کالم

بھارت میں دہشتگردی۔۔۔آزادی کی تحریکیں ہی کافی

بھارت کے وزیر اعظم مودی پاکستان کے مختصر دورے پر آئے یا یوں کہیں کہ جناب نواز شریف کے گھر آئے اور چلے گئے۔ اتنے مختصر دورے کا فائدہ نہ تھا نہ ہوا،اس میں نہ تو دو طرفہ معاملات پر تبادلہ خیال ہو سکتا تھا نہ عالمی صورت حال ، لیکن مودی نے اپنی ذات کے لیے اس سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی ہے اور اس کے بعد بننے والے حالات وواقعات نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ دورہ اچانک نہیں بلکہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔مودی جیسے شدت پسند سے یہ توقع کرنا کہ وہ پاکستان کے لیے خیر سگالی کے کوئی جذبات رکھے گاخود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے اور دشمن کو جانتے بوجھتے نظر انداز کر کے خود کو نقصان پہنچانے والی بات ہے۔ اُس وقت بھی میں نے لکھا اور آج بھی میںیہی سمجھتی ہوں کہ مودی نے یہ دورہ اس بین الاقوامی دباؤ کو کم کرنے کے لیے کیا جواُن حالات کی وجہ سے پیدا ہوا جو اُس کے ملک میں شدت پسند تنظیموں نے خود اس کی ایماء پر پیدا کیے۔جبکہ حقیقت میں خود مودی اور اس کی جماعت بھی انہی کا حصہ ہے اور وہ ہمیشہ اس پر فخر کرتا ہے۔بہر حال پچھلے کچھ ماہ سے جس طرح ہندو شدت پسندذہنیت کی پذیرائی کی گئی اُس نے سیکولر بھارت کی قلعی کھول دی تھی اور چونکہ ساری دنیا جانتی تھی کہ ان کی پشت پر اس ملک کا وزیر اعظم موجود ہے لہٰذا وزیر اعظم نے مکمل منصوبہ بندی کے تحت پاکستان کا ’’اچانک‘‘ دورہ کر دیا یوں دنیا تک اپنی امن پسندی اور ہمسایوں کے لیے خیر سگالی کے جذبات کا پیغام پہنچا دیا گیا اور صرف چند دن کے بعد منصوبے کی اگلی قسط پر کام شروع کر دیا گیا اور پٹھانکوٹ ائر بیس پر حملہ ہو گیا۔مودی نے یہاں بھی مکمل منصوبہ بندی کے تحت پاکستان پر فوری الزام نہیں لگایا لیکن اپنے میڈیا کو اس کے لیے آزادی دے دی اور اُس نے بھارتی حکومت کا نکتہء نظر بلواسطہ طور پر دنیا کو پہنچا دیا اور حسب معمول حملے کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال دی یوں سانپ بھی مر گیا اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹی۔اس نے اپنے ہی تین لوگوں کو شک کی بنیاد پر گرفتار بھی کر لیا اور چھوڑ بھی دیا۔یہ تین لوگ گورداسپورکے ایس پی سلویندر سنگھ، اس کا ڈرائیور گوپال اور اُس کا سناردوست راجیش ورما تھے۔ ان پر شک کی وجہ یہ تھی کہ واردات میں سلویندر سنگھ کی جیپ استعمال ہوئی تھی جس میں یہ تینوں افراد سوار تھے انہیں جمعرات کو پکڑا گیا اور جمعے کو علی الصبح دو بجے رہا کر دیا گیا۔یوں منصوبے کا ایک اور حصہ مکمل ہوا کہ بھارت پاکستان کی بجائے اس بار اپنے شہریوں کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔ہمارے کچھ تجزیہ نگاروں نے بھی اسے بھارت حکومت کی طرف سے مثبت رویہ بنا کر پیش کیاہمارے وزیراعظم نے بھی اس کا شکریہ ادا کیا اور ان کے رویے کی تعریف کی۔ لیکن ہوا یہ کہ پھر بھارت حکومت میدان میں آگئی اور پہلے سے مختلف انداز اپنا کر پاکستان پر الزام دھر دیااور کہا کہ پاکستان کو قابل عمل ثبوت مہیا کر دیے ہیں تاکہ وہ تحقیقات میں مدد کرے اب یہ مدد پاکستان نے ظاہر ہے پاکستان میں ہی کرنی تھی جس پر وزیراعظم کے زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں بتایا گیا کہ اب تک ان معلومات سے کوئی لیڈ نہیں مل سکی ہے مزید معلومات فراہم کی گئیں تو بات آگے بڑھ سکتی ہے۔بھارت یہی محنت اور کوشش اپنے ملک میں کر لیتا توشاید اس کے مجرم زیادہ آسانی سے مل جاتے لیکن وہ ایسا کرے گا نہیں کیونکہ یہ سارا حملہ انتہائی منصوبہ بندی سے کیا گیاہے۔یہاں بھارت سے ایک غلطی ضرور ہوئی کہ اس حملے کو بھی ممبئی کی طرز پر کیا گیا یعنی چند دہشت گرد ،قبضہ کرنے کی کوشش ،پھر ایک لمبے مقابلے کے بعد حملے کی ناکامی اور بھارت سرکار کی کامیابی اور میڈیا کی طرف سے فوراََ واقعے کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال دینا کچھ دہشت گردوں کو فوراََ ہلاک کر دینا اور کچھ کو مقابلے کے لیے زندہ چھوڑ دینا ہاں یہاں آخری دہشت گرد بھی مار دیا گیا۔ان جزئیات میں اگر کچھ تھوڑی بہت تبدیلی کر لی جاتی تو بہتر ہوتاکیونکہ بھارت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ آئی ایس آئی ایک انتہائی پیشہ ور ایجنسی ہے اس لیے اگر اُس نے یہ دونوں حملے کیے ہوتے تو اِن میں ضرور کافی فرق ڈالتا ایک ہی طریقہء واردات نہ اپناتاہاں اس بار بھارت سرکار نے مختلف طریقہء واردات اپنایا ہے یعنی اپنے ہی منصوبے کو پاکستان کے ذمے لگانے کا انداز بدلا لیکن کیا وہی جو ہمیشہ سے کرتا آرہا ہے یعنی اپنے ہا ں ہونے والے کسی بھی بدامنی اور دہشت گردی کے لیے پاکستان کو ذمہ دارٹھہرانا۔دوسری تبدیلی یہ کی گئی کہ ڈرامے کے اس منظر سے پہلے سشما سوراج اور مودی دونوں پاکستان آئے اگر چہ یہ دونوں پاکستان کے باضابطہ دورے نہیں تھے، سشما سوراج ایک کانفرنس’’ِ ہارٹ آف ایشیا‘‘ میں شرکت کرنے آئیں اور مودی افغانستان سے جاتے ہوئے جاتی عمرہ میں کچھ دیر کو رُکے لیکن دونوں نے اپنے لہجوں میں شائستگی رکھی تاکہ دنیا کو پہلے ہی یہ بتا سکے کہ وہ دوستی کے خواہش مند ہیں اور پھر مرکزی منظرفلمایا گیا تاکہ یہ بھی باور کرایا جائے کہ بھارت کے خیرسگالی کے جذبات کے باوجود پاکستان اُس کے ہاں دہشت گردی کرا رہا ہے حالانکہ ایساکرنے کے لیے بھارت میں چلنے والی آزادی کی تحریکیں ہی کافی ہیں ۔کیا بھارت کی ہندو سرکار یہ سوچ رہی ہے کہ پنجاب کے سکھ 1984 ء میں گولڈن ٹیمپل کی بے حرمتی بھلا چکے ہونگے، اور یا کشمیر کے مجاہدین ہر بار پاکستان کی مدد کا انتظار کریں گے، یا نکسل باڑی اپنے مطالبے سے دست بردار ہو چکے ہیں۔سکھوں نے پچھلے کچھ عرصہ میں کشمیریوں کی آواز میں آواز ملائی جو دراصل ان کے اپنے جذبات کی عکاس تھی۔بھارت اگر پاکستان سے زیادہ اپنے ملک پر توجہ دیتاتو وہ اپنے ملک میں بھی حالات قابو میں رکھ سکتا تھا اور خطے میں ہونے والی دہشت گردی سے بھی نجات ممکن ہو جاتی لیکن ہو یہ رہا ہے کہ وہ افغانستان ،کشمیر، پنجاب، سندھ ہر طرف سے پاکستان میں تخریب کاری کر رہا ہے اور پاکستان کے اندرونی علاقوں تک بھی پہنچ رہا ہے اور جہاں اُس کی متصل سر حدیں نہیں ہیں وہاں بھی ،جسکی بڑی مثال فا ٹا اور بلوچستان ہے۔
بھارت اگر اسی واقعے سے شروع کر دے اور اپنے مجرم اپنے ملک میں تلاش کرے اور بدلہ پاکستان سے نہ لے تو دہشت گردی پر قابو پایا جا سکتا ہے لیکن وہ تو ہر پیش رفت کے بعد اور مذاکرات سے پہلے ایسے حالات پیدا کر کے ہر کوشش کو ناکام بنا دیتا ہے۔اب بھی اگر وہ امن کے حصول کے لیے سنجیدہ کوششیں شروع کر دے تو بر صغیر کا امن بحال اور قائم کیا جا سکے گا۔

ایران، سعودی تنازعہ میں پاکستان کا ثالثی کردار

سعودی عرب اور ایران میں کشیدگی تو کافی عرصہ سے چل رہی تھی مگر سعودی عرب میں شیعہ عالم شیخ نمر سمیت 47افراد کو سزائے موت دینے سے کشیدگی میں مزید اضا فہ ہو چکا ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین اس چپقلش سے مشرق وسطیٰ میں فرقہ وارانہ کشیدگی بھی خطرناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے۔ اب دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات منقطع ہو نے سے یہ اندیشہ سر اْٹھا رہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایران اور سعودی عرب ایک دوسرے کے خلاف اپنی اپنی پراکسیز کو مزید فعال کر دیں گے،جس سے مشرق وسطیٰ کی پہلے سے خراب صورت حال مزید ابتر ہو سکتی ہے۔مشرق وسطیٰ کے اس حالیہ بحران نے پاکستان کو بھی ایک بڑی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ اسی سلسلے میں سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیرنے پاکستان کے دورے میں وزیر اعظم نواز شریف، مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقاتیں کیں۔ سعودی وزیر خارجہ نے 34 اسلامی ممالک کے اتحاد پر پاکستانی رہنماؤں اور آرمی چیف کو اعتماد میں لیا۔وزیر اعظم نواز شریف نے ایران اور سعودی عرب کے اختلافات پرامن طریقے سے حل کرنے پر بھی زور دیا۔سعودی عرب اور ایران کے درمیان تلخی کے بعد اس دورے کو کافی اہمیت دی جارہی تھی کیونکہ سعودی وزیر خارجہ نے ملاقاتوں میں 34 اسلامی ممالک پر مشتمل اتحاد میں شمولیت اور کردار کے حوالے پاکستان قیادت کو اعتماد میں لینا تھا۔ سعودی عرب کی جانب سے 34 مسلم ممالک کے اتحاد کے اعلان اور اس میں پاکستان کی شمولیت پر ابتداء میں یہ خبریں گردش کرتی رہیں کہ سعودی اتحاد میں شامل کرنے کے حوالے سے پاکستان کو پہلے سے آگاہ نہیں کیا گیا، تاہم بعد میں پاکستانی دفتر خارجہ نے اس فوجی اتحاد میں باضابطہ شمولیت کی تصدیق کر دی تھی۔سعودی عرب کی زیر قیادت34ملکی اتحاد کا مقصد داعش جیسی تنظیمیں جو مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگا کر مسلم معاشروں میں قتل و غارت گری پھیلارہی ہیں’ ان کی دہشت گردی ختم کرنا ہے اور یہ اس وقت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ مسلمان ملکوں کو بیرونی سے زیادہ اندرونی خطرات درپیش ہیں اور دہشت گردی کا یہی و ہ فتنہ ہے جو پوری مسلم امہ کو اندر ہی اندر کھائے جارہا ہے۔ اب تو ہیلری کلنٹن نے بھی واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ داعش بنانے میں ان کا ہی کردار ہے۔ اس کے بعد بھی مسلمانوں کی آنکھیں نہ کھلیں تو اس پر افسوس کے علاوہ اور کیا کیا جاسکتا ہے؟۔سعودی وزیر خارجہ سے ملاقاتوں کے بعد جاری کردہ اعلامیہ میں سعودی عرب کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف اسلامی دنیا کے اتحاد کی واضح طور پر حمایت کی اور کہا گیا ہے کہ سرزمین حرمین شریفین کو کوئی خطرہ ہوا تو پاکستان سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گا۔سعودی عرب اور ایران کے مابین کشیدگی تاحال کم ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ مسلم ملکوں میں بھی بعض لوگ سعودی عرب میں پھانسیوں کے معاملہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوششیں کر رہے ہیں جو کسی صورت درست نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس سے کسی مسلم ملک کو تو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا البتہ اسلام دشمن قوتیں اس کافائدہ ضرور اٹھائیں گی۔ اس لئے پھونک پھونک کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ دنیائے کفر اس وقت پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ملکوں کو کمزور کرنے کیلئے خوفناک سازشیں کر رہا ہے۔ مسلم ملکوں میں تکفیر اور خارجیت کے بیج بونے کیلئے بے پناہ وسائل خرچ کئے جارہے ہیں اور فرقہ وارانہ قتل و غارت گری کو ہوا دی جارہی ہے۔ ان حالات میں چاہیے تو یہ تھا کہ مسلمان ملکوں میں باہم اتحاد کی کیفیت پیدا ہوتی اور وہ سب مل کر دشمنان اسلام کی سازشوں کا خاتمہ کرتے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ وہ خودآپس میں دست و گریبان نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے بیرونی قوتوں کو مسلم ملکوں میں اپنے مذموم ایجنڈے پورے کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ ایران اور سعودی عرب میں کشیدگی صرف دونوں ملکوں ہی نہیں پوری مسلم دنیا کیلئے سخت نقصان دہ ہے۔مسلمان ملک اس وقت پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ وہ آگے بڑھ کر ان اختلافات کے خاتمہ کیلئے کردار ادا کرے۔ پاکستانی حکمران بھی بہت محتاط رویہ اختیا رکئے ہوئے ہیں اور کوشش کی جارہی ہیں کہ کسی طرح بات چیت کے ذریعہ اس تنازعہ کو ختم کیا جائے۔ ایسا کرنا بہت ضروری ہے۔ پاکستان ہی ایک ایسا ملک ہے جو یہ کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان ثالث کی حیثیت سے سعودیہ ایران کشیدگی ختم کرانے میں اپنا کردار ادا کرسکتاہے لہذا پاکستان کو کسی ایک طرف جھکاؤ نہیں رکھنا چاہیے۔پاکستان کو کسی دوسرے مسلمان ملک کے ساتھ تعلقات خراب نہیں کرنے چاہئیں۔ اگر یہ تنازعہ بڑھا تو نہ صرف مسلم ممالک بلکہ خود پاکستان کو بھی نقصان ہونے کا اندیشہ ہے جس کی وجہ سے انتہا پسندی بڑھ سکتی ہے۔ہمیں امید ہے کہ پاکستان کی کوششوں سے سعودی عرب اور ایران کے تعلقات بھی جلد بہتر ہوں گے اورکشیدگی کم کرکے تمام مسائل کے سیاسی حل نکالے جاسکیں گے۔پا کستان کے لئے سعودی عرب اور ایران کئی حوالوں سے اہم ہیں، مگر پاکستان کا اپنا مفاد اِسی میں ہے کہ پرائی جنگوں میں کودنے کی بجائے غیر جانبدارانہ اور توازن کی پا لیسی اپنا کر اپنے گھر کے مسائل پر ہی توجہ مرکوز کی جائے۔

پٹھان کوٹ ایئر بیس حملہ،مذاکرات کے التوا کا جواز تو نہیں

بھارتی سرحدی شہرپٹھان کوٹ کے ائیر بیس پر 12-13 روز قبل ہونے والے حملے نے کسی کے ہوش اڑائے ہوں یا نہ اڑائے ہوں مگر لگ یہ رہا ہے کہ اعلیٰ بھارتی حکام کی دماغوں کی ’لسی ‘ ضرور بن گئی نئی دہلی حکومت کی مرکزی کابینہ کے وزراء کے آپس کے اختلافی بیانات ملاحظہ فرمالیں کوئی کچھ کہہ رہا ہے اور کوئی کچھ دور کی کوڑی لارہا ہے ‘ اِسی طرح سے نئی دہلی کے متعلقہ بیوروکریٹس حلقوں کا حال ہے ائیر بیس پر ہونے والے اِس حملہ کے شکوک وشبہات کی ایک طویل فہرست ہے تفتیشی مضمون نگاروں سمیت دنیا بھر کے انویسٹی گیٹیو رپورٹوں کے ہاتھوں میں ‘ جن میں سوالات کی بھرماراپنی جگہ اُن کے جوابات تاحال کسی کے پاس نہیں ہیں، پٹھان کوٹ کی مقامی پولیس کے اسٹار افسرکو یہ دہشت گرد موقع پر ہلاک کیئے بغیر بس اُس سے اُس کی سرکاری گاڑی چھین کر سڑک پر اُسے زندہ چھوڑ دیتے ہیں یہ بڑا اہم نکتہ ہے اب تک دنیا بھر میں جہاں کہیں دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوا حملہ آور دہشت گرد وں نے ایسے موقعوں پر ’انسانیت نوازی ‘ کی ایسی کوئی مثال نہیں چھوڑی دیکھ لیجئے پاکستانی سرحد کے نزدیک 2 ؍جنوری سال2016 ء کے شروع ہونے کے دوسرے روز بھارتی فوجیوں کی وردیوں میں ملبوس ’گمنام ‘ حملہ آورں کا ایک مسلح گروہ پٹھان کوٹ ائیر بیس کے رہائشی علاقے میں کیسے گھس آیا اور حساس علاقہ کے احاطہ میں اِس گروہ نے اندھا دھند فائرنگ کر کے اِس حملے میں 7 بھارتی فوجیوں کو ہلاک کیا اِس مبینہ واقعہ پر وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پریس کو پہلی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ یہ حملہ آور جن کی تعداد پانچ ہے جن کے خلاف سریع الحرکت جوابی کارروائی کے لئے پٹھان کوٹ میں بھارتی سیکورٹی فورسنز کے اسپیشل دستے پہنچا دئیے گئے ہیں مگر ‘ چند گھنٹوں کے بعد عالمی میڈیا سمیت خود بھارتی میڈیا کو یہ سنکر بڑی حیرت ہوئی کہ علاقے میں دو ااور حملہ آور ابھی تک وہاں موجود ہیں جن کی تلاش کا کام ابھی مکمل نہیں ہوا ہے اور سرچ آپریشن جاری ہے جبکہ پہلی اطلاع میں راج ناتھ سنگھ جی نے کسی ٹھہراؤ کے بغیر ، کسی جانچ پڑتال کے بنا یہ تک کہہ دہا تھا کہ’ یہ حملہ آور پاکستان سے پٹھان کوٹ آئے تھے؟‘ اِس بار بھی بھارت نے غیر سنجیدہ رویہ اپنایا اور جلد بازی کرڈالی جیسے کہ ممبئی دھماکوں کے موقع بھارت نے اپنایا تھا بھارت ہی پر کیا منحصر! امریکا کی سنیئے ،سی آئی اے نے پینٹاگان سمیت وائٹ ہاؤس کو جیسابریف کیا یقیناًسی آئی اے کی دی گئی اِس مبہم بریفنگ پر صاد کر کے امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے اِس امیّد کا اظہار کرڈالا کہ امریکا پرامید ہے کہ ’پاکستان پٹھان کوٹ میں بھارتی ایئر بیس پر حملہ کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کرے گا‘ یہ کیسی بات کی گئی ہے ؟پاکستان کیسے معلوم کرسکتا ہے کہ ’پڑوسی ملک بھارت کے سرحدی علاقے پٹھان کوٹ کے ائیربیس پر حملہ آور کون لوگ تھے پٹھان کوٹ میں اُن کے سہولت کار کون تھے ؟ پھر پاکستان اُن کے اِس مبینہ حملہ کے خلاف کوئی کارروائی کرئے تو کیسے کرئے ‘ جان کربی پاکستان کی اِس زمینی حقیقت کو کیا خود نہیں جانتے کہ پاکستان گزشتہ ڈیڑھ برس سے خود بحیثیتِ ایک مہذب ملک شمالی وزیرستان میں اُن انسانیت کے دشمنوں کے خلاف خود ایک بڑی جنگ میں مصروفِ عمل ہے، جنہوں نے کئی برسوں سے پاکستانی معاشر ے کو خونریز دہشت گردی کا نشانہ بنا رکھا تھا دہشت گردی کو اُس کی جڑ بیخ سمیت اکھاڑ پھینکنے میں آپریشن ضربِ عضب کی کامیابیوں کو دنیا بھر میں سراہا جارہا ہے کیا امریکا نہیں سمجھتا کہ پاکستان پہلے سے عسکریت پسند ‘ انتہا پسنددہشت گردوں کے خلاف عملاً میدان میں اتر کر دہشت گردی کے خاتمے کی ایک نئی تاریخ رقم کررہا ہے پھر جان کربی کا یہ کہنا کیا مذاق نہیں کہ ’پاکستان جنگجو گروپس ‘ کو نشانہ بنائے‘شمالی وزیر ستان سے پاکستان بھر میں کسی نہ کسی شکل میں پاکستانی سیکورٹی فورسنز اور سویلین سیکورٹی ادارے دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے میں ایک ایک لمحہ کو قیمتی تصور کرتے ہیں اور وہ اپنا یہ کام اپنی سرزمین کو دہشت گردوں سے پاک کرنے تک جاری رکھنے کا بارہا عزم و ارادہ ملکی وعالمی سطح پر کرچکے ہیں براہِ کرم امریکی حکام سی آئی اے اور را کی ترجمانی کا فریضہ ادا کرنے سے باز رہیں اور خطہ کی سنگین صورتحال کو سنبھالا دینے میں اپنا رول ادا کریں چونکہ بھارت اور پاکستان کے مابین معاملات بہت حساس نوعیت کی نہج پر پہنچ چکے ہیں جیسا بین السطور بیان ہوا کہ پٹھان کوٹ ائیر بیس میں یہ جو کوئی بھی حملہ آور تھے جنہوں نے چاہے وہ بھارتی فوجی تھے مگر تھے تو انسان ‘ جنہیں اِن دہشت گردوں نے مار ڈالا اپنی جگہ یہ ایک نہایت افسوس ناک اور قابلِ مذمت واقعہ ہے بجائے اِس کے بھارتی حکومت اور اُن کے اہم وزراء اِس واقعہ پر اپنی سیاست کو چمکائیں اُنہیں ہر قیمت پر اصل گنہگاروں کو کٹہرے میں لانے کی جانب توجہ دینی چاہیئے اور جیسا کہ پاکستان نے کہا ہے کہ اگر اُن کے پاس دہشت گردی سے نمٹنے کی پیشہ ورانہ اہلیت و صلاحیت نہیں تو پاکستان اُن کی مدد کرنے کو تیار ہے چونکہ پاکستانی فورسنز دہشت گردوں کی عسکری نفسیات کو بھارت سے بہتر سمجھتی ہے کچھ تحفظات کے ساتھ بحیثیتِ پاکستانی قوم کے پٹھان کوٹ ائیر بیس حملہ کے سلسلے میں بھارت کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ’نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کے سربراہ شرد کمار کے اِس بیان کو نہایت مثبت قرار دیتے ہیں جس میں وہ ہمیں فی الحال کسی سیاست میں الجھے نظر نہیں آتے بلکہ اُنہوں نے صاف کہہ دیا ہے کہ ’پٹھان کوٹ ائیر بیس پر ہوئے حملہ پر کسی شواہد کے بغیر پاکستان پر براہِ راست الزام نہیں لگایا جاسکتا ‘ اُن کا ایک تفصیلی بیان پاکستانی اخبارات میں شائع ہوا ہے اب آر ایس ایس اور بی جے پی یا بھارت کی وہ ’نان اسٹیٹ ‘ کردار کیا بھاڑ جھونکیں گے جو پٹھان کوٹ ائیر بیس حملے کو جواز بنا کر پاکستان اور بھارت کے مابین سیکریٹری سطح کے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی ٹھانے ہوئے ہیں ہمیں پاکستانی ہونے کے ناطے اپنی جگہ بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی سے کئی منطقی نوعیت کے باوزن اختلافات ضرور ہیں اُنہیں ہم گجرات سمیت کئی مقامات پر مسلمانوں کا واضح دشمن جانتے ہیں ’صبح کا بھولا شام کو گھر واپس آجائے تو اُسے بھولا نہیں کہتے ‘ کاش ! کہ وہ ایسے ہوکر دکھا دیں ویسے لگتا نہیں ، آج نہیں تو کل یا پھر چند روز بعد معلوم دنیا کو پتہ چل جائے گا کہ ’پٹھان کوٹ ائیر بیس حملہ پر پاکستان کی جانب سے بڑھایا جانے والا اعتماد مزید ٹھوس روش اختیار کرتا ہے یا نہیں ‘ خدانخواستہ ‘ اگر ایسا نہیں ہوتا جس کے نتیجہ میں پاکستان اور بھارت خارجہ سیکریٹریوں کے مذکرات پر کوئی شب خون مارا جاتا ہے تو ہم یہ سمجھنے میں یقیناًحق بجانب ہوں گے کہ بھارت کے اپنے اندر کچھ ایسی طاقتور نادیدہ قوتیں ضرور موجود ہیں جو جنوبی ایشیا کی دو ایٹمی پڑوسی ملکوں پاکستان اور بھارت کے مابین بڑھتی ہوئی خلیج کو پاٹنا نہیں چاہ رہے ہیں۔

واقعہ پٹھان کوٹ پاکستان سے نتھی کرنے کی کوشش

آج ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر بھارت نے2 جنوری 2016کو پٹھان کوٹ کے ائیربیس کے سانحہ کو پاکستان سے نتھی کرنے کی اپنی سر توڑ اور سینہ زور کوششیں تیز کردی ہیں جس کے لئے بھارتی حکومت، عسکری قیادت، اپوزیشن جماعتیں، بھارتی علیحدگی و انتہاپسند تنظیمیں،بھارتی تحقیقاتی ادارے اور میڈیاسمیت بھارتی عوام نے بھی اپنی تمام توپوں کا رخ پاکستان کی جانب موڑدیاہے اوراَب یہ سب کے سب اپنے اپنے انداز سے دھیرے دھیرے یہ باورکرانے میں لگے ہوئے ہیں کہ بھارت میں پیش آئے پٹھان کوٹ کے واقعے کے ڈانڈے سرحد پار پاکستان سے ملتے ہیں ۔جبکہ دوسری طرف ایک اٹل حقیقت جِسے اَب تک بھارتی حکومت وبھارتی عسکری قیادت اور بھارتی تحقیقاتی اداروں اور بھارتی میڈیا نے بھی چھپا رکھی ہے وہ یہ ہے کہ 2جنوری 2016ء کو بھارت میں پیش آئے سانحہ پٹھان کوٹ کی اَب تک کی بھارتی تحقیقاتی اداروں کی مصدقہ رپورٹوں کے مطابق بھارت اِس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ سانحہ پٹھان کوٹ میں اِس کی اپنی علیحدگی پسند اور انتہاپسندہندوتنظیمیں اور بھارتی فورسز میں شامل علیحدگی و انتہا پسند اہلکار اوربھارتی شہری ہی ملوث ہیں جنہوں نے حملہ آوروں کی معاونت کی اور سہولت کار کا کردار ادا کیا ‘ ‘
مگر افسوس ہے کہ اِس حقیقت کے باوجود بھی بھارت اپنی اندرونی چپقلش پر پردہ ڈالنے کی کوشش میں ہے اور سانحہ پٹھان کوٹ کا ذمہ دار سرحد پار پاکستان کو قراردینے کی کوششوں میں لگا پڑاہے۔اَب اِس منظراور پس منظر میں بھارت اپنی خامیوں اور کوتاہیوں اور اپنی ڈرامہ بازیوں پر پردہ ڈال رہاہے اور اِس نے پاکستان سے سیکریٹری خارجہ مذاکرات پٹھان کوٹ حملے کی موثر تحقیقات سے مشروط کردیئے ہیں اِس یہ اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ جیسے بھارت اپنی نالائقی اور نااہلی کو چھپانے کے لئے پاکستان کودباؤ میں لیناچاہ رہاہے اِس نے تب ہی پاکستان سے یہ مطالبہ بھی کردیاہے کہ ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی ہی پاک بھارت تعلقات کو آگے بڑھاسکتی
ہے،خبرہے کہ بھارت نے پاکستان سے یہ بھی کہاہے کہ’’ پاکستان کی جانب سے ٹھوس تحقیقات اوربھارت کو اعتماد میں لینے کی صورت ہی میں سیکریٹری خارجہ مذاکرات کا آغاز15جنوری کو ہوگا ‘‘ اوراِس پرمزید یہ کہ بھارتیوں نے ڈھٹائی کے ساتھ پاکستان سے یہ بھی کہاہے کہ ’’اگرپاکستان نے بھارت کی طرف سے فراہم کئے جانے والے ثبوتوں کی روشنی میں ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی اور اِس ساری صورت حال سے بھارت کو آگاہ کیا تو اِسی صورت میں پاکستان سے سیکریٹری خارجہ مذاکرات شروع کئے جائیں گے ورنہ مذاکرات ملتوی کردیئے جائیں گے‘‘ جبکہ اِدھر بھارت کی جانب سے بیجامطالبات اور خدشات کے جواب میں پاکستانی وزارتِ خارجہ نے بھی بھارت پر دوٹوک انداز سے یہ واضح کردیاہے کہ ’’ اَب تک بھارت کی جانب سے جو ثبوت فراہم کئے گئے ہیں اِس پر حتمی رائے قائم کرنا مناسب نہیں ہے بھارت کو اگر شک ہے کہ حملہ آورسرحدپارسے آئے ہیں یا اُن کی کسی قسم کی کوئی معاونت(حالانکہ یہ بھارتیوں کا محض شک اور ڈرامہ بازی ہے) پاکستان کے کسی شدت پسند گروپ نے کی ہے تو بھارت اِس سلسلے میں پاکستان کو مکمل دستاویزات اور تفصیلی ثبوت فراہم کرے تاکہ پاکستان موثر تحقیقات کرکے بھارت کے تحفظات دور کرسکے ،اور اگر بھارت نے مزیدثبوت فراہم نہ کئے تو پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات آگے نہیں بڑھ سکیں گی اورپاکستان اور بھارت کے درمیان سیکریٹری خارجہ مذاکرات ملتوی ہونے کا خدشہ ہے‘‘ ۔جبکہ پاکستان میں سول اور عسکری قیادت دہشت گردی کے خلاف
ایک پیچ پر ہے اورپاکستان جو پہلے ہی دہشت گردی کا شکار ہے یہ دنیامیں اپنی بدنامی سے بچنے کے لئے اپنی سرزمین اور سرحد کے پار دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کا عزم کررکھاہے اور پاکستان نے اِس کا بھی اعادہ بھی کیا ہے کہ بھارت کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہاجائے گا، اور دونوں ممالک مل کر دہشت گردی کے خلاف بھر پور تعاون جاری رکھیں گے، اور خطے کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لئے اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے جانے عزم بھی کیا گیاہے اور اپنے مذاکراتی عمل کو کسی بھی صورت میں سبوتاژ نہیں ہونے دیاجائے گا،اور کہاگیاہے کہ پاکستان کی سرزمین کسی مُلک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، چونکہ پاکستان پہلے ہی اپنے یہاں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے نیشنل ایکشن پلان کے سلسلے میں آپریشن ضرب عضب شروع کیئے ہوئے ہے پاکستان یہ کبھی نہیں چاہئے گا کہ پاکستان اپنی سر زمین کو کسی مُلک کے خلاف استعمال کرنے اجازت دے،اگر بھارت پٹھان کوٹ کے معاملے میں ثبوت دے گا تو پاکستان صاف وشفاف تحقیقات کرکے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی دے گا۔ابھی 25دسمبر 2015ء کو بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے اچانک پاکستان دورے کے بعد پاک بھارت استوارہوتے تعلقات اور مثالی دوستی کے ساتھ دو ملکوں کے حکمرانوں اور عوام کے درمیان مضبوط ہوتے محبتوں کے رشتوں کی رکھی جانے والی بنیادوں پر دونوں ممالک میں ہونے والے تبصرے اور تجزے جاری ہی تھے کہ بھارت نے سانحہ پٹھان کوٹ کے چند دِنوں بعد ہی پاکستان پر الزام تراشی اور منفی پروپیگنڈوں والی اپنی پرانی روش پھر بھی نہ چھوڑی ۔اَب بھارت پٹھان کوٹ کے واقعہ کے بعد ہمارے کان یوں پکڑے یا پھر فوراََ اُسی طرح ہمار ے کان پکڑے جیسا کہ یہ اپنے یہاں ہردہشت گردی کے پیش آئے واقعات کے بعد ماضی میں پکڑتا آیاہے۔ اگرچہ آج بھی ایسا ہی لگ رہاہے کہ جیسے سانحہ پٹھان کوٹ کے بعد بھارت کے کل اور آج میں کوئی فرق نہیں ہے، کل بھی بھارت کاکام یہی تھاکہ یہ اپنی زمین میں ہونے والی ہر دہشت گردی کا فوراََ ہی ساراالزام پاکستان پر دھردیاکرتاتھا اور آج بھی جب پاکستان یہ سمجھتارہاکہ مودی اپنے 120افراد کے ہمراہ پاکستان آئے اور پاکستانی نمک اپنی زبان اور حلق کے راستے اپنے پیٹ میں اُتارچکے ہیں تو کچھ تو نمک حلالی کریں گے مگر ایسانہیں ہواآج تین ہفتے بعد پھر بھی بھارتیوں نے وہی کردیا جس کی توقع ہم اِن سے بھول چکے تھے ۔اِس میں شک نہیں ہے کہ سانحہ پٹھان کوٹ کے بعد بڑی شدت سے یہی محسوس کیا جانے لگا ہے کہ بھارت پٹھان کوٹ کا ذمہ دار بھی پاکستان کو قرار دے رہاہے۔مگر آج فرق صرف اتنا ہے کہ اِس مرتبہ بھارت نے پاکستان پر فوراََ الزام تراشی تو نہیں کی ہے مگر کچھ دنوں بعد بڑے ڈرامائی انداز سے وہی کچھ کررہاہے جیسا بھارت ہر بار کرتاآیاہے ۔آج بس..!! 2جنوری 2016کے سانحہ پٹھان کوٹ پر بھارت نے یہ کیا ہے کہ اِس نے پاکستان پر الزام تراشی کے لئے بڑے ڈرامائی انداز سے جس مہارتی تیکنیک کا مظاہرہ کیا ہے اَب یہ بھی پاکستانیوں سمیت ساری دنیا کو سمجھ آنے لگاہے۔ اِس مرتبہ بھارت اپنے جس ڈرامائی انداز کو اپنارہاہے اور اپنے بھارتی شہریوں اور دنیا والوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہا ہے کہ بھارت تو اپنے پڑوسیوں سے اچھے دوستانہ تعلقات استوار کرناچاہ رہاہے، تب ہی اِس نے سرحد پار کسی مُلک کا تُرنت نام نہیں لیا ہے مگر سرحدپار کسی مُلک کو اپنی سرزمین پر دہشت گردی کے لئے بھی کھلا میدان نہیں چھوڑے گا۔ایسے میں یہاں یہ بات واضح ہوئی کہ ہم پاکستانی کچھ بھی اچھاکرلیں مگر بھارت پاکستان کا کبھی بھی اچھاپڑوسی اور اچھا دوست نہیں بن سکتاہے ، اِس کے دل اور دماغ میں ہمیشہ سے جو پاکستان سے نفرت کی چنگاری موجودتھی وہ آج بھی موجودہے اور کل بھی موجودہ رہے گی، جو کبھی بھی کسی بڑے شعلے کو بھڑکا کرکوئی بھی سانحہ جنم دے دیگی اور یوں بھارت ہر مرتبہ اپنی اندرونی چپقلش کا الزام بھی پاکستان کے سر دے مارتارہے گا۔

اقتصادی راہداری کو کالا باغ ڈیم نہ بنایا جائے

صحافت اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔دونوں کو ہر روز بلکہ اب تو ہر لمحے ایک نئے موضوع ایک نئی ہیڈ لائن یا نئے ٹکر کی ضرورت رہتی ہے۔اور اس میں کافی حد تک مقابلے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ ہونا بھی چاہیئے کسی نے کچھ تو بیچنا ہوتا ہے۔صحافی نے اپنی خبر کو بیچنا ہوتا ہے۔اور سیاستدان نے اپنے نئے بیان کو بیچنا اور کیش کرنا ہوتا ہے۔میڈیا کی بھی بہتات ہے۔پرنٹ میڈیا بھی ان گنت اخبار شائع کر رہا ہے۔اور الیکٹرانک میڈیا بھی ہر سیکنڈ میں نئے ٹکر اور نئی خبر کی تلاش میں ہوتا ہے۔مقابلے کے اس چکر میں بعض اوقات بڑی غیر ذمہ دارانہ بیان بھی شائع ہو جاتے ہیں۔ہم نے شاید اس طرف توجہ ہی نہیں دی کہ دنیا اور خاص طور پر پاکستان کی آبادی کس رفتار سے بڑھ رہی ہے۔اس کے لئے ہمارے پاس وسائل بھی ہیں یا نہیں۔اور اس کے لئے وسائل پیدا کرنے کے لئے کون کون سے حربے استعمال کرنے پڑیں گے۔بعض اوقات غیر ذمہ دارانہ رویے اپنے مخالفین کو زچ کرنے یا ذہنی اذیت پہنچانے کے لئے ایسے اقدامات کر بیٹھتے ہیں جس سے ملکی ترقی برسوں، دہائیوں بلکہ صدیوں پیچھے چلی جاتی ہے۔ان میں سے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا مسئلہ بھی ہے۔اس ڈیم کی تعمیر کے خلاف وہ لوگ بھی بیان بازی کرتے رہے۔جو اس خطے کے جغرافیے سے کوئی واقفیت ہی نہیں رکھتے۔ ان کو ڈیم کی اصل لوکیشن کا ہی پتہ نہیں ہے۔لیکن وہ اپنے بیان کو تین چار کالم سرخی کے ساتھ شائع کرانے کے لئے متنازعہ بیانات جاری کرتے رہے ہیں۔اس ڈیم کے نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کا ہر سال کتنا نقصان ہو رہا ہے ۔ کتنی زمینیں ، فصلیں ، مکان اور جانور سیلاب کی نذر ہو جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ کتنے ترقیاتی منصوبے رکے پڑے ہیں ۔ جو زمینیں سیراب ہو کر سونا اگل سکتی ہیں وہ بنجر اور ویران پڑی ہیں۔لیکن کچھ لوگ ذاتی انا کا مسئلہ کھڑا کر کے اس منصوبے کے خلاف بیان دئیے جا رہے ہیں۔انہوں نے روزِ اول سے اس منصوبے کی مخالفت میں بیانات جاری کئے اب اس کے حق میں بیان دینے کو اپنی ہتک سمجھ رہے ہیں۔اسی طرح جب پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے پر بات چیت شروع ہوئی ہے ۔ ہر روز کوئی نہ کوئی بیان جھاڑ دیا جاتا ہے۔لیکن اس منصوبے کا آغازکرنے سے پہلے تما م سیاسی پارٹیوں اور تمام صوبوں کی حکومتوں کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔اس سلسلے میں ایک سے زیادہ میٹینگز بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بھی ہوئیں جس دن فائنل بریفنگ لینے کے بعد تمام پارٹیاں مطمئن ہوئیں۔اس کے بعد ہر جگہ پر خوشی کا اظہار کیا گیا۔پہلے یہ باتیں مشہور کی گئیں کہ گوادر سے اقتصادی راہداری کا روٹ براستہ لاہور ہوگا۔لیکن جب صوبائی حکومتیں اور سیاسی قوتیں اعتماد میں لی گئیں تو ایک فیصلہ ہو گیا ۔ بلکہ ایک سادہ سا خاکہ اور روٹ کے راستے میں آنے والے علاقہ کا نقشہ بھی شائع کیا گیا۔اس کے بعد وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف متعدد بار اس بات کا واشگاف الفاظ میں اظہار کر چکے ہیں کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے مقرر کردہ روٹ کو بالکل تبدیل نہیں کیا جائے گا۔اور یہ روٹ صرف بننے والی سڑکوں کا نام نہیں بلکہ اس کے ساتھ صنعتی زون قائم کئے جائیں گے۔ ہوٹلز، پٹرول پمپس کے علاوہ بہت سارے تجارتی مراکز قائم کئے جائیں گے۔یہ اقتصادی راہداری صرف گوادر سے کاشغر تک نہیں بلکہ سارے سنٹرل ایشیاء تک استعمال ہوگی۔ پاکستان میں سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کو ہو گا۔بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ یہاں ترقی کا انقلاب آئے گا۔ ابھی شاید یہ لوگ اس بات کا اندازہ نہ کر سکیں کہ یہاں کتنی بڑی ترقی ہوگی۔پاکستان بہت جلد ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔وزیراعظم پاکستان نے اس راہداری کو پہلے ہی دو رویے سے تبدیل کر کے چار رویہ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔بلکہ موٹروے جھنگ باہتر سے لے کر ڈیرہ اسمٰعیل خان تک مولانا فضل الرحمن صاحب کا آبائی شہر ہے۔لیکن اس کے باوجود اقتصادی راہداری پر مولانا صاحب کے مخالفانہ بیان سمجھ سے بالاتر ہیں۔یہاں میں ایک ذاتی قصہ سنانا چاہتا ہوں۔ذوالفقار علی بھٹو کے پہلے دورِ حکومت میں مجھے واپڈا میں روزگار کے سلسلے میں چند سال گزارنے کا موقع ملا۔میری پہلی پوسٹنگ سرگودہا میں تھی۔میں سرکاری جیپ لے کر فیلڈ کے ایک گاؤں میں گیاتو اس گاؤں کے بڑے کو ملنے کی ضرورت پیش آئی۔وہ بہت اخلاق سے پیش آئے ۔ میری بہت آؤ بھگت کی۔اٹھتے ہوئے بظاہر التجا لیکن تحکمانہ لہجے میں درخواست کی کہ یہاں کسی قسم کی مدد کی ضرورت ہو تو میں حاضر ہوں۔لیکن آپ نے ایک مہربانی کرنی ہے کہ ہمارے علاقے کے کسی بھی فرد کو اپنے محکمے میں دیہاڑی دار (ڈیلی ویجز) کے طور پر بھی کام پر نہیں لگانا۔یہ میرے لئے عجیب درخواست تھی۔میرا خیال تھا کہ یہ مجھے اپنے دوچار بندے کام پر لگانے کے لئے کہیں گے ۔ لیکن وہ تو الٹا منع کر رہے تھے۔میں نے عاجزانہ انداز میں سوال کیا کہ اس کی کیا وجہ ہے تو وہ چوہدری صاحب بولے کہ پھر ان لوگوں کی عادتیں خراب ہو جاتی ہیں اور ہمارے ذاتی کام نہیں کرتے۔ان کی اس وضاحت کے بعد مجھے اندازہ ہو اکہ یہ لوگ اپنے علاقے میں اچھے تعلیمی ادارے اور اچھے ہسپتال کیوں نہیں بننے دیتے۔ان کی خواہش ہوتی ہے کہ گاؤں کا ہر شخص ہر وقت ہر کام کے لئے ان کا محتاج رہے۔اسی قسم کی سوچ آج بھی بہت سارے علاقوں میں موجود ہے۔خاص طور پر غیر ترقی یافتہ علاقوں میں ایسی ذہنیت ہر جگہ موجود ہے۔بلوچستان تو آج تک اسی ذہنیت کا شکار رہنے کی وجہ سے تاریکی میں ڈوبا رہا۔اب جب ان لوگوں کو جگمگاتا ہوا بلوچستان اور جنوبی خبر پختونخواہ نظر آتا ہے تو ان کے پیٹ میں مروڑ اٹھتے ہیں ۔ ان کو نظر آ رہا ہے کہ یہاں کا نوجوان ان کے تسلط سے آزاد ہو جائے گا۔اس اقتصادی راہداری کے ساتھ ارد گرد بین الاقوامی تعلیمی ادارے (کالجز ،یونیورسٹیاں ) اور ہسپتال تعمیر ہونگے۔بے روزگار اور غیر تعلیم یافتہ نوجوان جو سارا دن روٹی خرچے پر ان کے دروازوں پر پڑے رہتے ہیں وہ ہنر سیکھ کر ہزاورں روپے ماہوار کے مزدور بن جائیں گے۔یہ منفی ذہنیت انہیں ہر روز کوئی نہ کوئی نیا شوشہ چھوڑنے پر مجبور کرتی ہے۔مجھے ایک انتہائی ذمہ دار عہدے پر براجمان شخص وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک کی بیان بازی پر بڑی حیرانگی ہوئی کہ ہمارے حقوق نہ دئیے گئے تو ہم یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے۔بھائی حقوق تو آپ کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں جہاں سے اقتصادی راہداری کا روٹ ہوگا۔اس کے اردگرد ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔کیااس علاقے کی گاڑی اس روٹ پر سفر نہیں کر سکیں گی؟یا وہاں کے لوگوں کو روزگار نہیں ملے گا۔جیسا کہ کالم کے آغاز میں میں نے ذکر کیا کہ کچھ لوگ صرف بیان بازی کے لئے بیان جاری کر دیتے ہیں اور خواہ مخواہ ایک شوشہ چھوڑ دیا جاتا ہے۔اقتصادی راہداری کا روٹ باقاعدہ اور باضابطہ طے ہو گیا تھا۔اس کی تفصیل بھی جاری کر دی گئی تھی۔لیکن کچھ لوگ صرف سستی شہرت کے لئے کچھ نہ کچھ معاملہ کھڑا کئے رکھتے ہیں۔یہ روٹ پہلے دن سے کسی قسم کا متنازعہ نہیں تھااور نہ اب ہے۔لیکن اس کو کالا باغ ڈیم کی طرح متنازعہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جو سراسر پاکستان کے ساتھ زیادتی ہے۔اور پھر سب سے زیادہ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے غریب عوام کے ساتھ زیادتی ہے جن کو بالکل ہی اندھیرے میں رکھ کر غیر ذمہ دارانہ بیان بازی کی جارہی ہے۔یہ وقت ہے کہ ملک کی بنیادیں مضبوط سے مضبوط تر بنانے کے لئے ہر ادارہ ، ہر سیاسی قوت اور ذی شعور انسان اپنی اپنی بساط کے مطابق اپنا اپنا حصہ ڈالے اور جو لوگ یہ جانتے ہوئے بھی کہ سب کچھ ٹھیک ہو رہا ہے بلاوجہ شور کرتے ہیں ۔ ان کی حوصلہ شکنی کی جائے

درپیش چیلنجز اور ہمارا کردار!

اس وقت پاکستان کو بین اقوامی سطح پر جن چیلنجز کا سامنا ہے ۔ایران اور سعودی عرب کے درمیاں جو تلخی بڑھ رہی ہے اس کی زد میں دیگر خلیجی ممالک بھی آرہے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ اس صورتحال کو جلد از جلد کنٹرول کیا جا ئے ۔ ہم خود کو مو جو د صورتحال میں الگ نہیں رکھ سکتے کیو نکہ اس کے نتیجے میں شیعہ سنی آگ بڑھتی جائے گی جس سے پاکستان بھی بچ نہیں سکے گا۔عالم اسلام کو چاروں طرف سے جن چیلنجز کا سامنا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ عالم اسلام کا دفاعی، سیاسی ، معاشی اور علاقائی سطح پر ایک بہتر اتحاد اور عالم اسلام کو دوٹوک مو قف اپنانا چائیے۔ٰیہ امر اطمینان بخش ہے کہ پاکستان کے مقتدر ادارے اپنے فیصلے خود کرنے لگے ہیں ورنہ ماضی کی یہ ایک روایت ہے رہی ہے کہ پاکستان میں اپوزیشن نے ہمیشہ برملا طور پر امریکہ کو پاکستان کا نااعتبار دوست ٹھہرایا ہے ،لیکن اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے امریکہ کی چھتری میں حکومت کرنے میں اپنی عافیت سمجھی ہے۔ اس تناظر میں یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ روز اول سے ہم سامراج کے حق میں استعمال ہوئے ہیں اور آج بھی سامراج ہمیں کھلونا بنانے پر تلا ہوا ہے اور ایک تسلسل کے ساتھ ہم آگے کے جانب بڑھ رہے ہیں اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے اتحادی کے طور پر مشہور ہیں ، اور سرمایہ دارانہ نظام کے جرائم میں برابر کے شریک ہیں ۔یہ کہنا کہ موجودہ حکمران اس راستے پر چل پڑے ہیں درست نہیں ان کے لیئے تو اس راستے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے ملک کو موجودہ ڈگر پر چلانے کیلئے اسے بھر حال اس راستے پر چلنا ہوگا جس کے نقوش ماضی کے حکمرانوں نے چھوڑے تھے ۔ہمارے پہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان نے مئی 1950 ؁ء کو امریکہ کا وزیر اعظم پاکستان کی حیثیت سے اپنا پہلا دورہ کیا تھا اس دورے کا مقصد انہوں نے پاکستان کیلئے دفاعی امداد کا حصول قرار دیا تھا جس کیلئے اکتوبر 1947 ؁ء میں پاکستان امریکہ سے مطالبہ کر چکا تھا آئندہ پانچ سال کی ضروریات کے لئے پاکستان کو امریکہ کی طرف سے دو ارب ڈلر کی امداد کی ضرورت ہوگی چنانچہ وزیر اعظم لیاقت علی خان اس عزم اور ارادے سے امریکہ کے دورے پر روانہ ہوئے تھے اور بظاہر کامیاب لوٹے تھے ۔وزیر اعظم لیاقت علی خان نے اپنے پہلے دورے میں امریکی حکام سے اپنی بات چیت میں انہیں یہ باور کرایا تھا کہ پاکستان ہمیشہ سرمایہ دارانہ نظام معیشت سے جڑا رہے گا اور اس نظام کے استحکام کے لیئے امریکہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرتا رہیگا اور انہوں نے امریکہ کو یہ بھی یقین دلایا کہ’’ ہم جانتے ہیں کہ آپ جارحیت کا مقابلہ کرنے کا عزم کر چکے ہیں اس کام میں آپ پاکستان کو اپنا دوست پائینگے ‘‘ چنانچہ ان کی اس یقین دہانی کے بعد پاکستان کا ہر حکمران ان کے اس عہد کو نبھانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرسکتا ہے اور اس طرح پاکستان اور امریکہ کی دوستی قائم اور دائم ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی کا سفر جاری ہے۔یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ جنوبی کے حوالے سے امریکی قومی سلامتی کونسل نے جنوری 1951 ؁ء کو یہ قراداد منظور کر لی تھی اور اس وقت کے امریکی صدر ٹرومین نے اس پر دستخط ثبت کئے تھے کہ ہمیں جنوبی ایشا میں ایک ایسا رویہ چائیے جو امریکہ اور اسکے اتحادیوں کی اس بات میں مدد کریں زمانہ امن میں جن چیزوں کی خواہش ہوتی ہے انہیں اور اور زمانہ جنگ میں جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ان کو اس علاقے سے حاصل کر سکیں اور ان میں سے کوئی چیز سویت یونین حاصل نہ کر سکے ۔امریکی قومی سلامتی کونسل کے اس قراداد کی روشنی میں اگر اپنی گزشتہ ساٹھ سالہ تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ نے جنگ اور امن ہر دو حالات میں ہمیں استعمال کیا ہے اگر چہ امریکہ نے ہمیں فوجی امداد دی اور اقتصادی قرضے بھی عنایت کئے لیکن اس کے بدلے میں ہماری آذادی سلب کی گئی اور ہمیں آلہ کار بنا کر اس نے ہمیں کمیونزم کے خلاف استعمال کیا اور سویت یونین کا راستہ روکنے کی کوشش کی اس طرح امریکہ نے دو فوائد حاصل کئے ایک یہ کہ اس نے یہاں اپنا معاشی اور سیاسی تسلط قائم کیا اور دوسرا یہ کہ اس نے سویت یونین کے خلاف ہمیں استعمال کیا اور زبردست کامیابی حاصل کی۔ہمارے وزیر اعظم کے پہلے دورہ امریکہ کے بعد اسی سال میں امریکہ کے ساتھ پاکستان کا فوجی ساز وسامان خریدنے کا معاہدہ ہوا اور اس کے دو سال بعد مزید معاہدات ان دونوں دوستوں کے درمیان طے پاگئے اور یوں دوستی کا سفر جاری ہوا جو آج تک جاری ہے اور آج بین الاقوامی دنیا میں ہماری شناخت بھی امریکہ کے دوست کی حیثیت سے مشہور ہے اور یہ ہماری پہچان ہے اور اس دوستی میں مزید گرم جوشی اس وقت پیدا ہوئی جب پاکستان 1954 ؁ٗ ؁ٗ ؁ء کو کا ممبر بنایا گیا اور ایک سال بعد 1955 ؁ء میں سینٹو کا رکن بنا ان معاہدات میں شمولیت سے ہم امریکہ کے تو قریب ہوگئے مگر پڑوسیوں کی نظروں ہم ناقابل اعتبار ٹھہرگئے ہمارا تعارف سامراج کیلیے ایک آلہ کار کی حیثیت سے مشہور ہوا سامراجی مفادات کو اپنا نصب العین بناکر اپنے خطے کے ممالک کو ہم نے اپنادشمن بنا لیا اور یوں ہمارا ملک ناعاقبت اندیش اور آلہ کار قیادت کی وجہ سے سامراج کے حق میں خوب استعمال ہو اور تسلسل کے ساتھ یہ سلسلہ جاری ہے ۔یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ سامراجی طاقتوں نے ہمیشہ فرعونی طرز سیاست کو اپنا کر اپنے عزائم کے پورا کیا ہے ،فرعون نے بھی تقسیم کرو اور حکومت کرو اوالہ فارمولا اپنایا تھا اور اسی فارمولے پر ہر دور میں سامراج نے بھی خوب عمل کیا ہے چنانچہ امریکہ نے ایک طرف کمیونزم کا ہوا کھڑا کر کے اس کا راستہ روکنے کیلئے کسی دور میں انتہا پسند مذہبی تحریکوں جماعتوں کی آکی نشوونماں کی اور انہیں پروان چڑھایا اور انہیں اسلحہ اور بود وباش فراہم کی سرد جنگ کے دوران امریکہ نے یہ حربہ خوب اپنایا جو کامیاب رہا اور جو بھی راستہ میں مزاحم ہوا اسے منظرہی سے ہٹادیا گیا اور یا عوام الناس میں اسکی حیثیت ہی مشکوک بنادی گئی جیسے سعودی عرب کے شاہ فیصل اور پاکستان میں ذولفقار علی بھٹواور صدام حسین جیسے لیڈروں کو راستے سے ہٹادیا گیا اور مصر کے جمال عبد الناصر فلسطینی لیڈر یاسر عرفات اور شام کے حافظ الاسد کی کردار کشی کی گئی اور ان کے خلاف محاذ کھڑا کیا گیا اور ان پر فتوے وغیرہ داغے گئے ر انہیں مطعون کیا گیا۔ایک طرف امریکہ نے تقسیم کرنے کی پالیسی اپنائی اور دوسری طرف اس نے ہماری معیشت کو نشانہ بنایا اور ملک کی سیاست کو کمزور کیا اس مقصد کیلئے اس نے اپنے سیاسی اور بیوروکریسی کو آ لہ کار کے طور پر استعمال کیا ہماری سیاست امریکہ کی تابع ہوگئی اور اور معاشی طور پر ہم مفلوج ہوگئے امداد اور قرضوں کے نام پر ہمارا استحصال کیا گیا اور یوں غریبوں کے نام پر حاصل کیا گیا قرضہ ملک کی غربت کا باعث ہوا ملک کی مصنوعات کو فیل کردیا گیا اور پورا ملک ملٹی نیشنل کمپنیوں کے تابع ہوگیا اور یوں امریکہ کے ساتھ ہمای دوستی کی پینگی ہمارے گلے کا روگ بن گیا اور محتاجی ہمارا مقدر ٹھر گئی اور اب جبکہ حالات نے پلٹا کہایا ہے اور ہمارے فیصلے خود ہونے لگے ہیں اور سوات اپریشن کے تناظر میں معلوم ہوتا ہے کہ سامراج کو زک پہنچ رہی ہے اور اس کا میڈیا چیخ رہا ہے دیکھتے ہیں حالات کیا پلٹا کھاتے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر : مفتی سعید کاانتقال اور یومِ حق خود ارادیت

مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ مفتی سعید اگلے روز دہلی میں انتقال کر گئے۔ انہیں پھیپھڑوں میں انفیکشن تھا۔ مفتی سعید 12 جنوری 1936ء کو ایک جاگیردار گھرانے میں پیدا ہوئے تھے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری لے کر انہوں نے کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں شروع کی تھیں۔ اندرا گاندھی نے انھیں کشمیر میں کانگریس کی کمان سونپی تھی اور دہلی میں سیاسی جلاوطنی کے دوران انھوں نے مسلم خطوں میں انتخابات جیتے اور جنتا دل کے دور حکومت میں بھارت کے پہلے مسلمان وزیرداخلہ بن گئے۔ گذشتہ برس یکم مارچ کو مفتی سعید نے دوسری مرتبہ جموں و کشمیر کے وزیراعلی کا عہدہ سنبھالا تھا لیکن اقتدار کی سالگرہ سے پہلے ہی وہ علیل ہوگئے۔ مفتی سعید کی دو بیٹیاں محبوبہ مفتی، ڈاکٹر روبیہ سعید اور ایک بیٹا تصدق مفتی ہیں۔ ان میں سے صرف محبوبہ مفتی سیاست میں ہیں جن کی مفتی سعید کی جانشین کے طور پر ریاست کی وزیرِ اعلیٰ بننے کی خبریں گرم ہیں۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ مفتی سعید کے انتقال کے بعد ان کی بیٹی محبوبہ مفتی وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالیں گی۔مرحوم ساری عمر بھارت کے رحم و کرم پر رہے اور کشمیریوں کو ان کا احق خود ارادیت دینے میں ناکام رہے۔ انکی زندگی میں کشمیریوں کی طرف سے آخری یوم حق خود اراردیت صرف دوروز قبل ہی5جنوری کو منایا۔کشمیری عوام کو ان سے ہمیشہ ہی گلہ رہا کہ مرحوم اقتدار کے مزے تو لیتے رہے لیکن کشمیری عوام کے لئے کچھ نہ کیا۔ ’’حق خود ارادیت‘‘ کشمیر یوں کا جائز مطالبہ ہے کیونکہ یہ ان کا اپنا گھڑا ہو امطالبہ نہیں بلکہ 1949 میں اسی دن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اتفاق رائے سے یہ قرار داد منظور کی تھی کہ کشمیری عوام کو مستقبل کا فیصلہ کرنے کیلئے استصواب رائے کا موقع دیا جائے گا۔شومئی قسمت کہ پچھلے 66برس سے یہ موقع فراہم نہ کیا گیا،اس ظلم اور زیادتی کے خلاف کشمیری ہر سال پانچ جنوری کو عالمی برادری کو ضمیر جھنجوڑتے ہیں۔بھارت عالمی ضمیر کی بے حسی فائدہ اُتھاتے ہوئے اپنے قبضے کو جہاں طول دے رہا ہے وہاں اسے مزید مضبوط بنانے میں مصروف ہے۔ ایسے میں پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم رہتے ہوئے کشمیریوں کی اخلاقی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہی بات بھارت کو قطعاً قبول نہیں ،وہ چاہتا ہے کہ پاکستان کشمیر کو بھول کر دیگر معاملات پر بات چیت کرے۔تنازعہ کشمیر بھارت کا پیدا کردہ ہے اسے یواین کی قراردوں کے آگے ستینڈر کرنا ہوگا۔یہی اس کا واحد حل ہے۔اگرچہ مودی نے گزشتہ ایک دو ہفتوں کے دوران پاکستان سے تعلقات کو نارمل رکھنے کی ایک کوشش کی ہے لیکن اس سے یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ وہ کشمیر ایشو پر کیا پیشرفت کرنے پر آمادہ ہے۔بھارت کی اب تک کی چالوں سے تو کوئی خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی۔اس سلسلے میں اگر گزشتہ برس کا طائرانہجائزہ لیا جائے تو وہ بھارت کی روایتی ہت دھرمی کا واضح ثبوت ہے،اس سلسلے میں سال 2015 لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت اورگولہ باری کا بدترین سال ثابت ہوا۔سال بھر بھارتی فوج نے 68 بار لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی جس کے نتیجہ میں رینجرز کے آٹھ جوانوں کے علاوہ 25 پاکستانی شہری جن میں بچے ،خواتین، اور بوڑھے شامل تھے شہید ہوئے جبکہ ایک سوتیس افراد زخمی ہوئے۔پچھلے برس 2جنوری 2015 کو بھارتی سکیورٹی فورسز نے شکر گڑھ سیکٹر پر گولہ باری سے نئے سال کاآغاز کیا تھا۔ 65 برسوں سے کشمیری اپنے جدوجہد کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ نہتے کشمیریوں نے 6 لاکھ اپنے شہداء، 10 ہزار لاپتہ افراد، 67 سو نامعلوم قبروں کے کتبوں کو فراموش نہیں کیا اور بھارتی افواج اور پولیس کے آگے سینہ سپر دیوار ثابت ہورہے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ حکومت بھی بھارتی حکومت اور سیاسی قوتوں سے دوست کے راگ الاپ رہی ہے۔ مگر پاکستان کی تمام سیاسی قوتوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے بھارت میں چاہے جو بھی حکومت ہو، انکی سوچ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ایک جیسی رہے گی۔ انسانی حقوق کی تنظیم جموں و کشمیر ہیومن رائٹس موومنٹ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجوں کے مظالم کے حوالے سے اپنی تحقیقاتی رپورٹ شائع کی جس کے مطابق 1947ء سے موجودہ سال کے اختتام تک پانچ لاکھ افراد شہید اور 9988 خواتین کی بے حرمتی کی گئی۔ جبکہ ایک لاکھ دس ہزار بچے یتیم ہو چکے ہیں بھارت کے کالے قوانین پوٹا’ ٹاٹا اور آفسپا کے تحت 24 افراد مختلف جیلوں میں عمر قید کاٹ رہے ہیں۔ شہید کئے گئے افراد میں زیادہ تر تعداد گیارہ سال سے 60 سال تک کے بچوں اور بوڑھوں کی ہے مگر اقوام متحدہ ان مظالم پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے آخر کب تک۔

دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں کو فوری روکنا ہوگا

چیف آف آرمی سٹاف نے ضرب عضب آپریشن پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد تنظیموں اور ان کی سرگرمیوں کو کسی صورت بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ جنرل راحیل نے حال ہی میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کئے جانے والے دہشت گردی کے خلاف آپریشنوں کو سراہا اور کہا کہ ان آپریشنوں کے ذریعے دہشت گردوں کے نیٹ ورک اور ان کے گٹھ جوڑ توڑنے میں اہم کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ آرمی چیف نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی وہ پائیدار امن اور سلامتی کی صورتحال کے حصول تک آپریشن پر توجہ برقرار رکھیں۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں 70کے لگ بھگ جہادی یا طالبان گروپ پائے جاتے ہیں۔ ان میں 30 گروپ ایسے ہیں جو کہ ریاست اور معاشرے کے اندر اپنے نظریات بندوق یا تشدد کے ذریعے مسلط کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لئے وہ فکری یا سیاسی جدوجہد کی بجائے باقاعدہ جنگ کرتے آئے ہیں۔ اسی جنگ کے نتیجے میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان میں 50ہزار سے زائد انسان لقمہ اجل بنائے گئے جبکہ اب بھی یہ لڑائی رکنے کا نام نہیں لے رہی اور فورسز کے علاوہ عام لوگ بھی روزانہ کی بنیاد پر اس جنگ کا نشانہ بن رہے ہیں۔ محققین کے مطابق جہادی تنظیموں یا گروپوں کی بنیادیں مختلف ادوار میں رکھی جاتی ہیں۔ 60کی دہائی میں کشمیر کی آزادی کے لئے بعض گروپ قائم ہوئے۔
کالعدم جہادی تنظیمیں اسلام اور پاکستان کیلئے خطرہ ہیں۔ ماضی میں کالعدم تنظیموں نے انتہاپسندی دہشت گردی کو فروغ دیکر پا کستان کی سالمیت و بقا کو خطرے میں ڈال دیا اور آج پھر یہ انتہاپسند دہشت گرد ایک بار پھر سیاسی جماعتوں کا سہارا لیکر انتہاپسندی، دہشت گردی کو طول دینا چاہتے ہیں۔ جب ملک کی سالمیت و بقا کو ان انتہاپسند وں سے خطرات لاحق ہوئے اور پا کستان کو بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کی واچ لسٹ میں شا مل کیا گیا تو ان پر پابندی عائد کی گئی۔
اس حوالے سے پیمرا نے تمام ٹی وی چینلوں اور ریڈیو سٹیشنوں کو یہ ہدایت کی ہے کہ وہ کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ، جماعت الدعو اور فلاحِ انسانیت فانڈیشن سمیت تمام 72 کالعدم تنظیموں کی کوریج نہ کریں۔بظاہر اس میں اختلاف کی گنجائش کم ہے کہ کالعدم تنظمیوں میں بعض ایسی تنظیمیں موجود ہیں جو ہر قدرتی آفت کے موقعہ پر دکھی پاکستانیوں کی مشکلات حل کرنے میں پیش میں پیش رہتی ہیں مگر بعض ایسی بھی ہیں جن کی سرگرمیاں یقینی طور پر درست نہیں۔ آبادی کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں 95 کالعدم تنظیمیں قرار پاچکی ہیں۔ وفاق اور صوبوں میں کالعدم تنظمیوں کے خلاف کام کرنے والے حکام کے مطابق اس وقت بہتر کالعدم تنظیموں کی بھی چانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ تازہ حکم میں پیمرا حکام نے کالعدم تنظیموں کی فنڈنگ کے لیے میڈیا پر کسی بھی قسم کے اشتہارات چلانے کو بھی ممنوع قرار دیا ہے۔ یعنی کالعدم تنظیموں کی کسی قسم کی کوئی کوریج نہ کی جائے۔ کالعدم تنظیموں کی فنڈنگ کے لیے میڈیا پر کسی بھی قسم کے اشتہارات چلانا بھی منع قرارپایا ہے۔ یعنی ایسے پروگرام کو نشر کرنا یا س کا نشرِ مقرر ممنوع ہے جس سے لوگوں میں نفرت پیدا ہو یا نقصِ امن کا خدشہ ہو۔مذید یہ کہ اس قسم کا مواد نشر نہ کیا جائے جولوگوں کو تشدد پر ابھارے، اس کی معاونت کرے، ترغیب دیاور اسے اچھا بنا کر پیش کرے۔
وطن عزیر میں اس وقت تک امن وامان کی حقیقی صورت حال بحال نہیں ہوسکتی جب تک آئین اور قانون کا حقیقی معنوں میں نفاز عمل میں نہیں آجاتا۔اگرچہ اس حکم نامے میں کالعدم تنظیموں یا ان سے منسلک امدادی اور فلاحی اداروں کی سرگرمیوں کی ترویج کا ذکر نہیں تاہم ملک میں زلزلے اور سیلاب جیسی قدرتی آفات کے موقعے پر کالعدم تنظیمیں امدادی کارروائیوں میں پیش پیش نظر آتی ہیں۔ بظاہر یہ حکم ملک میں انتہا پسندی ختم کرنے کے لیے رواں سال کے اوائل میں متعارف ہونے والے’قومی ایکشن پلان’ کے بعد عمل میں آیا ہے۔
بلاشبہ وطن عزیزمشکل حالات سے گزر رہا ہے اسے ایک طرف دہشت گردی کے عفریت کا سامنا ہے تو دوسری جانب حکومتی نظم ونسق مثالی انداز میں اپنا کام کرنے سے تاحال قاصر ہے۔ وقت آگیا ہے کہ حکام محض عالمی سطح پر اپنی ساکھ بہتر بنانے سے ہٹ کر ٹھوس اقدامات اٹھائیں جن سے مسائل حقیقی معنوں میں حل ہوسکیں۔حکومت وقت موجودہ حالات میں ان عناصر پر بھی کڑی نظر رکھیں جو کالعدم تنظیموں سے نکل کر دوسری تنظیموں کے نام سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اور یہ انشاء اللہ ہمیشہ قا ئم دائم رہیگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم آپس میں اتفاق اتحا د کیساتھ امن، محبت، بھائی چارگی کے فلسفے کو زیادہ سے زیادہ عام کریں۔

Google Analytics Alternative