صحت

درد کی دوائیوں کے ساتھ نیند کی گولیاں لینے والے خطرے میں پڑسکتے ہیں

لندن: 

سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ درد کی دوائیوں کے ساتھ نیند کےلیے گولیاں کھانے والے افراد کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

تحقیق کے بعد سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ ایسے افراد جو ڈاکٹروں کی بتائی ہوئی ادویہ کے ساتھ نیند کی گولیاں بھی کھاتے ہیں ان کی جان کو دوائی کی زیادہ مقدار ہونے کی وجہ سے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ سائنسدانوں نے ڈاکٹروں اور مریضوں کو تنبیہ کی ہے کہ وہ درد سے نجات کےلیے کھائی جانے والی دواؤں کے ساتھ سونے کی گولیاں ہر گز نہ لیں۔

مطالعے کے دوران سائنسدانوں نے 18 سے 64 سال کے ایسے 3 لاکھ افراد کا جائزہ لیا جو 2001 سے 2013 کے درمیان مسلسل درد کُش دوائیں (پین کلر) لیتے رہے تھے۔ معالعے سے معلوم ہوا کہ ایسے مریض جو درد کا علاج کرنے کےلیے دوائیں یعنی پین کلر لیتے تھے ان میں 2001 میں بینزوڈائزوپائن 9 فیصد تھی لیکن 2013 تک اس میں 17 فیصد تک اضافہ ہوگیا۔ مطالعے کے نگراں ڈاکٹر ایرکسن نے دعویٰ کیا ہے کہ بینزوڈائزوپائن اور پین کلر نہ لینے والے افراد کے اسپتال میں داخل ہونے کے امکانات 15 فیصد تک کم ہوجاتے ہیں۔

پاکستانی پان مصالے کی بڑھتی فروخت سے امریکامیں تشویش

میٹھی چھالیہ، سونف اور چھوارے سے تیار کیے گئے پان مصالے کا ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

امریکی ریاست اوہائیو کے پولیس چیف اس سے بھی ایک اور قدم آگے جانے پر تیار ہیں، ریاست کے ہائی اسکولوں میں پان مصالے پر پابندی لگانے پر غور ہونے لگاہے۔

ایشیائی نژاد لوگوں کے ساتھ امریکی نوجوانوں میں پان مصالے کے بڑھتے ہوئے استعمال پر حکام کے ساتھ امریکی میڈیا بھی حرکت میں آگیا۔

سی این این نے اپنی رپورٹ میں پان مصالے کو نوجوانوں کے لیے خطرناک ڈرگ قرار دے دیا۔

بعد ازاں پان مصالے کو خطرناک ڈرگ قرار دینے والے امریکی ٹی وی نے بھی اپنی رپورٹ میں یہ اعتراف کیا ہے کہ پان مصالہ منشیات میں شامل نہیں ہے اورقانونی طور درآمد کیا گیا ہے۔

امریکی اسٹورز میں باآسانی دستیاب پان مصالے کی قانونی حیثیت کا تعین کرنے کے لیے ایف ڈی اے اور محکمہ زراعت کو درخواست بھیج دی گئی ہے۔

چست جینز خواتین کی کمر میں شدید درد کی وجہ بن سکتی ہے، ماہرین

لندن: برطانوی طبی ماہرین نے سروے کے بعد انکشاف کیا ہے کہ چست جینز پہننے والی خواتین کو کمر میں درد کا شدید خطرہ ہوتا ہے۔

2000 سے زائد برطانوی خواتین پر یہ نیا سروے برٹش کائریوپریکٹک ایسوسی ایشن (بی سی اے) نے کیا تھا جس کے نتائج ریسرچ جرنل ’اینلز آف ریومیٹک ڈزیزز‘ میں شائع ہوئے ہیں۔

سروے سے معلوم ہوا کہ چست جینز اور فیشن سے تعلق رکھنے والے دیگر ملبوسات پہننے والی تین چوتھائی خواتین کو کمر میں درد کی شکایت تھی۔ فیشن کے ملبوسات پہننے والی 73 فیصد خواتین کو کمر میں درد کی شکایت تھی مگر وہ اس بات سے ناواقف تھیں کہ اس کی وجہ کیا ہے۔ ان میں سے 27 فیصد خواتین کا کہنا تھا کہ انہیں اتنا اندازہ ضرور ہے کہ چست لباس ان کی کمر میں درد کی وجہ بن رہا ہے لیکن لباس خریدتے وقت وہ اس بات کو خاطر میں نہیں لاتیں۔

مطالعے کے نگراں رشی لواٹے نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ چست جینز پہننے والی خواتین کو حرکت کرنے میں زیادہ قوت صرف کرنا پڑتی ہے جس کا زیادہ اثر ان کی کمر اور اطراف کے پٹھوں اور ہڈیوں پر پڑتا ہے جبکہ بیٹھی حالت میں بھی ان کے مختلف جسمانی حصوں کو زیادہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہے تو ان کی کمر میں مستقل درد ہوسکتا ہے جو بے حد تکلیف دہ ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دنیا بھر میں کمر کے درد کی شرح 9.4 فیصد ہے جس کی بڑی وجہ اٹھنے بیٹھے اور چلنے پھرنے کا غلط انداز ہے جبکہ خواتین میں اس انداز کی بڑی وجہ ان کا چست لباس بنتا ہے۔اسی لیے انہوں نے خواتین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ چست لباس سے جس قدر ممکن ہو پرہیز کریں اور ایسے کپڑے پہنیں جو ڈھیلے ڈھالے ہوں اور جنہیں پہن کر چلنا پھرنا اور اٹھنا بیٹھنا بھی آسان ہو۔ خواتین کی صحت کےلیے یہی بہتر ہے۔

درد کی وجہ بننے والا دوسرا لباس وہ بھاری بھرکم اور لمبا اونی کوٹ ہے جس میں سرد ہوا سے بچنے کےلیے گرم ٹوپی بھی شامل ہوتی ہے جبکہ کمر کے درد میں فیشن سے تعلق رکھنے والی دیگر مصنوعات جیسے کہ بیک لیس شوز، بڑے ہینڈ بیگ اور بھاری ڈیزائنر جیولری بھی اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔

واضح رہے کہ ماضی میں کیے گئے طبی مطالعات سے معلوم ہوچکا ہے کہ اونچی ایڑی کی سینڈلیں پہننے والی خواتین کو عام طور پر ریڑھ کی ہڈی میں تکلیف کی شکایت ہوجاتی ہے۔

دہی کا استعمال ڈپریشن کے خاتمے میں مددگار

ورجینیا: 

تحقیق سے ثابت ہوا ہےکہ دہی میں نہ صرف ہاضمے کے لیے ضروری ہے بلکہ اس کا استعمال ڈپریشن دور میں کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ایک حالیہ تحقیق کے بعد معلوم ہوا ہے کہ تازہ دہی میں موجود بیکٹیریا ’’لیکٹوبیکیلس‘‘ نہ صرف ہاضمے کے لیے ضروری ہوتے ہیں بلکہ جب وہ ڈپریشن کے شکار چوہوں کے پیٹ میں ڈالے گئے تو ان کی آنت میں بیکٹیریا کی تعداد بڑھی اور اس سے ان کی ڈپریشن دور ہوگئی۔ اس تحقیق کی بناء پر یونیورسٹی آف ورجینیا اسکول آف میڈیسن نکے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ چوہوں پر کیے گئے تجربات انسانوں کے لیے بھی مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔

تحقیق کے مرکزی محقق کا کہنا ہےکہ ڈپریشن کی دوائیں مہنگی اور سائیڈ افیکٹس سے بھرپور ہوتی ہیں لیکن اب وقت آگیا ہے کہ دہی میں موجود خردنامیوں کو استعمال کرکے اس مرض کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ غذائی عادات بدل کر ہم جادوئی فوائد حاصل کرسکتے ہیں، جسم میں بیکٹیریا کی آبادی اور اقسام میں توازن سے صحت کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق تحقیق اور کئی مطالعات سے ثابت ہوچکا ہےکہ دہی میں موجود پروبایوٹکس جن مفید بیکٹیریا میں اضافہ کرتے ہیں وہ ذہنی تناؤ، الجھن اور ڈپریشن کو دور کرسکتے ہیں۔

ماہرین نے علاج سے پہلے اور بعد میں چوہوں کے اندر موجود لیکٹوبیکیلس کی مقدار اور ان میں ڈپریشن کی شدت کو نوٹ کیا۔ جیسے ہی چوہوں میں خاص بیکٹیریا کم ہوئے ان میں ڈپریشن جیسے آثار نمودار ہونے لگے، جب بیکٹیریا کی تعداد بڑھائی گئی تو وہ دوبارہ نارمل ہونے لگے۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہوسکتی ہے کہ یہ بیکٹیریا خون کے ایک عنصر کائنو یورینائن کی مقدار کم یا زیادہ کرتا ہے اور اس کیمیکل کی وجہ سے دماغ میں اداسی اور مایوسی جنم لیتی ہے۔ یعنی بیکٹیریا کم ہونے سے کائنو یورینائن بڑھتے ہیں اور ڈپریشن کی وجہ بنتے ہیں۔

اس تحقیق پر دیگر ماہرین کا خیال ہے کہ انسان بہت پیچیدہ ہے اور شاید چوہوں کا ماڈل انسانوں پر کارآمد ثابت نہ ہوسکے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے بڑے پیمانے پر انسانوں پر آزمایا جائے۔

آپریشن رد الفساد جاری، لاہور اور اوکاڑہ سے 24مشتبہ افراد زیرحراست

ملک بھر میں آپریشن ردالفساد جاری ہے، لاہور اور اوکاڑہ سے 24 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔کراچی کے مختلف علاقوں میں پولیس نے کارروائیاں کرکے 12 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

دہشت گردوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔ لاہور ریلوے اسٹیشن کےاطراف میں سرچ آپریشن کر کے 7 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ۔

ادھراوکاڑہ میں پولیس اور حساس اداروں نے سرچ آپریشن کر کے 17 مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا۔

کراچی کے علاقوں راشدمنہاس روڈ اور مواچھ گوٹھ میں پولیس نے کارروائیاں کرکے 12 ملزمان کو پکڑلیاجبکہ گلشن معماراورجمالی گوٹھ میں بھی پولیس اور رینجرز نے سرچ آپریشن کیا۔

’آلٹر نیٹ میڈیسن سینٹر‘مریضوں کی خدمت میں پیش پیش

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایسے امراض موجود ہیں جن کا علاج تاحال دریافت نہیں ہو ااور اگر ہے تو اتنا مہنگا کہ ہر کسی کی جیب برداشت نہیں کرسکتی ۔ایسے میںکراچی میں آلٹر نیٹ میڈیسن سینٹر گزشتہ ڈیڑھ سال سےبائیو ریسونیس ویوز کے ذریعے مریضوں کو شفا فراہم کررہا ہے۔

کینسر میں مبتلا کئی افراداسپتالوں میں چکر لگاتے ہیں،لاکھوں روپے خرچ کرنے کے باوجود انہیں شفاء نہیں ملتی ۔ جدید ٹیکنالوجی اور پختہ عزم نے ان مریضوں کے چہروں پر زندگی کے رنگ بکھیرے ہیں ۔

آلٹرنیٹ میڈیسن کے اس وقت کراچی میں دو سینٹرز کام کررہے ہیں جہاں الیکٹر و میگنیٹک ریزکو ساؤنڈ ویوز میں تبدیل کرکے علاج کیا جارہا ہے۔

ان سینٹرز میںجہاں ڈاؤن سنڈرومُ ،مسود اور کینسر جیسے دیگر لاعلاج مرض میں مبتلا مریض شفاء کی طرف بڑھ رہے ہیں وہیں پاکستان میں اس جدید ٹیکنالوجی کو وسعت بھی مل رہی ہے۔

کنڈیارو: خسرہ سے 2بچے جاں بحق

کنڈیارو تعلقے میں خسرہ کی وبا تیزی سے پھیلنے گئی،جس کے باعث 2روز میں 2کم سن بچے جاں بحق ہوگئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کنڈیارو کے مختلف علاقوں میں خسرہ کی بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ گزشتہ 2روزمیں 2کم سن بچے جاں بحق ہوگئے ہیں۔

گوٹھ امام بخش منگریو کے رہائشی خالد منگریو کا4سالہ بیٹا میثم عباس منگریو خسرہ کی بیماری میں مبتلا رہنے کے باعث فوت ہوگیا۔

دریں اثناءایک روز قبل نواحی علاقےگوٹھ علن کلیری میں خسرہ کی بیماری میں مبتلا 5ماہ کی کم سن بچی سمیہ بنت مشتاق کلیری فوت ہوگئی تھی۔

مذکورہ علاقوں میں تاحال محکمہ صحت کی کوئی بھی ٹیم نہ پہنچ سکی ہے۔

جین تھراپی سے خون کی خطرناک بیماری کا علاج

پیرس: 

سائنسدانوں نے جینیاتی طریقہ علاج کے ذریعے ایک تکلیف دہ اور بے بس کردینے والی بیماری سِکل سیل انیمیا کو ختم کرنے میں پہلی مرتبہ نمایاں کامیابی حاصل کرلی ہے۔پوری دنیا میں یہ جینیاتی مرض پایا جاتا ہے جو والدین سے وراثت میں ملتا ہے۔ اس بیماری کو مختصراً ایس سی ڈی بھی کہا جاتا ہے۔ سِکل سیل انیمیا ایسی بیماری ہے جس میں جسم کے بعض حصوں تک آکسیجن نہیں پہنچ پاتی جس سے درد، اعضا متاثر اور موت بھی واقع ہوجاتی ہے۔ اس مرض میں جینیاتی کوڈ بگڑنے سے ہیموگلوبن کی شکل اور کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور وہ ابنارمل ہوجاتا ہے۔

 

جین تھراپی سے قبل اس کا واحد علاج یہی تھا کہ انسانی ہڈیوں کے گودے (بون میرو) کو تبدیل کیا جائے تاہم نئے طریقے سے جینیاتی طور پر اس خامی کو دور کیا جاسکتا ہے۔

اس میں خون کے سرخ خلیات کچھ تبدیل ہوجاتے ہیں اور پورے بدن میں آکسیجن پہنچانے والا ہیموگلوبن متاثر ہوتا ہے۔ اس مرض کی 5 سے 6 ذیلی اقسام پائی جاتی ہیں۔ اس تبدیلی سے خون کے سرخ خلیات خمیدہ ہوجاتے ہیں اور خون کی نالیوں میں جمع ہوتے رہتے ہیں۔ سکل سیل انیمیا میں خون کے گول خلیات تبدیل ہوکر درانتی کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔

یہ جینیاتی طریقہ علاج فرانس کے ایک نوعمر لڑکے پر آزمایا گیا ہے جس کے ابتدائی نتائج بہت حوصلہ افزا نکلے ہیں۔ مزید کامیابی کی صورت میں اس علاج سے دنیا میں ایسے لاکھوں مریضوں کا علاج ممکن ہوسکے گا۔

ڈاکٹروں نے وائرس کے ذریعے اس پروٹین کے درست اور صحتمند نمونوں کو مریض کی ہڈیوں کے گودے میں داخل کردیا۔ اس کے بعد مریض میں خون کے جو خلیات بنے ان میں کوئی عیب نہیں تھا۔ 15 مہینے تک علاج کے بعد مریض میں بہتری کے نمایاں آثار تھے جو مرض کی کمی کو ظاہر کررہے تھے۔ اب تک مریض میں بیماری کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی، اسے درد بھی نہیں ہوا اور اسے کئی ماہ سے اسپتال میں داخل بھی نہیں کرایا گیا لیکن اب تک یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ اس مرض کا حتمی علاج دریافت ہوچکا ہے۔

تاہم ڈاکٹروں کی ٹیم نے اعتراف کیا کہ یہ ابتدائی مراحل میں ہے اور حتمی علاج کے لیے اس تھراپی کو مزید کئی سو افراد پر آزمانا ضروری ہے۔ لیکن پہلے مریض کو خون کی منتقلی کی ضرورت نہیں پیش نہیں آئی جو ایک بڑی کامیابی ہے۔

Skip to toolbar
Google Analytics Alternative