کالم

گلگت بلتستان میں شر پسندی

اس بات میں تو اب کوئی شک نہیں رہا کہ سی پیک منصوبہ پاکستان کیلئے لائف لائن بن چکا ہے۔ دیکھنے میں تو سی پیک صرف ایک سڑک ہے مگر اس سڑک کے اطراف اور اس سڑک سے گزرنے والی ٹریفک حقیقت میں پاکستان کا معاشی مستقبل ہے۔ اسی وجہ سے بھارت نہیں چاہتا ہے کہ یہ عظیم منصوبہ کامیاب ہو اور اس نے حسب سابق سی پیک کے خلاف سازشوں کا آغاز کر دیا ہے۔ خاص طور پر پاکستان میں سی پیک کے نقطہ آغاز گلگت بلتستان کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ اس منصوبہ بندی میں گلگت بلتستان مں دہشت گردی بھی شامل ہے۔سی پیک منصوبہ کی تاریخی ، تزویراتی اور اقتصادی اہمیت اگرچہ اب کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ قوم جمہوری حکومت کی جانب سے معاشی ثمرات کی منتظر بھی ہے جبکہ اس اہم ترین قومی اقتصادی منصوبہ کو سبوتاژ کرنے کے خدشات بھی غیر معمولی شکل اختیار کررہے ہیں اور پہلی بار اس کی نشاندہی ایک اعلیٰ چینی عہدیدار نے کی ہے۔چین نے بھارت کو واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے بلوچستان یا پاک چین اقتصادی راہداری کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھا تو چین بلا تاخیر اسے منہ توڑ جواب دیگا۔ بھارت کا کوئی بھی اقدام صرف پاکستان کے خلاف ہی نہیں ہوگا بلکہ اس کے نتیجے میں چین اور بھارت کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ جائے گی۔ یہ حقیقت ہے کہ ’’سی پیک‘‘ منصوبہ جتنا عظیم الشان ہے، اس کی مخالفت کرنے اور اسے ناکام بنانیوالے بھی اْتنے ہی بڑے پیمانے پر سامنے آرہے ہیں۔ بھارت اور امریکا ان مخالفین میں پیش پیش ہیں۔ جب سے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے خلاف نئے انداز میں حالات بگڑے ہیں۔ سی پیک کے خلاف بھارتی آوازیں اور سازشیں مزید بڑھ گئی ہیں۔ حال ہی میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ بھارت کے طرف سے گلگت بلتستان میں سی پیک منصوبے پر تخریب کاری کی سازش بنائی گئی ہے اور تقریباً 400 تخریب کار ٹریننگ حاصل کرنے افغانستان پہنچ گئے ہیں۔ ان تخریب کاروں کو سی پیک کے ذیلی منصوبے مثلاً قراقرم ہائی وے اور دیگر اہم تنصیبات پر حملے کیلئے تیار کیا جارہا ہے۔ اس ضمن میں گلگت پولیس نے دعویٰ کیا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے تعاون سے سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے اور پاکستان مخالف جذبات کو ہوا دینے کیلئے تیار منصوبے کو ناکام بنایا تھا۔جی بی پولیس نے بلاوارستان نیشنل فرنٹ سے تعلق رکھنے والے 12 ورکرز کو ضلع گزری کی یاسین ویلی سے حراست میں لیا اور ان کے قبضے سے وافر مقدار میں اسلحہ بھی برآمد کیا۔ گرفتارلوگوں کو ’را‘ نے فنڈنگ کی تھی تاکہ دہشت گردی سے گلگت بلتستان میں بدامنی پھیلائی جائے۔اسی دہشت گردی کے سلسلہ میں گزشتہ روز گلگت بلتستان کے علاقے داریل میں شرپسندوں نے سیشن جج کی گاڑی پر فائرنگ کردی جس میں گو کہ جج اور ان کے اہلخانہ محفوظ رہے۔ جمعہ 3 اگست کو چلاس کے علاقے داریل اور تنگی میں دہشت گردوں نے 12 تعلیمی اداروں پر حملہ کر کے انہیں آگ لگادی تھی اور بارودی مواد سے تباہ کردیا تھا۔ جس پر پولیس نے علاقے میں آپریشن کیا جس میں دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس شہید ہوا جبکہ ایک دہشت گرد بھی مارا گیا۔ ترجمان حکومت گلگت بلتستان نے کہا کہ تعلیم دشمن عناصر افغانستان کے تربیت یافتہ ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے واقعے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ جب ڈیم بنانے کی بات تو سازشیں شروع ہوگئیں لیکن عوام ڈیم کے خلاف ہر سازش کو کچل دیں۔گزشتہ ماہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومت کو دیامر بھاشا ڈیم کی فوری تعمیر کا حکم دیا ہے اور اس مقصد کیلئے خصوصی فنڈ بھی قائم کیا ہے جس میں ملک بھر سے عطیات موصول ہورہے ہیں۔ متعدد بینکوں نے عطیات وصول کرنے کیلئے خصوصی اکاؤنٹس بھی کھولے ہیں۔مقبوضہ کشمیر کی طرح بھارت یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ گلگت بلتستان سمیت تمام جموں و کشمیر کا علاقہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ پاکستان اس علاقے میں جس پر اس نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا۔ بھارت میں پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو بھارتی وزارت خارجہ میں طلب کر کے انہیں ایک احتجاجی مراسلہ دیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 ء گلگت بلتستان کی حیثیت میں تبدیلی کی کوشش ہے جس پر بھارت کو اعتراض ہے کیونکہ گلگت بلتستان سمیت سارا کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ بھارت نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ نہیں بنا سکتا کیونکہ یہ بھارت کا حصہ ہے۔ اس صورت حال پر ہمارے دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر کی تمام ریاست متنازعہ خطہ ہے اس لیے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی دعویٰ قابل قبول نہیں۔ اقوام متحدہ نے جموں و کشمیر میں حق خودارایت کیلئے قراردادیں منظور کر رکھی ہیں۔ بھارت من گھڑت احتجاج کے بجائے مقبوضہ وادی سے غیرقانونی تسلط ختم کرے اور وادی کے رہنے والوں کو اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کا حق دے۔پاک چین دوستی کی علامت جب سے اقتصادی راہداری منصوبہ شروع ہوا ھے گلگت بلتستان میں اقتصادی راہداری کے خلاف مظاہرہ تو دور کی بات ہے ایک شخص نے بھی مخالفت نہیں کی ہے گلگت بلتستان کا ہر فرد اقتصادی راہداری کو ترقی کا زینہ قرار دیتے ہوئے اس منصوبے کے تحفظ کیلئے کھڑا ہونا اپنی فرض تصور کرتا ہے۔ گلگت بلتستان کا ہر شہری اقتصادی راہداری کے تحفظ کیلئے بغیر وردی کے فوجی کا کردار ادا کر رہا ہے اور پاکستان کے تحفظ کیلئے سب سے زیادہ قربانیاں بھی گلگت بلتستان کے عوام ہی دے رہے ہیں۔

 

 

دُوہری شہریت ،عوام اور قومی سلامتی

rana-biqi
گزشتہ روز چیف جسٹس جناب ثاقب نثار کو دُوہری شہریت کے حامل افسران کے کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہ اُنہیں مجبور نہ کیا جائے کہ وہ خود قانون کو اَپ ڈیٹ کریں کیونکہ دُوہری شہریت کے حامل افسران اور کچھ جج ملک کے حساس محکموں میں تعینات ہیں ۔ اُنہوں نے سیکریٹری دفاع سے جواب طلب کیا ہے کہ اُنہیں بتایا جائے کہ اگر فوج میں بھی دُوہری شہریت کے افراد موجود ہیں۔ مبینہ طور پر یہ کہا گیا ہے کہ اب تک کی تحقیقات کیمطابق سویلین حساس محکموں بشمول ،،نادرا،، میں 1116 افسران اور 1249 افسران کی بیگمات دُوہری یا غیرملکی شہریت کی حامل ہیں جبکہ سول اسٹیبلشمنٹ کوڈ کیمطابق کسی بھی سول آفیشل کیلئے دُوہری شہریت کا حصول تو ایک طرف رہا اُنہیں حکومت کی پیشگی اجازت اور ایجنسیوں کی تحقیقات کے بغیر کسی غیر ملکی خاتون سے شادی کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے جبکہ آئین کے آرٹیکل 63(1)(c) کے تحت کسی بیرونی ریاست کی شہریت حاصل کرنے والا شخص پارلیمنٹ کا ممبر بننے کیلئے نااہل تصور کیا جائیگا۔پاکستان سپریم کورٹ کے چیف جسٹس حساس محکموں میں دُوہری شہریت کے حامل افراد کی موجودگی کو اِس لئے بھی ایک خوفناک رجحان سمجھتے ہیں کیونکہ ملک میں اہم منصبوں پر فائز دُوہری شہریت رکھنے والی سیاسی شخصیتوں کے بیرونی مخصوص مفادات کے باعث ملک میں بیرونی طاقتوں کا عمل دخل بڑھ گیا ہے جس نے پاکستانی سیاسی افق پر مزید اُلجھنیں پیدا کر دی ہیں ۔ اِس اَمر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دیگر ملکوں کے شہریوں کی طرح پاکستانی شہریوں کو بھی غیر ملکی شہریت دئیے جانے سے قبل بل خصوص امریکہ ، کینیڈا، برطانیہ اور یورپ میں اجتمائی طور پر حلف اُٹھانا پڑتا جس میں مہمان ملک سے تمام تعلق ختم کرتے ہوئے میزبان ملک کے آئین، قانون اوراسٹیٹ کرافٹس پر عمل درامد لازمی قرار دیا گیا ہے جس میں میزبان ملک کے سیکیورٹی اداروں کیلئے کام کرنا شامل ہے۔ بل خصوص امریکہ میں نائین الیون کی دہشت گردی کے بعد اِن قوانین کو زیادہ سخت کر دیا گیا ہے۔اِس دوران بیرونی ایجنسیوں سے منسلک صحافیوں اور اہم کتابوں کے مصنفین نے دنیا بھر میں مغربی فکر کو پھیلانے اور تیسری دنیا کے ملکوں میں مغربی فکر و نظر کو مہمیز دینے کیلئے نہ صرف پرائیویٹ ایجنسیوں کے ذریعے ہزاروں ایجنٹوں کی بھرتی اور اُن سے کام لینے کا تذکرہ کیا ہے بلکہ ایسے اہم افراد کو اُن کے اپنے ملکوں میں بھی مغربی ایجنڈے کو تقویت پہنچانے کیلئے اہم محکموں میں مقامی سیاسی قیادت کی مدد سے داخل کرنے تذکرہ کیا ہے۔ یہ خبر اور بھی زیادہ تشویش ناک ہے کہ نواز شریف دور میں مبینہ طور پر 298 بھارتی شہریوں کو ایجنسیوں کی تفتیش و تحقیق کے بغیر پاکستانی شہریت دی گئی۔
درج بالا تناظر میں گزشتہ دس برس میں دوہری شہریت یا غیر ملکی شہریت کے حامل افراد کی ملک کے اہم عہدوں پر تعیناتی معمول کا معاملہ بن کر رہ گئی ہے۔ چنانچہ حکمران گزشتہ برسوں سے یہی کہتے آئے ہیں کہ آئین میں دُوہری شہریت کے خلاف کوئی قدغن نہیں لگائی گئی ہے جبکہ ماضی میں آرٹیکل 63 (1) (c) کے تحت عدالت عظمیٰ نے آئین کی صریحاً خلاف ورزی پر پارلیمنٹ میں دُوہری شہریت رکھنے والے ارکان کی رکنیت کا نوٹس لیا تھااور ایک رکن پارلیمنٹ فرح ناز اصفہانی کی پارلیمنٹ کی رکنیت بھی معطل کی تھی۔ البتہ ملکی سیاسی قیادت اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بجائے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے نہ صرف دُوہری شہریت کے حامل افراد کو تحفظ دیتی رہی بلکہ اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ بھی ایسے ممبران پارلیمنٹ کے کیس الیکشن کمیشن کو بھیجنے میں تساہل پسندی سے کام لیتے رہے ۔ ماضی میں رحمن ملک کا کیس بھی عدلیہ کے سامنے آیا تھا لیکن کہا گیا کہ رحمن ملک نے برطانوی شہریت چھوڑ دی ہے جبکہ وہ 2008 میں عدالت عظمیٰ کو برطانوی شہریت ترک کرنے کے حوالے سے کوئی مستند ثبوت پیش نہیں کر سکے تھے ۔ سابق صدر آصف علی زرداری حکومت کے دوران فرح ناز اصفہانی امریکی شہریت رکھنے کے باوجود کئی برسوں تک نہ صرف پارلیمنٹ کی اِن کیمرہ اور اوپن کاروائیوں میں حصہ لیتی رہی ہیں بلکہ منصب صدارت پر فائز آصف علی زرداری کے سیاسی ترجمان کے فرائض بھی سرانجام دیتی رہی ہیں جبکہ اُن کے شوہر حسین حقانی جو عدالت عظمیٰ سے میمو گیٹ کیس میں بھگوڑے ہیں اپنے آپ کو اب بھی پاکستانی کہتے ہیں میمو گیٹ اسکینڈل کے سامنے آنے تک امریکہ میں پاکستان کے سفیر کے فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں ۔ چنانچہ جو سلسلہ صدر زرداری کے زمانے میں بلا تحقیق امریکی و بھارتی دُوہری شہریت کے مالک افراد کو بلا کسی ایجنسی کی تحقیق اور کلیئرنس کے پولیس رپورٹنگ سے استثنی ویزا جاری کرنے کا سلسلہ واشنگٹن اور دبئی سے شروع کیا گیا تھا اُسے نواز شریف دور میں نہ صرف جاری رکھا گیا بلکہ بیشتر اہم محکموں میں بھی دُوہری شہریت کے حامل افراد کی تعیناتی کو بھی مہمیز ملی۔ سپریم کورٹ کو اِس اَمر پر بھی تشویش ہے کہ دُوہری شہریت رکھنے والے اِن افراد کو نہ صرف قومی خزانے سے غیر معمولی تنخواہوں سے نواز گیا بلکہ ملک میں مافیائی نظام قائم کرنے کیلئے تین لاکھ کے قریب سرکاری ملازموں کو بھی دوگنا یا تین گنا تنخواؤں سے نوازا گیا ۔ پنجاب حکومت اِس معاملے میں ایک قدم آگے بڑھ گئی جہاں ہم خیال ریاستی افسران کی قیادت میں 56 کمپنیوں کا قیام عمل میں لایا گیا جہاں اعمال کو غیر معمولی تنخواؤں کے عوض کرپشن اور بدعنوانی کو فروغ دیا گیا جس کے سبب قومی خزانے کو بدترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا جسے بیرونی اور گردشی قرضوں سے پورا کیا گی نتیجتاً ملک کی معاشی حالت انتہائی تباہ کن پوزیشن پر پہنچ گئی ہے جسے اب بین الاقوامی ادارے پاکستان پرپا بندیاں لگانے کے حوالے سے مانیٹر کر رہے ہیں۔
حقیقت یہی ہے کہ دنیا پھر میں کوئی بھی ملک بل خصوص امریکہ غیر ملکیوں کو اُس وقت تک اپنی شہریت نہیں دیتا جب تک وہ (1) اپنے ملک کی شہریت کو کلی طور پر خیرباد نہ کہہ دیں (2) وہ اِس اَمر کا اقرار نہ کریں کہ وہ جس ملک کی شہریت اختیار کر رہے ہیں اُس کے آئین و قانون کے وفادار رہیں گے اور اُس کا دفاع کریں گے (3) ضرورت پڑنے پر اُس ملک کے دفاعی اور سویلین سروسز کیلئے بلا اعتراض کام کریں گے (4) اگر اُنہیں سول انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا تو وہ نئے ملک کے شہری کی حیثیت سے سویلین ڈائرکشن پر قومی اہمیت کے آپریشنز میں بغیر کسی ذہنی رکاوٹ کے کام کریں گے یعنی اگر اُنہیں کہا جائے کہ وہ خود اپنے سابقہ ملک کے بارے میں کسی خفیہ آپریشن میں حصہ لیں تو وہ انکار نہیں کریں گے ۔ قارئین کرام ، دُوہری شہریت سے متعلق درج بالا بیان کی گئی مختصر سی روداد سے آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بیرونی شہریت کے حصول کے بعد بیرونی اشاروں پر کام کرنے والے اِن دُوہری شہریت کے حامل افراد سے پاکستان کی فلاح اور بھلائی کی کیا اُمید کی جا سکتی ہے جبکہ اِن میں سے بیشتر پاکستان میں آئین و قانون کی حکمرانی قائم کرنے کے بجائے مبینہ طور پر بیرونی قوتوں کے مخصوص مفادات کیلئے کام کر رہے ہوں ۔ فرح اصفہانی کیس سے تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ کیا موجودہ شکل میں 1973 کا آئین غیر ملکی شہریوں کی پارلیمنٹ کی مقتدر نشستوں پر دخول کو رونے میں ناکام ہوگیا ہے اور کیا غیر ملکیوں کو پاکستانی اسمبلیوں میں بیٹھ کر قوم کی تقدیر سے کھیلنے کی مکمل آزادی ہے ؟ گذشتہ چار برس میں آئین کے تقدس کو قائم رکھنے کیلئے الیکشن کمیشن اِس آئینی خلاف ورزی کو روکنے کیلئے کیا کرتا رہاہے ، ایوان صدر اور ایوان وزیراعظم اغیار کے اِس کھیل میں کیونکر شریک ہیں اور اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے سے پہلوتہی کیوں کرتے رہے ہیں ؟ عدالت عظمیٰ کی یہ آبزرویشن درست ہے کہ امریکی شہریت رکھنے والی شخصیتیں اگر آج رکن اسمبلی ہیں تو کل کو وہ وزارت عظمیٰ اور منصب صدارت پر بھی فائز ہو سکتی ہیں ۔ بہرحال پاکستان میں نئے انتخابات میں عوام نے پاکستان کی سلامتی سے کھیلنے والے سیاست دانوں کو ناکامی سے دوچار کر دیا ہے اور اُمید ہے کہ نئی حکومت ریاستی پروٹوکول اور کیبنٹ کے غیر معمولی اخراجات میں کمی کرکے صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کریگی۔(۔۔۔۔۔۔جاری ہے)

 

امریکا افغان طالبان سے براہ راست مذاکرات پر مجبور

گزشتہ سے پیوستہ
افغانوں نے دنیا کی سب سے بڑی مشین، جس کے پاس ایٹمی ہتھیار کے علاوہ ہر قسم کے جنگی ہتھیار تھے کا مقابلہ درے کی بندوقوں سے شروع کیا۔ اس وقت دنیا دو بلاکوں کے اندر تقسیم تھی۔ اس لیے روس مخالف بلاک امریکہ نے بھی اس جنگ میں اشتراکیوں کو شکت سے دو چار کرنے کیلئے جنگ میں تین سال بعد شرکت کی۔ مسلمان علماء نے اس جنگ کو جہاد کہا اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کے مسلمان اس جہاد میں شریک ہونے کیلئے افغانستان میں آنے لگے دنیا کے مسلمان ملکوں کے لوگوں نے اپنی اپنی بساط کے مطابق اس جنگ میں حصہ لیامگر یہ جنگ افغانیوں نے خود لڑی لاکھوں شہد ہوئے ،لا کھوں اپاہچ؍معذور ہوئے، لاکھوں نے پڑوسی ملکوں اور دنیا میں مہاجرت کی زندگی اختیار کی اور بلا آ خر روس کو شکت ہوئی ۔افغان تیس سال سے حالت جنگ میں ہیں مگر زندہ ہیں ۔اس فتح میں کلیدی امداد مسلمانوں کے اتحاد کی وجہ سے اللہ کی طرف سے تھی ا س جنگ میں منطقی انجام امریکہ اور امریکی بلاک کی امداد اور اسٹنگر میزائل نے ادا کیا۔ دنیا نے افغانوں کے خون کی وجہ سے سفید ریچھ سے نجات حاصل کی اس جنگ کے نتیجے میں مشرقی یورپ کی کئی ریاستیں آزاد ہوئیں چھ اسلامی ریاستوں قازقستان، کرغزستان، اُزبکستان، ترکمانستان، آذربائیجان ، اور تاجکستان کی شکل میں آزاد ہوئیں ۔ تاریخ گواہ ہے کہ افغان کبھی بھی محکوم نہیں رہے۔ کیونکہ کہسار باقی… افغان باقی۔ پھر دنیا کے چالیس ملکوں کے نیٹو اتحادی ،امریکہ اور پاکستانی لاجسٹک سپورٹ کے ساتھ عرصہ۱۷ ؍سال سے افغانستان پر حملہ آور ہیں۔ پھر ظلم کی داستان شروع ہو ئی۔ بلگرام اور گوانتا موبے جیل کے قید ی ان ظالموں کی داستا نیں سنا رہے ہیں۔پاکستان کے سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے ایک فون کال پر ان کے سارے مطا لبات مان لیے۔ امریکہ نے تمام افغانستان کو نیست ونابود کر تورابورابنا دیا۔ مگر فاقہ کش افغانوں کے حوصلے پست نہ کر سکا۔ایک ایک کر کے نیٹو فوجی اپنے ملکوں کو چلے گئے۔ا مریکہ افغانستان سے فرار کے راستے تلاش کر رہا ہے۔ امریکہ اپنی جنگ کو پاکستان میں لے آیا ہے۔ ہمارے ملک کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا چکا ہے ۔ہمارے کئی جرنلوں ، فوجیوں سمیت ۷۰؍ ہزار شہری شہید ہو چکے ہیں۔ ڈرون حملے نے خود کش حملہ آور پیدا گئے۔ جنہوں نے پاکستان میں بربریت کی انتہا کر دی۔ نیٹو کنٹینرز کی وجہ سے ہماری سڑکیں تباہ ہوئیں۔غیر ملکی جاسوس ہمارے ملک میں انسانیت دشمن کاروائیاں کرتے رہے۔ بلیک واٹر دہشت گرد تنظیم ملک دشمن کاروائیاں کرتی رہیں۔ ہماری مساجد،امام بارگاہیں، بزرگوں کے مزار، ہمارے بازار، کرکٹ میچ کے مہمان،ہمارے سیاسی لیڈر اور ان کے بچے، ہمارے مذہبی رہنما،ہماری بچیوں کے اسکول سمیت ،ہمارے دفاحی اداروں پر حملے ہوئے۔ کیاکچھ ہے جو تباہ نہ ہو گیا ہو؟ اس پر بھی صلیبی امریکہ خوش نہیں ہے ڈو مور ڈومور کی رٹ لگا رہے ہیں ۔ پاکستان کے محب وطن لوگ چلاتے رہے یہ ہماری جنگ نہیں ہے۔بلا آخر موجودہ سپہ سالار نے کہہ دیا کہ پاکستان نے دہشت گردی سے لڑنے کے لیے بہت کچھ کیا۔ اب دنیا ڈو مور کرے۔امریکا نے بہت کوشش کی کہ پاکستان کی فوج کو افغان طالبان سے لڑا دیا جائے۔امریکا نے پاکستان پر دباؤ ڈال کر افغان طالبان سے مذاکرات کے کئی دور کیے۔ مگر افغان طالبان کی ایک ہی بات ہے کہ ہمارے ملک سے بیرونی فوجیں نکل جائیں تو ہم مذاکرات کریں گے۔ صاحبو! امریکہ کو بھی اللہ شکست سے دوچار کرنے کیلئے افغانستان میں گھیر لایاتھا۔ اس کو بھی پہلی دو سپر طاقتوں، برطانیہ اور سویت یونین کی طرح فاقہ مست افغان شکست دے چکے۔ اب فیس سیونگ کیلئے امریکا نے افغان طالبان سے برائے راست مذاکرات پر مجبور ہوا ہے۔ امریکا جلد افغانستان سے نکل جائے گا۔انشاء اللہ۔ اللہ نے افغانستان کے کہساروں کو جب تک قائم رکھنا ہے افغانوں کو بھی قائم رکھے گا۔کیونکہ افغانستان کے کہسار باقی۔۔۔ افغان باقی۔

 

 

جھولی چُک مخلوق

Mian-Tahwar-Hussain

ہم بھی عجیب قوم ہیں نئی نئی ٹرمز ایجاد کرتے رہتے ہیں جیسے حال ہی میں خلائی مخلوق کا استعارہ ایجاد کرلیا ۔ اپنی تمام غلطیاں ہم آسانی سے اس مخلوق کے سرڈال کر فارغ ہو جاتے ہیں۔ آج تک نہ تو کسی نے اسے دیکھا ہے اور نہ ہی اس کے کارناموں سے واقف ہیں ۔ کبھی کبھی بن دیکھے کا سودا مہنگا پڑ جاتا ہے۔ تاریخ پر ایک نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے ہے کہ کسی زمانے میں نورتن بھی موجود تھے ۔ بادشاہ وقت ان کے جھرمٹ میں گھرا رہتا وہ جو الٹا سیدھا مشورہ دیتے اس پر عمل ہوجاتا۔ یہی ٹولہ ہر دور میں اپنے مفادات حاصل کرتا رہتا ہے۔ کسی بھی دور میں ان کی کمی نہیں پائی جاتی یہ خود رو مخلوق ہے اور ہر کامیاب انسان کے گرد منڈلاتے رہنا ان کی خاصیت ہے۔ کبھی کبھی یہ پیر فقیر کا روپ دھارنے میں بھی کوئی خوف محسوس نہیں کرتے ۔ بہرحال ان کی روزی روٹی کا مسئلہ کسی نہ کسی طرح پورا ہو ہی جاتا ہے ۔ اسلام آباد تو ویسے بھی خود ساختہ بابوں سے بھرا پڑا ہے لیکن انتخابات کے بعد ان کی تازہ فصل تیار ہو جاتی ہے جو غیبی باتیں سنا سنا کر پرفیکٹ بابا ہونے کی دلیل پیش کرتے ہیں اور پھر غریبوں کو کھانا کھلانے کے بہانے چاول کی دیگ پکانے اور ثواب اجر کے حصول کیلئے معقول رقم کا مطالبہ کرنے میں ذرا بھی تکلیف محسوس نہیں کرتے ۔ سامعین اور متعلقین کو اپنی اپنی بساط کے مطابق جیب ہلکی کرنے پر ہی نجات ملتی ہے ۔ بہرحال میں ذکر کررہا تھا خود رو طفیلیوں کا جو نئی حکومت بنتے ہی بیدار ہو جاتے ہیں اور ہر وزارت میں رکے ہوئے کام کو پلک جھپکتے منظور کروانے کا فن جانتے ہیں۔ ایسے کاموں کیلئے انکی فیس کام کی نوعیت کے مطابق ہوتی ہے۔ وہ یہ کہنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے کہ ان کے تعلقات سیکشن آفیسر سے لیکر وزیر تک بے تکلفانہ ہیں۔ کام کروانے کا کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ متعلقہ آفیسر کے گھر آکر منظوری کا لیٹر دے گا ۔ یہ مخلوق خوش لباس خوش گفتار ہونے کے ساتھ چرب زبان بھی ہوتی ہے۔ بعض حضرات نے کاروبار اتنا پھیلا رکھا ہوتا ہے کہ خواتین بھی ان کے طریقہ واردات کے گروں میں شامل ہوتی ہیں ایسا واقعہ میرے ساتھ ہوچکا ہے میری پوسٹنگ وزارت داخلہ میں تھی اور ایف آئی اے کے محکمہ کے تمام امور میری ڈیسک پر تھے ایک دن صبح گیارہ بجے کے قریب میرے کمرے کا دروازہ کھلا اور نسوانی آواز نے اسلام علیکم کہا میں نے فائل سے نظریں اٹھا کر انہیں دیکھا اور ان کی درخواست پر کمرے میں آنے کی اجازت دے دی ۔ وہ خاتون کرسی پر بیٹھی ہی تھیں کہ مجھے شدید چھینکیں آنا شروع ہوگئیں اسکی وجہ ان کے تیز پرفیوم کی مہک تھی مجھے کیونکہ پرفیوم وغیرہ سے الرجی ہے لہٰذا میں اسکا شکار ہوگیا ۔ میں نے کہا فرمائیے کیا کام ہے کہنے لگیں میرے ایک عزیز ایف آئی اے میں فلاں پوسٹ پر ہیں انکی پرموشن کا کیس آپ کے پاس آیا ہوا ہے لہٰذا آپکی خصوصی توجہ کی ضرورت ہے ۔ میں نے عرض کی آپ کا آنا مناسب نہیں ریکوائرمنٹ اگر پوری ہیں تو کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ فرمانے لگیں میرے لائق کوئی خدمت ہو تو بتانے میں تکلیف نہ برتیں ۔ میں نے جواباً کہا آپ کو انہوں نے کیوں تکلیف دی وہ خود کیوں تشریف نہیں لائے بہرحال وہ اٹھلاتی بل کھاتی ناز و انداز سے چلتی بنیں۔ میں نے اس واقعے کی تحریری رپورٹ کردی پھر جو ہوا سو ہوا۔ بتانے کا مقصد ہے کہ ایسے حربے بھی استعمال ہوتے ہیں اور حکومت وقت کو بدنام کرنے کی سازشوں میں سے یہ ایک سازش ہوتی ہے۔ نورتنوں کی کارکردگی کا تو جواب ہی نہیں ہوتا ۔ وزیر یا وزیراعظم کے گرد نہ ٹوٹنے والا حلقہ مضبوط بنیادوں پر قائم کرنے میں دیر نہیں لگتی۔ دن بھر کی تھکن دور کرانے سے لے کر عوامی مقبولیت کے ہزاروں نسخے ان کے سینے میں دفن ہوتے ہیں جو حالات ، واقعات کے مطابق نمودار ہوتے رہتے ہیں، یہ جھولی چک مخلوق خلائی مخلوق سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہ بے عزتی پروف ہوتے ہیں۔ ڈیٹھ چرب زبان چکنے گھڑے لیموں نچوڑ قسم کی مخلوق ۔ ان یس مشورہ مانگا جائے یا نہ لیکن انہوں نے ہر معاملے میں اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہے شنوائی ہو یا نہ ہو ضروری ہوتا ہے ایسی مخلوق وزیراعظم ہاؤس میں زیادہ وقت گزارنا اپنا فرض سمجھتی ہے اسی طرح وزراء کے دفاتر اور ان کے گھروں پر چیلوں اور گدھوں کی طرح منڈلاتے رہنا انکا مشغلہ ہوتا ہے بے جا تعریف کرنا اور خوشامدی حربے استعمال کرنا ان کا طرہ امتیاز کہہ سکتے ہیں عوامی حکومت ہو یا غیر عوامی ہر دور میں انہیں کمال حاصل رہتا ہے زوال ان کے قریب سے بھی نہیں گزرتا ۔ تعریف سننا کیونکہ انسانی کمزوری ہے لہٰذا جھولی چک مخلوق سدا بہار بنی رہتی ہے بارہ مہینے انکا سورج طلوع رہتا ہے ۔ چاند کی طرح گھٹنے بڑھنے کے عمل سے محفوظ رہتے ہیں ، ابھی کیونکہ نئی عوامی حکومت بن رہی ہے اس لئے ضروری ہے کہ وزیراعظم اور وزراء ان موقع پرست وارداتیوں سے ہوشار رہیں خوشامدیوں اور جھولی چک مخلوق سے اپنے آپ کو دور رکھیں ورنہ اگر چڑیوں نے کھیت چگ لیا تو پچھتانے س کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔ وزیراعظم کے دفتر اور وزارتوں میں ایسے افراد کا داخلہ ممنوع ہو جو دکھلاوے کیلئے انٹری دینا فرض سمجھتے ہیں تاکہ ان کی وارداتوں کو تقویت ملتی رہے ہمیشہ نورتن سہی بدنامی کا سبب بنتے ہیں۔ اس مخلوق کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنی طرف سے باتیں بنا کر پھیلائیں ۔ ہارسز ماؤتھ سے نکلی بات کوٹھے چڑھ جاتی اور ان کا مقصد پورا ہو جاتا ہے۔ عمران خان کو حکومت کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ درویش کی گدڑی کو سو پیوند لگے ہونگے۔ بخی گری کا دھاگہ کہیں سے بھی کمزور پڑسکتا ہے،تن کو ڈھانپنے کیلئے اسے ہر طرف سے اورہر طرح سے سمیٹے رکھنا ہوگا ۔ عوامی جلسوں کی تقریروں نے اسے مسیحائے وقت بنا کر پیش کیا ہے اس لئے اگر وہ عوامی توقعات پر پورا نہ اترا تو پھر جہاں یہ عوام زندہ باد کے نعرے بلند کرتے ہیں وہیں اس کے برعکس آوازیں بلند ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔ تنوع پسندی فطرت ہے ۔ جانے والے کو برا کہنا اور آنے والے کی پذیرائی یہ پرانا اصول ہے پی ٹی آئی کی حکومت کو پہلے خود رول ماڈل بننا پڑے گا اس کے بعد عوام سے تعاون تقلید کی خواہش کی جاسکتی ہے لٹے پھٹے عوام ملکی قرضوں میں جکڑے ہوئے ہیں ، بے لگام مہنگائی نے اس وقت رہی سہی کسر پوری کردی ۔ لہذا نورتنوں اور جھولی چک گردہ کی باتیں سننے کی بجائے عمران خان کو خود ہر ایشو میں ان والو ہونا پڑے گا ورنہ جھولی چک مخلوق کسی جوگانہ چھوڑے گی۔

دیامر دہشت گردوں کیخلاف آپریشن

adaria

گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں سکول نذر آتش کرنے والے دہشت گردوں کیخلاف آپریشن میں دو دہشت گرد مارے گئے اور دو کو گرفتار کرلیا گیا، دہشت گردوں کے ٹھکانے سے خودکش جیکٹس ،دستی بم اور بھاری اسلحہ برآمد کرلیا گیا ، داریل میں سیشن جج کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی تاہم سیشن جج ملک عنایت اور ان کے اہل خانہ محفوظ رہے۔ گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے کہا ہے کہ تعلیم دشمن عناصر افغانستان کے تربیت یافتہ ہیں جن کا مقصد تعلیمی اداروں کو نقصان پہنچا کر سی پیک اور بھاشا ڈیم کو نشانہ بنانا ہے لیکن جی بی کی عوام نے شرپسندوں کو مسترد کردیا ہے اورفورسز کا آپریشن ان شدت پسندوں کیخلاف جاری ہے ایک ہلاک دہشت گرد کی شناخت شفیق کے نام سے ہوئی ہے جو علاقے میں کمانڈر شفیق کے نام سے مشہور تھا ۔ دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے حکومتی رٹ کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا ۔ دہشت گردوں کیخلاف آپریشن اس وقت جاری رہنا چاہیے جبکہ ان کا مکمل صفایا نہ ہو جائے ۔ دہشت گردوں کے قلع قمع کیلئے آپریشن میں شدت لانا انتہائی ضروری ہے۔ دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں ان کا مقصد وطن عزیز کو عدم استحکام سے دوچارکرنا ہے۔ ان تعلیم دشمن عناصر کو عبرت کا نشان بنا کر ہی انصاف کے تقاضے پورے کیے جاسکتے ہیں۔ دہشت گرد سی پیک اور بھاشا ڈیم کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں لیکن یہ اپنے مذموم عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہو پائیں گے۔ دہشت گردی میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے اور دہشت گردوں کے سہولت کار موجود جن کے خلاف کارروائی کو موثر کرنے کی ضرورت ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جاتا تو دہشت گردی کا ناسور کب کا ختم ہوچکا ہوتا ۔ دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا افغانستان میں ہونا خطے کے امن کیلئے خطرے کا باعث ہے ۔ افغان حکومت اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے دے پاکستان دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے پاک فوج سیکورٹی فورسز پولیس اور دیگر اداروں کی قربانیوں کے نتیجہ میں کئی علاقے دہشت گردوں سے واگزار کروائے جاچکے ہیں اور دہشت گردوں کا نیٹ ورک تباہ کردیا گیا ہے۔ بچے کھچے دہشت گرد اس طرح کی بزدلانہ کارروائیاں کرکے اپنے مقاصد کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہونگے کیونکہ سیاسی و عسکری قیادت دہشت گردی کیخلاف پرعزم ہے اور عوام ان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔دہشت گرد بموں اور دھماکوں کے ذریعے جو وحشیانہ کھیل کھیل رہے ہیں ان کی اجازت دنیا کا کوئی مذہب نہیں دیتا ۔یہ کیسے طالبان ہیں جو انسانیت کے ساتھ بھیڑیوں جیسا کھیل کھیل رہے ہیں دیامر میں تعلیمی اداروں کو نذر آتش کرنا قابل افسوس ہے ایسے شدت پسندوں کو منطقی انجام تک پہنچانا ناگزیر ہے تعلیم معاشرے کی اصلاح کرتی ہے۔ مستقبل کی راہیں دکھاتی ہے اور جہالت کو ختم کرتی ہے سکولوں تعلیم و تربیت کے مرکز ہیں یہاں نونہالان قوم کو کندن سونا بنایا جاتا ہے اور ان کو مستقبل کا اچھا شہری بنانے میں انہی اداروں کا کردار ہے۔ اسلام تعلیم حاصل کرنے پر زور دیتا ہے ہمارے پیارے نبی حضرت محمدؐ کا فرما ن ہے ۔ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے اسی طرح آقائے دو جہاںؐ نے فرمایا میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ علم ایک نور ہے اس کے ذریعے ہی انسان ترقی کی منزلیں طے کرتا ہے ۔ علم کی بدولت ہی نئی نئی ایجادات سامنے آتی ہیں علم ایک ایسی دولت ہے جس کو کوئی نہیں چراسکتا صد افسوس کہ دیامر کے تعلیمی اداروں کو جلانے والے شاید یہ بھول چکے ہیں کہ علم کی روشنی کو پھیلنے سے کوئی نہیں روک سکتا اس نے گھر گھر پھیل کر رہنا ہے اور علم کے پرچم نے لہرانا ہے دہشت گرد سکولوں کو نذر آتش کرکے خود ہی اپنی موت مرجائیں گے لیکن علم کی روشنی گھر گھر پھیلتی چلی جائے گی دیامر آپریشن شدت پسندوں اور دہشت گردوں کیلئے موت ثابت ہوگا۔ سکولوں کو نشانہ بنانے والے دہشت گردوں کا تعلق داعش سے بھی ہوسکتا ہے علاقہ کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر علاقے میں شورش برپا کرنے کی کوششیں ہوچکیں، غیر ملکی سیاحوں کو بھی قتل کیا گیا اس طرح کے واقعات اچانک رونما نہیں ہوا کرتے بلکہ ان کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور اہداف حاصل کرنے کیلئے مقامی مدد گاروں کو تربیت دی گئی ہوگی۔ دیامر آپریشن سہولت کاروں کیلئے بھی ہو تاکہ آئندہ کیلئے تعلیم دشمن عناصر اس طرح کی بزدلانہ کارروائیاں نہ کرسکیں پاک فوج کی قربانیوں کے صلہ میں یہ ملک امن کا گہوارہ بن کر رہے گا کوئی دشمن بھی اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتا امن کا پرچم لہرانے لگا ہے اور سدا لہراتا رہے گا۔
دھاندلی ثبوت کا دعویٰ
ن لیگ نے جنرل الیکشن 2018ء کے دوران 38 حلقوں میں دھاندلی کے ثبوت اکٹھے کرنے کا دعویٰ کیا ہے لیگی رہنما زاہد حامد کی سربراہی میں قانونی ٹیم تشکیل دیدی گئی ہے ۔ سیاسی جماعتیں پی ٹی آئی کیخلاف صف آراء ہورہی ہیں اور دھاندلی دھاندلی کا شور برپا کرنے میں کوئی لمحہ فروگزاشت نہیں کررہی ہیں ۔ جن حلقوں پر مسلم لیگ(ن) اور دیگر جماعتوں کو دھاندلی کا شک و شبہ ہے ان حلقوں کی دوبارہ گنتی کروا لیں اور اپنا شک نکال لیں خواہ مخواہ دھاندلی کا واویلا جمہوریت کیلئے نیک شگون قرار نہیں دیا جاسکتا ماضی کے دریچوں میں جھانکا جائے تو یہی گردان سنائی دیتی ہے جب بھی الیکشن ہوئے ان کودھاندلی زدہ قرار دینے کی کوشش کی گئی اور ہارنے والی پارٹی نے خوب شور شرابا کیا حالیہ انتخابی عمل فوج کی زیر نگرانی ہوا جو شفافیت کی اپنی مثال آپ ہے۔ غیر ملکی مبصرین نے بھی انتخابات کو صاف و شفاف قرار دیا ہے تاہم ہارنے والی جماعتوں نے ان الیکشن کو بھی متنازع بنانا شروع کردیا ہے جو درست امر نہیں ہے سیاست میں وسیع النظری ، برداشت کا جمہوری کلچر ہونا ازحد ضروری ہوا کرتا ہے بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس کا فقدان ہے جس سے تناؤ دکھائی دیتا ہے مسلم لیگ(ن) اور دیگر جماعتیں عدالت سے رجوع کریں اور اپنا شک و شبہ دور کرلیں الیکشن کمیشن نے ہر طرح سے انتخابی عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا نگران حکومت، فوج اور عدلیہ نے بھی بروقت الیکشن کا انعقاد کرانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ ہارنے والے شکست تسلیم کرکے نئے رجحان و میلان کا مظاہرہ کریں، یہی وقت کی ضرورت اور تقاضا ہے۔
مسئلہ کشمیر کا حل وقت کی ضرورت
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ ماضی میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے قابل قدر کوششیں نہیں کی گئیں۔اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے بنی گالا میں ملاقات کی اور انہیں عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے پر مبارک باد پیش کی ۔ملیحہ لودھی نے عمران خان کو مسئلہ کشمیر کے حل سے متعلق پاکستان کی کوششوں کے بارے میں آگاہ کیاا ور عالمی امور پر پاکستان کے کردارسے متعلق بتایا۔اس موقع پر عمران خان کا کہنا تھا کہ ماضی میں مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے قابل قدر کوششیں نہیں کی گئیں تاہم اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے اس دیرینہ مسئلے کا حل چاہتے ہیں۔ اقوام متحدہ کو مسئلہ کشمیر کے ادراک میں بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے، بھارت سلامتی کونسل کی قراردادوں کو برسوں سے سردخانے میں ڈالے ہوئے ہے جس سے دوطرفہ تعلقات میں نشیب و فراز دکھائی دیتا ہے، کشمیریوں کو حق خودارادیت دینا ازحد ضروری ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے درست کہا ہے کہ ماضی میں مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے قابل قدر کوششیں نہیں کی گئیں۔

ناراض بلوچوں کو بہکانے کی بھارتی سازش

بھارت کی طرف سے ہمارے کچھ ناراض دوستوں خاص کر بلوچستان کے سادہ لوح اور سچے پاکستانیوں کو بہکانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اگرچہ ابھی تک دشمن کو کامیابی نہیں ملی تاہم بھارت اپنی نیت اور کوشش میں مصروف ہے۔کبھی تو وہ براہمداغ کو لیڈر بنا دیتا ہے ،کبھی حربیار کو عظیم سیاست دان اور رہنما بنا کر پیش کر تاہے اور کبھی نائلہ قادری کو بلوچوں کی نمائندہ تسلیم کر وانے کی کوشش کرتا ہے۔ بھارت خود کو بلوچوں کا لیڈر کہنے والے ان ایجنٹوں کو اْکساتا ہے۔ انہیں پاکستان کی مخالفت کے بدلے شہرت، دولت اور حکومت کے باغ دکھائے جاتے ہیں۔ بھارت کی طرف سے اِن چند مفاد پرستوں اور حکومت کے خواہشمند شرپسندوں کو ہر قسم کا تعاون فراہم کیا جاتا ہے اور ان کی سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر بھرپور پذیرائی کی جاتی ہے۔ ان کی تنظیمیں بنائی جاتی ہیں۔ فنڈز کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ سہولیات اور مراعات دی جاتی ہیں اور بھارت کی طرف سے سرکاری سطح پر کھلم کھلا ان کی تائید کی جاتی ہے۔ بلکہ یہاں تک کہ بھارت کا دہشت گرد وزیراعظم مودی بلوچستان کے بارے میں بیانات دیتا ہے۔ بھارت نے بلوچستان میں اپنی سازشی پالیسی کو آگے بڑھاتے ہوئے حال ہی میں چند غداروں کو اکٹھا کر کے ایک اور شرپسند تنظیم’’ ہند بلوچ فورم‘‘ کی بنیاد رکھی۔ اس فورم کا صدر پون سنہا اورجنرل سیکریٹری سوامی جیتندر سراوستی ہے۔ اس کا پہلا اجلاس ہوٹل پاور ڈ پلازہ فتح آبادروڈ آگرہ اتر پر دیش میں ہوا ۔مقر رین میں میجر جنرل ریٹائرڈ جی ڈی بخشی ، کرنل آر ایس این سنگھ جو کہ’’ را ‘‘کا سابق اہلکار ہے، شامل تھے۔ اس کے دیگر ارکان پشپندراکلر ستھا ،گو ویندا شرما اور گنگا مہا سبھاہیں۔ ’ ہند بلوچ فورم ‘‘بھی اسی مقصد کیلئے بنائی گئی ہے کہ بلوچستان میں بد امنی پیدا کرے۔ اس کے پہلے اجلاس کا موضوع ہی یہی تھا کہ’’ بھارت اور بھارتی بلوچستان کی آزادی میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں‘‘ اس وقت بھارت کے اس تمام پروپیگنڈے اور بلوچستان کے بارے میں اْس کے لائحہ عمل اور اس میں تیزی کی ایک وجہ سی پیک کو بھی سبوتاژ کرنا ہے۔ اگر چہ یہ واحد وجہ نہیں ہے بھارت اس سے پہلے بھی بلوچستان میں بدامنی اور دہشت گردی کا شرمناک کھیل کھیلتا رہا ہے لیکن ہماری حکومتوں نے اس طرف وہ توجہ نہیں دی جو دینی چاہیے۔ نہ ہی بھارت کے پروپیگنڈے کا توڑ بھر پور انداز میں کرنے کی کوشش کی گئی اور نہ ہی بلوچستان کی ترقی کی طرف وہ توجہ دی گئی جس کی ضرورت ہے۔ البتہ بلوچستان کے محب وطن عوام آج تک بھارت کے ارادوں کی راہ میں اڑے ہوئے ہیں اور یہی اْس کی ناکامی کی وجہ ہے تاہم ان کی مزید آزمائش کسی طور بھی دانشمندی نہیں۔ اسی طرح کی اور سازش ، ہندوستان میں سرکاری نشریاتی ادارے پرسار بھارتی کا کہناہے کہ آج آل انڈیا ریڈیو کی بلوچی سروس کیلئے ایک نئی ویب سائٹ اور موبائل ایپ متعارف کرائی جارہی ہیں۔ اس سروس کو متعارف پرسار بھارتی کے چیئرمین سوریا پرکاش خود کرینگے۔ بلوچی سروس کی ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے سے نہ صرف افغانستان اور پاکستان میں سننے والوں کیلئے نشریات کا معیار بہتر ہوگابلکہ دیگر ممالک میں بلوچی بولنے اور سمجھنے والوں کو بھی اس سروس تک رسائی مل سکے گی۔ ہند بلوچ فورم ہو یا وہاں کام کرنے والے دیگر ملک دشمن، سب کی پہچان کرنا اور کروانا انتہائی ضروری ہے اور یہ بھی باور کرانا ضروری ہے کہ ان کی آزادی ویسی ہی ہے جیسے پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخواہ کی ہے۔ بھارت کو بلوچوں سے نہ ہمدردی ہے نہ دلچسپی۔ اْنہیں شکار چاہیے اور پاکستان کو نقصان پہنچانا اْن کا پہلا مقصد ہے لہٰذا ہمیں اپنی حفاظت خود کرنی ہے اور بر وقت کرنی ہے۔ بلوچی علیحدگی پسندوں کو بھی اس بات کا ادراک ہے کہ بھارت صرف ہمیں استعمال کر رہا ہے۔ بلوچ قوم پرست رہنما حربیار مری کا کہنا ہے کہ وہ بلوچ جن کی زندگی کو خطرہ ہے انھیں کسی بھی ملک میں اگر پناہ ملتی ہے تو لینی چاہیے لیکن اگر بلوچ غیر ضروری طور پر انڈیا میں سیاسی پناہ لیں تو اس کے اثرات ٹھیک نہیں ہوں گے۔آزادی کے لیے بھارت سے کبھی مدد نہیں مانگیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پہلے ان بلوچوں کے لیے آواز اٹھانی چاہیے جو مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ بھارت تو اس انتظار میں ہے کہ نام نہاد بلوچ لیڈر ہندوستان میں پناہ کیلئے باضابطہ درخواست دیں تو چند ہفتوں میں انہیں پناہ دیدی جائے گی۔ کچھ بلوچ قوم پرست یہ سمجھتے ہیں کہ جنیوا میں مقیم بلوچ ریپبلیکن پارٹی کے جلاوطن سربراہ براہمداغ بگٹی کی طرف سے انڈیا میں سیاسی پناہ کی درخواست کے فیصلے کا بلوچوں کی آزادی کی تحریک پر منفی اثر پڑے گا اور یہ کہ اس سے پاکستان کے ان الزامات کو شاید تقویت ملے کہ بلوچستان میں آزادی کی کوئی تحریک نہیں بلکہ بھارت بلوچستان میں مداخلت کر رہا ہے؟ بھارت بلوچستان کو اپنے لیے ایک آسان ہدف سمجھتا ہے یہ اور بات ہے کہ ستر سال سے مسلسل سازشو ں کے باوجود بھی اسے کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے اور نہ ہی ہوگی لیکن اس پروپیگنڈہ اور سازشوں سے پاکستان کیلئے امن و امان کے مسائل ضرور کھڑے ہو جاتے ہیں۔ نفرت اور بدامنی کی فضا پیدا ہو جاتی ہے۔ اگرچہ بھارت سازشیں صرف بلوچستان میں نہیں کر رہا بلکہ شمال مغربی صوبے کے پی کے، مشرق میں پنجاب ، جنوب میں سندھ خصوصاً کراچی غرض ہر علاقے ہر طرف فساد پھیلانے میں مصروف ہے تاہم بلوچستان پر اْس نے اپنی توجہ بھر پور طریقے سے مرکوز کی ہوئی ہے۔ اس صوبے میں اْس کی مداخلت کے بہت سارے ثبوت ملے ہیں اور موجود ہیں۔ اْس کے جاسوس کلبھوشن یادیونے پوری دنیا کے سامنے میڈیا پر اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ وہ بلوچستان میں گڑ بڑ پھیلانے کے لیے بھیجا گیا تھا۔اس نے کراچی اور دیگر شہروں میں بھی اپنے جرائم کا اعتراف کیا۔ بھارت سرکار دوسرے ممالک کے معاملات میں مداخلت کرتی ہے اگر چہ اْس کے شر سے اس کا کوئی پڑوسی محفوظ نہیں لیکن پاکستان کے معاملے میں تو اْ سے گو یا کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ اس کے پس پردہ امریکہ، اسرائیل اور دوسری مسلم دشمن قوتیں جو اسے پاکستان کے خلاف ہر سازش ، پروپیگنڈہ، ہرغلط کام کیلئے ہلہ شیری دیتی ہیں۔ بھارتی وزیراعظم سے لے کر ایک عام وزیر تک ہر ایک ووٹ پاکستان مخالفت پر لیتا ہے۔ وہاں ہندو شدت پسند تنظیمیں کھلم کھلا پاکستان کے خلاف زہراْگلتی ہیں یہ لوگ تو اپنے مسلمان شہریوں کو بھارت میں جینے کا حق بھی نہیں دیتے۔ ان کے ہاں چلنے والی درجن بھر آزادی کی تحریکیں اِس بات کا ثبوت ہیں کہ اْس کے شہری بری طرح بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ جس کے لیے وہ آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ اْن کے جو حقوق دوسرے ضبط کر رہے ہیں وہ اْنہیں حاصل ہو سکیں اور انہی مسائل اور اپنے اسی اصلی چہرے سے دنیا کی نظریں او رتوجہ ہٹانے کے لیے وہ اپنے پڑوس میں مسائل کھڑے کرتا ہے۔

 

 

ٹینکر مافیا ۔۔۔!

malik-lateef-khokhar

راولپنڈی ،،کیا پانی کو ترس رہا تھا،،، کہ اب تو شہر اقتدار یعنی اسلام آباد کے رہنے والے تقریباً ہر شہری کا دماغ بھی اب بجائے کسی تخلیقی تعمیری سوچ بچار کرنے کے، اب ہر وقت پانی پانی کرتے اور ٹینکر مافیا کی چیرہ دستیوں کے گرد ہی گھومتا رہتا ہے۔ اسلام آباد پر میاں برادران ، یعنی بڑے بھائی صاحب (حاکمِ اعلیٰ پاکستان تین دفعہ)اور راولپنڈی۔پنجاب پر چھوٹے میاں جی (خادمِ اعلیٰ لاتعداد مرتبہ) گزشتہ کئی عشروں سے حکومتیں کر رہے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق پنجاب پر انکا مجموعی دورِ حکومت مہاراجہ رنجیت سنگھ سے بھی طویل بنتا ہے۔ لیکن انکے شاہانہ مزاجوں کی وجہ سے میں انہیں۔۔نتھا سنگھ اینڈ پریم سنگھ، ون اینڈ دی سیم سنگھ تھنگ۔ سے تشبیہ دینے پر مجبور ہوں۔ کی طویل ترین حکمرانی کے باوجود راولپنڈی میں خصوصاً اور پورے ملک میں عموماً پانی جیسا ایک بنیادی مسئلہ حل ہونے کی بجائے ہر آنیوالے دنوں میں سنگین سے سنگین تر ہوتا رہا ، ماسوائے سڑکوں اور پُلوں کی تعمیر (ظاہری لش پش) پانی جیسے سنگین ایشو کو کبھی کوئی ایشو ہی نہ سمجھا گیا لیکن یہ الگ بات ہے کہ ان دونوں کی زبان پر ماشاء اللہ یہ بھائی جس شہر میں موجود ہوں اسے پیرس بنا دیں گے سے کم بات نہیں نکلتی۔ جس علاقے میں میں رہتا ہوں (جی ٹی روڈ سواں) وہ دریا کے بالکل کنارے آباد ہے، اس حساب سے تو یہاں پانی کی کمی کا مسئلہ ہی نہ ہوتا، لیکن جیسے اوپر عرض کر چکا ہوں، کسی بھی حکومت نے پانی کا مسئلہ، کبھی مسئلہ سمجھ کر حل کرنے کی کوشش ہی نہیں کی، البتہ آج سے دس سال قبل ق لیگ کی حکومت کی آخری دنوں میں اھلِ علاقہ میں اُمید کی کرن اچانک یوں پھوٹی کہ سارے محلے میں چند دنوں کے اندر اندر پانی کے زیر زمین پائپ ڈال دیے گئے، یہ بہت بڑا قدم تھا اور امید لگ گئی تھی کہ جلد ہی پانی بھی مہیا کر دیا جائے گا، لیکن بدقسمتی کہ خادم اعلیٰ ہم پر براجمان ہوگئے اور بغضِ معاویہ میں انہوں نے تو چُن چُن کر ان تمام اسکیموں کو مارک کر لیا اور مکمل کُھڈے لائن لگا دیا جو سابق حکومت نے شروع کرائے تھے اور آج دس سال ہونے کو ہیں ایک قطرہ تک ان پائپوں میں کسی نے ڈالنے کی کوشش تو کجا اس مسئلہ پر سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کی، نتیجہ وہ پائپ لائنیں یقیناً اب گل سڑ چکی ہوں گی اور یہی وجہ ہے کہ ٹینکر مافیا کا منہ مانگے داموں پر ٹینکر ڈلوانا اکثر علاقوں میں عوام کی مجبوری بن چکا ہے۔ حکومت نام کی کوئی چیز گزشتہ دس سالوں میں دیکھنے کو نہیں ملی، چاچے مامے،نتھو خیرے اور خوشامندی پارٹی ورکرز راج کر تے رہے ۔ جو حکومتی پارٹی کے خلاف تھا اسے دشمن سمجھا جاتا ، اور ہمارے محلے میں بھی یہی ہوا کہ اس وارڈ سے حکومتی حمایت یافتہ امید وار ہارتے رہے اور ہر دور میں بدلے پہ بدلہ لیا جاتا رہا۔ خیر یہ میرا اکیلا مألہ نہیں ، یہ صرف راولپنڈی اسلام آباد کا مألہ نہیں ، پانی کا بحران اب پورے ملک کا مسئلہ بن چکا ہے، کالاباغ ڈیم کو سیاست کی نظر کر دیا گیا اور یوں چالیس سال ہونے کو ہیں، کوئی بڑا ڈیم نہیں بن سکا جسکی وجہ سے پورے ملک میں زیرِ زمین پانی کی سطح آہستہ آہستہ خطرناک حد تک گِر گئی اور ہم آج پانی خریدنے بلکہ پانی کی بوند بوندکو ترسنے کے قریب آ چُکے ہیں ۔ اس مجرمانہ غفلت کی گو تمام کی تمام سابقہ حکومتیں ذمہ دار ہیں لیکن ن لیگ کی طویل ترین راج نیتی پر انہیں آج نہیں تو کل ا سی تناسب سے،،،، ایک لمبا حساب ضرور دینا ہو گا۔آج کا موضوع خاص۔ ٹینکر مافیا۔ کی زیادتیاں ہیں، جن سے ہر شہری پریشان ہے،کئی کئی دن پہلے آرڈر دیا جاتا ہے لیکن مہنگے داموں کے باوجود سپلائی اپنی مرضی سے کی جاتی ہے، بدتمیزی اسکے علاوہ ہے۔ اسکی بڑی وجہ انتظامیہ کی ملی بھگت اور نا اہلی بھی ہے۔ ٹینکر ڈرائیور چھوٹے چھوٹے بچے، بغیر لائسنس گلیوں میں دندناتے پھرتے ہیں اور جہاں دل کرتا ہے ٹریکٹر ٹینکی کھڑی کر کے لوگوں کو اذیت سے دوچار کرنا روز کا معمول بن چکا ہے۔ شکایت کریں تو ردی کی ٹوکری سے بات آگے نہیں بڑھتی۔ پانی کا ریٹ دن بدن بڑھانا انکی ایک چُٹکی کا کھیل ہے، کوئی ریگولیٹر نہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں ، لگتا ہے یا تو سارے ٹینکر انتظامیہ کے اہلکاروں کے ہیں یا کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ کسی ٹینکی والے کو پوچھے کہ وہ کہاں سے، کیسے اور کس بھاؤ پر پانی بیچ رہے ہیں۔ لہٰذا اس کالم کی توسط سے جنابِ کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور ایس پی ٹریفک راولپنڈی سے گزارش کی جاتی ہے کہ ٹینکر مافیا جو کہ اب باقاعدہ ایک عفریت کی شکل اختیار کر چکا ہے لیکن حکومت کی نااہلیوں کی وجہ سے یہ اب شہریوں کی مجبوری بھی ہے کو فوری کنٹرول کیا جائے اسے کسی ضابطے کسی قانون کا پابند کیا جائے اور انکی رجسٹریشن کے موثر انتظام کے ساتھ ہر محلے یا وارڈ کی سطح پر کمیٹیاں قائم کر کے انکو پابند کیا جائے کہ وہ پانی کی سپلائی پانچ چھ میل کے باہر ہر گِز نہ کر سکیں کیونکہ یہ نزدیکی افراد کوکئی کئی دن اس لئے ۔لِفٹ ۔نہیں کراتے کہ ان سے کرایہ تھوڑا ملے گا اور دور والے گاہکوں کی مجبوریوں کا منہ مانگا کرایہ وصول کرتے ہیں۔ ان کا ڈیزل کی قیمت کے مطابق جیسے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے طے کیے جاتے ہیں، اسی اصول پر فی کلو میٹر کرایہ بھی طے کیا جائے اور۔ واٹر ہائیڈرنٹس۔ جو اب جگہ جگہ کھول دیے گئے ہیں انکو بھی ۔بھرائی۔ کے ایک مناسب ریٹ پر پابند کیا جائے تاکہ پانی کے ایک عام ٹینکر کا تمام اخراجات کے بعد ایک نہایت ہی مناسب ریٹ مقر کیا جا سکے کیونکہ اگر آئندہ سرکاری سطح پہ نہ سہی، پیسوں سے ہی اب اگر آگے پانی خرید کر زندگی گز ارنی ہے تو یہ کسی اصول کسی ضابطے کے تحت ہو نہ کہ ٹینکر مافیا کی من مانیوں اور مرضی کے طابع۔

 

 

ملک کی ترقی کیلئے عمران مقبول بڑھتی قربتیں…!

اِس میں کو ئی دورا ئے نہیں ہے کہ کراچی اور مُلک کی ترقی وخوشحالی کے لئے پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم پاکستان کا نونکاتی تاریخی معاہدہ اور عمران و مقبول بڑھتی قربتیں مُلک کی تاریخ میں ایک نئے باب کے اضافے کے ساتھ کراچی کو حقیقی معنوں میں اِس کی محرمیوں سے نجات دلا کراِسے دنیا کا ترقی یافتہ شہر بنانے اور مُلک کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کیلئے کارآمد ثابت ہوگا ؛آج جو لوگ عمران خان اور خالد مقبول صدیقی کی بڑھتی قربتوں پر پرانے مردے اُکھاڑ کر دوریاں پیدا کرناچاہ رہے ہیں۔ اِنہیں معلوم ہونا چاہئے کہ آج جو دونوں (عمران و مقبول )پر رنگ چڑھا ہے؛ وہ 22اگست2016ء کے بعد نمودار ہونے والی دوسالہ تبدیلی کا ثمر ہے ۔اِس موقع پر سمجھنے والوں کے لئے اتناہی اشارہ کافی ہے، مگر جو پھر بھی کچھ نہ سمجھے تو جو جی چاہئے سوچے اور سمجھے اور کرتا پھرے؟۔تاہم اِس سے بھی انکار نہیں ہے کہ ہمارے ماضی کے (31مئی 2018ء سے پہلے والے) حکمرانوں نے قومی خزانے سے اللے تللے کرنے کے بعد اِسے خالی چھوڑ دیاپھر اِسے بھرنے کیلئے عالمی مالیاتی اداروں سے بے لگام قرضے لینے کا سلسلہ شروع کیا۔ جو آخری دن تک جاری رہا ،اِس طرح اِن عیارو مکاروں نے نہ صرف قوم کو قرضوں کے بوجھ تلے دبایا،بلکہ قرضوں کو اُتارنے کیلئے قوم پر ٹیکسوں کے پہاڑبھی توڑ ڈالے ،پھر اِن کا الیکشن میں ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگا کر باشعور پاکستا نی شہری ووٹروں جو حشر کیاہے یہ بھی سب کے سامنے ہے ۔آج جانے والے قومی لیٹرے توچلے گئے مگرابھی تک یہ قوم کا پیچھا چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں یہ تگڑم بازی سے دوبارہ اقتدار میں آنا چاہتے ہیں۔ جبکہ یہ کرپٹ اور قومی چور قوم کو ٹیکسوں کے عذاب تلے دباگئے ہیں ، کچھ ایسا نہیں ہے جس پر اِنہوں نے ٹیکس نہ لگایاہو، اگر انہیں یہ پتہ ہوتا کہ قوم اِن سے نجات اور جھٹکارے کا خواب دیکھتی ہے۔ تویقیناًیہ قوم کے خواب دیکھنے پر بھی ٹیکس لگا دیتے۔ وہ تو اچھا ہوا کہ اِنہیں معلوم ہی نہیں ہوسکاکہ قوم ایسا خواب بھی دیکھتی ہے۔ ورنہ سوچیں، کیا ہوتا؟بہر کیف ،آج اچھے خواب دیکھنے پر نہ تو پابندی ہے اور نہ ہی ٹیکس ہے اِس لئے جتنے چاہیں خواب دیکھیں،چاہئے یہ جانے والوں کے بُرے انجام سے متعلق ہوں، یا آنے والوں کے بارے میں اچھی اُمیدوں اور خواہشات سے متعلق ہی ہوں مگر کچھ بھی ہے اَب عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد قوم کے تمام غضب حقوق اور ثمرات ملنے اور تمام اچھی اُمیدوں اور اچھے خوابوں کی تعبیر پوری ہونے کو ہے ۔ اِسی لئے تو ہم کہتے ہیں کہ آج ستر سال سے مفلوک الحال ، مجبورو بے کس ، پریشا نیوں اور بحرانوں میں جکڑے اہل وطن سیراب کے پیچھے بھاگتے بھاگتے تھک چکے ہیں ،اَب اِن کے ڈراؤنے خوابوں کی ہولناک تعبیریں ختم ہو نے کو ہیں ، جلد ہی پاکستانی قوم کے اچھے دن آنے والے ہیں، کیو ں کہ پاکستان تحریک اِنصاف کے چیئرمین عمران خان وزیراعظم پاکستان کے منصب اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے جارہے ہیں، جن کی اولین ترجیحی مُلک کی چولوں سے کرپشن کے ناسُور کو نکال باہر پھینکنا ہے ، جس کے بارے میں گزشتہ دِنوں چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار بھی کہہ چکے ہیں کہ’’ قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور لیاقت علی خانؒ کے جانے کے بعد اِس مُلک میں صرف ایک چیز نے راج کیاوہ چیز ہے کرپشن ، کرپشن اور کرپشن جب تک اِس کرپشن سے مُلک کو صا ف نہیں کریں گے ہم ترقی اور خوشحالی کی منزلیں حاصل نہیں کرسکتے ہیں‘‘آج جس کے مُلک سے خاتمے کیلئے عمران خان نے کمر کس لی ہے،اُن کا کہنا ہے کہ اولین ترجیح مُلک سے کرپشن اور لوٹ مار کو ختم کرنااور کفایت شعاری اور سادگی کو مُلک میں پروان چڑھانا ہے ہم جس کی ابتداء اپنی کابینہ مختصر رکھ کر کریں گے ، جس کیلئے ہم نے وفاق اور صوبوں کیلئے حتمی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں، چیئر مین عمران خان نے حکومت سازی کے بعد پہلے مرحلے میں 15سے 20وزراء پر مشتمل کابینہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، چاروں صوبوں کی نمائندگی ہوگی ، اتحادیوں کو بھی وزارتیں ملیں گیں،‘‘بس انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے کو ہیں ، ارضِ مقدس کے محب الوطن اور غیور پاکستا نی شہریوں کو عنقریب ماضی کے کرپٹ حکمرانوں، سیاستدانوں اور خوشامدی افسرشاہی کے کلچرسمیت راشی پٹواریوں کی شکل میں عوام پر ستر سال سے مسلط شیطان کے چیلے چانٹوں سے بھی نجات ملنے والی ہے۔اِس میں کو ئی شک نہیں ہے کہ کراچی اور مُلک کی ترقی و خوشحالی کیلئے عمران اور مقبول کی قربتیں،مُلکی تاریخ میں نئے اور سُنہرے باب کا اضافہ کریں گیں،پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کو مُلک کا اگلا وزیراعظم بنانے کیلئے پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے ما بین ہونے والا 9نکاتی معاہدہ پورا کا پورا قابلِ عمل توہے ، مگراَب جس میں صوبہ سندھ میں پی پی پی اوربالخصوص کاسمیٹک اے پی سی میں شامل شکست خودہ جماعتیں اور اِن سے لفافے اوربھر بھر کر بریف کیس لینے والے نجی ٹی وی چینلز پر بیٹھے اینکرپرسنزاور خبرنویس صحافی اور کالم نگاروں کو معلوم ہے کہ آج اگر پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم پاکستان کے مابین ہونے والے نو نکاتی معاہدے میں مینگیناں نہ ڈالی گئیں اور وفا ق میں متحدہ کے اشتراک سے عمران خان کی حکومت مضبوط بنیادوں پر قائم رہ کر چل پڑی؛ توپھر کاسمیٹک اے پی سی میں شامل جماعتوں اور خان صاحب اور ایم کیو ایم کے خلاف قینچی کی طرح زبانیں چلاتے اورنشتر کی طرح قلم سے زخم لگانے والوں کی تو دال دلیہ بند ہوجائے گی ۔ اِس لئے جہاں کچھ لوگ اپنے خاص لب ولہجہ کے ساتھ معاہدے کو عمران خان اور پی ٹی آئی والوں کیلئے نعمتِ خداوندی اور تحفہ قرار دے رہے ہیں، تو وہیں ’’ معاہدہ میں متحدہ کیلئے کچھ نہیں ہے ‘‘ کہہ کر دراصل ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی دونوں پر طنز کرتے ہوئے ایک دوسرے کے درمیان دوریاں پیدا کرنے میں سینہ زور سر پھوڑ کوششوں میں مگن رہ کر اپنے لفافے کا حق ادا کررہے ہیں، حالانکہ اِنہیں ایسا نہیں کرناچاہئے کیو ں کہ اِن کا پیشہ اِنہیں ایسا کرنے کی قطعاََ اجازت تو نہیں دیتا ہے۔ مگرآج یہ ایسا کچھ نہیں کررہے ہیں۔جیسا کہ اِن کا پیشہ اِن سے کرنے کی تقاضا کرتاہے ۔اگرنہیں تو پھر یقیناًاِن کی بھی ادارتی کچھ مجبور یاں ہوں گی جو یہ چاہتے ہوئے بھی ادا کرنے پر مجبور ہیں، یا پھر اِس سے ہٹ کر اِن کی اپنی ذاتی دلچسپی یا مفادات وابستہ ہوں گے جس کی وجہ سے یہ اپنے ضمیر کی آواز کو بھی پسِ پست ڈال رہے ہیں ۔جبکہ یہ حقیقت ہے کہ سیاست میں کل کے سیاسی دُشمن آج کے دوست اور آج کے دوست کل کے دُشمن بنتے بھی دیر نہیں لگتی ہے آج اگر اِس بنیاد پر پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم پاکستان والے ماضی کی کدورتوں اور رنجشوں کو بھلا کر قریب آگئے ہیں اور ساتھ مل کر کراچی کو اِس کا چھیناگیامقام دلانے اور مُلک میں جمہوراور جمہوریت کو مضبوط بنا کر مُلک کی تعمیروترقی اور خوشحالی کیلئے کچھ اچھا کرنا چاہتے ہیں، توکیوں بشمول فضل الرحمان اوراِن کی اے پی سی میں شامل شکست خوردہ جماعتیں اور لفافے والے نیلے پیلے نجی ٹی وی چینلز اوربیشتر خبرو مضمون نویسوں کے پیٹ میں ہول سی اُٹھ رہی ہے اور پیٹ میں مروڑ پڑرہے ہیں۔

 

 

Google Analytics Alternative