کالم

میوزیکل چیئر کا کھیل

uzair-column

کپتان نے ہمیشہ ہی سے خاص موقعو ںپر خاص فیصلے کیے ،اب ان کا اثر منفی تھا یا مثبت یہ تو کپتان کو ساتھ ساتھ پتہ چلتا رہا مگر شاید وقت کے ساتھ ساتھ سبق نہیں سیکھا ،ڈرون حملوں کیخلاف کے پی کے میں جاکر دھرنا دیا ،کہا کے نیٹو کی سپلائی روکیں گے دھرنا دیتے دیتے اچانک دھرنے کو ختم کردیا گیا اس کا کیا رزلٹ نکلا یہ وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آتا گیا ۔اسلام آباد میں دھرنا دینے کا فیصلہ کیا گیا ،لاہور سے جلوس چلا ،اسلام آباد پہنچے اور پھر یہاں سے بھی بغیر کچھ حاصل کیے دھرنا ختم کردیا گیا ۔اس دھرنے کو ناکام بنانے میں وزیراعظم نوازشریف کی سیاسی ڈپلومیسی انتہائی کامیاب رہی ۔یوں عمران خان اور طاہرالقادری تہی دامن واپس روانہ ہوگئے ۔کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کپتان صاحب کس وقت کیا کر بیٹھیں ۔کے پی کے میں آرمی پبلک سکول پر دہشتگردوں کا حملہ ہوا اس کے لہو چھینٹے ابھی سوکھے نہ تھے کہ نیا پاکستان بننے سے پہلے ہی کپتان نے ریحام خان سے شادی کرلی ۔ابھی شادی کا شور شرابہ چل رہا تھا ،ریحام پورے پاکستان کی بھابھی بن چکی تھیں ،سفر رواں دواں تھا کہ کچھ تھوڑی تھوڑی سی خبریں آنا شروع ہوگئیں ۔ریحام کو سیاست سے روک دیا گیا ،اسی دوران بلدیاتی انتخابات سر پر آن پہنچے ۔بڑے شوروغل سے تیاریاں شروع تھیں کہا جارہا تھا کہ پنجاب میں تو پاکستان تحریک انصاف سویپ کرے گی ۔بس کچھ دنوں کا فاصلہ تھا نامعلوم اچانک کیا ایسے مسائل درپیش ہوئے کہ کپتان اورریحام خان میں علیحدگی ہوگئی ۔اس علیحدگی کے انتخابات پر بہت برے اثرات پڑے ،اس کے بعد کچھ عرصے کیلئے خاموشی رہی پھر ریحام خان نے ٹوئیٹ کرنا شروع کردیا،کبھی پشتو کے ٹپے توکبھی کوئی بات ،تو کبھی کوئی بات ،یقینی طورپر اس سے بھی پاکستان تحریک انصاف کو نقصان پہنچنا شروع ہوگیا۔بہرحال چونکہ کپتان ایک سپورٹس مین ہے اوراس کے مضبوط اعصاب ہیں اس لیے پھر وہ سیاست میں اسی طرح رواں دواں ہوگئے ۔اب بلدیاتی انتخابات کیلئے اپنی مہم کو مزید موثر بنانے کیلئے جماعت اسلامی کیساتھ گٹھ جوڑ کیا اور دونوں جماعتیں کراچی پہنچ گئیں کہ مزار قائد پر انہوں نے ایک جلسہ عام سے خطاب کرنا تھا یوں لگ رہا تھا کہ جیسے پورا کراچی امڈ آیا ہو مگر راستے ہی میں پاکستان تحریک انصاف اورجماعت اسلامی میں کچھ تحفظات ابھر کر سامنے آنا شروع ہوگئے ۔کہا یہ جانے لگا کہ کراچی کی ریلی کو پاکستان تحریک انصاف نے ہائی جیک کرلیا ہے ۔زیادہ بینرز اورتصاویر پاکستان تحریک انصاف کی تھیں ۔یوں محسوس ہوا کہ کچھ خلش زیادہ ہی ہوگئی پھر وہی کیا جو کہ کپتان ہمیشہ کرتا ہے ۔راستے ہی سے ریلی کو خدا حافظ کیا اور واپس چلے گئے ۔سراج الحق ریلی لیکر اپنے مقام پر پہنچے اور انہوں نے خطاب بھی کیا ۔اب عمران خان کے واپس جانے سے کیا نتائج نکلتے ہیں ۔اس سے تو شاید کپتان بے خبر ہی ہوگا کیونکہ سجی سجائی محفل جو کہ پی ٹی آئی لوٹ سکتی تھی وہ چھوڑ کرچلی گئی اور میدان جماعت اسلامی کے ہاتھ میں دیدیا ۔کراچی میں چونکہ ایم کیو ایم کا بھی ایک بااثر حلقہ موجود ہے اور عرصہ دراز سے وہ کراچی میں راج کررہے ہیں ۔ان کوگرانا بھی کوئی اتنا آسان کام نہیں ہے ۔اسلام آباد میں اسد عمر نے کہا کہ یہاں کے میئر کا فیصلہ پی ٹی آئی کرے گی ۔کراچی میں بھی کپتان نے کہا کہ میئر ہمارا ہوگا ۔اب یہ جو میئر کیلئے میوزیکل چیئر کا کھیل تھا یہ تو بگڑ چکا ۔اسلام آباد کی چیئر بھی ہاتھ سے نکلتی جارہی ہے اور کراچی کی چیئر کا تو حال ہی کچھ اور ہے کیونکہ جو کام آدھے میںچھوڑ دیا جائے وہ کیونکرکامیاب ہوسکتا ہے ۔کپتان کے ان یوٹرنوں نے نہ صرف کپتان کو بلکہ پی ٹی آئی کو بے تحاشا نقصان پہنچایا ۔راقم کی تو یہ رائے ہے کہ کپتان کو چاہیے کہ وہ سیاست کے بجائے فلاحی کاموں پر زیادہ توجہ دیں کیونکہ اس میں انہیں کامیابی حاصل ہوتی ہے ۔لاہور میں شوکت خانم ہسپتال بنایا اب پشاور میں بھی یہ ہسپتال تعمیر ہونے جارہا ہے ۔اس حوالے سے عوام بھی دل کھول کر عمران خان کی مدد کرتی ہے ۔چونکہ سیاست ایک مستقل مزاجی کا نام ہے اس میں جب تک آپ یکسانیت سے نہیں چلیں گے اس وقت تک آپ کو کوئی مثبت نتائج نہیں مل پائیں گے لمحے پر اچانک اورانہونا فیصلہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے ۔بلدیاتی انتخابات سے پہلے ریحام خان کی علیحدگی اتنا بڑا نقصان ثابت ہوا ۔پھر اس کے بعد ریحام کے پشتو کے ٹپے پتہ نہیں کیا کیا پیغامات دے رہے ہیں وہ نام لیکر تو نہیں کہتیں مگر ظاہر ہے کہ جس کیلئے بھی کہہ رہی ہےں عوام کو تو خوب سمجھ آجاتا ہے ۔اب وہ الیکٹرانک میڈیا میں واپسی کیلئے پرتول رہی ہیں ۔سنا جارہا ہے کہ کسی نجی چینل سے ان کا معاہدہ بھی ہوچکا ہے ۔وہ دسمبر تک شاید دوبارہ سے میڈیا کو جوائن کرلیں گی اور پھر ریحام خان ہونگی ،میڈیا ہوگا ،پاکستان تحریک انصاف ہوگی،کپتان ہوگا ،تجزئیے ہونگے ،مہمان ہوں گے ،تیکھے تیکھے سوالات ہوں گے ،انوکھے انوکھے انکشافات ہونگے ۔بات صرف یہاں تک نہیں ٹھہرے گی نامعلوم کہاں تک نکل جائے ۔اس سیلاب کو آنے سے پہلے پل باندھنا ہوگا ،آپس میں کوئی باہمی رضا مندی سے معاہدہ کرنا ہوگا تاکہ بہت زیادہ معاملات خراب نہ ہوں ۔کیونکہ اس یوٹرن نے کپتان کو کہیںکا بھی نہیں چھوڑا لہذا کم از کم اگر کچھ کرنا ہے تو مستقل مزاجی کو اپنائیں تاکہ کسی جگہ تو قدم براجمان کرسکیں ۔

بھارتی سیکولر ازم بنام عامر خان !

asghar-ali

بالی وڈ اداکار نے کہا ہے کہ ” پچھلے ایک ہفتے سے ان کی ذات کی بابت جس شدید رد عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے ، اس نے ثابت کر دیا ہے کہ انھوں نے بھارت میں ببڑھتی عدم رواداری کی بابت جو کچھ کہا وہ بالکل سچ تھا “ ۔ مبصرین کے مطابق تیئس نومبر کو بھارتی فلم انڈسٹری کے اداکار عامر خان نے کہا کہ ” پچھلے چھ سے آٹھ مہینوں سے وہ محسوس کرتے ہیں کہ دیش میں عدم تحفظ اور خوف کا احساس بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اسی ماحول کی وجہ سے ان کی اہلیہ ”کرن راﺅ “ ( جو خود بھی ہندو ہیں ) نے ایک سے زائد مرتبہ کہا ہے کہ اس ماحول میں رہنا بڑا کٹھن ہے اس لئے اچھا ہو گا کہ بھارت سے نکل کر کسی دوسرے ملک میں سکونت اختیار کی جائے “ ۔ عامر خان نے ان خیالات کا اظہار کثیر الاشاعت بھارتی انگریزی اخبار ” انڈین ایکسپریس “ کے بانی کی یاد میں منعقدہ ” رام ناتھ گونیکا ایکسیلنس ایوارڈز “ کی تقریب میں کیا ۔ انھوں نے یہ سب کچھ ایک سوال کے جواب میں کہا تھا ۔ انھوں نے اپنی بات کو تفصیل سے بیان کرتے کہا کہ ” ان کی اہلیہ نے ان سے ملک چھوڑنے کی بات کہی تھی کیونکہ وہ اپنے بچوں کی حفاظت کو لے کر بڑی فکر مند ہیں “ ۔ عامر خان کا یہ کہنا تھا کہ ” پورے بھارت میں جیسے ایک آگ سی لگ گئی ہو “ ۔
ایک دوسرے اداکار انوپم کھیر نے ( جو BJP کے کٹھ پتلی مانے جاتے ہیں ) ٹویٹ کر کے عامر خان پر شدید تنقید کی ۔ واضح رہے کہ انو پم کھیر کی بیوی ” کرن کھیر “ BJP کی رہنما ہیں اور 2014ءکے لوک سبھا چناﺅ میں وہ چندی گڑھ سے BJP کے ٹکٹ پر لوک سبھا کی رکن منتخب ہوئی تھیں ۔ ایک دوسرے بھارتی فلم اداکار ” پریش راول “ نے بھی اپنے ٹویٹ میں عامر خان کی مخالفت کی اور کہا کہ ” انھیں دیش چھوڑنے کی بجائے بھارت میں پیدا ہونے والی صورتحال کو بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ اگر کوئی مسئلہ بھی ہے تو ایک سچے دیش بھگت کی طرح مادر وطن چھوڑنے کی بجائے اچھے ماحول کی تعمیر کرنی چاہیے ۔“ ۔ BJP کی مرکزی وزیر ” نرنجن جیوتی “ نے تو عامر خان کو پاکستان کا ایجنٹ تک کہہ ڈالا ۔ BJP کے ایک اور رہنما ” سوامی ادتیہ نند “ نے کہا کہ ” عامر خان جتنی جلدی ہو سکے بھارت خالی کر دیں تا کہ اس کے نتیجے میں بھارت سے مسلمانوں کی تعداد کم ہو سکے ۔ شیو سینا کی پنجاب شاخ کے سربراہ ” اوم ٹنڈن “ نے تو یہاں تک زہر اگلا کہ جو شخص عامر خان کو تھپڑ مارے گا ، وہ اسے انعام میں فی تھپڑ ایک لاکھ روپے دیں گے “ ۔
یہ بات یہیں تک نہیں رکی ۔ بھارتی فلموں کے گلوکار ” ابھی جیت “ نے تو ” دلیپ کمار “ ، ” مینا کماری “ تک کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے کہا کہ ” دلیپ کمار اور مینا کماری نے اپنی پہچان چھپانے کے لئے اپنے نام تو بدل ڈالے لیکن وہ دل سے بھارت کے محب وطن نہیں تھے بلکہ اپنے مسلمان ہونے پر فخر کرتے تھے اس لئے کسی مسلمان اداکار کی فلم دیکھنا ایک بڑا اخلاقی جرم ہے ۔ RSS کے ترجمان جریدے ” پنج جنیو “ اور شیو سینا کے اخبار ” سامنا “ نے عامر خان اور دوسرے سبھی بھارتی مسلمانوں کو سانپ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ” سانپ کے بچوں کو جتنا بھی دودھ پلاﺅ ، وہ کبھی بھارتی نہیں ہو سکتے“ ۔
اس تمام صورتحال پر تبصرہ کرتے غیر جانبدار مبصرین نے کہا ہے کہ ہندوستان کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اس برس فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں جان سے مرنے والوں کی تعداد گذشتہ برس یعنی 2014ءکے مقابلے میں کچھ کم ہوئی ہے ۔ جنوری سے اکتوبر تک 86 لوگوں کی موت ہوئی ہے جبکہ پچھلے برس ( 2014ء) میں جنوری تا اکتوبر 90 لوگ اس ضمن میں مرے تھے لیکن دوسری طرف فرقہ وارانہ فسادات کی بات کریں تو پچھلے برس کے مقابلے میں اس بار بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے “ ۔ اس برس اکتیس اکتوبر تک ایسے چھ سو تیس واقعات پیش آئے جبکہ پچھلے برس اسی عرصے کے دوران پانچ سو اکسٹھ فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے ۔
اس برس اکتوبر تک ایسے واقعات میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 1899 ہے جبکہ پچھلے برس یہ تعداد 1688تھی ۔ مہا راشٹر کے شہر ” دھولے “ اور یو پی کے ” مظفر نگر “ میں بڑے فسادات ہوئے ۔ اس ضمن میں یہ اہم بات یہ ہے کہ بھارتی وزارتِ داخلہ کے پیمانوں کے مطابق بڑا فرقہ وارانہ فساد وہ شمار ہوتا ہے جس میں کم سے کم پانچ لوگوں کی موت اور دس سے زائد زخمی ہوئے ہوں ۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر فرقہ وارانہ فساد اسے مانا جاتا ہے جس میں ایک شخص کی موت اور دس تک زخمی ہوں ۔ گذشتہ ہفتے بھارتی پارلیمنٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی میں پیش کردہ رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2015ءتک دو اہم ترین فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ۔ پہلا فرید آباد ( ہریانہ ) میں ایک مسجد کی تعمیر کو لے کر جھگڑا اور ” دادری “ میں ممنوعہ جانور کو مارنے کی افواہ پر ایک مسلمان ” محمد اخلاق “ کی ہتیا ۔ بھارت سرکار کی اس رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا کا بڑھتا غلط استعمال بھی ایسے غلط واقعات کی بڑھوتری میں مدد گار ثابت ہو رہا ہے ۔
غیر جانبدار مبصرین کے مطابق جب خود ملک کا سربراہ اور دوسرے وزراءکھل کر مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے خلاف زہر اگل رہے ہوں تو ایسی صورتحا ل کا پیدا ہونا کوئی حیرانگی کی بات نہیں البتہ یہ بات عجیب ضرور ہے کہ عالمی برادری اس طرف کوئی دھیان نہیں دے رہی جس کے نتیجے میں نہ صرف بھارت میں ہندو جنون کو بڑھاوا مل رہا ہے بلکہ خوف یہ بھی ہے کہ اس صورتحال کے نتیجے میں جنوبی ایشیاءکے پورے خطے بلکہ پوری دنیا میں شدت پسند سر گرمیوں میں تیزی آ سکتی ہے ۔

نکلنے کو تو ہاتھی نکل جائے پھنسنے کوآئے تو دُم پھنس جائے . . . ؟

azam-azim-azam

اَب یہ بات بھارتی عدالتوں اور قانون دانوں کے لئے اچھی ہے کہ بُری مگر بات ہی کچھ ایسی ہے کہ یقینا اِس سے بھارتی عدالت اور قانون کے رکھوالے خود بھی مذاق بن کر ضرور پریشان بھی ہوگئے ہوں گے جب پچھلے دِنوں بھارتی ریاست نئی دہلی کی ایک عدالت نے ایک ایسا فیصلہ دیاکہ عدالت کا یہ فیصلہ نہ صرف بھارتی میڈیا بلکہ ساری دنیا کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی بھی زینت بن گیاہے خبرہے کہ ”بھارتی ریاست نئی دہلی کی ایک عدالت نے 25برس قبل سرکاری فنڈ میں 11روپے کا گھپلا کرنے والے ایک اسپتال کے دوملازمین کو ایک برس قید کی سزاسُنائی ، سزاپانے والوں میں ایک نرس اور ایک میڈیکل اسسٹنٹ شامل ہے یہاں حیرت انگیز بات یہ بھی ہے کہ سزاپانے والے یہ دونوں ملازمین 10برس قبل ریٹائر بھی ہوچکے ہیں جبکہ وکیل صفائی وریندرکمار کا کہنا ہے وہ فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے اُن کاکہناہے کہ اِس مقدمے کی سماعت کے دوران میرے موکلین کے 3لاکھ سے زائد رقم خرچ ہوگئی ہے جبکہ اُنہوں نے اپنے موکلین کا موزانہ کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی بھارت میں حکمران ، سیاستدان،صنعتکار اوراداروں کے سربراہان سمیت حکومتی چیلے چپاٹے سیکڑوں، ہزاروں ، لاکھوں، کروڑوں، اربوںاور کھربوں روپے لوٹ کر بھی آزادی اور آرام گھوم رہے ہیں اور ماضی میں بھی کئی حکمران اور حواریوں کے ساتھ بھارتی خزانہ لوٹ کر چلے گئے یا مرکھپ گئے مگر آج تک اِنہیں تو پکڑنے کے لئے کوئی بھارتی قانون حرکت میں نہیں آیا مگر بھارتی عدالت نے 25برس قبل صرف 22روپے کا گھپلا کرنے والے میرے دو موکلین کو سزاسُنا کر بھارتی عدالت کی ایک ایسی تاریخ رقم کردی ہے اِن کایہ بھی کہناتھا کہ آج بھارتی عدالت کے اپنی نوعیت اِس انوکھے فیصلے سے گاندھی جی کی آتما(روح ) بھی تڑپ اٹھی ہوگی کہ اِن بھارت میں عدالتیں گیارہ روپے کا گھپلا کرنے والوں کو تو سزادے رہی مگر عدالتیں موجود وزیراعظم نریندرمودی اور ہندوطالبان اور انتہاپسندوں کو قومی خزانے سے لوٹ مارکرنے اور کرائے کے قاتلوں سے بھارت میںصدیوں سے آباد ایک ساتھ رہنے والے مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں پر شب خون مارکرسیکولربھارت کا چہرہ مسخ کرنے والوں کو لگام دینے کے لئے کیوں نہیںحرکت میں آرہی ہیں..؟
آج اِسے دنیا بھارتی عدالت کا کوئی قابلِ قدر کارنامہ کہیں گی..؟ یا دنیا یہ سمجھے گی کہ بھارت میں حکمران اور بھارتی ادارے اور امیراپنے قانون کی دھجیاں اِس طرح بکھیرتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ جیسے بھارتی عدالت اِن کے ہاتھوں خود ہی لٹو بن کر غریبوں کے لئے حرکت میں رہتی ہے اور گیارہ روپے کا گھپلا کرنے والوں کو سزادے کر خود یہ ثابت کررہی ہے کہ آج بھارتی عدالت حکمرانوں، سیاستدانوںاور امیروں کی رکھیل ہے اور بس…
ایسا لگتاہے کہ جیسے ہرزمانے کی ہر تہذیب کے ہر معاشرے میں ایسا ہی ہوتاآیا ہے کہ قانون کی چھوٹ اور پکڑ کے معاملے میں ” نکلنے کو ہاتھی نکل جائے پھنسنے کو آئے تو دُم ہی پھنس جائے“ آج تک یہ معاملہ اہلِ دانش اور عام اِنسانوںکی سمجھ سے باہر ہے کہ ایسا کیوں ..؟اور کیسے اور کس لئے ہوتا ہے..؟ ایسا کرنے والے کون سے لوگ اور عناصر ہوتے ہیں..؟ جو جب چاہیں اور جس طرح سے چاہیںایسا کرکے دنیا کو حیران اور شسدر کردیتے ہیں..؟ بہرحال ..! ہمیشہ سے اہلیانِ دانش اور فکروفن کا یہی خیال رہا ہے کہ ” کسی بھی زمانے کی کسی بھی تہذیب کے کسی بھی مُلک کے کسی بھی معاشرے کے لئے بنائے جانے والا کیسا بھی لکھا ہوا ہو وہ” تحریری قانون مکڑی کے جالے کی مانندہے، کمزور اِس میں پھنس جاتاہے اورطاقتورتوڑ کرنکل جاتاہے“ایک اور جگہ زمانوں کی اقوامِ کے دانشواروں کا یہ کہنا ہے کہ ”کسی مُلک کا تحریری دستوراور قانون بظاہرکتناہی ارفع واعلیٰ ہو لیکن اگر اِس کے نافذ کرنے والے اچھے اخلاق کے مالک نہ ہوں تو اِس صُورت میں بھی دستورو قانون اپنی تمام خوبیوں ، راعنائیوں اور خصوصیات کے باوجود بھی اپنی افادیت کھودیتاہے“ جبکہ اِسی نکتہ نگاہ کو سامنے رکھتے ہوئے لادرڈ ہیلی فیکس کا یہ کہنا ہے کہ ” اگر قانون کی زبان ہوتی تو سب سے پہلے قانون دانوں کی شکایت کرتا“اور اِسی طرح ول ڈیورنٹ کا قانون سے متعلق یہ خیال ہے کہ ” جانور ایک دوسرے کے بغیر کسی ہچکچاہٹ یا ضمیر کی خلش کے کھاجاتے ہیں اور مہذب اِنسان ایک دوسرے کو ہڑپ کرنے کے لئے قانون کا سہارالیتے ہیں“ یعنی کہ دنیا میں جتنے بھی زمانے اور زمانوں میں جتنی بھی تہذیبیں اور اِن تہذیبوں میں جتنے بھی معاشرے اور اِن معاشروں میں جتنے بھی خواہ کیسے بھی قوانین بنائے یا مرتب کئے گئے اِن قوانین کو ہمیشہ طاقتوروں نے کمزروں کو دبانے اور اپنی مرضی کی سزائیں دلوانے کے لئے ہی استعمال کیا ہے گو کہ آج کے اِس جدید اور سائنسی زمانے میں بھی قانو ن کا شعبہ ہر مُلک کی ہر تہذیب کے ہر معاشرے میں ایسا ہی اندھا ہے جیسا کہ یہ زمانہ قدیم سے ہے دورِ موجودہ میں کسی مُلک کی کسی تہذیب کے کسی معاشرے میں بھی قانون اپنے دائمی اندھے پن کی وجہ سے کچھ بھی حیران کُن فیصلہ کرسکتاہے کہ جس سے عالمِ اِنسانیت شسدر ہوجائے۔
معاف کیجئے گا..!! یہاں مجھے یہ کہنے دیجئے کہ دنیا کے کسی بھی زمانے کی کسی بھی تہذیب کے کسی بھی معاشرے میں اِنسانوں کی بھلائی اور فلاح کے لئے بنایا جاناوالا کیسا بھی (تحریری یا زبانی ) قانون اُس وقت کا ٹھیک طرح سے نافذ نہیں ہوسکتاہے جب تک کہ اِسے نافذ کرکے عمل کرانے والے خود ٹھیک طرح سے نیک اور ایماندار نہ ہوں یعنی یہ کہ کسی بھی زمانے کی کسی بھی تہذیب کے کسی بھی مُلک کے کسی بھی معاشرے کے اِنسانوں کی اصلاح کے لئے دستور اور قانون کا احترام اُس وقت تک پیدانہیں کیا جاسکتاہے جب تک وہ مُلک کے ہر امیر و غریب پر مساوی اور یکساں طور پرلاگو نہ ہومثلاََ طاقت ور(حکمران ، سیاستدان ، صنعتکار،اور حکمرانوں کے چیلے دیدہ دانستہ اپنے شواہد مٹاکرقومی دولت لوٹ کھائیں اور اپنے مفادات کے خاطر) جس طرح سے چاہیں قانون کو توڑ موڑ کراستعمال کرکے اپنے سارے مفادات حاصل کرلیںتو بھی اِن پر اِس کا اطلاق نہ ہواور اگر اِن کے برعکس کئی روز سے بھوکا پیاسا کوئی غریب اپنے پیٹ میں لگی بھوک کی آگ کو بُجھا نے اور ٹھنڈاکرنے کے لئے دو روٹی چرالے تو قانون فوراََ حرکت میں َ آجاتاہے اِس لئے کہ غریب کو روٹی چراتے سب دیکھتے ہیں اور گواہ بن جاتے ہیں جبکہ کسی بھی مُلک کی قومی خزانے کو لوٹنے اور فراڈ کرنے والے بڑوں کو قومی دولت چراتے کوئی نہیں دیکھتاہے اور اگر کوئی دیکھتابھی ہے تو وہ اِن ہی جیسے بڑے چور ہوتے ہیںجو کبھی اِنہیں بچاچکے ہوتے ہیں اِس لئے کوئی اِن کی حرکت کی گواہی نہیں دیتاہے اور تب دنیا کا قانون اندھا ہوتاہے یہ دنیا کے قانون کی کسی دوآنکھی ہے کہ بڑے قانون توڑیں تو قانون کو کچھ دکھائی نہیں دیتاہے مگر جب کوئی غریب غیرقانونی حرکت کرجائے تو قانون کو سب نظر آنے لگتاہے آج تک اہلِ دانش اور عام اِنسانوں کو دنیا کے قانون کی یہ بات سمجھ نہیں آئی ہے کہ ” قانون کی چھوٹ اور پکڑ کے معاملے میں ” نکلنے کو ہاتھی نکل جائے پھنسنے کو آئے تو دُم ہی پھنس جائے“۔

پی ٹی آئی میں جمہوری محاذ کا ضم ہونا

ejaz-ahmed

 اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک انصاف میںدوسرے سیاسی پارٹیوں سے نئے نئے سیاسی لیڈروں اور چہروں کے شامل ہونے سے پا رٹی طاقت اور قوت میں اضا فہ ہو رہا ہے ۔ پا رٹی میںدوسرے سیاسی لیڈران کے شامل ہونے سے اُنکے حریفوں پر رُعب اور دباﺅ بدستور بڑھ رہا ہے ۔ مگر ہر عمل کا ایک ردعمل ہوتا ہے ۔ جہاں تک پی ٹی آئی میں دوسرے سیاسی لیڈران شامل ہونے سے پارٹی کے طاقت میںا ضا فہ ہورہا ہے تو دوسری طر ف پی ٹی آئی کے اُن بانی کارکنوں میں ،جنہوں نے پا رٹی کی بنیاد رکھی تھی، اُن میں”سٹیٹس کو” پی ٹی آئی میںشامل ہونے سے حد سے زیا دہ تشویش بھی پائی جاتی ہے ۔ ان بانی سر گرم کارکنوں کی وجہ سے پی ٹی آئی 2013ءکے عام انتخابات میں ملک کی دوسری سب سے بڑی سیاسی قوت کے طور پر اُبھری اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز نے2013ءکے عام انتخابات میں ایک کروڑ 48لاکھ ، تحریک انصاف نے 80لاکھ اور پاکستان پیپلز پا رٹی نے 68 لاکھ ووٹ لئے۔2013ءکے عام انتخابات میں کامیابی کا سہرا اُن ورکروں اور پا رٹی کارکنوں کو جا تا ہے, جنہوں نے دن رات ایک کرکے پا ر ٹی کو ایک بڑے مقام پر لے آئی ۔ حال ہی میںصوابی میں ایک جلسہ عام میںجمہوری محا ذ تحریک انصاف میں ضم ہوئی۔یہ ایک خوش آئند بات ہے۔ جمہوری محاذ پا رٹی کا تعلق صوابی سے ہے اور یہ پا رٹی گزشتہ کئی انتخابات میں ضلع صوابی سے صوبائی اسمبلی کی چند سیٹیں اور قومی اسمبلی کی ایک سیٹ جیتتی رہی۔ اگر ضلع صوابی میں تحریک انصاف کی قیادت پر نظر ڈالیں تو میں جو اہم نام ہیں اُن میں صوابی سے یو سف علی خان، انجینیرزبیر، ظہور، انجینیرنواب علی، رنگیز خان ، ڈاکٹر فضل الہی اور اسکے علاوہ ایسے بُہت سارے لیڈر ، قائدین اور کاکنان ہیں جنہوں نے پا رٹی اور عمران خان کے لئے دن رات ایک کرکے اس پا رٹی کو ملکی سطح پر دوسری بڑی پا رٹی بنا دی۔ عمران خان پہلے” سٹیٹس کو” توڑنے کی باتیں کرتے تھے مگر اب وہ” سٹیٹس کو” کو لالا کر پا رٹی میں شامل کر رہے ہیں۔ عمران خان کا خیال ہے کہ” سٹیٹس کو” یعنی روایتی سیاستدانوں کے بغیر وہ الیکشن نہیں جیت سکتے۔ مگر میرے خیال میں عمران خان کی یہ رائے صحیح نہیں۔ کیونکہ نو وارد ذولفقار علی بھٹو جب1971ءمیں پاکستانی سیاست میں آئے تو اُس وقت صوبائی اور قومی اسمبلی کے لئے اُنکے نامزد اُمیدواران کوئی قابل ذکر اور نامی گرامی شخصیات نہیں تھے ۔ مگر اسکے باوجود بھی وہ مغربی پاکستان سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ نشستیں جیت کر مغربی پاکستان میں ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر اُبھرے ۔ حا لانکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے کسی اُمیدوار کا سیاسی پس منظر نہ تھا۔ اور اُس وقت روایتی سیاست دانوں اور سیاسی پا رٹیوں کے خلاف الیکشن لڑنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔۔اب جبکہ جمہوری محاذ پی ٹی آئی میں ضم ہو گئی ہے تو یہاں پر مقامی قیادت میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ یہ پیسے والے لوگ ہیں جو پا رٹی پر قبضہ کر کے پا رٹی قیادت کو سنبھال ے گا ۔ یہ مسئلہ صرف صوابی میں نہیں بلکہ یہ مسئلہ پاکستان کے زیادہ تر حصوں میں ہے جہاں دوسری سیاسی پا رٹیوں کے وڈیرے پاکستان تحریک انصاف میں جوق در جوق شامل ہو رہے ہیں۔ میں تحریک انصاف کے ایسے کا رکنوں کو جانتا ہوں جنہوں نے اس پا رٹی کے لئے زمینیں اور جائیدادیں بیچ بیچ کر پا رٹی کے الیکشن لڑے یا دھرنوں کے لئے بسوں اور گا ڑیوں کا اہتمام اور انتظام کیا ۔ ا ن غریب اور جیالے ورکروں میں صوابی خا ص سے یو سف علی بھی ہے۔ جس نے صوبائی الیکشن کے انتخاب میں حصہ لینے کے لئے اپنے گھر کے آثاثہ جات بیچے مگر پا رٹی اور عمران خان کو اکیلے نہ چھو ڑا۔تحریک انصاف کے قیام کے بعد لوگوں میں یہ اُمید پیدا ہو گئی تھی کہ وہ اس پا رٹی سے قابلیت کی بنیاد پر الیکشن اور پا رٹی کی فیصلہ سازی میں حصہ لے سکیں گے۔ مگر پی ٹی آئی میں دوسرے پا رٹیوں سے بڑے بڑے لوگوں کی شمولیت کے بعد تقریباً پا رٹی سے تعلق رکھنے والے غریب ورکروں کی اُمیدیں ختم ہوگئی ہیں۔جیسے بڑے درخت کے نیچے چھوٹا بو ٹا صحیح طر یقے سے نشوو نما نہیں پا تا اسی طر ح کسی بھی سیاسی پا رٹی میں بڑے بڑے سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کے ہوتے ہوئے غریب ورکر پا رٹی میں جگہ نہیں بنا سکتا۔ لہذاءاب ضرورت اس امر کی ہے کہ عمران خان پی ٹی آئی میں روایتی سیاست دانوں کو شامل کرنا چاہئے مگر خان صا حب کو اُن ورکروز اور کار کنوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے جنہوں انتخابات اور دھرنوں کے دوران پی ٹی آئی اور عمران خان کے ساتھ مل کر قُُر بانیاں دی ہیں۔ کیونکہ عمران خان کا اصل آثاثہ یہی ورکرز اور کارکن ہیں۔ لوگوں نے عمران خان کو ووٹ اسلئے دئے تھے کہ وہ چینج یعنی تبدیلی لائے گا۔ مگر بد قسمتی سے عمران خان کی سپیڈ انتہائی Slowہے اور عام لوگ عمران خان کی پراگریس سے خوش نظر نہیں آرہے ہیں۔ بہر حال عمران خان اور پی ٹی آئی کے پاس اب بھی دو سال کا وقت ہے ، اُسکو ان دوسالوں میں ترقیاتی منصوبوں کاجل بچھانا چاہئے تاکہ آئندہ انتخابات وہ کامیابی حا صل کرسکیں ۔ اب تک عمران خان کا رکرکردگی سے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ عمران خان کنفیوز ہیں اور اُنکو سمجھ نہیں کہ کس کام کو تر جیح دی جائے۔

ہدایت و رہنمائی اللہ کی طرف سے ہے

mir-afsar

جس اللہ نے اس کائنات اور اس کے اندر رہنے والے انسان کو پیدا کیا ہے پھر دنیا کے اندر زندگی گزانے کے لیے ہدایت اور رہنمائی بھی اُس ہی کی طرف سے ہے۔اگر ہم اپنی زمین کو اور اس کے اندر رہنے والے انسانوں کوہدایت و رہنمائی کے حوالے سے کو سمجھنے کی کوشش کریں تو ہم زمین کو تین بڑے حصوں سمندر، صحرا اور پہاڑوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔سمندر زمین کے تقریباً ستر حصے پر ہے،صحرا اور پہاڑ باقی حصے پر واقع ہیں دوسرے لفظوں میں ترقی اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ زہین ایک گاﺅں کی ماند ہو گئی ہے جس میں ہم ایک دوسرے اچھی طرح جانتے ہیں۔سمندر کے ساحل پر رہنے والے ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیںکہ کتنے افراد اس گاﺅں میں رہتے ہیں کیسے ہرروز مچھلیں پکڑنے کے لیے سمندر میں جاتے ہیں کیسے مچھلیاں فروخت کرتے ہیں وغیرہ اسی طرح صحرا اور پہاڑوں میں رہنے والے بھی ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ مگر زمین کے ان تین خطوں میں رہنے والوں نے کبھی سوچا ہے کہ ان سب کو پیدا کرنے والے کو بھی وہ جانتے ہیں کہ نہیں۔ آپ ذرا غور کریں تو آپ کو معلوم ہو گا ایک خود کار طریقہ ہے جسے وہ ہر روز مشاہدہ کرتے اور اگر اس کو مدِ نظر رکھیںتو ان کو خود بخود معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کو پیدا کرنے والا کون ہے۔سمندر کے ساحل پر رہنے والے جانتے ہیں کہ مچھلی سمندر میں رہتی ہے انڈے دیتی ہے انڈوں سے بچے نکلتے ہیں بچے خود بخود تیرنے لگتے ہیں مچھلی پانی سے کچھ دیر باہر رہے تو مر جاتی ہے ۔ہر روز سورج طلوح ہو تا ہے ڈوب جاتا ہے رات ہو جاتی ہے دن نکل آتاہے وغیرہ وغیرہ۔اسی طرح صحرا میں رہنے والوںاور پہاڑوں میں رہنے والے انسانوں کو اپنے ارد گرد ہونے والے سب واقعات کا بخوبی علم ہے ہر روز ان کے مشاہدے میںیہ باتیں آتی رہتیں ہیں۔ مچھرے جانتے ہیں مچھلی مچھلی کو جنم دیتی ہے مچھلی نے کبھی سمندری پرندوں کو جنم نہیں دیا صحرائی جانتے ہیں اونٹ اونٹ کو ہی جنم دیتا ہے اونٹ نے کبھی گھوڑے کو جنم نہیں دیتا۔پہاڑیے جانتے ہیں کہ سیب کے درخت ہمیشہ سیب ہی پیدا کرتے ہیں کبھی بھی خربوزے کو جنم نہیں دیتے۔ اور یہ سب یہ بھی جانتے ہیں کہ کبھی بھی ہمیشہ کے لیے دن ہی نہیں رہتا نہ ہمیشہ رات رہتی ہے بلکہ ہر روز صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے۔ اگر یہ تمام لوگ یہ سب کچھ جانتے ہیں تو یہ بھی خود بخودجانتے ہیں کہ ان سب کو اللہ نے ہدایت اور رہنمائی دی ہے کہ مچھلی سے مچھلی پیدا ہو اونٹ سے اونٹ پیدا ہو اور سیب کے درخت سے سیب ہی پیدا ہو تو ذرا سے غور کے بعد یہ بھی سب لوگ جان سکتے ہیں کہ ان کو بھی پیدا کرنے والا اور ہدایات اور رہنمائی دینے والا ایک ہی اللہ ہے۔ صاحبو! ایک طرف تو اللہ نے اپنی مخلوق کو یہ خود کار نظام دیا کہ وہ خود کو اور اپنے پیدا کرنے والے اللہ کو خود کار نظام کے تحت پہچانیں اور ایک نظام اور بھی اللہ تعالیٰ نے بنایا تھا وہ یہ ہے کہ انسان کو پیدا کرنے سے پہلے ان تمام انسانوں کی روحوں کو پیدا کیا تھا جن کو وہ ازل سے ابد تک پیدا کرنا چاہتاتھا پھر اللہ نے ان سب روحوں کو اپنے سامنے بیٹھا کر ہدایت رہنمائی دی اور عہد لیا تھا وہ یہ تھا۔اللہ نے سب روحوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ کیا میں تمھارا رب نہیںہوں(پیدا کرنے والا) سب نے کہا آپ ہمارے رب ہیں ہم اس کی گواہی دیتے ہیں ۔پھر اس کے بعد اللہ حضرت آدم ؑ اور ہوا کو پیدا کیا اور پھر ان کی نسل سے اب تک کے سارے انسان پیدا ہو رہے ہیں اور آیندہ قیامت تک بھی پیدا ہوتے رہیں گے اللہ نے آدم ؑاور ہواؑ کو پیدا کرے اپنی جنت کے اندر آزمائیش کے لیے رکھا اللہ نے انسان کو پیدا کر کے اپنے فرشتوں سے کہا کہ انسان کو سجدہ کرو سب فرشتوں نے اللہ کا حکم مان کر آدمؑ کے سامنے سجدہ کیا مگر شیطان نے اللہ کا حکم نہیں مانا ۔اللہ نے کہا تم نے میرا حکم کیوں نہیں مانا شیطان نے کہ کہ تم نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا اور مجھے آگ سے پیدا کیا لہٰذا میں انسان سے افضل ہوں ۔ اللہ شیطان کی نافرمانی سے ناراض ہوا اور کہ تم نے تکبر کیا اور اللہ کی نافرمانی کی جا تو راندہ درگار ہوا۔شیطان نے اللہ سے اجازت مانگی کہ تم مجھے طاقت دے کہ میں انسان کو تیری ہدایات اور رہنمائی کے راستے سے ہٹا سکوں اللہ نے شیطان کو اجازت دے دی لیکن ساتھ یہ بھی کہا تو صرف وسوسوںاور جھوٹے وعدوں سے ہی انسان کوہدایت اور رہنمائی کے راستے سے ہٹا سکے گا زبردستی سے کسی انسان کو ہدایت اور رہنمائی سے نہیں ہٹا سکے گا۔ پھر اللہ نے آدمؑ اور ہواؑ سے کہا تم میری جنت کے اندر رہو مگر یاد رکھنا شیطان کے وسوسوں اور جھوٹی وعدوںکے جانسے میں نہ آنا۔ یہ درخت ہے اس ے قریب نہ جانا ورنہ میری ہدایت اور ر ہنمائی سے بھٹک جاﺅ گے آدم ؑکو شیطان نے کہا اللہ نے تمھیں اس درخت کے چھونے سے اس لیے روکا ہے کہ تمھیں ابدی حیات نہ مل جائے ۔آدمؑ اور ہواؑ شیطان کے جھانسے میں آ گئے اور اُس درخت کوچھو لیا۔ اللہ آدم سے ناراض ہوا۔ آدم ؑنے اللہ سے معافی کی دعا مانگی۔ اللہ نے آدمؑ کو معاف کر دیا ۔ پھر اللہ نے آدمؑ ،ہواؑ اور شیطان تینوں کو جنت سے نکال کر اس دنیا میں پھر آزمانے کے لیے چھوڑ دیا اور کہا کہ میری ہدایت اور رہنمائی پر عمل کرو گے تو پھر جنت میں داخل کروں گا اور اس سے ہٹ کر پھرشیطان کے وسوسو ں اور جھوٹے وعدوں کے پیچھے پڑوںگے تو دوزخ میں ڈالوںگا یہاں ہمیشہ رہو گے۔ اللہ نے کیونکہ انسان کو کمزور پہلے سے ہی پیدا کیا تھا یعنی اس کے پیٹ کے اندر بھوک، شہوت، دولت،سرداری، جاہ وجلال، اقتدار اور نہ جانے کیا کیا چیزیں رکھیں ہیں کہ وہ اس آزمائیش کرے ۔انسان اپنی کمزوری کی وجہ سے اللہ کی ہدایات اور رہنمائی سے بار بار ہٹ جاتا ہے پھر بھی اللہ نے اس کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہوا ہے۔ انسان توبہ کرے اور اللہ کا پسندیدہ بندا بن جائے تو اللہ پھر انسان کو معاف کر دے گے جیسے پہلے معاف کر چکا ہے۔ پھر اللہ نے انسان کو بھولا ہوا سبق یاد کرانے کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہراز پیغمرؑ زمین میں بھیجے تاکہ انسان کو ہدایت اور رہنمائی پر قائم رہنے کے لیے مدد کرتے رہیں۔ اسلام کا یہ فلسفہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ پہلا انسان عقل اور شعور کے ساتھ پیدا کیا گیاتھا وہ صحیح اور غلط کو سمجھ سکتا تھا ۔ آج مغرب کے سائنسدانوں نے یہ نظریہ گھڑا ہے کہ انسان جانور یعنی بندر سے ارتقاءکرتے کرتے موجودہ شکل میں پہنچا ہے یہ باطل نظریہ ہے۔اگر بفرض محال مغربی سائنسدانوں کی یہ بات مان بھی لی جاتی ہے تو کیا آگے ارتقائی عمل سے انسان کیابنے گا کیا واپس بندر یا ہاتھی بن جائے گا؟ نہیں نہیں انسان انسان تھااور انسان ہی رہے گا۔صاحبو! ہر دور کا انسان ان ہی انسانی باطل نظریات کے پیچھے پڑھ کر تباہی کے گھڑے تک پہنچتا رہا ہے اور آج بھی پہنچ چکاہے۔ ایسے ایسے ایٹمی اور کیمیائی ہتھیار بنا لیے گئے ہیں کہ ایک پل میں ساری دنیا کو ملیا میٹ کردیں۔آج ہر طرف اپنے اقتدار اور انسانوں کو اپنا غلام اورباطل نظریات پر چلانے کے لیے خون میں ڈبو دیا ہے ایک خود کش انسان ہزاروں انسانوں کو بم پھاڑ کر موت کی نیند سلا دیتا ہے انسانیت سسک رہی ہے۔انسانی باطل نظریات کے پیچھے پڑے انسان کو پھر اللہ کی ہدایت اور رہنمائی کی ضرورت ہے۔توبہ کادروازہ اللہ نے ہمیشہ کھلا رکھا ہے ۔ اللہ کے فرشتے پکار رہے ہیں،ہے کوئی ہدایات اور رہنمائی پانے والا؟ کافروں کو ایک طرف رکھ دو انہوں نے تو ہدایات اور رہنمائی کی طرف رجوع نہیں کرنا بلکہ اپنے باطل نظریات پر عمل کرنا ہے جو سیدھاتباہی کی طرف جاتا ہے ویسے بھی قرآن کے مطابق ان کے لیے تو اللہ نے دوزخ بن رکھی ہے۔ مگراے دنیا کے مسلمانوں اللہ کی یہ بات پلے باندھ لو کہ دنیا کے ملکوں کی چلت پھرت تمھیں ہر گز دوکھے میں نہ ڈالے یہ تو چند روزہ ہے آخرت ہمیشہ کے لیے ہے۔ آخرت کا چناﺅ کرو اور پھر سے اللہ کے بندے بن جاﺅ جیسے رسولاللہ کے زمانے میں، پھر خلفائے راشدین ؓکے زمانے اور پھر بعد میں کے شروع کے زمانے میں تھے ۔اللہ نے تمھیں دینا میں بھی اقتدا ر بخشا تھا اور آخرت کا وعدہ تو تم ہی سے ہے۔ توبہ کرو پھر سے ویسے ہی مسلمان بن جاﺅ۔دنیا رہنمائی کے لئے تمھاری طرف دیکھ رہی ہے۔ اللہ نے ہمارے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر ہدایات اور رہنمائی مکمل کر دی تھی تم اللہ کے رسول کے نائب ہو۔ اللہ کا قرآن اور اللہ کے پیغمبر کی سیرت تمھارے پاس موجود ہے اُس پر عمل کرکے کھویا ہو ا مقام پھر حاصل کر سکتے ہوں۔ اللہ کے پیغام کو یاد رکھوں غم نہ کرو تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔ اس دور کے مسلمانوں کی مشکلات کا یہی ایک راستہ ہے اللہ ہمیں اپنی ہدایات اور رہنمائی پر پھر سے دے دے آمین۔

کابل اور دہلی ایک بار پھر باہم شیر و شکر

riaz-ahmed

افغان حکومت ملک میں طالبان کی مسلح بغاوت کے خلاف کامیاب جنگ کے لیے بھارت سے چار جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ ہیلی کاپٹر روسی ساختہ Mi-25 طرز کے لڑاکا ہیلی کاپٹر ہوں گے۔ افغانستان اور بھارت کے مابین دفاعی شعبے میں تعاون کا یہ معاہدہ اپنی مالیت میں بہت بڑا تو نہیں لیکن کابل کی طرف سے اس طرح اپنے لیے اتحادیوں کی تلاش کا یہ عمل ممکنہ طور پر ہمسایہ ملک پاکستان کو ناراض کر سکتا ہے۔
افغان حکومت کا کہنا ہے کہ طالبان کو شکست دینے کے لیے فضائی طاقت کی خصوصا جنگی ہیلی کاپٹروں کی اشد ضرورت ہے جبکہ امریکہ نے افغان فورسز کو کم طاقتور مکڈونلڈ ڈگلس ایم ڈی 530 ہیلی کاپٹر فراہم کرنے پر اتفاق کیا جنہیں ہتھیاروں سے لیس کیا جا سکتا ہے مگر افغان افسر بڑے اور مضبوط روسی ہیلی کاپٹروں کو ترجیح دیتے ہیں۔
2011 میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے سٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے کے بعد بھارت کی طرف سے افغانستان کو یہ جنگی سازوسامان کی پہلی فراہمی ہو گی۔ اس معاہدے پر پاکستان نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔اس سے قبل بھارت افغانستان کو کم طاقت والے ہیلی کاپٹر، گاڑیاں اور فوجی تربیت فراہم کر چکا ہے۔ افغانستان نے بھارت کے علاوہ روس سے بھی فوجی سازوسامان خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔نئی دہلی ہیلی کاپٹروں کو اڑا کر کابل نہیں پہنچا سکتی کیونکہ ایسا کرنے کے لیے انہیں پاکستان کی فضائی حدود میں سے گزرنا پڑے گا۔ اس لیے ان ہیلی کاپٹروں کے حصوں کو علیحدہ کر کے انہیں جہاز کے ذریعے افغانستان پہنچایا جائے گا۔نئی دہلی کو ہیلی کاپٹروں کی منتقلی کے لیے روس سے بھی اجازت لینا پڑے گی کیونکہ یہ ہیلی کاپٹر روس سے خریدے گئے تھے۔
افغانستان کی قومی سلامتی کے محکمہ نے کھلم کھلا پاکستان پر اپنی نوعیت کا انتہائی مضحکہ خیز اور بے بنیاد ایک الزام یہ لگایا ہے کہ کابل میں بھارتی تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی پاکستان میں تیار کی جاتی ہے ۔مزید یہ کہا کہ بھارت سمیت دیگر غیر ملکی اہداف پر حملوں کی منصوبہ بندی بھی پاکستان میں موجود طالبان اور دیگر انتہاپسند تنظیموں کی پناہ گاہوں میں تیار کی جاتی ہیں۔ اصل میں افغانستان ایک بار پھر بھارت کی گود میں جانے کی تیاریاں کر رہا ہے اس لئے ضروری ہے کہ وہ پاکستان پر بے بنیاد اور من گھڑت الزامات عائد کرے ۔ حامد کرزئی کے بعد اشرف غنی کے منہ میں بھی بھارتی زبان بول رہی ہے۔
افغانستان نے ہی اپنے ملک میں پاکستان کی سرحدوں کے ساتھ بھارت کے 24کونسل خانے کھلوا کر سرحد اور بلوچستان میں پاکستان کی تباہی کے مکمل سامان پیدا کرنے کی گھناونی کوششیں کی ہوئی ہیں ۔ اِسی طرح ساری دنیا کو یہ بات بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ آج پاکستان سے متعلق جو زہر اگلا جا رہا ہے وہ بھارت، اسرائیل اور امریکہ کی شہ پر ہے۔
دنیا جانتی ہے کہ دہشت گرد افغانستان سے آکر پاکستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ہماری حکومت نے بار ہا کہا کہ افغان حکومت کنٹر سے باجوڑ اور مہمند ایجنسی میں دہشت گردوں کا داخلہ روکنے کے لئے بارڈر سیل اور خفیہ معلومات کا فوری طور پر تبادلہ کرے مگر افغان حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی۔
افغانستان 1979 میں پاکستان کے کئے جانے والے احسانوں کو بھول کر آج بھارت کی گود میں جا بیٹھا اور بھارت، امریکا اور اسرائیل کی جانب سے پاکستان سے متعلق آنے والی ہدایات پر پاکستان پر بہتان ترازی کی انتہا کو پہنچ کر ساری دنیا میں پاکستان کو دہشت گرد ملک گردانے میں لگا ہوا ہے حالانکہ افغانستان خود ایک مدت سے دہشت گردوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ آج بھی امریکا بھارت اور دیگر کو کسی بھی دہشت گرد کی تلاش ہوتی ہے تو یہ اِسے افغانستان سے ہی ڈھونڈ نکالتے ہیں۔
بھارت ایک بار پھر افغانستان میں اپنے قدم جما رہا ہے۔ اسلحے کے معاہدے کر رہا ہے۔ سیکورٹی اداروں کی ٹریننگ کا ذمہ لے رہا ہے۔ سو سے زائد قونصل خانے تعمیر کرچکا ہے۔ افغانستان کی تعمیر و ترقی کے نام پر افغانستان کو اپنی گرفت میں لے رہا ہے۔
پاکستان کے اندر دہشت گردوں کے خلاف زبردست کارروائی ہورہی ہے۔ دہشت گردوں کے سب سے بڑے گڑھ شمالی وزیرستان سے ان کا صفایا جاری ہے۔ افواج پاکستان کو اس سلسلے میں بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ مگر اس سلسلے میں مکمل کامیابی کا انحصار افغانستان کے رویے اور اسکے تعاون سے مشروط ہے۔ پاکستان نے افغانستان کو کارروائی سے پہلے اطلاع دی تھی کہ فوج دہشت گردوں کے خلاف شمالی وزیرستان میں ایک بڑی کارروائی کاآغاز کررہی ہے۔ اس میں تعاون کی صورت میں دہشت گردوں کا صفایا ہوسکتا ہے اور دونوں ملک آئندہ زیادہ پر امن طریقے سے تعلقات جاری رکھ سکیں گے، اگرافغانستان ان دہشت گردوں کے افغانستان فرار ہونے کے تمام راستے بند کردے۔ پاکستانی فوج نے زبردست کارروائی کی لیکن افسوس کی بات ہے کہ افغانستان نے تعاون نہیں کیا ۔ اپنی سرحدوں کو بند نہیں کیا اور دہشت گردوں کو فرار ہونے کاموقع فراہم کیا۔ یوں دہشت گرد فرار ہوگئے۔ آج کل ان کی بڑی تعداد افغانستان میں ہے۔ افغانستان اور اس کے حکمران یہ بات محسوس کررہے ہیں کہ انہوں نے غلطی کی اور دہشت گردوں کو افغانستان میں داخل ہونے کا موقع فراہم کیا بلکہ بعض سرحدی محافظین نے ان کی مدد کی اور ان کو پاکستان سے بچ نکلنے کا موقع دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ طالبان نے افغان حکومت پر حملے تیز کردئیے۔ افغانستان کے دور دراز علاقوں میں طالبان دہشت گردوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ آئے دن ایک آدھ ضلعی ہیڈ کوارٹرز پر قبضہ ہوتا ہے۔ درجنوں سپاہی ہلاک اور زخمی ہورہے ہیں یہ سب کچھ افغان طالبان کی طاقت میں اضافہ کے بعد ہوا ہے۔ پاکستانی طالبان افغانستان پہنچ گئے او روہاں پر حالات زیادہ خراب ہوگئے۔ اگر افغانستان تعاون کرتا اور پاکستان کی مدد کو آتا اور اپنی سرحدوں کو بند کردیتا تو ممکن تھا کہ ان کی مشکلات میں کمی آتی اور افغانستان زیادہ پر امن ہوتا بہ نسبت آج کل کے حالات کے۔

علی احسن اور صلاح الدین شہداءپاکستان

mir-afsar

بنگلہ دیش کی قاتل حکمران حسینہ واجد نے بھارت کے حکمران دہشت گرد مودی کو خوش کرنے کے لیے پاکستان سے محبت کرنے والے ایک اور جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنما علی احسن مجاہد کو پھانسی پر چڑھا دیا وہ بنگلہ دیش پارلیمنٹ کے ممبر رہے ہیں اور جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے جرنل سیکرٹیری بھی تھے۔ اس کے ساتھ بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے صلاح الدین کو بھی پھانسی پر چڑھا دیا گیا وہ بھی بنگلہ دیش پارلیمنٹ کے ممبر تھے۔اس سے قبل جماعت اسلامی کے دو رہنماﺅںعبدلقادر ملا اور قمر الزامان کو بھی پھانسی پر چڑھا چکی ہے۔ بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے سابق امیر کو بھی اسی جرم میں ۰۰۱ سال کی سزا ہوئی تھی وہ قید کی حالت میں ہی اللہ کو پیارے ہو گئے تھے۔ان سب کا جرم یہ ہے کہ پاکستان کو بچانے کے لیے انہوں نے ۱۷۹۱ءمیںپاکستان کی فوج کا ساتھ دیا۔ جب بھارت نے پاکستان دشمن قوم پرست بنگالیوں پر مشتمل مکتی باہنی بنائی تھی تو اُس وقت پاکستان کو بچانے والے جماعت اسلامی کے پاکستان دوست اسلام پسند بنگالیوںرہنماﺅں نے الشمس اور البدر بنائیں تھی جنہوں نے ایک طرف پاکستان دشمن مکتی باہنی اور دوسری طرف بھارت کی فوج کا مردانہ وار مقابلہ کیا تھا جس کی تعریف پاکستان فوج کے اعلی افسران کر چکے ہیں۔ کہانی کچھ اس طرح ہے کہ شیخ مجیب نے بھارت سے مل کرمشرقی پاکستان کومغربی پاکستان سے علیحدہ کرنے کے لیے ہندوستان کے شہر اگر تلہ میں سازش تیار کی تھی جس کے تحت مسلح کاروائیاں شروع کی گئیںاور مشرقی پاکستان میں غیر بنگالیوں کا جینا محال کر دیا تھا۔ ڈکٹیٹرایوب خان نے شیخ مجیب پر اگر تلہ سازش کیس کا مقدمہ قائم کیا تھا۔پاکستان میںمرحوم ذوالفقار علی بٹھو کی قیادت میں ڈکٹیٹر ایوب خان کے خلاف معزولی کی تحریک چلی اور گلیوں میں ایوب خان کو کتا تک کہا گیا تو اُس نے حکومت ڈکٹیٹر یحییٰ خان کے حوالے کر کے وہ ایک طرف ہو گیا۔ ان مخدوش حالات میں ڈکٹیٹر یحییٰ خان نے پاکستان میں انتخابات کرائے جس کو سیاست دان شفاف انتخابات کہتے ہیں مگر وہ ہر گز شفاف اتخابات نہیں تھے اس لیے کہ مشرقی پاکستان میں غیر بنگالیوں کے خلاف خون کی ہولی کھیلی جارہی تھی ہر طرف دہشت گردی تھی امن وامان کا نام تک نہ تھا مکمل بغاوت کا ماحول تھاان حالات میں انتخابات ہوئے تو لامحالہ شیخ مجیب کی پارٹی نے انتخابات جیتنے ہی تھے۔ووٹوں کے حوالے سے مشرقی پاکستان میں جماعت اسلامی دوسرے نمبر پر تھی مشرقی پاکستان جو بعد میں بنگلہ دیش کہلایا شیخ مجیب نے حکومت بنائی اور مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بٹھو حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے۔ یہ تو سامنے پیش آنے والے واقعات تھے اورقدرت کاانتقام کچھ اور تھا کہ دیکھیں شیخ مجیب کی قوم نے اس کے پورے خاندان کے ساتھ اسے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا صرف حسینہ واجد بچ گئی تھی کیونکہ وہ اُس وقت ملک سے باہر تھی۔ یہ مقافات عمل تھا۔ خیرجب یہ سب کچھ ہو گیا جنگی قیدی بھی واپس آ گئے اور تو بنگلہ دیش کو پاکستان نے تسلیم کر لیا پھر تینوں فریقوں میں ایک معاہدہ ۴۷۹۱ءمیں طے ہوا جسے قانونی زبان میں بین الالقوامی معاہدہ بھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ یہ اب تین آزاد ریاستوں میں طے ہوا تھا اس معاہدے کے تحت سب غلطیوں کو بھلا دیا تھا اور ایک دوسرے کے خلاف کسی قسم کی بھی کاروائی نہ کرنا بھی شامل تھا۔جماعت اسلامی نے بنگلہ دیش میں اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں۔پارلیمنٹ میں قابل ذکر نمائندے جیت کر گئے۔ بلدیاتی الیکشن میں بھی جماعت اسلامی نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور بڑی تعداد میں سیٹیں جیتیں۔اب نہ جانے حسینہ واجد کو کیا ہو گیا ہے کہ پرانے معاہدے کو ایک طرف رکھ کر اپنی ہی ملک کے شہریوں کے خلاف ایک نام نہاد عدالتی ٹریبیونل بنا کر لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار رہی ہے۔ اس نام نہاد ٹریبیونل کو نہ تو آزاد ملکوںنے صحیح کہا ہے نہ ہی بنیادی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے اسے قانونی تسلیم کیا ہے۔ ٹریبیونل کے جج کے ٹیلفون کو دنیا میں سنا دیا گیا کہ وہ حکومت کے حکام سے سزائیں دینے کی ہدایات لے رہا ہے۔اس کے علاوہ متعصب ٹریبیونل نے ضابطے کی بنیادی عدالتی کاروائی بھی مکمل نہیں کی اور اُجلت میں لوگوں کو سزائیں سنا دیں جس کے پیچھے حکومت کی دشمنی شامل ہے۔مثلاً پاکستان میں تحریک انصاف کے اسحاق خاکوانی صاحب نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں کہا کہ جس واقعہ کی بنیاد پراحسن علی مجاہد کو سزا دی گئی اُس وقت وہ پنجاب یونیورسٹی میں میرے ساتھ پڑھ رہا تھا۔عمران خان نے اسی ہی بنیاد پر حسینہ واجد کو فون کیا اور پھر ای میل بھی کی اور سزا کو رکوانے کی کوشش کی مگر حسینہ واجد جو بھارت کے دباﺅ میں ہے کچھ بھی نہ مانی اور اسی رات دونوں پاکستان سے محبت کرنے والوں کو پھانسی پر چڑھادیا۔جب پہلی دفعہ عبدلقادر ملا کو پھانسی کی سزا سنائی تھی تو پاکستان کی نواز شریف حکومت کو اُس بین الاقوامی معاہدے کے تحت عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ لے جانے چاہےے تھا مگر جن لوگوں نے نظریہ پاکستان کے لیے جانیں لڑائیں ان کو پاکستان نے تنہا چھوڑ دیا جس فوج کے ساتھ شانہ بشانہ مکتی باہنی اور بھات کی فوج کے خلاف لڑائی لڑی اور فوج کے اعلی عہداداروں نے الشمس اورالبدر کے مجاہدین کی تعریفیں بھی کی تھیں کو بھی چپ سادھ گئی اس پر ہم نے اُ س وقت کالم بھی لکھا تھا کہ خدا نہ خاستہ اگر اب کہیں پاکستان پر برا وقت آئے تو پھر کون الشمس اور البدر بنائے گا؟جماعت اسلامی کو کسی سے مدد نہیں چاہےے اس کا ہر کارکن شہادت کے موت کی تمنا لیے ہوئے ہے ان شہادتوں سے اس کے کارکنوں کے ایمان مزید مضبوط ہوں گے وہ اسلام کے نام پر بننے والے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حفاظت کے لیے ہر وقت تیار رہتی ہے۔جماعت اسلامی ایک نظریاتی جماعت ہے ۔یہ پاکستان، بنگلہ دیش،بھارت، مقبوضہ کشمیر، آزاد کشمیر، سری لنکا وغیرہ میں موجود ہے اس کی ذیلی تنظیمیں دنیا کے تما م ملکوں میں موجود ہیں حسینہ واجد اوربھارت بلکہ پوری دنیا بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ دنیا کے رواج پورے کرتے ہوئے جماعت اسلامی نے ان شہداکی نماز جنازہ پڑھ لیں۔جماعت اسلامی نے بنگلہ دیش میں ہڑتال کی کال بھی دے دی حسینہ واجد بھارتی پٹھو حکومت نے فوج بھی بلا لی ۔ پاکستان میں بھی ان شہیدوں کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کر دی احتجاج بھی ریکارڈ کرا دیا گیا۔ جماعت اسلامی تو پاکستان کے نظریہ پاکستان سے بے خبر بزدل حکمرانوں کو یاد کراتی ہی ہے کہ جس وقت اندرا گاندھی نے کہا تھا بھارت نے مسلمانوں سے ایک ہزار سال حکمرانی کا بدلہ لے لیا دو قومی نظریہ بنگلہ دیش میں ڈبو دیا۔جماعت اسلامی تو اس کے جواب میں بنگلہ دیش میں نظریہ پاکستان کو ابھی تک زندہ رکھا ہوا ہے اور شہادتیں قبول کر رہی ہے۔ کاش اندرا گاندھی کے بیان کے جواب میں پاکستانی حکومتوں کو نظریہ پاکستان کو ابھی تک زندہ رکھنے والے جھونپڑیوں میں تین نسلیں گزارنے والے بہاریوں کو پاکستان بلا لینا چاہےے تھا۔ اب بھی ۴۷۹۱ءکے معاہدے کو سامنے رکھتے ہوئے بین الاقوامی عدالت انصاف میں نظریہ پاکستان کے شہیدوں کے مقدمے کو لیکر جائے تا کہ ایک طرف انصاف کے تقاضے پورے ہوں ،دوسری طرف نظریہ پاکستان بھی زندہ رہے اور پاکستان بننے والوں کی روحوں کو تسکین بھی نصیب ہو۔ جماعت اسلامی والے رہیں یا نہ رہیں یہ اُس پر چھوڑ دو۔اللہ نظریہ پاکستان جوحقیقت میںنظریہ اسلام ہے کی حفاظت فرمائے آمین۔

پنشنروں کا استحصال

ejaz-ahmed

EOBIیعنی صنعتی کا رکنوںکے ضعیف العمری سے متعلق فوائد کے ادارے نے اپنا کام یکم جولائی 1976ءکو شروع کیا۔ اور اعداد و شمار کے مطا بق اس ادارے نے اب تک 101,024 ملازمت دینے والے اداروںکی رجسٹریشن کی ہے۔ مگر بد قسمتی سے ملک میں جاری لوڈ شیڈنگ ، مختلف ادوار کی حکومتوں کی غلط پالیسیوں اور دیگر کئی وجوہات کی وجہ سے بد قسمتی سے ان میں30ہزار ادارے بند ہوچکے ہیں اور4ہزار اداروںنے اپنی رجسٹریشن منسوخ کردی ہے ۔ اور اب باقی ماندہ68 ہزاراداروں میں58 لاکھ خواتین و حضرات رجسٹرڈ ہیں۔ فی الوقت یہ ادارہ وطن عزیز کے5لاکھ کارکنوں کو فائدہ پہنچا رہا ہے ، جس میں نجی اداروں کی پنشن یافتہ ملازمین کی تعدادساڑھے 3 لاکھ،،پنشن یافتہ ملازمین کی لواحقین جس میں بیوائیں اور یتیم شامل ہیں، انکی تعدادڈیڑھ لاکھ اورتقریباً 9 ہزار افراد کو معذوری کی پنشن دی جا رہی ہے۔اس ادارے کے اخراجات مالکوں اور کارکنوں کی مالی شراکت سے پورے کئے جاتے ہیں جسکے تحت آجر( یعنی مالک) 5 فیصد اور آجیر(یعنی کارکن) ایک فی صد فنڈ کٹوتی کرتا ہے۔EOBIکے تحت کارکنوں کو کم ازکم 15سال کی ملازمت کے بعد پنشن کے فوائد دیئے جاتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ 15 سال کی مدت ملازمت ایک ہی ادارے میں پوری کی جائے۔ پنشن کے لئے کل مدت ملازمت کا تخمینہ لگا یا جاتا ہے ، ملازمت کا تسلسل شرط نہیں۔ 15سال کی مدت ملازمت 20 سال میں پوری کی جاسکتی ہے۔ اگر ہم 1973ءکے آئین پر نظر ڈالیں تو یہ دستور اس بات کی ضمانت دیتاہے کہ ریاست ، حکومت پاکستان اور دیگر اداروں کے ملازمین کو سماجی تحفظ فراہم کرے گی۔ 2010ء میں اٹھارویں ترمیم کی منظوری، پاکستان پیپلز پا رٹی کی حکومت کا ایک بڑا کارنامہ تھا اور پاکستان ورکرز فیڈریشنWF) (P،جوکہ ملک بھر میں 8لاکھ لوگوں کی نمائندہ تنظیم ہے اس تنظیم نے اٹھارویں ترمیم کی کامیابی کے لئے جتنی بھی تگ ودو اور حمایت کی اُسکی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ،مگر بد قسمتی سے اس ترمیم کی منظوری کے بعد کئی وفاقی اداروں کے ساتھ ساتھ، Employees Old Age Benifits ای او بی آئی کوصوبوں کے حوالے کرنا اُن لاکھوں مزدوروں، کارکنوں اور اُنکے خاندانوں کے ساتھ بڑی زیادتی ہے ،جنہوں نے آٹھویں ترمیم کی دل کھول کر تائید اور حمایت کی تھی اور ملک تعمیر اور ترقی کے لئے کو شاں ہیں۔ ورکرز فیڈریشن میں اس ادارے کو صوبوں کو حوالگی کے بارے میں بڑی تشویش پائی جاتی ہے۔ کیونکہ نجی اداروں کے یہ لاکھوں ملازمین اس بات کو اچھی طریقے سے سمجھتے ہیں کہ اس ادارے کو صوبوں کے حوالہ کرنے سے کارکنوں ، انکے خا ندانوں کی مالی ، سما جی اور معاشرتی حالت کے علاوہ انکے پنشن پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ آٹھا رویں ترمیم کے بعد گذشتہ ۴ سال سے اس تنظیم کے ملازمین کو پنشن فنڈز عدم دستیابی کے بہانے نہیں دی جا رہی ہے۔دنیا کے تقریباً ۰۵ ممالک میں سوشل سیکور ٹی یعنی سماجی تحفظ اور پنشن وغیرہ وفاقی حکومت کے پا س ہوتاہے۔ پاکستان کے دستور کے مطابق صرف وفاقی پارلیمینٹ کو محنت کشوں کے سلسلے میں قانون سازی کا حق حا صل ہے۔ پاکستان نے عالمی ادارہ محنت آئی ایل اوکے 36 کنونشنز کی تو ثیق کر رکھی ہے ۔ مزدوروں اور کارکنوں کی سماجی تحفظ کے سلسلے میں پاکستان نے ڈنمارک ، ہالینڈ اور لیبیا سے دوطر فہ معاہدے اور اقوام متحدہ کے عالمی منشور برائے انسانی حقوق اور معاشی ، معاشرتی اور ثقافتی حقوق کے سلسلے میں بھی بین الاقوامی قوانین پر دستخط کئے ہیں جسکے تحت کارکنوں کو ساتھ معاشی اور معاشرتی تحفظ فراہم کرنے کی اشد ضرورت پر زور دیا گیا ہے ۔ اگر ہم بین الاقوامی کنونشنز اور بین لاقوامی معاہدوں کی روشنی میں سماجی تحفظ کے موضوع کو لیں، جس سے مراد پنشن ہے تو یہ اختیار صرف اور صرف وفاقی پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور صوبائی اسمبلیوں کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔یہ بات بھی انتہائی قابل ذکر ہے کہ ایف ایل ایل کی شق نمبر 5 کے تحت کسی بھی صوبے سے ہجرت اور تبادلہ یا کسی اور صوبے یا وفاق میں سکونت بھی صرف اور صرف وفاقی پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔مردم شماری کے مطابق ملک کے شمالی علاقوں سے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد ملک کے جنوبی حصے میں ہجرت کرتے ہیں جبکہ بزر گوں ، بیواﺅں اور معذوروں کی ایک کثیر تعدادملک کے شمالی حصوں میں ہجرت کرتے ہیںاس تنا ظر میں یہ ایک بڑا صوبائی مسئلہ بن گیا ہے ۔ ای او بی آئی کا قانون وہ واحد قانون ہے جو ایسے تمام ہجرت کرنے والے اور عارضی طو ر پر کہیں آباد کار ایسے ملازمین کو معاشرتی تحفظ فراہم کرتا ہے جنکی انشورنس ہوئی ہو۔،لہذاءصوبائی اسمبلیوں کو کوئی اختیار نہیں کہ وہ کار کنوں کی ایسی ہجرت یا ان کی عارضی علاقے کی تبدیلی کے متعلق کو بھی قانون سازی کر یں۔ خیبر پختون خوا اور بلوچستان اس ادارے کی صوبوں کو منتقلی کے بارے تشویش پائی جاتی ہے۔ اُنکا کہنا ہے کہ ایسے کارکن کو پنشن اور ای او بی آئی کی سہولیات کیسے دی جائیں گی جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی ایک صوبے میں گزاری اور ریٹائر منٹ کی زندگی دوسرے صوبے میں پسند کرتا ہو۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ایسے پنشن کا کیا ہوگا جوکہ ایک صوبے میں کام کرتا رہا ہے اور 7 سال بعد ملازمت کے لئے ایک اور صوبے میں چلاجاتا ہے ۔ مزید کہتے ہیں ایسا کارکن جس نے ایک صوبے کام کیا ہوا ہے اسکے لواحقین کو پنشن کیسے دی جائے گی اگر لواحقین دوسرے صوبے میں رہائش اختیار کرلیتے ہیں۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت کو ای اوبی آئی کو صوبوں کے حوالے نہیں کرنا چاہئے اور اگر کرنا چاہتے ہیں تو اسکے لئے صوبوں کو پہلے قانون سازی کرنی چاہئے اور اپھر اسکے بعد فنڈز کے لئے پہلے کے لئے انتظام کرنا چاہئے۔علاوہ ازیں بو رڈ ممبران میں حقیقی نمائندہ گان کو شامل کرنا چاہئے۔ ماضی میں اس ادارے کے فنڈز کو مختلف اور کاموں کے لئے Misuse کیا جاتا رہا. ۔ حالانکہ یہ ورکروں اور نجی اداروں کے اداروں کے شراکت سے قائم ہونے والا فنڈ ہے اور حکومت کو تو اس میں مداخلت نہیں کرنا چاہئے ۔ اگر حکومت اس میں مدا خلت کا خواہاں ہیں تو حکومت کو چاہئے کہ وہ اسکے لئے ایسی قانون سازی کریں کہ وہ اس مد میں فنڈز کو کسی اور مد میں استعمال نہیںکرسکیں گے۔جیسا کہ ماضی ہوتا رہا۔اس کالم کی تو سط سے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ممبران اور تمام پارٹیوں کی قیادت سے درخواست ہے کہ ورکروں کو استحصال سے بچانے کےلئے ادارے کو و فاقی حکومت کےساتھ رہنے دیں۔

Google Analytics Alternative