لائے گی بلکہ سفارتی سطح پر بھی اس حوالے سے انتہائی موثر مہم چلانے کی ضرورت ہے ۔ عالمی برادری محض پاکستان کو ایٹمی اثاثوں اور دیگر حوالوں سے نصیحتیں دینے کی جو روش اپنائے ہوئے ہے، اس پر نظر ثانی کر کے دہشت گردی کے اصل سرپرست بھارت کو قانون اور انصاف کے شکنجے میں لانے کی سعی کرے ۔

Google Analytics Alternative