انٹر ٹینمنٹ

فلم ’گواہ رہنا‘ پاکستان اور ترکی میں بیک وقت ریلیز ہوگی

کراچی: تحریک خلافت کے گمنام ہیروز پر بننے والی فلم گواہ رہنا پاکستان اور ترکی میں بیک وقت نمائش کے لیے پیش کی جائے گی،فلم میں اداکارقوی خان اہم کرداراداکریں گے۔

کراچی پریس کلب میں فلم گواہ رہنا کے ڈائریکٹرطاہرمحمود اداکارقوی خان سمیت دیگراداکاروں کی جانب مشترکہ پریس کانفرنس منعقد کی گئی، فلم کے ڈائریکٹر کا کہناتھا کہ فلم کی کہانی آج سے ایک صدی قبل سن 1920پر مبنی ہے،جس وقت ترک برطانوی راج کے خلاف جدوجہد کررہے تھے، فلم میں تحریک خلافت کےگمنام ہیروز کے بے مثال کردار کو اجاگر کیا جائےگا،جبکہ فلم پنجاب کی ثقافت کو بھی فلم کا حصہ ہے،پاکستانی فلم گواہ رہنا کی شوٹنگ کا آغاز اکتوبر سے ہو رہا ہے جبکہ فلم اگلے برس مارچ 2020 میں پاکستان اور ترکی میں بیک وقت ریلیز کی جائے گی۔

فلم کے ڈائریکٹر کے مطابق کاسٹیوم فلم ہونے کی وجہ سے اس دورکے ملبوسات کے حوالے سےکافی تیاری کی گئی ہے،اداکارقوی خان کا اس موقع پر کہناتھا کہ پچھلے سال انھوں نے نیویارک میں ایک فلم میں کرداراداکیا تھا،اور وہ انتظار کررہے تھے کہ اس جیسا کوئی اورکرداراداکرنے کا انھیں موقع ملے،جب انھوں نے فلم کا اسکرپٹ پڑھا تووہ ان سے بہت متاثر ہوئے،اور نوجوانوں کی یہ کاوش انتہائی سراہنے کے لائق ہے۔

صبا قمر نے فلم ’کملی‘ کی پہلی جھلک جاری کردی

کراچی: اداکارہ صبا قمر نے اپنی آنے والی فلم کی پہلی جھلک جاری کردی۔

صبا قمر نے بالی ووڈ کی سپرہٹ فلم ’ ہندی میڈیم‘ کی کامیابی کے بعد تین ٹیلی فلمز میں کام کیا تاہم اُن کی مقبولیت میں اضافہ کرنے میں دو ڈرامے ’باغی‘ اور ’چیخ‘ سنگ میل ثابت ہوئے۔ اب اداکارہ ایک بار پھر بڑی اسکرین پر معروف اداکار و ہدایت کار سرمد کھوسٹ کے ساتھ آرہی ہیں۔

صبا قمر نے انسٹا گرام پر اپنی آنے والی فلم ’ کملی‘ کی پہلی جھلک جاری کی۔ جاری کردہ پوسٹر میں صبا قمر پانی کے اندر پوز دیتی نظر آرہی ہیں۔ جسے شائقین کی جانب سے کافی پسند کیا جا رہا ہے۔

صبا قمر کی سرمد کھوسٹ کے ساتھ یہ پہلی فلم نہیں بلکہ اس سے قبل انڈسٹری کے یہ دونوں اداکار ایک ساتھ فلم ’منٹو‘ میں بھی اداکاری کے جوہر دکھا چکے ہیں۔

واضح رہے کہ صبا قمر اور سرمد کھوسٹ کی مشترکہ کیمسٹری سے بھرپور فلم ’کملی‘ اگلی سال 2020ء میں سنیما گھروں کی زینت بنے گی۔

گلوکارہ رابی پیرزادہ کو مگرمچھ اورسانپ رکھنا مہنگا پڑگیا

لاہور: معروف اداکارہ وگلوکارہ رابی پیرزادہ کو اپنے بیوٹی سیلون میں مگرمچھ اورسانپ رکھنا مہنگاپڑ گیا۔

محکمہ تحفظ جنگلی حیات نے ادکارہ رابی پیرزادہ کے خلاف غیرقانونی طورپر اژدھے، سانپ اورمگرمچھ رکھنے کے الزام میں چالان درج کرلیا ہے، اس حوالے سے  ڈسٹرکٹ وائلڈلائف آفیسر تنویر جنجوعہ نے بتایا کہ اداکارہ نےسوشل میڈیا پر اژدھے، سانپوں، مگرمچھ اورشیرکے ساتھ اپنی تصاویر اورویڈیوز شیئر کی ہوئی ہیں جس کی بنا پران کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔

وائلڈلائف آفیسر نے بتایا کہ محکمہ تحفظ جنگلی حیات ابھی تک سانپ، اژدھا، مگرمچھ اورشیر رکھنےکی جگہ کا سراغ نہیں لگا کیوں کہ سوشل میڈیا پردیئے گئے ایڈریس جعلی نکلے ہیں جب کہ اس ضمن میں وائلڈلائف کی ٹیم نے ڈیفنس اور گارڈن ٹاؤن سمیت دیگرمقامات پر سراغ لگانے کی کوشش کی ہے۔

تنویرجنجوعہ نے بتایا کہ ہم نے اداکارہ کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے سانپ، اژدھا اورمگرمچھ رکھنے پروائلڈلائف ایکٹ 1974 ترمیم شدہ 2007 کی دفعات 9 اور12 کے تحت چالان کیا ہے۔ جس کے تحت دوسال سے پانچ سال قید جب کہ 10 سے 20 ہزار روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اداکارہ کی سوشل میڈیا پرشیئرکی گئی تصاویر اورویڈیوزہمارے پاس محفوظ ہیں، اس لئے کارروائی کی گئی ہے تاہم سانپوں اژدھے اورمگرمچھ کا سراغ لگاتے ہی انہیں تحویل میں لیکر کسی سرکاری چڑیا گھرمیں منتقل کردیا جائے گا۔

کشمیریوں سے یکجہتی کیلئے مظفر آباد میں جلسہ، کھلاڑی اور شوبز ستارے بھی شریک

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے مظفرآباد میں منعقد کیے جانے والے جلسے میں ملک کے معروف کھلاڑیوں اور شوبز ستاروں نے بھی شرکت کی۔

مظفر آباد میں منعقد جلسے میں شاہد آفریدی، ہمایوں سعید، جاوید شیخ، فاخر محمود، حریم فاروق مایا علی اور ساحر علی بگا نے شرکت کی۔

جلسے کے دوران گلوکار ساحر علی بگا اور فاخر محمود نے شرکا کو اپنی مسحور کن آواز سے محظوظ بھی کیا۔

شاہد آفریدی نے مظفرآباد میں منعقد جلسے سے مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں کشمیر کے ساتھ ہوں میں ہر ظالم کے خلاف اور مظلوم کے ساتھ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ بات صرف کشمیر کی نہیں انسانیت کی ہے، دنیا کے کسی کونے میں بھی ظلم ہوگا ہم پاکستانی ہمیشہ ظلم کے خلاف اٹھائیں گے۔

اداکار ہمایوں سعید نے مظفر آباد میں جلسے سے مختصر خطاب میں کہا کہ میں دیکھتا ہوں جہاں بھی دنیا میں ظلم ہوتا ہے ہم پاکستانی آواز اٹھاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم آج کشمیری بھائیوں کے لیے جمع ہوئے اور وہ جس تکلیف میں مبتلا ہیں انہیں اس تکلیف سے نجات دلائیں گے۔

اداکار جاوید شیخ نے جلسے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم تمام فنکار کشمیر کی محبت میں یہاں موجود ہیں اور ہمیشہ کشمیریوں کا ساتھ دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم یہاں یہ بتانے آئے ہیں کہ پوری پاکستانی قوم، ہر بچہ، ہر بوڑھا اور جوان کشمیر کاز کے ساتھ ہے، جب تک مقبوضہ کشمیر آزاد نہیں ہوتا ہم آخری دم تک ساتھ دیں گے۔

مظفرآباد جلسے میں آمد سے قبل اداکار ہمایوں سعید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں کہا کہ ’وزیراعظم عمران خان کی کال پر کشمیر کی جانب گامزن ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’کشمیری بھائیوں اور بہنوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے آج (13 ستمبر کو) مظفر آباد میں بڑے جلسے میں شرکت کریں گے‘۔

پاکستانی گلوکار شہزاد رائے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کیا کہ ’اظہارِ یکجہتی کے لیے لالہ شاہد آفریدی کے ساتھ مظفرآباد کی جانب گامزن ہیں‘۔

گلوکار فاخر محمود نے اداکاروں کے ہمراہ مظفر آباد روانگی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی۔

قبل ازیں آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے منعقد جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں آپ کو بتاؤں گا کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کب جانا ہے پہلے مجھے اقوام متحدہ جانے دیں اور کشمیر کا مقدمہ لڑنے دیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا مجھے پتہ ہے آپ لائن آف کنٹرول کی جانب جانا چاہتے ہیں لیکن ابھی لائن آف کنٹرول کی طرف نہیں جانا جب تک میں آپ کو نہیں بتاؤں گا، میں آپ کو بتاؤں گا کہ کب جانا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ پہلے مجھے اقوام متحدہ جانے دیں، دنیا کے رہنماؤں کو بتانے دیں اور کشمیر کا مقدمہ لڑنے دیں، اور انہیں بتانے دیں کہ اگر کشمیر کا مسئلہ حل نہیں کیا گیا تو اس کا اثر ساری دنیا پر جائے گا۔

خیال رہے کہ 2 روز قبل وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی افواج کے محاصرے کی جانب دنیا کی توجہ مبذول کروانے اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے مظفرآباد میں جلسے کا اعلان کیا تھا۔

وزیراعظم کے اعلان کے بعد کھلاڑی اور شوبز ستاروں نے جلسے کی حمایت کرتے ہوئے شرکت کا اعلان کیا تھا اور عوام سے بھی شرکت کی اپیل کی تھی۔

اس سے قبل ہمایوں سعید نے ایک اور ٹوئٹ میں مظفر آباد جلسے میں شرکت کا اعلان کیا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ ’میں مظفرآباد جلسے میں شرکت کروں گا، میں آپ سب سے بھی شرکت کرنے کی اپیل کرتا ہوں‘۔

ہمایوں سعید نے مزید کہا تھا کہ ’آئیں اور دنیا کو دکھائیں کہ اس مشکل ترین وقت میں ہم متحد ہو کر کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑے ہیں‘۔

اداکارہ مایا علی نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ ’آئیں کشمیری بھائیوں اور بہنوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے وزیراعظم کے ساتھ کھڑے ہوں، میں مظفر آباد میں جلسے میں شرکت کروں گی‘۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’میں آپ سب سے درخواست کرتی ہوں کہ جلسے میں شرکت کریں، یہ ساتھ کھڑے ہونے اور اپنی آواز بلند کرنے کا وقت ہے’۔

آسکر ایوارڈز کیلئے پاکستانی انٹری کے طور پر ‘لال کبوتر’ کا انتخاب

فلمی دنیا کے سب سے متعبر اور اعلیٰ فلمی ایوارڈ آسکر کے لیے پاکستانی فلموں کا انتخاب کرنے والی پاکستانی اکیڈمی سلیکشن کمیٹی نے رواں برس ریلیز ہونے والی فلم ‘لال کبوتر’ کا نام ایوارڈ میں نامزدگی کے لیے منتخب کرلیا۔

خیال رہے کہ آسکر کے لیے پاکستان، بھارت، ایران، ترکی اور افغانستان سمیت دنیا کے تمام ملکوں میں قائم کمیٹیاں ہی اپنے اپنے ممالک کی کسی ایک فلم کو ‘غیر ملکی’ زبان کی کیٹیگری کے لیے منتخب کرتی ہیں۔

گزشتہ برس پاکستانی کمیٹی نے فلم ‘کیک ’ کا انتخاب کیا تھا، جس کا مقابلہ دنیا کی 93 دیگر فلموں سے تھا۔

اس بار شرمین عبید چنائے کی سربراہی میں کام کرنے والی پاکستانی کمیٹی نے فلم ‘لال کبوتر’ کا انتخاب کیا ہے، جس کا نام جلد ہی 92 ویں اکیڈمی (آسکر) ایوارڈزاکی غیر ملکی فلموں کی کیٹیگری کے لیے بھجوایا جائے گا۔

اکیڈمی ایوارڈز کی موشن پکچرز آرٹس اینڈ سائنسز اکیڈمی ایوارڈز کی تمام کیٹیگریز کے لیے حتمی نامزدگیوں کا انتخاب دسمبر 2019 میں کرے گی، جبکہ 13 جنوری کو حتمی نامزدگیوں کی فہرست جاری کی جائے گی جبکہ ایوارڈ تقریب 9 فروری 2020 کو منعقد ہوگی۔

پاکستانی کمیٹی میں شرمین عبید چنائے کے علاوہ زیبا بختیار، ضرار کھوڑو، زیب النسا حامد، سرمد کھوسٹ، عاصم عباسی، رضوان بیگ، جمیل بیگ، صنم سعید اور حمنہ زبیر شامل ہیں۔

لال کبوتر کراچی کے ایک ٹیکسی ڈرائیور کی کہانی ہے جو اپنے حالات بہتر بنانے کے لیے دبئی جانا چاہتا ہے اور اس واسطے اسے 3 لاکھ روپے درکار ہیں، جن کو حاصل کرنے کے لیے وہ اپنے جرائم پیشہ دوستوں کے ساتھ مل کر ٹیکسی چھینے جانے کا ڈرامہ کرتا ہے اور اس ڈرامے کے دوران اس کی ملاقات حادثاتی طور پر ایک لڑکی سے ہوجاتی ہے جس کے صحافی شوہر کو ایک مقامی بلڈر نے نامعلوم ٹارگٹ کلر کے ہاتھوں قتل کروادیا ہوتا ہے۔

احمد علی اکبر نے اس ٹیکسی ڈرائیور کا کردار ادا کیا ہے جبکہ منشا پاشا مقبول صحافی کی بیوہ کے روپ میں نظر آئی ہیں۔

اس فلم کی ہدایات کمال خان نے دی تھیں جبکہ ہانیہ چیمہ اور کامل چیمہ ایگزیکٹیو پروڈیوسر ہیں۔

آسکر کے لیے نامزدگی پر کمال خان نے کہا ‘یہ پوری ٹیم کے لیے فخر کا لمحہ ہے، ہم سب بہت پرجوش ہیں اور پاکستانی سلیکشن کمیٹی اور لال کبوتر کو دیکھنے والوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں’۔

نیلم منیر کا نیا ڈراما ‘شادی شدہ زندگی کے مسائل’ پر مبنی

پاکستان کی نامور اداکارہ نیلم منیر اور اداکار عمران اشرف بہت جلد ایک مرتبہ پھر ایک نئے ڈرامے میں ساتھ جلوہ گر ہونے جارہے ہیں۔

اب تک اس ڈرامے کے نام کا تو اعلان نہیں کیا گیا البتہ ناظرین کے جوش کو بڑھانے کے لیے اس ڈرامے کے چند ٹیزرز ریلیز کردیے گئے ہیں۔

ڈان امیجز سے بات کرتے ہوئے نیلم منیر نے اس ڈرامے میں اپنے کردار کے حوالے سے بھی بات کی۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ ‘میرا کردار ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھنے والی لڑکی کا ہے، اس کے تین بھائی ہیں جو اس سے بے حد محبت کرتے ہیں، لیکن پھر ایک غلط فہمی کی وجہ سے اس کے گھر والے صرف اس کی شادی کرانے کے خواہش مند ہوں گے، جس کے بعد میرے کردار کی شادی عمران اشرف کے کردار سے ہوگی، جس کا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے’۔

نیلم منیر کے مطابق ‘اس شادی کے بعد اصل مشکلات کا آغاز ہوگا، میرے شوہر کو میری فیملی سے مسائل ہوں گے، ایک اور غلط فہمی کی وجہ سے وہ مجھے چھوڑ دے گا اور واپس مجھے میرے گھر بھیج دے گا لیکن بعد ازاں اسے اپنی غلطی کا احساس ہوجائے گا’۔

اس ڈرامے کی کہانی قیصرہ حیات نے تحریر کی ہے جبکہ اس کی ہدایات سائمہ وسیم دے رہی ہیں۔

عمران اشرف نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ‘اس ڈرامے کی کاسٹ میں علی عباس، نازش جہانگیر، عارض خان، حماد فاروقی، صبا فیصل اور صبا حمید شامل ہیں’۔

اداکار کا کہنا تھا کہ ‘میرا زیادہ تر کام نیلم منیر اور صبا حمید کے ساتھ رہا اور مجھے ان دونوں کے ساتھ کام کرکے بےحد مزاح آیا، سائمہ کے ساتھ کام کرنا بھی ایک بہترین تجربہ تھا’۔

اپنے کردار کے حوالے سے عمران اشرف کا کہنا تھا کہ ‘مجھے اپنا کردار بےحد پسند آیا، وہ عام رومانوی ہیرو جیسا نہیں، وہ اس سے کافی الگ ہے’۔

ویسے تو اس ڈرامے کی ریلیز ہونے کی تاریخ کا اب تک اعلان نہیں کیا گیا البتہ دونوں اداکاروں کے مطابق اسے جلد جیو ٹیلی ویژن پر نشر کیا جائے گا۔

پاکستان اوربھارت میں فنکاروں کی حدود ہوتی ہیں، وینا ملک

کراچی: نامورپاکستانی اداکارہ ومیزبان وینا ملک کا کہنا ہے کہ فنکار کی کوئی سرحد نہیں ہوتی لیکن بات جب پاک بھارت کی آتی ہے تو یہاں فنکاروں کی حدود ہوتی ہے۔

پاکستانی اسکینڈل کوئین اداکارہ وینا ملک جہاں ماضی میں بالی ووڈ میں کام کرنے کی وجہ سے تنازعات کا شکار رہیں وہیں آج کل اپنے سیاسی خیالات کے باعث سوشل میڈیا پر کافی زیر بحث رہتی ہیں۔ بھارت میں متنازع فوٹوشوٹ کرنے سے لے کر رمضان میں پروگرام کی میزبانی کرنے تک وینا ملک کی زندگی میں کئی اتارچڑھاؤ آئے۔ حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران وینا ملک نے اپنی زندگی کی ان باتوں کو مداحوں کے ساتھ شیئرکیا جو اس سے قبل منظر عام پر نہیں آئی تھیں۔

پاک بھارت کشیدگی کے باعث فنکاروں پر لگنے والی پابندی کے حوالے سے وینا نے کہا فنکار کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، فنکار دنیا میں کہیں بھی جاسکتے ہیں، لیکن بات جب پاکستان بھارت کی آتی ہے تو یہاں فنکاروں کی حدود ہوتی ہیں کیونکہ اگر حدود نہیں ہوتی تو سرحد پار جاکر کام کرنے والے فنکاروں پر تنقید نہیں ہوتی۔ خاص طور پر جب بات مودی کی قیادت میں بھارت کے موجودہ حالات کی ہو، جہاں بھارت کی اپنی اقلیتیں بھی محفوظ نہیں۔

وینا ملک نے اپنی شادی اورطلاق کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ 2015 میں ان کی شوہر سے علیحدگی ہوگئی تھی اور 2016 میں دونوں کےدرمیان طلاق ہوگئی ۔ اپنے دونوں بچوں کی کسٹڈی حاصل کرنے کے لیے انہوں نے طویل قانونی جنگ لڑی تاہم جب بچوں کی کسٹڈی انہیں مل گئی تو ان کا سابق شوہران کے بچوں کے پاسپورٹ لے گیا جنہیں حاصل کرنے کے لیے انہوں نے ایک اور قانونی جنگ لڑی۔

وینا ملک نے کہا کہ وہ دو زندگیاں جی رہی ہی، اپنی ذاتی زندگی میں وہ سادگی سے رہنا پسند کرتی ہیں جیسے کہ ہر ماں اپنے بچوں کے ساتھ رہتی ہے۔ وینا ملک نے بھارتی رئیلیٹی شو بگ باس کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا بگ باس نے میری زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔ جب آپ اجنبیوں کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتے ہیں اور باہرکی دنیا سے آپ کا کوئی تعلق نہیں ہوتا تو اس وقت دراصل آپ کو خود کی پہچان ہوتی ہے۔ وینا ملک نے کہا انہیں بگ باس جوائن کرنے کی کئی بار پیشکش ہوئی ہے لیکن اب وہ یہ باب بند کرچکی ہیں۔

وینا ملک نے ماہرہ خان اورفردوس جمال تنازعے پر بھی بات کرتے ہوئے کہا جب پوری انڈسٹری فردوس جمال کے خلاف ہوگئی تو مجھے برا لگا کیونکہ ہم سب ایک ہیں اورہماری انڈسٹری ایک یونٹ ہے۔ اگر آپ فردوس جمال کو برا کہیں گے تو آپ پوری انڈسٹری کو برا کہہ رہے ہیں،اسی طرح اگر ماہرہ خان کو برا کہیں گے تو پوری انڈسٹری کو برا کہیں گے۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ عمر کے بارے میں بات کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔

کیا ’’عہدِ وفا ‘‘ ڈرامہ سیریل ’’ الفا براوو چارلی‘‘ کا سیکوئل ہے؟

کراچی: ڈرامہ ’عہدِوفا‘ کے مصنف نے پاک فوج کے تعاون سے بننے والے نئے ڈرامے ’’عہدِ وفا‘‘ کو ماضی کے مشہور سیریل ’’الفا براوو چارلی‘‘ کا سیکوئل کی خبروں کو غلط قرار دے دیا۔ 

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے تعاون سے بنائے جانے والا ڈرامہ ’عہدِ وفا‘ پاکستان ملٹری اکیڈمی ( پی ایم اے) میں زیر تربیت چار نوجوانوں کی دوستی پر مبنی ہے۔  ڈرامے میں مرکزی کردار ادا کرنے والے اداکاروں کی جانب سے کچھ تصاویر شیئر کی گئیں تھی جس کے بعد سے اس ڈرامہ کو ماضی کا تاریخ ساز ڈرامہ ’ الفا براوو چارلی‘ کے سیکوئل سے منسوب کیا جارہا تھا۔

ڈرامہ ’عہدِ وفا‘ میں احد رضا میر، وجاہت علی، احمد علی اکبر اور اسامہ خالد بٹ کیڈٹس کا کردار ادا کر رہے ہیں جب کہ ابتداء میں چاروں اداکاروں نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ تصاویر میں ایس ایس گینگ اور ایس ایس جی کا لفظ بھی استعمال کیا تھا کیوں کہ ڈرامے میں چاروں کرداروں کے نام شارق، شہریار، شاہ زین اور سعد ہیں جن کے ناموں کی شروعات انگریزی حرف  ’s‘ سے ہوتی ہے۔ جوکہ اس ڈرامہ کو ماضی کے ڈرامے سے منسوب کرنے میں غلط ثابت ہوئی۔

’عہدِوفا‘ کے مصنف مصطفیٰ آفریدی نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سیریز بچپن کے دوستوں پر مبنی ہے جوکہ ہمیشہ ایک نا صرف ساتھ رہتے ہیں بلکہ اپنی زندگی کو بھر پور انداز سے انجوائے بھی کرتے ہیں اور اُن سب کی زندگی تب تبدیل ہوتی ہے جب وہ کالج کا وقت مکمل کرکے عملی زندگی میں آتے ہیں۔

سیفی حسن کی ہدایتکاری میں بننے والا ڈرامہ ’عہدِ وفا‘ میں زارا نور عباس، علیزے شاہ، حاجرہ یامین اور ونیزہ احمد بھی مرکزی کردار ادا کرتی نظر آئیں گی جب کہ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ڈرامہ 22 ستمبر سے نشر کیا جائے گا۔

Google Analytics Alternative