کالم

جمہوریت کی بقاء کےلئے حکومت کومدت پوری کرنی چاہیے

سیاست میں کبھی بھی دوٹوک بات کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے ، حکومت جب ہرطرح سے راضی ہے وہ ہرحلقہ کھولناچاہتی ہے تو پھرمولانافضل الرحمان کواس پرکوئی اعتراض نہیں ہوناچاہیے، ظاہر ہورہاہے کہ مولاناکسی ذاتی ایجنڈے پرکارفرما ہیں ان کا اختلاف حکومت یا اس کی پالیسیوں سے نہیں بلکہ محض ایک شخص سے ہے جس کانام عمران خان ہے، اسی ذاتی مفادات کی سیاست نے ہمیشہ جمہوریت کو ڈبویا، حکومت انتہادرجے کی لچک دکھا رہی ہے لیکن آخرکاروزیراعظم نے کہہ دیا کہ اگربات استعفے کی ہے تو پھراپوزیشن سے مذاکرات نہیں کرنے چاہئیں ، مولانافضل الرحمان کوچاہیے کہ وہ نہ تو جمہوریت کی بساط لپیٹیں اورنہ ہی ایسے فیصلے کریں جو اس ملک وقوم کےلئے نقصان دہ ثابت ہوں ، جو وقت کاتقاضا ہے اسی پرچلناچاہیے لفظی گولہ باری سے رہبرکمیٹی اورحکومتی مذاکراتی کمیٹی کے مابین خلیج حائل ہوتی جارہی ہے فضل الرحمان صرف استعفے پرڈٹے ہوئے ہیں اورانہوں نے کہہ دیاکہ مذاکراتی ٹیم کا آناجانالاحاصل ہے جب تک وہ وزیراعظم کے مستعفی ہونے کامطالبہ پورانہیں کرتے تو تمام ملاقاتیں بے کار ہیں جبکہ پرویزخٹک نے بھی کہاکہ ہم بھی صرف آجا رہے ہیں اوروقت گزاری کررہے ہیں اب ان بیانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حالات پوائنٹ آف نوریٹرن کی جانب گامزن ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان نے واشگاف الفاظ میں کہاکہ گزشتہ دنوں مولانانے کہاتھاکہ انہیں لاشیں چاہئیں جس پرعمران خان نے کہاکہ ہم جمہوری لوگ ہیں لاشیں نہیں دیں گے اس طرح کے انتہاپسندانہ بیانات جمہوریت کوقتل کرنے کے مترادف ہیں ،انہی حالات کومدنظررکھتے ہوئے حکومت کے تمام ترجمانوں کو دھرنے کے حوالے سے بیان بازی سے بھی روک دیاگیاہے یہ ایک انتہائی احسن اقدام ہے ماضی کی سیاست کوبھی کھنگالاجائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نوازشریف کے دور میں جب قطر میں طالبان کے ساتھ مذاکرات ہورہے تھے تو اس وقت بھی اس زبان کی چاشنی نے تمام معاملے کو سبوتاژ کردیاتھا جب حالات انتہائی نازک اورحساس نوعیت کے ہوجائیں تو بہت سوچ سمجھ کربولناپڑتاہے کیونکہ بعض اوقات ایک چھوٹاسابیان تمام کاوشوں کوتلپٹ کرکے رکھ دیتاہے ۔ دونوں فریقین کوباہمی افہام وتفہیم سے اورمل بیٹھ کرمعنی اورنتیجہ خیزمذاکرات کرنے چاہئیں کیونکہ اسلام آباد میں اس وقت سردی کی شدت ہے اوررات بھردھرنے کے شرکاء کاکھلے آسمان میں ٹھہرنا انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتاہے ، خصوصی طورپرجب بارش ہوجائے تواس وقت ان کے سرچھپانے کی کوئی جگہ نہیں جبکہ دھرنے کے اکابرین چھت تلے مزے سے گرم رضائیوں میں خواب خرگوش کے مزے لیتے رہتے ہیں اورکارکن ٹھٹھرتی سردی میں تھرتھرکانپتے ہوئے مختلف بیماریوں میں مبتلاہورہے ہیں بلکہ ابھی تک تقریباً تین افراداپنی جان کی بازی بھی ہارچکے ہیں ۔ جمہوریت کبھی بھی خون نہیں مانگتی وہ جمہورکی حفاظت اوران کے حقوق کی پاسداری کرتی ہے ہم سب کی بقاء اسی میں ہے کہ جمہوریت کوچلنے دیاجائے اورمل بیٹھ کرکوئی درمیانی راستہ نکالاجائے ۔ ادھر وزیراعظم نے یوٹیلٹی سٹورکارپوریشن کےلئے بھی چھ ارب روپے جاری کرنے کا اعلان کیاہے جس میں اشیائے خوردونوش کی فراہمی سستی ہونے کا امکان ہے دراصل عوام کا حقیقی مسئلہ ،دھرنایا آزادی مارچ نہیں بلکہ مہنگائی ہے اس کوترجیحی بنیادوں پرحل کرناہوگا ۔ دوسری جانب وزیراعظم نے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے معاشی ترقی کےلئے سمگلنگ کی موثرروک تھام کے عزم کا اظہارکیا ۔ چیزیں سستی کرنے کے ساتھ ساتھ سمگلنگ کو بھی کنٹرول کرنا انتہائی ضروری ہے اسی سلسلے میں وزیراعظم نے اجلاس کے دوران متعلقہ اداروں کو سمگلنگ روکنے کی ہدایات جاری کیں تاکہ ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں ۔ دوسری جانب نوازشریف کاعلاج کے سلسلے میں بیرون ملک روانگی کے حوالے سے عمران خان نے کہاکہ یہ کوئی این آرنہیں ہے ،این آراوتب ہوتاہے جب حکومت مقدمات کی پیروی نہ کرے نوازشریف علاج کے لئے باہرجارہے ہیں ا ن کے مقدمات قائم رہیں گے اور وہ واپس آکران کاسامناکریں گے جبکہ شہبازشریف نے بیرون ملک جانے اورای سی ایل نے نام نکلوانے کے لئے درخواست دیدی ہے لند ن اورامریکہ میں بھی نوازشریف کے علاج کے حوالے سے مختلف ڈاکٹروں سے گفت وشنیدچل رہی ہے نوازشریف کے ہمراہ شہبازشریف بھی جائیں گے ،مریم نوازنے بھی کہاکہ سیاست سے ضروری نوازشریف کی صحت ہے ان کی زندگی اس قوم کی امانت ہے لہٰذا انہیں بیرون ملک علاج کےلئے جانا چاہیے ، حکومت کابھی یہ احسن اقدام ہے کہ اس نے انسانی بنیادوں پرنوازشریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی ہے اور آئندہ ہفتے وہ لندن روانہ ہوجائیں گے ۔

پاکستان کی بہترمعیشت پر

آئی ایم ایف کا اظہاراعتماد

حکومتی اقدامات کے باعث معیشت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے آئی ایم ایف نے بھی اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ پاکستان نے اپنے پرانے اہداف مکمل کرلئے ہیں نیزاب نئی گائیڈلائنز دیدی گئی ہے ، آئی ایم ایف نے پاکستان کو45کروڑ ڈالریعنی کہ 70ارب روپے کی دوسری قسط دسمبر میں دینے کا اعلان کردیا ہے جبکہ بھارت کی معیشت تباہ حال ہوچکی ہے ۔ موڈیز کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے معاشی حالات انتہائی دگرگوں ہیں آنے والے وقتوں میں وہاں پربھوک، افلاس اورمہنگائی کاراج ہوگا ۔ ادھرپاکستان کے اقدامات پرآئی ایم ایف نے معترف ہوتے ہوئے کہاہے کہ مشکل حالات کے باوجود پاکستان نے پروگرام پربہترعمل کیا اندرو نی وبیرونی خسارے کم ہوگئے دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لئے اقدامات کئے گئے وزیراعظم کے مشیرخزانہ حفیظ شیخ کاکہنا ہے کہ پاکستان پہلے جائزے میں کارکردگی کے معیارپرپورا اترا، معیشت مسلسل بہتری کی جانب گامزن ہے ،مہنگائی میں کمی کی توقع ہے ،انسدادمنی لانڈرنگ اوردہشت گردوں تک مالی رسائی روکنے کے لئے فریم ورک پرخاطرخواہ کام ہورہاہے، اقتصادی ترقی سست لیکن اس کے نتاءج مثبت آرہے ہیں ۔ حال میں جو حکومت فیصلے کررہی ہے وہ عوام کوگراں تو گزررہے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کے نتاءج اچھے برآمدہورہے ہیں جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہورہاہے آج کچھ مشکلات برداشت کرناہوں گی آنیوالاوقت انشاء اللہ سکون کاہوگا ۔ توقع ہے کہ رواں سال مہنگائی کی اوسط شرح کم ہوکرگیارہ اعشاریہ آٹھ فیصد پرآجائے گی ۔

عیدمیلادالنبیﷺ کے موقع پر امت مسلمہ کومتحداوریکجاہونے کاعزم کرناہوگا

ملک بھر میں آج عیدمیلادالنبی;248; مذہبی عقیدت و احترام سے منائی جارہی ہے ۔ رات کومحافل نعت اور کانفرنسز ہونگی ۔ مساجد میں اسلام اورمذہبی تعلیمات کے فروغ ،اتحاد،یکجہتی، ترقی اورامت مسلمہ کی فلاح وبہبود کےلئے خصوصی دعائیں مانگی جائیں گی ۔ دن کی سب سے بڑی تقریب اسلام آباد میں بین الاقوامی رحمت الالعالمین;248; کانفرنس ہوگی، جس کے افتتاحی اجلاس کی صدارت وزیراعظم عمران خان جبکہ اختتامی نشست کی صدارت صدر ڈاکٹر عارف علوی کریں گے ۔ حکومت ، مذہبی تنظیموں ;47; میلاد کمیٹیوں اورذاتی طورپرلوگوں نے اس موقع پر جلوس ، سیمینارز، کانفرنسز اورمباحثے کے پروگرام ترتیب دیئے ہیں ۔ ملک بھر میں عیدمیلادالنبیﷺ کے سلسلے میں متعدد جلوس نکالے جائیں گے ۔ اُدھر گلیوں ،سڑکوں ، بازاروں ، شاپنگ سنٹرز اورسرکاری و نجی عمارتوں کو برقی قمقموں ، رنگارنگ جھنڈیوں اور بینرزسے سجایا گیا ہے جونہایت دلکش منظرپیش کر رہے ہیں ۔ عید میلادالنبیﷺ کا دن ہ میں اس بات کا پیغام دیتا ہے کہ ہم اللہ اوراس کے رسولﷺ کے احکامات پر عمل پیرا ہوں آج امت مسلمہ جو ذلیل وخوار اور نفاق کا شکار ہے وہ محض اس لئے کہ ہم نے رسول پاکﷺ کی تعلیمات سے دوری اختیار کرلی ہے ۔ حضور پاک ﷺ کی زندگی ہمارے لئے عملی نمونہ ہے ہم اللہ تعالیٰ کے حکم اورحضورپاکﷺ کی پیروی کر کے کامیابی حاصل کرسکتے ہیں ۔ آج ہم دنیا و ما فیہا میں اتنے گم ہوچکے ہیں کہ آخرت کی کوئی فکرہی نہیں ، آخر کار دنیابھر میں صرف مسلمان ہی کیوں ظلم وتشدد کا نشانہ بن رہے ہیں ،دیکھاجائے تو ہرجگہ پرمسلمانوں پرظلم ہورہاہے ۔ آج کشمیر ، فلسطین ، افغانستان، عراق سمیت بہت سے اسلامی ممالک میں مسلمان غیر مسلموں کے ہاتھ مررہاہے ۔ اب ہ میں قرآن ، سنت اوراحادیث پرعمل پیرا ہونا ہوگا، اللہ اور اس کے محبوبﷺ کی قربت حاصل کرنا ہوگی ان کے دیئے ہوئے احکامات پر عملدر آمد کرنا ہوگا ، عید میلاد النبیﷺ ہ میں آپس میں اتحاد اور اخوت سے رہنے کا سبق دیتی ہے ،متحدہوکرہی مسلمان کفار کو شکست سے دوچارکرسکتے ہیں ۔

جدید پاکستان ، نوجوانوں کا کردار اور فکر اقبال

اکستان کا خیال اقبال;231; کے ذہن میں کیوں آیا ;238; جیسے کہ اقبال;231; عالم اسلام کے مفکر جن کو لا الہٰ کے ذریعے جواب مل جاتا ہے، دو قومی نظریے کا خیال آیا ۔ جس میں ہندو اور مسلمان دو الگ قو میں ہیں ۔ ایک میان میں دو تلواروں والی بات تھی ۔ جب قرآن اس قدر واضح تصور سیاسست پیش کرتا ہے ، نظریہ قرآن کو عملی طور پر الگ ریاست میں احکام الہٰی کے تحت نافذ کیا جاسکتا ہے ۔ ہندو اکثریت کی غلامی بمنزلہ موت کے ہے ۔ ایسی زمین کا ٹکڑا جہاں مسلمان اللہ کی حاکمیت کے تحت اس مملکت کا احیاء کریں گے ۔ جہاں وہ اپنے افکار اور احکام دین کے مطابق زندگی بسر کریں گے ۔ قیام پاکستان کا تصور کرہ ارض میں ہمارے دین کی بنیاد ہے ۔ اس وقت اسلام ہی واحد دین ہے ۔ باقی سب مذاہب ۔ جہاں مذاہب ہوں گے وہاں تاریکی ، توہمات، باطل تصورات ہونگے ۔ مولانا آزاد عالم اسلام میں معروف مقرر اور مذہبی عالم تھے ۔ حسین مدنی دیوبند کے ممتاز عالم تھے مگر انہوں نے ہندو یعنی باطل کے ساتھ مصالحت کی بلکہ انکے آلہ کار بن گئے ۔ علامہ اقبال کے ان افکار اور قائداعظم کو عوامی جلسوں میں کافر، کہہ کر بدنام کرنے کا پروپیگنڈا چلایا بلکہ آخر میں حسین مدنی نے اقبال کے تصور کو زائل کرنے کے لئے قو میں اوطان سے بنتی ہیں ‘‘ کے پمفلٹ بانٹا شروع کئے ۔ یعنی ہندوستان ہم سب کا وطن ہے ۔ اس میں ہندو اور مسلم دونوں ایک ہی قوم ہیں ۔ یعنی رام اور رحیم دونو ں ایک ہیں ۔ آپ غور کیجئے کہ یہ ایک گمراہ کن صدا تھی جس پر علامہ اقبال نے ایسا جواب دیا کہ مولانا معافیوں پر اترآیا ۔

ملاُ کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت

ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

بحر حال نو جوانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان کسی دیوانے کا خواب نہیں ۔ اس کا مقصد اور نصب العین نہایت مقدس اور پاکیزہ ہے ۔ یہ درست ہے کہ اب تک پاکستان نے ان نظریات کا جامہ نہیں پہنا ۔ مگر یہ خوش قسمتی کیا کم ہے یہاں کے مسلمان ہندوستان کے مسلمانوں یا کشمیر کے مسلمانو ں کی نسبت آزاد فضا میں جی رہے ہیں ۔ ہمارا سیاسی نظام اپنے مفا د پرست ٹولے کے شکنجے میں ہے باطل اور حق کی اس آویزش میں دنیا کی کئی قو میں اُبھری ہیں اور آج انکی اپنی شاخت ہے ۔ امریکہ کو تین سو سال لگے خانہ جنگی میں اور بد ترین حالات سے ۔ چین ہمار ا پڑوسی ہے ۔ جاپان یا مغربی ممالک ۔ تاریک دور سے گزر کر آج ترقی کی راہ پر گامزن ہیں ۔ لیکن جن قوموں کی مثال دی جار ہی ہے انکے پاس تحریک کا سبب وطن پرستی تھا ۔ پاکستان اسلام کے تحت معرض وجود میں آیا ۔ عالمی سطح پر اور ہمارے اپنے مسلمان بھی اس نظریے کی مخالفت کر رہے تھے کیونکہ جب خدا کی حاکمیت کی بات ہوئی جسکا آئین قرآن ہے ۔ نافذالعمل ہوگا تو یہ تاریکیاں فنا ہو جائیں گی ۔ اقبال کے کلام کا مرکزی فلسفہ، خودی ہے ۔ خودی وہ توانائی ہے جو صرف نوجوان میں پائی جاتی ہے ۔ اقبال نے اپنے اس فلسفے کی تکمیل کے لئے نوجوان کا انتخاب کیا ہے یہ قرآن کا وہ کردار ہے جسے اقبال نے خودی کے ذریعے متشکل کرنا چاہا ۔ خودی دراصل وہ صفت یا کردار ہے جس سے پہچان ذات، معارف ذات ، انفرادیت ، شخصیت ، سچائی اور حق کے لئے کوشاں کردار ، عادل منصف، ذمہ دار ، مایوسی کا دشمن اپنی زندگی کو نظم و ضبط سے گزارنے والا ۔ ہر وقت متحرک رہنے والا ۔ بلند مقاصد سے لیس’’ خیرالناس‘‘ کا ترجمان ، عمل پسند، مستقبل پسند، ماضی سے کسی قسم کی تصوراتی وابستگی نہ رکھنے والا ۔ اللہ کی حاکمیت پر ایمان رکھنے والا ۔ قرآن میں غور و فکر کرنے والا ۔ وہاں سے اللہ کی نگہبانی لینے والا اور اسکو اپنی زندگی میں نافذ کرنے والا اور اسکا دائرہ عالمگیر انسانیت تک پھیلانے والا ۔ خود احتسابی کے عمل سے گزرنے والا ۔ علوم اور سائنس میں محقق بن کر ارتقاء سے گزرنے والا ،جدید تصورات کےساتھ ساتھ دین کے اخلاقی نظا م کا پابند رہنے والا ۔ محکوموں ، غلاموں اور یتیموں کا آسرا ۔

ان صفات کو حاصل کرنےوالے نوجوان کو مومن کہتے ہیں ۔ اقبال نے ہر اُس نوجوان کیلئے ہی پیغام دیا ہے ( ایک نوجوان کے نام )

نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر

توُ شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

جو کبوتر پہ جھپٹنے کا مزا ہے اے پسر

وہ مزہ شاید کبوتر کے لہو میں میں بھی نہیں

ان دواشعار میں نوجوان کو شاہین کے استعارے میں رکھا یا گیا ۔ شاہین کی یہ صفت ہے کہ وہ مسلسل حرکت میں رہتا ہے ۔ اُسکی اڑان فضاؤں میں رہتی ہے ۔ اُس کا مشاہدہ آسمان سے زمین پر ۔ وہ تمام جزیات حرکت زندگی سے با خبر رہتا ہے ۔ ایک نوجوان نے اپنی عملی زندگی میں مسلسل مصروف رہتا ہے کیونکہ اس کی قوت اور توانائی اس قدر پاکیزہ و مقدس ہوتی ہیں کہ وہ ہر نا ممکن کو ممکن بنا لیتا ہے ۔ دوسرے شعر میں نوجوان کے لئے کیا خوبصورت پیغام ہے کہ جب آپ کسی مقصد کےلئے مسلسل یہ عمل کرتے ہیں تو اس کی لذت سے خو د کو بیگانہ رکھیں ۔ جو اس شے کو حصول سے پہلے آپکو حاصل ہے کیونکہ منزل پر پہنچنے سے پہلے جو کوشش ہے اصل قیمت اسکی ہے منزل کا حصول اس لذت کا خاتمہ ہے ۔ لہٰذا پہلی سے دوسری اور دوسری سے اگلی منزل کاتعین کرتے جائیں ۔ اس سے آپکے عزائم ، ارادے اور نصب العین کی وسعت گہرائی اور گیرائی میں اضافہ ہوتا چلاجائیگا اور یہ تسخیر کا ئنات ہے ۔ گویا خودی اپنی سرحدوں سے نکل کر خدائی بن جاتی ہے اور اس طرح شرف انسانیت کا وہ مقام حاصل ہوتاہے ۔ جب اللہ نے انسان کی پیدائش پر فخر کیا تھا ۔ اقبال نے پاکستان کے تصور کے دوران ہی اپنے اس خواب کو نوجوانوں کے ہاتھوں متشکل کروانے کی آرزو کی تھی ۔

خدایا آزرو میری یہی ہے

میرا نورِ بصیرت عام کردے

جاوید کے نام کے ذریعے نوجوان کو پیغام :

میرا طریق امیری نہیں فقیری نہیں

خودی نہ بیج غریبی میں نام پیدا کردے

ایک مومن نوجوان کی تگ و دو ۔ اسکی زندگی سے لیکر بعداز موت کی زندگی میں بھی جاری رہتی ہے ۔

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

نوجوان ہی سے کہا کہ اپنے مستقبل پر نظر رکھو، حال زندگی کا وہ زمانہ ہے جس کو موقع oppurtinity کہتے ہیں ۔ حال کا سفر مستقبل کی طرف ہے ۔ ’یہ زمانہ ‘’وقت‘’ دور‘ ۔ ارتقاء ;69;voluteپذیر ہے ۔ آگے کی طرف رواں دواں ہے واپس نہیں جاتا ۔ آج ستاروں سیاروں اور بلیک ہول کی باتیں ہو رہی ہیں مریخ اور چاند پر انسان نے قدم رکھا کیا پہلے ممکن تھا ،یہ اصول کائنات ہے کہ وقت کی قدر کرکے اسکو اپنے اور انسانیت کے مفاد کے لئے استعمال کرو اور یوں آپ ایک ’’جنت ‘‘ سے ’’دوسری جنت ‘‘ مگر مستقبل میں داخل ہوجائیں گے ۔ اقبال نے یہ نکتہ سورہ رحمان سے لیا ہے جہاں ’’قرآن نے ’’جناتان‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ یعنی اس دنیا میں جب انسان قرآن کی اطاعت کر کے ایک ایسا نظام قائم کرتا جس میں فلاح انسانیت کے اصول مرتب ہوتے ہیں ۔ انفرادی و اجتماعی دونوں زندگیا ں امن میں ہونگی ۔ اسے قرآن نے دنیا کی ’’جنت ‘‘ قرار دیا ہے اور جس نے جہاں جتنی زندگی گزاری اس کی آخروی جنت اس نے خریدلی ہے ۔ یعنی اصول یہ ہے کہ اپنے آج کو مسلسل محنت ، دیانتداری ، ایمانداری سے خوشگواربنالیں تو آپ اگلے مرحلہ زندگی کی خوشگواریت کا حق دار بن جاتا ہے ۔ ایسا نہیں کہ آپ ماضی پرستی، اپنے آباوَ اجداد کے کارناموں پر صرف فخر کرتے رہیں تو آپکا اس دنیا اور آخرت کا بہترین مستقبل ایک خواب ہی رہے گا ۔

کبھی اے نوجواں مسلم تدبیر بھی کیا تو نے

وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے ایک ٹوٹا ہوا تارا

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

ثریا سے زمین پر آسماں نے ہم کو دے مارا

ربیع الاول کا پیغام

اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے ’’اے محمد ;248;!کہو کہ اے انسانو !مےں تم سب کی طرف اُس خدا کا پےغمبر ;248;ہوں جو زمےن اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے ‘‘(الا عراف۸۵۱) دوسری جگہ فرمایا ’’درحقےقت تم لوگوں کےلئے اللہ کے رسول ;248; مےں اےک بہترےن نمونہ ہے ،ہر اس شخص کےلئے جو اللہ اور ےوم آخر کا امےدوارہو اور کثرت سے اللہ کو ےاد کرے‘‘ (الاحزاب۱۲) مسلم کی حدےث ہے کہ اےک دفعہ چند صحابہ ;230; نے حضرت عائشہ ;230;ام المومنےن سے عرض کےا کہ آپ نبی اکرم ;248; کے کچھ حالات زندگی ہم کو بتائےں عائشہ صدےقہ ;230; نے تعجب سے درےافت کےا آپ نے قرآن نہےں پڑھا جو مجھ سے خلق نبی ;248; کے متعلق سوال کرتے ہو;238; (مسلم) ےعنی آپ ;248; کی ساری زندگی قرآن تھی ۔ ۹ربےع لاول مطابق ۰۲;241;اپرےل۱۷۵ ء( الر حےق المختوم) کی صبح مکہ کے اےک معزز قبےلہ قرےش(بنی ہاشم) مےں عبداللہ بن عبدالمطلب کے گھر حضرت محمدﷺ پےدا ہوئے ۔ دارالرقم مےں نبوت کے پہلے ۳ سال خفےہ طرےقے سے خاص خاص لوگو ں کو اللہ کی دعوت پہنچاتے رہے ۔ شروع دنوں مےں دعوت کامرکز حضرت ار قم ;230; کے گھر کو بناےا تھا ۔ حضرت خدےجہ ;230; ،حضرت علی ;230;،حضرت ابوبکر ;230; حضرت زےد ;230; ےہ سب پہلے ہی دن مسلمان ہو گےٗ تھے ۔ پھر اس زمانے کے رواج کے مطابق پہاڑ صفا کی چوٹی پر چڑ کر اعلان کےا، ےاصباحا;252;ےاصباحا ےعنی صبح کا خطرہ صبح کا خطرہ، قرےش کے لوگوں کو پکارا لوگ جمع ہو گےٗ آپ ;248;نے فرماےا اگر مےں آپ لوگوں سے کہوں کہ پہاڑ کی دوسری طرف سے دشمن حملہ کرنے والا ہے تو آپ لوگ مےری بات پر ےقےن کرےں گے سب نے کہا آپ ;248; سچے اور نےک آدمی ہےں ہم ضرور ےقےن کرےں گے آپ ;248; نے فرماےا لوگومےں اللہ کا پےغمبر ;248;ہوں اور تمہےں ا للہ واحد کی طرف بلاتا ہوں بتوں کی پوجا سے بچاتا ہوں ےہ زندگی چند روزہ ہے سب نے اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور اپنے اعمال کا حساب دےنا ہے ۔ قریش جب محسوس کیا کہ اسلام کی دعوت پھیل رہی ہے تو انہوں نے دھمکی کےلیے اپنے چند آدمی ابو طالب کے پاس بھےجے انہوں نے کہا تمہارے بھتےجے نے ہمارے خداءوں کو برا بھلا کہا لہذا آپ ےا تو اس کو روک دےں ےا درمےان سے ہٹ جائےں ہم اس کےلئے کافی ہےں ابو طالب نے اس کا ذکر رسول ;248; اللہ سے کےا مگر رسول ;248;اللہ نے فرماےا چچاےہ مےرے اےک ہاتھ پر سورج اور دوسرے ہاتھ پر چاند رکھ دےں تب بھی مےں ےہ کام نہےں چھوڑوں گا ۔ حضرت حمزہ ;230;اور حضرت عمر ;230; کے اسلام لانے کے بعد قرےش نے اےک نمایندہ عتبہ بن ربےعہ کو رسول ;248; اللہ کے پاس بھےجا ۔ خانہ کعبہ کے اندر عتبہ نے رسول ;248;اللہ سے ملاقات کی اور آپ ;248; کے سامنے قرےش سے منظور شدہ گفتگو رکھی اورکہا ہماری قوم کے اندر آپ ;248; کا مرتبہ اور مقام ہے اب آپ;248; اےک بڑا معاملہ لے کر آئے ہو جس سے قوم مےں تفرقہ پڑ گےا ہے آپ ;248; نے کہا مےری سنو آپ ;248; نے سورۃ حم السجدہ تلاوت فرمائی عتبہ سنتا گےا اٹھا اور سےدھا ساتھےوں کے پاس گےا ۔ ابو طالب کو مقابلے کی دھمکی ، ابوجہل کا رسول اللہ;248; کے سر پر بھاری پتھر رکھنے،عتبہ بن ابی معےط کا چادر لپےٹ کر گلا گھونٹنے، ےہ سب باتےں سنگےن خطرہ محسوس ہو رہی تھےں اس لئے ابو طالب نے جدِاعلیٰ عبدِ مناف کے دونوں صاحبزادوں ہاشم اور مطلب سے وجود مےں آنے والے خاندان کو جمع کےا اور کہا اب رسول ;248;اللہ کی سب حفاظت کرےں ابو طالب کی ےہ بات عربی حمےت کے پےش نظر ان دونوں خاندانوں کے سارے مسلم اور کافر افراد نے قبول کی البتہ صرف ابو لہب مشرکےن سے جا ملا ۔ اےک دفعہ خانہ کعبہ مےں سرداران قرےش موجود تھے رسول ;248; بھی اےک کونے مےں تشرےف فرما تھے ۔ ان ہی دنوں حج کا موسم تھا ۔ قرےش کو فکر ہوئی کہ رسول ;248; اللہ آنے والے حاجےوں مےں اپنے دےن کو پھےلائیں گے لہٰذا کو ئی تدبےر کرنی چاہیے ۔ کافی سوچ بچار کے بعد ولےد نے مشورہ دےا ہم کہےں گے جادوگر ہے اس بات کے بعد سب پھیل گئے اور آنےوالے حاجےوں مےں وہ پروپیگنڈا شروع کر دےا اس سے لوگوں مےں مشہور ہوگےا کہ آپ ;248;نے دعویٰ نبوت کےا ہے ان کی اس حرکت سے دےار عرب مےں آپ ;248; کا چرچا ہوگےا ۔ مکہ کے ۳۱;241; سال مےں آپ ;248;اور آپ ;248; کے صحابہ ;230; کو بہت ستاےا گےا ۔ رسول ;248;اللہ نے کہا دےن کے معاملے مےں جتنا مجھے ستاےا گےا ہے کوئی اور پےغمبر نہےں ستاےا گےا ۔ بازار کے اندر آپ ;248; لوگوں کودعوت دےتے پےچھے ابو لہب لوگوں کو کہتا ےہ مےرا بھتےجا ہے ےہ جھوٹ کہتا ہے، خانہ کعبہ مےں سجدے کی حالت مےں سر پر اونٹ کی اوجھ ڈالی گئی، گردن مےں چادر ڈال کرختم کر دےنے کی کوشش کی گئی، دو بےٹےوں رقےہ ;230;اور ام کلثوم ;230; کوچچا ابولہب کے بےٹوں نے طلاق دی، طاءف مےں لہو لہان کےا گےا، رسول ;248;اللہ کا بےٹا عبداللہ فوت ہوا تو ابولہب خوش ہوا دوستوں کو خوشخبری دی کہ محمد ;248; ابتر ہو گےا ہے،ابو لہب کی بےوی جو ابو سفےان کی بہن تھی رسول ;248;اللہ کے راستے مےں کانٹے ڈالتی تھی،آپ ;248; کے کافر پڑوسی جب آپ ;248; گھر مےں نماز پڑھ رہے ہوتے تو وہ آپ کے سرپر بکری کی بچہ دانی ڈال دےتے ، چولھے پر ہانڈی چڑھائی جاتی تو بچہ دانی اس طرح پھےنکتے کہ سےدھے ہانڈی مےں جا گرتی،امےہ بن خلف کا وطےرہ تھا جب رسول ;248;اللہ کو دےکھتا تو لعن طعن کرتا ، ۳ سال تک شعب ابوطا لب مےں محصور رکھا گےا،قتل کرنے کی اور ملک بدر کرنے کی سازش کی گئی ۔ صحابہ ;230; کو اتنا پرےشان کےا گےا کہ وہ دو دفع حبشہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ۔ جب ابو طلب بےمار ہوئے تو قرےش کو فکر ہوئی کہ ان کی زندگی مےں ہی کچھ معاملہ ہو جانا چا ہیے چنانچہ قرےش اےک بڑا وفد جس مےں عتبہ بن ر بےعہ ، شےبہ بن ر بےعہ ،ابو جہل بن ہشام، امےہ بن خلف، ابو سفےان بن حرب اور دےگر تقرےباً ۵۲;241; افراد آئے ۔ رسول ;248; نے ان کی باتےں سن کر کہا آپ لوگوں کو مےں اےک اےسا کلمہ نہ بتاءوں جس کو اگر آپ مان لےں تو آپ عرب کے بادشاہ بن جائےں اور عجم آپ کے زےر نگےں آجائے تو آپ کی کےارائے ہو گی قرےش ےہ سن کر حےران تھے آخر ابو جہل نے کہا اچھا بتاءو ہم اےسی دس باتےں ماننے کےلئے تےار ہےں آپ ;248; نے فرماےا ’’آپ لوگ لا الٰہ الا اللہ کہےں اور اللہ کے سوا جو کچھ پوجتے ہےں اسے چھوڑ دو اس پر انہوں نے ہاتھ پےٹ پےٹ کر کہا ’’محمد ;248; !تم ےہ چاہتے ہو کہ سارے خداءوں کی جگہ بس اےک ہی خدا بنا ڈالو;238; ۔ ۰۱ ;247; نبوت مےں رسول ;248; طاءف دعوت کی غرض سے تشرےف لے گئے مگر انہوں نے شرےر لڑکے آپ کے پےچھے لگا دیے آپ پر پتھروں کی بارش کی گئی آپ لہو لہان ہو گئے پہاڑوں کے فرشتے نے آکر کہا مجھے اللہ نے بھےجا ہے آپ ;248; کہےں تو ان کو دو پہاڑوں کے درمےان پےس دوں مگر پھر بھی آپ ;248; نے ان کے اےمان لانے کی دعا کی ۔ اس کے بعد اللہ نے اپنے رسول ;248; کو معراج کرائی ، دوسری باتوں کے علاوہ پانچ وقتہ نماز فرض کی گئی ۔ دوسرے پےغمبروں ;174;سے ملاقات کرائی،جنت دوزخ کا مشاہدہ کراےا،پھر اسی رات بےت المقدس سے مکہ تشرےف لے آئے ۔ رسول ;248;اللہ طاءف سے واپس آئے اُس کے بعد بےعت عقبہ ہوئی انصارِ مدینہ نے رسول ;248; اللہ کو مدےنے آنے کی دعوت دی گئی ۔ ان حضرات نے آپ ;248;کو اےک معاہدے کے تحت مدےنے مےں بلاےا ۔ دو شنبہ ۸;241; ربےع الاول ۴۱ ;247;نبوت ےعنی ۱ ;247; ھ مطابق ۳۲ ستمبر ۲۲۶ ;247; ء کو رسول;248;اللہ قباء مےں وارد ہوئے مسلمانانِ مدےنہ رسول ;248;اللہ کے انتظار مےں تھے ۔ آپ ;248; کے دےدار کےلئے سارا مدےنہ امڈ آےاےہ اےک تارےخی دن تھا جس کی نظےر سر زمےن ِمدےنہ نے کبھی نہ دےکھی تھی ۔ اسی دوران مسجد قباء کی بنےاد رکھی اور نماز ادا کی اس کے بعد رسول ;248;اللہ مدےنہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ رسول ;248; کو مدےنے مےں بھی آرام سے اللہ کے دےن کو پھےلانے کےلئے نہ چھوڑا گےا ۔ طرح طرح سے رکاوٹےں ڈالی گئےں بدر، احد اور خندق کی جنگ کی،جنگ خندق کے موقع پرتمام عرب کے مشرکوں نے مدےنے کا محاصرہ کےا مگر اُنہیں شکست ہوئی ۔ رسول ;248; اللہ نے ۰۱;241; رمضان ۸ ;247; ھ دس ہزار صحابہ ;230; کے ساتھ مکہ کا رخ کےا اللہ نے فتح عطا کی ۔ فتح مکہ کے بعد آپ;248; نے عام معافی کا اعلان کےا خانہ کعبہ مےں داخل ہو کر سب بتوں کو توڑ ڈالا ۔ رسول ;248; اللہ نے پہلے اللہ کی کبرےائی بےان کی پھرفرماےا جاہلےت کے تمام دستور مےرے پاءوں کے نےچے ہےں ،عربی کو عجمی سفےد کو سےاہ پر کوئی فضلےت نہےں مگر تقویٰ،مسلمان بھائی بھائی ہےں ،جو خود کھاوٗ غلاموں کو کھلاءو ،جاہلےت کے تمام خون معاف،سودپرپابندی،عورتوں کے حقوق،اےک دوسرے کا خون اور مال حرام،کتاب اللہ کو مضبوطی سے پکڑنے کی تاکےد،حقدار کو حق،لڑکا اس کا جس کے بستر پر پےدا ہوا، اس کے بعد اےک لاکھ چالےس ہزار انسانوں کے سمندر کو آپ ;248;نے فرماےا مےرے بعد کوئی نبی نہےں ہے اللہ کی عبادت کرنا پانچ وقت کی نماز رمضان کے روزے زکوۃ اللہ کے گھر کا حج اور اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرنا جنت مےں داخل ہوجاءو گے ۔ تم سے مےرے متعلق پوچھا جانے والا ہے صحابہ ;230; نے کہا آپ ;248; نے تبلےغ کر دی، پےغام پہنچا دےا اور حق ادا کر دےا ۔ ےہ سن کر شہادت کی انگلی کو آسمان کی طرف اٹھاےا اور کہا اے اللہ آپ بھی گواہ رہیے ۔ اس خطبے کے بعد ےہ آےات نازل ہوئےں ’’آج مےں نے تمہارےلیے تمہارا دےن مکمل کر دےا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو بحےثےت دےن پسند کر لےا‘‘ (المائدہ۳) اب رہتی دنےا تک ےہی دےن غالب رہے گا ۔ حضرت محمد صلی اللہ علےہ و سلم اللہ کے آخری پےغمبر ہےں اور ےہ دےن آخری دےن ہے ۔ قےامت تک نہ کوئی نےا نبی آئے گا نہ نےا دےن آئے گا ۔ اب اس دےن کو دوسری قوموں تک پہنچانے کا کام امت محمدی ;248; کرے گی لہٰذا ہمارےلیے سبق ہے کہ ہم اپنے اعمال ٹھےک کرےں اسلام کے دستور مےں جتنی بھی انسانوں کی خواہشات داخل کر دی گئی ہےں انہےں اےک اےک کر کے اپنے دستو ر عمل سے نکال دےں اور اپنے ملک مےں اسلامی نظام، نظام مصطفےٰ، حکومت الہےہ( جو بھی نام ہو) اس کو قائم کرےں او ر پھر اس دستور کو دنےا کے تمام انسانوں تک پہنچائےں جنت کے حق دار بنےں اور جہنم کی آگ سے نجات پائےں جو کافروں کےلئے تےار کی گئی ہے اپنی آخری منزل جنت مےں داخل ہوں جہاں ہمےشہ رہنا ہے جہاں نہ موت ہو گی نہ تکلےف ہو گی اللہ مومنوں سے راضی ہو گا اور ےہی کامےابی ہے ۔ یہی ربیع الاول کا

دروغ گوئی ۔۔۔بھارتی وطیرہ !

ہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بھارتی میڈیا، ونیا کا واحد میڈیا ہے جس کے منہ سے کوئی سچ بات کبھی سننے کو نہیں ملتی ۔ آج کل چونکہ پاکستان کے بعض شہروں اور بھارت میں فضائی آلودگی کا مسئلہ بہت زیادہ ہے، اس پر کئی بھارتی ٹی وی چینل اور اخبار من گھڑت اور مضحکہ خیز قسم کی رپورٹس پیش کر رہے ہیں کہ یہ سب کچھ بھی آئی ایس آئی کا کیا دھرا ہے اور اس نے ایسے پلانٹس خصوصی طور پر بنائے ہیں جن کا رخ بھارت کی طرف کر کے چلایا جاتا ہے اور نتیجے کے طور پر وہاں فضائی آلودگی بڑھتی ہے،حالانکہ معمولی سی عقل اور سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی با آسانی سمجھ سکتا ہے کہ جس ملک میں 65 فیصد آبادی کے پاس ٹوائلٹس جیسی بنیادی سہولت ہی نہ ہو اور وہ باہر کھلے آسمان تلے رفع حاجت کرتے ہوں ، وہاں فضائی آلودگی اور گندگی کا خاتمہ کیونکر ہو سکتا ہے، بھارت میں اتنہائی بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا جو استحصال جاری ہے، اس سے تو پناہ ہی مانگی جا سکتی ہے ۔ بھارتی میڈیا کی روز اول سے یہ روش رہی ہے کہ وہ حقائق کو ہمیشہ توڑ مروڑ کر پیش کرتا رہا ہے ۔ ان دنوں بھی بھارتی ذراءع ابلاغ میں وطن عزیز اور اس کے قومی سلامتی کے اداروں کی بابت ایک نہ ختم ہونےوالا طوفانِ بدتمیزی بپا ہے ۔ دی کوینٹ نامی اخبار نے دو روز قبل زہر افشانی کی کہ پاکستان کی جانب سے ابھی بھی دہشتگرد گروپوں کی حمایت جاری ہے ۔ دی وائر نامی اخبار نے فرمایا کہ مقبوضہ کشمیر میں حالات بالکل ٹھیک ہیں اور وہاں مزاحمت کے کوئی آثار دیکھنے میں نہیں آ رہے ۔ علاوہ ازیں مختلف بھارتی اخباروں میں کرتار پور راہداری کے متعلق بھی انواع اقسام کے خدشات اور پراپیگنڈے کو ہوا دی جا رہی ہے ۔ سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اس قدر بے سر و پا باتوں کی توقع بھارتی حکمرانوں اور میڈیا سے ہی کی جا سکتی ہے جو اپنے مظالم پر پردہ ڈالنے کیلئے وطن عزیز کی بابت ہمہ وقت زہر افشانی کرتے رہتے ہیں ۔ دوسری طرف بھارت میں نوٹ بندی کے فیصلے کو تین سال بیت چکے ہیں ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے ماہرین نے کہا ہے کہ مودی نے آٹھ نومبر کی شب اچانک پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹوں پر پابندی عائد کر دی ۔ یاد رہے کہ اس وقت تقریباً 15لاکھ کروڑ روپے مالیت کے 500 اور 1000 روپے کے نوٹ بھارت میں گردش میں تھے جو تمام نوٹوں کا 85 فی صد بنتا تھا ۔ یوں مودی نے ایک حکم سے 85 فیصد روپے ردی میں بدل دیے ۔ موصوف کا کہنا ہے کہ اس قدم کا مقصد کالے دھن یا بلیک منی کو ختم کرنا ہے ۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس قدم سے واقعی کالا دھن پر قابو پایا گیا;238; ۔ مبصرین نے اس کا جواب نفی میں دیا ہے ۔ ایک جائزے کے مطابق بھارت میں 15 لاکھ کروڑ روپے میں تقریباً تین لاکھ کروڑ روپے کالے دھن کے زمرے میں آتے ہیں ۔ ہندوستان میں گذشتہ نوٹ بندی کے بعد کروڑوں لوگ نئے نوٹ حاصل کرنے اور پرانے نوٹ جمع کرنے کےلئے بینکوں کے باہر قطاروں میں کھڑے ہو گئے تھے ۔ چھوٹے چھوٹے قصبوں اور دیہی علاقوں میں افراتفری مچی ہوئی تھی ۔ اس پر مزید ستم ظریفی یہ کہ مودی نے اے ٹی ایم سے پیسے نکالنے کی یومیہ حد دو ہزار مقرر کر رکھی تھی ، جس سے لوگوں کی مشکلات مزید بڑھتی جا رہی تھیں ۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مودی نے ابتدا میں خیالی پلاءو پکایا تھا کہ کہ چند ہی دنوں کے اندر پورے ملک میں نئے نوٹ لوگوں تک پہنچ جائیں گے اور ماحول نارمل ہوتے ہی موصوف یہ دعویٰ کر سکیں گے کہ ملک میں کالے دھن اور جعلی نوٹوں کا چلن ختم کر دیا گیا ہے ۔ مگر بڑے نوٹوں پر پابندی کے کئی ماہ تک بینکوں کے باہر لوگوں کی قطاریں کم ہوتی ہوئی نظر نہیں آئیں اور نوبت خانہ جنگی تک جا پہنچی ۔ مختلف تجزیوں اور رپورٹوں کے مطابق بھارت کے سیاست دانوں ، سرمایہ کاروں ، تاجروں اور بڑے بڑے لوگوں نے 50 سے 80 لاکھ کروڑ روپے غیر ملکی بینکوں میں جمع کر رکھے ہیں ۔ مودی نے اپنے انتخابی منشور میں یہ بڑ ہانکی تھی کہ غیر ممالک سے کالا دھن بھارت واپس لایا جائے گا اور ہر بھارتی شہری کے کھاتے میں پندرہ لاکھ روپے فی کس کے حساب سے جمع کیے جائیں گے ۔ ;667480; کے صدر ’’ امت شاہ ‘‘ماضی قریب یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ تو محض ایک چناوی جملہ تھا ۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت کا ٹیکس نظام انتہائی فرسودہ اور غیر موثر ہے ۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ بھارت میں گذشتہ مالی برس میں صرف پانچ کروڑ لوگوں نے ٹیکس ریٹرن بھرے تھے جو پوری آبادی کا محض چار فیصد بنتا ہے ۔ واضح رہے کہ ماضی میں دنیا کے کئی اور ملکوں میں بھی بعض حکمرانوں نے مروجہ کرنسی کی جگہ اچانک نئی کرنسی چلانے کا قدم اٹھایا تھا لیکن یہ سبھی تجربات ناکام ثابت ہوئے تھے ۔ مودی نے اپنی حکومت اور پارٹی کے اراکین سے کہا کہ وہ اپنے دفاع کی کوشش نہ کریں بلکہ خود کو اس اعتماد کے ساتھ پیش کریں کہ ’’نوٹ بندی‘‘ بہتر مستقبل کیلئے ہے ۔ بہتر مستقبل کی اُمید کس بل بوتے پر کی گئی;238; یہ اُنہوں نے نہیں بتایا لیکن اظہار اعتماد کا حربہ وہ خود بھی آز ماتے رہے ۔ اُن کا یہ جملہ کہ ’’غریب چین کی نیند سورہا ہے او امیر پریشان ہے، نیند کی گولیاں کھانے پر مجبور ہے‘‘ زمینی حقائق کو خاطر میں لائے بغیر خالی خولی اعتماد ظاہر کرنے کے مترادف ہے ۔ اس وقت بھارت میں کوئی غریب یا عام آدمی ایسا نہیں جو چین کی نیند سورہا ہو ۔ دکاندار پریشان گاہک پریشان، بینک ملازمین پریشان بینک صارفین پریشان، مریض پریشان اسپتال کا عملہ پریشان وغیر ہ گویا کسی کو راحت نہیں ہے ۔ ہر شخص مودی کے فیصلے کی مذمت ہی کررہا ہے ۔ اس ساری صورتحال کا خمیازہ جنابِ مودی کو بھگتنا پڑے گا ۔ اس بابت کسی کو ذرا سا بھی شبہ ہے تو اسے اس کی خوش فہمی یا خام خیالی ہی قرار دیا جاسکتا ہے ۔

مغر ب کے مذموم مقاصد!

آزادی سب سے بڑی نعمت ہے اور مملکت خداداد پاکستان اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے ۔ آزادی کی قدر و قیمت ان کے پاس ہے جو اس وقت جد و جہد آزادی سے گزر رہے ہیں آزادی کے کچھ تقاضے بھی ہیں اور سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ آزادی کی معنوویت کو مد نظر رکھا جائے زبانی کلامی تو لفظ آزادی کا بڑا چرچا ہے اور اس لفظ کا استعمال بہت زیادہ کیا جاتا ہے مگر یہ لفظ قربانی کا متقاضی ہے مثلاً ملک کی معاشی حالت کمزور ہے اور قرضوں کا بوجھ ہے سب کی ذمہ داری ہے کہ ٹیکس ادا کریں اور ٹیکس چوری سے اجتناب کرے ۔ آزادی شطر بے مہار کی طرح نہیں ہے کہ جس کا جی چاہے وہ کرے بلکہ آزادی حدود وقیود اور دائرے کے اندر آزادی، آزادی ہوتی ہے ۔ ایسی آزادی جو اپنے دائرے کو چھوڑ کر دوسرے کے دائرے میں ہوجائے تو یہ آزادی نہیں بلکہ ظلم ہوجاتا ہے ۔ آج اہل مغرب نے آزادی کے نام پر لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ جاگیرداروں کو کھلی آزادی ہے کہ وہ زمین کا مالک ہونے کے نام پر کاشتکاروں کی محنت کو ہڑپ کریں اور انہیں قبر کی جگہ بھی نہ دیں آزادی نسواں کے نام پر عورتوں کو کھلی چھٹی ہے کہ جس طرح چاہیں جسمانی نمائش کریں ۔ اظہار رائے پر دوسرے مذاہب کی مقدس شخصیات کی توہین کریں ۔ جمہوریت کے نام پر سرمایہ کاری کریں اور پھر اقتدار میں جاکر جمور کے خون چوسنے کی کھلی آزادی اور اسی طرح سرمایہ کاری کی آزادی کے نام پر دوسرے ممالک کو لوٹنے کی کھلی آزادی ۔ لیکن نام کے رٹے کے بجائے معنوویت کو مدنظر رکھا جانا چائیے ۔ حقیقی آزادی معنوی ہے ۔ اسلام نے غلامی کے نام کو تو برقرار رکھا لیکن ان کو معنوی آزادی جس کی وجہ سے غلام حقوق میں آقا کے برابر ہوگیا اور آقا و غلام باری باری اونٹ پر سفر کرتے ۔ میرے خیال میں یہ مثال دنیا کا کوئی دوسرا نظام دینے سے قاصر ہے کہ غلام تخت شاہی پر متمکن ہوئے ہو ہندوستان جب اسلامی نظام تھا تو اس دور میں غلاموں نے کئی عشروں تک حکومت کی ۔ اسلام نے لامحدو د ملکیت کو معنوی طور پر ختم کیا اور فرمایا لوگ جو سونا اور چاندی اکٹھی کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ (عوام) پر خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سناءو ۔ جس دن اس سونے اور چاندی کو گرم کرکے ان کی پیٹھوں ، چہروں اور پہلوءوں کو داغا جائے گا ۔ جاگیرداری کو معنوی طور پر ختم کیا اور اور قرآن سورۃ بقرہ میں فرمایہ جو زمین میں ہے وہ تم سب انسانوں کےلئے پیدا کیا گیا ہے ۔ حدیث میں فرمایا کہ جو مردہ زمین کو زندہ کرے وہ اسی کی ہے ، یعنی جو کاشتکاری کرتا ہے وہ اسی کی ہوتی ہے ۔ عورتوں کو بازار حسن اور اشتہار بننے کی آذادی کے بجائے حقیقی آزادی حقوق کی آزادی دی ۔ اور حقوق میں مردوں کے برابر کردیا اظہار رائے کی کے نام پر دوسروں کے باطل معبودوں کو برا بھلا کہنے سے منع فرمایا اور فرمایا جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو پکارتے ہیں انہیں برا بھلا نہ کہو اس کے نتیجے میں وہ بھی اللہ کو دشمنی ، جہالت اور ظلم کی وجہ سے برا بھلا کہیں گے ۔ مجھے جس طرح اہل مغرب کے تھینک ٹینک سے نفرت ہے کہ وہ اچھے ناموں کو اپنے مذموم عزائم کے حصول کےلئے استعمال کرتے ہیں اسی طرح مجھے پاکستان کے ان انتہا پسندوں ، روشن خیالوں اور، رجعت پسندوں اور قدامت پرستوں سے بھی شکوہ ہے کہ وہ بھی اسلام کی مقدس اصطلاحوں کو تو استعمال کرتے ہیں لیکن ان اصطلاحوں کی روح اور معنویت مد نظر نہیں رکھتے اور ان کے اس عمل کا نتیجہ بھی مغرب کے مذموم مقاصد کو پورا کرنے کے حق میں نکلتا ہے ۔ مثلاًاسی کی دہائی میں افغانستان میں مقدس عنوان کے نام پر جو کھیل کھیلا گیا اس کا سب سے زیادہ نقصان انہی کو ہوا اور فائدہ امریکہ کو ۔ آزادی انسان کا حق ہے مگر حد سے تجاوز پھر زیادتی ہے ہر صورت میں اسلام اور شریعت کی تعلیمات اور روح کو مدنظر رکھنا چایئے ۔ لہٰذا میری تمام باشعور افراد سے گزارش ہے کہ وہ کسی نام سے خواہ ان کے ساتھ کتنے ہی اسلام کے لاحقے لگے ہو ان سے متاثر نہ ہو بلکہ ان سے حاصل ہونے والے نتاءج کو مدنظر رکھیں ۔ مثلاً اسلامی بینکاری، اسلامی ممالک کی تنظیم،آزاد ملک،آزادی اظہار،جمہوریت، شریعت بل وغیرہ کہ ان مقدس اصطلاحوں کو استعمال کر کے ہم نے ان کی آڑ میں اپنے مقاصد تو حاصل کئے آج تک کیا نتیجہ نکلا مذہب کو کتنا فائدہ ہوا اور عوام کو کیا حقوق ملے

مہنگائی کوکنٹرول کرنے کے لئے وزیراعظم کی ہدایات

وزیراعظم عمران خان نے انتخابات میں اپنے منشور میں کہاتھاکہ وہ اقتدار میں آئیں گے تو کوئی بھوکانہیں سوئے گا، اگر دیکھاجائے تو اس وقت ملک میں مہنگائی عروج پر ہے ، اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں ۔ اس وقت عوام کا بنیادی مسئلہ روٹی کا ہے،روٹی کے حصول کیلئے عوام مارے مارے پھر رہے ہیں اور نوالے کی تلاش میں ہاتھ پاءوں مار رہے ہیں ، سابقہ حکومتوں کے سیاسی مسخروں نے عوام کو مہنگائی خوف اور بھوک کے تحفے کے سوا اور کچھ نہیں دیا جب بھی انہیں ضرورت ہوتی ہے وہ عوام کے سڑکوں پر نکلنے کی بات ضرور کرتے ہیں لیکن ان کے پاس عوام کے بنیادی مسائل کا کوئی حل نہیں ہے ۔ اب موجودہ حکومت اورعمران خان کے پاس موقع ہے کہ وہ غریب عوام کےلئے کچھ نہ کچھ کرکے دکھائیں اورعمران خان اپنے وعدے کو پورا کریں ، جب ملک میں مہنگائی ہوتی ہے تو کرپشن کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں اورکچھ لوگ اس سے ناجائزفائدہ اٹھاتے ہیں اوراس کانقصان غریب عوام ہی بھگتتے ہیں اس کے علاوہ غربت سے بہت سے جرائم جنم لیتے ہیں ۔ وزیراعظم کی یہ بات درست ہے کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ کوئی شخص بھوکانہ سوئے ۔ حکومت کو غربت کے خاتمے کے لئے دوررس اقدامات کرنے چاہئیں ۔ مہنگائی کی حالیہ لہر سے عام آدمی بھی پریشان ہے ۔ ایک بات ثابت ہوگئی ہے کہ عمران خان کے اعصاب مضبوط ہیں نکلے ۔ انہوں نے شدید دباوَ کے حالات میں اپنا حوصلہ قائم رکھا ہوا ہے ۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک سے غربت اور مہنگائی اور بے روزگاری کو ختم کیا جائے عوام کو نہ جمہوریت سے دلچسپی ہے اور نہ آمریت سے بلکہ عوام کو ایک ایسے صالح نظام کی ضرورت ہے جو عوام کے مسائل حل کرسکے اور ان کے حقوق کا تحفظ کرسکے ۔ اس حوالے سے گزشتہ روزوزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اشیائے ضروریہ کی وافر فراہمی اور قیمتوں میں کمی لانے کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس میں عام ;200;دمی کے استعمال میں ;200;نے والی اشیاضروریہ مثلاً ;200;ٹا، گھی، چینی، دالیں اور چاول کی وافر فراہمی اور ان اجناس کی قیمتوں میں کمی لانے کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کی گئیں ۔ اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی فرد بھوکا نہ سوئے ۔ حکومت ریاست کا یہ فرض پورا کرنے کےلئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے ۔ ہماری ذمہ داری نہ صرف اشیاضروریہ کی وافر فراہمی کو یقینی بنانا ہے بلکہ ان کی قیمتوں پر بھی قابو پانا ہے تاکہ کم ;200;مدنی والے اور غربت کے شکار افراد اور خاندانوں کو ضرورت کی بنیادی اشیا با;200;سانی میسر ;200;ئیں ۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ یوٹیلیٹی سٹورز پر اشیا ضروریہ کی وافر فراہمی اور غریب افراد کےلئے ان اشیاکی کم قیمت پر فراہمی سے متعلق تجاویز کو فوری طور پر حتمی شکل دی جائے تاکہ ان پر عملدر;200;مد کیا جاسکے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے ۔ وزیراعظم عمران خان کا بنیادی مقصد انسانیت کا احساس اور سہولتیں دینا ہے، قانون سازی کے ذریعے غریب کی قانونی معاونت کیلئے مربوط نظام بنایا ہے ۔ بظاہر حالات یہ بتارہے ہیں کہ وقت مشکل ضرور ہے لیکن مشکل وقت کے بعد اچھا وقت بھی آتا ہے کیونکہ گزشتہ حکومتوں کی کارکردگی دیکھی جائے تومحسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے ذاتی مفاد کو زیادہ ترجیح دیاور ملکی وقومی مفاد کوپس پشت ڈال کررکھا ۔

قومی اسمبلی میں طویل عرصے بعدقانون سازی

طویل عرصہ بعدقومی اسمبلی میں قانون سازی ہوئی ہے ، گزشتہ روز اجلاس کے دوران حکومت نے اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود 9 آرڈیننس سمیت11 بلز منظورکر لئے ۔ حکومت کی جانب سے اس یکطرفہ قانون سازی میں اپوزیشن کے ارکان کو بحث کرنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا اور ان کے اعتراضات کو اسپیکر نے یکسر مسترد کردیا ۔ اجلاس کے آغاز پر حکومت کی جانب سے و قفہ سوالات معطل کرنے کی اپیل کی گئی جسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا ۔ اس موقع پر بھی ڈپٹی اسپیکر نے اپوزیشن کے احتجاج کو نظر انداز کیا اور اپنی تمام توجہ حکومتی بنچوں پر ہی رکھی ۔ وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے مختلف بل منظوری کےلئے پیش کیے جن میں سے کئی حالیہ جاری ہونے والے آرڈیننسز بھی شامل تھے ۔ قومی اسمبلی نے خواتین کے جائیداد میں حق کے حوالے سے بل 2019، انصرام تولید اور وراثت بل 2019، لیگل اینڈ جسٹس ایڈ اتھارٹی بل 2019 اور پسماندہ طبقات کےلئے قانونی معاونت و انصاف اتھارٹی بل منظور کر لیے ۔ اجلاس میں اعلیٰ عدلیہ میں ڈریس کوڈ کے نفاذ سے متعلق بل 2019، تحفظ مخبر نگراں کمیشن کے قیام کا بل، نیا پاکستان ہاءوسنگ اتھارٹی بل، مجموعہ ضابطہ دیوانی ترمیمی بل اور انسداد بے نامی ٹرانزیکشن ترمیمی بل 2019 کثرت رائے سے منظور کیا گیا ۔ اراکین نے قومی احتساب بیورو ترمیمی بل 2019 کی بھی منظوری دی جس کے تحت احتساب آرڈیننس 1999 میں ترمیم کی گئی ہے ۔ ایوان میں مجموعی طور پر 15 بل پیش کیے گئے جن میں سے 11 کی منظوری دی گئی، 9 آرڈیننسز کو بھی بل کا حصہ بنایا گیا جن میں سے 7 حالیہ جاری ہونے والے آرڈیننسز بھی شامل ہیں جبکہ 3 آرڈیننس میں 120 دن کی توسیع دی گئی جن آرڈیننس کو توسیع دی گئی ان میں فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز اتھارٹی، انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم اور تعزیرات پاکستان میں ترمیم سے متعلق آرڈیننس شامل ہیں ۔

ایس کے نیازی کی زیرک گفتگو

پاکستان گروپ آف نیوزپیپرزکے چیف ایڈیٹر اور روز نیوزکے چیئرمین ایس کے نیازی نے پاکستان کے سیاسی مستقبل کو عیاں کردیا ،ایک نجی ٹی وی پروگرام میں معروف صحافی ضیاء شاہد کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دھرنے سے دراصل ن لیگ اور پی پی کو فائدہ ہوا ہے البتہ مولانا فضل الرحمن کو اس لحاظ سے کامیابی ملی ہے کہ انہوں نے ایک کامیاب ’’پاور شو‘‘ کیا اور پارلیمنٹ میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے کم اکثریت حاصل کرنے کے باوجود کامیاب دھرنا دے کر اپوزیشن کا بھرپور کردار ادا کیا جس کا فائدہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو ہوگا جبکہ مولانا فضل الرحمن کو یہ اعزاز بھی جاتا ہے کہ انہوں نے مختلف مکتب فکر کے مذہبی لوگوں کوایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کر قومی لیڈر کی حیثیت اختیار کر لی ہے ۔ اس کے علاوہ مولانا یہ اجتماع بغیر کسی نقصان کے منعقد کرنے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان سے استعفیٰ لینے کے مطالبے کے جواب میں ایس کے نیازی نے کہا کہ یہ مطالبہ غیر ;200;ئینی ہے ۔ ایک سال سے زائد عرصہ ہونے کے باوجود حکومت معاملات کو بہتر نہیں کرسکی مہنگائی کا سلسلہ ہمارے سامنے ہے ۔ عام ;200;دمی کیلئے روزمرہ کی اشیاء خریدنا بھی مشکل ہوچکا ہے ۔ عوام کو مایوسی سے نکالنے کیلئے پی ٹی ;200;ئی کی حکومت کو عوام کے مسائل حل کرنے کے بارے میں جلد سوچنا ہوگا ۔ پی ٹی ;200;ئی کی حکومت ٹیکس کا نظام بہتر بنانے میں بھی ناکام ہوئی ہے حالانکہ میرا خیال ہے کہ وزیراعظم عمران خان قائداعظم کا ویژن رکھتے ہیں مگر ان کیساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ایک تو ان کے ساتھ دوسری سیاسی پارٹیوں سے ;200;ئے ہوئے وزراء ہیں اور ان ;200;زمودہ لوگوں سے بہتر نتاءج کی توقع رکھنا دشوار بات ہے ۔ ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے پاس عوامی مسائل کے ادراک کا کوئی ذریعہ نہیں ۔ ایس کے نیازی نے پیشنگوئی کی کہ الیکشن ڈیڑھ سے دو سال کے عرصے میں ہونگے اور الیکشن فوج کے بغیر نہیں ہوسکتے ۔ فوج کو جب بلایا جاتا ہے تب ;200;تی ہے اور برسر اقتدار حکومت فوج کو بلاتی ہے لہٰذا فوج پرالزام نہیں لگانا چاہیے ۔

مصورپاکستان،اقبال

ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے ۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے ۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا ۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے ۔ بحیثیت سیاست دان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریہ پاکستان کی تشکیل ہے، جو انہوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا ۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا ۔ اسی وجہ سے علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے ۔ علامہ محمد اقبال 9 نومبر 1877کو پیدا ہوئے ۔ ان کی تاریخ پیدائش پر حکومتی اور نجی سطح پر تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ اس دفعہ ملک بھر میں شاعر مشرق ڈاکٹرعلامہ اقبال کا 142 واں یوم پیدائش نہایت عقیدت واحترام سے منایا جائے گا ۔ علامہ اقبال کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے لاہور میں مزار اقبال پر گارڈز کی تبدیلی کی پر وقار تقریب کا انعقاد ہوگا ۔ اس مرتبہ اقبال اکادمی پاکستان نے یوم اقبال کے موقع پر گرینڈ اقبال پارک لاہور میں ایک عوامی میلے کا انتظام بھی کیا ہے ۔ یہ میلہ 9 نومبر سے 17 نومبرتک نو روز جاری رہے گا ۔ میلے کے اوقات صبح 10 بجے سے رات 10 بجے تک ہیں ۔ میلے میں صدر پاکستان، وزیر اعظم پاکستان، وفاقی و صوبائی وزراء، صوبائی گورنر، وزیر اعلیٰ اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کی آمد بھی متوقع ہے ۔ اس کے علاوہ سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹوں کے طلبہ کی ایک بڑی تعداد بھی اس میلے میں شریک ہو رہی ہے ۔ اقبال;231; اکادمی پاکستان کے ظہیر احمد میر نے اقبال;231; عوامی میلے بارے معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ اس عوامی میلے میں عظیم الشان بک فیئر کا بھی انعقاد کیا جا رہا ہے ۔ جس میں زیادہ تر اقبال;231; کی کتب رکھی جائیں گی ۔ اس کے علاوہ اقبال;231; پر لکھی گئی کتب بھی اس بک فیئر کا حصہ ہوں گی ۔ اس کا اصل مقصد نوجوان نسل کو اقبال;231; کی شخصیت، زندگی اورنظریہ پاکستان بارے سیر حاصل معلومات فر اہم کرنا ہے ۔ عظیم الشان بک فیئر میں میں کتب بینی کے فروغ کےلئے سستی اور معیاری کتب خصوصی رعایت پر فراہم کی جائیں گی ۔ اس سلسلہ میں ملک بھر سے بڑی تعداد میں پبلشرز، بک میکرز، اسٹیشنری فروش بھی میلہ میں شرکت کریں گے ۔ عوامی میلے میں بزم اقبال کی شاءع کردہ کتب بھی رکھی جائیں گی ۔ بزم اقبال;231; کی دو سو پچاس سے زائد پبلیکشنز ہیں جو فکر اقبال کے فروغ میں معاونت کررہی ہیں ۔ چونکہ میلے میں ہزاروں افراد کی شرکت متوقع ہے لہٰذا بچوں ، بڑوں ، خواتین غرض ہرطبقے کےلئے عوامی میلے میں دلچسپی کے انتظامات کیے گئے ہیں ۔ بک فیئر کے علاوہ مختلف روایتی کھانوں کے سٹالز بھی ہوں گے تاکہ آنے والے مہمان مختلف ذائقوں سے لطف اندوز ہو سکیں ۔ اس کے علاوہ خواتین کےلئے میلے میں ہینڈی کرافٹس ، بوتیک وغیرہ کے سٹالز بھی ہوں گے ۔ بچوں کےلئے جھولے، کھلونے اور دوسرے پسندیدہ مشاغل بھی ہوں گے ۔ یہ میلہ گریٹر اقبال پارک میں منعقد کیا جا رہا ہے ۔ قیام پاکستان سے قبل منٹو پارک کے نام سے مشہور 18 ایکڑ رقبے پر محیط یہ گراوَنڈ کئی تاریخ ساز لمحات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ۔ 23 مارچ 1940ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے جلسے سے اس گراوَنڈ کو نئی پہچان ملی اور اسے اقبال پارک کا نام دیا گیا ۔ 23 مارچ 1960ء کو مینار پاکستان کی تعمیر کا آغاز کیا گیا ۔ 21 اکتوبر 1968ء کو 196 فٹ بلند مینار کی تعمیر مکمل ہوئی ۔ 10 اکتوبر 2015ء کو پنجاب حکومت نے اقبال پارک کو 125 ایکڑ رقبے تک وسعت دیتے ہوئے 981 ملین کی لاگت سے پارک کی تزئین و آرائش کا آغاز کیا گیا ۔ تاریخی بادشاہی مسجد، شاہی قلعہ، علامہ اقبال اور حفیظ جالندھری کے مزارات کو بھی پارک کی حدود میں شامل کر کے اسے گریٹر اقبال پارک کا نام دیدیا گیا ۔ فکر اقبال;231; کے فروغ کےلئے ایک ادارہ بزم اقبال لاہور میں قائم ہوا ۔ جس کی ذمہ داری تھی کہ اقبال کے فرمودات و خیالات کو عام کیاجائے اور ان کی تصنیفات سے دنیا کو آگاہ کیا جائے ۔ اس مقصد کےلئے بزم اقبال کے نام سے یہ اکیڈمی ایک خود مختار ادارے کی حیثیت سے کام کر رہی ہے ۔ راقم الحروف ڈائریکٹر بزم اقبال کا کہنا ہے کہ فکر اقبال سے آگاہی موجودہ اور آئندہ معاشرے کی اہم ضرورت ہے ۔ جس کےلئے بزم اقبال اپنا فعال کردار ادا کررہا ہے ۔ اقبال کے فلسفے کو سمجھنے کیلئے اقبال کی فکر کو پھیلانے کی اشد ضرورت ہے ۔ اقبال کی شاعری قرآن کے احکامات کے عین مطابق ہے ۔ اس سلسلے میں تحقیقی کتب اور سہ ماہی مجلہ اقبال شاءع کیا جاتا ہے ۔ علامہ اقبال کی شخصےت کا کوئی پہلو اےسا نہےں ہے جس پر لکھا نہ گےا ہو ۔ اندورون ملک اور بےرون ملک علامہ اقبال پر بے تحاشا لٹرےچر موجود ہے جس میں اےسا لٹرےچر بھی ہے جسے کتابی صورت میں ڈھالاجانا ضروری ہے ۔ ہم دےکھتے ہےں کہ ملک بھر کی تمام جامعات میں علامہ اقبال پر متعدد مقالہ جات اور رےسرچ پیپرز لکھے گئے ہےں ‘ ان مقالہ جات اور رےسرچ پےپرز کو بزم اقبال کے زیر سایہ کتابی صورت میں مرتب کےا جائےگا ۔ علاوہ ازےں ماہرےن اقبالےات‘رےسرچرز اور سکالرز سے اقبال کی شاعری کے مختلف موضوعات پرپےپرز لکھوا کر انہےں بھی مرتب کےا جائےگا ۔

’’ویلڈن پاکستان‘‘

کرتا رپور راہداری کھولنے پرپوری دنیا کہہ رہی ہے ’’ویلڈن پاکستان‘‘یہ پیغام ہے محبت کا، بھائی چارے کا،امن کا،کرتارپور راہداری کاقیام اس بات کی دلیل ہے کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات دونوں طرف کے عوام کیلئے آسانیاں پیدا کرسکتے ہیں جبکہ بات بات پرمشتعل ہونا، ہر وقت ماحول کوکشیدہ بنائے رکھنا،انسانوں کے منہ کا نوالہ چھین کرسارے وسائل جنگی سازوسامان پرخرچ کرنا، انسانی بقاء کی بجائے تباہی کے انتظامات کرنا کسی صورت دونوں طرف کے عوام کیلئے بہترنہیں ہو سکتا ۔ انڈین حکمران کہتے ہیں کہ پاکستان چھوٹا سا ملک ہوکرآنکھیں دکھاتا ہے، ہمارے پاس ایٹم بم ہے، میزائل ہیں ،جنگی جہاز ہیں ، توپیں ،ٹینک اور بہت بڑی فو ج ہے پرانڈین عوام کولیٹرین کی سہولت دستیاب نہیں ،ہم کہتے ہیں ہمارے پاس اٹیم بم ہیں ، دنیاکابہترین میزائل سسٹم ہے،توپیں اورٹینک ہیں ، دنیاکے بہترین جنگی جہاز اور ماہرپائلٹ ہیں ،ہماری فوج دنیاکی بہترین افواج میں سرفہرست ہے،ہم جذبہ شہادت سے سر شار ہیں لہٰذاہم آخری گولی، آخری سانس،آخری سپاہی تک لڑیں گے ۔ انڈین حکمران کہتے ہیں ہم کشمیر میں 9 لاکھ فوج اتارسکتے ہیں ،ہم ہمسایہ ملک میں گھس کربمباری کرسکتے ہیں پرملک میں پھیلی بھوک افلاس پرتوجہ نہیں دے سکتے،بھارت کے جنگی جنون کے جواب میں ہم کہتے ہیں ،ہم اپنے سے سات گنابڑے ہمسایہ ملک کی اینٹ کا جواب پتھرسے دے سکتے ہیں پراپنے ملک کے عوام کومہنگائی کی طوفانی بمباری سے بچانے کیلئے کچھ نہیں کرسکتے، بھارتی حکمران اپنے عوام کو پاکستان کیخلاف بھڑکاکر اُن کے منہ سے نوالہ چھین کرکچھ جنگی سازوسامان پراورباقی اپنے خاندان پر خرچ کرتے ہیں ،عوام کہیں حساب نہ مانگ لیں اس لئے بھارت کسی نہ کسی محاذ پر چھیڑ چھاڑکرتارہتاہے جس کے نتیجے میں پاکستان کو اپنا دفاع مضبوط سے مضبوط اورپھرمضبوط ترین بنانے کیلئے پاکستانی عوام کوڈینگی،بے روزگاری، مہنگائی ،نا انصافی،بھوک اورافلاس کے حوالے کرنا مجبوری بن جاتاہے،دونوں طرف کے عوام کو غربت، مہنگائی، بیروزگاری، صحت، تعلیم اور انصاف کی سہولیات کی عدم دستیابی کا سامنا ہے، دونوں اطراف کے حکمران خاص طوربھارتی حکمران ہوش سے کام لیں اورجنگ وجدل کی بجائے مسائل کاپرامن حل نکالنے کیلئے مل بیٹھ کر تجاویز کا تبادلہ کریں تونہ صرف پاکستان اور بھارت کے عوام کیلئے بہترہوگابلکہ خطے کے دیگر ممالک میں بسنے والے بھی سکھ کاسانس لے سکیں گے، پاکستان نے ہرموقع پرامن کی بات کی ہے جبکہ بھارت کی طرف سے ہربارجنونی جواب آتا ہے،اب کرتا رپو ر راہداری کوہی دیکھ لیں ،ایک طرف بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت کاقانون منسوخ کرکے وادی میں بدترین کرفیو کے زورپر80لاکھ کشمیریوں کیلئے زندگی کے تمام دروازے بندکررکھے ہیں ، لائن آف کنٹرول پر کشیدہ حالات اوربھارت کی آبی جارحیت کے باوجودپاکستان کی جانب سے بھارتی سکھ برادری کے مذہبی مقامات تک بغیر ویزہ ودیگراخراجات انہیں اپنی عبادت گاہ تک آسان ترین رسائی دیناجذبہ خیرسگالی ہے،ہم سمجھ سکتے ہیں کہ باباگرونانک کے ساتھ سکھوں کا پیار ، محبت اور عقیدت کارشتہ ہے ، کشمیر میں بھارتی دہشت گردی بھارتی حکمرانوں کے بدکردارکی آئینہ دارہے اور کرتار پور میں سکھوں کوسہولیات دیناپاکستان کا خوبصورت کردارہے،یہ بات سکھ برادری ہی نہیں بلکہ پوری دنیاجانتی ہے کہ پاکستان نے دیگرضروری منصوبوں کونظراندازکرتے ہوئے کرتارپورراہداری منصوبہ تیزی کے ساتھ مکمل کیاہے ،کرتارپوراہداری کھول کرسکھ برادری کواُن کے مقدس مقامات کی زیارت کیلئے بہترین انتظامات کرنے پرحکومت پاکستان مبارکباد کی مستحق ہے، پاکستان کی جانب سے گرونانک کی پانچ سو پچاسویں سالگرہ کے موقع پر پاکستان آنے والے سکھ یاتریوں کےلئے تین خصوصی رعایتوں کا اعلان کیا گیاہے جس کے مطابق سکھ یاتریوں کو ایک سال تک پاسپورٹ لانے کی ضرورت نہیں ہوگی،کرتارپور راہداری سے آنے والے سکھ یاتریوں کو دس دن قبل پاکستان کی حکومت کو اپنی معلومات نہیں دینی ہونگی،یاتریوں کو صرف دو دن کےلئے،یعنی نو اور بارہ نومبر 2019ء کو ، فی یاتری، فی دورہ، بیس امریکی ڈالر کاسروس چارج نہیں دینا پڑے گا،بھارتی حکمران پاکستان کے جذبہ خیرسگالی کے جواب میں بھارت میں مسلمانوں کے مقدس مقامات جن میں اولیاء اللہ کے مزارات کی بڑی تعداد شامل ہے تک مسلمانوں کوآسان ترین رسائی دے سکتاہے ،بھارتی حکمرانوں کی تنگ دلی اور چھوٹی سوچ کے باعث یہ کام مشکل ہوگاپھر بھی کر پائیں تویہ پاک بھارت کشیدگی میں کمی اوردیرپا امن کی راہ ہموارکرنے کیلئے موثراقدام ثابت ہو سکتا ہے، پاک بھارت کشیدگی ختم ہوجائے،دیرپا امن کاقائم ہو جائے تودونوں اطراف کے عوام کی زندگی بدل سکتی ہے، غربت کی چکی میں پستے انسانوں کیلئے روٹی ،پانی کا اہتمام ممکن ہوسکتاہے،سکھ برادری خوشیاں منائے اورہماری مہمان نوازی کی یادیں اپنے ساتھ لے جائے اوردنیابھر میں کہتے پھریں ’’ویلڈن پاکستان ‘‘ ’’ویلڈن پاکستان‘‘

Google Analytics Alternative