صحت

دانتوں میں خلال جان لیوا امراض سے بچائے

خلال کرنا سنت نبوی ہے اور اس پر عمل کرنا آپ کو متعدد جان لیوا امراض سے بچا سکتا ہے۔

تاہم خلال کرنے کو عادت بنالینا صحت مند زندگی گزارنے میں مدد دے سکتا ہے۔

دانتوں کے مسائل، سانس میں بو سے نجات دلانے کے علاوہ بھی یہ عادت مختلف جان لیوا امراض سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

خون کی شریانوں سے متعلقہ امراض سے بچائے

دانتوں کے گرد موجود جھلی میں سوزش مسوڑوں کا ایسا نسگین انفیکشن ہے جو کہ نرم ٹشوز اور ہڈی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مسوڑے گھسنے لگتے ہیں، ڈانت ہلنے لگتے ہیں اور دانتوں کے درمیان خلا پیدا ہونے لگتا ہے۔ یہ مرض پلاک کے نتیجے میں لوگوں کو شکار بناتا ہے، اگر اس مرض کا علاج نہ کرایا جائے تو مسوڑوں کی شدید سوجن خون کی شریانوں سے جڑے امراض کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ دانت کی جھلی میں سوزش میں امراض قلب کا خطرہ دوگنا بڑھ جاتا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ روزانہ برش سے پہلے ایک بار خلال کرنا اور دانتوں پر کم از کم 2 بار دو منٹ تک برش کرنے سے اس مسئلے سے بچا جاسکتا ہے۔

خواتین کو ہارمونز کے مسائل سے بچائے

خواتین کو زندگی کے مختلف حصوں میں ہارمونز کی تبدیلی کا سامنا ہوتا ہے، ہارمونز میں کمی بیشی پر منہ میں موجود بیکٹریا سے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ 2012 کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ مسوڑوں کے امراض اور خواتین کے ہارمونز کے درمیان تعلق موجود ہے۔ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہارمونز میں تبدیلیاں منہ میں موجود جراثیموں کو بدلتی ہیں، ان کی نشوونما بڑھ جاتی ہے جو دوران خون میں شامل ہوکر ہڈیوں کے بھربھرے پن یا دیگر مسائل کو پیچیدہ بناسکتی ہے۔ محققین نے مشورہ دیا کہ خواتین خاص طور پر اپنے دانتوں کی برش اور خلال کی مدد سے اچھی نگہداشت کریں تاکہ مختلف طبی مسائل سے بچ سکیں۔

جسمانی وزن میں اضافہ روکنے میں ممکنہ مددگار

2010 کی ایک تحقیق کے مطابق دانتوں کی جھلی میں سوزش اور جسمانی وزن میں اضافے کے درمیان تعلق موجود ہے، آسان الفاظ میں دانتوں کی جھلی میں سوزش کے شکار افراد میں موٹاپے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔ تاہم محققین یہ جاننے میں ناکام رہے کہ مسوڑوں کا مرض موٹاپے کا باعث بنتا ہے یا موٹاپا مسوڑوں کے امراض کا باعث بنتا ہے۔ تاہم محققین کا کہنا تھا کہ مسوڑوں میں سوجن کے نتیجے میں تکسیدی تناﺅ پیدا ہوتا ہے جو کہ موٹاپے کا باعث بن سکتا ہے۔

بلڈ شوگر لیول بہتر کرے

ذیابیطس کے مریض اگر مسوڑوں کے امراض کے شکار ہوجائے تو ان میں بلڈشوگر لیول کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت کم ہونے لگتی ہے۔ منہ کی صفائی کا اچھا خیال رکھنا ذیابیطس ٹائپ ٹو پر مثبت اثرات مرتب کرسکتی ہے، ایک تحقیق کے مطابق مسوڑوں کے امراض سے بچنا ذیابیطس کے مریضوں میں A1C کی سطح کو کم کرکے گلوکوز میٹابولزم کو بہتر کرتا ہے۔ جیسا اوپر ذکر کیا جاچکا ہے کہ مسوڑوں کے امراض سے بچنے کے لیے خلال کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

جوڑوں کے امراض سے بچاﺅ

مسوڑوں کی شدید سوجن اور جوڑوں کے امراض کے درمیان تعلق موجود ہے۔ 2008 کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ جوڑوں کے امراض کے شکار افراد میں دانتوں کی جھلی کی سوزش کے امراض کا امکان 8 گنا زیادہ ہوجاتا ہے۔

موسمی امراض سے تحفظ

نمونیا اور نظام تنفس کے دیگر امراض بیکٹریا اور پھیپھڑوں کے وائرل انفیکشن کے نتیجے میں لاحق ہوتے ہیں، جو کہ سردیوں یا فلو کے سیزن میں بہت عام ہوتا ہے۔ 2011 کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ جو مسوڑوں کے امراض کا باعث بننے والے بیکٹریا ہی سانس کی نالی پر حملہ آور ہوتے ہیں اور مختلف امراض کو زیادہ سنگین بنادیتے ہیں، اگرچہ دانتوں کی جھلی میں سوزش براہ راست پھیپھڑوں کے انفیکشن کا باعث نہیں بنتی مگر اس سے جڑے مسائل کو 7 گنا بڑھا ضرور دیتی ہے۔

دوران خون میں مسائل کی خاموش نشانیاں

اس بات پر یقین کرنا مشکل ہوگا مگر ہمارا جسم 60 ہزار میل تک پھیلی خون کی شریانوں کو سنبھالے ہوئے ہے۔

دل اور دیگر پٹھوں کے ساتھ یہ شریانیں خون کی گردش کا نظام تشکیل دیتی ہیں۔

یہ نیٹ ورک خون کو جسم کے ہر کونے تک پہنچاتا ہے تاہم جب یہ نظام مسائل کا شکار ہو تو خون کی روانی سست یا بلاک ہونے لگتی ہے۔

اس کا مطلب ہوتا ہے کہ جسمانی خلیات آکسیجن اور غذائیت ضرورت کے مطابق حاصل نہیں ہو پائیں گے۔

اس ناقص سرکولیشن کی علامات سے واقفیت مسائل کو زیادہ سنگین ہونے سے بچانے میں مدد دے سکتی ہیں۔

ہاتھوں اور ٹانگوں پر اثرات

جب اعضاء کو مناسب مقدار میں خون نہیں ملا تو ہاتھوں یا پیروں میں ٹھنڈک یا سن ہونے کا احساس ہوسکتا ہے، اگر جلد کی رنگت ہلکی ہے تو ٹانگوں پر نیلاہٹ کی جھلک نظر آسکتی ہے۔ اسی طرح ناقص سرکولیشن جلد کو خشک کرسکتی ہے جس کے نتیجے میں ناخن بھربھرے ہوجاتے ہیں جبکہ بال گرنے لگتے ہیں، خصوصاً پیروں کے۔ اگر ذیابیطس کے شکار ہوں تو زخم بھرنے کی رفتار بہت سست ہوجاتی ہے۔

ذہنی افعال میں اچانک کمی

جسم کے دیگر حصوں کی طرح دماغ کو بھی خون کی صحت مند سپلائی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنا کام مناسب طریقے سے سرانجام دے سکے۔ جب دوران خون کی فراہمی میں مسئلہ ہوتا ہے تو دماغی صلاحیتیں بھی متاثر ہوتی ہیں، اگر واضح طور پر سوچنے میں مشکل کا سامنا ہو یا یادداشت میں اچانک خرابی محسوس ہو، تو یہ سرکولیشن کے نظام میں خرابی کی نشانی ہوسکتی ہے۔

کھانے کی خواہش ختم ہوجانا

دوران خون کے نظام میں مسائل کی ایک اور علامت کھانے کی خواہش ختم ہوجانا ہے، غذائی نالی کو غذا ہضم کرنے اور آنتوں تک غذائیت پہنچانے کے لیے خون کی ضرورت ہوتی ہے، جب دوران خون سست پڑتا ہے تو نظام ہاضمہ بہت آسانی سے متاثر ہوجاتا ہے، بھوک کا احساس کم ہوتا ہے، مگر کم کھانا میٹابولزم کو زیادہ متاثر کرسکتا ہے۔

بغیر وجہ نظام ہاضمہ کے مسائل

ناقص سرکولیشن سے صرف کھانے کی خواہش ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ یہ جسم کی غذا سے حاصل ہونے والی غذائیت کو برقرار رکھنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کرتا ہے۔ خون کی مناسب فراہمی کے بغیر اکثر غذائیں درست طور پر ہضم ہوئے بغیر گزر جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں قے یا متلی، بدہضمی یا دیگر نظام ہاضمہ کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔

تھکاوٹ

اس نظام میں گڑبڑ کے نتیجے میں جسم کی آکسیجن، وٹامنز اور منرلز کو ہر حصے میں پہنچانے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے، ایسا ہونے پر جسم ہر ممکن حد تک توانائی بچانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ مشکل وقت پر کام آسکے۔ ایسا ہونے پر ہر وقت تھکاوٹ کا احساس طاری ہوتا ہے جو کہ روزمرہ کے کاموں کو بھی مشکل بنا دیتا ہے۔

سینے میں کھچاﺅ

جب سرکولیشن کا نظام ناقص ہوتا ہے تو دل کو عام معمول کی طرح خون نہیں مل پاتا، اس کے نتیجے میں سینے میں دباﺅ بڑھنے یا کھچاﺅ کا احساس ہوتا ہے، اس علامت کو انجائنا بھی کہا جاتا ہے۔

آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے

ویسے تو سیاہ حلقوں کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں، مگر دوران خون کے نظام میں مسائل میں بھی یہ بہت عام علامت ہوتی ہے۔ اگر یہ جاننا چاہیں کہ سیاہ حلقے سرکولیشن نظام کا نتیجہ تو نہیں تو اس حصے کی جلد کو نرمی سے دبائیں، اگر ایسا کرنے پر جلد کی رنگت ہلکی ہوجائے اور انگلی ہٹانے پر واپس سیاہ ہوجائے تو یہ سرکولیشن مسائل کی جانب اشارہ ہوسکتا ہے۔

ہاتھوں اور پیروں میں سوجن

سنگین کیسز میں خون کی ناقص سرکولیشن کے نتیجے میں ہاتھوں اور پیروں میں سوجن سامنے آسکتی ہے جو کہ غذائیت کے عدم توازن اور جسم کی شریانوں میں سیال کو برقرار رکھنے کی صلاحیت ختم ہونے کا نتیجہ ہوتا ہے۔

تمباکو نوشی موٹاپے کا شکار بھی بنائے

تمباکو نوشی کو متعدد جان لیوا امراض کی جڑ قرار دیا جاتا ہے مگر یہ عادت موٹاپے کا شکار بھی کرسکتی ہے۔

یہ انتباہ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

یالے اور فیئرفیلڈ یونیورسٹیوں کی مشترکہ تحقیق کے مطابق سیگریٹ نوشی کے عادی افراد میں موٹاپے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے کیونکہ شواہد سے معلوم ہوا کہ اس لت کے شکار لوگ دن بھر میں اضافی 200 کیلوریز زیادہ کھالیتے ہیں۔

5 ہزار سے زائد افراد پر ہونے والی تحقیق کے مطابق سیگریٹ نوشی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ کھانے کی خواہش کو دباتی ہے، تاہم اس میں حقیقت نہیں۔

تحقیق کے مطابق سیگریٹ نوش اس لت سے دور افراد کے مقابلے میں زیادہ کھانا کھالیتے ہیں۔

محققین کے مطابق تمباکو نوشی کے عادی عام طور پر اپنی غذا پر توجہ نہیں دیتے کہ وہ صحت کے لیے کتنی فائدہ مند یا نقصان دہ ہے جبکہ پھلوں اور سبزیوں کو زیادہ پسند نہیں کرتے۔

محققین کا کہنا تھا کہ تمباکو نوش افراد ایسی غذائیں پسند کرتے ہیں جن میں کم مقدار میں ہی بہت زیادہ کیلوریز ہوتی ہیں جبکہ اس لت سے دور افراد عام طور پر کم کیلوریز والی غذا کو ترجیح دیتے ہیں۔

اسی طرح سیگریٹ نوشی کرنے والے عام طور پر ورزش سے دور بھاگتے ہیں جبکہ اپنا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں۔

محققین نے دریافت کیا کہ کبھی کبھار سیگریٹ نوشی کرنے والے افراد بھی اس لت سے دور رہنے والوں کے مقابلے میں زیادہ کیلوریز جزو بدن بناتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق تمباکو نوشی کے عادی افراد کی ناقص غذا، سیگریٹ میں موجود زہریلے مواد وغیرہ ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بہت زیادہ بڑھاتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل بی ایم سی پبلک ہیلتھ میں شائع ہوئے۔

جسمانی طور پر فٹ افراد کی یہ علامات آپ میں ہیں؟

اچھی صحت کے لیے جسمانی فٹنس ضروری ہوتی ہے مگر آپ کس حد تک فٹ ہیں؟

اس کا فیصلہ کیسے کیا جاسکتا ہے ؟ درحقیقت اس کے لیے کسی ماہر کی ضرورت نہیں بلکہ کچھ روزمرہ کے پیمانوں کی مدد سے یہ جانا جاسکتا ہے۔

ہوسکتا ہے کہ آپ جسمانی طور پر خود کو فٹ نہ سمجھتے ہوں مگر ہوسکتا ہے کہ آپ صحت مند ہوں اور اس کا احساس نہ ہو، جس کی علامات درج ذیل ہیں۔

دل کی دھڑکن

جسمانی طور پر صحت مند افراد کی دل کی دھڑکن کی رفتار کچھ سست ہوتی ہے، ایسے افراد کا دل زیادہ موثر طریقے سے پمپ کرتا ہے۔ صبح اٹھ کر دل کی دھڑکن کی رفتار چیک کریں، عام طور پر دل کی دھڑکن کی معمول کی رفتار 60 سے 100 فی منٹ ہوتی ہے، اگر یہ نمبر اس سے زیادہ ہوں تو یہ ہائی بلڈپریشر، امراض قلب یا دیگر مسائل کا اشارہ ہوسکتا ہے۔

چہل قدمی میں دوستوں سے پیچھے نہ رہنا

کیا آپ اپنے ساتھیوں کی رفتار کا ساتھ دے پاتے ہیں؟ مناسب رفتار میں چہل قدمی، جاگنگ یا سیڑھیاں چڑھنے میں؟ اگر تو کچھ دیر تیز چلنے یا سیڑھیاں چڑھنے پر سانس بری طرح پھول جاتا ہے تو آپ ممکنہ طور پر جسمانی طور پر فٹ نہیں۔ اگر سانس کی رفتار کنٹرول پر رہتی ہے اور آپ اسے دوستوں کے ساتھ بھی قابو میں رکھتے ہیں تو آپ اپنے خیال سے زیادہ بہتر جسمانی ساخت کے حامل ہیں۔

بہتر ریکوری ٹائم

طبی ماہرین کے مطابق اپنے ریکوری ٹائم پر توجہ دیں، اگر جسمانی سرگرمیوں کے بعد دل کی دھڑکن کی رفتار 5 منٹ سے کم وقت میں معمول پر آجاتی ہے تو آپ جسمانی طور پر اچھی شیپ میں ہیں۔ ریکوری کا یہ وقت جتنا تیز ہوگا اتنے ہی زیادہ آپ فٹ ہوں گے۔ کسی قسم کی جسمانی سرگرمی جیسے ورزش کے بعد اپنے دل کی دھڑکن کو دیکھیں اور دیکھیں کتنی دیر میں وہ معمول پر آتی ہے۔

ورزش کے عادی

چاہے کچھ زیادہ سخت ورزش نہ بھی کرتے ہوں، کسی حد تک جسمانی سرگرمیاں بھی مثبت فرق پیدا کرنے کے لیے کافی ہیں، یعنی ہفتہ بھر میں 150 منٹ تک ورزش کرنا، فٹ رکھنے کے لیے کافی ثابت ہوسکتا ہے۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن نے بالغ افراد کو مشورہ دیا ہے کہ ہفتہ بھر میں 5 دن 30 منٹ تک معتدل جسمانی سرگرمیوں کو اپنانا چاہیے۔

بچوں کی دیکھ بھال

بچوں کے ساتھ فرش پر گھٹنوں کے بل چلنا، ان کے اسٹرولر کو چلانا اور دیگر بھاگ دوڑ بیشتر والدین کی زندگی کا حصہ ہوتی ہے، اگر آپ 5 سے 6 کلو کے بچے کو آسانی سے اٹھا کر چل پاتے ہیں یا کوئی بوجھ محسوس نہیں ہوتا تو اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ آپ جسمانی طور پر فٹ ہیں۔

سیڑھیوں سے ڈر نہیں لگتا

جب آپ کے سامنے لفٹ یا سیڑھیاں چڑھنے کا آپشن ہو تو کس کا انتخاب کریں گے؟ اگر آپ سیڑھیوں کا انتخاب کرتے ہیں تو آپ توقعات سے زیادہ فٹ ہوسکتے ہیں۔ درحقیقت جو لوگ سیڑھیوں کو ترجیح دیتے ہیں وہ اس عادت سے دور رہنے والوں کے مقابلے میں زیادہ فٹ ہوسکتے ہیں۔

ورک آﺅٹ

اگر آپ ہفتے میں ایک مرتبہ جم جاکر ورک آﺅٹ کرتے ہیں، تو جسم کو اس کا بہت زیادہ فائدہ ہوتا ہے کیونکہ مختلف مسلز کی تربیت ہوتی ہے۔ جسم مضبوط بنانے والی ٹریننگ، یوگا، دوڑنا، اور دیگر۔ اگر مختلف طرح کی ورزشوں کو اپناتے ہیں تو جسمانی طور پر فٹ رہنا بہت آسان ہوجاتا ہے۔

اچھی نیند

کیا آپ مناسب نیند کے مزے لوٹتے ہیں؟ دن بھر توانائی کی سطح کیا ہوتی ہے؟ اگر آپ رات کو 7 سے 8 گھنٹے سوتے ہیں اور دن بھر جسمانی طور پر تھکن کا احساس نہیں ہوتا تو یہ جسمانی فٹنس کی اہم علامت ہے۔ خیال رہے کہ ورزش کرنے کے عادی افراد کی نیند بہتر ہوتی ہے۔

اچھی ذہنی صحت

جسمانی سرگرمیوں اور ذہنی صحت کے درمیان تعلق بہت واضح ہے، ورزش کرنے کی عادت ذہنی صحت کو ذہنی بے چینی، ڈپریشن اور چڑچڑے پن کو کم کرکے بہتر کرتی ہے، جبکہ خوداعتمادی اور دماغی افعال میں بہتری پیدا ہوتی ہے۔

توند نکلنا جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھائے

آپ موٹاپے کا شکار نہیں مگر پھر بھی توند نکل رہی ہے تو یہ دل کی صحت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

یہ انتباہ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

مایو کلینک کی تحقیق میں بتایا گیا کہ جن لوگوں کی کمر پھیل جاتی ہے اور پیٹ باہر نکل آتا ہے، ان میں ہارٹ اٹیک یا فالج کا خطرہ دوگنا بڑھ جاتا ہے اور ایسے افراد کو اپنا طبی معائنہ لازمی کرانا چاہئے۔

موٹاپا اس وقت ایک عالمی وبا بن چکا ہے مگر اس نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ چاہے لوگ موٹاپے کے شکار نہ بھی ہو، مگر ان کی توند دل کی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ توند میں اضافی چربی جمع ہوتی ہے جو کہ ابنارمل فیٹ ڈسٹری بیوشن کا باعث بنتی ہے۔

اور یہ چربی بہت زیادہ خطرناک ہوتی ہے، جو کہ معدے کے ٹشوز کی گہرائی میں اکھٹی ہوتی ہے اور اہم ترین اعضاءکے قریب ہوتی ہے۔

یہ چربی ایسے کمپاﺅنڈ خارج کرتی ہے جو کہ جگر کے افعال کو نقصان پہنچاتے ہیں، جبکہ ہائی بلڈ پریشر اور نقصان دہ کولیسٹرول کا خطرہ بڑھتا ہے جبکہ انسولین کی حساسیت کا امکان بھی ہوتاہ ے جو کہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کا باعث بن سکتا ہے۔

محققین نے انتباہ کیا کہ اگر آپ کی توند نکل چکی ہے تو اپنے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔

محققین نے ایسے افراد کا جائزہ لیا جو عام جسمانی وزن کے حامل تو تھے مگر ان کی توند نکل چکی تھی اور ایسے افراد میں دل کے مسائل کی شرح زیادہ پائی گئی۔

2 دہائیوں تک ان رضاکاروں کی صحت کا جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ نکالا گیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ عام وزن کے باوجود توند نکلنا دل کے مسائل کا خطرہ دوگنا بڑھا دیتا ہے، خصوصاً ہارٹ اٹیک یا فالج کا۔

انہوں نے کہا کہ توند نکلنا عام طور پر سست طرز زندگی، لو مسلز ماس اور بہت زیادہ ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس کھانے کا نتیجہ ہوتا ہے، خصوصاً مردوں میں تو چربی اسی جگہ جمع ہوتی ہے، لہذا توند نکلنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج یورپین ایسوسی ایشن آف پرینیٹو کارڈیالوجی کے سالانہ اجلاس میں پیش کیے جائیں گے۔

ہاتھوں کی گرفت سے دماغی صحت کی پیشگوئی کرنا ممکن

کسی شخص کے ہاتھوں کی گرفت سے اس کی دماغی صحت کی لگ بھگ درست پیشگوئی کی جاسکتی ہے۔

یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آیا۔

مانچسٹر یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ درمیانی عمر یا اڈھیر عمری میں کسی شخص کی جسمانی مضبوطی سے اس کے دماغ کے صحت مند ہونے کی پیشگوئی کی جاسکتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ جن لوگوں کی گرفت مضبوط ہوتی ہے وہ مسائل حل، یاداشت کے ٹیسٹوں اور دلائل دینے میں بہتر ہوتے ہیں اور وہ مختلف حالات میں تیز ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔

لگ بھگ 5 لاکھ افراد کے ڈیٹا بیس کا جائزہ لے کر محققین نے نتیجہ نکالا کہ جن افراد کے ہاتھوں کی گرفت مضبوط ہوتی ہے وہ بہتر دماغ کے بھی حامل ہوسکتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ ورزش دماغی طاقت کو بڑھانے کا اچھا ذریعہ ثابت ہوسکتی ہے۔

اس سے قبل ماضی میں تحقیقی رپورٹس میں یہ ثابت ہوچکا کہ جن لوگوں کی ہاتھ کی گرفت کمزور ہوتی ہے، ان کے دماغ میں وائٹ میٹر کی سطح کم ہوجاتی ہے۔

اس نئی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ مضبوط گرفت والے افراد منطقی مسائل کو بہت جلد حل کردیتے ہیں اور انہیں چیزیں یاد رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اگر مسلز کو مضبوط بنایا جائے تو دماغ بھی صحت مند ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے جرنل Schizophrenia Bulletin میں شائع ہوئے۔

جگر کے لیے فائدہ مند اور نقصان دہ غذائیں

جگر انسانی جسم کا انتہائی اہم عضو ہے جو غذا کو ہضم ہونے، توانائی کے ذخیرے اور زہریلے مواد کو نکالنے کا کام کرتا ہے۔

تاہم مختلف عادات یا وقت گزرنے کے ساتھ جگر کو مختلف امراض کا سامنا ہوسکتا ہے اور وائرسز جیسے ہیپاٹائٹس اے، بی اور سی سمیت دیگر جان لیوا بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ہر سال 19 اپریل کو جگر کے امراض کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے جگر کا عالمی دن مانا جاتا ہے۔

آپ اپنے جگر کو مختلف بیماریوں سے بچانا چاہتے ہیں تو ان صحت مند غذاؤں کو اپنالیں، جبکہ نقصان دہ کھانوں سے گریز کریں۔

سبز پتوں والی سبزیاں

اپنی پلیٹ کو سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک یا ساگ وغیرہ سے جتنا بھریں گے، اتنا ہی جگر کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ یہ سبزیاں قدرتی طور پر جگر کی صفائی میں مدد دیتی ہیں۔

ہلدی

ہلدی ایسا مصالحہ ہے جو صحت کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند سمجھا جاتا ہے، اور یہ جگر کی صحت کے لیے بھی موثر ثابت ہوتا ہے جو جگر کے خلیات کو دوبارہ بننے میں مدد دیتا ہے۔

اچھی چربی

صحت کے لیے فائدہ مند فیٹ یا چربی جیسے زیتون کے تیل، وغیرہ جگر کی صفائی کے لیے اچھے سمجھے جاتے ہیں۔

وٹامن سی

وٹامن سی سے بھرپور غذائیں جیسے ترش پھل وغیرہ زہریلے مواد کی صفائی کرکے جگر پر چربی چڑھنے کا خطرہ کم کرتی ہیں۔

پانی کا زیادہ استعمال

پانی کی کمی جسم میں مختلف مسائل کا باعث بنتی ہے جن میں جگر کے افعال بھی شامل ہیں۔ روزانہ 8 سے 10 گلاس پانی کا استعمال جگر کی صفائی کے عمل کو بہتر بناتا ہے جو اسے امراض سے بچانے کے لیے بہت ضروری ہے۔

اومیگا تھری فیٹی ایسڈ

جنک فوڈ کا استعمال کم اور اومیگا تھری ایسڈز سے بھرپور غذا کا زیادہ استعمال جگر کی صحت کے لیے ضروری ہوتا ہے، جنک فوڈ میں موجود چربی جگر پر جم جاتی ہے جو سوجن اور دیگر عوارض کا باعث بنتی ہے جبکہ جسم کے لیے مناسب چربی اس سوجن کے خلاف جدوجہد کرتی ہے۔

اجناس کا استعمال

چینی، سفید آٹے اور پراسیس فوڈ کا استعمال کم کریں اور سبزیوں، پھلوں اور اجناس کو ان کی جگہ ترجیح دیں جو موٹاپے ، ذیابیطس سمیت مختلف امراض سے تحفظ تو دیتے ہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ جگر کو بھی صحت مند رکھتے ہیں۔

کیا آپ کو علم ہے کہ کونسی غذا جگر کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے؟

چربی سے بھرپور غذائیں

جنک یا فاسٹ فوڈ چربی سے بھرپور خوراک ہے جو جگر کو صحت مند رکھنے کے حوالے سے انتہائی تباہ کن انتخاب ثابت ہوتی ہے۔ ایسی غذا کو اکثر کھانا جگر کے لیے اپنا کام کرنا مشکل ترین بنا دیتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ جگر میں ورم ہوسکتا ہے جو جگر کے زخم وغیرہ میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ تو فاسٹ فوڈ کا کم از کم استعمال جگر کے لیے فائدہ مند ہے۔

چینی

بہت زیادہ میٹھا کھانے کے شوق کی قیمت بھی جگر کو چکانا پڑتی ہے (ذیابیطس اور دیگر امراض کا خطرہ الگ بڑھتا ہے)، اس کی وجہ یہ ہے کہ جگر کا کام ہی شکر کو چربی میں بدلنا ہے، اگر خوراک میں مٹھاس بہت زیادہ ہوگی تو جگر بہت زیادہ چربی بنانے لگے گا جو آخر میں وہاں جمع ہونے لگے گی جہاں اسے نہیں ہونا چاہیے، طویل المعیاد بنیادوں پر یہ فیٹی لیور امراض کا باعث بنتا ہے، تو منہ میٹھا کرنے کا شوق بہت زیادہ نہیں ہونا چاہئے۔

بہت زیادہ نمک

جسم کو نمک کی ضرورت ہوتی ہے مگر اتنی زیادہ نہیں جتنی خوراک میں استعمال کی جاتی ہے۔ زیادہ نمک والی غذاؤں کے نتیجے میں جگر کے امراض کی ابتدائی سطح کا سامنا ہوسکتا ہے جس سے بچنا آسان ہے یعنی نمک کا معتدل استعمال۔ اسی طرح پراسیس غذائیں بھی بہت زیادہ نمک پر مشتمل ہوتی ہیں جو جگر کے لیے نقصان دہ ہے۔

چپس اور بیکری کی چیزیں

اگر تو آپ کو چپس اور بیک ہونے والے اسنیکس پسند ہیں تو یہ جان لیں کہ وہ چینی، نمک اور چربی سے بھرپور ہوتے ہیں، جن کے نقصانات آپ اوپر پڑھ ہی چکے ہیں، اگر بے وقت بھوک لگی ہے تو پھل اس کا زیادہ بہتر متبادل ہیں۔

الکحل

الکحل فیٹی لیور کے مرض کی سب سے بڑی وجہ ہے اور ویسے بھی یہ صحت کے لیے انتہائی تباہ کن ہے تو اس سے دور رہنا ہی بہتر ہے۔

سرخ گوشت زیادہ کھانا

سرخ گوشت میں چربی بہت زیادہ ہوتی ہے اور اس کا زیادہ استعمال جگر کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

ناشتہ کرنا صحت کے لیے ضروری کیوں ہے؟

کہا جاتا ہے کہ ناشتہ دن کی سب سے اہم غذا ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایسا کیوں ہے؟

اگر نہیں تو جانیں کہ طبی سائنس ناشتے کے کن فوائد کو اب تک سامنے لاچکی ہے۔

جسمانی وزن میں کمی

ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ اکثر ناشتہ نہیں کرتے ان میں موٹاپے کا خطرہ 50 فیصد تک بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ دن بھر میں جنک فوڈ یا ناقص غذا کا استعمال ہوتا ہے۔

ذہنی کارکردگی بہتر کرے

ایک اور تحقیق میں بتایا کہ ناشتہ کرنا درحقیقت توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے جبکہ یہ یاداشت میں بہتری لانے کے ساتھ دیگر ذہنی افعال کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

صحت بخش غذا کا زیادہ استعمال

یہ بات سائنسی طور پر طے ہوچکی ہے کہ جو لوگ ناشتہ کرنے کے عادی ہوتے ہیں وہ صحت کے لیے فائدہ مند غذاﺅں کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

میٹابولزم کے لیے فائدہ مند

صبح اٹھنے کے بعد اچھا ناشتہ میٹابولزم کی کارکردگی کو بڑھاتا ہے جس کے نتیجے میں چربی گھلنے کا عمل تیز ہوجاتا ہے۔

بسیار خوری سے بچاﺅ

اگر صبح اچھا ناشتہ کیا ہو تو آپ دن کے وقت بہت زیادہ بھوکے نہیں ہوتے اور دوپہر کے کھانے میں حد سے زیادہ غذا کھانے سے گریز کرتے ہیں۔

جسمانی کارکردگی میں بہتری

ناشتہ جسم کو وٹامنز اور نیوٹریشن فراہم کرتا ہے، جس کے نتیجے میں جسمانی توانائی بڑھتی ہے اور آپ جسمانی طور پر کام کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔

امراض کا خطرہ کم

ایک صحت بخش ناشتہ ذیابیطس، بلڈ پریشر اور دیگر امراض کا خطرہ نمایاں حد تک کم کرتا ہے (تاہم اگر وہ بہت زیادہ چکنائی پر مشتمل ہو تو)۔

مزاج بہتر بنائے

سننے میں تو عجیب لگے گا مگر صبح کے وقت جو اجزاءجسم کا حصے بنتے ہیں وہ ذہنی طور پر خوشی کا احساس پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

دل کی صحت میں بہتری

صحت بخش ناشتہ بلڈ کولیسٹرول لیول کو بہتر بناتا ہے اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کولیسٹرول امراض قلب کا خطرہ بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Google Analytics Alternative