کالم

مودی نے دہشت گردی کرانے کا ثبوت دیدیا

 بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے یومِ آزادی کے موقع پر پاکستان پر بالواسطہ تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں دہشت گردوں کے گن گائے جاتے ہیں۔وہاں کی حکومت (پاکستانی حکومت) دہشت گردی کے نظریہ سے متاثر ہے۔ نریندر مودی نے سفید جھوٹ سے کام لیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اور پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر (آزاد کشمیر) اور گلگت کے عوام نے اپنے لئے آواز اٹھانے پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ چند روز قبل نریندر مودی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان بلوچستان اور آزاد کشمیر میں ہونے والے مبینہ زیادتیوں کا جواب دے۔ نریندر مودی کی ڈیڑھ گھنٹے سے زائد کی تقریر میں کہیں بھی بھارتی مقبوضہ کشمیر میں جاری حکومت مخالف احتجاجی لہر کا براہِ راست ذکر نہیں تھا تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’آج کہیں جنگلوں میں ماو واد کے نام پر، سرحد پر انتہا پسندی کے نام پر، پہاڑوں میں دہشت گردی کے نام پر کندھوں پر بندوقیں لیکر بے قصور لوگوں کو مارنے کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ انہوں نے شدت پسندی میں ملوث نوجوانوں کو مخاطب کر کے کہا کہ وہ شدت پسندی کا راستہ ترک کر کے قومی دھارے میں شامل ہو جائیں۔ میں ان نوجوانوں سے کہنا چاہتا ہوں یہ ملک تشدد کو کبھی برداشت نہیں کریگا، یہ ملک دہشت گردی کو کبھی برداشت نہیں کرے گا، یہ ملک دہشت گردوں کے سامنے کبھی نہیں جھکے گا۔ میں ان نوجوانوں کو کہتا ہوں ابھی وقت ہے لوٹ آئیے۔مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ مودی کے خطاب نے ثبوت دیدیا کہ بھارت ”را“ کے ذریعہ بلوچستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے۔ را کیلئے کام کرنے والے بھارتی جاسوس کمانڈر کل بھوشن نے بھی اپنے بیان میں اس حقیقت کا اعتراف کیا ہوا ہے۔ بھارت دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے لیکن ایک بڑا ملک خود بخود عظیم ملک نہیں بن جاتا۔ خصوصاً وہ ملک جب حق خودارادیت مانگنے والے نہتے شہریوں کو اپنی سکیورٹی فورسز کے ظلم و ستم کا نشانہ بناتا ہے اور چھرے مار کر وہ کم از کم ایک سو نوجوانوں کو بینائی سے محروم کر چکا ہے۔ بھارت کو ادراک کرنا ہو گا کہ جموں و کشمیر جیسا بنیادی تنازعہ گولیوں سے بلکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سنجیدہ سفارتکاری کے ذریعہ ہی حل ہو گا۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بیان پر وزیراعلیٰ بلوچستان ثناءاللہ زہری نے کہا کہ بلوچستان ہمارا ہے اسے چلانے کیلئے بھارت کے مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔ کچھ لوگ چند ٹکوں کی خاطر معصوم لوگوں کا خون بہا رہے ہیں۔ ہم بلوچستان کے وارث ہیں۔ ہمیں کوئی ڈکٹیٹ نہیں کرا سکتا ہم آخر تک لڑیں گے اور دہشت گردوں کو ختم کرکے دم لیں گے۔ بھارت ہمیں کوئی مشورہ نہیں دے سکتا۔ گلگت بلتستان پر بھارتی وزیراعظم کا بیان بوکھلاہٹ کی عملی تصویر ہے۔ مودی کے نظریات رکھنے والوں کو گلگت بلتستان کے عوام نے 1947ءمیں بزور طاقت بھگا دیا تھا ۔ گلگت بلتستان کا ایک ایک بچہ پاکستان کے نظریاتی سرحدوں کا محافظ ہے۔ پاکستان سے نظریاتی وابستگی کسی جغرافیے کی محتاج نہیں۔بھارتی وزیراعظم کی تقریر سے جہاں پاکستان کی سالمیت کیخلاف انکے عزائم اجاگر ہوئے ہیں‘ وہیں اقوام عالم کو بھی مکمل آگاہی ہو گئی ہے کہ پاکستان کے ساتھ اپنی دشمنی کی انتہاءتک جاتے ہوئے مودی ہی کے ہاتھوں علاقائی اور عالمی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے جس ڈھٹائی کے ساتھ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ہے اس کا بھارتی سیاست دان‘ دانشور‘ عدلیہ کے ارکان اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے نمائندگان بھی نوٹس لینے پر مجبور ہوگئے ہیں جبکہ وفاقی مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کے علاوہ بلوچستان اور گلگت بلتستان کے وزراءاعلیٰ اور آزاد کشمیر کے وزیراعظم نے بھی مودی کی سازشی سوچ پر مبنی درفنطنیوں پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ بلوچستان کی عوام نے کبھی بھی ہندوستان سے رابطہ اور نہ ہی کریں گے۔
٭٭٭٭٭
 بلوچستان کی عوام نے ہمیشہ پاکستان کی سلامتی کیلئے اپنی جانیں نچھاور کی ہیں۔ نریندرمودی کا بلوچستان کے بارے میں بیان مضحکہ خیز ہے۔ ہندوستان کشمیر میں اپنی شکست کی ناکامی کو چھپانے کیلئے بلوچستان اور گلگت بلتستان کا سہارا لیکر ہندوستان کی عوام کو بے وقوف بنارہے ہیں ۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان اور گلگت سے متعلق مودی کا بیان اشتعال انگیز ہے۔ بلوچستان جمہوری پاکستان کا حصہ ہے۔ کشمیرمیں مظالم ڈھانیوالے مودی کوپاکستان کے اندرونی معاملات پربات کا اختیار نہیں۔وہ پہلے کشمیر میں بھارتی مظالم اور بربریت کا جواب دیں۔
 بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کرنے پر نوابزدہ براہمداغ بگٹی کے خلاف سٹی پولیس سٹیشن کوئٹہ میں غداری کا مقدمہ درج کرنے کیلئے درخواست جمع کرا دی گئی۔ درخواست میں براہمداغ بگٹی کو بھارتی ایجنٹ قرار دیتے ہوئے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم کے بیان اور اس کی حمایت کا مقصد بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں کو تقویت دیناہے۔ براہمداغ بگٹی نے بھارتی ایجنٹ کا کردار ادا کیا ہے۔ بلوچستان میں جاری تخریبی کارروائیوں میں بھارتی حکومت ملوث ہے، جبکہ براہمداغ بگٹی سہولت کا ر کا کردار ادا کررہے ہیں انہیں پاکستان لاکر ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔
 مودی کے یہ سارے عزائم اس خطہ میں ہندو جنونیت کو فروغ دے کر جنگ و جدل کا اہتمام کرنیوالے ہیں اور وہ ان عزائم کو عملی جامہ پہنانے کی جلدی میں بھی نظر آتے ہیں جس کا اندازہ انکے ایماء پر مقبوضہ کشمیر میں کشمیری حریت پسندوں کی تیسری نسل کی حق خودارادیت کیلئے بلند ہونیوالی آواز کو دبانے کیلئے بھارتی افواج کی جانب سے ان پر مظالم کے اختیار کئے گئے نئے ہتھکنڈوں سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے نہتے کشمیری نوجوانوں کو بے دریغ فائرنگ اور تشدد کے دوسرے ہتھکنڈوں سے شہید کرنے اور مستقل اپاہج بنانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ چنانچہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور عالمی قیادتوں نے بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے کر بھارت پر یہ مظالم بند کرنے اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کرنے کیلئے دباﺅ ڈالنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔یہ سارے بھارتی اقدامات پاکستان پر نئی جنگ مسلط کرنے کے عزائم کا عندیہ دے رہے ہیں جبکہ پاکستان بھارتی پیدا کردہ کشیدگی کی اس فضا میں بھی اسکے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر اور دوسرے تنازعات کا حل چاہتا ہے جس کیلئے سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری نے اپنے بھارتی ہم منصب کو مراسلہ بھجوا کر باضابطہ مذاکرات کی دعوت بھی دے دی ہے جس میں باور کرایا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت پر تنازعہ کشمیر کو یواین قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ذمہ داری ہے جو ہمیں ادا کرنی چاہیے۔

کشمیر اور مُسلم اُمہ

کشمیر پہا ڑو ں ، بر فو ں ،در ختو ں، خو بصو ر ت واد یو ں ۔ ابشا رو ں اور ٹھنڈ ے پا نی کے چشمو ں کی سر زمین ہے ۔ خو بصو رت منا ظر ۔ ٹھنڈ ی وادیا ں اور سر سبز پہا ڑو ں کا یہ خطہ زمین جنت کا ٹکڑا ہے ۔ کو ہ ہمالیہ سے جڑا یہ خطہ امن ، سکو ن کا مرکز تھا ! اس میں بسنے والو ں میں ہند و ۔ سکھ، عیسا ئی ۔ بد ھ مت والو ں کے علا وہ بھا ری اکثر یت مسلما نو ں کی ہے ۔ یہ راجا ﺅں کی سر زمین بھی کہلا سکتی ہے۔ کیو نکہ بٹ ،ڈار،عبا سی ، کیلا نی، لو ن، میر ، ستی برادری کے علا وہ راجہ برادری بھی بڑ ی تعداد میںکشمیر میں آ با د ہے ۔ مگر اس وادی جنت نظیر کو ڈو گرا راجہ نے ہند و ستان کے سا تھ الحا ق کر کے کشمیر کی زمین اور عوام کو خون واگ کے حوالے کر گیا ! خیر کشمیر کا الحا ق ہند و ستا ن سے ہو تا یا چین سے ! افغا نستا ن سے ہو تا یا پا کستان سے ! کشمیر ی عوام کا حق تھا مگر کشمیر کے حاکم نے عوامی خواہشا ت اور زمینی حقا ئق کے بر عکس ہند و ستا ن سے نا طہ جو ڑ کر کشمیر ی عوام کی زند گی کو روگ لگا گیا! کشمیری عوام انگر یز سے آ زادی حا صل کر نے کے بعد ہند وستا ن کی فو ج کی غلامی میں آ گئی ہے ۔ ہند و ستا نی فو ج کے کئی لا کھ سپاہی کشمیر یو ں کو غلام بنائے ہو ئے ہیں۔ آ ئے روز کشمیر یو ں کا خو ن بہا یا جا تا رہا ہے ۔ہند و ستا نی حکو مت کشمیر پر قبضہ رکھنے کی خا طر لا ٹھی گو لی اسطر ح استعما ل کر رہی ہے گو یا کشمیر ی انسا ن نہیں بلکہ جا نو ر ہیں ۔ جن کو شکا ر کر کے ہی ار ض کشمیر پر زبر دستی قبضہ جما یا جاسکتا ہے ۔ کشمیر یو ں نے ہند و ستا نی فو ج اور حکومت کے ظا لما نہ روئیہ کے خلا ف تحر یک آ زادی شر وع کر رکھی ہے اور آ زادی کےلئے لڑ نے والو ں کو عمو ما ًبا غی قرا ر دیا جا تا ہے ۔ او آ ج کشمیر کے حر یت پسند و ں کو حکومت ہند و ستا ن باغی قرار دیکر دن رات گو لیو ں سے بھو ننے میں مصر وف ہے ۔ ہز ارو ں کشمیر ی ہند و ستا نی حکومت کی افواج کے ہا تھو ں قتل اور لا کھو ں زخمی ہو چکے ہیں۔ جیلوںمیں جا نے والو ں کا شمار کر نا مشکل ہے ۔ کشمیر کی آ زادی کی تحریک چلتے چلتے بر سو ں بیت گئے۔ کشمیر یو ں نے جا ن ،ما ل، عز ت کی قر با نیا ں دیکر یہ ثا بت کیا ہے کہ کشمیر ی ہند و ستا ن کے سا تھ نہیں رہنا چا ہتے ! کشمیر ی ہند و ستا ن سے آ زاد ی مانگتے ہیں اسی کشمیرکے مسئلہ پر پا کستا ن اور ہند وستا ن کے درمیان کئی جنگیں ہو چکی ہیں یہ مسئلہ با ت چیت کے ذریعے حل نہ ہوا تو مجبو راً کشمیر ی اپنی تحر یک کو گو ر یلہ جنگ میں بد ل دیں گے ۔ تب کشمیر کا مسئلہ امن کے ہا تھو ں سے نکل جا ئے گا ۔ کشمیر ی چو نکہ مسلمان ہیں اور پا کستا ن کے سا تھ جڑ ے ہو ئے ہیں کشمیر یو ں کی آ زاد ی کی حمایت مسلم دنیا سے ہو نی چا ہیے مسلمان عر ب و افر یقی ۔ فا رسی ہو ں کہ افغا ن ان سب کا فر یضہ بنتا ہے کہ وہ اہل کشمیر پر ہونے والے مظا لم کے خلا ف ہند و ستا ن حکو مت پر اپنا سفا رتی ، اخلا قی ، تجا رتی ، دبا ﺅ ڈا لیں اور کشمیر یو ں کی ہر ممکن مالی ،فوجی ،سفا رتی امداد کر یں حتی کہ کشمیر یو ںکی جد و جہد آزادی میںہر ممکن امد اد کریں ۔ گو ریلہ جنگ ہوکہ عا لمی سطح کی سفا رتی جنگ ، ہر محاذ پر دنیا ئے اسلام کوکشمیر یو ں کی تحر یک آزادی کی بھر پو ر آ مداد کرنی چا ہیے چو نکہ ہند و ستا نی حکومت غیر مسلم حکومت ہے جو مسلمانو ں سے ذہنی دشمنی رکھتی ہے ۔اسلئے مسلم امہ کو ہند وستا ن کی ہر پلیٹ فا رم پر مخا لفت کر تے ہو ئے تحر یک آزادی کشمیر کی کامیا بی کےلئے اپنی طا قت کا استعما ل کر نا چا ہیے ۔ ہند وستا ن پا کستا ن ایک خطے کے دو نام ہیں۔ ایک خطہ پر مسلما نوںکی حکومت ہے ۔ جسے پا کستان کہتے ہیں۔ دوسر ے خطے پر ہند وﺅ ں کی حکومت ہے ۔ جسے ہند وستان کہتے ہیں۔ انگر یز سے آ زادی کے وقت تقسیم کے دوران ہند وستان سے ہجر ت کر نے والے مسلما نوںپر جو ظلم ہند و ﺅ ں نے کیا وہ تا ریخ کاحصہ بن چکاہے ۔ ذہنی ، مذ ہبی، اخلا قی ، تا ریخی، معا شر تی ، زبا نی اعتبا ر سے مسلما ن ،ہند وﺅں سے الگ قوم ہیں ۔قا ئد اعظم ؒ نے انہی بنیا دو ں کے سب مسلمانو ں کو ہند وﺅ ں سے الگ رہنے کےلئے وطن کامطا لبہ کیا تھا ! ہند ﺅ مسلما نو ں کے دشمن ہیں۔ ہند و مسلم اتحا د پیا ر ناممکن ہے۔مسلما نو ںاور ہندوﺅ ں کے زندگی گزارنے کے طر یقے ایک دوسر ے کے مخالف ہیں۔ اسلئے کشمیری ہند وستا ن کے سا تھ رہ کر گھٹن ، کر ب ، مشکل اور تکلیف محسو س کرتے ہیں۔ کشمیر یو ں کی تحر یک آزادی کے حق میں اقوام متحدہ واضح قرار دادیں منظو ر کر چکی ہے ۔ عشر ے گز رنے کے با وجو د اقوام متحدہ کی قرار دادو ں پر عمل درآمد نہ ہو رہا ہے اقوام متحدہ بھی ایک نا کام ادارہ ہے ۔
٭٭٭٭٭٭
دو سری طر ف پا کستا ن اور مسلما نو ں کی نا لا ئقی اور عد م تو جہی نے کشمیر یو ںکے غم بڑ ھا نے میں اہم کر دار ادا کیا ہے ۔ ہند وستا ن کشمیر یو ں پر روزانہ گولیا ں بر سا رہا ہے ! اور مسلم دنیا نہ صر ف خا مو ش تما شا ئی بنی ہو ئی ہے ۔ بلکہ مسلم امہ کی سردار حکومت سعو دیہ عر یبہ ہند وستا نی وزیر اعظم کو کشمیریو ں پرمظالم کے بدلے اعلیٰ لیو ل اعزاز سے نواز رہی ہے ۔ گویا کشمیر ی مسلمانو ںکی تحریک آزادی کی مذمت کی جا رہی ہے ۔ جس طر ح مسئلہ فلسطین پر مسلمانو ں کامو قف ایک تھا اور مسلم امہ ایک تھی اسی طر ح کشمیر کے مسئلہ کو بھی حکومت پاکستان ،مسلم ممالک میں، مسلم اقوام متحدہ میں پیش کر ے اور مسلم اقوام متحدہ سے مطالبے کرے کہ وہ کشمیر کی تحریک آزادی کےلئے مسلم امہ ہما ری ہرمحاذ پر امداد کر ے ! یعنی پا کستا ن خود بھی ہند وستان سے تمام تعلقات ، کارو با ر ختم کرکے ہند وستا ن پر دبا ﺅ ڈالے اورمسلم امہ کو ہند وستا ن سے تما م تعلقا ت ختم کرکے اسے تحریک آزادی کی مکمل حمایت پر راضی کرے۔
(باقی:سامنے والے صفحہ پر)
 پا کستانی حکام نے عوام کوہمیشہ بیو قو ف بنا ئے رکھا ہے اور بانکی مون کا یہ بیا ن کہ ہم دونوں مما لک میںثالثی کر انے کےلئے تیا ر ہیں ۔ دو نو ں مما لک مذاکرات سے مسئلہ کشمیر حل کر یں۔ ہماری حکومت اور ہما رے شفراءبانکی مو ن کے اس بیان کواپنی سفا رتی کا میابی قرار دیکر عوام کو پھر سے بیو قوف بنا رہے ہیں ۔ کشمیر کی آزادی مسلم اقوام متحدہ کے اتحا د اور سفا رتی ، اخلا قی اور فوجی دباﺅ سے ممکن ہے ، پھر کشمیر کی آزادی جنگ سے ممکن ہے پا کستا نی حکمران ہند وستا ن کی چیچہ گیری کر کے عوام کو مزید بیو قوف نہیں بناسکتے !ہند وستا ن کوکشمیر میں پر یشان ، بدنام کر کے تو مذاکرا ت کی میز پر تو لا یا جاسکتا ہے مذاکرات کی پیشکش حکومت ہند وستا ن کر ے ناکہ پا کستان مذاکرات کےلئے جھولی پھیلا تا پھر ے !مذاکرات کی بار بار جھولی پھےلا کر پاکستانی حکمرانوں نے کشمےر پر اقوام متحدہ مےں جےتی جنگ ہاری ہے۔جو حکمرانو ں کی بے مثا ل نا لا ئقی ہے !

نیشنل ایکشن پلان پرعملدرآمد یقینی بنانے کی ضرورت

وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان ون آن ون ملاقات بڑی اہمیت کی حامل قرار پائی یہ ملاقات وزیراعظم کی زیر صدرت اجلاس کے بعد ہوئی جس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ملکی سالمیت کے خلاف کوئی سازش برداشت نہیں کی جائے گی اور نہ کسی قوت کوملک کو غیر مستحکم کرنے کی اجازت دی جائے گی ۔ ملاقات میں کراچی آپریشن کے مثبت اثرات اور ملکی سلامتی سمیت دیگر اہم امور پر غور کیا گیا اور اس بات پر سیاسی و عسکری قیادت نے اتفاق کیا کہ کراچی آپریشن کے مثبت اثرات ضائع نہیں ہونے دئیے جائیں گے ۔ پاکستان مخالف بیان کی مذمت بھی کی گئی ۔ یہ بے کم و کاست ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ ملکی بقاءکیلئے ضروری ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جب تک نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کو یقینی نہیں بنایا جاتا اس وقت تک دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے نہیں اکھاڑا جاسکتا ۔ کاش حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرتی تو آج صورتحال مختلف ہوتی اب بھی کچھ نہیں گیا۔ حکومت نیشنل ایکشن پلان پر کماحقہ عملدرآمد کرے تو یہ بات بڑے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ جہاں تک عسکری قیادت کا تعلق ہے وہ بے باک انداز میں آپریشن ضرب عضب جاری رکھے ہوئے ہے اور یہ پاک فوج کا طرہ امتیاز ہے کہ ملک سے دہشت گردی کا ناسور آہستہ آہستہ ختم ہوتا جارہا ہے اور امن بحال ہوتادکھائی دینے لگا ہے ۔ دہشت گردی میں بھارت کا ہاتھ ہے اور الطاف حسین سے جو زہر اگلوایا گیا ہے اس میں بھی بھارت کا عمل دخل ہے اور مسئلہ کشمیرسے توجہ ہٹانے کی یہ کوشش ہے لیکن دنیا جا نتی ہے کہ بھارت کے مذموم عزائم کیا ہیں ایک طرف وہ دہشتگردانہ کارروائیاں کروا کر پاکستان میں عدم استحکام پیدا کررہا ہے تو دوسری طرف کشمیریوں پر ظلم ڈھارہا ہے سرحدی قوانین کی خلاف ورزی بھی اس نے اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے ۔ اب ایم کیو ایم کے قائد کو اپنے مذموم ارادوں کی تکمیل کیلئے استعمال کررہا ہے لیکن اس طرح کی کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہوسکتی کیونکہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت ایک پیج پر ہے ۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے الطاف حسین کے خلاف شواہد برطانیہ کو دے دئیے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا ہے کہ حکومت برطانیہ جلد پیشرفت کرے گی۔ چوہدری نثار نے بجا فرمایا کہ کسی کے ایک فون پر کراچی کو یرغمال نہیں بنانے دیا جائے گا ۔ کراچی والوں نے 25 سال کا بوجھ اتار پھینکا ہے ۔ آپریشن ادھورا نہیں چھوڑیں گے متحدہ پر پابندی قانون کے مطابق ہوگی ۔ حکومت کو اب کسی سیاسی مصلحت اندیشی سے کام لیے بغیر ملک و قوم کے دشمنوں کے خلاف فوری کارروائی کرنی چاہیے اور ملکی وقار سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے ۔نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کوتیز کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے مطلوبہ مقاصد اور اہدف بھی حاصل کرنے کی ضرورت ہے ۔ نیشنل ایکشن پلان ہی دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا ذریعہ قرار پاسکتا ہے۔دہشت گردی کی اجازت دنیا کا کوئی مذہب نہیں دیتا پاکستان اس وقت دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے جس میں اس کو کافی نقصان بھی اٹھانا پڑ رہا ہے لیکن اس کی سیاسی و عسکری قیادت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے جو اس امر کا عکاس ہے کہ دہشت گردوں کی اب یہاںکوئی جگہ نہیں ۔ دہشت گردی کا خاتمہ ہی ملک کی ترقی و خوشحالی کا باعث قرار پائے گا۔نیشنل ایکشن پلان پر تیزی سے عمل کرکے اس کے اہداف پورے کرنے کی ضرورت ہے۔
عدالت عظمیٰ کے ریمارکس حکومت کیلئے لمحہ فکریہ
 سپریم کورٹ کے جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم حکومت سے لڑائی نہیں چاہتے لیکن بنیادی حقوق کے معاملے پر آنکھیں بھی بند نہیں کریں گے یہاں کسی کو خوف خدا نہیں سبزیوں میں بھی زہر پایا جارہا ہے لوگ پیسے بنانے کیلئے حرام بیچنے سے بھی نہیں ہچکچاتے لاہور سے باہر بھی پنجاب ہے کاغذی کارروائی نہیں مفصل اور ٹھوس رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے ۔ دوران سماعت جسٹس میاں ثاقب نثار اور جسٹس منظور احمد ملک کے ریمارکس بڑی اہمیت کے حامل ہیں حکومت ان پر سنجیدگی سے غور کرے عدلیہ اپنا فرض بطریق احسن نبھا رہی ہے لیکن حکومت کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے ۔سپریم کورٹ نے بجا فرمایا ہر دوسرے گھر میں کینسر کا مریض ہے اور علاج معالجہ کی سہولیات کا فقدان ہے ۔ حکومت زبانی کلامی تو بڑے بڑے دعوے کررہی ہے لیکن معاملہ اس کے برعکس ہے ۔ پنجاب میں لوگ بیروزگاری اور مہنگائی کا رونا رو رہے ہیں ۔ صحت و صفائی کا فقدان ہے ۔ ہسپتال ہیں لیکن ادویات کافقدان ہے عوام بنیادی سہولیات زندگی سے محروم ہیں ان کا معیار زندگی تواتر سے گرتا جارہا ہے اس کی ذمہ دار حکومت ہے کیونکہ ریاست کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ عوام کو مسائل سے نکالنے کی تدبیر کرتی ہے ان کا معیار زندگی بلند کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بناتی ہے ملک سے بدامنی بیروزگاری اور مہنگائی کا خاتمہ کرتی ہے اب تو ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی نے عوام کو مزید مسائل میں الجھا دیا ہے۔ہر سو عوام کارونا دھونا سنائی دیتا ہے ۔ سپریم کورٹ نے بجا فرمایا کہ بنیادی انسانی حقوق پر آنکھیں بند نہیں کی جاسکتیں۔ حکومت عدلیہ کے فیصلوں کی پاسداری کرے اور اپنے انتظامی امور کو بطریق احسن نبھانے کی کوشش کرے۔
 حکومت سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلے
 تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن ن لیگ کا ہے ۔ پانچ ماہ سے تماشا لگا ہے ۔ نواز شریف پانامہ لیکس پر جواب نہیں دے رہے ۔ سربراہ چور ہوتو ملک ترقی نہیں کرسکتا ۔ فیصلہ کن وقت آگیا ہے پاکستان کس طرف جائے گا۔ عمران خان نے کہا ہے کہ عوام الطاف حسین کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں ۔ مشرف اور زرداری حکومتوں نے الطاف کے معاملے میں مصلحت سے کام لیا ۔ عمران خان جوکچھ کہہ رہے ہیں۔ حکومت کا کام ہے ان کو سنے اور اپنی کمزوریوں کو دور کرے حکومت کا فرض قرار پاتا ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں کواپنے ساتھ لے کر چلے اور ان کے تحفظات کو دور کرے لیکن حکومت ایسا کرنے سے گریزاں ہے جس سے اپوزیشن اس کے خلاف صف بندی کررہی ہے جس سے سیاسی عدم استحکام کا امکان بڑھنے لگا ہے حکومت کو چاہیے کہ وہ پانامہ لیکس پر سیاسی جماعتوں کے تحفظات دورکرے اور خود کو احتساب کیلئے پیش کرے تاکہ ملک کو سیاسی عدم استحکام سے بچایا جاسکے ۔ سیاسی لڑائی سے ملک ترقی نہیں کرسکتا اور نہ ہی خوشحالی آسکتی ہے۔

الطاف گردی ۔۔۔برطانیہ سے دوٹوک بات کی جائے

ذرا تصور کیجیے الطاف کی جگہ کوئی پاکستانی ہوتا ۔وہ پاکستان میں بیٹھ کر برطانیہ کے اپنے وابستگان سے خطاب کرتا۔ وہاں وہ برطانیہ مردہ باد کے نعرے لگواتا۔ اس کے بعد وہ کارکنان کو حکم دیتا کہ بی بی سی پر چڑھ دوڑو۔۔۔کیا اس کے بعد برطانوی حکومت خاموش رہتی۔کیا وہ ایک طوفان نہ اٹھا دیتی۔کیا پاکستان کا دنیا بھر میں ناطقہ نہ بند کر دیا جاتا کہ اس دہشت گرد کو برطانیہ کے حوالے کرو۔
لیکن پاکستان کو گولی دینے والا شخص برطانیہ میں بیٹھا موج میلا کر رہا ہے۔جب چاہتا ہے پاکستان کے معاشی مرکز کراچی کو بند کرا دیتا ہے۔قتل و غارت کا ایک طوفان ہے جو اس سے منسوب کیا جاتا ہے لیکن برطانیہ اسے کچھ کہنے کو تیار نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کھیل کیاکھیلاجا رہا ہے۔
سی پیک اس وقت بد خواہوں کے سینوں پر مونگ دل رہا ہے۔حکمت اور قدرے ایثار سے کام لیا گیا تو وطن عزیز کی معاشی اور تزویراتی دنیا ہی میں معنوی تبدیلیاں یقینی نہیں بلکہ بلوچستان میں امکانات کا جہان نو آباد ہو سکتا ہے جو محرومیوں کے آتش فشاں کو بڑی حد تک ٹھنڈا کر سکتا ہے۔تمام جمع تفریق کے بعد ، آخری تجزیے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سی پیک کے بعد کا پاکستان پہلے کے پاکستان سے مختلف ہو گا۔جس ملک کو معاشی امداد اور قرض دینے کا آغاز ہی اس اعلانیہ پالیسی کے تحت ہوا ہو کہ پاکستان سے تعلقات میں ہمارا اصل مقصد یہ ہے کہ اس کی حکومتوں اور عوام کا رخ امریکہ اور دیگر مغربی جمہوریتوں کی طرف رہے اور ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان جغرافیائی طور پر آزاد ہو مگر دفاع اور معیشت میں ہمارا محتاج ہو،وہ پاکستان آج چین کے ساتھ مل کر دفاع اور معیشت میں امکانات کی ایک نئی دنیا آباد کرنے جا رہا ہو تو کیا ہمارے مہربان ممالک یہ کام اتنی آسانی سے ہونے دیں گے۔ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ پہلی بار جب میر لائق علی قرض اور امداد کی درخواست لے کر امریکہ گئے تو یہ درخواست نچلی سطح پر رد کر دی گئی۔بعد میں امریکی پالیسی میں تبدیلی آتی ہے اور اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ مک گھی نے شعبہ امداد کے کو آرڈی نیٹر کو تنبیہہ کرتے ہوئے لکھا کہ جنوبی ایشیاءمیں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ اس درخواست پر ہمدردانہ غور کیا جائے۔اس خط میں اہداف واضح طور پر بیان کر دیے گئے ۔( سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اندرونی خط نمبر .845.51.1.274اٹھارہ اکتوبر انیس سو سینتالیس )۔یوں اس درخواست کو شرف قبولیت حاصل ہوا جو اس سے قبل نچلی سطح پر رد کی جا چکی تھی۔اب پاکستان کی حکومت اور عوام کا رخ امریکہ اور مغربی جمہوریتوں کی بجائے چین کی طرف ہو رہا ہے اور پاکستان خود کفالت کے خواب کی تعبیر کی طرف دھیرے دھیرے قدم اٹھا رہا ہے تو یہ کام ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کیا جائے گا۔پاکستان کو ہر اس جگہ سے زک پہنچائی جا سکتی ہے جہاں سے وار کرنا ان کے لیے ممکن ہو۔کراچی ایسا ہی ایک مقام ہے جو چن لیا گیا ہے۔کیا آپ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ الطاف حسین پر اتنے خوفناک الزامات کے باوجود اور ان کے ثبوت فراہم کیے جانے کے باوجود برطانیہ الطاف حسین کی سرپرستی محض انسان دوستی کے تحت کر رہا ہے؟ جس ملک کے نظام قانون کی دنیا مثال دیتی ہو وہ ملک منی لانڈرنگ کے ایک کیس اور ایک قتل کی تحقیقات کو منطقی انجام تک نہ پہنچا پا رہا ہو تو کیا یہ محض ایک اتفاق ہے؟ کیا یہ بات تسلیم کی جا سکتی ہے کہ یہ صرف ایک کم بخت کلرک کی غلطی تھی جو الطاف حسین کو برطانیہ کی شہریت دینے کا باعث بنی اور اس غلطی کی کوئی شان نزول نہیں تھی ؟ اب جب کہ خود برطانوی اخبارگارجین نے یہ ساری کہانی کھول کر بیان کر دی ہے کہ مریکہ نے کراچی میں انٹلی جنس کا کام صرف برطانیہ پر چھوڑ رکھا ہے اور یہاں اس کا اپنا نظام موجود نہیں ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کی کیا وجہ ہے؟ کراچی میں برطانیہ کی طاقت کون ہے اور برطانیہ پر امریکہ کا یہ اعتماد کس لیے ہے؟ برطانیہ تو امریکہ کے لیے کام کر ہی رہا ہے ۔کراچی میں برطانیہ کےلیے کون کام کر رہا ہے؟ ڈاٹس کو ملاتے جائیے سارا منظر نامہ آشکار ہو جائے گا۔برطانیہ ہمارے ہاں وہی واردات کروا رہا ہے جسے مہاتیر محمد ”رول بائی پراکسی “کہتے ہیں۔برطانیہ ہو یا امریکہ، امر واقع یہ ہے کہ حقوق انسانی کے حوالے سے جتنی گھناﺅنی تاریخ ان کی ہے شاید ہی کسی کی ہو۔ان کا خونی ماضی تو تاویلات میں دبا ہوا ہے ابھی افغانستان سے انہوں نے بچوں کو ذبح کر کے ان کی ہڈیوں کی ٹرافیاں بنائیں۔( بحوالہ، دی گارجین، نو دسمبر دو ہزار دس )۔بہت مضبوط تاثرہے کہ برطانیہ ہمارے ہاں ظلم و وحشت کے اس کھیل کی سرپرستی فرما رہا ہے۔الطاف حسین کو برطانیہ کا ” گڈ طالبان “ کہا جا سکتا ہے۔اب حیرت یہ ہے کہ وہ دانشور جو این جی اوز بنا کر اس ملک کو مغرب کی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور روز پاکستان پر ایک فرد جرم عائد کرتے ہیں اس معاملے میں گونگے شیطان بنے بیٹھے ہیں۔برطانیہ کی مذمت تو درکنار، اس سے یہ مطالبہ بھی نہیں کرپا رہے کہ وہ اپنے شہری کو قابو میں رکھے۔ہاں اگر فورسز نے کہیں کارروائی کر دی تو حقوق انسانی کے نام پر ان خواتین و حضرات کا رونا دھونا دیکھنے کے قابل ہو گا۔۔۔۔۔غالباانہیں اسی کا انتظار ہے اورشاید الطاف حسین کو بھی اسی کی تمنا ہے۔
اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ برطانیہ سے دوٹوک انداز میں بات کی جائے۔قوموں کی مجبوریاں بھی ہوتی ہیں اور ممالک کمزور بھی ہوتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ دوسروں کو قتل کا لائسنس ہی جاری کر دیں۔الطاف گردی کو اب ختم ہو جانا چاہیے اور پاکستان کو برطانیہ سے دوٹوک انداز میں بات کرنی چاہیے۔

الطاف کی ایک اور تقریر،حکومت کہاں ہے….؟

 متحدہ قومی موومنٹ کے سابق قائد الطاف حسین نے ایک بار پھر امریکہ میں تقریر کر کے پاکستان کیخلاف باتیں کی ہیں اور وہاں پر کارکنوں کو تحریک جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے بھوک ہڑتالی کیمپ میں پاکستان مخالف نعرے لگانے پر مانگی جانے والی معافی پر بھی مختلف تاویلیں دیں اور کہا کہ میں نے اس لیے معافی مانگی تاکہ میرے کارکنوں کو کچھ نہ ہو۔ایک طرف تو الطاف حسین پاکستانی قوم سے بار بار معافی مانگ رہے ہیں اور یہ معافی متحدہ کی ویب سائیٹ پر جاری بھی کی جاتی ہے اور دوسری طرف امریکہ میں کارکنوں کو بتایا جاتا ہے کہ میں نے معافی مجبوری میں مانگی ہے۔ایک طرف تو الطاف حسین کہتے ہیں کہ میری ذہنی حالت ٹھیک نہیں اب میں اپنی مکمل توجہ اپنی صحت پر مرکوز رکھوں گااس لئے اپنے مکمل پارٹی اختیارات رابطہ کمیٹی کے سپرد کرتا ہوں۔ارے یہ کونسی دماغی حالت ہے جو خراب ہو تو صرف پاکستان اور اسکے اداروں کیخلاف زہر اگلنے پر مجبور کرتی ہے جبکہ امریکہ ،اسرائیل اور بھارت کو گالی پر مجبور نہیں کرتی۔الطاف حسین اور ایم کیوایم کے رہنماﺅں نے اس ملک اور اس ملک کے عوام کو صحیح معنوں میں بے وقوف بنایا ہوا ہے۔کیا کبھی امریکی شہری امریکہ میں رہتے ہوئے امریکہ مردہ باد کا نعرہ لگا سکتا ہے ےا بیرون ملک بیٹھ کر اپنے کارکنوں کو یہ نعرہ سنا سکتا ہے اور کارکن بھی اس نعرے پر اعتراض کے بجائے لبیک کہ رہے ہوں،میرا خیال ہے کہ ایسا امریکہ کیا برطانیہ یا کسی اور ملک میں کسی صورت نہیں ہو سکتا،یہ صرف پاکستان کی دھرتی اور اسکی حکومت ہی ہے جو اتنی چھوٹ دیتی ہے کہ پاکستان آﺅ بھی نہ اور باہر بیٹھ کر پاکستان کے مستقبل کے فیصلے کرو۔واہ رے اس ملک کی قسمت۔ایک طرف تو دوہری شہریت کے حامل شخص کی آئینی درخواست اس لئے خارج کر دی جاتی ہے کہ دوہری شہریت رکھنے کے باعث وہ اس درخواست کے اہل نہیں اور دوسری طرف 23سالوں سے باہربیٹھے شخص کو اتنی کھلی چھوٹ دے دی جاتی ہے کہ وہ سالہا سال سے پاکستان کیخلاف زہر اگل رہا ہے جو اس کیفیت کو ذہنی خرابی کا نام دیکر فوری معافی بھی مانگ لیتا ہے۔جب لوہا گرم ہو اور یہ ملک دشمن عناصر سمجھ لیں کہ اب قوم معافی قبول نہیں کریگی تو جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے کا ڈرامہ شروع ہو جاتا ہے۔بس بہت ہو چکا۔بہت بے وقوف بنا لیا گیا اس ملک اور اس ملک کے سادہ لو ح عوام کو۔مگر عوام کیا کر سکتی ہے۔زیادہ سے زیادہ پرامن احتجاجی مظاہرہ ہی کیا جا سکتا ہے۔اس سے زیادہ یہ قوم کیا کر سکتی ہے؟ہاں اگر کوئی کر سکتا ہے تو وہ برسر اقتدار لوگ ہیں جو اس کے ذمہ داروں کا محاسبہ کر سکتے ہیں مگر یہی تو وہ برسر اقتدار طبقہ ہے جس کی غفلت کے باعث صورتحال یہا ں تک پہنچ گئی ہے۔قومی اداروں کو بھی چاہئے کہ دو اور دو چار کی پالیسی اپنائی جائے۔جزا اور سزا کا نظام سیدھا سادہ ہونا چاہئے۔حکومت اور ملکی اداروں کو کوئی تو ریڈ لائن کھینچنی پڑے گی جس کو کوئی بھی کراس کرے چاہے وہ پارلیمنٹ کے اندر ہو ےا پارلیمنٹ کے باہر،حکومت میں ہو ےا حکومت سے باہر،پکڑمیں آنا چاہئے۔ایسا نظام تو نہیں چل سکتا کہ ایک شخص انٹرنیٹ کے ذریعے محض ایک پوسٹ سوشل میڈیا پر پوسٹ کرے اور حکومت اس کو دھر لے اور مقدمات کے ذریعے اسے جیل میں ڈال دیا جائے جبکہ دوسری طرف پارلیمنٹ اند ر اور باہر ملک اور ملکی اداروں کیخلاف زہر اگلا جائے بلکہ پھر اس زہر فشانی پر ڈھیٹوں کی طرح قائم بھی رہے اور اسے کسی کٹہرے میں نہ کھڑا کیا جائے۔اگر ایسا نظام چلا تو یہ اپنے پاﺅں پر کلہاڑی چلانے کے مترادف ہو گا۔میں اس بات سے بالکل متفق ہوں کہ اس ملک کے انتظامی معاملات جمہوری طریقے سے چلائے جانے چاہئیں لیکن احتساب کے عمل کو بھی اتنا ہی سخت ہونا چاہئے۔جب تک بلاتفریق احتساب کا عمل شروع نہیں ہو گا تب تک یہ ملک ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنے مقصد کو پا سکتا ہے۔گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری غیر منصفانہ نظام تبدیل کئے بغیر اس ملک کے عوام کے دلوں کو نہیں جیتا جا سکتا۔قانون کی گرفت میں لانے کیلئے امیر اور غریب کے فرق کو ختم کرنا ہو گا،کمزور اور طاقور کی تفریق کو بھی دفن کرنا ہو گا کیونکہ صرف اور صرف اسی صورت قانون کی حکمرانی قائم ہو گی۔ہمیں حکمرانوں کے ہاتھوںقانون کے غلط استعمال کو بھی روکنا ہو گا۔جہاں جہاں خرابی موجود ہے اس کو دور کرنا ہو گا۔اب دیکھیں کہ آج حکومت یہ فیصلہ کر رہی ہے کہ الطاف حسین کیخلاف ریفرنس تیار کر کے برطانیہ بھیجا جائے گا لیکن یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر اس حوالے سے نظریہ ضرورت آج تک کون استعمال کر رہا تھا،کیا وہ آج کی صورتحال کا برابر کا شریک نہیں؟آخر سہولت کار کون ہوتے ہیں اور کن کو کہا جاتا ہے؟چلیں جی آپ کسی کو کٹہرے میں نہ لائیں اور اس حوالے سے عام معافی کا اعلان کر دیں لیکن خدا کیلئے آئندہ کیلئے تو قانون سازی کر دیں تاکہ کوئی اور مائی کا لال اس ملک کا شہری ہوتے ہوئے اس ملک کیخلاف نعرے لگانے کی جرات نہ کر سکے اگر ایسا نہ ہوا تو تمام میٹنگز دھری کی دھری رہ جائیں گی اور ہم علاج پر ہی اربوں ڈالر خرچ کرتے رہیں گے اور اس ملک کی معیشت کمزور ہوتی رہے گی۔علاج سے بہتر احتیاط کے قانون کو اپنانا ہو گاورنہ پہلے لاوا پکے گا اور پھر ابلے گا۔کب تک لاوے کا راستہ روکا جاتا رہے گا۔ملک کیخلاف چلنے والی فیکٹریوں کو بند کرنا ہو گا۔

پاکستان عالمی عدالت انصاف میں

بھارت کی ایک اور آبی جارحیت سامنے آئی ہے جس سے حکومت ابھی تک بے خبر ہے۔ بھارت نے دریائے چناب پر ایک اور پن بجلی منصوبے کی تعمیر شروع کر دی ہے۔ دستاویزات کے مطابق منصوبے سے دریائے چناب کے بہاو ¿ میں 14 فیصد کمی کا خدشہ ہے۔ ”ریٹل“ نامی پن بجلی کا منصوبہ دریائے چناب پر ضلع کشتواڑ میں تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کا حجم نیلم جہلم ہائیڈرو منصوبے جتنا ہے جو 6 سال میں مکمل کیا جائے گا۔ 30 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کیلئے پانی کی بہت زیادہ مقدار درکار ہے۔بھارت 2022 تک مقبوضہ کشمیر میں دریاﺅں سے 23ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ ابھی تک بھارت نے 330میگاواٹ کا دلہستی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، 450میگاواٹ کا بگلیہار پراجیکٹ مکمل کرلیا ہے اور کشن گنگا تکمیل کے مراحل میں ہے جبکہ ریٹل پراجیکٹ بھی شروع ہو گیا ہے۔ بھارت نے دریائے نیلم جو پاکستان میں دریائے جہلم سے ملتاہے پر بھی یوری I ،یوریII ہائیڈرو پراجیکٹس مکمل کرلیا ہے۔ اس نے مقبوضہ علاقے میں نیمو بازگو اور چٹک ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کو بھی مکمل کرلیے ہیں۔ پاکستان نے کشن گنگا اور ریٹل کے علاوہ بھارت میں دریائے چناب میں بنائے جانے والے دوسرے تین پراجیکٹس پر بھی اپنی تشویش ظاہر کی ہے جن میں پاک دل 1000میگاواٹ، میار 120میگاواٹ اور لوئر کالنائی 48میگاواٹ شامل ہے۔ 330 میگاواٹ کا کشن گنگا ڈیم تعمیر کے آخری مراحل میں ہے۔ یہ ڈیم دریائے کشن گنگا کے پانی کو دریائے جہلم کے پاور پلانٹ کی طرف موڑنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ کثیر المقاصد ڈیم مقبوضہ کشمیر میں نندی پور سے 5کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔850 میگاواٹ کا ریٹل پراجیکٹ دریائے چناب پر واقع ہے اس کی تکمیل میں تقریبا ایک سال لگے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر بھارت چناب پر اس کے موجودہ قابل اعتراض ڈیزائن کے مطابق ریٹل ہائیڈرو پراجیکٹ بنا لیتا ہے تو مرالہ ہیڈ پر دریائے چناب کے پانی کے بہاﺅ میں 40فیصد تک کمی آ جائے گی جو پاکستان میں پنجاب اور سندھ کے صوبوں میں ایریگیشن کے لئے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔ معاہدے کے مطابق بھارت کسی دریا کا رخ نہیں موڑ سکتا جبکہ کشن گنگا پراجیکٹ کے تحت دریائے نیلم کا رخ موڑ کر دریائے جہلم میں ڈالا جا رہا ہے جس سے پاکستان ریگستان میں تبدیل ہو جائے گا۔اس ساری صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان نے بھارت کے متنازعہ کشن گنگا ڈیم اور ریٹل پراجیکٹ کے خلاف کیس عالمی بنک کی ثالثی عدالت میں دائر کر دیا ہے۔ کشن گنگا ڈیم پر پاکستان نے دو بڑے اعتراضات کئے ہیں۔ پاکستان کا مو ¿قف ہے بھارت دریائے کشن گنگا کا ر ±خ نہیں موڑ سکتا اور ڈیم کی جھیل میں پانی ڈیڈ سٹوریج لیول سے نیچے نہیں لے جا سکتا۔ پاکستان کے نمائندے کمال مجید اللہ نے کیس کی دستاویز لندن کی عدالت کے چیئرمین کو جمع کرا دی ہیں۔ 7ججز پر مشتمل عدالت آئندہ ماہ سے کیس کی سماعت شروع کر سکتی ہے۔آبی ماہر ایوب خان میو کا کہنا ہے قانونی نقطہ نظر سے پاکستان کا کیس انتہائی مضبوط ہے تاہم پاکستان کی طرف سے ماضی میں صحیح طریقے سے پیروی نہ کرنے پر بھارت نے فائدہ اٹھایا۔ پاکستان آبی معالات پر اس طرح سنجیدگی نہیں دکھا رہا جس کی ضرورت ہے۔
٭٭٭٭٭
 پاکستان کو بھارت کی آبی جارحیت کے خلاف پوری دنیا میں آواز بلند کرنی چاہئے تاکہ پاکستان کی زراعت اور معیشت تباہ ہونے سے بچ سکے۔ کہتے ہیں کہ آئندہ جنگیں پانی پر ہونگی۔ پاکستان کی حد تک تو یہ بات بڑی حد تک ٹھیک ہے کیونکہ ایٹمی و زرعی پاکستان کو بھارتی آبی جارحیت کا سامنا ہے۔ بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہر سال دو ہائیڈرو پراجیکٹ مکمل کررہا ہے اور اب تک سندھ طاس معاہدے کے بعد 37 ہائیڈرو منصوبے مکمل کرچکا ہے جبکہ پاکستان کو ریگستان میں تبدیل کرنے کیلئے 62 ڈیموں کی تعمیر مختلف مراحل میں ہے۔ دوسری طرف یہ بات بھی کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ کالاباغ ڈیم کی مخالفت کے پیچھے بھی بھارتی راء کی فنڈنگ تھی۔ ماہرین لگی لپٹی رکھے بغیر بھارتی ڈیموں کی تعمیر پر بروقت اعتراضات نہ اٹھانے اور کالا باغ ڈیم پر قومی اتفاق رائے نہ ہونے دینے کے پیچھے لابی کو بے نقاب کرتے رہے ہیں۔بھارت دوہری آبی جارحیت کے ذریعے خشک سالی کے دور میں پاکستان کے حصے کا پانی روک کر اور سیلاب کے دنوں میں مزید پانی چھوڑ کر پاکستان کو صحرا زدہ اور سیلاب زدہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھے ہوئے ہے جس سے پاکستان کی ماحولیات اور زراعت تباہی کے دہانے پر پہنچنے والی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ ہیگ کی عالمی عدالت انصاف نے فروری 2013 میں جو حکم جاری کیا تھا بھارت اس پر عملدرآمد نہیں کررہا۔ عدالت نے کشن گنگا ہائیڈرو پراجیکٹ سے 24گھنٹے پانی کے ماحولیاتی بہاﺅ کو جاری رکھنے کے لئے 9کیوبک میٹر فی سیکنڈ پانی چھوڑنے کا حکم دیا تھا جبکہ بھارتی حکومت کی تجویز 4.25کیوبک میٹر فی سیکنڈ تھی جس پر بھارت عمل کر رہا ہے۔

عبدالستار ایدھی ۔ ۔ ۔ ایک عظیم شخصیت

ہر اعتدال پسند کو غالباً ان لوگوں کے بارے میں بخوبی آگاہی ہوتی ہے جو سچائی کے راستے پر گامزن ہوتے ہیں ۔ عبدالستار ایدھی کی شخصیت اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ وہ ایک سچے انسان تھے ۔ ( انھوں نے آٹھ جولائی2016 کو وفات پائی ) انھوں نے 1947 میں پاک بھارت علیحدگی کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ۔ انھوں نے اس وقت بے ساختہ آنسو بہائے جب انھوں نے بہت سے لوگوں کو قتل و غارت گری ، آبرو ریزی اور اپنے آبائی گھروں سے جبراًنکل مکانی پر مجبور ہوتے دیکھا ۔ دہشتگردی بھلے ہی پیرس میں ہو یا لندن میں یا کسی دوسرے مقام پر ، وہ دیکھنے اور سننے والوں کو حیران و پریشان کر دیتی ہے ۔ ذرا اس کیفیت کا اندازہ لگایا جائے جب تقریباً ڈیڑھ کروڑ افراد نے مذہبی اور سیاسی وجوہات کی بنا پر نہ چاہتے ہوئے بھی اپنا سب کچھ چھوڑ دیا ۔ تقسیم ہندوستان کے دوران اور اس سے پہلے جب بد ترین قسم کے فسادات اور غیر انسانی جرائم تسلسل کے ساتھ رونما ہو رہے تھے ۔ ایسے میں یہ بھلا کیسے ممکن ہے کہ عمل اور رد عمل کے اس ماحول میں نفرت پروان نہ چڑھتی ۔ عبدالستار ایدھی کو تقسیم در تقسیم کے اسی ماحول میں زندگی گزارنا پڑی ۔ انھوں نے اپنے آبائی علاقے گجرات ( بھارت ) کو خیر باد کہا اور کراچی منتقل ہو گئے ۔ اس کے باوجود ان میں ہر حال میں دوسروں کی مدد کرنے کے جذبے میں کمی نہ آئی ۔مثبت انقلابی قسم کی خواہشات اور جذبات اس امر کے متقاضی ہیں کہ مدد کرنے والے افراد اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ وہ اپنے مشن کو جاری رکھیں گے اور ان کا یہ جذبہ نا مسا عد حالات کے باوجود سرد نہیں پڑے گا ۔ اگرچہ یہ وہ مرحلہ تھا کہ جب کراچی کے رہنے والوں کے لئے یہ خاصا مشکل امر تھا کہ وہ نئے آنے والوں کو اپنے اندر مد غم کر پائیں ۔ یہ وہ دور تھا جب سمندر کے اطراف میں بہت سے بے کسوں اور لا وارثوں کے لاشے تیر رہے ہوتے تھے ۔ ایسے عالم میںبھارتی اکثریت ایسے کھاتے پیتے لوگوں پر مشتمل تھی جو اپنی ناک بد بو کی وجہ سے بند کر کے گزرنے کو ترجیح دیتے تھے ۔ اس مرحلے پر عبدالستار ایدھی واحد شخصیت تھے جو ہمت اور حوصلہ کر کے لاشوں کو وہاں سے نکالتے اور پھر با عزت طریقے سے ان کی تدفین کا بندو بست کرتے ۔ ان کی زندگی کی تمام جدو جہد کا محور مدد کے متلاشی افراد تھے ۔ لا وارث نعشوں کو انھوں نے عزت و تکریم کے ساتھ دفنایا اور ان لا وارث بچوں کا سہارا بنے جن کو کوئی اپنانے کے لئے بھی تیار نہ تھا ۔ انھوں نے اکٹھا کر کے ان بے سہارا اور یتیم بچوں کو سائبان فراہم کیا ۔ ایسے رجہت پسند معاشرے میں جہاں پر لا وارث بچوں کو سہارا دینے کی بجائے انھیں دھتکار دینا زیادہ بہتر سمجھا جاتا ہو ، انھوں نے بچوں کے دھتکارنے کی روش کو لا یعنی اور اخلاقیات سے بعید قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ان معصوم فرشتوں کی بابت اس طرح کا رویہ اختیار کرنا سرا سر غیر انسانی روش ہے ۔ ان کے بنائے یتیم خانوں نے ان بچوں کو تعلیم ، رہائش اور تمام سہولیات دیں جن کی بابت غالب امکان یہی تھا کہ عبدالستار کے بغیر یہ بے سہارا بچے زمانے کے تھپیڑوں کا کسی بھی طور سامنا نہ کر پاتے ۔ انھوں نے اس مرحلے پر پاکستان میں تیز رفتار ایمبولینسز کا ایسا جال بچھایا جن نے پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہر اور قصبے تک رسائی حاصل کی ۔ یاد رہے کہ یہ اس زمانے کی بات ہے جب دہشتگردی نے چاروں اطراف اپنے پنجے پھیلا لیے تھے اور ایک مرحلے پر ایسا لگتا تھا کہ ان سے محفوظ رہنا کسی بھی طور پر ممکن نہیں ۔ وہ معروف معنوں میں کسی بھی طور دولت مند اور آسودہ حال طبقات سے نہیں رکھتے تھے بلکہ وہ ایک متوسط تجارت پیشہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے ۔ انھوں نے خود کو پوری طرح سے فلاحی کاموں کے لئے وقف کر دیا حالانکہ اگر وہ چاہتے تو خود کو معاشی طور پر بہت سی سہولتیں پہنچا سکتے تھے مگر چونکہ اول تا آخر ان کا مقصد فلاح تھی لہذا روشنی کا یہ مینار اپنے اصل مقصد اور مطمع نظر سے ایک لمحے کے لئے بھی ادھر اُدھر نہ ہوا ۔ یہاں یہ امر بھی انتہائی اہم ہے کہ انھوں نے حکومت اور ریاست سے اپنے اس فلاحی مشن میں ذرا سی بھی مدد لینا گوارا نہ کیا ۔ اور نہ انھوں نے ان بڑے بڑے رئیسوں اور جاگیر داروں کے آگے ہاتھ پھیلانا گوارا کیا جو در حقیقت ملک و قوم کے ان مسائل کو پیدا کرنے کے اصل ذمہ دار تھے ۔ حالانکہ سبھی جانتے ہیں کہ اس دور میں کرپشن بڑی حد تک سکہ رائج الوقت بن چکی تھی مگر انھوں نے تمام تر تعیشات سے دوری اختیار کی اور ان لوگوں جیسا رہن سہن اختیار کیا جن کی انھوں نے اپنی ساری زندگی مدد کی اور جو معاشرے کے پسے ہوئے طبقات سے تعلق رکھتے تھے ۔ یہاں پر یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ پھر ان فلاحی منصوبوں کو چلانے کے لئے اخراجات کا کیا ذریعہ تھا ۔ میڈیا کی ایک بڑی اکثریت اس امر کو فراموش کر دیتی ہے کہ کچھ ایسے حلقے بھی تھے جو ایدھی کی بابت حاسدانہ جذبات رکھتے تھے اور وہ چند حلقے وقتاً فوقتاً ایسی بے بنیاد افواہوں کو پھیلانے کی پوری سعی کرتے رہے ۔ مگر ایک سچے انسان دوست کی حیثیت سے ایدھی مرحوم نے ان بے سر و پا اعتراضات پر دھیان دینے کی بجائے اپنی ساری توجہ اپنے مشن پر مرکوز رکھی ۔ یہاں یہ امر پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ ایک دوسرے کا خیال کرنا ہمارے معاشرے کی بنیادی جزئیات میں سے ایک ہے ۔ اور اسی جذبے کے تحت بہت سے عام لوگ مختلف شکلوں میں اس عظیم مشن کو تقویت پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرتے تھے ۔ بنیادی طور پر یہی وہ راستہ تھا جس کے ذریعے وہ ضرورت مندوں کی صحیح معنوں میں مدد کر تے تھے ۔ یہاں پر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا کی اس جدو جہد کے پسِ پردہ اصل محرک مذہب تھا ؟ ۔ اگرچہ اس بات کا کوئی حتمی جواب ڈھونڈ پانا خاصا مشکل ہے مگر اس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو روحانی تھا ۔مرحوم ایدھی صوم و صلوة کے پوری طرح پابند تھے جو اس امر کا مظہر ہے کہ ان کا دل اور دماغ پوری طرح سے مذہب اسلام کے بارے میں صاف و شفاف تھا ۔ جس سے ان کی انسانی قدروں پر اعتماد اور ذات کی شفافیت مزید واضح ہوتی ہے ۔ اکثر لوگ انھیں ” مولانہ صاحب “ کہہ کر پکارتے تھے جو کہ مذہبی حوالے سے انتہائی قابلِ عزت اور مثبت بات سمجھی جاتی ہے ۔ مگر چونکہ وہ انسانیت کی خدمت کرتے ہوئے خود کو ہر قسم کے لسانی ، گروہی اور مذہبی تعصبات سے آزاد کر چکے تھے ، اس وجہ سے معدو دے چند حلقے بعض اوقات ان کی بابت مختلف نوع کے تحفظات کا اظہار کرتے نظر آتے تھے ۔ وہ ایک سے زائد مرتبہ ان خیالات کا اظہار کرتے رہے کہ وہ انسانیت کی خدمت پر بھرپور یقین رکھتے ہیں اور انھوں نے تمام عمر اپنے عمل سے اس بات کو ثابت کیا اور آخری سانسوں تک انسانی قدروں کو فروغ دیا ۔ تحریر: ڈیڈیئر شودت۔ فرانس کے صحافتی اور تحقیقی حلقوں میں یہ مغربی مصنف ایک معتبر نام کے حامل ہیں۔ وہ افغانستان، پاکستان، ایران اوروسطی ایشیائی امور کے ماہر ہیں اور ”سینٹر فار انیلے سس آف فارن افیئرز“ میں ڈائریکٹر ایڈیٹنگ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ مختلف اوقات میں ”نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ساوتھ ایشین سٹڈیز سنگا پور“، ”پیرس کے انسٹی ٹیوٹ آف پولیٹیکل سٹڈیز“، ”فرنچ انسٹی ٹیوٹ فار انٹر نیشنل ریلیشنز“ اور ”یالے یونیورسٹی“ میں تحقیق و تدریس کے شعبوں سے وابستہ رہے اور ”اپری“ (اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ) سے ”نان ریزیڈنٹ سکالر“ کے طور پر وابستہ ہیں۔ (ترجمعہ: اصغر علی شاد)“۔

سیاسی عدم استحکام جمہوریت کیلئے نقصان دہ

 پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے تحریک قصاص کے احتجاجی جلسوں اور ریلیوں سے ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک سے دہشت گردی ختم کرنے کیلئے قصاص لازمی ہے کرپشن اور دہشت گردی کے گٹھ جوڑ کے خاتمے کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا ملک سے نظریاتی اور عسکری دہشت گردی کے فروغ کو بھی ختم کرنا ہوگا ۔ نیشنل ایکشن پلان میں حکومت رکاوٹ ڈال رہی ہے ۔ عوام کب تک گھروں میں بیٹھ کر روتے رہیں گے۔ بدقسمتی سے ظالم کرپٹ اور عوام دشمن متحد ہیں ملک میں اصل ڈگریوں والے سڑکوں پر دھکے کھارہے ہیں اور جعلی ڈگریوں والے اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں ۔ انہوں نے کہا ملک میں لوٹ مار کرپشن بیروزگاری اور بدعنوانی جیسے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے۔ میں 20کروڑ عوام کو کال دے رہاہوں کہ وہ اپنے مسائل کے حل اور عوام دشمن حکمرانوں کے خلاف سڑکوں پر نکلے ۔طاہر القادری نے 25 اگست کو ڈیرہ غازی خان 26 کو مظفر گڑھ ، 27 کو ملتان اور 29 کو کوئٹہ میں احتجاج کا اعلان کیا ۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پنجاب ن لیگ کا عسکری ونگ بن چکا ہے۔ انہوں نے لاہور میں رینجرز آپریشن کا مطالبہ کیا اور حکومت کو حرف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ حکمران سیاسی مخالفین کی ٹارگٹ کلنگ کررہے ہیں ان کا مقابلہ کرنے کی بجائے گولی کی طاقت سے خاموش کرانا چاہتے ہیں۔ سیاسی اُفق پر منڈلاتے بادل ابرآلود دکھائی دینے لگے ہیں ۔ پانامہ لیکس پر اپوزیشن نے بھی حکومت کے خلاف تحریک تیز کرانے کیلئے اے پی سی بلانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں شیخ رشید نے اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں کا آغاز کردیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ ن لیگ کی موجودگی میں احتساب ممکن نہیں۔ پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی سمیت تمام اپوزیشن جماعتیں پانامہ لیکس پر تحقیقات چاہتی ہیں ان حالات کا پیش خیمہ پانامہ لیکس قرار پاتی ہے۔ حکومت سیاسی تدبر اور بصیرت سے کام لیتی اور اپوزیشن جماعتوں کے تحفظات دور کرتی اور پانامہ کے حوالے سے ٹی او آرز پر اتفاق رائے پیدا کرانے میں کامیاب ہو جاتی تو آج سیاسی کشیدگی اور محاذ آرائی دیکھنے میں نہ آتی لیکن صد افسوس کہ ہمارے ہاں برداشت کا جمہوری کلچر تاحال فروغ نہیں پاسکا جس سے سیاسی عدم استحکام اس ملک اور عوام کا مقدر بن چکا ہے۔ حکومت کے خلاف تحریک قصاص ، تحریک نجات کا آغاز ہوچکاہے اور اپوزیشن جماعتیں بھی حکومت مخالف تحریک پرغور کررہی ہیں اگر یہ تحریکیں چل پڑتی ہیں تو حکومت کیلئے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں لیکن حکومت ہوش کے ناخن نہیں لے رہی بعض وزراءتو معاملہ سلجھانے کی بجائے الٹا الجھا رہے ہیں جب یہ کیفیت ہونے لگے تو پھر ہنگامہ آرائی اور محاذ آرائی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ حکومت پانامہ لیکس پر حکومت کو احتساب کیلئے پیش کرکے اپنے بچاﺅ کا راستہ نکال سکتی تھی ٹی او آرز پر اتفاق رائے نہ ہونا حکومت کیلئے نیک شگون نہیں ہے۔ حکومت کو اس وقت کئی مسائل کا سامنا ہے۔ ایک طرف دہشت گردی کا ناسور ہے تو دوسری طرف سیاسی محاذ آرائی اور عوام مہنگائی ، بیروزگاری ، نا انصافی کارونا رو رہے ہیں ہرطرف کرپشن اور بدعنوانی کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں ۔ عوام کا معیار زندگی بلند ہونے کے بجائے گر رہا ہے لوگ عدم تحفظ کا شکار ہونے لگے ہیں۔ ان حالات میں تحریکیں حکومت کیلئے درد سر بن سکتی ہیں اور حکومت مسائل کے گرداب میں پھنس سکتی ہے ۔ عوامی تحریک سانحہ ماڈل ٹاﺅن کا قصاص مانگ رہی ہے۔ ملک سے نظریاتی دہشت گردی کے فروغ کو ختم کرنے کا تقاضا کررہی ہے اور عوام کو گھروں سے نکلنے کی کال دی جارہی ہے لیکن حکمران ٹس سے مس نہیں ہورہے جو لمحہ فکریہ ہے۔ حکومت پانامہ لیکس کے معاملے کو سلجھانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور اپوزیشن جماعتوں کے مطالبے کو سنے ورنہ معاملہ اس کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور ملک میں سیاسی بھونچال آگیا تو پھر یہ ملک عدم استحکام کے راستے پر چل نکلے گا جس کا یہ متحمل نہیں ہوسکتا ۔ سیاسی استحکام کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا ۔ حکومت مفاہمتی راہ پر چلے اور برداشت کے جمہوری کلچر کو اپنائے۔ جمہوری دور میں حکومت عوام کے سامنے جوابدہ ہوا کرتی ہے۔
بوسیدہ عمارت 5 زندگیاں نگل گئی
لاہور میں بوسیدہ عمارت 5 افراد کی ہنستی بستی زندگیوں کو نگل گئی ۔ یہ ناخوشگوار واقعہ اندرون دہلی گیٹ مسجد وزیر خان کے قریب پیش آیا جہاں ایک گھر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان کی چھت گر گئی اور اس نے خوشی بھرے گھر کو ماتم کدہ بنا دیا شہروں میں قدیمی عمارتیں موت کا منظر پیش کررہی ہیں اور اس طرح کے کئی واقعات قبل ازیں ملک بھر میں پیش آچکے ہیں لیکن حکومت نے بوسیدہ عمارتوں کے بارے میں کوئی عملی اقدام نہیں کیا جس سے لوگوں کی قیمتی جا نیں ضائع ہورہی ہیں لاہور کا حالیہ واقعہ حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہے اس واقعہ کی تحقیقات ہونی چاہیے اور مکان مالک کے خلاف قانون کی روشنی میں سخت کارروائی کی جائے حکومت ملک بھر میں بوسیدہ عمارتوں کو گرانے کیلئے ٹھوس اقدام بروئے کار لائے اور موت کا منظر پیش کرتی عمارتوں سے لوگوں کی زندگیوں کو بچائے حکومت کی یہ ذمہ داری قرار پاتی ہے کہ وہ عوام کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائے حکومت اس واقعہ کے متاثرین کی مالی امداد کرے ۔ خداوند کریم اس جانکاہ واقعہ میں جاں بحق افراد کی مغفرت کرے اور ان کے پسماندگان کو صبروجمیل عطا فرمائے۔
ترکی میں دھماکہ
دہشت گردی کے ناسور نے ترکی میں 50 افراد کی جان لے لی اس واقعہ کا پس منظر یہ ہے کہ شادی کی تقریب کے دوران خودکش حملہ آور نے دھماکہ کیا جس کے نتیجہ میں خوشیوں کی رونقیں غمی میں بدل گئیں ۔ تقریب ماتم کدہ بن گئی ۔ 94 افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے ۔ پاکستان نے اس واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ مشکل کی گھڑی میں پاکستان ترک کے ساتھ کھڑا ہے۔ دہشت گردی کا ناسور پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیتا جارہا ہے ۔ دنیا کو اس کی روک تھام کیلئے مشترکہ جدوجہد کرنی ہوگی ورنہ دہشت گردی دنیا کے امن کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دے گی ۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے اور دہشت گردی کے خلاف اس کا کردار عالمی برادری کیلئے قابل تقلید ہے ترکی دھماکے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں اور درندوں اور بھیڑوں کی طرح انسانوں کو ماررہے ہیں ۔ دہشت گردی کی اجازت دنیا کا کوئی ملک نہیں دیتا اسلام تو ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ دہشت گردی کا بتدریج بڑھنا خطرے کی علامت ہے اس کے خاتمے کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

Google Analytics Alternative