انٹر ٹینمنٹ

‘جیسے جسم میں درد کی سائیکل دوڑ رہی ہو‘

بولی وڈ اداکارہ سونالی باندرے نے رواں برس 4 جولائی کو اپنی سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے انکشاف کیا تھا کہ انہیں کینسر لاحق ہوگیا۔

انہوں نے بتایا تھا کہ انہیں اس بیماری کی توقع نہیں تھی، تاہم اب وہ اس کے علاج کے لیے بیرون ملک جائیں گی۔

بعد ازاں سونالی باندرے علاج کے لیے امریکا منتقل ہوگئی تھیں، جہاں انہوں نے علاج کے سلسلے میں اپنے سر کے بال ہٹوائے تھے۔ بالوں کو ہٹانے کے دوران وہ انتہائی جذباتی نظر آئیں اور اس دوران وہ رو پڑیں۔

دوران علاج بھی سونالی باندرے اپنے مداحوں کو اپنی صحت اور بیماری سے متعلق آگاہ کرتی رہیں۔

رواں برس اگست میں انہوں نے ایک جذباتی پوسٹ میں بتایا تھا کہ اگرچہ وہ بیمار ہیں، تاہم وہ اس حالت میں بھی زندگی کے ہر لمحے کو جینا چاہتی ہیں۔

دوران علاج گزشتہ دن ہی سونالی باندرے امریکا میں ہی علاج کے لیے آنے والے اداکار رشی کپور سے ملنے گئی تھیں، جس میں انہیں خوش دیکھا جاسکتا ہے۔

رشی کپور بھی گزشتہ ماہ ستمبر کو علاج کے لیے امریکا گئے تھے، تاہم تاحال ان کی بیماری کی تشخیص نہیں ہوئی، قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ انہیں بھی کینسر لاحق ہوگیا ہے، تاہم ان کے خاندان نے ایسی خبروں کو مسترد کیا ہے۔

رشی کپور سے ملاقات اور علاج کے بعد سونالی باندرے نے اپنے انسٹاگرام پر ایک جذباتی پوسٹ کی اور بتایا کہ سرجری اور کیموتھراپی سے قبل اور دوران علاج ان کی ذہنی و جسمانی حالت کیسی رہی۔

اپنی لمبی چوڑی پوسٹ میں سونالی باندرے نے بتایا کہ گزشتہ چند ماہ سے وہ کافی درد میں ہیں اور مسلسل جسمانی درد کے باعث وہ بعض مرتبہ ذہنی اذیت میں بھی مبتلا ہوجاتی ہیں، جس کے باعث وہ بہت کمزور ہو چکی ہیں۔

اداکارہ نے اپنے درد اور تکلیف سے متعلق کھل کر بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘وہ گزشتہ کئی ماہ سے ایسا محسوس کر رہی ہیں، جیسے درد کی سائیکل ان کے پورے جسم میں دوڑ رہی ہو اور وہ رکنے کا نام نہیں لے رہی‘۔

سونالی باندرے نے اگرچہ اپنی پوسٹ میں درد اور تکلیف کی باتیں کی ہیں، تاہم ان کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مایوس نہیں اور انہوں نے اس بیماری کو قبول کرکے اس کا کھلے دل اور ذہن سے مقابلہ کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔

اپنی پوسٹ میں انہوں نے بتایا کہ ان کی کیموتھراپی ہو چکی ہے اور ان کا مزید علاج بھی جاری ہے، جو آئندہ بھی جاری رہے گا۔

انہوں نے اپنی پوسٹ کے ساتھ ایک تصویر بھی شیئر کی، جس میں انہیں آنکھوں میں کاجل لگاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

تصویر میں سونالی باندرے کو سیاہ لباس پہنے ہوئے آئینے کے سامنے خود کو میک اپ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، اگرچہ ان کے سر پر بال نہیں، تاہم پھر بھی وہ خوبصورت دکھائی دے رہی ہیں۔

آلوک ناتھ نے ریپ اور ہراساں کرنے کا الزام مسترد کردیا

بولی وڈ فلموں اور ہندی ڈراموں میں سنسکاری بابوجی کا کردار ادا کرنے والے آلوک ناتھ نے خود پر لگے ریپ اور جنسی ہراساں کرنے کے الزامات کو مسترد کردیا۔

اداکار نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’نہ تو میں ان الزامات کو سچا مانوں گا اور نہ ہی انہیں جھوٹ قرار دوں گا‘۔

انہوں نے واقع کو یاد کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’ونتا نندا کا ریپ ہوا ہوگا لیکن میں نے ایسا کچھ نہیں کیا‘۔

آلوک ناتھ نے کہا کہ وہ اس واقع پر مزید بات نہیں کرنا چاہتے کیوں کہ اگر وہ مزید کچھ کہیں گے تو اور باتیں بھی سامنے آجائیں گی۔

یاد رہے کہ لکھاری، پروڈیوسر اور ہدایت کار ونتا نندا نے آلوک ناتھ پر انہیں ہراساں اور ریپ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

ونتا نندا کی فیس بک پر شیئر کردہ ایک پوسٹ میں انہوں نے 20 سال قبل اپنے ساتھ ہوئے ایک خوفناک واقعے کا ذکر کیا، جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے آلوک ناتھ پر سخت تنقید کرنا شروع کردی۔

ونتا نندا نے اپنی پوسٹ میں 90 کی دہائی میں بننے والے ڈرامے ’تارا‘ کی بات کی، جس کے بعد انہوں نے آلوک ناتھ کا نام لیے بغیر ان پر الزام لگایا کے وہ اس پروگرام کی مرکزی اداکارہ نونین نشان کو ہراساں کرتے تھے۔

ٹی وی شو ’تارا‘ —فوٹو/ اسکرین شاٹ
ٹی وی شو ’تارا‘ —فوٹو/ اسکرین شاٹ

اپنی طویل پوسٹ میں ونتا نے آلوک ناتھ کا نام ایک جگہ بھی نہیں لیا اور کہا کہ وہ ایک روز شوٹنگ کے دوران نشے کی حالت میں سیٹ پر موجود تھے، جب نونین نے انہیں غیر مناسب رویے کے بعد تھپڑ مارا۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ایک تقریب کے دوران انہیں بےہوش کرنے کی کوشش بھی کی گئی، جس کے بعد انہیں ذیادتی اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد وہ لوگوں کے سامنے آنے سے بھی ڈرنے لگیں۔

ونتا نندا نے یہ بھی کہا کہ اس موقع پر ان کے کئی دوستوں نے ان کا ساتھ بھی دیا، تاہم آج وہ کھل کر اپنی کہانی سب کے سامنے لائیں ہیں۔

لکھاری ونتا نندا —فوٹو/ اسکرین شاٹ
لکھاری ونتا نندا —فوٹو/ اسکرین شاٹ

ونتا نے اپنی پوسٹ کے آخر میں بتایا کہ جس شخص کا ذکر انہوں نے اپنی پوسٹ میں کیا اسے فلم اور ٹیلی ویژن انڈسٹری میں سب سے زیادہ سنسکاری ہونے کے طور پر جانا جاتا ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے آلوک ناتھ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

بعدازاں این ڈی ٹی وی کو دیے ایک انٹرویو میں پروگرام ’تارا‘ کی مرکزی اداکارہ نونین نشان نے ونتا نندا کی پوسٹ کا سپورٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’میں ہر اس خاتون اور مرد کا ساتھ دوں گی جو می ٹو مہم کا سہارا لیتے ہوئے اپنے لیے کھڑا ہورہا ہے، مجھے ونتا سے ہمدردی ہے، میں نے جس شخص کو تھپڑ مارا اس نے مجھے چار سال تک ہراساں کیا، مجھے اس شو سے بھی نکال دیا گیا، جس کے بعد انڈسٹری کے افراد نے مجھے شرمندہ کیا‘۔

اداکارہ نونین نشان —فوٹو/ اسکرین شاٹ
اداکارہ نونین نشان —فوٹو/ اسکرین شاٹ

بولی وڈ کی نامور اداکارائیں ریچا چڈا اور سوارا بھاسکر بھی ونتا نندا کے سپورٹ میں سامنے آئیں۔

یاد رہے کہ 62 سالہ آلوک ناتھ کا شمار ہندی ٹیلی ویژن انڈسٹری اور بولی وڈ کے نامور اداکار کے طور پر کیا جاتا ہے۔

وہ ’کبھی خوشی کبھی غم‘، ’ویوا‘ اور ’میرے یاد کی شادی ہے‘ جیسی فلموں کا حصہ بن چکے ہیں۔

آلوک ناتھ ’سپنا بابل کا‘ اور ’یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے‘ جیسے ڈراموں میں بھی کام کرچکے ہیں۔

سنی اینڈ ٹی وی آرٹس ایسوسی ایشن (سنٹا) نے بھی ایک ٹویٹ کے ذریعے ونتا نندا کو یقین دلایا کے وہ آلوک ناتھ پر کیس کریں، جس کے بعد سنٹا ان کی مدد ضرور کرے گا، جبکہ وہ آلوک ناتھ کو شوکاس نوٹس بھی بھیجنے کو تیار ہیں۔

خیال رہے کہ ہولی وڈ کے بعد بولی وڈ میں خواتین می ٹو مہم کا سہارا لیتے ہوئے لوگوں کے ساتھ اپنی کہانیاں شیئر کررہی ہیں۔

اداکارہ نتشری دتہ وہ پہلی ہیں جنہوں نے بولی وڈ میں می ٹو مہم کا سہارا لیتے ہوئے نانا پاٹیکر پر انہیں ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ نے بھارتی فلموں کی نمائش پر وفاق سے جواب طلب کرلیا

لاہور: ہائی کورٹ نے بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی کے لیے درخواست پر وفاقی حکومت کو جواب داخل کرانے کے لیے مہلت دے دی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس ساجدمحمود سیٹھی نے پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی سے متعلق درخواست پر  سماعت کی، درخواست میں بھارتی فلموں کی پاکستان میں نمائش کو چیلنج کیا گیا۔

دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے  قانونی نکتہ اٹھایا کہ بھارتی فلموں کی نمائش کے لیے  امپورٹ پالیسی وفاقی حکومت کی منظوری کے بغیر جاری کی گئی اس لیے فلموں کی نمائش غیر قانونی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ بھارتی فلموں کی نمائش کے حوالے سے امپورٹ پالیسی کو کالعدم قرار دیا جائے۔

وفاقی حکومت نے درخواست کا جواب داخل کرنے کے لیے مہلت مانگ لی جس پر لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو مہلت دے دی، درخواست پر مزید سماعت 11 اکتوبر کوہوگی۔

کنگنا کا اپنی ہی نیشنل ایوارڈ یافتہ فلم کے ہدایتکار پر جنسی ہراسانی کا الزام

بالی وڈ اداکارہ کنگنا رناوت نے اپنی ہی ’نیشنل ایوارڈ یافتہ‘ فلم ’کوئین‘ کے ہدایت کار  وکاس بہل پر شوٹنگ کے دوران جنسی ہراسانی کا الزام لگایا ہے۔

گزشتہ دنوں بالی ووڈ اداکارہ تنوشری دتہ نے اداکار نانا پاٹیکر پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا جسے نانا پاٹیکر نے مسترد کیا تھا لیکن اب تنازعات میں رہنے والی والی اداکارہ کنگنا رناوت نے بھی ہدایت کار پر جنسی ہراسانی کا الزام لگا دیا ہے۔

اداکارہ کنگنا رناوت کا کہنا ہے کہ 2014 میں فلم ’کوئین‘ کی شوٹنگ کے دوران وکاس کہتے تھے کہ ‘مجھے انجوائے کرانا نہیں آتا اور  وہ جب بھی مجھ سے ملتے تو بالوں کی خوشبو کی تعریف کرتے اور زبردستی قریب آنے کی کوشش کرتے تھے جس سے مجھے پریشانی ہوتی تھی’۔

یاد رہے کہ ہدایت کار وکاس بہل پر ایک اور خاتون نے بھی جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا تھا۔

کنگنا رناوت کا دعویٰ ہے کہ وکاس بہل کی حرکتوں کے خلاف اس خاتون کا ساتھ دینے پر انہیں کئی پروجیکٹس سے ہاتھ بھی دھونا پڑے۔

وہ کہتی ہیں کہ وکاس بہل ایک فلم کی کہانی لے کر میرے پاس آئے تھے جس پر میں نے ان سے ایک خاتون کے معاملے پر بات کی تو اس کے بعد وہ چپ ہوگئے اور اس طرح مجھے پروجیکٹ سے ہاتھ دھونا پڑا۔

واضح رہے کہ ہدایت کار وکاس بہل ادکارہ کنگنا رناوت کی نیشنل ایوارڈ یافتہ فلم ’کوئین‘ کے ہدایت کار ہیں اور اس فلم میں بہترین اداکاری پر کنگنا کو نیشنل ایوارڈ دیا گیا تھا جب کہ فلم نے بھی بہترین ہندی فلم کا ایوارڈ اپنے نام کیا تھا۔

ول اسمتھ کی ایشوریا کے ساتھ فلم میں کام کرنے کی خواہش

ممبئی: ہالی ووڈ اسٹار ول اسمتھ نے بالی ووڈ کی خوب رو اداکارہ ایشوریا رائے کے ساتھ فلم میں کام کرنے کی خواہش ظاہر کردی۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہالی ووڈ کے معروف اداکار ول اسمتھ  بھارت میں ہونے والی فلمی کانفرنس میں شرکت کے لیے آئے تھے جہاں کانفرنس کی میزبانی کے فرائض اداکار فرحان اختر نے ادا کیے۔ دوران کانفرنس ول اسمتھ نے میزبان سے بھنگڑے کے کچھ  طریقے سیکھے اور پھر منفرد انداز میں بھنگڑا کرکے دکھایا اور کانفرنس میں موجود شائقین کو داد دینے پر مجبور کردیا۔

ول اسمتھ سے بالی ووڈ میں کام کرنے سے متعلق سوال پوچھا گیا تو انہوں نے فوراً ہی کہا کہ اس انڈسٹری میں کام کرنے کے حوالے سے میری فہرست میں سب سے اول کام یہاں کا رقص سیکھنا ہے اور دوسری اہم بات یہ کہ میں ایشوریا رائے کے ساتھ فلم کرنا پسند کروں گا۔

ہالی ووڈ اسٹار نے ایش کے ساتھ کام کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ میری اور ایشوریا کی 15 سال قبل ملاقات ہوئی تھی جہاں ہمارے درمیان ایک ساتھ کام کرنے کے حوالے سے گفتگو ہوئی تھی لیکن حقیقی طور پر ایسا ممکن نہیں ہوسکا لیکن اب میں اُن کے ساتھ فلم کرنا ضرور چاہوں گا۔

‘می ٹو’ نہیں بلکہ ‘یو ٹو’ مہم کی ضرورت ہے، شلپا شیٹھی

گزشتہ ہفتے بولی وڈ اداکارہ شلپا شیٹھی نے شادی کے 9 سال بعد انکشاف کیا تھا کہ ماضی میں ان کےسلمان خان سے تعلقات رہے ہیں۔

ساتھ ہی اداکارہ نے انکشاف کیا تھا کہ کالج کے زمانے میں بھی ایک لڑکے سے ان کے تعلقات قائم تھے، تاہم بعد ازاں وہ بھی ختم ہوگئے۔

اگرچہ شلپا شیٹھی ماضی میں بھی خواتین کے حقوق اور سماجی مساوات کے حوالے سے بات کرتی رہی ہیں، تاہم اب انہوں نے بولی وڈ میں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے حوالے سے خواتین کو اہم مشورہ دیا ہے۔

شلپا شیٹھی نے گزشتہ ماہ 26 ستمبر کو اداکار نانا پاٹیکر پر جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کا الزام لگانے والی اداکارہ تنوشری دتہ کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کو کسی خوف کے بغیر اپنے ساتھ ہونے والے واقعات کو سامنے لانا چاہیے۔

43 سالہ شلپا شیٹھی چاہتی ہیں کہ تمام اداکارائیں اور خواتین اپنے ساتھ ہونے والے ہراساں اور نامناسب واقعات کو سامنے لائیں، تاہم وہ چاہتی ہیں کہ خواتین ایسے واقعات کو سامنے لاتے وقت ‘می ٹو’ کا استعمال کرنے کے بجائے ‘یو ٹو’ کا استعمال کریں۔

شلپا شیٹھی کا ماننا ہے کہ خواتین کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کرنا یا انہیں جنسی طور پر ہراساں کرنا عورتوں کی غلطی نہیں، بلکہ مردوں کی غلطی ہے، اس لیے خواتین کو ‘می ٹو’ کے بجائے ‘یو ٹو’ استعمال کرکے مرد حضرات کو اپنی غلطی کا احساس دلانا چاہیے۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق بھارتی نشریاتی ادارے ‘پریس ٹرسٹ آف انڈیا’ (پی ٹی آئی) سے بات کرتے ہوئے شلپا شیٹھی کا کہنا تھا کہ بولی وڈ خواتین کو چاہیے کہ وہ ‘می ٹو’ کے بجائے ‘یو ٹو’ کا استعمال کریں اور مرد حضرات کو احساس دلائیں کہ وہی غلط تھے۔

شلپا شیٹھی کا کہنا تھا کہ ‘می ٹو’ استعمال کرنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خواتین ہی غلط تھیں اور وہی متاثر ہوئیں، تاہم اگر ‘یو ٹو’ کا استعمال کیا جائے گا تو مرد حضرات کو ہی مجرم سمجھا جائے گا، کیوں کہ ‘یو ٹو’ سے انہیں احساس ہوگا کہ دیگر مرد حضرات کی طرح وہ بھی خواتین کو ہراساں کرنے والوں میں شامل ہیں۔

انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ ‘می ٹو’ کے بجائے ‘یو ٹو’ کا استعمال کریں۔

خیال رہے کہ ’می ٹو’ کے ذریعے خواتین اپنے ساتھ ہونے والے نامناسب واقعات کو بیان کرتی ہیں، سوشل میڈیا پر یہ مہم گزشتہ برس اکتوبر میں اس وقت شروع ہوئی تھی، جب ہولی وڈ کی متعدد خواتین نے ہولی وڈ پروڈویسر ہاروی وائنسٹن پر جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کا الزام عائد کیا تھا۔

ہاروی وائنسٹن کے خلاف آواز اٹھانے والی خواتین نے ہی پہلی بار ٹوئٹر ہر ‘می ٹو’ کا ٹرینڈ استعمال کیا تھا، جس کے بعد اب تک ہولی وڈ سمیت بولی وڈ اور دنیا کے دیگر شعبوں کی خواتین اپنے ساتھ ہونے والے واقعات سے متعلق بات کرتے ہوئے اس ٹرینڈ استعمال کرتی ہیں۔

ریلیز سے قبل دھوم مچانے والی فلم ’’لویاتری‘‘ شائقین کو متاثر کرنے میں ناکام

ممبئی: بالی ووڈ کے دبنگ اداکار سلمان خان کی ہوم پروڈکشن میں بننے والی فلم ’’لویاتری‘‘ شائقین کو متاثر کرنے میں ناکام ہوگئی۔

بھارتی تجزیہ نگاروں نے فلم ’’لویاتری‘‘ کو ریلیز سے قبل ہٹ فلم قراردیتے ہوئے کہا تھا کہ فلم ریلیز کے پہلے روز 3 کروڑ سے زائد کا بزنس کرے گی، تاہم فلم شائقین اور تجزیہ نگاروں کی امیدوں پر پوری نہ اتر سکی اور ریلیز کے پہلے روز صرف ایک کروڑ 8 لاکھ کا بزنس ہی کرسکی ہے۔

زی بزنس نیوز کے مطابق فلم بیرون ملک بھی اچھا تاثر نہ چھوڑ سکی اور نیوزی لینڈ میں صرف 5 لاکھ 50 ہزاراور آسٹریلیا میں ایک لاکھ 90 ہزار کا بزنس کرسکی ہے۔

دوسری جانب ’’لویاتری‘‘ کے ساتھ ریلیز ہونے والی ہالی ووڈ فلم ’’وینم‘‘ باکس آفس پر کمال دکھانے میں کامیاب رہی ہے اور ریلیز کے صرف دو دنوں میں 9 کروڑ 36 لاکھ کا بزنس کرکے باقی تمام فلموں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

واضح رہے کہ رومینٹک کامیڈی فلم ’’لویاتری‘‘ میں سلمان خان کے بہنوئی آیوش شرما اورنئی اداکارہ وارینہ حسین نے مرکزی کردارادا کیا ہے یہ دونوں کی پہلی فلم ہے۔

کنگنارناوت کا ہدایت کار وکاس بہل پر جنسی ہراسانی کا الزام

ممبئی: بالی ووڈ میں جنسی ہراسانی کے خلاف مہم چل پڑی ہےاداکارہ تنوشری دتہ کے بعد کنگنارناوت نے بھی ہدایت کار وکاس بہل پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کردیا۔

تنوشری دتہ اور ناناپاٹیکر تنازعے کے بعد بالی ووڈ میں جنسی ہراسانی کے مزید واقعات سامنے آرہے ہیں، حال ہی میں اداکارہ کنگنا رناوت نے فلم’’کوئین‘‘کے ہدایت کار وکاس بہل پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے صرف کنگنا کو نہیں بلکہ دیگر خواتین کو بھی جنسی طور پر ہراساں کیا ہے۔

کنگنا رناوت نے کہا کہ ہم جب بھی کسی پارٹی میں ملتے تھے وکاس بہل مجھے نامناسب انداز سے چھوتا تھا، یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور صرف میرے ساتھ ہی نہیں دیگر لڑکیوں کے ساتھ بھی اس کا رویہ ایسا ہی تھا۔ وکاس بہل کےاس برتاؤ کے خلاف ماضی میں ایک خاتون نے آواز بھی اٹھائی تھی تاہم اس کی آواز دبادی گئی لیکن مجھے اس لڑکی پر یقین ہے اور اس کی حمایت کرنے پر مجھے کئی اچھی فلموں سے ہاتھ بھی دھونے پڑے تھے۔

دوسری جانب نامور بھارتی گلوکار کیلاش کھیر پر بھی ایک خاتون بھارتی صحافی نتاشا نے جنسی ہراسانی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ 2006 میں جب وہ کیلاش کھیر کے گھر ان کا انٹرویو لینے گئی تھیں اس دوران کیلاش کھیر نے انہیں نامناسب انداز میں چھواتھا۔

Google Analytics Alternative