کالم

بھارت حقائق سے نظریں نہ چرائے

پاکستان کے ایک اہم اور حساس صوبے بلوچستان سے پکڑے جانے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کا کیس ان دنوں عالمی عدالت انصاف میں زیر سماعت ہے ۔پاکستان نے اس کے لیے تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ جاسوس یادیو کے کیس کی سماعت18سے 21فروری تک ہوگی۔ عالمی عدالت انصاف کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ18فروری کو بھارت اور19فروری کو پاکستان کے وکلا دلائل دیں گے۔کیس کی سماعت چار روز تک جاری رہے گی۔ دوسرے مرحلے میں 20فروری کو بھارت اور21فروری کو پاکستانی وکلا جوابی دلائل دیں گے۔ پاکستان کا پانچ رکنی وفد عالمی عدالت انصاف میں کیس کی سماعت کے لیے ہیگ پہنچ گیا ہے ۔پاکستان کی جانب سے مقدمے کی پیروی ملکہ برطانیہ کے وکیل خاور قریشی کریں گے۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو تین مارچ2016کو حساس اداروں نے بلوچستان کے علاقے ماشکیل سے گرفتار کیا تھا۔بعد ازاں ان کا فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت کلبھوشن یادیو کا ٹرائل کیا اور10اپریل2017کو جاسوسی،کراچی اور بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے پر سزائے موت کا اعلان کیا تھا۔تاہم بھارت نے یادیو کی سزائے موت کو عالمی ثالثی عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے سزا پر عمل درآمد رکوانے کی اپیل کی تھی۔عالمی عدالت نے کلبھوشن کی سزائے موت کے خلاف بھارت کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ حتمی فیصلہ آنے تک کلبھوشن کو پھانسی نہیں دی جاسکتی۔ کلبھوش نے گرفتاری کے بعد ویڈیو بیان میں اعتراف کیا تھا کہ اس نے 2003 میں انٹیلی جنس آپریشنز کا آغاز کیا تھا۔اس مقصد کے لیے اس نے چابہارایران میں کاروبار کا آغاز کیا جہاں اس نے شناخت خفیہ رکھی۔اس نے یہ بھی اعتراف کیا تھا 2003 اور2004 میں کراچی کے دورے بھی کیے۔ یادیو نے یہ بھی مانا کہ2013کے آخر میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے لیے ذمہ داریاں پوری کرنا شروع کیں ۔اس نے یہ بھی مانا کہ کراچی اور بلوچستان میں کئی تخریبی کارروائیوں میں کردار بھی ادا کیا۔بھارتی جاسوس اور ’را‘ کے ایجنٹ کلبھوشن یادیو کیس میں عالمی عدالت انصاف میں پاکستان اور بھارت کی جانب سے 2،2 جوابات جمع کرائے جا چکے ہیں۔پاکستان نے پہلا جواب 13 دسمبر 2017اور دوسرا جواب17جولائی 2018 کو جمع کرایا جس میں پاکستان نے بھارت کے تمام اعتراضات کے جواب دیے ۔بھارت نے 9مئی 2017کو عالمی عدالت انصاف میں جاسوس یادیو کی پھانسی کے خلاف اپیل دائر کی تھی، جس پر عالمی عدالت انصاف نے حکم امتناع جاری کر رکھا ہے۔بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر نے پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کا اعتراف کیا تھا جس پر فوجی عدالت نے ضابطے کی تمام قانونی کارروائی کے بعد کلبھوشن کو سزائے موت سنائی تھی۔یادیو کو سزا سنائے جانے کے بعد22جون 2017 کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے رحم کی اپیل کی جو مسترد کر دی گئی۔قانون کے مطابق، کلبھوشن یادیو آرمی چیف کی طرف سے سزا کے خلاف اپیل مسترد ہونے کے بعد صدر پاکستان سے بھی رحم کی اپیل کر سکتے ہیں۔ کلبھوشن پر پاکستان میں دہشت گردی اور جاسوسی کے سنگین الزامات ہیں۔ بھارت ان الزامات کو ماننے کو تیار نہیں۔پاکستان کا موقف مضبوط ہے کیونکہ اسکے پاس سب سے بڑا ثبوت اسکے دو الگ ناموں سے پاسپورٹ ہیں جو اسکو جاسوس ثابت کرنے کے لیے کافی ہے، دوسرا وہ ایران سے نہیں پاکستانی علاقے سے گرفتار ہوا ۔تیسرا اسکا اقبالی ویڈیو بیان ایک اہم ثبوت ہے ان تمام باتوں کے بعد اسکا ’را‘ کا ایجنٹ ہونے اور پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کو رد کیسے کیا جا سکتا ہے۔’را‘ کے ایجنٹ کلبھوشن یادیو کی ریٹائرڈ منٹ کے حوالے سے بھارت نے ابھی تک کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے، جبکہ مبارک حسین پٹیل کے نام سے جاری پاسپورٹ پر بھی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا، جبکہ کلبھوشن یادیو نے مبارک حسین پٹیل کے نام سے17بار دہلی کا دورہ کیا۔بھارت نے دعوی ٰکیا ہے کہ یادیو ایک بے قصور تاجر ہے جسے ایران سے اغوا کرنے کے بعد زبردستی ’را‘ ایجنٹ ہونے کا اعتراف کروایا گیا، لیکن بھارت اغوا کیے جانے کے کوئی بھی ثبوت پیش نہ کرسکا۔اسی طرح بھارت یہ ثابت کرنے میں بھی ناکام رہا کہ وہ بھارتی بحریہ سے ریٹائرڈ ہوچکا تھا ، کیوں کہ پکڑے جانے کے وقت کلبھوشن کی عمر47برس تھی۔ بھارت کو اس بات کی وضاحت دینے کی ضرورت ہے کہ یادیو کے پاس جعلی مسلمان شناخت کیساتھ اصلی پاسپورٹ کیسے آیا، جس کو اس نے17مرتبہ بھارت آنے جانے کے لیے استعمال بھی کیا اور اس میں اسکا نام حسین مبارک پٹیل درج تھا۔بھارت سے یہ سوالات متعدد مرتبہ کیے گئے حتیٰ کہ خود بھارتی صحافیوں پروین سوامی اور کرن تھاپڑ کی جانب سے بھی یہ سوال اٹھائے گئے لیکن کسی ایک کا بھی جواب نہ دیا گیا۔ بھارت پاسپورٹ کو جعل قرار دیتا ہے لیکن برطانیہ کے غیر جانبدار ماہر کی جانب سے پاسپورٹ کو اصلی قرار دیا گیا ہے۔ نئی دہلی نے آئی سی جے سے مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان کو کلبھوشن یادیو کی واپسی کا حکم دیا جائے لیکن عالمی عدالت نے واضح کیا کہ یہ جرائم کی عدالت نہیں ہے اگر قونصلر رسائی نہیں دی گئی تو مقامی عدالت سے رجوع کیا جائے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کلبھوشن یادیو اور ان کے اہلِ خانہ آئینِ پاکستان کی دفعہ 199 کے تحت اعلیٰ عدالت سے رجوع کرسکتے تھے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔پاکستان اور بھارت کے درمیان 21 مئی 2008 کو قونصلر رسائی کے حوالے سے کیا گیا معاہدہ موجود ہے، جو بھارت نے تیار کیا تھا، اسکی دفعہ 4 کے تحت ریاست کو اختیار دیا گیا تھا کہ قومی سلامتی کے امور میں ملوث شخص کے خلاف اسکا اطلاق نہیں ہوگا لیکن بھارت یہ ماننے کو تیار نہیں کہ کلبھوشن نے ایسا کیا وہ ہر چیز کو پروپیگنڈہ قرار دے کر عالمی عدالت کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے لیکن ہمیں امید ہے کہ وہ اپنے مذموم مقاصد میں ناکام ہو گا۔

ڈاکٹر خورشید نسرین ۔۔۔ شخصیت اور علمی و ادبی خدمات!

syed_sherazi

علم و ادب کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر متعارف ڈاکٹر خورشید نسرین، عرف امواج الساحل کا تعلق پاکستان سے ہے، وہ ایم اے عربی (گولڈ میڈل ) اور(سلور میڈل) ہیں، انہوں نے اردو سے عربی افسانوں کا ترجمہ بھی کیا۔ دونوں زبانوں میں اپنے افسانے بھی لکھے۔مشہور عربی جرائد، الرایہ ، الشرق ، الوطن ، العرب، الجوہرہ ، العروبہ (قطر) میں اور کتابات (بحرین) میں انکی تخلیقات شائع ہوچکی ہیں۔اور انہوں نے پی ایچ ڈی کا مقالہ خلیج عرب کے دور کے شاعر عبد الرحمن المعاودہ کی شاعری پر1985 میں لکھا، قطر کے اعلیٰ تعلیم کے مختلف اداروں میں عربی زبان و ادب پڑھاتی رہی ہیں ان کی تدریس کا دورانیہ (1978 سے 2005 )تک ہے۔پہلے تو پاکستان سے پرائمری مکمل کی، پھروالد نے قطر میں عربی اسکول میں داخل کروادیا۔ کیونکہ اردو یا انگلش کا کوئی بندوبست نہ تھا، صرف ایک عربی اسکول تھا۔ شروع میں تو رٹا مار کر پاس ہوتی رہی، پتہ نہیں کیسے چوتھی پانچویں پوزیشن لے لیتی تھی۔ شاید اچھی یاد داشت کی بنا پر۔ چھٹی میں بورڈ کے پرائمری امتحان میں ٹاپ کر لیا۔ کچھ عربی سمجھ بھی آنے لگی۔ ساتویں میں عربی زبان کا لطف آنے لگا۔ خصوصاً قرآن کا۔ڈاکٹر امواج الساحل نے عربی میں افسانہ نگاری اور شاعری کے علاوہ مختلف شعراء سلطان باہو ، شاہ حسین ، ڈاکٹرمحمد اقبال پرمضامین بھی لکھے اور اقبال کی شاعری کا عربی اشعارمیں ترجمہ بھی کیا، غالب کے بھی کچھ اشعار کا ترجمہ عربی اشعار میں کیا۔ ثلاثیات (ھائیکو)انکا میدان سخن ہے ، اور پورے عالم عرب میں اس صنف میں پہلی شاعرہ ہونے کا اعزاز بھی انہیں حاصل ہے ، قطر میں سب سے پہلے رباعیات ان کی ہی شائع ہوئیں۔ اردو اور پنجابی میں بھی شاعری کی۔سن 2002 میں انہوں نے منسٹری آف ایجوکیشن قطر کیلئے تعلیمی سی ڈی بنائی تھی ، جو کہ قطر میں پہلی تعلیمی سی ڈی تھی۔ اس سی ڈی پران کو منسٹری آف ایجوکیشن قطر نے بیسٹ ریسورس کا ایوارڈ دیا۔ ریڈیو قطر کی اردو سروس میں پروگرام ” برگِ گل ” سے بھی ان کا تعلق رہا ہے۔ عربی سے اردو ترجمہ شدہ افسانوں کا ایک مجموعہ زیر طبع ہے۔اپنا خاندانی پس منظر بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم لوگوں کے بزرگ مشرقی پنجاب ضلع جالندھر کے رہنے والے تھے۔ محنت مزدوری کرنے والے لوگ تھے۔ میرے پردادا کی دوستی ایک زمیندار سے تھی۔ فیصل آباد میں پتہ نہیں کس سلسلے میں ان کو انگریزوں نے کچھ مربعے زمین عطا کی۔ہمارے گھرانے میں تعلیم عام تھی، جو ان پڑھ تھے وہ رات کو پڑھے لکھوں سے سنتے تھے۔ میاں محمد بخش کا کلام، اکرام محمدی اور قصے سنے جاتے۔ جس لڑکی کی آواز اچھی ہوتی وہ پڑھتی، باقی سنتے اس طرح بچیوں کی تعلیم و تربیت بھی ہوتی جاتی۔ نانا حکمت کرتے تھے، بعد میں بڑے ماموں کو بھی انبالہ انسٹیٹیوٹ سے حکمت کروائی۔ ساتھ ساتھ گاؤں والوں کے اصرار پر مسجد میں خطیب کا عہدہ سنبھالا، اور بیس سال تک نبھایا ، پھر ضعیفی کی وجہ سے ہم نے چھڑوادیا۔ دادا جو کہ نانا کے بھائی تھے، درس میں پڑھنے لگ گئے، اور قرآن حفظ کرنا شروع کر دیا۔ بینائی چلی گئی تو گاؤں والوں نے ان کو امام مسجد رکھ لیا، یوں زندگی کی گاڑی چلتی رہی، والد صاحب پڑھنے میں بے حد لائق تھے۔ میٹرک تک وظیفہ لیتے رہے۔ مزید پڑھنے کیلئے پیسے نہیں تھے۔ چھوٹے تین بھائی اور بھی تھے۔ مجبوراً مونگ رسول میں اوورسیر اور ڈرافٹسمین کا ڈپلومہ کیا۔ یہ 1949 کی بات ہے۔ ملک کو کام کرنے والوں کی سخت ضرورت تھی، فورا ان کی تقرری اوورسیر کے طور پر محکمہء انہار میں ہو گئی۔ میری پیدائش بھی اسی سال ہوئی، والدین کی شادی 1947 میں ہوچکی تھی۔ قطر کی طرف سے اخبارات میں ضرورت ملازمیں کے اشتہار آرہے تھے، پٹرول دریافت ہو چکا تھا، ترقیاتی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا مقصود تھا۔ والد صاحب نے درخواست دی تو انہیں بلوالیا گیا، یوں 1958 میں یہاں آگئے، اور 1959 میں مجھے اور والدہ کو لے آئے۔ یہاں زندگی کا نیا باب شروع ہوا۔1974 میں۔ بی اے کر چکی تھی۔ایم اے بعد میں کیا، اور ڈاکٹریٹ دو بچوں کے ساتھ کی۔ شادی بڑے ماموں کے بیٹے سے ہوئی، جو الحمد للہ نبھی جا رہی ہے۔ 44 سال ہوگئے۔میری شادی کیلئے پہلے تو والدین نے انتخاب کیا میرے لئے تعلیم یافتہ ایم کام لڑکے کا پھر مجھے بھی پوچھا میں نے امی پر موافقت ظاہر دی۔ اتنی عربی پڑھ کر سمجھ تو آہی گئی تھی برے بھلے کی۔میرے شوہرریٹائرڈ اکاؤنٹنٹ نے علمی اور ادبی خدمات میں بہت زیادہ تعاون کیا، یا پھر میرے والد نے سٹینڈ لیا تھا جب سب نے کہا تھا اسے ہٹالو کیا ضرورت ہے پڑھائی کی۔ میں نے اپنا تھیسز ان دونوں کے نام منسوب کیا ہے۔میرے تین، بڑا بیٹا ایم بی اے ہے، بیٹی بچوں کی ڈاکٹر ہے، چھوٹا بیٹا آئی ٹی میں ہے۔ تینوں صاحب اولاد ہیں الحمد للہ۔والد نے درویشی سکھائی، تو جو بھی ملے کھا لیتی ہوں اور پہن لیتی ہوں فیشن وغیرہ کا کوئی خاص اہتمام نہیں کرتی۔ عربوں کو اردو کے اور پاکستانیوں کو عربی کے قابل ذکر واقعات سناتی رہتی رہتی ہوں۔ ملنے والے پسند کرتے ہیں اورنرم خو جانتے ہیں مجھے، انہیں شاک تب لگتا ہے جب میں مذہبی اصولوں پر عملی طورپر اڑ جاتی ہوں۔ حیران ہو کر سوچتے ہیں اسے کیا ہوگیا؟ یہ تو خاموش طبیعت تھی۔ انہیں غیرت دین کا نہیں پتہ۔ جلدی ناراض نہیں ہوتی کسی سے، مگر جب ہوجاؤں تو پھر منانے والا کوئی نہیں۔ مجھے اعتراض ہے ان مردوں پر جو کھانے میں نقص نکال نکال کر عورت کو پکانے میں ہی مصروف رکھتے ہیں اور نماز کا ٹائم نہیں ملتا اسے۔ یہ سب حساب دینا پڑے گا۔اپنا کام خود کرتی ہوں دستی پمپ سے پانی نکالنے سے لیکر ویکیوم کلینر تک کر لیتی ہوں۔ کھانے خود بناتی ہوںِ پلاؤ، بریانی، حلوے، قورمہ، مچھلی، شامی کباب، تکے، روٹی، پراٹھے۔ اور بھی کافی کچھ بناتی رہی ہوں، عربی کھانے بھی ٹرائی کئے، ہریسہ، عربی پلاؤ، سویٹ ڈشز وغیرہ۔ اوراپنے کپڑے بھی خود سیتی رہی ہوں، مگر اب ساٹھ سال کی عمر سے بیماریوں نے عاجز کر دیا ہے، کچھ نہیں ہوتا۔ شریعت دین کی بنیاد ہے جیسے ارکان اسلام و ایمان کا علم، قرآن وحدیث کا۔ طریقت محبت کا مختصر ترین راستہ ہے شریعت کا علم بے حد ضروری ہے تاکہ طریقت کے احوال کو برداشت کر سکے۔ یہ راستہ شیخ بتاتا ہے۔جیسے سونے کو سنار پہچانتا ہے ایسے ہی شیخ کو مرید پہچان لیتا ہے۔ ہر دعویٰ کرنیوالا شیخ نہیں ہوتا۔سیاست کی اہمیت یہ ہے کہ اگر سر سلامت ہو تو جسم بھی سلامت رہتا ہے۔ ادبی اصناف میں ان کوشاعری اور افسانے پسند ہیں اوریہی ان کے پسندیدہ مشاغل ہیں اور افسانوں کا ترجمہ، اردو سے عربی اور عربی سے اردوکا ترجمہ کیا ہے۔مجھے لکھنے کا شوق کیسے پیدا ہوا،پتہ نہیں بس پڑھتے پڑھتے دل میں آیا کہ میرا نام بھی کسی بک پر چھپے۔میں نے قطر میں سب سے پہلے رباعیاں لکھیں، عرب دنیا کو ہائیکو سے متعارف کروایا۔مصروفیت کی وجہ سے باقاعدہ لکھنا مشکل ہے میرے لئے۔ عربی اخبار کی طرف سے باقاعدہ کالم نگاری کیلئے پیشکش تو آئی تھی۔لا تعدادلکھا، روزانہ تو لکھتی رہی ہوں زیر طبع” ہماری زندگی” ہے۔ قلم میں بہت طاقت ہے اس میں یہ قوموں کی زندگی کا رخ موڑ دیتی ہے۔ اسے کے زور پر انگریزوں سے نجات حاصل کی قوموں نے۔ یہی انسانی تہذیبوں کی بنیاد ہے۔انسانی سماج کی ترقی کا راز کیا ہے؟ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی چیز کا اگر غلط استعمال کریں گے تو وہ خراب ہو جائے گی۔ صحیح استعمال اسکی گائیڈ بک میں واضح کیا ہوا ہوتا ہے۔ ہماری بھی گائیڈ بک اللہ نے اتاری ہے اگر اس پر عمل کریں گے تو سب کچھ ٹھیک رپے گا ورنہ سب گڑبڑ ہو جائے گی۔ادب میں وہ اعلیٰ مثالیں ہوتی ہیں جن پر نسلیں عمل پیرا ہوتی ہیں۔ وہ زندگی کا آئینہ ہے۔شعر و ادب میں طنز و مزاح کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تفریح کے ساتھ ساتھ سبق آموز بھی ہوتا ہے۔ اورالیکٹرانک میڈیا پرنٹ میڈیا پہ اثر انداز ہو رہا ہے اور آثار بتا رہے ہیں کہ پرنٹ تو ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ اورسوشل میڈیا وقت ضائع کر رہا ہے یا اس کا فائدہ بھی ہے۔ہر ایجاد کے فائدے بھی ہوتے ہیں نقصان بھی۔ مثل مشہور ہے کہ علم دو دھاری تلوار ہے۔سوشل میڈیا کا کردار مثبت بھی ہے۔

(باقی:سامنے والے صفحہ پر)

سوشل میڈیا پرمنافرت کے خلاف کریک ڈاؤن کاخوش آئندفیصلہ

adaria

سوشل میڈیا ایک شتربے مہارکی طرح چل رہاہے جس کا جو جی چاہتاہے وہ لکھ کرشیئرکردیتاہے ،بعض اوقات توچیزیں اس طرح وائرل ہوتی ہیں کہ وہ عذاب ہی بن جاتی ہیں خصوصی طورپر ہمارے ملک میں منافرت کے حوالے سے سوشل میڈیا کی سرگرمیاں یقینی طورپرقابل گرفت ہیں اور حکومت نے اسی وجہ سے منافرت پھیلانے والے عناصر کے خلاف گھیراتنگ کرنے کافیصلہ کیاہے کیونکہ پوری دنیا اس وقت ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے اورصرف ایک کلِک پرپوری دنیا میں آپ کی پہنچ یقینی ہے ایسے میں اگر سوشل میڈیاپرمنافرت پھیلانے والی خبریںیاایسا موادوائرل کیاجائے تواس کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہوتے ہیں اگر بعض عناصر کی جانب سے اس بات کو یہ کہاجائے کہ حکومت نے اظہارآزادی رائے پرقدغن عائد کرنے کی کوشش کی ہے تو ہم اس سے کسی صورت بھی اتفاق نہیں کریں گے کیونکہ مادرپدر آزادی کسی صورت بھی ممکن نہیں ہے جب تک رکاوٹیں اورپابندیاں نہ ہوں تو پھربے نتھے بیل کی مانند ہوجاتاہے اس کا جہاں جی چاہے منہ مارتارہتا ہے نہ اسے اپنے ملک کے مفاد سے تعلق ہوتاہے اورنہ ہی اس کی کوئی حدودوقیود ہوتی ہیں اس وقت خصوصی طورپر پاکستان میں سوشل میڈیا قطعی طورپر آزاد ہے ۔گزشتہ عرصے میں بعض کچھ ایسی مذہبی چیزیں اورصفحات سوشل میڈیا پروائرل کئے گئے جس سے ملک میں انارکی پھیلنے کاخدشہ پیداہوگیاتھا پھر حکومت نے اس حوالے سے ایکشن لیامذموم عناصر کو گرفتارکیالہٰذا اب جو حکومت نے منافرت بھرے سوشل میڈیا کے خلاف کریک ڈاؤن کاجو فیصلہ کیاہے وہ انتہائی احسن ہے ۔قوانین پر عملدرآمدکراناریاست کی ذمہ داری ہے پھر یہ بات بھی اہم ہے کہ اسلام میں شدت پسندی کاکوئی تصورنہیں۔پاکستانی قوم نے جس انداز سے دہشت گردی جیسے ناسورکامقابلہ کیا وہ قابل ستائش ہے اس کی واضح مثالیں آپریشن ضرب عضب اورآپریشن ردالفساد ہیں جس کے تحت دہشت گردوں کی بیخ کنی کی گئی پھروفاقی وزیراطلاعات ونشریات فواد چودھری نے کہاکہ انتہاپسندی کے خلاف قومی اوربین الاقوامی بیانیہ تشکیل دیناچاہتے ہیں دہشت گردی کی کسی بھی مذہب میں کوئی گنجائش نہیں انسانی جان انتہائی قیمتی ہے اوراگر وہ کسی کے ہاتھوں ضائع ہوجائے تو اسلام میں باقاعدہ اس کے قصاص اوردیت کے قوانین موجود ہیں ۔سوشل میڈیا پراگرکوئی شخص منافرت بھرامواد پھیلائے اوراس سے ملک کے حالات خراب ہوجائیں فرقہ واریت پھیل جائے لوگ دست وگریباں ہوجائیں کسی کی جان چلی جائے تو یہ جرم قابل دست اندازی ہے ہم اس حق میں ہیں کہ سوشل میڈیا کو بالکل آزاد نہیں چھوڑناچاہیے چیک اینڈبیلنس ہونا انتہائی ضروری ہے۔ نیزوفاقی حکومت نے نفرت پھیلانے والے سوشل میڈیا صارفین کے خلاف اگلے ہفتے سے سخت کریک ڈاون کا اعلان کردیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ کچھ گرفتاریاں ہوئی ہیں، بڑی کارروائی اگلے ہفتے ہوگی،آزادی اظہار کے نام پر کسی کو دوسرے کی آزادی چھیننے کا حق نہیں ہے، سوشل میڈیا پر انتہا پسندی کا پرچار کرنے کی قطعی اجازت نہیں ہوگی،سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کی نگرانی کی ضرورت ہے، اس پر قوانین کی خلاف ورزی کرنیوالے صارفین کو سزا دینا ہوگی، ڈیجیٹل میڈیا کو ریگولرائز کرنے کی ضرورت ہے، اس کیلئے پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے نام سے نیا ادارہ قائم کررہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر نفرت آمیز مواد کو کنٹرول کیا جائیگا،ایک نظام بنا لیا ہے جس کے ذریعے سوشل میڈیا پرنفرت کا پرچار بھی روکا جاسکے گا، دنیا میں ہر آزادی کی حد ہوتی ہے، پاکستان میں کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ انہیں بے لگام آزادی حاصل ہے۔ ریاست مکالمہ چاہتی ہے جو اس وقت نہیں ہوسکتا جب تک آپ دوسرے فریق کو اپنا موقف پیش کرنے کی اجازت نہ دیں، اپنے موقف کے خلاف بات کرنے والے کو گولی مارنے اور پھانسی دینے کی بات کی جاتی ہے، دنیا کے مختلف معاشرے کسی نہ کسی طرح کی انتہا پسندی کا شکار ہیں، بھارت میں مودی کے آنے سے انتہا پسندی میں اضافہ ہوا، پاکستان کو بھی انتہا پسندی اور دہشت گردی کا سامنا ہے، حالانکہ اسلام میں انتہا پسندی، دہشت گردی کا کوئی وجود نہیں۔ برصغیرمیں اسلام کی ترویج صوفیاء کرام کے ذریعے ہوئی،شدت پسندی ایک حالیہ لہر تھی ،ہمارے لئے مسئلہ اس وقت پیش آیا جب ہم افغان تنازع میں پھنس گئے۔ غیر متعلقہ تنازعات میں الجھنے سے شکوک و شہبات پیدا ہوتے ہیں۔ اس تنازع سے نکلنے کیلئے پاکستان کی افواج، عوام اور سب نے بہت قربانیاں دی ہیں لوگوں کو اپنے رائے کی آزادی کا مکمل حق ہے لیکن دوسرے کی آزادی سلب کرنے کا حق کسی کو نہیں ہے۔

پی اے سی معاملہ۔۔۔راجہ ریاض اورریاض فتیانہ کاموقف
پاکستان گروپ آف نیوزپیپرز کے چیف ایڈیٹراورروزنیوزکے چیئرمین ایس کے نیازی کے معروف ومقبول پروگرام ’’سچی بات‘‘میں شیخ رشید کے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں جانے اوراس کاممبربننے کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما راجہ ریاض احمداورریاض فتیانہ نے انتہائی اہم گفتگوکی ہے ،پی ٹی آئی رہنما راجہ ریاض احمد نے کہا کہ مجھے شیخ رشید سے ذاتی اختلافات نہیں ہیں،جب بھی شہباز شریف کوئی غلط کام کریں گے ہم ان کو روکیں گے،میں صوبائی اسمبلی کاممبراوراپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی بھی رہ چکا ہوں،پی ٹی آئی کے ممبر کو ہٹا کر شیخ رشید کو لانا ہم پرعدم اعتماد ہے،وفاقی وزیرپی اے سی کا ممبر نہیں بن سکتا،میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں غلط بات ہورہی ہو تونہ بولوں،عمران خان قانون کی خلاف ورزی کبھی نہیں کرتے،شیخ رشید نے اسپیکر قومی اسمبلی کیلئے جو الفاظ استعمال کیے ان پر معذرت کرنی چاہیے،اگر شیخ رشید کو ا تنا شوق ہے تو عمران خان کووزارت کا استعفیٰ دیں پھرآجائیں،پی ٹی آئی کی طرف سے فخر امام اورمیرے جیسے سینئرلوگ پی اے سی میں بیٹھے ہیں،ہم توچیئرمین تحریک انصاف کے حکم پر چلیں گے،شیخ رشیدکو چاہیے کہ ہماری تذلیل نہیں کریں، ریاض فتیانہ نے پروگرام سچی بات میں ایس کے نیازی سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ کچھ جگہوں میں قانون خاموش ہوتا ہے،منسٹری چھوڑ کر شیخ رشید پی اے سی میں آجائیں ہم دونوں ہاتھوں سے قبول کریں گے،اگر حکومت درخواست کرتی ہے کہ شیخ رشید کو ممبر بنایا جائے تواپوزیشن بھی سعد رفیق کا نام لائی ہے،ہم پارلیمنٹ کو چلانے جارہے ہیں یا کشتی کرنے جارہے ہیں،پی اے سی میں اپنی اپنی پارٹی کے تجریہ کار لوگ موجود ہیں،شیخ رشید کیا دہلی کا قلعہ فتح کرنے آرہے ہیں،ہم نہیں چاہتے کہ کوئی ایسا کام کریں جس سے عوام میں شرمندہ ہوں،کیا شیخ رشید نئی روایات بنارہے ہیں، تقریباً سارے وزرا نہیں چاہتے کہ شیخ رشید پی اے سی میں آئیں،میں چھٹی بار قومی اسمبلی میں آیا ہوں،2013کے الیکشن میں میرا اور شیخ رشید کاریکارڈ دیکھ لیں،ہماراایجنڈا پی اے سی نہیں ،ہماراایجنڈپاکستان کانام روشن کرنا ہے،ہم نے جمہوریت کو درست سمت میں لے کرجانا ہے،وزیراعظم عمران خان ملک کے لئے بہت زبرست کام کررہے ہیں۔

پاکستا ن میں اربوں ڈالر کی سعودی سرمایہ کاری

سعودی عرب کو اللہ تعالیٰ نے حرمین شریفین کی خدمت اور حفاظت کا شرف بخشا ہے جس میں کوئی دوسرا ملک اس کا ہمسر نہیں ہوسکتا۔ ایک مسلم ملک ہونے کے ناطے پاک سعودی تعلقات ہر قسم کی مصلحتوں سے بالاتر ہیں۔ سعودی عرب سے سب سے بڑا ہمارا رشتہ ایمان کا ہے۔ سعودی حکمران بھی پاکستان سے انتہا کی محب ہیت کرتےں۔ پاکستانی عوام نے ہمیشہ جوش اور جذبے سے سعودی حکمرانوں کا استقبال کیا۔ اب بھی سعودی ولی عہد کی آمد پر ہمارا جوش و جذبہ دیدنی ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان 16 فروری کو پاکستان آئیں گے لیکن ان کی آمد سے قبل ہی محمد بن سلمان کے وفد کے ارکان پاکستان پہنچنے لگے ہیں۔ ان میں ایڈوانس سکیورٹی ٹیم، ڈاکٹرز اور کوریج کرنے والے سعودی میڈیا کی ٹیمیں شامل ہیں۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان وزیراعظم ہاؤس میں قیام کریں گے جبکہ سعودی وفد اسلام آباد کے نجی ہوٹلوں میں قیام کرے گا۔ جس کیلئے اسلام آباد کے 2 بڑے نجی ہوٹل مکمل اور 2 ہوٹل جزوی طور پر بک کر لئے گئے۔ سعودی ولی عہد کے ہمراہ ایک بڑا وفد آئے گا۔سعودی ولی عہد 4 طیاروں کے ساتھ لینڈ کریں گے۔ پاکستانی فضائی حدود میں معزز مہمان کے طیارے کو جے ایف 17 پروٹوکول حصار میں لیں گے اور پاکستان آمد پر انہیں جے ایف 17 تھنڈر سے سلامی بھی دی جائے گی۔ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا پاکستان آنا بہت خوش آئندہے جو دو طرفہ تعلقات میں مزید بہتری کا باعث ہوگا۔ولی عہد اپنے دوسرے گھر پاکستان میں آرہے ہیں۔ ان کی آمد سے جہاں سابقہ پاک سعودی تعلقات کی تجدید ہوگی وہاں مستقبل میں دو طرفہ تعلقات کو نئی جہت ملے گی۔ اس تاریخی دورے سے پاک سعودی عرب برادرانہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔اس دفعہ یہ دورہ اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ سعودی ولی عہد اپنے ساتھ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بھی ساتھ لا رہے ہیں۔ سعودی ولی عہد کے 2 روزہ دورے میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان آئے گی۔ان کے ساتھ سعودی عرب کی 20 سے 22 کاروباری شخصیات آرہی ہیں جن کی پاکستانی کاروباری افراد کے ساتھ میٹنگ رکھی ہے۔ اس سے سروسز اور آئی ٹی میں تعاون کو فروغ ملے گا۔ سعودی ولی عہد کے دور ہ میں تیل ،قابل تجدید توانائی اور معدنیا ت سیکٹر میں مفاہمت کی تین یادداشتوں پر دستخط ہوں گے۔ وزیر اعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سے پہلے 2سال میں 7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئے گی۔سعودی عرب کی جانب سے آئل ریفائنری میں سب سے بڑی سرمایہ کاری ہوگی۔ سعودی عرب گوادر آئل ریفائنری میں 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔ 5 سال میں ریفائنری مکمل ہوجائے گی۔ اس کے علاوہ سعودی عرب سندھ اور بلوچستان میں ونڈ انرجی اور سولر انرجی میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا جبکہ ان کی فوڈ اور ایگریکلچر میں بھی دلچسپی ہے۔ منرلز اینڈ مائنز میں بھی سعودی عرب کی کافی دلچسپی ہے۔سعودی عرب نے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم منصوبوں کے لیے فنڈز دینے کا فیصلہ کیا ہے۔محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان میں ایم او یو پر دستخط ہوں گے جس میں بجلی کے 5 منصوبوں کیلئے ایک ارب 20 کروڑ 75 لاکھ ریال کے ایم او یو پر دستخط ہوں گے۔ دیامر بھاشا ڈیم کیلئے 37 کروڑ 50 لاکھ سعودی ریال، مہمند ڈیم کیلئے 30 کروڑ اور شونتر منصوبے کیلئے 24 کروڑ 75 لاکھ ریال ملیں گے جب کہ جامشورو پاور پراجیکٹ کیلئے 15 کروڑ 37 لاکھ اور جاگران ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیلئے 13 کروڑ 12 لاکھ ریال فراہم کیے جائیں۔ ایل این جی کے 2 بجلی گھر بھی سعودی عرب کو دینے پر بات چیت شیڈول میں شامل ہے۔ سعودی عرب نے حویلی بہادر شاہ اور بھکی پاور پلانٹ میں دلچسپی ظاہر کی ہے ۔ جن میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ شروع میں یہ کہا گیا کہ گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ ڈیل ہونی چاہیے لیکن پھر فیصلہ ہوا کہ پرائیو یٹائیز یشن کے قوانین کے مطابق نجکاری ہوگی۔ اس کی کھلی نیلامی ہوگی اور اگر سعودی عرب زیادہ بولی دینے میں کامیاب ہوا تو اس کو پلانٹس دے دیے جائیں گے۔ہم گوادر میں سعودی حکومت کی طرف سے آئل ریفائنری لگانے کا پروگرام کا خیر مقدم کرتے ہیں۔یہ آئل ریفائنری ایشیا کی بڑی آئل ریفائنری میں سے ایک ہو گی اور نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ملک کے دور دراز علاقوں پسنی اور گوادر میں ترقی کے مواقع پیدا ہوں گے۔ سعودی حکومت نے پاکستانیوں کیلئے ویزا فیس 2000 سے 300 ریال کی جس کیلئے سعودی حکومت کے شکر گزار ہیں۔ اسلامی ثقافت اور کلچر کے تحفظ کے لیئے سعودی عرب غیر معمولی کوششیں کر رہا ہے۔ جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔ سینٹ کے چیئرمین میر محمد صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ تمام پاکستانی خوش ہیں کہ سعودی عرب پاکستان میں اتنی بڑی سرمایا کاری کر رہا ہے اس سے نئی ملازمتوں اور اور اس سے پاکستان کی معاشی حالت تبدیل ہو جائے گی۔ سعودی عرب ہمارا محسن ہے جس نے 1965اور 1971کی جنگوں میں کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا۔ مسئلہ کشمیر کیلئے آواز اٹھائی۔ ہر بحران میں ہمارے ساتھ کھڑا ہوا۔ پاکستان پر جب بھی مشکل وقت آیا تو سعودی عرب نے سب سے پہلے پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ او آئی سی کے بعد اگر کوئی اسلامی فورم بنا ہے تو وہ سعودی عرب نے اسلامی فوجی اتحاد بنایا ہے جس میں 41 ممالک شامل ہیں ہمیں اس کو سراہنا چاہیئے اس کے ذریعہ دہشت گردی کو ختم کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔ جنرل (ر) راحیل شریف اس اتحاد کی سربراہی بھی کر رہے ہیں۔سعودی عرب نے وزیراعظم عمران خان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب نے پاکستان کو ادائیگیوں کا توازن برقرار رکھنے کیلئے نرم شرائط پر 3 ارب ڈالرز فراہم کرنے سمیت اربوں ڈالرز کا مفت تیل بھی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس حوالے سے کچھ حلقوں نے اعتراض اٹھایا کہ کہیں پاکستان کو یمن جنگ میں دھکیلنے کیلئے یہ سرمایہ کاری نہ کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو یمن جنگ میں جھونکنے کیلئے کسی قسم کی کوئی سازش نہیں کی گئی۔اس طرح کی پھیلائی جانے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔

*****

عالمی عدالتِ انصاف۔ غیر جانبدارانہ ساکھ پر حرف نہ آئے

دنیا بھر میں 20فروری کو ’سماجی و معاشرتی انصاف کا عالمی دن‘ منایا جاتا ہے سماجی انصاف‘ معاشرتی انصاف‘ سیاسی اور ثقافتی انصاف‘عالمی شعور وآگہی کے یہ وہ واسطے اور ایسے روابط ہیں جو قوموں کو احساس دلاتے ہیں کہ دنیا میں پائی جانے والی معاشرتی ناانصافیوں‘ناہمواریوں اور سماجی ونسلی تعصبات کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیئے دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے، لہذا عالمی امن کا حقیقی قیام وقت کے ساتھ ساتھ کرہِّ ارض کی اشد ضرورت بنتا جارہا ہے دنیا امن کی مخالف ’ضد‘یعنی خوف بے اطمنانی اور معاشرتی انارکی کو اُس کی جڑوں سمیت اکھاڑ پھینکنا چاہتی ہے جتنا جلد ممکن ہو سکے اب یہ ہو جانا چاہیئے اگرآج عالمی امن کا قیام ممکن نہیں ہوسکا تو پھر کب ہوگا ؟انسانوں کے مابین پسند وناپسند کے عالمی امتیازات آج ختم نہیں ہونگے تو پھر کب ختم ہونگے اقوام متحدہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے اقوام متحدہ سلامتی کونسل سمیت عالمی ادارے سے وابستہ ہر ’عالمی ادارہ‘ کو عالمِ انسانیت کی فلاح وبہبود کے لئے رنگ و نسل اور مہذہبی تعصبات سے بالا ہوکر نسلی مخاصمت کی ریت روایات کی حدبندیوں کو توڑنا ہوگا تبھی ’عالمی سماجی ومعاشرتی انصاف‘ کے ساتھ حقیقی انصاف ہوتا ہوا دنیا کے ہرایک فرد کو نظرآئے گا اقوام متحدہ کے عالمی عدالتِ انصاف کی جانب دنیا کی نظریں اب بار پھر اُٹھ گئی ہیں اور دنیا پھر سے منتظر ہے ثقافتی سماجی ونسلی نفرتوں میں سرتاپا گھرا ہوا بھارت اپنی ضدپر اَڑا ہوا ہے جس نے اقوام متحدہ کے عالمی عدالتِ انصاف کو ایک اور ’امتحان‘ کی گھڑی میں لاکھڑا کیا ہے اب امید کی جاسکتی ہے کہ عالمی عدالتِ انصاف اپنی غیر جانبدارانہ ساکھ اور عالمی قوانین کے وقار پر کسی قسم کا کوئی سوالیہ نشان نہ آنے دے‘ رواں برس2019 ماہ فروری کی 18 اور 19تاریخوں کو اقوام متحدہ کے ادارہ ’عالمی عدالت انصاف‘ میں پاکستان کو بھارت نے غیر ضروری ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھڑا کردیا جنوبی ایشیا کے دوپڑوسی ممالک(بدقسمتی سے بھارتی مذموم عزائم کی بناء پر گزشتہ71سے اب تک مسلسل لگاتار بداعتمادیوں کی فضاؤں کا شکار چلے آرہے ہیں ) عالمی عدالتِ انصاف کے فاضل ججز کی بینچ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک بہت اہم کیس کی سنوائی کرئے گی، عالمی عدالت انصاف میں یہ کیس بھارت لے کر گیا کیس کے مندرجات دنیا کے علم میں آچکے ہیں 18اور19فروری کو غالباً پہلے بھارت اپنے استغاثہ کے دلائل پیش کرئے گا جبکہ19فروری کوپاکستان عالمی عدالت انصاف کے سامنے اپنا قانونی نکتہ نظر پیش کرئے گا, مزید کسی قسم کی تمہیدی گفتگو میں جائے بنا اصل مدعا سن لیجئے ایک بھارتی فوجی افسر کلبھوشن یادیو نامی ایک شخص کو پاکستانی سیکورٹی ادارہ نے پاکستان اور ایران کے سرحدی علاقہ میں اْس وقت گرفتار کیاتھا جب وہ پاکستان کی سرحد میں داخل ہورہا تھا بھارتی نیوی کا یہ افسر کلبھوشن عرصہ دراز سے ایرانی ساحلی شہر چہاہ بہار میں ممبئی سے جاسوسی کی نیت سے اپنی شناخت کو بدل کر مسلم نام کے ساتھ پہلے ایران آیا، پھر اپنے جاسوسی مقاصد کو بروئے کار لاتے ہوئے اْس نے کراچی تا گلگت بلتستان اورخیبرپختونخواہ کے قبائلی علاقوں میں جاسوسی کا اپنا نیٹ ورک پھیلایا، دشمن ملک میں جاسوسی کرنا دشمن ملک کی دفاعی صلاحیتوں کی خبریں لے کر اپنے ملک کو دینا یہ دنیا بھر کے خفیہ ایجنٹوں کے پیشہ ورانہ امور سے متعلق اْن کی مہارتوں پر منحصر ہوتا ہے، جاسوسی دنیا بھر میں کل بھی ہوتی تھی آج بھی ہورہی ہے، لیکن پاکستان کا پوائنٹ آف ویوو یہاں ’جاسوسی‘ سے بالکل مختلف اور قابل توجہ ہے کہ کلبھوش کاش خالصتاً ایک جاسوس ہی ہوتا ؟ وہ تخریب کار نہ ہوتا دہشت گرد نہ ہوتا ،دس پندرہ برس قبل کراچی میں ہونے والی دہشت گردیوں کی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث نہ ہوتا ‘بلوچستان کے صوبائی دارلحکومت کوئٹہ میں ہونے والے فرقہ ورانہ قتل وغارت گری کا وہ محرک نہ ہوتا، پاکستان سے براستہ ایران بغرض زیارت جانے والے زائرین کی بسوں کو بموں سے اڑانے اور زائرین کو بسوں سے اتار کر لائن میں کھڑا کرکے اْنہیں فائرنگ کی بوچھاڑوں سے بھون دینے جیسی انتہائی ہولناک کارگزاریوں میں وہ سہولتیں فراہم کرنے والا نہ ہوتا خاص کر تفتیشی انٹروگیشنز کورس میں اْس کے ملٹری عہدے کو ملحوظ خاطر رکھ کر کسی قسم کے جسمانی وذہنی پریشر ڈالے بغیر پاکستانی فوج کی کورٹ مارشل کے سامنے اْس نے اعتراف کیا کہ ’وہ تو ایک فوجی افسر تھا، اْسے بھارتی خفیہ ایجنسی را نے تاک کر اپنے نشانہ پر لیا اور کئی مراحل کی تربیت سے گزارنے کے بعد اْسے اسلامی نام حسین مبارک پٹیل دیدیا گیا اسی مسلم نام کا اْس کا پاسپورٹ بنوا کر اْسے دیا گیا ایرانی بندرگاہ چہاہ بہار میں جیولری کی شاپ کھلوائی گئی، اْسے پہلے جاسوسی کا ٹاسک دیا بعد میں پاکستان میں جاسوسی کرنے کے ساتھ پاکستان کواندرونی اعتبار سے عدم استحکام کرنا‘بلوچستان کے ناراض اور سرکش بلوچوں کو اسلحہ سپلائی کرنا اْنہیں پاکستان سے علیحدگی پر مسلسل اکسائے رکھنا اورُ ادھر کراچی تک اپنے دہشت گردی کے خونریز اثرات کو پھیلا کر کراچی میں لا اینڈ آرڈر کو تہس نہس کرنا بطور خاص گوادر بندر گاہ میں سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنا یہ سب کلبھوشن یادیو کے ذمہ ’را‘ نے امور سونپے جو ایک پیشہ ور جاسوس کے زمرے میں کہیں نہیں آتے صریحاًً دہشت گردی کی تعریف میں آتے ہیں بلکہ کلبھوشن یادیو نے تو گوادر پورٹ پر کام کرنے والے چینی انجینئروں پر ہونے والے قاتلانہ حملوں میں اپنے ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے، بھارتی نیوی کے ملٹری افسر ہونے کے ناطے پاکستان میں اس کا باقاعدہ ’’کورٹ مارشل ‘‘ہوا، ثبوتوں اور اْس کے اعترافی بیانات کی روشنی میں اْسے واضح دہشت گرد ہونے کے جرم میں اور سینکڑوں پاکستانیوں کو قتل کرنے جیسے سنگین جرائم میں ملوث پانے کے بعد سزائے موت سنائی گئی تھی دوسری جانب کلبھوشن یادیو کو ملکی سیکورٹی فورسنز نے جب اپنی گرفت میں لیا یہ خبر بریکننگ نیوز بن کر د نیا میں پہنچی تو نئی دہلی میں ایک تہلکہ مچ گیا، بھارت نے اس خبر کے بریک ہوتے ہی یکے بعد دیگر کئی ’ٹرانس‘ بدلے پہلا کہا گیا یہ بھارتی نہیں ہے ‘پھر ملٹری افسر ہونے سے انکار کیا گیا پھر کہا گیا کہ ‘یہ ہندو نہیں مسلمان ہے کبھی کہا گیا کہ یہ ملٹری افسر تھا اب ریٹائرڈ ہوچکا ہے اور جب کچھ بس نہ چلا تو نئی دہلی نے ہتھیار پھینک دئیے ۔

(باقی:سامنے والے صفحہ پر)

کلبھوشن یادو اور عالمی ’’انصاف‘‘ ۔۔۔ !!

asgher ali shad

بھارتی حکمرانوں نے پاکستان کے اندر ریشہ دوانیوں کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے، اس کی ایک طویل تاریخ ہے اور انہی مکروہ سازشوں کے ذریعے وطنِ عزیز کو دو لخت بھی کیا جا چکا ہے۔ جس کا اعتراف آٹھ جون 2015 کو مودی نے اپنے دورہ بنگلہ دیش کے دوران کھلے عام کیا تھا۔ اس کے علاوہ سابق ہندوستانی وزیر دفاع اور گوا کے موجودہ وزیر اعلیٰ’’منوہر پریارکر‘‘ بھی کہہ چکے تھے کہ بھارت پاکستان کے متعلق کانٹے سے کانٹا نکالنے والی پالیسی اپنائے ہوئے ہے اور اس کو جاری رکھے گا۔ بہر کیف ان تمام سازشوں کے باوجود ہندوستان عالمی برادری کے سامنے خود کو معصوم اور دودھ سے دھلا قرار دیتا نہیں تھکتا اور دنیا کے اکثر ملک بھی نہ صرف دہلی کے ان دعووں پر یقین کرتے ہیں بلکہ اپنے گناہ چھپانے کی اس بھارتی روش کی تائید اور حمایت بھی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ مگر بالآخر سچ کو تو سامنے آنا ہی ہوتا ہے تبھی ’’را‘‘ کا حاضر سروس افسر ’’کل بھوشن یادو‘‘ 3 برس قبل بلوچستان میں گرفتار کر لیا گیا۔موصوف نے دورانِ تفتیش اپنی تمام کارستانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ وہ انڈین نیوی میں کمانڈر کے عہدے پر فائز تھا۔ یاد رہے کہ نیول کمانڈر کا منصب فوج کے لیفٹیننٹ کرنل کے مساوی ہوتا ہے۔ انڈین نیوی میں اس کا سروس نمبر ’’41558‘‘ ہے اور وہ 16 اپریل 1970 کو پیدا ہوا اور 1991 میں اس نے بھارتی بحریہ میں کمیشن حاصل کیا۔ کچھ عرصے بعد نیول انٹیلی جنس میں چلا گیا۔ اس کی اچھی کارکردگی کی بنا پر اس کو را میں شامل کر لیا گیا۔ اور پاکستان میں ’’کور ایجنٹ‘‘ کے طور پر کام کرنے کیلئے اسے منتخب کیا گیا، اور اس کا مسلمان نام ’’حسین مبارک پٹیل‘‘ رکھا گیا تھا۔ اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر اس کو نہ صرف اسلام کی بنیادی تعلیمات دی گئیں بلکہ جسمانی طور پر بھی مسلمان ظاہر کرنے کیلئے اس کے ختنے وغیرہ بھی کیے گئے تا کہ کسی بھی مرحلے پر اس کی ہندوانہ اصلیت ظاہر نہ ہو سکے۔اسی مسلمان نام پر اس کو پاسپورٹ جاری کیا گیا جس کا نمبر ’’ایل 9630722‘‘ ہے۔ اور پھر اس کو بلوچستان سے متصل ایرانی ساحلی شہر ’’چاہ بہار‘‘ میں را نے جیولری کی دکان کھول کر دی لیکن اس کا اصل کام بلوچستان آ کر اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ کراچی، بلوچستان میں علیحدگی پسند اور فرقہ وارانہ دہشتگردی کی وارداتیں انجام دینا تھا۔ اور کئی برسوں سے وہ یہ سب کچھ کرتا آ رہا تھا۔ وہ بلوچستان میں دہشتگردی کی مسلح تحریک کی ہر طرح سے سر پرستی کر رہا تھا اور اس ضمن میں کئی دوسرے غداروں کے علاوہ ’’حاجی بلوچ‘‘ نامی آدمی اس کا بڑا مہرہ تھا جس کے ذریعے وہ ’’مالی‘‘ اور ’’لاجسٹک‘‘ امداد دہشتگرد تنظیموں کو فراہم کرتا تھا۔ وہ اسی حوالے سے کراچی میں داعش کے قیام کی کوشش بھی کر تا رہا اور سانحہ صفورا میں بھی پوری طرح ملوث تھا جس میں تقریباً پچاس نہتے شہری شہید ہو گئے تھے۔ یوں اسے محض جاسوس قرار دینا صحیح نہیں کیونکہ وہ در حقیقت اپنی سر پرستی میں دہشت گردی کا پورا نیٹ ورک چلا رہا تھا۔جرمنی، امریکہ، روس، چین، فرانس اور برطانیہ سمیت سبھی عالمی قوتوں کو اس بابت پاکستان نے ٹھوس ثبوت بھی فراہم کر رکھے ہیں۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے غیر جانبدار حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ یہ ایک کھلا راز ہے کہ بھارتی خفیہ ادارے خصوصاً ’’را‘‘ اور ’’آئی بی‘‘ (انٹیلی جن بیورو) پاکستان کے خلاف براہ راست دہشتگردی میں ہمیشہ سے ملوث رہے ہیں۔ تبھی تو چھبیس نومبر 2012 کو جب آلوک جوشی کو را کا سربراہ بنایا گیا تو اس حوالے سے جاری پریس ریلیز میں بھارت کے تمام ہندی اور انگریزی میڈیا میں نمایاں انداز سے یہ خبر شائع ہوئی کہ آلوک جوشی کو اس منصب پر اس لئے فائز کیا گیا ہے کیونکہ اس کی نگرانی میں ’’را‘‘ نے بہت سے آپریشنز بلوچستان اور نیپال میں انجام دیئے۔31 دسمبر 2015 کو ’’راجندر کھنہ‘‘ کو ’’را‘‘ کا سربراہ بنایا گیا۔ موصوف بھی پاکستان اور پڑوسی ممالک میں دہشت گردی کے فروغ کے ماہر سمجھے جاتے تھے ۔اس ضمن میں یہ امر زیادہ قابلِ توجہ ہے کہ پاکستان سے متعلقہ را کے ٹارگٹ ایریا میں ایک ’’علیحدہ ’’بلوچی ڈیسک‘‘ بنایا گیا۔ یوں بلا تردید کہا جا سکتا ہے کہ بلوچستان یا پاکستان کے دیگر علاقوں میں را کی سر گرمیاں محض ماضی قریب میں ہی شروع نہیں ہوئیں بلکہ اس سلسلے کی کڑیاں پچاس برس سے زیادہ عرصے پر پھیلی ہوئی ہیں۔یاد رہے کہ ستمبر 1968 میں را کا قیام عمل میں آیا تھا اور ا س کا پہلا سربراہ ’’رامیشور ناتھ کاؤ‘‘ تھا اور اسے سب سے پہلے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا مشن سونپا گیا تھا جسے اس نے کامیابی سے انجام دیا۔ اور اس کے بعد’’را‘‘ نے سکم پر بھارتی قبضے کے علاوہ بھوٹان، نیپال، بنگلہ دیش میں بھی مسلح مداخلت کی روش اختیار کر لی۔ علاوہ ازیں kbj النگو‘‘ کو سری لنکا کے معاملات میں مداخلت کی وجہ سے ملک بدر کر دیا گیا۔بھارتی شورشوں کا یہ سلسلہ تا حال جاری ہے۔ یہاں اس امر کا ذکر بھی شاید غیر اہم نہ ہو کہ ہندوستان کے موجودہ قومی سلامتی کے مشیر ’’اجیت ڈووال‘‘ بھی ’’کل بھوشن یادو‘‘ کی مانند 1980 سے 1988 تک مختلف بہروپ میں لاہور اور اسلام آباد میں ’’کام‘‘ کرتے رہے۔ بعد میں ان کو انڈین انٹیلی جنس بیورو کا سربراہ مقرر کیا گیا جہاں وہ جنوری 2005 تک اس عہدے پر فائز رہے۔اس کے علاوہ سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گردی میں انڈین آرمی کے حاضر سروس کرنل پروہت اور ’’میجر اپادھیا‘‘ کا کردار بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اور پھر انڈین آرمی کی خصوصی دہشت گرد بٹالین ’’ٹی ایس ڈی‘‘ کے ہیڈ لیفٹیننٹ کرنل بخشی کا کردار بھی ڈھکا چھپا نہیں۔گذشتہ عرصے سے اس بابت ہندو ستانی میڈیا نے جس طرح چپ سادھ رکھی ہے، اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں کا میڈیا کس حد تک آزاد ہے وگرنہ یہی صورتحال اگر پاکستان میں در پیش ہوتی تو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے اب تلک کلبھوشن یادو کے گھر کے ایڈریس پر جا کر اس کا پورا شجرہ نسب کھنگال ڈالا ہوتا۔ مگر بھارتی میڈیا اور سول سوسائٹی کی خاموشی ظاہر کرتی ہے کہ اپنی قومی سلامتی کے ضمن میں انھوں نے کچھ حدود مقرر کر رکھی ہیں۔ جس میں وطنِ عزیز کے میڈیا کے لئے بھی بہت کچھ پنہاں ہے۔ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان کل بھوشن یادو کی کارستانیوں سے متعلقہ تمام دستاویزی ثبوت نہ صرف فوری طور پر دنیا بھر کے میڈیا کے سامنے لائے گی بلکہ سفارتی سطح پر بھی اس حوالے سے انتہائی موثر مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ خصوصاً 18 فروری 2019 کو عالمی عدالت انصاف میں اس کیس کی سماعت کے دوران دنیا بھر کو بھارت کی اس مکروہ روش سے آگاہ کیا جائے تا کہ عالمی برادری محض پاکستان کو ایٹمی اثاثوں اور دیگر حوالوں سے نصیحتیں دینے کی جو روش اپنائے ہوئے ہے، اس پر نظر ثانی کر کے دہشتگردی کے اصل سرپرست بھارت کو قانون اور انصاف کے شکنجے میں لانے کی سعی کرے گویا

گھر والوں کو غفلت پہ سبھی کوس رہے ہیں
چوروں کو مگر کوئی ملامت نہیں کرتا
*****

وعدے،دعوے کب تک۔۔۔؟

اَب قوم کو وعدوں ، دعوؤں اور اعلانات سے بہلایا نہیں جاسکتاہے،یہ 21ویں صدی ہے ،دنیا حقائق جاننے اور سچ دیکھنے اور پرکھنے کی عادی ہوگئی ، خوابوں کی باتیں پرا نی ہوگئیں ہیں، اَب جو کچھ کرنا ہے ، حق اور سچ کی بنیا د پر فوراََ کردکھانا ہوگا ، ورنہ ، سب کچھ بیکا ر ہوگا ۔یہ تو آنے والے دِنوں میں لگ پتہ جائے گا کہ سر پر کتنے بال ہیں ؟ بس قوم ہمیشہ کی طرح انتظار کرے ، کیوں کہ ستر سال سے حکمرانوں نے قوم کو اچھے دن کا انتظار ہی تو کرایا ہے ،ابھی پاکستا نی قوم اِسی اُمید پر کچھ دن اور زندہ رہ لے، تواِس میں کیا حرج ہے ۔؟ دیکھ لیتے ہیں کہ یہ حکومت آسمان سے کون سے ستارے توڑ لگائے گی؟ حکومت کی توجہ طویل المیعاد استحکام پر مرکوز ہے، مستقل توازن کیلئے برآمدات میں اضافہ ضروری ہے ،دوسرے سے باہمی اسٹرٹیجک تعلقات کو اقتصادی پارٹنر شپ میں بدلنے کا موقع ملا، پندرہ معاہدے ہوئے ، بیجنگ کے تعاون سے برآمدات کو دوگنا کیا جائے گا ‘‘وغیرہ وغیرہ ایسے کئی سُنہرے خواب دکھاکرقوم سے دعوے کئے گئے ہیں یہ ساری باتیں اپنی جگہ ہیں۔ مگر یہ ٹھیک ہے کہ چین اور سعودی عرب کے دوروں کے دوران پاکستان کو بہت کچھ ملا ہے، اَب ایسا بھی نہیں ہوناچاہئے کہ حکومت ہر چیز اپوزیشن اور عوام کے سامنے سب کچھ کھول کر رکھ دے اور اپوزیشن کے ہر سوال کا جواب دے ، کچھ نکات ایسے ہوتے ہیں۔ جن کے ثمرات وقت آنے کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ یقین ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور اِن کی ٹیم کا دورہ چین اور سعودی عرب مُلکی معیشت اور قوم کی ترقی کیلئے سنگِ میل ثابت ہوں گے۔سُواپوزیشن کو ہر دورے پر یہ سوال خود بھی نہیں کرناچاہئے کہ ملاکیا ہے؟اِس حکومت سے پہلے والی حکومتوں نے اپنے دوروں کے بعد کِسے کیا جواب دیاتھا جو موجودہ حکومت کسی کواپنے دوروں سے متعلق بتائے۔ بے شک یہاں یہ امر قابل ستائش ہے کہ میری پاکستا نی قوم میں بڑی لچک اور صلاحیت ہے ، یہ ستر سال سے ہر قسم کے حالات کا جانفشانی سے مقابلہ کررہی ہے، گر کر اُٹھنے اور اپنی منزل پالینے کا یہی جذبہ تو ہے ،جو اِسے زندہ قوموں میں شمار کئے ہوئے ہے ۔ اگر یہ بھی اِس میں نہ ہوتاتو یہ کب کی مایوسیوں کی گہری کھا ئی میں گر چکی ہوتی ، تاہم موجودہ حکومت کے آگے بڑھنے اور قوم کو قرضوں کے بوجھ سے نجات دِلانے والے عزم اور حوصلے سے پوری پاکستانی قوم کو قوی اُمیدہوچلی ہے کہ اگلے آنے والے دن ، ہفتے ، ماہ اور سال ماضی سے بہت بہتر ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہر پاکستانی کو محسوس ہونے لگاہے وہ وقت کوئی زیادہ دور نہیں ہے جب کئی ہزار ارب کے بوجھ تلے دبی سرزمین پاکستان قرضوں سے چھٹکارہ پا ئے گی اور معاشی واقتصادی اور سیاسی و سماجی لحاظ سے ایک نئے اور وتابناک پاکستان کے روپ میں دنیا کے نقشے پر جگمگاتی ، چہچہاتی ،لہراتی اور بل کھاتی ترقی اور خوشحالی کی منازل طے کرتی نمودار ہوگی اور چار دانگِ عالم میں اِس کی بھی کامیابیوں کے ڈنکے بجیں گے۔ آج سوفیصد وزیر اعظم عمران خان اوراِن کی حکومت کا عزم بتارہا ہے کہ یہ کچھ ایسا اچھا کر گزرنے کی لائن پر گامزن ہیں، جو پچھلی کئی دہائیوں سے کوئی حکومت نہیں کرسکی تھی ، وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے اِس جذبہ متحرک اور اضطراب کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ اَب یقینی طور پربائیس کروڑ پاکستانیوں کے بھی اچھے دن آنے کو ہیں، بس قوم کسی کی باتوں پر کان نہ دھرے ،اور انتظار کرنے کے ساتھ ساتھ جنازوں پہ نہیں ، جہالت پر رونا دھونا شروع کردے تو قوم کے بھی سُنہرے دن ضرور آجا ئیں گے۔اِس موقع پرقوم کیلئے بس سمجھنے اور غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اگر یہ اپوزیشن کی جھوٹی باتوں کو سُنتی رہی اور مایوسیوں کے سمندر میں ڈوبتی رہی تو پھر مایوسی کے اندھیرے قوم کے حوصلے پست سے پست کرتے جا ئیں گے اور ہاتھ اِس کے سِوائے مایوسیوں کے کچھ نہیںآئے گا۔حالانکہ پاکستانی قوم یہ بات بھی اچھی طرح سے جانتی اور سمجھتی ہے کہ پاکستان کو غریب اور مفلوک الحال عوام سے زیادہ ستر سال کے عرصے میں ہر دومیں آنے والے سِول اور آمر حکمرانوں اور اِن کے قیمتی غلاموں اوراِن کے چیلے چانٹوں نے ہی لوٹ کھایاہے مگر پھر بھی تعجب یہ ہے کہ اِن قومی لٹیروں کی کرپشن نے قوم کی آنکھیں ابھی تک بند کی ہوئیں ہیں۔افسوس ہے کہ ماضی کے حکمرانوں ، سیاستدانوں اور اِن کے گولڈن چیلے چانٹوں ا ور غلاموں نے مل کر قوم کی غربت کا چہر ہ دنیا کو دکھا کر قرضے لئے اور پوری قوم کو بھوک و افلاس، تنگدستی، عدم تحفظ، ناانصافی اور غیر یقینی پن کے دلدل میں دھنسا کر اپنی آف شور کمپنیاں بنائیں اور سوئیس بینکوں میں اپنے اور اپنے خاندان کے افراد اور دوستوں یاروں کے ناموں سے کھاتے کھلواکر اربوں روپے رکھوا ئے اور اَب جو اپنی گردنوں کے گرد قانون کا شکنجہ تنگ ہوتا دیکھ کر کنی کٹا کر چلتے بننے کی راہیں تلاش کررہے ہیں آخر کارعبرت ناک انجام کو پہنچتے قومی لٹیروں کو لگ پتہ گیاہے کہ کفن کی جیب نہیں ہوتی ہے اِسی لئے اپنے کڑے احتساب سے بچنے کیلئے گلے پھاڑ پھاڑ کر چیختے چلاتے پھر رہے ہیں کہ ہم پر منی لانڈرنگ کا محض الزام ہے ، مگراصل میں بیک ڈور سے چاہ رہے ہیں کہ چاہے ہمارا سب کچھ لے لو، مگر ہماری جان چھوڑدو۔

گیس بحران حل کرنے کیلئے ترجیحی بنیادوں پراقدامات کی ضرورت

adaria

ملک میں اس وقت معاشی ، سیاسی ، مہنگائی اور گیس جیسے بحران پیش پیش ہیں ،دیگربحران توحکومت حل کرنے کے لئے کوشاں ہے لیکن گیس کا ایسا بحران ہے جس کے لئے فی الفوراقدامات کی ضرورت ہے جس دن سے گیس مہنگی ہوئی اور حکومت نے اس کے سلیب کے حوالے سے بل کومتعین کیا تو عوام کی چیخیں نکلنا شروع ہوگئی ہیں اتنے بھاری بھرکم بل آرہے ہیں کہ غریب لوگوں کابھرکس نکلتا جارہاہے ۔گوکہ حکومت نے بیس ہزار سے زائد بل پراقساط کی سہولت فراہم کرنے کاکہاہے لیکن یہ سہولت بھی نہ ہونے کے برابر ہے ۔ وزیراعظم نے اس حوالے سے بریفنگ لی اور انہوں نے گیس چوری کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرنے کا حکم دیدیاہے۔ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ بڑی بڑی صنعتوں کے کنکشنز چیک کرے کہ وہاں پرآیاگیس چوری ہورہی ہے یانہیں کتنے بل آرہے ہیں جس علاقے میں جتنی گیس چوری ہورہی ہے اس حساب سے وہاں پربل آنے چاہئیں نہ کہ گیس چوری کابوجھ ساری قوم برداشت کرے یہ سراسرناانصافی ہوگی۔ جمہوریت میں جمہور کو سہولیات پہنچائی جاتی ہیں ،پانی ،گیس بجلی بنیادی عناصرہیں اس کے بغیر زندگی اجیرن ہوجاتی ہے اگر گیس کامسئلہ حل نہ ہوا تو یہ بہت بڑے بحران کوجنم دے سکتاہے جس کو کنٹرول کرناحکومت کے بس کی بات نہیں گی۔متعد دبار یہ بات ہم کہہ چکے ہیں کہ وزیراعظم کی نیت اوران کے کام پرکوئی شک نہیں لیکن انہیں اپنے مشیروں پرلازمی نظررکھناہوگی۔گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اعلی سطحی اجلاس ہوا، وزیراعظم نے گیس چوری کیخلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کی ہدایت کی، وزیراعظم کو 2019اور2020میں گیس کی ضروریات پر بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیاکہ ملک میں 50ارب کی گیس چوری کی جارہی ہے ۔ اکیانوے فیصد صارفین کو تقریباً 100روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے۔قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان نے ٹرین ٹریکنگ سسٹم اور تھل ایکسپریس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے دس سالوں میں کسی کو پکڑے جانے کا کوئی خوف نہیں تھا، قرضے لوگوں کی جیبوں میں گئے، یہی وجہ ہے کہ آج ہم مشکل صورتحال سے گزر رہے ہیں، قرضوں کا ایک دن 6ارب سود ادا کرتے ہیں، پاکستان میں تمام سہولیات ایلیٹ کلاس کیلئے تھیں، نئے پاکستان کا مطلب عام آدمی کو غربت سے نکالنا ہے، وزیر ریلوے ادارے میں چوری اورکرپشن کے کیسز نیب کو بھیجیں، پچاس ارب کی سالانہ گیس چوری ہوتی ہے، اگر گیس کی قیمت نہ بڑھاتے تو گیس کی کمپنیاں بند ہو جاتیں۔ ٹرین کے سفر کو مزید بہتر بنایا جائے گا، دنیا کا سب سے بہترین ریلوے چین کا ہے، ایم ایل ون سے کراچی کا سفر8 گھنٹے میں طے ہو گا، اپوزیشن کے لوگ ایسے حالات پیدا نہ کرتے تو فری حج کروا دیتے۔ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں عمران خان نے کہا کہ معاشی استحکام کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کے باعث جنوری 2018 کے مقابلے میں اس سال (جنوری 2019 میں)درآمدات میں گراوٹ اور برآمدات میں اضافے کا رجحان ہے جبکہ تجارتی خسارے میں ایک ارب ڈالرز کی نمایاں کمی آئی ہے۔ سروسز ٹریڈ کا خسارہ بھی 80 کروڑ کم ہوا ہے جبکہ جولائی 2018 سے جنوری 2019 کے دوران بھجوائی گئیں ترسیلاتِ زر میں گزشتہ برس کے اسی دورانیے کے مقابلے میں 12.2 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بیرونی کھاتوں کی صورتحال میں نمایاں بہتری بھی ہماری معاشی حکمت عملی کی کامیابی کی دلیل ہے۔ مزید وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی دارالحکومت میں کثیر المنزلہ عمارات کی اجازت دینے کے حوالے سے بھی اجلاس ہوا، وزیراعظم نے کہا کہ دارالحکومت کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ضروری ہے کہ قواعد و ضوابط میں ضروری ترمیم کرکے کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر میں سہولت پہنچائی جائے۔ راولپنڈی ڈویژن کے ارکان قومی اسمبلی نے وزیراعظم سے ملاقات کی اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سعودی عرب میں حج اخراجات میں 35 فیصد اضافہ ہو چکا ہے جس کی وجہ سے حج اخراجات میں اضافہ مجبوری ہے۔ وزیراعظم نے راولپنڈی میں مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کے قیام کی منظوری دی۔علاوہ ازیں اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ، سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف نے وزیر اعظم عمران خان ،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں جن میں بین الاقوامی سلامتی کی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف اسلامی اتحاد کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے راحیل شریف کی ملکی سلامتی اور استحکام سے متعلق ان کی پیشہ ورانہ خدمات کو سراہا۔ اسلامی فوجی اتحاد دہشت گردی کیخلاف پاکستان کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ فوجی اتحاد دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ وزیراعظم کی پارلیمنٹیرینز، اسلامی اتحاد فوج کے سربراہ سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈراحیل شریف سے ملاقاتیں اور اسلام آباد میں کثیرالمنزلہ عمارات کی بھی منظوری دی گئی۔یہ تمام ملاقاتیں انتہائی اہمیت کی حامل تھیں ۔ وقت کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو بہترکرنے کیلئے وزیراعظم کی کاوشیں لازمی طورپررنگ لائیں گی گوکہ موجودہ وقت تھوڑامشکل ہے مگرآنے والے وقت میں اچھے کی امیدلازمی ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کی مذموم واردات
ڈیرہ اسماعیل خان کے تھانہ پروا کی حدود میں موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں کی پولیس وین پر فائرنگ کے نتیجے میں ایس ایچ او سمیت 4پولیس اہلکار شہید جبکہ 2 راہگیر زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار 2 افراد نے پولیس وین پر اندھا دھند فائرنگ کی اور فرار ہوگئے۔ واقعہ کے بعد پولیس اور سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لیکر حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی جبکہ علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران کچھ مشکوک افراد کو بھی حراست میں لیا گیا۔دہشت گروں کی جانب سے پولیس جوانوں پر ہونے والی فائرنگ لمحہ فکریہ ہے،دہشت گردی کے خلاف پولیس اور سیکورٹی نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ نیشنل ایکشن پلان پرتیزی سے عملدرآمدانتہائی ضروری ہے ، اس کے تحت دہشت گردوں کی بیخ کنی ہوتی ہے نیز آپریشن ضرب عضب اورآپریشن ردالفساد کے ذریعے کافی حد تک دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی کمرتوڑ گئی لیکن پھر بھی موقع آنے پر وہ کوئی نہ کوئی مذموم واردات کرجاتے ہیں جس میں قیمتی جانوں کاضیاع ہوتاہے ۔ان کی روک تھام کے لئے ترجیحی بنیادوں پراقدامات کرنے ہوں گے ۔دراصل جب تک سہولت کار کوسزانہیں ملے گی اس وقت دہشت گردی پرقابوپانا بہت مشکل ہے یہ بات بھی اظہرمن الشمس ہے کہ پوری دنیا میں دہشت گردی کو قابونہیں پایاجاسکتا گوکہ پاکستان نے اس حوالے سے بے تحاشہ قربانیاں دی ہیں اور انہی قربانیوں کی وجہ سے اسے مزیدنقصان بھی برداشت کرناپڑتاہے۔ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونیوالے دہشت گردی کے واقعے کو اگرٹارگٹ کلنگ بھی کہاجائے تو بھی غلط نہیں ہوگاکیونکہ دہشت گرد پہلے سے گھات لگائے بیٹھے تھے اورحملہ کرنے کے بعد فرارہونے میں بھی کامیاب ہوگئے۔یہاں ہم حکومت کو یہ مشورہ ضروردیں گے کہ یہاں اس نے پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں سیف سٹی پراجیکٹ کو باقاعدہ لانچ کیاہے وہاں پردوردرازعلاقوں میں بھی سیف سٹی پراجیکٹ لایاجائے کیونکہ وہاں پراگرکوئی ایسا وقوعہ پیش آجائے تو اس حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ملتا اور ملزما ن یادہشت گردواردات کے بعدکامیابی سے بچ نکلتے ہیں۔

Google Analytics Alternative