کالم

مشہور ریڈیو ٹی وی برا ڈکاسٹر کی یا د میں

اب جبکہ رات کے 2 بجکر 20منٹ ہیں ۔ ہر طر ف خامو شی اور سکوت طا ری ہے ۔ 500 ارب روپے کے گر دشی قرضہ ختم ہو نے کے با وجود بھی ہر گھنٹے بعد ایک گھنٹہ بجلی بند ہوتی ہے ۔ سارے لوگ گہری نیند کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔ میں لکھنے کی کو شش اور جسارت کرتا ہوں مگر نہ جانے آج میرے ہاتھ کیوں کانپ رہے ہیں ، آج میرے ہاتھ میرے ساتھ کیوں نہیں دے رہے ہیں ۔ ابھی ریڈیو ٹی وی آرٹسٹ ، فارن آفس کے ڈپٹی ڈائریکٹر عبد الظہور مشوانی ، ریڈیو پاکستان کے پشتو نیو ز سُپر وائزر حاجی شبیر احمد خان کے قبر کی مٹی اور پھول سُو کھے نہیں تھے کہ ایسے میں موت کے خونخوار اور ظالم پنجوں نے ہم سے ریڈیو پاکستان کے مشہور ٹرانسلیٹر، خیبر ٹیلی وژن کے آل راءونڈ فنکار ، ادیب، شاعر اور برا ڈ کا سٹر حکیم عبد الرحمان بے تاب کو80 سال کی عمر میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدا کیا ۔ مر حوم عبدلرحمان بے تاب کو گزشتہ دو سالوں سے فا لج کا عا رضہ لا حق تھا مگر بے تاب ہار ما ننے والے نہیں تھے اور فالج کا دلیری اور بہا دری سے مقابلہ کیا اور بیماری کی حالت میں بھی خیبر ٹیلی وژن کے کچھ پروگراموں میں شر کت کی، مگر مو ت کا مزہ ہر ذی روح نے چکھنا ہے اور انسان دوسرے معاملات کی طر ح اس میں قطعی بے بس ہے ۔ حکیم عبد الرحمان 80 سال کے قریب تھے مگر 80 سال کے لگتے نہیں تھے ۔ حکیم عبد الرحمان بے تاب سے میری ملا قات غالباً 27 سال پہلے 1987 میں ریڈیو پاکستان اسلام آباد اس وقت ہوئی جس وقت میں ریڈیو پاکستان کے پشتو سیکشن میں بطور پشتو نیو ز ریڈر اور ٹرانسلیٹر کے جوائن کر رہا تھا ۔ مُجھے حکیم عبد الرحمان بے تاب صا حب سے پہلی ملاقات میں ایسا لگا جیسے بے تاب صا حب اور میری کئی سالوں سے شناسائی ہے ۔ اس میں میرا کوئی کمال نہیں تھا ۔ اس میں کمال صرف بے تاب صا حب کا تھا کہ وہ اپنے اچھے اخلاق اور انسان دوستی کی وجہ سے منٹوں میں کسی کودوست بنا لیتے ۔ میرے خیال میں بے تاب صا حب کسی سے زندگی میں سخت بات نہیں کی ہو گی ہمیشہ اُسکے چہرے پر مُسکراہٹ عیاں ہوتی ۔ اُنکی خصو صیت یہ تھی کہ وہ نہ تو کسی کے معامالات میں دخل دیتے اور نہ کسی کی طر ف سے اپنے ذاتی معاملات میں مدا خلت بر داشت کرتے ۔ بڑھے سے بڑھے مُشکل کا شکار ہو تے مگر کسی کو بتاتے نہیں ہوتے، بے تاب ہمیشہ جیو اور جینے دو کی پالیسی پر عمل پیرا تھے اور یہی وجہ ہے کہ زندگی میں کسی کے ساتھ اُسکی اونچ نیچ نہیں ہوئی ۔ پشتو نیو ز سُپروائزر شبیر احمد خان سے ملاقات اور جوائننگ دینے کے بعد حکیم عبد الرحمان بے تاب مُجھے ریڈیو پاکستان کی کینٹین پر لے گئے اور وہاں حالات حاضرہ کے علاوہ دوسرے امور پر خوب گپ شپ ہوئی ۔ 1987۱ میں ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن کے علاوہ ابلا غ کے دوسرے ادارے نہیں تھے اور یہی وجہ ہے کہ یہ دونوں ادارے پاکستان کے کروڑوں لوگوں کے دھڑ کن ہوا کر تے تھے ۔ اُ سوقت میرے لئے اعزاز کی بات تھی کہ ریڈیو پاکستان کے پلیٹ فارم سے لوگوں کی سماعتوں تک میری آواز پہنچے ۔ اُس وقت کے پشتو نیو ز بُلیٹن اور نیو ز ریڈرز کے ناموں کا بھی لوگوں کو پتہ ہو تا تھا مگر اب تو کسی کو نہ نیو ز ٹائمنگ پتہ ہے اور نہ کوئی کسی نیوزریڈر کو جانتا ہے ۔ اگلے دن جب میں نے ریڈیو سے با قاعدہ پہلا بُلیٹن پڑھا توعبد الرحمان بے تاب صا حب اور عبد القیوم صا حب سینئر نیو ز ٹرانسلیٹر نے میری فا رمنس کو بے حد سراہا ۔ عبد الرحمان بے تاب کی وضع قطع بر صغیر کے نامور مصلح اور علی گڑ ھ کے روح رواں اور بانی سر سید احمدخان اور پاکستان کے مشہور مذہبی سکالر ڈا کٹر اسرار احمد سے مشابہ تھی ۔ چھ فٹ ، لمبے قد کا ٹ کے نو شہرہ سے تعلق رکھنے والے عبد الرحمان بے تاب ریڈیو پاکستان میں ٹرانسلیٹر کے فراءض انجام دہی کے علاوہ وزارت انفار میشن اور بر اڈ کا سٹنگ میں ڈپٹی سیکریٹری کے عہدے پر بھی تعینات رہے ۔ اور غالبا ً حکیم عبد الرحمان کے کچھ سال سر وس رہتی تھی کہ اُنہوں نے پنشن لیا کیونکہ اُنکی سیماب مزاج طبیعت، حکومت کی ایک خا ص غلامانہ مزاج کی پابندیاں بر داشت نہیں کر سکتی تھیں ۔ مر حوم عبدلرحمان بے تاب نہ صرف عالم فا ضل ، اچھے شاعر ، ادیب، ٹرانسلیٹر ، بر اڈ کا سٹر اور ہر دلعزیز شخصیت تھے بلکہ انفا رمیشن گروپ کے ایک مُنجھے ہوئے ہر دل عزیز آفیسر بھی تھے ۔ علاوہ ازیں بے تاب صا حب ایک سیاسی گھرانے سے بھی تعلق ہے اور اُنکے بھائی مجاہد صا حب پچھلے دور میں نو شہرہ سے جمیعت لعلمائے اسلام کی ٹکٹ پر نو شہرہ سے ایم پی اے بھی رہے تھے ۔ بے تاب صا حب چھوٹو ں کے ساتھ چھوٹے اور بڑوں کے ساتھ بڑے ہوتے تھے ۔ اُنکی خصو صیت تھی کہ وہ ہر محفل کے جان ہو تے تھے اور ہر ایک بے تا ب صا حب کو اپنا ہم عمر اور دوست سمجھتے تھے ۔ حکیم عبد الرحمان بے تاب پشتو زبان کے علاوہ اُردو ادب اور کالم نویسی میں اہم مقام رکھتے تھے، کئی اُردو اور پشتو روزناموں کے مدیر رہے ہیں ۔ محترم بے تاب صا حب نے پشتو زبان میں علامہ اقبال پر کتاب لکھا اسکے علاوہ حکیم بے تاب صا حب ماہنامہ اولس کے ایڈیٹر رہے ہیں ۔ علاوہ ازیں محترم بے تاب صا حب نے اُردو زبان میں افکار پریشان اور پشتو زبان میں زہ پہ تا میں یم کتابیں لکھیں جنکو ادبی حلقوں میں کافی سراہا گیا ۔ بے تاب اور پشتو کے میم ر شفق صا حب دونوں پشتو زبان کی طر ح اُردو بھی ایسے صحیح طریقے سے بولتے اورلکھتے کہ گو یا بے تاب صا حب اور میم رشفق صا حب کا تعلق لکھنءو اور یا دہلی سے ہو ۔ سال 2013 پشتو ادب اور لٹریچر کےلئے انتہائی کٹھن اور مشکل سال تھا ۔ کیونکہ اس تھو ڑے عر صے میں ہم سے بڑے بڑے پشتو لکھاری اور ادیب جس میں محمد اعظم اعظم ، قمر راہی اور شاعر امن پیر گو ہر روٹھ کے چلے گئے اور بد قسمتی سے ایک ہفتہ پہلے بے تاب صا حب بھی ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کےلئے روٹھ کے ابدی نیند سو گئے ۔ لوگ آتے رہینگے اور جاتے رہیں گے مگر بے تاب صاحب کی خلاصدیوں تک پر نہیں ہو گا ۔ خداوند لا عزوجل سے ہماری دعا ہے کہ ریڈیو پاکستان کے پشتو یو نٹ کی سرپر بہرہ مندبحر اور میم ر شفق اور پشتو ادب پر ہمارے سینئرز ادیبوں اور شاعروں کا سایہ تا قیامت رہے ۔ محترم بے تاب صا حب نے خیبر ٹیلی وژن میں پو رے دس سال خدمات انجام دئے ۔ اس سے پہلے محترم بے تاب پی ٹی وی نیشنل میں بطو ر ٹرانسلیٹر کے فراءض انجام دیتے رہے ۔ اور مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ اُس وقت خادم پی ٹی وی نیشنل کا پہلا نیو ز ریڈر رہا ہے ۔ ٹی وی کے لائیو پروگرام میں اور خبروں میں مسائل ہو تے رہتے ہیں مگر بے تاب ایک سینئراور ہمدرد دوست کے طو ر پر اُن خامیوں کو کور کرتے اب جبکہ اُسکی رحلت کے سات سال گزر گئے مگر بے تاب ابھی بھی ہمارے دل میں زندہ ہے ۔ بقول جالب:

اُس نے ہر گام دیا حو صلہ تا زہ ہ میں

وہ نہ اک پل بھی رہا ہم سے گریزاں یا رو

اس نے مانی نہ کبھی تیرگی شب سے شکست

دل اندھیروں میں رہا اس کا فرو زاں یارو

اُسکو ہر حال میں جینے کی ادا آتی تھی

وہ نہ حالات سے تھا پریشاں یارو

اپنے اشعار کی شمعوں سے اُ جالا کر کے

کر گیا شب کا سفر کتنا وہ آساں یارو

روٹی اور نان کی بڑھتی قیمتیں ،پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو متحرک کیا جائے

وطن عزیز میں قوم کا سب سے بڑا مسئلہ دو وقت کی روٹی ہے اور وہی روٹی اتنی مہنگی کردی گئی ہے کہ غریب کھانے سے پہلے سوچتا ہے کہ اگر ایک روٹی بھی زیادہ کھا لی تو اس کا بوجھ شاید اس کی جیب برداشت نہ کرسکے ۔ گزشتہ دنوں سے ملک بھر میں روٹی اور نان کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہوگیا اور نان بائیوں نے اپنے اپنے ریٹ مقرر کردئیے ، صرف روٹی ہی مہنگی نہیں ہوئی اس کے ساتھ ہی چائے اور سالن کی قیمتیں بھی آسمان کو جا لگیں ۔ اسی پر شوروغوغا مچ رہا تھا کہ گزشتہ روز وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم عمران خان نے نوٹس لیتے ہوئے روٹی کی پرانی قیمت بحال کرنے کا حکم دیدیا، قوم نے یہ حکم سر آنکھو ں پر رکھ تو لیا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ نان بائی بھی بڑی تیز ترار چیز ہیں اگر روٹی پرانی قیمت پر واپس آجاتی ہے تو وہ روٹی کا وزن کم کردیں گے جیسا کہ سب کے علم میں ہے کہ روٹی پکنے کے بعد 100 سے 115 گرام تک وزن میں ہوتی ہے ، نان بائی اس کا وزن کم کردیتے ہیں اور آٹے کا پیڑا چھوٹا کردیتے ہیں ۔ اب اس کو چیک کرنے کیلئے بھی حکومت کے پاس ایک میکنزم ہے مگر اس میں انتظامیہ کو متحرک ہونا پڑے گا، ڈیوٹی مجسٹریٹس ہیں ان کی ڈیوٹی لگانی چاہیے کہ وہ گاہے بگاہے تندوروں اور ہوٹلوں پر چھاپے ماریں ، ان کی روٹی کے وزن چیک کریں اور جس کا وزن کم نکلے اس کو جرمانہ عائد کیا جائے ۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو یہ بھی چاہیے کہ وہ گندم کی قیمت پر بھی کنٹرول رکھے اور آٹا ارزاں نرخوں پر مارکیٹ میں دستیاب ہونا چاہیے اس کے ساتھ ساتھ سوئی گیس کے بلوں کی قیمتیں اور بجلی کے بلوں کو بھی کنٹرول کرنا انتہائی ضروری ہے ،چیزیں سستی ہونا تو درکنار ابھی تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں میں اضافے کیلئے سمری گئی ہوئی ہے اور کہا یہ جارہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 9روپے اضافہ ہونے جارہا ہے اگر یہ اضافہ ہوگیا تو پھر آپ سوچ لیں کہ مہنگائی کہاں پہنچے گی لہذا ڈالر کو کنٹرول کرنا بھی وقت کی انتہائی ڈیمانڈ ہے ۔ وفاقی کابینہ نے قیدیوں کی حالت زار سے متعلق خصوصی کمیٹی تشکیل دیدی ہے ،مستحق اور نادار قیدیوں کو مفت قانونی معاونت فراہم کی جائیگی ،کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے مولانا فضل الرحمن کی جانب سے اگست میں حکومت کو مستعفی ہونے کی دھمکی پر واضح کیا ہے کہ مدرسے کے بچوں کو سیاست کا ایندھن بنانے والوں کو عوام مسترد کر چکے ہیں ،مولانا فضل الرحمان کو منسٹر انکلیو میں گزارے گئے 15 سال کی بہاریں یاد آ رہی ہیں ، کرپشن میں سزا یافتہ اور منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار سیاسی قیدی نہیں قوم کے مجرم ہیں ، شہباز شریف کا رانا ثناء اللہ کےلئے فائیو اسٹار سہولتوں کا مطالبہ دیگر قیدیوں سے مذاق ہے،بلا تفریق قانون کا یکساں اطلاق عمل میں لایا جا رہا ہے، اب ادارے ظلِ سبحانی کی خواہشات کے نہیں آئین اور قانون کے تابع ہیں ، وزیراعظم عمران خان نے روٹی اور نان کی قیمتوں میں ہونے والے حالیہ اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے پرانی قیمتیں بحال کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اجلاس میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات اور علی الصبح راولپنڈی میں طیارہ حادثے کے شہداء کیلئے فاتحہ کی گئی ۔ معاون خصوصی نے کہاکہ نیشنل سیفٹی روڈ کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے،نیشنل سیفٹی کا مقصد ہائی وے پر ہونیوالے حادثات میں کمی لانا ہے ۔ کابینہ نے کراچی میں حالیہ بارشوں سے ہونیوالی تباہی پر تشویش کا اظہار کیا ہے، بارشوں سے شہریوں کے جانی اور مالی نقصان کے ازالے کے لئے فوری اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ راولپنڈی ،اسلام آباد کی سوساءٹیوں کو تمام سہولیات کی فراہمی کے بعد این او سی جاری کیا جائیگا، کرپشن میں سزا یافتہ اور منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار سیاسی قیدی نہیں قوم کے مجرم ہیں ، بلا تفریق قانون کا یکساں اطلاق عمل میں لایا جا رہا ہے، اب ادارے ظلِ سبحانی کی خواہشات کے نہیں آئین اور قانون کے تابع ہیں ۔

نیشنل ایکشن پروگرام پر تیزی عملدرآمد کی ضرورت

ملک میں دہشت گرد پھر سر اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں کوءٹہ بم دھماکہ اس کی واضح نشاندہی ہے ، یقینی طورپر اس دہشت گردی میں سرحد پار قوتیں شامل ہوں گی لیکن ہمارے قانون نافذ کرنے والوں کو الرٹ ہونا پڑے گا اور نیشنل ایکشن پلان پر تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دہشت گردی اور دہشت گردوں کی بیخ کنی کی جائے ۔ نیز ان کے سہولت کاروں کو بھی کیفرکردار تک پہنچانے کی ضرورت ہے ۔ گزشتہ روز راولپنڈی کے علاقے موہڑہ کالو کے قریب پاکستان ;200;رمی ایوی ایشن کا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں 2 پائلٹ اور عملے کے 3 ارکان سمیت 18 افراد جاں بحق اور 16 زخمی ہوگئے،پاک ;200;رمی کی نگرانی میں ریسکیو ;200;پریشن مکمل کیا،صدر مملکت عارف علوی ، وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت دیگر سیاسی رہنماوں نے طیارہ حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے غمزدہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کےلئے دعا کی ہے ۔ طیارہ حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر بہت افسوس ہے، پوری قوم صدمے میں ہے ۔ طیارے میں شہید پائلٹس اوردیگر عملے کی نماز جنازہ چکلالہ گیرژن راولپنڈی میں ادا کی گئی جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی شرکت کی ۔ اُدھرکوءٹہ کے علاقے لیاقت بازار میں میزان چوک پر سٹی تھانے کے قریب ایڈیشنل ایس ایچ او سٹی تھانہ شفاعت مرزا پولیس موبائل میں گشت کر رہے تھے کہ ان کی گاڑی کے قریب موٹرسائیکل میں نصب دھماکہ خیز مواد زوردار دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتےجے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت پانچ افراد شہید جبکہ بچوں اور خاتون سمیت 32افراد زخمی ہوگئے ، دھماکے کی شد ت سے قرےبی عمارتوں ،دکانوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ متعدد گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو بھی نقصان پہنچا ،سیکورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو سیل کر کے شواہد اکٹھے کرلئے جبکہ کوءٹہ شہر کی سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ۔

پاکستان کی سفارتی محاذ پر فتح، بھارت کو دردِ قولنج

پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر جس طرح سفارتی محاذ پر کامیابی حاصل کی ہے اس کا بھارت کو انتہائی درد قولنج ہے اور وہ آب بے ماہی کی طرح تڑپ رہا ہے اس کو برداشت نہیں ہورہا کہ پاکستان کس طرح بین الاقوامی سطح پر ایک ترقی یافتہ اور باعزت ملک کی حیثیت سے ابھرتا جارہا ہے اور خطے میں امن کا داعی بھی ہے اسی وجہ سے بھارت آئے دن خطے کا امن و امان تہہ و بالا کرنے کے درپے رہتا ہے ۔ بھارت کی جانب سے جنگ بندی معاہدے اور کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزیوں کا سلسلہ جاری ہے، بھارتی فوج شہری آبادیو ں کو نشانہ بنانے سے باز نہیں آرہی، گزشتہ روز ایل او سی سیکٹرز پر سیز فائر کی ایک بار پھر خلاف ورزی کی ہے اور اشتعال انگیزی کرتے ہوئے ایک نوجوان کو شہید اور خواتین و بچوں سمیت9افراد کو شدید زخمی کردیا ۔ بھارتی فوج نے لائن ;200;ف کنٹرول اور شہری آبادی پر جان بوجھ کر فائرنگ کی، بھارتی فوج کی جانب سے دنا، جوڑا، لیپا، شاردا، دھدنیال کی شہری آبادی پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی ۔ اس کے علاوہ بھارتی فوج نے مارٹر گولوں اور آرٹلری کا بھاری استعمال کیا، پاک فوج کی جانب سے بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا گیا ۔ بھرپور جوابی کارروائی میں بھارتی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا، اور3بھارتی فوجی ہلاک اور کئی فوجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں ۔

بھارتی حکومت کانئی مسلح تنظیم قائم کرنے کا منصوبہ

مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو دبانے میں ناکامی کے بعد بھارتی حکومت نے وادی میں کشمیری پنڈتوں پر مشتمل ایک نئی مسلح تنظیم قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جو علاقے میں ہندووَں کے 30 مقدس مقامات کی حفاظت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے مقدس مقامات کی بے حرمتی اور توڑ پھوڑ کرے گی ۔ یہ فورس پلگام، بارہ مولہ، تاوَمل، اننت ناگ، ویری ناگ کے علاوہ دیگر علاقوں میں کام کرے گی ۔ اس فورس کو مقبوضہ کشمیر میں قائم بھارتی چھاوَنیوں میں مسلح تربیت دی جائے گی ۔ مقبوضہ کشمیر میں معصوم ، نہتے اور مظلوم کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھانے کےلئے بھارتی فوج کیا کم تھی جو ایک نئی مسلح پنڈت فورس کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے ۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کچلنے کےلئے پہلے سے موجود آٹھ لاکھ فوج میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے ۔ گزشتہ سال کے وسط سے اب تک وادی میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے 70 سے زائد کشمیری شہید ہو چکے ہیں ۔ بھارتی فوج کی طرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو کوریج دینے کےلئے میڈیا پر مکمل پابندی ہے ۔ کشمیریوں کو نماز جمعہ اور دیگر نمازوں کےلئے مسجد جانے سے روکا جاتا ہے حتیٰ کہ سال میں دو عیدین بھی سنگینوں کے سائے میں پڑھی جاتی ہیں ۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی نے جو نیا رخ اختیار کیا ہے وہ پوری دنیا میں توجہ کا مستحق ہے ۔ بھارت جموں و کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے اسی لئے وہ کشمیری عوام پر اپنا جابرانہ تسلط برقرار رکھنے کےلئے ہر قسم کے غیر قانونی و غیر انسانی حربے استعمال کر رہا ہے ۔ بھارتی قیادت کا یہ طرزعمل نیا نہیں ۔ جب بھارتی لیڈر اٹوٹ انگ کا راگ الاپنا شروع کر دیتے ہیں تو پھر کشمیر سمیت تمام مسائل پر جامع مذاکرات بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں ۔ اگر جموں و کشمیر واقعی بھارت کا اٹوٹ انگ ہے تو اب تک وہاں کی عوام نے اس کو قبول کیوں نہیں کیا ۔ کشمیر جیسی صورتحال بھارت کی کسی اور صوبے میں کیوں نہیں ;238; یہ حقیقت ہے کہ جموں و کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہ تھا اور نہ بن سکتا ہے ۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے ہی مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں پیش کیا تھا اور جب اس عالمی ادارے نے کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار کشمیریوں کو دے دیا تو انہوں نے اسے تسلیم کیا لیکن کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ مستحکم کرنے کی کارروائی بھی جاری رکھی ۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں نصف صدی گذر جانے کے بعد بھی برقرار ہیں ۔ بھارت نے ابتداء میں تو ان قراردادوں پر عمل کرنے کا وعدہ کیا مگر بعد میں مکر گیا اور کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے لگا ۔ مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تین جنگیں ہو چکی ہیں ۔ آج بھی پاکستان اور بھارت اپنے وسائل کا زیادہ تر حصہ دفاع پر خرچ کر رہے ہیں ۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین نے مسئلہ کشمیر کو حکومت ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے کروڑوں عوام کی معاشی بدحالی کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صرف مسئلہ کشمیر کے حل نہ ہونے کی وجہ سے ان دونوں ممالک کوسالانہ اربوں روپے اپنے دفاعی اخراجات پر خرچ کرنے پڑ رہے ہیں ۔ بھارت کا دفاعی بجٹ 19لاکھ کروڑروپے کے قریب ہے اور تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ بھارت میں 45 فیصدبچے خوراک کی کمی کے شکار ہیں ۔ بھارت کی سول سوساءٹی ، پالیسی ساز اداروں اور دانشوروں کو حقائق سے چشم پوشی کے بجائے یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہے کہ مسئلہ کشمیر کے ہوتے ہندوستان کے عوام معاشی بدحالی کے دلدل سے نہیں نکل سکتے ۔ طاقت کے بل پر کسی قوم کے جذبات کو زیادہ دیر نہیں دبایا جا سکتا اور بھارت کو چاہئے کہ دور اندیشی اور عقل سے کام لیتے ہوئے پاکستان اور کشمیری آزادی پسند قیادت کے ساتھ بامعنی مذاکرت کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی کوششوں کا آغاز کریں ۔ گوکہ پاکستان اس وقت اپنے مسائل میں الجھا ہوا ہے مگر کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کے وعدے اوراپنی ذمہ داریوں کو پس پشت نہیں ڈال سکتا ۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کے پیچھے پاکستانی ہاتھ کا واویلا کر کے بھارت سمجھتا ہے کہ دنیا کو اس بارے یقین دلادے گا مگر دنیا کی آنکھیں کھلی ہیں اور وہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں ۔ اسی تناظر میں بھارتی فوج کے سربراہ نے سرحد پار دراندازی کو متواتر چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سرحد پار عسکریت پسندی کا ڈھانچہ بدستور منظم اور متحرک ہے اور تقریباً 42تربیتی کیمپوں میں مجاہدین کو ہتھیاروں کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے ۔ پاکستان اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں موجود تربیتی کیمپوں میں جنگجوءوں کو ہتھیار چلانے کی تربیت فراہم کی جارہی ہے اور سرحدوں پر برف پگھلنے کے ساتھ ہی تربیت ہافتہ جنگجوءوں کو بھارتی حدود بالخصوص جموں و کشمیر میں دھکیلنے کی ایک بار پھر کوششیں کی جاسکتی ہیں ۔ ہماری حکومت کئی بار بھارت کو یقین دلانے کی کوشش کرچکی ہے کہ پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کوئی مداخلت نہیں کی جا رہی اگر بھارت کو شبہ ہے تو کنٹرول لائن پر غیر جانبدار مبصرین تعینات کئے جا سکتے ہیں لیکن بھارتی حکومت یہ تجویز قبول کرنے کو تیار نہیں ۔ دنیا کا ہر باشعور فرد اس سے بخوبی اندازہ کر سکتاہے کہ بھارتی لیڈر پاکستان کے ساتھ مذاکرات کےلئے مخلص نہیں ہیں اور نہ ہی وہ کشمیر کو آزادی دینا چاہتے ہیں ۔

کرپشن اور مہنگائی پاکستان کو کھا گئی ہے

یہ صحیح ہے کہ کرپشن اور مہنگائی پاکستان کو کھا گئی ہے اور عمران خان وزیر اعظم پاکستان ابھی تک کچھ بھی نہیں کر سکے ۔ یہ بھی صحیح ہے کہ آج کل ملک میں کرپشن کے متعلق اتنی آگاہی ہو گئی ہے جیسے کرکٹ کی ۔ شاہد یہ بھی عمران خاں کے کرکٹ کے بیک گروائنڈ کی وجہ سے ہے ۔ یہ بھی صحیح ہے کہ کرپشن کو عوام میں اُجاگر کرنے کے لیے جماعت اسلامی کے سابق امیر اور سینیٹر مرحوم قاضی حسین احمد صاحب نے شروعات کی تھیں ۔ مگر یہ بھی صحیح ہے کہ عمران خان آپ نے کرپشن سے نفرت کے شعور کوعوام میں بامِ عروج تک پہنچا یا ۔ یہ ایک اچھا شکون ہیں ۔ پاکستان کے ووٹروں میں کرپشن کے متعلق زیاد ہ سے زیادہ معلومات ہونگی تو وہ اپنے نمائیندے منتخب کرنے میں آسانی محسوس کریں گے ۔ کچھ عرصہ قبل مجھے ایک دفعہ کوءٹہ بلوچستان میں پاکستان کے ایک بڑے ٹھکیدار سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ۔ یہ ٹھکیدار صاحب پاکستان بننے سے پہلے انگریزوں کی حکومت میں بھی ٹھکیداری کرتے تھے ۔ اس نے مجھے اپنی جدو جہد پر لکھی گئی کتاب پڑھنے کے لیے دی ۔ اس کتاب میں ان کی زندگی کا حالات لکھے ہوئے تھے ۔ ایک مزدور سے ترقی کرتے ہوئے ،بہت بڑے ٹھکیدار بننے کی جدو جہد لکھی ہوئی تھی ۔ وہ اس طرح کہ میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازم تھا ۔ وہ کمپنی ہاءوس ہولڈ آٹمز یعنی سلائی مشینیں ، ریفریجریٹرز، گیس کے کوگنگ رینج، گیس کے گیزر وغیرہ فروخت کرتی ہے ۔ بولان یونیورسٹی میں نصب کرنے کےلئے اس ٹھکیدار نے کمپنی سے گیس کے گیزرز خریدے تھے ۔ کمپنی کی طرف سے گیس کے گیزروں کی تنصیب کے متعلق وزٹ کے دوران میری ان سے ملاقات ہوئی ۔ ملاقات کے دوران ملکی سیاست اور دوسری باتوں کے علاوہ کرپشن پر بھی بات ہوئی ۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ آپ کچھ بتا سکیں گے کہ انگریز بھی رشوت لیتے تھے ۔ ٹھیکیدار صاحب نے جواب میں بتایا کہ ہاں لیتے تھے مگر بہت ہی کم ۔ میرے سوال کی کتنے کم ۔ تو ا نہوں نے کہا کہ اورسینئر صاحب کو ہم ایک پرسنٹ رشوت دیتے تھے تم ہ میں بل ملتا مگر وہ شرمندہ ہو کر رشوت لیتا تھا ۔ صاحبو! اب پاکستان میں شرم نام کی کوئی چیز نہیں ۔ پاکستان میں رشوت ہی رشوت ہے ۔ کرپشن ہی کرپشن ہے ۔ کسی نے کرپشن میں ایم اے اور کسی نے پی ایح ڈی کی ہوئی ہے ۔ کرپشن میں نام پیدا کرنے والے سیاستدانوں میں ایک صاحب نے گزشتہ دور میں کرپشن کے کیسز میں سالوں قید کاٹی ۔ کرپشن پکڑونے والے اداروں میں اپنے بندے نوکر کروائے ۔ انہوں نے کرپشن کا ریکارڈ ہی غائب کر دیا ۔ نیب کے سربراہ نے سپریم کورٹ کی طرف سے مانگے گئے میگا کرپشن کیسز میں یہ کہتے ہوئے ان کا کیس بند کر دیا کہ فوٹو اسٹیٹ پر مقدمے نہیں چل سکتے ۔ شہری معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ صاحب آپ ریکارڈ غائب کرنے والوں کے خلاف انکوارئی کر کے جرم ثابت ہونے پر سزا کیوں نہیں دیتے ۔ ایسے تو سفارشی ملازموں کے حوصلے بڑھتے ہیں ۔ اگر آپ انکواری کرتے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا ۔ اب جب پان والے، دہی بڑھے والوں اور پکوڑے والوں کے نام سے جعلی اکاءونٹ اور منی لانڈرنگ یعنی کرپشن میں پکڑے گئے تو شرمندگی کے اظہار کے بجائے وکڑی کا نشان بناتے ہوئے سیکورٹی وین میں بیٹھتے ہیں ۔ ایک دوسرے سیاست دان کواگر پاکستان کی سپریم کورٹ ۲۶ ۔ ۳۶ پر پورانہ اُترنے پر عمر بھر کے لیے سیاست سے نا اہل قرار دیتے ہیں توکہتے ہیں مجھے کیوں نکالا ۔ بجائے بے گناہی ثابت کرنے کے پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ اورفوج پر حملے کرتے ہیں ۔ کہتے ہیں جمہورت خطرے میں ہے ۔ ملک میں مارشل لا لکھنے والا ہے ۔ جبکہ نہ جمہوریت رکھی نہ ہی مارشل لا لگا ۔ ملک کا جمہوری نظام پہلے کی طرح چلتا رہا ۔ ہاں اللہ نے پاکستان کے غریب عوام کی سنی اور کرپٹ لوگوں کے لیے جینا دشوار کر دیا گیا ۔ شہروں شہر مظاہرے کر کے پاکستان کے دشمنوں اور غداروں کے لیے کہتے ہیں کہ وہ سچ کہتے تھے ۔ اگر مجیب کی بات مان لی جاتی تو پاکستان نہ ٹوٹتا ۔ جناب آپ ہی اپنی اداءوں پر ذرا غور کریں کہ آپ پاکستان توڑنے والوں کو آپ پاکستان کے عوام کے سینوں پر مونگ دلتے ہوئے اپنے گھر بغیر ویزے کے بلاتے ہیں ۔ اپنے دوست اور پاکستان کے دشمن اسٹیل ٹائیکون کو مری میں بغیر ویزے کے بلا کر گلبھوشن کےلئے نرم گوشے کا پیغام سنتے ہیں ۔ جب لوگ سوال کرتے ہیں کہ آپ کی آمدنی سے آپ کے رہن سہن آپ کے اخراجات سے لگا نہیں کھاتی توکہتے ہیں آپ کو کیا تکلیف ہے;238; ۔ جب منی ٹرائیل نہ دینے کی وجہ سے قید کی سزا ملتی ہے تو کہتے ہیں ہم نے ایک پائی کی بھی کرپشن نہیں کی ۔ یا اللہ ایسی حالت میں ملک کے ووٹر کہاں جائیں جن کے خزانے پر اقتدار میں رہتے ہوئے ڈاکہ ڈالنے والے ایسی دیدہ دیلری اور میڈیا کے زرو پر عوام کو مسلسل دھوکے میں رکھیں تو ووٹر کہاں جائیں ;238;عمران خان بھی کرپشن کے مسئلہ سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی کارکردگی کو چھپانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔ ملک میں مہنگائی زروں پر ہے ۔ بجلی گیس کے بلوں میں بے انتہا اضافے سے لوگوں کا جینا دو بھر ہو گیا ہے ۔ حکومت کی کارکردگی اُس بندر کی ماند لگتی ہے جو جنگل میں ایک درخت سے دوسرے درخت پر جمپ لگاتا پھرتا ہے اور حاصل ضرب کچھ نہیں نکلتا ۔ پھر بھی کہتا ہے کہ دیکھو میں کتنا مصروف ہوں ۔ عمران خان صاحب آپ جتنے بھی مصروف ہیں عوام کو نظر آرہے ہیں ۔ مگر حاصل ضرب کچھ نہیں نکل رہا ۔ آپ نے عوام کوٹیکسوں کے انبار میں تلے دبا دیا ہے ۔ بجلی گیس کے بل بڑھ گئے ہیں ۔ مہنگائی آسمانوں تک پہنچ رہی ہے ۔ اور آپ نے پاکستان کو آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا ہے ۔ آئی ایم ایف کے ملازمین سے آپ نے بجٹ بنوایا ہے ۔ اب ڈالر آپ کے کنٹرول میں نہیں رہے گا ۔ آسمان سے باتیں کرے گا ۔ آئی ایم ایف کے مطابق ہر تیں ماہ بعد بجلی گیس کے بلوں میں اضافہ ہوگا ۔ آپ بے بس ہو چکے ہیں ۔ آپ نے آئی ایم ایف سے لائے گئے ،وزیر خزانہ کے ساتھ کسی صاحب کو لگا یا تو آئی ایم ایف نے ایکشن لے کر اسے ہٹا دیا ۔ عمران خان صاحب آپ یہ بتائیں کہ پاکستان ، پاکستانی عوام کا ہے یا آئی ایم ایف کا ۔ آپ جس ملایشیا کے وزیر اعظم صاحب کی مثالیں دیتے ہیں ۔ ملائیشیا کے وزیر اعظم نے کہا تھا ۔ جس ملک کو برباد کرنا ہے اُسے آئی ایم ایف کے حوالے کر دو ۔ بھائی آئی ایم ایف بین الالقوامی سوہکاروں کا ادراہ ہے ۔ اس کا کام غریب ملکوں سے سود اور آپنا قرض وصول کرنے کا کام ہے ۔ یہ غریب قوموں کا خون چوسنے والے ادارے ہیں ۔ ان سے جتنی جلدی ہو پاکستان کی جان چھڑاءو ۔ آپ کے ارد گرد ڈکٹیٹر مشرف، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم کے کرپٹ لوگ ہیں ۔ ان کے ہوتے ہوئے مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست کا خواب پوراہوتا ہوا نظر نہیں آتا;238; آپ نے ابھی تک کسی بھی کرپٹ سے پیسا واپس لے خزانے میں داخل نہیں کروایا ۔ الٹا استاد اور ینیئر صحافی کو کرایہ نامہ پولیس اسٹیشن جمع نہ کروانے پر ہتھ کڑی لگائی جاتی ہے ۔ آپ کو چاہیے کہ لوٹا پیسا واپس لے کر غریب عوام کے خانے میں داخل کراءو، ملک سے جتنی جلدی ہو سکے مہنگائی ختم کراءو ۔ ورنہ

نام نہاد واءٹ پیپر

’فرائیڈے اسپیشل‘کے ۱۲ جولائی کے شمارے میں شاءع ہونے والے کالم نگارشاہ نواز فاروقی نے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی ناپختگی کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے، اْنہوں نے بہت خوب لکھا کہ’شریفوں ‘اور’زرداریوں ‘ کارنامہ یہ ہے کہ اْنہوں نے اپنے ووٹروں اور ہمدردوں کے لئے بدعنوانیوں کوذہنی اور نفسیاتی اعتبار سے قابل قبول بناکر اْنہیں ذہنی اور نفسیاتی سطح پر کرپٹ بنا دیا ہے’’چراغ لے کر ڈھونڈا کرئے کوئی آج کی پیپلز پارٹی میں بے داغ سیاسی قائد یا کرپشن کی آلودگی سے پاک کوئی دوسرے تیسرے درجے کا سیاسی کیڈڑ،مسلم لیگ نون کی یہاں بات نہیں ہورہی کیونکہ مسلم لیگ بحییثت کبھی ایک متحد جماعت نہیں رہی ہمیشہ اقتدار کی جماعت رہی ہے اب اسے آپ وقت کا انصاف کہیں یا وقت کے صبر کا مکافات عمل کہہ لیں تاریخ ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا، مسلم لیگ نون کیسے بنی;238;35 برس قبل سندھ کے جدی پشتی مسلم لیگی لیڈر نیک صفت نیک سیرت سیاسی شخصیت سابق وزیراعظم محمد خان جونیجو مرحوم کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی سزا میاں محمد نواز شریف اور اْن کا پورا خاندان بھگت رہا ہے اْس وقت مسلم لیگ کی قیادت پر اس تجارت پیشہ خاندان نے راتوں رات کیسے شب خون مارا تھا چونکہ یہ سیاسی عظمت وکردار سے مکمل آشنائی نہیں رکھتے تھے لہٰذا وقت ضرور لگا مگر سرعام چوری اور سینہ زوری کے الزامات ثابت ہونے پر ملکی اعلیٰ معززعدالتوں سے سزاپانے کے بعد اپنے کرتوں کے کیئے کی سزا پارہے ہیں جہاں تک بات ہے پیپلز پارٹی میں پائی جانے والی قائدانہ ناپختگی اور قائدانہ فقدان کی جو نظرآرہی ہے اْس میں کسی کا کوئی دوش نہیں ہے جیسا کہ پاکستان میں سبھی ا;63;گاہ ہیں کہ اچانک شہید بے نظیر بھٹو کی جیتی جاگتی ہنستی مسکراتی شخصیت پاکستان کے سیاسی منظر سے غائب ہوتی ہیں اور اْن کی ‘جلد بازی میں تیار کی ہوئی ایک وصیت’ سامنے آجاتی ہے اور یوں پیپلز پارٹی پر حاکم زرداری’حاکو‘کا بیٹا ‘آصف زرداری’ قبضہ کرلیتا ہے، لگتا ہے اس پورے ڈرامہ میں آصف زرداری اکیلا نہیں کچھ اور عالمی بدمعاش بھی اس گیم کا حصہ تھے انتظار کریں وقت کا مکافات عمل ایک ایک کے کیئے کے جرم کو یقینا بے نقاب ضرور کرئے گا پاکستان پیپلز پارٹی سندھ میں محدود ہوکر مقید ہوگئی بلاول کو کیا پتہ سیاست ہوتی کیاہے;238;بلاول اپنے دائیں بائیں ذرا نظریں تو دوڑائے چہارسو ایک سے ایک سواسیر کے ‘انکلز’ اْسے ہنکا رہے ہوتے ہیں سمجھ نہیں آرہا کہ بلاول زرداری الیکشن کمیشن آف پاکستان کی پیشہ ورانہ امور ومعاملات کی شفافیت کو چیلنج کرتے ہوئے جولائی دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات پر گرداْڑا رہے ہیں کوئی اْن سے یہ پوچھتا کیوں نہیں کہ جولائی دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات سے قبل سندھ میں اْن کی جماعت کی حکومت تھی دوبارہ اْن کی جماعت پیپلز پارٹی سندھ میں اکثریتی پارٹی بن کر آئی ہے جولائی دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات سے قبل پیپلز پارٹی کی پنجاب اسمبلی میں گنی چنی سیٹیں تھیں وہ کس بات پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کی کارکردگی کو باربار چیلنج کرناچاہ رہے ہیں جولائی 2018 کے عام انتخابات دولت مشترکہ کے مبصرگروپ نے پاکستان کی انتخابی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا دولت مشترکہ کے مبصرین کے وفود نے پورے پاکستانی انتخابی حلقوں کے تفصیلی دورے کیئے وہ ووٹروں سے ملے کئی پولنگ اسٹیشنوں کا اْنہوں نے انتظامی جائزہ لیا غیر جانبدار عالمی مبصرین کو جولائی2018 کے عام انتخابات میں کہیں کوئی ‘ریگنگ’ہوتی یا محسوس ہوتی ہوئی نظر نہیں آئی ان غیر جانبدار عالمی مبصرین میں سابق بھارتی چیف الیکشن کمشنر شہاب الدین یعقوبی بھی شامل تھے جنہوں نے ملکی اور غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے جولائی2018 کے عام انتخابات کے انتظامات کو کافی بہتر قرار دیا جس کوئی انگلی اْٹھائی نہیں جاسکتی ان الیکشن کی بنیاد پر بلاول زرداری صاحب آپ کی جماعت کی حکومت ہے ان انتخابات پر گرداْڑانے کے نام پر جو واءٹ پیپر آپ شاءع کرانا چاہ رہے ہیں ، اْس میں کیا ثبوت پیش کیئے جائیں گے پنجاب میں پیپلز پارٹی کے ساتھ کوئی ہیرا پھیری کی گئی اور سندھ میں الیکشن بالکل صحیح ہوئے ہاں یقینا سندھ اور ملک بھر میں پیپلز پارٹی کی مقبولیت میں کمی ہوتی جارہی ہے کیونکہ عوام اب سوشل میڈیا کے رابطوں کی بدولت باشعور ہونے لگے ہیں عوام کی اکثریت کی سوچ میں ترقی یافتہ عنصر غالب آتا جارہا ہے، کئی ملکی ریسرچ انتخابی سروے گروپس جن میں پائلڈ اور فالکن جسے اہم ادارے شامل ہیں اْنہوں نے جولائی2018 کے عام انتخابات کو قابل اعتماد ‘انتخاب’ قرار دیا ہے اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کی شبانہ روز مساعی کو شاندار الفاظ میں تعریفی اسناد سے نوازا ہے لہٰذا پیپلز پارٹی سندھ میں اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لئے عوامی خدمات کا ازسرنو جائزہ لے تنقید وتنقیص اور الزامات کی سیاست سے باہر نکل کر عوام کے روبرو اپنے والدآصف زرداری اور اپنی پھپھو فریال تالپور پر لگنے والے درجنوں الزامات کا تشفی جواب دینے پر اپنی توانائیاں صرف کرئے ایک سال گزر گیا یونہی مزید چار سال اور گزر جائیں گے اور 2023کے عام انتخابات کاسامنا سب کو پھرسب کو کرنا پڑے گا تب کیا ہوگا;238;کچھ سوچا بھی ہے یا نہیں ;238; جناب الزامات لگانا آسان ہے موثراور مصدقہ شہادتیں واءٹ پیپرز کو نمایاں اور وزنی بناتی ہیں یا ہم یہ سمجھ لیں کہ بلاول زرداری کا جولائی2018 کے عام انتخابات پر انگشت نمائی کا ‘واءٹ پیپر’واءٹ ہی رہے گا کسی پڑھنے والے کو اس میں کچھ بھی نہیں ملے گا لہذا پہلی فرصت میں بلاول زرداری نفرتوں پر ابھرتی اپنی سیاست کا اور اپنی سوچوں میں گھٹنوں پر جھکی ہوئی جمہوریت کا فی الفور علاج کروائیں ابھی یہی کچھ سمجھنا اْن کےلئے بہت ضروری ہے بلاول زرداری کو اپنے قدکاٹھ سے اونچی باتیں کرنے سے گریز کرنا چاہیئے بلاول زرداری کو کوئی بتائے کہ ہمہ وقت الزامات اور طنزیہ بیان بازی سنتے سنتے عوام تنگ آچکے ہیں اگر آج پاکستان اور پاکستان کے عوام کی دنیا میں کوئی عزت واحترام کی کوئی بات ہورہی ہے تو یہ پاکستان کے عوام کا حق ہے کیا پاکستان اور پاکستانی عوام کے نصیب میں یہی ماضی کے مسترد شدہ بدعنوان سیاسی قائد رہ گئے ہیں جن میں حکمرانی کی فرعونیت اور رعونت کے علاوہ کچھ اور تعمیری انداز کسی کونظرہی نہیں آتا خدارا،پاکستان اور پاکستانی عوام پر رحم کیا جائے ۔

الیکٹرانک میڈیا پر بے ہو دہ فل میں اوراشتہارات

میرے ایک دوست کاکہنا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا پر بھارت کی بے ہو دہ فل میں ، اشتہارات دکھاتے ہیں وہ تو ایک علیحدہ بات ہے مگر بد قسمتی سے آج کل ہماری پاکستانی الیکٹرانک میڈیا جو کچھ دکھاتے ہیں وہ تو بھارت اور غیر مذہب ریاست سے بھی زیادہ بد تر اور انتہائی شرم ناک ہے ۔ بے ہو دہ ڈرامے، فل میں ، بے شرم فیشن شو ہمارے پاکستانی الیکٹرانک میڈیا کی ایک روٹین ہے مگر آج کل زیادہ تر پاکستانی چینلز سے خاندانی منصوبہ بندی کےلئے ساتھی کا جو اشتہار دکھاتے ہیں میرے خیال کوئی بھی بہن بھائی، باپ بیٹا اور کوئی بھی سنجیدہ ، ذی شعور اور مشرقی اور اسلامی سے تھوڑے سے مانوس والدین خاندانی منصوبہ بندی کے اس اشتہار کو نہیں دیکھ سکتے ۔ اگر ہم ٹی چینلز پر اُردو اور با لخصوص پشتو اور پنجابی فلموں کی بات کریں تو اس قسم کی فل میں دکھا کر عُریانیت اور فحا شی کو مزید پروان چڑھایا جا رہا ہے ۔ اگر الیکٹرانک میڈیا والوں نے پیسے کمانے تھے تو اس کے اور بھی بُہت سارے طریقے تھے مگر کم از کم اس قسم کے اشتہار اور فلموں کو تو الیکٹرانک میڈیا پر نہ دکھائیں ، تاکہ کرنٹ افیئروالے چینلز پر فیملی ممبر آپس میں بیٹھ کر کم از کم حالات حا ضرہ کے پرو گرام تو اکٹھے دیکھ سکیں ۔ خدارا الیکٹرانک میڈیا کو تو کچھ اللہ کا خوف کرنا چاہئے اور ایسے اشتہارات ڈرامے اور پرو گرام نہیں دکھا نا چاہئے جس سے عام لوگ اور با لخصوص جوان بے راہ روی کا شکار ہو ۔ گزشتہ دن میں پنڈی سے اسلام آباد جا رہا تھا ۔ میرے ساتھ 15یا 16 سال کا ایک بچہ بیٹھا ہوا تھا ۔ بچے نے موبائل کو ہا تھ میں پکڑا ہوا تھا ۔ نیو کٹا ریاں سے ایچ نائن تک بچے نے مو بائل فون سے سر اوپر نہیں اُٹھایا اورسارے سفر میں موبائل کے ساتھ مسلسل مشغول و مصروف رہا ۔ فی زمانہ یہ مسئلہ صرف اس ایک بچے کے ساتھ نہیں بلکہ مسئلہ خواہ جوان ہے یا در میانہ عمر کا سب کے ساتھ ہے ۔ مگر بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارے ٹین ایجرز نے موبائل، انٹر نیٹ اور کیبل کو اتنا سر پہ سوار کیا ، کہ اُنکو ان چیزوں کے علاوہ اور چیزوں کی فُر صت نہیں ۔ اگر ہم اپنی معا شرتی اور سماجی نظام اقدار کو دیکھیں تو مشرقی روایات اور اخلاقی اقدار کے مطابق عام طور پر دو الفاظ استعمال ہو تے ہیں تعلیم اور تربیت ۔ آج کل کے بچے کسی نہ کسی صورت رٹھا اور نقل کر کے ٹوٹی پوٹی تعلیم تو حا صل کر لیتے ہیں مگر بد قسمتی سے تربیت کا سلسلہ ایسا کے ویسا رہ جاتا ہے جسکا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری نئی نسل انسانیت اور بشر یت سے دور ہو تی جا رہی ہے ۔ بچے کے پاس انٹر نیٹ، کیبل، موبائل اور کر کٹ سے فُرصت ہو تو وہ اچھی اور مُثبت باتیں سُننے کےلئے تیار ہو گا ۔ مگر بد قسمتی یہ ہے کہ بچوں کے پاس اس لغویات کی وجہ سے دوسری اچھی باتیں سُننے کےلئے وقت نہیں اور بد قسمتی سے نہ تو والدین اور نہ اساتذہ کرام اور بزر گوں میں وہ صلا حیت رہی کہ وہ اپنے بچوں کی مناسب طریقے سے تربیت کر لیں ، نتیجتاً ہمارے نسل کے مشاہیر اور ہیرو ہمارے صحابہ کرام ، بُزرگان دین اوراولیائے کرام کے بجائے شا ہ رُخ خان سلمان خان ، رینا رائے، مائیکل جیکسن اور ایشوریا رائے ہیں ۔ مُجھے اچھی طر ح یادر ہے کہ ماضی میں اسا تذہ کرام تعلیمی اور تربیت کے لحا ظ سے اتنے مکمل ہوتے کہ وہ اپنے شا گر دوں کی نہ اچھے طریقے سے تعلیم پایہ تکمیل تک پہنچاتے بلکہ اُنکی تربیت بھی احسن طریقے سے کر تے، مگر بدقسمتی سے آج کل کے اساتذہ کرام تو اکیڈمک اور نہ تربیت کے لحا ظ سے اتنے کمپیٹنٹ ہے کہ وہ اپنے شا گر دوں کی منا سب طریقے سے تعلیم اور تربیت کی ذمہ داری پو ری کر سکیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موبائل فون، کیبل اور انٹر نیٹ اکیسویں صدی کی سب سے اچھی اور فائدہ مند ایجادات ہیں اور اس سے اچھے طریقے سے استفادہ کیا جا سکتا ہے، مگر بدقسمتی سے ہر قسم کی ا نفار میشن تک رسائی ہر بچے اور جوان کا حق نہیں ہو تا ۔ ہا ں عمر کی اُس حدپر جہاں اُسکی ضرورت محسوس ہو تو اسکو ضروراُس انفا رمیشن اور اطلا عات تک رسائی ہونی چایئے، مگر ;80;remature یعنی وقت سے پہلے کچھ انفار میشن اور اطلاعات انتہائی خطر ناک اور مہلک ثابت ہو سکتی ہیں ۔ مُجھے ڈر ہے اگر بچے اور جوان مو بائل ، انٹر نیٹ اور کیبل میں اس طر ح دلچسپی لیتے رہیں گے تو ایک وقت ایسا آئے گا جب ہم صرف نام کے مسلمان رہیں گے ۔ نہ تو ہ میں اپنے مذہب کے بارے میں پتہ ہو گا اور نہ اپنے مشاہیر کے بارے میں ، جسکا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ اخلاقی اور اسلامی قدریں جو ہ میں دوسری قوموں سے ممتاز کر تی ہیں ہم میں ختم ہو جائیں گی اور ہمارا معا شرہ بھی اہل مغرب کی طر ح شُتر بے مہار کی صورت اختیار کر لے گا ۔ جہاں پر گھروں میں والدین کی مو جو دگی میں بچوں کے ساتھ گرل اور بوائے فرینڈز آتے ہیں اور والدین اپنے جذبات اور احساسات کو دبا کر کھونگے کی طرح یہ ڈرامے دیکھتے رہتے ہیں ۔ امریکہ کے ایک سکالر کہتے ہیں کہ امریکہ کی نوجوان نسل کو تین چیزوں نے خراب کیا موبائل فون ، میڈیا اور سگریٹ ۔ روس کے ایک مشہور سکالر نیارن جس نے روس کی ٹوٹنے کی اور اب امریکہ کے ٹوٹنے کی پیشن گوئی دی تھی کہتے ہیں کہ امریکہ کے زوال کے دو بڑے اسباب ہونگے نمبر اول امریکہ میں اخلاقی قدروں کا جنازہ اُٹھنا اور دوئم امریکہ کی معاشی بد حالی ۔ بر طا نیہ کے ایک یہودی پر و فیسر ناتھن ابراہم اپنی کتاب jewish ;83;uperemism میں کہتے ہیں یہودی فحا شی اور عریانی کی صنعت کو مسلمانوں اور دوسرے مذاہب کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر تے ہیں ۔ اور اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں بھی مغربی ممالک ٹیلی کام انڈسٹر ی اور میڈیا کے شعبوں میں سر مایہ کاری تو کرتے ہیں مگر اُن ُ شعبوں مثلاً زراعت، توانائی، سائنس اور ٹیکنالوجی کی طر ف نہیں آتے جس سے وطن عزیز میں حقیقی ترقی آسکے ۔ میں والدین سے استد عا کرتا ہوں کہ وہ اپنے بچوں کی مناسب طریقے سے نگرانی کریں اور حکومت سے بھی یہ استد عا کر تا ہوں کہ وہ وطن عزیز میڈیا چینلز ، انٹر نیٹ اور کیبل کی طر ف اتنی تو جہ نہ دیں بلکہ اُن شعبوں کی طر ف توجہ دیں جس سے واقعی حقیقی ترقی اور خو شحالی آسکتی ہو ۔ اگر دیکھا جائے تو موبائل فون کے مالی نُقصانات کے علاوہ طبی نُقطہ نظر سے بُہت زیادہ نُقصانات بھی ہیں ۔ کنگ سعو د یو نیو ر سٹی کے کالج آف فزیالوجی اور میڈیسن ریاض کے ایک تحقیقی مقالے میں لکھتے ہیں کہ جو لوگ موبائل فون استعمال کر تے ہیں ان میں 22 فیصد کو سر درد6 فیصد کو گرنے اور ڈگمگانے کی ، 5فیصد لوگوں کو تھکا وٹ اور5 فیصد لوگوں کو ٹینشن اور ڈپریشن کی بیماری ہوگی ۔ یو نیور سٹی آف واشنگٹن کے پرو فیسر ہنری لائی اور این پی سنگھ نے دس سالہ تحقیق کی اور اسی تحقیق کی رو سے پتہ چلا کہ موبائل کی تابکا ری سے ڈی این اے انتہائی خراب ہوتی ہے جو لا علاج بھی ہے ۔ بلیک ویل کے ایک اور ریسر چ میں کہتے ہیں کہ جو لوگ 30منٹ تک موبائل فون استعمال کر تے ہیں تو بر قی مقناطیسی لہریں دماغی کا ر کر دگی میں انتہائی تبدیلی لاتی ہے ۔ اگر دیکھا جائے تو مو جودہ دور میں حکمران وقت ، والدین اور اسا تذہ کرام پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں اور خا ص طو ر پر نئی نسل کو اس مہلک چیزوں سے بچائیں ۔ سورۃ التحریم میں ارشاد خداوندی ہے اے ایمان والو تم اپنے آپکو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاءو ۔ شرم اور حیا کسی بھی انسان کا زیور ہے اور جس قوم میں شرم حیا ختم ہو جاتی ہے وہ قوم تباہ اور برباد ہو جاتی ہے ۔ حضرت عثمان بن مظمون فرما تے کہ میں پہلے رسولﷺ کی شرم و حیا سے اسلام لایا تھا ۔ با قی موت بر حق ہے ہ میں فضول مشاغل کو چھوڑ کر انکی تیاری کرنی چاہئے ۔ حضور ﷺ سے کسی صحابی نے دریافت کیا کہ سب سے زیادہ عقل مند اور سب سے زیادہ مختاط کون ہے;238;فرمایا سب سے زیادہ مختاط وہ ہے جو موت کےلئے تیاری کرے کیونکہ اس کےلئے دنیا اور آخرت دونوں شراکت ہے ۔ بقول اقبال

کبھی اے نو جوان تدبر کیا تونے

وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے ایک ٹوٹا ہوا تارا

تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں

کچل ڈالاتھا جس نے پاءوں میں تاج سر دارا

عرض کیا کہوں تجھ سے کہ وہ صحرا نشین کیا تھے

جہاں گیر و جہاں دارد جہانباں و جہاں آرا

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

ثریا سے ز میں پر آسماں نے ہم کو مارا

مگر وہ علم کے موتی ، کتابیں اپنے آبا کی

جو دیکھیں انکو یو رپ میں تو دل ہوتا ہے پارا

وزیراعظم مملکت خدادادپاکستان کو ریاست مدینہ جیسا بنانے کیلئے پرعزم

وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملاقات ہوئی، ملاقات میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور ڈی جی آئی ایس پی آر بھی موجود تھے ۔ ملاقات میں ملک کی مجموعی سیکورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ وزیراعظم نے کہا ہماری جنگ حقوق اور قانون کی بالادستی کی جنگ ہے، ملک میں قانون کی حکمرانی آجائے تو تمام مسائل ختم ہو جائیں گے ۔ وزیراعظم پاکستان کی یہ بات سوفیصد درست ہے کہ یہاں پر قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ طبقاتی نظام، وڈیرا عزم، جرگہ سسٹم اور با اثر افراد کی اپنی اپنی چوہدراہٹ کا نظام ہے، قانون اگر ہے تو وہ صرف غریب اور بے سہارا افراد کیلئے جن کی کہیں کوئی شنوائی نہیں ہوتی، المیہ تو یہ ہے کہ کوئی غریب معمولی سا بھی جرم کرلے تو وہ سالہا سال اس نظام کی بھینٹ چڑھ کر جیل میں زندگی گزار دیتا ہے، ماضی میں متعدد اس قسم کی مثالیں موجود ہیں ۔ با اثر کوئی قتل کرے ، چوری کرے، ڈکیتی کرے، کرپشن کرے، ملکی خزانہ لوٹے، اربوں ، کھربوں کی منی لانڈرنگ کرے، اس کوکوئی پوچھنے یا پکڑنے والا نہیں ، پکڑا بھی جائے تو جیل میں اے سی اور تمام سہولیات میسر ہوتی ہیں ۔ گھر کا کھانا جاتا ہے، وی آئی پی ملاقاتیں ہوتی ہیں ۔ ٹی وی اخبار کی سہولیات میسر ہوتی ہیں ۔ جبکہ ایک غریب قیدی بیچارا’’چکی‘‘ میں پس رہا ہوتا ہے، اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا وہ یہی ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتا ہے، با اثر لوگوں کیلئے تو جیل بھی جنت ہے، یہی سب سے بڑا فرق ہے قانون کی حکمرانی کا جس کا وزیراعظم نے ذکر کیا ہے، اسلام میں مساوات اور قانون کا بہت زیادہ بول بالا ہے اگر قانون سب کیلئے برابر ہو جائے تو اس ملک سے جرائم ختم ہو جائیں ، یہاں پر زیادہ جرائم با اثر لوگ ہی کرتے ہیں ان میں سے دوچار لوگوں کو نشان عبرت بنا دیا جائے تو پھر کوئی بھی جرم کرنے کی جراَت نہیں کرسکے گا ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا صدر اور وزیراعظم جیسے عہدوں پر رہنے والے بڑے بڑے لوگ کرپشن پر عدالتوں میں اپنے آپ کو بے قصور ثابت نہیں کرسکے، ملک پر دس سال میں قرضہ چڑھانے والوں سے جواب طلب کریں تو وہ اسے انتقامی کارروائی قرار دیتے ہیں اس میں کونسا ایسا ظلم ہے کرپشن کی ہے تو جواب دینا چاہیے ، ہم نے پسے ہوئے طبقے کو اوپر اٹھانا ہے، سابق حکمرانوں کی عیاشیوں کی وجہ سے کمزور طبقہ پس رہا ہے، پاکستان کو مدینہ کے اصولوں کے مطابق ڈھالیں گے، وزیراعظم کی اس بات سے ہم اتفاق کرتے ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پر عملدرآمد کیا جائے، حکومت کا ایک سال مکمل ہوگیا ، اگلا سال آن پہنچا اگر ابھی تک حکومت سے کہے کہ ہم پاکستان کو مدینہ منورہ جیسی ریاست بنانا چاہتے ہیں تو اس چاہنے کے لفظ کو ہٹانا ہوگا، ملک کے طول و عرض میں اب وقت کی ضرورت ہے کہ اس حوالے سے کوئی نہ کوئی مثال قائم کریں کہ وطن عزیز کا نظام مدینہ جیسی ریاست کی جانب گامزن ہوچکا ہے، فیصلے جلد اور ٹائم فریم کے تحت کرنے ہوں گے ، مدینہ منورہ جیسی ریاست کی مثال قائم کرنا ہوگی، غریب کو اس کے حقوق دینے ہوں گے، امیر اور غریب کا فرق ختم کرنا ہوگا، مساوات قائم کرنی ہوں گی، قانون کا بول بالا کرنا ہوگا، انصاف کا علم بلند کرنا ہوگا، محمود و ایاز کو ایک ہی صف میں کھڑا کرنا ہوگا، ریاست کے طاقت سے طاقتور ترین کرپٹ شخص کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہوگا، سزاءوں پر عملدرآمد تیز کرنا ہوگا، حق دار کو اس کا حق دینا ہوگا، سرمایہ دارانہ ، جاگیردارانہ نظام کو ختم کرنا ہوگا، چوہدراہٹیں اور علاقائی با اثر شخصیات کو ناپید کرنا ہوگا، سب کو علم ہو اگر انہوں نے کوئی بھی غلط کام کیا تو انہیں قرار واقعی سزا ملے گی تب قانون کا بول بالا ہوگا، ایسے نہیں ہوسکتا کہ صدر اور وزیراعظم یا دیگر با اثر شخصیات قانون سے ماورا ہوں ۔ اپنے خزانے بھرتے رہیں ، غریب کا خون چوستے رہیں ، کرپشن اور منی لانڈرنگ کرتے رہیں ،قانون کو گھر کی لونڈی بنائے رکھیں مگر انہیں کوئی پوچھنے والا نہ ہو پھر اس طرح مدینے جیسی ریاست بن سکے گی، وقت تقاضا کررہا ہے کہ اب کپتان عملی طورپر قدم اٹھائے جس جس کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا ہے اس کا جرم ثابت ہونے پر اس سے رقم وصول کی جائے اور اگر رقم وصول نہیں ہوپاتی تو پھر سزا پر عملدرآمد کیا جائے ۔ اسلام کہیں بھی اجازت نہیں دیتا کہ مجرم اور ملزم کو پکڑ کر تاریخوں کی صورت میں اس سے آنکھ مچولی کھیلی جاتی رہے ، قوم منتظر ہے وہ عمل دیکھنا چاہتی ہے، حکومت اب نتاءج دے ، با اختیار ہے، تمام چیزیں اس کے ہاتھ میں ہیں ، کرنا چاہیے کی گردان نہیں بلکہ کہے کہ کردیا ہے ۔ پھر وزیراعظم نے یہ بھی کہاکہ دین میں کوئی زبردستی نہیں ، اسلامی تعلیمات کے مطابق اقلیتوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا اس بات سے بھی ہم اتفاق کرتے ہیں کہ دین محبت، امن و آشتی، بھائی چارے اور اخوت کا درس دیتا ہے ۔ نیز اقلیتوں کو بھی مکمل طورپر تحفظ فراہم کرتا ہے ۔ ہمارے ملک میں اقلیتیں آزادی سے اپنے عقائد کے مطابق زندگی بسر کررہی ہیں ، جبکہ پڑوسی ملک صرف بھارت کو ہی دیکھ لیا جائے تو وہاں پر اقلیتوں کا جینا حرام کررکھا ہے، دلتوں اور مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ ہے، ’’گاءو ماتا ‘‘کے نام پر اور ’’جے شیری رام‘‘ نہ کہنے پر مسلمانوں کو تشدد کرکے شہید کردیا جاتا ہے وہاں پر انسانی حقوق کی تنظی میں خاموش ہیں ، جتنا انسانیت کا قتل عام بھارت میں ہورہا ہے شاید ہی کسی ملک میں ہو ۔ فلسطین اور کشمیر کی مثالیں بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ، اب ہم اپنے ملک کی طرف آتے ہیں تو ہمارے ملک میں اقلیتیں سر اٹھا کر زندگی بسر کررہی ہیں ، دین اسلام میں انہیں مکمل تحفظ حاصل ہے ۔ ایوان صدر میں اقلیتوں کے قومی دن کے حوالے سے تقریب میں وزیراعظم نے کہا کہ مدینہ کے ریاست کے اصولوں پر عمل پیرا ہوکر ہی ہم ترقی کرسکتے ہیں ۔ قوم منتظر ہے کاش کہ وزیراعظم کے ان بیانات پر آنے والے دنوں میں عمل درآمد نظر آئے جہاں سب کو آزادی حاصل ہو، سب کو تحفظ حاصل ہو، سب کے حقوق برابر ہوں ، ظالم ظلم نہ کرسکے، مظلوم کی فریاد سنی جائے، کرپشن سے پاک معاشرہ ہو، امن و امان کا دور دورہ ہو بس یہی ہیں ریاست مدینہ کے بنیادی اصول جہاں پر سب برابر ہوں ۔

پروگرام ’’سچی بات‘‘ میں ایس کے نیازی کی پرمغز گفتگو

عرفان صدیقی کی گرفتاری پتہ نہیں کیوں ہوئی کس وجہ سے ہوئی،عرفان صدیقی کی گرفتار ی سے مجھے بہت دکھ اور وہ میرے استاد ہیں ،عرفان صدیقی سے ہمارا رشتہ نہ ختم ہونے والا ہے ،عرفان صدیقی انتہائی ایماندار آدمی ہیں ، ان خیالات کا اظہار پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے پروگرام ’’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہاکہ قائداعظم کے بعد اگر اس ملک کو کوئی لیڈر ملا ہے تو وہ عمران خان ہے ۔ یہ بات درست ہے کہ عمران خان کو اگر مرد بحران کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ انہوں نے ہمیشہ ہر مشکل کا انتہائی دلیری سے مقابلہ کیا اور وہ اپنی منزل کو حاصل کرنے کیلئے کامیاب و کامران رہے ۔ آج وہ پھر ملک کی بری معاشی صورتحال سے نمٹنے کیلئے نبردآزما ہیں ۔ امید واثق کی جارہی ہیں کہ وہ ان حالات سے بھی نمٹ لیں گے ۔ سفارتی محاذ پر بھی وزیراعظم کی کارکردگی بہترین جارہی ہے ۔ حالیہ امریکہ کا دورہ اس کی واضح مثال ہے جس میں حکومت وہاں سے ایڈ نہیں ٹریڈ لے کر آئی اور برابری کی سطح پر بات چیت کی، پھر مسئلہ کشمیر پر ٹرمپ کی جانب سے ثالثی کی پیشکش حکومت پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے ۔ اس کامیابی کے بعد بھارت میں صف ماتم بچھ گیا ہے، رہی سہی کسر اس وقت پوری ہوگئی جب ٹرمپ کے ترجمان نے واضح طورپر کہہ دیا کہ مودی نے خود کہا تھا کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرانے میں ممدو معاون ثابت ہوں ۔ اس دن سے لیکر آج تک لوک سبھا، راجیہ سبھا میں ہنگامہ آرائی جاری ہے اور بھارتی بنیا قوم مودی سے وضاحت طلب کررہی ہے اور مودی منہ چھپاتا پھر رہا ہے ۔

مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم نہیں کیا جا سکتا

مودی حکومت کی شروع دن سے یہ کوشش رہی ہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے بھارت میں مدغم کیا جائے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی جب سے اقتدار میں آئی ہے، مقبوضہ کشمیر میں خصوصی آئینی حقوق واپس لینے کے لئے مسلسل کوشش کررہی ہے جبکہ بھارتی آئین کا آرٹیکل 35 ;39;اے;39; مقبوضہ جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ ریاست کے مستقل شہریوں اور ان کے خصوصی حقوق کا تعین کرے ۔ ابھی گزشتہ برس ہی مقبوضہ کشمیر ہائیکورٹ نے نریندر مودی سرکار کے ارمانوں پر اوس ڈالتے ہوئے واضح کردیا تھا کہ ریاست جموں و کشمیر کو بھارتی آئین میں خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کو منسوخ یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس میں کوئی ترمیم کی جا سکتی ہے ۔ عدالت نے آرٹیکل 370 سے متعلق ایک درخواست کی سماعت کے دوران قرار دیا کہ آرٹیکل 370 بھارت اور ریاست جموں کشمیر کے درمیان تعلق کا نظریاتی فریم ورک ہے ۔ عدالت کے مطابق دیگر راجواڑوں کی طرح جموں و کشمیر بھارت میں ضم نہیں ہوا اسے محدود خودمختاری حاصل ہے جبکہ بھارتی آئین کا آرٹیکل 35 اے 1954 کے بعد جموں و کشمیر میں ریاستی اسمبلی اور حکومت کے وضع کردہ قوانین کو تحفظ فراہم کرتا ہے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی کے بنائے گئے قوانین کو بھارتی پارلیمنٹ بھی تبدیل نہیں کر سکتی ۔ آرٹیکل 370 کے تحت حاصل محدود خودمختاری کے تحت مقبوضہ کشمیر میں کسی غیرکشمیری حتیٰ کہ کسی فوجی افسر کو لاکر آباد کیا جا سکتا ہے نہ اسے جائیداد خریدنے کی اجازت ہوتی ہے ۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت کے بعض رہنماؤں نے الیکشن سے پہلے اور نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد مقبوضہ کشمیر کو خصوصی آئینی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کا واضح عندیہ دیا تھا جس کا مقصد مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں مستقلاً ضم کرنے کی راہ ہموار کرنا تھا تاہم مقبوضہ کشمیر ہائیکورٹ نے مودی اور ان کے حامی بی جے رہنماؤں کے ارمانوں پر اوس ڈال دی ہے ۔ مسئلہ کشمیر کے بارے میں سلامتی کونسل کی قرار داد مجریہ 21 اپریل 1948ء ، اقوام متحدہ کشمیر کمیشن برائے ہندو پاکستان مجربہ 13 اگست 1948ء اور جنوری 1949ء کے تحت مذکورہ کونسل کی نگرانی میں کی گئی رائے شماری کے نتاءج کے مطابق پاکستان یا ہندوستان میں ریاست جموں اور کشمیر کے الحاق کی حمایت کرتے ہیں ۔ ہندوستان نے کونسل کی قرار دادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس ریاست پر فوجی قبضہ کر کے اسے بھارت میں ضم کر لیا لیکن افسوس کی بات ہے کہ سلامتی کونسل نے بھارت کے اس ناجائز اقدام کے خلاف اقوام متحدہ کے منشور کے باب 7 کی شقوں 39 تا 1947 کے تحت کوئی اقدام نہیں کیا بلکہ اسی عالمی تنظیم نے 1999 ء میں انڈونیشیا کی مشرقی تیمور سے علیحدگی کی مزاحمت پر اس ریاست کے خلاف کونسل کے ارکان کو ہر کارروائی کی ہدایت کر دی تھی جبکہ سلامتی کونسل کی چشم پوشی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت نے مقبوضہ ریاست پر فوجی قبضہ مستحکم کر لیا اور اس پر 6 لاکھ فوج ، نیم فوجی دستے اور پولیس کو مسلط کر دیا ۔ چنانچہ بھارت کے اس ناجائز اور غیر قانونی اقدام کے خلاف مقامی آبادی اٹھ کھڑی ہوئی لیکن جب بھارت نے ان کے پر امن احتجاج کو کچلنے کےلئے فوجی ہتھکنڈے استعمال کئے تو مظلوم عوام قابض بھارتی فوج کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو گئے ۔ بین الاقوامی قانون مقبوضہ آبادی کو اپنا وطن آزاد کرانے کےلئے مسلح جدوجہد کا حق دیتا ہے لیکن بھارت حریت پسندوں کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف انسداد دہشت گردی جیسے کالے قانون کی آڑ میں کشمیری عوام کی نسل کشی کرنا ہے اور پاکستان کی حکومت اور فوج کو اس کا ذمہ دار قرار دیتا ہے ۔ بھارت اور بعض بڑی طاقتوں نے یہ موَقف اختیار کیا کہ حکومت پاکستان نے بھارت سے 2 جولائی 1972ء کو معاہدہ شملہ میں کشمیر سمیت تمام تنازعات کو دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے طے کرنے پر اتفاق کیا ہے لہٰذا یہ مسئلہ سلامتی کونسل میں نہیں اٹھایا جا سکتا ۔ یہ بڑی طاقتوں کی انتہائی بددیانتی اور پاکستان کے حکمرانوں کی کمزوری اور نا اہلی ہے کہ وہ ایسے غیر قانونی موَقف کو مانتے ہیں جس سے بھارت کشمیر پر اپنے ناجائز قبضہ کو طول دیتا جا رہا ہے ۔ اول تو معاہدہ شملہ میں ایسی کوئی شق نہیں ہے کہ فریقین کسی تنازع کو سلامتی کونسل میں نہیں اٹھا سکتے ، دوم یہ کہ اگر بالفرض ایسی کوئی شق ہوتی بھی تو وہ کالعدم ہو جاتی کیونکہ اقوام متحدہ کے منشور کی شق 103 کی روسے اگر کوئی معاہدہ اقوام متحدہ کے منشور سے متصادم ہو تو وہ نافذ العمل نہیں ہو سکتا ۔ کشمیر کی صورت حال کے پیش نظر مقبوضہ علاقے پر قابض بھارتی فوج پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حریت پسند قیدیوں کو جنگی قیدیوں کی حیثیت دے ان کے ساتھ جنیوا کنونشن ;737373; کے تحت سلوک کرے نہ کہ اپنے انسداد دہشت گردی کے کالے قانون ;6570838065; کے مطابق ان پر ذہنی اور جسمانی تشدد کرے یا ان کا ماورائے عدالت قتل کرے بھارت کو 80 ہزار کشمیریوں کے قتل پر بین الاقوامی تعزیراتی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے ۔

Google Analytics Alternative