کالم

کشمیر کی صورتحال کے پیش نظر مولانا احتجاج ختم کر دیں

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمنٰ نے ’’آزادی مارچ‘‘ کو غیر اعلانیہ طور میں ’’دھرنا‘‘ میں تبدیل کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کی تین دن کی مہلت دینے کا اعلان کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کا سمندر اتنی طاقت رکھتا ہے کہ وزیر اعظم کو وزیر اعظم کے گھر سے گرفتار کرکے لے آئے ۔ ہم اداروں کے ساتھ تصادم نہیں چاہتے ۔ اپنے اداروں کا استحکام، انہیں طاقتور اور غیرجانبدار دیکھنا چاہتے ہیں ۔ مولانا نے اداروں کی جو بات کی ہے وہ بڑی خطرناک ہے ۔ اسی بات پر ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ سڑکوں پرآکر الزام تراشی سے مسائل حل نہیں ہوں گے ۔ جمہوری مسائل جمہوری طریقے پرہی حل ہونے چاہئیں ۔ مولانا فضل الرحمان سینئر سیاستدان ہیں تو ان سے یہ پوچھا جائے کہ وہ کس کی بات کررہے ہیں ۔ ان کا اشارہ الیکشن کمیشن،عدالتوں یا فوج کی طرف ہے;238; اگر انہوں نے فوج کی بات کی ہے تو اپوزیشن کے سمجھنے کی بات ہے کہ فوج غیرجانبدار ادارہ ہے ۔ ہم آئین اور قانون کی عمل داری پر یقین رکھتے ہیں ۔ فوج کی سپورٹ ایک جمہوری منتخب حکومت کے ساتھ ہوتی ہے ۔ کسی ایک جماعت کیلئے نہیں ۔ اگر الیکشن کی شفافیت سے متعلق شکایت ہے تو تحفظات متعلقہ ادارے کے پاس لے کر جائیں ۔ فوج نے الیکشن میں آئینی اور قانونی ذمہ داری پوری کی ۔ ہ میں جمہوری روایات اور طریقوں کے مطابق چلنا چاہیے ۔ پاکستان نے گزشتہ20سال بہت مشکل وقت گزارا ہے ۔ بہادر قبائل اور عوام نے گزشتہ دو دہائیاں مشکل میں گزاریں ۔ کے پی کے عوام کو اب فلاح و بہبود کی ضرورت ہے کہ انہوں نے بھی دہشت گردی کا بڑی ہمت سے مقابلہ کیا ۔ اس وقت جب کشمیر کا مسئلہ اپنے عروج پر ہے ۔ کشمیری دو ماہ سے زائد عرصہ سے پابند سلاسل ہیں تو پاکستان ہی ان کی واحد امید ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے بڑی بہادری اور جوانمردی سے دنیا کے سامنے کشمیر کا مسئلہ پیش کیا اور مودی کی اصل بھیانک صورت بھی دنیاکو دکھا دی ۔ اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل سے لے کر مختلف ممالک کے پارلیمنٹ اور عوام تک کشمیریوں کا مقدمہ نہ صرف بہتر انداز میں پہنچایا بلکہ ان کی ہمدردیاں بھی حاصل کیں ۔ دوسری طرف دنیا بھر میں بھارت اور مودی سرکار کی رسوائی بھی ہوئی ۔ ان حالات میں اپوزیشن کا مارچ نہ صرف پاکستان بلکہ کشمیریوں کی پوزیشن کو بھی کمزور کرنے کے مترادف ہے ۔ مولانافضل الرحمن کو آزادی مارچ سے کچھ نہیں ملے گا لیکن وہ کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے میں ضرورکامیاب ہوئے ہیں ۔ پاکستان میں موجود مودی لابی ملک کو معاشی طور پر کمزور کرنے کی سازش کر رہی ہے ۔ مولانا کے آزادی مارچ کا مقصد کرپٹ مافیا اور منی لانڈررز کو تحفظ فراہم کرنا ہے ۔ پاکستان گرے لسٹ سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ فضل الرحمن ملک کو بلیک لسٹ کرنے کیلئے کوشاں ہیں ۔ آزادی مارچ کرنے والے قوم میں تفریق پیدا کرکے ترقی کے سفر کو روکنا چاہتے ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان نے مولانا فضل الرحمن اوراپوزیشن کے آزادی مارچ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارت اور بھارتی میڈیا فضل الرحمن کے مارچ سے خوش ہے ۔ بھارتی میڈیا فضل الرحمن کو ایسے دکھا رہا ہے جیسے ان کا شہری ہو ۔ جے یو آئی کہتی ہے کہ اسلام آباد یہودیوں سے قبضہ لینے آئے ہیں ۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ کس سے آزادی لینے آئے ہیں ۔ فضل الرحمن کے ہوتے ہوئے یہودیوں کو سازش کی کیا ضرورت ہے ۔ ایسے اسلام آباد آئے ہیں جیسے ہندوستان آزاد کرانے آئے ہیں ۔ مذہب کو ووٹ کے لیے استعمال کرنے سے ملک کو نقصان ہوتا ہے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارت پاکستان کے موجودہ حالات سے بہت خوش ہے ۔ ابھی تک ہماری کامیاب خارجہ پالیسی کی بدولت مودی سرکار دنیا بھر میں ذلیل ہو رہی تھی مگر اب ہمارے ہی کچھ لوگ اپنی ہی حکومت کے خلاف مارچ نکال رہے ہیں ۔ یہ پاکستان کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کو بھی کمزور کرنے کے مترادف ہے ۔ کشمیر پر اپنی گرفت مضبوط کر کے بھارت سب سے پہلے گلگت بلتستان پر حملہ کرنے کا ارادہ بنائے بیٹھا ہے ۔ اس وقت ہ میں مشرقی سرحد پر بے حد توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ اسی طرح افغانستان میں بیٹھا بھارت مغربی سرحد سے بھی کوئی شرارت کر سکتا ہے ۔ لہٰذا ہ میں حالات کو دیکھتے ہوئے بھارت کو کسی بھی شرارت کا موقع نہیں دینا چاہیے ۔ ابھی دو روز قبل ہی وزارت داخلہ نے ایک سازش کا سراغ لگایا ہے جس میں بھارتی دہشت گردوں کی جانب سے مولانافضل الرحمان پر دہشت گردحملے کی منصوبہ بندی کا انکشاف ہوا ہے ۔ دہشت گرد حملے کے لیے بارود سے بھری گاڑی استعمال کرسکتے ہیں ۔ سلامتی کی ذمہ دار ایجنسیوں کے مطابق بھارت، افغانستان کی خفیہ ایجنسیاں را اور این ڈی ایس اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کےلئے مولانا کو نشانہ بناسکتی ہیں ۔ اس مقصد کےلئے انہوں نے باقاعدہ دہشت گرد تیار کیے ہیں ۔ اسی لئے وزارت داخلہ نے 25 اکتوبر کو الرٹ جاری کیا تھا کہ دہشت گردتنظی میں آزادی مارچ کو نشانہ بناسکتی ہیں ۔ دشمن ایجنسیوں نے مولانا فضل الرحمان اور دیگر قائدین کو نشانہ بنانے کے لیے ایک لاکھ ڈالر دہشت گردوں میں تقسیم کیے ۔ امید ہے کہ سلام آباد کی انتظامیہ کے طے شدہ معاہدہ کے تحت آزادی مارچ اور جلسے کے شرکاء مکمل پرامن رہیں گے ۔ نجی اور سرکاری املاک کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچائیں گے ۔ قانون ہاتھ میں نہیں لیں گے اور کسی قسم کا خلفشار پیدا کرنے سے گریز کرینگے ۔ مولانا سے اپیل ہے کہ وہ ایسے وقت میں جب پاکستان اور کشمیر ایک مشکل حالات سے گزر رہے ہیں ، اپنے دھرنے، جلسے کو ختم کر دیں ۔ ایسا نہ ہو کہ دشمنوں کو ہم پر وار کرنے کا موقع مل جائے ۔

احسانِ عظیم

حضور اکرم ﷺ کے حسن و جمال کا احاطہ کرنا انسان و جنات کے بس کا روگ نہیں ۔ آپ ﷺ سب سے اعلیٰ و ارفع ہیں ۔ آپﷺ جےسا کوئی نہیں ہے ۔ حضرت انس بن مالک ;230; رواےت کرتے ہیں کہ حضورکرےم ﷺ نے فرماےاکہ اللہ تعالیٰ نے انبےاء کرام خوبصورت چہرے اور دلکش آواز والے پیدا کیے اور تمہارے نبی کرےم ﷺ کا چہرہ سب سے زےادہ خوبصورت اور ان کی آواز سب سے زےادہ دلکش ہے ۔ حضرت ابو ہرےرہ ;230; فرماتے ہیں کہ میں نے کسی کو رسول کرےم ﷺ سے زےادہ خوبصورت نہیں دےکھا ۔ ےوں معلوم ہوتا تھا گوےا آفتاب حضور کے رخ انور میں درخشاں ہے ۔ حضورکرےم ﷺ جب ہنستے تھے تو اس روشنی سے دےوارےں چمکنے لگتی تھےں ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو حضور ﷺ کو اچانک دےکھتا تھا تو ہیبت زدہ ہوجاتا اور جو حضور ﷺ کے ساتھ میل جول کرتا ،وہ حضورﷺ کی محبت کا اسےر بن جاےا کرتا تھا ۔ حضرت ہند بن ابی ہالہ کی رواےت حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ;34; رسول اللہ ﷺ لوگوں کی نگاہوں میں بڑے جلیل القدر اور عظےم الشان دکھائے دےتے تھے ۔ حضور ﷺ کا چہرہ اس طرح چمکتا تھا جس طرح چودہوےں رات کا چاند،چھوٹے قد والے سے لمبے اور زےادہ طوےل قد والے سے کم،سرمبارک بڑا تھا،گےسوئے مبارک زےادہ گھنگرےالے نہ تھے،اگر موئے مبار ک الجھ جاتے تو حضورمانگ نکال لےتے،ورنہ حضور کے گےسوکانوں کی لوسے نےچے نہ جاتے، کانوں کی لو تک آوےزاں رہتے،چہرہ کا رنگ چمکدارتھا،پیشانی مبارک کشادہ تھی،ابرو مبارک بارےک بھرے ہوئے لیکن باہم ملے ہوئے نہ تھے، دونوں ابرءوں کے درمےان اےک رگ تھی جو غصے کے وقت پھول جاتی ۔ ناک مبارک اونچی تھی ۔ اس کے اوپرنور برس رہاہوتا دےکھنے والاگمان کرتا کہ ےہ بہت اونچی ہے ۔ ڈاڑھی مبارک گھنی تھی،دونوں رخسار ہموار تھے ، دہن مبارک کشادہ اور دندان مبارک چمکدار اور شاداب تھے ۔ دندان مبارک کھلے تھے ۔ گردان مبارک ےوں تھی جےسے کسی چاندی کی گڑےاکی صاف گمان ہو ۔ تمام اعضاء متعدل تھے اور ان کا اعتدال آشکار اتھا ۔ شکم اور سےنہ مبارک ہموارتھا، سےنہ مبارک کشادہ تھا ۔ دونوں کندھوں کے درمےان کافی فاصلہ تھا ۔ آپ ﷺ جب قدم اٹھاتے تو قوت سے اٹھاتے اور جماکر رکھتے، آہستہ خرام مگر تےز رفتار ۔ جب چلتے تو ےوں معلوم ہوتا کہ بلندی سے پستی کی طرف تشرےف لے جارہے ہیں ۔ جب کسی کی طرف التفات فرماتے تو ہمہ تن ملتفت ہوتے ۔ نگائےں جھکی ہوئی ہوتےں ۔ آپ ﷺ آسمان کی بجائے زمین کی طرف نگاہ رکھتے تھے ۔ آپ ﷺ کا دےکھنا گہرا مشاہدہ ہوا کرتا تھا ۔ آپﷺ حسن تدبےر سے اپنے صحابہ کو شاہراہ ہداےت پر چلاتے،جس سے ملاقات فرماتے تو اسے پہلے خود سلام کرتے ۔ ;34; ام معبد نے فرماےا کہ جب آپ ﷺ خاموش ہوتے تو پروقار ہوتے، جب گفتگو فرماتے تو چہرہ پر نور اور بارونق ہوتا ۔ شےرےں گفتار اور گفتگو واضح فرماتے تھے ۔ دور سے دےکھنے پر آپ ﷺ سب سے زےادہ بارعب اور جمیل نظر آتے ۔ حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ نے اپنا دست مبارک مےرے چہرے پر پھےرا ، میں نے اس کی ٹھنڈک اور خوشبو اےسی محسوس کی گوےا حضور کرےم ﷺ نے ابھی اپنے دست مبارک کو عطار کی عطر دانی سے باہر نکالا ہے ۔ حضرت انس ;230; فرماتے ہیں کہ میں نے کوئی مشک اور عنبر اےسا نہیں سونگھا جس کی خوشبو حضور کرےم ﷺ کی مہک سے زےادہ عطر بےز ہو ۔ صحابہ کرام ;230; فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جس کسی سے مصافحہ فرماتے دن بھر اس کے ہاتھوں سے خوشبو آتی رہتی تھی اور جب کسی بچے کے سر پر ہاتھ پھےرتے تو اپنی مخصوص مہک کی وجہ سے وہ دوسرے بچوں سے ممتاز ہوا کرتا تھا اور اسے با آسانی پہچان لیا جاتا تھا کہ اس خوش نصےب کے سر پر حضور کرےم ﷺ نے اپنا دست مبارک رکھا ہے ۔ حضرت جابر;230; فرماتے ہیں کہ نبی کرےم ﷺ جس راستے سے گزرتے صحابہ کرام کو اس بھےنی بھےنی خوشبو کی وجہ سے پتہ چل جاتا تھا کہ ےہاں سے آقا ﷺ کا گزر ہوا ہے ۔ اےک شخض کی حضور ﷺسے اچانک ملاقات ہوئی تو وہ شخص حضور اکرم ﷺ کے دلکش اور پرنور چہرہ سے محسور ہوئے اور آپ ﷺ سے نام درےافت کیا ۔ جب حضورﷺ نے اپنا نام بتاےا تو وہ کہنے لگاکہ وہی محمدﷺ ہیں جسے قرےش کذاب کہتے ہیں ۔ حضور کرےم ﷺ نے فرماےاہاں ، میں وہی ہوں ۔ وہ شخص بے ساختہ کہہ اٹھا کہ ےہ روشن چہرہ کسی جھوٹے کا ہرگز نہیں ہوسکتا ۔ پھر اس شخص نے پوچھا کہ آپ کس چےز کی دعوت دےتے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے دےن اسلام کے بارے بتاےا تو وہ شخص مسلمان ہو گےا ۔ اللہ رب العزت نے اپنے حبےب ﷺ کو تمام جسمانی عےوب سے مبرا پےدا کیا ۔ آپﷺ جےسا حسےن نہ پےدا ہوا ہے اور نہ ہوگا ۔ خالق کائنات نے آپ ﷺکو حسےن و جمیل پیدا کیا جس میں کمال کشش کے ساتھ وقار کی حسےن آمےزش تھی ۔ اللہ رب العزت نے سرور کائنات ﷺ کو پیکر رعنا فرماےا ۔

;34;زفرق تابقدم ہر کجا کہ می نگرم

نظارہ دامن ِ دل می کشد کہ جا اےنجا است;34;

قارئےن کرام!اللہ رب العزت کا ہم پر عظےم احسان ہے کہ ہ میں سرکار دوعالم ﷺ کے امت میں پیدا کیا ۔ ہ میں اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیے اور ہ میں خوشی ومسرت کا اظہار بھی کرنا چاہیے ۔ اللہ رب العزت قرآن مجےد فرقان حمےد سورۃ ےونس آےت نمبر58 میں فرماتے ہیں کہ;34; اے حبےب ﷺ! آپ فرمائیے اللہ کا فضل اور اس کی رحمت سے اور پس چاہیے کہ اس پر خوشی منائےں ےہ بہتر ہے ان تمام چےزوں سے جن کو وہ جمع کرتے ہیں

عوام دشمن پالیسیاں

ملک کی سیاسی صورتحال کا عوام پر براہ راست اثر ہوتا ہے ۔ اگر ملک کے سیاسی حالات بہتر ہوں تو عوام کی حالت بھی بہتر ہوتی ہے ۔ ہمارے ایک سیاسی اکابر نے ایک موقع پر کہا کہ جمہوریت آمریت کے خلاف بہترین انتقام ہے ۔ اس کے بعد ان کی عوام دشمن پالیسیوں نے جمہوریت کو جمہور کے خلاف انتقام ثابت کر دیا ۔ جمہوریت نے آمریت کے ستونوں کو مضبوط کیا اور جمہوریت کی بنیاد عوام کو محروم رکھا ۔ بیشک کہ اس وقت گلوبل ویلج میں جتنے معاشرے مہذب و متمدن کہلاتے ہیں وہ سب جمہوریت کے پاسدار اور پاسبان معاشرے ہیں ۔ ان میں جمہور کو اہمیت دی جاتی ہے اور جمہورکو ہی اپنے حکمران منتخب کرنے اور انہیں جمہور کے مفاد میں فیصلے کرنے کا حق دیا جاتا ہے ۔ عوام کا کام نمائندوں کو منتخب کرنا ہے ۔ اس کے بعد منتخب نمائندوں کاکام جمہور کے مفادات کی نگہبانی ہوتا ہے ۔ یہ نمائندے عقل فہم و فراست سے کوشش کرتے ہیں کہ جن لوگوں نے انہیں منتخب کر کے اپنی نمائندگی کا اعزاز بخشا ہے وہ انہیں ہر قسم کی سہولیات سے فیضیاب کریں تاکہ انہیں اپنی نمائندہ پر فخر ہو اور وہ خود عوامی نمائندگی کے فخرسے بہرہ مند ہو سکیں ۔ شاید پاکستان کے عوام کی بد قسمتی ہے کہ وہ جسے بھی اپنا جان کر اپنا نمائندہ منتخب کرتے ہیں وہ ان کا نہیں بنتا ۔ منتخب ہونے سے پہلے یہی امیدوار چھوٹے بھائی بن جاتے ہیں اور منتخب ہو کر بھائی سے ایک دم باس بن جاتے ہیں ۔ ہمارے لوگ مروت میں اگلی باری پھر اس کی غلطیاں معاف کر کے اسے موقع دیتے ہیں ۔ اگر احتساب کی بات چل پڑے تو یہ سیاسی انتقام ہے ۔ اگر ان سے کوئی سخت سوال پوچھا جائے تو اس سے ان کا استحقاق مجروح ہو جاتا ہے ۔ مشاہدے میں آتا ہے کہ سیاسی خانوادوں کے اکابرین و متعلقین کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے سیاسی کارکن حد سے بڑھ کر ان کی چاپلوسی اورخوشامد کرتے ہیں ۔ انہیں وقت حاضر کے مفکر اور مدبر طبقہ میں لے جانے کیلئے ان کے مقلدین ایک دوسرے کے دست و گریبان ہو رہے ہوتے ہیں ۔ اس خدمت کے عوض میں وہ اپنے راہنماءوں سے اپنے مفادات کی تکمیل کراتے ہیں ۔ زیادہ تر معاشی اور معاشرتی مفادات اکثر اسی وجہ سے بے انصافی اوربے اعتدالی اور میرٹ سے انحراف کا سبب بنتے ہیں ۔ نسل در نسل خدمت کے دعویدار ان کی خدمات کا انڈکس بس ان کے خاندان کے منتخب ہونے والے افراد کی لمبی فہرست پر ہی مبنی ہوتا ہے ۔ حقیقت میں تین دفعہ کے منتخب وزیر اعظم کوئی ایسا سرکاری ہسپتال نہیں بنوا سکے جس میں وہ خود اپنے امراض کے علاج کیلئے جا سکیں ۔ ایسا کوئی ہسپتال نہیں جہاں ان کے بیوی بچے اور ان کے عزیز علاج معالجے کی سہولت سے فیضیاب ہو سکیں ۔ ایسے سرکاری سکول نہیں جہاں ان کے بچے فخرکے ساتھ اپنے معاشرے کے دوسرے بچوں کے ساتھ تعلیم حاصل کر سکیں ۔ ایسی سرکاری بس سروس ٹرین سروس نہیں جس پر وہ خود فخرکے ساتھ اپنے عوام کی ہمراہی میں محفوظ سفر طے کر سکیں ۔ ایسی کوئی جیل نہیں جہاں پر یہ اپنے معاشرے کے دوسرے عام لوگوں کے ساتھ اپنا برا وقت کاٹ سکیں ۔ ایسا کوئی ادارہ نہیں جو بے غرض بے لوث اور بغیر کسی مداخلت کے ان کا احتساب کرے ۔ ایسی پولیس نہیں جو انکی حفاظت اقتدار کے باہر ہونے پر بھی کرے ۔ ایسی عدلیہ نہیں جو اقتدار ہو یا اقتدار سے باہر ہر حال میں انصاف کے تقاضوں کو ہاتھ سے نہ جانے دے ۔ آج انہیں سب سے گلہ کیوں ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ انہوں نے میرٹ سے ہٹ کر فیصلے کیے ۔ جن کا حق نہیں تھا انہیں حق دیا تو آج بھی وہ ناحق ہی فیصلے کریں گے ۔ اس وجہ یہ ہے کہ کل وہ آپ کو خوش رکھتے تھے تو آج آپ کے سیاسی مخالفین کی خوشی کو مقدم رکھنا ان کی نوکری کیلئے ضروری ہے ۔ وہ پہلے خوشامد کرکے آپ سے ترقی حاصل کرتے رہے اب وہ موجودہ صاحب اقتدار کیلئے کورنش بجا لانے میں ہی حال کی گھڑی کو محفوظ جانتے ہیں ۔ چڑھتے سورج کی پوجا کرنے والوں کو اگر عوام کی خدمت کا منصب دے دیا جائے تو یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ کوئی عوامی مفاد کا فیصلہ کر پائیں ۔ انہیں صرف اپنا آپ ہی نظر آتا ہے ۔ یہاں پر ایم اے والا پچیس ہزارلے رہا ہے اورایک مالی جسے دستخط کرنا مشکل ہیں ان کی سفارش آرمی چیف سے کی جاتی ہے کہ ان کی تنخواہ میں ایک دم ہی تیس ہزار کا اضافہ کیا جائے ۔ ایم اے والا ان کے انڈر کام کرتا ہے کیونکہ خوش آمد کی ڈگری اس کے پاس نہیں ۔ جن کے پاس کوئی تجربہ نہیں وہ صرف عوامی نمائندہ ہونے کی دھونس اور طاقت سے ہر ادارہ کے سربراہ بن بیٹھتے ہیں ۔ جمہوریت کے بل بوتے پرمودی جیسا چائے بیچنے والا بھی آرمی کا سپریم کمانڈر بن جاتا ہے ۔ جب بندر کے ہاتھ ماچس لگ جائے تو وہ جنگل میں ہر طرف آگ آگ کا کھیل کھیل کر پورے جنگل کی زندگی کو داءو پر لگا دیتا ہے ۔

آزادی مارچ، تحمل اور برداشت کا مظاہرہ ضروری ہے

آزادی مارچ کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے جن خیالات کا اظہار کیا ایک اعتبار سے وہ درست ہیں کیونکہ انہوں نے کہاکہ سیاست میں حکمت کی ضرورت ہے اور حکمت کے بغیر سیاست کرنا مشکل کام ہے اور یہ کام جذبات سے عاری ہوکر کرنا پڑتا ہے،ساتھ ہی انہوں نے ڈی چوک نہ جانے کا بھی عندیہ دیدیا ہے جوکہ خوش آئند ہے ۔ ادھر دوسری جانب وزیراعظم نے کہا ہے کہ میں این آر او کسی صورت میں نہیں دوں گا این آراو دینے کا مطلب غداری کے مترادف ہے ۔ اس میں ہم وزیراعظم سے بالکل اتفاق کرتے ہیں جب تک اس ملک سے کرپشن اور لوٹ مار کا کلچر ختم نہیں ہوگا اس وقت تک ہم ترقی نہیں کرسکتے ۔ کرپٹ شخصیات کا تعلق چاہے اقتدار سے ہو یا اپوزیشن سے انہیں ہر صورت قرار واقعی سزا ملنی چاہیے ۔ آزادی مارچ کو اب دھرنے میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے اس سلسلے میں کپتان کو چاہیے کہ وہ اپنی ٹیم کو بھی ہدایت کریں کہ وہ زبان بندی رکھیں کیونکہ اس زبان کی چاشنی سے سارے معاملات خراب ہوسکتے ہیں ۔ بیانات بازیوں سے آزادی مارچ کے شرکاء آگے کی جانب بڑھ سکتے ہیں لہذا حکمت عملی یہی ہونی چاہیے کہ معاملات ادھر ہی بیٹھ کر حل ہوں ۔ حکومت نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیاہے جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کہ این آر او دینے کا مطلب ملک سے غداری ہوگا ،یہ لوگ میرے منہ سے صرف تین الفاظ سننا چاہتے ہیں ، وزیراعظم نے ایک بار پھر صاف صاف کہہ دیا، نو این آر او، نو کمپرومائز‘جب تک ان کا احتساب نہیں ہوتا اس وقت تک ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا ۔ نام لئے بغیر اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ میں ان کو کبھی این آر او نہیں دوں گا ۔ اُدھرجمعیت علمائے اسلام(ف) کی مرکزی شوریٰ کا 6گھنٹے طویل اجلاس ہواجس میں آئندہ کی حکمت عملی پر مشاورت مکمل کی گئی، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کشمیرہائی وے پرآزادی مارچ کے شرکاء کاقیام جاری رہیگا اور وزیر اعظم کو دی گئی ڈیڈلائن میں ایک دن کی توسیع کی جائے گی ۔ اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نے ناکامی کے ساتھ واپس جانے کا آپشن مسترد کردیا، اجلاس میں حکومت کو دی گئی ڈیڈ لائن کے بعد اگلی حکمت عملی پر حتمی مشاورت اور پلان بی پر بھی غور کیا گیا ۔ مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کے پلان بی پر غور کیا جس کے مطابق اسلام آباد لاک ڈاءون، ملک گیر پہیہ جام اور ملک گیر شٹر ڈاءون شامل ہے ۔ دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہاں سے پسپائی نہیں بلکہ پیش رفت کریں گے اور پورے ملک کو اجتماع گاہ بنائیں گے، جوش نہیں ہوش مندی سے کام لینا ہوگا، کسی ٹریبونل، الیکشن کمیشن یا عدالت نہیں جائیں گے، مسئلہ ایک شخص کے استعفے کا نہیں قوم کے ووٹ کا ہے، عوام کو ووٹ کاحق دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں ، جنگ جاری رہے گی، حکمرانوں کو جانا ہوگا، بیچارہ الیکشن کمیشن ہم سے زیادہ بے بس ہے،5سال میں تحریک انصاف فارن فنڈنگ کا فیصلہ نہیں ہوا ،دھاندلی کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوا نہ رولز بن سکے، یہاں سے جائیں گے تو پیشرفت کیساتھ جائیں گے، ڈی چوک تنگ جگہ ہے، یہاں تو کھلی جگہ بھی کم پڑ گئی ہے ،آزادی مارچ کے شرکاء کا جوش بڑھتا جارہا ہے ،غیر قانونی اقدام نہیں کرینگے ۔ عوام مطمئن نہیں ہیں کہ پاکستان میں آئین کی حیثیت کیا ہے، لہٰذا تمام اداروں کو بیٹھ کر یہ طے کرنا ہوگا کہ آئین محترم اور سپریم ہے اسکی بنیاد پر اس ملک کا نظام چلے گا اور یہ عہد و پیمان کرنا پڑے گا تاکہ پاکستان کی عملداری اور اس کے تحت ہم اپنے وطن عزیز کے نظام کو چلا سکیں ۔

افغانستان کے ناظم

الامور کی دفتر خارجہ طلبی

پاکستان نے ہمیشہ خطے کے معاملات کو باہمی مذاکرات سے حل کرنے پر زور دیا ہے اور ساتھ ہی اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی پڑوسی ملک کیخلاف استعمال نہیں ہونے دے گا اور پڑوسی ممالک کو بھی یہ چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کیخلاف استعمال نہ ہونے دیں ۔ خصوصی طورپر افغانستان کی صورتحال پر پاکستان کا کردار انتہائی کلیدی رہا ہے ۔ حتیٰ کہ ٹرمپ تک نے اپنی افواج کو افغانستان سے نکالنے کیلئے پاکستان کی مدد طلب کی ہے ۔ نیز طالبان سے مذاکرات کے سلسلے میں بھی پاکستان اہم کردارادا کررہا ہے ایسی صورت میں افغانستان کی سرزمین پر پاکستانی سفارتکاروں کو ہراساں کرنا انتہائی غیر سفارتکاری کا کردار ہے ۔ افغانستان کو چاہیے کہ وہ وہاں پر موجود عملے کو تحفظ فراہم کرے ۔ افغان حکام کی جانب سے پاکستانی سفارتکاروں کو ہراساں کیا جارہا ہے، ہراساں کرنے کا سلسلہ گزشتہ روز سے شروع ہوا ہے، اس سلسلے میں افغان وزارت خارجہ اپنی خفیہ ایجنسی کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہے ۔ افغان خفیہ ایجنسی کے اہلکار سفارتکاروں کی گاڑیاں روک کرغلط زبان استعمال کرتے ہیں ،تمام سفارتکاروں کو نقل وحرکت کے دوران روکا جاتا ہے اور ہراساں کرنے کا سلسلہ گھر سے لیکر سفارتخانے اور واپسی کے راستے میں کیا جارہا ہے ۔ پاکستان نے افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے کابل میں اپنے عملے کی سیکیورٹی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستانی عملے کو حراساں کرنے اور راستوں میں رکاوٹیں ڈالنے کی تحقیقات کرائی جائیں اور اس معاملے کی تحقیقاتی رپورٹ پاکستان سے بھی شیئر کی جائے ۔ پاکستانی عملے کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے ان کو تحفظ فراہم کرنا افغان حکومت کی ذمہ داری ہے ۔

بھارتی چیرہ دستیاں

روکنا ازحد ضروری

بھارت کی چیرہ دستیاں کسی طرح رکنے میں نہیں آرہی پہلے اس نے مقبوضہ کشمیر اور لداخ کو تقسیم کرکے براہ راست دہلی کے زیر سایہ کردیا اب اس نے مقبوضہ و جموں کشمیر کو نقشے میں اپنا حصہ قرار دیتے ہوئے آزاد کشمیر کو متنازع قرار دیا ہے ۔ بھارتی اس انتہاپسندانہ اقدام کو پاکستان نے قطعی طورپر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بھارت کی بھونڈی کوشش سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی ہے ، عیار بھارت کی ایک اور مکاری مقبوضہ جموں کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار

دے کر عیاں ہوگئی ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارت ایسی حرکتوں سے دنیا کو کسی صورت بھی بیوقوف نہیں بنا سکتا جوحقیقت ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔ ایسی کوششیں خطے کے امن و امان کو تہہ وبالا ہی کرسکتی ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مقبوضہ وادی پر بھارت نے ظالمانہ اور غاصبانہ قبضہ کررکھا ہے ۔ لاکھوں دہشت گرد فوج کے ذریعے کشمیریوں کی آزادی کوسلب کررکھا ہے ۔ جوکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی ہے ۔ بین الاقوامی برادری بھارت کی حرکات کو اچھی طرح دیکھ رہی ہے اس کو چاہیے کہ مودی سرکار کو ان اقدامات سے روکے اس سے پہلے کہ پورا خطہ جنگ کی آگ میں جھونک دیا جائے اور اس کا نقصان پوری دنیا کو پہنچے گا کیونکہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی قوتیں ہیں ان کے مابین جنگ کے بعد حالات انتہائی ہولناک ہوں گے اس کیلئے ضروری ہے کہ بھارت کے جو دہشت گردانہ اقدام ہیں ان کے آگے رکاوٹ کھڑی کی جائے ورنہ تمام تر حالات کی ذمہ داری بین الاقوامی برادری پر ہوگی ۔ پاکستان ہر ممکن اقدامات کررہا ہے کہ خطے کے حالات پرامن رہیں اور بھارت سے بھی تعلقات بہتر رہیں لیکن بھارت نے ہمیشہ یہاں سے فرار ہی حاصل کیا ۔ کرتارپور راہداری کے حوالے سے پاکستان نے جوکچھ کیا وہ بھی ایک امن کا قیام ہے ۔ راہداری پر پاک بھارت زیرو پوائنٹ پر پاکستانی پرچم لہرا دیا گیا ہے ۔ سکھ برادری نے اس کا خیر مقدم کیا ہے بھارت کو بھی چاہیے کہ وہ کھلے دل کا مظاہرہ کرے ۔ آئے دن ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ سے اجتناب کیا جائے ۔ اس کو بھی چاہیے کہ وہ بھی امن کی جانب قدم بڑھائے ۔

سیاسی عدم استحکام ، جمہوری تسلسل کی جڑ کاٹ سکتا ہے

جمہوری معاشروں میں سیاسی جماعتیں قومی وحدت کو ایک لڑی میں پروئے رکھنے کا ذریعہ بنتی ہیں ۔ پاکستان میں جب کبھی کوئی مشکل کھڑی درپیش ہوئی ملک کی سب چھوٹی بڑی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے اس کا عملی ثبوت دیا اور قوم کے حوصلے پست نہ ہونے دیئے ۔ جیسے ابھی چند ماہ قبل ماہ فروری میں بھارت نے پلوامہ واقع کی آڑ میں جارحیت کی ناپاک کوشش کی تو تمام جماعتیں سینہ سپر ہو کر بزدل دشمن کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہو گئیں ۔ اس عظیم ملی وحدت کے مظاہرے سے قوم کو ایک نیا حوصلہ ملا ۔ یقینناً جب اجتماعی دانش اور سیاسی بلوغت بروکار ہوتی ہے تو پھر بڑے سے بڑے مراحل آسانی سے طے ہو جاتے ہیں ۔ اس وقت بھی ملکی سرحدوں سے خطرات ٹلے نہیں کہ ایک عاقبت نا اندیش مذہبی قیادت ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے در پے ہے ۔ اس کوشش کو اجتماعی دانش سے افہام تفہیم سے ناکام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ بے وقت کی راگنی کے سوا کچھ نہیں ۔ مولانا فضل الرحمن ایک مخصوص مکتبہ فکر کے پیروکار مذہبی سیاسی جماعت کے قائد ہیں جنہیں 2018کے الیکشن میں سخت ناکامی ہوئی اور وہ اسمبلی میں نہ پہنچ سکے ۔ جس کے باعث وہ الیکشن کو دھاندلی زدہ قرار دیتے ہیں ۔ ان دنوں وہ ایک مارچ کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد میں ڈی چوک سے پانچ چھ کلو میٹر دور پشاور موڑ چوک کے قریب دھرنا دئیے بیٹھے ہیں اور حکومت کو دھمکی دی ہوئی ہے کہ اگر عمران خان نے دو تین روز میں استعفی نہ دیا تو وی ڈی چوک کی طرف مارچ کرتے ہوئے زبردستی استعفی لے لیں گے ۔ صرف یہی نہیں بلکہ انتہائی نا مناسب لہجے میں وزیراعظم کو گھر سے گرفتار کرنے کی بھی دھمکی بھی دے ڈالی ۔ اس دھمکی آمیز لہجے کے باعث گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں سے اسلام آباد میں جہاں ایک تناو کی کیفیت ہے وہاں مولانا فضل الرحمن کو شدید تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ جن حلقوں سے انہیں تنقید کا سامنا ہے وہ کسی حد تک بجا اور ان کی تنقید جائز بھی ہے کیونکہ اس سے ملک بلاوجہ انارکی کا شکار ہو جائے گا ۔ مولانا کو تنقید کا سامنا اپنے مارچ کے عارضی اتحادیوں کی جانب سے بھی ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کے کئی سنجیدہ رہنما سے انارکی پھیلانے کی کوشش سمجھتے ہیں اور وہ دستوری حق کے غلط استعمال کے حق میں نہیں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اس نام نہاد آزادی مارچ کی دو بڑی اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) نے مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے اور مستقبل کے کسی بھی غیر جمہوری پلان میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو لائق تحسین اور دور اندیشی کا مظہر ہے ۔ سیاسی احتجاج ہر سیاسی جماعت کا دستوری حق ہے ایک عام پاکستانی بھی اس سے انکار نہیں کر سکتا مگر مولانا فضل الرحمن جس طرح نادیدہ قوتوں کی شہہ پر عدم استحکام کو ہوا دینے کے اسیر دکھائی دیتے ہیں کوئی بھی سیاسی بلوغت رکھنے والی جماعت اس کی حمایت نہیں کر سکتی اور ہم سمجھتے ہیں بالغ نظر سیاسی جماعتوں کو ایسا کرنا بھی نہیں چاہئے ۔ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کو پہلے ہی آگاہ کرچکے ہیں کہ وہ صرف عوامی جلسے میں شرکت کریں گے اور کسی دھرنے وغیرہ کی حمایت نہیں کریں گے ۔ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے کے مطابق انہوں نے اپنے کارکنوں کو دھرنے میں شرکت سے متعلق کوئی ہدایات بھی جاری نہیں کیں ہیں ۔ اس حوالے سے اگلے روز پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف کے ہمراہ آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا تھا کہ پارٹی کے تاحیات قائد نواز شریف نے انہیں آزادی مارچ میں صرف ایک روز کے لیے شرکت کرنے کا کہا تھا ۔ اسی طرح پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکریٹری جنرل فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی نے کثیر الجماعتی کانفرنسز اور رہبر کمیٹی کے اجلاس کے دوران واضح کردیا تھا کہ وہ غیر معینہ مدت تک جاری رہنے والے دھرنے میں شرکت نہیں کریں گے ۔ ادھر حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ اور وزیر دفاع پرویز خٹک نے مولانا فضل الرحمن کی طرف سے وزیر اعظم کو گھر سے گرفتار کرانے کی دھمکی پر شدید رد عمل دیتے ہوئے اسے بغاوت قرار دیا ہے اور کہا ہےاس بیان پر ہم عدالت جارہے ہیں کیونکہ یہ لوگوں کو ایک غیر آئینی اقدام اٹھانے پر اکسا رہے ہیں اور یہ بغاوت کے زمرے میں آتا ہے ۔ یہ ساری صورتحال واضح کرتی ہے کہ مولانا فضل الرحمن جس سیاسی عدم استحکام کو ہوا دینے کے ایجنڈے پر نکلے ہیں اس سے ملک انارکی کا شکار ہو جائے گا جس سے تاک میں بیٹھا دشمن فائدہ اٹھا سکتا ہے لہذا مولانا فضل الرحمن صاحب جوش کی بجائے ہوش سے کام لیں ۔ ملک کی سرحدوں پر دشمن لشکر کشی کے منصوبے بنا رہا ہے جبکہ کشمیر ایشو اس مارچ اور دھرنے کے شور شرابے میں پسمنظر میں چلا گیا ہے ۔ 31اکتوبر کو ہی جب اسلام آباد میں مارچ کا ہنگامہ برپا تھا تو ادھر اسی روز نریندر مودی حکومت مقبوضہ کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر رہی تھی ۔ کسی کو خبر ہی نہ ہوئی کہ زمانہ کیا چال چل گیا ہے ۔ دوسری طرف وطن عزیز میں جمہوریت جو بڑی جدوجہد کے بعد تسلسل کے ساتھ آگے بڑھنے کے قابل ہوئی ہے ، کہیں خدانخواستہ محدود مفادات کی خاطر کسی بڑے دھچکے سے دوچار نہ ہو جائے،اگر ایسا ہوا تو اس کی ذمہ داری آخر کس پر ہو گی ۔

مقبوضہ وادی،جبرواستبداد کے نوے روز، اقوام عالم اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے سکیورٹی دستوں کے غاصبانہ قبضے اور لاک ڈاءون کو 90 روز مکمل ہوگئے ہیں ۔ ان تین ماہ کے دوران پابندیوں ،کرفیو،اور گرفتاریوں سے کشمیری عوام کی زندگی اجیرن بنی رہی جبکہ اس جنت خطے کی سیاحت اور معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے ۔ ذراءع ابلاغ کی معطلی کے باعث دنیا حقیقی صورتحال سے بے خبر رہی ۔ اگر کوئی میڈیا پرسن اپنی کوشش سے رسائی حاصل بھی کر لیتا تو اسے فورسز کی جانب سے تشدد کا سامنا کرنا ہڑتا رہا ہے،90 روز سے معمولات زندگی مفلوج ہے،ماسوائے چند دکانوں کے کچھ دیر کھلنے کے علاوہ کاروباری مراکز،تعلیمی ادارے اور ٹرانسپورٹ بھی بند ہے ۔ میٹرک اور بارہویں جماعت کے ہونے والے امتحانات بھی ان پابندیوں سے شدید متاثر ہوئے ہیں ۔ نماز جمعہ کے اجتماعات تک منعقد نہیں ہونے دیئے جا رہے ۔ حتی کہ ہسپتالوں تک ایمرجنسی رسائی بھی مشکل بنا دی گئی ہے ۔ غذائی اجناس اور ادویات کی قلت کے باعث شرح اموات بھی بڑھ رہی ہے ۔ اس کے باوجود مودی حکومت سب اچھا کی رٹ لگائے ہوئے ہے ۔ انسانی حقوق کی تنظی میں مسلسل احتجاج کر رہی ہیں کہ کشمیر کے لاک ڈاون کو ختم کیا جائے ۔ اقوام متحدہ بھی اس ساری صورتحال پر بار بار تشویش کا اظہار کر رہی ہے ۔ جبر و استبداد کے ان نوے دنوں میں بھارت کشمیری عوام کے دل و دماغ سے نزید دور چلی گئی ہے ۔ اگرچہ تمام سیاسی قیادت جیلوں میں ہے لیکن کشمیری عوام کو جب کہیں موقع ملتا ہے وہ بھارتی حکومت اور فورسز کے خلاف اپنا غم و غصہ نکالنے میں دیر نہیں لگاتے ۔ مقبوضہ کشمیر کی اس بدترین صورتحال پر اقوام عالم کی تشویش ضرور ہے لیکن وہ اپنا کردار ادا کرنے میں پوری طرح ناکام ہے ۔

جعلی نوٹ ،جعلی ادویات ، جعلی سگریٹ ، جائیں تو جائیں کہاں

پچھلے ہفتے راقم اپنے میڈیکل ٹیسٹ دکھانے اسلام آباد نوری اہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فہیم صاحب سے آپ کے آفس گیا ۔ آ پ سے ملا قات ہوئی ۔ رپورٹس دیکھ کر کہا سب اچھا ہے ۔ باتوں ہی باتوں میں مجھے اپنے ٹیبل کے دراز سے پانچ ہزار کا نوٹ نکال کر بتایا کہ یہ کوئی مجھے دیا گیا ہے جو کہ جعلی ہے ۔ اس نوٹ کو دیکھ کر راقم کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ واقعی جعلی ہے ۔ میرے پاس بھی ایک پانچ ہزار کا نو ٹ تھا ۔ دونوں کو ایک ساتھ رکھا ۔ سائز میں ایک جیسا ، رنگ میں ایک جیسا ، چمکتی تار بھی موجود ۔ قائد کی فوٹو بھی موجود یعنی ہر چیز وہی تھی جو اصلی نو ٹ میں دکھائی دے رہی تھی ۔ جب نہ سمجھ سکھا تو کہا سر یہ نوٹ بھی اصلی ہے ۔ کہا نہیں یہ نقلی ہے ۔ اسے اپنے پاس رکھو ۔ اس پر ریسرچ کرو ۔ بنک سے انفارمیشن لو اور کالم لکھو ۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا آپ نے میرے دل کی بات کی ہے ۔ میں بھی یہی سوچ رہا تھا ۔ اس کے بعد اس جعلی نوٹ کو الگ سے پرس میں رکھا ۔ دوسرے روز سپریم کورٹ بار میں اپنے چندساتھیوں کو اصلی اور نقلی نوٹ دکھایاتووہ بھی فرق محسوس نہ کر پائے ۔ اس کے بعد سپریم کورٹ میں موجود بنک میں گیا ۔ وہاں آپریٹر منیجر اویس علی سے ملا پوچھا کیا آپ کے پاس نوٹ چیک کرنے والی مشین ہے ۔ کہا جی ہاں ہے ۔ راقم نے دونوں نوٹ اس کے ہاتھ میں دیئے کہ چیک کر کے بتائیں کہ کون سا نو ٹ جعلی ہے ۔ جتنی دیر میں سوال ختم ہوا آپ نے فوری بتا دیا کہ یہ نوٹ جعلی ہے ۔ اتنے میں برانچ منیجر عمران یونس اپنی کرسی سے اٹھے اور کہا دکھائیں میں آنکھیں بند کر کے آپ کو بتا دوں گا کہ کون سا نوٹ جعلی ہے ۔ پھر برانچ منیجر عمران نے دونوں آنکھیں بند کیں اور میں نے دونوں نو ٹ آپ کے ہاتھ میں دیئے ۔ ایک سیکنڈ میں اپنی انگلیوں سے ٹچ کرتے ہوئے کہا یہ نوٹ جعلی ہے ۔ واقعی یہ نوٹ جعلی تھا ۔ پھر مجھے بنک کی دیوار پر لگی جعلی نوٹ کے بارے میں اسٹیٹ بنک کی جانب سے ایشیو پوسٹر دکھایا ۔ جس میں واضح طور پر لکھا تھا کہ عام آدمی کیسے جعلی نوٹ کو پہچان سکتا ہے ۔ لیکن اصل معلومات کم وقت میں جعلی نوٹ کے بارے میں برانچ منیجر عمران یونس نے بتاتے ہوئے کہا کہ اصلی نوٹ کا پیپر رف ہوتا ہے ۔ جبکہ نقلی نوٹ کے پیپر میں پھسلن ہوتی ہے ۔ جعلی نو ٹ پر سلپری سے انگلیاں رگڑنے سے پھسل جاتی ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ ہر کوئی نوٹ لیتے وقت ہر نوٹ کو کوئی غور سے نہیں دیکھتا ۔ انگلیاں پھیر کر چیک نہیں کرتا ۔ اسے یاد بھی نہیں رہتا کہ نوٹ کس نے دیا تھا یہ جعلی نوٹ میرے پاس کہاں سے آیا اگر ایسے میں یہ جعلی نوٹ استعمال کر ے گا تو گرفتار ہوسکتا ہے ۔ پھر ایسے شخص کو پولیس کے حوالے کرنے پر اسے پولیس حراست میں لے سکتی ہے ۔ کیونکہ جعلی نوٹ رکھنا اسے چلانا ایک قابل جرم فعل ہے ۔ لہٰذا احتیاط کی ضرورت ہے ۔ ایک اچھے شہری کا فرض بنتا ہے کہ وہ جانتے ہوئے جعلی نوٹ کو استعمال میں نہ لائیں ، بچوں کو بھی کھیلنے کو نہ دیں ۔ بلکہ بہتر ہے اسے جلادیا جائے ۔ یہی سمجھیں کہ نوٹ کہیں گر گیا ہے مجھے پانچ ہزار کا نقصان ہو چکا ہے ۔ اس نقصان کو برداشت کرنا بہتر ہے ۔ ورنہ اس جعلی نوٹ کو چلا کر خود مشکلات میں پھنس سکتے ہو ۔ اس جعلی نوٹ کو دیکھ کر لگتا ہے کہ کوئی عام آدمی جعلی نوٹ بنانے والی مشین نہیں رکھ سکتا ۔ یہ کام انہی اداروں میں کام کرنے والے افراد کا ہے جو اصل نوٹ چھاپتے ہیں ۔ سوائے پیپر کے باقی سب اصلی کام لگتاہے ۔ اس پر کوئی تحقیقاتی کمیشن بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ پتا چلا یا جا سکے کہ اس کے پیچھے کون لوگ ہیں ۔ فی الحال تو یہی لگتا ہے کہ جعلی نوٹ بنانے والی وہی لوگ ہیں جو اصلی نوٹ چھاپنے کا تجربہ رکھتے ہیں ۔ ورنہ عام آدمی ایسا دھندہ کر نے کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔ ہمارے ہاں کوئی کرائم نہیں ہو سکتا جب تک مقامی پولیس اس میں شامل نہ ہو ۔ جعلی نوٹوں کے دھندے سے غریب کی زندگی اجیرن ہو سکتی ہے ۔ پولیس اسے بے جا تنک کر سکتی ہے ۔ لہٰذا ایسے اصل دو نمبر لوگوں کا گرفتار کرنا ضروری ہے جنہوں نے عام آدمی کا جینا محال کر رکھا ہے ۔ ابھی تک تو یہی لگتا ہے کہ قانون کمزور ہے جو اس مکروہ دھندے کو ختم نہیں کر سکا ۔ اسی طرح کا ایک دھندہ جعلی ادویات کا بھی ہے ۔ جس کے باعث انسانی جانوں سے کھیلا جا رہا ہے ۔ بہت ساری ادویات ہماری پڑوسی ملک سے سستی ہونے کی بنا پر اسمگل ہوتی ہیں ۔ پھر پاکستانی کمپنیاں اپنی پیکنک میں لپیٹ کر ڈبل قیمت پر فروخت کر تی ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ ادویات کا یہ دھندہ وہی کمپنیاں کرتی ہیں جو پاکستان میں یہ اداویات بناتی ہیں ۔ پھر ڈبل پیسے بناتی ہیں ۔ ہمارے ہاں کرپشن پر کوئی کنٹرول نہیں ۔ اگر کہا جائے کہ کرپشن کی دلدل میں ہر کوئی رنگ چکا ہے تو غلط نہ ہو گا ۔ ادویات کی قیمتوں پر کوئی کنٹرول نہیں رکھتا ۔ کہا جاتا ہے کہ فائل پر پہیہ لگاءو اور ادویات کی قیمتیں اپنی مرضی سے بڑھا ءو ۔ کہا جاتا ہے کہ بعض ادویات کے کھانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اس لئے کہ یہ جعلی ہوتی ہیں ۔ ملکہ ترنم نور جہاں مرحومہ جب حیات تھیں تو اپنے علاج سے جب مطمئن نہ ہوئی تو علاج کےلئے امریکہ چلی گئیں ۔ ڈاکٹروں نے وہاں بھی یہی ادویات کھانے کو دیں ۔ میڈم نے ڈاکٹروں کو بتایا یہ تو ادویات تو استعمال کر چکی ہوں لیکن ڈاکٹروں نے میڈم کو بتایا کہ آپ کی بیماری میں یہی میڈیسن ہیں ۔ انہی ادویات سے علاج شروع ہوا اور میڈم تندرست ہو گئیں پتہ چلا کہ جو ادویات یہاں کھا رہی تھیں ان کا نام تو ٹھیک تھا مگر ادوایات جعلی تھیں ۔ یسا ہی حال سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کا ہے ۔ مارکیٹ میں اصلی سگرٹ کو خود ہی کم داموں پر فروخت کرتے ہیں ۔ یہ کم قیمت والے سگریٹ اسی فیکٹری کارخانے میں تیار ہوتے ہیں جو سگریٹ اصل قیمت والے سگریٹ بناتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ ایسا اس لئے ہے کہ کسٹم والا مال کم بناتے ہیں جب کہ غیر کسٹم کا مال زیادہ بناتے ہیں ۔ اس میں انہیں کسٹم نہیں دینا پڑتا اس مال سے بننے والے سگرٹ کم قیمت پر فروخت کر کے زیادہ منافع بناتے ہیں ۔ ایسے سگریٹ کھلے عام بازاروں میں فروخت ہو رہے ہیں ۔ مالکان پیسے بنا رہے ہیں ۔ لیکن ان کو پوچھنے والا پکڑنے والا کوئی نہیں ۔ اسلام آباد بار کے ایڈووکیٹ مجیب کیانی میرے دوست بھائی کے سسرالی چائنیز ہیں ۔ ان کے چیمبر میں اکثر چائنیز بیٹھے دکھائی دیتے ہیں ۔ آپ کے چیمبر میں ایک چائنیز بزنس مین سے ملاقات ہوئی ۔ بتایا کہ میرے پاس پاکستانی بزنس کرنے وہاں آتے ہیں ۔ انہیں میں نویش کرنے کی دعوت دوں توفوری قبول کر لیتے ہیں ۔ دونمبر اشیا خریدکر اس پر مشہور برانڈ کی اسٹمپ لگانے کو کہتے ہیں ۔ مگر کھانا کھانے کی آفر دوں تو کہتے ہیں ہم حلال فوڈ کھائیں گے کیونکہ ہم مسلم ہیں ۔ پوچھتا ہوں کیا مذہب پینے کی دو نمبر کام کرنے کی اجازت دیتا ہے ۔ جواب میں یہ مسکرا کر میر ے سوال کو ٹال دیتے ہیں ۔ یہ چینی دوسرے لفظوں میں یہ سب کچھ بتا کر ہم سب کو آئینہ دکھارہا تھا کہ شائد ہ میں شرم آ جائے ۔ مگر شرم ہم کو نہیں آتی ۔ آئینہ توبہت ساری اشیا ہمارے قول فعل اکثر دکھا تی رہتی ہیں ۔ حاجیوں کی تعداد کے لحاظ سے ہم دنیا میں دوسرے نمبر پر اور عمرہ کرنے والوں میں پہلے نمبر پر ہیں ۔ جبکہ ایمانداری کے انڈیکس کے مطابق ہم ایک سو ساٹھ ویں نمبر ہیں ۔ ہمارے ہاں پانچ سو یو نٹ کو پندرہ سو یو نٹ لکھنے والا میٹر ریڈر بھی ہے ۔ گوشت کے ساتھ چھچڑے مکس کرنے والا قصائی بھی ہے ۔ خالص دودھ میں کیمیکل ملانے والا دودھ فروش بھی ہے ۔ بے گنا ہ کی ایف آئی آر لکھنے والا ایس ایچ او بھی ہے ۔ گھر بیٹھ کر حاضری لگوا کر تنخواہ لینے والا استاد بھی ہے ۔ کم ناپ تول کر کے پورا پیسے لینے والا دوکاندار بھی ہے ۔ دس روپے کے سودے میں ایک روپیہ غائب کرنے والا بچہ بھی ہے ۔ انٹرنیشنل میچوں میں میچ فکسنگ کرنے والا کھلا ڑی بھی ہے ۔ ساری رات فل میں دیکھ کر اذان کے سنتے ہی سونے والا نوجوان بھی ہے ۔ دواءوں اور لیبا ٹری ٹیسٹ پر کمیشن کے طور پر عمرہ کرنے والا ڈاکٹر بھی ہے ۔ اپنے قلم کو بیچ کر پیسہ کمانے والا صحافی بھی ہے ۔ جعلی کیس بنانے والا وکیل بھی ہے ۔ یعنی ہمارے ہاں ایسے لوگ وافر مقدار میں ہیں ایسی چھو ٹی مو ٹی بیماریاں ،خامیوں والے لوگ ہمارے ہاں عام پائے جاتے ہیں ۔ ہ میں دوسروں کی خامیاں تو دکھائی دیتی ہیں اپنی نہیں ۔ نہ انسانیت کا ہم پر اثر ہے اور نہ ہی مذہب کا ۔ لہٰذا اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب اپنی اپنی خامیوں کی نشاندہی او اپنا علاج خود کریں اور جو کام اداروں کے کرنے کے ہیں اس کےلئے دعا کریں ۔

دوربین نہیں جناب ۔ عقل سلیم سے کام لیں

چھوٹی سی ریلی کو بہت بڑا ریلا ، دھرنی کو دھرنا بلکہ جم غفیر دکھانا صرف کیمرہ ٹرک سے ممکن ہے، لیکن کراچی کی ایک سیاسی کم لسانی جماعت کا ایجاد کردہ ۔ ۔ پارٹی نظم و ضبط ۔ ۔ شروع سے کچھ ایسے مثالی رہا کہ وہ لوگ صرف چند منٹوں کے نوٹس پر اپنے تربیت یافتہ کارکنان کو اکھٹا کر کے بیٹھنے کی ایسی ترتیب بناتے کہ چند سو بندے ہزاروں میں نظر آتے، یعنی بندے سڑکوں پر پھیلا دو اور قطرے کو سمندر بنا دو اور یوں وہ اپنے حریفوں پر عددی دھاک بٹھاتے ۔ اور کچھ اسی ترتیب سے بالاخر لاکھ سوا لاکھ انسانوں کا ٹھانٹھیں مارتا سمندر مولانا صاحب کی قیادت میں اپنے پروگرام کے مطابق 31 مارچ کی شام کو ایوان اقتدار سے صرف چند فرلانگ دور وزیراعظم ہاوس پر اپنی نظریں جمائے اپنے پہلے پڑاو کی خاطر کشمیر ہائی وے پر قابض ہو کر بیٹھ گیا ہے ۔ خبروں کے مطابق پورا اسلام آباد سیل ہے اور زندگی جام ہو کر رہ گء ہے ۔ لشکر کشی کے بعد سب سے پہلا کام مولانا صاحب نے جو دوسروں سے اچھوتا کیا وہ مجمعے کا دوربین سے مشاہدہ و معائنہ تھا ۔ پچھلے چند دنوں سے مسلسل کم از کم 15 لاکھ انسانوں کا اکٹھا کرنے کا دعوی کیا جاتا رہا، آج بھی کراچی سےخیبر تک عام عوام کی شرکت کے دعوے کیے جا رہے ہیں جو کسی حد تک درست مان لیتے ہیں ، ہاں عام عوام تو ان کا تماشہ دیکھ رہی ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس خاص مذہبی فرقے کے ۔ ماشا اللہ ۔ گوادر سے کراچی اور خیبر سے اسلام آباد تک راستے میں سیکڑوں مدرسے اور مساجد ہیں جہاں سے اگر پندرہ بیس بیس لوگ بھی شرکت کریں اور سپانسر پارٹیوں کے پانچ دس ہزار ورکروں کو بھی شمار کریں تو بات ہزاروں میں پہنچ سکتی ہے ۔ لیکن بھلا ہو ان جدید ۔ ڈرونز ۔ کا، جو ایک ہی گول چکر میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیتے ہیں ۔ دراصل مولانا صاحب دوربین سے مشاہدہ اس بات کا کر رہے تھے کہ دونوں اطراف کشمیر ہائی وے پر نہایت ہی عمدہ ترتیب سے پھیلائے گئے کارکن کتنی دور تک پھیلے ہوئے ہیں ، مجمعے کی ترتیب دیکھیں تو عام کارکن تو سٹیج سے ویسے بھی کافی دور تھے کیونکہ سٹیج کے سامنے مولانا کی خاکی ملیشیا قطار در قطار ایسے بٹھاء گئی کہ وہ خود ایک بڑا کراوڈ لگتا ہے ۔ دوربین سے بہرحال دیکھنے سے چاہے تعداد 15 لاکھ نہ بھی ہو تو ایک نفسیاتی دھوکہ ضرور دیا جا سکتا ہے کہ بندے اتنے ذیادہ ہیں کہ عام نظریں اسکا احاطہ کرنے سے قاصر ہیں اسی لیے دوربین کا سہارا لیا جا رہا ہے ۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ مولانا صاحب دوربینوں سے سیدھا سڑک پر دیکھ رہے تھے دائیں بائیں بالکل نہیں گھومے ۔ کیونکہ مجمع سارا سامنے سیدھا براجمان تھا اور دائیں بائیں خالی تھا ۔ بھائی ظاہر ہے جب بندے اکھٹے کرنے کی ترتیب کچھ ایسی ہو کہ قطاروں کو پیچھے کی طرف اتنا دور تک بڑھایا جائے تو دوربین ہی سے پھیلاوَ کا پتہ چل سکتا ہے ۔ اور اس کام کیلئے انکی ملیشیا خاصی مہارت رکھتی ہے جو تھوڑے تھوڑے وقفے سے کارکنان کی صفوں کو اپنے حساب سے ترتیب دیتے رہتے ہیں ۔ ہاں یہ بھی ممکن ہے کہ تین چار دنوں کے سفر کے بعد ان مخصوص دوربینوں سے مولانا اپنی اصل منزل مقصود یعنی ۔ پارلیمنٹ ہاوَس ۔ کا بقیہ فاصلہ ماپ رہے تھے یا واقعی بندے گن رہے تھے ۔ جو بھی تھا طریقہ بڑا اچھوتا اور نرالہ تھا ۔ اور نفسیاتی حربہ کے طور پر یقینا اپنا کام کر گیا ہو گا ۔ ایک بات یہ ضرور ثابت ہوتی ہے کہ ایک بڑے پاور شو کے باوجود بندے لاکھ سوا لاکھ سے زیادہ یہاں موجود نہیں ہو پائے، جبکہ اس سے دس گنا تو آپ کا حاصل کردہ ووٹ ہے ۔ اب فیصل واوڈا اور سومرو صاحب نے ایک ٹاک شو میں جو آپس میں شرطیں لگائیں تھیں انکا کیا بنے گا ۔ مولانا غفور حیدری صاحب کے متکبرانہ بلند دعوءوں کا کیا ہو گا کہ لاکھوں کی نہیں کروڑوں کی بات کریں ۔ اس پہلے بھی ہم ۔ ظالموں قاضی آ رہا ہے ۔ کا بہت شور و غلغلہ سنتے رہے، وہ بھی مذہبی طبقے کا مارچ یا دھرنا تھا ، لیکن قاضی صاحب جسکے خلاف آ رہا تھا، اسوقت کا ۔ ۔ وہ ۔ ۔ اپنی جگہ سے ایک انچ پیچھے نہ ہٹا، لیکن قاضی صاحب کی آمد کو اکھیاں اڈیکدیاں اور دل واجاں ہی مارتا رہ گیا ۔ ڈبے خالی کے ساتھ ساتھ عوام کے دل بھی قاضی صاحب کیلئے با لکل خالی نکلے، یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی اپنی تمام تر اچھائیوں کے ملکی سطح پر آج تک کوئی خاص کردار ادا نہ کر سکی ۔ ٹھیک ہے مولانا فضل الرحمان صاحب نے مذہبی کارڈ استعمال کرتے ہوئے ۔ جمعیتی طالبان ۔ کا ایک اچھا مجمع اکھٹا کر لیا، اور اسلام آبار جیسے چھوٹے شہر میں تو پچاس ہزار بندوں کا اکھٹ ہی بہت بڑی بات ہے، لیکن دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ انکے موجودہ دور کے اتحادی 9 ستاروں کی حاضری اس میں بالکل برائے نام رہی ۔ بڑے بڑے لیڈر ایسے سامنے آئے جیسے عام سی فلموں میں دو چار منٹ کے مہمان اداکار آتے ہیں ، یہ بھی ایک ایک کر کے آئے، مولانا کا شکریہ ادا کیا اور خدا حافظ ۔ یہ بڑی بڑی مین سٹریم پارٹیاں اسقدر گر جائیں گی کوئی سوچ بھی نہیں سکتا،انہیں معلوم نہیں کہ انکا کتنا ناقابل تلافی نقصان ہو چکا ہے، انہوں نے یہاں صرف حاضریاں نہیں لگائیں بلکہ اپنی اپنی سیاسی قبریں کھودتے رہے ہیں جو وقت آنے پر انکے گلے پڑے گا ۔ شہباز شریف صاحب نے بھی اپنا ہومیوپیتھک قسم کا شو لگایا اور کھسکنے میں ہی عافیت جانی ۔ دلچسپ صورت حال اسوقت دیکھنے کو ملی جب بلاول بھٹو زرداری کنٹینر پر کھینچ کر چڑھائے گئے، اوپر آنے پر مولانا نے انکو فورا اچک لیا، ہاتھ کھڑے کرا کے حاضری لگواء، اپنا تازہ کلام سنانے کی دعوت دی اور انکے رٹے رٹائے خطاب کے بعد ابھی انہیں بھاگنے کا پورا موقع ہی نہیں ملا کہ بلند و بالا لاوڈ سپیکروں پر اسلامی دھنوں پر ترتیب دیے گئے جدید اسلامی دور کے آج کے ملاں کی شان میں یہ بول گونجنے لگے،’’مولانا آ رہا ہے، مولانا آ رہا ہے ۔ ‘‘ بے پناہ عوامی مقبولیت کی حامل پاکستان کی کسی دور میں سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے نوزائیدہ لیڈر نے بحرحال خفت مٹانے کےلئے مولانا کی لمبی چوڑی کمر کے پیچھے چھپنے میں ہی عافیت جانی، لیکن انکی بے تکی مسکراہٹ کے پیچھے چھپی حسرت و یاس یہ صاف بتا رہی تھی کہ وہ ضرور ماضی کے ان دھندلکوں میں کہیں گم تھا جب کبھی انکی ممی اور پہلے انکے نانا اپنے اپنے ادوار میں کیسے اس سے بھی دس دس گنا مجمع اکھٹا کر لیا کرتے ۔ بحرحال آج تک کی کارگزاری کا نتیجہ کہہ لیں یا تجزیہ، تو سیاسی طور پر تو سب کچھ مولانا صاحب نے ہی لوٹا ہے اور باقی لوگ ہر چیز داو پر لگانے کے باوجود سارے ہارے ہوئے جواری ہی لگتے ہیں ۔ شام کے اس اجتماع میں مولانا کے دیو ہیکل سائے میں وقفے وقفے سے کء دوسرے اتحادی لیڈر آتے جاتے، اپنا اپنا دکھڑا سناتے رہے، جن سب کا جواب مولانا صاحب نے اپنی تقریر میں مفصل طور پر جواب دیا، خاص طور پر مذہبی کارڈ پر چند دنوں قبل بلاول بھٹو زرداری کے واضح موقف پر کھڑے کھڑے ایسا کھرا جواب ان کے منہ پر دے مارا کہ جہاں ہم چاہیں گے مذہبی کارڈ بھی استعمال کریں گے، وہ کون ہوتے ہیں ہ میں روکنے والے ۔ جس پر بلاول کی شرمندگی قابل دید تھی ۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ ہنس رہے تھے یا رو رہے تھے ۔ بہرحال مولانا صاحب نے جب ان سب کو اکھٹا کر لیا تو پھر اچانک اپنے دل کے اندر چھپی وہ شاطرانہ چال چلی ہے کہ یہ سارے نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے ۔ مولانا نے غیر متوقع طورپر اپنے مطالبے کو دو دن کے اندر اندر وزیر اعظم کے استعفے تک محدود کر کے انہیں آگے کھڈا پیچھے کھاء والی صورت حال سے دو چار کر دیا ۔ اوپر سے مولانا کا چیلنج کہ انکے کارکنان وزیراعظم ہاءوس میں گھس کر وزیراعظم کو گرفتار کرنیکی قدرت رکھتے ہیں ۔ مولانا کی یہ دھمکی دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہے، جو کسی وقت ان سب کے گلے پڑنے والی ہے ۔ آئے تھے نمازیں بخشوانے، روزے گلے پڑ گئے ۔ مولانا صاحب نے کام کو کچھ اتنا اونچا کھینچ لیا ہے کہ اب ان سب کی واپسی وہاں سے تقریبا ناممکن ہے ۔ نہ عمران خان استعفیٰ دے گا نہ انکو کوئی یہاں سے آگے بڑھنے دے گا ۔ مولانا تو پہلے کا ڈوبا ہوا تھا، یہ اب 9 ستاروں کو بھی ڈبونے کا پروگرام بنا چکے ہیں ، ایک طرف عمران خان کہتا ہے کہ وہ آخری گیند تک کھیلتا ہے ، مولانا بھی کہتا ہے کہ وہ تمام کی تمام کشتیاں جلا کر آیا ہے، سخت اعصابی جنگ شروع ہو چکی ہے،دیکھتے ہیں کون ، کب اور کیسے اپنے موقف پر قائم اور کون یوٹرن لیتا ہے ۔ سو جناب گھوڑا بھی حاضر ہے اور میدان بھی ۔ لیکن جو بات اس نازک صورتحال میں کرنیوالی ہے وہ صبر و تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دور بینوں کی بجائے صرف عقل سلیم سے کام لینا ہے اور اگر حکومت اس میں پہل کردے تو یہ اسکا بڑا پن ہو گا ۔ وگرنہ آئین شکنوں کیلئے قانون اپنا راستہ خود بناتا ہے ۔

کشمیر اور اپوزیشن کی دھرنا سیاسست

پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے کشمیری قوم کو تین ماہ کی اذیتیں ، جس میں قید خانے، کرفیو، محاصرے ، انٹر نیٹ اورمیڈیاکی پابندی کے بعد بلآ آخر کشمیر کو دو حصوں ،لداخ اور جموں کشمیر میں تقسیم کر کے بھارت میں ضم کر لیا جبکہ کشمیری تکمیل پاکستان کے لیے ۲۷ سال سے اپنی جد وجہد جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ وہ پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں ۔ جب بھی کر فیوذرا نرم ہوتا ہے سڑکوں پر نکل آتے ہیں اورپاکستان کے حق میں نعرے لگاتے ہیں ۔ بھارت نے کشمیری قوم کو جیل میں بند کر کے اور کرفیو لگا کر من مانیاں کیں ۔ بھارت نے لداخ اور کشمیر میں اسسٹنٹ گورنر لگا دیے ہیں ۔ کشمیر کا جھنڈا ختم کر کے بھارت کا جھنڈا لہرادیا ۔ کشمیر کے ریڈیو اسٹیشنوں کا نام بدل کر ریڈیو ریڈیو آل انڈیا رکھ دیا ہے ۔ بلکہ کشمیریوں کا سب کچھ چھین کر بھارتی بنا دیا ۔ اب اپنے پرگروام کے مطابق آزادکشمیر پر حملہ کر کے اسے بھارت میں شامل کرنے کی کارروائی کرنے والا ہے ۔ دوسری طرف مولانا فضل ا لرحمان صاحب نے عمران حکومت کو ختم کرنے کے لیے اپنے پرانے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے پہلے ملک کے بڑے شہروں میں ۵۱بڑی ریلیاں نکالیں ۔ پھر کراچی سے اسلام آباد تک آزادی مارچ کے نام سے عمران خان حکومت ختم کرنے کے لیے اپنی آخری منزل تک پہنچ گئے ۔ اس احتجاج میں ملک کی چھوٹی بڑی ساری سیاسی جماعتیں شریک ہیں ۔ صرف جماعت اسلامی شریک نہیں وہ اس لیے کہ ایک طرف پاکستان کا ازلی دشمن بھارت پاکستان پر حملہ کرنے کے لیے بہانے ڈھونڈ رہا ہے ۔ پاکستان کی اپوزیشن اپنے خلاف نیب میں جاری مقدمے ختم کرانے کے لیے عمران خان پر دباءو بڑھانے کے لیے مولانا فضل الرحمان کے احتجاج میں شریک ہے ۔ جماعت اسلامی نے پورے ملک میں عوام کو تحریک تکمیل پاکستان کی جنگ میں کشمیریوں کا ساتھ دینے کے لئے شہروں شہر ریلیاں نکالیں ۔ اس تاریخی موقع پر وہ بھارت کی جنگی عزائم کے خلاف قوم کو یک جان کرنے کی جدوجہدکی ۔ جماعت اسلامی نے پورے پاکستان میں کشمیریوں کی تحریک تکمیل پاکستان کی تحریک میں کشمیریوں کا ساتھ دینے کے لیے ہمہ تن مصروف عمل ہے ۔ ۴ ۔ ۵ نومبر کواسلام آباد میں بین الاقوامی کشمیر کانفرنس منعقد کرنے والی ہے ۔ اس میں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کو دنیا کے سامنے رکھنے کا پروگرام ہے ۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ۔ کشمیر پاکستان کا قانونی طور پر ایک حصہ ہے ۔ بھارت نے ۷۴۹۱ء سے اس پر بزور قبضہ کیا ۔ یہ مسئلہ اب بھی اقوام متحدہ کی کازلسٹ پر موجود ہے ۔ اقوام متحدہ کشمیر میں رائے شماری کے لیے درجنوں قراردادیں بھی پاس کر چکی ہے ۔ مگر بھارت اس پر عمل کیا کرتا ،الٹا اب کشمیر کو بھارت میں مکمل طور پر شامل کر لیا ۔ ان حالات میں چاہیے تو یہ تھا کہ جماعت اسلامی کی طرح، پاکستان کی ساری سیاسی پارٹیاں اور حکومت متحد ہو کر بھارت کے ان عزائم کا مقابلہ کرتیں ۔ مگر افسوس ہے کہ وہ حکومت کو گرانے کے لیے اسلام آباد میں دھرنا ڈالے ہوئی ہیں ۔ اپنی تقاریر میں مسلم لیگ نون کے صدر جناب شہباز شریف، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری سمیت سارے مقررین نے حکومت، فوج اور عدلیہ کے خلاف تقریریں کیں ۔ نون لیگ کی قیادت نے نواز شریف کا پرانا نعرہ پھر دھرایا’’ ووٹ کو عزت دو‘‘ شہباز شریف نے کہا کہ نون لیگ کو حکومت دو ۔ ہم چھ(۶) ماہ میں حالت درست کر دیں گے ۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ ہم اس جعلی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے ۔ اسے خلائی مخلوق یعنی فوج لائی ہے ۔ عمران خان استعفیٰ دیں ۔ ملک میں نئے انتخابات کرائے جائیں ۔ انتخابات صرف الیکشن کمیشن کرائے ۔ فوج کا انتخابات میں کوئی رول نہیں ہونا چاہیے ۔ دھرنے میں یکم جنوری کے آخری خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے اپنی تقریر میں فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ناجائز حکومت کی سرپرستی چھوڑ دو ۔ عمران خان کو للکارتے ہوئے کہا کہ میں عمران خان وزیر اعظم پاکستان کو دو دن کا وقت دیتا ہوں کہ وہ استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں ۔ ورنہ یہ اجتماع آگے بڑھ کر خود اس سے استعفیٰ لے گا اور اسے گرفتار بھی کرلے گا ۔ لوگوں سے نعرے لگوائے کہ آگے بڑھو گے ۔ ڈی چوک جاءو گے ۔ وزیر اعظم ہاءوس جاءو گے ۔ جلسے میں شریک لوگوں نے کہا آگے بڑھیں گے ۔ جب تک آپ کہیں کے دھرنا دیں گے ۔ وزیر اعظم سے استعفیٰ لے کر ہی جائیں گے ۔ دوسری طرف عمران خا ن نے گلگت میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہ میں استعفیٰ نہیں دوں گا ۔ فضل الرحمان کہتا ہے کہ میں یہودیوں کا ایجنٹ ہوں ۔ قادیانی نواز ہوں ختم نبوت کے خلاف ہوں ۔ میں کہتا ہوں ایک فضل الرحمان کے ہوتے ہوئے کسی اور کی ضرورت نہیں ۔ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ کرپشن میں ملوث یہ سارے لوگ اکٹھے ہو جائیں گے ۔ اپنی کرپشن بچانے کےلئے مجھ پر پریشیر بڑھائیں گے ۔ مگر میں آج پھر اعلان کرتا ہوں کہ کسی بھی کرپٹ کو این او آر نہیں دوں گابلکہ کرپشن میں ملوث مذید لوگ بھی پکڑے جائیں گے ۔ ان حالت کا کوئی محب وطن تجزیہ کار جائزہ لے، تو سب سے پہلے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا اس پر مکمل عمل درآمد ہونا چاہیے تھا ۔ حکومت کہتی ہے کہ اپوزشن نے کو پورے پاکستان سے اسلام آباد آنے اور اپنا جمہوری حق ادا کرنے کا پورا موقع دیا گیا ۔ معاہدے کے مطابق اپوزیشن احتجاج کرتی ۔ مگرجہاں پہنچ کر ریڈ زون میں آنے پر لوگوں سے عہد لینے اور آگے بڑھنے کا کہنا نا جائز ہے ۔ اپوزیشن کہتی ہے کہ پہلے حکومت نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے ۔ مگر سب کو معلوم ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا پہلے سے ہی حکومت کو گرانے اور عمران خان کے استعفے کاپروگرام تھا ۔ حکومت کہتی ہے کہ عدلیہ کے حکم اور معاہدے پر عمل نہیں کیا گیا اور ریڈ زون پرچڑھائی کی کوشش کی گئی تو حکومت قانون کے مطابق مظاہرین کو روکے گی ۔ صاحبو!اس طرح تصادم ہونے کا امکان ہے ۔ ضرورت تو اس امر کی تھی کہ ساری قوم کشمیر میں جاری تحریک تکمیل پاکستان کی جنگ میں کشمیریوں کا ساتھ دیتی ۔ بھارت کوغیر آئینی غیر اخلاقی اقدام کرنے کے سامنے بندباندھتی ۔ حکومت کو پانچ سال پورے کرنے کا موقع دیتی ۔ حکومت کے غلط کاموں پر آئین کے مطابق گرفت کرتی ۔ اگر دیکھا جائے تومولانا فضل الرحمان، عمران خاں حکومت کو گرا خود توکبھی بھی پاکستان میں اکثریت حاصل نہیں کر سکتے ۔ توکیا پھر ملک پر چایس سال باریاں بدل بدل کر حکومت کرنے والی نون لیگ یا پیپلز پارٹی کو پھر سے حکومت دینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ذراءع کہتے ہیں اگر پاکستان میں اس وقت کرپشن پر کنٹرول نہ کیا گیا تو پھر کبھی بھی نہیں ہوسکے گا ۔ جماعت اسلامی ۶۳۴ آف شور کمپنیوں والوں کے خلاف سپریم کورٹ میں مقد مہ دائر کیا ہوا ہے ۔ ان کو عدالت کے سامنے لا کر قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے ۔ کیا اپوزیشن فوج پر تنقید کر کے اس مشکل وقت میں بھارت کے ہاتھ مضبوط نہیں کر رہی ہے ۔ ہماری فوج نے ملک سے دہشت گردی ختم کی ۔ اب حکومت کے ساتھ مل کر فاٹا میں ترقیاتی کام کر رہی ہے ۔ سرحد پر بھارت جنگ جاری رکھے ہوئے ہے ۔ اسوقت فوج کے ساتھ ایک پیج پر ہونے کی ضرورت ہے ۔ فوج فاٹا، اندرون ملک اور مغربی باڈر (۲) دو لاکھ فوج لگی ہے ۔ کسی طرح بھی ملک کے حالات خراب نہیں ہونے چاہئیں ۔ ورنہ اس سے بھارت کو آزاد کشمیر پر حملہ کرنے کا موقع مل جائے گا ۔ اپوزیشن کو چاہیے کہ عدالتوں میں اپنی بے گناہی ثابت کرے ۔ حکومت کو پانچ سال مکمل کرنے دے ۔ اپنے مطالبات جمہوری طرز پر پیش کر کے واپس چلے جائیں ۔ یہی جمہوری طریقہ ہے ۔ اگر ملک میں افراتفری ہوئی تو یہ نہ ہی اپوزیشن اورنہ ہی حکومت اور نہ ہی عوام کے لیے چھا ہو گا ۔ اس سے بھارت فائدہ اُٹھائے گا اور ایک روایت پڑ جائے گی کہ لاکھ دو لاکھ لوگ اسلام آباد میں جمع ہوکر کسی بھی حکومت کو گراتے رہیں گے ۔ پاکستان میں پہلی دفعہ، اللہ اللہ کرکے پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے اپنے اپنے پانچ سال مکمل کیے تھے ۔ اس تحریر تک اسلام آباد میں اپوزیشن کا دھرنا جاری ہے ۔ مورخ لکھ رہا ہے کہ پاکستان کی اپوزیشن نے کیا اپنا ملک، اپنی شہ رگ کشمیر کو بچانے کی کوشش کی، اقتدارحاصل کرنے یا اپنے ازلی دشمن بھارت کے ہاتھ مضبوط کرنی کی نادنستہ کوشش کی ۔

Google Analytics Alternative