کالم

چین کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی حمایت کے عزم کا اعادہ

چین کے صدر نے دورہ بھارت سے قبل مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی قیادت سے ملاقات کا اہتمام کیا اور دورہ چین کے دوران وزیراعظم عمران خان نے کشمیریوں کے سفیر ہونے کا حق ادا کردیا ۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کو اس سطح پر اجاگر کیا جہاں پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا ۔ چین کے صدر کے دورہ سے قبل عمران کا دورہ ،چینی صدر و دیگر چینی رہنماءوں سے ملاقاتیں انتہائی اہمیت کی حامل رہیں اور اس موقع پر چین نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ وہ بھارتی وزیراعظم مودی کے سامنے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے باقاعدہ آواز اٹھائیں گے ۔ وادی میں بھارت کی دہشت گرد لاکھوں فوج نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن کردی ہے ۔ چین نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے مابین مذاکرات ضروری ہیں ۔ چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ چین سی پیک میں توسیع کیلئے تیار ہے اقتصادی راہداری سے علاقائی ترقی تیز ہوگی ، چین پاکستان کی ترقی اور بہتری کےلئے ہر طرح سے مدد کرے گا،پاکستان ادارہ جاتی اور اقتصادی اصلاحات کے ذریعے پائیدار اقتصادی ترقی کے حصول کی طرف بھرپور طریقے سے بڑھ رہا ہے پاکستان کے ساتھ شراکت داری چٹان کی طرح مضبوط اور لافانی ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ سی پیک منصوبوں کی تیزی سے تکمیل ان کی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے چین پاکستان کا ثابت قدم اتحادی اور مضبوط شراکت دار اور آئرن برادر ہے چین کے مالیاتی تعاون کو کبھی فراموش نہیں کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار دونوں رہنماءوں نے بیجنگ میں ملاقات کے دوران کیا ۔ ملاقات کے بعد چین کے صدر شی جن پنگ نے وزیراعظم کے اعزاز میں ظہرانہ دیا ۔ اس موقع پروزیراعظم عمران خان نے کہاکہ چین نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے اور پاکستان کی اقتصادی و قومی ترقی کے اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کیا ہے پاکستان مشکل اقتصادی حالات سے نکل چکا ہے اس حوالے سے ہم چین کے مالیاتی تعاون کو کبھی فراموش نہیں کریں گے ،چین نے ہماری غیرمشروط معاونت کی کبھی کوئی مطالبہ نہیں کیا ۔ عمران خان نے کہا کہ مسلسل لاک ڈاءون کی وجہ سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں سنگین انسانی صورتحال پیدا ہو گئی ہے وہاں سے کرفیوفوری طور پر اٹھایا جائے ۔ صدر شی جن پنگ نے پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بنیادی قومی مفاد کے تمام معاملات پر چین کی طرف سے غیر متزلزل حمایت کے عزم کا اعادہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ شراکت داری چٹان کی طرح مضبوط اور لافانی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلق مستقبل میں مزید گہرا اور وسیع ہوگا ۔ صدر شی جن پنگ نے سی پیک منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد کے لئے پاکستان کی کوششوں کو سراہا، صدر شی جن پنگ نے دہشت گردی کے خاتمے کےلئے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ پاکستان ادارہ جاتی اور اقتصادی اصلاحات کے ذریعے پائیدار اقتصادی ترقی کے حصول کی طرف بھرپور طریقے سے بڑھ رہا ہے ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کے دورہ چین کے اختتام پر بیجنگ میں جاری ہونے والے مشترکہ بیان کے مطابق پاکستان اور چین نے سی پیک کی جلد سے جلد تکمیل کا اعادہ اور خصوصی اقتصادی زونزکے فوری قیام اور بجلی ، پیٹرولیم ، گیس،زراعت تجارت دفاع تعلیم اور صنعتی شعبے میں تعاون بڑھانے، چین پاکستان آزاد تجارتی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر جلد عمل درآمد، پاک چین مشترکہ اقتصادی تجارتی کمیشن سے فائدہ اٹھانے پر اتفاق کرلیا اور یہ فیصلہ کیاہے کہ پاک چین کوآپریشن کمیٹی کا نواں اجلاس نومبر میں اسلام آباد میں ہوگا ۔ چین نے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے حوالے سے پاکستان کی حمایت کرتے ہوئے عالمی برادری پر زوردیاکہ وہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کی پاکستان کی کوششوں کو تسلیم کرے ۔ چینی قیادت نے کہا کہ چین مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، مسئلہ کشمیر تاریخ کا ادھورا چھوڑا ہوا تنازعہ ہے، اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے جبکہ پاکستان نے اس امر کو دہرایا کہ ہانگ کانگ کے معاملات چین کا اندرونی معاملہ ہے، دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کا کوئی جواز نہیں ۔ عمران خان نے چینی وزیراعظم لی کیاچیانگ کی دعوت پر چین کا8 سے 9اکتوبر تک کادورہ کیا ۔ وزیراعظم نے دورہ چین کے دوران چینی صدر شی جن پنگ ،چینی وزیراعظم لی کی چیانگ اور نیشنل پیپلزکانگریس کے چیئرمین سے ملاقات کی ۔ وزیراعظم عمران خان کے دورہ چین سے دونوں دوست ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزیدمستحکم ہوں گے ۔ چینی سرمایہ کاروں نے ملک میں معاشی استحکام لانے کے لئے پاکستان میں سرمایہ کاری پر رضامندی ظاہر کی ہے اور وزیراعظم کے دورے سے ثابت ہواہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبوں میں کوئی سست رفتاری نہیں آئی ۔ مسئلہ کشمیر کے بارے میں چین نے عالمی برادری پر زور دیاکہ وہ مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بند کرانے کے لئے بھارت پر دباءو ڈالے ۔ دنیا کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خطے میں امن وخوشحالی اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اورکشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیرحل کئے بغیرممکن نہیں ۔

ملک بھرکے تاجروں کاحکومتی معاشی پالیسیوں پرعدم اعتماد

ایف بی آرکے ٹیکسز، خرید و فروخت کیلئے شناختی کارڈ کی شرط اور مذاکرات میں حیلے بہانوں سے اکتائے ملک بھر کی تاجر تنظیموں نے آل پاکستان انجمن تاجران کی کال پر اسلام آباد میں احتجاج کیا ۔ ملک بھر سے آئے ہوئے تاجر ہاکی گراءونڈ میں جمع ہوئے جہاں سے شرکا نے ایف بی آر کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرے کیلئے مارچ شروع کیا تو سرینا چوک پر انہیں روک دیا گیا ۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین آمنے سامنے آگئے جس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا جبکہ تاجروں نے پتھرا ءوکیا اور سرینا چوک پر لگی خار دار تاریں پھلانگنے اور ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش کی ۔ مظاہرین نے اہلکاروں پر پتھراءو کیا ۔ ایف بی آر حکام سے مذاکرات ناکام ہونے پر انجمن تاجران نے 28 اور 29 اکتوبرکو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کردیا ،صورتحال کے پیش نظر واٹر کینن جبکہ پولیس کی اضافی نفری بھی طلب کی گئی ۔ تاجر رہنماءوں کا کہنا ہے کہ وہ شناختی کارڈ دیں گے اور نہ ہی ٹیکس رجسٹریشن کروائیں گے ۔ تاجر رہنماءوں کا کہنا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر خود آکر مذاکرات کریں ، فکس ٹیکس سمیت مطالبات پورے ہونے تک احتجاج ختم نہیں ہوگا، عمران اور ان کی ٹیم کو معیشت کی الف ب کا پتہ نہیں ، نا دیدہ مشیر کاروبار کیساتھ ملک تبا ہ کر رہے ہیں ۔ آل پاکستان انجمن تاجران کے رہنما اجمل بلوچ کا کہنا تھا کہ 15 اکتوبر سے روزانہ ایک گھنٹہ جبکہ 28 اور 29 اکتوبر کو 2 روزہ ملک گیر ہڑتال کی جائے گی،تاجر رہنمانے کہا کہ وہ شناختی کارڈ کی شرط کو نہیں مانتے اورحکومت جو مرضی کر لے ہم شناختی کارڈ نہیں دیں گے،اجمل بلوچ نے کہا ہے کہ وزرا کہتے ہیں تاجر چور ہیں ، کل عمران خان خود کہتا تھا ایف بی آر چور ہے ۔

سانحہ گولڈن ٹیمپل، برطانوی کمیشن کی رپورٹ، پاکستان کلیئر

بھارت کو ہر قدم پر شکست فاش کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ سفارتی سطح پر مودی کو تاریخی ناکامیوں کا سامنا ہے گولڈن ٹیمپل سانحہ کے حوالے سے بھارت نے جو الزام تراشیوں کا سلسلہ جاری رکھا تھا ۔ اس سلسلے میں برطانیہ نے پاکستان کو کلین کردیا ۔ اس بات سے واضح ہوگیا ہے کہ دراصل دہشت گرد بھارت ہی ہے ۔ خود حالات خراب کرکے پاکستان پر الزام عائد کرتا ہے اسی طرح ایل او سی پر بھی بلا اشتعال شر انگیزیاں کرکے شوروغوغا مچاتا رہتا ہے لیکن برطانوی کمیشن کی رپورٹ کے بعد تو بھارت کا غیر جمہوری چہرہ مزید بے نقاب ہوگیا ہے ۔ جھوٹے اور بے بنیاد الزام لگانے والا بھارت پھر دنیا بھر میں رسوا ہوگیا ۔ برطانوی حکومت کے مالی تعاون سے متعلق کمیشن برائے انسداد انتہا پسندی نے مودی حکومت کا چہرہ اور داغ دار کردیا ۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق کمیشن کی رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ سکھ اگر بھارت سے الگ ریاست چاہتے ہیں تو اس کی پشت پر کسی صورت پاکستان نہیں بلکہ خود سکھوں کو لگتا ہے کہ بھارت میں ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک اختیار کیا جارہا ہے ۔ سکھوں کو پاکستانی ایجنٹ کا طعنہ دیا جاتا ہے ۔ اسی کی دہائی سے سکھوں کی نسل کشی کی جارہی ہے اور اسی بنیاد پر انہوں نے الگ وطن کےلئے تحریک چلائی ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انیس سو چوراسی میں سکھوں کی عبادت گاہ گولڈن ٹیمپل پر حملے کے بعد بھارت سے نفرت میں مزید اضافہ ہوا ۔ مودی کے دوبارہ اقتدار میں ;200;نے کے بعد اب خالصتان تحریک میں اس لیے بھی اور تیزی ;200;ئی ہے کیونکہ بھارت میں انتہا پسندی کا جن بے قابو ہوچکا ہے ۔ ہندوتوا کا نظریہ عام ہورہا ہے ۔ بھارتی حکومت کئی برسوں سے یہ الزام لگاتی ;200;رہی ہے کہ خالصتان تحریک کی پاکستان پشت پناہی کررہا ہے لیکن برطانوی ادارے کی اس رپورٹ کے بعد متعصب مودی حکومت کا یہ الزام بھی جھوٹا ثابت ہوگیا ۔ بھارتی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں ، عیسائیوں اور سکھوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے ۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں نے بھی اس بھارتی طرز عمل پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں ۔

پروگرام سچی بات میں ایس کے نیازی کی دوررس نتاءج کی حامل گفتگو

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹراور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے اپنے پروگرام ’’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انصاف وہ ہے جو ہوتا نظر آئے ،کام بھی ہوتا نظر آنا چاہیے،ملک کی معاشی صورتحال کی وجہ سے عوام مشکلات کا شکار ہیں ،عمران خان نے سلامتی کونسل میں اچھی تقریر کی ، اس کا فالو اپ بھی آنا چاہیے،چین ہمارا دوست ہے ، چین کو ہماری ہر پریشان کا احساس ہے، چین نے کشمیر کے معاملے پر پاکستان کی کھل کر حمایت کی ہے،پاکستان کی معیشت کا پہیہ رئیل اسٹیٹ اور سٹاک مارکیٹ کے ذریعے چلتا ہے،ٹیکس نیٹ ورک بڑھنا چاہیے،ڈرانے اور خوف پھیلانے سے ٹیکس نیٹ نہیں بڑھتا،حکومت اور تاجروں کے درمیان نتیجہ خیز مذاکرات ہونے چاہئیں ، وزیراعظم نے دورہ چین میں بھی کشمیر کے حوالے سے بات کی ہے ۔ پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے سابق نگران وزیر دفاع جنرل (ر)نعیم خالد لودھی نے کہا کہ وزیراعظم کے دورہ چین کے اعلامیہ میں مثبت چیزیں سامنے آئی ہیں ،صرف سفارتکاری کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل نہیں کیا جا سکتا،ان دنیا کشمیر یوں کی جدوجہد کو دہشت گردی سے نہیں جوڑ سکے گی،مودی کے اندازے غلط ثابت ہوں گے، کشمیریوں کی جدوجہد دبائی نہیں جا سکتی ۔ چیئرمین آ ل کراچی تاجر اتحاد عتیق میر نے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ ایس کے نیازی کیساتھ میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اربوں روپے کمانے والے لوگ ٹیکس دینے کیلئے تیار نہیں ہیں ،ایف بی آر ،آئی ایم ایف کی ایماء پر یورپ طرز کا ٹیکس نظام لانا چاہتی ہے،ملک بھر کے چھوٹے تاجر پر اتنا بوجھ ڈالنا چاہیے جتنا ٹیکس آسانی سے ادا کر سکیں ،ملک میں کاروبار منجمد ہے، کاروباری افراد شدید پریشانی کا شکار ہیں ،حکومت کو چاہیے کہ پہلے کاروباری سرگرمیاں بحال کرے پھر ٹیکس لے ۔ چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ پنجاب سردار تنویر الیاس نے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ ایس کے نیازی کیساتھ میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ تعلیم ،صحت اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے،پرویز مشرف دور میں بھی ٹیکس نیٹ بڑھانے کی کوشش پر عوام کا شدید رد عمل آیا،سمگلنگ کی وجہ سے بھی ملکی معیشت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچتا ہے،ملک میں ریٹیلرز کے پاس گاڑیاں اور بڑے بڑ گھر ہیں لیکن ٹیکس نہیں دیتے،تاجروں کے مسائل ہڑتالوں اور دھرنوں سے حل نہیں ہوں گے ۔

ترقی وخوشحالی کے نئے امکانات ۔ وزیراعظم کا دورہ چین

وزیر اعظم عمران خان اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پڑوسی دوست ملک چین کا دورہ ایسے اہم نازک وقت میں کیا جب خطہ میں سنگین نوعیت کے بدلاوَ کے حالات تھے تبدیلیاں وقوع پذیر ہورہی تھیں ، گزشتہ دوروں کے برعکس پاکستانی اعلیٰ سیاسی اوراعلیٰ عسکری قیات کے تازہ ترین دورہ چین کو ایک بہت ہی بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے اور اس دورے کے اہم پہلووں کو ملکی پرنٹ،الیکٹرونک اور سوشل میڈیا میں نمایاں کوریج دینے کی اشد ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا تاکہ دنیا پر یہ واضح ہوسکے کہ عالمی اور علاقائی تنازعات پر پاکستان اور چین دونوں پڑوسی ملکوں کی اعلیٰ قیادت میں کس قدر فکری قربت ، ذہنی یکسوی اورسیاسی وسفارتی مفاہمت پائی جاتی ہے وزیر اعظم پاکستان نے 8 سے 9 اکتوبر2019 تک عوامی جمہوریہ چین کی ریاستی کونسل کے وزیر اعظم لی کی چیانگ کی خصوصی دعوت پر چین کا دوروزہ سرکاری دورہ کیا گو یہ دورہ مختصر رہا لیکن بہت نتیجہ خیز، اس دوران پاکستانی وزیراعظم نے چینی صدر شی پی چنگ سے بھی اہم ملاقات کی‘ وزیر اعظم لی کی چیانگ اور قائمہ کمیٹی کے چیئرمین لی ژانشو سے بھی وزیراعظم کی ملاقات ہوئی نیشنل پیپلز کانگریس سے پاکستانی وزیر اعظم نے خطاب کیا ،چینی تاجروں سے بھی ملاقات ہوئی، دونوں اطراف کے شرکا ء نے باہمی دلچسپی کے دوطرفہ علاقائی اور بین الاقوامی امور کی وسیع رینج پر مشترکہ بنیادی دوطرفہ امور پر کھل کر ایک دوسرے کے موقف کو سمجھا اور سمجھایاگیا پاکستان اور چین نے پہلے سے موجود اپنے گرم جوش اور دوستانہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک بڑھا نے میں اپنے اس دورے میں سفارتی وسیع النظری کا خوب مظاہرہ کیا جنرل باجوہ کی قیادت میں ملکی عسکری وفد نے دوطرفہ ’’پولیٹیکو ضروریات‘‘پر مکمل باہم مشترکہ تبادلہ خیال کیا اورہم منصبوں کے ساتھ ہونے والی اہم ملاقات نے خطے اور عالمی برادری کو ایک بہت اہم موثر پیغام پہنچادیا کہ دونوں ممالک پاکستان اور چین ہر مشکل وقت میں اب کندھوں سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں گے اگر کسی نے چین کی آزادی اور خود مختاری پر وار کرنے کی جسارت کی تو سمجھا جائے گا کہ یہ وار چین پر نہیں بلکہ پاکستان پر کیا گیا ہے دوطرفہ سیکورٹی کا یہی قدم چین نے اٹھا کر دنیا کو باور کرادیا ہے کہ پاکستان کو کوئی’ عالمی اور علاقائی طاقت‘ تنہا نہ سمجھے، یہ کہتے ہوئے ہ میں جان لینا چاہیئے کہ چین کا اشارہ صاف طور پر بھارت کی طرف تھا حالیہ دورہ چین سے اْن عالمی مفروضات کے غباروں میں سے بھی ہوا نکل گئی جو دنیا میں بے سروپا پروپیگنڈا پھیلارہے تھے کہ ’’سی پیک منصوبہ‘‘پر رفتار سست پڑگئی ہے کسی کو تھوڑی بہت نہیں بلکہ ساری کی ساری ’’سی پیک‘‘کی دال کالی نظرآنے لگی یہ جھوٹ کے پھٹے ڈھول تھے اندرون ملک بھی بجائے گئے جس سے کوئی اور خوش ہوا ہونہ ہوا لیکن بھارت کو مسلم لیگ نون کے چند سیاسی ڈھنڈورچیوں کے پھیلائے گئے اس پروپیگنڈے سے یقینا ’’سکون‘‘ملا ہوگا،لیکن پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ اور ملکی وزیراعظم عمران خان کے اس دور میں کھل کر اعلیٰ چینی قیادت نے کہہ دیا کہ پہلے سے زیادہ پْرجوش جرات مندی کے ساتھ ’’سی پیک‘‘ کو ایک بہت بڑا ’’ٹرن اور‘‘کا موقع ملا ہے، اس دورے میں یہ فیصلہ ہوگیا ہے کہ ’’سی پیک ‘‘ کا اگلا مرحلہ پاکستانی فوج کی نگرانی میں اب اپنے تعمیراتی کام کو آگے بڑھا ئے گا اوراب ’’سی پیک‘‘ کے نام سے متفقہ اتھارٹی بہت جلد قائم کردی جائےگی چینی حکام اس ’’اتھارٹی‘‘ کو بی اینڈ آر’’بلڈ اینڈ روڈ اینیشیٹو‘‘ کے ماڈل پروجیکٹ کے طور پر فعال بنانے کی اپنی تیاریاں مکمل کرچکے ہیں ، وزیراعظم پاکستان نے چین کے صدر شی پی چنگ سے اپنی دوبدوملاقات میں اْنہیں مقبوضہ وادی کی سنگین تشویش ناک صورتحال سے آگاہ کیا یادرہے کہ چینی صدر ایک روز بعد بھارت کا سرکاری دورہ کریں گے بھارتی وزیراعظم مودی کو خطہ میں ہونے والی اہم تبدیلیوں کے بارے میں بتادیں گے کہ جتنی جلد ہوسکے وہ مسئلہ کشمیر کے بارے میں اپنے سخت جنونی موقف کوتبدیل کریں کشمیر میں انسانی حقوق کو بحال کرنے میں اپنا کردار ادا کریں کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں حل کروانے میں بھارت کے استحکام کو تقویت مل سکتی ہے، چین نے کشمیر کے بارے میں پاکستان کی حساسیت کو سمجھا اور مشترکہ اعلامیہ میں اس کا مناسب طور پر تذکرہ کیا گیا چین کی قیادت نے خطے اور بالخصوص افغانستان میں قیام امن کےلئے پاکستان کی سفارتی تگ ودو کی تعریف کی ہے، پاکستان نے اندورن ملک اور بیرون ملک مفادات سے ’’سی پیک‘‘ کے بارے میں اٹھا ئے گئے اپنے تمام تحفظات چین کے سامنے رکھے چین نے پاکستانی مفادات کو اپنے مفادات کے ہم پلہ قرار دیتے ہوئے پاکستان میں پائے جانے والے تحفظات کا فی الفور ازالہ کرنے کا وعدہ کیا ’’سی پیک‘‘کی ممکنہ توسیع اور استحکام کے اگلے بڑے مرحلے کا آغاز آئندہ ہفتوں میں کردیا جائے گا سی پیک اور ایف ڈی آئی مطلب’’ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری‘‘جیسے اہم ایشوز بھی چین اور پاکستان کی اعلیٰ سطحی قیادت کے درمیان بات چیت کے ذریعے سے حل ہو ئے ہیں جس پر پاکستان کو یقینا بڑے اہم اوردیرپا مالی فوائد ملیں گے ’’سی پیک راہداری منصوبہ‘‘غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذیل میں اپنی خصوصی مقناطیسیت رکھتا ہے، یقینا چین کے صدر شی پنگ جی نے ’’سی پیک راہداری منصوبہ‘‘ کا عالمی تعارف کراتے ہوئے یہ بالکل صحیح عندیہ دیا تھا کہ’سی پیک جنوبی ایشیا بلکہ ایشیا سمیت ایشائی پیسفک ممالک کےلئے بھی ترقیاتی خوشحالی کا گیم چینجر منصوبہ ثابت ہوگا‘اپنے دورہ چین کی مصروفیات میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے بطور مہمان خصوصی’’بیجنگ ہارٹیکلچر ایکسپو 2019‘‘ کی اختتامی تقریب میں بھی شرکت کی وزیراعظم خان نے عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد رکھنے کی 70 ویں سالگرہ پر چینی قیادت اور عوام کو اپنی جانب سے خاص طور پر پاکستانی قوم کی طرف سے مبارکباد پیش کی انہوں نے چین کو اس کی نمایاں تیزرفتار ترقی پربھی مبارکباد پیش کی اس بات پر زور دیا کہ چین کی اصلاح اور افتتاحی عمل ترقی پذیر ممالک کےلئے ایک نمونہ اور ایک تقلید ی مثال ہے انہوں نے کہا کہ چینی قوم کا قومی تحریک کی طرف اس کی بصیرت افروز جرات مندانہ قیادت میں کئے جانے والے تاریخ ساز مارچ ایک انمٹ حقیقت کی صورت میں دنیا کے کروڑوں عوام کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے ۔ اس اہم موقع پر پاکستانی وزیراعظم خان نے اپنے گزشتہ دورہ چین جو گزشتہ برس نومبر میں ہواتھا اپنے اْس دورے کو یاد کرتے ہوئے پاکستان کے وزیراعظم نے چینی قیادت کے ساتھ اپنے مشترکہ اعلامیہ کے بیان کا بھی تذکرہ کیا جس میں پاکستان اور چین کے مابین اہم باہمی اتفاق رائے کا ایک خاکہ پیش کیا گیا تھا دونوں قیادتوں نے’’پاک چین آل موسم‘‘کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری کو مزید تقویت دینے کے اپنے عزم کی اس مرتبہ پھر توثیق کی جس کا مقصد مشترکہ مستقبل کی کمیونٹی کی تشکیل دینا قرارپایا گیا تھا اب وہ ہی نیا دور شروع ہوچکا ہے، پاکستان اور چین کے مابین قریبی تعلقات اور گہرے ہوکر جڑ چکے ہیں پاکستان اور چین کی دوطرفہ دوستی اور اسٹریٹجک شراکت نے دونوں ممالک اور عوام کے بنیادی مفادات کو یکجا کردیا ہے اورخطے میں امن، استحکام اور ترقی کے شعبے میں واضح خوشگوار تبدیلیاں نمایاں ہورہی ہیں پاکستان اور چین کے عوامی قربت کے سماجی معاملات پر دونوں جوانب سے اپنی اپنی حمایت کی تصدیق ہورہی ہے، ایک دوسرے کے بنیادی مفادات سے متعلق اب کسی قسم کا ابہام نہیں رہا ،چینی رہنماؤں نے اپنی علاقائی خودمختاری، آزادی اور سلامتی کے تحفظ میں پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کا اعادہ کیا پاکستان کی جانب سے’’ ون چائینہ پالیسی‘‘ سے متعلق پاکستانی قوم کے عزم کی تصدیق کی ایک مرتبہ موثرتائید کردی گئی ’ون کنٹری ٹو سسٹم‘ کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہانگ کانگ کے معاملات میں کسی کو دخل دینے کا کوئی حق نہیں یہ چین اپنا داخلی معاملہ ہے تمام ممالک کو بین الاقوامی قانون کی پاسداری پربرقرار رہنا ہوگا، جہاں تک مقبوضہ وادی میں پاکستان کے جائز اسٹیک کا معاملہ ہے یہ تنازعہ اقوام متحدہ کی ٹیبلز پر ہے جس پر چین نے بھی ترت جواب دیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال پر کڑی توجہ دئیے ہوئے ہے اور اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ مسئلہ کشمیرایک تاریخی تنازعہ ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور ان کی بنیاد پر مناسب اور پر امن طور پر اس دیرینہ مسئلے کو حل ہونا چاہئے دونوں ملکوں نے اس بات پر زور دیا کہ پرامن ، مستحکم ، تعاون پر مبنی اور خوشحال جنوبی ایشیاء تمام فریقوں کے مشترکہ مفاد میں ہے خطہ کو مساوات اور باہمی احترام کی بنیاد پر بات چیت کے ذریعے خطے کے تنازعات اور مسائل کو حل کرنے کی اشد ضرورت اب بڑھتی جارہی ہے اس بارے میں اور دیر کی گنجائش نہیں ہے وزیراعظم پاکستان اور پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایک بہت ہی موثر اور جاندار سفارت کاری کے نتیجے میں کامیاب دورہ چین پر پاکستانی قوم تہہ دل سے اُنہیں مبارکباد پیش کرتی ہے ۔

غےر منصفانہ ٹےکس ۔ ۔ ۔ ۔ !

ملک کی حالت انتہائی خراب تھی ۔ خزانہ خالی تھا ۔ لوگ غربت اور افلاس کے دلدل مےں پھنسے ہوئے تھے ۔ معےشت کو بہتر اور خزانے کو بھرنے کےلئے مزےد ٹےکس نہیں لگائے بلکہ اس نے اقتدار سنبھالتے ہی 24غےر منصفانہ ٹےکسوں ;8; کو ختم کردےا ۔ اس نے ملک مےں متعدد اصلاحات نافذ کےں اور عوام پر بوجھ کم تر کردےا جس سے لوگ خوشحال ہوگئے اور ملک مےں امن و امان قائم ہوگےا ۔ ملک مےں امن وامان کے ساتھ ترقی کا سفر شروع ہوگےا اور ملک نے ترقی کی ۔ اس نے عوام کے لئے چھ کام کیے ۔ (1)غےر منصفانہ ٹےکسوں کا خاتمہ (2)مالےاتی اصلاحات (3) عدالتی اصلاحات 4)) رفاہ عامہ کے کام(5)فوجی اصلاحات (6)تعمےرات عامہ ۔ اس کی سلطنت میں کل 24 ٹےکس نافذ تھے ۔ اس نے ملک مےں 24 غےر منصفانہ ٹےکسوں کو ختم کےا اور عوام پر خراج ، زکواۃ، جزےہ اور خمس ےعنی صرف اور صرف چار ٹےکس نافذ کیے ۔ زکواۃ تمام جائےداد کا اڑھائی فی صد اورخراج زمےن کی کل پےداوار کا دسواں حصہ تھا ۔ جزےہ غےرمسلموں سے وصول کےا جاتا تھا ۔ اس نے ٹےکس کلکٹرز کو ہداےت کی کہ وہ سختی نہ کرےں ۔ رےڑھی، گل فروشی، ماہی فروشی اور صابن سازی وغےرہ پر عائد ٹےکس ختم کردیے ۔ ملک کے اندر تجارتی مال کی نقل و عمل پر عائد ٹےکس بھی ختم کردئیے ۔ ملک مےں نہرےں کھدوائےں جس سے گندم اور چاول کی پےداوار مےں اضافہ ہوا ۔ ملک بھر مےں عوام کو انصاف فراہم کرنے کے لئے ججز کا تقرر عمل مےں لاےا گےا اور کہےں ظالمانہ سزاءوں کو ختم کےا ۔ عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کام کیے ۔ اس سے لوگ خوشحال ہوگئے ۔ اشےاء مےں فراوانی ہوگئی ۔ لوگوں کے گھر اناج، گھوڑوں ، فرنےچر اور سونے چاندی سے بھر گئے ۔ اس حکمران کانام فےروز شاہ تغلق تھا ۔ ہم اےسے عجےب لوگ ہےں کہ تارےخ سے سبق نہےں سےکھتے ۔ ہم ماضی کے تجربات سے فائدہ نہےں اٹھا تے ہےں ۔ ہم ماضی کے تجربات کوماضی سمجھ کر نظر انداز کرتے ہےں حالانکہ ترقی ےافتہ اقوام نے ماضی کے تجربات سے ہی فائدہ اٹھاےا ہے ۔ عصر حاضر مےں وطن عزےز کو دےکھےں توہمارے حکمران عوام پر زےادہ سے زےادہ ٹےکس عائد کرنے کےلئے کوشاں رہتے ہےں ۔ عوام زرداری اور نواز حکومت سے مہنگائی کی وجہ سے نالاں تھے ۔ انھوں نے پاکستان تحرےک انصاف کو ووٹ دیے لےکن عمران خان نے تقرےباً اےک سال مےں ناقابل برداشت مہنگائی کردی ہے ۔ عام لوگوں کا خےال ےہ تھا کہ عمران خان اقتدار مےں آئےں گے تو عوام کو سکھ دےں گے ۔ ہر بے روز گار کو روزگار ملے گا بلکہ باہر کے لوگ ےہاں روزگار کےلئے آئےں گے ۔ دودھ شہد کی نہرےں ہونگی اوہر چےز سستی ہوگی ۔ انصاف دہلیز پر ملے گا ۔ لےکن عمران خان صاحب نے تو کمال کردےا ہے ۔ لوگوں کی زندگےوں مےں مشکلات ہی مشکلات پےدا کردےں ۔ اےک سال مےں عوام کو سکھ پہنچانے والا اےک کام بھی نہےں کےا ۔ عمران صاحب کی حکومت مےں ڈالر بے لگام ہوگےا ہے ۔ مہنگائی بے قابو ہے ۔ پٹرولےم منصوعات اور بجلی کی قےمتوں مےں اضافوں سے لوگ مزےد دلدل مےں پھنس گئے ہےں ۔ عمران خان کی حکومت آئی تھی تو پٹرول کی قےمت 67روپے تھی اوراب پٹرول کی قےمت114 روپے فی لٹر ہے ۔ سابق ڈکٹےٹر پروےز مشرف دور مےں آٹا 16روپے کلو تھا ۔ پٹرول 51 روپے لےٹر تھا اورڈالر60روپے کا تھا ۔ جب اےک ڈکٹےٹر آٹا 16 روپے ، پٹرول51 روپے اور ڈالر 60 روپے مےں رکھ سکتا تھا تو جمہوری حکومتےں اےسا کےوں نہےں کرسکتی ہےں ۔ ڈکٹےٹرز ادوار میں بلدےاتی الیکشن ہوتے ہیں اور عام آدمی کے کام شروع ہوجاتے ہیں ۔ جب جمہوری حکومتےں آتی ہیں تو بلدےاتی الیکشن نہیں ہوتے ہیں ۔ بلدےاتی ادارے مفلوج ہوجاتے ہیں ۔ حالانکہ جمہوری حکومتوں کا پہلا کام ےہی ہونا چاہیے کہ وہ بلدےاتی الیکشن کرواتے اور جمہورےت کو روٹ لیول پر لے جاتے لیکن اےسا نہیں ہورہا ہے ۔ اب موجودہ حکومت نے بلدےات میں ضلع چےئرمین ےا ضلع ناظم کا عہدہ ہی ختم کردےا ہے حالانکہ اہم افسران اور اداروں کے دفاتر ڈسٹرکٹ لیول پر ہوتے ہیں ۔ جمہوری حکومتوں کو عوام کا خیال رکھنا چاہیے ۔ جمہوری حکومتوں کو اےسے فےصلے نہےں کرنے چاہئیں جس سے عوام تنگ اور پرےشان ہو ۔ وطن عزےز مےں ہر چےز پر ٹےکس ہے اور عوام سے ہر جائز وناجائز ٹےکس مختلف حربے استعمال کرکے وصول کررہے ہےں لےکن اس کے بدلے مےں عوام کےلئے ڈھاک کے تےن پات ہےں ۔ وطن عزےز پاکستان میں اس وقت کم وبےش 56 اقسام کے ٹےکس وصول کیے جارہے ہیں ۔ بے حد مہنگائی اورزےادہ ٹےکسز سے ممالک ترقی نہیں کرتے ہیں ۔ کسی بھی ملک میں مہنگائی اور ٹےکسز کی بوچھاڑ حکومت کےلئے نقصان کا باعث بن سکتی ہے ۔ حکومتوں کومعےشت کی ٹےموں میں صاف اور عوام دوست افراد رکھنے چاہئیں ۔ ےہ بھی پرکھنا چاہیے کہ ٹےم کے ارکان کا غربت اور مسائل کوحل کا عملی تجربہ کتنا ہے;238;مہنگائی اور زےادہ ٹےکسز سے مسائل گھمبےر ہوتے ہیں اور پھر مسائل بے قابو ہوجاتے ہیں ۔ اےک دوسرے پر الزامات لگانے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ عملی کام سے مسائل حل ہوتے ہیں ۔ غےرمنصفانہ ٹےکسوں اورمہنگائی کی وجہ سے ہرشخص بے حال ہے ۔ قارئےن کرام! وطن عزےز پاکستان میں ترقی کے بے حد مواقع ہیں ۔ حکومت کوحالات بہتر کرنے کےلئے چند اقدامات کرنے چاہئیں ۔ (الف) حکومت کو غےر منتخب افراد کے بجائے منتخب افراد کو ٹےم میں شامل کرنا چاہیے ۔ (ب)جوٹےم ارکان رزلٹ نہ دے ،اس کو تبدےل کرنا چاہیے ۔ (ج)اداروں کے اندر ذےلی اداروں کو ختم کرنا چاہیے ۔ (د)تمام اداروں کا غےر جانبدارانہ چےک اےنڈ بےلنس ہونا چاہیے ۔ (ر) رےٹائرڈمنٹ کی عمر 55سال ہونی چاہیے ۔ نئے لوگوں کو کام کا موقع دےنا چاہیے ۔ (س)صنعتوں پر غےر ضروری ٹےکس ختم کرنے چاہئیں ۔ ان کو بجلی و گےس کم رےٹ پر دےنے چاہئیں ۔ (ش) سرماےہ کاروں کو سرماےہ لگانے کا موقع دےنا چاہیے اور ان کو تحفظ دےنا چاہیے ۔ معےشت کی اےک مستقل پالیسی ہونی چاہیے ۔ (ص)ملک میں ہر چےز کےلئے مستقل اور ےکساں پالیسی بنانی چاہیے ۔ (ض)غےر ضروری اور غےر منصفانہ ٹےکسز ختم کرنے چاہئیں ۔

گزرے گا کبھی تُو بھی اسی راہ گزر سے

اےک بےمار ڈاکٹر کے پاس بغرض علاج گےا ۔ جب ڈاکٹر نے بےماری کی تفصےل معلوم کرنا چاہی تو مرےض نے کہا کہ ہر وقت ٹانگوں مےں درد رہتا ہے ڈاکٹر نے کہا ےہ بڑھاپے کی وجہ سے ہے کھانا ہضم نہےں ہوتا ےہ بھی بڑھاپے کی علامت ہے مرےض نے کہا کہ نےند بھی نہےں آتی اس کا سبب بھی بڑھاپا ہے نقہت و کمزوری محسوس ہوتی ہے ےہ بھی بڑھاپے کے کارن ہے بےنائی بھی متاثر ہے اس کی وجہ بھی بڑھاپا ہے آخر کار ڈاکٹر نے مرےض سے کہا کہ بزرگوارم بڑھاپا بذات خود اےک بےماری اور بہت سی بےمارےوں کا موجب ہے انگرےزی پروورب ہے ;65; man is as old as he thinksانسان اتنا ہی بوڑھا ہے جتنا وہ خےال کرتا ہے لےکن حقےقت بہرحال حقےقت ہے جس سے صرف نظر ممکن نہےں بڑھاپا خود اےسی بےماری کا نام ہے جو اپنے دامن مےں کمزوری وناتوانی اور کسمپرسی لئے ہوتا ہے اقوم متحدہ کے عالمی کمےشن برائے بڑھاپا کی تحقےقاتی رپورٹ کے مطابق بڑھاپے کی چار اقسام ہےں ان مےں عمر کے بوڑھے ،روےوں کے بوڑھے ،سوچ کے بوڑھے اور آخری قسم ہے جو وقت سے پہلے اپنے پر خود بڑھاپا طاری کر لےتے ہےں راقم کے پےش نظر اس کالم مےں عمر کے بوڑھے ہی ہےں ضعےفی کے ضعف کا اندازہ صرف وہی لوگ لگا سکتے ہےں جو عمر کے اس حصے سے گزر رہے ہےں ان بوڑھوں کا ما سوائے ان کی بوڑھی بےوےوں کے کوئی غم خوار نہےں ہوتا وہ بھی اگر بقےد حےات ہوں اس عمر مےں بوڑھے بچوں جےسی حرکات کے مرتکب ہوتے ہےں بوڑھوں کا من پسند کام نصےحت کرنا اور اپنی گزشتہ زندگی کو کارناموں کی شکل مےں دہرانا ہوتا ہے وہ اپنی جوانی کو ےاد کرتے ہےں اور ماضی کی داستانےں دہرا کر داستان گو بن جاتے ہےں ےہ دراصل پرانی ےادوں کے سہارے اپنی لاچارگی کے کرب کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہےں ان کی اولادےں ،احباب اور اقربا ء ان کی باتےں سن سن کر تنگ آ چکے ہوتے ہےں وہ سمجھتے ہےں ےہ تو وہی بات ہے جو سےنکڑوں بار پہلے بھی سنی جا چکی ہے نوجوان نسل ان کا مذاق اڑاتی ہے جےسے انہوں نے کبھی بڑھاپے کی منزل سے کبھی گزرنا ہی نہےں مےرے واجب الاحترام قارئےن مغربی دنےا کے معاشرے مےں مختلف حقوق کےلئے کام کرنے والی تنظےموں کی اےک طولانی فہرست ہے ان مقاصد کےلئے ان کے پاس اربوں ڈالرز کے فنڈز بھی موجود ہوتے ہےں مغرب کی تقلےد مےں ہمارے ہاں بھی کبھی کبھار مختلف طبقوں کے حقوق کی خاطر آوازےں سنائی دےتی ہےں لےکن حقوق انسانی کا استحصال کوئی نئی بات نہےں فرد کی سطح سے لے کر مجموعی زندگی تک انسانےت اور انسانی حقوق کی پامالی مختلف اشکال لئے ہمارے سامنے آتی ہے جس تےزی سے انسان مادی ترقی کی منازل طے کر رہا ہے اسی تےزی سے وہ سچے اور خوبصورت جذبوں سے دور ہوتا جا رہا ہے ہمارا معاشرہ بزرگوں کی عزت و تکرےم کے معاملے مےں اپنی خاص پہچان رکھتا تھا مگر اس مادی دور کی تےز رفتاری ، نفسا نفسی مےں ادب آداب اور خاندانےت کا پرانا تصور ماضی کی راہدارےوں مےں کہےں گم ہو کر رہ گےا جسے نئے سرے سے تلاش کرنے کی ضرورت ہے ہر سال ےکم اکتوبر بزرگاں منانے کےلئے مختص ہے اس دن ان کےلئے رہائش اور خوراک کی سہولتوں کا بندوبست کرنے کا عہد کےا جاتا ہے انہےں صحت کی سہولتےں بہم پہنچانے کے پروگرام مرتب کئے جاتے ہےں لےکن ہر گزرتا دن ماہ اور سال ےہ کہتا ہوا گزر جاتا ہے کہ انسان اپنے آپ کو جنم دےنے والوں کو بھولتا جا رہا ہے وقت گزرنے کے ساتھ اپنے ہی بچے اپنے والدےن کو اندھےروں مےں دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ جاتے ہےں آج کے اس افراتفری کے دور مےں ہر انسان کی سوچ صرف اپنے بےوی بچوں کے گرد گھومتی ہے وہ بھول جاتا ہے کہ کوئی ہے جس نے اسے جنم دےا پروان چڑھاےا اور اس قابل کےا اسلامی حقوق کا باب تو نہاءت روشن ،وسےع اور جامع ہے ہمارا معاشرہ ان مذہبی اور سماجی اقدار پر فخرتو کرتا ہے لےکن عملی زندگی مےں ہمارا روےہ بوڑھوں کے ساتھ کےا ہے کسی بزرگ نے کہا تھا کہ آدم;174; کے ماں باپ نہےں تھے صرف اولاد تھی اس لئے جذبات کا بہاءو آگے کی طرف تھا سو بنی نوع انسان کی ےہ مجبوری ہے کہ جو محنت اولاد کےلئے ہوتی ہے وہ ماں باپ کےلئے نہےں روز مرہ زندگی مےں ہمےں کئی بوڑھے گندے کپڑوں اور چےتھڑوں مےں نظر آتے ہےں اور ناکافی لباس مےں جسم کی پوشےدگی قائم رکھنے سے بھی عاجز و قاصر دکھائی دےتے ہےں ان کے بال گردوغبار سے اٹے ہوئے اور ان کے بالوں کو تےل کنگھی سے آرائش کئے کافی عرصہ بےت چکا ہوتا ہے اےسی خبرےں بھی مےرے ناظرےن کی نظروں سے گزری ہوں گی کہ اےک بےٹے نے باپ کی زرعی زمےن اپنے نام ٹرانسفر کرانے کے بعد باپ کو اس کے اپنے ملکےتی گھر سے ہی نکال باہر کےا ان بدقسمت انسانوں کی اےسی لرزا دےنے والی کہانےاں ہمارے لئے اور سماج کےلئے بھی باعث شرم ہےں ےہ بوڑھے چارپائی پر حےات و زےست کی کشمکش مےں مبتلا ہوتے ہےں تو ان کی زےادہ نگہداشت اور خبر رکھنے کی بجائے ان کو تنہا کر دےا جاتا ہے جب گھر مےں کوئی مہمان ،رشتہ دار ےا عزےز آتا ہے تو اےسا ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بوڑھے کی بہت زےادہ دےکھ بھال کی جا رہی ہے حالانکہ حقےقت اس کے برعکس ہوتی ہے اس بے چارے کو تو دو وقت کے کھانے سے بھی محروم رکھا جا رہا ہوتا ہے بوڑھے لوگوں کے مسائل مےں سب سے بڑا مسئلہ تنہائی کا کرب ہے جس سے وہ ڈپرےشن کا شکار ہو جاتے ہےں اےک سروے کے مطابق وطن عزےز مےں لاکھوں مزدور ، رےٹائر منٹ کے بعد اپنا بڑھاپا کسمپرسی مےں گزار رہے ہےں جہاں بوڑھوں سے گھروں مےں تضحےک آمےز سلوک ہوتا ہے وہاں معاشرے مےں بھی ان کو عزت و احترام نہےں دےا جاتا ےہ انفٹ بوڑھے آپ کو بےنکوں ،ہسپتالوں ،کچہرےوں اور دےگر پبلک مقامات پر خوار ہوتے دکھائی دےں گے ےہ بزرگ تو اب سماج مےں اپنی بہوءوں کے تابع ےوٹےلٹی بلوں کی ادائےگی کےلئے وقف ہےں ۔ دنےا کے ترقی ےافتہ شہرےوں کو سٹےزن الاءونس ،ہر قسم کے علاج معالجے کی سہولت مفت اور بزرگ شہرےوں کی قےام گاہ مےں پناہ دی جاتی ہے لےکن ان کےلئے عزےزوں کی جدائی سوہان روح رہتی ہے وہ اپنے بےٹوں ،بےٹےوں ،پوتے، پوتےوں اور نواسے ،نواسےوں کی فوٹو اپنے مےز پر سجائے حسرت بھری نظروں سے سارا سال اس آس مےں گزار دےتے ہےں کہ کب بزرگ شہرےوں کا دن آئے اور ان کے عزےزواقارب ان کےلئے تحفے تحاءف ےا کم از کم پھولوں کا گلدستہ لا کر انہےں پےش کرےں وطن عزےز مےں کبھی کبھار مختلف سطحوں پر مختلف طبقوں کے حقوق کی صدائے بازگشت سنائی دےتی ہے لےکن ےہ موہوم اور نحےف صدا صرف صدا تک محدود رہتی ہے اور کوئی عملی اقدام اٹھانے سے قبل ہی راستے مےں دم توڑ دےتی ہے معاشرے کا ہر فرد زبانی تو اس کا اعتراف کرتا ہے کہ بوڑھے ہماری متاع بے بہا ہےں لےکن عملی طور پر انہےں نظر انداز کےا جاتا ہے ۔ حکومت بھی اگر ان کی مدد کی خواہاں ہے تو انہےں فری طبی سہولتےں دےنے کا اہتمام کرے سرکاری ہسپتالوں مےں بزرگوں کی امراض کے ماہر ڈاکٹر تعےنات کرے ان معمر شہرےوں کو بس،رےل اور ہوائی جہاز سے سفر کےلئے کم از کم پچاس فےصد کراےہ مےں رعاےت دے بزرگ پنشنرز جن کی عمر ستر سال ےا اس سے زائد ہے ان کو ان کے موجودہ ہم عصر پےنشنرز کی پنشن کے مساوی پنشن دے بے سہارا بزرگ شہرےوں کےلئے سنئےر سٹےزنز ہومز قائم کرے جہاں ان کو رہائش ،قےام ، طعام اور علاج معالجہ کی سہولت مےسر ہو اگر اےسا نہےں کےا جاتا تو چڑےا گھروں مےں بزرگوں کا فری داخلہ ان کے کسی کام نہ آےا ہے نہ آئے گا اس طرح تو وہ شاید چڑےا گھر کے مستقل رہائشی ہو جائےں گے اور رات کو بھی جانوروں کے پنجرے مےں قےام کرےں گے ۔ واجب الاحترام قارئےن اگر ہم ان بوڑھے لوگوں کا خےال نہےں کر پاتے تو اس کا حساب ہمےں دےنا ہو گا ۔ اےسے مجبور، بے بس اور مظلوم لوگوں سے محبت کرنا اور ان کی تکالےف کا ازالہ کرنا ہی روحانی و مذہبی اقدار کی پاسداری کرنا ہے اور ےہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ آج بوڑھے جس دور سے گزر رہے ہےں کل کو ہمےں بھی اس دور سے گزرنا ہے

وقت آخر راحےل نے کہا ےہ اپنے پسر سے

گزرے گا کبھی تو بھی اسی راہ گزر سے

لداخ میں چین کابھارت پر فوجی دباوَ

مقبوضہ کشمیر کی قانونی حیثیت تبدیل ہونے کے بعد خطے میں ایک نئی صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔ پاکستان کے ساتھ ساتھ ہمسایہ ملک چین نے بھی بڑی تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے ایک جموں و کشمیر اور دوسرا لداخ ۔ لداخ کو اپنا علیحدہ صوبہ یا ریاست بنانے کی وجہ سے بھارت اور چین کی کشیدگی میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے ۔ یہ علاقہ چین کے زیر کنٹرول اکسائی چن کے علاقے سے متصل ہے جہاں چینی فوجیں بڑی تعداد میں متعین ہیں ۔ اس علاقے میں بھارت اور چین کی فوجوں میں کئی مرتبہ جھڑپیں ہو چکی ہیں ۔ 1962 میں یہاں ایک بہت بڑی لڑائی ہوئی تھی جس میں چینی فوج نے بھارتی فوج کو سخت نقصان پہنچایا تھا ۔ موجودہ صورتحال میں چین نے لداخ میں بھارت پر فوجی دباوَ بڑھا دیا ہے ۔ چین کی جانب سے بھارتی فوج پر تواتر کے ساتھ حملے ہو رہے ہیں ۔ ریاست جموں کشمیر کے شمال مشرق میں واقع لداخ کا علاقہ مزید دو حصوں میں منقسم ہے ۔ ان میں سے ایک لہہ کہلاتا ہے اور دوسرا کارگل ۔ ضلع لہہ کی آبادی میں بدھ مت کے پیروکاروں کی اکثریت ہے جبکہ کارگل کی زیادہ تر آبادی مسلمان ہے ۔ لداخ جموں کشمیر کا وہی علاقہ ہے، جہاں ماضی میں بھارتی اور چینی دستوں کے مابین وقفے وقفے سے سرحدی جھڑپیں بھی ہوتی رہی ہیں ۔ گو کہ لداخ کے علیحدہ صوبہ بن جانے کے بعد یہاں کی بدھ آبادی نے خوشی کا اظہار کیا تھا لیکن اس کی یہ خوشی اب خوف اور خدشات میں بدل گئی ہے ۔ لداخ میں مقیم بدھ آبادی کو خدشہ ہے کہ بھارتی حکومت بھارت کے مختلف علاقوں سے ہندو آبادی کو لداخ اور لیہہ میں آباد کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے جس سے مقامی بدھ آبادی اور باہر سے آنے والوں میں کشیدگی بڑھنے کا امکان ہے ۔ اسی لئے لداخ کے بدھ لیڈروں نے خبر دار کیا ہے کہ وہ باہر سے آ کر لداخ کے علاقے میں آباد ہونے والوں کو تسلیم کریں گے نہ انھیں زمین خریدنے کی اجازت دیں گے ۔ مقبوضہ کشمیر بارے پیدا شدہ صورتحال نے پاکستان چین تعلقات کو مزید گہرا اور مضبوط کرنے میں مدد فراہم کی ہے ۔ اس وقت چین جموں و کشمیر میں لداخ کے بھارتی سرحدی علاقوں کو کاٹنے کی کوشش سمیت بھارت پر براہ راست فوجی دباوَ بڑ ھا رہا ہے ۔ لداخ میں چینی فوج کے بھارتی فورسز پر دھاوے مزید مستقل اور متواتر ہوگئے ہیں ۔ چینی فوجیوں کی بھارتی فوجیوں کیساتھ کئی بار لڑائی اور ہاتھا پائی ہوئی ہے ۔ بھارت دو نیوکلیئر ملکوں پاکستان اور چین میں منفرد انداز میں پھنس کر رہ گیا ہے ۔ دونوں ملک پاکستان اور چین ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر ی علاقے کے دعویدار ہیں ۔ بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 ختم کرنے اور لداخ کو مرکز کے زیر انتظام خطہ قرار دینے پر چین نے بھی اعتراض اٹھایا ہے جس کو انڈیا نے اپنا اندرونی معاملہ قرار دے کر رد کر دیا ہے ۔ چین کی وزارت خارجہ نے انڈین آئین کی شق 370 ختم کیے جانے اور جموں و کشمیر اور لداخ کو دو مرکزی خطوں میں تقسیم کیے جانے کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین اور بھارت کو ایسے ;39;یکطرفہ فیصلے;39; کرنے سے گریز کرنا چاہیے جن سے خطے میں کشیدگی پیدا ہو ۔ بھارت اور چین کے درمیان 3488 کلومیٹرلمبی سرحد تین خطوں میں منقسم ہے ۔ مشرقی سیکٹر ، وسطی سیکٹر اور مغربی سیکٹر ۔ مغربی سیکٹر میں جہاں لداخ واقع ہے یہ تنازع جانسن لائن پر ہے جو انگریز دور میں 1860 میں وضع کی گئی تھی ۔ بھارت اس لائن کو تسلیم کرتا ہے لیکن چین اسے سرحد نہیں تسلیم کرتا اور وہ لداخ کے موجودہ بھارتی خطے کے کئی علاقوں کا دعویدار ہے ۔ اکسائی چن کا علاقہ چین کے پاس ہے ۔ حالیہ برسوں میں چین کے فوجی کنٹرول لائن عبور کر کے کئی بار انڈیا کے زیر انتظام علاقے میں آئے ہیں ۔ کئی مرتبہ چین کے ہیلی کاپٹر بھی انڈین فضائی حدود میں پرواز کرتے ہوئے دیکھے گئے ہیں ۔ تنازع کو حل کرنے کےلئے بھارت اور چین کے درمیان برگیڈیئر سطح کے مذاکرات ہوئے جس میں کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا گیا ۔ 15 اگست 2015 کو بھی دونوں ممالک کی افواج کے درمیان اسی علاقے میں ایک بڑی جھڑپ ہوئی تھی جس میں لاتوں ، گھونسوں اور سریوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا تھا جس سے متعدد فوجی زخمی ہوگئے تھے ۔ ایک اطلاع کے مطابق بھارتی فوج اگلے ماہ ریاست ارونا چل پردیش میں بڑی فوجی مشقیں ’ہم وجے‘ کرے گی جس میں اپنی نئے فورس انٹی گریٹڈ بیٹل گروپس آئی بی جیز کی جنگی صلاحیتوں کی آزمائش کی جائے گی ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ان مشقوں میں 15 ہزار فوجی حصہ لیں گے جبکہ چین کو ان فوجی مشقوں سے باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا گیا ہے ۔ لداخ کے اس علاقے کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ سیاچن گلیشیئر کا مشہور اور اسٹریٹیجک حوالے سے انتہائی اہم علاقہ بھی اس خطے میں ہے، جسے عسکری ماہرین ;39;دنیا کا بلند ترین میدان جنگ‘ بھی کہتے ہیں ۔ اس گلیشیئر اور اس سے ملحقہ علاقے میں بھارت اور اس کے حریف ہمسایہ ملک پاکستان نے ہزاروں کی تعداد میں اپنے فوجی تعینات کر رکھے ہیں ۔ دنیا کا یہ بلند ترین میدان جنگ سطح سمندر سے 6,700 میٹر یا 22,000 فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور نئی دہلی اور اسلام آباد میں ملکی حکومتوں کے لیے یہ بات بھی اہم ہے کہ سیاچن گلیشیئر کے علاقے میں ان ممالک کے جتنے بھی فوجی ہلاک ہوئے ہیں ، ان میں انتہائی شدید نوعیت کے موسمی حالات کے باعث ہونے والی ہلاکتیں مسلح فوجی جھڑپوں میں ہونے والے جانی نقصانات سے زیادہ تھیں ۔

وزیراعظم عمران خان کا عزم۔۔۔ کرپشن فری پاکستان

کرپشن صرف پاکستان کا ہی نہیں بلکہ یہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے چاہے کوئی ملک ترقی یافتہ ہو یا پسماندہ اپنے اپنے حساب سے ہر جگہ کرپشن کا بازار گرم ہے ۔ اس کو کنٹرول کرنا ضروری ہے ۔ وزیراعظم عمران خان چونکہ خود کرپشن سے پاک ہیں اسی وجہ سے ان کی منزل بھی کرپشن سے پاک پاکستان ہے وہ اس حوالے سے چین سے متاثر ہیں کہ جیسے انہوں نے کرپٹ افراد کا صفایا کیا ہے اسی طرح انہوں نے بھی خواہش کا ظہار کیا کہ کاش میں 500 کرپٹ افراد کو جیل بھیج سکوں ۔ ہم اس سلسلے میں حکومت کی مکمل حمایت کرتے ہیں لیکن وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ کرپشن کیخلاف آپریشن حکومتی صفوں سے کریں تاکہ اپوزیشن کو بھی کوئی اعتراض نہ ہو ۔ وزیراعظم عمران خان نے بیجنگ میں عالمی تجارت کے فروغ کے لئے قائم چائنا کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ نے وزارتی سطح کے 400افرادکو سزائیں دیکر جیل بھجوایا کاش میں بھی پاکستان میں 500 کرپٹ لوگوں کو جیل بھیج سکتاہمارے نظام میں کرپشن روکنا ایک مشکل اور پیچیدہ عمل ہے لیکن حکومت اس پر کام کر رہی ہے پاکستان میں کرپشن ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کاری نہیں آتی جبکہ سرخ فیتہ کاروبار اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے پاکستان سرمایہ کاری کے لئے محفوظ ترین ملک ہے ہم ہاءوسنگ تیل کوئلے ٹیکسٹائل، آئی ٹی فنانس زراعت سیاحت کوئلے کی صنعت اور دیگر سیکٹرز میں چینی سرمایہ کاری کے خواہشمند ہیں چین کے ساتھ آزادانہ تجارت کا معاہدہ کرنے جا رہے ہیں ، راہداری منصوبے میں وزارتوں کا عمل دخل روکنے کیلئے سی پیک اتھارٹی قائم کی گئی ہے ۔ پہلے چین نے پاکستان سے سیکھا اب پاکستان چین سے سیکھ رہا ہے ۔ چین نے گزشتہ پانچ سال میں کرپشن کے خاتمہ کے لئے وزارتی سطح کے400 افراد کو سزائیں دے کر جیلوں میں ڈالا، ہم بھی بدعنوان افراد کے خلاف ایسی کارروائی کر نا چاہتے ہیں لیکن ہمارا نظام سست ہے، سرخ فیتے کی رکاوٹ بھی کرپشن کی وجہ سے ہوتی ہے امید ہے کہ آہستہ آہستہ صورتحال بہتر ہو جائے گی پاکستان میں کرپشن پر قابو پانے میں کچھ وقت لگے گاملک میں سرمایہ کاری نہ آنے کی سب سے بڑی وجہ کرپشن ہے اور چین کی کمیونسٹ پارٹی کی کامیابیوں سے سیکھ رہے ہیں ۔ قبل ازیں عمران خان کا عظیم عوامی ہال آمد پر چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ نے پرتپاک استقبال کیا عمران خان کے اعزاز میں باضابطہ استقبالیہ تقریب عظیم عوامی ہال میں منعقد ہوئی اس موقع پر دونوں وزرائے اعظم نے پر تپاک مصافحہ کیا اور بعد ازاں پاکستانی وفد کا چین کے وزیراعظم کے ساتھ تعارف کرایا گیا ۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے ترانے بھی بجائے گئے اور چین کی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے وزیراعظم کو سلامی پیش کی اور وزیراعظم عمران خان نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا ۔ بعدازاں دونوں رہنماءوں کے مابین گریٹ ہال میں تفصیلی دوطرفہ مذاکرات ہوئے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ سی پیک کے منصوبوں کی تیز رفتاری سے تکمیل ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ لی کی چیانگ نے علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کیلئے پاکستان کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا، انہوں نے سی پیک منصوبوں میں پیش رفت کے لیے اقدامات پر عمران خان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اقتصادی راہداری کا دوسرا مرحلہ پاکستان کی مستحکم معاشی ترقی کا اہم ذریعہ ثابت ہوگا اور پاکستان میں چینی سرمایہ کاری میں اضافہ کے لیے راہ ہموار کرے گا ۔ دونوں سربراہان حکومت کی ملاقات پر جاری اعلامیے کے مطابق دو طرفہ اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ۔ پاکستان اور چین کے درمیان سماجی و اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے مختلف معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر بھی دستخط ہوئے ۔ فریقین نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال اور انسانی بحران سمیت علاقائی سلامتی کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا ۔ دونوں رہنماوں نے کئی معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب میں بھی شرکت کی ۔ علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان سےمختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی چینی کمپنیوں کےسربراہان نے منگل کو یہاں علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں اور پاکستان میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ۔ وزیر اعظم سے ملاقاتیں کرنے والوں میں گژوبا گروپ کے چیئرمین لیوزی ژیانگ، لانگ مارچ ٹائر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر لی کنگ وین، اورینٹ ہولڈنگز گروپ لمیٹڈ کے بورڈ کے چیئرمین جیانگ ژومنگ اورمیٹلرجیکل گروپ کارپوریشن کے چیئرمین گاو وین کنگ شامل تھے ۔ دونوں وزرائے اعظم نے اپنے تعلقات کومزیدمستحکم بنانے اورمختلف سطحوں پر تبادلوں اور تذویراتی روابط کے قیام پراتفاق کیاہے ۔ دونوں فریقوں نے عوام کی فلاح وبہبود یقینی بنانے کے 27منصوبوں کے معاہدوں پردستخطوں کے لئے پاکستان میں آئندہ ماہ چین پاکستان راہداری کے بارے میں مشترکہ تعاون کی کمیٹی کا9واں اجلاس بلانے پربھی اتفاق کیا ۔ چین نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں غیرمتزلزل کوششوں اور عظیم قربانیوں کی تعریف کی اور دہشت گردی کے خلاف مہم میں پاکستان کی کوششوں کی حمایت کی ہے ۔ دونوں ممالک نے پاکستان اوربھارت کے درمیان تعلقات کے علاوہ افغانستان اورخلیج کے علاقے کی صورتحال پربھی تبادلہ خیال کیا ۔ جبکہ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے کمانڈر جنرل ہان ویگو اور سینٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین سے ملاقات کی جس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سمیت علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیاگیا جبکہ دوطرفہ دفاعی تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا، دونوں ملکوں کی فوجی قیادت نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاک بھارت جاری کشیدگی دور نہ ہونے سے خطے کے امن واستحکام پرسنگین نتاءج ہوں گے ۔ اس موقع پر آرمی چیف نے کہاکہ پاکستان امن چاہتا ہے لیکن قوم کے وقار اور اصولوں پر سمجھوتے کی قیمت پر نہیں بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنائے ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل قمرجاوید باجوہ کو پیپلز لبریشن آرمی کے ہیڈکوارٹرز کے دورہ کے موقع پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا ۔ چین کی فوجی قیادت نے کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف کو سراہا اور امن کے لیے پاکستان کے اقدامات کی تعریف کی ۔ آرمی چیف نے مسئلہ کشمیر پرامن حل نہ ہونے کی صورت میں کشمیر میں جاری صورتحال کے ممکنہ نتاءج سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کا احترام کرتے ہوئے کشمیر میں انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنانے کی ضرورت ہے ۔

برطانوی میگزین نے بھارتی مظالم کے پردے چاک کردئیے

بھارت کی ہٹ دھرمی قائم ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں مظالم ڈھارہا ہے لیکن بین الاقوامی برادری ابھی تک اس حوالے سے خاطر خواہ اقدامات اٹھانے سے قاصر ہے ۔ برطانوی میگزین نے بھارتی بربریت سے پردہ واشگاف کیا ہے ۔ اس پر صدر مملکت نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دی اکانومسٹ میں شاءع ہونے والے مضمون پرتبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ چند برسوں کے دوران تنازعہ کشمیر اوراقلیتوں کے مسائل کے حوالے سے بھارتی سپریم کورٹ کاریکارڈ انتہائی مایوس کن ہے کیونکہ وہ آئین سے انحراف کی پالیسی پرعمل پیراہے ۔ بھارتی سپریم کورٹ انتظامیہ ہی کاحصہ دکھائی دیتی ہے جو اس کے غیرمنصفانہ اقدامات میں تعاون کررہی ہے جس سے بھارتی مسلمانوں ،اقلیتوں اورکشمیریوں کوشدیدمایوسی ہوئی ہے ۔ بھارتی سپریم کورٹ کے ججو ں نے مختلف امور میں مداخلت تو کی تاہم اس نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے متعلق کئی امور پرشرمناک انداز میں خاموشی اختیار کی ۔ بھارت کی عدالت عظمیٰ نے مودی کی حکومت کو مقبوضہ وادی کاخصوصی درجہ ختم کرنے کے یکطرفہ اورغیرقانونی اقدام کے خلاف مختلف عرضداشتوں پرجواب داخل کرانے کےلئے ایک ماہ کا وقت دیاہے ۔ اس قسم کے حکم نامے کامطلب ہے کہ کشمیریوں کومزیدایک ماہ کےلئے بھارتی مظالم اورقیدوبندکی صعوبتیں برداشت کرناپڑیں گی اوراس دوران مظلوم کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق سے بھی محروم رکھاجائے گا ۔ مضمون میں نہ صرف مقبوضہ کشمیر کے زمینی حقائق کوبے نقاب کیاگیاہے بلکہ آسام اورکشمیر کے مسلمانوں کے خلاف بھارت کی سپریم کورٹ اورمودی کے اقدامات میں محاذآرائی ظاہر کیاگیاہے ۔ مقبوضہ کشمیرکی وادی اورجموں ریجن کے مسلم اکثریتی علاقوں میں آج بھی معمولات زندگی بری طرح متاثر ہیں جہاں جاری فوجی محاصرے اورمواصلاتی روابط کی بندش کے باعث رات گئے چھاپوں ، نوجوانوں کی گرفتاریوں اور کئی افرادکوشہید کئے جانے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں ۔ مقبوضہ وادی میں لوگوں کو ضروری اشیاء کی قلت کا سامنا ہے ۔ مواصلاتی روابط کی بندش کا مقصد جموں وکشمیر کے عوام کومشترکہ طورپرسزادیناہے اورماہرین کی جانب سے تحفظات کے اظہار کے باوجودبھارتی سپریم کورٹ نے اپنی آئینی ذمہ داری ادانہیں کی ۔ بھارت کی طرف سے کشمےر مےں مواصلاتی ذراءع کی معطلی سے کشمےرےوں کی روز مرہ کی زندگی اور فلاح وبہبود پر تباہ کن اثرات مرتب ہورہے ہےں ۔

پنجاب کابینہ کے خوش آئند فیصلے

صوبائی کابینہ پنجاب نے انتہائی اہمیت کے حامل اور بڑے فیصلے کیے ہیں جوکہ عوامی اہمیت کے حامل ہیں ۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کے فیصلوں کو انقلابی فیصلے کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔ سب سے پہلے بیروزگاری کا دور دورہ ہے ایسے میں گریڈ 14 تک ملازمتوں سے پابندی اٹھانا ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیر صدارت وزیراعلیٰ آفس میں صوبائی کابینہ کا اجلاس منعقدہوا،اجلاس میں پنجاب لوکل گورنمنٹ فنانس کمیشن کے قیام کا فیصلہ کیاگیا ۔ کابینہ نے پنجاب لوکل گورنمنٹ فنانس کمیشن کے قیام کی منظوری دی ۔ پنجاب لوکل گورنمنٹ کمےشن13ممبران پر مشتمل ہوگا ، سربراہ صوبائی وزےر خزانہ ہوں گے ۔ کمےشن صوبائی محاصل کی تقسےم کا فارمولہ وضع کرے گا ۔ پنجاب کابےنہ کے اجلاس میں گرےڈ 1سے 4تک کی منظور شدہ خالی آسامےوں کےلئے بھرتی پر پابندی اٹھانے کا فےصلہ کیاگیا ۔ وزیراعلیٰ نے محکموں کو اپنی ضرورےات کے مطابق گرےڈ1سے 4تک کی بھرتےوں کیلئے کےسز بھجوانے کی ہداےت کی ۔ وزےراعلیٰ کےس ٹو کےس جائزہ لے کر بھرتےوں کی منظوری دےں گے ۔ پنجاب کا بینہ نے سابق دور کی سستی روٹی اتھارٹی کو بند کرنے کا فیصلہ کیا اور سستی روٹی اتھارٹی بند کرنے کی منظوری دی ۔ اجلاس میں سستی روٹی سکےم مےں ہونے والی بے ضابطگےوں کا سپےشل آڈٹ کرانے کا فےصلہ کیاگیا ۔ سپےشل آڈٹ کی رپورٹ کی روشنی مےں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی ۔ کابےنہ کے اجلاس کو انسداد ڈینگی کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے بارے مےں تفصےلی برےفنگ دی گئی ۔ اجلاس میں پنجاب بارڈر ملٹری پولیس اور بلوچ لیویز سروس رولز 2009 میں ترامیم کی منظوری دی گئی ۔ کابینہ نے راولپنڈی میں یونیورسٹی ;200;ف ٹیکنالوجی کے قےام کا فےصلہ کیا اور اس ضمن میں ڈرافٹ بل 2019 کی منظوری دی ۔ وزےراعلیٰ نے وزراء کو اپنے اضلاع مےں کھلی کچہرےاں لگانے کی ہداےت کرتے ہوئے کہاکہ صوبائی وزراء پرائس کنٹرول کے لئے فےلڈ مےں نکلےں اورعوام کو رےلےف دےں ۔

رافیل جشن میں پاکستان کی 27فروری کی فتح کی گونج

27 فروری 2019ء کا دن بھارت کیلئے ایک ڈراوَنا خواب کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اسی دن پاکستان نے بھارت کا غرور خاک میں ملاتے ہوئے اپنی طاقت کا لوہا پوری دنیا میں منوایا جس کے بعد بھارت سکتے میں آگیا اور اسے اپنی اوقات کا اچھی طرح اندازہ بھی ہو گیا،جنگ جنگ کا راگ الاپنے والا بکاوَ بھارتی میڈیا بھی ہندوستانی فوج کی اصلیت جان کر ششدر رہ گیا مگر عادت سے مجبور اپنی ٹی آر پی برقرار رکھنے اور اسے مزید بڑھانے کیلئے زہراگلنے کیساتھ ساتھ جھوٹ بولتا رہا اور ابھی تک بول رہا ہے ۔ بھارت کی انتہا پسند عسکری و سول قیادت بھی ہندوستانی عوام کو مزید بیوقوف بنانے کیلئے چھوٹی موٹی گیدڑ بھبکیاں مارتے اور مسلسل بھارتی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں ۔ 8اکتوبر 2019ء کو ایک بار پھر 27فروری کی فتح کی گونج بھارت سمیت فرانس میں بھی سنائی دی ۔ ہندوستان میں 8اکتوبر2019کو 87واں فضائیہ کا دن منایا گیا اور ائیر بیس اسٹیشن ہنڈن غازی آباد میں پریڈ کا اہتمام کیا گیا حالانکہ ہندوستان 1947کو آزاد ہوا مگر ہندوستانی فضائیہ کا دن 87واں منایا گیا جو کہ ایک مضحکہ خیز ہے ۔ بھارت اس کی کچھ بھی دلیل دے مگر انگریز دور میں قائم ہر چیز انگریز کی ہی تھی خاص کر دفاع سے متعلق تمام اقدامات ۔ بھارت میں 8اکتوبر کوہی دسیرے کا تہوار منایا جاتا ہے جس کی ایک ہندو تاریخ ہے ،یہ تہوار من گھڑت ہے یا نہیں اس بحث میں وقت ضائع کیے بغیر میں اپنا موضوع جاری رکھوں گا ۔ 31جنوری 2012ء کو بھارتی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ فرانس کی لڑاکا جہاز بنانے والی کمپنی ڈسالٹ نے سے سے کم قیمت ٹینڈر بھرا ہے جس کو ہم نے قبول کرتے ہوئے فرانس سے 126لڑاکا طیارے خریدنے کا فیصلہ کیا ۔ معاہدے کے مطابق فرانس نے 18لڑاکا رافیل طیارے تیار کر کے بھار ت کے حوالے کرنا تھے باقی 108رافیل طیارے فرانسیسی کمپنی نے بھارت کیساتھ ملکر تیار کرنا تھے اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کرنا تھی اس سارے معاہدے کا دورانیہ 40سال تھا ۔ اس وقت بھارت میں کانگریس کی حکومت تھی ۔ 2014ء کوبھارتی انتخابات کے نتیجے میں بی جے پی برسراقتدار میں آئی جس کے فوری بعد بھارتی وزیردفاع منوہر نے اعلان کیا کہ روس کے طیارے سخوئی کو رافیل کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کی مخالفت اس وقت کے بھارتی ائیر چیف مارشل اروپ نے کی ۔ فرانسیسی کمپنی ڈسالٹ اور بھارتی کمپنی ایچ اے ایل(ہندوستان ایروناٹیکس لمیٹڈ)کے مابین مارچ 2014ء کو کیا جانیوالا معاہدہ مارچ 2015ء کوختم کر دیا جاتا ہے ،اپریل 2015ء کو فرانس کے سرکاری دورے کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اعلان کیا کہ اب بھارت فرانس سے 36رافیل لڑاکا طیارے خریدے گا(واضح رہے کہ بھارتی حکمرانوں پر رافیل ڈیل میں کک بیکس لینے کا بھی الزام لگتا رہا اور یہ معاملہ بھارتی سپریم کورٹ تک بھی گیا تھا) ۔ جولائی 2015ء کو بھارتی وزیردفاع نے لوک سبھا کو بتایا کہ فرانس کیساتھ 126رافیل طیارے خریدنے کا معاہدہ ختم کر دیا ہے اب فرانس سے 36طیارے خریدے جائیں گے جن میں 26رافیل سنگل سیٹراور8ڈبل سیٹر رافیل طیارے شامل ہونگے ۔ جنوری 2016ء کو بھارت اور فرانس کے درمیان ایک میمورنڈم پر دستخط کیے جاتے ہیں اور پھر ستمبر 2016ء کو باقاعدہ معاہدہ طے پا جاتا ہے ۔ فرانس کیساتھ بھارت کا 30بلین ڈالر کا معاہدہ کم ہو کر صرف7;46;8بلین ڈالر پر آجاتا ہے ۔ فرانس نے بھارت کی ضروریات اور موسم کومدنظر رکھتے ہوئے رافیل طیارے میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں جس کے بعد پہلا رافیل طیارہ فرانس میں ہی 8اکتوبر 2019ء کوبھارت کے حوالے کیا گیا اور بھارتی حکومت نے رافیل طیارہ حوالگی کادن جان بوجھ کر دسیرے کادن رکھا کیونکہ اس کے پیچھے آر ایس ایس نظریہ ہے(اگر بھارت رافیل کی حوالگی کے اس دن کو فضائیہ کے نام سے بھی منسوب کرتا تووہ کونسا بھارت کا دن ہوتا) ۔ فرانس کے بوردو شہر میں ڈسالٹ ائیر بیس پربھارتی وزیردفاع کو جب رافیل طیارے کو ناریل چڑھاتے اور اسکے ٹائروں کے نیچے لیموں دیتے دیکھا تو مجھے 27فروری 2019کی گونج فرانس میں سنائی اور اسکا بھارت کو درد محسوس ہوا ۔ یہ سب کچھ بھارتی میڈیا لائیو دکھا رہا تھا ۔ بھارتی ائیرچیف مارشل نے بھارتی چینل سے بات کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ اس وقت برصغیر کی فضاوَوں پر پاکستان کا راج ہے لیکن رافیل بھارت کو ملنے کے بعد ہماری فضائی طاقت بہتر ہو جائیگی ۔ جب بھارتی ائیرچیف پاک فضائیہ کی برتری کو تسلیم کر رہے تھے تو مجھے پھر 27فروری کی پاک فتح کی گونج فرانس میں بھی سنائی دی ۔ کیسا دلوں کو گرما دینے والا منظر تھا جب بھارتی ائیر چیف فرانس کی زمین پر پاکستان کی فضائیہ کی برتری کو تسلیم کر رہا تھا ۔ بھارتی میڈیا جب رافیل کی خوبیاں بیان کر کر نہیں تھک رہا تھا اور کئی گھنٹوں پر محیط سپیشل ٹرانسمیشنز بھی رافیل کی خوبیان بیان کرنے میں کم محسوس کر رہا تھا تب بھی مجھے پاکستان کی فتح کی گونج بھارتی حدود اور فضاؤں سمیت پوری دنیا میں سنائی دی جیسے بھارتی میڈیا 27فروری سے پہلے بھارتی عوام کو بیوقوف بناتا آیا ہے اور جنگ کا ماحول پیدا کرکے بھارتی فضائیہ اور بھارتی فوج کو منہ کی کھلوانے میں اہم کردار ادا کیا ٹھیک اسی طرح بھارتی میڈیا ایک بار پھروہی شوروغل مچاتا دکھائی دیا ۔ اب انسے یہ سوال تو بنتا ہے کہ اگر آج بھارت کی فضائی طاقت میں کچھ اضافہ ہو رہا ہے تو پہلے بھارتی میڈیا کس طاقت کا ڈھول پیٹتا رہا اور اپنی عوام اور فوج کو بیوقوف بناکر آگ میں جھونکنے کیلئے کردار ادا کرتا رہا ۔ 8اکتوبر 2019کو پھر بھارتی میڈیا جھوٹ بول رہا تھا کہ 27فروری کو ایک ایف سولہ گرایا گیا ۔ خیر بھارتی میڈیا کا یہ وطیرہ ہے کہ وہ جھوٹ کو سربلند رکھتا ہے مگر دسیرے کے دن بھارتی میڈیا کا جھوٹ بولنا انکے مذہبی تہواروں پر بھی انگلیاں اٹھاتا ہے ۔ تھرڈ اور فورتھ جنریشن کے رافیل لڑاکا طیارے کوبھارتی میڈیا اس طرح پیش کر رہا تھا جیسے جہازوں نے خود ہی لڑنا ہو ۔ مجھے تو بھارتی میڈیا کے اس شور شرابے میں پاکستان کی 27فروری کی جیت کی گونج واضح سنائی دی ۔ بھارتی میڈیا جھوٹ پر جھوٹ بول کر لگتا ہے پھر کوئی رافیل گروائے گا کیونکہ جنگیں بغیر جذبے اور مہارت کے نہیں جیتی جاتیں اور ہاں جنگ جیتنے کیلئے پاک افواج کے جوانوں جیسے جوان بھی چاہئیں اس لیے بھارتی میڈیا اتنا ہی شور مچائے جتنا کل برداشت کر سکے ۔

پہلے سال چٹی، دوجے سال ہٹی ، تیجے سال کھٹی

بھولا کافی دنوں بعد ملنے آیا تھا اور اس کے چہرے پر معمول کی رونق نہیں تھی وہ کچھ مرجھایا ہوا ساتھا میں نے پوچھا بھولے کیا بات ہے تو کوئی جواب دئیے بغیر اس نے مجھ پر سوال کر دیا کہ آپ نے بزرگوں کی کہی ہوئی وہ مثال تو سن رکھی ہوگی ۔ میں نے کہا کونسی تو وہ گویا ہواکہ پہلے سال چٹی، دوجے سال ہٹی،تیجے سال کھٹی ۔ میں نے کہا ہاں یہ توبڑی مشہور مثال ہے پر تم مجھے کیوں سنا رہے ہو بھولا پھٹ پڑا اور کہنے لگا کہ تحریک انصاف نے کرپشن اور چوروں ، ڈاکووءوں کے خلاف نعرہ لگایا جس پر لوگوں نے اسے ووٹ دئیے ۔ اس امید پر کہ وہ حکومت میں آکر کرپشن کے خاتمے کے ساتھ ساتھ عوام کی فلاح و بہبود کےلئے کام کریں گے اور ملک میں خوشحالی آئے گی اور غریب کی حالت بہتر ہو گی مگر ایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ غریب کے لئے زندگی گزارنا مشکل ہورہا ہے ۔ ضروریات زندگی مہنگائی کے عروج پر ہیں ۔ بھولا روانی سے کہتا چلا جارہا تھا آٹا دال سے لے کر بجلی، تیل اور گیس سب مہنگے ہو رہے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے اور نہ جانے کہاں اور کب ختم ہو گا ۔ میں نے کہا مگر یہ مثال تم نے مجھے کیوں سنائی میں نے ذرا سخت لہجے میں بھولے کو کہا اس مثال کا حکومت کے ساتھ کیا تعلق واسطہ ہے تو اس نے جواب دیا کہ حکومت کے پہلے سال کو ہم چٹی سمجھ لیتے ہیں کہ حکومت نئی نئی آئی تھی اور ملک بھی مختلف بحرانوں کا شکار تھا تو ہم نے صبر کیا کہ چلواس سال امور حکومت ارباب اقتدارکو سمجھ میں آگئے ہوں گے ۔ اب دوسرے سال کو بھی شروع ہوئے چوتھا مہینہ ہے مگر حالات جوں کے توں ہیں اور بظاہر بھی حالات میں بہتری ہوتی نظر نہیں آتی ۔ حکومت نے اصلاح احوال کے لیے کئی نئے وزراء مقر ر کئے ، مشیروں کا تقرر عمل میں لایا گیا کئی اعلیٰ عہدیداروں کی تقرریاں کی گئیں اور ٹیکس بھی وصول کئے جارہے ہیں اور ملکی خزانے میں دیگر ذراءع سے ہونے والی آمدنی سے بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے تو حکومت کو چاہیے کہ وہ دوسرے سال کے دوران عوام کو قیمتوں میں کمی، روزگار کے مواقع اور بہتر حالات کی نوید سنائے جس کی عوام توقع کررہے ہیں ۔ بھولا کہتا چلاگیا کہ اب عوام کو کچھ ریلیف ملنا چاہیے تاکہ عوام کی بے چینی اور اضطراب میں کمی آئے یہ نہ ہو کہ وہی ڈھاک کے تین پات ہی نظر آئیں ۔ حکومت کو چاہیے کے مہنگائی پر کنٹرول کرے اور اپنے وعدوں کے مطابق بیروزگاری کم کرے ۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنی دانست میں ایک اچھی حکومتی ٹیم بنائی مگر یہ ٹیم بھی ڈلیور نہ کرسکی ۔ پارلیمنٹ کے باہر کچھ ماہرین بھی حکومت کا کچھ حصہ بنائے گئے، مگر حالات میں کوئی تبدیلی رونما نہ ہوئی ۔ مزے کی بات یہ ہے تاجر بھی حکومتی پالیسیوں سے ناخوش ہیں اور خریدار بھی اور یہاں تک کہ تاجروں کو منانے کے لیے آرمی چیف کو کردار ادا کرنا پڑا ۔ امیدپر دنیا قائم ہے کہ مصداق عوام امید کر رہے ہیں کہ حکومت ہنگامی بنیادوں پر عوام کی فلاح و بہبود اور بہتری کی کوششیں کرے گی اور آٹا، دال، چاول، بجلی،گیس اور پٹرول کے علاوہ دوسری روزمرہ استعمال کی قیمتوں پر کنٹرول کرے گی اور اپنے اقتدار کے دوسرے سال میں عوام کے سامنے سرخرو ہوگی ۔ جہاں تک تیسرے سال کا تعلق ہے تو یہ بہرحال عوامی امنگوں کے مطابق خوشحالی کا سال ہونا چاہیے اور عوام پر امید ہیں کہ حکومت انکی توقعات پر پورا اترے گی ۔ بھولا آج بڑے جذبات میں تھا گفتگو کا رخ بدلتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کے دھرنے پر بولنے لگا اس میں بھی وہ حکومت کو ذمہ دار سمجھتا ہے ۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر حکومت ابتداء میں ہی مولانا فضل الرحمن سے گفتگو کے ذریعے معاملات سیاسی طور پر حل کر لیتی تو دھرنے کی نوبت ہی نہ آتی ۔ خود وزیر اعظم عمران خان نے قومی اسمبلی کے ایک اجلاس میں کہا تھا کہ کسی کی بھی طرف سے اسلام آباد میں دھرنا دیا گیا توہم انہیں کنٹینر بھی فراہم کریں گے اور کھانا بھی کھلائیں گے اسپیکر نے یہ الفاظ کارروائی سے حذف نہیں کرائے تھے اور ریکارڈ پر موجود ہیں ۔ بھولا جذباتی ہوکر کہنے لگا حکومتی وزراء مولانا کے دھرنے پر طرح طرح کے بیانات دے رہے ہیں اور بعض تو دھمکی آمیز بھی ہیں جو کسی طرح قابل ستائش نہیں کہ طویل دھرنوں کا آغاز خود تحریک انصاف نے ہی کیا تھا تو اب اس پر اعتراض کیسا ۔ عمران خان کو چاہیے کہ وہ مولانا کو خود مذاکرات کی پیشکش کریں اور کوئی درمیانی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کریں ۔ یہ بجا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ ہمارا ازلی دشمن بھارت پاکستان دشمنی میں کوئی موقع ضائع نہیں کرتا اور کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کرکے کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہا ہے تو ہ میں آپس کے اختلافات کو تج کرکے اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسی ذی وقار اور محترم شخصیت کے ذریعے مولانا فضل الرحمن سے رابطہ کرائیں اور ان سے مصالحت کی کوشش کریں جو وقت کا تقاضا ہے ۔ دریں اثناء حکومت صرف مولانا فضل الرحمن ہی سے نہیں ، حزب اختلاف کے دوسرے سیاسی رہنماءوں کو بھی اعتماد میں لے ۔ نفرت جرم سے کریں ،انسان سے نہیں ، اگر بعض سیاستدانوں پر مقدمات چل رہے ہیں تو چلنے دیں عدالتیں جانیں اور وہ! آپ ان کے تجربے اور مہارت سے استفادہ کریں اور دنیا کو دکھا دیں کہ پوری قوم کشمیر سمیت ہر قومی مسئلہ پر متحد ہے اور یہ اتحاد پاکستان دشمنوں کی موت ہے ۔ مخالف سیاستدانوں میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو قومی معاملات کو عالمی سطح پر دیکھنے اور اس سے استفادہ کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ۔ یہ بجا کہ حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں اور اگر اس میں مخالف سیاستدانوں کو بھی شامل کر لیاجائے تو یہ یقینا ملکی وقومی مفاد میں ہوگا ۔

Google Analytics Alternative