کالم

بھارتی دہشت گردی کے دستاویزی شواہد !

ہندوستانی حکمرانوں نے توسیع پسندی پر مبنی جو پالیسی عرصہ دراز سے اپنا رکھی ہے وہ ایسا کھلا راز ہے جس کی بابت غالباً ہر ذی شعور بخوبی آگاہ ہے ۔ اسی تناظر میں ماہرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ اسے جنوبی ایشیاء کی بدقسمتی قرار دیا جائے یا حالات کی ستم ظریفی کہ تمام جنوبی ایشیائی ممالک کی زمینی یا سمندری حدود بھارت سے متصل ہیں جن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دہلی سرکار کی ہمیشہ سے یہ شعوری کوشش اور خواہش رہی ہے کہ جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہ ہو سکے اور تمام ہمسایے کسی نہ کسی طور بھارت کے دستِ نگر رہیں ۔ اپنی اسی توسیع پسندانہ حکمت عملی کے تحت ایک طویل عرصے تک سری لنکا بھارتی سازشوں کا مرکز رہا اور سری لنکا کے علاقے ’’جافنا‘‘ کو لے کر بھارت نے دہشتگردی کے سلسلے کو بے پناہ طوالت دی ۔ بعد ازاں سری لنکا میں ’’انڈین پیس کیپنگ فورس‘‘ کے نام پر بھارت نے باقاعدہ اپنی فوج داخل کر دی اور اس کے بعد ہونے والے واقعات و حوادث تاریخ کا ایک اہم باب ہیں ۔ یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اپنی ہی بھڑکائی ہوئی اس آگ کے نتیجے میں غالباً مکافات عمل کا شکار ہو کر سابق بھارتی وزیراعظم ’’راجیو گاندھی‘‘ بھی دہشتگردی کی نذر ہو گئے ۔ اس کے بعد بھی ایل ٹی ٹی ای اور تامل ٹائیگرز کے ذریعے یہ خطہ کسی نہ کسی طور متاثر ہوتا چلا آیا ہے ۔ پاکستان کے خلاف بھارتی ریشہ دوانیوں کا سلسلہ تو اتنا دراز ہے کہ اس کا مکمل طور پر احاطہ کر پانا ممکن نہیں ۔ کشمیر سنگھ، فقیر چند، کرنل پروہت ، سادھوی پرگیہ ٹھاکر، سوامی اسیم آنند، میجر اپادھیا اور راجیو ورما جیسے کئی دہشتگردوں کے ذریعے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں عرضہ دراز سے جاری ہیں ۔ دوسری طرف اپنے چھوٹے ہمسایے مالدیپ کے خلاف بھارت نے جس طرح فوج کشی کی ، وہ بھی بھارتی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے ۔ پھر سابقہ مشرقی پاکستان میں تو دہلی سرکار نے اپنی فوج کشی کر کے پاکستان کو دولخت کر دیا اور اس کا اعتراف اندرا گاندھی سے لے کر مودی، واجپائی ، حسینہ واجد اور ہر چھوٹے بڑے بھارتی حکمرانوں نے فخریہ طور پر کیا اور اس کی تفصیلات ساری دنیا پر عیاں ہےں ۔ جون 2015 کے پہلے ہفتے میں مودی نے دورِ ڈھاکہ کے دوران پاکستان کی بابت جو زہر اگلا تھا وہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے ۔ علاوہ ازیں 1987-88 میں نیپال کی اقتصادی ناکہ بندی کی گئی ۔ اس کے علاوہ نیپال میں نئے آئین کے نفاذ کے حوالے سے بھارت نے چند روز قبل کھلی اشتعال انگیزی پر مبنی جو رویہ اختیار کیا اس کی مذمت کے لئے الفاظ ڈھونڈ پانا بھی شاید ممکن نہیں ۔ بھوٹان میں بھی اکثر و بیشتر بھارت اپنی شرائط منواتا چلا آیا ہے ۔ دوسری طرف اس معاملے کی تفصیلات کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ 2016 کے سارک سربراہ اجلاس کو بھی بھارت نے پاکستان پر بے بنیاد الزمات لگا کر ان کی آڑ میں سبوتاژ کر دیا تھا ۔ اپنی خفیہ ایجنسی را، آئی بی اور کابل میں بھارتی مہرے این ڈی ایس کے ذریعے بلوچستان ، کے پی کے اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں دہشت گردی کو ہر ممکن ڈھنگ سے پروان چڑھانے کی سعی کی جا رہی ہے اور ان معاملات کے دستاویزی ثبوت پاکستان کی جانب سے ایک سے زائد بار دنیا کے سامنے لائے گئے ہیں ۔ اس سلسلے میں بھارتی دہشتگرد کلبھوشن یادو کے ذریعے جس طرح خود بھارتی ایجنسیاں دہشتگردی کو پروان چڑھا رہی تھیں ، وہ بھی سب کے سامنے آ چکا ہے ۔ علاوہ ازیں مودی نے اجیت ڈووال کو اپنے دوسرے دور حکومت میں بھی فوری طور پر دوبارہ بھارتی نیشنل سیکورٹی ایڈوائرز تعینات کیا اور مکمل وفاقی وزیر کا درجہ بھی دے دیا، تمام انڈین میڈیا انھیں بھارتی جیمز بانڈ قرار دے رہا ہے ۔ علاوہ ازیں مہندر سنگھ دھونی کو اعزازی کرنل کا درجہ بھی عرصہ دراز سے دے رکھا ہے ۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ توجہ رہنا چاہیے کہ دہلی کے حکمرانوں نے گوا ،دکن حیدرآباد، مناور، جوناگڑھ ، سکم اور مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کیا اور جنوبی تبت (مقبوضہ ارونا چل پردیش) میں اشتعال انگیزیوں پر مبنی جو پالیسی اپنا رکھی ہے اس میں بھی گاہے بگاہے شدت آتی رہی ہے ۔ اس سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دہلی کے حکمران اپنے سارے چھوٹے اور بڑے ہمسایوں کے ساتھ قیام امن کی بابت ذرا بھی مخلص نہیں اور وہ خطے میں اپنی بالا دستی پر مبنی پالیسیاں اپنی شرائط پر آگے بڑھانے کا مکروہ عمل جاری رکھنے کی سعی کر رہے ہیں ۔

دولت کی غیر مساویانہ تقسیم

اگر ہم موجودہ دور میں عالمی اور پاکستان کے مسائل پر نظر ڈالیں تو وہ بُہت سارے ہیں مگر ان میں جو سب سے اہم مسئلہ بھوک اور افلاس ہے ۔ اگر عالمی شما ریات پر طا ئرانہ نظر ڈالی جائے تو اس سے یہ بات ظاہر ہے کہ دنیا کے 6 ارب لوگوں میں ایک ارب لوگ خوراک نہ ہونے کی وجہ سے متا ثر ہو رہے ہیں ۔ جن میں 98 فی صد لوگ ایشیاء میں سکونت پذیرہیں ۔ بالفا ظدیگر کرہ ارض پر 6ارب انسانوں میں سے ایکارب بھوک اور افلاس کا شکار ہے ۔ اگر ہم افریقی ممالک پر نظر ڈالیں تو افریقی ممالک میں بھوک اور افلاس کی شرح اور بھی زیادہ ہے یعنی وہاں پر 4 میں سے ایک انسان انتہائی بھوک اور افلاس کا شکار ہے ۔ بد قسمتی سے ترقی پذیر ممالک میں 100 ملین بچے کم وزن کے پیدا ہوتے ہیں ۔ اور 66 ملین سکول کے ایسے بچے بھی ہیں جنکو مناسب خوراک کی عدم دستیابی کا سامنا ہے ۔ اگر ہم نے ان 66 ملین یعنی 6;46;6 کروڑ بچوں کو مناسب خوراک دینی ہے تو اس کام کے لئے 3;46;2 ارب ڈالر درکار ہوں گے ۔ اگر ہم غُربت کو ایک ڈالر کی شرح سے تصور کر تے ہیں تو جنوبی ایشیاء جو ڈھائی ارب لوگوں کا مسکن ہے اور جس میں بھارت، پاکستان ، نیپال، سری لنکا، بھوٹان، مالدیپ شامل ہیں تو اس وقت بھارت میں 44 فیصد لوگ خطر ناک غُربت کی سطح سے نیچے رہنے پر مجبو ر ہیں ، نیپال میں 38 فیصد ، پاکستان میں 31 فیصد، اور بنگلہ دیش میں 29 فیصد لوگ با لفاظ دیگر 6 ارب انسانوں کی آبادی میں 1;46;4 ارب انسان انتہائی غُربت کا شکار ہے ۔ اگر ہم غُربت کی شرح کو دو ڈالر کی تناسب سے کرتے ہیں تو پھر چین میں غُربت کی لکیر سے نیچے رہنے لوگوں کی تعداد 30 فی صد، بنگلہ دیش میں 77 فیصد، بھارت میں 69 فیصد، سری لنکا میں 29 فیصد ، نیپال میں 57 فیصد فلپائن میں 41 فیصد اور پاکستان میں 70 فیصد لوگ انتہائی غُر بت کا شکار ہے ۔ دنیا کا دوسرا بڑا مسئلہ خو راک کا ضیاع ہے ۔ یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ دنیا میں خوراک بڑی وافر مقدار میں ضائع ہو تی ہے ۔ امریکہ خوراک ضائع ہو نے کی فی کس شرح 760 کلوگرام ، آسڑیلیا میں 690 کلوگرام فی کس، ڈنمارک میں 660 کلوگرام فی کس، سوئزر لینڈ میں 650 کلوگرام فی کس اور ہالینڈ میں 610کلوگرام سالانہ خوراک فی کس ضائع کیا جا رہا ہے ۔ اگر ان خوراک کو ضا ءع ہونے سے بچایا جائے تو اس سے اُن غریبوں کی خوراک کی ضرو ریات پو ری کی جا سکتی ہیں جو خوراک کی کمی کا شکار ہیں ۔ اقوام متحدہ کے مطابق پو ری دنیا میں ایک تھائی خوراک ضائع کیا جا رہا ہے ۔ اگر ہم غذا کی سیکیو رٹی یعنی ذخیرہ کرنے کے نظام کو دیکھیں تو پاکستان اپنی ضروریات کا خوراک ذخیرہ کرنے والے 105 ممالک میں 77ویں نمبر پر ہے جبکہ اسکے بر عکس سری لنکا خوراک ذخیرہ کرنے والے ممالک میں 105 ممالک میں 60 ویں نمبر پر ، بھارت 67 ویں نمبر پر شامل ہے جبکہ اسکے بر عکس ترقی یافتہ ممالک میں امریکہ خوراک ذخیرہ کرنے والے ممالک میں پہلے نمبر پر ، کنیڈ ا 7 ویں نمبر پر، اور بر طانیہ 15 ویں نمبر پر ہے ۔ تیسرا بڑا مسئلہ جس سے پوری دنیا پریشان ہیں وہ غریب اور امیر کے درمیان فر ق ہے ۔ آج کل دنیا میں 10 فیصد مالداروں کے پاس 90 فیصد دولت ہے جبکہ 90 فی صد لوگوں کے پاس 10 فی صد ہے ۔ دنیا میں موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کی وجہ غریب اور امیر کے درمیا فر ق حد سے بڑھ گیا اور بد قسمتی سے پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں بھی غریب اور امیر کے درمیان حد سے بڑھ گیا ۔ یا تو لوگ حد سے زیادہ امیر ہے اور یا حد سے غریب ۔ موجودہ دور میں درمیانہ اور سفید پو ش طبقہ آخری سانسیں لے رہاہے ۔ اگر ہم پاکستان میں غُربت بھوک اور افلاس کو دیکھیں تو ان مسائل میں پاکستان کی فضول پالیسیاں ، کرپشن اور بد عنوانی، زمینوں کی نامناسب تقسیم، ملاک جمع کر نے کی سعی، علم اور تعلیم کی کمی، بڑے پیمانے پر امپورٹ ، لیڈر شپ کی کمی اور نج کا ری جیسے مسائل شامل ہیں ۔ دنیا میں غُربت افلاس اور بھوک کا سب سے بڑا مسئلہ دولت کا غیر مساویانہ تقسیم ، غیر پیداواری اخراجات اور کسی حد تک دفا عی اخراجات بھی ہیں ۔ سی آئی اے اور دوسرے مقتدر اداروں کے مطابق دنیا میں ٹوٹل دفا عی اخراجات تقریباً 1747 بلین ڈالر ہے جس میں سب سے زیادہ دفا عی اخراجات امریکہ کی ہے جو اپنی دفا ع پر تقریباً 700 بلین ڈالر خر چ کر رہا ہے ۔ جبکہ بر طانیہ کی دفا عی اخراجات 60 ارب ڈالر، جاپان کی 56ارب ڈالر، چین کی 166 ارب دالر اور روس کی دفا عی اخراجات 90 ارب ڈالر ہے ۔ اور پاکستان جیسے غریب ترقی پذیر ملک بھی دفا ع 7 ارب ڈالر سالانہ خرچ کررہا ہے ۔ اگر ہم مندر جہ بالا دفاعی اخرا جات پر نظر ڈالیں تو اس سے ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ دنیا کے سارے ممالک اپنے وسائل کا ایک بڑا حصہ دفا ع پر فضول خرچ کر رہا ہے جو ایک پاگل پن کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔ لہٰذا اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہ میں مندرجہ بالا فضول معاملات سے اپنے آپکو بچا نا چاہئے اور پو ری توجہ لوگوں کے س مسائل اور بالخصوص بھوک افلاس کو ختم کرنے پر دینا چاہئے ۔ اس کے علاوہ جب تک غریب اور امیروں کے درمیان فرق کو کم نہیں کیا جائے گا اُ س وقت تک غُربت ، بھوک اور افلاس پر قابو نہیں پایا جاسکتا ۔ میں اس کالم کے تو سط دنیا کے ہر مذہب کے عالموں ، سکالروں ، شاعروں ، ادیبوں ، دانا لوگوں ، اہل علم و دانش سے استد عاکرتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے ملکوں میں پریشر گروپ بنائیں اور حکومتوں کو اس بات پر مجبور کریں کہ وہ اپنے علاقائی مسائل بات چیت کے ذریعے حل کریں اور دفاع اور دوسرے غیر پیداواری چیزوں پر جو رقم خرچ کر رہے ہیں اُنکو اپنے لوگوں کے فلا ح و بہبود پر خرچ کریں ۔ تاکہ دنیا میں امن آشتی کو فروع ہو ۔ جب تک دنیا میں امن نہیں ہوگا اُس وقت تک ترقی ناممکن ہے ۔ مسلمان ممالک سے استد عا ہے کہ وہ اپنے ممالک میں اسامی اقتصادیاتی نظام اور بینکاری کو فروع دیں کیونکہ اسلامی نظام اقتصادیات میں سارے اقتصادی مسائل کا حل موجود ہے ۔ دنیا کا کوئی اور اقتصادی نظام دنیا میں اقتصادی خو شحالی کی گا رنٹی نہیں دے سکتا ۔

کلبھوشن کسی ریلیف کا حقدار نہیں

عالمی عدالت انصاف پاکستان میں گرفتار بھارتی جاسوس کمانڈر کلبھوشن یادیو کے کیس کا فیصلہ کل 17جولائی کو سنانے جا رہی ہے ۔ بلوچستان سے گرفتاری اورملٹری کورٹ سے سزائے موت سنائے جانے کے بعد بھارت کلبھوشن کو بچانے کیلئے اس معاملے کو ;200;ئی سی جے میں لے گیا جہاں کیس کی سماعت رواں سال کے ;200;غاز میں 18 فروری سے 21فروری تک جاری رہی ۔ بھارت نے کلبھوشن کو پھانسی دینے کے پاکستانی فیصلے کے خلاف اور ان تک سفارتی رسائی کے لیے اپیل کر رکھی ہے ۔ 18 فروری کو بھارت نے کلبھوشن کیس پر دلائل کا ;200;غاز کیا اور19فروری کو پاکستان نے اپنے دلائل پیش کیے ۔ 20 فروری کو بھارتی وکلا نے پاکستانی دلائل پر بحث کی اور21 فروری کو پاکستانی وکلا نے بھارتی وکلا کے دلائل پر جواب دیئے جبکہ سماعت مکمل ہونے کے بعد عالمی عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا ۔ اب پانچ ماہ بعد کیس کا فیصلہ کل سنایا جائے گا ۔ عالمی عدالت انصاف کا قیام 1945 میں اقوام متحدہ کے وجود میں ;200;نے کے فوری بعدعمل میں لایا گیا جس کا بنیادی مقصد دو ممالک کے درمیان قانونی معاملات کو حل کرانا ہے ۔ اگر اس بنیادی نکتے کو دیکھا جائے تو کلبھوشن کیس پہلے دن ہی ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جانا چاہئے تھا ۔ یہ عدالت نہ تو تحقیقات کا حق رکھتی ہے اور نہ خود مختار ریاستوں کے اقدام پر سماعت کر سکتی ہے ۔ تاہم یہ ایک الگ سوال ہے کہ ایسا کیوں ہوا ۔ ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں قائم یہ عدالت15ججوں پر مشتمل ہے جن کا تعلق چین، سلواکیہ ،فرانس، مراکش، برازیل، اٹلی، یوگینڈا، بھارت، جمیکا، ;200;سٹریلیا، روس، لبنان، جاپان اور بلجیم سے ہے ۔ عبدالقوی احمد یوسف عالمی عدالت انصاف کے صدر ہیں ان کا تعلق صومالیہ سے ہے جبکہ چین سے تعلق رکھنے والے زیو ہینجن اسکے نائب صدر ہیں ۔ تمام ججز نو سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں ۔ فیصلہ ;200;ئی سی جے کے صدر جج عبدالقوی احمد یوسف سنائیں گے ۔ کیس اور اس کا فیصلہ دونوں ممالک کےلئے اہم ہے ۔ اگر اس کا فیصلہ بھارت کے خلاف ;200;یا جسکے کافی امکانات ہیں تو بھارت کی ساکھ کو شدید دھچکا لگے اور اس پر یہ ثابت ہو جائے گا کہ وہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے ریاستی طور پر ملوث ہے ۔ جہاں تک دوسرے امکان کلبھوشن کو رہا کرنے کا ہے تو ایسا ممکن نہیں ہے کیونکہ اسے تحقیقات کا اختیار نہیں ، اور نہ اس کیس میں ایسا کیا گیا ہے ۔ ہاں البتہ عدالت سفارتی رسائی کا حکم دے سکتی ہے اگر عدالت ایسا کرتی ہے تو یہ بھی جانبداری کے زمرے میں ;200;ئے گا اور فیصلہ متنازعہ سمجھا جائے گا ۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے جاسوس کلبھوشن یادیوپر دہشت گردی کا جرم ثابت ہوا ہے اور ویانا کنونشن کے تحت ;200;ئی سی جے کو یہ اختیار بھی نہیں ہے،تاہم ایسا فیصلہ ;200;تا ہے تو پاکستا ن اس کا احترام کرے گا ۔ کلبھوشن کو مارچ 2016 میں بلوچستان کے علاقے ماشکیل سے اسے گرفتار کیا گیا تھا جو کچھ مقامی دہشت گردوں کے ساتھ مل کر ایک نیٹ ورک چلا رہا تھا ۔ ;39;را;39; ایجنٹ کی گرفتاری کے چند روز بعد اس کی ویڈیو بھی سامنے لائی گئی تھی، جس میں کلبھوشن یادیو نے اعتراف کیا تھا کہ اسے 2013 میں خفیہ ایجنسی ;39;را;39; میں شامل کیا گیا اور وہ اس وقت بھی ہندوستانی نیوی کا حاضر سروس افسر ہے ۔ کلبھوشن نے یہ بھی مانا تھا کہ 2004 اور 2005 میں اس نے کراچی کے کئی دورے کیے جن کا مقصد ;39;را;39; کے لئے کچھ بنیادی ٹاسک سرانجام دینا تھا جب کہ 2016 میں وہ ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوا ۔ پاکستان میں داخل ہونے کا مقصد فنڈنگ لینے والے بلوچ علیحدگی پسندوں سے ملاقات کرنا تھا ۔

یادیو ایک دہشت گرد ہے اور پاکستان کی فوجی عدالت (ان عدالتوں کو ;200;ئینی تحفظ حاصل تھا) میں یہ چیز ثابت ہونے کے بعد پاکستان ;200;رمی ایکٹ کے تحت 10 اپریل کویادو کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ۔ کلبھوشن کے پاس حسین مبارک پٹیل کے نام سے پاسپورٹ موجود تھا جسکے اصل ہونے کی برطانیہ کا فرانزک ادارہ تصدیق کر چکا ہے ۔ اسی پاسپورٹ یادیو نے حسین مبارک پٹیل کے نام سے 17بار دہلی کا فضائی سفر کیا ۔ بھارت ویانا کنونشن کے معاہدوں کے تحت سفارتی رسائی کی بات کرتا ہے تو کسی دوسرے ملک میں جاسوس بھیجنا بھی ویانا کنونشن کی خلاف ورزی ہے ۔ ویانا کنونشن کے مطابق کسی بھی ملک میں جاسوسی کرنے والے اور ملکی سیکورٹی کے لیے خطرہ بننے والے کو سفارتی رسائی نہیں دی جاتی ۔ بھارت کلبھوشن کے اعترافات کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار نظر ;200;یا، اس نے کلبھوشن کی رہائی کے لیے پاکستان پر دباءو ڈالا الزامات ا ور دھمکیوں کا سلسلہ شروع کیا مگر پاکستان کسی دباءو کو خاطر میں نہ لایا اورعالمی عدالتِ انصاف میں پوری تیاری اور مہارت سے کیس لڑا ہے ۔ اس کیس کا عالمی عدالت میں لڑے جانے کا یہ بھی فائدہ ہوا کہ بین الاقوامی پلیٹ فارم پربھارت کا صل چہرہ کھل کر سامنے آیا کہ بھارت کس طرح پڑوسی ممالک میں دہشت گردی کو فروغ دینے میں مصروف ہے ۔ اس حوالے سے بھارت کا ٹریک ریکارڈ خراب ہے ۔ سری لنکا میں ہونے والی دہشت گردی کئی سال تک بھارتی سرزمین استعمال ہوتی رہی ۔ سربجیت سنگھ اور کشمیر سنگھ جیسے دہشت گرد جاسوس بن کر پاکستان بھیجے جاتے رہے ۔ کبھی سندھی قوم پرستوں اور کبھی بلوچ قوم پرستوں کے سر پر ہاتھ رکھا جاتا رہا ،ان دنوں پی ٹی ایم اس کی کٹھ پتلی پتلی بنی ہوئی ہے ۔ کلبھوشن کے نیٹ ورک پکڑے جانے کے بعد بلوچستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں واضح کمی آئی اور بھارت کے عزائم پر پانی پھر گیا ہے ۔ کیس میں پاکستان کا پلڑا بجاطور پر بھاری نظر ;200;تا ہے ۔ بھارتی وکلابہت سے سوالات کا جواب نہ دے سکے ۔ بھارت یہ بتانے میں ناکام رہاہے کہ کلبھوشن کا اصل نام کیا ہے کلبھوشن یادیو یا مبارک حسین پٹیل ۔ اسی طرح شروع شروع میں وہ یہ ماننے کو بھی تیار نہیں تھا کہ کلبھوشن ایک حاضر سروس کمانڈڑ ہے ۔ امید ہے کہ فیصلہ پاکستان کے حق میں ;200;ئے گا جس سے کلبھوشن کی سندھ، بلوچستان میں کاروائیوں کے متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے گا ۔ اقوام متحدہ کے قانون94کے تحت عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ حتمی تصور کیا جاتا ہے اس فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کی جاسکتی تاہم کوئی بھی فریق فیصلے کے دائرہ کار کو چیلنج کرسکتا ہے جس کی عدالت کو تشریح کرنا پڑے گی ۔

ہڑتالیں مسئلے کا حل نہیں ،معاملہ مل بیٹھ کر حل کیا جائے

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ٹوءٹربیان میں جس کرب کا اظہار کیا ہے اس کی ایک جھلک گزشتہ روز کی شٹر ڈاوَن ہڑتال اور حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی ججز ویڈیو سکینڈل میں دیکھی جا سکتی ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ جس طرح سسلین مافیا بیرون ملک جمع اربوں روپے بچانے کیلئے ریاستی اداروں پر دباءو ڈال رہاہے،اسی طرز پر پاکستانی مافیا بھی رشوت ، بلیک میلنگ اور دھمکیوں کے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی مافیا منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک جمع کی گئی اربوں مالیت کی دولت کو تحفظ دینے کیلئے ریاستی اداروں اور عدلیہ پر دباوَ ڈال رہا ہے‘ ۔ یہ ایک انتہائی خطرناک صورتحال ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ملک کو شدید معاشی بحران کا سامنا ہے اور حکومت کو ناچار ;200;ئی ایم ایف سے مزید بیرونی قرض اٹھانا پڑا ہے ملک کی کاروباری سرگرمیاں تاجروں نے ہی معطل کر کے ٹیکس کلچر کے فروغ میں رکاوٹیں کھڑی کر نے کی کوشش کی ہے ۔ یہ ایک نا مناسب رویہ ہے جس سے ملکی معیشت پرمزید منفی اثر پڑے گا ۔ گزشتہ روز کی ہڑتال اگرچہ جزوی رہی اور زیادہ تر تجارتی مراکز علامتی شٹر ڈاوَن کے بعد کھلے رہے مگر تشویش کی بات یہ ہے کہ ;200;خر کب ملک میں ٹیکس کلچر جڑ پکڑ پائے گا ۔ حکومت کی طرف سے ٹیکسز اور تجارتی سرگرمیوں کو دستاویزی شکل دینے کے خلاف آل پاکستان انجمن تاجران جانب سے ہڑتال کی کال دی گئی تھی ۔ پاکستان میں موجودسینکڑوں تاجر تنظی میں اور لاکھوں تاجر ریٹیل شعبے سے وابستہ ہیں اور ان میں سے بعض نے اس ہڑتال پر سخت موقف اپنایا توبعض نے اس میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ۔ تاہم ناقدین نے اس ہڑتال کو تاجروں کی حکومت کو بلیک میل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ عمل انکم ٹیکسز سے بچنے کےلئے معیشت کو بغیر دستاویزات سے رکھنے کا حربہ ہے ۔ تاجر برادری کو اپنے اس رویے پر نظر ثانی کرنا پڑے گی اور حکومت بھی ان کے جائز خدشات کو ایک بار پھر دور کرنے کی کوشش کرے ۔ اس سے کون ;200;گاہ نہیں کہ ایک دن کی ہڑتال سے اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے اور تمام معاشی اشاریے گرنے لگتے ہیں ۔ ملک پہلے ہی اربوں ڈالر کا مقروض ہے، بیشتر ملکی اثاثے گروی رکھے جا چکے ہیں اور ڈیفالٹ کا خطرہ ہر وقت سروں پر منڈلاتا رہتا ہے ۔ ابھی گزشتہ روز ہی ایک عالمی عدالت میں چلنے والا ریکوڈیک کیس کا فیصلہ بھی پاکستان کے خلاف سامنے ;200;یا ہے جس میں پاکستان کو چھ ارب ڈالر جرمانہ عائد کیا گیا ہے ۔ ورلڈ بینک گروپ کے 5 اداروں میں سے ایک انٹرنیشنل سینٹر برائے سیٹلمنٹ ;200;ف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس نے ریکوڈک کیس میں پاکستان کےخلاف 5;46;976 ارب ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے ۔ ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی)کی انتظامیہ نے اس کیس11;46;43 ارب روپے کے نقصانات کا دعویٰ کیا تھا ۔ کمپنی کی جانب سے یہ دعویٰ بلوچستان حکومت کا کمپنی کے لیے لیزنگ درخواست مسترد ہونے کے بعد ;200;ئی سی ایس ;200;ئی ڈی میں 2012ء میں دائر کیا گیا تھا ۔ پاکستانی حکومت اور عالمی کمپنی کے درمیان یہ کیس 7 سال تک جاری رہا تھا ۔ ٹربیونل کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان معاہدے کو کالعدم کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین سے نابلد تھی اور ان کے پاس پیشہ وارانہ مہارت بھی نہ تھی ۔ اگر پاکستان یہ ادائیگی نہ کر پایا تو پاکستان کے بیرون ملک اثاثے ضبط ہو سکتے ہیں ۔ اس صورتحال کا تقاضہ ہے کہ ملکی معیشت کی بہتری کے لئے سب کو مل کر اقدامات اُٹھانے چاہئیں ۔ ساتھ ہی ہم سب پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ صرف ملک کی خاطرمشکل فیصلوں حکومت کے ساتھ کھڑے ہوں اور مفادات کے اسیروں سے کنارہ کریں ۔ یہاں بڑے بڑے مافیا ملک کو جونکوں کی طرح چمٹے ہوئے ہیں ۔ یہ فیصلہ اب کرنا ہوگا کہ ان جونکوں سے کس طرح نجات حاصل کرنی ہے ۔ وزیر اعظم نے اپنی ٹویٹ میں جو تصویر کشی کی ہے وہ درست ہے ۔ انہوں نے سابق اطالوی صدر کی تصویر بھی لگائی ہے جنہوں نے یہ کہا تھا کہ مافیا ریا ست کو بلیک میل کر رہا ہے ۔ انہوں سابق صدر نیپلی ٹانو کے عدالتی بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اطالوی سرکاری زعما نے کس طرح ساز باز کر کے 20سال قبل بم دھماکوں میں مافیا کا ساتھ دیا، بم دھماکے میں 21 معصوم افراد کےساتھ مافیا مخالف جج بھی مارے گئے تھے ۔ وزیراعظم عمران خان نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرمان کا حوالہ بھی اور لکھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کسی ملک کی تباہی اور بربادی کا اصل سبب غربت ہوتی ہے، غربت کی اصل وجہ حکمرانوں کا صحیح یا غلط طریقے سے دولت اکٹھا کرنا ہے ۔ آج ملک کو جو معاشی بحران درپیش ہے اس میں ایک رتی بھر بھی شک نہیں رہا کہ یہ ماضی کے حکمرانوں کی ہوس زرنے وطن عزیز کو اس نہج پر پہنچایا ہے ۔

بھارتی آرمی چیف کی گیدڑ بھبکی

بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے پاک فوج کو مستقبل میں کسی قسم کی مہم جوئی سے باز رہنے کی دھمکی دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ماضی میں پاکستان نے بارہا یا تو انڈیا میں مداخلت کی یا دہشت گردی کی سرکاری سرپرستی کی ہے ۔ جنرل راوت نے پاکستان کو خبردار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ پاکستانی فوج کی جانب سے ہر قسم کی طالع آزمائی کی سزا دی جائے گی اور اسے کسی بھی طرح کی دہشت گردی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔ اسے کہتے ہیں الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ۔ شاید موصوف چند ماہ قبل کا ایڈونچر بھول گئے جس میں لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی پر دوجہاز گرائے گئے اور ایک پائلٹ ابھی نندن زندہ گرفتارہوکر جنرل روات کے منہ تمانچہ بنا ۔ رہ گئی بات مہم جوئی اور مدخت کی تو شاید وہ گریباں میں جھانکنا بھول گئے کی اس کا ملک کیا کررہا ہے ۔ جنوبی ایشیا کا کونسا ملک ہے جو بھارتی کارستانیوں سے محفوظ رہا ہو ۔ کلبوشن پاکستان میں کیا کرنے آیا تھا اور نہیں تو یہی یاد کر لیتے تو یقینی طور پر جنرل راوت کو کچھ کہنے کی ہمت نہ ہوتی ۔ کلبھوشن ایک ایسا مجرم ہے جو بھارتی دعوں کی نفی کرتا ہو اس کا اصل چہرہ ہے ۔

شمالی وزیرستان،چوکی پر حملہ

شمالی وزیرستان جو امن کی طرف لوٹ چکا ہے وہاں امن دشمن اورشر پسندوں کی فائرنگ سے دو سیکورٹی اہلکار شہید ہوئے ہیں ۔ یہ حملہ شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل میں ایک چیک پوسٹ پر کیا گیا جس میں دو سیکورٹی اہلکاروں جام شہادر نوش کیا ۔ اللہ شہداء کے درجات بلند کرے جو ملک کے دفاع کی خاطر جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں ۔ پاک سکیورٹی فورسسز نے دہشت گردوں کا قلع قمع کردیا ہے لیکن بعض مقامی شرپسندوں کی پشت پناہی کی وجہ سے کوئی کارروائی کر ڈالتے ہیں لیکن انہیں اور انکے پشت پناہوں کے مذموم مقاصد کبھی کامیاب نہیں ہونگے ۔

خون کا عطیہ

ارشاد ہے ;34;کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی گو یا اُس نے پو ری انسانیت کی جان بچائی ;34; ۔ اگرہم اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تجزیہ کریں تو بُہت سے ایسے مختلف طریقے اور کام ہیں جس سے کسی انسان کی جان بچا ئی جا سکتی ہے ان مختلف طریقوں میں ایک طریقہ خون کا عطیہ دینابھی ہے ۔ ایک زمانہ تھا کہ;34; ھلال احمر;34; کا عملہ مختلف سکولوں ، کالجوں اور یو نیور سٹیوں کے دورے کر تا اور عام لوگوں بالخصوص نو جوانوں اور طالب علموں کو عطیہ خون دینے کی طر ف آمادہ کرتے ۔ مگر بد قسمتی یہ ہے کہ اب لوگوں میں یہ جذبہ ناپید اور ختم ہوتا جا رہا ہے مگر پھر بھی اللہ کا کرم اور فضل ہے کہ ہمارے معاشرے میں کچھ ایسے اللہ کے بندے ہیں جو نفسا نفسی اور مادہ پر ستی کے اس دور میں بھی نیکی اور بھلائی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔ گذشتہ دن ملک کے ممتاز ماہر امراض قلب ، میڈیکل سپیشلسٹ اور جنیاتی انجینیرنگ کے ڈائریکٹر جنرل سید علی رضا کا ظمی سے عطیہ خون کی مو ضوع پر بات ہو رہی تھی ۔ کا ظمی صا حب کا کہنا ہے کہ کسی بھی انسان کےلئے خون کا کوئی متبادل نہیں ۔ کسی بھی انسان کواگر خون کی ضرورت ہو تی ہے توانسانی زندگی کو بچانے کے لئے صرف انسانی خون کو بروئے کار لایا جاسکتا ہے جو کسی بھی مصنوعی طریقے سے نا ممکن ہے ۔ فرماتے ہیں کہ ہر تین سیکنڈ بعد دنیا کے کسی بھی حصے میں انسانوں کو خون کی ضرورت ہو تی ہے اور ان میں 20 فی صد صرف اور صرف بچے ہوتے ہیں جن میں زیادہ تر کینسر کے مریض ہوتے ہیں ۔ علی رضاکا ظمی صا حب کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 60 فی صد لوگ ایسے ہیں جو خون کا عطیہ دے سکتے ہیں ، مگر بد قسمتی سے ان میں صرف تین فی صد لوگ خون دیتے ہیں ۔

اگر خون عطیہ دینے وا لا سال میں دوسے چار دفعہ خون کا عطیہ دیں تو اس سے مریضوں کے لئے ہسپتالوں میں خون کی قلت پر قابو پایا جا سکتا ہے اور کئی انسانوں کو زندگی کی نویدمل سکتی اور انکے چہروں پر مُسکراہٹ آسکتی ہے ۔ اُنکا کہنا تھا کہ دنیا میں سالانہ 10 لاکھ لوگ مختلف قسم کے کینسر کے امرا ض میں مبتلا ہوتےہیں اور ان میں اکثر کو کیمو تھراپی کے دوران خون کی اشد ضرورت ہو تی ہے ، اور اسی طر ح دنیا اور با لخصوص پاکستان میں تھیلی سیمیا یعنی خون کے مریضوں میں بے پناہ اضافہ ہورہا ہے ، لہذاء خون کا عطیہ دینا انتہائی نیکی اور بھلائی کا کام ہے ۔ ڈاکٹر کا ظمی کا کہنا ہے کو خون کی منتقلی کا پو را عمل ایک گھنٹہ اور 15 منٹ پر مخیط ہو تا ہے ،جس میں ایک گھنٹہ;34; ہیپی ٹاءٹس ;34;بی ;34; ;34;سی ;34; اور;34; ایڈز;34; ٹائیفائیڈ ;34;کے ٹسٹوں پر اور خون کی منتقلی پر صرف12 منٹ صرف ہو تے ہیں ۔ ڈا کٹر کا ظمی کا کہنا ہے کہ خون کی ایک تھیلی بیک وقت تین انسانوں کی جان بچانے کے لئے کا رگر ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ خون میں چار اجزاء ہو تے ہیں ، جن میں ;34;سُر خ جسیمے;82;ed ;67;ells ;34;،;34; پلیٹلٹ;3480;latelets، ;34;پلاز مہ;3480;lazma ;34; کرائی پپیٹیٹپائے ;34; ;67;ryopecpitate جاتے ہیں ۔ مر د حضرات جنکا وزن50 کلو گرام اور عمر 17 سال سے لیکر 66 سال اور اگر 70 سال تک بھی ہووہ خون کا عطیہ دے سکتے ہیں اور عورت جس کا وزن 65 کلو گرام ، قد ساڑھے پانچ فُٹ اور عمر 20 سال یا اس سے زیادہ ہو تو وہ خون کا عطیہ دے سکتی ہیں ۔ اگر ہم حالات اور واقعات کا تجزیہ کریں تو ہ میں ہر صو رت خون کا عطیہ دینا چاہئے کیونکہ ایک انسان کی زندگی بچانا پو ری انسانیت کو بچا نا ہے ۔ میری والدہ اور بچہ جو;34; ایک پرائیویٹ ہسپتال میں پیچیدہ امراض کی وجہ سے داخل تھے تو اُس وقت مُجھے خون کی اہمیت کا اندازہ ہو گیا کہ ہ میں ہر صورت خون کا عطیہ دینا چاہئے اور ہ میں نیکی اور بھلائی کے کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے ۔

اب میری کو شش ہوتی ہے کہ میں کچھ عرصہ بعد خون کا عطیہ دوں ۔ عام طور پر لوگوں میں یہ تا ثر پایا جاتاہے کہ خون کا عطیہ دینے سے انسان جسمانی طو ر پر کمزور ہوتا ہے مگر یہ ایک بے بنیاد اور فضول مفروضے زیادہ کچھ نہیں ۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ خون دینے کے بعد اسکی کمی چند دنوں میں دور ہو جا تی ہے ۔ اگر ہم صحت مند ہیں اور مندرجہ بالا لوازمات پر پورا اُتر تے ہیں تو ہ میں ہر صورت خون دینا چاہئے کیونکہ موت کے بعد کوئی کسی کے کام نہیں آتا یہی زندگی میں اور جیتے جی ہم ایک دوسرے کاکام آسکتے ہیں ۔ ملک میں بُہت سارے ادارے ہیں جن کو خون کا عطیہ دے کر اس نیک کام میں حصہ لے کر دُکھی انسانیت کی خدمت کی جا سکتی ہے ۔ پشاور میں حمزہ ویلفیئر ہسپتال اور بلڈ سروسز اس سلسلے میں پیش پیش ہے ۔ گذشتہ ۶ مہینے میں ہسپتال نے خیبر پختون خوا کے 28 ضلعوں کے تھیلیسیمیاء ،ہےمو فیلیاء اور کینسر کے مریضوں کو 87268 بیگ خون دیا جس میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے 200 مریض بھی شامل ہے ۔ میں کسی وجہ سے اس ویلفیر ادارے کانام نہیں لیتا مگر میں صرف اسکی کا رکردگی اور انسانی خدمت کی بنیاد کی وجہ سے اس ادارے کا ذکر کر رہاہوں ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وطن عزیز میں ایسے بُہت سارے ادارے ، تنظی میں اور این جی اوز ہیں جو خون کا عطیہ لیتی ہیں لہذاء ہ میں کو شش کرنی چاہئے کہ ہم باعتماد اور مستند قسم کے اداروں اور این جی او ز کو خون کا عطیہ دے کر انسانیت کی خدمت کریں ۔

’عالمی عدالت ِ انصاف‘‘ ۔ 20 کروڑ عوام کو ’’انصاف‘‘ کی امید

اقوام عالم کی برادری میں پاکستان کا شمار ایک ذمہ دارباوقار ملک کی حیثیت سے ہوتا ہے دنیا تسلیم کرتی ہے کہ پاکستان اپنے عارضی فوائد کے لئے قومی سلامتی کے امور پرکبھی سمجھوتا نہیں کرے گا پاکستان پر اپنے قیام سے اب تک بارہا بیرونی دباوآئے پاکستان کی ماضی حکومتوں نے بعض اوقات عوام کی مرضی جانے بناء یقینا چند ناخوشگوار اقدامات اْٹھائے جنکے ناخوشگوار سیاسی وسفارتی نتاءج کا بوجھ اور اخلاقی نقصان ماضی کے اْن ہی سیاست دانوں کے نامہ اعمال میں لکھے گئے ہیں اور پاکستانی عوام آج تک قومی اور ملکی مفاد کے خلاف عالمی فیصلوں میں مدد واعانت کرنے والوں کو اچھے نام سے یاد نہیں کرتی ہر ملک وقوم پر آزمائش کی گھڑیاں آتی ہیں جہاں آج دنیا تبدیل ہوئی ہے وہاں پاکستان کا سیاسی منظر نامہ بھی توقع سے زیادہ روز بروز بہتر سے بہتر ہورہا ہے پاکستان کی آج کی قیادت کل سے بہت بہتر ہے عوام میں مقبول ہے پاکستان اور پاکستانی عوام کے مستقبل کے مستحکم بنیادوں پر پائیدار بنانے کے عزم سے سرشار پاکستان کی جمہوری قیادت کا یہ پہلا فیصلہ یہ پہلا قدم دنیا کو اس امر سے باور کرانے میں بڑاکامیاب رہا کہ اب پاکستان میں ;39;عدل;39; کے نظام میں پائی جانے والی کالی بھیڑوں کا جتنی جلد ہوسکے نکال باہر کیا جائے گا ;39;عدل;39; کے حقیقی اسلامی اصولوں پر استوار سچائی کی کسوٹی پر پورے اترنے والے ہی اب پاکستان میں ;39;عدل;39; کے ترقی یافتہ سسٹم کو مضبوط بنائیں گے تبھی کہیں جاکر پاکستان کے سیاسی وسماجی معاشرے میں عوام اور حکومت کے مابین اعتماد قائم ہوگا ایک قابل لحاظ متمدن معاشرے کی پہلی پہچان ہی ;39;عدل;39; کا بے داغ نظام ہوتا ہے آج پاکستان کے تین اداروں موجودہ سیاسی حکومت;39; موجودہ نظام ;39;عدل;39; جسے اور لائق احترام بنانے کی فوری اور اشد ضرورت پر ترجیحی بنیادوں پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے کام کا آغاز کردیا ہے تیسر ا ادارہ ملکی سیکورٹی کا ادارہ ہے جس میں افواج پاکستان کی تینوں سروسنزاور ملکی سپریم انٹیلی جنس ادارہ آئی ایس آئی شامل ہے یہ تینوں اہم قومی ادارے پاکستانی عوام کی امنگوں اور تمناوں کا مرکز ومحور تصور کیئے جاتے ہیں یہاں ہم آج اپنے ان سطور میں آئی ایس آئی کے اْن جرات مند جوانوں اور افسروں کو خراج تحسین پیش کریں گے جنہوں نے اپنے شب روز موسموں کے سردوگرم حدتوں کو برداشت کرتے ہوئے اپنے پیاروں سے ہزاروں کلومیٹر دور بلوچستان کی سرحدوں کی نگرانی میں بسر کیئے تادم تحریر بھی وطن کی سلامتی وتحفظ کے ان امور میں یہ جوان اور افسر اپنے فراءض سرانجام دے رہے ہیں آج سے غالباتین ساڑھے تین برس قبل 3 مارچ 2016 کو بھارتی نیوی کے ایک کمانڈر کلبھوش یادیوکو کئی روز کی مشقت آمیز نگرانی اور ریکی کے بعد آئی ایس آئی نے بلوچستان کے سرحدی علاقے سے رنگے ہاتھوں جاسوسی کے آلات سمیت گرفتار کیا تھا اور دنیا میں جاسوسوں کے گرفتاری کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تسلیم کیا گیا ہے کہ ;39;فوج کے کسی حاضر سروس مین جوکہ ایک افسر رینک رکھتا ہے اْسے آئی ایس آئی نے گرفتار کیا ہے پہلے تو بھارتی حکام مان ہی نہیں رہے تھے کہ کلبھوش یادیو نامی جاسوس بھارتی ہے پاکستانی سیکورٹی اداروں کی تفتیش جب منظر عام پر آناشروع ہوئیں تو بھارت نے گھٹنے ٹیک دئیے اور اْس تک ;39;کونسلر;39; رسائی مانگ لی جوکہ جینوا کنویشن کے چارٹرز کے خلاف اس وجہ سے تھی کہ یہ گرفتارکلبھوشن یادیو جاسوس ہونے کے علاوہ پاکستانی تفتیشی اداروں کے روبرو اعتراف کرچکا تھا کہ اْس نے پاکستان میں ;39;را;39; کی ایماء پر پاکستان کے مختلف شہروں میں دہشت گردی کی کئی سنگین کارروائیوں میں وہ خود ملوث رہا تھا اس بارے میں کافی کچھ پہلے ہی لکھا جاچکا ہے چونکہ ایک حاضرسروس افسر ہونے کی بناء پر ظاہر ہے اس کا کورٹ مارشل ہونا تھا جو ہوا جس میں اسے کافی وقت دیا گیا کہ وہ اپنی بے گناہی ثابت کرئے اسی دوران میں اس کی بیوی اور اس کی ماں کی اس سے ملاقات کرائی گئی اس کی بیوی اور ماں پاکستان سے مطمئن واپس گئی ہیں اْنہوں نے کلبھوش سے ملاقات کے بعد عالمی میڈیا کو بتایا ہے کہ اْس پر کوئی دباو اور کسی قسم کا کوئی تشدد نہیں کیا گیا کبھوشن یادیوکو پاکستان میں دہشت گردی کے سنگین جرائم میں ملوث پائے جانے کے ثبوت سامنے آنے کے بعد ملٹری کورٹ نے سزائے موت سنادی 10 اپریل 2017 کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید نے کلبھوشن کی سزائے موت کی توثیق کردی کمانڈر کبھوشن یادیونے 22 جون 2017 کوآرمی چیف سے اپنی سزائے موت کے خلاف رحم کی اپیل کردی اس رحم کی اپیل میں بھی کمانڈر کلبھوشن یادیو نے;39;را;39; کا ایجنٹ ہونے پاکستان میں جاسوسی اور دہشت گردی پھیلانے کا اعتراف کیا کمانڈر کلبھوشن یادیو کے اعترافات ملٹری کورٹ کی پروسیڈنگ ویڈیوز میں تاریخ بہ تاریخ موجود ہیں یہ سوال یقینا عالمی عدالت میں سامنے آیا ہوگا کہ بھارتی حکام نے اس بارے میں عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے میں 14 ماہ کی تاخیر کیوں کی;238;جبکہ عالمی عدالت انصاف یہ ریمارکس دے چکی ہے کہ ملٹری کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست پاکستانی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں دائر کی جاسکتی تھیں بھارت نے یہ آپشنز کیوں استعمال نہیں کیئے اب جبکہ جرح مکمل ہوچکی ہے اور فیصلہ بھی محفوظ ہوچکا ہے شنید ہے کہ 17 جولائی کو یہ فیصلہ سنادیا جائے اس فیصلے میں کئی ممکنات کا اظہارکیا جارہا ہے یقینا پاکستان کی جانب سے یہ موقف ضرور اْٹھایا گیا ہوگا کہ بھارت کا اپنے پڑوسی ممالک میں جاسوسی اور دہشت گردی کا ٹریک ریکارڈ حد سے زیادہ تاریک تر ہے سری لنکا میں کئی برسوں تک بھارت کی سرزمین سے تامل ٹائیگرز نامی دہشت گرد تنظیم نے ایک قیامت بپا کیئے رکھی پاکستان میں بھی سربجیت سنگھ اور کشمیر سنگھ اور روند کوشی جیسے دہشت گرد جاسوس کے آنے جانے کا سلسلہ رہا ;39;را;39; سندھی قوم پرستوں اور بلوچ قوم پرستوں کوآئین پاکستان کے خلاف اکسانے میں اْن کی بیرون ملک مالی اعانت کرنے اپنی ایک بدترین تاریخ رکھتی ہے کلبھوشن یادیو کے پھیلے گئے دہشت گردی کے نیٹ ورک نے پاکستانی قبائلی علاقوں میں کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں نہ صرف جنگی تربیت فراہم کی بلکہ اْنہیں مہلک اسلحوں کی کھیپ دی گئی کلبھوشن نے تسلیم کیا ہے کہ اے پی ایس پشاور کے سانحہ میں اْس کی کڑیاں بھی شامل تھیں پھراْسے پاکستان کیسے اور کیوں کونسلر رسائی دے دیتا;238; یہ سمجھ آنے والی بات نہیں ہے کہ ایک حاضر سروس ملٹری پرسنل جو جاسوسی اور دہشت گردی کے واقعات کا مجرم ہو اْس کا کیس کسی ملک کی سویلین کورٹ چلایا جاسکتا ہے;238; یہ بھارتی مکاریاں ہیں جوکہ شائد اْس نے عالمی عدالت انصاف میں اْٹھائی ہونگی;238;بھارت یقینا پچھتا ضرور رہا ہوگا کاش وہ پاکستان کے ساتھ ;39;ملزمان;39; کے سلسلے میں کوئی معاہدہ ہی کرلیتا دوطرفہ باہمی معاہدے ایسے ہی مواقعوں پر کوئی کام دے جاتے ہیں اور ہاں ایک اہم نکتہ یہ رہ گیا کہ بھارتی حکام نے کبھوشن یادیوکو ;39;مبارک پیٹل;39; نام دے کر اْس کا پاسپورٹ بھی بنوا کر اْسے دیا ہوا تھا اْس کی تحویل میں سے دوبھارتی پاسپورٹ پاکستانی حکام کے ہاتھ لگے جس جواب عالمی عدالت انصاف میں کیسے دیا ہوگا;238; اس سب کے باوجود اب عالمی عدالت انصاف جو فیصلہ بھی دے پاکستان عالمی عدالت انصاف کے ہر فیصلے کا پابند ہے اورعالمی عدالت میں اس کیس کے جانے سے واضح ہوگیا کہ پاکستان میں دہشت گردی بیرونی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتی،بھارت میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے واضح کیا ہے کہ کلبھوشن کے خاندان کو ویزا اور قونصلر رسائی کا فیصلہ میرٹ پر ہوگا ;63;پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے ;63; عارضی فوائد کیلئے قومی سلامتی کے امور پر سمجھوتہ نہیں کرے گا پاکستانی قیادت نے ہر عالمی فورم پر اپنے اس اعادہ کو دہرایا ہے پاکستان بھارت سے تمام تصفیہ طلب معاملات پر بامعنی مذاکرات چاہتا ہے آج نہیں تو 5 سال بعد 5 سال بعد نہیں تو 10 سال بعد بھی بھارت کو مذاکرات کی میز پر آنا ہی پڑے گا پاکستان کا اس حوالے سے ابتدا ہی سے موقف رہا ہے جاسوسی اور دہشت گردی کے اس سنگین جرم میں پاکستانی فوج کی ملٹری کورٹ سے موت کی سزا پانے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے حوالے سے پاکستان کی پوزیشن قانونی اعتبار سے مضبوط ہے اور عالمی عدالت میں اس کیس کے جانے سے واضح ہوگیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی بیرونی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتی اور یہ یاد رہے کہ پاکستان نے اپنے عارضی فوائد کے لیے معروف عالمی طے شدہ اصولوں پر نہ ماضی میں سمجھوتہ کیا نہ ہی کرئے گا قومی سلامتی کے امور پرتو قطعاً کوئی سمجھوتہ ہوہی نہیں ہوسکتا ۔

کلبھوشن یادو اور عالمی ’’انصاف‘‘ ۔۔۔ !!

مبصرین کے مطابق بھارتی حکمرانوں نے پاکستان کے اندر ریشہ دوانیوں کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے، اس کی ایک طویل تاریخ ہے اور انہی مکروہ سازشوں کے ذریعے وطنِ عزیز کو دو لخت بھی کیا جا چکا ہے ۔ جس کا اعتراف آٹھ جون 2015 کو مودی نے اپنے دورہ بنگلہ دیش کے دوران کھلے عام کیا تھا ۔ اس کے علاوہ سابق ہندوستانی وزیر دفاع اور گوا کے آنجہانی وزیر اعلیٰ’’منوہر پریارکر‘‘ بھی کہہ چکے تھے کہ بھارت پاکستان کے متعلق کانٹے سے کانٹا نکالنے والی پالیسی اپنائے ہوئے ہے اور اس کو جاری رکھے گا ۔ بہر کیف ان تمام سازشوں کے باوجود ہندوستان عالمی برادری کے سامنے خود کو معصوم اور دودھ سے دھلا قرار دیتا نہیں تھکتا اور دنیا کے اکثر ملک بھی نہ صرف دہلی کے ان دعووں پر یقین کرتے ہیں بلکہ اپنے گناہ چھپانے کی اس بھارتی روش کی تائید اور حمایت بھی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ مگر بالآخر سچ کو تو سامنے آنا ہی ہوتا ہے تبھی ’’را‘‘ کا حاضر سروس افسر ’’کل بھوشن یادو‘‘ سوا 3 برس قبل بلوچستان میں گرفتار کر لیا گیا ۔ موصوف نے دورانِ تفتیش اپنی تمام کارستانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ وہ انڈین نیوی میں کمانڈر کے عہدے پر فائز تھا ۔ یاد رہے کہ نیول کمانڈر کا منصب فوج کے لیفٹیننٹ کرنل کے مساوی ہوتا ہے ۔ انڈین نیوی میں اس کا سروس نمبر ’’41558‘‘ ہے اور وہ 16 اپریل 1970 کو پیدا ہوا اور 1991 میں اس نے بھارتی بحریہ میں کمیشن حاصل کیا ۔ کچھ عرصے بعد نیول انٹیلی جنس میں چلا گیا ۔ اس کی اچھی کارکردگی کی بنا پر اس کو را میں شامل کر لیا گیا اور پاکستان میں ’’کور ایجنٹ‘‘ کے طور پر کام کرنے کے لئے اسے منتخب کیا گیا، اس کا مسلمان نام ’’حسین مبارک پٹیل‘‘ رکھا گیا تھا ۔ اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر اس کو نہ صرف اسلام کی بنیادی تعلیمات دی گئیں بلکہ جسمانی طور پر بھی مسلمان ظاہر کرنے کے لئے اس کے ختنے وغیرہ بھی کیے گئے تا کہ کسی بھی مرحلے پر اس کی ہندوانہ اصلیت ظاہر نہ ہو سکے ۔ اسی مسلمان نام پر اس کو پاسپورٹ جاری کیا گیا جس کا نمبر ’’ایل 9630722‘‘ ہے ۔ اور پھر اس کو بلوچستان سے متصل ایرانی ساحلی شہر ’’چاہ بہار‘‘ میں را نے جیولری کی دکان کھول کر دی لیکن اس کا اصل کام بلوچستان آ کر اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ کراچی، بلوچستان میں علیحدگی پسند اور فرقہ وارانہ دہشتگردی کی وارداتیں انجام دینا تھا ۔ کئی برسوں سے وہ یہ سب کچھ کرتا آ رہا تھا ۔ وہ بلوچستان میں دہشتگردی کی مسلح تحریک کی ہر طرح سے سر پرستی کر رہا تھا اور اس ضمن میں کئی دوسرے غداروں کے علاوہ ’’حاجی بلوچ‘‘ نامی آدمی اس کا بڑا مہرہ تھا جس کے ذریعے وہ ’’مالی‘‘ اور ’’لاجسٹک‘‘ امداد دہشتگرد تنظیموں کو فراہم کرتا تھا ۔ وہ اسی حوالے سے کراچی میں داعش کے قیام کی کوشش بھی کر تا رہا اور سانحہ صفورا میں بھی پوری طرح ملوث تھا جس میں تقریباً پچاس نہتے شہری شہید ہو گئے تھے ۔ یوں اسے محض جاسوس قرار دینا صحیح نہیں کیونکہ وہ در حقیقت اپنی سر پرستی میں دہشتگردی کا پورا نیٹ ورک چلا رہا تھا ۔ جرمنی، امریکہ، روس، چین، فرانس اور برطانیہ سمیت سبھی عالمی قوتوں کو اس بابت پاکستان نے ٹھوس ثبوت بھی فراہم کر رکھے ہیں ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے غیر جانبدار حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ یہ ایک کھلا راز ہے کہ بھارتی خفیہ ادارے خصوصاً ’’را‘‘ اور ’’آئی بی‘‘ (انٹیلی جن بیورو) پاکستان کے خلاف براہ راست دہشتگردی میں ہمیشہ سے ملوث رہے ہیں ۔ تبھی تو چھبیس نومبر 2012 کو جب آلوک جوشی کو را کا سربراہ بنایا گیا تو اس حوالے سے جاری پریس ریلیز میں بھارت کے تمام ہندی اور انگریزی میڈیا میں نمایاں انداز سے یہ خبر شاءع ہوئی کہ آلوک جوشی کو اس منصب پر اس لئے فائز کیا گیا ہے کیونکہ اس کی نگرانی میں ’’را‘‘ نے بہت سے آپریشنز بلوچستان اور نیپال میں انجام دیئے ۔ 31 دسمبر 2015 کو ’’راجندر کھنہ‘‘ کو ’’را‘‘ کا سربراہ بنایا گیا ۔ موصوف بھی پاکستان اور پڑوسی ممالک میں دہشتگردی کے فروغ کے ماہر سمجھے جاتے تھے ۔ اس ضمن میں یہ امر زیادہ قابلِ توجہ ہے کہ پاکستان سے متعلقہ را کے ٹارگٹ ایریا میں ایک ’’علیحدہ ’’بلوچی ڈیسک‘‘ بنایا گیا ۔ یوں بلا تردید کہا جا سکتا ہے کہ بلوچستان یا پاکستان کے دیگر علاقوں میں را کی سر گرمیاں محض ماضی قریب میں ہی شروع نہیں ہوئیں بلکہ اس سلسلے کی کڑیاں پچاس برس سے زیادہ عرصے پر پھیلی ہوئی ہیں ۔ یاد رہے کہ ستمبر 1968 میں را کا قیام عمل میں آیا تھا اور ا س کا پہلا سربراہ ’’رامیشور ناتھ کاؤ‘‘ تھا اور اسے سب سے پہلے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا مشن سونپا گیا تھا جسے اس نے کامیابی سے انجام دیا ۔ اور اس کے بعد’’را‘‘ نے سکم پر بھارتی قبضے کے علاوہ بھوٹان، نیپال، بنگلہ دیش میں بھی مسلح مداخلت کی روش اختیار کر لی ۔ اس کے ساتھ ساتھ kbj النگو‘‘ کو سری لنکا کے معاملات میں مداخلت کی وجہ سے ملک بدر کر دیا گیا ۔ بھارتی شورشوں کا یہ سلسلہ تا حال جاری ہے ۔ یہاں اس امر کا ذکر بھی شاید غیر اہم نہ ہو کہ ہندوستان کے موجودہ قومی سلامتی کے مشیر ’’اجیت ڈووال‘‘ بھی ’’کل بھوشن یادو‘‘ کی مانند 1980 سے 1988 تک مختلف بہروپ میں لاہور اور اسلام آباد میں ’’کام‘‘ کرتے رہے ۔ بعد میں ان کو انڈین انٹیلی جنس بیورو کا سربراہ مقرر کیا گیا جہاں وہ جنوری 2005 تک اس عہدے پر فائز رہے ۔ اس کے علاوہ سمجھوتہ ایکسپریس دہشتگردی میں انڈین آرمی کے حاضر سروس کرنل پروہت اور ’’میجر اپادھیا‘‘ کا کردار بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ ۔ گذشتہ عرصے سے اس بابت ہندو ستانی میڈیا نے جس طرح چپ سادھ رکھی ہے، اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں کا میڈیا کس حد تک آزاد ہے وگرنہ یہی صورتحال اگر پاکستان میں در پیش ہوتی تو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے اب تلک کلبھوشن یادو کے گھر کے ایڈریس پر جا کر اس کا پورا شجرہ نسب کھنگال ڈالا ہوتا ۔

مصنوعی مہنگائی کی ذمہ دار تاجر برادری ہی ہے

وفاقی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں جمعرات 11جولائی 2019ء سے ہی تاجر برادری نے مہنگائی کیخلاف ہڑتال کی کال کے بینر لگانا شروع کر دئیے تھے اوریہ بینرز اگلے دو روز میں ہر گلی ،محلہ،شاہراہ سمیت بازاروں میں لگائے جا چکے تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ اس بار پورے پاکستان میں مہنگائی کیخلاف تاجر برادری یکجا ہو کر مکمل ہڑتال کر دیگی جس سے عوام کی مشکلات میں ہونیوالے اچانک اضافے سے حکومت پر دباوَ بڑھے گا اور وہ دکانداروں پر عائد 17%سیل ٹیکس کی شرح کو کم یا ختم کرنے کیساتھ ساتھ شناختی کارڈ کی شرط بھی ختم کر دیگی اور تاجر برادری کو ٹیکس سے چھوٹ مل جائیگی مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا اور مکمل ہڑتال نے جزوی ہڑتال کی جگہ لے لی،جزوی ہڑتال میں بھی کئی دکاندار آدھا شٹر کھول کر اپنی دکانداری کرتے رہے ہاں جہاں پر تاجر تنظیموں کا اثرورسوخ تھا وہاں پر مکمل ہڑتال دیکھنے میں ملی،ناجائز تجاوزات کے خاتمے کے بعد اب تاجر تنظیموں کی اہمیت بھی آہستہ آہستہ ختم ہونے لگی ہے،جب میں نے تاجروں کے بینر پڑھے جس پر لکھا تھا کہ ملک میں جاری شدید مہنگائی کے خلاف تاجر برادری کی ہڑتال ۔ بینر پڑھ کر قلم اٹھانے کا فیصلہ کیا تاکہ قارئین سے اپنے کچھ تجربات شیئر کر سکوں ،سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ تاجر برادری کو مہنگائی سے کوئی لینا دینا نہیں اور نہ ہی یہ مہنگائی کی وجہ سے سڑکوں پر نکلتے اور ہڑتالیں کرتے ہیں کیونکہ ہم تاجربرادری کی جانب سے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی ٹریلر ہر رمضان المبارک میں بچپن سے دیکھتے آرہے ہیں مگر یہ کبھی نہیں دیکھا کہ قیمتیں دوگنا کرنے کیخلاف تاجروں نے ہڑتال کی کال دی ہو یا اتنے سنجیدہ ہوئے ہوں جتنا اب اور مشرف دور میں ہوئے تھے ۔ لہٰذا تاجر برادری ضرور ہڑتال کرے مگر اپنے مطالبات کے پیش نظر کرے عوام کو اپنے مفاد پرست کھیل میں نہ دھکیلے کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ رمضان المبارک میں تمام سبزی اور پھل سمیت کپڑے و سلائی کے نرخ دوگنا سے تجاوز کر جاتے ہیں اور غریب کا جینا حرام ہو جاتا ہے مگر تاجر ناجائز منافع خوری سے باز نہیں آتے بلکہ ڈھٹائی سے مہنگے داموں گھٹیا کوالٹی کی چیز سینہ تان کر فروخت کر رہے ہوتے ہیں جس کا یہ جو بھی عذر پیش کریں قابل قبول نہیں کیونکہ ہر جگہ تاجر ہی تو بیٹھا ہے تب تو انکو کسی قسم کی ہڑتال یاد نہیں آتی مگر جب حکومت کو ٹیکس دینا پڑ جائے تو یہ ناجائز منافع خوروں کیلئے موت بن جاتا ہے ۔ تاجروں نے 13جولائی کو جو جزوی ہڑتال کی اس کا مقصد مہنگائی نہیں بلکہ دکانداروں پر عائد17فیصد سیلز ٹیکس کا نفاذ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ شناختی کارڈ کی شرط کو ختم کرانا ہے کیونکہ اس سے انکی سیل ثابت ہو جائیگی ۔ کاش اس ملک کے تاجر عوام سے مخلص ہوتے تو رمضان المبارک میں غریب بھی اپنے بچوں کو روزہ افطار کے وقت کھجور اور پھل دسترخوان پر سجا سکتا ۔ اب ذرا مہنگائی پر ایک نظر ڈالتے ہیں جس کیخلاف تاجر برادری سراپا احتجاج نظر آرہی ہے اور عوام کو گمراہ کر رہی ہے ۔ 9جولائی2019کو میرا اسلام آباد کی منڈی میں جانا ہواجہاں پر اشیاء خوردونوش سن کر میرے ہوش اڑ گئے کہ مہنگائی کا رونا رونے والے ہی مہنگائی کے ذمہ دار ہیں ،مارکیٹ میں ناقص کوالٹی کا 120روپے فی کلو فروخت کیا جانیوالا آم منڈی میں اعلیٰ کوالٹی کیساتھ 65روپے میں فروخت ہو رہا ہے،لنگڑا اور دوسہری آم کا منڈی میں ریٹ 25سے35روپے فی کلو تھاجو کہ عام مارکیٹ میں 100روپے دھڑلے کیساتھ فروخت کیا جاتا ہے،150روپے والا ناقص کوالٹی کا آڑو منڈی میں بہترین کوالٹی کا 70روپے میں فروخت ہو رہا تھا،درمیانی کوالٹی کا آڑو 40روپے میں فروخت کیا جا رہا تھا جو کہ عام مارکیٹ میں 100روپے کلو فروخت کیا جاتا ہے،چیری کا ڈبہ عام مارکیٹ میں 350روپے کا فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ منڈی میں اسکی قیمت 150روپے تھی،عام دکانوں پر 100روپے فروخت کی جانیوالی کم کوالٹی کی خوبانی منڈی میں اچھی کوالٹی کیساتھ 50روپے فی کلو فروخت ہو رہی تھی اسی طرح 160روپے کلو فروخت کیا جانیوالا لیمن منڈی میں 80روپے فی کلو فروخت ہو رہا تھا،اعلیٰ کوالٹی کا کیلا منڈی میں 60روپے فی درجن تھا،پودینے کی ایک درجن گٹھیوں کی قیمت صرف 30روپے مانگی جا رہی تھی،مارکیٹ میں 40روپے کلو فروخت کیا جانیوالا ٹماٹر منڈی میں 12سے 15روپے میں فروخت کیا جا رہا تھا(یہاں یہ بات بتاتا چلوں کہ یہ ریٹ منڈی کے دکانداروں کے نہیں بلکہ انہی سے خرید پر منڈی کے تھڑوں پر سامان فروخت کرنیوالوں کے نرخ ہیں ،دکانداروں کے نرخ تو اور بھی کم ہونگے)اسی طرح آلو پیاز اور لہسن سمیت دیگر سبزیوں کی انتہائی کم قیمت میں فروخت منڈی میں دیکھ کر اوسان خطا ہوتے چلے گئے اور یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ دکاندار اسلامی اصولوں کی بنیاد پر اشیاء خوردونوش فروخت نہیں کرتے شائد اسی لیے بے برکتی ہے ۔ معاشرے کو چور ،ڈاکو اور لٹیروں نے نہیں بلکہ انہی ناجائز منافع خوروں نے خراب کیا جن کی مصنوعی مہنگائی کے پیش نظر عام آدمی پیٹ کا دوزخ بھرنے کیلئے جرائم کی دنیا میں قدم رکھتا ہے،کیسی عجیب سی بات ہے کہ ملک میں مہنگائی ہے مگر کسان اسی طرح غربت کی چکی میں پس رہا ہے مگر آڑھتی روز بروز اپنی خزانے کی تجوریوں میں اضافہ کر رہا ہے،کسان آج بھی وہیں کا وہیں مگر تاجر کچھ ہی عرصے میں گھر،گاڑی اور پھر بنگلے خریدنا شرو ع ہو جاتے ہیں ،ایک منٹ کیلئے سوچا جائے کہ ہفتہ وار بازاروں میں اگر ایک سٹال ہولڈر صرف 100کلو آم فروخت کرتا ہے تو وہ خالص10ہزار روپے کا منافع کما کر گھر جاتا ہے مگر اگر حکومت اس میں سے کچھ ٹیکس مانگ لے تو موت پڑ جاتی ہے،فیصل آباد سے 3سو سے4سو روپے میں ملنے والا سوٹ 15سو سے 18سو میں فروخت کرنیوالا تاجر غریب عوام کو لوٹتے وقت ایک لمحے کیلئے بھی نہیں سوچتا کہ اس ناجائز منافع خوری کا اللہ پاک کو کیا جواب دونگا جہاں پر نہ کوئی جھوٹ چلے گا اور نہ ہی کوئی بہانا ۔ میں یہ نہیں کہتا کہ تاجر برادری احتجاج نہ کرے مگر خدارا اپنے دھندے میں عوام کے نام کو نہ گھسیٹا جائے ۔ مجھے تو مشرف دور کی تاجروں کی لمبی لمبی ہڑتالوں کے بعد دکانوں کا کھولنا اور ٹیکس کی ادائیگی کی آمادگی بھی یاد ہے اور پھر راولپنڈی کے سیلاب میں ہونیوالے نقصان بھی یاد ہیں ۔ اللہ پاک کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے مگر جب یہ پڑتی ہے تو پھر کوئی چارہ ،کوئی حیلہ اور کوئی تدبیر کام نہیں آتی،تاجر برادری کو چاہئے کہ وہ ناجائز منافع خوری کی عادت کو ترک کریں اور اس ملک کی تعمیر و ترقی کیلئے ٹیکس ادا کریں تاکہ اس ملک کے غریب عوام مصنوعی مہنگائی کے عذاب سے چھٹکارا حاصل کر سکیں ۔

Google Analytics Alternative