صحت

ہائی بلڈ پریشر میں مفید غذائیں

اگر انسان کو ہائی بلڈ پریشر سے نجات حاصل کرنی ہے تو اسے فوری طور پر نمک والی خوراک متروک کرنا ہوگا

لاہور جب ہم بے احتیاطی کرتے ہیں تو خوراک ہماری دشمن بن جاتی ہے ۔ ہم بے احتیاطی میں وہ سب غذائیں لیتے ہیں جو مضر صحت ہوتی ہیں مثلاً ہمیں سب سے پہلے نمک کی مقدار کم سے کم کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے لیکن عموماً ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو نمکین غذاؤں اور کچا نمک کھانے سے رغبت ہوا کرتی ہے ۔ اگر ہائی بلڈ پریشر روکنا ہے تو نمک کو تقریباً خوراک سے نکالنا ہوگا یا اثر زائل کرنا ہوگا ۔ ذیل میں نمک کا توڑ کرنے والی غذاؤں کے بارے بتایا گیا ہے ۔
کیلا

سوڈیم یا نمک کی زیادتی بلڈ پریشر بڑھادیتی ہے تو اس کا اولین توڑ پوٹاشیم سے کیجیے جو کیلے میں وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق دن بھر میں صرف دو کیلوں کا استعمال دس فیصد تک بلڈ پریشر کنٹرول کردیتا ہے ۔
ٹماٹر:ٹماٹر میں Lycopeneموجود ہے اور یہ جزو بلڈ پریشر کی شرح کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے ۔ روزانہ کی خوراک میں کچی سلاد شامل کرکے خراب کولیسٹرول کی شرح بہت حد تک کم کی جاسکتی ہے ۔ بھاپ میں ٹماٹر گلا لیجیے ۔ گردوں کے مسائل نہ ہوں تو بیجوں سمیت ورنہ بیج کے بغیر کھائیں ، آرام محسوس کریں گے۔

انڈے کی سفیدی

اپنے دن کا آغاز اچھے ناشتے سے کرنا ضروری ہے اور اسے طرز زندگی میں شامل کرنا اور بھی اہمیت رکھتا ہے ۔ دن کے آغاز میں ہمارے جسم کو پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے ۔ کم از کم ایک انڈے کی سفیدی تو کھائی جاسکتی ہے ۔
تربوز:موسم گرما میں بلاناغہ ہرروز تھوڑا سا تربوز خالی پیٹ کھانا مفید ہے ۔ یہ دوران خون کو کنٹرول رکھتا ہے ۔
کشمش:کشمش کی تھوڑی مقدار ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مفید ہے ۔
سبز چائے

سیاہ چائے اور کافی کی مقدار کو کم سے کم کرکے سبز چائے کو معمول بنانا چاہیے۔ چھ ہفتوں تک تین کپ سبزچائے کا روزانہ استعمال سات پوائنٹس تک کمی لاسکتا ہے۔
سمندری یا ہمالیائی نمک

عام نمک میں وہ معدنیات سوڈیم اور کلورائیڈ موجود ہیں جبکہ دوسرے(سمندری یا ہمالیائی) میں ستر سے زائد معدنیات موجود ہیں جو ہمارے اعصابی نظام اور دل کی کارکردگی کے لیے ضروری ہیں ۔ آخر الذکر میں سوڈیم کی مقدار بے حد معمولی ہوتی ہے ۔ زیادہ سوڈیم سے ہمارے جسم میں پانی جمع رہتا ہے جس کے نتیجے میں خون کی مقدار بڑھ جاتی ہے ۔
مچھلی اور اس کاتیل

مچھلی اور اس کے تیل کے سپلی منٹ دونوں دل کی بیماریوں اور ہائی بلڈ پریشر کے لیے مفید ہیں۔
اخروٹ، بادام ، تخم بالنگا اور دلیہ:صنوبری بادام، اخروٹ، دلیے میں ملا کر کھانے سے ہائی بلڈ پریشر کنٹرول ہوتا ہے ۔ تخم بالنگا کو شربت می استعمال کیا جاتا ہے ۔ یہ پیٹ کی گرمی دور کرنے کے علاوہ دوران خون کو بھی اعتدال میں لاتا ہے ۔ چند دانے صاف پانی میں بھگو کررکھ دیں یہ پھول جائیں گے تو لال شربت ملا کر پی لیں ۔ روزانہ کھلی فضا میں گہری سانسیں لینے سے بلڈ پریشر نارمل ہونے کی جانب مائل ہوتا ہے ۔ اس کے ساتھ بلڈ پریشر کی مانیٹرنگ اور باقاعدہ ورزش ضروری ہے ۔

دنیا کا ہر پانچواں شخص تمباکو کا عادی

دنیا بھر میں تمباکو کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی کوششوں کے باوجود تاحال ہر پانچواں شخص اس کا عادی ہے۔

اس وقت عالمی سطح پر 4 ارب 70 کروڑ افراد تک تمباکو سے دور رہیں یا ’نو سموکنگ‘ کا پیغام پہنچایا جا رہا ہے، لیکن اس کے باوجود بھی اس کے استعمال میں کمی واقع نہیں ہو رہی۔

   عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق 2007 تک نو سموکنگ اور تمباکو سے پرہیز جیسے پیغامات صرف ایک ارب افراد تک پہنچائے جاتے تھے، لیکن اب اس کی تعداد تین گنا بڑھ چکی ہے۔

لیکن اس کے باوجود اس وقت بھی ہر دس اموات میں سے ایک موت تمباکو کے استعمال کی وجہ سے ہو رہی ہے، جو سالانہ 70 لاکھ اموات بنتی ہیں۔

مصنوعی مٹھاس سے جان لیوا امراض کا خطرہ، تحقیق

ماہرین کے مطابق مصنوعی مٹھاس سے موٹاپا، کولیسٹرول کا بڑھنا، بلڈ پریشر اور دیگر امراض جیسے شکایات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا استعمال انتہائی مضر صحت ہے اس سے اکثر وزن میں تیزی سے اضافہ ہوتاہے اور موٹاپا تیزی سے بڑھتا ہے۔

جب کہ مصنوعی مٹھا س سے میٹابولزم، گٹ بیکٹیریا اور بھوک پر بھی منفی اثرات پڑتے ہیں۔

کینیڈا کی مینی ٹوبا یونیورسٹی میں کی جانے والی تحقیق کے مطابق چینی کے متبادل کوئی مصنوعی مٹھاس استعمال کرنا یا سکرولوس اور سٹیویا کا استعمال ہائی بلڈ پریشر اور دل کے امراض کا خدشہ زیادہ بڑھا دیتا ہے۔

کینیڈین میڈیکل ایسوسی ایشن جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ایک ہزار سے زائد لوگوں کو 6 ماہ تک مصنوعی مٹھاس دی گئی اور ان کی صحت کا جائزہ لیا گیا جس سے پتا چلا کہ مصنوعی مٹھاس سے وزن کا متوازن رہنا یا کم ہونے کے اثرات سامنے نہیں آئے بلکہ یہ شوگر، موٹاپے، بلڈ پریشر، دل کے امراض اور دیگر بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔

ماہرین کے مطابق مصنوعی مٹھاس صحت کا وزن متوازن اور برقرار رکھنے میں مثبت کردار ادا نہیں کرتی۔ اس لیے اپنی غذا میں خالص مٹھاس شامل رکھیں اور چینی کا استعمال بھی کم سے کم رکھیں۔

پیرس: میلانیا ٹرمپ کا سرپرائز، چلڈرن اسپتال پہنچ گئیں

امریکی خاتون اوّل میلانیا ٹرمپ مریض بچوں کو سرپرائز دینے فرانس کے چلڈرن اسپتال پہنچ گئیں۔ میلانیا ٹرمپ نے فرانس کے دارالحکومت پیرس کے ’نیکر‘اسپتال کا دورہ کیا۔

انہوں نے بیمار بچوں کے ساتھ نہ صرف فرانسیسی زبان میں گپ شپ کی بلکہ خواشگوار موڈ میں وقت بھی گزارا۔ امریکی خاتون اوّل کو اپنے سامنے دیکھ کر بچے بیحد خوش ہوئے۔

واضح رہےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اُنکی اہلیہ میلانیا ٹرمپ اِن دنوں فرانس کے دورے پر ہیں۔

لاہور:جانور کی ہڈی سے جیلی پاؤڈر بنانے والی فیکٹری سیل

پنجاب فوڈ اتھارٹی کےمطابق مریدکے کے ویران علاقے میں قائم فیکٹری میں جانوروں کی ہڈیوں سے پاوڈرتیارکیا جاتا تھا جو بعد میں جیلی بنانے میں استعمال ہوتا تھا۔

پی ایف اے حکام کے مطابق فیکٹری بغیر لائسنس غیر قانونی طریقے سے کام کررہی تھی۔

حکاما کے مطابق چھاپے کے دوران فیکٹری مالکان حلال جانوروں کی ہڈیوں کے حصول کا ثبوت پیش نہ کرسکے اور یہ بھی نہ بتاسکے کہ ہڈیاں کہاں سے آتی ہیں۔

فوڈ اتھارٹی حکام نےیونٹ سیل کرکے مقدمہ درج کرادیا ،اورایک شخص کوگرفتارکرلیا۔

کیلے کا سب سے زیادہ غذائیت سے بھرپور حصہ کونسا ہے؟

کیلے سب کو پسند ہوتے ہیں لیکن کیلے کی ایک چیز ایسی ہے جو لوگ کھانا پسند نہیں کرتے۔

لاہور(نیٹ نیوز) آپ نے دیکھا ہوگا کہ کیلے کا چھلکا جب اتارا جاتا ہے تو اسکے نیچے ریشے نما چیز ہوتی ہے جسے ہم ہٹا دیتے ہیں یہ ’’فلوئم بنڈلز ‘‘کہلاتے ہیں جو صحت کیلئے انتہائی مفید ہوتے ہیں۔

فلوئم ایک کمپلیکس ٹشو ہوتا ہے جو پودے تک غذا اور پانی پہنچاتا ہے جس سے پودے کو درکار غذا، نیوٹرینٹس، منرلز اور پانی حاصل ہوتا ہے اسلئے اسے اتار کر پھینکنے کے بجائے اسے کھا لیں یہ آپ کو تمام ممکنہ غذائیت فراہم کریگا۔

وہ وجوہات جو آپ کے بال گرنے کا سبب بنتی ہیں

امریکی تحقیق کے مطابق روزانہ 50 سے 100 تک بالوں کی لڑیوں کا گرنا قدرتی عمل ہے۔ اس عمل کی وجہ سے نئے بال آتے ہیں اور خام بال گر جاتے ہیں۔

لیکن 100 سے زائد بال گرنا فکر کا باعث ہے۔ ماہرین کے مطابق بالوں کے روازنہ کے گرنے کے عمل سے زائد گرنے کی وجوہات ہارمونز کا تبدیل ہونا ہے اور ان کی چند وجوہات ہوسکتی ہیں۔

ہارمونز میں تبدیلی:

ہارمونز میں تبدیلی دوران حمل ،بچے کی پیدائش کے وقت اور تھارائیڈ کی شکایت کی وجہ سے ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں بال تیزی سے گرتے ہیں ۔ اس دوران ہارمونز مینی فولڈ ہوجاتے ہیں۔

سر میں انفیکشن:

سر میں اسکلپ انفیکشن بھی بالوں کی جڑوں کو کمزور کرتا ہے اور بالوں کی نشوونما کو روکتا ہے۔

اس سے فنگز، پزورائزز اور سیبورہک ڈرماٹائیٹز یعنی خشکی کی شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔ سیبورہک کی شکایت کھوپڑی کی جلد کو زرد اور انتہائی چپچپاکردیتی ہے۔ اس کے باعث خشکی تیزی سے بڑھتی ہے جس سے بالوں کی بڑھنے کی رفتار میں کمی آجاتی ہے جب کہ اس کا اثر ہارمونز کی تبدیلی یا بہت زیادہ سر کی جلد میں تیل جمع ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔

موروثی بالوں کے جھڑنا:

امریکن اکیڈمی آف ڈرماٹولوجی کے مطابق بالوں کے گرنے کی وجہ اکثر والدین یا خونی رشتوں کی وراثت کے طور پر بھی پائی جاتی ہے جو کہ بیماری کی شکل بھی اختیار کرلیتی ہے۔

اس لیے اگر بر وقت اس کا علاج نہ کیا جائے تو بالوں کا گرنا معمول ہوجاتا ہے جسے اینڈروجینٹک ایلوپیسیا کہتے ہیں۔

تھائی رائیڈ کی شکایت:

جب جسم سے بہت کم تھائی رائیڈ ہارمونز فراہم ہورہے ہوتے ہیں تو اس سے ہائیپو تھائی رائیڈزم کی شکایت  ہوتی ہے۔

تھائی رائیڈ ہارمونز انسانی صحت کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا تعلق جسم کے میٹابولک ریٹ سے لے کر بالوں اور ناخن کے بڑھنے تک ہے لیکن جب یہ جسم کو متوازن مقدار میں نہیں ملتے تو جسم کے نظام میں تبدیلی رونما ہونے لگتی ہے جس سے بالوں کے جھڑنے کا عمل پیدا ہوجاتا ہے۔

آئرن کی کمی:

وہ خواتین جو دوران حیض صحت مند غذا لینے میں لاپرواہی کرتی ہیں ان میں اکثر آئرن کی کمی ہوجاتی ہے جس کے تحت بالوں کی نشوونما کمزور پڑ جاتی ہے اور بال گرنے لگتے ہیں۔

بالوں کو رنگنا:

بالوں کو دلکش اور اس کو منفرد اسٹائل سے آراستہ کرنا ہر ایک کی اولین ترجیح ہوتی ہے جس کے لیے خواتین اکثر اسے مختلف رنگوں سے دلکش کرتی ہیں یا ایسے اسٹائل کو اپناتی ہیں جن سے وہ منفرد اور خوبصورت نظر آئیں۔

لیکن بہت زیادہ کیمیکل استعمال کرنے سے بالوں کی چمک متاثر ہوتی ہے اور وہ روکھے بے جان و بے رونق ہوجاتے ہیں جس کے نتیجے میں بال کمزور ہوکر گرنے لگتے ہیں۔

ٹوئٹر پر اب غیر ضروری نوٹی فکیشن کو روکا جاسکے گا

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ٹوئٹر ابھی یہ نیا فیچر ٹیسٹ کررہا ہے تاکہ صارفین جعلی اکاؤنٹس کے خلاف ٹوئٹر کو شکایت کر سکیں جب کہ اس نئے فیچر کو “میوٹ” فیچر کا نام دیا گیا ہے۔

میوٹ فیچر کو استعمال کرنے کے لئے صارفین سیٹنگ میں موجود نوٹیفیکیشن بٹن کا استعمال کریں جس کے بعد غیرضروری پیغامات کو ازخود بند کیاجاسکے گا۔

اس کے علاوہ ٹوئٹر نے اجنبیوں کی طرف سے آنے والے پیغامات کے لئے ایک نیا ان باکس ترتیب دیا ہے جس میں اجنبیوں کی جانب سے آنے والے پیغامات صارفین کے سامنے آنے سے پہلے ہی اسی باکس میں چلے جائیں گے۔

یہ نیا فیچر صارفین کی پریشانی کو مکمل طور پر ختم نہیں کرے گا بلکہ کچھ حد تک لوگوں کو پریشانی اور مصیبت سے بچائے گا۔

خیال رہے کہ سال 2014  میں 23 ملین صارفین کی شکایات ٹوئٹر کو موصول ہوئیں تھیں جس میں غیرضروری نوٹی فکیشن اور اجنبیوں کے پیغامات کی شکایات سب سے نمایاں تھیں۔

Google Analytics Alternative