صحت

انسانی ہڈیوں میں نئی قسم کی خون کی رگیں دریافت

جرمنی: ہمیں انسانی تشریح الاعضا (ایناٹومی) کی درسی کتب کو نئے سرے سے مرتب کرنا ہوگا کیونکہ انسانی ران کی ہڈی میں ایک بالکل مختلف قسم کی نئی رگ (بلڈ ویسل) دریافت ہوئی ہے۔

ہڈی کے اوپر سے ہوکر اندر کی جانب جاتی ہوئی اس رگ کی دریافت سے ہڈیوں کی ساخت، گٹھیا جیسے امراض اور خود امنیاتی نظام کو سمجھنے میں بہت مدد ملے گی۔ جرمنی میں یونیورسٹی آف ڈائس برگ ایسن سے وابستہ پروفیسر میتھائس گونزراور ان کے ساتھیوں نے یہ نئی دریافت کی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم نے انسانوں میں پہلی مرتبہ اس جگہ خون کی رگیں دریافت کی ہیں جہاں ہماری نظر اس سے پہلے نہیں پہنچی تھی۔

پہلے ماہرین نے پہلے مرحلے پر چوہوں کی ہڈی میں خاص کیمیکل شامل کرکے ہڈی کو شفاف بنایا جس کے بعد کئی رگیں ہڈی کو عبور کرتے ہوئے دیکھی گئیں۔ چوہوں کے ٹانگ کی نچلی ہڈی کی جسامت ماچس کی تیلی جتنی ہے جس میں ہزاروں باریک شریانیں (کیپلریز) نظر آئیں جنہوں نے پوری ہڈی کو لپیٹ میں لے رکھا تھا۔

اس کے بعد سائنسدانوں کی ٹیم نے انسانی ران کی ہڈی میں بھی عین اسی طرح کی رگیں اور وریدیں دیکھی ہیں۔ اگرچہ انسانی ہڈیوں کو خون دینے کے لیے دیگر کئی اقسام کی رگیں بھی ہوتی ہیں اور اسی وجہ سے ان نئی رگوں کی تعداد چوہوں کے مقابلے میں قدرے کم دیکھی گئی ہے جنہیں ماہرین نے ’ٹرانس کورٹیکل ویسلز‘ کا نام دیا گیا ہے۔

پروفیسر میتھائس کے مطابق ہڈیوں کے گودے مین امنیاتی خلیات تشکیل پاتے ہیں اور ہڈیوں کی انہیں شریانوں کے ذریعے باقی جسم تک جاتے ہیں اور شاید یہ بات انسانوں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ اس سے قبل سائنسدانوں کی ایک اور ٹیم نے عین اسے طرح کی وریدیں (کیپلریز) چوہوں کے دماغ اور کھوپڑی کے اندر بھی دریافت کی ہیں۔ اس کے بعد ماہرین نے دیکھا کہ فالج اور گردن توڑ بخار کی صورت میں کھوپڑی کے امنیاتی خلیات اسی راستے سے دماغ کے اندر تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اور شاید یہ نقصان کے ازالے کے طور پر کرتے ہیں۔ تاہم انسانوں میں عین ایسا ہی کردار اب تک نہیں دیکھا جاسکا ہے۔

صرف خواتین کی آواز سننے کی حیرت انگیز بیماری میں مبتلا عورت

اگرچہ دنیا بھر میں سماعت سے محروم افراد موجود ہوں گے جو یکساں طور پر ہر جنس کی آواز کو سننے سے محروم ہوں گے۔

تاہم چین کی ایک خاتون ایسی بھی ہیں جو سماعت سے محرومی کی ایک ایسی حیرت انگیز بیماری میں مبتلا ہیں، جن میں وہ صرف مرد حضرات کی آواز نہیں سن سکتیں۔

جی ہاں، چین کی ایک خاتون ایسی بھی ہیں جو اپنی ہم جنس کی ہر آواز تو بخوبی سن لیتی ہیں، تاہم جیسے ہی ان کے ساتھ کوئی مرد بات کرتا ہے تو انہیں کچھ سنائی نہیں دیتا۔

برطانوی اخبار’ڈیلی میل‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ چین کے صوبے فوجیان کے شہر شیامین کی ایک خاتون انتہائی حیرت انگیز بیماری میں مبتلا ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ چین نامی خاتون کو رواں ماہ 10 جنوری کو اچانک اپنے بوائے فرینڈ کی آواز نہ سننے کی شکایت ہوئی تو وہ چیک اپ کے لیے مقامی ہسپتال گئیں۔

رپورٹ کے مطابق جب خاتون معائنے کے لیے ہسپتال پہنچیں تو انہیں پتہ چلا کہ وہ خاتون ڈاکٹر کی آواز سن سکتی ہیں۔

تاہم خاتون اور ان کا معائنہ کرنے والی لیڈی ڈاکٹر کو اس وقت انتہائی حیرت ہوئی جب خاتون کو ہسپتال کے مرد ڈاکٹر کی آواز سنائی نہیں دی۔

خاتون کی عجیب شکایت کے بعد جب ان کا مکمل معائنہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ انہیں (reverse-slope hearing loss) (آر ایس ایچ ایل) نامی بیماری ہے، جس میں کوئی بھی شخص ایک خاص قسم کی آواز کو سننے سے محروم ہوجاتا ہے۔

اس بیماری یا شکایت میں مبتلا افراد زیادہ تر مرد حضرات کی آواز سننے سے محروم ہو جاتے ہیں جب کہ ایسے افراد کو خواتین کی آوازیں سننے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگرچہ یہ بیماری عام نہیں، تاہم اندازہ دنیا بھر میں ہر 13 ہزار افراد میں سے ایک شخص اس مسئلے سے دوچار ہوتا ہے۔

ساتھ ہی رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ بیماری یا مسئلہ کچھ ممالک میں زیادہ پایا جاتا ہے اور شمالی امریکا میں ہر 3 ہزار افراد میں سے ایک شخص اس مسئلے سے دوچار ہوتا ہے۔

اس مسئلے میں مبتلا چینی خاتون کے مطابق وہ رات کو سونے کے بعد صبح اٹھیں تو اپنے بوائے فرینڈ کی آواز سننے کے قابل نہیں تھیں۔

خاتون نے بتایا کہ انہیں اپنے بوائے فرینڈ سمیت کسی بھی مرد کی آواز سنائی نہیں دے رہی، جب کہ انہیں خواتین کی آواز صاف سنائی دے رہی ہے۔

پاکستان میں سانپ کے کاٹے کی سستی ترین ویکسین تیار

نوابشاہ: پیپلز میڈیکل یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی لیبارٹری میں سانپ کے کاٹے کی ویکیسین تیار کر لی گئی۔

سندھ حکومت کی جانب سے اینٹی اسنیک ویکسین اور اینٹی ریبیز ویکسین کی تیاری کے لیے نواب شاہ سے 19کلو میٹر کے فاصلے پر واقع تحصیل سکرنڈ میں سال 2010میں سیرولوجی لیبارٹری کا سنگ بنیاد رکھا گیا،لیبارٹری سے وابستہ سائنس داں ڈاکٹر نعیم قریشی اور ان کی ٹیم نے 4 سال کی تحقیق و تجربات کے بعد سانپ کے کاٹے سے بچاؤ کی ویکسین تیار کرلی۔

تیار کی گئی ویکسین کو عالمی ادارہ صحت سے رجسٹرڈ کرایا گیا اور سال 2016میں پیپلز میڈیکل یونیورسٹی کی ٹیم کے ہمراہ ڈاکٹر نعیم قریشی تھرپارکر گئے اور ویکسین دس مریضوں کو لگائی گئی جس سے تمام مریضوں کی جان بچ گئی اور ان میں کسی بھی قسم کا کوئی سائیڈ افیکٹ بھی نہیں ہوا،ابتدائی طورپر 125وائلز تیار کیے گئے تھے، 10 کے علاوہ مزید 110مریضوں کو بھی ویکسین لگائی گئی اور نتائج 100 فیصد رہے۔

لیب کے سائنٹسٹ ڈاکٹر نعیم قریشی نے بتایا کہ ان کی تیار کی گئی ویکسین پاکستان کی سب سے سستی اور طاقتور ویکسین ہے،بھارت سے امپورٹ کی جانے والی بھارتی اے ایس وی کے 10 سے 12 وائلز ایک مریض کو لگائے جاتے ہیں اور ایک وائل کی قیمت 2ہزار روپے ہے،اسی طرح ایک مریض پر 20ہزار روپے کے اخراجات آتے ہیں، ہماری تیار کی گئی اے ایس وی کا صرف ایک وائل ہی ایک مریض کو لگایا جائے گا۔

پیپلز میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اعظم یوسفانی نے ملاقات میں بتایا کہ سکرنڈ میں بنائی گئی اے ایس وی و اے آر بی سیرولوجی لیبارٹری سندھ حکومت نے ان کی یونیورسٹی کے حوالے کی مگر بجٹ نہیں دیا گیا۔

پی سی ون کے مطابق 250ملین بجٹ درکار ہے،اگر سندھ حکومت انھیں فنڈز فراہم کرے تو وہ ایک سال میں ویکسین تیار کر کے مارکیٹ میں سب سے کم قیمت پر فروخت کے لیے پیش کر سکتے ہیں۔

اونٹنی کا دودھ صحت کے لیے فائدہ مند یا نقصان دہ؟

لگ بھگ ہر ایک ہی گائے کا دودھ پیتا ہے مگر کیا آپ کو یہ معلوم ہے کہ اونٹنی کا دودھ کتنا فائدہ مند ہے؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ اونٹنی کا دودھ ایسے متعدد امراض کا علاج ثابت ہوتا ہے جو کہ گائے کے دودھ سے دور نہیں ہوتے؟

گائے کا دودھ بمقابلہ اونٹنی کا دودھ

اونٹنی کے دودھ کے متعدد فوائد دیگر اقسام کے دودھ سے زیادہ ہوتے ہیں، مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اونٹنی کا دودھ گائے کے دودھ سے زیادہ صحت بخش ہے، یہ ماں کے دودھ کے قریب ہوتا ہے جسے ہضم کرنا آسان ہوتا ہے جبکہ اس کے ساتھ یہ غذائیت سے بھرپور بھی ہوتا ہے۔

دونوں میں فرق کیا ہے؟

اونٹنی کے دودھ میں منرلز جیسے آئرن، زنک، پوٹاشیم، کاپر، سوڈیم اور میگنیشم کا اجتماع گائے کے دودھ کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

اسی طرح اس دودھ میں وٹامن اے اور بی ٹو کی سطھ بھی زیادہ ہوتی ہے اور ہاں پروٹین کی مقدار بھی گائے کے دودھ سے زیادہ ہوتی ہے۔

اونٹنی کے دودھ میں وٹامن سی کی مقدار گائے کے دودھ کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہوتی ہے۔

یہ دودھ جراثیم کش ہوتا ہے جبکہ اس میں کولیسٹرول کی مقدار بھی گائے کے دودھ کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔

اس دودھ کے فوائد

بچوں کی الرجی کے لیے فائدہ مند

یہ دودھ ان بچوں کے لیے مثالی گھریلو ٹوٹکا ہے جو متعدد اقسام کی غذاﺅں سے لارجی کا شکار ہوجاتے ہیں، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اونٹنی کے دودھ کا استعمال بچوں میں گائے کے دودھ یا دیگر غذاﺅں سے ہونے والی الرجی پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے۔

آٹو امیون امراض کے خلاف مزاحمت

آٹو امیون (ایسے امراض جن میں ہمارا مدافعتی جسم ہی صحت مند خلیات پر حملہ آور ہوجاتا ہے) امراض پر قابو پانے کے لیے بھی اونٹنی کا دودھ فائدہ مند ہے، یہ اینٹ باڈیز سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ خارجی باڈیز کو ہدف بناکر امراض کا باعث بننے والے مواد کا خاتمہ کرتے ہیں۔

قوت مدافعت میں اضافہ

اونٹنی کا دودھ اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ جسم میں گردش کرنے والے فری ریڈیکلز کے اخراج میں مدد دیتے ہیں، جس سے مختلف امراض سے تحفظ بھی ملتا ہے۔

عمر کے اثرات کو کنٹرول کرے

اس دودھ میں ایک جز الفا ہائیڈروژل ایسڈ ہوتا ہے جو کہ فائن لائن کو ہموار کرکے جھریوں کی روک تھام کرتا ہے، جس سے عمر بڑھنے سے جسم پر مرتب ہونے والے اثرات سست روی کا شکار ہوجاتے ہیں۔

ورم کش

اس دودھ میں ورم کش خصوصیات بھی ہیں جو کہ کھانسی، جڑوں کے امراض اور دیگر کے علاج میں موثر ثابت ہوتی ہیں۔

ذیابیطس کی روک تھام

اس دودھ میں موجود اجزا ذیابیطس سے تحفظ دینے یا اس سے کنٹرول کرنے میں موثر ثابت ہوتے ہیں، اس مٰں ایک انسولین جیسا پروٹین موجود ہے جو کہ ذیابیطس کے اثرات کو کم کرتا ہے،خون کے لیے اس دودھ میں موجود انسولین کو جذب کرنا آسان ہوتا ہے۔

جسمانی وزن میں کمی کے لیے بھی موثر

اس دودھ میں چکنائی بہت کم ہوتی ہے جو کہ جسمانی وزن میں اضافے کا خطرہ کم کرتی ہے، اس مٰں موجود اجزا بلڈ شوگر لیول کو ریگولیٹ کرتے ہیں جس سے بھی جسمانی وزن میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

علی الصبح یا رات گئے جاگنے والوں میں کیا فرق ہوتا ہے؟

رات گئے تک جاگنا کچھ افراد کی عادت ہوتی ہے اور ایسے افراد کے لیے یہ طرز زندگی کے معمولات کا حصہ بن جاتا ہے۔

کیا آپ بھی ایسے افراد میں شامل ہیں جن کے لیے صبح جلد بستر سے نکلنا بہت مشکل ہوتا ہے؟

یقیناً انسان سونے کے لیے اپنی مرضی کا وقت کا انتخاب کرسکتے ہیں اور وہ رات گئے تک جاگنے یا جلد سو کر علی الصبح اٹھ سکتے ہیں۔

جلد اٹھنے والے صبح جلدی اٹھتے ہیں جبکہ رات گئے تک جاگنے والے علی الصبح تک خوشی سے جاگتے ہیں۔

تو اس کی وجہ یہ ہے کہ درحقیقت انسان 2 قسم کے ہوتے ہیں ایک صبح جلد اٹھنے والے جبکہ دوسرے رات گئے تک جاگنے والے اور ایسا جسمانی گھڑی کے نتیجے میں ہوتا ہے۔

یعنی دماغ کا 20 ہزار عصبی خلیات پر مبنی حصہ دن بھر جسم کا شیڈول مرتب کرتا ہے یعنی ہر نظام کو ریگولیٹ کرتا ہے ہارمون لیول سے لے کر غذا ہضم کرنے تک اور یقیناً اس میں نیند بھی شامل ہے۔

صبح جلد جاگنے والے شام ہوتے ہی تھکاوٹ محسوس کرنے لگتے ہیں جبکہ رات گئے تک جاگنے والوں کو دیر تک ذہنی تھکاوٹ کا احساس نہیں ہوتا۔

مگر جلد سونے والوں کو رات گئے تک جاگنے والوں کے مقابلے میں ذہنی طور پر کچھ سبقت حاصل ہوتی ہے۔

2013 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جلد اور دیر سے سونے والوں کا دماغی اسٹرکچر مختلف ہوتا ہے اور جلد سونے جاگنے والے افراد میں سفید میٹر کا معیار زیادہ بہر ہوتا ہے جس سے عصبی خلیات کو کمیونیکٹ کرنے میں مدد ملتی ہے۔

مگر کیا کوئی اپن سونے جاگنے کے وقت کو بدل سکتا ہے ؟ تو اس کا جواب ہے کہ ایسا کسی حد تک ممکن ہے۔

جسمانی گھڑی عمر کے ساتھ بدلتی رہتی ہے، بچے علی الصبح جاگ جاتے ہیں، نوجوانوں کے لیے دوپہر سے پہلے بستر سے نکلنا مشکل ہوتا ہے، مگر عمر بڑھنے سے لوگوں کے لیے صبح جلد اٹھنا آسان ہونے لگتا ہے۔

اس کے علاوہ جسمانی گھڑی کے شیڈول کو بدلنے کے لیے نیند کے نظام الاوقات کو اپنایا جاسکتا ہے۔

ویسے ایک تحقیق میں سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ ایک جین لوگوں کے رات گئے تک جاگنے، علی الصبح اٹھنے یا ان دونوں کے درمیان رہنے کا تعین کرتا ہے۔

ایک فرد ایک دن میں کتنے کیلے کھا سکتا ہے؟

کیلے دنیا میں سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے پھلوں میں سے ایک ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں اوسطاً ہر سال 18 ملین ٹن کیلوں کی کھپت ہوتی ہے۔

یہ پھل پوٹاشیم اور پیسٹین (فائبر کی ایک قسم) سے بھرپور ہوتا ہے اور اس کے ذریعے جسم کو میگنیشیم، وٹامن سی اور بی سکس بھی مل جاتے ہیں۔

مگر کیا آپ نے کبھی سنا کہ ایک دن میں بہت زیادہ کھانا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے بلکہ یہ تصور بھی موجود ہے کہ بیک وقت 6 سے زائد کیلے کھانے موت کا باعث بھی بن سکتا ہے، کیا یہ واقعی درست ہے؟

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

جیسا اوپر لکھا جاچکا ہے کہ کیلے دنیا کے مقبول ترین پھلوں میں سے ایک ہے جو صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند بھی ہے تو آخر کچھ لوگ سے مہلک کیوں سمجھتے ہیں؟

درحقیقت متعدد افراد کا ماننا ہے کہ کیلے میں موجود پوٹاشیم ایسا جز ہے جو موت کی وجہ بن سکتا ہے، یعنی 6 کیلوں کے ذریعے اتنا پوٹاشیم جزو بدن بن جاتا ہے جو موت کا باعث بننے کے لیے کافی ہے۔

تو پوٹاشیم کتنا خطرناک جز ہے؟ حقیقت میں تو یہ زندگی کے لیے انتہائی ضروری ہے جو کہ جسم کے ہر خلیے میں پایا جاتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق خلیے کے افعال کے لیے پوٹاشیم برقی رو بنانے میں مدد دیتا ہے، یہ دل کی دھڑکن کو مستحکم رکھنے کے ساتھ لبلبے سے انسولین کے اخراج کو حرکت میں لاکر بلڈشوگر بھی کنٹرول کرتا ہے اور سب سے اہم یہ بلڈپریشر کو کنٹرول کرتا ہے۔

دوسری جانب جسم میں پوٹاشیم کی بہت کم یا زیادہ مقدار سے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوتی ہے، پیٹ میں درد، قے اور ہیضے جیسے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اب جہاں تک کیلوں سے جسم میں پوٹاشیم کی مقدار بڑھنے کی بات ہے تو ماہرین کے مطابق کیلوں سے ایسا ہونا لگ بھگ ناممکن ہے۔

درحقیقت پوٹاشیم کی سطح دل کی حرکت روک دینے تک بڑھانے کے لیے ایک فرد کو دن بھر میں 400 کیلے کھانے ہوں گے اور ایسا ممکن نہیں، تو یہ پھل خطرناک نہیں بلکہ صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے۔

بالغ افراد کو روزانہ 3500 ایم جی پوٹاشیم جزو بدن بنانے کا مشورہ دیا جاتا ہے جبکہ ایک اوسط کیلے میں یہ مقدار 450 ایم جی ہوتی ہے، تو ایک وقت میں ایک صحت مند شخص ساڑھے 7 کیلے کھا سکتا ہے جس کے بعد تجویز کردہ حد پوری ہوجاتی ہے۔

مگر ماہرین زیادہ پوٹاشیم والی غذاﺅں کا استعمال گردوں کے امراض کے شکار افراد کے لیے خطرناک قرار دیتے ہیں جن کا یہ عضو زیادہ کام نہیں کرپاتا تو دوران خون میں موجود پوٹاشیم کو کارج کرنا اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا، جو جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔

کیلوں کو اعتدال میں رہ کر کھایا جائے تو کسی قسم کے مضر اثرات مرتب نہیں ہوتے تاہم اگر ایک وقت میں بہت زیادہ مقدار میں کھالیا جائے تو سردرد اور غنودگی کا باعث بن سکتا ہے۔

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اسی طرح چونکہ یہ میٹھا پھل ہے تو اسے زیادہ کھانے پر دانتوں کی صفائی کا مناسب خیال نہ رکھنا دانتوں کی فرسودگی اور ٹوٹنے کا خطرہ بڑھتا ہے جبکہ اس پھل میں چونکہ مناسب مقدار میں پروٹین یا فیٹ نہیں، لہذا جسم غذائیت سے محروم ہوسکتا ہے۔

فوائد

دل کی صحت

کیلے دل کے لیے اچھے ثابت ہوتے ہیں جس کی وجہ ان میں موجود پوٹاشیم ہے اور دل کے افعال کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے، اسی طرح سوڈیم یا نمکیات نہ ہونے کے برابر ہے لہذا یہ شریانوں کو ہائی بلڈ پریشر سے بھی تحفظ دیتا ہے۔ رواں سال ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ کیلے میں موجود پوٹاشیم شریانوں کے لیے فائدہ مند ہے اور ان کے اکڑنے یا سکڑنے کا خطرہ کم کرتا ہے جس سے ہارٹ اٹیک یا فالج جیسے امراض سے تحفظ ملتا ہے۔

ڈپریشن کے خلاف بھی مفید

کیلوں میں موجود ٹرائیپٹوفن نامی جز جسم میں جاکر سیروٹونین میں بدل جاتا ہے جو کہ مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب کرتا ہے، اسی طرح وٹامن بی سکس نیند کو بہتر کرتا ہے جبکہ میگنیشم پٹھوں کو سکون فراہم کرتا ہے۔

نظام ہاضمہ بہتر اور موٹاپے میں کمی

فائبر سے بھرپور ہونے کے باعث کیلے قبض سے تحفظ فراہم کرتا ہیں جبکہ وٹامن بی سکس ذیابیطس ٹائپ ٹو کا شکار ہونے سے بچانے میں مدد دینے کے ساتھ ساتھ موٹاپے میں کمی لاتا ہے، چونکہ اس میں قدرتی مٹھاس ہوتی ہے اور پیٹ کو جلد بھر دیتا ہے لہذا بے وقت منہ چلانے کی عادت پر بھی قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ورزش

جسمانی توانائی کی بحالی اور الیکٹرولائٹس کے باعث کیلے ورزش کرنے والے افراد کے لیے انرجی ڈرنکس سے زیادہ موثر ثابت ہوتے ہیں۔

بینائی

صرف گاجر ہی نہیں بلکہ کیلے بھی بینائی میں بہتری کے لیے فائدہ مند ہے، اس پھل میں کم لیکن نمایاں مقدار میں وٹامن اے ہوتا ہے جو بینائی کے تحفظ کے لیے اہم ترین جز ہے، یہ عام بینائی کو صحت مند رہنے اور رات کی بینائی بہتری لانے والا پھل ہے۔

ہڈیاں

کیلے ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں، ایک تحقیق کے مطابق کیلوں میں ایک جز fructooligosaccharides موجود ہوتا ہے جو معدے میں موجود صحت کے لیے فائدہ مند بیکٹریا کی نشوونما بڑھا کر جسم کی کیلشیئم جذب کرنے کی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے۔

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

کینسر

کچھ شواہد سے عندیہ ملتا ہے کہ اعتدال میں رہ کر اس پھل کو کھانے سے گردوں کے کینسر سے تحفظ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ جو افراد پھلوں اور سبزیوں کو ترجیح دیتے ہیں، ان میں گردوں کے کینسر کا خطرہ چالیس فیصد تک کم ہوجاتا ہے، اور اس حوالے سے کیلے موثر ترین ہے۔ ہر ہفتے چار سے چھ کیلے کھانا گردوں کے کینسر کے خطرے کو کم کرنے کے لیے کافی ہے۔

حمل

برطانوی طبی جریدے دی رائل سوسائٹی میں شائع ایک تحقیق کے مطابق کیلے میں موجود پوٹاشیم حاملہ خواتین کے ہاں لڑکوں کی پیدائش میں مدد دے سکتا ہے، اس تحقیق کے دوران 740 خواتین کا جائزہ لیا گیا اور معلوم ہوا کہ حمل سے قبل زیادہ مقدار میں پوٹاشیم کو کھانے سے لڑکوں کی پیدائش کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

لہسن کے یہ حیران کن فوائد جانتے ہیں؟

ویسے تو لہسن پاکستان میں بیشتر کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے مگر کیا آپ اس کے فوائد جانتے ہیں؟

یقیناً بیشتر افراد کو اس جڑی بوٹی نما سبزی کے بیشتر فوائد کے بارے میں علم نہیں جیسے غیر متوقع طبی فوائد، خوبصورتی اور گھر کی مرمت وغیرہ کے لیے اس کا استعمال۔

اگر آپ بھی ان افراد میں سے ایک ہیں تو لہسن کے یہ چند حیران کن فوائد جاننا ہوسکتا ہے کسی موقع پر کام آجائے۔

دانتوں کے درد سے نجات

دانت کا درد کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے، یہ بتانے کی ضرورت نہیں، اگر آپ کے پاس اس تکلیف سے نجات کے لیے فوری طور پر ڈاکٹر کے پاس جانے کا وقت نہیں، تو لہسن سے مدد لے سکتے ہیں، لہسن سن کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تو بس آپ کو لہسن کو متاثرہ دانت پر رگڑنے کی ضرورت ہے، جس سے درد میں کافی حد تک کمی آتی ہے، اور ڈاکٹر کے پاس جانے کے لیے وقت مل جاتا ہے۔

بالوں کو اگائیں

لہسن آپ کے بالوں کے گرنے کے مسئلے کو ختم کرسکتا ہے جس کی وجہ اس میں شامل ایک جز الیسین کی بھرپور مقدار ہے، یہ سلفر کمپاﺅنڈ پیاز میں بھی پایا جاتا ہے اور ایک طبی تحقیق کے مطابق بالوں کے گرنے کی روک تھام کے لیے موثر ہے۔ لہسن کو کاٹ لیں اور اس کی پوتھیوں کو سر پر ملیں۔ آپ تیل میں بھی لہسن کو شامل کرکے مساج کے ذریعے یہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔

بلڈ پریشر کم کرنے میں مددگار

اگر آپ ہائی بلڈ پریشر کے شکار ہیں تو لہسن کو اپنی غذا کا حصہ بنالیں، یہ شریانوں کو کشادہ کرنے کے ساتھ تناﺅ کم کرتا ہے، ہائی بلڈ پریشر کے ساتھ سردرد کی شکایت رہنے کے ساتھ ساتھ یہ دل پر بوجھ بڑھاتا ہے جس سے ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھتا ہے۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ لہسن کی 4 پوتھیاں روزانہ کھانا بلڈ پریشر کی سطح میں کمی لاتا ہے جبکہ لہسن کھانے سے صحت کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں بھی کمی آتی ہے، جس کے نتیجے میں امراض قلب یا فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

بہتر یاداشت

عمر بڑھنے سے دماغی عمر بھی بڑھتی ہے جس کی وجہ کیمیائی تکسیدی ردعمل ہوتا ہے جو کھانے اور آکسیجن کے استعمال سے ہوتا ہے، اس عمل سے جسمانی توانائی تو بنتی ہے مگر خیلات کو نقصان پہنچتا ہے جبکہ وقت کے ساتھ جلد ڈھلکنے لگتی ہے اور یاداشت کمزور ہوجاتی ہے، مگر لہسن میں دماغ کو عمر کے اثرات سے بچانے کی جادوئی خاصیت ہے اور درمیانی عمر میں اسے کھانا الزائمر امراض کا خطرہ کم کرتا ہے جبکہ نوجوانوں کی یاداشت بہتر ہوتی ہے جبکہ دماغی کارکردگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

اسٹمینا میں اضافہ

لہسن کے استعمال سے دل اور مسلز زیادہ موثر طریقے سے کام کرنے لگتے ہیں اگر آپ کسی کھیل کو کھیلنا پسند کرتے ہیں تو یہ کارکردگی بڑھاتا ہے، لہسن جسمانی تھکاوٹ کم کرتی ہے اور لوگوں کو ٹھنڈے موسم میں بھی جسمانی مشقت کرنے میں مدد دیتی ہے۔

کیل مہاسوں کا خاتمہ

یہ کیل مہاسوں کے لیے ملنے والی ادویات کا مرکزی جز تو نہیں مگر لہسن ایک قدرتی علاج ضرور ہے جو کیل مہاسوں کو خاتمہ کرسکتا ہے۔ اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس بیکٹریا کو ختم کرتے ہیں تو لہسن کی پوتھی کو کیل مہاسے پر رگڑنا موثر ثابت ہوسکتا ہے۔

نزلہ زکام کی روک تھام

اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہونے کے باعث آپ کی غذا میں لہسن کی شمولیت جسم کے دفاعی نظام کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ اگر نزلہ زکام کا شکار ہوجائیں تو دل مضبوط کرکے لہسن کی چائے پی لیں۔ اسے بنانے کے لیے لہسن کو پیس کر پانی مین کچھ منٹ تک ابالیں، اس کے بعد چھان کر پی لیں۔ آپ اس میں تھوڑا سا شہد یا ادرک بھی ذائقے کو بہتر کرنے کے لیے شامل کرسکتے ہیں۔

کان کے انفیکشن کے لیے بھی مفید

کانوں کا انفیکشن ہو تو عام طور پر اینٹی بایوٹیکس ادویات کی مدد لی جاتی ہے مگر لہسن بھی اس حوالے سے موثر ثابت ہوسکتا ہے، خصوصاً بچوں کے لیے بہت فائدہ مند ہے جو بہت چھوٹے ہوں۔ اس کے لیے لہسن کو پیس کر تیل نکالیں، اسے معمولی گرم کریں اور چند قطرے متاثرہ کان میں ٹپکادیں۔

گاڑی کی ونڈ شیلڈ کا کریک ٹھیک کریں

کیا آپ کو معلوم ہے کہ گاڑی کے حوالے سے بھی لہسن جادوئی اثر دکھا سکتا ہے؟ ایک ٹکڑا لیں اور اسے درمیان سے کاٹ لیں، اس کے بعد لہسن کے کٹے ہوئے حصے والے رخ سے ونڈ شیلڈ کے کریک کو رگڑیں، جس کے بعد عرق کو کپڑے سے صاف کردیں۔ یقیناً یہ مستقل حل نہیں مگر اس ٹوٹکے سے اسے زیادہ بدتر ہونے سے بچایا جاسکتا ہے اور ریپیئرنگ کے لیے وقت مل جاتا ہے۔

وزن کو کنٹرول کریں

لہسن جسمانی وزن کو کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق لہسن سے بھرپور غذا سے چربی کے ذخیرے اور وزن میں کمی ہوتی ہے۔ اس کا فائدہ اٹھانے کے لیے لہسن کو روزانہ اپنی غذا کا حصہ بنانے کی کوشش کریں۔

پاﺅں یا جسم میں پھنسی لکڑی کے ریشوں کو نکالیں

لہسن کے ایک ٹکڑے کو متاثرہ جگہ کے اوپر رکھ کر اسے بینڈیج یا ٹیپ سے کور کرلیں۔ اگر پاﺅں میں پھانس چبھی ہے تو جرابوں کو چڑھا لیں اور رات بھر آرام کریں اور صبح اسے ہٹا دیں۔ پھانس کے ساتھ ساتھ درد اور سوجن بھی ختم ہوجائیں گے۔

مچھروں کو دور بھگائیں

سائنسدان پریقین تو نہیں ایسا کیوں ہوتا ہے مگر ایسا نظر آتا ہے کہ مچھروں کو لہسن پسند نہیں۔ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ لہسن کے پیسٹ کو اپنے ہاتھوں اور پیروں پر مل لیتے ہیں انہیں مچھروں کا ڈر نہیں رہتا۔ اس کے لیے آپ لہسن کے تیل، پیٹرولیم جیل اور موم کو ملا کر ایک سلوشن بنالیں جو مچھروں سے تحفظ دینے والا قدرتی نسخہ ثابت ہوگا۔

ہونٹوں پر زخم سے نجات

شدید ٹھنڈ میں ہونٹوں کا پھٹ جانا یا زخم ہوجاتا کافی عام ہوتا ہے تو اس کے علاج کے لیے پیسے ہوئے لہسن کو کچھ دیر تک متاثرہ جگہ پر لگائے رکھیں۔ اس میں شامل قدرتی سوجن کش خصوصیات درد اور سوجن کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

لہسن قدرتی گلیو بھی

کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ لہسن کو کاٹنے کے بعد انگلیاں کس طرح چپکنے لگتی ہیں ؟ اس کی یہ قدرتی خوبی اسے شیشے کے معمولی کریک کو ٹھیک کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس کے لیے لہسن کو پیس لیں اور اس کے عرق کو کریک پر رگڑیں اور اوپر نیچے کے حصے کو صاف کردیں۔

پودوں کو تحفظ فراہم کرے

باغات میں پائے جانے والے کیڑے لہسن کو پسند نہیں کرتے تو اس کی مدد سے ایک قدرتی پیسٹی سائیڈ تیار کرلیاں جس کے لیے لہسن، منرل آئل، پانی اور لیکوئیڈ صابن کو ایک اسپرے بوتل میں آپس میں ملالیں اور پودوں پر چھڑک دیں۔

خارش سے ریلیف

لہسن سوجن کش اجزاءسے بھرپور ہے اسی لیے یہ اچانک ہونے والی خارش سے ریلیف بھی دے سکتا ہے۔ لہسن کے تیل کی کچھ مقدار کو متاثرہ جگہ پر استعمال کریں تو وہاں خارش ختم ہوجائے گی۔

سردیوں میں ورزش کرنا زیادہ فائدے کا باعث

سان فرانسسكو: طبی ماہرین نے کہا ہے کہ سردیوں میں ورزش کرنا گرمیوں کے مدمقابل زیادہ فائدے کا باعث بنتا ہے۔

سائنسی اعتبار سے اس بات کے کئی شواہد مل چکے ہیں کہ سردیوں میں دبکے رہنے کی بجائے اگر ورزش کی جائے تو کیلیوریز جلنے یا ختم ہونے کی رفتار بڑھ جاتی ہے لیکن ضروری ہے کہ آپ گھر سے باہر نکل کر ورزش کی ہمت کریں۔

اگر آپ نے اس سال 10 پاؤنڈ وزن گھٹانے کا عہد کیا ہے تو باہر نکلیں اور سرد موسم میں ورزش کریں۔ سائنس داں اس عمل کی ارتقائی وجہ بتاتے ہیں کیونکہ ہمارے جسم میں موجود بھوری چربی درحقیقت سرد اور غذائی قلت والے اوقات کے لیے ہی جمع ہوتی ہے اور اسے ختم کرنے کا بہترین موقع سردی میں ہی ملتا ہے ہم اس وقت محنت کرکے قدرے تیزی سے ’براؤن فیٹس‘ کم کرسکتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ سردی برداشت کرتے وقت بھی کیلوریز کی کچھ نہ کچھ مقدار کم ہوتی رہتی ہے کیونکہ یہ ایک قدرتی عمل ہے۔ ہارورڈ میڈیکل اسکول سے وابستہ ڈاکٹر سی رونلڈ کیہن جسم میں موجود بھوری اور سخت جان’ بھوری چکنائی‘ پر تحقیق کے لیے مشہور ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’سردیوں میں دل کی دھڑکن سست ہوتی ہے اور اس میں ورزش کا فائدہ گرمیوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے‘۔

اسی لیے سردیوں میں طویل دوڑ قدرے آسان ہوجاتی ہے۔ گرمیوں میں جسم خود کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور یوں تھوڑی دیر دوڑنے کے بعد ہی ہمت کم ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ سردیوں میں ہرقسم کی ورزش فائدہ مند ہوتی ہے اور سردیوں میں ورزش سے انسانی جسم میں لچک اور سخت محنت کی صلاحیت بھی پیدا ہوتی ہے۔

اگر آپ سردیوں میں برف باری والے علاقوں میں رہتے ہیں تو بیلچہ اٹھا کر برف صاف کریں کیونکہ یہ بھی ایک عمدہ ورزش ہے یا پھر جاگرز پہن کر جاگنگ شروع کردیں اور کچھ دیر دوڑنے کی کوشش بھی کیجیے لیکن جسم کو سردی سے بچانےکے لیے مناسب لباس ضرور پہنیں۔

Google Analytics Alternative