انٹر ٹینمنٹ

محسن عباس کی بیوی کو شوہر کی غلطیاں نظر انداز کرنی چاہئے تھیں، اداکارہ میرا

کراچی: نامور پاکستانی اداکارہ میرا کا کہنا ہے کہ  محسن عباس حیدر سے غلطی ہوئی ان کی اہلیہ کو اس غلطی کو نظر انداز کرنا چاہیئے تھا۔

فلم’’نامعلوم افراد‘‘سے شہرت حاصل کرنے والے اداکار و گلوکار محسن عباس حیدر پر ان کی اہلیہ فاطمہ سہیل نے دو ماہ قبل الزام لگایا تھا کہ محسن انہیں کئی برسوں سے تشدد کا نشانہ بناتے آرہے ہیں،  یہاں تک کہ محسن نے انہیں اس وقت بدترین جسمانی اورذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جب وہ حاملہ تھیں۔ اس کے علاوہ فاطمہ نے اپنے شوہر کو بے وفا قرار دیتے ہوئے ان کے اور ماڈل نازش جہانگیر کے درمیان ناجائز تعلقات کا بھی الزام لگایا۔

فاطمہ سہیل نے محسن عباس کے خلاف تشدد اور دھمکیوں کی ایف آئی آر درج کرائی ہے جب کہ شوبز فنکاروں سمیت سوشل میڈیا پر بھی محسن عباس کو  بیوی پرگھریلو تشدد کرنےکے لیے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

جہاں شوبز سے وابستہ افراد اہلیہ تشدد معاملے پر اپنی رائے دے رہے ہیں، وہیں پاکستان کی اسکینڈل کوئین اداکارہ میرانے بھی اس معاملے پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ محسن عباس حیدر سے غلطی ہوئی ان کی بیوی کو اس غلطی کو نظر انداز کرنا چاہئے تھا۔

اداکارہ میرا نے حال ہی میں عفت عمر کے شو میں شرکت کی جہاں میزبان کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں اداکارہ میرا نے محسن کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ شیئر کرتے ہوئے کہا محسن میرے ساتھ سیٹ پر بہت اچھے تھے، ان کا رویہ بہت دوستانہ تھا۔

میرا نے محسن عباس کو باصلاحیت اداکار قرارد یتے ہوئے کہا انسان سے غلطیاں ہوتی ہیں، تاہم ان غلطیوں کو نظر انداز کرنا چاہئے۔ جس پر میزبان نے کہا اگر غلطیاں ہوتی ہیں تو مان لینی چاہئیں، معافی مانگ لینی چاہئے۔ میزبان کی اس بات پر اداکارہ میرا نے کہا محسن عباس اچھا لڑکا ہے، تاہم میزبان عفت عمر نے بات کو یہیں ختم کردیا۔

واضح رہے کہ محسن عباس حیدر کی اہلیہ فاطمہ سہیل نے لاہور کی فیملی کورٹ میں خلع کا دعویٰ دائر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب مزید محسن کے ساتھ رہنا نہیں چاہتیں۔

’رسوائی‘ اپنے حق کے لیے لڑنے والی بہادر خاتون کی کہانی

گزشتہ ماہ خبر سامنے آئی تھی کہ اداکار میکال ذوالفقار اور ثنا جاوید جلد ہی رومانٹک ڈرامے ’زرد بہار‘ میں رومانس کرتے دکھائی دیں گے۔

اگرچہ اس ڈرامے کی شوٹںگ اب آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہے اور ڈرامہ جلد نشر ہونے کو تیار ہے، تاہم ڈرامے کی ٹیم نے اس کا نام ’زرد بہار‘ سے بدل کر ’رسوائی‘ رکھ دیا ہے۔

’رسوائی‘ میں جہاں میکال ذوالفقار ایک کمرشل پائلٹ کے منفرد کردار میں دکھائی دیں گے، وہیں اداکارہ ثنا جاوید بھی قدرے مختلف کردار میں نظر آئیں گی۔

یہ خبر پہلے ہی آ چکی تھی کہ ثنا جاوید ڈرامے میں ایک ڈاکٹر کا کردار ادا کریں گی جسے ڈرامے میں میکال ذوالفقار سے محبت ہوجاتی ہے اور ان کی محبت شادی میں بدل جاتی ہے۔

تاہم دونوں کی محبت شادی میں بدلنے کے باوجود ان کی زندگی کےمسائل ختم نہیں ہوتے اور ان میں نئے المیے جنم لیتے ہیں۔

ڈرامے کے حوالے سے ثنا جاوید نے ڈان امیجز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ڈرامے میں ڈاکٹر سمیرا نامی خاتون کا کردار ادا کرتی دکھائی دیں گی جو ایک مضبوط اور خود مختار خاتون ہوتی ہیں۔

ثنا جاوید کے مطابق ان کا کردار اپنے پورے خاندان سے اچھے تعلقات کی وجہ سے منفرد ہوتا ہے، تاہم ان کا کردار اپنے والد کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر سمیرا ایک بہادر اور دبنگ خاتون کے روپ میں دکھائی دیں گی جو ہر ناانصافی پر آواز بلند کرنا جانتی ہے اور اسے اپنا حق بھی سمجھتی ہے۔

میکال ذوالفقار اور ثنا جاوید ڈرامے میں رومانوی کردار میں دکھائی دیں گے—فوٹو: انسٹاگرامen
میکال ذوالفقار اور ثنا جاوید ڈرامے میں رومانوی کردار میں دکھائی دیں گے—فوٹو: انسٹاگرامen

اداکارہ کے مطابق ان کا کردار نہ صرف اپنے ساتھ ناانصافیوں کے لیے لڑنے کے لیے پرعزم ہوتی ہیں بلکہ وہ دوسروں کے ساتھ بھی ایسا ہونے نہیں دیتیں۔

ثنا جاوید نے ڈرامے کی مزید کہانی بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈرامے میں اپنے حقوق کی جنگ لڑتی دکھائی دیں گی اور اسی وجہ سے ہی انہیں یہ ڈرامہ منفرد لگا۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ ہمارے سماج میں عام طور پر خواتین اپنے حقوق کی جنگ نہیں لڑتیں حالانکہ وہ جانتی ہیں کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے لیکن پھر بھی وہ نہیں لڑتیں اور ان کی خواہشات اندر ہی مر جاتی ہیں۔

اداکارہ کے مطابق ہمارے میں اپنے حقوق کے لیے لڑنے والی خواتین کو بھی اچھا نہیں سمجھا جاتا، تاہم ڈرامے میں اس خیال کو منفرد انداز میں دکھایا جائے گا۔

ثنا جاوید سے قبل اداکار میکال ذوالفقار نے ڈان کو اپنے کردار کے حوالے سے بتایا تھا کہ میرے کردار کا نام سلمان ہوگا جو کمرشل ایئرلائن کا پائلٹ ہوگا، وہ سمیرا نامی ڈاکٹر سے محبت کرتا ہے جس کا کردار ثنا جاوید نبھارہی ہیں، یہ ایک دلچسپ رومانوی کہانی ہے جس میں کئی اتار چڑھاو آئیں گے’۔

اداکار کے مطابق ‘یہ ڈرامہ ایک خاص موضوع پر مبنی ہے، جس میں ثنا کے کردار کے ساتھ ایک ایسا واقعہ پیش آئے گا جو میں ابھی شیئر نہیں کرسکتا، ان دونوں کرداروں کی رومانوی کہانی میں کئی چیلنجز بھی آئیں گے، ان کی شادی ہوجانے کے بعد بھی سب کچھ جلدی ٹھیک نہیں ہوگا’۔

خیال رہے کہ ڈرامے کی کہانی نائلہ انصاری نے تحریر کی ہے جب کہ روبینہ اشرف نے اس کی ہدایات دی ہیں۔

ڈرامے کی کاسٹ میں عثمان پیرزادہ، محمد عدیل، سیمی راحیل، اسامہ طاہر، ارسا غزل اور شرمین علی بھی شامل ہیں۔

ڈرامے کو رواں ماہ 25 ستمبر سے اے آر وائے ڈجیٹل پر نشر کیا جائے گا۔

میکال ذوالفقار کمرشل پائلٹ کا کردار ادا کریں گے—اسکرین شاٹ
میکال ذوالفقار کمرشل پائلٹ کا کردار ادا کریں گے—اسکرین شاٹ

تنقید کے بعد بھارتی گلوکار کا پاکستانی شہری کےشو میں آنے سے انکار

گزشتہ ماہ 5 اگست کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد بھارتی گلوکار میکا سنگھ کو پاکستان میں پرفارمنس کرتے دیکھا گیا تھا۔

میکا سنگھ کی پاکستان میں پرفارمنس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد بھارتی فلم تنظیم فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سنی ایمپلائز (ایف ڈبلیو آئی سی ای) نے گزشتہ ماہ 15 اگست کو ان پر پابندی عائد کردی تھی۔

ایف ڈبلیو آئی سی ای کے مطابق کشیدہ حالات کے وقت میکا سنگھ کو پاکستان جاکر پرفارمنس نہیں کرنا چاہیے تھی اور بعد ازاں گلوکار نے تنظیم سے پاکستان میں پرفارمنس کرنے پر معافی بھی مانگی تھی۔

میکا سنگھ کی جانب سے معافی مانگے جانے کے بعد تنظیم نے ان پر عائد پابندی کو ختم کردیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ میکا سنگھ اب ایسی غلطی نہیں کریں گے۔

میکا سنگھ کے بعد ایک اور بھارتی گلوکار دلجیت دسانج نے بھی پاکستانی نژاد امریکی شہری کی جانب سے امریکا میں منعقد کیے جانے والے میوزک کنسرٹ میں پرفارمنس کرنے کی حامی بھری تھی اور انہیں بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

دلجیت دسانج کی جانب سے پاکستانی نژاد امریکی شہری ریحان صدیقی کی جانب سے امریکا میں کیے جانے والے ایک شو میں رواں ماہ 21 ستمبر کو پرفارمنس کرنا تھی۔

اطلاعات تھیں کہ دلجیت دسانج نے ریحان صدیقی کی دعوت قبول کرتے ہوئے ان کے شو میں پرفارمنس کی حامی بھرلی تھی اور بھارتی گلوکار کی پرفارمنس کی تصاویر بھی چھپوا کر شائع کردی گئی تھیں۔

دلجیت دسانج کی جانب سے پاکستانی شہری کے شو میں پرفارمنس کی حامی بھرنے کے بعد بھارتی فلم تنظیم ’فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سنی ایمپلائز‘ کو برا لگا اور اس نے میکا سنگھ کی طرح دلجیت دسانج کو بھی پاکستانی شہری کے شو میں پرفارمنس سے روکا۔

ابتدائی طور پر تنظیم نے دلجیت دسانج کو میڈیا کے ذریعے پیغام دیا کہ وہ امریکا میں پاکستانی شخص کے شو میں پرفارمنس کا پروگرام ملتوی کردے، دوسری صورت میں اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

تاہم بعد ازاں تنظیم نے بھارتی وزارت خارجہ کو ایک خط لکھ کر گلوکارہ کا امریکی ویزا منسوخ کرنے کی سفارش کی اور کہا کہ دلجیت دسانج وطن اور قوم سے بڑھ کر دشمن ملک کے شہری کے پروگرام کو اہمیت دے رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے ’ایشین نیوز انٹرنیشنل‘ اے این آئی‘کے مطابق ایف ڈبلیو آئی سی ای کی جانب سے وزارت خارجہ کو لکھے گئے کھلے خط میں کہا گیا ہے کہ تنظیم نے دلجیت دسانج کو اپنا دورہ منسوخ کرنےکا کہا ہے۔

تنظیم نے اپنے خط میں وزارت خارجہ کو لکھا کہ اگر دلجیت دسانج نے اپنا امریکی شو منسوخ نہیں کیا تو حکومت ان کا ویزا منسوخ کردے اور انہیں کسی طرح بھی پاکستانی شہری کے شو میں پرفارمنس کرنے کے لیے جانے نہیں دینا چاہیے۔

تنظیم نے وزارت خارجہ کو دلجیت دسانج کا ویزا منسوخ کرنے کی درخواست کی اور کہا کہ ملک اور قوم سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔

تاہم وزارت خارجہ کی جانب سے ویزا منسوخ کیے جانے سے قبل ہی دلجیت دسانج نے پاکستانی شہری کے میوزک کنسرٹ میں جانے سے انکار کردیا۔

دلجیت دسانج نے اپنے ٹوئیٹ میں اعلان کیا کہ انہوں نے 21 ستمبر کو امریکا میں منعقد میوزک کنسرٹ میں پرفارمنس کرنے کا پروگرام منسوخ کردیا۔

دلجیت دسانج نے لکھا کہ ان کے لیے ملک اور قوم سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے شکوہ کیا کہ تنظیم نے انہیں براہ راست خط لکھنے کے بجائے میڈیا کے ذریعے پیغام دیا، تاہم انہوں نے تنظیم کے اسی پیغام پر ہی اپنا پروگرام منسوخ کردیا۔

صبا قمر کی سرمد سلطان کھوسٹ کو مبارکباد

لاہور: اداکارہ صبا قمر نے سرمد سلطان کھوسٹ کو ان کی نئی فلم ’’زندگی تماشا‘‘ کے بوزان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں اسکریننگ کےلیے منتخب ہوجانے پر مبارکباد دی ہے۔

سوشل میڈیا پر سرمد سلطان کھوسٹ کے نام اپنے تہنیتی پیغام میں صبا قمر نے کہا کہ وہ انہیں دوست سے زیادہ فیملی کی طرح سمجھتی ہیں۔ انہوں نے اپنے پیغام میں سرمد کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا: ’’مجھے فخر ہے کہ تم پیسہ کمانے کےلیے فلم نہیں بناتے بلکہ شوبز انڈسٹری میں کچھ کر دکھانے کےلیے فلم بناتے ہو… اور تم اپنی فلمیں دل و جان سے بناتے ہو۔ اللہ تمہیں وہ ساری کامیابی دے جس کے تم حقدار ہو۔‘‘

بوزان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول ہر سال جنوبی کوریا کے شہر بوزان میں منعقد ہوتا ہے جہاں اسکریننگ کےلیے دنیا بھر کے ڈائریکٹرز اور پروڈیوسرز اپنی فلمیں جمع کرواتے ہیں جن کی تعداد عموماً سیکڑوں میں ہوتی ہے۔ ان میں سے صرف چند فلمیں ہی اسکریننگ کےلیے منتخب ہو پاتی ہے۔ اس لحاظ سے یہ عالمی سطح پر پاکستانی فلم انڈسٹری کی بہت اہم کامیابی ہے۔

واضح رہے کہ یہ 2015 میں شہرت پانے والی ’’منٹو‘‘ کے بعد، بطور ڈائریکٹر، سرمد سلطان کھوسٹ کی ایک اور بڑی فلم ہے جس میں وہ خود بھی چھوٹے سے کردار میں نظر آئیں گے۔ زندگی تماشا کی مرکزی اداکارہ سامعہ ممتاز ہیں جبکہ یہ فلم پاکستان میں بھی جلد ریلیز کےلیے تیار ہے۔

سرمد سلطان کھوسٹ مشہور کامیڈین اور پاکستان کے ورسٹائل اداکار عرفان کھوسٹ کے بیٹے ہیں جنہوں نے اپنے کیریئر کی ابتداء مزاحیہ کرداروں سے کی لیکن جلد ہی اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے تقریباً ہر طرح کے رولز کو چیلنج سمجھ کر قبول کیا اور ہر روپ میں بہترین اداکاری سے اپنی صلاحیتوں کو منوایا۔ اداکاری کے ساتھ ساتھ انہوں نے ڈراموں میں ہدایت کاری بھی کی اور پھر وہ فلموں میں بھی ہدایت کاری کرتے نظر آئے۔

سعادت حسن منٹو کی زندگی پر بننے والی فلم ’’منٹو‘‘ کی نہ صرف ہدایت کاری سرمد سلطان نے کی بلکہ اس فلم میں وہ خود بھی منٹو کے کردار میں دکھائی دیئے۔ اس فلم کو دنیا بھر سے ناقدین نے بہت سراہا جبکہ یہ باکس آفس پر بھی کامیاب رہی۔

پاکستانی فلم ڈارلنگ وینس فلم فیسٹیول میں ایوارڈ جیتنے میں کامیاب

پاکستانی شارٹ فلم ‘ڈارلنگ’ نے وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بہتر مختصر فلم ایوارڈ اپنے نام کرلیا ہے۔

فلم ڈارلنگ لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان شانی اور ایک مخنث خاتون الینا کی دوستی پر مبنی فلم تھی جس کا ورلڈ پریمیئر وینس فلم فیسٹیول میں ہوا۔

الینا کا کردار الینا خان نے ادا کیا جو کہ لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک مخنث خاتون ہیں۔

اس فلم کی ہدایات 28 سالہ صائم صدیق نے دیں جو کہ لاہور سے تعلق رکھتے ہیں اور اس وقت کولمبیا یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہیں۔

یہ پہلی بار ہے جب ایک پاکستانی فلم کی اسکریننگ وینس فلم فیسٹیول میں ہوئی اور وہ ایوارڈ بھی جیتنے میں کامیاب رہی۔

وینس فلم فیسٹیول کو فلمی دنیا کا سب سے پرانا فلمی فیسٹیول قرار دیا جاتا ہے اور ڈارلنگ کو بیسٹ شارٹ فلم کا Orizzonti ایوارڈ دیا گیا۔

ڈارلنگ پہلی پاکستانی فلم ہے جو 3 بڑے فلمی فیسٹیول یعنی کانز، برلن اور وینس میں پیش کی گئی۔

فلم کے ڈائریکٹر نے عرب نیوز کو ایک انٹرویو میں بتایا ‘میں نے بغیر توقع کے فلم کا نام بھیجا تھا کہ شاید اسے منتخب کرلیا جائے، اب یہ خوش قسمتی تھی یا کچھ اور، فلم کو منتخب کرلیا گیا’۔

اب اس فلم 10 ستمبر کو ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بھی پیش کیا جائے گا۔

مہوش حیات کی پریانکا چوپڑا کے شوہر کیساتھ تصویر وائرل

نیو یارک: پاکستانی اداکارہ مہوش حیات کی امریکی گلوکار نک جونس کے ساتھ تصویر انٹرنیٹ پر وائرل ہوگئی ہے۔

رواں سال تمغہ امتیاز حاصل کرنے والی پاکستان کی کامیاب ترین اداکارہ مہوش حیات ان دنوں فیملی کے ہمراہ امریکا میں چھٹیاں گزار رہی ہیں اور ایسے میں وہ نیویارک میں جاری ٹینس ٹورنامنٹ یو ایس اوپن دیکھنے پہنچ گئیں جہاں ان کی ملاقات بالی ووڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا کے شوہر نک جونس سے ہوئی۔

مہوش حیات نے امریکی گلوکار نک جونس کے ہمراہ تصویر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ڈالتے ہوئے کہا کہ ’یو ایس اوپن مینس سیمی فائنل‘ کے دوران نک جونس اور میری ایک بات مشترک تھی کہ ہم دونوں ہی رافیل نڈال کو سپورٹ کررہے تھے۔

واضح رہے مہوش حیات وقتاً فوقتاً مودی حکومت اور بالی ووڈ کو مختلف طریقوں سے تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں جب کہ پاکستان اور بھارت کی حالیہ کشیدگی کے دوران یونیسف کے امن کی سفیر ہونے کے باوجود جنگ کو سپورٹ کرنے پر مہوش حیات نے بھارتی اداکارہ پریانکا چوپڑا کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔

سال کے سب سے بولڈ فلمی مناظر سے بھرپور ’ہسلر‘

دنیا میں 2 سال قبل شروع ہونے والی ’می ٹو مہم‘ کے بعد اگرچہ خواتین کو بولڈ اور جنسی طور پر پرکشش دکھانے والی فلموں میں کمی آئی ہے۔

تاہم جلد ہی ریلیز ہونے والی ہولی وڈ فلم ’ہسلر‘ میں خواتین کو نہ صرف بولڈ کردار دکھایا جائے گا بلکہ انہیں ایسے جرائم بھی کرتے ہوئے دکھایا جائے گا جنہیں دیکھنے کے بعد ممکنہ طور پر فلم کی ٹیم کو تنقید کا نشانہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ’ہسلر‘ کی کہانی کوئی فکشن نہیں بلکہ وہ ایک حقیقی واقعے سے لی گئی ہے۔

’ہسلر‘ فلم کی کہانی 2015 میں ’نیویارک میگزین‘ کے ذیلی میگزین ’دی کٹ‘ میں شائع ہونے والے ایک تحقیقاتی مضمون سے متاثر ہوکر لکھی گئی ہے۔

فلم میں 50 سالہ جینیفر لوپیز کو انتہائی بولڈ انداز میں دیکھا جا سکے گا—اسکرین شاٹ
فلم میں 50 سالہ جینیفر لوپیز کو انتہائی بولڈ انداز میں دیکھا جا سکے گا—اسکرین شاٹ

فلم کی کہانی صحافی جیسیکا پریسلر کے 2015 میں لکھے گئے مضمون جو انہوں نے نیویارک کے ڈانس کلب میں کام کرنے والی چند خواتین کی بولڈ اور بلیک میلنگ پر مبنی زندگی کے حوالے سے تحریر کیا تھا، پر مبنی ہے۔

جیسیکا پریسلر اپنے مضمون میں نیویارک کے چند ڈانس کلبز میں پرفارمنس کرنے والی ایسی خواتین کی کہانیاں سامنے لائی تھیں جو 18 سال قبل سن 2000 میں امریکا میں آنے والے معاشی بحران سے تنگ آکر امیر مرد حضرات کو بلیک میل کرتی ہیں۔

مضمون میں بتایا گیا تھا کہ کس طرح ڈانس کلبز میں بولڈ اور پول ڈانس کرنے والی خواتین امریکا میں معاشی بحران آنے کی وجہ سے غربت کی زندگی میں چلی گئی تھیں اور کس طرح لوگوں نے ڈانس کلبز میں آنا اور ان خواتین کے ساتھ پیسوں کے عوض وقت گزارنا چھوڑ دیا تھا۔

فلم کی کہانی خواتین ڈانسرز کے ایک گروہ کے گرد گھومتی ہے—اسکرین شاٹ
فلم کی کہانی خواتین ڈانسرز کے ایک گروہ کے گرد گھومتی ہے—اسکرین شاٹ

یہ مضمون امریکا میں بہت مقبول ہوا تھا اور اسی مضمون پر خاتون صحافی کو ایوارڈ بھی ملا تھا اور اب اسی ہی مضمون پر خاتون فلم ساز لورین سفاریا نے ’ہسلر‘ فلم بنائی ہے۔

لورین سفاریا نے ہی مضمون سے متاثر ہوکر اس فلم کی کہانی لکھی ہے اور اس میں معروف گلوکارہ و اداکارہ جینیفر لوپیز، کانسٹنس وو، جولیا اسٹائلز، کی کے پالمر، گلوکارہ کار ڈی بی، للی رنارٹ اور اداکارہ لیزو شامل ہیں۔

فلم میں یہ تمام خواتین ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں اور ان تمام اداکاراؤں و گلوکاراؤں نے ڈانس کلب کی ڈانسرز کا کردار ادا کیا ہے۔

فلم کو صحافی جیسیکا پریسلر کے مضمون سے متاثر ہوکر بنایا گیا—فوٹو: جیسیکا بلاگ
فلم کو صحافی جیسیکا پریسلر کے مضمون سے متاثر ہوکر بنایا گیا—فوٹو: جیسیکا بلاگ

فلم کا پہلا ٹریلر رواں برس جولائی میں جاری کیا گیا تھا، جس میں ان اداکاراؤں کو انتہائی بولڈ مناظر کے ساتھ امیر مرد حضرات کو بلیک میل کرتے ہوئے اور انہیں لُوٹتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

اس فلم کو رواں ماہ 13 ستمبر کو ریلیز کیا جائے گا، تاہم گزشتہ روز 7 ستمبر کو اسے کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں ہونے والے ’ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول‘ میں پیش کیا گیا تھا۔

ٹورنٹو فلم فیسٹیول میں ’ہسلر‘ کی کہانی اور مناظر کو سراہا گیا اور اسے سال کے بہترین بولڈ مناظر والی فلم قرار دیا گیا۔

فلم کی ہدایات لورین سفاریا نے دی ہیں—فوٹو: ہولی وڈ رپورٹر
فلم کی ہدایات لورین سفاریا نے دی ہیں—فوٹو: ہولی وڈ رپورٹر

فلم کے جاری کیے گئے ٹریلر کے ابتدائی سین کو ماہرین نے سال کا سب سے بہترین ’عریاں سین‘ قرار دیا، جس میں گلوکارہ جینیفر لوپیز کو ساتھی اداکارہ کو پول ڈانس کی تربیت دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ فلم نہ صرف اچھی کمائی کرنے میں کامیاب ہوگی بلکہ ’می ٹو مہم‘ کے بعد مرد و خواتین کے لیے پیدا ہونے والے خیالات کو بھی دور کرنے میں کامیاب جائے گی۔

اسلام قبول کرنے والی آئرش گلوکارہ کی موسیقی میں واپسی

ماضی میں مسیحی مذہب کی پیروکار اور مسیحیت پر تنقید سمیت اپنے متنازع جنسی رجحانات کی وجہ سے ہر وقت خبروں میں رہنے والی آئرلینڈ کی معروف گلوکارہ شنیڈ او کونر نے گزشتہ برس اکتوبر میں اسلام قبول کرکے سب کو حیران کردیا تھا۔

52 سالہ گلوکارہ نے کئی سال تک مسیحیت اور مسیحی مذہبی علما بشمول ویٹی کن سٹی اور پوپ فرانسس پر تنقید کے بعد اسلام قبول کیا تھا اور اسلام کو ایک آفاقی مذہب قرار دیتے ہوئے اس کے دائرے میں داخل ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

شنیڈ او کونر نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام تبدیل کرکے شہدا ڈیوٹ صداقت رکھا تھا۔

گلوکارہ کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے پر آئرلینڈ کے فنکار، صحافی، سیاستدان اور ان کے مداح حیران رہ گئے تھے۔

شنیڈ او کونر کو اچھوتے فیشن متعارف کرانے والی گلوکارہ بھی کہا جاتا رہا ہے—فوٹو: فیمس فکس
شنیڈ او کونر کو اچھوتے فیشن متعارف کرانے والی گلوکارہ بھی کہا جاتا رہا ہے—فوٹو: فیمس فکس

اگرچہ انہوں نے دائرہ اسلام میں آنے سے قبل ہی موسیقی سے دوری اختیار کرلی تھی، تاہم انہوں نے میوزک کو باقاعدہ خیرباد نہیں کہا تھا۔

اسلام قبول کرنے کے 10 ماہ بعد اب پہلی مرتبہ شہدا ڈیوٹ صداقت کی موسیقی کی دنیا میں واپسی ہوئی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ پہلی بار مکمل اسلامی لباس میں ٹی وی پر جلوہ گر ہوئیں۔

برطانوی اخبار ’ڈیلی میل‘ کے مطابق دائرہ اسلام میں داخل ہونے والی گلوکارہ پہلی بار ملک کے معروف ٹی وی چینل کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے ٹاک شو میں شریک ہوئیں۔

شنیڈ او کونر کا شمار 1980 سے 1995 تک کی مشہور گلوکاراؤں میں ہوتا ہے–فوٹو: رفائنری
شنیڈ او کونر کا شمار 1980 سے 1995 تک کی مشہور گلوکاراؤں میں ہوتا ہے–فوٹو: رفائنری

شہدا ڈیوٹ صداقت پہلی مرتبہ ٹی وی پر آئیں تو مکمل اسلامی لباس میں دکھائی دیں۔

گلوکارہ نے جسم کو مکمل ڈھاپنے والا سرخ رنگ کا لباس پہن رکھا تھا اور انہوں نے سر کو حجاب سے ڈھانپ رکھا تھا۔

گلوکارہ نے زندگی کے 50 سال گزارنے کے بعد اسلام قبول کیا—فوٹو: کپ کارول
گلوکارہ نے زندگی کے 50 سال گزارنے کے بعد اسلام قبول کیا—فوٹو: کپ کارول

دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں وہ مکمل اسلامی لباس میں ٹی وی پر نظر آئیں، وہیں انہوں نے اسی لباس میں تقریباً 5 سال بعد دوبارہ اپنی آواز کا جادو چلایا۔

گلوکارہ نے اپنے ماضی کے مشہور گانے ’نتھنگ کمپیئرز ٹو یو’ کو گانے سمیت دیگر گانوں پر بھی اسی شو میں پرفارمنس کی اور گیتوں پر پرفارمنس کے دوران بھی وہ اسلامی لباس میں دکھائی دیں۔

گلوکارہ کی جانب سے اسلامی لباس میں پرفارمنس کرنے کے بعد ان کے گانے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئے اور ان کے مداحوں نے اپنی پسندیدہ گلوکارہ کی موسیقی کی دنیا میں واپسی پر اطمینان کا اظہار کیا۔

گزشتہ 10 ماہ سے گلوکارہ کو اسلامی طرز کے لباس میں دیکھا گیا ہے—فوٹو: ڈبلیو ای این این
گزشتہ 10 ماہ سے گلوکارہ کو اسلامی طرز کے لباس میں دیکھا گیا ہے—فوٹو: ڈبلیو ای این این

پروگرام میں گانوں پر پرفارمنس کرنے سمیت انہوں نے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد اپنی زندگی میں آنے والی تبدیلیوں پر بات بھی کی اور اعتراف کیا کہ اب ان کی زندگی پر سکون ہے۔

شہدا ڈیوٹ صداقت کا کہنا تھا کہ انہوں نے کئی سال تک اپنے ساتھ مذہبی عقائد کے حوالے سے جنگ لڑنے کے بعد اسلام کو قبول کیا اور انہیں لگتا ہے کہ وہ اس ہی مذہب کے لیے بنی تھیں۔

خیال رہے کہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے سے قبل شنیڈ او کونر کٹر مسیحی تھیں اور ان کا خیال تھا کہ خواتین بھی پادری بننے کا حق رکھتی ہیں۔

گلوکارہ کو طویل عرصے بعد اپنے ماضی کے مقبول گیت گاتے سنا گیا—فوٹو: ڈبلیو ای این این
گلوکارہ کو طویل عرصے بعد اپنے ماضی کے مقبول گیت گاتے سنا گیا—فوٹو: ڈبلیو ای این این

شنیڈ او کونر کو ان کے کٹر مسیحی خیالات کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا تھا اور وہ بھی ویٹی کن سٹی سمیت پوپ فرانسس اور دیگر مذہبی رہنماؤں پر کھل کر تنقید کرتی تھیں۔

شنیڈ او کونر کو آئرلینڈ کی شہرت یافتہ گلوکارہ کا اعزاز حاصل ہے، ان کا شمار 1980 سے 1995 کی سب سے زیادہ مشہور آئرش گلوکاراؤں میں ہوتا ہے۔

گلوکارہ کو حجاب کے ساتھ اسلامی لباس میں پہلی بار گلوکاری کرتے دیکھا گیا—اسکرین شاٹ
گلوکارہ کو حجاب کے ساتھ اسلامی لباس میں پہلی بار گلوکاری کرتے دیکھا گیا—اسکرین شاٹ

شنیڈ او کونر اپنے جنسی رجحانات کی وجہ سے بھی تنقید کا سامنا کرتی رہی ہیں، انہوں نے ماضی میں اعتراف کیا تھا کہ وہ ہم جنس پرست بھی رہی ہیں۔

شنیڈ او کونر نے 4 شادیاں کیں اور ان کے 4 بچے بھی ہیں، ان کی تمام شادیاں طلاق پر ختم ہوئیں اور وہ اب دادی بھی بن چکی ہیں، انہوں نے ماضی میں اعتراف کیا تھا کہ ان کے تین خواتین سے بھی جنسی تعلقات رہے ہیں۔

انہیں ماضی میں آئرلینڈ کی بولڈ گلوکارہ بھی کہا جاتا تھا، وہ ماضی میں نت نئے فیشن متعارف کرانے کی وجہ سے بھی جانی جاتی تھیں اور یہاں تک وہ اپنے سر کے بال بھی منڈوا لیتی تھیں۔

تاہم دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد انہیں مکمل اسلامی لباس اور حجاب کے ساتھ دیکھا گیا ہے اور انہیں گزشتہ 10 ماہ میں کسی بولڈ حالت میں نہیں دیکھا گیا اور نہ ہی ان کی جانب سے کوئی متنازع بیان سامنے آیا ہے۔

Google Analytics Alternative