انٹر ٹینمنٹ

پانچویں جماعت کی ہادیہ نے دنگ کردینے والے سر بکھیر دیے

پاکستانی میوزک انڈسٹری نے دنیا کو نصرت فتح علی خان، عابدہ پروین اور غلام فرید صابری جیسے ہیرے دیے جن کی آواز دنیا کے ہر کونے میں سنی اور پسند کی جاتی ہے۔

اور اب اس ہی میوزک انڈسٹری کے ذریعے ایک ایسی بچی سامنے آئی ہے، جس کی آواز کے سحر میں لوگ مبتلا ہورہے ہیں۔

8 سالہ ہادیہ اس وقت انٹرنیٹ کی دنیا میں خوب وائرل ہورہی ہے، جس کا گانا ’بول ہو‘ حال ہی میں سامنے آیا۔

یہ گانا نیس کیفے بیسمنٹ کے سیزن 5 میں سامنے آیا، جس کا آغاز گزشتہ ہفتے ہی ہوا ہے۔

اس سیزن کا پہلا گانا ’بول ہو‘ پاکستانی میوزک بینڈ سوچ کا گانا ہے، جسے اس سیزن میں ہادیہ ہاشمی اور سوچ بینڈ کے گلوکار عدنان نے گایا۔

ہادیہ ہاشمی 5ویں جماعت کی طالبہ ہیں، جو پہلی بار نیس کیفے بیسمنٹ کا حصہ بنیں۔

نیس کیفے بیسمنٹ کی پروڈکشن ذالفقار جبار خان (ذلفی) کررہے ہیں۔

ننھی ہادیہ کے حوالے سے ذلفی نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ ’2018 فروری میں میری ملاقات ہادیہ سے میوزک اکیڈمی میں ہوئی، جہاں میں نے ان کا اوڈیشن کیا، اس بچی نے مجھے دلا دیا، اس روز میں نے فیصلہ کیا تھا کہ ایک دن پوری دنیا اس بچی کے ٹیلنٹ کی گواہی دے گی‘۔

سوشل میڈیا پر صارفین اس بچی کی آواز کو جادو قرار دے رہے ہیں۔

اداکار علی رحمٰن خان کا کہنا تھا کہ ’ہادیہ ہاشمی کا نام دنیا طویل عرصے تک یاد رکھے گی‘۔

ان کا کہنا تھا ’اس بچی کی آواز ناقابل یقین ہے‘۔

یہ بھی ہادیہ کی آواز کے دیوانے بن گئے۔

انہوں نے کہا کہ یہ 8 سالہ بچی قوم کو اپنی آواز سے جگا رہی ہے۔

ان کے مطابق یہ بچی بہترین ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہادیہ کا ٹیلنٹ بہترین ہے۔

’بول ہو‘ کے ساتھ ساتھ نیس کیفے بیسمنٹ کا دوسرا گانا ’محبوبہ‘ بھی ریلیز ہوا۔

اس گانے کو بھی انٹرنیٹ پر خوب پسند کیا جارہا ہے۔

کنگ خان کا ’کافی ود کرن شو‘ کا حصہ بننے سے انکار

ممبئی: بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان نے بالی ووڈ کے مایہ نازپروڈیوسرکرن جوہر کے مشہور پروگرام ’کافی ود کرن‘ کا حصہ بننے سے انکارکردیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بالی ووڈ کے کنگ شاہ رخ جوپروڈیوسرکرن جوہرکے مشہورومعروف پروگرام ’کافی ود کرن‘ کے ہرسیزن کا حصہ بنتے تھے اور پھر اپنی کسی نہ کسی بات اورانکشاف سے خبروں کی زینت بھی بنے رہتے تھے، اس بار انہوں نے شو کا حصہ بننے سے انکار کردیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق شاہ رخ کا شو کا حصہ نہ بننے کی دو وجوہات ہیں۔ اداکارلگاتارفلاپ فلمیں دینے کے بعد اب نہیں چاہتے ہیں کہ وہ شو کا حصہ بنیں اورکسی بھی تنازعہ کا شکار ہوجائیں، وہ چاہتے ہیں وہ بس اب اپنے کرئیرپرتوجہ دیں اور آنے والی فلموں کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں۔

دوسری جانب شاہ رخ خان اس لیے بھی کافی ود کرن کا حصہ بننا نہیں چاہتے کیونکہ ان کے اورشو کے میزبان کرن جوہر کے درمیان کچھ باتوں پررسہ کشی چل رہی ہے اورمیڈیا رپورٹس کے مطابق وہ دونوں ہی نہیں چاہتے کہ معاملہ حل ہو۔

پاکستان میں پہلی بار انٹرنیشنل ٹرانس جینڈر فلم فیسٹیول کے انعقاد کا فیصلہ

لاہور: خواجہ سراؤں کے حقوق اور تعلیم وتربیت کے لیے کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیم ڈی جینڈرگارڈین نے پاکستان میں پہلی بار خواجہ سراؤں کے حقوق، ان کے مسائل اورمشکلات پر بنائی گئی ملکی اورغیرملکی مختصردورانیہ کی فلموں کی نمائش کا فیصلہ کیا ہے۔

انٹرنیشنل ٹرانس جینڈرفلم فیسٹیول کا انعقاد رواں سال جون میں لاہور کے الحمرا ہال میں ہوگا، ڈی ٹرانس جینڈر کے سربراہ آصف شہزاد نے اس بارے میں بتایا کہ ٹرانس جینڈرفلم فیسٹیول کے لیے دنیا بھرسے انٹریز منگوائی گئی ہیں، فلم فیسٹول میں خواجہ سراؤں کے حقوق، ان کے مسائل، مشکلات اور مختلف شعبوں میں ان کی کامیابیوں کے موضوع پر بنائی گئی شارٹ ڈاکومنٹریز اور فلمیں شامل کی جائیں گی۔

آصف شہزاد نے بتایا کہ پاکستان میں پہلی بار اس موضوع پر فلموں کی نمائش کی جائے گی جس کا مقصد خواجہ سراؤں کو زندگی گزارنے اورکامیابیوں کے لیے نئی راہیں دکھانا ہے تاکہ یہ لوگ بھی معاشرے میں اپنا مثبت کردار اداکرسکیں، ٹرانس جینڈرز کے حوالے سے بنائی گئیں فلمیں 7 منٹ اور 15 منٹ دورانیے پر مبنی ہوں گی، جنہیں فیسٹیول میں شامل کیا جاسکے گا۔

ٹرانس جینڈر فلم فیسٹیول کے لئے دی جینڈر گارڈین میں زیرتعلیم خواجہ سراؤں پر بھی ایک فلم بنائی جارہی ہے، مختصردورانیے کی یہ فلم دی ٹرانس جینڈرگارڈین کی ٹیم تیار کررہی ہے ، اس فلم میں لاہورمیں موجود خواجہ سراؤں کے ساتھ پیش آنے والے بعض سچے واقعات کو بھی فلمایا گیا ہے، آصف شہزادکے مطابق کچھ عرصہ قبل ایک خواجہ سرا کو سرکاری اسپتال کی ایک فی میل ڈاکٹرنے یہ کہہ کرعلاج نہیں کیا تھا کہ خواجہ سرا میل ہے۔ خواجہ سراؤں کوسرکاری دستاویزات کے حصول ، وراثتی جائیداد، جنسی ہراسانی ، خاندان کا غیرامتیازی سلوک ، تعلیمی اداروں میں پیش آنیوالی مشکلات مختصردورانیہ کی ان فلموں کا موضوع ہوگا۔

منتظمین کے مطابق ان کی کوشش ہے کہ اس فیسٹول میں ہمسایہ ملک بھارت میں بنائی گئی فلمیں بھی شامل کی جاسکیں کیونکہ بھارت میں خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے کافی کام ہوا ہے اوروہاں ان سے متعلق موضوعات پربہت زیادہ فلمیں بھی بن چکی ہیں، سات منٹ دورانیے کی ونرفلم کو 50 ہزار روپے جبکہ 15 منٹ دورانیہ کی فلم کو ایک لاکھ روپے اور سرٹیفکیٹ دیا جائے گا، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ فیسٹول کے لئے فلموں کی انٹریز مئی کے آخر تک جمع کروائی جاسکیں جس کے بعد جون کے وسط میں ان فلموں کی نمائش ہوگی، فیسٹیول میں ماہر فلم سازوں کو مدعو کیا جائے گا جو فلم کے موضوع سمیت تکنیکی مہارتوں کو دیکھتے ہوئے فلم کو سلیکٹ کریں گے۔

‘شہزادی ڈیانا اپنے محبوب کے ساتھ پاکستان منتقل ہونا چاہتی تھیں’

بہترین شخصیت کی مالک شہزادی ڈیانا کو اس جہان فانی سے رخصت ہوئے 21 برس ہوچکے ہیں مگر ان کی زندگی کے ایسے گوشوں مسلسل سامنے آتے رہتے ہیں، جن کا علم بہت کم افراد کو ہوتا ہے۔

گزشتہ دنوں برطانوی روزنامے ایکسپریس نے اپنی ایک رپورٹ میں آنجہانی پرنسز آف ویلز کی ایک قریبی دوست کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ شہزادی ڈیانا ایک پاکستانی کی محبت میں گرفتار اور پاکستان ہی منتقل ہوجانے کے لیے تیار تھیں۔

رپورٹ میں شیزادہ ڈیانا کی قریبی دوست اور موجودہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ خان کے 2013 کو ونیٹی فیئر کو دیئے گئے ایک انٹرویو کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا گیا۔

جمائمہ خان نے اس انٹرویو میں بتایا کہ شہزادی ڈیانا پاکستانی ڈاکٹر حسنات خان سے شادی کرنا چاہتی تھیں اور برطانیہ چھوڑنے کر پاکستان بسنے کے لیے تیار تھیں۔

فروری 1996 میں لاہور میں ایک تقریب کی تصویر — اے ایف پی فوٹو
فروری 1996 میں لاہور میں ایک تقریب کی تصویر — اے ایف پی فوٹو

ڈاکٹر حسنات خان اس زمانے میں برطانیہ میں ہارٹ سرجن کے طور پر کام کررہے تھے اور لیڈی ڈیانا کے دیگر معاشقوں کے برعکس پاکستانی نژاد ڈاکٹر سے ان کے تعلق کو زیادہ پبلسٹی نہیں ملی۔

جمائمہ خان نے انٹرویو میں کہا ‘ڈیانا حسنات خان کی محبت میں پاگل اور شادی کرنا چاہتی تھیں، یہاں تک کہ پاکستان میں رہنے کے لیے بھی تیار تھیں، اور یہ بھی ان وجوہات میں سے ایک ہے جو ہم دوست بنے’۔

ان کا مزید کہنا تھا ‘ ڈیانا مجھ سے جاننا چاہتی تھیں کہ پاکستان میں زندگی گزارنا میرے لیے کس حد تک مشکل ثابت ہوئی’۔

خیال رہے کہ جمائمہ خان نے عمران خان سے شادی کے بعد پاکستان میں رہائش اختیار کرلی تھی۔

22 فروری 1996 کی اس تصویر میں عمران خان لیڈی ڈیانا کے ساتھ شوکت خانم کینسر ہسپتال لاہور کا دورہ کر رہے ہیں — اے پی فوٹو
22 فروری 1996 کی اس تصویر میں عمران خان لیڈی ڈیانا کے ساتھ شوکت خانم کینسر ہسپتال لاہور کا دورہ کر رہے ہیں — اے پی فوٹو

جمائمہ خان کے مطابق پرنسز آف ویلز نے 2 بار پاکستان کا دورہ کرکے یہاں مستقل رہائش کے لیے ان سے مشورہ کیا ‘ڈیانا پاکستان میں عمران خان کے ہسپتال کے لیے فنڈز جمع کرنے میں مدد کے لیے آئی تھیں، مگر دونوں بار وہ چھپ کر ان کے خاندان سے بھی ملیں تاکہ حسنات سے شادی کے امکانات پر بات کرسکیں’۔

ونیٹی فیئر کے لیے کام کرنے والی سارہ ایلیسین نے دعویٰ کیا ‘شہزادی ڈیانا کا تعلق 1995 سے 1997 تک ڈاکٹر حسنات خان سے رہا، یہ جوڑا شادی کرنا چاہتا تھا، مگر ڈاکٹر کی والدہ نے اس کی اجازت نہیں دی۔ شہزادی نے اپنے دوستوں کو بتایا کہ وہ حسنات سے شادی کے بعد ایک بیٹی کی خواہشمند ہیں’۔

شہزادی ڈیانا حسنات کے خاندان کے بارے میں جاننا چاہتی تھیں خصوصاً ان کی والدہ کی منظوری حاصل کرنا چاہتی تھیں۔

فوٹو بشکریہ ڈیلی مرر
فوٹو بشکریہ ڈیلی مرر

جمائمہ نے اس حوالے سے بتایا ‘اپنے بیٹے کی کسی انگلش لڑکی شادی ہر قدامت پسند پشتون ماں کے لیے بھیانک خواب ہے، آپ اپنے بیٹے کو تعلیم کے لیے برطانیہ بھیجتے ہیں اور وہ اپنے ساتھ ایک انگلش دلہن لے آتا ہے، جو کہ خوفزدہ کردیتا تھا´۔

رپورٹ میں شہزادی ڈیانا کے کچھ دوستوں کے حوالے سے کہا گیا کہ حسنات کی جانب سے شادی سے انکار پر پرنسز آف ویلز دلبرداشتہ ہوگئی تھیں، اس بارے میں جمائمہ خان نے بتایا ‘ڈاکٹر حسنات اس بات سے نفرت کرتے تھے کہ اس شادی کے بعد ان کی پوری زندگی پبلسٹی کی زد میں رہے گی’۔

اپنی موت سے قبل شہزادی ڈیانا نے اپنے ایک دوست کو بتایا ‘ہر ایک نے مجھے فروخت کیا، حسنات واحد شخص ہیں جس نے مجھے کبھی فروخت نہیں کیا’۔

ڈاکٹر حسنات سے تعلق ختم ہونے پر لیڈی ڈیانا نے دودی الفائید سے نیا تعلق شروع کیا۔

خیال رہے کہ 19 جولائی 1981 کو لیڈی ڈیانا کی شادی شہزادہ چارلس سے ہوئی جسے دنیا بھر کے میڈیا نے دکھایا اور دو بچوں کی پیدائش بھی ہوئی۔

دو بچوں کی پیدائش کے بعد شہزادہ چارلس کی سرد مہری سے لیڈی ڈیانا کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی اور شادی کے مقدس بندھن میں دراڑ پیدا ہونے لگی۔

20 دسمبر 1995 میں شہزادی ڈیانا اور ان کے شوہر شہزادہ چارلس کے درمیان علیحدگی ہوگئی۔

کپل شرما کے تیسرے استقبالیے کی شاندار تقریب

نئی دہلی: بھارتی کامیڈین کپل شرما کے تیسرے استقبالیے کی شاندار تقریب گزشتہ روز منعقد کی گئی جس کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہیں۔

گزشتہ برس دسمبر میں شادی کے بندھن میں بندھنے والے بھارتی ٹی وی کے مزاحیہ اداکار کپل شرما اورگینی چھاتراتھ کے تیسرے استقبالیے کی تقریب گزشتہ روز دہلی میں منعقد کی گئی۔

کپل نے اپنی اور گینی چھاتراتھ کے استقبالیے کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی اور تمام لوگوں سے اپنی شادی شدہ زندگی کے لیے دعا کی درخواست کی۔ استقبالیے کی تقریب میں کپل نیوی بلیو اچکن میں کسی راجکمار سے کم نہیں لگ رہے تھے  جب کہ ان کی اہلیہ بھی نیوی بلیو انار کلی میں بہت خوبصورت نظر آئیں۔

کپل کے استقبالیے میں معروف گلوکار میکا سنگھ، سہیل خان، بھارتی کرکٹر سریش رائنا اور بھارت میں تعینات فرانسیسی سفیر الیگزینڈر زیگلر سمیت متعدد افراد نے شرکت کی۔

کپل کے استقبالیے کی ویڈیوز وائرل ہورہی ہیں جن میں وہ ڈرم بجاتے ہوئے اور اداکار سہیل خان کے ساتھ رقص کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس 12 دسمبر کو شادی کے بندھن میں بندھنے والے کامیڈین کپل شرما کے پہلے استقبالیے کی تقریب شادی کے دوروز بعد 14 دسمبر کو امرتسر میں منعقد کی گئی تھی جس میں گھروالوں اورقریبی رشتے داروں نے شرکت کی تھی۔

جب کہ دوسرے استقبالیے کی تقریب 24 دسمبر کو ممبئی میں منعقد کی گئی جس میں رنویر سنگھ ، دپیکا پڈوکون، انیل کپور، ریکھا سمیت متعدد بالی ووڈ فنکاروں نے شرکت کی تھی۔

اوپرا سنگر سائرہ پیٹر کا ملکہ ترنم نور جہاں کو ٹریبیوٹ

پاکستان کی پہلی اوپرا سنگر سائرہ پیٹر نے خواجہ خورشید انور کی دھن ‘ ونجلی والڑیا ‘ کو نئے انداز میں گا کر ریلیز کردیا۔

پاکستان کی پہلی اوپرا سنگر سائرہ پیٹر نے  نامور موسیقار خواجہ خورشید انور اور ملکہ ترنم نورجہاں کو  شان دار ٹرہبوٹ پیش کرتے ہوئے ماضی کی دل چھولینے والی موسیقی کی یادیں تازہ کردیں۔ سائرہ پیٹر نے پاکستانی فلمی موسیقی کو زندہ کرنے کا عزم کیا ہے۔

اس سلسلے میں انہوں نے پہلے روبن گھوش کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا  اور اب خواجہ خورشید انور کے سپر ہٹ گیت ونجلی والڑیا، اپنی آواز میں گا کر 70 کے فلمی دور کی حسین یادوں کو تازہ کردیا۔ یہ نغمہ مشہور فلم ہیررانجھا میں ماضی کی سپر اسٹار فردوس اور اعجاز پر فلمایا گیا تھا ۔

سائرہ پیٹر نے لندن سے کہ مجھے پاکستانی فلمی موسیقی سے  بہت زیادہ لگاو ہے ۔اسی لیے اپنے عظیم موسیقار وں کو خراج تحسین پیش کررہی ہوں، جلد پاکستان آکر نئے سال کا نیا البم ریلیز کروں گی۔

کرینہ کپور بھی ’’دبنگ 3‘‘ کا حصہ بن گئیں

ممبئی:  نامور بالی ووڈ اداکارہ کرینہ کپور سلمان خان کی سپر ہٹ سیریز ’’دبنگ3‘‘ کا حصہ بن گئیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق دبنگ سیریز کی دوسری فلم’’دبنگ2‘‘میں اسپیشل نمبر کرنے والی اداکارہ کرینہ کپور نے حال ہی میں دبنگ سیریز کے پروڈیوسر ارباز خان سے سیریز کی تیسری فلم’’دبنگ 3‘‘کا حصہ بننے کے حوالے سے ملاقات کی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سیریز کی دوسری فلم کی طرح کرینہ تیسری فلم میں بھی اسپیشل آئٹم نمبر پر رقص کریں گی۔ جب کہ اس گانے کی کوریوگرافی نامور کوریوگرافر پربھو دیوا کریں گے۔

فلم’’دبنگ‘‘اور’’دبنگ2‘‘ کی طرح سیریز کی تیسری فلم میں بھی سلمان خان اور سوناکشی سنہا مرکزی کردار اداکریں گے جب کہ دیگر کاسٹ میں اشوامی مانجریکر بھی شامل ہیں فلم کی شوٹنگ رواں سال مارچ میں شروع کی جائے گی تاہم فلم کی ریلیز کی تاریخ کا اعلان  تاحال نہیں کیاگیا ہے۔

نئے پوسٹر کے ساتھ ’لال کبوتر‘ کی ریلیز تاریخ کا اعلان

کراچی کی صورتحال کے گرد گھومتی کہانی پر بنائی گئی ایکشن کامیڈی فلم ’لال کبوتر‘ کا نیا پوسٹر ریلیز کردیا گیا، جس کے ساتھ فلم کی ریلیز تاریخ کا بھی اعلان کردیا گیا ہے۔

فلم کے نئے پوسٹر میں مرکزی کردار احمد علی اکبر اور منشا پاشا کو پیش کیا گیا۔

یہ فلم کا دوسرا پوسٹر ہے، جسے دیکھ کر اندازہ ہورہا ہے کہ فلم کی کہانی پراثرار ہوگی۔

اس فلم کی پروڈکشن کامل اور ہانیہ چیما کی پروڈکشن کمپنی نہر گھر کے بینر تلے کی جارہی ہے۔

خیال رہے کہ اس فلم کے حوالے سے منشا پاشا کا ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ ’فلم لال کبوتر کی کہانی ایک ایسی لڑکی پر ہے جو اپنی زندگی میں ایک مسائل سے گزرتی ہے اور پھر اس سے کیسے خود کو بچاتی ہے‘۔

اس فلم میں علی کاظمی بھی اہم کردار نبھارہے ہیں، جنہوں نے اپنے انٹرویو میں بتایا تھا کہ ’میں فلم میں ایک صحافی کا کردار ادا کررہا ہوں، ایک بہت سمجھدار شخص، اسے فارغ وقت میں اپنے کام کی باتیں کرنا پسند نہیں، اور وہ اپنی بیوی سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے’۔

یاد رہے کہ اس فلم کا پہلا ٹیزر گزشتہ سال دسمبر میں ریلیز ہوا تھا۔

فلم ساز کمال خان کی ’لال کبوتر‘ کے ایک منٹ دورانیے کے ٹیزر میں کراچی کے مناظر کو دکھایا گیا ہے، تاہم ٹیزر میں صرف ایک ہی ڈائیلاگ دے کر کمال کیا گیا۔

’لال کبوتر‘ رواں سال 22 مارچ کو سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔

Google Analytics Alternative