کالم

عمران خان…. بعض ڈاکٹرحضرات ،چھوٹا نہیں، بڑا مافیا

ejaz-ahmed

اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کل پاکستان تحریک انصاف کے چیر مین عمران خان سے کئی ایسی غلطیاں سر زد ہو رہی ہیں جس سے نہ صرف اُسکی سیاسی ساکھ نُقصان پہنچ رہا ہے بلکہ اُنکی مقبولیت میں کمی کا با عث بھی بن رہی ہیں۔ مگر جہاں تک عمران خان کے اُس سٹیٹمنٹ اور بیان کا تعلق ہے جس میں عمران خان نے بعض ڈاکٹروں کو ما فیا کہا ہے ،تو میرے نا قص خیال میں عمران خان کا یہ بیان 100 فی صد نہیں بلکہ120فی صد صحیح اور حقیقت پر مبنی ہے۔اگر عمران خان کے اس قسم کے بیان سے بعض ڈا کٹر حضرات سیخ پا ہو رہے ہیں یا اس بیان اور سٹیٹمنٹ کو غلط کہہ رہے ہیںتو اس میں کوئی عقلی دلیل نہیں۔اگر ہم حالات اور واقعات پر غور کر لیں ڈا کٹروں کی اکثریت نے خیبر پختون خواکے زیادہ تر شہروں میں کلینکس، لیبا رٹریاں اور دوائیوں کے سٹورز، ایکسرے،ای سی جی ، سی ٹی سکین ، ایم آر آئی کی مشینیں لگائی ہوئی ہیں اور وہ ہفتے کے مختلف دنوں میں مختف شہروں میں قائم ان کلینکوں اور لیبا رٹریوں کا وزٹ کرکے، مریضوں کو دونوں ہا تھوں سے خوب لو ٹتے اور سرکاری ڈیوٹی سے جان چُھڑاتے ہیں۔ اپنی بھا ری فیسوں کے علاوہ دوائیاں بھی بیچتے ہیں اور مختلف قسم کے مہنگی ٹسٹ بھی مریضوں کو تجویز کرتے ہیں۔یہ ڈاکٹر حضرات سرکاری ہسپتا لوں کے بجائے زیادہ وقت اپنے کلینکوں اور لیباٹریوں کو دیتے ہیں۔ جن ہسپتالوں میںیہ ڈا کٹر کام کر رہے ہوتے ہیں،وہاں پر مریضوں کے ساتھ انکا رویہ وہ نہیں ہوتا جو اُنکا مریضوں کے ساتھ اپنےپرائیویٹ کلینکس میں ہوتا ہے۔کئی دوا ساز ملکی اور غیر ملکی کمپنیاں اور ادارے اپنی نئی پروڈکٹ تیار اور لنچ کر کے ڈا کٹروں کو بھاری رقوم اور مختلف سہولیات اور مراعات دیکر ان سے مریضوں کو لکھواتے ہیں۔ اسی طر ح دوا ساز کمپنیاں اور ڈاکٹر حضرات دونوں غریبوں کولوٹ کر خوب کمائی کرتے ہیں۔وطن عزیز اور بالخصوص خیبر پختون خوا میں ڈاکٹروں کی فیس لینے کے لئے کو ئی معیار اورقاعدہ مقرر نہیں۔ایک ڈاکٹر ایک سرجری کے لئے ایک فیس اور دوسرا ڈاکٹر اس قسم کی سر جری کی دوسری فیس لیتا ہے ۔اگر اس میں ہزار دو کا فرق ہو تو پھرکوئی بات نہیں مگر اکثر و بیشتر دیکھا گیا ہے کہ ان میں حد سے فرق اور تفاوت ہوتا ہے۔میں کئی ایسے ڈاکٹروں کو جانتا ہوں جو کئی دواسا ز کمپنیوں سے پیسے لیکرمریضوں کو غیر ضروری اور مہنگی دوائیاں لکھواتے ہیں ۔ میں شام کو ایک کیمیسٹ کے دکان پر بیٹھا رہتا ہوں ۔ وہاں پر مخلف ڈاکٹروں کے نُسخے آتے ہیں ان نُسخوں میں کئی ایسی دوائیاں ہوتی ہیں جنکی قیمتیں انتہائی زیادہ ہوتی ہیں۔ مگر ڈاکٹر مریضوں کو اس قسم کی دوائیاں بلا ضرورت لکھواتے ہیں کیونکہ اسکے عوض وہ دواساز کمپنیوںسے مختلف قسم کی ناجائز مراعات لیتے ہیں۔ ڈاکٹر حضرات کے اس قسم کے رویوں کا دو طریقوں سے علاج کیا جا سکتا ہے ایک دین سے اور دوسرا قانون سے۔ بد قسمتی سے دین کو ہم نے چھوڑا ہے ۔اور اگر ہم مسلمان ہیں تو برائے نام اور وراثتی۔ اگر ایک انسان کاصرف اس بات پر یقین ہو کہ اُس نے مرنا ہے اور اللہ کو جواب دہ ہو نا ہے تو میرے خیال میں اُس سے گناہ صغیرہ تو سر زد ہو سکتا ہے مگر وہ بڑا گناہ یعنی گناہ کببیرہ سے پہلے وہ 100 دفعہ سوچے گا، مگر بد قسمتی سے اُس دین کو جس کو غیر مسلموں نے اپنا یا ہوا ہے اُس سے مُستفید ہو رہے ہیں اور ہم نے اس دین کے ساتھ برائے نام منسلک ہیں۔ دوسرا اس قسم کے مسائل علاج قانون سے کیا جا سکتا ہے مگر بد قسمتی سے اسکانفا ذ صرف غریب کے لئے ہے ، امیر کے لئے کوئی قانون نہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر حضرا ت اس میںلو پ ہول نکالتے ہیں اور ناجائز کمائی کرتے ہیں۔اکثر دوا ساز کمپنیوں کی طر ف سے ڈا کٹر حضرات کو گا ڑیاں دی جاتی ہیں انکو بیرون ملک سیر و سیاحت کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ اُنکو عمرے اور حج کروائے جاتے ہیں ۔ اُنکی بچوں کی سکولوں اور کا لجوں کی فیسیس دی جاتی ہیں ۔ انکے لئے پلاٹ خریدے جاتے ہیں انکی کو ٹیاں دواساز کمپنیوں کی طر ف سے بنائی جاتی ہیں ۔ انکے کلینکس کیلئے فر نیچرز اور دوسری چیزیں خریدی جا تی ہیں۔اور یہ سب کچھ اسلئے کیا جاتا ہے کیونکہ اس قسم کے کرتوتوں سے ڈاکٹر حضرات اور دواساز کمپنبیاں دونوں نا جائز طریقے سے اپنا پیٹ دو زخ کی آگ سے بھرتے ہیں۔کئی ڈاکٹروں نے اپنے نر سنگ ہوم کھولے ہوئے ہیں ، جس میں وہ مریضوں کو ایڈ مٹ کرتے ہیں اور یوں ہسپتال کی جگہ ان نر سنگ ہومز اور میڈیکل سنٹرز میں مریضوں کو لوٹتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ایک والد نے اپنے لخت جگر ہسپتال میں دا خل کر وایا ۔ ڈا کٹر نے بچے کو اتنے مہنگے انجکشن لکھوائے کہ والد نے جمع پو نجی ختم ہو نے کے بعد لخت جگر کی جان بچانے کےلئے جانور بیچنا شروع کئے۔اگر ہم غو ر کر لیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹری اور حکمت کا شعبہ جو عبادت کا درجہ رکھتا ہے مگر بد قسمتی سے بعض ڈا کٹر حضرات نے اس پیشے کو بد نام کر رہے ہیں اور عبادت کے بجائے اس پیشے سے صرف لوگوں کو لوٹتے ہیں۔ میں سٹیلائٹ ٹاﺅن میں واقع ایک ماہر چشم اور ہو لی فیملی ہسپتال کے ایک پروفیسر کے پا س چیک کر نے گیا ۔ایک ہزار روپے فیس دینے کے بعد ڈا کٹر صا حب نے میری آنکھوں کا معائنہ کیا ۔ اور دو ہزار مزید فیس ایک اور ٹسٹ کرنے کی لے لی۔پر و فیسر کے مطابق میرے آنکھوں میں سفید اور کالا مو تیا دونوں بن رہے تھے ´۔ میں نے ڈاکٹر صا حب سے نظر چیک کر نے کو کہا ´مو صوف نے میری نظر چیک کی اور عینک بنانے کا کہا۔میں نے نزدیک شفاءآپٹیکل میں عینک بنوانے کا آرڈر دیا ۔ دو دن بعد جب عینک پہن کے چیک کرنے لگا تواُن میں کچھ نظر نہیں آر ہا تھا۔میں ایک اور پر و فیسر اور ما ہر چشم کے پا س چلا گیا اور اس سے استد عا کی کہ وہ میری آنکھوں کا پو را طبی معائنہ کر لیں۔اُنہوں نے کا فی معائنے اور تشخیص کے بعد کہا کہ آنکھیں بالکل ٹھیک ہیں البتہ نظر میں تھو ڑی سی تبدیلی آ رہی ہے ۔میں نے پو چھا کیا میری آنکھوں میں سفید یا کالا مو تیا بن رہا ہے ، ڈا کٹر نے کہا اللہ کے فضل سے ایسی کوئی بات نہیں۔ اُنہوں نے میری نظر چیک کی اور اُسی نُسخے کے مطابق عینک تیا ر ہوئی اور اب اللہ کے فضل وکرم سے میری دور اور نزدیک کی دونوں نظر ٹھیک ہے۔ اکثر زنانہ مریضوں کو بچے کے پیدائش کے دوران آپریشن کی بھی ضروت نہیں ہو تی مگر قصائی ڈاکٹر اُنکا آپریشن بغیر کسی ضرورت کے کر واتے ہیں۔ پنڈی میں ایک ای این ٹی سپیشلسٹ کو جانتا ہوں جو بھی مریض اُس کے پاس جاتا ہے وہ ۵۹ فیصد مریضوں کا گلے یا ناک کا آپریشن بلا ضرورت کرتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض ڈا کٹر چھوٹا ما فیا نہیں بلکہ بڑے بڑے اژدھے اور سانپ ہیں جو غریب وگوں کو نگل رہا ہے۔

بہار تا لندن ۔۔ مودی ان ٹربل !

asghar-ali

آٹھ نومبر کو بہار کے انتخابی تنائج آئے ۔ لگتا ہے کہ مودی کے خلاف مکا فات عمل کا آغاز ہو چکا ہے ۔ موصوف کا زوال اس تیزی سے شروع ہوا ہے جس کی توقع چند روز پہلے تک بھی کسی کو نہیں تھی ۔ایک جانب بہار سے BJP کے ارکان لوک سبھا ” حکم دیو نورائن “ اور ” بھولا سنگھ “ نے مودی اور RSS چیف ” موہن بھاگو “ ت کے خلاف الزامات کی بوچھاڑ کر دی تو دوسری طرف BJP کی سینئر قیادت یعنی ” لعل کرشن ایڈوانی “ ، ” ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی “ ، ” یشونت سنہا “ اور ہماچل پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ ” شانتا کمار “ نے باقاعدہ مشترکہ بیان جاری کرتے کہا ہے کہ لگتا ہے کہ BJP نے دہلی کی ہار سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور اسی وجہ سے اسے بہار میں اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ فتح کا سہرا تو مودی اور امت شاہ اپنے سر باندھ لیتے ہیں اور شرمناک ہار کے بعد یہ کہا جا رہا ہے کہ اس میں کوئی ایک یا دو افراد ذمہ دار نہیں بلکہ یہ ہار پوری BJP قیادت کی ہے اور اس ہار کے ذمہ دار مودی اور امت شاہ خود ہی شکست کے اسباب کا تجزیہ کرنے بیٹھ گئے ہیں حالانکہ کسی بھی اخلاقی ضابطے کے تحت اس صورتحال کے ذمہ دار خود جائزہ لینے یا تجزیہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے۔
بہار کے لوک سبھا حلقے بیگو سرائے سے رکن لوک سبھا ” بھولا سنگھ “ نے تو یہ بھی کہا ہے کہ ” مودی نے وزارت عظمیٰ کے منصب کی توہین کرتے ہوئے اپنی انتخابی مہم کے دوران ایک جانب سیاسی مخالفین کی بہو بیٹیوں پر تنقید کر کے اخلاقی دیوالیہ پن کا ثبوت دیا ہے ۔ دوسری طرف پاکستان کو بھارت کی داخلی سیاست میں انتخابی مُدّا بنا کر خوامخواہ سفارتی حوالے سے بھارت کو خفت کا سامنا کرایا اور مسلمانان ہند کو اجتماعی طور پر BJP کے خلاف کر دیا جبکہ بہار سے BJP کے رکن ” حکم دیو نارائن “ نے اس ہار کے لئے RSS کے چیف موہن بھاگوت کے اس بیان کو ذمہ دار ٹھہرایا جس میں موصوف نے بہار الیکشن سے عین پہلے نچلی ذات کے ہندوﺅں کو حاصل نوکریوں اور اسمبلیوں میں مخصوص کوٹہ آئینی طور پر ختم کرنے کی بات کی جس سے اچھوت ہندو BJP کے خلاف ہو گئے ۔
ممتاز فلمی ادارکار اور BJP کے رہنما شتر و گھن سنہا المعروف ” بہاری بابو “ اور BJP کے مرکزی جنرل سیکرٹری ” کیلاس وجے ورگی “ نے تو ایک دوسرے کو کتے سے تشبیہ دے دی ۔ اس کی پہل کیلاش وجے ورگی نے کی جن کا تعلق مدھیہ پردیش سے ہے ۔ انہوں نے شترو گھن سنہا پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ ” گاڑی کے نیچے چلنے والا کتا یہ سمجھتا ہے کہ گاڑی اس کے دم سے چل رہی ہے “ ۔ جواب میں شترو گھن سنہا نے ٹوئیٹ کیا کہ ” ہاتھی جائے بہار ۔۔کتے بھونکیں ہزار “ ۔ یوں اس جنونی پارٹی کے رہنماﺅں میں جوتیوں میں دال بانٹنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور بیرونی محاذ پر نیو یارک ٹائمز نے اپنے اداریے میں بہار میں شکست کے لئے پوری طرح مودی کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ وہ اقلیتوں اور دیگر پسماند ہ طبقات کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی کے سر پرست ہیں ۔ اسی طرح برطانوی اخبارات ” دی گارڈین “ ، ” ڈیلی ٹیلی گراف “ وغیرہ نے کہا ہے کہ لگتا ہے کہ بارہ نومبر سے شروع ہونے والا مودی کا دورہ لندن بہار کی ہار سے بری طرح متاثر ہو گا اور بھارت کی نام نہاد ترقی کے دعوے اور مودی کی کرشماتی قیادت کا امیج گہنا کر رہ جائے گا ۔
عام مبصرین نے بھی کہا ہے کہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مودی کی غیر انسانی پالیسیوں کی وجہ سے قانون فطرت ان کے خلاف حرکت میں آ چکا ہے اور ا ن کے حوالے سے مکا فات عمل کا آغاز ہو گیا ہے جس کی وجہ سے ان کے گرد گھیرہ تنگ ہونا شروع ہو گیا ہے اور اس کے نتائج نہ صرف مودی کے لئے بھیانک ثابت ہوں گے اور دورہ برطانیہ میں ان کے خلاف سخت احتجاج ہو گا بلکہ مجموعی طور پر بھارت کی ساکھ بھی متاثر ہو گی ۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مودی سرکار کی پالیسیوں کے خلاف بھارتی فوج کے ریٹائرڈ افسروں اور جوانوں نے اپنی پنشن کے حوالے سے ایوارڈ واپسی کی مہم شروع کر دی ہے ۔ اسطرح اس امر کا حقیقی خدشہ ہے کہ انڈین آرمی کا مورال بھی متاثر ہو گا ۔ یوں مودی کے اچھے دن غالباً گزر چکے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ اور چیئرمین سینیٹ کی توہین

Azam-Khanسپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی جانب سے دئیے جانے والے اردو زبان کے حق میں تاریخی فیصلے کے بعد سرکاری دفاتر کا یہ عالم ہے کہ جس دفتر میں جائیں وہاں پہ کلرک سے لیکر آفسر اعلیٰ تک مقتدرہ قومی زبان کی شائع کردہ کتاب ” دفتری اردو“کے مطالعے میں غلط دکھائی دیتے ہیں اور ٹائپسٹ و کمپیوٹر حضرات اردو تختہ پہ تختہ مشق دکھائی دیتے ہیں اور ہو ں بھی کیوں نہ کہ حکم سب سے بڑی عدالت کا ہے جس نے حکم دیا ہے کہ تمام تر عدالتی کارروائی اور سرکاری دفتری کارروائی اردو زبان میں ہونی چاہیے ۔ اردو زبان کے ساتھ برصغیر میں سوتیلی والا سلوک اس وقت شروع ہوا تھا جب انگریز بہادر نے مسلمان حکومت کا بسترا گول کرکے یہاں پر اپنے راج کا جھنڈا گاڑا چونکہ مسلمان شکست خوردہ تھے اس لئے ان کی زبان میں بات کرتے ہوئے انگریز بہادر اپنی تضحیک محسوس کیا کرتے اس لئے اردو کو پس منظر میں دھکیلتے ہوئے انگریزی زبان کی گڈی چڑھائی گئی ، جگہ جگہ فروغ انگریزی زبان کے سکول کھولے گئے جسے اس وقت کے شرفاءفرنگی سکول سمجھتے تھے اور اپنے بچوں کو وہاں تعلیم دلوانا معیوب تصور کرتے تھے اس پیدا ہونے والے حلا ءکا فائدہ بنیاءجی نے اٹھایا اور اس نے انگریز کے ساتھ اپنی قربت کو بڑھانا شروع کردیا ۔ آزادی سے پہلے برصغیر پاک و ہند کی سرکاری زبان اردو ہی تھی جسے اردو معلیٰ کہا جاتا تھا مگر جب یہ معتوب ٹھہری تو پھر آہستہ آہستہ ، رفتہ رفتہ پس منظر میں جاتی گئی ۔ قیام پاکستان کے بعد اصولاً تو سرکاری زبان ،دفتری زبان ، عدالتی زبان اردوہونا چاہیے تھی مگر انگریزوں کی صحبت میں اپنے ایام گزارنے والے سیاستدانوں اور افسر شاہی نے اپنی سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ اس طرح کیا کہ سرکاری زبان کو ٹھہری انگریزی اور قومی زبان کا درجہ اردو کو دے دیا گیا یہ بات کرتے ہوئے مجھے سکھوں کا لطیفہ بھی یاد آرہا ہے کہ قیام پاکستان سے قبل امرتسر میں ایک خالصہ کالج بنایا گیا جہاں سکھوں کو ان کی مذہبی و دنیاوی تعلیم دینے کا اختتام کیا گیا تھا اس پر لاہور جہاں سکھوں کی کثیر آبادی قیام پذیر تھی اس فیصلہ کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی اور انہوں نے شور مچایا کہ ہمیں بھی خالصہ کالج کا حصہ چاہیے اس پر سردار صاحبان کے گورو سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور فیصلہ کیا کہ کالج تو امرتسر میں ہی رہے گا البتہ لاہور کے سکھوں کیلئے لاہور میں اس کالج کا ہاسٹل بنا دیتے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد یہ طے کیا گیا کہ 25برس کے اندر اندر اردو سرکاری زبان کا درجہ حاصل کرلے گی مگر یہ 25برس کبھی پورے ہونے میں نہ آئے ۔ پاکستان کے پڑوس میں واقع ایک آزاد ریاست جموں وکشمیر کی حکومت نے سردار عبدالقیوم خان کی قیادت میں ایک تاریخی فیصلہ کیا کہ ریاست کی سرکاری ، دفتری اور عدالتی زبان اردو قرار دے دی گئی چنانچہ آج وہاں پر بڑی کامیابی کے ساتھ یہ کام ہورہا ہے ۔ اردو زبان کے ساتھ ہمارے حکمران کس قدر مخلص ہیں اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ اسلام آباد کے سیکٹر ایچ ایٹ میں اردو زبان کے فروغ کیلئے بنائے جانے والے قومی ادارے کے دفتر کے باہر جو بورڈ نصب کیا گیا ہے وہ انگریزی زبان میں تحریر ہے اور اس پر جو تحریر درج ہے وہ کچھ یوں ہے ” نیشنل لینگویج اینڈ پروموشن اتھارٹی“ جب فروغ قومی زبان کا ادارہ انگریزی استعمال کرے گا تو ایک عام آدمی بھلا اردو سیکھ کر اپنا وقت کیوں ضائع کرے گا۔ مگر گزشتہ سے پیوستہ روز ایک اور عجیب واقعہ ہوا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب انور ظہیر جمالی چیئرمین سینٹ کی درخواست پر وہاں تشریف لے گئے اور انہوں نے اپنا خطاب اردو زبان میں کیا یہاں دلچسپ امر یہ ہے کہ میزبان رضا ربانی صاحب جوٹھیٹ لاہوری کلچر سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے اپنی قابلیت کا اظہار انگریزی زبان میں تقریر کرکے کیا۔ چیئرمین سینیٹ کو انگریزی زبان سے شاید لگاﺅ زیادہ ہے اسی لئے جب جنرل(ر) پرویز مشرف کے دور اقتدار میں انہوں نے سینٹ کے ممبر کے طورپر حلف لینا تھا تو پہلے وہ احتجاج کرتے رہے کہ میں حلف نہیں لوں گا جب سب ارکان نے حلف اٹھا لیا تو وہ اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور سابق چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو کو مخاطب کرکے کہا کہ میں اب اپنا حلف انگریزی زبان میں اٹھاﺅں گا۔ اکبر آلہ آبادی نے بہت عرصہ پہلے شاید ان جیسے لوگوں کیلئے کہاتھا۔
سنا ہے بہشت بریں میں زباں ہے عرب کی
اور ہم نے تو سیکھی ہے انگلش غضب کی
اپنی زبان کو نظر انداز کرکے کسی دوسری زبان کو فوقیت دینا یا اس زبان میں بات کرنااحساس کمتری کی علامت ہے ۔ چیئرمین سینٹ کو چاہیے تھا کہ وہ معزز مہمان کے احترام میں اپنی قومی زبان میں ہی بات کرتے تو اس سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی توہین کا پہلو بھی نہ نکلتا اور شاید میرے اس کالم کے لکھنے کا جواز بھی نہ بنتا۔

فیاض الحسن چوہان بمقابلہ شیخ رشید

uzair-column

وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید کا کہنا درست ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے قومی اسمبلی میں اسپیکر کیلئے اپنا امیدوار کھڑا کرنا ،مقابلہ کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ کپتان نے این اے 122کے انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرلیا ہے اور اب عمران خان کو بھی چاہیے کہ وہ جمہوریت کو اسی طرح پٹڑی پر رواں دواں رہنے دیں مگرابھی وہ یہ کہتے سنے جارہے ہیں کہ مجھے این اے 122میں تیسری مرتبہ انتخابات ہوتے دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ یہاں پر الیکٹرول دھاندلی ہوئی ہے ۔پہلی مرتبہ بھی پی ٹی آئی کو یہاں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا پھر دوسری مرتبہ بھی اسی طرح کے نتائج نکلے ۔جیت ایک ووٹ سے ہو یا ایک لاکھ ووٹ سے جیت جیت ہوتی ہے پھر پرویز رشید نے یہ بھی کہا کہ یہ بات ایاز صادق سے نہ کہنا وہ تو تیسری مرتبہ بھی مقابلے کیلئے تیار ہوجائیں گے کیونکہ اب یہ بات ایاز صادق کو معلوم ہے کہ عوام نے جو فیصلہ دیا ہے پھر بھی وہ یہی فیصلہ دینگے ۔پاکستان تحریک انصاف اس انتخاب کے بعد بلدیاتی انتخابات کے نتائج میں بھی اوندھے منہ گر پڑی ہے ۔ایک امیدوار جس کے بارے میں یہ کہا جارہا تھا کہ اس کو پی ٹی آئی کی حمایت حاصل ہے وہ بھی فتح حاصل کرنے کے بعد ن لیگ میں شامل ہوگیا۔ابھی تک باقی دیگر آزاد امیدواروں کی جانب سے بھی کچھ ایسی ہی آوازیں آرہی ہیں کہ وہ بھی ن لیگ ہی کی حمایت کریں گے ۔سپیکر قومی اسمبلی کے انتخاب میں بھی تقریباً سیاسی جماعتوں نے مسلم لیگ ن کے امیدوار سردار ایاز صادق ہی کی حمایت کی اور وہ دو تہائی اکثریت سے فتحیاب ہوکر سپیکرقومی اسمبلی منتخب ہوگئے ہیں ۔اس کے بعد شفقت محمود نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ ہم ان سے تعاون کریں ۔اب پی ٹی آئی کے پاس تعاون کرنے کے علاوہ اور کون سا راستہ اب تو کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق ہی پی ٹی آئی کوسیاست کرنا پڑے گی ۔پی ٹی آئی جو اپنے آپ کو اس وقت ملک کی دوسری سیاسی جماعت کہتی ہے ہوسکتا یہ صحیح بھی ہو بہرحال دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے ۔پی ٹی آئی کا ایک بڑا ہی جذباتی سپوکس مین جو کہ اکثروبیشتر نجی ٹی وی چینلز پر بڑی ہی دھواں دار گفتگو کرتا تھا اور پی ٹی آئی کا نقطہ نظر بھرپور انداز سے پیش کرتا تھا ۔اس کے پاس ثبوت بھی تھے وہ آﺅٹ سپوکن بھی تھا مگر نامعلوم کون سی ایسی وجوہات ہوئیں کہ اس کو ایک دن اس کے عہدے سے فارغ کردیا گیا وہ بے چارہ اس معاملے میں بڑا پریشان تھا اس نے تو ایک طویل اننگ کھیلنے کا سوچ رکھا تھا جہاں بھی جاتا تھا کپتان کی پگڑی کو بلند رکھنا اس کے فرائض میں شامل تھا ۔پھر جب ایک ایسا انہونا فیصلہ سامنے آیا تو وہ گویا کہ جیسے پھٹ پڑا کہتا رہا کہ میرا کیا قصور ہے پھر آخرکار اس نے ایک ویڈیو ریلیز کی جس میں اس نے حلف اٹھایا اور یہ کہا کہ میرے خلاف شیخ رشید نے یہ سارا جال بنایا ہے ۔اب قارئین کرام سمجھ گئے ہوں گے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف فیاض الحسن چوہان ہے ۔فیاض الحسن چوہان ایک انتہائی ایکٹو سیاسی کارکن ہے ۔یہ بہت پہلے شباب ملی میں رہا ،پھر راولپنڈی میں ایک آسیہ ایوب کیس ہوا اس میں فیاض الحسن نے آواز ٹھا کر بہت شہرت پائی پھر یہ آہستہ آہستہ سفر چلتا رہا،چونکہ سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی پھر جب فیاض الحسن چوہان نے یہ دیکھا کہ اس وقت پی ٹی آئی کا بول بالا ہونے والا ہے تو اس نے چھلانگ لگا کر پی ٹی آئی کو جوائن کرلیا کیونکہ اس نوجوان سیاستدان کے اندر ایسی صلاحتیں موجود تھیں جس کی وجہ سے یہ ترقی کرتا چلا گیا مگر چونکہ اس کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ یہ سفر بہت کٹھن ہے اوراس میں آگے نکلنے کیلئے بہت ٹھنڈے ٹھنڈے اور دھیمے دھیمے چلنا پڑتا ہے گرم گرم نوالہ کھا لینے سے اپنا ہی منہ جل جاتا ہے اور تیز چلنے سے اگر آدمی گر پڑے تو اس کے اپنے ہی دانتوں کو نقصان پہنچتا ہے اب دیکھنے کی یہ بات ہے کہ فیاض الحسن نے جو یہ الزام عائد کیا ہے کہ یہ سارا کیا دھرا شیخ رشید کا تھا تو اس میں کتنی حقیقت ہے ۔دوسری جانب سے اس کی نہ کوئی تردید آئی ہے اور نہ ہی تصدیق ہوئی ہے ۔کچھ واقفان حال اور بھی کہانی سناتے ہیں کہ اختیارات سے تجاوز کرنے کی وجہ سے بھی یہ مسئلہ درپیش آیا۔کچھ ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملات تھے ،کوئی کچھ چاہ رہا تھا کوئی چاہ رہا تھا ۔ان کی تقسیم کی وجہ سے بھی مسائل درپیش ہوئے ۔بہرحال اب تو کپتان نے فیصلہ کرلیا ہے اور ابھی کے پی کے حکومت میں بھی ایک ممبر کے لیے نوٹیفکیشن تقریباً تیار ہوچکا ہے اسے بھی تحریک انصاف سے اللہ حافظ کہہ دیا جائیگا ۔اب کپتان جب اس قسم کے ایکشن لے رہا ہے تو اس کو یہ پہلے سوچنا چاہیے تھا کہ پی ٹی آئی کی ٹرین میں کون کون سوار ہورہاہے اب پھر پارٹی سے نکالنے پر یہ لوگ اپنی وفاداریاں تبدیل کریں گے ۔پہلے ہی بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی اتنا نقصان ا ٹھا چکی ہے اور اب پھر ان فیصلوں کے بعد 2018ءکے انتخابات میں بھی نئے نقصان کیلئے تیار رہے ۔ابھی تو دوسرا باب کھلا ہی نہیں ہے ۔ریحام خان نے پاکستان واپس آنا ہے اوراس کے بعد وہ سیاسی سرگرمیاں شروع کریں گی اور بہت زیادہ امکانات یہ غالب ہیں کہ انہیں کوئی نہ کوئی سیاسی جماعت شمولیت کی دعوت دے گی اور پی ٹی آئی بہت خوب جانتی ہے کہ کون سی جماعت ریحام کو شمولیت کی دعوت دے سکتی ہے اس کے بعد پی ٹی آئی کیلئے مزید مسائل پیدا ہوں گے اور اس کی راتوں کی نیندیں اور دن کا چین بھی برباد ہوجائیگا ۔

مودی کے منہ پر طمانچہ

uzair-column

بھارتی وزیراعظم نریندرمودی جو اس وقت انڈیا میں ایک مطلق العنان کی حیثیت اختیار کرچکا ہے شاید وہ اب تک یہ سمجھ رہا تھا کہ اس کی مخالفت کرنے والوں کو اس زمین سے نیست ونابود کردیا جائیگا ۔کبھی وہ پاکستان کیخلاف زہرافشانی کرتا ،کبھی ایل او سی پر بلااشتعال فائرنگ کی جاتی پھر اس نے گذشتہ روز مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا اور وہاںپر کشمیریوں کے خون کا اس نے سودا بھی کیا اور ہر طرح سے جھوٹ سچ جوڑ کر مودی نے چاہا کہ کسی نہ کسی طرح مقبوضہ کشمیر کے کشمیریوں کی حمایت حاصل کرلے ۔پیکجز کا بھی اعلان کیا گیا اور بھی بڑے سبزباغ دکھائے گئے اور مودی نے یہ بھی کہا کہ میں کسی سے ڈکٹیشن نہیں لوں گا اور نہ ہی مسئلہ کشمیر پرکسی کی رائے قبول کی جائے گی ۔اس کے دورے سے قبل وادی میں ایک ہو کا عالم تھا کشمیری رہنماﺅں کو گرفتار کرکے پابند سلاسل کردیا گیا تھا ،نوجوانوں کیلئے سڑکوں پرنکلنا ممنوع قرار دیدیا گیا تھا،فضائی نگرانی علیحدہ کی جارہی تھی جبکہ سڑکوں پر اس کے پالتو فوجی ہی فوجی نظر آرہے تھے ۔اتنے سخت حفاظتی اقدامات میں مودی کا آنا اس بات کی واضح مثال تھا کہ اس کو یہاں پر کوئی حمایت حاصل نہیں پھر یہ بھانڈا اس وقت پھوٹ گیا جب مودی کے جلسے میں آنیوالوں نے انڈیا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں زبردستی ٹرکوںمیں بھر کر لایا گیا اس کے عوض پیسے دئیے گئے اور پھر یہ بھی کہا گیا کہ تمہاری ملازمتیں پکی یعنی کہ ریگولر کردی جائیں گی ۔اس دھوکا دہی سے لوگوں کو لاکر اس جلسے کو کامیاب بنانے کی ناکام کوشش کی گئی چونکہ مقبوضہ کشمیر میں کسی بھی کشمیری نے مودی دہشتگرد کے جلسے میں شرکت نہیں کی پھر کانگریس کے رہنما اور سونیا گاندھی کے بیٹے راہول گاندھی نے واضح الفاظ میں کہا کہ مودی ایک فاشسٹ حکمران ہے اس کے دن اب گنے جاچکے ہیں ۔جیسے ہی یہ دورہ ختم کرکے گیا اگلے دن بھارت کی شمال مشرقی ریاست بہار میں انتخابات کا انعقاد تھا ۔دراصل مقبوضہ کشمیر کا مودی کا دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ پاکستان کیخلاف اورکشمیر کیخلاف زہراگلے گا اور پھر اسے بہار میں ووٹ ملیں گے ۔مگر اس کے ظلم وستم سہ سہ کر اب بھارتی عوام یہ جان چکی ہے کہ اگر مودی حکمران رہا تو بھارت میں کوئی مذہب ،کوئی غریب ،کوئی مسلمان ،کوئی سکھ ،کوئی شودربھی محفوظ نہیں،ظلم تو یہاں تک پہنچا کہ اگر کسی نے گائے کا گوشت کھانا تو دور کی بات یہ بھی کہہ دیا کہ یہ صحت کیلئے مفید ہے تو اس کیخلاف مودی کے پالتو شرپسند سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے وہ انارکی مچائی جس کی وجہ سے جمہوریت کا منہ سیاہ ہوگیا اورشاید اب کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ بھارت جمہوریت کا دعویدار ہے ۔ریاست بہار کے انتخابات میں مودی کے منہ پر طمانچے ہی طمانچے لگے اوراس بری طرح سے اسے شکست ہوئی کہ شاید وہ خواب میں بھی نہ سوچ سکتا ہو اس کا کوئی بھی منجن فروختگی میں کامیاب نہ ہوسکا اورجوبھی اس نے دارو کیے وہی اس کے کیخلاف گئے ۔لالو پرساد نے تو مودی کو کہہ دیا ہے کہ وہ یا تو حکومت چھوڑ دے نہیں تو ہمیں دہلی پر چڑھائی کریں گے ۔جہاں تک انتخابات کا معاملہ ہے تو بھارت کی شمال مشرقی ریاست بہار کے انتخابات میں مودی سرکار کی انتہا پسندی ہار گئی ،بی جے پی کو عبرتاک شکست کا سامنا،جنتا دل نے سادہ اکثریت حاصل کر لی، حکمران جماعت نے شکست تسلیم کرلی ۔مودی کو نہ پاکستان کی مخالفت کام آئی ، نہ گائے کے گوشت کا منجن بِکا۔بہار نے مودی کو آئینہ دکھادیا ،مودی سرکار کے حکومت میں آنے کے بعد سے اب تک پاکستان اور مسلم مخالف اقدامات،بیانات اور دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ۔بھارتی جنتا ، نے بی جے پی کے تخت کا تختہ کردیا۔ فیصلہ سنادیا کہ بھارت میں عوام کو ایک دوسرے سے نہیں لڑایا جاسکتاہے۔بھارتی الیکشن کمیشن کے مطابق کل 243سیٹوں میں سے جنتا دل یونائیٹیڈاور آر جے ڈی نے 177پر کامیابی حاصل کر لی جبکہ بی جے پی محض 60سیٹیں ہی لے سکی ہے ،6سیٹیں دیگر جماعتوں کے حصے میں آئی ہیں۔اسد الدین اویسی کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے کبھی کسی وزیر اعظم نے کسی ریاستی انتخابات کی مہم اس قدر حصہ نہیں لیا تھا۔دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجری وال نے بہار اسمبلی الیکشن کو نفرت کی سیاست کرنے والے لوگوں کے ’گال پر طمانچہ‘ قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندرمودی کو ’بیرون ممالک گھومنا چھوڑ کر‘ حکومت چلانے پر توجہ مرکوز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔بی جے پی کے جنرل سیکریٹری رام مادھو نے کہا رےاستی انتخابات مےں ناکامی کے وزیراعظم مودی یا کوئی ایک ذمہ دار نہیں ، پارٹی کی شکست کے اسباب کا جائزہ لےا جائے گا۔جبکہ لالو پرساد نے بی جے پی حکومت کے خلاف تحرےک چلانے کا اعلان کردیا اور کہا کہ تیش کمار ہی بہار کے وزیر اعلی رہیں گے،مودی سرکار کو بھارت سے اکھاڑ پھینکیں گے۔اب بھارتی عوام مودی کو اس طرح نیست ونابود کرے گی کہ نہ صرف مودی عبرت کا نشان بنے گا بلکہ شیوسینا کو بھی بھارتی قوم زمین کی گہرائیوں میں اتار کر ہی دم لے گی ۔آنیوالے بھارتی انتخابات میں بھی مودی کو کہیں بھی منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی ۔

جنوبی ایشیا میں مسلم مملکت کےلئے اقبالؒ کی ویژن

rana-baqi

شاعر مشرق ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبالؒ برّصغیر ہندوستان کے طول و ارض میں پھیلے مسلمانوں میں اسلامی مذہبی احساسات و محسوسات کی یکجہتی کو مشترکہ صفت سمجھتے تھے اور بل خصوص جنوبی ایشیا کے مسلم اکثریتی خطوں میں اسلامی کلچر کی بنیاد پر بّرصغیر ہندوستان کے مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ اسلامی فلاحی مملکت کے داعی تھے ۔ علامہ اقبال وجدانہ صفت رکھنے والی ویژن کے مالک تھے جبکہ اُنکی ویژن کو عملی شکل دینے کےلئے غیر معمولی فکر و نظر رکھنے والے قائد کی ضرورت تھی۔ چنانچہ قائداعظم محمد علی جناح جو غیر معمولی خدا داد سیاسی فہم و فراست اور تدبرکے مالک تھے ، نے علامہ اقبال کی اِس ویژن کا بروقت ادراک کیا اور حصولِ پاکستان کےلئے ناقابلِ شکست سیاسی جدوجہد کے ذریعے پاکستان حاصل کیا ۔ اِس حقیقت کو پیش نظر رکھنا چاہیے کہ ہندوستان میں انگریز ہندو گٹھ جوڑ اور غیرمعمولی انتہا پسند ہندو اکثریتی آبادی کی موجودگی میں مسلمانانِ ہند میں علیحدہ مسلم مملکت کی جوت جگانا کوئی معمولی کام نہیں تھا۔ یہ درست ہے کہ مغلیہ دورِ حکومت میں شہروں اور دیہاتوں میں ہندو اور مسلمان آبادیاں معاشرتی توازن کےساتھ co-existکرتی رہیں لیکن مغلیہ سلطنت کے خاتمے پر مسلمان آبادیوں کے مسائل میں اُس وقت بے حد اضافہ ہوا جب انگریز کمپنی بہادر اور برطانوی حکومتِ ہند نے جو بتدریج مسلمان نوابین اور مغلیہ سلطنت کی جگہ اقتدار میں آئی تھی ، نے مسلمانوں کو سیاسی اور معاشی طور پر تباہ کرنے کےلئے انتہا پسند ہندوﺅں کو برطانوی حکومت ہند کے اقتدار اعلی میں شریک کیا ۔ پروفیسر محمد منور اپنی کتاب تحریکِ پاکستان کے تاریخی خدوخال میں لکھتے ہیں ” بّر صغیرکے مسلمانوں کے خلاف ہندوﺅں اور انگریزوں نے کس طرح باہم گٹھ جوڑ کر لیا یہ ایک طویل اور دردناک کہانی ہے ۔ اِن دونوں قوموں نے مسلمانوں کے حقوق پامال کئے اور اُنہیں یکسر برباد کرنے کےلئے سارا زور لگا ڈالا ۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی تاریخ بھی ایسی گھناﺅنی کوششوں سے پُر ہے ۔ بنگال میں جہاں انگریزی حکومت سب سے پہلے قدم جمانے میں کامیاب ہوئی ، وہاں جملہ انتظامی مشینری ہندوﺅں کے حوالے کر دی گئی ۔ مسلمان چپڑاسی سے بڑھ کر کسی عہدے کی اُمید نہیں رکھ سکتے تھے ۔ یہ وہ حقائق ہیں جن کی تائید تاریخی دستاویزات کرتی ہیں۔ اندریں حالات مسلمانوں کےلئے یہ ایک مشکل تر مرحلہ تھا جس کا ہندو انڈیا کے حوالے سے جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔
قارائین کرام ، جواہر لال نہرو کو جدید ہندوستان کا بانی سمجھا جاتا ہے ۔ نہرو جدید دنیا کے علوم کے ماہر تھے، تاریخ پر اُن کی گہری نظر تھی چنانچہ اُن کی فکر پر ماضی میں جنوبی ایشیا میں کابل سے بنگال تک پھیلی ہوئی ہندو ریاست کے بانی چندر گپت موریا اور اُس کے وزیر و مشیر اور ہندو تاریخ کے مشہور سیاسی دانشور چانکیہ کوٹلیہ کی سوچ ہمیشہ ہی حاوی رہی۔ یہ نہروکی ہی سیاسی شخصیت تھی جس نے جنوبی ایشیا میں بھارت ماتا کے نام پر وحدت ہندوستان یا اکھنڈ بھارت کے تصور کو پھر سے زندہ کیا ۔ وہ چانکیہ کی فکر و نظر کے قائل تھے اور چانکیہ کو بہت ہی لائق و فائق سیاسی دانشور گردانتے تھے ۔ اُن کی فکر کے مطابق چانکیہ نہ صرف بڑا فاضل بلکہ چندر گپت کی سلطنت کے قیام ، ترقی اور استحکام میں زبردست شریک اور مددگارتھا جسے موجودہ دور کے میکاولی سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے ۔ نہرو سمجھتے تھے کہ وہ اپنے عمل اور ذہنی قابلیت میں میکا ولی سے بھی بڑھ کر تھا کیونکہ چانکیہ اپنے مقصد کی پیروی اور حصول میں اخلاقی اصول سے بے نیاز اور ارادے کا پختہ تھا ۔ نہرو کا کہنا تھا کہ چانکیہ نے آخری فتح اِس طرح حاصل کی کہ سکندر اعظم کی ہندوستان پر قابض فوج جسے وہ دشمن کی فوج سے تعبیر کرتے تھے میں پہلے تو سازشوں کے ذریعے بے چینی اور بے اطمینانی کا بیج بویا اور جب یہ بیج پھل لے آیا تو اُس نے چندر گپت کے ساتھ مل کر ہندوستان میں موثر مرکزی حکومت قائم کی ۔ جواہر لال نہرو نے چونکہ چانکیہ کی سیاسی حکمت عملی کا گہرا مطالعہ کیا تھا ، لہذا وہ چندرگپت کی طرح ہی گاندہی جی کےساتھ مل کر وحدتِ ہندوستان کے نام پر جنوبی ایشیا میں ایک عظیم ہندو ریاست کی بنیاد رکھنا چاہتے تھے ۔ جواہر لال نہرو اِس اَمر کو اچھی طرح جانتے تھے کہ آٹھویں صدی عیسوی میں سندھ سے شروع ہونے والی اسلامی فتوحات جنہیں افغانستان کی جانب سے آنے والے مسلم لشکروں کی آمد نے ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک ہزار سالہ حکمرانی میں تبدیل کر دیا تھا ، ہندو سماج کےلئے ہمیشہ ہی ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی تھی ۔ وہ جانتے تھے کہ اسلام کی ہندوستان میں آمد کے بعد ہندو ازم کی امتزاج و جذب کی معاشرتی قوت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے کیونکہ گذشتہ کئی صدیوں میں لاکھوں ہندوﺅں نے ہندوستان کے طول و ارض میں اسلام قبول کیا ۔ نہرو اپنی کتاب تلاشِ ہند میں لکھتے ہیں کہ اعلیٰ ذاتوں کے ہندو تو فرداً فرداً اسلام قبول کرتے تھے لیکن نچلی ذات کے ہندوﺅں میں پوری برادری یا پور ا گاﺅں اسلام قبول کرتا تھا ۔ وادی¿ کشمیر میں مدت سے ہندو اسلام قبول کرتے رہے ہیں اور وہاں کی نوے فی صد آبادی مسلمان بن چکی ہے ۔ ماضی میں (مسلم دور حکومت میں) لوگوں نے خواہ انفرادی طور پر اسلام قبول کیا یا جماعتی طور پر کیا ، ہندو قوم نے اِس کی مخالفت نہیں کی لیکن آجکل (انگریز ہندو گٹھ جوڑ کے بعد) معاملہ اِس کے بالکل برعکس ہے ، اگر کوئی شخص اسلام قبول کرتا ہے تو ہر طرف غم و غصہ کے جذبات مشتعل ہو جاتے ہیں ۔
درج بالا تناظر میں اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اورنگزیب عالمگیر کی وفات کے بعد اٹھارویں صدی میں جب مسلمانوں کی عظیم الشان مغلیہ سلطنت پر زوال کے آثار نمایاں ہونے شروع ہوئے اور انگریز کمپنی بہادر کی اُبھرتی ہوئی سامراجی سیاسی قوت نے مسلمان نوابین کے باہمی انتشار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی بہتر سیاسی ، فوجی اور انتظامی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اونچی ذات کے ہندوﺅں کو اپنے ساتھ ملایا اور بتدریج بّرصغیر ہندوستان پر قابض ہوگئے ۔ کیونکہ انگریزوں نے ہندوستان میں اقتدار مسلمانوں سے حاصل کیا تھا چنانچہ اُنہوں نے ہندوﺅں کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کی اور مسلمانوں کو بحیثیت قوم کرش کرنے کی پالیسی اپنائی ۔ یہی وہ پس منظر تھا جب ابتدائی طور پر سر سید احمد خان نے مسلمانانِ ہند کو مکمل تباہی سے بچانے کےلئے انگریز حکمرانوں کےساتھ صلح کن رویہ اختیار کیا اور مسلمانوں کو مستقبل کی سیاسی جد و جہد کےلئے جدید تعلیم کے حصول کےلئے رضامند کیا ۔ سرسید احمد خان کی وفات کے بعد علامہ اقبالؒ نے اپنی فکری شاعری کے ذریعے نہ صرف قوم کو جگایا بلکہ ہندوستان میں مسلم قومیت کے فلسفے کو آگے بڑھاتے ہوئے مسلمانوں میں ایک علیحدہ مملکت کی جہت کی جوت جگا کر بے مثال کام کیا ۔ علامہ اقبال ، اسلامی تہذیب و تمدن پر مغرب کی یلغار کے سبب مسلم قوم کی بگڑتی ہوئی حالتِ زار پر کڑتے تھے اور مسلمانوں کو غلامی سے نجات کےلئے آزادی و سربلندی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے تھے اور اِسی حوالے سے اُن کی شاعری نے مسلمانانِ ہند میں خود آگہی ، خودی و ذاتی بصیرت کی تلاش اورسنہرے مستقبل کی جستجو کےلئے جذبہءحریت کو بیدار کر دیا ۔ بلاشبہ حکیم الااُمت ڈاکٹر علامہ اقبال نے اُمتِ اسلامیہ کو زوال کی کیفیت سے نکالنے کےلئے اپنی شہرہ آفاق نظموں شکوہ اور جواب شکوہ کے ذریعے مسلمانانِ ہند کی کھوئی ہوئی عظمت کا احساس دلانے کےلئے اُمتِ اسلامیہ کے ضمیر کو جھنجھوڑا اور مسلمانانِ ہند کے دلوں کو عظمتِ رفتہ کے عظیم مناظر دکھا کر گرمایا ۔ اُنہوں نے شکوہ اور جوابِ شکوہ میں مسلمانوں کی اسلامی تعلیمات سے غفلت ، فرقہ پسندی ، باہمی انتشار اور عملی زندگی میں سرزد ہونے والی کوتاہیوں کی نشان دہی کی اور بیداری¿ فکر سے انسانی جدوجہد کے جذبے کو مہمیز دینے کےلئے تیز تر کرنے کےلئے اپنے پیغامی کلام کے ذریعے مسلمانانِ ہند کو خواب غفلت سے جگانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ درحقیقت علامہ اقبال نے دسمبر 1930 میں اپنے صدارتی خطبہ¿ الہ آباد میں اِس اَمر کی کی قدرے وضاحت کر دی تھی کہ ہندوستان کے شمال مغرب میں مستقبل کی مسلم ریاست مسلم اکثریتی خطوں میں ہی قائم کی جا سکتی ہے۔ قائداعظم ، علیحدہ مسلم ریاست کے حوالے سے فکرِ اقبال سے متفق تھے لیکن 1937 میں تحریک پاکستان کے باقاعدہ آغاز کے باوجود قرارداد لاہو کی شکل میں قرارداد پاکستان 1940 سے قبل نہیں لائی جا سکی کیونکہ قائداعظم ہندوستان کے ہندو اکثریتی صوبوں میں مسلمانوں کی حالت زار پر مسلسل غور و فکر کرتے رہے لیکن 1938 میں علامہ اقبال کی وفات کے بعد بلاآخر قائداعظم طویل سوچ و بچار کے بعد اِسی نتیجے پر پہنچے کہ بّرصغیر میں مسلمانوں کو مکمل تباہی سے بچانے کےلئے مسلم اکثریتی صوبوں میںعلیحدہ مسلم مملکت کا مطالبہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ قائداعظم نے 1937/38 میں علامہ اقبال کی جانب سے قائداعظم کو لکھے گئے خطوط جو علامہ اقبال کی وفات (1938) کے بعد 1943/44 میں شائع ہوئے ، کے دیباچے میں قائداعظم نے اِس اَمر کا اعتراف کیا کہ علامہ اقبال 1938 میں اپنی وفات سے قبل اُن سے ایک آزاد مسلم ریاست کے مطالبے کے اصول کو منوا چکے تھے ۔ قائد نے مزید لکھا ” اقبال کی رائے بنیادی طور پر میری رائے کے مطابق ہی تھی اور آخر کار یہ رائے مجھے اُن نتائج تک پہنچا کر رہیں جو مجھے ہندوستان کے دستوری مسائل پر گہرے غور و فکر کے بعد حاصل ہوئیں اور یہی فکری نتائج مسلمانانِ ہند کے متحدہ عزم کی شکل میں ظاہر ہوئے اور قراردادِ لاہور میں شامل ہوئے ۔ حقیقت یہی ہے کہ علامہ اقبال کی مسلمانوں کی علیحدہ مملکت کی ویژن کی موجودگی میں مسلمانوں کی بھاری اکثریت نے نہرو کے وحدتِ ہندوستان کے تصور کو مسترد کر دیا اور قائداعظم کی تحریک پاکستان نے بّرصغیر کی تاریخ کے دھارے کا رخ موڑکر رکھ دیا ۔ ختم شد

مودی کی آمد پر کشمیری سراپا احتجاج

riaz-ahmed

بھارتی وزیراعظم نریند مودی کی مقبوضہ کشمیر کے ایک روزہ دورہ پر آمد کے موقع پر پوری وادی سراپا احتجاج بن گئی۔ سرینگر میں غیراعلانیہ کرفیو نافذ تھا۔ شہریوں کی نقل و حرکت پر مکمل پابندی تھی۔ پوری ریاست کو عملاً فوجی چھاو¿نی میں تبدیل کردیا گیا۔ مودی کا اعلان کردہ 12.1 ارب ڈالر (8 سو ارب بھارتی روپے) کا اقتصادی پیکیج بھی کام نہ آیا۔کٹھ پتلی حکومت نے پوری مقبوضہ وادی میں تاریخ کا سب سے بڑا کریک ڈاو¿ن کرتے ہوئے سرینگر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا دیا۔ وادی میں تمام کاروباری سرگرمیاں‘ موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی۔ سرینگر کی گلیاں سنسان رہیں جن میں قابض بھارتی فوج گشت کرتی رہی۔مودی کی وادی مےں آمد کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ مودی کے جلسے کو کامیاب بنانے کے لئے خصوصی طور پر دہلی سے شیو سینا کے کارندے بھی بلائے گئے تھے۔ شیرکشمیرسٹیڈیم کے آس پاس تمام علاقوں میں سڑکوں اور گلی کوچوں میں رکاوٹیں کھڑی کی گئےں کسی شخص کوچلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سٹیڈیم کو پولیس اور فورسز نے چاروں اطراف سے گھیر لیا گےا تھا۔ پل پل کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کےلئے سٹیڈیم کے گردونواح میں نہ صرف اضافی خفیہ کیمرے نصب کئے گئے تھے بلکہ فورسز کی ایسی درجنوں گاڑیاں گشت کررہی تھےں جن پر سی سی ٹی وی نصب تھے۔ زیرو برج سے سٹیڈیم کی طرف جانے والا راستہ رام منشی باغ تک گاڑیوں کی آمدورفت کےلئے بند کر دیا گیا۔ رام منشی باغ تھانے کے قریب لکڑی کا ایک بڑا گیٹ تیار کیا گیا تھااور علاقہ میں سیکورٹی کا جال بچھایا گیا تھا۔ ملےن مارچ کے راستوں کو سےل کر دےا گےا تھا۔ اہم پلوں اور چوراہوں پر خار دار تارلگائی گئی۔ سڑکوں اور چوراہوں پر پولیس اور فورسز کے اضافی دستے ہر طرف نظر آرہے تھے۔ لوگوں کو گھروں کے اندر محصور رکھا گیا۔ سخت ترین پابندیوں کی وجہ تاریخی جامع مسجد اور دیگر کئی چھوٹی بڑی مساجد میں نماز کی ادائیگی نہ ہوسکی۔ کئی مقامات پر راہ گیروں کی جامہ تلاشی لی گئی۔ لال چوک میں اگرچہ لوگوں کے چلنے پھرنے پر پابندی عائد نہیں تھی لیکن بازاروں میں کاروباری سرگرمیاںمعطل رہیں اور ہڑتال کی گئی۔ ٹریفک کی نقل و حرکت بند رہی سکول اور کالجوں کے ساتھ ساتھ سرکاری دفاتر میں ملازمین کی حاضری برائے نام رہی۔ مقبوضہ وادی میں کرفیو اور پابندیوں کے باوجود مودی کی آمد پر کشمیریوں نے احتجاجی مظاہرے کئے، کئی مقامات پر بھارتی فوج اور پولیس سے جھڑپیں ہوئیں۔ کشمیریوں نے سیاہ پرچم لہرائے۔ سرینگر سمیت مختلف شہروں میں ہزاروں افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ کل جماعتی حرےت کانفرنس کے قائدےن علی گےلانی، مےر واعظ عمرفاروق، ےاسےن ملک، شبےر شاہ سمےت تمام قےادت بدستور نظر بند تھی۔حریت رہنما علی گیلانی نے نظربندی توڑ کر گھر سے نکلنے کی کوشش کی جس پر پولیس نے انہیں گرفتار کرکے تھانے میں بند کردیا ۔ کشمیریوں کی طرف سے نریندر مودی کی آمد پر احتجاجاً سیاہ غبارے فضا میں چھوڑے گئے۔ نریندر مودی کی آمد پر احتجاجی ریلی کی قیادت کرنے والے ایم ایل اے انجینئر رشید کو سیاہ پرچم لہرانے پر گرفتار کر لیا گیا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مقبوضہ جموں وکشمےر پر روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے، اس معاملے پر بےن الاقومی کردار اور کسی کے مشورے کی ضرورت نہےں، میں کشمیر پر دنیا میں کسی کی نہیں سنتا۔ کشمیر کے بغیر بھارت ادھورا ہے،کشمیریوں نے بہت کچھ جھیلا اور مشکلات دیکھی ہیں۔ کشمیریت، خدمت اور انسانیت کے جذبے سے آگے بڑھیں گے۔حریت رہنماو¿ں نے نریندر مودی کا 12 ارب ڈالر کا پیکیج مسترد کردیا ہے۔ بزرگ حریت پسند رہنما سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ کشمیری آزادی کی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیں گے۔ کشمیر میں مالیاتی پیکیجز مسائل کا حل نہیں، کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دینے سے ہی مسائل حل ہوں گے کشمیر میں بھارت نواز قوتیں بھارتی فوج کے اشاروں پر چلتی ہیں۔ نریندر مودی عالمی امن کیلئے خطرہ ہیں۔ عالمی برادری کشمیر میں ہونے والی زیادتیوں کا نوٹس لیتے ہوئے مسئلے کے جلد سے جلد حل کو یقینی بنائے۔ محمد یاسین ملک نے جیل سے اپنے پیغام میں کہا کہ بھارتی وزیاعظم نریندر مودی کے جلسے کو کامیاب بنانے اور آزادی پسندوں کے احتجاج کو روکنے کیلئے بھارتی پولیس اور انتظامیہ نے ہزاروں گرفتار افراد کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ مفتی کی کٹھ پتلی حکومت تھانوں، جیل خانوں اور دوسرے مراکز پر قید حریت پسندوں پر 1990ءکی دہائی کی طرح مظالم ڈھا رہی ہے۔ نظربندوں کو باہر کی دنیا سے لاتعلق رکھا جاتا ہے اور ان کو گھر والوں کے ساتھ ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔ مودی پیکیج پر ردعمل میں مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ مودی نے کشمیر کے مسئلے کو روپے پیسے میں تولنے کی غلطی دہرائی ہے۔ سات لاکھ بھارتی فوج اور ایک لاکھ پولیس کو وسیع اختیار دیکر وادی کو عملاً جیل میں تبدیل کر دیا گیا ۔ بھارت کشمیریوں کا حق آزادی زیادہ دیر تک دبا کر نہیں رکھ سکتا۔ کشمیری اپنی منزل پر پہنچ کر دم لیں گے۔ ملین مارچ ہو ہوگا اور دنیا جان لے گی کہ کشمیری کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔ مودی کی جماعت بھارت میں فسادات کرنے کی ذمہ دار ہے جس میں ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔ مودی نے کشمیر پیکج دے کر کشمیریوں کو خریدنے کی کوشش کی۔ مودی کے اس حربے پر کشمیریوں کو ڈوگرہ راجہ کی یاد آگئی جس نے کشمیر کو پچھتر لاکھ روپے میں انگریزوں سے خرید لیاتھا۔ عمر عبداللہ نے بھی کہا ہے کہ مودی نے کشمیریوں کی قیمت لگانے کی غلطی دہرائی ہے۔ گلی گلی رکاوٹیں، سڑکوں پر سناٹا، شہروں میں ہو کا عالم، مقبوضہ سری نگر پر کوئی قیامت نہیں ٹوٹی، آج یہاں بھارتی وزیراعظم مودی اترے ہیں۔ کشمیری کشمیر کے مسئلے کا سیاسی حل چاہتے ہیں، پیکیج مسئلہ کشمیر کا حل نہیں۔ نریندر مودی کا دورہ کشمیر مظلوم کشمیری مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ بھارت سرکار پاکستان سے بات چیت کیلئے تیار نہیں اور حریت قیادت کو مذاکرات کی دعوت دیکر دنیا کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔اقتصادی پیکج کے اعلانات سے کشمیریوں کو مرعوب نہیں کیا جاسکتا۔کشمیریوں کا احتجاج اور شدید ردعمل دیکھ کربھارت سرکار کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔

بھارتی کسانوں میں خودکشیوں کا بڑھتا ہوا رجحان؟

nasir-raza-kazmi

بھارت دنیا میں مہلک سے مہلک اور جدید سے جدید اسلحہ کی خریداری میں پہلے نمبر پر ‘لیکن اپنے عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی میں دنیا کی سب سے نچلی سطح پر کیوں گنا جارہا ہے اِس کی کئی توجیحات ہیں، مختلف النوع کئی جہات ہیں کن کن کا یہاں پر تذکرہ کریں کالم کی تنگی نے قلم کا دامن پکڑ ا ہوا ہے بھارت کے پڑوس میں کون سا ایسا ملک ہے جسکی بھارت کے ساتھ سرحدی چپقلش نہیں ‘ نیپال ‘ بنگلہ دیش ،خصوصاً پاکستان اور چین ہر کسی چھوٹے بڑے ایٹمی غیر ایٹمی پڑوسی ملک کے ساتھ بھارت نے زبردستی کے گنجلک نوعیت کے انتہائی پیچیدہ جھگڑے مول لے رکھے ہیں اگر اُسے کوئی فکر وتشویش نہیں ہے تو وہ ہے بھارتی عوام کی آئے روز کی بڑھتی ہوئی اور سطح ِ غریب کا گراف بڑھتا جارہا ہے آجکل بھارت میں تیزی سے فروغ پانے والا ایک اور سنگین مسئلہ یہ ہے کہ دیش میں کسانوں کی خودکشیوں کی تعداد میں زیادہ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے نئی دہلی کی مودی انتظامیہ کو نجانے اِس کی کوئی فکر ہے یا نہیں مگر دنیا کے با وثوق ومعتبر میڈیا کی خبروں کے مطابق گزشتہ دوڈھائی برسوں میں اب تک بھارت میں تقریباً پندرہ سو کسانوں نے صرف اِس وجوہ کی بناءپر اپنے آپ کو موت کی بانہوں میں دیدیا چونکہ اُن کے پاس حکومت سے لیئے گئے زرعی قرضہ وقت پر واپس کرنے کے لئے ایک ’پائی ‘ باقی نہیں بچی تھی کہیں بارش نے اُن کی کپاس کی فضل تباہ کی تو کہیں اُنہیں سرکاری محکموں کے ٹھیکیداروں نے نقلی ‘ جعلی کیڑے مار ادوایات فراہم کیں جن کے اسپرے کی وجہ سے اُن کی گندم اور چاول کی فصلیں بار آور ثابت نہیں ہوسکیں یہ سچی کہانی مہاراشٹر کے ایک گاو¿ں کے کسان’ رام راو¿ نارائن پنچ لینیوار‘ کے لواحقین نے میڈیا کو سنائی ہے ’ اُس نے خود ہی سرکاری قرضہ کی پہلی قسط کی ادائیگی کے لئے روپیہ نہ ہونے کی وجہ سے زہر پینا گوارا کرلیا ’ رام راو¿ نارائن پنچ لینیوار‘ نامی یہ کسی ایک کسان کی داستان نہیں ہے یہ سن کر پاکستان میں ”بھارت کی مالا جپنے والے حلقوں“ کے لئے یقینا ایک ’معلوماتی خبر ‘ ہوگی کہ بھارت دنیا کا وہ ملک ہے جہاں پر کسانوں کو جو زرعی قرضہ اگر کہیں ملتا بھی ہے تو اُس کی واپسی تین گنا زیادہ کرنی ہوتی ہے اور مدت ابھی اِتنی کم کہ اگلی کاشت کرنے کے لئے ’قرض‘ کے حصول کی خاطر وہ پھر ریاست کی طرف د یکھنے لگتا ہے بھارتی کسانوں کی مجبوراً خودکشیوں کا ریکارڈز نئی دہلی کی نریندر مودی انتظامیہ کی نااہلیت کو جانچنے کے لئے بھارتی نیشنل کرائم بیورزکی ویب سائٹ کاوزٹ کرنے والے کہتے ہیں’ ماضی قریب میں تباہ کن بارشوں ‘ سیلاب یا ژالہ باریوں سے فصلوں کی تباہی کے بعد کسانوں پر شائد ہی کبھی بھارتی سرکار نے سرکاری مالیہ معاف کیا ہو ؟موسموں کی طوفانی شدتیں نہ بڑے کسانوں کو چھوڑتی ہیں نہ یا ہی چھوٹے کسان بچ پاتے ہیں بڑے بڑے جاگیرداروں کے زرعی نقصان کی کیا اہمیت ہوگی ؟ انسانی فطرت کی خاصہ یہ ہے آفات سماوی ہوں یا زمینی ہمیشہ ایسی آفات چھوٹے محنت کش اپنے ہاتھوں سے اپنی زمینوں کو سینچنے والوں پر قیامت بن کر ٹوٹتے ہیں اگر اتفاقاً کہیں آبرسیں تو سب سے زیادہ نقصان چھوٹے کسانوں کا ہی تو ہوتا ہے بھارت کا چھوٹا کسان ویسے بھی چھوٹا اور پھر ذات پات میں بھی چھوٹا ‘ شائد یہ وہ وجوہات ہوں کہ اُن پر سماوی آفات کی مصیبتوں اور زمینی ذات پات کی نفرتوں کا سار ا عذاب بوجھ بن جاتا ہے جبکہ نئی دہلی سرکار کے زیادہ قریب کسانوں کو زیادہ سے زیادہ مالی بلکہ نہ صرف اور مراعات بھی دیدی جاتی ہیںاُن کے کروڑوں کے زرعی و صنعتی قرضے بھی معاف ہوجاتے ہیں تیسری دنیا کے ترقی پذیر ممالک کی طرح بھارت کا شمار بھی اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں کا کسان اپنی فصل کے ثمرآور نتائج کی امیّد میں مستقبل کے خواب بنتا ہے اُس کے کچے مکان کی تزئین ‘ بھائی بہن بیٹیوں اور بیٹوں کی شادی کے سہانے سپنے یہ سب اُس کی فصل سے جڑے ہوتے ہیں لہٰذا ساتھ ہی سرکارسے بیچوں کے لئے جوقرض اُس نے لیا ہوتا ہے اُس کی واپسی فصل کی فروختگی سے منسلک ہوتی ہے بھارتی کسان کی ایسی انتہائی ناگفتہ حالت ِ زار بیان کرنے والے موثر تفتیشی نامہ نگاروں نے دیش کی جو افسوس ناک صورتحال اپنی رپورٹوں میں لکھیں وہ ’امیّد وبیم ‘ کی کشمکش اور ’موسموں ‘ کی شدتوں سے زیادہ ریاستی قرضوں پر سود کی بے پناہ بڑوھوتی (زیادتی)اور واپسی کی مدت کی کمی کی داستانیں سناتی ہیں، حالیہ ہفتوں میں بھارت کے کئی حصوں میں بہت بارشیں ہوئیں غیر متوقع ژ الہ باری نے مہاراشٹر میں زرعی نظام کو ناقابل ِ تلافی نقصان پہنچایا، کپاس اور گندم کی فصلیں بُری طرح سے تباہ ہوئیں، پھلوں کے باغات کو بڑا نقصان پہنچا یہاں سوال یہ ہے کہ بی جے پی کی ریاستی اور مرکزی حکومتوںنے انتخابات میں اپنے ووٹروں سے جو بلند بانگ وعدے کیئے تھے کہ بی جے پی نئی دہلی میں حکومت بنانے میں اگر کامیاب ہوگی تو وہ بھارتی سماجی زندگیوں میں معاشی انقلاب پیدا کردے گی یہ وعدے کہا ں مرکھب گئے؟ بھارتی کسان کیوں خود کشیاں کرنے مجبور ہیں کھیت کی پیداوار کھیت کی پیداوار کے ہنر مند کسانوں کی محنت کا معاوضہ اُنہیں کیوں نہیں مل رہا اب تو نریندر مودی جیسا جنونی ہندو قائد نئی دہلی کے تخت پر بیٹھا ہوا کیا بھارتی عوام کی اکثریت نے اُسے اِس لئے نئی دہلی کے ایوان ِ اقتدار تک پہنچا یا تھا کہ وہ بجائے بھارتی عوام کی فلاح و بہبود میں انقلابی تبدیلیاں لانے کے بھارتی اقلیتوں خصوصاً بھارتی نژاد مسلمانوں پر اپنے سیاسی ہتھیار بند وں کی فوج کشی کرتا پھرے بھارتی عوام کی سماجی ومعاشی ضرورتوں کو پس پشت ڈال کر پورے دیش کے ارد گرد جنگ زدہ ماحول پیدا کردے ؟بھارتی کسانوں کی پے درپے خودکشیوں کی خبروں نے دنیا کو دہلا دیا ہے نریندر مودی کی کان پر جوں رینگی یا نہیں ؟بے گناہ انسانوں کی آہ وبکا نریندر مودی اور اُس کے حالی موالیوں کو بحیرہ ¾ ِ ہند میں غرق کردے گی یہی کچھ اُس کی ’جنم بھومی ‘ لکھا ہے آخری اطلا ع ابھی ابھی موصول ہوئی ہے ’ ریاست بہار کے انتخابات نتائج نے اِسی جنونی نریندر مودی کا ”تختہ “ نہیں کردیا‘ ۔

Google Analytics Alternative