کالم

اسد دورانی اور دولت کی مشترکہ کتاب

 

آئے دن ایمان،اتحاد ،تنظیم کی اسلامی تعلیمات پر مبنی ماٹو پر تربیت پانے والی پاکستان کی بہادر فوج پر حملے ہوتے رہتے ہیں۔ تازہ حملہ اسد دورانی، سابق سربراہ آئی ایس آئی کی اپنے بھارتی ہم منصب دولت کے ساتھ مل کر لکھی کتاب ’’جاسوس کی سرگزشت‘‘ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔اسوقت جب پاکستانی فوج کو انتہا پسندوں کا ساتھیثابت کرنے اور پاکستان پر پابندیاں لگانے کا غوغہ عام ہے یہ کتاب بھی سامنے لائی گئی ہے۔ بحر حال پاکستان فوج نے دورانی کی کتاب کا نوٹس لیتے ہوئے اس کے خلاف کی انکواری شروع کی ہے۔ اسد دورانی کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا ہے۔ جرم ثابت ہونے پر اسد دورانی کوقرار واقعی سزا ملی چاہیے۔ ویسے بھی نام نہاد شہرت کے رسیا، اسد دورانی کو ان کی ناپسندیدہ حرکتوں کی وجہ سے فوج سے وقت سے پہلے ہی ریٹائرڈ کر دیا گیا تھا۔ کیا وہ فوج سے بدلہ لینے کے لیے ایسی ناپسندیدہ حرکتیں کرتے رہے ہیں۔اس کتاب کے مندرجات سے پاک فوج کو کتنا نقصان پہنچا اور اسد دورانی نے اپنے حلف کا کتنا پاس رکھایا یہ تو انکواری کے دوران سامنے آ جائے گا۔ہم تو یہ عرض کر رہے ہیں کہ یہ کوئی نئی بات نہیںیہ ایک مسلسل سازش ہے جو پاکستان کی فوج کے خلاف کی جارہی ہے۔اس کے تاریخی طور پر تجزیہ کریں تو بات کچھ اس طرح ہے۔ہندو لیڈر شپ بر صغیر سے انگریز کے چلے جانے کے بعد ہندستان پراکیلے اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتی تھی۔ہندوؤں کے پاس مروجہ جمہوریت کے تحت اکژیت کا فارمولہ تھا۔قائد اعظمؒ کانگریس میں رہ کر ہندوؤں کے اس متعصبانہ رویہ کو اچھی طریقہ سے جان گئے تھے۔ اس لیے انہوں نے دو قومی نظریہ کی بنیاد پر تحریک پاکستان چلائی تھی اور پاکستان حاصل کیا۔ ہندو لیڈر شپ بانی پاکستان قائد اعظم8 محمد علی جناح ؒ کے دو قومی نظریہ کے بیانیہ سے جمہوری طور پر شکست کھانے کے بعد بھی اپنے اصل عزاہم سے باز نہیںآئے۔ہندوؤں کے لیڈرموہن داس کرم چند مہاتماگاندھی صاحب نے تحریک آزادی ہند کے دوران اپنے خدشہ کااظہار اس طریقہ سے کیا تھا۔’’میں پاکستان بن جانے کے خوف میں مبتلا نہیں ہوں ۔ میں اس دن سے خوف کھا رہا ہوں جس دن پاکستان آزاد ہو کر مسلمانوں کے سمندر میں مل جائے گا اور ہم مسلمانوں کے سمندر سے مقابلہ کی پوزیشن میں نہیں ہونگے‘‘ ان ہی دنوں میں ہندوؤں کے دوسرے مرکزی لیڈروں کے بیان جو وہ دقتاًبوقتاً جاری کرتے رہے تھے، بھی تاریخ ہند وپاک کے صفحات پر موجود ہیں۔ ’’وہ کہتے رہے کہ جب جب دو قومی نظریہ ٹھنڈا ہوتا جائے گا مسلمان اورہندوواپس ایک قوم بن جائیں‘‘یعنی اکھنڈ بھارت بن جائے گا۔ یہ ہی ڈاکٹراین ہندو لیڈر شپ آج تک لے کر چل رہی ہے۔ قائد ؒ کے دو قومی بیانیہ کو پاکستانیوں کے دلوں سے زائل کرنے میں لگی رہی۔ قائد ؒ کے دو قومی نظریہ سے اختلاف رکھنے والے کانگرسی مسلمان لیڈر مولانا آزاد، جو بعد میں بھارت کے پہلے مسلمان صدر بھی بنے، اپنی کتاب’’ انڈیا ونز فریڈیم‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۲۵سالوں میں پاکستان ٹوٹ جائے گا۔بھارتی لیڈر ہر طرح سے پاکستان کو ختم کرنے کی سازشیں کرتے رہتے ہیں۔ اُنہیں بنگال میں قوم پرست شیخ مجب الرحمان ملا۔ جس نے قائد ؒ کے دو قومی نظریہ کے مقابلے میں بنگالی قومیت کی بنیاد پر مشرقی پاکستان کو بھارت کی فوج کشی کے ذریعے مغربی پاکستان سے علیحدہ کیا۔ کشمیر میں قوم پرست شیخ محمد عبداللہ ملا۔ جس نے تقسیم کے فارمولے اور دو قومی نظریہ کے خلاف کشمیریوں کو کشمیری قومیت کے زہر میں مبتلا کیا۔کشمیر پر بھارت کو قبضہ کرنے میں مدد کی جو آج بھی قابض ہے۔صوبہ سرحد میں قوم پرست سرحدی گاندھی عبدالغفار خان صاحب ملا۔ جس نے پشتونستان کا نعرہ بلند کیا۔ مگر سرحد کے غیور مسلمانوں نے قائد اعظم ؒ کے دو قومی نظریہ کا ساتھ دیتے ہوئے ریفرنڈم میں سرحدی گاندھی کو شکست فاش دی اور پاکستان میں شامل ہو گئے۔ عبدالغفار خان نے پاکستان بننے کے بعد بھی پشتونستان کا راگ آلاپنا شروع کیا۔ افغانستان میں قوم پرستوں سے مل کر سازشیں کرتا رہتارہا۔ اس کے بیٹے ولی خان صاحب نے افغانستان کے حکمران سردار داؤد کی قوم پرست حکومت کے دوران اپنے پشتون زلمے کو فوجی ٹرینیگ دلا کر پاکستان کو توڑنے کی کوشش کی۔مرحوم بھٹو صاحب نے ولی خان صاحب پر اسی لیے غداری کا مقدمہ قائم کیا تھا۔جسے بعد میں بھٹو دشمنی میں ضیا الحق نے ختم کیا تھا۔ اس کے بعداللہ کا کرنا کہ افغانستان میں طالبان کی اسلامی حکومت قائم ہوئی گئی تو پاکستان افغانستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان کی مغربی سرحد محفوظ ہو گئی۔ اب پھر بھارت اور امریکا کی مدد سے افغانستان میں قوم پرست غنی حکومت قائم ہے۔ جو بھارت اور امریک کہ شہ پر پاکستان پر دہشت گردانہ حملے کرتی رہتی ہے۔پاکستان ،بھارت اور افغانستان کی یہ تاریخ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کے عوام کو یہ باور کرایا جائے کہ پاکستان صرف اور صرف اس کے بانی قائدؒ کے دو قومی نظریہ کی بنیاد پر قائم و وائم رہ سکتا ہے۔ بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے۔ وہ اس کو سیکورلزم اور قومیں اوطان سے بنتی ہیں کے نظریہ کے تحت فریب دے کر اور برصغیر کے مسلمانوں کو محکوم رکھ کر اکھنڈ بھارت بنانا چاہتا ہے۔ اس طرح وہ برصغیر کے مسلمانوں سے ایک ہزار سالہ دورحکمرانی کا بدلہ بھی لینا چاہتا ہے۔ اس کی جلک جب بھارت نے مشرقی پاکستان کومغربی پاکستان سے بزور قوت، غدارِ پاکستان شیخ مجیب الرحمان کی مدد سے علیحدہ کیا تھا۔ اس وقت بھارت کی وزیر اعظم نے دکھائی تھی۔ اس نے کہا تھا کہ میں نے’’ قائد اعظم ؒ کا دوقومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈ دبا دیا ہے۔ میں نے مسلمانوں سے ایک ہزار سالہ حکمرانی کا بدلہ بھی لے لیا ہے‘‘۔ پاکستان کو ودقو قومی نظریہ سے ہٹانے والے ،پاکستان کے خلاف گریٹ گیم کے تینوں کردار، بھارت، امریکا اور اسرائیل بھی شامل ہے۔ یہ تینوں ،اسلامی اور ایٹمی پاکستان کو ایک نظر نہیں برداشت کرنا چاہتے۔ اس وقت صرف پاکستانی قوم اور پاکستانی فوج اسلامی اور ایٹمی پاکستان کی محافظ ہے۔دیکھا جائے تو پاکستان کے قریب قریب سارے حکمران غلطی پر غلطیا ں کرتے رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی دو قومی نظریہ کی بجائے ایک سیکولر جماعت رہی ہے۔ذولفقار علی بھٹو صاحب اوربے نظیر صاحبہ سیکولر اور روشن خیال تھے۔ دونوں نے دوقومی نظریہ کو تقویت نہیں پہنچائی۔ آصف علی زرداری صاحب کرپشن کے بادشاہ مشہور ہوئے۔ان کی دور میں فوج کے خلاف میمو گیٹ کی سازش ہوئی۔ نا اہل وزیر اعظم نواز شریف نے قائد اعظم ؒ کے دوقومی نظریہ کی مخالفت میں اعلانیہ بیان دیا۔ کہتے رہے کہ میں سیکولر ہوں۔ کہتے ہیں’’ہندؤ اور مسلمان ایک خدا کو ہی مانتے ہیں۔ ان کی تہذیب ایک، ان کا تمدن ایک ، ان کی ثقافت ایک، ان کا رہنا سہنا ایک جیسا۔ ایک جیسا کھاتے پیتے ہیں۔ بس ایک لکیر نے ان کو آپس میں جدا کیا ہوا ہے‘‘ کیا یہ اکھنڈ بھارت کی تعبیر ہے کہ نہیں؟صاحبو! اسد دورانی اور اس کے ہم منصب دولت کی مشترکہ کتاب ’’جاسوس کی سرگزشت‘‘ہو یا اس سے قبل سابق بیروکریٹ عائشہ صدیقی کی کتاب ’’خاکی کمپنی‘‘ کتاب ہو ،یا غدار وطن حسین حقانی کی کتاب’’پاکستان ملاؤں اور فوج کے درمیان‘‘ یا ریحام خان کی آنے والی کتاب ہو یا اور بہت سے کتابیں جو پاکستان کی اسلامی تعلیمات پر مبنی ماٹو ، ایمان،اتحاد اور یقین والی بہادر فوج کے خلاف لکھی گئیں ہوں۔ یہ سب ایک ہی سلسلہ کی کڑی ہیں کہ کسی طرح پاکستان کو اس کے اصلی راستے، دو قومی نظریہ سے ہٹا کر ہندوؤں کے تحریک آزادی ہند کے دوران بیان کیے گئے، سیکولرزم اور قومیں اوطان سے بنتی ہیں کے فلسفے پر ڈالا جائے ۔تا کہ پاکستان کا دو قومی نظریہ اور اسلامی تشخص ختم ہو جائے وہ اپنا وجود قائم نہ رکھ سکے۔ یہ بھی ایک حقیقت کہ قائدؒ اور لیاقت علی خانؒ کے بعد سیاست دان تو دوقومی نظریہ کی حفاظت نہیں کر سکے۔اس میں صرف دینی پارٹیاں اورہماری بہادر فوج رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ اسی لیے غدرو وطن حسین حقانی نے ’’ پاکستان ملاؤں اور فوج کے درمیان‘‘ لکھی ہے۔ فوج پر ہر طرف سے حملے ہو رہے ہیں۔بہت پہلے یورپ میں روگ فوج کا پروپگینڈا ہو،غدارِ پاکستان الطاف حسین کا آئی ایس آئی کو ختم کرنے کا برطانیہ کے وزیر اعظم کو خط ہو، میمو گیٹ ہو یا اب اسی کا تسلسل نا اہل وزیر اعظم نواز شریف کا کھلے عام فوج کے خلاف بیانات ہوں۔ پاکستانی عوام، محب وطن سیاسی اور دینی جماعتیں اپنی بہادر فوج کے ساتھ ہیں۔ جب تک مثل مدینہ مملکت اسلامیہ کے عوام اور فوج یک جان و یک دل رہیں گے۔ کوئی سازشی کتاب ہماری بہادر فوج کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتی۔ پاکستان کی بہادر مسلح افواج زندہ باد پاکستان پائندہ باد۔ اللہ! مثل مدینہ مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان پاکستان کی حفاظت فرمائیں۔ آمین۔

اللہ پاک ارض پاک کو اپنے حفظ وامان میں رکھے

Naghma habib

پاکستان میں چند عجیب رواجوں میں سے ایک رواج یہ بھی ہے کہ فوج کو بُرا بھلا کہو اور اِس کے بجٹ پرتنقید کرو۔کچھ ایسےبھی ہیں جو یہکہتے سنے جاتے ہیں کہ عوام بھوکے ہیں تو اٹیم بم کی کیا ضرورت ہے یعنی ایک تو بھوکے ہوں اوردوسرے گدھوں کے آگے ڈال دیے جائیں جی ہاں اگر یہ بم ہمارے پاس نہ ہوتا تو اب تک ہمارے ملک میں دہشت گردی کروانے والے اور اب ففتھ جنریشن وار شروع کروانے والے کب کا ہم پر حملہ کر چکے ہوتے اور یہ بھی ظاہر ہے جدید ٹیگنا لوجی کے آگے صرف جذبہ تو نہیں چل سکتا کیونکہ جذبوں کو بھی بروئے کار لانے کے لیے آخر کسی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ کوئی طاقتورقوم کسی کمزور قوم کو یوں کچلتی نہیں جیسے امریکہ نے افغانستان اور عراق کو کچلااور یہی طاقت ہی ہے کہ دنیا کے نقشے پر ایک نکتے جتنا اسرائیل پورے عالم اسلام کے لیے دردسربنا ہوا ہے۔ پاکستان اپنے قیام سے ہی ایسے مسائل سے دوچار ہے کہ اگر اس نے اپنے دفاع پر توجہ نہ دی تو اس کے وجود کو لاحق خطرات سے کسی کو انکار ممکن نہیں۔اس کی سرحد پر کسی شکاری کی طرح تاک میں بیٹھا اس کا پڑوسی کسی بھی وقت اس پر حملہ آور ہو سکتا ہے۔اس نے ماضی میں کئی بار ایسا کیا بھی ہے۔1948میں ایک نوزائید ہ مملکت پر چڑھائی، 1965میں رات کی تاریکی میں پاکستان کے قلب یعنی لاہور پر حملہ آور ہونا اور 1971میں طویل فاصلے کا فائدہ اٹھا کر ملک کے مشرقی حصے پر چڑھ دوڑنایہ اس کی بد خوہی اور بد نیتی کی زندہ مثالیں ہیں جو تاریخ کے صفحات پر اسکے منہ پر ملی ہوئی وہ کا لک ہے جو کبھی اتر نہ سکے گی۔اب ایک ایسے دشمن کے مقابلے کے لیے ظاہر ہے خود کو ہر دم تیار رکھنا ہی دانشمندی ہے اور یہ تیاری بھی اُس کی ٹکرکی ہو وہ ہم سے تین گنا بڑا ملک اور پانچ گنا بڑی آبادی ہے لہٰذاہمیں اپنے حساب سے بڑھ کر اُس کے حساب سے اپنی تیاری رکھنا ہوگی۔بھارت نے اپنی آزادی کے وقت سے ہی اپنی تمام ترقوتیں اور تمام وسائل اپنی جنگی قوت بڑھانے میں صرف کیے اپنے اسلحے کے ڈھیر بڑھاتا رہا اُس مئی نے 1974میں پہلی بار ایٹمی تجربے کئے اور اپنی اس صلاحیت کو مسلسل بہتر بناتا رہا اور مئی 1998میں اُس نے ایٹمی ہتھیاروں کے تین تجربات کیے اور ساتھ ہی اُس لہجہ بدل گیا اور اُس نے پاکستان کے بارے میں دھمکی آمیز زبان استعمال کرنا شروع کردی۔ بھارت کے دھماکوں کے بعد پاکستان کے لیے یہ ناگزیر ہو گیا کہ وہ بھی خود کو دشمن کی صلاحیت کی سطح پر لائے اور اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ سکے اور اپنی طرف بُری نظر سے دیکھنے والی آنکھ کو پھوڑ سکے اُس وقت پوری قوم متحد ہو گئی اور بیک آواز یہ مطالبہ سامنے آیا کہ اگر ہمارے پاس ایٹمی صلاحیت ہے تو ہمیں بھی اُسے کھل کر سامنے لانا چاہیے تاکہ دشمن کو اُسی کی زبان میں جواب دیا جا سکے اور حکومت کو ظاہر ہے پاکستان کے بچاؤ کے لیے ایسا کرنا تھا لہٰذا 28مئی 1998کو پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کر دیا اور پاکستان دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی قوت بن گیا۔ دنیا ابھی تک اس خوش فہمی میں تھی کہ پاکستان بھارت کو جواب نہیں دے سکے گا لیکن پاکستان نے ایسا کر لیا تھا اور ایسا کرنے پر اسے بے تحا شا پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن اپنی بقا ء کے لیے قوم نے ان پابندیوں کو بھی برداشت کیااور آج وہ ایک سر خرو قوم کی حیثیت سے زندہ ہے۔پاکستان کے عوام آج بھی اس دن کو فخر سے اپنی قوت اور طاقت کے نشان کے طور پر مناتے ہیں لیکن دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اب بھی ایسے لوگ اس ملک میں موجود ہیں جو اپنی ہی قوت پر تنقید کرتے ہیں اور جیسا کہ میں نے شروع میں لکھا کہ دفاعی بجٹ پر اعتراض کرتے ہیں اور خاص کر اپنے ایٹم بم کے اتنے خلاف ہیں کہ اتنا وہ بھارتی بم کے خلاف نہیں، اسی بھارتی بم کے جو کہ خاص کر خدا نخواستہ پاکستان کو نشانہ بنا نے کے لیے بنا یا گیا ہے۔ وہ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ وہ خود بھی پاکستان میں رہتے ہیں اور ان کے بزرگوں کی ہڈیاں بھی یہیں پر محفوظ ہیں لہذ انہیں کا خیال کر لیں۔ پاکستانی بم کے خلاف بولنے والوں میں بلوچ قوم پرست جما عتیں پیش پیش رہتی ہیں مجھے اعتراض’’ قوم پرست‘‘ کی اصطلاح پر بھی ہے قوم تو ایک پاکستانی قوم ہے اور یہ لوگ اسی قوم کے خلاف ہیں تو پھر کیسی قوم پرستی بہرحال اس جملہ ء معترضہ کو ذہن میں رکھیے اور یہ بھی سوچیے کہ آخر یہ گمراہ بلوچ جو محب وطن بلوچوں کی اکثریت کو بھی بدنام کر رہے ہیں یہ پاکستانی بم کے خلاف کیوں ہیں کیا اس لیے کہ ان کا آقا جس کے یہ تنخواہ دار ہیں اس کے خلاف ہے۔یہ گمراہ بلوچوں کا چھوٹا ساگروہ اس 28مئی کوجسے قوم یوم تکبیر کے طور پر مناتی ہے وہ اسے یوم سیاہ کہتی ہے کیا یہ اُن کے سیاہ ارادوں ،نیتوں اور شیطانی منصوبوں کی عکاسی نہیں ہے۔یہ چند بلوچ سردار جو اپنی سرداری قائم رکھنے کے لیے اپنے عوام کی تعلیم اور ترقی کے خلاف ہیں ان کے لیے سہولتوں کے حصول کے لیے کبھی انہوں نے کوشش نہیں کی جب کہ خود یہ ولایت کے پڑھے اور یورپ کے بڑھے ہوئے ہوتے ہیں پھر اپنی محرومیوں کے لیے دوسروں کو موردِ الزاام ٹھہراتے ہیں اور ملک کے خلاف تحریکیں چلاتے ہیں اپنے ہی صوبے میں ہونے والی ترقی کو بموں سے اڑاتے ہیں اپنے ہی لوگوں کو دھماکوں میں اڑاتے ہیں ان سے یہی توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی ملک کے فخر کی یوں تضحیک کریں اور وہ یہ کر رہے ہیں آج یوم تکبیر کے حوالے سے لکھتے ہوئے ان تنظیموں اور گروہوں کا ذکر اس لیے ضروری تھا تا کہ عوام کو ان کے ایجنڈے کی خبر ہو لیکن بات وہی ہے ان چند لوگوں کے جو بھی خیالات ہوں قوم یہی سمجھتی ہے کہ اسی ایٹم بم نے خطے میں طاقت کا توازن بر قرار رکھا ہوا ہے اور اسی توازن نے ہمیں محفوظ بھی رکھا ہوا ہے ورنہ تو ہمارا دشمن چالاک بھی ہے شقی القلب بھی اور عاقبت نااندیش بھی اُس سے ابھی تک کسی انتہائی اقدام کی توقع کی جا سکتی تھی پاکستان اگر آج اللہ تعالیٰ کے محفوظ ہے تو اسی قوت کی وجہ سے جس کا نام پاکستانی ایٹم بم ہے اور یہی بم ہی ہے جس نے بھارت کو نکیل ڈالی ہوئی ہے اور اسے اپنی اوقات میں رکھا ہوا ہے۔

آپریشن بلیو سٹار ، سکھ نسل کشی اور ۔۔۔

asgher ali shad

لگتا یہی ہے کہ آر ایس ایس نے ذہنی طور پر سکھوں کو کبھی قبول نہیں کیا۔ تبھی تو دو روز قبل بھارتی ریاست میگھالے کی راجدھانی ’’شلانگ‘‘ میںیکم جون کو ایک سکھ لڑکی کی بے حرمتی کے بعد سکھ کش فسادات پھوٹ پڑے تھے ۔ مبصرین نے آپریشن بلیو سٹار سے عین دو روز قبل ان فسادات کی ٹائمنگ کو اہم قرار دیتے کہا ہے کہ اسے محض سرسری واقعہ قرار دینا نامناسب ہو گا کیونکہ آر ایس ایس کے موجودہ چیف موہن بھاگوت کچھ ہفتے قبل مظفر پور میں کہہ چکے ہیں کہ آر ایس ایس بھارت سے غیر ہندوؤں کے خاتمے کے لئے تین دن سے ایک ہفتے کے اندر لاکھوں’’ سویم سیوکوں‘‘ کی ایسی فوج تیار کر سکتی ہے جو ایک اشارے پر کچھ بھی کر سکتی ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ بھارتی فوج کو ایک جوان تیار کرنے میں 6 سے 7 ماہ لگ جاتے ہیں لیکن آر ایس ایس کی لاکھوں کی فوج چند روزکے اندر اکھنڈ بھارت اور رام راجیے کے قیام کا کام پورا کر سکتی ہے۔ یاد رہے کہ بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے سکھ کش فسادات پر شدید تشویش ظاہر کرتے میگھالے کے وزیراعلیٰ کونراڈ سنگما کو فون کیا اور ان فسادات کی فی الفور روک تھام کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم بھی میگھالے بھجوا دی ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ یکم جون کی صبح شروع ہوئے ان فسادات کے بعد علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ انٹرنیٹ اور موبائیل سروسز بند کر دی گئیں۔ اس دوران بھارتی فوج کی بھاری نفری صورتحال کو قابو کرنے میں مصروف رہی۔ بھارتی کثیر الاشاعت ہندی روزنامے دینک بھاسکر کے مطابق تین جون کو کرفیو میں تھوڑی نرمی کی ہی گئی تھی کہ فسادات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا اور جنونی ہندو گروہوں نے سکھوں کے خلاف اشتعال انگیزی شروع کر دی۔ اس دوران بھارتی فوج نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا۔ واضح رہے کہ میگھالہ شمال مشرقی بھارتی صوبہ ہے۔واضح ہو اس کی سرحدیں بنگلہ دیشی اضلاع (سابقہ مشرقی پاکستان) میمن سنگھ، رنگپور اور سہلٹ سے اور بھارتی ریاست آسام سے متصل ہیں۔ اس کی راجدھانی شلانگ ، آبادی تقریباً بتیس لاکھ اور رقبہ 22,429 مربع کلومیٹرہے۔ دوسری جانب برطانیہ میں رہنے والے سکھوں کی بہت بھاری تعداد نے سانحہ گولڈن ٹیمپل کی 34ویں برسی کے موقع پر احتجاج کیا اور بھارت کی ریاستی دہشتگردی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ’’بھارت مردہ باد‘‘ اور ’’خالصتان زندہ باد‘‘ کے نعرے لگائے۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ بھارت میں بر سراقتدار آر ایس ایس نے سکھ نسل کشی کا سلسلہ عرصہ دراز سے کسی نہ کسی شکل میں شروع کر رکھا ہے ۔اقلیتوں کے خلاف بھارتی ریاستی دہشتگردی کی ایک طویل تاریخ ہے جس میں جون 1984 کے پہلے ہفتے کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے جب مسز اندرا گاندھی کے دور میں بھارتی فوج نے34 سال قبل تین سے آٹھ جون تک سکھوں کے متبرک مقام ’’ گولڈن ٹیمپل ‘‘ کی حرمت کو بری طرح پامال کیا اور محض ایک ہفتے کے اندر ہزاروں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ آپریشن بلیو سٹار کے نام سے انڈین آرمی کی اس سفاکانہ مہم میں سنت جرنیل سنگھ’’ بھنڈرانوالہ‘‘ سمیت بہت سے سکھ رہنما ہلاک کر دیئے گئے ۔ امرتسر میں واقع ’’ گولڈن ٹیمپل ‘‘ اور ’’ دربار صاحب ‘‘ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی اور بھارت سے علیحدگی کے خواہشمند سکھوں پر اتنے غیر انسانی مظالم ڈھائے گئے جن کی مثال اس سے پہلے کی انسانی تاریخ میں بہت کم ملتی ہے ۔ اس کے نتیجے میں بھارتی سکھوں میں دہلی سرکار کے خلاف نفرت کے جذبات اتنی شدت اختیار کر گئے کہ انڈین آرمی کی بہت سی سکھ یونٹوں نے اجتماعی طور پر بغاوت کر دی مگر بھارتی حکمرانوں نے اپنی بے پناہ فوجی قوت کے بل بوتے پر سکھ قوم کی اس مزاحمت کو وقتی طور پر تو کچل دیا ۔ مگر سکھ عوام و خواص میں دہلی کے مرکزی اقتدار کے خلاف نفرت اس قدر شدید تھی کہ محض چار ماہ بعد ہی یعنی 31 اکتوبر 1984 کو انڈین وزیر اعظم اندرا گاندھی اپنے دو سکھ محافظوں ’’ ستونت سنگھ ‘‘ اور ’’ بے انت سنگھ ‘‘ کے ہاتھوں قتل ہو گئیں ۔ اندرا گاندھی کے قتل کے فوراً بعد پورے بھارت میں بالعموم اور دہلی میں بالخصوص سکھ قوم کے خلاف اونچی ذات کے ہندوؤں نے ایک قیامت برپا کر دی اور صرف تین دن کے اندر چھ ہزار سے زیادہ سکھ خواتین اور بچوں کو تہ تیغ کر دیا گیا ۔ اس صورتحال کا افسوس ناک پہلو یہ بھی تھا کہ اس وقت کے مرکزی وزراء ’’ جگدیش ٹائٹلر ‘‘ ، ’’ ایچ کے ایل بھگت ‘‘ اور ’’ سجن کمار ‘‘ سمیت بہت سے حکومتی رہنماؤں نے بذاتِ خود سکھوں کی نسل کشی کے عمل میں حصہ لیا اور پورے بھارت میں سکھوں کی جان و مال اس قدر غیر محفوظ ہو گئیں کہ ’’خشونت سنگھ ‘‘ اور جنرل ’’ جگجیت سنگھ اروڑا ‘‘ (جو سانحہ مشرقی پاکستان میں انڈین آرمی کی ایسٹرن کمانڈ کے سربراہ تھے ) کی سطح کے سکھوں کو بھی اپنی جان بچانے کے لئے ایک غیر ملکی سفارت خانے میں پناہ لینی پڑی مگر مسز گاندھی کے جانشین اور بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی نے ان ہزاروں سکھ خواتین اور بچوں کے قتلِ عام کو جائز ٹھہراتے یہاں تک کہا کہ جب کسی بڑے درخت کو کاٹ کر گرایا جاتا ہے تو اس کی دھمک سے ارد گرد کی زمین میں کچھ تو ارتعاش پیدا ہوتا ہی ہے اور درخت کی زد میں آنے والی گھاس پھوس ختم ہو جاتی ہے ۔ اس حوالے سے یہ امر بھی اہم ہے کہ آپریشن بلیو سٹار کے وقت انڈین آرمی چیف ’’ جنرل اے ایس ویدیا ‘‘ جو 31 جولائی 1983 تا 31 جنوری 1986 انڈین آرمی کے تیرھویں آرمی چیف کے طور پر کام کرتے رہے ، وہ دس اگست 1986 کوؤ دو سکھ نوجوانوں کے ہاتھوں قتل ہو گئے ۔ علاوہ ازیں بلیو سٹار آپریشن کی کمانڈ کرنے والے ’’لیفٹیننٹ جنرل ’’ کلدیپ سنگھ براڑ ‘‘ اور ان کی اہلیہ پر 30 دسمبر 2012 کو لندن میں قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ شدید زخمی ہوئے ۔ اس امر کا تذکرہ بھی بے جا نہ ہو گا کہ دنیا بھر میں رہنے والے سکھوں نے اس بھارتی بربریت کو فراموش نہیں کیا اسی وجہ سے وہ بھارت سرکار کے خلاف انتہائی منظم انداز میں مہم چلا رہے ہیں ۔ مریکہ میں قائم سکھ حقوق کی تنظیم ’’ Sikhs For Justice‘‘ نے 31 اکتوبر 2013 کو مسز گاندھی کے قتل کی برسی کے موقع پر دس لاکھ سکھوں کے دستخطوں پر مبنی رٹ پٹیشن اقوامِ متحدہ کے ادارے UNHRC ( یونائیٹڈ نیشن ہیومن رائٹس کونسل ) میں داخل کرائی جس میں اس عالمی ادارے سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھارتی حکومت کے ہاتھوں ہونے والے سکھوں کے قتلِ عام کو عالمی سطح پر سکھوں کی نسل کشی ڈکلیئر کیا جائے اور اس انسانی المیے کے ذمہ دار بھارتی رہنماؤں کو خصوصی ٹربیونلز قائم کر کے قانون و انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے ۔ علاوہ ازیں 6 جون 2014 کو اسی سکھ تنظیم نے عالمی سطح پر انٹر نیٹ کے ذریعے دنیا بھر میں بسنے والے سکھوں کے دستخط حاصل کرنے کے لئے ایک مہم چلا رکھی ہے جس کو سکھ ریفرنڈم 2020 کا عنوان دیا گیا ہے ۔ اس کے مطابق 2020 میں بھارت کے باہر بسنے والے 50 لاکھ سکھ ایک ریفرنڈم کے ذریعے اس امر کا فیصلہ کریں گے کہ بھارت کے زیر قبضہ پنجاب کو بھارت سے آزادی حاصل کر لینی چاہیے یا بھارتی غلامی کو ہی اپنا مقدر سمجھنا چاہیے ۔ اس تمام صورتحال کا جائزہ لیتے انسان دوست حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ اسے اس خطے کی بد قسمتی ہی قرار دیا جانا چاہیے کہ ہندوستانی حکمرانوں نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور اپنے ماضی کے مظالم پر نادم ہونے کی بجائے انھوں نے اپنے یہاں بسنے والی مذہبی اور لسانی اقلیتوں کے ساتھ ساتھ اپنے پڑوسی ممالک کا جینا بھی محال کر رکھا ہے۔

*****

ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل، الیکشن شیڈول جاری

adaria

سپریم کورٹ نے کاغذات نامزدگی کالعدم قرار دینے سے متعلق لاہورہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے کہا ہے کہ عام انتخابات 25 جولائی کو ہی ہونگے، لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کاغذات نامزدگی سے متعلق لاہورہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سردار ایاز صادق اور الیکشن کمیشن کی اپیلوں کی سماعت کی۔ ایاز صادق کے وکلا نے چیف جسٹس سے استدعا کی کہ کاغذات نامزدگی کالعدم قرار دینے کا لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ منسوخ کیا جائے، یہ انتخابات کے بروقت انعقاد کا معاملہ ہے، ہائی کورٹ کے فیصلے سے انتخابات میں تاخیر ہوگی۔ الیکشن کمیشن نے اپیل میں موقف اختیار کیا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں تضاد پایا جاتا ہے اور فیصلے سے انتخابات کا شیڈول متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اگر نامزدگی فارم کا اجرا جلد شروع نہ کیا گیا تو انتخابات تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں۔سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن اور ایاز صادق کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ انتخابات 25 جولائی کو ہی ہوں گے، اگر الیکشن میں تاخیر ہوئی تو الیکشن کمیشن آف پاکستان ذاتی طور پر اس کا ذمہ دار ہوگا۔ یکم جون کو لاہور ہائی کورٹ نے آئینی ماہر سعد رسول کی درخواست پر پارلیمنٹ کے تیار کردہ کاغذاتِ نامزدگی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو نئے کاغذات نامزدگی تیار کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ نئے کاغذات نامزدگی میں آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تقاضے دوبارہ شامل کئے جائیں۔الیکشن کمیشن اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایازصادق نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے گزشتہ روز سپریم کورٹ میں رجوع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایازصادق کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدام سے انتخابات کے بروقت انعقاد میں تاخیر کا اندیشہ ہے۔ دوسری طرف سپریم کور ٹ کی جانب سے کاغذات نامزدگی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کئے جانے کے بعد الیکشن کمیشن نے عام انتخابات 2018کانظر ثانی شدہ شیڈول جاری کر دیا جس کے مطابق کاغذات نامزدگی 4سے 8جون تک جمع کرائے جائیں گے جبکہ امیدواروں کے ناموں کی فہرست بھی 8 جون کو شائع کی جائے گی ، الیکشن کمیشن کی جانب سے باقی شیڈول میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ، جس کے بعد کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 14جون تک کی جائے گی ، امیدوار ریٹرنگ افسران کے فیصلوں کے خلاف 19جون تک اپیلیں دائر کر سکیں گے جبکہ ایپلٹ ٹربیونل کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں 26جون تک نمٹائی جائیں گی ،امیدواروں کی حتمی فہرست 27جون کو شائع کی جائے گی جبکہ 28جولائی تک امیدوار اپنے نام واپس لے سکتے ہیں جبکہ 29جون کو امیدواروں کو انتخابی نشان الاٹ کئے جائیں گے ، جبکہ پولنگ 25جولائی کو ہی ہو گی ۔نگران وزیراعظم جسٹس (ر)ناصر الملک نے کہا ہے کہ میں صرف 2 ماہ کے لیے آیا ہوں،یقین دلاتا ہوں کہ انتخابات 25 جولائی کو ہی ہوں گے،ملک میں تمام کام صرف آئین کے مطابق ہوں گے، اپنے اختیارات کے مطابق لوگوں کی خدمت کروں گا۔ کاغذات نامزدگی کالعدم قرار دینے کا فیصلہ الیکشن کے بروقت انعقاد کا باعث قرار پائے گا،سیاسی منظر نامہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار تھا لیکن سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے غیر یقینی صورتحال کو ختم کردیا ہے اب الیکشن اپنے مقررہ وقت پر ہونگے، حکومت اور الیکشن کمیشن کی یہ ذمہ داری قرار پاتی ہے کہ ہے کہ وہ پرامن انتخابات کے ساتھ ساتھ انتخابی عمل میں شفافیت کو بھی یقینی بنائیں تاکہ ماضی کی طرح دھاندلی کی گردان اس بار نہ دہرائی جائے، سیاسی جماعتوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے اپنے منشور کا پرچارکریں، ایک دوسرے پر تنقید برائے تنقید اور الزام تراشی سے گریز کریں، الیکشن کا انعقاد نگران حکومت کی اولین ترجیح ہے امید ہے کہ وہ اس مشن کو کماحقہ پورا کرنے میں کامیاب قرار پائے گی۔ انتخابات کا عمل ہی جمہوریت کیلئے نیک شگون قرار پاتا ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی سکروٹنی ایف آئی اے ، نیب، ایف بی آر، اسٹیٹ بنک سے کرائی جائے گی، چار ٹیموں پر مشتمل 36 رکنی سنٹرل سکروٹنی سیل تشکیل دیا جائے گا، امیدواروں کی دوہری شہریت، قرضے، ڈیفالٹر، انکم ٹیکس کی معلومات اکٹھی کرے گا۔الیکشن کمیشن کا یہ اقدام اہل امیدواروں کو آگے لانے میں ممدومعاون ثابت ہوگا اور کرپٹ امیدواروں کا راستہ رک پائے گا یہی وقت کی ضرورت اور تقاضا ہے ، الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ دوررس نتائج کاحامل قرار پائے گا اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔شفاف الیکشن ہی الیکشن کمیشن کیلئے ستائش کا باعث قرار پائیں گے۔
افغان سرحد سے دہشت گردی
افغان سرحد سے پاکستان میں کی جانے والی دہشت گردی دونوں ملکوں کیلئے جہاں تعلقات کو خراب کرنے کا باعث بن رہی ہے وہاں خطے کے امن کیلئے خطرات بڑھنے کا بھی ذریعہ بن رہی ہے ۔ گزشتہ روز افغان سرحد سے دہشت گردوں نے خیبرپختونخوا کے علاقے باجوڑ اور بلوچستان میں قمر دین کاریز میں سرحدی چوکیوں اور باڑ لگانے والے فوجی جوانوں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایف سی کے 4 اور پاک فضائیہ کا ایک جوان زخمی ہوگیا۔سرحد پار سے باجوڑ میں 24 گھنٹوں کے دوران 7 حملے کئے گئے، سیکیورٹی فورسز نے باڑ کی تنصیب اور سرحدی چوکیوں کے قیام سے روکنے کی دہشت گردوں کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ جوابی فائرنگ کے نتیجے میں 6 دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔دہشت گرد افغانستان میں حکومتی عملداری نہ ہونے کا فائدہ اٹھا کر پاکستان پر حملے کر رہے ہیں لیکن پاکستان تمام چیلنجز کے باوجود سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے باڑ کی تنصیب اور سرحدی چوکیوں کے قیام کا کام جاری رکھے گا۔ پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کا استعمال ہونا لمحہ فکریہ ہے ، پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک تواتر سے برسرپیکار ہے اور پاک فوج دن رات دہشت گردوں کی بیخ کنی کیلئے کوشاں ہے، لیکن افغان علاقے سے دہشت گردانہ کارروائیاں پاکستان کیلئے پریشان کن ہیں، پاکستان کئی بار افغان حکومت سے احتجاج ریکارڈ کرواچکا ہے لیکن توجہ طلب امر یہ ہے کہ تاحال افغانستان کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہورہی ہے، افغانستان میں دہشت گردوں کی آماجگاہیں خطے کے امن کیلئے خطرہ ہیں، دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں ان کا کوئی دین نہیں، معصوم شہریوں کو بموں اور دھماکوں سے اڑانا ان کا مشن ہے لیکن یہ اپنے مذموم عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوپائیں گے، کیونکہ پاک فوج دہشت گردی کیخلاف پرعزم ہے اس طرح کی کارروائیاں پاک فوج کو متزلزل نہیں کرسکتیں، پاک فوج کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ وہ ایک طرف سرحدی کی حفاظت کررہی ہے تو دوسری طرف دہشت گردی کی روک تھام میں کوشاں ہے ، دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے، افغان حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے دے تاکہ خطے کا امن بحال رہے ، افغان حدود سے پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، پاکستان باڑ کی تنصیب اور سرحدی چوکیوں کے قیام کا کام جاری رکھے گا کیونکہ اس کے بغیر دہشت گردی کی روک تھام ناممکن ہے۔

’ خالصتان تحریک‘ ایک مرتبہ پھر عروج پر

نام نہاد امن کے علمبردار اور عوامی حقوق کے غاصب بھارت میں متعدد آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ عوام کو بنیادی حقوق دینے کے بجائے کچلنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا بھارت میں ایک بار پھر خالصتان تحریک آج کل عروج پر ہے۔کشمیر ہو یا آسام اور یا پھر خالصتان بھارت کسی کو بھی حقوق دینے کو تیار نہیں ہے۔ اب دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے جھوٹے دعویدار کو کون سمجھائے کہ عوام کو ان کے حقوق دینے سے مسائل حل ہوتے ہیں، ان کی جان لینے سے نہیں ۔ بھارت میں جہاں ایک طرف کشمیر کے مسلمان بھارتی ظلم اور تشدد کا شکار ہیں تو وہیں ان مظالم سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے آسام اور خالصتان کی آزادی کی تحریکیں بھی چل رہی ہیں۔ تحریک خالصتان سکھ قوم کی بھارتی پنجاب کو بھارت سے الگ کرکے آزاد سکھ ملک بنانے کی تحریک ہے۔ سکھ زیادہ تر بھارتی پنجاب میں آباد ہیں اور امرتسر میں ان کا صدر مقام ہے۔ 1980ء کی دہائی میں خالصتان کے حصول کی تحریک زوروں پر تھی جس کو بیرون ملک مقیم سکھوں کی مالی اور اخلاقی امداد حاصل تھی۔ 1984ء میں اْس وقت کی بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کے حکم پر امرتسر میں واقع گولڈن ٹیمپل پر بھارتی پولیس سکھوں پر پل پڑی۔ 3 سے 8 جون تک ہونے والے’’ آپریشن بلیو سٹار’’ میں بھارتی فوج کے دس ہزار سورما، سیکڑوں سیکیورٹی گارڈز، پیراشوٹ رجمنٹ، توپ خانہ یونٹس کے اہلکاروں سمیت پولیس ریزرو پولیس 175 سے 200 سکھوں پر ٹوٹ پڑی۔ بھارتی فوج نے اس آپریشن میں بے رحمی اور سفاکی سے آزادی کا مطالبہ کرنے والوں کو کچل ڈالا۔ اس دوران ہزاروں شہری بھی بھارتی ظلم و بربریت کی بھینٹ چڑھ گئے۔سکھ لیڈروں کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں ہمارے لئے یہ بڑا اچھا سبق ہے۔ بھارت نے تقسیم کے وقت سکھوں کو سبزباغ دکھا کر اورجھوٹے وعدے کرکے اپنے ساتھ ملایا تاہم سکھوں کو بہت جلد احساس ہوگیا کہ پنڈت نہرو اور سردار پٹیل نے ان کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ کیاہے۔چنانچہ سکھ رہنما ماسٹر تارا سنگھ نے 28مارچ1953ء کو کہا:’’ انگریز چلا گیا لیکن ہم آزاد نہ ہوسکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ آزادی نہیں ، صرف آقا تبدیل ہوئے ہیں۔ پہلے سفید تھے اب کالے آگئے ہیں۔ جمہوریت اور سیکولرازم کا ڈھونگ رچا کر ہمارے پنتھ، ہماری آزادی اور ہمارے مذہب کو کچلا جا رہا ہے۔‘‘ دنیا جانتی ہے کہ اندراگاندھی نے اپنے دور میں آپریشن بلیوسٹار کے تحت سکھوں کے انتہائی مقدس مقام گولڈن ٹیمپل پر چڑھائی کی ، اس میں 10ہزارسکھ زائرین کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ جبکہ31اکتوبر 1984ء کو بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد اس وقت کی حکمران جماعت ’انڈین نیشنل کانگریس‘ نے سکھوں کی نسل کشی کی منظم مہم شروع کی گئی۔ اس مہم میں سکھوں کو جانی نقصان کا سامنا بھی ہوا، ان کے گھر بار تباہ وبرباد کردئیے گئے، ان کی جائیدادوں پر قبضے کئے گئے ، ان کی عبادت گاہوں پر حملے کئے گئے ۔ ہزاروں سکھ قتل کردئیے گئے۔ ایک اندازے کے مطابق اس مہم میں 30ہزار سے زائد سکھ قتل کئے گئے۔ان میں سے زیادہ تر بے بس تھے جن کو اپنے گھر والوں یا محلے والوں کے سامنے زندہ جلادیاگیا۔ مغربی ذرائع ابلاغ بھی سکھوں پر ہونے والے ظلم وستم پرخاموش نہ رہ سکے۔ شواہد موجود ہیں کہ سکھوں کے خلاف ڈیتھ سکواڈز کی قیادت وفاقی وزیر کمل ناتھ، ارکان پارلیمان سجن کمار، جگدیش ٹیٹلر، للت میکن، دھرم داس شاستری، ایچ کے ایل بھگت، ارون نہرو، ارجن سنگھ، حتیٰ کہ بالی ووڈ سٹار امیتابھ بچن کررہے تھے۔ اپنی ماں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد راجیو گاندھی نے سکھوں کی نسل کشی کی ان الفاظ کے ساتھ حمایت کی تھی کہ جب ایک بڑا درخت گرتاہے تو ساری زمین پر لرزہ ضرورطاری ہوتا ہے۔ بھارت میں سکھوں کو لگائے گئے زخموں پر مرہم نہیں رکھاگیا۔ آپریشن بلیوسٹار کو غلطی قرار دیاگیا لیکن اس غلطی کا مداوا نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد ہونے والے ’’فسادات‘‘ کیلئے بھی تحقیقاتی کمیشن قائم کئے گئے لیکن انھیں اختیارات حاصل نہیں تھے۔ اب بھارت کو زخم لگانے اور پھر ان پر نمک چھڑکنے کا خمیازہ بھگتنا ہی پڑے گا۔ خالصتان کے قیام کیلئے پنجاب کی آزادی کی مہم پوری دنیا میں پھیل رہی ہے ۔ زیادہ سے زیادہ سکھ اس تحریک کا حصہ بن رہے ہیں۔ سکھ ایک دوسرے کو ’ریفرنڈم 2020ء ‘ کا پیغام پھیلانے کیلئے بلا رہے ہیں۔ اس تحریک کے ذمہ داران کہتے ہیں کہ حق خودارادیت جس طرح ہر انسان کا قانونی حق ہے، اسی طرح سکھوں کا بھی حق ہے۔ سکھ قوم اس یقین کے ساتھ جدوجہد کررہی ہے کہ وہ 2020ء میں بہرصورت حق خود ارادیت حاصل کرے گی۔ 80ء اور90ء کے عشروں میں بھارتی حکومت کے ظلم و ستم سے تنگ آکر 90 فیصد سکھوں نے دنیا کے مختلف ممالک کا رخ کیاتھا، بعدازاں انھوں نے اپنے گھرانے کے دوسرے لوگوں کو بھی بلا لیا۔ وہ سکھ نوجوان بھی یہاں آگئے جنھیں بھارت میں بے روزگاری کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا جارہا تھا۔ چنانچہ وہ اپنی زمینیں اور جائیدادیں فروخت کرکے بیرون ملک مقیم ہوگئے۔ ظاہر ہے کہ ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں تھا۔ اب بیرون ملک مقیم یہ سکھ پورے جوش وخروش سے ’ریفرنڈم2020ء ‘ کیلئے تحریک چلارہے ہیں۔ خالصتانی تحریک کے ذمہ داران کا دعویٰ ہے کہ سکھ ازم دنیا کا پانچواں بڑا مذہب ہے۔ پوری دنیا میں اس کے ماننے والوں کی تعداد دوکروڑ 80 لاکھ ہے۔ دنیا میں اس قدر بڑی آبادی ہونے کے باوجود سکھوں کی تعداد بھارت کی آبادی کا محض 1.8فیصد ہے۔جن کا زیادہ تر حصہ پنجاب میں آباد ہے۔ خالصتان تحریک کے ذمہ داران اپنے وژن اور اہداف میں بہت واضح ہیں۔ انھوں نے خالصتان کا مکمل نقشہ تیار کرلیاہے ، اس کے قیام کے بعد ممکنہ چیلنجز کا بھی انھیں احساس ہے اور ان کا حل بھی سوچ لیاہے۔ انہیں احساس ہے کہ خالصتان چہار اطراف سے خشکی میں گھرا ہوا ایک ملک ہوگا۔ ممکنہ مملکت خالصتان کے ساتھ سمندر نہیں لگتا۔ ایسے میں اس کی معیشت کا کیاہوگا؟ خالصتانی ذمہ داران کاخیال ہے کہ پنجاب ایک مضبوط معیشت کا حامل ملک ہوگا۔ سمندرکا کنارا کامیاب ریاست کی ضمانت نہیں بن سکتا اور سمندر کا کنارا نہ لگنے کا مطلب یہ نہیں ہوتاکہ وہ ریاست ناکام ہوگی۔خالصتان کے قیام سے بھارت کا ریاست جموں و کشمیر پر قبضہ ازخود ختم ہوجائے گا کیونکہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان واحد راستہ خالصتان سے ہی گزرتا ہے۔ اس وقت ریاست جموں وکشمیر میں موجود سکھ تحریک آزادی کشمیر کی حمایت کررہے ہیں جبکہ ممکنہ مملکت خالصتان میں مسلمان خالصتان تحریک کا ساتھ دے رہے ہیں۔
*****

آؤ قوم کی آنکھ میں دھول جھونکیں. . . !!

مغرب کے لوگ دیتے ہیں جمہوریت پہ جان
اُن کی نظر میں ووٹ ہے طاقت عوام کی

اِسلام میں ہے حاکم ِ اعلیٰ خدا کی ذات
بنیاد ہے اِسی پہ وفا کے نظام کی
جبکہ ستر سال سے سرزمینِ پاکستان میں مُلک اور قوم سے بے وفا، عیار و مکار، لالچی اور قومی خزا نے کو لوٹ کھا نے اور آف شور کمپنیوں و اقامے والے مٹھی بھر اشرافیہ کا طبقہ اپنی مرضی کے کسی اور نظام حکومت پر چل رہا ہے آج جس نے نہ تو جمہور اور جمہوری ثمرات عوام تک پہنچائے ہیں اور نہ وطن عزیز میں اسلامی نظام حکومت کو ہی پوری طرح رائج کیا ہے۔
تاہم ہمارے طبقہ اشرافیہ نے تو جمہوری ثمرات عوام تک پہنچا نے کے بجائے اُلٹااِنہیں اپنی ذات اور اپنے دامن تک ہی محدود رکھاہواہے ۔جہاں تک پاکستان میں اسلامی نظامِ حکومت کا سوال ہے تو معاف کیجئے گا پاکستانی اشرافیہ کی نظر میں مُلک میں اسلامی نظامِ حکومت تو بس عیدین کی نمازوں کے اجتماعات اور عیدمیلاد البنی ﷺ اور یوم عاشورہ کے جلسے اور جلوسوں کی آزادی تک ہے ہمارا اشرافیہ اِسی کو ہی اسلامی نظامِ حکومت گردانتا ہے اور سمجھتاہے کہ بس یہی تو اسلامی نظامِ حکومت ہے۔ اِس کے علاوہ توکہیں بھی ایسا کچھ دِکھا ئی نہیں دیتاہے کہ یقیناًکے ساتھ یہ کہا جاسکے کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والے مملکتِ پاکستا ن میں پورا کا پورا اسلامی نظامِ حکومت قا ئم ہے۔یہ کسی سے ڈھکاچھپا نہیں ہے کہ لگ بھگ پونے صدی سے وطن عزیز پاکستا ن میں کیسا دونظامِ حکومت جمہوری اور اسلامی نظام چل رہاہے؟آج جس کا فائدہ امریکی پٹھو اشرافیہ کو ہی ہورہاہے تب ہی ماضی وحال کے باری لگا کر اقتدار حاصل کرنے والے امریکی عیارومکار ا ور اغیار کے پٹھوسیاست دانوں کی چوری اور سینہ زوری بے لگام ہے ۔ جنہوں نے مُلک میں لوٹ مار کی حد کردی ہے ۔

آج اپنے سیاست دانوں کی ضد اور ہٹ دھرمی سے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے مُلک اور قوم کی جمہوراور جمہوریت کی آڑ میں عوامی خدمات کے بہانے اپنی خدمات کرانے اور میگاپروجیکٹس پرپرسنٹیج اورکمیشن بنا نے والوں نے اقتدار کی کُرسی سے چمٹے رہنے کی قسم کھا لی ہے، اِسی لئے اپنے ذاتی اور سیاسی عزائم کی تکمیل کیلئے یہ جو چا ہئیں کرلیں،مگر کو ئی اِن سے کچھ نہ پوچھے ، جو اِنہیں پوچھے ، وہی جمہور اور جمہوریت کا بڑا دُشمن اور نادیدہ قوتوں و خلا ئی مخلوق کا آلہ کار ہے۔
افسوس کی بات یہاں یہ ہے کہ جو کل تک الیکشن فارم میں ترمیم کرکے متوقع الیکشن2018 ء میں ایوانوں کو کرپٹ عناصر سے پاک رکھنے کے عزم پر قا ئم تھے آج ایک مرتبہ پھر مُلک میں ظاہر اور با طن بڑے چھوٹے کرپٹ سیاستدان اپنی کرپشن چھپانے کے لئے پھر اپنی ہی ترمیم پر پچھتاتے ہوئے باہم متحد و منظم ہیں اور ایک پیچ پرنظرآرہے ہیں ۔تاکہ اگلے متوقع الیکشن میں مختلف اقسام کے کرپٹ عناصر حصہ لے سکیں اور پانچ سال کیلئے مُلک کی باگ ڈورسنبھالیں۔
آج اِن کے اِس فعلِ شنیع سے یہی انداز ہورہاہے کہ جیسے کوئی نہیں چاہتاہے کہ اگلے متوقع الیکشن میں صاف سُتھرے لوگ ایوانوں میں جائیں اور صادق و امین صدر اور وزیراعظم کے زیرے سائے ایماندار اور مخلص وزراء کی حکومت تشکیل پائے اور ارضِ مقدس کو کرپٹ عناصر سے پاک قیاد ت ملے جو مُلک اور معاشرے کو قرآن و سُنت کی روشنی میں اسلامی تعلیمات کے اصولوں اور ضابطوں کے مطابق صاف سُتھرے انداز سے چلا ئیں اور مُلک آگے لے کر جا ئیں۔
بہر کیف ، گزشتہ دِنوں اللہ اللہ کرکے قومی خزا نے سے لوٹ مار کرکے مُلک کی چولیں ڈھیلی کرنے اور قوم کا خون اور پسینہ چوسنے والوں سے جیسے ہی کچھ مدت کیلئے جان چھوٹی توالیکشن کمیشن نے ارضِ مقدس میں 25جولائی 2018ء کو مُلکی تاریخ کے اپنی نوعیت کے منفرد اور مہنگے ترین انتخابات کرانے کا اعلان کردیایقیناًمقررہ تاریخ کو ہی انتخابات ہونے جارہے ہیں۔
غرضیکہ، مُلک بھر کے سیاسی حلقوں کے بال رومز میں’’الیکشن آگیاہے آؤ قوم کی آنکھ میں دھول جھونکیں‘‘ اور ووٹ کو عزت دو کے نام پراپنی ’ ’ موج مستی کا سا مان کریں‘‘ کا ڈنکا بچ گیاہے، یعنی کہ سیاسی جماعتوں کے مراکز میں الیکشن کی تاریخ کے آتے ہی خوشی سے رَت جگے ہو رہے ہیں ، بھنگڑے اور دھمال ڈالے جارہے ہیں اور اِس کے ساتھ ہی اُمیدوارنِ الیکشن سے کبھی تیز توکبھی دھیمی آواز وں میںیہ بازگشت بھی سُنی جا رہی ہے کہ بس صرف ’’ایک بار الیکشن میں پانچ سال کیلئے انویسمنٹ سرمایہ کاری کرو پھرپچاس سال بیٹھ کر کھاؤ‘‘ یہ وہ الفاظ اور جملے ہیں جن کی بنیاد پر سیاسی حلقے اور الیکشن میں حصے لینے والے خود کو وارم اَپ کئے ہوئے ہیں،آج اِسی لئے یہ لوگ الیکشن کو تہوارکے طور پر دھوم دھام سے منانے کی تیاریوں میں مگن ہیں۔ ایسے ہی کسی الیکشن کے موقع پر شاعر نے عرض کیا تھا ابھی مجھے اُس شاعر کے یہ اشعار یاد آگئے ہیں۔
کہہ رہا تھا اپنے ہر ووٹر سے ایک اُمیدوار
مجھ سے اُجرت لیجئے گا میری ہستی دیکھ کر
میں کسی مل کا نہ مالک ہوں نہ ہوں جاگیردار
بندہ پَر ووٹ دینا میری کُرسی دیکھ کر
اورمزید یہ کہ:۔
الیکشن نام ہے جس کا وہ خدمت ہے عبادت ہے
ہمارا ووٹ کیا ہے مُلک و ملت کی امانت ہے
مگر جب جائزہ اِس کا لیا تو یہ ہوا ثابت
الیکشن قوم کی خدمت نہیں ہے اِک تجارت ہے
اَب ایسے میں پاکستا نی قوم اور عوام کو بھی سوچنا اور سمجھنا ہوگا کہ آج اِنہیں اپنی کیسی قیادت چاہئے؟قوم کو آئندہ 5سال کیلئے ماضی کی طرح پھرکرپٹ حکمران مطلوب ہیں؟ یا کرپشن سے پاک حکمران چاہئیں؟اگر پاکستان کے عوام سمجھتے ہیں کہ اِنہیں اپنی نسل کو تبدیلی کے ساتھ کرپٹ عناصر سے پاک نیا پاکستان دینا ہے تو پھر اپنے ووٹ کی طاقت کو سوچ سمجھ کر استعمال کریں اور اچھی قیادت لا ئیں ورنہ؟ ( ختم شُد)
****

بہ کعبہ ولادت بہ مسجد شہادت

اقلیمِ شجاعت کے تاجدار ،مسندِعلم و دانش کے صدر نشین، افق ولایت کے نیر تاباں، کاروان عشق و مستی کے امیدوار،صاحب نہج البلاغہ، زاہد شب زندہ دار جناب امیرا لمومنین علی ابن ابی طالب کرم اﷲ وجہہ 13 رجب یوم جمعہ عام الفیل وسط خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے آپ کی والدہ حضرت فاطمہ بنت اسد نے آپ کا نام حیدر رکھا ان کا خانہ کعبہ میں پیدا ہونا ایسا معجزہ ہے کہ ان سے پہلے یا ان کے بعدکسی کو یہ اعزاز حاصل نہیں۔

کسے را میسر نہ شد ایں سعادت
بہ کعبہ ولادت بہ مسجد شہادت
مسجد خدا وندی میں شہادت پا کرکسی کی زبان پریہ کلمہ جاری نہیں ہوا کہ رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوا آپ کے کمالات نفسی علم وحلم،زہد وشجاعت ،حسن وخلق،عفت اس درجہ پر تھے جس کا اعتراف آپؓ کے دشمنوں نے بھی کیا آپؓ کی جوانمردی اور ایثار اس درجہ کا تھا کہ ہجرت کی رات بستر رسول ؐ پر سو گئے کفار قریش کی ننگی تلوا ریں رسولؐ کے عوض اپنی جان کیلئے خرید لیں کمالات بدنی میں کوئی شخص آپؓ کے ہم پلہ نہ تھا آپؓ نے قلعہ خیبر کا دروازہ اپنے دست معجزنما سے اکھاڑا کہ جسے ایک جماعت بھی حرکت نہ دے سکی یہودی لشکر میں نامی گرامی پہلوان مرحب کو پچھاڑا قتل کیا مگر اس کے جسم پرقیمتی زرہ کو ہاتھ تک نہ لگایا یہ زرہ اور خود سونے کے تھے لیکن حضرت علیؓ کی غیرت و حمیت نے گوارا نہ کیاکہ اس کے بدن سے زرہ اتاری جائے بلکہ آپؓ نے مال غنیمت بھی ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیا آپؓ کی بہادری نے گزشتہ لوگوں کی شجاعت بھلا دی کوئی دشمن جو آپؓ کے سامنے آیا وہ بچ کر نہ نکلا مگر یہ کہ ایمان لے آیا جس بہادر کو آپ قتل کرتے اس کی قوم فخر کرتی کہ اسے امیرالمومنین نے قتل کیا یہ تھی آپؓ کی قوت و طاقت آپؓ کی خوراک تو جو کی روٹی تھی کم غذا تناول فرماتے آپؓ کا لباس سب سے کھردرا ہوتا شہنشاہان ولائت کی کڑیاں آپ سے منسلک ہیں روئے زمین پر تمام اولیا کا مرجع آپؓ ہیں صالح کش حنفی اپنی تصنیف میں لکھتے ہیں کہ ولایت میں جتنا درجہ بڑھتا ہے عدد گھٹتا ہے کل اولیاء کاملین میں اول درجے میں تین سو ہیں اس اگلے درجے میں ستر ہیں ،ابدالی چالیس ہیں،اوتار چار ہیں ان کے اوپر قطب عالم ہوتا ہے وہ نبی ہوتا ہے جہاں نبوت ختم ہوتی ہے وہاں ولائت شروع ہوتی ہے اولیا کرام کی تاریخ اور سلسلوں کا مطالعہ کریں تو حضرت علی شاہ ولائت کے مرتبہ پر فائز نظر آئیں گے حضرت علی ہجویری داتا گنج بخش ایک جگہ فرماتے ہیں راہ ولایت میں بہت سے ایسے مقام آئے جہاں لرزش اور لغزش کا امکان تھا تو جناب علیؓ سے میری نسبت نے مجھے پار لگایا اسی طرح شہباز قلندر ایک رباعی میںآپ سے اپنی نسبت کااعلان کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں

حیدریم ، قلندرم ، مستم
بندہ علیؓ مرتضیٰ ہستم
پیشوائے تمام رندانم
کہ سگ کوئے یزدانم
حضرت علیؓ نے محنت مزدوری کو شعارزندگی بنایا کہتے ہیں کہ صاحب فکرونظر یا فلسفی عمل سے بیگانہ ہوتا ہے اسی طرح کسی عالم کا شجاع ہونا محفل نظرہے گویا بہادر تلوار کا دھنی صاحبِ علم نہیں ہوتا علم اور شجاعت دو متضاد خصائص ہیں جو کسی ایک شخص میں جمع ہونا معجزے سے کم نہیں امیرالمومنین حضرت علیؓ میں یہ دونوں صفات بدرجہ اتم موجود تھیں نہج البلاغہ کے خطبات اور اقوال میں حکمت و بصیرت کے خزانے پائے جاتے ہیں ۔ الغرض آپ کی طبیعت ہر فضیلت سے پوری مناسبت اور ہر کمال سے پورا لگاؤ رکھتی تھی، کوئی صفت و کمال ایسی نہ تھی جس سے آپ کا دامن خالی رہا ہو، کوئی خلعت و خوبی و جمال ایسا نہ تھا جو آپؓ کے قدو قامت پر درست نہ آیا ہو آپؓ پہلے مفکر اسلام ہیں جنہوں نے خداوند کریم کی توحید اور انسانیت کی معراج کو اپنے عمل و کردار سے دنیا کے سامنے پیش کیا اور علم و معرفت کے چشمے آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی ریش مبارک کو تر کر دیتی آپؓ کو دنیا وما فیہا کی بالکل خبر نہ رہتی آپ کا جسم موم کی طرح نرم ہو جاتا اور جنگ وغیرہ میں جو تلوار یا تیر کا ٹکڑاآپ کے جسم میں پیوست ہو جاتا اس کو اس وقت نکالا جاتا جب آپ نماز میں مشغول ہو جاتے حضرت علیؓ نے دعوت العشیرہ میں اپنے بھائی کے حکم پر تمام سرداران قریش کو کہا کہ جو وعدہ کرے گا اور اس پر قائم رہے گا وہی میر ا وزیر اور وصی ہو گا حضرت علیؓ اس پر قائم رہ کرہمیشہ دین کی نصرت میں سر گرم عمل رہے حضرت علیؓ کاعہد خلافت ان کی راست فکری کا آئینہ دار ہے انہوں نے اپنے دور خلافت میں مسلمانوں کے درمیان انتشار وافتراق کو روکنے کی بھر پور کوشش کی حضوراکرمؐ کی واضح احادیث کے باوجود کہ علیؓ کا گو شت میرا گوشت ،علیؓ سے دوستی مجھ سے دوستی ، علیؓ سے جنگ مجھ سے جنگ ،علیؓ سے صلح مجھ سے صلح مگر لوگ دنیا طلبی کے با عث دین اور آخرت سے روگردانی ظاہر کرنے لگے ۔آپؓ نے ایک لمحے کیلئے بھی مصلحت کا راستہ اختیار کرنے یا نفاق پر کمربستہ قوت سے صلح کرنے کے متعلق دل میں جگہ نہ دی بلکہ اصولِ دین کو باقی رکھنا قبول کیا ۔ رمضان المبارک کی ۱۹تاریخ بدھ کی رات تھی آپؓ بار بار صحن میں نکلتے آسمان کی طرف نظر دوڑاتے ستاروں کو دیکھتے اور فرماتے خدا کی قسم یہی وہ رات ہے جس کی خبر مجھے رسول اکرمؐ نے دی تھی پو پھٹنے میں ابھی دیر تھی آپ مسجد کوفہ میں داخل ہوئے آپ کا قاتل مسجد میں پہلے سے ہی موجود تھا مسجد کی قندیلیں گل تھیں چند رکعت نماز پڑھی، تسبیح کے بعد بام مسجد پر آئے اور صبح کی سفیدی سے مخاطب ہو کر فرمایا ’’ تو ایک دن بھی ایسے وقت پر طلوع نہیں ہوئی کہ میں سویا ہوا ہوں ‘‘ اس کے بعد ا ذان دی مسجد میں سونے والوں میں آپ کا قاتل ابن ملجم بھی تھا آپؓ نے کہا کہ اے شخص اوندھا مت لیٹ ایسے سونے والے کواﷲپسند نہیں کرتا تیرے دل اور دامن میں کیا ہے میں بتا سکتا ہوں آپ سجدہ میں گئے ابن ملجم نے زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے وار کیا یہ تلوار اسی جگہ لگی جس جگہ جنگ خندق میں عمرو ابن ود کی تلوار لگ چکی تھی آپؓ نے صدا بلند کی رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا ۔ قاتل سے پوچھا کیا میں تمہارا اچھا امام نہیں آپ نے فرمایا میرے قاتل کو شربت پلاؤ ۔ کردار امامت انسانیت سے محبت کا معتبر حوالہ بن کر تاریخ میں جگمگاتا رہے گا علیؓ کی شرافت کا نقش دشمن کے دل پر بھی مرتسم رہے گا آج بھی صورت حال وہی ہے مگر علیؓ کی طرح سلوک کرنے کا کوئی حوصلہ نہیں رکھتا۔
کرنے کا کو ئی حوصلہ نہیں رکھتا کوئی تو ہوتا جو اپنے قاتل کی تشنگی کا لحاظ رکھتا
کہ نفرتوں کی زمیں پہ اب بھی علی محبت کا آئینہ ہے اس ماہ کی اکیسویں رات کا حصہ گزر گیا تو آپؓ کی روح مقدس نے ریاض جنان کی طرف پرواز کی آپؓ کا مزاراقد س کو فہ سے پانچ میل دور بغداد سے 120 میل جنوب میں نجف اشرف کے مقام پر واقع ہے ۔آپؓ کی قبر مبارک ایک عرصہ معین تک پوشیدہ رکھی گئی ۱۷۰ھ میں عباسی حلیفہ ہارون الرشید کوفہ کے اطراف میں شکار کھیل رہا تھا اس دوران چیتے اور شکاری کتے جو اس کے ہمراہ تھے ہرن کے پیچھے بھاگ رہے تھے ہرن بھاگتابھاگتا اس مقام تک پہنچ گیا جہاں آپؓ کی قبر مبارک تھی شکاری کتے اور چیتے رک گئے ہرن کو پناہ مل گئی ہارون نے تعجب میں آکر تحقیق کروائی تو پتہ چلا کہ جہاں ہرن سکون کے ساتھ بے خوف و خطر کھڑا ہے یہی آپؓ کا مقام و مرقد ہے ہارون نے اس مقام پر عمارت تعمیر کروائی اور کٹہرا لگوادیا۔
*****

ممبئی دھماکے، اصل حقیقت!

نومبر 2008میں ہونے والے ممبئی دھماکوں کو بنیاد بنا کر بھارت نے پاکستان کو بدنام کرنے کی جو بھونڈی اور کسی حد تک بہت ہی خطرناک سازش تیار کی تھی وہ بالآخر کب کی بے نقاب ہو چکی ہے۔آپ کو علم ہے 26/11کے بدنامِ زمانہ ممبئی بم دھماکوں کی اصلیت کیا ہے؟ ذرا سنیں یہ کوئی مسلمان نہیں کہہ رہابلکہ ممبئی دھماکوں کی بھارتی سازش یلس ڈیوڈ سن نامی جرمن نژاد ایک یہودی مصنف دنیا کو بتا رہا ہے، ڈیوڈسن کی کتاب گزشتہ برس منظر عام پر آئی ہے The Betrayal of India Revisiting the 26/11 Evidence ہے اس کتاب میں ڈیوڈسن نے مختلف حوالوں، عینی شہادتوں اور ثبوتوں کی مدد سے ثابت کیا ہے کہ ممبئی دھماکے اصل میں ممبئی ڈرمہ تھے ،جنہیں حقیقت کا روپ دینے کے لیے رسوائے زمانہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی رانے بھارتی میڈیا اور بھارتی عدالتوں سے بھرپور مدد حاصل کی بھارتی میڈیا نے پہلے سے طے شدہ کہانی کے مطابق حقائق کو اس عیارانہ انداز میں مسخ کیا کہ عام آدمی کیلئے سچ پر یقین کرنا تقریبا ناممکن ہوگیا تھا،اب جب کہ اس کتاب کے توسط سے بھارتی عوام کو بھی معلوم ہوچلا ہے کہ بھارتی حکومت نے اپنے گاڈ فادر امریکا کی خوشنودی کیلئے ان دھماکوں کی آڑ میں 162سے زائد بے گناہ بھارتی شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارا اور اِس کا الزام نہایت بھونڈے انداز میں پاکستان پر دھر دیاڈیوڈسن کی مذکورہ کتاب کی اشاعت کے بعد بھارت کی معاشرتی زندگی میں ایک بھو نچال آگیا تھا کیونکہ را کی انسپانسرڈ تشہیری کارروائی نے بھارتی قوم کو بیوقوف بنا دیا تھا ممبئی دھماکوں کی منصوبہ بندی اس خیال کے پیش نظر کی گئی تھی کہ امریکا اور مغرب سمیت دنیا بھرکو پاکستان کے خلاف بھڑکایا جائے اکسایا جائے تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کو پاکستانی سیکورٹی ادارے فوج کو اور پاکستانی قوم کو دنیا سے علیحدہ کیا جائے پاکستان پر پابندیوں کا مطالبہ بھارتی عوام کی آواز بن سکے۔یہ نئی دہلی کی برسوں سے چلی آرہی سازش تھی، بقول مصنف اس سارے معاملے میں سب سے قابل مذمت کردار بھارتی عدلیہ کا بھی ہے، جس نے خود کو امریکی اور بھارتی ریاستی اداروں کے ہاتھوں میں پلاسٹک کا بندر بننے کادیا، ثبوت، میڈیکل رپورٹس اور وہ تمام شواہد جو اس سارے واقعے کی قلعی کھولنے کیلئے کافی تھے، عدالت نے ان کی طرف سے جان بوجھ کر اپنی آنکھیں بند کیے رکھیں جو عدالتوں کی عزت اور وقار ان کی دیانتداری اور غیر جانبداری سے منسلک ہوتی ہیں، بھارتی عدالتوں نے انصاف کے اِس وقار کو بھی پاش پاش کر دیا بھارت میں اگرچہ اس مبہم واقعے کی حقیقت جاننے کے بعد عوام شدید غم و غصے کی حالت میں آچکے تھے، اعتدال پسند بھارتی معاشرے کے چند حصوں میں آرایس ای اور اِس جیسی متشدد تنظیموں کے خلاف رائے عامہ ہموار ہونے لگی تھی کہ ممبئی دھماکوں کی طرح سے سمجھوتہ ایکسپریس کو نذرآتش کرنے کا واقعہ بھی پاکستان کو بدنام کرنے کی ایسی ہی بھونڈی سازش پر بھارت بھر میں بحث ہورہی تھی کہ سابق وزیر اعظم صاحب کے ایک ناقابلِ یقین متنازعہ بیان نے یکایک بھارتی فضامیں پاکستان کے خلاف زہر گھول دیا ،افسوس صدہا افسوس! پاکستان میں گنتی کے چند میڈیا عناصر نے اپنے نشریاتی اور اشاعتی اداروں کے تعاون سے اس بھونڈی بھارتی سازش کو نام نہاد سچائی کا روپ دینے کی مذموم کوششیں کیں جو قابل افسوس ہیں۔

Google Analytics Alternative