صحت

نیند میں طاری ہونے والی چند کیفیات و عادات اور ان سے نجات کا حل

نیند انسان کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنی زندہ رہنے کے لیے غذا۔ نیند پوری نہ ہو تو اگلے دن کے کارہائے زندگی انجام دینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایک بھرپور نیند روزمرہ کے معمولاتِ زندگی کو پُرسکون بنانے کے لیے بہت ہی ضروری ہے۔ اگر پُرسکون نیند نہ ہو تو تھکن، بے چینی اور کئی نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ دورانِ نیند کون سی مختلف کیفیات و عادات ہماری نیند میں خلل کا باعث بنتی ہیں، آئیے ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

خواب خرامی: (سلیپ واکنگ)

نیند میں چلنا نیند اور بیداری کے بیچ کی ایک کیفیت کا مظہر ہے۔ اس کیفیت کے دوران آدمی اپنے بستر سے اُٹھ کر چلنا شروع کردیتا ہے اور اس کیفیت کا شکار شخص اپنی حرکت سے مکمل لاعلم ہوتا ہے۔ اس کیفیت میں آدمی کا بستر سے اٹھ کر بیٹھ جانا، باتھ روم جانا، گھومنا یا گھر سے باہر نکل جانا، صفائی کرنا اور ایسی مختلف حرکات کرنا شامل ہوسکتی ہیں۔

خواب خرامی کرنے والے افراد کی آنکھیں کھلی ہوتی ہیں، مگر وہ مکمل طور پر اس سے لاعلم ہوتے ہیں۔ تھکاوٹ، شراب نوشی، بے چینی، بیماری یا کچھ ادویات کے اثر سے بھی آدمی اس کیفیت کا شکار ہوسکتا ہے۔ اس کیفیت میں شدت آنے کی صورت میں معالج سے رجوع کیا جانا چاہیے۔ کچھ ایسے طریقے بھی ہیں جن کو اپنا کر اس کیفیت میں کمی لائی جاسکتی ہے۔

نیند میں چلنا نیند اور بیداری کے بیچ کی ایک کیفیت کا مظہر ہے
نیند میں چلنا نیند اور بیداری کے بیچ کی ایک کیفیت کا مظہر ہے

خواب کلامی (سومنیلوقی یا سلیپ ٹاکنگ)

خواب کلامی بھی ایک طرح کی کیفیت ہے جس میں کوئی شخص نیند کے دوران باتیں کرتا ہے یا یوں کہیے کہ منہ سے آوازیں نکالتا ہے۔ انسان نیند کے دوران اس کیفیت میں بڑبڑاتا، چلاتا، عجیب و غریب بے معنی الفاظ بولتا ہے۔

وہ آوازیں بے معنیٰ بھی ہوسکتی ہیں اور دن بھر میں ہونے والے حالات کے بارے میں بھڑاس نکالنا بھی۔ نفسیاتی مسائل، شراب نوشی، کم خوابی، ذہنی دباؤ وغیرہ بھی خواب کلامی کا باعث ہوسکتے ہیں۔ خواب کلامی کے شکار فرد کو اپنی اس کیفیت کا اس وقت تک بالکل بھی احساس نہیں ہوتا، جب تک کہ اسے اس کی آوازیں ریکارڈ کروا کر نہ سنائی جائیں۔

یہ ایک بے ضرر عادت ہے۔ اس میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اکثر خواب خرامی یا ڈراؤنا خواب سے متاثرہ افراد بھی اس کا شکار ہوسکتے ہیں۔ فی الوقت تک اس کا کوئی مکمل علاج نہیں پایا جاتا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ کیفیت خود بہ خود ٹھیک ہوجاتی ہے۔

روزانہ کی نیند کا شیڈول بنانے، شراب نوشی سے پرہیز، اسٹریس یا دباؤ سے بچنے اور رات کے وقت بھاری بھرکم کھانا کھانے سے گریز کرنے سے بھی اس عادت سے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے۔ اگر یہ کیفیت شدت اختیار کرجائے تو کسی اچھے معالج سے رجوع کرلینا چاہیے۔

ہائپنک جرک (نیند میں جھٹکا)

نیند کے دوران اگر کسی شخص کو اچانک جھٹکا لگتا ہے تو اس کیفیت کا نام ہائپنک جرک ہے۔ اس کیفیت میں انسان کو ایسا بھی محسوس ہوسکتا ہے کہ جیسے وہ کسی اونچی جگہ سے گر رہا ہو۔ یہ کیفیت اکثر نیند کے آغاز میں یا کچی نیند میں طاری ہوتی ہے۔ جب ہم سوتے ہیں تو ہمارے جسم کے پٹھے سکون کی حالت میں آتے ہیں اور اچانک مسلز کے کھچاؤ (کونٹریکشن) کی وجہ سے جھٹکا محسوس ہوتا ہے اور ہم بیدار ہوجاتے ہیں۔ زیادہ تر تھکاوٹ، اسٹریس کی وجہ سے نیند میں جھٹکا محسوس ہوتا ہے اور یہ ایک نارمل مظہر ہے۔

نارکولیپسی (خوابی دورے):

اس کیفیت کے شکار افراد کو کہیں بھی کسی بھی وقت نیند آنے لگتی ہے، یہ نیند کے جھٹکے اتنے شدید ہوتے ہیں کہ آدمی اچانک سے سو جاتا ہے۔ یہ نیند کے جھٹکے چند سیکنڈز سے کئی منٹوں پر مشتمل ہوسکتے ہیں۔ اس کیفیت کے شکار افراد کے لیے ڈرائیونگ یا مشینری وغیرہ کے کام خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔

اس بیماری کی وجوہات مکمل طور پر واضح نہیں ہوسکیں، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ یہ جینیاتی مرض ہے۔ ہارمونل تبدیلیاں، اسٹریس، ابنارمل نیند وغیرہ بھی اس مرض کا باعث بنتی ہیں۔ اس مرض کی شدت کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرلینا چاہیے۔

سلیپ پیرالیسز

اس کیفیت میں دورانِ نیند ریپیڈ آئی موومینٹ (نیند میں آنکھ کے پپوٹوں کی حرکت) سے ہمارا ذہن تو بیدار ہوجاتا ہے مگر جسم ابھی آرام کی حالت میں ہی ہوتا ہے اور مفلوج رہتا ہے۔ اس کیفیت کا سامنا کر رہے انسان کو خوفناک شکلیں دبوچتی نظر آتی ہیں، اس کے علاوہ ڈراؤنے خواب آتے ہیں اور ہیلوسنیشن (hallucinations) بھی ہوسکتی ہے۔

سلیپ پیرالیسز کی کیفیت میں دورانِ نیند ریپیڈ آئی موومینٹ (نیند میں آنکھ کے پپوٹوں کی حرکت) سے ہمارا ذہن تو بیدار ہوجاتا ہے مگر جسم ابھی آرام کی حالت میں ہی ہوتا ہے
سلیپ پیرالیسز کی کیفیت میں دورانِ نیند ریپیڈ آئی موومینٹ (نیند میں آنکھ کے پپوٹوں کی حرکت) سے ہمارا ذہن تو بیدار ہوجاتا ہے مگر جسم ابھی آرام کی حالت میں ہی ہوتا ہے

امیرکن اکیڈمی آف سلیپ میڈیسن کے مطابق اس کیفیت کی کئی ایک وجوہات ہوسکتی ہیں، جن میں اینگزائٹی، شراب نوشی، ذہنی دباؤ، کم خوابی وغیرہ شامل ہیں۔ اکثر لوگ اس کیفیت کو جنات کا سایہ بھی سمجھتے ہیں۔ اپنے نیند کے شیڈول کو بہتر بنا کر اس کیفیت سے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے۔ شدت کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے تو کچھ علاج طریقوں کی مدد سے اس کیفیت سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔

خراٹے

نیند کے دوران سانس میں رکاوٹ کی وجہ سے آوازوں کا لرزش کے ساتھ نکلنا خراٹے کہلاتا ہے۔ ویسے خراٹے نقصاندہ نہیں ہوتے، لیکن ان کی شدت کسی حد تک نقصاندہ ہوسکتی ہے اور فالج یا دل کے دورے پڑنے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔

خراٹوں کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں، جن میں موٹاپا، ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماری یا شراب نوشی کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ خراٹے آپ کے پارٹنر کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں۔ اچھی خبر یہ ہے کہ اب خراٹوں سے کسی حد تک نجات یا کم از کم کنٹرول ممکن ہے، جس کے لیے کسی اچھے معالج سے رجوع کیا جائے تو بہتر ہے۔

نیند کے دوران سانس میں رکاوٹ کی وجہ سے آوازوں کا لرزش کے ساتھ نکلنا خراٹے کہلاتا ہے
نیند کے دوران سانس میں رکاوٹ کی وجہ سے آوازوں کا لرزش کے ساتھ نکلنا خراٹے کہلاتا ہے

سیکسومنیا

نیند سے بیداری سے پہلے جب آپ سیکس سے متعلق کوئی خواب دیکھتے ہیں تو آپ کا جسم حرکت میں آجاتا ہے، جس کی وجہ سے آپ اپنے ساتھ والے ساتھی کے ساتھ انجانے میں کچھ حرکات کر بیٹھتے ہیں۔ سلیپ سیکسیا سیکسومنیا کہلاتا ہے لیکن گھبرانے کی کوئی بات نہیں، یہ ایک سلیپ ڈس آرڈر ہے۔ آپ کے ساتھ سونے والے افراد کو آپ کی عادات پر شک کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں۔ یہ ایک نارمل رویہ ہے، جس سے اس کیفیت کا شکار فرد بے خبر ہوتا ہے۔ نیند کی کمی، اسٹریس، شراب نوشی کے ساتھ ساتھ خواب کلامی یا خواب خرامی بھی اس کا وجہ ہوسکتی ہے۔ مناسب وقت کی نیند اور کسی اچھے معالج کے بتائے گئے مشوروں پر عمل کرکے اس کیفیت پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

نیند میں بھوک کا لگنا

نیند کی حالت میں بھوک کا لگنا اور شدید بھوک کا لگنا ایک بیماری ہے جس سے اس کیفیت کا شکار فرد ناواقف ہوتا ہے۔ وہ رات میں نیند میں اٹھ کر کھاتا رہتا ہے، جس سے موٹاپے کا شکار ہوسکتا ہے۔ اس کی خاص وجوہات تو دریافت نہیں ہوسکیں لیکن اسٹریس، ڈائٹنگ، اینگزائٹی، خواب کلامی یا خواب خرامی بھی کی وجہ سے یہ سب ہوسکتا ہے۔

نیند کی زیادتی (ہائپر سومنیا)

اس کیفیت میں آدمی دن کے وقت اور کام کے دوران شدید نیند محسوس کرتا ہے۔ بدقسمتی سے نیند کرنے کے باوجود بھی اس کی نیند پوری نہیں ہوپاتی۔ نیشنل سلیپ فاؤنڈیشن کے مطابق 40 فیصد تک افراد کبھی نہ کبھی اس کا شکار رہے ہوتے ہیں۔

رات کو نیند نہ کرنا، وزن میں زیادتی، شراب نوشی، ذہنی دباؤ یا انجری وغیرہ سے بھی کوئی شخص اس کا شکار ہوسکتا ہے۔ فوراً سے کسی اچھے معالج سے مشورہ کرکے اس کیفیت سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔

ریسٹلیس لیگس سینڈروم (Restless Legs Syndrome)

نیند کے دوران ٹانگوں میں بے چینی کی وجہ سے کچھ افراد کو مسلسل ٹانگیں ہلاتے رہنے کی عادت ہوتی ہے جو کئی افراد کو ناگوار گزرتی ہے۔ پیروں میں جلن، خارش، تھکاوٹ، آئرن کی کمی، شراب نوشی اور کافی کی زیادتی وغیرہ اس کا باعث ہو سکتی ہیں۔

مساج اور ورزش کی مدد سے اس کیفیت پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اس کیفیت کی شدت تشویش کا باعث ہوسکتی ہے لہٰذا ایسی صورت میں کسی اچھے ڈاکٹر سے رجوع کرلینا چاہیے۔

نمک کا زیادہ استعمال آپ کو ان امراض کا شکار بناسکتا ہے

نمک ایسی چیز ہے جس کے بغیر کھانا نامکمل اور بے ذائقہ محسوس ہوتا ہے اور طبی ماہرین کی ہدایات کے مطابق دن بھر میں 2300 ملی گرام (ایک کھانے کا چمچ) نمک ہی استعمال کرنا چاہئے۔

تاہم بیشتر افراد زیادہ مقدار میں نمک جزو بدن بناتے ہیں اور اس کے نتیجے میں فشار خون سمیت سنگین طبی مسائل وقت کے ساتھ ابھرنے لگتے ہیں۔

غذا میں زیادہ نمک کے استعمال کی چند عام علامات درج ذیل ہیں۔

ہائی بلڈ پریشر

یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ زیادہ نمک کھانا بلڈپریشر بڑھانے کا باعث بنتا ہے، زیادہ نمک بلڈپریشر کی شرح ان افراد میں بی بڑھاتا ہے جو اس مرض کا شکار نہ ہو، جبکہ فشار خون کے شکار افراد کے لیے تو وہ انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے امراض کا خطرہ اچانک بہت زیادہ بلڈپریشر بڑھنے کے نتیجے میں بڑھ جاتا ہے۔

گردوں کے امراض

نمک کے 95 فیصد حصے کو گردے میٹابولز کرتے ہیں، تو اگر نمکین اشیاءکو زیادہ کھائیں گے تو گردوں کو اضافی نمکیات کے اخراج کے لیے سخت محنت کرنا پڑے گی، جس کے نتیجے میں گردوں کے افعال میں کمی آئے گی، جس سے گردوں کے امراض اور پتھری کا خطرہ بڑھتا ہے۔

ذیابیطس

سوئیڈن کے کیرولینسکا انسٹیٹوٹ کی تحقیق میں بتایا گیا کہ زیادہ نمک کھانا ذیابیطس کے شکار ہونے کا خطرہ دوگنا بڑھا دیتا ہے اور ان افراد میں یہ امکان چار گنا زیادہ ہوتا ہے جو جینیاتی طور پر اس مرض کے لیے آسان شکار ثابت ہوتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ دن بھر میں صرف آدھا چائے کا چمچ اضافی نمک کھانا ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ 65 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ اسی طرح تحقیق کے مطابق زیادہ نمک کھانا ذیابیطس ٹائپ ون کا خطرہ 82 فیصد زیادہ بڑھا دیتا ہے۔

ہارٹ فیلئر کا خطرہ بڑھائے

گزشتہ سال کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ غذا میں نمک کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، ان میں ہارٹ فیلئر کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے، چاہے وہ ہائی بلڈ پریشر کا شکار نہ بھی ہو تو بھی ان کے دل کی صحت کو یہ خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔

سوجن

اگر ہاتھ میں انگوٹھیاں تنگ ہوجائیں، آپ پیروں میں سوجن محسوس کریں یا صبح آنکھیں پھولی ہوئی ہو، تو اس کی ممکنہ وجہ زیادہ نمک کا استعمال ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب جسم نمک کی زیادہ مقدار کی وجہ سے زیادہ پانی اکھٹا کرنے لگتا ہے اور اس کا علاج ڈاکٹر کے مشورے سے غذا میں تبدیلیوں سے ہی ممکن ہوتا ہے۔

زیادہ پیاس لگنا

نمک میں موجود سوڈیم جسم میں سیال کا توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے، جب زیادہ نمک کھایا جائے تو جسم کو سیال کی بھی زیادہ ضرورت ہوتی ہے تاکہ مسلز اور دیگر اعضاءاپنا کام معمول کے مطابق کرسکیں اور پانی پینا ہی صورتحال کو معمول پر لانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ یاد رکھیں مناسب مقدار میں پانی نہ پینا ڈی ہائیڈریشن کا شکار بناسکتا ہے۔

نیند متاثر ہونا

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ زیادہ نمک کھانے کے نتیجے میں لوگوں کو پیشاب زیادہ آتا ہے اور وہ بھی رات کو، جس کی وجہ سے ان کی نیند متاثر ہوتی ہے، جو دیگر مسائل کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

پیشاب کی رنگت میں تبدیلیاں

جب جسم میں سوڈیم کا ذخیرہ ہونے لگتا ہے تو جسم میں آنے والی تبدیلیوں کا اظہار پیشاب کے ذریعے 2 وجوہات کی وجہ سے ہوتا ہے۔ زیادہ نمک کھانے کے نتیجے میں گردوں کو اس کے اخراج کے لیے بہت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے جس کے نتیجے میں گردوں کے امراض کا خطرہ پیدا ہوتا ہے اور اس کا عندیہ اکثر پیشاب کی صورت میں نکلتا ہے جس کی رنگت بالکل شفاف ہوسکتی ہے۔ اسی طرح بہت زیادہ سوڈیم کی جسم میں موجودگی سے جسم سیال کی سطح سے محروم ہونے لگتا ہے جس سے ڈی ہائیڈریشن کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ جسم جسم میں پانی کی کمی ہو تو پیشاب کی مقدار گھٹ جاتی ہے، جس سے وہ گاڑھا اور گہرے زرد رنگ کا ہوسکتا ہے۔

ہڈیوں میں درد

جب بہت زیادہ نمک کھایا جائے تو گردے اسے مکمل طور پر خارج نہیں کرپاتے، جس سے کیلشیئم کی سطح میں نمایاں کمی آتی ہے، کیلشیئم کی کمی ہڈیوں کی کمزوری کا باعث بنتی ہے۔ دانتوں کے مسائل اور ہڈیوں کے بھربھرے پن کا خطرہ بڑھتا ہے۔

مسلز اکڑنا

سوڈیم اور پوٹاشیم کا توازن برقرار رکھنا صحت کے لیے ضروری ہوتا ہے کیونکہ یہ عناصر مسلز کو کام کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اگر یہ توازن نمک کے زیادہ استعمال سے بگڑ جائے تو پٹھے اکڑنے یا کھچنے کا تجربہ زیادہ ہونے لگتا ہے جبکہ مسلز میں تکلیف بھی ہوتی ہے۔

مسلسل سردرد رہنا

زیادہ مقدار میں نمک کے استعمال سے خون کا والیوم بھی بڑھاتا ہے جس کے نتیجے میں شریانوں میں خلاءبڑھتا ہے، ایسا ہونے پر ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھتا ہے جبکہ ہر وقت شدید سردرد کی شکایت بھی ہوسکتی ہے۔

ذہنی مسائل

فشار خون کے نتیجے میں دماغ کی جانب جانے والی شریانوں کو نقصان پہنچتا ہے، جس کے باعث دماغ کی سوچنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے اور روزمرہ کے کاموں کو کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ اسی طرح ڈی ہائیڈریشن ناقص یاداشت، تھکاوٹ اور ردعمل کو سست کرنے کا باعث بھی بنتی ہے۔

کیا ذیابیطس کے مریض چاول اور آلو کھاسکتے ہیں؟

ذیابیطس اس وقت پاکستان میں تیزی سے پھیلنے والا عارضہ ہے اور کروڑوں افراد اس کے شکار ہیں۔

ذیابیطس کے شکار افراد میں مناسب مقدار میں انسولین بن نہیں پاتی یا جسم اسے استعمال کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے۔

عام طور پر ذیابیطس ٹائپ 2 کا مرض طرز زندگی کی مخصوص عادات کا نتیجہ ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں بلڈ شوگر لیول طویل عرصے کے لیے بڑھ جاتا ہے جس کے نتیجے میں دیگر طبی مسائل جیسے امراض قلب وغیرہ کا خطرہ بڑھتا ہے۔

اس عارضے کا ابھی تک کوئی مکمل علاج تو موجود نہیں مگر چند غذائی عادات اور طرز زندگی میں تبدیلیوں سے اسے کنٹرول میں رکھا جاسکتا ہے۔

اگر غذا کی بات کی جائے تو پاکستان میں چاول اور آلو کا استعمال کافی زیادہ ہوتا ہے اور یہ دونوں کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور غذائیں ہیں کیونکہ ان میں موجود نشاستہ کو بلڈشوگر لیول بڑھانے کا باعث سمجھا جاتا ہے۔

مگر کیا واقعی یہ بات درست ہے؟

تو اس کا جواب یہ ہے کہ عام افراد کے لیے کسی بھی وقت کی غذا ہو، پلیٹ میں موجود خوراک کا ایک چوتھائی حصہ نشاستہ پر مشتمل ہونا چاہئے جو کہ چاول، روٹی یا آلو سے حاصل ہوسکتا ہے۔

مگر ذیابیطس کے شکار افراد کے لیے کسی بھی غذا میں موجود ایک جز پر توجہ دینا بہت ضروری ہے جسے گلیسمیک انڈیکس (جی آئی) کہا جاتا ہے۔

جی آئی ایک پیمانہ ہے کہ جو بتاتا ہے کہ کاربوہائیڈریٹ یا نشاستہ دار غذا کا کتنا حصہ کھانے کے بعد اس میں موجود مٹھاس (گلوکوز) مخصوص وقت میں خون میں جذب ہوسکتی ہے اور یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔

امریکن ڈائیبیٹس ایسوسی ایشن کے مطابق نشاستہ دار غذائیں جیسے چاول اور آلو صحت مند غذائی عادات کا حصہ ہوسکتی ہیں مگر ان کی مقدار کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

تو ذیابیطس کے مریض سفید یا براﺅن چاول اور آلو کھا سکتے ہیں مگر اعتدال کنجی ہے اور ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے سے اسے کھانے کی عادت بنائیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

کیا آلو کھانے سے واقعی وزن بڑھتا ہے؟

آلو کا شمار اس سبزی میں کیا جاتا ہے جسے دنیا بھر میں سب سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔

فرینچ فرائز بنانے ہوں، پکوڑے تلنے ہوں، آلو کا سموسہ ہو یا پھر آلو کی ترکاری، اس سبزی کو ہر انداز میں شوق سے کھایا اور کھلایا جاتا ہے۔

تاہم آلو کے بارے میں ہمیشہ یہی کہا جاتا ہے کہ اگر کسی کو اپنا وزن کم کرنا ہے تو اسے سب سے پہلے آلو کھانا چھوڑنے پڑیں گے۔

کئی افراد وزن کم کرنے کی جدوجہد میں اپنی غذا میں سے آلو کو بالکل باہر کردیتے ہیں۔

ایسا کرنا ان افراد کی ڈائٹ کے لیے تو صحیح ہے جو وزن کم کرنے کی جدوجہد میں کاربوہائڈریٹس سے دوری اختیار کرلیں۔

تاہم آلو کے حوالے سے ایسا بھی کہا جاتا ہے کہ اس کے صحت پر بھی کئی منفی اثرات سامنے آسکتے ہیں، جیسے ہائی بلڈ شوگر یا ڈیابیطس کا خطرہ بڑھ جانا یا پھر ہائی پلڈ پریشر کا مسئلہ۔

کئی ڈاکٹرز ایسی صورتحال میں آلو کھانے سے منع ہی کرتے ہیں جو بہت حد تک صحیح بھی ہے۔

تاہم اس سبزی کے حوالے سے یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ یہ اتنا بھی خطرناک نہیں جتنا اس سے لوگوں کو ڈرایا جاتا رہا ہے۔

آپ کی غذا میں آلو کسی ولن کا کردار ادا نہیں کررہا، کئی تحقیقات میں ایسا ضرور بتایا گیا کہ زیادہ آلو کھانے کی وجہ سے موٹاپا بڑھتا ہے، تاہم جرنل آف امریکن یونیورسٹی کی سامنے آنے والی ایک تحقیق میں آلو کو اس حد تک صحت کے لیے مضر قرار نہیں دیا گیا۔

یونیورسٹی نے چند ایسے طلبہ پر تحقیق کی جو وزن کم کرنے کے لیے کم کیلوری کی ڈائٹ فالو کررہے تھے۔

ان طلبہ کے 2 گروپ بنائے گئے، جن میں سے ایک کی ڈائٹ میں سے آلو ہٹادیے گئے جبکہ دوسرے گروپ نے آلو کو اپنی ڈائٹ کا حصہ رکھا۔

محققین نے اس بات کا اندازہ لگایا کہ وہ گروپ جس نے آلو کو اپنی ڈائٹ کا حصہ بنا کر رکھا، اس کے وزن کم ہونے پر آلو کھانے کا کوئی منفی اثر سامنے نہیں آیا۔

تو کیا واقعی آلو وزن کم کرنے کے عمل میں رکاوٹ کا باعث بنتے ہیں؟

دراصل اگر آپ ایک صحت مند ڈائٹ فالو کریں اور جنک فوڈ سے دوری اختیار کرلیں تو آپ کا وزن اتنی آسانی سے نہیں بڑھے گا۔

آلو تو وزن کم کرنے میں مدد بھی دیتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سبزی غذائیت سے بھرپور ہے جو ہمارے قوت مدافعت کے نظام کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔

ڈاکٹرز نے مشورہ دیا کہ اگر آلو کو صحیح انداز میں پکا کر لو کیلوری ڈائٹ کا حصہ بنایا جائے تو اس سے وزن نہیں بڑھے گا۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

صرف ایک کپ چائے روزانہ پینے کا یہ فائدہ جانتے ہیں؟

ایک کپ چائے روزانہ پینے کی عادت یا کچھ مقدار میں بیریز کھانا امراض قلب سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ویسٹرن آسٹریلیا یونیورسٹی کی تحقیق میں 53 ہزار کے قریب افراد کی غذائی عادات کا جائزہ 23 سال تک لیا گیا اور معلوم ہوا کہ جو لوگ اپنی روزانہ کی غذا میں چائے اور بلیو بیریز کو شامل کرتے ہیں، ان میں ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

محققین کا ماننا ہے کہ اس کی وجہ چائے یا بیریز میں اینٹی آکسائیڈنٹس کی بہت زیادہ مقدار ہونا ہے جو کہ ورم کش ہوتے ہیں۔

اس تحقیق کا آغاز 1990 کی دہائی میں ہوا اور لوگوں سے سوالنامے بھروائے گئے جس میں ان کی غذاﺅں کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔

اس کے بعد ان رضاکاروں کی صحت کا جائزہ دو دہائیوں سے زائد عرصے تک لیا گیا، جس کے دوران 12 ہزار کے قریب افراد کسی قسم کے امراض قلب کا شکار ہوگئے۔

مگر محققین نے دریافت کیا کہ جو لوگ روزانہ 500 ملی گرام اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور فلیونوئڈز جزو بدن بناتے ہیں امراض قلب کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

امراض قلب کے دوران شریانیں سکڑ جاتی ہیں جس کے باعث دل تک خون اور آکسیجن کی مقدار کم پہنچتی ہے۔

فلیونوئڈز سے بھرپور غذاﺅں سے شریانوں کے امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے جس میں چربی شریانوں میں جمع ہوکر خون کی سپلائی کو متاثر کرتی ہے جو کہ فالج کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

محققین کے مطابق 500 ملی گرام فلیونوئڈز کو ایک دن میں جسم کا حصہ بنانا بہت آسان ہے اور ایک کپ چائے اور کچھ مقدار میں بلیوبیریز ہی اس کے لیے کافی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمباکو نوشی یا الکحل کے عادی افراد کو اس فائدے کے لیے زیادہ مقدار میں فلیونوئڈز کی ضرورت ہے جبکہ خواتین کے مقابلے میں مردوں کو ایسی غذائیں زیادہ کھانی چاہئے۔

اس تحقیق کے نتائج امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی کانفرنس کے دوران پیش کیے گئے۔

یہ سستا سپر فوڈ آپ کو صحت مند بنائے

بچپن میں ہوسکتا ہے کہ آپ نے پوپائے دی سیلر کارٹون دیکھیں ہوں جس میں وہ کردار پالک کھا کر اچانک بہت زیادہ طاقتور ہوجاتا ہے۔

اس کو حقیقت تو قرار نہیں دیا جاسکتا مگر سبز پتوں والی یہ سبزی کسی بھی سپرفوڈ سے کم نہیں۔

اس کو کسی بھی صورت میں کھایا جائے یہ جسم کو فائدہ پہنچاتی ہے کیونکہ وہ وٹامن اے، سی اور کے سے بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ میگنیشم، آئرن اور مینگنیز جیسے اجزا بھی فراہم کرتی ہے۔

اس کے چند فوائد درج ذیل ہیں۔

ہڈیاں مضبوط بنائے

پالک وٹامن کے کو جزو بدن بنانے کے لیے اچھا ذریعہ ہے جو کہ ایسے پروٹین کے بننے میں مدد دیتا ہے جو کہ ہڈیوں میں کیلشیئم کی سطح کو مستحکم رکھتا ہے، وٹامن کے سے ہٹ کر پالک میں کیلیشئم اور وٹامن ڈی، غذائی فائبر، پوٹاشیم، میگنیشم اور وٹامن سی جیسے اجزا موجود ہیں جو کہ ہڈیوں کی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔

بینائی کے لیے فائدہ مند

پالک کو مختلف طریقوں سے بناکر کھایا جاسکتا ہے اور یہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا بلکہ اس کا استعمال معمول بنالینے کو یقینی بنائیں۔ مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق پالک میں موجود لیوٹین ایسا جز ہے جو عمر بڑھنے کے ساتھ آنکھوں کے پٹھوں میں آنے والی تنزلی اور موتیے کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، یعنی چشمہ لگنے کا امکان کم ہوتا ہے۔

قبض سے بچائے

پالک نہ صرف فائبر سے بھرپور ہوتی ہے بلکہ میگنیشم کے حصول کا بھی بہترین ذریعہ ہے، یہ منرل آنتوں کے لیے ضروری ہوتا ہے اور فضلے کو صاف کرنے کا کام کرتا ہے۔

بلڈ پریشر مستحکم رکھے

پالک آئرن، فائبر، وٹامن اے اور سی سے بھرپور سبزی ہے، یہ پوٹاشیم کے حصول کے لیے بھی اچھا ذریعہ ہے جو کہ بلڈپریشر کی سطح کم کرنے میں انتہائی ضروری جز ہے جبکہ شریانوں کی صحت بھی بہتر بناتا ہے۔

خون کی کمی دور کرے

پالک آئرن سے بھرپور سبزی ہے اور اسے کھانا غذائی اجزاءکو بہت تیزی سے جسم میں جذب ہونے میں مدد دیتا ہے، جبکہ ہیموگلوبن کی سطح بڑھا کر جسم میں خون کی کمی دور کرتی ہے۔

بالوں کو گرنے سے روکے

اگر بال تیزی سے گر رہے ہیں اور ڈر ہے کہ کہیں گنج پن کا شکار نہ ہوجائیں تو پالک کھانا شروع کردیں۔ پالک وٹامن آئرن، وٹامن اے اور سی سے بھرپور ہوتی ہے اور بالوں کو لمبے، مضبوط اور چمکدار بناتی ہے۔

بلڈ شوگر بڑھنے سے روکے

پالک ان چند سبزیوں میں سے ایک ہے جو ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا خطرہ ٹالنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ جو لوگ روزانہ کچھ مقدار میں پالک کا استعمال کرتے ہیں ان میں ذیابیطس کا خطرہ اس سبزی سے دور بھاگنے والوں کے مقابلے میں 14 فیصد کم ہوتا ہے۔ اس سبزی میں وٹامن کے، میگنیشم، پوٹاشیم، زنک اور دیگر منرلز بھی موجود ہوتے ہیں جو کہ عام صحت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔

دماغ کے لیے بھی فائدہ مند

پالک میں لوٹین نامی اینٹی آکسائیڈنٹ بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے جو دماغی تنزلی سے تحفظ دینے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ ہاورڈ میڈیکل اسکول کی ایک تحقیق کے مطابق جو خواتین پالک اور اس جیسی سبز پتوں والی سبزیوں کا زیادہ استعمال کرتی ہیں ان میں دماغی تنزلی کی شرح بہت کم ہوتی ہے خاص طور پر ان افراد کے مقابلے میں جو اس مزیدار سبزی سے دور بھاگنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔

جسمانی توانائی بڑھائے

پالک سے جسم کو درکار میگنیشم کی مقدار ملتی ہے جو کہ روزمرہ کے کاموں کے لیے توانائی کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ پالک میں موجود ایک جز فولیٹ خوراک کو قابل استعمال توانائی میں تبدیل کرنے میں مدد دیتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

کھانے اور سونے کا مخصوص وقت موٹاپے سے بچائے

اگر موٹاپے سے بچنا چاہتے ہیں تو اپنے دن بھر میں ناشتے اور دونوں وقت کے کھانے کے اوقات کے معمول کو کبھی خراب نہ کریں۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

برگھم اینڈ ویمن ہاسپٹل اور ہارورڈ میڈیکل اسکول کی تحقیق میں دریافت کیا گیا جسم میں کیلوریز جلنے کی شرح میں دن کے مختلف اوقات میں تبدیلی آتی رہتی ہے جبکہ کھانے اور نیند کا کوئی وقت طے نہ ہونا لوگوں کو موٹاپے کا شکار بناسکتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ سہ پہر اور شام کے آغاز پر جسم صبح کے مقابلے میں 10 فیصد کیلوریز زیادہ جلاتا ہے۔

تحقیق کے نتائج سے جسمانی گھڑی کے میٹابولزم پر مرتب ہونے والے اثرات کے شواہد کو تقویت ملتی ہے۔

نتائج سے یہ سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے کہ کھانے اور سونے کا کوئی شیڈول نہ ہونا لوگوں کا جسمانی وزن بڑھانے کا باعث کیوں بنتا ہے۔

تحقیق میں شامل رضاکاروں کو سونے، جاگنے کے مخصوص اوقات دیئے گئے اور ہر رات اس وقت میں 4 گھنٹے کا اضافہ کیا گیا، یہ تجربہ تین ہفتے تک جاری رہا۔

محققین نے جسمانی گھڑی اور میٹابولزم کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا اور یہ جانا کہ دن کے مختلف اوقات میں یہ میکنزم کس طرح کام کرتا ہے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ سہ پہر اور شام کے آغاز پر میٹابولزم زیادہ تیزی سے کام کرکے کیلوریز جلاتا ہے جبکہ صبح کے وقت اس کی رفتار سست ہوتی ہے۔

محققین کے مطابق صرف یہ ضروری نہیں کہ ہماری غذا میں کیا کچھ شامل ہے بلکہ یہ بھی اہمیت رکھتا ہے کہ ہم کس وقت کھانا کھاتے ہیں اور سوتے ہیں، یہ اوقات چربی گھلانے یا ذخیرہ کرنے پر اثرات مرتب کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کھانے اور سونے کے اوقات طے ہونا مجموعی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل کرنٹ بائیولوجی میں شائع ہوئے۔

’’مصنوعی لبلبہ‘‘ پاکستان میں بھی متعارف کرا دیا گیا

کراچی: ذیابیطیس کے مریضوں کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ دنیا میں کہیں پر ہوں ان کی شوگربیک وقت 6 اسمارٹ فونز پر چیک کی جاسکتی ہے جبکہ شوگرکے وہ مریض جوانسولین لیتے ہیں اب خودکار انسولین پمپ کے ذریعے جسم میں ضرورت کے مطابق انسولین حاصل کرسکیں گے۔

آج دنیا بھر میں منائے جانے والے ذیابیطیس کے عالمی دن کے موقع سرسید انسٹیٹیوٹ آف ڈائبیٹک اینڈ اینڈوکرائنالوجی کے سربراہ پروفیسر زمان شیخ نے ایکسپریس کو بتایاکہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ذیابیطیس کے مریضوں کیلیے انسولین لینے کیلیے مکمل خود کار انسولین پمپ مارکیٹ میں متعارف کرادیا گیا ہے جس کا نام مصنوعی لبلبہ رکھاگیا ہے، یہ مخصوص آلہ (ڈیوائس) 24گھنٹے جسم کی شوگرچیک کرے گی جسم سے منسلک کی جانے والی ڈیوائس جو وائرلیس سے منسلک ہوگی، انسولین پمپ کو انفارمیشن دیتی رہے گی، خودکار پمپ 24گھنٹے جسم کی شوگرکوخودکار طریقہ سے مانیٹر کرے گا اور جسم کو ضرورت کے مطابق خود بخود انسولین فراہم کرے گا۔

پروفیسر زمان شیخ نے بتایاکہ مکمل خودکار ڈیوائس کا وزن نہ ہونے کے برابر ہوگا، جب بھی جسم میں انسولین کی مقدارکم ہوگی، یہ ڈیوائس ایک جدید سسٹم کے تحت انسولین فراہم کرتی رہے گی۔ ان کا کہنا تھاکہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن امریکا کی منظوری سے ایک ایسے گلوکومیٹرکی منظوری دیدی گئی ہے جو جسم میں سوئی لگائے بغیر شوگر مانیٹر کرے گا۔ یہ جدیدگلوکومیٹر جوایک ڈیوائس کی طرح ہوگا جسم کے ساتھ لگا دیا جائے گا۔

ایک مخصوص کارڈکو مس (Tuch) کرکے خون میں شوگر کی مقدار معلوم کی جاسکے گی۔ اس جدیدگلوکومیٹرکی مدد سے 24گھنٹے میں کسی بھی لمحے کارڈ کو مس کرکے شوگرکا ریکارڈ معلوم کیاجاسکتا ہے جبکہ دنیا بھر میں شوگر کو چیک کرنے کا ایک اور طریقہ متعارف کرا دیا گیا ہے جس میں 6 افراد یا اہلخانہ بیک وقت گھر کے فردکی شوگر معلوم کرسکتے ہیں۔

پلاسٹک کے اس مخصوص آلے (ڈیوائس)کو جسم سے نصب کردیاجاتا ہے اورمذکورہ ڈیوائس سے ایک کارڈ کو ٹچ کرکے بیک وقت 6 افراد اپنے اسمارٹ فون پرمتاثرہ فردکی شوگر چیک کرسکتے ہیں۔

پروفیسرزمان شیخ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بھی ذیابیطیس کے مریضوں کیلیے انجکشن دستیاب ہے جو ذیابیطیس ٹائپ ٹو کے مریض ہفتے میں ایک بار لگا کراپنی شوگر کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ شوگر کا مرض ایک بار لاحق ہونے کی صورت میں یہ مرض ساری زندگی رہتا ہے تاہم اس مرض کی پیچیدگیوں سے محفوظ رہنے کیلیے طرززندگی کو بہتر بنانا ہوگا، سادہ خوراک اورچہل قدمی کو اپنانا ہو گا۔

 

Google Analytics Alternative