صحت

بڑھاپے کی جانب سفر سست کردینے والا سپر فوڈ

بڑھاپا تو ایسی چیز ہے جس کو آنے سے روکنا کسی کے بس کی بات نہیں، تاہم اس کی رفتار کو آپ اس مخصوص غذا کا استعمال بڑھا کر کافی حد تک کم کرسکتے ہیں۔

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

پین اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق مشروم اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں جو عمر بڑھنے سے جسم میں آنے والی تنزلی کے خلاف جدوجہد کرنے اور مجموعی صحت کو بہتر بناتے ہیں۔

تحقیقمیں یہ بات بھی سامنے آئی کہ مشروم میں ایسے اجزاءکافی مقدار میں ہوتے ہیں جو جسم میں جاکر اینٹی آکسائیڈنٹس کو اپنا کام کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق جب جسم غذا کو توانائی پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں تکسیدی تناﺅ پیدا ہوتا ہے جو کہ جسم کے لیے نقصان اجزاءکو تشکیل دیتا ہے جو کہ خلیات، پروٹین اور ڈی این اے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

اس کے مقابلے میں اینٹی آکسائیڈنٹس جسم کو اس تکسیدی تناﺅ کے نقصانات سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ جسم میں گردش کرنے والے مضر اجزاءیا فری ریڈیکل بڑھاپے کی جانب سفر تیز کرتے ہیں اور عمر بڑھنے سے مختلف امراض جیسے کینسر، امراض قلب یا الزائمر کا باعث بھی بن جاتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق مشروم میں موجود دو قسم کے اینٹی آکسائیڈنٹس اس عمل کو سست کرکے بڑھاپے کی جانب سفر کو سست کردیتے ہیں یا آسان الفاظ میں جوانی کے اثرات کو تادیر برقرار رکھتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ مشروم کو کھانا پارکنسن اور الزائمر امراض کی روک تھام میں کتنا مددگار ثابت ہوتا ہے، تاہم جن ممالک میں اسے کھایا جاتا ہے وہاں دماغی عوارض کی شرح دیگر کے مقابلے میں کافی کم ہے۔

ہاتھ کی رگوں میں خون نیلا کیوں نظر آتا ہے؟

نیویارک: عام طور پر انسانی جسم میں موجود خون کا رنگ سرخ یا گہرا سرخ ہوتا ہے۔ ایسا ممکن ہی نہیں کہ خون کسی اور رنگ میں ہو۔ تاہم جب بھی آپ اپنی کلائی پر دیکھتے ہیں تو نسیں (رگیں) نیلے رنگ کی نظرآتی ہیں حالانکہ نسوں میں دوڑنے والا خون سرخ رنگ کا ہوتا ہے۔ تو کیا وجہ ہے کہ سرخ ہونے کے باوجود ہاتھوں کی رگوں میں خون کا رنگ نیلا نظر آتاہے۔

رگوں کا باریک جال جنہیں کیپلریز بھی کہتے ہیں، ہمارے پورے جسم میں پھیلا ہوا ہوتا ہے۔ یہ انتہائی باریک رگیں خون کو دل تک لے جانے اور واپس لانے کا کام انجام دیتی ہیں۔ان رگوں کے ذریعےجب خون دل سے نکل کر پورے جسم میں جاتا ہے تو آکسیجن سے بھرپور ہوتا ہے جسے عام طور پر صاف خون بھی کہتے ہیں۔ اور جب جسم سے واپس دل تک پہنچتا ہے تو خون میں آکسیجن کی مقدار کم ہوچکی ہوتی ہے۔ جسم میں موجود ہیموگلوبن، آئرن اور مالیکیولر آکسیجن  مل کر خون کا رنگ سرخ بناتے ہیں۔ جب خون میں آکسیجن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے تو خون کا رنگ روشن سرخ نظرآتا ہے تاہم جب آکسیجن کی مقدار کم ہوچکی ہوتی ہے تو یہ گہرے سرخ رنگ کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔

بعض لوگ سوچتے ہیں چونکہ جسم سے واپس دل تک پہنچنے  میں خون سے آکسیجن کم ہوجاتی ہے اس لیے خون کا رنگ سرخ کے بجائے نیلا یا گہرا نظرآتا ہے لیکن یہ حقیقت نہیں۔ خون کے رنگ میں تبدیلی آکسیجن سے مشروط نہیں ہوتی۔

ہاتھوں کی رگوں میں خون کا رنگ سرخ کے بجائے نیلا نظر آنے کی  وجہ یہ ہے کہ روشنی خون میں جذب ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن روشنی کو رگوں تک پہنچنے کےلیے جلد سے ہوکر گزرنا پڑتا ہے۔ تاہم روشنیوں کے خون میں جذب ہونے کی صلاحیت دوسری سے مختلف ہوتی ہے مثلاً سرخ رنگ کی روشنی ہماری جلد میں نیلے رنگ کی روشنی کے مقابلے میں زیادہ گہرائی تک جذب ہوتی ہے۔ سرخ اور نیلی روشنی کا طول موج ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ دونوں ہماری جلد میں مختلف گہرائی تک سرایت کرسکتی ہیں۔ سرخ روشنی کا بڑا حصہ جلد میں جذب ہوکراندرتک چلاجاتا ہے جب کہ نیلی روشنی ہماری کھال میں تھوڑی سی گہرائی تک اترنے کے بعد رگوں سے ٹکرا کر باہر کی سمت واپس لوٹ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں ہاتھوں کی رگیں سرخ کے بجائے نیلی نظر آتی ہیں۔ لہٰذا رگوں کا نیلا نظرآنا بصری دھوکے کے سوا اورکچھ نہیں۔

واضح رہے کہ رگوں کا یہ باریک جال(کیپلریز) ہونٹوں میں باقی جسم کے مقابلے زیادہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے ہمیں ہونٹوں کا رنگ لال نظرآتا ہے۔

ذہنی تناؤ کی 7 خاموش علامات جو آپ کو جسمانی امراض کا شکار بنادیں

ذہنی تناﺅ کا شکار تو ہر فرد ہوتا ہے، اب اس کی شدت کم یا زیادہ ہوسکتی ہے مگر اس سے بچنا تو ممکن نہیں۔

یہ ذہنی تناﺅ جسمانی یا ذہنی صحت پر منفی انداز سے اثرانداز ہوتا ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ آخر کوئی شخص ذہنی تناؤ کا بدترین شکار ہونے پر اس کی شناخت کیسے کرے؟

اکثر شدید ذہنی تناﺅ جسم میں چل رہی گڑبڑ کو مختلف جسمانی علامات کی شکل میں ظاہر کرتا ہے، مگر بیشتر افراد ان سے واقف ہی نہیں۔

درحقیقت اس کی چند مخصوص علامات ہوتی ہیں جو اکثر افراد پہچاننے سے قاصر رہتے ہیں اور زیادہ سنگین امراض کا شکار ہوجاتے ہیں۔

ان علامات کو جاننا یقیناً آپ کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔

جسم میں درد

ویسے تو کسی مشقت والے کام کے نتیجے میں جسم میں درد ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں مگر چبھنے والا یہ درد بغیر کسی وجہ کے ہورہا ہو تو یہ ڈپریشن کی علامت ہوسکتا ہے، کمر میں درد، پٹھوں میں تکلیف یا جسم میں کسی بھی جگہ بلاوجہ درد ڈپریشن کی نشانی سمجھی جاتی ہے، طبی ماہرین کے مطابق درد مزاج کے مطابق جسم پر حملہ آور ہوتا ہے، اگر آپ ذہنی طور پر مایوس یا پریشان ہیں تو تکلیف کا احساس زیادہ ہوتا ہے جبکہ خوشی کی حالت میں درد کا احساس نہیں ہوتا۔

جسمانی وزن میں اضافہ یا کمی

ڈپریشن ان ہارمونز پر بھی اثرانداز ہوتا ہے جو کہ خوراک کی خواہش کو کنٹرول کرتے ہیں، یعنی زیادہ بھوک لگ سکتی ہے یا کچھ بھی کھانے کو دل نہیں کرتا۔ اس کے نتیجے میں لوگ یا تو بہت زیادہ کھالیتے ہیں یا وہ مقدار نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے جس کے نتیجے میں جسمانی وزن میں اضافہ یا کمی ہونے لگتی ہے۔

سونے میں مشکل

اگرچہ ڈپریشن کے شکار افراد کو اکثر تھکاوٹ اور جسمانی توانائی کی کمی کا سامنا ہوتا ہے مگر ان کے لیے رات کو سونا بھی آسان نہیں ہوتا، طبی ماہرین کے مطابق ڈپریشن کی چند واضح علامات میں سے ایک بے خوابی، بہت جلد نیند ختم ہوجانا اور پھر سونے میں ناکامی وغیرہ ہیں، یہ متاثرہ افراد کے لیے ذہنی جھنجھلاہٹ کا باعث ہوتا ہے کیونکہ اکثر اوقات اچھی نیند ہی ڈپریشن سے بچاﺅ کا واحد ذریعہ ہوتی ہے۔

جلد کے مسائل

ذہنی تناﺅ کا باعث بننے والے ہارمونز جلد کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں، ڈپریشن کے دوران ان ہارمونز کی مقدار بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے جس کے نتیجے میں اکثر مریضوں کو کیل مہاسوں، چنبل اور خارش وغیرہ کا سامنا ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ڈپریشن کے لیے ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات کے استعمال سے جلدی مسائل بھی ختم ہوجاتے ہیں۔

معدے کے مسائل

سینے میں جلن، قبض، ہیضہ اور قے وغیرہ بھی ڈپریشن سے جڑے ہوئے ہوسکتے ہیں، خاص طور پر یہ امراض ان لوگوں کے لیے زیادہ بدتر ہوجاتے ہیں جو ذہنی بے چینی یا تشویش کے شکار ہوں، ماہرین کے مطابق معدہ انسانی مزاج کی کیفیات کے مطابق ردعمل ظاہر کرتا ہے۔

دانتوں کے امراض

ڈپریشن منہ کی صحت پر بھی اثرانداز ہونے والا مرض ہے، ایک تحقیق کے مطابق ڈپریشن کے نتیجے میں دانتوں کی فرسودگی اور دانت گرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ مزاج کی خرابی روزمرہ کے کاموں کو مشکل بنادیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں لوگ دانتوں کی مناسب صفائی پر دھیان نہیں دے پاتے جس کے باعث وہ دانتوں کے امراض کا شکار ہوجاتے ہیں۔

آدھے سر کا درد

جسمانی درد کی طرح آدھے سر کا درد بھی ڈپریشن سے جڑا ہوا ہوسکتا ہے، ڈپریشن نہ صرف سردرد کا باعث بنتا ہے بلکہ اس کے مریضوں میں آدھے س کے درد کی شکایت عام ہوتی ہے۔ تاہم سردرد دیگر امراض کی علامت بھی ہوسکتی ہے خاص طور پر اگر اچانک بینائی میں تبدیلی آئے، اس ہونے کا احساس یا گردن اکڑنے کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کیا جانا چاہئے۔

ایڑیاں پھٹنے کے مسائل سے نجات دلانے والے ٹوٹکے

موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی ایڑیاں پھٹنے یا اس جگہ کی کھال سخت ہونے کے مسائل کافی عام ہوجاتے ہیں۔

آج کے مصروف طرز زندگی کے باعث بیشتر افراد سارا دن چلتے پھرتے گزارتے ہیں جس کے نتیجے میں جلدی مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

مٹی سے براہ راست رابطہ پیر کی جلد کو جسم کے دیگر حصوں کے مقابلے میں بہت جلد خشک کردیتا ہے۔

جب موسم سرما میں درجہ حرارت کم ہوتا ہے تو یہ مسئلہ بڑھ جاتا ہے جس کے نتیجے میں ایڑیوں کی جلد پرتوں کی شکل اختیار کرلیتی ہے اور پھر ایڑیاں پھٹنے کے نتیجے میں تکلیف اور عدم اطمینان کا احساس ہوتا ہے۔

تاہم آپ اس مسئلے سے نجات گھر بیٹھے چند عام چیزوں کی مدد سے بھی حاصل کرسکتے ہیں۔

متاثرہ حصے کی نمی بحال کرنا

اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ جلد میں مناسب نمی کی کمی ہوتی ہے، جلد کو نم رکھنا اسے خشک ہونے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، اس مقصد کے لیے موئسچرائزر کافی مددگار ثابت ہوسکتا ہے، پیروں کے تلوں اور ایڑیوں پر دن میں دوبار اس استعمال پیروں کی جلد کو سخت اور خشک ہونے سے روکتا ہے۔

شہد اور پانی

یہ دونوں ہر گھر میں ہی موجود ہوتے ہیں، گرم پانی میں شہد کو مکس کریں اور اپنے پیروں کو اس میں ڈبو دیں، پھر نرمی سے متاثرہ حصے کو رگڑیں، شہد جلد کی قدرتی نمی بحال کرنے کا کام کرتا ہے۔

پیروں کی صفائی

جب پیروں کی جلد خشک ہوتی ہے تو یہ ضروری ہے کہ انگلیوں کے درمیانی حصے کو صاف کرکے مٹی اور سیلن کپڑے سے دور کریں، وہاں موجود سیلن مختلف قسم کے انفیکشن کا باعث بنتی ہے۔

ہلدی اور تیل کی مالش

ہلدی میں تیل کو ملا کر متاثرہ حصے میں مالش کرنا پھٹی ہوئی ایڑیوں میں نمی بحال کرتا ہے، جبکہ سوجن یا درد میں کمی بھی لاتا ہے۔ اس کو معمول بنالینا پیروں میں خون کی گردش بڑھا کر جلد کو مسائل سے دور رکھتا ہے۔

جرابوں کا استعمال

ننگے پیر چلنا پیروں کو بیکٹریا اور مٹی کا آسان شکار بنا سکتا ہے، اسے آلودگی اور مٹی سے تحفظ دینے کے لیے کاٹن کی جرابوں کا استعمال اچھا خیال ہے۔

لیموں اور جرابیں

سب سے پہلے ایک بڑے سائز کے لیموں کو دو ٹکڑوں میں کاٹ لیں اور پھر اس کا عرق نکال لیں۔آپ کو تمام عرق نکالنا ہوگا تاہم اس کے اندرونی گودے کا تھوڑا بہت حصہ دونوں ٹکڑوں میں چھوڑ دیجیئے گا۔اب دونوں ٹکڑوں کو ایڑیوں کے نیچے رکھ دیں اور دب جانے پر فکر مت کریں۔اب ان ٹکڑوں سمیت پیروں پر موزے چڑھالیں اور آدھے گھنٹے تک لیموں کے ٹکڑوں کو ایڑیوں سے چپکے رہنے دیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے، ان سے نجات مشکل نہیں

خواتین اپنے حسن کو نکھارنے کے لیے طرح طرح کے طریقے آزماتی ہیں۔

رنگ کو گورا کرنے ، چہرے سے داغ دھبے دور کرنے اور دوسروں سے زیادہ خوب صورت دکھائی دینے کے لیے دن رات محنت کرتی ہیں۔ اسی دُھن میں وہ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقوں کو نظر انداز کر دیتی ہیں۔ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقوں کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سب سے اہم نیند کا پورا نہ ہونا ہے۔

موبائل فون کی اسکرین یا کمپیوٹر پر گھنٹوں نظریں جمائے رکھنے سے بھی آنکھوں کے گرد حلقے پڑجاتے ہیں۔ ان کے علاوہ ناقص خوراک، ذہنی تناؤ یا کسی بیماری کے نتیجے میں بھی آنکھوں اور رخسار کا درمیانی حصہ سیاہی مائل ہوسکتا ہے۔ بیماری کی صورت میں اس مرض کا علاج ضروری ہے۔ اس کے علاوہ اسباب ہونے کی صورت میں مندرجہ ذیل ٹوٹکے آزمانے سے حلقوں سے نجات مل سکتی ہے۔

ٹماٹر کا استعمال: ٹماٹر میں قدرتی اجزا شامل ہوتے ہیں ہیں جو حلقوں کو دور کرنے کے لیے بے حد مؤثر ثابت ہوئے ہیں ۔ ایک چمچہ ٹماٹر کے رس میں ایک چمچہ لیموں کا رس ملائیں اور اسے سیاہ حلقوں پہ لگائیں ۔ دس منٹ کے بعد دھو لیں ۔یہ عمل دن میں دو بار دہرائیں ۔ کچھ ہی دنوں میں آپ واضح فرق محسوس کریں گی۔

آلو کا استعمال : چند آلو چھیل کر ان کا رس نکال لیں پھر اسے روئی کی مدد سے آنکھوں کے گرد لگائیں ۔ دس منٹ بعد سادھے پانی سے منہ دھو لیں۔ روزانہ یہ عمل کرنے سے حلقے مدھم پڑھنے شروع ہوجائیں گے۔

ٹی بیگ : ٹی بیگ کو پانی میں بھگو لیں اور اسے ٹھنڈا ہونے کے لیے فریزر میں کچھ دیر کے لیے رکھ دیں۔ اب اس ٹھنڈے ٹی بیگ کو دس منٹ کے لیے آنکھوں کے اوپررکھیں۔ چند دنوں میں ہی فرق محسوس ہونے لگے گا۔

دودھ: ٹھنڈے دودھ کو روئی کی مدد سے آنکھوں کے گرد لگائیں ۔ اس سے بھی واضح فرق نظر آئے گا ۔

کینو کا جوس : کینو کے جوس میں چند قطرے گلیسرین ملا کر حلقوں پہ لگائیں۔ یہ نہ صرف حلقوں کو دور کرنے میں مدد کرتا ہے بلکہ ان میں قدرتی چمک بھی پیدا کرتا ہے ۔

اس کے علاوہ نیند اپنے وقت پہ لینا اور دن میں آٹھ گلاس پانی پینا بھی اس کا علاج ہے ۔اگر آنکھوں میں تھکاوٹ محسوس ہو تو جو بھی کام آپ کر رہی ہیں اسے اسی وقت چھوڑ دیں ۔ زبردستی آنکھوں کو تکلیف نہ دیں ۔ان تمام باتوں پہ عمل کر کے آپ خوب صورتی کو گہن لگانے والے حلقوں سے نجات پاسکتی ہیں۔

جگر کے کینسر سے بچنا ہے تو روزانہ 5 کپ کافی پیجیے، تحقیق

لندن: برطانیہ میں کی گئی ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ روزانہ تین سے پانچ کپ کافی پینے سے جگر کے کینسر اور اس کے غیر فعال ہونے کا خطرہ 40 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

یہ تحقیق رائل سوسائٹی آف میڈیسن لندن کی جانب سے پیش کی گئی ہے جس میں کافی کے انسانی جسم پر ممکنہ اثرات سے متعلق بحث کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اعتدال کے ساتھ کافی کا استعمال جگر کےلیے مفید ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن کے پروفیسر گریم الیگزینڈر نے بتایا کہ جگر کے امراض بڑھ رہے ہیں اس لیے یہ معاملہ اہم ہے کہ کس طرح دنیا کا من پسند مشروب ’’کافی‘‘ جگر کے امراض کے خلاف معاون ثابت ہورہا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا کہ کافی پینے سے جگر کے امراض لاحق ہونے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے، اس لیے یہ ضروری ہے کہ مریض کی مناسب نگہداشت کےلیے انہیں اپنے معالجین کی طرف سے غذا کے درست استعمال سے متعلق ایسی معلومات فراہم کی جائیں جنہیں وہ سمجھیں اور ان پر عمل کرسکیں۔

اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کافی نہ پینے والوں کے مقابلے میں کافی پینے والے افراد میں جگر کے کینسر کا خطرہ 40 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

قبل ازیں اٹلی اور امریکی ماہرین کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ کافی کے مناسب استعمال سے جگر کے امراض 25 سے 70 فیصد تک کم ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح ایک اور تحقیق میں کہا گیا تھا کہ کافی کے زیادہ استعمال سے 65 فیصد تک جب کہ کم استعمال سے جگر کے مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ 25 تا 30 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

برطانوی ادارے برٹش لیور ٹرسٹ کے ایک ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ جگر کا مرض ایک خاموش قاتل ہے کیوں کہ جب تک اس کی علامت ظاہر ہوتی ہیں، بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ کافی ایک ایسا مشروب ہے جس تک ہر شخص کی آسانی سے رسائی ہے۔  فلٹرڈ، انسٹنٹ یا ایسپریسو کے اثرات میں فرق ہوسکتا ہے تاہم کوئی بھی کافی ہو، اسے روزانہ پینے سے جگر کے امراض میں مبتلا ہونے کے امکانات کم سے کم ہوجاتے ہیں۔

پاکستان وہ علامات جو ضروری وٹامنز کی کمی ظاہر کریں

آپ کا جسم صحت کے بارے میں کافی معلومات فراہم کرتا رہتا ہے تاہم آپ کو درست وقت پر اسے سمجھنے اور جاننے کی ضرورت ہے۔

جس سے آپ جان سکتے ہیں کہ جسم کے اندر کیا چل رہا ہے اور اس کی ممکنہ وجہ کیا ہوسکتی ہے۔

بس علامات پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، جن میں سے کچھ کو سمجھنا مشکل ہوسکتا ہے تاہم جسم کے اندر کچھ اجزاءکی کمی درج ذیل علامات کی شکل میں ظاہر ہوسکتی ہے۔

سر کی جلد متاثر ہونا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اس کی ممکنہ وجہ جسم میں فیٹی ایسڈز کی کمی ہوسکتی ہے جس کا نتیجہ سر کی جلد پرت دار ہونے کی شکل میں نکلتا ہے جو آپ کو خشکی لگ سکتی ہے، مگر اس کی وجہ غذا میں مناسب مقدار میں صحت بخش فیٹی ایسڈز نہ ہونا ہوسکتا ہے، اومیگا تھری ایس جسم کے اندر نمی کا کردار ادا کرتا ہے اور اس کی کمی خشکی کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ ہفتے میں دو بار مچھلی کھانا اس جز کے حصول کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے، اسی طرح اخروٹ کھا کر آپ الفا لائنلینک ایسڈ کو حاصل کرسکتے ہیں۔

پتلے اور نازک بال

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اگر بالوں کا گھنا پن ختم ہوتا جارہا ہے اور وہ بہت جلد ٹوٹ رہے ہیں تو اس کی ممکنہ وجہ بی وٹامنز کی کمی ہوسکتی ہے، بی وٹامن مضبوط اور صحت مند بالوں کے لیے بہت ضروری ہے، جبکہ بی وٹامن یا فولک ایسڈ کی کمی بالوں کا گھنا پن ختم ہونے اور زیادہ گرنے کی شکل میں نکلتا ہے، عام طور پر یہ وٹامن دلیہ یا روٹی میں حاصل کیا جاسکتا ہے، ایک پلیٹ چاول بھی اس کے حصول کا بہترین ذریعہ ثابت ہوسکتی ہے، اسی طرح پالک بھی اس کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔

قبل از وقت بال سفید ہونا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اگر بال قبل از وقت سفید ہوجائیں تو اس کی ممکنہ وجہ کاپر کی کمی ہوسکتی ہے، یہ جز بالوں کی رنگت کے لیے اہم کیمیکل میلانن کے لیے اہم ترین کردار ادا کرتا ہے، اگر بال سفید ہورہے ہوں تو جسم کے اندر کاپر کی سطح کا ٹیسٹ کیا جاسکتا ہے، اس کے حصول کے لیے مشروم اچھا ذریعہ ہے۔

منہ میں چھالے

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اگر جسم میں وٹامن بی 12 کی کمی ہو تو اس کی علامت منہ میں چھالے یا ہونٹوں کے اطراف کریکس کی شکل میں نکلتا ہے، ایسا ہونے پر ڈاکٹر سے رجوع کرکے وجہ جاننا چاہئے اور ان کے مشورے سے بی 12 سپلیمنٹس کا استعمال کرنا چاہیے، ویسے یہ وٹامن چکن (چربی کے بغیر)، سرخ گوشت اور انڈوں میں موجود ہوتا ہے۔

ہر وقت شدید تھکاوٹ

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ہر وقت تھکاوٹ کے شکار رہتے ہیں، چاہے مناسب نیند ہی کیوں نہ لیتے ہوں، یہ وٹامن ڈی کی انتہائی کمی کا نتیجہ ہوسکتا ہے، اگر ڈاکٹر اس کی نشاندہی کردے تو وہ اس کے لیے سپلیمنٹ تجویز کرسکتا ہے، طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق وٹامن ڈی کا استعمال تھکاوٹ کی حالت میں بہتری لاسکتا ہے جبکہ جسمانی توانائی بھی بڑھتی ہے۔ ویسے یہ وٹامن دہی، دودھ، مچھلی اور مشروم وغیرہ میں ملتا ہے جبکہ سورج کے ذریعے بھی اسے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

جسمانی خراشیں جلد پڑجانا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اگر بس کسی چیز سے ٹکرانے سے بھی جلد پر خراش پڑجاتی ہے تو آپ کو مناسب مقدار میں وٹامن سی کے حصول پر غور کرنا چاہیے، وٹامن سی ایک ہارمون کولیگن کی پیداوار میں مدد کرتا ہے جو شریانوں کے لیے ضروری ہے۔ خراشیں اس بات کی علامت ہوتی ہیں کہ اندر شریانوں کا نظام کمزور ہورہا ہے، یہ وٹامن اسٹرابری، مالٹے، آم، لیموں غرض ہر طرح کی ترش غذاﺅں میں پایا جاتا ہے۔

ٹانگوں کے مسل اکڑنا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اس کی وجہ میگنیشم یا کیلشیئم کی کمی ہوسکتی ہے جو مسلز کے لیے ضروری اجزاءہیں، اگر اکثر مسلز اکڑ جاتے ہیں تو یہ ممکنہ طور پر ان اجزاءکی کمی ہی ہوسکتی ہے، تاہم کیلوں، دودھ، کدو کے بیج وغیرہ کا استعمال کرکے اسے دور کرنے کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے۔

قبض

اگر اکثر قبض کے شکار رہتے ہیں تو اس کی وجہ غذا میں فائبر اور میگنیشم کی کمی ہوتی ہے، یہ دونوں اجزاء نظام ہاضمہ کو فعال رکھنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ میگنیشم سے بھرپور غذاﺅں کا استعمال اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتا ہے جبکہ فائبر کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے جو دالوں ، گوبھی اور سیب وغیرہ میں موجود ہوتا ہے۔

قبض سے نجات کے لیے یہ 6 جوس پینا شروع کریں

قبض ایک ایسی بیماری ہے جس کا سامنا اکثر افراد کو ہوجاتا ہے اور اس سے اور بہت سی بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

ہمارا نظام ہاضمہ بہت سی غذاؤں سے متاثر ہوجاتا ہے، جس کے بعد اکثر قبض کی شکایت رہنے لگتی ہے۔

ایسے میں بہت سے قدرتی طریقوں سے اس مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے۔

بہت سے افراد ایسے ہیں جو دوائیں کھانا پسند نہیں کرتے، جبکہ کچھ کو دواؤں سے الرجی بھی ہوجاتی ہے، ایسے میں اگر آپ کو قبض کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو، تو مندرجہ ذیل دیے ہوئے جوس (شربت) بناکر ضرور پئیں۔

انناس کا جوس

انناس قبض کے لیے کافی بہتر مانا جاتا ہے، اس میں برومینن نامی پروٹین قبض کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

تربوز کا شربت

تربوز کو گرمیوں میں کھانے کے لیے بہترین پھل مانا جاتا ہے اس کی وجہ اس میں موجود پانی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ یہ قبض سے نجات دلانے کے لیے بھی کافی موثر ہے۔

لیمو کا شربت

لیمو کے شربت میں وٹامن سی کی مقدار بہت زیادہ پائی جاتی ہے، اور وٹامن سی کھانا ہضم کرنے میں کافی مددگار ہے، قبض سے نجات کے لیے ہر روز کم از کم 2 گلاس لیمو کا شربت ضرور پیئیں۔

سیب کا جوس

سیب کا جوس قبض سے لڑنے میں کافی مددگار مانا جاتا ہے، اس میں موجود آئرن صحت کے لیے موثر ہونے کے ساتھ ساتھ نظام ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے۔

مالٹے کا جوس

لیمو کی طرح مالٹے کے جوس بھی بھی وٹامن سی کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے، جو نظام ہاضمہ کو بہتر بناتی جبکہ اس میں موجود فائبر قبض میں لڑنے میں موثر سمجھا جاتا ہے۔

موسمبی جوس

موسمبی جوس میں ایسے ایسڈز موجود ہوتے ہیں جو پیٹ کو صاف کرنے میں مدد دیں، اس میں ایک چٹکی نمک شامل کرکے پینا اسے مزید موثر بنادے گا۔

Google Analytics Alternative