کالم

انسانی حقوق کی نام نہاد چمپئن۔ مغربی دنیا کی تسلیم شدہ چاپلوس

nasir-raza-kazmi

 ریڈیو پاکستان کے شعبہ  نیوز سے وابستہ ہمارے ایک دوست ہوا کرتے تھے نام تھا اُن کا ’واعظہ الدین ‘ زند گی بھر وہ ’ واعظو بھائی ‘ کے نام سے مشہور رہے، شعبہ  نیوز سے وہ بحیثیت ڈپٹی کنٹرولر ‘ ریٹائر د ہو ئے غالباً دو ڈھائی بر س قبل اُن کا انتقال ہوچکا ہے، کمال کی دوست نواز شخصیت‘ پاکستان کی سیاست اُن کی انگلیوں کی پُوروں ‘ پر تھی چلتے پھرتے پاکستانی تھے ‘ بڑے بڑے بنگلہ دیشی لیڈروں کی منٹوں سیکنڈوں میں ایسی تیسی کرنے میں اُن کی زبان اِس قدر تیزی تھی کہ الا امان الحفیظ ‘غرض یہ کہ سیاست پر اگر اُن سے کوئی بات چھڑ جائے تو سامنے والے کو ایک منٹ کے لئے بھی’ واعظو بھائی ‘ اپنا موقف بیان کرنے کی مہلت تک نہیں دیتے دوست اگر ناراض ہوں تو ہوتے رہیں دلائل پر دلائل کے انبار لگا کر فریق مخالف سے اپنی بات من وعن منوانے میں اگر کامیاب نہیں بھی ہوتے تو50% اُسے اپنا نظریاتی طرفدار ضرور بنالیتے تھے اب وہ تو دنیا میں نہیں رہے اُن کی باتیں رہ گئی ہیں ’ واعظو بھائی ‘ مرتے دم تک پاکستان کا دم بھرتے رہے برصغیر ‘ پھر تقسیم ِ ہند ‘ پاکستان اور بنگلہ دیش کی تاریخ پر اُن کے سامنے کوئی بات شروع کردی جائے تو اُن کی باتوں کی رمزیات کون تو کیا سنئے ؟اِن کی باتوں کے دھڑ دھر کے دوران جو سیاست وان آئے فوجی حکمران ہو یا پاکستان مخالف کوئی بیوروکریٹس ہو، مذہبی علماءہوں ‘وکلاء‘ ججز یا پھر زندگی کے کسی بھی شعبے کی کوئی شخصیت انسانی حقوق کی کوئی ایکٹوسٹ ہو یا کوئی ایکٹر کریکٹر ایکٹر’میل ‘ہو یا‘ فی میل ‘ ہمارے دوست صحافی ’ واعظو بھائی ‘ اُن کے ایسے ‘تاریخی‘ لتے لیتے کہ رہے نام سائیں کا‘ ایک بار ( چونکہ ہم عمر میں بھی اُن سے چھوٹے تھے، ریڈیوپاکستان میں اُن کا عہدہ ہم سے بڑ ا ’ جبکہ ہم ٹھہرے اسٹاف آرٹسٹ) ہمارا نام پکار کر اُنہوں نے ہمیں اپنے قریب بلا یا اور کہنے لگا ’ ہمیں معلوم ہے تم اپنے نام بدل کر اخبار میں کالم لکھتے ہو تم نہیں جانتے کہ یہ عاصمہ جہانگیر کون ہے جو اپنے آپ کو پاکستان کا سب سے بڑا ’ہیومن رائٹس کی’ ایکٹوسٹ‘ سمجھتی ہے ‘ اپنا تعلق صرف روب جمانے کے لئے اقوام ِ متحدہ کے ساتھ ملاتی ہے یہ کچھ بھی نہیں ہے یہ سب پاکستان کے دشمن نہیں بلکہ یہ اصل میں پاکستان کی فوج کے دشمن ہیں ‘ الغرض اُس روز واعظو بھائی سے بہت سی باتیں ہوئیں بات آ ئی گئی ہوگی آج وہ اِس دنیا میں نہیں مگر اُن کی کہی ہوئی بہت ساری باتیں ہمارے دماغ میں اتھل پتھل مچا ئے ہوئے ہیںواقعی پاکستان میں انسانی حقوق کی جدوجہد کرنے والوں میں اپنے آ پ کو واحد اور تنہا ’ایکٹیو سٹ‘ سمجھنے والی محترمہ عاصمہ جہانگیر صاحبہ جو کسی تعارف کی محتاج نہیں، جبکہ پاکستانی قوم کی ایک بڑی اکثریت جانتی ہے کہ یہ ’صاحبہ ‘ انسانی حقوق کی علمبرداری کا دعویٰ تو ضرورکرتی ہیں مگر اِن کا اصل کام ’پاکستانی فوج ‘ کو ہمہ وقت اپنے نشانے پر لیئے رکھنا ہے کہ کب کہاں فوج پر یہ ’صاحبہ‘ اپنے تیر وتبّر چلانے میں کوئی وقت ضائع نہ کرتی ہوں اِتنی لائق فائق ‘ اعلیٰ تعلیم یافےہ ‘ بیرسٹر‘ مختلف سول سوسائٹیوں کی فعال عہدیدار کے بارے میں تنقید ی مضمون لکھنے پر ہمیں اِن کی ایسی ہی حرکتوں نے مجبور کیا کوئی دن نہیں جاتا جب اِن صاحبہ کا نام کسی ارود انگریزی اخبار میں نہ چھپتا ہو یہ بھی شائد بہت سوں کی طرح ’ سستی شہرت پرستی ‘ کے فوبیا میں بُری طرح مبتلامعلوم ہوتی ہیں ایک زمانہ ہوگیا ہے اِن ’صاحبہ ‘ کو انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی میڈیا میں آوازیں بلند کرتے ہوئے کوئی اِن سے پوچھے کیا دنیا میں صرف پاکستانی فوج ہی وہ ایک اکیلی قوت ہے جو دنیا بھر میں انسانی حقوق کو کچلتی ہے ؟ عاصمہ جہانگیر صاحبہ! اپنی انسانی حقو ق تنظیم کو اقوام ِ متحدہ کی نمائندہ تنظیم ہونے کا زعم رکھنے والی ذرا یہ تو بتائیں بنگلہ دیش میں بھارت نواز جماعت عوامی لیگ کی وزیر اعظم کی طرف سے دی جانے والی پھانسیوں کی سزا کا سعودی عرب جیسے بڑے اہم اسلامی ملک سے موازانہ کرکے پاکستان کو’ مطعون‘ کرکے کیا اپنے ضمیر کو مطمئن سمجھتی ہیں ؟ کیا اُن کا ضمیر مطمئن ہے رو ہنگیا مسلمانوں کو جس بہیمانہ شدت پسندی کی اذیت ناکی سے لاکھوں کی تعداد میں شہید کردیا گیا آپ نے اِس پر کیا انسانی حقوق کا کیا کانامہ انجام دیا ؟ بنگلہ دیش میں لاکھوں مسلمانوں اندھیرے کیمپوں میں زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم بدترین ساعتوں سے گز ر رہے ہیں اُن کے بارے میں کسی نیکی یا خیر کاکام کوئی کام آپ نے سرانجام دیا؟ جہاں تک آپ کا یہ رونا ہے کہ پارلیمنٹ نے پاکستان سے دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کے لئے جو آپریشن ضرب ِ عضب شروع کیا، سیاسی حکومت نے پارلیمنٹ سے نیشنل ایکشن پلان ایک ایکٹ کے طور متفقہ منظور کرایا جس کے تحت ملک میں فوجی عدالتیں قائم ہوئیں اگر اُنہیں اِس پر کوئی اعتراض ہے تو وہ حکومت کو براہ ِ راست تنقید کا نشانہ بنائیں مگر ایک سوال کا جواب خود اپنے ضمیر کو دے لیں کہ” یہ فوجی عدالتیں جن دہشت گردوں کو حکم ِ قرآن ِ پاک کی تعلیمات کے مطابق ’خون کا بدلہ خون ‘ جنہوں نے ایک دو کو نہیں بلکہ اجتماعی قتل ِ عام میں کیا ہو سینکڑوں مسلمانوں کو جن عورتیں اور بچے بھی شامل ہوں کیا اُن کی اِن انتہائی سزاو¿ں پر بھی اِن کا ضمیر مطمئن ہے امریکا دنیا بھر میں کھلے عام انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کررہا ہے گونتا موبے میں انسانوں کو جانوروں کی طرح پنجروں میں قید رکھا جاتا ہے وہاں انسانی حرمت و عظمت کی کھلے عام تذلیل ہورہی ہے اُن پر محترمہ اظہار ِ تاسف کیوں نہیں کرتیں امریکی کی ایسی حرکات کے خلاف وہ اپنے نام سے انگریزی اخبارات اور نامور جرائد میں مضامین کیوں نہیں لکھتیں ؟ بھارت یقینا نجانے کیوں اِس ’کیوں ‘ کا جواب وہ خود جانتی ہونگی وہ بھارت جائیں وہاں آجکل انسانی حقوق کی خلاف وزریوں کے ایک دو سلسلے نہیں بھارت میں دیش میں انسان کو صرف مسلمان ہونے کی سزائیں دی جارہی ہیں مسلمانوں سے کہا جارہا ہے کہ ’بھارت میں رہنا ہے تو ہندو بن کر رہنا ہوگا ‘ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ دیگر اقلیتوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پورے دیش میں ایسی عظیم انشان انسانی ہمدردیوں کی نئی تاریخ مرتب ہوچکی ہے ’دنیاوی مطلب پرست ‘ انسانی حقوق کی ایکٹوسٹس کو زیادہ سنجیدگی سے بھارت کے اندرونی حالات پر اپنے ضمیروں کا از سر نو جائزہ لینا پڑے گا ،پاکستانی مسلمانوں کے خلاف ٹارگٹ کرکے محترمہ عاصمہ صاحبہ بلاوجہ جمہوری حکومت کی آئینی اتھارٹی کو چیلنج نہ کریں ویسے زندگی بھر اُنہوں نے کراچی میں ایم کیو ایم کی طرز ِ سیاست کو ہمہ وقت تنقید کا نشانہ بنائے رکھا مگر الطاف حسین نے جب افواج ِ پاکستان پر حد سے گری ہوئی زبان استعمال کی تو اُن کی وکالت کی ذمہ داری عاصمہ جہانگیر نے فوراً اپنے ذمہ لے لی اِ سے اُن کا فوج کے خلاف دلی بغض وعناد اور کھل کر سامنے آگیا ہاں یاد رہے یہ صاحبہ صرف فوج کے خلاف ہی نہیں بلکہ بعض اوقات یہ ’جنابہ‘ ہر ایسے پھڈے میں فوراً کود پڑتیں ہیں جس معاملے کو مغربی میڈیا زیادہ کوریج دہتے ہیں مثلا جیسے جہلم میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس کی تفصیلات میں ہم جانا نہیں چاہتے زیادہ کیا کہیں مغر بی ممالک کی ’ہمہ وقت کی چاپلوسی کرنے سے ایک عاصمہ جہانگیر کیا چاپلوسی کرنے والوں کا ایک جہاں جمع ہوکر آجائے ایک مضبوط نظریاتی ریاست کی جڑوں سے وہ اپنا سر ٹکرا ٹکرا کر تباہ ہوجائے گا نظریاتی ریاسے اپنی جگہ قائم رہے گی یاد ہے کہ یہ کالم Double standard hangings alleged کے عنوان سے لکھے گئے24 نومبر2015 کے انگریزی اخبار روزنامہ ڈان کے ایک کالم کے جواب میں تحریرکیا گیا ہے۔

9/11 میں بھارت ملوث تھا

naghma-habib

امریکہ میں 9/11 ہوا اور پوری دنیا میں جیسے زلزلہ آگیا خاص کر مسلم دنیا میں، جب امریکہ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے مسلمان ملکوں کو اپنی وحشت و بربریت کا نشانہ بنایا۔ افغانستان پر آتش و آہن کی بارش کردی گئی نہ شہری آبادی کو دیکھا گیا ،نہ بچوں کواور نہ عورتوں کو گناہ بے گناہ سب مارے گئے اور وجہ بتائی گئی ٹوئن ٹاورز پر حملہ افغانستان سے ہوا اور طالبان نے کیا۔ ساتھ ہی پاکستان کو بھی جنگ میں دھکیل دیا گیا جس میں کچھ اپنے حکمرانوں کی نااہلی تھی اور کچھ امریکہ کی شرپسندی ،اور نقصان ہوا تو پاکستان کا اور دہشت گردی کی اسی آگ سے ہم ابھی تک نہیں نکل سکے ہیں ۔پاکستان پر مسلسل یہ الزام لگایاجاتارہا ہے اور اب بھی لگایاجارہاہے کہ یہ دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے اور یہی سے دنیا بھر میں دہشت گرد بھیجے جاتے ہیں اور یہ الزام لگانے میں خود وہ لوگ پیش پیش رہتے ہیںجو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کسی بھی ملک میں کسی بھی طرح کی دہشت گردی اور بدامنی پیدا کرتے ہیں ۔بھارت جو ہمیشہ پاکستان کو نہ صرف اپنے مسائل کا ذمہ دار قرار دیتا ہے بلکہ دنیا بھر کی دہشت گردی کا الزام بھی پاکستان کو دیتا ہے پاکستان کے ذمے وہ جرائم بھی لگا دیتا ہے جو خوداس کی کارستانی ہو تی ہے۔لیکن اس بار تو خود بھارت سے ہی گھر کے بھیدی نے لنکا ڈھائی ہے اور اس کے ایک سابق اعلیٰ پولیس افسر یعنی دہلی پولیس کے سابق کمشنر نیراج کمار نے بتایا اور لکھا کہ ایک دہشت گرد آصف رضاخان نے اپنے بیان میں انہیں بتایا کہ 9/11کے لیے سرمایے میں بھارت نے بھی اپنا حصہ ڈالا اور دوطرف سے ڈالا ،پہلا یوں کہ عمرشیخ کو رہا کیا تاکہ اپنا ہائی جیک کیا ہوا طیارہ چھڑا سکے جسے مولوی مسعود اظہر نے اغوا کیا اور اس کے مطالبے کو پورا کرتے ہوئے مشتاق احمدزرگر سمیت عمرشیخ کو رہاکردیاگیا۔ عمر شیخ کوآفتاب انصاری نے اغوا برائے تاوان سے حاصل ہونے والی رقم دی۔ یہ آفتاب انصاری وہی شخص ہے جس نے کولکتہ میں امریکن سنٹر پر2002ئمیں حملہ کیاتھا جس میں چار پولیس اہلکار اور ایک سیکیورٹی گارڈہلاک اور 20افراد زخمی ہوئے تھے۔یہی رقم جو آفتاب انصاری نے عمر شیخ کو دی تھی اس میں اس نے ایک لاکھ ڈالر9/11کے ایک حملہ آور محمد عطا کو دےے ۔محمد عطا ان حملہ آوروںکا لیڈر تھا جنہوں نے ٹوئن ٹاورز پر حملہ کیا تھا۔ یوں بھارت نے اس حملے میں اپنا حصہ ڈالا۔ اگرچہ بظاہر تو اس واقعے میں بھارت کے شہری ملوث ہوئے لیکن بھارت سرکار بھی شکوک سے بالا تر نہیں۔ یہ سب کچھ کوئی اور نہیں بلکہ خودبھارت پولیس کا ایک اعلیٰ اہلکار بیان کررہا ہے اور مستند ذریعے سے بیان کررہاہے مستند اس لیے کہ ان تمام واقعات میں شامل ایک مجرم کے حوالے سے یہ سب کچھ کہا جارہا ہے۔
بھارت وہ ملک ہے جو دہشت گردی کاشور زیادہ کرتا ہے حالانکہ وہ اس سے کچھ زیادہ متاثر نہیں اور ادھرہونے والے واقعات کو وہ بغیر کسی حیل وحجت کے پاکستان کے ذمے لگا دیتا ہے لیکن خود وہ ایسے واقعات میں ملوث ہے اور اس کے شہری بڑی سہولت سے کوئی بھی ایسی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ 9/11جیسے انتہائی اہم اور بڑے منصوبے کو بنانے والے بھارت میںاگر پائے جائیں تو یہ کس بات کی نشانی ہے۔ اصل مسئلہ ہی یہی ہے کہ بھارت اپنے جرائم دوسروں اور خاص کر پاکستان کے کھاتے ڈال کر بڑے آرام سے ایسے منصوبے بناتا ہے۔اگر وہ اپنے ان سقہ اور ثابت شدہ مجرموں کو قابو میں رکھتا تو شاید ان واقعات میں کچھ کمی ہوتی لیکن اس کی تو حکومت بھی ایسے لوگوں کو مدد فراہم کرتی ہے جو دوسرے ممالک میں دہشت گردی کرتے ہیں۔ پاکستان میں بلوچستان اور فاٹا میں تو اس کی مداخلت کھل کر سب کے سامنے آچکی ہے اور پاکستان کے دوسرے علاقے بھی اس فساد سے محفوظ نہیں۔ پاکستان میں مقامی دہشت گرد تو ہیں ہی لیکن انہیں آخر فنڈنگ ہوتی کہاں سے ہے اور اس کہاں کاجواب اس بھارتی پولیس افسر کی اس کتاب سے حا صل ہو جاتا ہے اگر امریکہ میں حملے کے لیے بھارت سے پیسہ پہنچ سکتا ہے تو پاکستان تو بالکل پاس ہے اور تسلےم شدہ دشمن بھی ہے جسں کی سرحد پر بھارت اپنی بر بریت کا اکثر مظاہرہ کرتا رہتا ہے ،اور سرحدوں کے اندر بھی اسی کی مدد دشمنوں کو حاصل رہتی ہے۔ نیراج کمار کی اس کتاب میں کیے گئے ا نکشافات کے بعد بھی اگر امریکہ اور مغربی دنیابھارت کی سر گرمیوں کے بارے میں پوچھ گچھ نہ کرے اور ان پر نظر نہ رکھے توپھر تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ دونوں کے درمیان کچھ نہ کچھ گٹھ جوڑ ہے۔ بھارت جو خود کو امن کا بڑا داعی کہتا ہے اُس کے ہاں مذہبی ، نسلی ہر قسم کی شدت پسندی موجود ہے اور اگر دنیا اس خوش فہمی میں مبتلاءہے کہ بھارت کی شدت پسندی صرف پاکستان تک محدود رہے گے تو اُسے یہ معلوم ہو جا نا چاہیے کہ اس کا یہ رویہ بڑھتا اور پھیلتا رہے گاجس کے لیے وہ نان سٹیٹ ایکٹرز کو بھی استعمال کرتا رہے گا اور چاہے وہ اس کے لیے پاکستان کی سرزمین استعمال کرے، افغانستان کی ےا کسی اور ملک کی ۔لہٰذا امریکہ اور دوسرے مغربی مما لک کو بھا رت کے بارے میں اپنا نکتہءنظر تبدیل کر کے حقیقت پسندی کا مظا ہرہ کرناچاہیے تاکہ کسی آئندہ نائن الیون اور ایسے ہی دوسرے واقعات کو روکا جا سکے۔

بائیو گیس پلانٹ لگوانے کے لئے تکنیکی امداد کی پیش کش

ejaz-ahmed

 کائنات میں اللہ تعالی نے ہر چیز کوایک خا ص نظام اور قاعدے میں بنایا ہے اور جو بھی خداوند لا عزال کی بنائی ہوئی چیزوں اور نظام میں بگا ڑ پیدا کرے گا ، اس سے بنی نو ع انسان کو نُقصان ہو گا۔ اللہ تعالی نے اگرایک طرف انسانوں کی تباہی اور بر بادی کے لئے مضر چیزیں پیداکی ہیں تو دوسری طرف اللہ تعالی نے انسانوں کی فلا ح و بہبود کے لئے اچھی اور کا ر آمد چیزیں بھی عنایت فر مائی ہیں، مگر بد قسمتی سے انسان اللہ تعالی کے نظام اور انکی بنی ہوئی چیزوں میں تبدیلی اور بگا ڑ لاتے ہیں جس سے ہمیں انتہائی نُقصان ہو تا ہے۔ ایک طر ف اگر کسی حد تک کا ربن ڈائی آکسائید انسان کی فلا ح و بہبود کے لئے اچھی چیز ہے ،جس سے درختوں پو دوں اور گھاس پوس کی نشوونما ہوتی ہے ،جو انسان و دیگر جا ندار کھاکر زندہ رہتے ہیں ،تو دوسری طرف اگر کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار ہمارے ارد گر د ما حول میں اپنی مقررہ حد سے زیادہ ہو جائے تو اس سے مختلف قسم کی بیماریاں اور ما حولیاتی مسائل جنم لیتے ہیں، جس میں دمہ، آنکھوں کی بیماری، سانس کی بیماریاں، مختلف قسم کی سکن اور دوسری الر جیز، درجہ حرارت کا بڑھ جانا، گلیشیر کا پگل جا نا، مختلف مو سمی تغیرات، وقت سے پہلے با رشوں اور سیلابوں کا آنا ، ہوا میں معلق مضر ذرات کا اضا فہ ہو نا شامل ہے۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ درخت یا جنگلات کی کٹائی سے ما حول میںکا ربن دائی آکسائیڈ کی مقدار میں اضافہ اور آکسیجن کی مقدار میں کمی واقع ہو جاتی ہے جس سے ہم مختلف قسم کے امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ملک میں کھانے پکانے کے لئے ایندھن کی ضرورت ہو تی ہے نتیجتاً ہم در ختوں کو کا ٹ کر اپنی ایندھن کی ضروریات پو ری کر تے ہیں۔ما ہر ما حولیات کہتے ہیں کہ ایک کلو گرام لکڑی جلانے سے تقریباً ڈہائی کلو گرام کا ربن دائی آکسائیڈ خا رج ہو تی ہے۔ جو ہمارے ما حول اورہمارے لئے انتہائی خطر ناک ہے۔ اگر وطن عزیز میں جنگلات کی کٹائی کا یہ سلسلہ اسی طر ح رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہمارے ارد گردما حول میںکا ربن دائی آکسائیڈ کے اضافے کی وجہ سے انسان کا جینا مشکل ہو جائے گا۔ ایک اندازے کے مطابق ہمارے ملک میں ایندھن کا فی خاندان خرچ 7 کلو گرام رو زانہ ہے اور ہم اپنی ایندھن کی 82 فی صد ضرورت لکڑیوں کے استعمال سے پو ری کر تے ہیں۔ ما ہر ما حو لیات کہتے ہیں کہ سال 1990ءسے لیکر سال 2010 ءتک پاکستان میں جنگلات کے رقبے میں 34فی صد کمی واقع ہو ئی۔ اگر کھانے پکانے اور ایندھن کی دوسری ضروریات کے لئے جنگلات کی کٹائی کا سلسلہ اسی طر ح جا ری رہا تو پاکستان میں جنگلات کا رقبہ جو 5 فی صد ہے مزید کم ہو کے رہ جائے گا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عالمی معیار کے مطابق کسی ملک کی خو شگوار اور صحت مند آب و ہوا کے لئے جنگلات کا رقبہ21فی صد ہو نا چاہئے۔ جبکہ کئی ترقی یا فتہ ممالک میں جنگلات کی شرح 70 اور 80 کے درمیان ہے۔ما ہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک ایکڑ درخت سالانہ 3 ٹن کا ربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کر تا ہے اور اسی تناسب سے آکسیجن چھو ڑتا ہے۔ایک طر ف اگر کا ربن ڈائی آکسائیڈ اگر ہمارے جسم اور ما حول کے لئے اچھی نہیں تو دوسری طر ف کا ربن ڈائی آکسائید ہمارے گلیشیرز کو بھی ختم کر تی ہے۔ ما ہر ما حولیات کے مطابق کا ربن ڈائی آکسائیڈ کی مقررہ حد سے زیادتی کی وجہ سے سالانہ 180 فٹ گلیشیر ز ختم ہو تے ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب ہماری بے حسی اور نا لائقی کی وجہ سے ہمارے پہا ڑوں پر کوئی برف نہیں ہو گی اور ہم اپنے دریاﺅں سے محروم ہو جائیں گے۔ اسی طر ح ایک طر ف اگر ہم کھانے پینے کی چیزوں کے لئے لکڑیوں کا استعمال کر تے ہیں تو دوسری طرف ہم تیل کی درآمد پر سالانہ 12 ارب ڈالر کا زر مبا دلہ خرچ کرتے ہیں جو پاکستان جیسے ترقی پزیر ملک کے لئے ایک بُہت بڑا بو جھ ہے۔ ہمیں کو شش کر نی چاہئے کہ ہم ملک میں توانائی کے ایسے ذرائع استعمال کریں جس سے کا ربن دائی آکسائیڈ کاا خراج بھی کم ہو اور اسکے علاوہ ہم اپنے ملک میں تیل کے خریدنے پر زر مبادلہ بھی نہ خرچ کر نا پڑے۔ اللہ تعالی ہمارے ملک کو بے تحا شا وسائل سے مالا مال فر مایا ہے جس میں ہوا سے ، سورج ، کوئلے اور اپنی سے توانائی کا حصول شامل ہے، مگر اس میں سب سے اہم جا نوروں کے گو بر سے گیس بنانا شامل ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت تقریباً 60 ملین جا نور پائے جاتے ہیں، جسکے گو بر پر لاکھوں بائیو گیس پلانٹ لگا کر تقریباً 70 فی صد گھریلو ایندھن کی ضروریات پو ری کی جا سکتی ہیں۔ پاکستان کو نسل آف رینی ویبل انرجی ٹیکنالوجیز، جو وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی کا ما تخت ادارہ ہے وہ متبادل ذرائع توانائی اور خا ص طو ر پر بائیو گیس پلانٹ لگانے میں کا فی مہارت رکھتا ہے۔ ادارے کے ماہرین کے مطابق 5 مربع میٹربائیو گیس پلانٹ پر تقریبا70 اور80 ہزار روپے کے قریب خر چہ آتا ہے ۔ ایک فیملی سائز بائیو گیس پلانٹ ہمیں ماہانہ 100 لیٹر مٹی کا تیل یا با الفاظ دیگر 840کلو گرام لکڑیو ں کی بچت کر تا ہے۔ اوربائیو گیس پلانٹ کی تنصیب پر ہم جو خر چہ کرتے ہیں وہ ہم 6 مہینے بعد گیس کی شکل میں پو ری کر سکتے ہیں۔پاکستان کو نسل آف رینی ویبل انر جی ٹیکنالوجیز نے اپنے پہلے مر حلے میں2002-2007) ( 1606 بائیو گیس پلانٹ لگائے ہیںاور دوسرے مر حلے میں(2007-2012)تقریباً 2513 با ئیو گیس پلانٹ لگائے ہیں جو انتہائی کامیابی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ بد قسمتی سے وطن عزیز میں عا م طو ر پر لوگ جانوروں کے فضلے کو ضائع کرتے ہیں ۔ لہٰذاءکو شش کرنی چاہئے کہ ہم بائیو گیس بنائیں اور گو بر کو زیادہ سے زیادہ استعال کر کے اس سے فائدہ لیں۔اس کالم کی وساطت سے اُن تمام افراد، این جی اوز، اور رفاہ عامہ کے اداروں کو جو گھریلو اور صنعتی سطح پر توانائی کی ضروریات بائیو گیس سے پورا کرنے اور یا انکی ترویج چاہتے ہیں ۔وہ مزید معلومات کے لئے ادارہ ہذا سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ یہ ادارہ ان ٹیکنالوجی کی فروع اور لگانے کے لئے بُہت کم اور معمولی معاوضے پر دلچسپی رکھنے والے افراد, این جی اوز اور رفا ع عامہ کے اداروں کی تکنیکی معاونت کرے گا۔اگر کسی کو بائیو گیس یا متبادل ذرائع توانائی مثلاً شمسی توانائی، ہوا سے توانائی ، سولر ککر، گیزرز ہوا سے بجلی سے متعلق کے بارے میں انفار میشن لینی ہو تومتعلقہ ادارے کی ویب سائٹ پررابطہ کرسکتے ہیں۔

ماہِ دسمبر ، دہشتگردی اور بھارت !

asghar-ali

 دسمبر کے مہینے کا آغاز ہو چکا ہے اور اس امر سے تو ہر کوئی بخوبی آگاہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں یقینا سولہ دسمبر سیاہ ترین دن کی حیثیت اختیار کر چکا ہے کیونکہ سبھی جانتے ہیں کہ 44 سال قبل پاکستان کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں نے مختلف سازشوں کے نتیجے میں اسے دو لخت کر دیا تھا ۔ 43 برس کے بعد یعنی 16 دسمبر 2014ءکو اس دن کی سیاہی میں مزید اضافہ ہو گیا جب پشاور میں 150 سے زائد معصوم روحیں سفاک دہشتگردوں کی بھینٹ چڑھ گئیں ۔ یہ سانحہ اتنا بڑا تھا کہ اسے سن کر کوئی بھی ذی شعور آنکھ نم ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی ۔ مگر جن لوگوں نے یہ مکروہ کام انجام دیا ، ان کے لئے حسب حال لفظ ڈھونڈ پانا بھی تقریباً نا ممکن ہے کیونکہ سفاکی ، بربریت ، درندگی اور شیطانیت جیسے الفاظ اس مکروہ کاروائی کے سامنے بالکل ہیچ نظر آتے ہیں ۔
اس کھلے رازسے بھی سبھی آگاہ ہیں کہ پاکستان عرصہ دراز سے غیر ملکی سازشوں کے گھیرے میں ہے اور ان عناصر نے ملک کے اندر اپنے لئے ایسی کٹھ پتلیاں تیار کر لی ہیں جو کسی بھی اخلاقی مذہبی یا انسانی ضابطے کو ماننے پر آمادہ نہیں ۔ غالباً ان کے نزدیک دہشتگردی پر عمل کرنا ہی حرف اول بھی ہے اور حرفِ آخر بھی ۔تبھی تو گذشتہ چند برسوں میں پاکستان کے ساٹھ ہزار سے زائد شہری اور تقریباً دس ہزار سیکورٹی فورسز کے افسران اور اہلکار ان درندوں کی دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں ۔
گذشتہ برس سولہ دسمبر کو منگل کی صبح ان درندہ صفت دہشتگردوں نے جو گھناﺅنا وار کیا تھا اس کا تصور بھی بالعموم کوئی سنگ دل سے سنگ دل انسان نہیں کر سکتا کیونکہ بچے تو بھلے ہی کسی بھی مذہب ، قوم یا نسل سے تعلق رکھتے ہوں ، ان کو دانستہ نقصان پہنچانا بدترین فعل تصور کیا جاتا ہے ۔ کیونکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہماری دنیا بچوں سے شروع ہوتی ہے اورکبھی ہر شخص بچہ تھا اور اس کے بزرگ بھی بچے تھے لہذا جب یہ دنیا ہے ہی بچوں کے لئے ، بچپن ہی اس کا آغاز ہوتا ہے اور بالآخر ہر شخص اس دنیا کو اپنے بچوں کے حوالے کر کے چلا جاتا ہے تو سوچنا چاہیے یہ قتل و غارت گری ، یہ تخریب کاری بچوں کی معصومیت کو کیسے قائم رہنے دے گی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری قوم کا ہر فرد اپنے ذاتی ، سیاسی، لسانی ، اور گروہی مفادات سے اوپر اٹھا کر دہشتگردی کی عفریت کا سر ہمیشہ کے لئے کچلنے کے لئے اٹھ کھڑا ہو ۔ اس ضمن میں سب سے بڑی ذمہ داری پاکستان کی سیاسی اور مذہبی قیادت پر عائد ہوتی ہے ۔ہر فرد کو توقع ہی نہیں بلکہ یقین ہے کہ سبھی سیاسی رہنما جماعتیں ، مذہبی عمائدین اور سبھی سول سوسائٹی اور میڈیا کے تمام ذمہ داران اپنے باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اپنی زبان اور عمل سے ثابت کریں گے کہ وہ وطنِ عزیز کی پاکیزہ فضا کو دہشتگردی اور تخریب کاری کی لعنت سے چھٹکارا دلا کر رہیں گے اور آنے والے دنوں میں ہر فرد اور گروہ کا یہی ایک نکاتی ایجنڈہ ہو گا ۔ امید ہے کہ افواجِ پاکستان ، حکومت اور قوم کا ہر فرد اس قومی فریضے میں اپنا حصہ ڈالے گا اور ضربِ عضب میں اور بھی شدت پیدا کر کے اس لعنت کو ہمیشہ کے لئے پاش پاش کر دیا جائے گا ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے یو این سیکرٹری جنرل ” بان کی مون “ اور دیگر عالمی قوتوں کو پاکستان میں ہو رہی دہشتگردی کے سرپرست یعنی بھارت کے حوالے سے دستاویزی ثبوت فراہم کر دیئے ہیں اور یہ ” ڈوزیئر “ اپنے اندر اتنے شواہد رکھتا ہے کہ کوئی بھی غیر جانبدار فرد یا ادارہ بخوبی جان سکتا ہے کہ پاکستان کے مختلف حصوں میں جاری دہشتگردی میں دہلی سرکار ملوث ہے اور پاکستان کے ریاستی اداروں کے حوالے سے انڈین میڈیا جو بے بنیاد پروپیگنڈہ کر رہا ہے اس کا مقصد عالمی برادری کی توجہ اپنی جانب سے ہٹا کر اپنے خود ساختہ الزامات کی جانب مبذول کرنا ہے ۔
امید کی جانی چاہیے کہ عالمی رائے عامہ اس صورتحال کا صحیح ادراک کرتے ہوئے خاطر خواہ اقدامات اٹھائے گی ۔ یہ توقع بھی بے جا نہ ہو گی کہ قومی میڈیا اور سول سوسائٹی کے سبھی طبقات اس حوالے سے اپنی اخلاقی اور ملی فریضہ احسن ڈھنگ سے انجام دیں گے ۔

ہندو پنڈتوں کی بحالی کا مودی پلان

syed-rasool-tagovi

دو تین عشرے قبل90ءکی دہائی میں پرتشدد صورتحال کے باعث تقریباً دو اڑھائی لاکھ سے زائد ہندو مقبوضہ کشمیر چھوڑ کر بھارت منتقل ہوگئے تھے اس عرصہ میں تمام ہندوخاندان بھارت میں رچ بس چکے ہیں لیکن نریندر مودی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد مقبوضہ کشمیر پربھارتی قبضے کی جڑیں مزید گہری اورمضبوط بنانے کی ٹھانی تو انہیں نے دیگر کئی سیاسی کوششوں کے علاوہ ان ہندو پنڈتوں کو واپس مقبوضہ کشمیر میں آباد کرنے کااعلان کیا کہ ان ہندو پنڈتوں کو الگ بستیوں میں آباد کیاجائیگا۔ اس مقصد کیلئے گزشتہ سال ریاستی بجٹ میں تقریباً پانچ سو کروڑ روپے کاخصوصی بجٹ بھی مختص کروا دیا گیا۔ مودی کے اس اعلان کے بعد کشمیری سراپااحتجاج ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حریت پسند کشمیری کیوں احتجاج کررہے ہیں جب یہ ہندو حالات کی خرابی کے باعث کشمیر چھوڑ گئے تو کیا ان کو حق حاصل نہیں کہ وہ واپس اپنے وطن لوٹ جائیں۔اس سوال کا جواب حریت رہنما سید علی گیلانی دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم ہندو خاندانوں کی واپسی کیخلاف نہیںبلکہ ان کیلئے الگ بستیوں کے قیام کیخلاف ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ ریاست کی ڈیمو گرافی کو بدلنے کی مودی سازش کو ہم کامیاب نہیں ہونے دینگے۔ گزشتہ سال ریاستی انتخابات میں بی جے پی کو سیاسی ناکامی کے بعد مودی اب نئے پلان پرعملدرآمد چاہتا ہے۔وہ چاہتا ہے کہ فلسطین میں اسرائیلی بستیوں کی طرح یہاں مقبوضہ کشمیر میں بھی ہندوپنڈتوں کیلئے الگ بستیاں بنائی جائیں تاکہ اس کے مقبوضہ کشمیر کیلئے مذموم ایجنڈے کی تکمیل ہوسکے ۔اس سے قبل نریندرامودی مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دلانے والے آرٹیکل 370 کو بھی ختم کرنے کی کوششیں کرچکا ہے۔ بھارتی اورریاستی عدالتیں بی جے پی کو دوٹوک کہہ چکی ہیں کہ وہ اس حرکت سے دوررہے ،عدالتوں نے 370کے خلاف دائر درخوستوں کو مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ بھارتی آئین میں آرٹیکل 370 کو عدالت تو کیا حکومت بھی نہیںتبدیل کرسکتی۔ ہندو پنڈتوں کی الگ آباد کاری سے جہاں وادی کی آبادی پرمنفی اثرات مرتب ہونگے وہاں استصواب رائے بھی متاثر ہوگی۔ بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوںکواپنے مستقبل کافیصلہ کرنے کے لئے استصواب رائے کاوعدہ کررکھا ہے جو اسے آج نہیں توکل بحرحال انہیں دینا ہے، مگرگزشتہ 68 سال سے وہ اس وعدے سے بھاگ رہا ہے ۔ایسے حربے اب تک تو اس کے کام نہیں آرہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ ہندو پنڈتوں کی آباد کاری میں کہاں تک کامیاب ہوتا ہے۔مودی پلان کے مطابق بھارت بھر سے 60 سے62 ہزارہندو خاندانوں کو وادی میں لا کر بسایا جائیگا۔پہلے مرحلے میں10 ہزار ہندوخاندانوں کو چار مختلف ٹاﺅنز میں2500 خاندان فی ٹاﺅن آباد کرنے کاعندیہ بنایا گیا ہے۔ اس مقصد کیلئے سری نگر اور اننت ناگ میں الگ بستیاں(ٹاﺅن)بنانے کیلئے ریاستی حکومت پرجگہ کے حصول کیلئے دباﺅ ڈالا جارہاہے۔ پنڈت بحالی پروگرام کے تحت ہرخاندان کی مالی مدد بھی کی جائے گی، وہ خاندان جن کے مکانات مکمل یا جزوی تباہ ہوئے انہیں7.5 لاکھ روپے فی خاندان، مکان کی مرمت کیلئے دولاکھ جبکہ نئے گھر کی خریداری کیلئے بھی ساڑھے سات لاکھ روپے فی خاندان کی خطیررقم کی فراہمی بھی بحالی پلان کاحصہ ہے۔ ایک طرف بی جے پی حکومت کی یہ منصوبہ سازیاں ہیں تو دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ اورنیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ نے وہ بات کہہ دی جوبھارت پچھلے سات عشروں سے سننے کوتیار نہیںہے۔ فاروق عبداللہ نے اپنے ایک تازہ بیان میںکہا ہے کہ بھارت کی تمام فوج بھی کشمیر آجائے تو وہ مجاہدین کامقابلہ نہیںکرسکتی،مسئلے کاواحد حل صرف مذاکرات ہیں۔ فاروق عبداللہ کا بیان کیا آنا تھا کہ بی جے پی اس پرٹوٹ پڑی ہے ۔بی جے پی کے لیڈر اورریاستی نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ نے بیان مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 1994ءکی پارلیمانی قرارداد میں واضح طورپر کہا گیا ہے کہ آزاد کشمیر بھارت کاحصہ ہے ،پاکستان نے اس پر جبری قبضہ کررکھا ہے۔ ایک کانگریسی لیڈر وجے سنگھ نے کہا کہ اس حوالے سے پہلے ہی پارلیمنٹ میں ایک قراردادمنظورکی گئی ہے۔ فاروق عبداللہ نے ان دونوں رہنماﺅں کے اعتراض کے جواب میںکہا کہ کیا بھارت یہی چاہتا ہے کہ مظلوم کو مارا جائے، آخرکتنی فوج ہماری حفاظت کرسکتی ہے۔یہ کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں قرارداد ہے تو اس پرپارلیمنٹ نے اب تک کیاکیا ہے۔قراردادیںتو اقوام متحدہ میں بھی پاس کی گئی ہیں،ان پرکتنا عمل ہوا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اوربھارت کو مذاکرات کی میز پر آناچاہیے۔ فاروق عبداللہ یہ کہنے پرکیوں مجبورہوئے ہیں،کیاوہ پاکستان کے ساتھ آملنے کی طرف راغب ہورہے ہیں یا پھر وہ جذبات میں یہ سب کچھ کہہ گئے ہیںتو یہ بات سب پرعیاں ہے کہ یہ دونوں باتیں نہیں ہیں، دراصل کشمیریوں کی واضح اکثریت بھارت سے جان چھڑانا چاہتی ہے اسکے باوجود کہ بھارتی فورسز ہر روزقیامت ڈھا رہی ہیں۔اب تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ گزشتہ 16\17 روز سے مختلف علاقوںمیں خصوصاً ضلع کپواڑہ میں بھارتی فوج کی خونی کارروائیوں کے باعث کشمیریوں کی زندگی اجیرن بن چکی ہے ,لوگ گھروں میں عملاً محصورہیں۔ حریت پسندسیاسی قیادت گھروں میں نظر بند ہے۔نوجوان سینہ سپر ہوکر بھارتی افواج کامقابلہ کررہے ہیں۔نوجوانوں میں بھارتی قبضے کیخلاف مسلح جدوجہد میں تیزی دیکھنے میں آرہی ہے۔ فرانس کے ایک سرکاری چینل فرانس- 240 نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ I india pakistan: A new genration takes up arms in kashmir جو کرنٹ افیئر کے پروگرام فوکس میںپیش کی, میںکہا ہے کہ بھارتی آرمی کیخلاف مقامی جوانوں کی مسلح جدوجہد میں خاصی تیزی آچکی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی اکثریتی آبادی بھارت کی بجائے پاکستان سے الحاق چاہتی ہے۔یہ وہ حقائق ہیں جو بھارت کو آئینہ دکھا رہے ہیں۔بھارت کو نوشتہ دیوار پڑ ھ لینا چاہیے۔

جماعت اسلامی اور تحریک انصاف ریلی کراچی

mir-afsar

ریلیاں تو سیاسی جماعتیں نکالتی رہتیں ہیںمگر کچھ ریلیاں تاریخ کا حصہ بن جاتیں ہیں اسی میں سے ایک ریلی مرحوم بٹھو کے زمانے میں کراچی ایئر پورٹ سے برنس روڈ تک نو ستاروں والی تحریک نے نکالی تھی جو ۲۱ گھنٹوں میں سفر کر کے منزل مقصود پر پہنچی تھی پھر بٹھو صاحب نے اس کے توڑ میں ریلی نکالی تھی وہ بھی بڑی ریلی تھی۔ اب بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے کراچی کی لسانی تنظیم نے بھی کچھ دن پہلے ریلی نکالی تھی جو لیاقت آباد سے قائد اعظمؒ کے مزار پرختم ہوئی تھی جس میں وہ دم خم نہ تھا جو کراچی میں لسانی تنظیم کی گزشتہ ریلیوں میں ہوا کرتا تھا۔ اب اس کے توڑ میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے اتحادنے کراچی ایئر پورٹ سے قائد اعظم ؒ تک مشترکا ریلی نکالی ہے۔ بلاشبہ اس ریلی میں کراچی کے عوام جس میں عورتیں بچے مرد بوڑھے اور نوجوانوں نے بھر پورشرکت کی جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے جھنڈے ہاتھوں میں لیے جس گرم جوشی سے سراج الحق اور عمران خان کا استقبال کیا اُس نے ثابت کردیا ہے کہ وہ کراچی میں تبدیلی چاہتے ہیں ۔یہ ریلی بھی ۰۱ گھنٹوں میں اپنی منزل تک پہنچی ۔راستے میں پہلے اسٹار گیٹ اور پھر مختلف پر جگہوں پر سراج الحق اور عمران خان صاحب نے خطاب کیا۔ کامیاب ریلی کے اختتام پر خوشی میں آتش بازی کا مظاہرہ بھی کیا گیا۔ صاحبو! سب کو معلوم ہے کہ کراچی کو ایک عرصہ سے ایک بین الالقوامی سازش کے تحت ایک لسانی تنظیم نے تیس نیس کر دیا ہے۔ نہ اس میں عوام کو پانی میسر ہے نہ سوریج کا نظام درست ہے نہ کراچی کی سڑکین صحیح ہیں نہ عوام کے ٹرانسپورٹ کا نظام ہے نہ تعلیم کا انتظام ہے ہاں افرا تفری، دہشت گردی، بھتہ خوری ، بوری بند لاشوں ،اقراپروری، کرپشن اور روزانہ کی بنیاد پر بے گناﺅں کی پندرہ پندرہ لاشوں کے ملنے کی وجہ سے کراچی کو کرچی کرچی کر دیا ہے۔ آپ غیر جانب دار ہو کر کرچی شہر کا سرو ے کریں ہر طرف آپ کو تباہی ہی تباہی نظر آئے گی ۔ گو کہ یہ بھی کراچی کے عوام نے برداشت کر لیا تھا مگر قتل غارت اور ہدافی قتل(ٹارگٹ کلنگ) نے عوام میں ایسا خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے جیسا ہمارے پاکستان کے دہی علاقوں میں وڈیروں نے پیدا کیا ہوا ہے۔کسی کی جرا¿ت نہیں ہو سکتی کی وہ وڈیرے کی مرضی کے خلاف چل سکے ایسی ہی خوف اور دہشت کا بازار کراچی کی ایک لسانی تنظیم نے پیدا کیا ہوا ہے اس کو روکنے والا کوئی نہیں تھا۰۳ سال سے کراچی میں پیپلز پارٹی اور اس لسانی تنظیم متحدہ قومی موومنٹ کی حکومت رہی ہے مگر عوام کے مسائل حل نہ کیے۔ اس کی وجہ عام لوگوں کو شاید معلوم نہیں اور اگر معلوم بھی ہے تو عوام کو ان سب مصیبتوں میں پھنسا کر سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے محروم کر دیا گیا ہے۔ کراچی پاکستانی کی۰۷ فی صدآمدنی کا ذریعہ ہے اس کی وجہ کارخانے اور بندر گاہ ہے ۔ گریٹ گیم جس میں امریکا،اسرائیل اور بھارت شامل ہیںکے تحت پاکستان کی معیشت کو تباہ کرنے کے لیے کراچی کو اپنا ہدف بنایا ہوا ہے اور اس میں لسانی تنظیم کے مقامی ایجنٹ ان کے سہولت کار ہیں اور پیپلز پارٹی اپنی کرپشن کی روایت کی وجہ سے ان کے ہاتھوں میں یرغمال بنی ہوئی ہے۔ کراچی سے آمدنی بند ہونے کی وجہ سے پاکستان آئی ایم ایف اور دوسرے بین الاقوامی اداروں سے قرضے پے قرضے لے رہا ہے اب اس وقت حالت یہ ہے کہ ہر پاکستانی لاکھ روپے سے زائد کا مقروض بنا دیا گیا پہلے قرضے کا سود ادا کرنے کے لیے نیا قرضہ لیا جاتا ہے اگر یہی صورت حال رہی تو ایک وقت پاکستان کو مقروض ناکام ملک قرار دے کر اس کے ایٹمی ہتھیار بین الاقوامی اختیار میں دے دیے جائیں گے اور یہی گریٹ گیم والوں کا ہدف ہے۔ پھر اُس کے بعد وہ اپنے مقامی سہولت کاروں کے ساتھ اپنے وعدے پورے کرتے ہوئے کراچی کو فری پورٹ بنا کر اور لسانی تنظیم کو صوبہ کا تحفہ دے کر پاکستان کے حصے بخرے کرنے والے منصوبے کو پورا کریں گے جس کے لیے وہ گائے بگائے نقشے بھی جاری کرتے رہتے ہیں۔ اسی گریٹ گیم کی سہولت کار لسانی تنظیم نے کراچی کے سرمایا داروں سے بھتہ وصولی کے لیے لفافوں میں گولیاں بھیج بھیج کر ا تنا خوف زدہ کر دیا تھا کہ کراچی سے سرمایا داروں نے سرمایا باہر دوسرے ملکوں میں منتقل کر دیا ہے ۔کراچی کے پوش علاقوں کے لوگ بیرون دنیا ہجرت کر گئے ہیں ان حالات کے مقابلہ چاہےے تو تھا کہ وقت کی مرکزی حکومتیں کرتیں مگر وہ اپنے حکومت کو قائم رکھنے کے لیے لسانی تنظیم کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے ایسا نہ کر سکیں اور اب الطاف حسین کی طرف سے پھیلائی گئی لسانیت کی زہر کینسر بن گئی ہے اب اس کا ایک ہی علاج ہے کہ اسے کاٹ کر پھینک دیا جائے۔ اس ساری گریٹ گیم کا فوج کو اچھے طریقے سے معلوم ہے اسی لیے ملک میں فوج کی جانب سے جاری ضرب عضب کے ساتھ ساتھ کراچی میںٹارگیٹڈ آپریشن جاری ہے۔فوج تو اپنے حصے کا کام خوش اسلوبی سے ادا کر رہی ہے مگر سیاسی معاذ پر یہ کام سیاسی جماعتوں کا ہے کاش ن لیگ اس میں دل سے شامل ہوتی اور لسانی تنظیم کو سیاسی معاذ پر شکست سے دو چار کرنے میں سیاسی معاذ بنا کر اس ناسور کو ختم کرنے میں شامل ہوتی مگر سیاسی ضروتوں کی وجہ سے وہ نہیں کر رہی اور اسے طاقت کے نشے میں شاید یہ ادراک بھی نہیں ہو رہا کہ اسی ناسور کی وجہ سے اس کے حکومت پہلے کی طرح پھر بھی جا سکتی ہے۔ بہر حال ان حالات کی وجہ سے کراچی میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف نے سیاسی اتحاد کیا ہے شہر کی ۰۹ فی صد سیٹوں میں کچھ اس طرف طے کیا گیا ہے کہ جہاں جماعت اسلامی کا چیرمین نامزد ہے وہاں عوام ترازو کو ووٹ دیں گے اور جس سیٹ پر تحریک انصاف کا چیرمین نامزد ہے وہاں عوام تحریک انصاف کے نشان بلے کو ووٹ دیں گے شہر میں جیتنے والے کونسلر چیئر مین اور وائس چیئر مین کا کریں گے اور یہ ملک کر میئر کا انتخاب کریں گے ۔اگرسیاست اور خاص کربلدیاتی انتخابات میں کرپشن ،دیانت اور شرافت کا دخل ہے تو جماعت اسلامی میں کرپشن کا نام تک نہیں ایک دفعہ نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ اور دودفعہ بلدیہ میں (مرحوم )عبدالستار افغانیؒ نے حکومت کی تھی ایک دفعہ این اے ۰۵۲ ڈیفنس سے قومی اسمبلی کا انتخاب بھی جیتا تھا میں ان کی قومی اسمبلی کی مہم کا انچارج تھا جس میںلسانی تنظیم کی امیدوار نسرین جلیل صاحبہ کو شکست ہوئی تھی اس حوالے سے عبدالستار افغانیؒکو مجھے قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تھا وہ لیاری میں پٹھان مسجد کے قریب ایک ۰۶ گز کے فلیٹ میں رہتا تھا اور جب فوت ہوا تو اس کا جنازہ اسی ۰۶ کے فلیٹ سے نکلاتھا۔ اس کے سامنے لسانی تنظیم کے میئر کرپشن کی وجہ سے اور اخباری اطلاع کے مطابق اپنی تنظیم کو حساب کتاب صحیح نہ دینے کی وجہ سے ملک سے باہر ہے وہ کراچی نہیں آسکتا لسانی تنظیم کے چائنا کٹنگ کے الزامات تو اس لسانی تنظیم کے سربراہ برطانوی شہری کی طرف سے بھی ان کے لوگوں پر لگائے تھے اور رابطہ کمیٹی کو ڈس مس بھی کر دیا گیا تھا۔
اس اتحاد کے دوسری فریق عمران خان بھی کرپشن سے پاک اور صاف ہیں وہ اپنی جماعت کو بھی کرپشن سے پاک چلا رہا ہے اس کی زندہ مثال کہ خیبر پختونخواہ میں اس کے ایک وزیر نے کرپشن کی تو اسے تحریک انصاف سے علیحدہ کر دیا گیا اس وقت کراچی تبد ہلی کی طرف دیکھ رہا ہے کراچی میں لسانی تنظیم نے ۰۵ سیٹوں پر اپنے نمائندے ہی کھڑے نہیں کےے رہا باقی سیٹوں کا حال تو اس پر سخت مقابلہ ہو گا اور ان شااللہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کا اتحاد کراچی میں جیتے گا۔ کراچی میں ایک تو خوف کی فضا میں کچھ کمی آئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے کراچی میں فوج کو تعینات کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے لسانی تنظیم کے غنڈے جو الیکشن میںزور ذبردستی کرتے تھے کچھ تو انڈر گراﺅنڈ ہیں جو بچے ہیں وہ رینجرز کی کاروائی سے خوف زدہ ہیں ان حالات میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے کارکن زور شور سے تحریک چلا رہے ہیں۔ ادھر ایک کامیاب ریلی بھی نکل چکی ہے جس میں کراچی کی عوام کی طرف سے پزیرائی ملی ہے۔ اس ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق صاحب نے کہا ہے کہ آج کی شاندار ریلی نے خوف کا ماحول ختم کر دیا ہے ۵ دسمبر کادن ہماری جیت کا دن ہے۔ دہشت گردوں، بھتہ، خوروں،چائنا کٹنگ کرنے والوں،ٹارگٹ کلروں ، کراچی کو بدامنی میں دھکیلنے والوں کوشکست فاش ہو گی۔ ریلی کے اختتام پر انہوں نے قائدؒ کے مزارا پر فاتحہ خوانی کی اور کہا کہ قائدؒ نے اسلامی پاکستان حاصل کیا تھا ہم قائد کے اسلامی پاکستان کی حفاظت کریں گے ا گر کسی کو لبرازم پسند ہے تو وہ بھارت چلا جائے ۔ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کا اتحاد کراچی کے روشن مستقبل اور عزت و وقار کے لیے اتحاد ہے۔ہم کراچی کو پانی، تعلیم، صحت ، ٹرانسپورٹ، سوریج اوربوری بند لاشوں کی مشکلوں سے نجات دلائیں گے شہر میں امن قائم کریں گے جب کارخانے چلیں گے تو پھرنوجوانوں کو روزگار بھی ملے گا۔ الطاف حسین بھی کراچی آ کر آرام اور تحفظ سے رہ سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ میںشاندار اسقبال پر کراچی کے عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں اس سے قبل اس کے اسٹار گیٹ اور الہ دین پارک پر بھی سراج الحق اور عمران خاں صاحب نے خطاب کیا اس موقعہ پر جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان، نائب امیر مسلم پرویز،اسامہ ر ضی اور تحریک انصاف کراچی کے صدر سید علی زیدی ، عمران اسماعیل،خرم شیر زمان اور ڈکٹر عارف علوی اور دیگر بھی موجود تھے۔ نعیم الرحمان اور علی زیدی نے خطاب بھی کیا۔عمران خان نے اپنے خطاب میں کہاکہ میں اس شاندار استقبال پر کراچی کے عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ایک پارٹی کا چیئر مین اپنی عوام سے خطاب نہ کرے ۔ ایک جمہوری ملک میں الیکشن کمیشن عوام سے خطاب سے روک رہا ہے میرے خلاف ایف آئی آر کٹ چکی ہے کیا یہ جمہوریت ہے ایسا کرنے سے خونی انقلاب کا راستہ کھلتا ہے۔عوام کو جمہوری راستے سے نہ ہٹاﺅ۔اسحاق ڈار نے دوبرس میں دبئی میں اربوں کی پراپرٹی بنائی۔آصف زرداری کا ۶ ارب روپیہ سوئس بنکوں میں پڑا ہوا ہے۔یہ پیسہ واپس لانے کے بجائے عوام پر مزید ٹیکس لگا رہے ہیں۔عوام جانتے ہیں کہ نواز شریف اور زرداری میں مک مکاﺅ ہے۔کراچی کے لوگ تبدیلی چاہتے ہیںپاکستان میں تمام تحریکیں کراچی سے شروع ہوتےں ہیںکراچی جاگتا ہے تو پورا پاکستان جاگتا ہے کراچی میں امن ہو گا تو پورے پاکستان میں امن ہو گاہم کراچی میں امن لائیں گے کراچی کی پولیس غٰیرجانبدار ہو گی تو رینجرز کی ضرورت نہیں ہو گی ہم کراچی کی پولیس کو بھی خیبرپختونخواہ کی پولیس کی طرح غیر جانبدار بنائیں گے تو اس سے امن قائم ہو گا۔الطاف حسین کو میرا مشورہ ہے کہ آپ کو باہر سے نہیں اندر سے خطرہ ہے اندر سے ہی مائنس ون کا فارمولہ شروع ہو چکا ہے کیونکہ آپ کے لوگوں کی گزشتہ ریلی میں آپ کی کوئی تقریر نہیں تھی نہ تصویر تھی۔ عمران خان نے کہا ہمارا جو میئر ہو گا وہ کراچی میں رہے گا اُسے لندن سے احکامات نہ ملیں وہ پیسہ بھی لندن نہیںبھیجے گا وہ کراچی کے عوام کے پیسے کی چوری بھی نہیں کرے گاعوام کی خدمت کرے گا نفرت کی سیاست ختم کرے گا ظالم ہمیشہ بزدل ہوتا ہے دم بھگا کر بھاگ جاتا ہے عوام خوف سے نکل کر اپنا ووٹ استعمال کریں ظالموں کا احتساب کریں ہم کراچی کو امن و شانتی کا شہر بنا کر دم لیں گے۔آج کی شاندار ریلی اور جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے اتحاد سے سے کراچی کے عوام مطمئن ہیں ان کو مثبت تبدیلی نظرآرہی ہے اللہ کرے ان کی آرزوئیں پوری ہوں اور کراچی میں امن قائم ہو آمین۔

پاک افغان ٹریڈ اور وزیر کیڈ کی تبدیلی

Untitled-1

اسلام آباد سے منتخب رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وزیر مملکت برائے کیڈ کا حلف اٹھانے کے بعد اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا۔اس تبدیلی کی اتنی سخت ضرورت تھی جس طرح پانی کے بغیر تڑپتی ہوئی مچھلی کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔اس تبدیلی کی بہت پہلے ضرورت تھی کیونکہ عملاً یہ وزارت ختم ہو چکی تھی۔اس کے اندر سازشوں کا گڑھ تھا۔کوئی شخص کام کرنے کو تیار نہیں تھا۔عثمان ابراہیم نہ تو ان سازشوں کو سمجھ سکے اور نہ ہی ان میں ایسی وزارت چلانے کی صلاحیت تھی۔نہ صرف وزارت کے اندر بلکہ وزارت کے تحت تمام سرکاری ادارے بدنظمی کا شکار تھے۔گزشتہ چار سالوں سے تو وفاقی ڈائریکٹوریٹ کا مستقل ڈائریکٹر جنرل ہی نہیں لگایا جا سکا۔سب کچھ ایڈہاک بیس( Base )اور عدالتوں کے رحم وکرم پر ہوتا رہا۔ سابق وزیر مملکت کیڈ عثمان ابراہیم نے تجربہ کار لوگوں اکھاڑ پچھاڑ کر اداروں کا ستیا ناس کر دیا۔اداروں کے سربراہ بے لگام گھوڑوں یا شتربے مہار کی طرح دندناتے پھرتے رہے ۔کوئی کسی کو پوچھنے والا نہیں تھا۔بلکہ اب تو لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ دہشت گرد دینی مدرسے نہیں بلکہ سرکاری تعلیمی ادارے پیدا کریں گے۔سرکاری تعلیمی اداروں میں کیا ہونا شروع ہو گیا ہے اور کیوں لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ سرکاری تعلیمی ادارے دہشت گرد پیدا کریں گے۔اس پر پھر کسی دن پورا کالم لکھوں گا لیکن اتنا ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ یہ سب کچھ وزارتِ کیڈ کی نااہلی ، کاہلی، نالائقی اور کوئی واضح پالیسی نہ ہونے کی وجہ کہا جانے لگا۔وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے عثمان ابراہیم کو تبدیل کر کے قوم کو ناقابلِ تلافی نقصان سے بچا لیا۔اور پھر اس عہدے کے لئے ایسے وزیر کا چناو¿ کیا گیا۔جو انتھک، محنتی، دیانتدار اور خاص کر اسلام آباد کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔طارق فضل چوہدری کے والد محترم چوہدری فضل داد مرحوم سے میرے ذاتی تعلقات اور خصوصی دوستی تھی۔سی ڈی اے کے سابق چیئرمین سید علی نواز گردیزی کے گھر ہفتے میں دو تین بار ضرور ملاقاتیں ہوتی تھیں۔طارق فضل چوہدری اس وقت بہت چھوٹے اور طالبعلم تھے۔بہرحال اس خاندان سے میرا35سالہ پرانا رشتہ ہے۔اور ان کو ذاتی طور پر جانتا ہوں۔ڈاکٹر صاحب اس وزارت کو چلانے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔اس اہم وزارت کا چارج سنبھالنے پر ڈاکٹر صاحب کو مبارکباد اور خاص طور پر وزیراعظم پاکستان کا انتہائی شکریہ کہ انہوں نے اس اہم وزارت کے لئے ذہین، ایماندار، اور مسائل کو قریب سے جاننے اور سمجھنے والی شخصیت کا چناو¿ کیا لیکن ابھی یہ کام مکمل نہیں ہوا۔ابھی سابق وزیر موصوف کے نالائق چمچوں سے بھی وزارت کو پاک کرنا ہوگا۔کیونکہ بہت ساری خرابیوں کی جڑ وہ چمچے بھی تھے۔اس لئے اسٹیبلشمنٹ کو خاص طور پر احکامات جاری فرمائے جائیں کہ وہ نئے وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کو کھل کر کام کرنے کا موقع دینے کے لئے ان کو ان کی مرضی کا سٹاف بھی دینا چاہیئے۔بہرحال ایک بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گئی ہے کہ اب کیڈ کے ذیلی اداروں میں بہت خوشگوار اور معطر تبدیلی آئے گی۔گزشتہ روز وزیر کیڈ کی تبدیلی کے ساتھ جو دوسری خوشگوار خبر اخبارات کی زینت بنی۔وہ پاک افغان تجارتی حجم بڑھانے پر غور کرنا تھا ۔اس تجارتی حجم کو بڑھا کر 5ارب ڈالر تک لے جانے کا اعلان کیا گیا۔ریل اور روڈز کے رابطے بڑھانے اور محفوظ بنانے پر بھی تفصیلی بات ہوئی۔اس سلسلے میں سارے خطے کو مواصلات کے مختلف منصوبوں سے منسلک کرنا۔ہلمند سے گوادر بندرگاہ تک راہداری قائم کرنے اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں حائل تمام دوسری رکاوٹوں کو دور کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔استنبول ترکی میں پاکستان کی ٹیم نے کاسا 1000منصوبے پر اجلاس کئے۔300میگاوواٹ بجلی پر ٹرانزٹ فیس وصول نہیں کی جائے گی۔وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈاراور افغان وزیر خزانہ عقیل حکیمی نے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کئے ۔ترکمانستان سے افغانستان کے راستے دو ہزار میگاوواٹ منصوبے کو آگے بڑھانے پر بھی بات ہوئی۔یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کا امن افغانستان کے امن کے ساتھ مشروط ہے۔افغانستان میں امن ہو گا تو پاکستان ترقی کر سکے گا۔پاک افغان ٹریڈ سے دونوں ممالک میں ترقی کے راستے کھلیں گے ااور یہ ٹریڈ دو مختلف راستوں سے ہو سکتا ہے۔پہلا پشاور سے کابل براستہ طورخم اور دوسرا چمن سے قندھار۔ریلوے لائن اور سڑک دونوں انتہائی کارآمد ثابت ہو سکیں گے۔ اس خطے کے یہ دونوں ممالک گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے حا لتِ جنگ میں ہیں۔ بلکہ افغانستان تو گزشتہ چار دہائیوں سے میدانِ جنگ بنا ہوا ہے۔اس کو اس مصیبت میں دھکیل کر پاکستان دشمنوں نے افغانستان کو اپنا مستقل مسکن بنا لیا۔خاص طورپر گزشتہ 16سال سے دہشت گردوں نے ان ممالک کی بنیادیں کھوکھلی کر دیں۔موجودہ حکو متِ پاکستان نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت سب سے پہلے دہشت گردی اور دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کااعادہ کیا۔اور اس عمل کے تحت دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا۔اس پلان کے آغاز سے پہلے جو دہشت گرد افغانستان بھاگ گئے تھے۔وہاں اب ان کے گرد بھی گھیرا تنگ کر دیا گیا۔اب ضرورت اس امر کی تھی کہ ٹریڈ بڑھانے پر کوششیں تیز کر دی جائیں۔اور تجارت کے حجم کو مزید جلد بڑھایا جائے۔ وزیر تجارت اسحاق ڈار نے اپنے افغان ہم منصب کے ساتھ میٹنگ کے بعد جو اعلامیہ جاری کیاوہ نہایت فائدہ مند ثابت ہوگا۔تجارتی حجم بڑھنے سے خطے میں خوشحالی آئے گی۔دہشت گردی میں کمی ہوگی۔تعلیمی اعلیٰ ادارے قائم ہونگے۔پڑھے لکھے نوجوان ہر برائی کو روکنے میں اہم کردار ادا کرینگے۔

روسی طیارے کو مار گرانے کا معاملہ اور امریکی کردار !

Darwesh-sherazi

ترکی کے جانب سے روسی طےارے کے مارے جانے کے بعد حالات نے کروٹ کھالی ہے اور درپیش صورت حال ان دنوں میڈیا اور عالمی منظر نامے پر نظر رکھنے والے افراد کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ جیٹ طیارے کے معاملے پر ترکی اور روس میں کشیدگی برقرار ہے، روس نے امریکا پر سازش کا الزام عائد کیا ہے جبکہ ترک صدر نے روسی الزامات کی تردید کردی اور روس اس بات کی سختی کے ساتھ تردید کرتا ہے کہ اس کے لڑاکا طیارے نے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔
صدر ولادی میر کے مطابق فضائی حدود کی حفاظت کیلئے دیگر طریقوں کے باوجود ترکی نے طیارہ مار گرایا۔شام میں جاری فضائی آپریشن کے دوران روس کے جنگی طیاروں کی نقل و حرکت سے امریکا کو آگاہ کیا تھا، معلومات کے باوجود جیٹ طیارہ مار گرانا سوچی سمجھی سازش ہے۔دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوان نے روس کا الزام بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر معلوم ہوتا کہ طیارہ روس کا ہے تو صورتحال مختلف ہوتی، دہشتگرد تنظیم سے تیل خریدنے کے روسی الزام کی بھی مذمت کی۔دریں اثنا ترک صدر نے کہا ہے کہ روس شام میں بشارالاسد کی حمایت میں لڑرہا ہے، داعش کیخلاف کارروائیوں میں شامل نہیںاور انہوں نے طیارہ مار گرانے پر معذرت سے انکار کرتے ہوئے روس سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔اورروسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ ہم اس بات پر یقین نہیں کرسکتے کہ یہ کام غیر ارادی طور پر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں لگتا ہے یہ کام پہلے سے طے شدہ منصوبے کا حصہ ہے اور آج یہ بات بھی خفیہ نہیں رہی کہ دہشت گرد گروہ، شام کی حکومت کے خلاف کارروائیوں کے لئے ترکی کی سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔ان کا یہ کہنا بھی تھا کہ ماسکو، سلامتی کونسل سے درخواست کرے گا کہ وہ ان اطلاعات کا جائزہ لے اور اس بارے میں تحقیقات کرے کہ دہشت گردوں کو مالی وسائل کیسے اور کہاں سے فراہم کئے جا رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ جس نے روسی لڑاکا طیارے کو مار گرایا ہے اس کا پتہ لگاکر اس کو سزا دی جائے گی انہوں نے کہاکہ ترکی کا یہ اقدام مجرمانہ کارروائی اور دہشت گردوں کی حمایت ہے –
شام کے وزیرخارجہ نے روس کے لڑاکا طیارے کو مار گرائے جانے کے بعد رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کا یہ اقدام اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ انقرہ کی حکومت انتہا پسند اور دہشت گرد گروہوں کی حامی ہے – انہوں نے کہا کہ ترکی نے روس کے طیارے پر حملہ کر کے شام کی بھی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے انہوں نے کہا کہ داعش جبہہ النصرہ اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو نابود کرنے کی کوششوں سے ترک حکام سخت ناراض ہیں –
اس دوران شام کے وزیر خارجہ نے روس کا ہنگامی دورےہ کیاروسی حکام نے شامی وزیرخارجہ سے ملاقاتوں میں کہا کہ شام کی سرحد کے اندرترکی کے ذریعے روسی طیارے کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور ماسکو انقرہ کے اس اقدام کو جرم اور دہشت گردوں کی حمایت سمجھتا ہے انہوں نے ترکی کی سرحد کے قریب دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی موجودگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ ماسکو اپنے نشانہ بنائے جانے والے لڑاکا طیارے کی پرواز کے راستے کو کنٹرول کرنے والے روسی ماہرین کی ہی رپورٹ کو معیار قرار دے گا –
شام کی فوج نے اکیس سے چھبیس نومبر تک کے آپریشن میں ریف دمشق، حمص، حماہ، ادلب، حلب، دیرالزور، اور لاذقیہ صوبوں میں دہشت گرد گروہوں کے چھ سو تہتر ٹھکانے تباہ کر دیئے گئے ہیں۔ یہ رپورٹیں بھی سامنے آرہی ہیں کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر شام کی فوج اور روس کے مشترکہ حملوں میں بہت سے محاذوں پر دہشت گردوں کی دفاعی لائنیں تباہ ہوچکی ہیں اور دسیوں غیر ملکی دہشت گرد جنگی علاقوں سے فرار ہو کر ترکی کی سرحدوں کی جانب جا رہے ہیں۔ دوسری جانب روس کے لڑاکا طیاروں نے شام کی فضائیہ کے تعاون سے گزشتہ دو دنوں کے دوران دمشق، حلب، ادلب، لاذقیہ، حماہ، الرقہ اور دیرالزور صوبوں میں دہشت گردوں کے چار سو انچاس ٹھکانوں پر حملے کئے جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کے تیس کنٹرول روم، اسلحے کے متعدد گودام، دھماکہ خیز مواد بنانے کے کارخانے اور دہشت گردی کی تربیت کے مراکز تباہ ہوگئے ہیںاوردہشت گردوں کے ٹھکانوں پر شام اور روس کی کارروائیوں سے شام میں دہشت گردوں خاص طور پر داعش کی نابودی کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے- روسی فضائیہ نے شام کی حکومت کی درخواست پر گذشتہ تیس ستمبر سے شام میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پراپنی کارروائیاں شروع کی ہیں جو اب تک جاری ہیں – روسی فضائیہ کے حملوں میں بڑی تعداد میں دہشت گرد ہلاک اور ان کے ہتھیاروں کے بہت سے گودام بھی تباہ ہوچکے ہیں –
روس نے ترکی کے ہاتھوں طیارہ گرائے جانے پر امریکا کو بھی ملوث قرار دے دیا،، فلائٹ ڈیٹا امریکا کو دیا تھا، روسی صدر ولا دیمیر پیوٹن نے نیا محاذ کھول دیا جبکہ دوسری جانب روسی اینٹی ایئرکرافٹ نظام ایس چار سو شام پہنچا دیا گیا،روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے فرانسیسی صدر فرانسس اولاند کے ہمراہ ماسکو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گرائے گئے روسی طیارے کے واقعہ میں امریکا بھی ملوث ہے کیونکہ روس نے اپنے طیارے کا رستہ امریکا کو دیا تھا جو ظاہرکر دیا گیا، انہوں نے کہا کہ جس وقت طیارے کو ایک مقام سے گزرنا تھا، عین اسی لمحے مار گرایا گیا، پیوٹن نے مزید کہا کہ ان کے طیاروں پر شناختی علامات واضح تھیں تو پھر نشانہ کیوں بنائے گئے، امریکا کو اتحادیوں پر کنٹرول نہیں یا وہ خفیہ معلومات سب پر ظاہر کر رہا ہے، کیا روس نے اس لیے امریکا کو معلومات فراہم کی تھیں۔ ولاادیمیر پیوٹن نے کہا کہ عوام بشارالاسد کے مستقبل کا فیصلہ خود کریں۔لگتا یسا ہے کہ اس کھیل میں امریکہ اپنا من پسند کھیل کھیل رہا ہے دنیامیں سرد جنگ کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ اگر ترکی اور روس کے مابین تنازعہ طول پکڑتا ہے تو پھر ہمارے لئے بھی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیںکیونکہ ترکی ہمارا برادر ملک ہے اور پاکستان اور ترکی کے تعلقات ہمیشہ مثالی رہے ہیں اور روس ہمارا پڑوسی ملک ہے گزشتہ چند سالوں سے دونوں ممالک کے تعلقات مستحکم ہوئے ہیں اس لئے ہمیں احتیاط کے ساتھ چلنا ہوگا۔

Google Analytics Alternative