کالم

پیرس دھماکے ، صیہونی لابی اور دہشت گرد عناصر

rana-baqi

قارئین کرام! پیرس بم دھماکوں کے بعد جس کی ذمہ داری داعش تشدد پسند تنظیم نے قبول کی ہے حیران کن ہے اِس لئے بھی کیونکہ دھماکے میں خودکش حملہ آور کےساتھ ہر چیز کے تباہ ہو جانے کے بعد ملبے کے اُوپر دہشت گرد کا پاسپورٹ صحیح سلامت پایا گیا ہے جسے اب کہا جا رہا ہے کہ وہ جعلی ہے ۔ چنانچہ پیرس دھماکوں کی مکمل تحقیق و جستجو کئے بغیر دنیائے اسلام کو کلی طور پر دہشت گردی میں ملوث کرنے کی کوششیں ناقابل فہم ہیں جبکہ القاعدہ ، داعش اور طالبان کے حوالے سے یہ خبریں تواتر سے سامنے آ رہی ہیں کہ اِن تنظیموں میں نہ صرف بھارت اور اسرائیل نے اپنے مخصوص مفادت کی تکمیل کےلئے اپنے ایجنٹ داخل کر دئیے ہیں بلکہ اِن تنظیموں کے بیشتر منحرفین اب کرایہ کے دہشت گرد قاتلوں کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ اِن دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہے اور وہ محض مالی مفادات کےلئے کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔حیرت ہے کہ پیرس دھماکوں میں اسلام کو بدنام کرنے کی تو ہر ممکن کوشش کی گئی جبکہ اُس مسلمان گارڈ کا تذکرہ کرنے سے گریز کیا گیا ہے جس نے نہ صرف اپنی جان پر کھیل کر دہشت گردوں کو اسٹیڈیم میں داخل ہونے سے روک دیا بلکہ چند فرانسیسی خواتین کی جان بچانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اِس اَمر کونظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ اگر داعش، القاعدہ ، طالبان ، شعیہ یا سنی کے نام سے اسلامی تعلیمات کے برخلاف بے گناہ شہریوں کے قتل عام میں شریک ہوتے ہیں تو اُنہیں اسلام کی بنیادی تعلیمات کے برخلاف ایسے کسی بھی اقدام میں شریک ہونے پر کس طرح بھی مسلمان قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ القاعدہ ، داعش اور طالبان کی دہشت گردی کے پس منظر میں یہ ضرور دیکھا جانا چاہیے کہ اِن دہشت گرد گروپوں کو حساس اسلحہ اور مالی وسائل کہاں سے مہیا کئے جا رہے ہیں ۔ ایک حالیہ رپورٹ میں شواہد کےساتھ دعویٰ کیا گیا ہے کہ نائین الیون کے ماسٹر مائینڈ کو رقومات بھارت سے منتقل کی گئی تھیں ۔روسی صدر پیوٹن متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ وہ خلائی تصاویر لیک کرکے نائین الیو ن کے اصل حقائق سے پردہ اُٹھا سکتے ہیں ۔ جہاں تک داعش کا تعلق ہے تو شام اور عراق میں اُن کی مہم جوئی صرف اسرائیل کے مخصوص مفادات کے تحفظ کو ہی ممکن بنا رہی ہے جبکہ پیرس دھماکوں کی آڑ میں بھی اسرئیلی پشت پناہی میں تہذیبوں کے تصادم کی پالیسی کو مہمیز دی جا رہی ہے ۔
حقیقت یہی ہے کہ مسئلہ فلسطین سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے ہی اسرائیلی پالیسی کا بنیادی ہدف ہے ۔ کینیڈا میں لبرل حکومت کا قیام اور گذشتہ اگست میں فرانسیسی اور فلسطینی خارجہ امور کے ماہرین کے اجلاس میں فلسطینی ریاست کو بین اقوامی طور پر تسلیم کئے جانے اور اقوام متحدہ میں نئی قراداد پیش کئے جانے پر گفتگو اسرائیل کےلئے ایک لمحہ فکریہ تھی چنانچہ اسرائیل کے اہم اخبار یروشلم پوسٹ میں ڈھکے چھپے لفظوں میں فلسطینی اور فرانسیسی نمائندوں کی ملاقات کو اسرئیل کے بارے میں فرانسیسی حکومت کی پالیسی میں تبدیلی سے تعبیر کیا گیا۔ کیا پیرس دھماکوں کے ذریعے یہ جواب داعش میں اسرائیلی ایجنٹوں کی جانب سے دیا گیا ہے ؟ اِس پر غور و فکر کیا جانا چاہیے ۔ماضی میں صیہونی لابی کی پس پردہ حمایت سے فلسطین میں یہودیوں کا قومی گھر بنائے جانے کے اعلان کے فوراً بعد آسولڈ سپینگر کی” مغرب کا زوال” نامی کتاب کے ذریعے مغربی ممالک میں اسلام کے خلاف تصادم کی لہر کو مہمیز دی گئی۔ اِسی طرح افغان جہاد کے نتیجے میں سوویت یونین کے خاتمے پر مشرق وسطیٰ میں فلسطینی ریاست کے قیام کی کوششوں کو نئی جہت ملی تو نوے کی دھائی میں صیہونی لابی کے پس پردہ اثرات کے تحت مغرب اور اسلام کے مابین تہذیبی ٹکراﺅ کو ہوا دینے کےلئے یکے بعد دیگرے برنارڈ لیوس کی تصنیف ” مسلم برہمی کی جڑیں” اور ” تہذیبی تصادم ” کے عنوان سے سیموئل ہٹنگٹن کی دو نئی کتابیں سامنے آئیں ۔ مقصد ایک ہی تھا کہ مغرب ملکوں اور اسلامی ملکوں کے درمیان تہذیبی تصادم کی فکر کو مہمیز دیکر مسئلہ فلسطین سے مغربی ملکوں کی توجہ ہٹائی جائے ۔
سوال یہ بھی ہے کہ مسئلہ فلسطین کیا ہے ؟مسئلہ فلسطین کی بنیاد پہلی جنگ عظیم کے دوران رکھی گئی جب برطانیہ نے جنگ عظیم شروع ہونے پر ایک طرف تو عرب مقتدر قوتوں کو خلافت عثمانیہ کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونے پر عرب ملکوں کو آزادی دینے کا وعدہ کیا تو منافقانہ ڈپلومیسی کے تحت دوسری جانب فرانس اور برطانیہ نے سائیکی پیِکٹ خفیہ معاہدے کے تحت جنگ کے اختتام پر عرب اور افریقی ملکوں کی آپس میں بندر بانٹ کر لی۔برطانوی ڈپلومیسی کو داد دینی چاہیے کیونکہ اِس منافقانہ حکمت عملی کا تیسرا پہلو ، جنگ عظیم میں یہودیوں کی مالی امداد کے عوض فلسطین میںیہودیوں کا قومی گھر بنانے کا خفیہ معا ہدہ تھا جس کا تذکرہ فلسطین پر برطانوی قبضے کے بعد 2 نومبر 1917ءمیں اعلانِ بل فور کے ذریعے کیا گیا۔ 1917ءسے 1948ءتک برطانوی فوجیں فلسطین پر قابض رہیں اور اس دوران فلسطینی عرب غیر معمولی ظلم و ستم کا شکار رہے۔ برطانوی فوجیں فلسطین میں داخل ہوئیں تو اُس وقت فلسطین میں یہودیوں کی کل تعداد آبادی کا صرف آٹھ فی صد تھی اور جب 1948ءمیں برطانوی فوجوں نے فلسطین سے واپسی اختیار کی تو اُس وقت تک یورپ اور روس سے لا کر بسائے جانے والے یہودیوںکے باعث یہ تعداد فلسطین کی کل آبادی کا 33 فی صد ہو چکی تھی البتہ برطانوی حمایت سے فوجی و تجارتی پیمانے پر یہودی آبادکار، اکثریتی فلسطینی عرب آبادی پر غالب آچکے تھے۔ 1948ءمیں اینگلو امریکن دباﺅ کے تحت اقوام متحدہ نے فلسطین کو دو ریاستی فارمولے کے تحت یہودیوں اور عربوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا تو اسرائیل نے طاقت کے بل بوتے پر فلسطین کے بقایا اہم علاقوں پر بھی قبضہ کر لیا چنانچہ فلسطینی مقبوضہ علاقوں پر اسرائیل کے ناجائز قبضے کے باعث فلسطینیوں پر مظالم کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے وہ آج تک جاری و ساری ہے۔ ماضی میں مسلم انڈیا اور آزادی کے بعد حکومتِ پاکستان نے فلسطین پر اسرائیلی موقف کو کبھی تسلیم نہیں کیا ہے۔” قائد اعظم محمد علی جناح نے برطانوی حکومت ہند کے دور حکومت میں 1937ءسے 1946ءتک متعدد مواقع پر مسئلہ فلسطین پر برطانوی انتداب کے جانبدارانہ رویہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کی پالیسی شروع سے آخر تک عربوں کو دھوکہ دینے کی رہی ہے۔ برطانیہ نے پہلی جنگ عظیم کے دوران عربوں سے کئے گئے اُس وعدے کو پورا نہیں کیا جس میں عربوں کو مکمل آزادی کی گارنٹی دی گئی تھی۔ عربوں کے ساتھ جھوٹے وعدے کر کے برطانیہ نے بد نام زمانہ اعلانِ بل فور کے ذریعے دنیا بھر سے لائے گئے یہودیوں کو عربوں پر مسلط کر دیا ہے اور یہودیوں کے لئے ایک قومی وطن بنانے کی پالیسی کے بعد برطانیہ رائل کمیشن کی سفارشات کے ذریعے فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے جس کے سبب عربوں کی اپنے وطن میں ہی آزادی کی تمام آرزﺅں اور تمناﺅں کا خون ہوجائیگا اور ایسا ہی ہوا۔ 19 دسمبر 1947ءمیں گورنر جنرل پاکستان کی حیثیت سے قائد اعظم نے بی بی سی کے نمائندے کو انٹرویو دیتے ہوئے مسلہ فلسطین پر اقوا م متحدہ کے یکطرفہ فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ۔ عرب لیڈروں کے نام ایک ٹیلی گرافک پیغام میں قائد اعظم نے اُنہیں یقین دلایا کہ پاکستان اپنے عرب بھائیوں کے ساتھ ہے اور انکی ہر ممکن حمایت کریگا” ۔ اندریں حالات ، اسلام کے خلاف اسرائیل اور بھارت کی موجودہ منفی مہم جس میں پیرس دھماکوں کے بعد غیرمعمولی تیزی دیکھنے میں آئی ہے نے یورپی عوام کے کچھ حلقوں کو بھی جذباتی بنا دیا ہے چنانچہ یہ اَمر اور بھی ضروری ہے کہ پیرس دھماکوں کے اصل ماسٹر مائنڈ تک پہنچا جائے جس کا رُخ بھارت اسرائیلی پروپیگنڈے کی آڑ میں اسلام کے خلاف اُبھارا جا رہا ہے ۔

شراکت میں طاقت

raja-tahir

اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں چند دن باقی ہیں اس سلسلے میں امیدوار جوڑ توڑ میں مصروف ہیں ان سرگرمیوں کی وجہ سے پہلی بار ایسا لگ رہا ہے کہ عوام میں سےاسی بیداری پیدا ہوچکی ہے تمام جماعتیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں حکمران جماعت کے ساتھ ساتھ وہ جماعتیں جو کم اکثریت والی ہیں وہ بھی ان انتخابات میں بازی مارنے کی سعی کر رہی ہیں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے سلسلے میں جو رکاوٹیں یا افواہیں تھیں وہ ایک ایک کر کے تقریبا ختم ہو گئی ہیں۔ اب جبکہ سارا کا م خوش اسلوبی سے مکمل ہوتا نظر آرہاہے وہ قیاس آرائیں بھی دم توڑ چکی ہیں کہ انتخابات ہوں گے کہ نہیں یا شاید حکومت ان بلدیاتی انتخابات سے خائف ہے وغیرہ وغیرہ حقیقتا قومی حکومت بلدیاتی الیکشن سے خائف نہیں ہے بلکہ ان کے انعقاد نہ ہونے کی بعض دیگر وجوہات ہیں ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ ہمارے ہاں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان اگرچہ قانون سازی کی ذمہ داریاں پوری کرنے کے ساتھ ساتھ دےگر کئی معاملات دےکھتے ہیں وہ اپنے حلقے میں دےگر کئی طرح سے مصروف رہتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی قومی اسمبلی میں کارکردگی متاثر ہو تی ہے
اس لیے اگر ایسے کام جو علاقئی سطح پر سر انجام دینے چاہیے وہ لوکل منتخب نمائیندے دیں گے تو وقت کے ساتھ ساتھ مسائل کا بہتر حل سامنے آئے گا کےونکہ ایک لوکل آدمی اپنے کمےونٹی،محلے ،ٹاﺅن یا قصبے کے مسائل کو بہتر طریقے سے نا صر ف سمجھ سکتا ہے بلکہ ان کا بہتر حل نکال سکتا ہے اس طرح اگر وہ مسائل جو علاقائی سطح پر پیدا ہوتے ہیں ان کو اگر مقامی نمائندے خود حل کرنے کے قابل ہوں گے تو ایم این اے یا ایم پی پر کم پریشر ہو گا کہ وہ علاقے کی درست طور پر دیکھ بھال نہیں کر رہے اس کے علاوہ بہت سے ایسے کام ہیں جو بلدیاتی اداروں کو کرنے ہیں مثلاً سڑکوں’ تعلیمی اداروں اور ڈسپنسریوں کا قیام یا ان کی مرمت کے لئے ان کے ذریعے ہی وفاقی و صوبائی حکومتیں ترقیاتی فنڈز فراہم کریں گی ہمارے منتخب نمائندے بھی ان معاملات میں دلچسپی لیتے ہیں جن سے ان کے عوام کے روز مرہ کے معاملات جڑے ہوتے ہیں اور وہ اپنے حلقہ انتخاب کے ووٹروں کو ان کی ضرورتوں کے مطابق منصوبے دے کر مطمئن کرتے ہیں بلدیاتی نظام کے قائم ہونے کی صورت میں بہت سے ترقیاتی کام ان علاقائی نمائندوں کے سپرد ہوں گے اصولی طور پر مقامی تعمیر و ترقی کا سارا نظام مقامی حکومتوں کا دائرہ اختیار ہے جبکہ قومی وصوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مرکزی یا صوبائی سطح پر پالیسیوں کی تشکیل کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں’گلیوں’ نالیوں یا سڑکوں کی تعمیر سے ان کا کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے ۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک مکمل جمہوری حکومت بلدیاتی انتخابات کروانے کی کوشش کر رہی ہے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بلدےاتی انتخابات سے منتخب جمہوری حکومتیں ہمیشہ سے ہی کتراتی رہی ہیں شاید وہ اقتدار میں شراکت کو پسند نہیں کرتی تھیں کےونکہ وہ شراکت میں طاقت کے فارمولے سے شاید نا آشناءہیں اس کے بر عکس آمروں نے ہمیشہ بلدیاتی الیکشن میں دلچسپی لی ہے تو اس دلچسپی کی بھی وجوہات ہیں آمر منتخب حکومت اور اسمبلی کو گھر بھیج کر اقتدار پر قبضہ کرتا ہے قومی وصوبائی اسمبلیوں کی عدم موجودگی میں وہ خلا کو پر کرنے اور جمہوریت سے اپنی دلچسپی واضح کرنے اور عالمی برادری کو دیکھانے کے لئے ان انتخابات پر اپنی دلچسپی مرکوز کرتا ہے ‘ اس کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے ذریعے وہ اپنے حامیوں کی ایک بڑی تعداد جمع کرے اور اسے مختلف مواقع پر مخصوص مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کرے۔ اب جبکہ یہ تمام رکاوٹیں دور ہو چکی ہیں کئی مراحل کامیابی سے مکمل ہو چکے ہیں ایسے میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اب ملکی معاملات میں خصوصا سےاسی معاملات مےںنئے خون کو شامل ہونے کا موقع ملیا ہے جو اس سے پہلے اس طرف کھبی نہیں آئے اگر بلدیاتی انتخابات منعقد نہیں ہوں گے تو ملک کے وہ چند گھرانے ہی حکمران منتخب ہوتے ہیں جو گزشتہ کئی سالوں سے صوبائی اور قومی اسمبلی کی سیٹوں پر بر جمان ہیں باپ کے بعد بیٹا اور اس کے بعد اس کا بیٹا ایم این اے بن کر علاقے میں حکمران بنا ہوا ہے کسی نئے کے لئے جگہ خالی کرنے کا رواج ہمارے ملک سے تقریبا ختم ہی ہو چکا لیکن اب بلدیاتی انتخابات کی صورت میں لگنے والی چھلنی کی وجہ سے یہ لوگ اس کی باریک جالی سے چھن کر اپنی موت آپ مر جائیں گے اور اےسی نئی نوجوان نسل کو آگے آنے کا موقع ملے گا جو ملک کی تقدیر بدلنے کا کام سر انجام دے سکتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے ووٹرز ایسے سچے اور کھرے لوگوں کا انتخاب کریں جو علاقائی ترقی اور علاقائی مسائل کے حل کے لئے موزوں ترین ہو اور حکومت شراکت میں طاقت کی اہمیت کو سمجھے اور بلدیاتی انتخابات ریگو لر بنیادوں پر منعقد کروانے کے لئے مناسب قانون سازی کرئے تاکہ ملک صیح معانوں میں ترقی کی راہوں پر گامزن ہو سکے ۔

پیرس حملے،تیسری عالمی جنگ کی دہائی اور داعش

syed-rasool-tagovi

چارلی ہیبڈو والے واقعہ کے دس ماہ بعد پیرس ایک بار پھر ایک بڑے حادثے سے دوچارہوا ہے۔ 13 نومبر کی دہشت گردی کی کارروائی یقیناً اپنی نوعیت کی ایک بہت بڑی کارروائی ہے جسے یاران فکرو دانش یورپ کا نائن الیون قرار دے کر مستقبل کے منظر نامے سے پردہ سِرکا رہے ہیں۔ نائن الیون کے بعد دنیا جس جنگ سے دوچارہوئی آج تک اس پر سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ آخر اس واقعے کے خالق کون تھے اور ان کے مقاصد کیا تھے کہ ایک اورواقعہ رونماہوگیا ہے۔ آج چودہ سال بعد یورپ کو یہ دن کیوں دیکھنا پڑا، جبکہ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے القاعدہ کے خلاف لڑی جانے والی دہشت گردی کی جنگ کے بڑے مقاصد حاصل کرلئے ہیں۔امریکہ کے نزدیک وہ بڑے مقاصد کیا تھے مگر بقیہ دنیا یہ جانتی ہے کہ القاعدہ کی جگہ اس سے بڑی وحشی اورسفاک تنظیم داعش کھڑی کردی گئی ہے جبکہ دہشت گردی کی جنگ کی کوکھ سے تیسری عالمی جنگ کی دہائیاں دی جارہی ہیں۔ آخر یہ سب کیا ہورہا ہے ،نائن الیون کے بعد افغانستان ، عراق اور لیبیا کو تہہ تیغ کرنے کے بعد (13/11) تھرٹین الیون کیا بقیہ مسلم دنیا کو روند ڈالنے کا سکرپٹ ہے۔ اس سکرپٹ کاماسٹر مائنڈداعش ہے یا پھر داعش کے ”خالق “جو اس کے خاتمے کیلئے بیس سال مانگ رہے ہیں۔ فرانس کے صدر اسے ایک طرح کی جنگ قرار دے رہے ہیں۔ مغربی میڈیا کہہ رہا ہے کہ یہ ہماری تہذیب ، ثقافت ، طرز زندگی اور روح پر حملہ ہے۔پوپ فرانس اسے تیسری عالم جنگ کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ کیا داعش کے خالقوں کو اپنے مقاصد کے حصول کیلئے تیسری جنگ کی ضرورت آن پڑی ہے جو وہ القاعدہ اور طالبان کے خلاف دس سالہ جنگ سے حاصل نہ کرسکے۔ یورپ بھر میں نسل پرستانہ ، قوم پرستانہ ، اسلام اور مسلمان مخالف جذبات پہلے ہی عروج پر تھے ، فرانس میں حجاب پر پابندی ، مساجد کے میناروںکے خلاف تحریک اور توہین اسلام جیسے وہ ایشوز ہیں جو اس واقعہ کے بعد مزید دو آتشہ ہوسکتے ہیں۔ فرانس ویٹو پاور والا ملک اور سلامتی کونسل کارکن ہے لہذا اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ اقوام متحدہ میں یہ معاملہ پوری شدت سے اٹھایا جائے اگر ایسا ہوا تو پھرعالم اسلام کے خلاف داعش کی آڑ میں نیا محاذ کھل جائے گا ۔ داعش عراق میں تباہی اور بربادی پھیلانے کے بعد شام کی طرف رخ کرچکی ہے لیکن شام میں روس کے داعش کےخلاف کود پڑنے سے اس کے خالقوں کو یقینی مشکلات کا سامنا ہے۔ روس شام میں کیوں کودا شاید اس نے خطرے کی بُو بروقت محسوس کرلی تھی۔حالیہ دنوں روس کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پیرس حملوںکا تعلق ”علامتی قتل عام“ سے ہوسکتا ہے اور اس کیلئے ہدایات فری میسنز کے خفیہ کارکنوںنے دی تھی جو اس وقت امریکہ کی سی آئی اے ، فرانس کی ڈی جی ایس ای ،برطانیہ کی ایم آئی سکس ، اسرائیل کی ڈی ایم آئی اور ویٹی کن میں با اختیار عہدوں پر ہیں۔روس کی وزارت دفاع کی رپورٹ کے مطابق مرکزی انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ(جی آریو)نے جمعہ13 نومبر کے اس ممکنہ منصوبے کے بارے میں 15 روز قبل یعنی 27 اکتوبر کو وزارت دفاع کو آگاہ کر دیاتھا۔ اس روز واشنگٹن ڈی سی میں ایک انتہائی خفیہ اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینن، ڈی جی ایس اے کے ڈائریکٹر برنارڈ بایولیت، ایم آئی 6 کے سابق سربراہ جان ساوورز اور ڈی ایم آئی کے سابق سربراہ اور اسرائیل کے موجودہ قومی سلامتی مشیر یاکوو آمیدور نے شرکت کی۔ رپورٹ کے مطابق مغرب کے ان سرفہرست انٹیلی جنس اذہان کے اس انتہائی غیر معمولی اجلاس کا بظاہر مقصد تو ایک عوامی مذاکرہ تھا لیکن اصل مقصد کچھ اور تھا۔ کانفرنس کے بعد ان شخصیات نے امریکی نائب صدر جوزف بائیڈن کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ بائیڈن رومن کیتھولک یسوعی ہیں یعنی سوسائٹی آف جیسس کے رکن ہیں جو امریکا میں آج بھی طاقت رکھتی ہے۔ اس ملاقات کی صدارت سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینن نے کی جو نائب صدر بائیڈن کی طرح یسوعی تربیت یافتہ انٹیلی جنس تجزیہ کار ہیں اور صرف جنگ کے نظریے پر یقین رکھتے ہیں۔مغرب کے ان جاسوس سرداروں کی جوزف بائیڈن کے ساتھ 27 اکتوبر کے ہونے والی ملاقات کے بعد جی آر یو نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں روسی وزارت دفاع کو خبردار کیا تھا کہ یسوعی فری میسن گٹھ جوڑ کی 13 نومبر کو روس کے خلاف کسی معاندانہ کارروائی کا خدشہ رد نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ خفیہ تنظیمیں ہمیشہ کسی نہ کسی “اہم” تاریخ پر قتل عام کرتی ہیں۔اجلاس کے بعد جی آر یو نے روس کی وزارت دفاع کو خبردار کیا کہ فری میسن 11 اور 13 کے جادوئی نمبروں سے کھیلیں گے اور بالکل اسی طرح جیسا کہ جی آر یو نے خبردار کیا تھا، 13 نومبر کو “علامتی قتل عام” کے لیے پیرس کا انتخاب کیا گیا تاکہ دنیا کو اپنے نظریے پر لایا جا سکے۔مذکورہ رپورٹ کے مطابق فری میسن یسوعی منصوبہ سازوں کا پیرس قتل عام دراصل 13 اکتوبر 1307ءکو اس خفیہ تنظیم پر لگنے والی پابندی کا بدلہ ہے۔جی آر یو نے 2013ءمیں بھی خبردار کیا تھا کہ فری میسن یسوعی پاپائے روم کے انتخاب کے بعد گرینڈ ماسٹر کے قتل کا بدلہ لیں گے۔پوپ فرانسس گرجے کی تاریخ میں اس منصب تک پہنچنے والے پہلے یسوعی ہیں اور ان کا انتخاب 13 مارچ 2013ءکو ہوا تھا ۔ پیرس حملے کے بعد انہوں نے جو پہلی بات کی وہ یہی تھی کہ یہ تیسری جنگ عظیم کا پیش خیمہ ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یسوعی فری میسنز نے تیسری جنگ عظیم کے آغاز کے لیے پیرس کو ہدف بنایا۔ادھر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اب فرانس کی جانب سے اعلانِ جنگ ہونے ہی والا ہے اور ہوسکتا ہے کہ وہ نیٹو کے آرٹیکل پانچ کو نافذ کردے۔ جو 1966ءمیں نیٹو چھوڑ دینے کے بعد 2009ءمیں اس میں دوبارہ شامل ہوا ہے۔ اگر فرانس نے آرٹیکل 5 نافذ کیا تو یہ امریکا پر نائن الیون حملوں کے بعد 12 ستمبر 2001ءکے بعد تاریخ میں اس دفعہ کا دوسری بار اطلاق ہوگا۔القاعدہ اور طالبان کے بعدداعش کو مغرب ہی نے ایک مافوق الفطرت قوت بنا کر پیش کیا ہے۔ ایک ایسی طاقت جو بیک وقت شام، عراق، لبنان، ایران اور روس کے خلاف تو جنگ کر ہی رہی ہے، لیکن عین اسی وقت یورپ کے قلب میں ایک بڑے شہر پر اتنا بڑا حملہ بھی کرگئی ہے۔ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس گروہ کو بڑے پیمانے پر کئی ریاستوں کی مدد حاصل ہے۔ روس نے جی ٹوئنٹی کے حالیہ اجلاس کے بعد دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ داعش کو یہی ممالک سپورٹ کررہے ہیں۔یہ صورتحال مسلم ممالک کے لئے تشویش کا باعث ہے کیونکہ اس سے قبل نائین الیون کے بعد طرح طرح کے افسانے گھڑے گئے تھے۔ عراق میں خطرناک ہتھیاروں کے” سچ“ تلے سے زمین پہلے ہی ٹونی بلیرکھینچ چکے ہیں۔کل اگر دس سال بعد پھر کسی ٹونی بلیئرکا اقبال جرم سامنے آتا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا مسلم ورلڈ ےا امریکہ اور ےورپ۔بہت ہوگئی القائدہ ،طالبان اورداعش کے پشت پناہوں کو اس دنیا پر رحم کرنا چاہیے۔

حکمران68سالہ بنیادی مسائل ہی حل نہ کرسکے

azam-azim-azam

اِن دِنوں وطن عزیز پاکستان میں کافی عرصے بعد بلدیاتی انتخابات کی گہما گہمی نظر آرہی ہے کہیںبلدیاتی انتخابات کا عمل مرحلہ وار مکمل ہوچکاہے اور کہیں اِس کا عمل تکمیل کے مراحل سے گزرنے کو ہے تو وہیں کراچی جیسے دنیا کے بارہویں انٹرنیشنل شہر میں بلدیاتی انتخابات ہفتہ 5دستمبر 2015ءکو ہونے والے ہیں مُلک کے جن صوبوںاور اضلاع اور شہرو ں میں بلدیاتی انتخابات مکمل ہوچکے ہیںوہاں کامیاب اُمیدواروں نے اپنی ذمہ داریاں اور فرائض انجام دینے شروع کردیئے ہیں اور عوامی خدمات کو اپنا نصب العین اور قومی فریضہ سمجھ کر ادا کررہے ہیں اورابھی جن اضلاع میں بلدیاتی انتخابات ہونے باقی ہیں وہاں اِن کے پُرامن انعقاد کو یقینی بنانے کی ذمہ دار انتظامیہ ہے تاکہ انتخابی مہم کے دوران کوئی ایسا واقعہ رونما نہ ہونے پائے کہ انتخابات کا پُرامن انعقاد ہی خطرے میںپڑجائے اور ماراماری اور ڈنگے فساد کی وجہ سے انتخابات موخرکرنے پڑئیں اِن خدشات اور مخمصوں کا تدارک اِسی صور ت میں انتظامیہ ممکن کر سکتی ہے کہ انتظامیہ خود پر یہ لازم لے کہ ایسی صورتحال پیداہونے سے بیشتر ہی ایسی حکمتِ عملی اختیار کی جائے کہ انتخابات کا عمل امن و سکون سے گزرے اور اِن کا انعقاد نہ صرف امن وسکون سے ممکن بنایاجائے بلکہ ایسے انتظامات اور اقدامات بھی یقینی بنائے جائیں کہ انتخابات ہارنے والے کی دھاندلی کے لگائے جانے والے بیدریغ الزامات سے بھی پاک ہو ں جب ایسا ممکن ہوگا توپھر خود بخود کامیاب اُمیدوار اپنی خدمات بھی عوامی سطح تک ٹھیک طرح سے پہنچاپائے گا اور حقیقی طور پر عوامی مسائل کے دیر پا حل کی راہیںبھی نکل سکیںگیں یوں کم ہی عرصے میں جب پاکستانی قوم گٹر اور نالی کے مسائل سے نکل جائے گی توپھر صوبے ، وفاق ، حکمران ، سیاستدان ، ادارے اوربیوروکریٹس آپس میں لڑنے جھگڑنے اور ایوانوں میں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کے بجائے محب الوطنی کا ثبوت دیتے ہوئے مُلک میں کالا باغ جیسے ڈیم اور مُلک کے طول ُ ارض میں دوسرے بڑے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کی جانب بھی خصوصی توجہ دیں گے تو مُلک میں کئی دہائیوںسے سراُٹھاتے اور پھنکارتے بجلی کے بحران کا دیرپا اور دائمی حل بھی نکل جائے گا۔
جبکہ یہاں ایک قابل توجہ امریہ بھی ہے کہ موجودہ جاری بلدیاتی انتخابات میں قومی خزانے سے اتنا کچھ خرچ کرکے بھی حکمرانوں ، سیاستدانوں ، اداروں اور بیوروکریٹس نے اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے کامیاب اُمیدواروں کو بے اختیار رکھا اور اِنہیں اِن کے علاقوں میںعوامی مسائل حل کرنے کے لئے بھی بجٹ نہ دیاتو پھر اپنے بنیادی حقوق سے محروم عوام کی جھولی میں 68سالوں سے پڑے پینے کے صاف پانی کے حصول ونکاسی آب ،اچھی خوراک ، بہترین علاج و معالجہ ،کشادہ سڑکیںو جدید سفری سہولیات زندگی کی دیگر آشائش کے حصول سے محروم اور پچھلی کئی دہائیوں سے نئے مسائل بجلی اور گیس کے بحران سے دوچار عوام کے حصے میں پھر سوائے مسائل درمسائل کے کچھ بھی نہیں آئے گا اور بلدیاتی انتخابات محض حکمرانوںکا ایک ڈھونگ بن کررہ جائیں گے جنہیںاِنہوںنے سوائے عوام کو بے وقوف بنانے اور عوام کو ©” چ “ بنانے کے اور کچھ نہیںکیا ۔
آج اِس سے انکار نہیں کہ قوم نے مُلک کی بقا و سا لمیت کے خاطر ہراچھے بُرے اور نازک ترین موڑ پر قربانیاں دی ہیں اورجب بھی میرے مُلک کے (سِول اور آمر حکمرانوں نے)اپنی قوم سے کڑوی گولیاں نگلنے کو کہا میری پاکستانی قوم ایسا کرنے سے بھی کبھی پیچھے نہیں ہٹی ہے یہی تو میری اِس نہتی اور خالی دامن قوم کا ہمیشہ سے وتیرہ رہا ہے کہ اِس نے خالی دامن رہ کر بھی ہمیشہ جذبہ حب الوطنی کا ایساعظیم مظاہرہ کیا ہے کہ یہ خود تو خالی دامن ہی رہی مگر مُلک اور قوم کے خاطر اپنا سب کچھ قربان کرتی رہی ہے جس کی اِن ہی قربانیوں سے حکمران اپنے منصوبوں میں ہمیشہ کامیاب ہوئے اِس لئے توہمیشہ دنیا بھر پاکستانی قوم عظیم قوم کہلاتی ہے اور اِسے دنیا سلام بھی پیش کرتی ہے کہ جس نے ہمیشہ اپنے مُلک اور قوم کی ترقی اور خوشحالی کے لئے وہ سب کچھ قربان کردیا جو اِس کے دامن میں رہااور اِس قوم کا اَب بھی یہ عزمِ مصمم ہے کہ جب کبھی آئندہ بھی اِ س سے حکمرانوں نے کسی قربانی کی فرمائش کی تو یہ اپنے مُلک اور قوم کی ترقی اور سربلندی کے خاطر کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرے گی۔ گوکہ آج خطے میں پاکستان اور پاکستانی قوم کو اپنی بقا اور سا لمیت کے لحاظ سے جس مُلک سے سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں وہ جنگی جنون میں مبتلامُلک بھارت ہے جس نے ہمیشہ ہمارے وطن پاکستان اور ہماری قوم سے متعلق جارحانہ انداز اپنائے رکھا اور اِس کی اِس جارحیت پسندی نے ہی پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایااور اِس کی ابھی تک جاری جارحیت پسندی اور بڑھتے ہوئے جنگی جنون نے پاکستان کو اپنی خود مختاری اور بقا ءسا لمیت کو برقراررکھنے کے لئے بہت کچھ کرنے پر مجبور کردیاہے اور ایسے میں جب کہ بھارت اپنی کسی سُبکی کو ختم کرنے اور اِس پر پردہ ڈالنے کے لئے پاکستانی قوم سے انتقام کی آگ میں طرح طرح کی سازشیں تیار کررہاہے خطے کی بھارت کی وجہ سے خراب ہوتی صورتِ حال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پاکستانی قوم کا یہ عزم ہے کہ اپنے پڑوسی ملک بھارت کے جنگی جنون اور خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لئے ہر نازک گھڑی میں حکمرانوں اور پاک فوج کی ایک کال پر لبیک کہے گی اورہر محاذ پر پاک فوج کے شابہ بشانہ کھڑی ہوگی ۔
آج نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا کی یہی وہ پاکستانی عظیم قوم ہے جس نے مُلک اور قوم کی سربلندی اور خطے میں بھارت کا سر نیچادکھانے اور اِس کی طاقت کو خاک میں ملانے کے لئے اپنے پیٹ پر پتھر باند ھ کر اور گھاس کھا کر اپنے پاک سرزمین پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں حکمرانوں اور قومی اداروں کا ساتھ دیا اور دنیا کی عظیم قوم کہلائی جس نے مُلک کو ایٹمی طاقت بنانے کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے کبھی بھی دریغ سے کام نہیں لیا اِس قوم نے اپنے مُلک کے استحکام کے لئے ہمیشہ اپنی خواہشات کا گلا گھونٹا اور اپنی ضرورتوں اور خواہشات کو ایک طرف رکھ کر مُلک کی بقا ءاور سا لمیت کے لئے کڑوی گولیاں نگلیں ہیںآج شائد یہی وجہ ہے کہ میری یہ قوم قربانیاںدینے اور کڑوی گولیاں نگلنے کی ایسی عادی ہوگئی ہے کہ آج بھی پاکستانی قوم کا ہر فرد (سوائے اُن امراءکے جو پیدائشی منہ میں سونے کا چمچہ لے کر دنیا میں آئے ہیں اور اُن لوگوں اور طبقے کے جو 68سالوں سے چہرے بدل بدل کر اقتدار میں آتے رہے ہیں یا اُن لوگوں اور ٹولے کے جو شارٹ کٹ طریقوں سے دولت مند ہوگئے ہیں) مجموعی طور پراپنے قیام سے ابتک پینے کے صاف پانی کے حصول اور نکاسی آب جیسے مسائل سے تو دوچارہی ہے تو وہیں۔ میری پاکستانی قوم ابھی تک بہترین اور سستے نظامِ تعلیم ، اچھے و سستے اورجدید علاج و معالجہ کی سہولیات زندگی اور کشادہ سڑکوں اورجدید سفری سُہولیات سے بھی تو پہلے ہی محرو م تھی کہ آ ج 68سالوں بعد بھی حکمران ، سیاستدان اور اداروں نے مندرجہ بالا قوم کے بنیادی مسائل کا تو کوئی دیرپا حل نہ نکالا بلکہ آج اُنہوں نے کئی دہائیوں سے پہلے ہی سے مسائل کی دلدل میں دھنسی اپنی قوم کو توانائی( بجلی و گیس اور پیٹرولیم) کے بحرانوں میں بھی جکڑ کررکھ دیاہے جس سے قوم کی پریشانیوں اور الجھنوں میں ایسا اضافہ ہوگیاہے کہ اِن دِنوں ساری پاکستانی ہی قوم توانائی کے بحرانوں میں خا ص کر مُلک کی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی کے باعث مُلک میں پیدا ہونے والے بجلی بحران نے قوم کی زندگیاں اجیرن کرکے رکھ دی ہیں۔
یہاںافسوس کامقا م یہ ہے کہ آج ایک طرف ساراسارادن اور رات بجلی دستیاب نہیںہوتی اور اُوپر سے ستم در ستم یہ کہ تقسیم کارکمپنیوں کی ہٹ د ھرمی سے بجلی کی عدم دستیابی اور گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کے باوجود بھی چند یونٹوں بجلی کے استعمال کے عوض صارف کو کئی کئی ہزاروں روپے کے آنے والے بجلی کے بل( خاص طور پرکراچی میں بجلی سپلائی کرنے والے نجی ادارے کے الیکٹرک کے بجلی بل کے بارے میں اہلیانِ کراچی کا یہ کہنا ہے کہ ہمیں ِ کے الیکٹرک کا ہر ماہ ملنے والا بجلی کا بل کے الیکٹرک کا بل کم مگر بجلی کے بل کی مد میں یہ کے الیکٹرک کی بھتے کی پرچی زیادہ لگتاہے) سے بھی مُلک کے غریب عوام سب سے زیادہ متاثر اور گھائل نظر آرہے جن سے قوم میں سخت مایوسی پھیل رہی ہے اور قوم اپنے لیڈروں سے سوال کرتی ہے کہ وہ آخر کب تک عوام کو گٹر اور نالی کے بعد اَب بجلی کے خودساختہ مسئلے میں رگڑ رگڑ کا اپنی سیاست چمکاتے رہیںگے اور عوامی مسائل کو حل کرنے کا نام لے لے کر قوم کو بے وقوف بنا کر اقتدار پر قابض ہوکر قومی خزانے سے قومی کی ترقی اور خوشحالی بہانے بنا بناکر اپنے اللے تللے کرتے رہیں گے…؟؟
اَب ایسے میں عوام یہ کہنے اور سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیںکہ ہمیشہ عوام کو سول اور آمر حکمرانوں نے مُلک اور قوم کی ترقی اور خوشحالی کے نام پر عوام کو توسخت امتحانات سے گزرنے اور کڑوی گولیاں نگلنے کوکہاجس میں قوم توہمیشہ پوری اُتر کر سُرخرو ہوئی مگر افسوس ہے کہ ہر دور کے ہر اقسام کے حکمرانوں نے قوم کے بنیادی مسائل حل نہ کئے اور یہ ہمیشہ اپنے الوہی سیدھا کرکے چلتے بنے مگر اِس مرتبہ جب مُلک میںعوام کی نچلی سطح تک خدمات کرنے کے جذبات سے سرشار بلدیاتی انتخابات کا مرحلہ وار عمل تکمیل ہونے کو ہے تو عوام اپنے ضرورت سے زیادہ چالاک اور شاطراور ہمیشہ اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کا سوچنے والے حکمرانوں ،سیاستدانوں اور قومی اداروں کے سربراہان اور بیوروکریٹس سے اپنا یہ آخری بار مطالبہ ضرور کیا ہے کہ اَب سب اپنی اپنی ہیرا پھیری اور عوام کو بے وقوف بنا کر اِس کی آنکھوں میں دھول جھونکنے سے باز آئیںاوراَب بلدیاتی انتخابات میںکامیاب ہونے والے اُمیدواروں کو آزادی سے عوام کی خدمات کرنے دیں اور قوم کو گٹراور نالی اور بجلی جیسے خودساختہ پیداکردہ مسائل سے نکالیں تاکہ قومی ادارے ٹھیک طرح عوامی خدمات کرسکیں اور قومی ادارے مُلک میں کالاباغ جیسے ڈیم سمیت دیگر بڑے چھوٹے ڈیموں اور دوسرے خوشحال پاکستان ترقیاتی منصوبوں اور میگاپروجیکٹس کو شروع کرکے پایہ ¾ تکمیل تک پہنچایا جاسکیں جس سے مُلکی معیشت میں بہتری آئے اور مُلک اور عوام ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامژن ہوسکیں۔

پنجاب میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے نتائج

riaz-ahmed

پنجاب میں نیشنل ایکشن پلان پر بھرپور عمل درآمد کے خوشگوا رنتائج برآمد ہو رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پنجاب بھرمیں کسی قسم کی تخریب کاری، دہشت گردی اور امن و امان میں خلل کے واقعات نہیں ہو رہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی ،انتہاپسندی اورعدم برداشت کے رویے کے خلاف قوم متحد اور یک جان ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر موثرانداز میں عملدرآمد ملکی استحکام اور ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔نیشنل ایکشن پلان کے تحت صوبے میں اٹھائے گئے اقدامات سے امن و امان کی صورت حال میں بہتری آئی ہے۔
خادم اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اپنے صوبے میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کی خود نگرانی کر رہے ہیں ۔10 کروڑ کی آبادی کے صوبے میں ملک کے دیگر صوبوں سے کہیں زیادہ صورتحال پرامن ہے کیونکہ پنجاب میں پولیس ، اینٹی ٹیررسٹ فورس اور سپیشل برانچ نہایت منظم ہیں۔ لاہور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کام کر رہا ہے جس کے ذریعے دہشت گردوں کے اندرون و بیرون ملک مواصلاتی رابطے پکڑے اور ختم کیے جا رہے ہیں۔ اس نظام کی بدولت دہشت گردوں اور تخریب کاروں کی بھرپور چیکنگ کی جا رہی ہے اور اس کے نتیجے میں سینکڑوں دہشت گرد گرفتار کئے جا چکے ہیں۔ پنجاب میں ملک اسحاق کی سرکردگی میں کام کرنے والے منظم گروہ کا صفایا کر دیا گیا ۔ اٹک اور کئی دیگر مقامات پر دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث گروہوں کا سراغ لگایا گیا۔
ڈائریکٹر جنرل تعلقات عامہ پنجاب راجہ جہانگیر انور نے انکشاف کیا ہے کہ لاہور میں نہایت جدید فرانزک لیبارٹری قائم کی گئی ہے جو امریکہ ، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک کی لیبارٹریوں سے بھی زیادہ جدید اور مو¿ثر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور برطانیہ بھی اس لیبارٹری سے استفادہ کر رہے ہیں۔
پنجاب سپیشل پولیس ماضی میں ایک روایتی نکارہ ادارہ بن چکی تھی لیکن وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی ہدایت پراسے جدید خطوط پر منظم اور مو¿ثر بنا دیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت نے دہشت گردوں کی خفیہ نگرانی بہتر بنانے کےلئے انٹیلی جنس سکول قائم کیا ہے جہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں اور افسروں کو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی طرح بہترین تربیت دی جا رہی ہے۔
اینٹی ٹیررسٹ ڈیپارٹمنٹ میں بھی بہترین تربیت یافتہ لوگوں کو شامل کیا گیا ہے اور انہیںفوج کی نگرانی میں تربیت دی گئی ہے۔ گذشتہ چند ہفتوں میں لاہور، پنڈی اور صوبے کے دیگر قصبوں اور شہروں سے دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا دہشت گردی کی وارداتوں سے قبل سراغ لگایا گیا ۔یوحنا آباد اور دیگر علاقوں میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں کے مجرموں کو قانون کی گرفت میں لیا گیا ہے۔صوبے بھر میں نفرت انگیز تقاریر، وال چاکنگ، آتشیں اسلحہ رکھنے اوردیگرغیرقانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی ہیں۔ 11 نومبر 2015 تک 48 ہزار 617 مقدمات درج کیے گئے جب کہ 53 ہزار 151 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
جرائم کی روک تھام کے حوالے سے پنجاب پولیس اینٹی گریٹڈ کمانڈ، کنٹرول اینڈ کمیونیکیشن سنٹر کے قےام کا منصوبہ بہت اہمیت کا حامل ہے اور مرحلہ وار پروگرام کے تحت اس منصوبے کو راولپنڈی، ملتان، گوجرانوالہ اور فیصل آباد میں بھی شروع کیا جائے گا۔ اینٹی گریٹڈ کمانڈ، کنٹرول اینڈ کمیونیکیشن سنٹر کے قےام کے منصوبے کے تحت لاہور کے تمام تھانے سنٹر کے ساتھ اینٹی گریٹڈ ہوں گے۔ جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر سے شہر کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے ذریعے جرائم پیشہ افراد اور شرپسندوں پر کڑی نظر رکھنے میں مدد ملے گی۔ جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر سے نہ صرف امن و امان کی صورتحال میں خاطرخواہ بہتری آئے گی بلکہ گلی محلوں اور بازاروں کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے مانیٹر کیا جا سکے گا۔
صوبے میں مقیم افغانی باشندوں کی نگرانی کی جا رہی ہے ۔ پنڈی ، میانوالی اور مختلف مقامات پر افغانوں کی رجسٹریشن بھی کی گئی ہے۔ اسی طرح پنجاب میں چلنے والے تمام مدارس کی باقاعدہ درجہ بندی کی گئی ہے۔ ان میں زیر تعلیم لاکھوں بچوں کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے۔ ان مدارس سے افغان یا دیگر غیر ملکی طلبا کو نکالا نہیں گیا بلکہ ان کی باقاعدہ فہرستیں تیار کی گئی ہیں اور ان مدارس کی مالی امداد اور تعلیمی سرگرمیوں پر نگاہ رکھی جا رہی ہے۔ تمام مدارس کے اساتذہ اور منتظمین کا ریکارڈ تیار کیا گیا ہے اور ان تمام افراد کی سرگرمیوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
ناجائز اسلحہ رکھنے والوں سے اسلحہ، تخریبی مواد اور خود کش جیکٹیں بھی برآمد کی گئی ہیں۔ اسی طرح سماج دشمن عناصر پر نگاہ رکھی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں پنجاب ماضی کے مقابلے میں دوسرے صوبوں سے کہیں زیادہ پرامن ہو چکا ہے اور وزیر اعلیٰ کا پرامن پنجاب کا خواب شرمندہ تعبیر ہو رہا ہے۔
سندھ اور کراچی میں دہشت گردی کی کاروائیاں روزانہ منظر عام پر آرہی ہیں مگر پنجاب میں میں دہشت گردوں کی کڑی نگرانی کے نتیجے میں بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ دہشت گرد پنجاب میں ماضی کی طرح کھلم کھلا کارروائیاں نہیں کر سکتے۔
خادم اعلیٰ نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کی پہلی ترجیح دہشتگردی گردی کاخاتمہ ہے۔پر امید ہیں رواں سال دسمبر تک دیگر صوبوں کی نسبت پنجاب میں امن و امان کی صورتحال بہترین ہو گی۔ پنجاب پولیس کی کارکردگی پہلے سے بہت بہتر ہو رہی ہے جس سے کرائم کی شرح نیچے آ رہی ہے۔ سٹریٹ کرائم پوری دنیا میں ہو رہا ہے۔پنجاب میں بھی اس وقت سٹریٹ کرائم ہے لیکن حکومتی اقدامات سے دہشتگردی سمیت اس کا بھی خاتمہ ہوگا۔

بین الاقوامی کتاب میلہ2015ءایکسپو سینٹر کراچی

mir-afsar

مسلسل گیاراسالوںسے پاکستان میں کتابیں چھاپنے اور فروخت کرنے والوںکی تنظیم(دی پاکستان پبلشیئر اینڈ بک سیلرز ایسوسی ایشن) کی طرف سے کراچی ایکسپو سینٹر میں بین الاقوامی کتاب میلے کا انعقاد ہو تارہا ہے۔ اس میں حکومت پاکستان کی (نیشنل بک فاﺅنڈیشن) کا تعاون بھی شامل ہے۔ اس میلے کو(ایونٹ اینڈ کانفرنس انٹرنیشنل پرائیویٹ لمیٹڈ) نے سجایا۔اس گیارویں بین الاقوامی کتاب میلے کی منیجنگ کمیٹی کے کنوینر جناب اویس مرزا جمیل میسرز ایلائٹ پبلیشئر لمیٹڈ ہیں۔ساﺅتھ زون کے چیئر مین عزیز خالدصاحب اور نارتھ زون کے چیئر مین سید احسن محمود صاحب ہیں ان سب کی کوششوں سے کامیاب میلے کا انعقاد ممکن ہوتا ہے۔گیارویں بین الاقوامی کتاب میلہ۲۱ سے۶۱ نومبر۵۱۰۲ ءپا نچ دن تک ایکسپو سینٹر کراچی میں منعقد کیا گیا ہے۔ اس کتاب میلے میں بیرونی دنیا سے چین، ترکی اور بھارت وغیرہ نے شرکت کی۔یہاں پر ایک مزے کی بات ہے کہ بھارت میں تو پاکستان کے سابقہ وزیر خارجہ جناب خورشید قصور ی صاحب کی صرف ایک کتاب کی رونمائی بھی نہ ہونے دی گئی اور اپنے ہی ملک کے کلکرنی صاحب ،جنہوں نے بھارت کے قومی جھنڈے والا لباس زیب تن کیا ہوا تھا، تنگ نظری کا گنہونہ مظاہرہ کیا اورکلکرنی صاحب کے منہ پر بھارت کے انتہا پسند دہشتگردوں شیو سینانے کالک مل دی۔اللہ کا شکر ہے کہ مسلمان امن و آشتی کے ساتھ رہنے والوں کے ملکِ پاکستان میں اس گیارویں بین الاقوامی کتاب میلے میں درجن بھر سے زائد بھارت کے پبلیشرز اور بکس سیلر نے اپنے اسٹالز لگائے جن کو پاکستان کے لوگوں نے محبت دی اور پیار کیاجو ایک اچھا شگون ہے۔ جہاں تک اندرون ِملک پبلیشئر اور بکس سیلرز کا تعلق ہے تو اس بین الاقوامی کتاب میلے میں سینکڑوں پاکستانی کتابیںچھاپنے اورفروخت کرنے والے اداروں نے حسب معمول حصہ لیا۔ اس کتاب میلے میں تقریباً درجن بھر بیرون ملک سے ادارے شریک ہوئے۔ جس میںہر قسم کی کتابیں فروخت کے لیے پیش کی گئیں تھیں۔ ایکسپو سنٹر کو حسبِ معمول تین حصوں میں تقسیم کر کے اسٹالزلگائے گئے تھے۔ایکسپو سنٹر کی مین بلڈنگ میں داخل ہوتے ہی استقبالیہ کاﺅنٹر کے بعد سیدھے ہاتھ پر ہال نمبر ،۳ سامنے ہال نمبر ۲ اور الٹے ہاتھ پر ہال نمبر ۱ تھا۔ کتابوں کے اسٹالز وزٹ کرنے کے لیے کشادہ راستے بنائے گئے تھے۔ جس میں فیملیز اپنے بچوں کے ساتھ آسانی سے اسٹالز کو وزٹ کر رہیں تھیں۔ باہر نکلتے وقت ہر فیملی اور فرد کے ہاتھ میں کتابوں کی تھیلیاں تھیں۔کھانے پینے کے اسٹالز کا گیلری میں انتظام کیا گیا تھا۔ میلے میں داخل ہونے کے لیے ایک ہی راستہ جو سوک سنٹر کے سامنے ہے اجازت تھی۔ واک تھرو گیٹ سے لوگوں کوداخلے کی اجازت تھی۔ واپسی کے لیے علیحدہ گیٹ بنا یا گیا تھا۔ اس دفعہ اس بین الاقوامی کتاب میلے کا باقاعدہ افتتاح پاکستان کی پارلیمنٹ میں حزب اختلاف جناب خورشید شاہ صاحب نے مورخہ ۲۱ نومبر ۵۱۰۲ءکو کیا ۔ انتظامات بہت ہی عمدہ تھے۔ ایکسپو سنٹر کو خوب اچھی طرح سجایا گیا تھا ہر طرف غبارے ہی غبارے نظر آ رہے تھے آخری دن یہ غبارے شریک ہونے والے بچوں میں تقسیم کر دیے گئے۔پارکنگ کے لیے جگہ کشادہ تھی کسی قسم کی کوئی بھی تکلیف محسوس نہیں کی گئی۔ کراچی ،جو روشنیوں کا شہر تھا جسے ملک دشمنوںبیرونی ایجنٹوں نے گزشتہ۵۲ سال سے غموںاور دکھوںکے شہر میںتبدیل کر دیا ہے ،کے علم پسند لوگ اس دفعہ شہر کے حالت بہتر ہونے کی وجہ سے جوق در جوق شریک ہوئے۔ کراچی شہر،جس کے نوجوانوںکے ہاتھ میں قلم اور بڑوں کے ہاتھ میں دلیل کا ہتھیارہوا کرتا تھا اس کتاب میلے میں کثیر تعداد میں شرکت کرکے پھر کتاب دوستی کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ ا ن شاءاللہ کراچی میں اس کتاب میلے سے لوگوں کے ہاتھوں میں کتابیں ہونگی اور پھر وہ دلیل کی بنیاد پر پورے پاکستان کے سیاسی اور معاشرتی خیالات کو تبدیل کریں گے۔ اللہ بھلا کرے کتابیں چھاپنے اور فروخت کرنے والی تنظیموں کا کہ جو مسلسل گیارہ سالوں سے کراچی میںکتاب میلے کا انعقاد کر رہی ہیں اور اس سال بھی گیارویں کتاب میلے کا انعقاد کیا۔ ہم نے اس دفعہ بھی ایک چیز نوٹ کی کہ کتابوں کے اسٹالز پر پچاس فی صد کی رعایت نہیں دی جا رہی تھی۔ سال بعد کتاب میلہ لگتاہے لہٰذا اس میں تو عوام کو مناسب رعایت ملنی چاہیے۔ منتظمین سے درخواست کرتے ہیں اور امید ہے آیندہ سال اس کا خاص خیال رکھا جائے گا۔اس کتاب میلے میںبچوں کی کتابیں، سی ڈیز، کارٹون اور دیگر مواد کثیر تعداد میں فروخت کرنے کے لیے رکھا گیا تھا۔ قرآن پاک اور تفاسیر قرآن پاک کے بھی اسٹالز موجود تھے۔ سیرت رسول اللہ پر بھی کتابیں تھیں۔ دنیا کے مختلف علماءکی طرف سے لکھی گئی دینی کتابیں بھی فروخت کے لیے رکھیں گئیں تھیں۔ تاریخ، مذہب، فلسفہ ،ادب،فنون لطیفہ اور مختلف علوم پر کتابیں بھی تھی۔ نصاب کی کتابیں اور نصاب بنانے والے اداروں کے اسٹالز بھی موجود تھے۔ اس میں ہماری پسندیدہ اکیڈمی بک سنٹر( آئی آر اے) کا اسٹال بھی تھا ۔ غرض ہر قسم کے علم کی کتابیں اس کتب میلے میں موجود تھی۔اردو، انگریزی، سندھی کے کتابوں کے اسٹالز لگے ہوئے تھے۔ مستقل بیماری کے باوجودہم گزشتہ کئی سالوں سے اس کتاب میلے میں شرکت کر رہے ہیں ۔اپنے شوق کے مطابق کتابیں بھی خریدتیں ہیں۔ ہم نے بھی حسب سابق اس دفعہ اپنے درمیان والے بیٹے اور اپنی دو بہوںاور ان کے بچوں کے ساتھ میلے میں شرکت کی۔ہم نے اپنی ضرورت ہمارے بیٹے اور ہماری بہوں نے اپنی اور بچوں کی پسند کی کتابیں خریدیں۔ کالم نگار ہونے کی ناتے اس کتاب میلے کی ابلاغ کے لیے ہم ہر سال کالم بھی لکھتے رہتے ہیں۔کتاب دوستی کی وجہ سے ان کتابوں پر اپنے کالموں میں تبصرے بھی کرتے رہتے ہیں جو اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔غرض یہ ہے کہ اس اچھے اور نیک کام کی تشہیرہو اور ہمارے ملک کے لوگوں کو کتابوںسے محبت پیدا ہو جا ئے۔ ہمارے نزدیک کتاب بینی بہت کم ہو گئی ہے۔ لوگ ٹی وی اور فیس بک کے استعما ل کی وجہ سے کتابوں کی طرف کم ہی دھیان دیتے ہیں۔ ہم کئی سالوں سے منتظمین سے اپنے کالم میںدرخواست کرتے رہتے ہیں۔ ملک کے سارے صوبوں کے بڑے شہروں یا کم از کم صوبائی دارلحکومتوں میںایسے ہی کتاب میلوں کا انتظام کیا جائے۔ یہ اس وقت کی ضرورت ہے مگر نہ جانے منتظمین کی کیا مشکل ہے کہ وہ یہ کام کئی سالوں سے نہیں کر سکے۔ خیر یہ تو وہی جان سکتے ہیں ہمارا کام درخواست کرنا ہے۔ اس دفعہ ہم نے نوٹ کیا ہے کہ اس بین الاقوامی کتاب میلے میں صرف بھارت، چین اور ترکی ہی شریک ہوئے ہیں اس کتاب میلے کو صحیح بین الاقوامی بنانے کے لئے اپنے دوست ملکوں ،خاص کر اسلامی ملکوں کوبھی اس بین الاقوامی کتاب میلے میں شرکت کرنی کی دعوت دینی چاہےے۔ اس سلسلے میں حکومت پاکستان سے فنڈ حاصل کر کے ان ممالک کو خصوصی رعایت کی پیش کش کی جائے تو بہتر ہوگا۔صاحبو! جب مسلمان کتابیں لکھتے تھے، پڑھتے تھے تو اس وقت کی دنیا علم کی پیاس کے لیے سمر قند اور بخارا کی یونیورسٹیوں کی طرف رجوع کرتی تھی۔ اب جو قومیں کتابیں لکھتیں ہیں اورکتاب بینی کرتی ہیں تو لوگ لندن اور واشنگٹن کی طرف رجوع کر رہے ہےں۔ مسلمانوں کو اپنے وقت کے کتب خانوں جو بغداد وغیرہ میں قائم کیے گئے تھے یاد رکھنا چاہیے جنہیں کتاب دشمن حملہ آور تاتاریوں نے مسلمان دشمنی میں جلا دیا اور دریا برد کر دیا تھا۔ مسلمانوں کو پھر سے کتابوں کی طرف کی روجوع کرنا چاہےے اس میں ترقی اور آگے بڑھنے کا راز ہے جو اس راز کو پا گیا وہ آگے نکل گیا۔ ہمارے اہل علم اور حکومتوں کومغرب کی کتب کا اپنی مادری زبان اردو میں ترجمے کروانے چایہیں تاکہ علم کی قوت سے مسلمان پھر سے اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکیں۔ بہرحال یہ کتاب میلہ وقت کی ضرورت ہے کراچی کے لوگوں نے اس سے خوب فائدہ اُٹھایا۔ منتظمین بھی قابل مبارک باد ہیں۔ اللہ ہمارے کراچی اور پورے پاکستان کو دہشتگردی سے نجات دے اور امن وسکون نصیب کرے آمین۔

پیرس حملے! اِس طرح تو ہوتا ہے اِ س طرح کے کاموں میں!

inayat-swabi

13نومبر کو فٹ بال اسٹیڈیم،کنسرٹ تھیٹر اور ریسٹورنٹس سمیت پیرس کے سات مختلف مقامات پر فائرنگ کے واقعات اور خود کش حملوں کے نتیجے میں ایک سو ساٹھ لوگوں کا قتل اور تین سو کا زخمی ہوجانانہ صرف قابل افسوس ہے بلکہ قابل مذمت بھی ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابرہے۔اس درد کو یورپ اور امریکہ سے زیادہ پاکستان ،افغانستان،عراق ،لیبیا ،کشمیر ،فلسطین ،یمن ،شام اور میانمار کے مظلوم مسلمان سمجھ سکتے ہیں جہاں امریکہ اور مغرب کی اسلام دشمن اور مسلم کش پالیسیوں کے نتیجے میں لاکھوں نہتے مسلمان قتل کئے جاچکے ہیںاور جہاں خانہ جنگی کی سی کیفیت ہے ۔ مغربی میڈیا چود ہ نومبر کے پیرس حملوں کو فرانس کے نائن الیون سے تعبیر کر رہا ہے ۔لیکن یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے گلی گلی ،کوچے کوچے میں روز نائن الیون کا سماں بندھا ہوا ہے لیکن اِن کا اُن کے ہاں کوئی تذکرہ نہیں ۔ سخت گیر اسلامی تنظیم داعش نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔یہ وہ تنظیم ہے جس کے خلاف امریکی اتحاد حالت جنگ میں ہے اور فرانس اِن کا سر گرم اتحادی ہے۔ظاہر ہے آپ کسی کے خلاف لڑ رہے ہوں اور اُن پر آگ و خون کی بارش کر رہے ہو تو وہ بھی موقع کی تلاش میں رہے گا کہ اس طر ح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔فرانس اس امریکی و مغربی اتحاد کا سر گرم رکن ہے جو شام میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے لئے سر گرم عمل ہے۔ گو آج یہ مغربی اتحادی داعش کے خلاف لڑ رہے ہیں لیکن کچھ عرصہ پہلے یہ بشار الاسد کے خلاف داعش کو سپورٹ کر رہے تھے۔آج بھی یہ اتحاد مخمصے کی صورت میں ہے کہ کس کے خلاف لڑیں اور کس کے خلاف نہیں ۔لیکن بشار الاسد نے بھی کوئی کچی گولیاں نہیں کھیلیں ہیں۔وہ روس کا پکا اتحادی ہے اور روس اس کا بھر پور مدد گار ہے ۔روس کے جنگی جہاز بشار الاسد کے مخالفین کے ٹھکانوں کی خبر لے رہے ہیں اور ظاہر ہے بشار الاسد کے مخالفین امریکی اور اس کے اتحادی ہی ہیں ۔اس لحاظ سے شام میں کئی سالوں سے جاری لڑائی اب روس اور امریکہ کی جنگ بن چکی ہے۔گویا سر د جنگ ماضی کا قصہ نہیں بلکہ اب بھی”گرم “ہے۔القاعدہ اور داعش کیوں اور کیسے وجود میں آئے ۔ تو اس کا سیدھا سا اور مختصر سا جواب ہے امریکی پالیسیوں کے رد عمل میں۔خود ساختہ نائن الیون جس کے ذمہ داروں میں کوئی افغانی نہیں تھا لیکن یہاں افغانستان کا ستیا ناس کر دیا گیا۔اُسامہ کو روس کے خلاف استعمال کیا گیا تب وہ مجاہد تھالیکن بعد میں دہشت گر د ہوا۔غلط انٹیلی جنس معلوما ت کی بنیاد پر عراق پر حملہ کیا گیا اور عراق کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی۔جس کے نتیجے میں یہاں خانہ جنگی پھیلی اور داعش وجود میں آئی ۔آج لاکھ بار سابق برطانوی وزیر اعظم عراق جنگ پر معافی مانگیں لیکن اب کیا ہوت جب چڑیا چگ گئی کھیت ۔میری امریکی دوست لی ہاکنس (Le Hawkins)کہتی ہے اور ٹھیک ہی کہتی ہے کہ القائد ہ اور داعش گو امریکہ نے نہیں بنائے لیکن ان کے غلط پالیسیوں کے رد عمل میں ضرور وجود میں آئے ہیں۔
امریکہ وقفے وقفے سے مگر بدستور کسی نہ کسی ہوّا کو کھڑا کر نے کا عادی ہے اور اس ہوّا کے نتیجے میں دنیا والوں کو ساتھ ملا کر اپنا ایجنڈا حاصل کر لیتا ہے ۔اس ہوّا کو کھڑا کرنے کا مقصد مسلمانوں کی نسل کشی ہی ہوتی ہے ، باری باری سب مسلمان ممالک کوغارت کرنا ہوتا ہے ۔پہلے القائد اور اسامہ کا ہوّا کھڑا کیا گیااور اس کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دیکر خود ساختہ نائن الیون کی آڑ میںافغانستا ن اور وہاں کی اسلامی حکومت کا خاتمہ کیا گیا۔طالبان کا بھی ہوّ ا کھڑا کیا گیا اور انھیں تمام برائیوں کی جڑ قرار دیا گیا۔حالانکہ یہ طالبان ہی تھے جنہوں نے پورے افغانستان کو امن کا گہوارہ بنایا تھا۔صدام حسین ،عراق اور ان کے کیمیائی و جوہر ی ہتھیاروں کا ہوّ کھڑا کرکے عراق اور اس کے لاکھوں مسلمانوں کا خون کیا گیا جس کے نتیجے میں داعش وجود میں آئی۔لیبیا کے معمر قذافی کا ہو ّ ا کھڑا کر کے لیبیا کو صفحہ ہستی سے مٹایا گیا جہاں آج خانہ جنگی ہے اور امن کا دور دور تک نام و نشان نہیں۔اب بشار الاسد کا ہوّا کھڑا کرکے شام میں خون کی ندیاں بہائی جارہی ہیں۔ساتھ ساتھ دنیا میں داعش کا ہوّا کھڑا کیا جارہا ہے اور اس کے مقابلے کے لیے پوری دنیا کی حمایت اور مدد حاصل کی جارہی ہے بالکل اُ سی طرح جس طرح القائدہ کے خلاف دنیا کو اکٹھا کیا گیا تھا ۔دیگر کی طرح فرانس داعش کے خلاف امریکہ کا سر گرم اتحادی ہے ۔اس لئے تو داعش نے اسے نشانہ بنایا ہے ۔امریکہ کا دوست ہو اور وہاں کی خون کی ہولی نہ کھیلی جارہی ہو یا وہاں خانہ جنگی نہ ہو ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا۔امریکی جنگ میں کُودنے والے فرانس کو مذید بھی ایسے تباہ کن حملوں کے لئے تیار رہنا ہوگا۔نہ صرف فرانس کو بلکہ یورپ کے دوسرے امریکی اتحادیوں کو بھی۔بالکل اُسی طرح جس طرح ہم نے آنکھیں بند کرکے امریکی جنگ میں چھلانگ لگایا تھا۔اس پرائی جنگ کو اپنا بنا کر ہم اپنی پچاس ہزار جانیں گنواچکے ہیںاور یہ ایک لامتناہی سلسلہ ہے۔آخر ہم کنیڈا سے سبق کیوں نہیں سیکھتے جس کے نو منتخب وزیراعظم نے اپنے انتخابی وعدے کے مطابق داعش کے خلاف لڑنے والے اپنے فوجیوں کو شام سے واپس بلا کر اپنے ملک کو پیرس جیسے تباہ کن حملوں سے محفوظ بنا دیاہے۔لگتا ہے امریکہ پاکستان کو بھی داعش کے خلاف لڑنے کی دعوت ضرور دیگا۔ہم تو ویسے بھی دوسروں کی لڑائی میں کودنے کے عادی ہیں لیکن خدارا ہمیں ملک کو ایک اور آزمائش سے دوچار نہیں کر نا چاہیئے۔اوبامہ کہتا ہے کہ وہ داعش کے خلاف جنگ دوگنی کرے گا اور یہ کہ دہشت گردوں کا ہر جگہ پیچھا کیا جائے گا ۔پوپ پال نے اسے غیر منظم تیسری جنگ کی شروعات قرار دیا ۔ فرانس نے بھی پوری شدت سے شام میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ ایک نہ ختم ہونے والی جنگ جاری رہے گی جس کے خاتمے کا مستقبل قریب میں کوئی امکان نہیں اور جس میں فرانس جیسے حالیہ حملے معمول کی بات ہوگی۔

مسئلہ کشمیر حل ہونا چاہیے!

 riaz-ahmed

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے واشنگٹن میں امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات پر مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرورت پر زور دیا۔بین الاقوامی برادری کو مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں اپنا کردا ادا کرنے پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو گا نہ تو مسئلہ افغانستان حل ہو گا اور نہ ہی اس خطے میں امن قائم ہو سکے گا۔
آرمی چیف جو ان دنوں امریکی دورے پر ہیں، نے امریکہ پرزور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے اوربھارت کو بھی اس کے لئے تیار کرے۔ اب جبکہ دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر کی طرف مبذول ہو چکی ہے وہ اپنا کردار ادا کریں۔ کشمیر کے عوام ایک طویل عرصہ سے قربانیاں دے رہے ہیں اور اپنے زور بازو سے نہتے کشمیری عوام بھارتی بربریت کے سامنے سینہ سپر ہونے کا فیصلہ کیا ہے ۔کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو طاقت سے نہیں دبایا جاسکتا۔
اب جبکہ بھارت کشمیر میں آئے دن انسانی حقوق کی پامالیاں کررہا ہے تو بین الاقوامی برادری کو خاموش تماشائی بن کر نہیں رہنا چاہیے اوربھارتی ظلم و بربریت بند کرائے اور کشمیری عوام کو اقوامی متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت دلوائے۔
امریکہ ، یورپ اس خطے میں امن چاہتے ہیں لیکن اس خطے کا اصل مسئلہ کشمیر ہے اورجب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو گا اس خطے میں امن قائم نہیں ہو سکے گا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ انٹرنیشنل کمیونٹی مسئلہ کشمیر کو حل کرائے تاکہ اقوام متحدہ میں سب سے پہلے آنے والا مسئلہ کشمیر حل ہو سکے۔
یہ بات طے ہے کہ کشمیر کے بارے میں امریکی پالیسی خاصی گومگوکی شکارہے۔چنانچہ مسئلہ کشمیر کے بارے میں باراک حسین اوبامہ اسی پالیسی پر گامزن ہیں جو اس مسئلہ کے بارے میں ان کے پیشتروں کی پالیسی تھی حالانکہ اپنے صدارتی الیکشن میں اوبامہ نے اعلان کیا تھا کہ جب وہ صدر امریکہ منتخب ہوں گے تو مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اقدامات کریں گے۔ ایک طرف اوبامہ نے بھارت کے دورہ کے دوران میڈیا کے سامنے اور پارلیمنٹ میں کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک دیرینہ مسئلہ ہے گو یا بحیثیت صدر امریکہ ا وریواین او کے ویٹو پاور ممبر کی حیثیت سے کشمیر کے سلگتے ہوئے مسئلہ کی حساسیت کو تسلیم کیا۔دوسری طرف اپنے پیش رووں کی یہ رَٹ بھی دہراتے رہے کہ مسئلہ کے دونوں فریقوں بھارت اور پاکستان کی رضا مندی کے بغیر امریکہ نہ اس مسئلہ میں مداخلت کر سکتا ہے نہ ثالثی۔
اِس وقت ریاست جموں و کشمیر کی علیحدگی پسند قیادت ہی نہیں بلکہ حقیقت پسند سیاسی لیڈر بھی کہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر حل طلب مسئلہ ہے اور یہ مسئلہ برا عظم ایشیا کے امن کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے۔گزشتہ ساٹھ سال سے بھارت اور پاکستان مسئلہ کشمیرکی وجہ سے دست بہ گریباں ہیں۔ متعدد بار مسئلہ کے حل کے لئے سفارتی سطح پر کاوشیں کی گئیں ۔ دونوں طرف کی حکومتوں نے تاشقند ، شملہ ، دہلی وغیرہ میں مسئلہ کشمیر حل کرنے کے سلسلہ میں کوششیں کیں لیکن بھارت کے غیر مخلصانہ روئیے سے بات نہ بنی۔
اب مسئلہ کشمیر کی حساسیت ، چین کی سیاسی اور دفاعی سرگرمیاں کشمیر کی دھماکہ خیز صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ امریکہ اپنے ملکی مفادات کو الگ رکھ کر مسئلہ کشمیر میں پہل کر کے ثالثی کا کردار ادا کرے تا کہ کشمیری عوام ہی نہیں بلکہ بھارت اور پاکستان کے عوام بھی راحت کی سانس لے سکیں جو اربوں روپے مسئلہ کشمیرکے تناظر میں عسکری قوت پر صرف ہوتا ہے وہ تعمیر و ترقی اور غریب عوام کو بہتر اور با وقار زندگی گزارنے پر صرف ہو اور پورے ایشیاء میں امن و شانتی کا ماحول قائم ہو۔
مسئلہ کشمیر کاایک فریقی پاکستان تو بار بار امریکہ سے کہہ رہا ہے کہ اس مسئلہ کے حل میں ثالثی کا کردار ادا کرے۔ بحیثیت ویٹو پاور امریکہ از خود بھی ثالثی کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس حیثیت سے امریکہ کی یہ اخلاقی اور منصبی ذمہ داری بنتی ہے۔

Google Analytics Alternative