کالم

وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس

وزیراعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس بڑی اہمیت کا حامل قرار پایا۔ سیاسی و عسکری قیادت نے جہاں کالعدم تنظیموں کے خلاف موثر کارروائی کا فیصلہ کیا وہاں سانحہ کوئٹہ کے ذمہ داروں کو معاف نہ کرنے اور انہیں قرار واقعہ سزا دینے کا عزم بھی کیا اور اس طرح کے واقعات سے بچنے کیلئے صوبے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کوآرڈینیشن مضبوط بنانے کا بھی فیصلہ ہوا ۔ سیاسی و عسکری قیادت نے کہاکہ کوئٹہ شہداء کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیاجائے گا ۔ سانحہ کوئٹہ نے ایک بار پھر فضا کو سوگوار بنا دیا اور ملک بھر میں سوگ کی کیفیت ہے ہر آنکھ اشکبار اور ہردل رنجیدہ ہے۔ کوئٹہ پولیس ٹریننگ پر دہشت گردوں کے حملے نے قوم کو نڈھال کرکے رکھ دیا ہے۔ یہ حملہ آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں پر دشمن کا وار ہے لیکن سیاسی و عسکری قیادت پرعزم ہے وہ اس طرح کے بزدلانہ حملے آپریشن ضرب عضب کے مقاصد کو نہیں روک سکتے ہمارا المیہ یہ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان بنا تو دیا گیا لیکن اس پر کماحقہ عمل درآمد نہیں ہوا اگر عمل کیا جاتا تو آج صورتحال مختلف ہوتی جہاں تک آپریشن ضرب عضب کا تعلق یہ کامیابی سے جاری ہے اورپاک فوج کی قربانیوں کے نتیجہ میں دہشت گردوں سے کئی علاقے واگزار کروائے جاچکے ہیں اور ان کے نیٹ ورک تباہ بھی کیے گئے ہیں لیکن کوئٹہ واقعہ نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ دہشت گرد موجود ہیں ان کے تانے بانے افغانستان اور بھارت سے ملتے ہیں ۔ بھارتی دہشت گردانہ سرگرمیاں دراصل پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش ہے لیکن دشمن اپنے ان مذموم عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوپائے گا۔ اب وقت کا تقاضا ہے کہ اچھے اور برے دہشت گردوں کی پالیسی سے حکومت کو بے نیاز ہونا چاہیے تب جاکر ملک سے دہشت گردی کا قلع قمع ہوگا ورنہ دہشت گردی کا ناسور کبھی بھی ختم نہ ہو پائے گا ۔ نیشنل ایکشن پلان دہشت گردی کے مکمل خاتمے میں اس وقت موثر ہو پائے گا جب اس پر عملدرآمد ہوگا۔ دہشت گردی کی اجازت دنیا کا کوئی مذہب نہیں دیتا ۔ اسلام تو امن کا دین ہے سلامتی کا درس دیتا ہے اور اقلیتوں کے ساتھ حسن سلوک کا سبق دیتا ہے یہ کیسے طالبان اور تنظیمیں ہیں جو انسانیت کی دشمن ہیں اور معصوم شہریوں کو دھماکوں اور خودکش حملوں سے اڑا رہی ہیں۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اوردہشت گردی کے خلاف اس وقت فصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے ۔ پڑوسی ملک بھارت کا دہشت گردی میں ملوث ہونا افسوسناک ہے ۔ پاکستان میں جاری دہشت گردی میں ’’را‘‘ کا عمل دخل نمایاں ہے جس کی روک تھام کیلئے اقدامات کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے اور سیکورٹی کو فعال بنانے پر بھی توجہ کی ضرورت ہے اگر سیکورٹی موثر ہوتی تو 61 جنازے نہ اٹھتے آخر کب تک صرف اعلانات پر اکتفا کیا جاتا رہے گا ان اعلانات پر عمل کو یقینی بنایا جائے ۔ سانحہ کوئٹہ نے سیاسی وعسکری قیادت کو یہ پیغام دیا ہے کہ ابھی دہشت گردوں کا وجود ہے اور ختم کرنے کے دعوے دعوے ہی ہیں ۔ بہرحال پاک فوج کی قربانیوں کا یہ صلہ ہے کہ کافی حد تک دہشت گردی پر قابو پایا جاچکا ہے ۔سیاسی و عسکری قیادت نے دہشت گردی کے خاتمے کے جس عزم کا اعادہ کیا ہے وہ قوم کی امنگوں کاترجمان ہے۔ حکومت اور فوج مل کر ہی دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ سکتے ہیں ۔ دہشت گردی کا خاتمہ ہی ملک کے امن کا باعث بن سکتا ہے۔ پاک سرزمین پر خون آلود مناظر اس کی فضا کو سوگوار بنائے ہوئے ہیں اندرونی و بیرونی سازشیں بھی پاکستان کو عدم استحکام اور افراتفری کا شکار کرنا چاہتی ہیں لیکن ان کی یہ ناپاک کوشش کبھی بھی کامیاب نہ ہوسکیں گی۔ پاکستان کو اس وقت دہشت گردی جیسے گھمبیر مسئلے کا سامنا ہے جس سے اس کی ترقی اور خوشحالی کی راہیں بھی متاثر ہورہی ہیں ۔ دہشت گردی نے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے جس کے خلاف پاکستان بھرپور برسرپیکار ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے آپریشن ضرب عضب جاری ہے اور اس کا دائرہ وسیع کیا جاچکا ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیا جائے اسی سیاسی مصلحت اندیشی سے بے نیاز ہوکر تمام ایسی تنظیموں کے خلاف کارروائی کی جائے جو دہشت گردی میں ممدومعاون ثابت ہورہی ہیں اور ایسی سوچ کو بھی لگام دینے کی ضرورت ہے جو انتہا پسندی کو فروغ دینے کا باعث بن رہی ہے۔پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے سیاسی و عسکری قیادت پرعزم ہے اور قوم اس کے ساتھ کھڑی ہے ۔ دہشت گردوں کو عبرت کا نشان بنانا ہی وقت کا تقاضا ہے ۔
تصادم سے گریز کیا جائے
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف پاکستان کیلئے سیکورٹی رسک بن گئے ہیں ہم جب بھی کچھ کرنا چاہتے ہیں تو کچھ نہ کچھ ہو جاتا ہے انہوں نے کہاکہ 2نومبر کا دھرنا کسی صورت ملتوی نہیں ہوگا ۔ کوئٹہ حملہ سیکورٹی لیپس ہے ۔ پانامہ لیکس کی تحقیقات ہو جائیں تو میر جعفر اور میر صادق سامنے آجائیں گے ۔ دوسری طرف حکومت نے تحریک انصاف کے 2نومبر کو اسلام آباد لاک ڈاؤن سے نمٹنے کیلئے مختلف آپشنز پر غور شروع کردیا ہے ۔فیض آباد سے زیرو پوائنٹ تک رہنے کی اجازت دینے کا فیصلہ ریڈ زون میں داخل کی کوشش پر کارکنوں کو پنجاب ہی روکا جائے گا کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کیلئے کارکنوں کی تلاشی لینے اور انتشار پھیلانے کی صورت میں گرفتاریاں بھی متوقع ہیں جبکہ تحریک انصاف نے بھی اپنا پلان تشکیل دیتے ہوئے دھرنے میں کارکنوں کی بھرپور شرکت کو یقینی بنانے کیلئے ضلعوں اور دھرنا گاہ میں کوارڈینیٹر مقرر کردئیے یہ صورتحال سیاسی موسم کو گرمانے کا باعث بنتی جارہی ہے ۔ پی ٹی آئی اور حکومت آمنے سامنے ہے اور سیاسی بادل طوفانی روپ دھارے جارہے ہیں احتجاج سیاسی جماعتوں کا حق ہے لیکن پرامن ساتھ ہی حکومت کی یہ ذمہ داری قرار پائی ہے کہ وہ بے جا پابندی اور پکڑ دھکڑ سے گریز کرے لیکن سیاسی جماعتوں کو ان کا جمہوری حق سے محروم رکھنا جمہوری تقاضوں کے منافی ہے۔ حکومت سیاسی جماعتوں کو ساتھ چلانے میں پوری طرح کامیاب نہ ہو پائی جس سے سیاسی ہلچل کا منظر ہے۔ پانامہ لیکس پر اٹھنے والی شعلہ اب ملک بھر میں پھیل چکا ہے اور عمران خان وزیراعظم کے استعفے یا اور احتساب کیلئے پیش ہونے کا تقاضا کررہے ہیں جبکہ حکومت سیاسی تدبر اور بصیرت سے کام نہیں لے رہی جس سے معاملہ بگڑ گیا اور ٹی او آرز پر اتفاق رائے کا پیدا نہ ہونا احتجاج کا باعث بنا وطن عزیز میں کثیر الجماعتی نظام ہے اور تمام جماعتوں کو ساتھ لے کرچلنا حکومتی ذمہ داری ہے ۔ پارلیمانی نظام حکومت میں حکومت عوام کے سامنے جوابدہ ہوا کرتی ہے ہم انہی کالموں میں کئی بار سیاسی بصیرت تدبر سے کام لینے پر زور دے رہے ہیں اور ہمارا استد لال یہ ہے کہ سیاسی معاملہ کا سیاسی حل ہی جمہوریت کیلئے نیک شگون قرار پاتا ہے اور بلا امتیاز احتساب سے ہی ملک کو کرپشن سے پاک کیا جاسکتا ہے۔ 2نومبر کے احتجاج کو پرامن ہونا چاہیے اور پرتشدد بنانے سے گریز کرنا دوطرفہ ذمہ داری ہے۔ حکومت برداشت کے جمہوری کلچر کو فروغ دے اور پانامہ کا معاملہ الجھانے

الطاف حسین کے دو پیاروں کی لڑائی؟

غدار وطن اور ایک فاشسٹ لسانی پارٹی ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین ،جس نے پر تشدد سیاست کی آڑ میں پاکستان کو برباد کر دیا ہے۔ اس کے دو پیاروں کے درمیا ن لڑائی شروع ہوئی ہے جو اس تحریر لکھنے تک دونوں طرف سے جاری ہے۔ اس سے پہلے بھی عدالت نے پاکستان مخالف اور را سے مدد مانگنے اور کارکنوں کو تشدد پر اُکسانے پر میڈیا پر تقریر اورتصویر پر پابندی لگا رکھی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی ہی پابندی لندن کے ایم کیو ایم کے رہنماؤں پر بھی ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے درجنوں شہریوں نے اس کے خلاف عدالتوں میں مقدمے قائم کیے تھے۔ ۲۲؍ اگست کو کراچی پریس کلب میں موجود ایم کیو ایم کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے، پاکستان مردہ باد، پاکستان ایک ناسور ہے اور اپنے کارکنو ں کو تشدد پر اُکسا کر میڈیا ہاؤسز پر حملے کا حکم دیا تھا اور پھر کارکنوں نے اس کے حکم پر نہ صرف اس کے نعروں کی تاہید کی بلکہ عملاً نجی ٹی کے دفاتر پر حملہ بھی کیا تھا ۔اس کی ساری الیکٹرونک کی اشیاکو توڑ دیا جو پوری دنیا نے میڈیا کی نشریات پر دیکھا۔ پھر بقول فاروق ستار الطاف حسین نے معافی بھی مانگ لی۔ معافی کے دوسرے دن امریکا میں مقیم ایم کیو ایم کے کارکنوں سے پھر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا، بھارت اور اسرائیل میری مدد کرے میں پاکستان توڑنا چاہتا ہوں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذ مہ داری پوری کرتے ہوئے حرکت میں آئے اور پاکستان مخالف پروگرام میں شریک فاروق ستار ، اظہار الحق اور دوسروں کو گرفتار کیا۔ ان پر پاکستان مخالف سرگرمیوں کی وجہ سے مقدمہ قائم کیا گیا۔فاروق ستار اور اظہارالحق کو تو رہا کر دیا۔ جو ابھی ضمانت پر ہیں۔ باقی ابھی بھی زیر حراست ہیں۔ اور عدالت میں پیشیاں بگھت رہے ہیں۔ الطاف حسین کی پاکستان مخالف تقریر پر قانون نافظ کرنے والے اداروں کی طرف سے ممکنہ پابندی سے بچنے کے لیے الطاف حسین سے مشاورت کر کے فاروق ستار نے فوراً رات رینجرز کی حراست میں رہنے کے بعد پریس کانفرنس کر کے ایم کیو ایم لندن اور الطاف حسین سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔اس کے بعدایم کیوایم کے آئین میں تبدیلی کرکے الطاف حسین کا ویٹو پاور بھی ختم کردیا۔ ایم کیو ایم لندن کے کنوینر اور کچھ ممبران کو بھی ایم کیو ایم پاکستان سے خارج کر دیا۔ اس کے رد عمل میں لندن کی رابطہ کمیٹی نے فاروق ستار، اظہار لحق اور فیصل سبزواری کو پارٹی سے نکال دیا۔ فاروق ستار کہتے ہیں ایم کیو ایم پاکستان میں سیاسی پارٹی کے طور پر الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ ہے جس کامیں سربراہ ہوں۔ جبکہ لندن ایم کیو ایم کہتی ہے کہ ایم کیو ایم ایک ہی ہے جس کے سربراہ الطاف حسین ہیں۔لندن والوں نے کراچی اور حیدر آباد میں اس بات کی چاکنگ بھی کروائی۔ جو ابھی تک جاری ہے۔الطاف حسین نے پہلے قومی ،صوبائی اور سینیٹ کے ممبران سے کہا کہ وہ استعفے دے کر نئے سرے سے الیکشن میں جاؤ۔ مگر اس کے حکم پر کسی نے عمل نہیں کیا اور کہا کہ یہ ایم کیو ایم پاکستان کا مینڈیٹ ہے۔ اس کے بعد کارکنوں سے کہا کہ ان کے گھروں میں جا کر ان سے استعفے لے لو مگر کسی کے سر پر جوں تک نہیں رینگی۔ کراچی حیدر آباد میں دوسری طرف کچھ گمنام لوگوں جن میں سے ایک کوکراچی یونیورسٹی سے پاکستان مخالف سرگرمیوں کی وجہ سے نکالا گیا تھااور دوسرا پیپلز پارٹی کا جیالا رہا ہے ایم کیو ایم لندن کی طرف سے پریس کانفرنس کی اور کہا کہ ایم کیو ایم صرف الطاف حسین کی ہی پارٹی ہے۔ نوٹ کرنے کی بات یہ ہے کہ الطاف حسین کو اپنا پرانا ایک بھی، قومی، صوبائی، سینیٹر یا لوکل گورنمنٹ کا ممبر بھی پریس کانفرنس کے لیے دستیاب نہ ہو سکا۔ سب کے سب ایم کیو ایم پاکستان جس کے سربراہ فاروق ستار ہیں کے ساتھ ہیں۔ ان حالات میں ذرائع یہ سوچنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ الطاف حسین کے ہاتھ سے ایم کیو ایم نکلنے کی وجہ سے کہیں یہ بیرونی مدد تو نہیں آ گئی ہے جو حالات تبدیل ہونے شروع ہو چکے ہیں۔ اس قبل پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے غدار الطاف حسین کے لیے کہا تھا کہ میں نے کبھی بھی انکل الطاف حسین کو غدار نہیں کہا وہ ایک سیاسی حقیقت ہیں ۔جب کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے سندھ اسمبلی میں الطاف حسین کے خلاف آرٹیکل ۶ کے تحت کاروائی کے لیے قرارداد پاس کر چکی ہے۔ دوسرا کہیں گورنر سندھ عشرت العباد نے الطاف حسین کی مدد کرتے ہوئے سید مصطفے کمال کوپھنسانے کی چال تو نہیں چلی۔ کیونکہ اسی دوران ایک نجی ٹی وی میں پروگرام میں الطاف حسین کو اپنا خیر خواہ کہہ چکے ہیں۔ اس تناظر میں اگر ایم کیو ایم کے دھڑوں میں فرق کو سمجھا جائے تو صرف سید مصطفے کمال ہی الطاف حسین کے سخت مخالف دھڑا ہے۔فاروق ستار بھی ابھی تک الطاف حسین کے ووٹروں اورقومی، صوبائی،سینیٹروں اور لوکل گورنمنٹ کے ممبران کے دباؤ کی وجہ سے الطاف حسین کے لیے اندر ہی اندر نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ صاحبو! گورنر سندھ عشرت ا لعباد اور سید مصطفے کمال سربراہ پاکستان سرزمین پارٹی ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگا رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ کرپشن کے پیسے ملیشیا، لندن اور بیرون ملک بھیجے گئے ہیں ۔جادائدیں بنائی گئی ہیں تو یہ سب سچ ہے۔ دونوں نے کرپشن کر کے اپنا اور الطاف حسین کا پیٹ بھرا ہے۔ان ہی کے بھیجے گئے پیسوں سے لندن کا سیکٹریٹ چلتا رہا ہے۔ صولت مرزا کا بھی عشرت العباد کے خلاف اسٹیٹمنٹ تھا۔ جماعت اسلامی کے کارکنوں کوبھی قتل کر کے ایم کیو ایم کے دہشت گرد عشر ت العباد کے پاس گورنر ہاؤس میں پناہ لیتے رہے ہیں۔ سیدمصطفے کمال کہتے ہیں کہ ۱۲؍ مئی کا پروگرام گورنر ہاؤس میں بنا تھا۔ سچ یہ ہے کہ عشرت العباد اور سید مصطفے کمال دونوں لطاف حسین کے پیارے رہے ہیں۔اب جب الطاف حسین مکافات عمل کے تحت قانون کی گرفت میں آیا ہے یہ سب اپنی اپنی صفائیاں عوام کے سامنے پیش کر رہے ہے۔کیا لطاف حسین پر را کا یجنٹ ہونے کا الزام اب لگا ہے۔ نہیں نہیں! جب ۱۹۹۲ء میں آپریشن شروع ہوا تھا تو لیاقت آباد کے چورائے پر لگی الطاف حسین کی تصویروں پر پان کی پھیکیں ڈالی گئیں تھیں۔ عامر خان اورآفاق احمد نے کراچی میں بینرز آویزاں کیے تھے جن پر لکھا تھا کی الطاف حسین را کا ایجنٹ ہے۔ کراچی میں ٹارچر سیل دریافت ہوئے تھے۔ ایم کیو ایم کے دفتر سے جناح پور کے نقشے بر آمند ہوئے تھے جس کا اظہار اب بھی ٹاک شوز میں اس وقت کے آپریشن میں شریک ایک جرنل،ایک برگیڈیئر اور ایک میجر صاحبان کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں۔صاحبو! سب کو معلوم ہے کہ الطاف حسین ایک ناسور ہے۔اس نے دلیل اور قلم سے بات کرنے والی پوری مہاجر آبادی کو بدنام کر دیا ہے۔اچھے اور پیارے اور کردار والے مہاجروں کے نام کنکٹا، لنگڑا،ٹینشن،کے ٹو،ٹنڈااور نہ جانے کون کون سے نام رکھ دیے ہیں۔اب جبکہ پورے پاکستان کی اسمبلیوں میں الطاف حسین کی پاکستان سے غداری کی قراردادیں پاس ہو چکی ہیں اس کے تحت ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔ مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ الیکشن کمیشن میں جائے اور الطاف حسین کے مینڈیٹ والے سارے ممبران کو ڈی سیٹ کروا کر نئے مینڈیٹ جو پاکستان زندہ باد کا مینڈیٹ ہو کے تحت مہاجروں کو اسمبلی میں لایا جائے۔ سیاست کرنا ان کا حق ہے لیکن الطاف حسین والی پاکستان مردہ باد ملک دشمن سیاست کا حق کسی کو بھی نہیں۔ سارے جراہم پیشہ ایم کیو ایم کے افراد کی تحقیقات ہونے چاہیے اور اگر کسی نے جرم کیا ہے تو اس کی سزا بگھتے اور اس کے بعد صاف ستھرا ہو کرسیاست کرے۔ چاہے وہ عشرت العباد ہو، مصطفی کمال ہو،اظہار الحق اور ہو یا وسیم اختر ہو یا کوئی اور ہو۔الطاف

زیرو ٹالرینس پالیسی کا فیصلہ کن وقت ‘

امریکی صدر اُوبامہ کا یہ کہنا کہ’ پاکستان اچھی اور بُری دہشت گردی کو اکھاڑ پھینکے کے لئے اپنے وعدے کا پاس کرے ‘ یہی بات بھارت نے اپنے منہ میں ڈالی ہوئی ہے، جبکہ افغانستان میں امریکی اشاروں پر قائم افغان انتظامیہ نے بھی دہرا اور دوغلا معیار اپنا یا ہوا ہے بھارت اور افغانستان امریکی شہ پر یکطرفہ انگشت نمائی کرنے میں یہ بالکل نہیں سمجھ رہے کہ وہ خود اور اُن کے سرپرستِ اعلیٰ امریکا کا مذموم اور قابلِ اعتراض رویہ جو اب پوری طرح سے کھل کر بے نقاب ہوچکا ہے افغانستان کے ایک سے زائدتہائی حصہ پر ’کابل ‘ کی گرفت تو ہے نہیں ‘ کئی صوبوں میں زور آور قبائلی سرداروں نے کئی صوبوں میں افغان طالبان نے اپنی طاقت پر اپنی حاکمیت قائم کررکھی ہے، صدر غنی اور عبداللہ عبداللہ ’کٹھ پتلی‘ بنے نجانے خود کو کیا سمجھتے ہیں جیسے مکمل افغانستان اُن کے یا امریکی بوٹوں کے نیچے چل رہا ہو ایسا قطعی نہیں افغانستان کی جو انتشار زدہ اور بگڑتی صورتحال دنیا کو دکھائی دیتی ہے یہ صورتحال روسی قبضے سے بھی آج بہت بدتر ہے اگر امریکا نے اپنے گریبان میں اب بھی جھانکنا ضروری نہیں سمجھا ،تو اُسے یہ حقائق پتھر پر لکھی تحریر سمجھنا ہو گی کہ پاکستان پر ’اچھے بُرے طالبان ‘ میں تمیز یا فرق سمجھانے سے قبل وہ افغانستان میں موجود کئی خطرناک مسلح جتھوں بلکہ عالمی معاشی تباہ کاروں ‘ ڈاکوؤں اور اصل افغان مزاحمتی گروپوں کی تفریق اپنے پلہ باندھے دوسری جانب امریکا کو اِتنی آسانی سے دنیا معاف نہیں کرے گی امریکا نے دنیا کو ’اُسامہ بن لادن ‘ کی تلاش کے بہانے پہلے اِس خطہ میں ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کا نہ صرف قتلِ عام کیا، بلکہ کئی مسلم قبائل کی مشترکہ سرزمین کو گزشتہ پندرہ برسوں سے لہولہان کیا ہوا ہے۔ امریکا کی اِس تمام تر انسانیت کش کارستانیوں کا براہِ راست کٹھن مصائب سے بھرپور شدید متاثر ہونے والا افغانستان کا پڑوسی ملک پاکستان آج ایسی انتہائی ممکنہ سنگین تشویش کے دوراہے پر آن کھڑا ہوا ہے جس نتیجے میں افغانستان میں بہت تیزی سے فروغ پاتی دہشت گردی کے شعلے اور لپٹیں پاکستان کے ایک سرے سے دوسرے سر ے تک یکساں محسوس ہورہی ہیں ۔پاکستانی فوج نے آپریشن ضربِ عضب جون2014 میں شروع کیا، ملکی قبائلی پُرامن ہوئے، ملکی عوام نے فوج کے ہنگامی آپریشن کے فوری اقدامات کو تحسین یافتہ قرار دیا ،فوج کا مورال اور بلند ہوا تو فوج نے گزشتہ10-15 برس کی پھیلے ہوئے سماج دشمن عناصر کی کمر توڑ کر رکھ دی ۔دہشت گردوں کے اسلحہ خانوں کو تباہ وبرباد کر دیا دہشت گردوں کے مواصلاتی رابطوں اور اُن کے ملک بھر میں چھپے اور پھیلے ’سفید پوش ‘ سہولت کاروں کے گرد اپنا گھیرا تنگ کیا وہ گرفتار ہوئے اور جہنم رسید‘ فاٹا سے آگے پاکستانی فوج نے دہشت گردوں کا پیچھا کیا جن کی ایک واضح جنونی مسلح اکثریت افغانستا ن کے سرحدی علاقوں میں قائم بھارتی کونصل خانوں میں جاچھپی کیا امریکا کو اِن اطلاعات کا کوئی علم نہیں کوئی عقل مند یہ بات تسلیم نہیں کرئے گا امریکا نے جان بوجھ کر افغان علاقوں میں اپنی ایماء پراُن مسلح دہشت گردوں کی کئی ٹیموں کو ’پال‘ رکھا ہے جو وقتاً فوقتاً پاکستان کے خیبر پختونخواہ اور خاص کر بلوچستان میں یکے بعد دیگرے چونکا دینے والی ایسی تباہ کن دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں جن میں ’اجتماعی قتلِ عام ‘ رونما ہوجاتا ہے ۔کوئٹہ شہر میں 7 ؍اگست 2016 کو پہلے ایک ممتاز وکیل بلال انور کاسی پر نامعلوم افرادسے حملہ کرایا جاتا ہے یہ بڑا سوچا سمجھا اور انتہائی مکروہ انسانیت کش منصوبہ تھا اُن سفاک ظالموں کو پتہ تھا کہ دوسرے روز انور کاسی کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے شہر بھر کے وکلاء کوئٹہ کے ہسپتال پہنچیں گے اور ایسا ہی ہوا ۔8 ؍اگست کو سول ہسپتال کوئٹہ کے ایمرجنسی روم میں جب شہر بھر کے اہم ممتاز وکلاء کی اکثریت جمع ہوگئی تو اِس ’سافٹ ٹارگٹ‘ کو بڑی بربریت سے ایک خود کش حملے کا نشانہ بنایا گیا جس میں 70 سے زائد پاکستانی شہید ہوئے غالباً60 وکلاء اپنی بیش بہا قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ، جو ’گیم‘ امریکا مشرق وسطیٰ میں کھیل رہا ہے ۔یہاں بھی وہی اُس سے ملتی جلتی بہیمانہ بساطِ بربریت کا انداز دیکھ لیں پاکستانی فوج کے مفرور دہشت گرد جنہیں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ اور’ این ڈی ایس‘ افغان انٹیلی جنس ایجنسی باہم مشترکہ طور پر پاکستان کو مسلسل عدم استحکام سے دوچار کئے رکھنے کیلئے متحرک کر رکھا ہے کہاں یہ دہشت گرد ،کہاں ’آئی ایس آئی ایس ‘ پاکستانی بخوبی جانتے ہیں آئی ایس آئی ایس کا کوئی وجود افغانستان میں تو ممکن ہو، مگر وہ پاکستان میں قدم بھی نہیں رکھ سکتے۔ چند ایک نے ضرور کراچی میں اپنی قابلِ مذمت کارروائیاں کیں جو اب اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں۔ 24 اور25 ؍اکتوبر کی درمیانی شب کوئٹہ کے پولیس ٹرنینگ کالج میں افغانی علاقے سے کوئٹہ پہنچنے والے دہشت گردوں نے بعینہٰ 8 اگست سے ملتی جلتی وحشیانہ بربریت کی بھیانک تاریخ دہرادی ، انسانیت کی سطح سے گری ہوئی اِس افسوس ناک واقعہ میں پولیس کے 60 تربیتِ یافتہ کیڈٹس جن کا تعلق‘ خالص بلوچستان کی سرزمین سے تھا اُنہیں شہید کردیا گیا ایف سی بلوچستان کے سربراہ جنرل افگن نے عالمی اور ملکی پریس میں صاف بتایا کہ اِن سفاک دہشت گردوں کے مواصلاتی رابطے افغانستان میں اپنے سہولت کاروں سے تھے جن کی ہدایات پر یہ دہشت گرد لفظ بہ لفظ عمل پیرا تھے۔ اِس واقعہ میں زخمیوں کی تعداد 124 بتائی گئی ہے زخمیوں میں سے 20 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے ۔گزشتہ تین ساڑھے تین برسوں میں دہشت گردی کے حوالے سے نبٹنے کے بارے میں لاحق خطرات کے موضوع پر ملکی سیاسی قیادت نے یقیناًملکی عسکری قیادت کی بریفنگ میں کچھ نہ کچھ تو اقدامات کیئے مگر اُن کے یہ ’تشنہ اقدامات‘ پاکستانی عوام کیلئے کوئی اہمیت نہیں رکھتے کیونکہ وہ ’دہشت گردوں ‘ کو صرف للکار تو رہے ہیں، دہشت گردوں کے مکمل خاتمہ کیلئے مشرقی اور مغربی سرپرستوں کی طرف جانتے بوجھتے ہوئے اُنہیں ’شٹ اَپ کال‘ دینے میں رضامند دکھائی نہیں دیتے! یہ سیاسی وجمہوری مخمصہ عوام کی سمجھ میں نہیں آرہا پشاور کے اے پی ایس واقعہ کے بعد ’نیم دلانہ رضامندی‘ سے آل پارٹیز کانفرنس بلائی گئی تھی جس میں 22 نکاتی ’نیشنل ایکشن پلان‘ کی منظوری بھی ممکن ہوگئی تھی ،لیکن نتیجہ کیا برآمد ہوا؟ صفر؟ کوئٹہ میں یکے بعد دیگر ے ہونے والی دہشت گردی نے یقیناًسیاسی وجمہوری حکمرانوں کی آئینی اتھارٹی کے حوالے سے کئی اہم حساس اور سنگین سوالات اُٹھا دئیے ہیں، جن کے جواب فی الحال کسی بھی سیاسی حلقے کے پاس نہیں‘ قومی سلامتی کو پسِ پشت ڈال کر جمہوریت اور سیاست کو بچانے کی باتیں پاکستان جیسے نظریاتی ملک‘ جس کے دشمن بہت زیادہ متحدآپس میں اِس نکتہ پر متفق ہیں’ پاکستان کے استحکام کو چاہے وہ دفاعی استحکام ہو یا معاشی اقتصادی استحکام ‘ سماجی و ثقافتی استحکام ہو یا نظریاتی استحکام پاکستان کو نقصان پہنچانا اُن کا اوّلین ایجنڈا ہے۔کیا وہ اِس کامیاب ہوپائیں گے یہی سوچ سوچ کر ہر ایک پاکستانی کی روح کانپ کانپ رہی ہے ؟ کیا اب بھی قومی سلامتی کے معاملہ پر ’زیرو ٹالرینس پالیسی ‘ اپنانے کا عملی وقت نہیں آن پہنچا؟

کوئٹہ سانحہ، سکیورٹی لیپس کا شاخسانہ

کوئٹہ میں سریاب روڈ پر دہشت گردوں نے پولیس ٹریننگ کالج کے ہاسٹل پر حملہ کرکے زیرتربیت ریکروٹس کو یرغمال بنالیا۔ حملے میں دہشت گردوں نے تین دستی بم پھینکے جو زوردار دھماکے سے پھٹ گئے اور آگ بھی بھڑک اٹھی جبکہ اسی دوران دہشت گردوں نے ریکروٹس پر فائرنگ کا سلسلہ بھی شروع کردیا جس سے ایف سی کے ساٹھ سے زائد اہلکار جاں بحق اور ایک سو سے زائد زخمی ہوگئے۔ جاں بحق ہونیوالوں میں پانچ فوجی جوان بھی شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں سے 15 کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ 260 سے زائد یرغمالیوں کو بازیاب کرالیا گیا ہے جبکہ فورسز کی کارروائی میں چار دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں۔
پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ سے 17 کلومیٹر دور ہے۔ دہشت گردوں کے حملے اور ہاسٹل پر قبضے کے بعد پاک فوج نے آپریشن کی کمان سنبھال لی جبکہ پولیس اور ایف سی کی نفری بھی بھاری تعداد میں وہاں موجود رہی۔ تین چار خودکش حملہ آوروں کے کوئٹہ میں داخل ہونے کی اطلاعات تھیں جس پر کوئٹہ شہر میں ہائی الرٹ تھا۔ دہشت گردوں کو شہر میں تو موقع نہیں ملا مگر وہ ٹریننگ کالج کے پیچھے پہاڑیوں کے راستے سے کالج کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
بے شک وزیراعلیٰ بلوچستان اس حوالے سے اطمینان کا اظہار کریں کہ دہشت گردوں کو شہر کے اندر داخل ہونے کا موقع نہیں مل سکا جسکے باعث زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا مگر کیا دہشت گردی کی اس واردات میں پچاس سے زائد اہلکاروں کا جاں بحق اور سو سے زائد کا زخمی ہونا حکومت اور حکومتی مشینری کیلئے اس حوالے سے اطمینان کا باعث ہونا چاہیے کہ یہ انکے بقول کم انسانی جانی نقصان ہے جبکہ دہشت گرد تو حقائق و شواہد کی روشنی میں پولیس ٹریننگ کالج میں ہی دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے تحت آئے تھے اور وہ پوری سہولت کے ساتھ اسلحہ سمیت بلاکسی روک ٹوک کالج کے اندر داخل ہوئے اور پھر ہاسٹل میں اپنے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس سفاکانہ واردات کیلئے دہشت گردوں کا قانون اور امن نافذ کرنے کے ذمہ دار سکیورٹی ادارے کے ٹریننگ سنٹر میں داخل ہونا اور ہدف پورا کرنا اس لئے بھی زیادہ افسوسناک اور تشویشناک ہے کہ ابھی چھ ماہ قبل ہی کوئٹہ میں دہشت گردوں نے کوئٹہ بار کے صدر کے قتل کے بعد ہسپتال پہنچنے والے 80 کے قریب وکلاء اور سکیورٹی اہلکاروں کو بھی ٹارگٹ کرکے دہشت گردی کی بھینٹ چڑھایا تھا۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان نے اعتراف کیا ہے کہ دہشت گردوں کے حملے کا نشانہ بننے والے پولیس ٹریننگ کالج میں حفاظتی انتظامات مثالی نہیں تھے۔ موجودہ خطرات کے پیش نظر سکیورٹی غیر معمولی ہونی چاہئے تھی۔ سیکورٹی کے حالات تو یہ ہیں کہ 6 ستمبر کو آئی جی بلوچستان نے پولیس ٹریننگ کالج کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب میں کالج کی بیرونی دیوار دوبارہ تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اسی تقریب کے دوران دیوار کی تعمیر سمیت آئی جی بلوچستان کے چاروں مطالبات کو فوری منظوری دی تھی جس پر عمل نہ ہو سکا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ لوگ روز جنازے اٹھا کر تنگ آ گئے ہیں۔ عوام میں مایوسی ہے۔ ناقص سکیورٹی کے ذمہ داروں کو برطرف کر دینا چاہئے۔ صوبائی حکومت سے اس حوالے سے پوچھوں گا۔ وزیر داخلہ کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ صرف انصاف کی رٹ لگانے سے کچھ نہیں ہوگا ۔ انصاف ہوتا نظر آنا چاہیے۔گو دہشتگردی کے تانے بانے سرحد پار سے ملتے ہیں تاہم انٹیلی جنس اور سکیورٹی ایجنسیوں کو اپنی اہلیت ثابت کرنا ہے۔ کامیابی ٹیم ورک سے حاصل ہوسکتی ہے ۔ دشمن کمزور ہوا ختم نہیں ہوا ۔ یہ جنگ جار ی ہے اور رہے گی۔ کہیں خامی ہوتی ہے تو ہی دہشتگردی کے واقعات رونما ہوتے ہیں ۔ ہمیں ہر وقت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ فورسز کی کوششوں سے دشمن بھاگ نکلا ہے۔
نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد میں پاسنگ آؤٹ پریڈ تقریب میں چودھری نثار نے کیڈٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ الرٹ رہیں کیونکہ آپ کی طاقت آپ کا ایمان ہے اسی کو لے کر آگے چلنا ہے۔ چھوٹے سے چھوٹے جوان کو تھپکی دیں اور ساتھ لے کر چلیں۔ ملک میں پہلے روزانہ 5 یا 7دھماکے ہوتے تھے لیکن اب 5، 7 ہفتوں بعد کوئی دھماکہ ہوتا ہے اور ہمارا یہ مسئلہ ہے کہ کسی بھی واقعہ کے بعد 20 دن تک ہم الرٹ رہتے ہیں اس کے بعد پھر معمول پر آجاتے ہیں۔ کہیں خامی ہوتی ہے تو دہشت گردی کے واقعات ہوتے ہیں لہٰذا اگر کہیں روگردانی ہوئی ہے تو ذمے داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اور اگر سکیورٹی ناقص تھی تو ذمے داروں کو بھی برطرف کرنا چاہیے۔ دہشت گردی کے حوالے سے کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔
دہشت گرد توہماری حکومتی عسکری قیادتوں کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان کو عملی جامہ پہنانے اور سکیورٹی کے ہر ممکن انتظامات کرنے کے دعوؤں کے باوجود پوری سہولت اور آزادی کے ساتھ جہاں چاہتے ہیں‘ ہدف متعین کرکے اسے نشانہ بنانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ اس بارے میں کم از کم اے پی ایس پشاور کے سانحہ اور اسی طرح کراچی‘ پشاور‘ لاہور اور جی ایچ کیو تک کے حساس مقامات اور سکیورٹی اداروں پر دہشت گردی کی وارداتوں کے بعدتو صفیں درست کرکے سکیورٹی اداروں میں موجود لیپس پر قابو پالیا جانا چاہیے تھا مگر گزشتہ روز کی سفاکانہ واردات کے بعد یہی محسوس ہورہا ہے کہ اس ارض وطن سے دہشت گردی کے ناسور کے قلع قمع کیلئے سوائے زبانی جمع خرچ کے اور سوائے وقتی دعوؤں اور اعلانات کے کوئی ٹھوس قدم اب تک نہیں اٹھایا گیا۔
کوئٹہ کی دہشت گردی کے بعد وزیراعظم میاں نوازشریف نے کوئٹہ پہنچ کر زخمیوں کی عیادت کے علاوہ جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار بھی کیا ہے اور اعلیٰ سطح کا انتظامی اجلاس طلب کرکے سکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کے احکام بھی جاری کئے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ آخری دہشت گرد کے مارے جانے تک دہشت گردی کی جنگ جاری رکھنے کا عزم بھی دہرایا ہے مگر کیا ان اعلانات‘ اقدامات اور فیصلوں سے دہشت گردی سے عاجز آئے عوام کو طمانیت قلب حاصل ہو پائے گی اور کیا دنیا

شہداء کے لاشے اس طرح لے جاتے ہیں؟

سانحہ کوئٹہ کے بعد ایک سانحہ اور ہوا۔درد سے بوجھل آنکھیں اب کے برسات ہو گئیں۔
شہدا کے لاشے گاڑیوں کی چھتوں پہ دھرے تھے۔محسن حدید صاحب نے یہ تصویر فیس بک پر شیئر کی تو کنپٹیاں سلگنے لگ گئیں۔کیا کوئی قوم اپنے شہداء کو ایسے رخصت کرتی ہے۔
پھر اچانک ایک اور خیال آیا ۔۔۔۔درد کی شدت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ خیال یہ تھا کہ شہداء کا احترام کے نہیں ہو گا کیا بلوچستان کے پورے صوبے میں اتنی ایمبولینسز ہوں گی کہ سب شہداء کے وجود ان میں رکھے جا سکیں۔میرا خیال ہے ہم سارے بلوچستان کی ایمبولینسز منگوالیں پھر بھی آدھے شہدا کے وجود گاڑیوں کی چھتوں پر ہی جانے تھے۔
بلوچستان ہمارا صوبہ ہے۔ہمارے وجود کا حصہ۔وسائل سے مالا مال۔لیکن ہم سے غفلت ہوئی ۔ہمیں اس غفلت کا ازالہ کرنا ہو گا۔دہشت گردی کے محرکات بلا شبہ اور ہیں لیکن اس وقت میرا موضوع دہشت گردی میں پڑوسی ممالک کا کردار نہیں بلکہ وہ منظر ہے جس میں ہم شہداء کے وجود فاڑیوں کی چھتوں پر جاتے دیکھ رہے ہیں۔بلوچستان کو وسائل میں سے مناسب حصہ دیا گیا ہوتا تو آج وہاں ایمبولینسز موجود ہوتیں۔ہم سے بہت غفلت ہوئی اس کا ازالہ ضروری ہے۔
ہمیں اپنی نفسیاتی گروہوں کو کھولنا ہو گا۔کیا وجہ ہے کہ کل شیخ مجیب کو اسلام آباد کی سڑکوں سے پٹ سن کی بو آتی تھی اورآج ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ پوچھتے ہیں کہ تم نے مری تک تو گیس پہنچا دی مگر 80فیصد بلوچستان آج بھی اس سے محروم ہے؟آج بھی آپ بلوچستان چلے جائیں آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ آپ اس عہد جدید کی کسی بستی میں کھڑے ہیں۔وسائل کی تقسیم کا یہ حال ہے کہ جنرل عبدالقادر بتا رہے تھے کہ ان کا حلقہ تین ہزار کلو میٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے جس کا ترقیاتی فنڈ انہیں مبلغ ایک کروڑ ملا ہے۔یاد رہے کہ یہ ایک حلقہ پورے خیبر پختونخواہ سے بڑا ہے۔ حالت یہ ہے کہ راولپنڈی کے نالہ لئی کا بجٹ بلوچستان کے کل بجٹ سے زیادہ تھا۔ایک دو اضلاع کو چھوڑ کر باقی کا حال یہ ہے کہ کوئی گائناکالوجسٹ نہیں ملتی۔ذرائع آمدورفت کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔پورے بلوچستان میں اتنی یونیورسٹیاں نہیں جتنی صرف راولپنڈی کی مری روڈ پر ہیں۔۔۔ہم نے عملاً بلوچستان کو کب کا خود سے کاٹ کر پھینکا ہوا تھا۔فرق صرف اتنا پڑا ہے کہ اب یہ سوتیلا پن بلوچوں کی رگوں میں زہر کی طرح اتر چکا ہے ۔ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کا کہنا تھا کہ آج وقت ہے معاملہ سنبھالا جا سکتا ہے۔معاملات تعلیمی اداروں میں نئی نسل کے ہاتھ میں جا رہے ہیں ۔یہ مکمل طور پر نئی نسل کے ہاتھ میں چلے گئے تو ہم بھی بے بس ہو جائیں گے۔اس سے مجھے حسین شہید سہروردی یاد آگئے۔ ایک روز وہ آرام کر رہے تھے اورشیخ مجیب ان کے پاؤں داب رہے تھے۔دابتے دابتے کہنے لگے’’سہروردی صاحب کیوں نہ ہم مشرقی پاکستان کو الگ ملک بنا لیں۔‘‘یہ سننا تھا کہ سہروردی صاحب غضبناک ہو گئے اور شیخ مجیب کو اتنی زور سے لات ماری کہ شیخ صاحب نیچے جا گرے۔بعد میں سہروردی صاحب ہر ایک سے یہی کہتے رہے کہ آج وقت ہے کچھ کر لو ورنہ معاملات نوجوانوں کے ہاتھ میں چلے جائیں گے اور ہم بے بس ہو جائیں گے۔سہروردی صاحب کی بات مگر کسی نے نہ سنی۔آج قومی اسمبلی میں بلوچستان کی صرف 17نشستیں ہیں ۔اور ایک نشست این اے 271(خاران،واشوک،پنچگور) کے ایم این اے کا علاقہ پورے خیبر پختونخواہ سے زیادہ ہے۔اور ترقیاتی بجٹ صرف ایک کروڑ۔اب ان تیرہ نشستوں میں سے بمشکل پانچ یا چھ نشستیں اوپن ہیں۔ باقی کچھ ہیوی ہیٹس کی پاکٹ سیٹس ہیں۔جب پورے صوبے سے قومی اسمبلی کی نشستیں ہی اتنی کم ہوں تو نواز شریف یا آصف زردای کو کیا پڑی ہے وہ کوئٹہ،ژوب اور لورا لائی کے دھکے کھاتے پھریں۔ چنانچہ آج ہمارے سیاست دانوں کے پاس وقت ہی نہیں کہ وہ بلوچستان کے جھنجھٹ میں پڑیں۔ سیاست دان حساب سودوزیاں میں بڑا کائیاں ہوتا ہے۔اگر یہ نشستیں پچاس ساتھ ہوتیں تو کیا عجب کہ نواز شریف صاحب اپنے اجلاس مری کی بجائے زیارت میں بلاتے اور محترم پرویز رشید ہمیں بتا رہے ہوتے کہ فیصلہ قائد اعظم کی محبت میں کیا گیا ہے کیوں کہ انہوں نے آخری ایام یہاں گزارے تھے۔جب مرکزی قیادت وہاں کا رخ کرتی تو وہاں کا احساس محرومی بھی کم ہوتا اور وہ قومی دھارے میں بھی آجاتے۔قومی قیادت اب ایک درجن نشستوں والے صوبے میں تو جانے سے رہی۔صوبہ بھی ایسا جہاں ایک ایک حلقہ ایک ایک صوبے کے برابر ہو۔تو کیوں نہ یہ نشستیں بڑھا دی جائیں؟ بلوچستان آخر پرایا نہیں، اپنا ہے۔آپ کا بھی ہے۔میرا بھی ہے۔
دہشت گردی سے تو فوج انشاء اللہ نبٹ ہی لے گی۔کیا ہماری سیاسی قیادت اس سیاسی مسئلے کو حل کر سکتی ہے۔دشمن کی سازشوں کو ناکام کرنے کے لیے ضروری ہے بلوچستان میں

سا نحہ کا ر سا ز و کلفٹن اور ڈرا مے

سا نحہ کا ر سا ز کی دو با دہ تحقیقا ت کیلئے سا بق صدر پا کستا ن آ صف علی زردا ری نے وزیر اعلیٰ سند ھ مر اد علی شاہ کو ہد ایت کی ہے۔سا نحہ کا ر سا ز میں بینظیر بھٹو کے قا فلے پر حملے میں تقر یباً 170جیالے ما رے گئے ۔ در جنو ں زخمی ہو ئے ! محتر مہ بینظیر بھٹواس حملے میں با ل با ل بچی تھیں ! بر سو ں پہلے اس حملے کی واردا ت میں کن لو گو ں کو ملز م بنا یا گیا ؟مد عی کو ن بنا ؟ معلو م نہیں کتنے لو گ گر فتا ر ہو ئے ؟ کتنوں کو اس دہشت گر دی میں سزا ہوئی ؟ اور کتنے دہشت گر د اس جر م میں پھا نسی لگے ؟ یہ توآ صف علی زرداری ، بلا و ل زر داری ، اور وزیر اعلیٰ سند ھ مر اد علی شا ہ اور سا بق وزیر اعلیٰ سید قا ئم علی شا ہ ہی بتا سکتے ہیں ۔کیو نکہ وہی مقتولین کے سیا سی وارث ہیں اس واقعے کی دو بارہ تحقیقا ت ضر و ر ہو نی چا ہئیں ! اگر سا بقہ تحقیقات میں کو ئی کو تا ہی بر تی گئی بلکہ اس کی تحقیقات کیلئے مختلف خفیہ ایجنسیو ں کے اعلیٰ پا ئے کے ذمہ دارا ن پر مشتمل افراد کی کمیٹی ہو ۔ جسکی نگرانی سپر یم کو رٹ کا جج کر ے ! مگر سا نحہ کا ر سا ز کے سا تھ !سا نحہ کلفٹن کر اچی ! سا نحہ راولپنڈی ! جن میں میر مر تضیٰ بھٹو ، کلفٹن کر اچی میں بینظیر بھٹو کے پہلے دو رِ وزارت عظمیٰ میں اپنے گھر کے قر یب ما رے گئے ! اور بینظیر بھٹو سا بق وزیر اوعظم پاکستان راولپنڈی میں لیا قت با غ سٹیڈیم کے سامنے نا معلو م افراد کی دہشت گر دی میں قتل ہوئیں۔ان دو نو ں واقعا ت کی تحقیقا ت بھی ہو نی چا ہیے ! اور جن لو گو ں نے پہلے نا قص تحقیقا ت کر کے دہشت گر دو ں کو فا ئد ہ پہنچا یا ہے ۔ا ن کے خلاف دہشت گر دو ں کے معا و نین کے جر م کے تحت کا رروا ئی ہو نی چاہیے ! میر مر تضیٰ بھٹو بینظیر بھٹو کے دو ر اقتدار میں گھر کے سا منے قتل ہو ئے ہیں اوران کے قتل کے ذمہ داران کا تعین ہو ا بھی تھا کہ نہیں ؟ ان کے قتل کے ذمہ دارا ن کے خلا ف کیا کار را ئی ہو ئی ؟کیا وزیر اعظم کے بھا ئی کے قاتلو ں کوحوا لے قا نون کیا گیا ؟ اسی طر ح بینظیر بھٹو جس دہشت گر دانہ حملہ میں ما ر ی گئیں ۔ ان کے قتل کے بعد بلا ول زرداری کے والد آ صف علی زرداری نے دو ر صد ارت پا کستا ن گز ا را ہے۔یوسف رضا گیلا نی اور را جہ پر و یز اشر ف نے وزار ت عظمیٰ کے مز ے لو ٹے اور بلا و ل کے اتحا دی معا و ن انکل نو از شر یف د و دفعہ وزار ت عظمیٰ کا مز ہ چکھ چکے ہیں ۔ بلا و ل صا حب بھی سانحہ کار سا ز کے مقتو لین پر سیا ست نہ کر یں ! زرداری صا حب جن مقتو لین کو آ پ اپنی دو ر صدار ت میں انصا ف نہ دے سکے ! جن کو قا ئم علی شا ہ کی ڈبل دو ر وزار ت اعلیٰ حق نہ ملا آ ج دو با رہ ان کی قبر یں کھو د کر ان کے ورثا ء کے زخمو ں پر نمک پا شی نہ کریں۔ بلکہ آج جسطر ح آپ مقتولین کے اشتہا ر شا ئع کر ا رہے ہیں قبل ازیں آپ نے ان مقتو لین کو یا د تک نہ کیا ۔ اب الیکشن مہم شر وع ہونے والی ہے۔ اسلئے آپ پر وا نو ں کے خون اور قر با نی کو کیش کر انا چا ہتے ہیں جو جیالوں کے سا تھ دھو کہ ہے جیا لے بھٹو کے ہو ں یا نو از شر یف ! کے یا عمر ان خان کے ! ان کا کام پر وانے کی طر ح شمع پر جلنا ہے ۔ شمع سے مفا دات اٹھانے والے رانا ثنا ء اللہ ، پر و یز رشید کی طر ح یا ماروی میمن ،شرجیل میمن کی طر ح اپنی اپنی جھولیاں بھر بھرملکی خزا نہ لو ٹنے اور ذاتی تجوریا ں بھر تے رہیں گے اور شمع پر جل کر مر نے والے شمع کی تکر یم بڑ ھا تے رہیں گے ! بلا و ل زرداری صاحب سا نحہ کا ر سا ز کو کتنا عر صہ بیت چکا ہے ؟ اس گز شتہ دس 10سا لو ں میں آپ نے مر حو مین کے ورثا ء والد ین یا اولا دو ں کو کیا دیا ؟ آ پ نے سا نحہ کا ر سا ز کے مقتو لین کے کیس کو آ صف علی زرداری کے دور صدارت میں کیو ں نہ زند کیا؟ بلاول صا حب سا نحہ کا ر سا ز کے بعد کیا آپ اب مر اد علی شا ہ کے دو ر میں سند ھ کی حکو مت سنبھا لنے والے بنے ہیں ؟ بلا ول صا حب آ پ اپنے والد سے پو چھیں کہ سا نحہ کا ر سا ز کے مقتو لین کے سا تھ نا انصا فی اور اربا ب رحیم کی سا ز ش کا آ پ کو آ ج علم ہو ا ہے ؟ یقیناًسا نحہ کا ر سا ز کے حقیقی ملز مو ں کی نشا ند ہی گر فتا ری اور سزا ضر ور ہو نی چا ہیے۔ مگر بلاول جی یہ وقت کا ر سا ز کے مقتو لین کو رو نے کا نہ ہے ! آپ کے با با فر ما تے ہیں کہ بی بی نے ڈکٹیٹر شپ اور انتہا پسند مو لو یو ں کے خلا ف قر با نی دی ہے ۔ مگر بلا و ل جی آ پ کے با با اورحضر ت مو لا نا فضل الر حمن ایک ہی کشتی میں سوار ہوکر اقتدا ر کے مز ے لو ٹتے رہے ہیں اور ڈکٹیٹر پر و یز مشر ف کے سا تھ شریک اقتدا ر رہے ہیں ۔ بلا ول جی ۔ اب بھی وقت ہے کہ آ پ عو ام دو ست پا لیسیاں بنا کر اپنی سا کھ بحا ل کر کے عو ام کے دلو ں پر ر اج کر سکتے ہیں ! ابھی بھی وقت ہے کہ آُ پ ملک اور قوم سے وفا داری کا حلف لیکراپنا مقا م پید ا کر سکتے ہیں آ ج بھی سند ھ کے حکمر ان آ پ ہیں اور سندھ ہی ملک کی ریڑ ھ کی ہڈ ی ہے ۔ا س صو بے کے عوام کی خد مت اور اس علا قے سے دہشتگردوں ، بھتہ خو رو ں ، ٹا ر گٹ کلر ز ۔ اور قبضہ ما فیا کا خا تمہ کر کے اپنا وقا ر بڑ ھا سکتے ہیں ۔آپ دنیا جہا ں کی ہر سہو لت کے مز ے لو ٹ رہے ہیں ۔ اس ملک کی عوام اور سا نحہ کا ر سا ز کے مر حو مین کے و ر ثا ء کو دنیا کی تما م سہو لیتں آسا ئشیں میسر نہ کر یں ۔ مگر ان کو ضر ور یا ت زند گی تو آ سا ن شر ائط پر فر اہم کر یں۔ لو گو ں کو انصا ف تعلیم صحت اور روز گا ر فر اہم کر نے کیلئے تو منصو بہ بندی کر یں۔ ور نہ یہ دھو کے یہ فرا ڈ حکمرا نو ں کے اب کسی کا م نہ آ ئیں گے ! عوا م یہ پو چھنے میں حق بجا نب ہیں کہ آ پ تو ہر سہو لت سے لطف اند وز ہو ں مگر عو ام ضر و ر یا ت زند گی سے بھی محروم کیو ں ؟ اب سا نحہ کا ر سا ز ہو کہ! سا نحہ کلفٹن !یا لیا قت با غ !ان کا نا م لیکر �آپ عو ام کو مز ید بیوقوف نہیں بنا سکتے ! ان سا نحات کے بعد آپ کے والد محتر م نے ملک کا صد ر رہ کر اور سند ھ کا حکمر ان بن کر آ پ اقتدار کے مز ے لو ٹ چکے ۔ مگر تب آپ نے مر حو مین سا نحہ کا ر سا ز یا لیا قت باغ کی مقتولہ کے قا تلین کی گر فتا ری کیلئے کو ئی عملی قد م نہ اٹھا یا ۔ اب آپ دو با رہ اقتدا ر کے چکر میں ہیں تو آ پ کو سا نحہ کا ر سا ز اور لیا قت با غ کے مر حومین کا غم کھا ئے جا رہا ہے۔

خداوندہ۔۔۔ شوکت کاظمی
انہیں تو شوق ہے اس ملک پر بس حکمرانی کا
انہیں کار ریاست کے علاوہ کچھ نہیں آتا
خدا وندہ انہیں توفیق دے تعمیرِ ملت کی
جنہیں شوق سیاست کے علاوہ کچھ نہیں آتا

کوئٹہ پھر نشانے پر

کوئٹہ میں سریاب روڈ پر قائم پولیس ٹریننگ کالج پر دہشت گردوں کے حملے میں 60پولیس کیڈٹس شہیداور150 سے زائدزخمی ہوگئے۔دہشت گردی کی یہ کارروائی گزشتہ شب 11بجے کے بعد ہوئی۔جوابی کارروائی میں تینوں دہشت گردوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔کسی گروہ نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم انسپکٹر جنرل فرنٹیئرکور (ایف سی)میجر جنرل شیرافگن نے آپریشن کی تکمیل کے بعد وزیرداخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی کیساتھ پریس کانفرنس میں بتایا کہ حملہ آور دہشت گرد افغانستان میں اپنے ساتھیوں سے مسلسل رابطے میں تھے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور ٹریننگ کالج کے پچھلے راستے سے عمارت میں داخل ہوئے تھے۔اڑی حملے کے بعد بھارتی حکمرانوں کی دھمکیوں سے اس بات کے خدشات بڑھ گئے تھے کہ پاکستان میں خصوصاً بلوچستان میں دہشت گردی کی کوئی بڑی کارروائی ہوسکتی ہے ۔ تھوڑے عرصہ کے وقفے کے بعد آخر بلوچستان کو نشانہ بنا ڈالا گیا۔بلوچستان بھارت کیلئے آسان ہدف اس لئے بھی ہے کہ افغانستان بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کا لانچنگ پیڈ بنا ہوا ہے۔ 26سو کلو میٹر طویل اور غیر محفوظ بارڈر پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپ رہا ہے۔پاکستان کی طرف سے تمام تر اقدامات کے باوجود اس بارڈر کو مکمل طورپر محفوظ نہیں بنایا جاسکا ہے۔بھارت اس کمزور صورتحال اور افغان حکمرانوں کے مکمل تعاون کی وجہ سے بلوچستان کو ایک عرصہ سے اپنی شیطانی توجہ کا مرکز بنائے ہوئے ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں حالیہ تحریک میں شدت آنے کے بعد بلوچستان کے حوالے سے بھارتی سازشوں میں تیزی آگئی ہے۔ گزشتہ روز کا بہیمانہ حملہ اس سلسلے کی کڑی ہے۔ اس حملے کے تانے بانے بھی ماضی کے حملوں کی طرح افغانستان سرزمین سے ملنے کے شواہد ملے ہیں۔ آئی جی ایف سی کوئٹہ نے دو ٹوک الفاظ میں بتایا کہ حملے کے دوران مانیٹر کی گئی ٹیلیفونک گفتگو افغانستان سے ہورہی تھی اور اسکے ماسٹر مائنڈ افغانستان سے ہدایات دے رہے تھے۔ اگرچہ افغان حکام اسے محض الزام تراشی قرار دے کر مسترد کردیتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہورہی ہے اور این ڈی ایس ’’را‘‘ گٹھ جوڑ اس کے پیچھے کارفرما ہے۔اشرف غنی حکومت اس گٹھ جوڑ کے سامنے مکمل طورپر بے بس ہے ۔ کئی بار پاکستان اس کی نشاندہی کرتا رہتا ہے لیکن بھارتی لابی کے زیر اثر غنی حکومت کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہے،جہاں تک گزشتہ روز کی کارروائی اور سیکورٹی کا تعلق ہے تو اس میں شبہ نہیں کہ کہیں نہ کہیں کوئی لیپس ضرور تھا کہ جس کے بعد دہشت گرد اس کارروائی کو انجام دینے میں کامیاب ہوئے۔ اڑی حملے کے بعد بھارت کی طرف سے جس طرح کی دھمکیاں دی جارہی تھیں اس کے بعد ضروری تھا کہ حساس نوعیت کے مقامات کی سیکورٹی چارگنا بڑھا دی جاتی لیکن مذکورہ پولیس سنٹر کے بارے جو اطلاعات سامنے آرہی ہیں کس طرح دہشت گرد عقبی دیوار پھیلانگ کر آئے ، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیکورٹی اقدامات میں غفلت موجود تھی۔اتنے بڑے ٹریننگ سنٹر میں جہاں ایک ہزار کے قریب زیر تربیت نوجوان موجود تھے کی جامع سیکورٹی کا نہ ہونا مجرمانہ غفلت ہے۔ رواں برس کوئٹہ میں دہشت گردی کے درجنوں واقعات رونما ہوچکے ہیں۔اسی نوعیت کا ایک بڑا واقعہ 8 اگست کو ہوا تھا۔ کوئٹہ سول ہسپتال کے باہر دھماکے کے نتیجے میں 70 افراد شہید ہوئے تھے۔13 ستمبر 2016ء کو بھی سریاب روڑ پر پولیس ٹریننگ کالج کے قریب دھماکا ہوا تھا جس میں 2 پولیس اہلکارشہید تھے۔یہی پولیس ٹریننگ کالج ماضی میں 2008 اور 2006 میں بھی دہشت گردوں کے حملوں کی زد میں آیا تھا جہاں کالج کے میدان میں راکٹ فائر کئے گئے تھے۔ صوبائی حکومت کو اس سلسلے میں چھان بین کرنی چاہیے، صرف یہی نہیں بلکہ بلوچستان میں موجود دیگر تمام ایسے حساس مقامات کی سیکورٹی کو دگناکردینا چاہیے۔یہ اقدامات عارضی نہیں مستقل بنیادوں پر اٹھائے جائیں ، پھر یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ جب سریاب روڈ کا علاقہ مسلسل ایسے حملوں کی زد میں رہتا ہے تو اس پورے علاقے کی سیکورٹی کاازسر نو جائزہ کیوں نہیں لیا جاتا۔ اس سلسلے میں حکومت سرجوڑ کر بیٹھے محض بیانات اور طفل تسلیوں سے بات نہیں بنے گی۔دشمن کے عزائم کو ناکام بنانا ہے تو پورے بلوچستان کی سیکورٹی پلان جنگی بنیادوں پر بنایا جائے تاکہ بلوچستان کا مستقبل محفوظ بنایا جاسکے۔
بھارتی اشتعال انگیز فائرنگ،عالمی برادری نوٹس لے
بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر سیزفائر کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق بھارتی فورسز نے لائن آف کنٹرول کے بھمبر سیکٹر پر بلااشتعال فائرنگ کی۔ گذشتہ روز سیالکوٹ کی ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں ایک سالہ بچی سمیت دو پاکستانی شہری جاں بحق ہوگئے تھے۔ پاکستان نے ہندوستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو دفتر خارجہ طلب کرکے ورکنگ باؤنڈری پر بلااشتعال فائرنگ اور 2 شہریوں کے جاں بحق ہونے پر شدید احتجاج کیا ہے۔ اس سے قبل 19 اکتوبر کو بھی ہندوستان نے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیرالہ سیکٹر پر ایک دن میں متعدد مرتبہ بلا اشتعال فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق جبکہ 2 خواتین اور دو بچوں سمیت 5 افراد زخمی ہوگئے تھے۔ 18 ستمبر کو ہونیوالے اڑی حملے کے بعد سے بھارتی اشتعال انگیزی میں تیزی آگئی ہے اور وہ مسلسل لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری کی خلاف ورزی کررہا ہے۔پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس معاملے اقوام متحدہ کے آبزرور تک لے کر جا کہ کس طرح روزانہ کی بنیاد پر اشتعال انگیزی کی جارہی ہے۔یہ اشتعال انگیز خدانخوستہ کسی بڑی کارروائی میں بدل سکتی ہے۔یواین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے۔ سیالکوٹ ورکنگ باؤنڈری لائن کے سات سیکٹروں پر بھارتی سیکورٹی فورسز کی طرف سے بلااشتعال فائرنگ وگولہ باری کے واقعات کی وجہ سے درجنوں پاکستانی دیہات کے 40 سے زائد سرکاری سکول بند ہیں اور ہزاروں طلبہ وطالبات تعلیم حاصل کرنے کیلئے سکولوں میں نہیں پا رہے۔ بھارتی سکیورٹی فورسز کی طرف سے بلااشتعال فائرنگ وگولہ باری کی وجہ سے پاکستانی دیہاتوں میں خوف وہراس پایا جاتا ہے اور طلبہ وطالبات کی جانیں بچانے کیلئے سرکاری وپرائیویٹ تعلیمی اداروں کے سربراہان نے حکام سے اجازت کے بعد سکولوں کو تالے لگادیئے ہیںیہ ایک سنگین صورتحال ہے ۔عالمی برادری بھی اسکا نوٹس لے۔
پلی بارگینگ کے ذریعے کلین چٹ
سپریم کورٹ نے نیب آرڈیننس 1999ء کے سیکشن 25a کے تحت ملزموں کو پلی بارگینگ کے ذریعے کلین چٹ دینے اور دوبارہ اپنے عہدوں پر جاکر کام کرنے کی اجازت دینے سے متعلق چیئرمین نیب کو اختیارات استعمال کرنے سے روکتے ہوئے حکم امتناعی جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے سرکاری ملازمین کی جانب سے قومی خزانے کو لوٹنے اور پلی بار گین کرکے دوبارہ عہدوں پر کام کرنیوالے افراد کی گزشتہ 10برس کی فہرست نیب سے طلب کرتے ہوئے سماعت 7نو مبر تک ملتوی کردی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے درست ریمارکس دیئے ہیں کہ نیب ان اختیارات کا استعمال کررہا ہے جو کہ عدالتیں بھی کرنے کی مجاز نہیں ہیں۔ایسے قوانین بنائے جاتے ہیں جن پر شرم آتی ہے دوسرے ممالک ہنستے ہیں کہ یہ قوانین ہیں جن پر ملک چلتا ہے۔ نیب قوانین 10کروڑ کی کرپشن پر کہتے ہیں 2کروڑ جمع کراؤ واپس نوکری پر بحال ہوکر کماؤ کھاؤ اور باقی قسطوں میں دو،نیب میں جاکرکافی کا ایک کپ پیو، مک مکا کرو ،سارے معاملات طے اور واپس اپنی نوکری پربحال ہوجاؤ۔سپریم نے یہ سلسلہ بند کرکے نہایت احسن اقدام کیا ہے ۔

جمہوریت یا بادشاہت

گزشتہ دنوں سپریم کو رٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے میٹرو اور اورنج کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عوام سے جمہوریت کے نام پر مذاق ہو رہا ہے اور ملک جمہوریت کے نام پر با دشاہت قائم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو چاہئے کہ وہ اپنا نمائندہ منتخب کر اتے ہوئے ووٹ کا حق اختیاط سے استعمال کریں۔اگر چیف جسٹس کے بیان کو دیکھا جائے تو اُنہوں نے دو تین فقروں میں ملک میں مروجہ جمہوری نظام اور بُری حکمرانی کا ذکر کیا اور عوام سے استد عا کی ہے کہ ایسے نمائندوں کو چنیں کہ جو ایماندار، محبت وطن ذات پات سے دور ہوں۔مگر بد قسمتی یہ ہے کہ جمہوری نظام اُن ممالک میں احسن کر دار ادا کر رہا ہوتا ہے جہاں پر اکثریت لوگ زیور تعلیم سے آراستہ ہوں۔امریکہ، بر طانیہ، ڈنمارک جرمنی اور فرانس کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔اور بد قسمتی سے جہاں پر تعلیم کی کمی ہے وہاں پر جمہوری نظام اُس طریقے سے احسن کر دار ادا نہیں کر رہا ہوتا ہے جو مغربی اور زیادہ تعلیم یافتہ ممالک میں ادا کررہے ہوتے ہیں۔ جو ممالک تعلیم اور تحقیق پر زیادہ تو جہ دیتے ہیں وہاں پر جمہوریت اور جمہوری ادارے اچھے طریقے سے چل پاتے ہیں۔بد قسمتی سے مسلمان ممالک اس شعبے میں بُہت زیادہ پیچھے ہیں اور دنیا کے کم تعلیم یافتہ ممالک میں جو ٹاپ باٹم پر ہیں اُن میں سوڈان، افغانستان اور نا ئجر شامل ہے۔پاکستان میں شرح خواندگی 50 فیصد ہے اور ان میں وہ لوگ بھی خواندہ شمار اور تصور کئے جاتے ہیں جو صرف اپنا نام پڑ ھ اور لکھ سکتا ہو۔ حالانکہ یو رپ اور ترقی یافتہ مما لک میں خواندگی کی تعریف کچھ اور ہے۔ڈاکٹر عطا الرحمان اور ڈاکٹر عبد القدیر خان کا کہنا ہے کہ پاکستان اُن 10 ممالک میں جہاں تعلیم صرف 2 فیصد خرچ کیا جاتا ہے جو نہ ہونے کے برابر ہے۔بد قسمتی سے جو لوگ کم تعلیم یافتہ اور کم شعور والے ہونگے وہ کیسے اچھے دیانت دار اور ایماندار لوگوں کو منتخب کر سکتے ہیں۔ اُن میں اچھائی اور بُرائی کا تمیز کم ہوتا ہے۔اُنکا شعوری اورintelect لیول اتنا نہیں ہوتا جو اچھے اور بُرے میں فرق اور تمیز کرسکیں۔اگر ہم پاکستان کے سیاست دانوں قومی صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے ممبران پرنظر ڈٖالیں تو ان میں اکثریت مو روثی سیاست دانوں کی ہے جیسا کہ شریف خاندان، بھٹو خاندان، مفتی خاندان، باچا خان خاندان، چودھری برا دران اور اسکے دیگر اور بھی بُہت سارے نام اور خاندان ہیں۔ بُہت اختلاف کے باوجود کستان میں ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی دو ایسی سیاسی پا رٹیاں ہیں جہاں پر سیاست کا خاندانی اور مو روثی Conceptنہیں اور غریب سے غریب تر قومی سیاست اور ادھارے میں شامل ہو سکتے ہیں۔مو روثی سیاستدان اور سیاسی پا رٹیاں ایسے لوگوں کو سامنے اور آگے نہیں لاتے جو ان سے زیادہ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار ہوں۔ویسے کیا عجیب لگتا ہے جب بلاول بھٹو زرداری کے پیچھے خور شید شاہ، اعتزاز احسن اور کائرہ اور مریم نواز کے پیچھے احسن اقبال ، خواجہ آصف اور سعد رفیق کھڑے ہوں اور یہ سب اپنے تقریروں میں بلاول بھٹو اور مریم نواز کو اپنا رہبر اور قائد کہتے ہوتے ہیں تو عجیب لگتا ہے۔موجودہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں اکثریت یعنی 100 کے قریب ایسے قانون سازوں کی ہے جو مشرف حکومت اور کابینے میں شامل تھے اور اب نواز شریف اور شہباز شریف کے دھن میں مگن ہوتے ہیں۔ہمارے قانون ساز کیا قانون سازی اور ملک کی بہتری کے لئے کام کریں گے جن میں اکثریت ان پڑھ اورکم پڑھے لکھوں کی ہوں اور جو تعلیم یافتہ ہیں وہ خلیج ٹائمز کے مطا بق ان میں100 کی ڈگریاں جعلی ہوں اور 189 قانون سازوں ڈگریاں تصدیق کرنے کیلئے پڑے ہوئے ہیں۔اگر ہم اپنے پڑوسی ملک ایران کے پارلیمان کے ممبران پر نظر ڈالیں تو ان میں 270 ایسے قانون ساز ہیں جو دنیاوی علم کے ساتھ دینی علوم سے بھی بہرہ ور ہیں اور یہ 270 قانون ساز حافظ قُر آن ہیں ۔ ان میں 20ما ہر اقتصادیات، پی ایچ ڈگری ہو لڈر 100 اور130ایسے ہیں جنکو 1000احادیث یاد ہیں۔بھارت کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ بھارت کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔بھارت کے پارلیمنٹ میں 30 پی ایچ ڈی،143 ایم اے ایم ایس سی،247 گریجو یٹ اور 55 ایف اے ایف ایس سی ہیں۔جبکہ اسکے بر عکس ہمارے ملک کے حکمرانان پڑھ جاہل اور ملک اور قوم کے ساتھ دھوکہ اور فراڈ کرنے والے ہیں۔قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں ہمارے ان قانون سازوں کی باتیں سُننے والی ہوتی ہیں۔انگریزی میں کہتے ہیں:Democracy is the Govt of the people, by the people and for the peopleکہ جمہوری نظام ایک ایسا طرز حکومت ہے جوعوام کی ہے، عوام پر ہے اور عوام کیلئے ہے۔مگر اگر دیکھا جائے تو یہ سب کچھ غلط اور جھوٹ ہے نہ تو یہ عوام کیلئے ہے اور نہ پاکستان کیلئے بلکہ پاکستان میں جمہوری نظام اور جمہو ریت کے                                       نام پر عوام کے ساتھ مذاق کیا جاتا ہے۔بقول اقبال
اس راز کو ایک مر د فرنگی نے کیا فا ش
ہر چند کہ دانا اسے کھولا نہیں کرتے
جمہوریت ایک طر ز حکومت ہے کہ
جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
Google Analytics Alternative