صحت

مہندی کا استعمال فائدہ مند کیوں ہوتا ہے؟

مہندی نہ صرف سفید بالوں کو چھپانے کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ یہ آپ کے بالوں کو مضبوط، چمکدار اور گھنا بنانے کا بھی کام کرتی ہے۔

مہندی پاکستان میں خوبصورتی کے لیے استعمال ہونے والی مقبول ترین جڑی بوٹی ہے اور اس میں موجود ٹھنڈک کی تاثیر گرمی سے بھی بچاتی ہے، تاہم اسے اکثر ہاتھ پیروں کو سجانے اور بالوں کے لیے ہی استعمال کیا جاتا ہے لیکن بالوں کے لیے یہ کتنی فائدہ مند ہے اس کے چند فوائد درج ذیل ہیں۔

صحت مند بال

مہینے میں دو بار مہندی لگانے سے بال صحت مند، چمکدار اور گھنے ہوتے ہیں، یہ آپ کے بالوں کی ختم ہوجانے والی صحت کو بحال کرتی ہے اور نقصان کو ختم کرتی ہے۔ مہندی سر میں تیزابی اثرات کو توازن میں رکھتی ہے اور اس سے بالوں کا قدرتی تناسب متاثر نہیں ہوتا۔

بالوں کے گرنے کے مسئلے سے تحفظ

مہندی اور مسٹرڈ آئل کو ملانے سے بالوں کے گرنے کے مسئلے میں کمی لائی جاسکتی ہے، ڈھائی ملی لیٹر مسٹرڈ آئل کو ابالیں، اس میں مہندی کے چند پتوں کو ملائیں اور مزید ابالیں، اس تیل کی مالش ہفتے میں دو سے تین بار سر پر کریں۔

بالوں کا کنڈیشنر

مہندی آپ کے بالوں کے لیے بہت اچھا کنڈیشنر بھی ہے، یہ بالوں پر ایسی حفاظتی تہہ بنا دیتی ہے جو مٹی یا آلودگی کے نقصانات سے بچاتی ہے، مہندی کے استعمال کو معمول بنانے سے بال مضبوط اور گھنے ہوتے ہیں اور ان میں ضروری نمی موجود رہتی ہے۔

بالوں کی سفیدی چھپائے

اگر آپ اپنے بالوں کو نقصان پہنچائے بغیر رنگنا چاہتے ہیں تو مہندی اس کا بہترین حل ہے، اس میں کسی قسم کے امائنو ایسڈ نہیں ہوتے اور نہ ہی کیمیکل جو بالوں کی نمی کو ختم کرکے انہیں بے جان اور روکھا بنا دیتے ہیں۔ گرم پانی میں دو چمچ خشک آملہ، ایک چمچ پتی کے ساتھ مہندی کو شامل کرکے اس کا پیسٹ بنا کر سر پر دو گھنٹے تک لگا رہنے دیں، آپ کے بالوں کی سفیدی سیاہ چمکدار رنگت میں تبدیل ہو جائے گی۔

خشکی سے تحفظ

مہندی خشکی کے لیے بھی موثر ہے، میتھی کے بیجوں کو ایک یا دو چمچ پانی میں رات بھر بھگو کر رکھیں اور صبح انہیں پیس لیں، سرسوں کا تیل اور مہندی کے پتے گرم کریں اور ٹھنڈا کرنے کے بعد میتھی کا پیسٹ اس میں شامل کرلیں اور پھر بالوں میں ایک گھنٹے تک لگا رہنے دیں اور اس کے بعد نہالیں، آپ خشکی پر اس کے اثرات دیکھ کر حیران رہ جائیں گے۔

بالوں کو جگمگائیں

مہندی میں موجود اجزاء بالوں کو خشک ہونے، نقصان پہنچنے اور دیگر نقصانات سے بچاتے ہیں، جبکہ اس سے بال بھی چمکدار ہوجاتے ہیں۔

فاقہ کشی سے رگیں جوان رہتی ہیں، تحقیق

جارجیا: تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ فاقے (یا روزے) سے جسم کی اندرونی وریدیں اور شریانیں طویل عرصے تک جوان رہتی ہیں۔

اگرچہ وقفے وقفے سے فاقوں اور روزوں کے وزن کم کرنے کے ساتھ ساتھ کئی فوائد سامنے آتے رہے ہیں لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ روزے سے جسم میں ایک خاص سالمہ (مالیکیول) پیدا ہوتا ہے جو رگوں اور شریانوں کی عمر رسیدگی کو روک کر انہیں تادیر جوان رکھتا ہے۔

جارجیا اسٹیٹ یونیورسٹی کے  ماہرین نے طویل مطالعے کے بعد کہا ہے کہ روزے اور کم کاربوہائڈریٹس والی غذاؤں کے استعمال سے جسم جس کیفیت میں آتا ہے اس میں اضافی چکنائیاں گلوکوز کے بجائے توانائی جمع کرنے لگتی ہیں۔ اس عمل میں ایک مالیکیول ’’بی ٹا ہائیڈروکسی بیوٹائریٹ‘‘ پیدا ہوتا ہے جو خلیات کے حیاتیاتی چکر (لائف سائیکل) پر اثرانداز ہوتے ہوئے ان کی عمررسیدگی کو روکتا ہے۔

اس کا انکشاف تحقیق میں شامل اہم سائنسدان ڈاکٹر مِنگ ہوئی زو نے کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ فاقے سے خلیات میں مائٹوکونڈریائی سرگرمیاں بھی تبدیل ہوجاتی ہیں۔

خلوی سطح پر جاری یہ تبدیلی ان کی زندگی بڑھاتی ہے، عمر رسیدگی کو روکتی ہے اور یوں پورے بدن پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بی ٹا ہائیڈروکسی بیوٹائریٹ مالیکیول پورے جسم کی رگوں میں خلیات کی بے عملی کو درست وقت پر بریک لگاتے ہوئے خلوی تقسیم (سیل ڈویژن) بڑھاتا ہے اور انہیں بوڑھا ہونے سے روکتا ہے۔

جب اس مالیکیول کو چوہوں پر آزمایا گیا تو انکشاف ہوا کہ یہ اسٹیم سیل کو بھی تحریک دے کر خون کی رگوں کو جوان رکھتا ہے۔ یہ کوئی معمولی عمل نہیں کیونکہ شریانوں کا جوان رہنا امراضِ قلب سے لے کر الزائیمر جیسی خطرناک اور جان لیوا بیماریوں تک کو روکتا ہے۔ اسی لیے فاقے کی اس افادیت کو غیرمعمولی قرار دیا جاسکتا ہے۔

خون کی کمی میں مددگار سیب اور کیلے کا مشروب

خون کی کمی ایسا مسئلہ ہے جس کا سامنا ہر 10 میں سے 8 افراد کو ہوتا ہے۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ سیب اور کیلے سے بننے والا ایک مشروب ایسا ہے جو کہ موٹاپے پر کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ جسم میں آئرن کی سطح بڑھانے میں مدد دیتا ہے؟

عالمی ادارہ صحت کے ایک تخمینے کے مطابق دنیا کی 80 فیصد آبادی کو آئرن کی کمی کا سامنا ہوتا ہے خصوصاً حاملہ خواتین میں یہ خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

بالغ افراد کے لیے اس حوالے سے روزانہ آئرن کی مقدار بھی تجویز کی گئی ہے جیسے مردوں کے لیے 8 ملی گرام جبکہ خواتین کے لیے 18 ملی گرام، تاہم 50 سال کی عمر کے بعد خواتین میں بھی یہ مقدار 8 ملی گرام ہوجاتی ہے۔

سیب اور کیلے غذائیت بخش پھل ہیں، جن میں سے ایک درمیانے سائز کے سیب میں 95 کیلوریز، 25 گرام کاربوہائیڈریٹ، آئرن اور وٹامن سی ہوتا ہے جبکہ کیلوں میں فولک ایسڈ اور وٹامن بی 12 جیسے اجزا موجود ہیں جو خون کی کمی دور کرنے کے لیے فائدہ مند ہیں۔

سیب نہ صرف آئرن کے حصول کا اچھا ذریعہ ہیں بلکہ ان کے ذریعے پوٹاشیم بھی جسم کو ملتا ہے جو کہ بلڈپریشر کو معمول پر لانے میں مدد دیتا ہے۔ اسی طرح کاپر بھی ایسا منرل ہے جو کہ جسم میں ہیموگلوبن بنانے میں مدد دیتا ہے۔

کیلوں میں بھی آئرن کی اچھی خاصی مقدار موجود ہوتی ہے جبکہ فائبر اور پوٹاشیم بھی فراہم کرتے ہیں۔

مشروب بنانے کے لیے اجزا

ایک کیلا

ایک سیب

ایک کھانے کا چمچ شہد

آدھا گلاس دودھ

طریقہ کار

کیلا کا چھلکا اتار کر اسے کاٹ لیں، جس کے بعد سیب کو چھلکوں کے ساتھ ہی ٹکڑوں میں کاٹیں۔

اب انہیں جوسر میں ڈال کر ایک چمچ شہد کا اضافہ کردیں اور پھر دودھ کو بھی ڈال کر سب اجزاءکو اچھی طرح بلینڈ کرلیں۔

اگر تو آپ کو یہ مشروب گاڑھا لگے تو اس میں مزید دودھ کو ڈال کر اسے بلینڈ کریں۔

بس پھر گلاس میں نکال کر پی لیں، اس مشروب کا استعمال بہت کم وقت میں خون کی کمی کے مسئلے سے نمٹنے میں مدد دے سکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

صحت مند عادات جو بڑھاپا طاری نہ ہونے دیں

عمر بڑھنے کے ساتھ تیسری یا چوتھی دہائی میں جھریاں، آنکھوں کے نیچے لکیریں یا جلد ڈھلکنے لگتی ہے اور کوئی بھی انہیں دیکھنا پسند نہیں کرتا۔

تاہم ہمارے روزمرہ کی زندگی کی چند عادات اس عمل کو تیز کرنے کا باعث بنتی ہیں مگر اپنی غذا اور طرز زندگی میں چند معمولی تبدیلیاں اس کی رفتار سست ترین کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

یہاں آپ ایسی ہی عادات جان سکیں گے جو کہ عمر بڑھنے سے مرتب ہونے والے اثرات کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوں گی۔

مناسب نیند

اگر آپ کی نیند کا دورانیہ 7 سے 9 گھنٹے نہیں تو درحقیقت آپ جوانی میں ہی خود کو بوڑھا کررہے ہوتے ہیں، اچھی صحت کے لیے روزانہ 7 سے 9 گھنٹے کی نیند کی ضرورت ہوتی ہے، اور ہاں پیٹ کے بل سونے سے گریز کریں کیونکہ ایسا کرنے سے چہرہ تکیے میں دبتا ہے اور جھریاں ابھر سکتی ہیں۔

چہرے کی نمی کا خیال رکھیں

خواتین کبھی بھی میک اپ کے ساتھ نہ سوئیں کیونکہ یہ عادت چہرے کی جلد خشک کردیتی ہے اور کم عمری میں بڑھاپا طاری ہونے لگتا ہے، تو سونے سے پہلے میک اپ صاف کرلیں جبکہ مرد حضرات بھی سونے سے قبل منہ دھو لیا کریں۔

خوش رہنا سیکھیں

ذہنی تناﺅ چہرے کی عمر کئی برس بڑھا دے گی جبکہ دیگر سنگین امراض کا خطرہ بھی بڑھے گا، مراقبے کی عادت ڈالیں اور ورزش کرنا بھی اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

چینی کو چھوڑ دیں

چینی صرف جسمانی وزن میں اضافے کا ہی باعث نہیں بنتی بلکہ یہ جسم پر عمر کے اثرات کی رفتار کو بھی تیز کردیتی ہے۔ اس لیے چینی کا کوئی صحت مند متبادل تلاش کریں جیسے پھل، بہت زیادہ چینی کا استعمال جلد کی عمر کو پر لگا دیتا ہے جبکہ جسمانی ورم بھی بڑھنے لگتا ہے، اگر آپ اپنی شخصیت میں جوانی کو طویل عرصے تک برقرار رکھنا چاہتے ہیں، تو چینی کا استعمال کم کریں، تاہم اسے مکمل طور پر ترک کرنا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ اسی طرح سبزیاں کھانا عادت بنائیں تاکہ چہرے پر جوانی کا تاثر تادیر برقرار رہ سکے۔

تمباکو نوشی سے گریز

نکوٹین اچھی جلد کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے، جبکہ جان لیوا امراض کا باعث بھی بنتی ہے، یہ جان لیں کہ سیگریٹ کا دھواں بھی زہریلا ثابت ہوتا ہے۔

خراٹوں سے بچانے میں مددگار غذائیں

کیا آپ نیند کے دوران خراٹے لیتے ہیں؟ ویسے تو یہ اتنے نقصان دہ نہیں ہوتے تاہم ان کی شدت بڑھنے سے دماغی افعال پر اثرات مرتب ہوتے ہیں جن سے فالج، دل کے دورے اور ڈپریشن سمیت مختلف امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

مگر یہ عادت گھر والوں کی نیند بھی متاثر کرتی ہے جن کے لیے کسی خراٹے لینے والے شخص کے قریب سونا آسان نہیں ہوتا۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ عارضہ کسی کو اپنا شکار کیوں بناتا ہے؟

درحقیقت ناک، آنکھیں اور گالوں کے پیچھے موجود سانس کی گزرگاہ میں موجود لائننگ یا نسل پولپس کے سوجنے کے باعث یہ عارضہ لاحق ہوتا ہے۔

ناک کی اندرونی لائننگ سوجنے کے نتیجے میں یہ عارضہ لاحق ہوتا ہے جس کی علامات ناک بند ہونا، منہ پر دباﺅ سونگھنے یا چکھنے کی حس کم ہوجانا وغیرہ ہیں جسے آبسٹرکٹیو سلیپ اپنیا (او ایس اے) بھی کہا جاتا ہے۔

ایسا اس وقت ہوتا ہے جب سانس کی گزرگاہ عارضی طور پر اس وقت بلاک ہوجاتی ہے جب کوئی شخص سو رہا ہے جس کے نتیجے میں نیند متاثر ہوتی ہے۔

اگرچہ یہ عارضہ بہت عام ہے مگر چار میں سے ایک شخص میں ہی اس کی تشخیص ہوتی ہے۔

اس عارضہ میں سانس کی نالی دس سیکنڈ یا کچھ دیر کے لیے بلاک ہوتی ہے جسے ہپوفونیا بھی کہا جاتا ہے اور لوگوں کو اس کا تجربہ اکثر ہوتا ہے۔

جب ایسا ہوتا ہے تو آکسیجن کی کمی دماغ کو گہری نیند سے باہر لے آتی ہے جس کے نتیجے میں متاثرہ فرد جاگ جاتا ہے جس کے بعد سانس کی گزرگاہ دوبارہ کھل جاتی ہے اور معمول کے مطابق سانس لینے لگتا ہے۔

اچھی بات یہ ہے کہ انہیں روکنا کا آسان ذریعہ آپ کی کچن میں ہی موجود ہے، ایسی غذاﺅں کا ذکر درج ذیل ہیں جن کا استعمال کریں یا ان سے دوری اختیار کرلیں۔

ہلدی

یہ مصالحہ ورم کش خصوصیات رکھتا ہے جو کہ ناک کی اندرونی لائننگ کی سوجن کم کرنے میں مدد دیتا ہے، گلے کو سکون پہنچانے کے ساتھ خراٹوں کا مسئلہ بھی کم کرتا ہے۔ ایک گلاس گرم دودھ میں 2 چائے کے چمچ ہلدی پاﺅڈر مکس کریں اور سونے سے آدھے گھنٹے قبل پی لیں۔

پودینہ

پودینے کا تیل یا اس کا ماﺅتھ واش ایسی چیزیں ہیں جو خراٹوں سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں، پودینے کے تیل کو اپنے ناک کے ارگرد مل لیں تاکہ سانس کی گزرگاہ کھل جائے، جبکہ پودینے کا ماﺅتھ واش گلے کے ٹشوز کی خرابیوں کے خلاف مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ اسی طرح سونے سے قبل پودینے کے تیل کے 2 یا تین قطروں کو پانی میں مکس کرکے غرارے کرنا بھی اس مسئلے سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔

پیاز

پیاز صرف اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور نہیں ہوتی بلکہ اس میں قدرتی طور پر ایسے اجزاءموجود ہوتے ہیں جو ناک میں موجود ہوا کی گزرگاہ صاف رکھنے میں مدد دیتے ہیں، تو اپنی غذا میں اس کا اضافہ کرنا فائدہ مند ہوسکتا ہے۔

زیتون کا تیل

مکھن اور مارجرین کو زیتون کے تیل سے بدل دینا معدے میں تیزابیت کے مسئلے پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے جو کہ سینے میں جلن کا باعث بنتا ہے۔ سینے میں جلن سے ہونے والا ورم اکثر غذائی نالی تک پہنچ جاتا ہے جس کا نتیجہ خراٹوں کی شکل میں نکلتا ہے۔

شہد

شہد بھی ورم کش اور جراثیم کش خصوصیات سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ خراٹوں کو دور رکھنے میں مدد دیتا ہے، سونے سے قبل چائے یا گرم پانی میں ایک چائے کے چمچ شہد کو ملا کر پینا گلے کو سکون پہنچانے کے ساتھ بلغم کم کرتا ہے، جبکہ خراٹوں سے نجات دلانے میں کردار ادا کرتا ہے۔

مچھلی

مچھلی سرخ گوشت کا اچھا متبادل ثابت ہوسکتی ہے، سرخ گوشت بہت زیادہ کھانے کی عادت خراٹوں کا باعث بن سکتی ہے، اس کے مقابلے میں مچھلی میں موجود فیٹی ایسڈز جسمانی ورم کو کم کرتے ہیں۔

سیب اور گاجر

2 گاجریں، 2 سیب، ایک لیموں کا ٹکڑا، ایک ادرک کا ٹکڑا اور ایک کپ اورنج جوس لیں، ان چیزوں کو آپس میں مکس کرلیں اور سونے سے کچھ گھنٹے پہلے پی لیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

میک اپ میں شامل کیمیکلز خواتین کو بریسٹ کینسر کا مریض بناسکتے ہیں، تحقیق

ورجینیا: آج کل تقریباً ہر ماہ میک اپ میں شامل مضر اجزا اور کیمیکلز کے بارے میں نئی پریشان کُن خبریں سامنے آتی رہتی ہیں، اب خبر یہ آئی ہے کہ لاتعداد بیوٹی پراڈکٹس، میک اپ اور دیگر حسن آور اجزا میں شامل خوف ناک کیمیکلز خواتین کے جسم میں ہارمون کا حساس توازن بگاڑتے ہیں جس سے بریسٹ کینسر اور امراضِ قلب لاحق ہوسکتے ہیں۔

قبل ازیں ایک اور تحقیق میں انکشاف ہوا تھا کہ بال رنگنے کے بہت سے کیمیکل بھی خواتین میں بریسٹ کینسر کی وجہ بن سکتے ہیں تاہم اب جارج میسن یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیات کی معاون پروفیسر ڈاکٹر اینا پولاک اور ان کی ٹیم نے درجنوں خواتین کا ایک سروے کیا ہے۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق 18 سے 44 سال کی 143 ایسی خواتین کے پیشاب کا جائزہ لیا گیا جو میک اپ استعمال کرتی تھیں۔ ماہرین نے بتایا کہ میک اپ اور بیوٹی پراڈکٹس میں پیرابینس اور بینزوفینونس جیسے کیمیکل ہوتے ہیں جو جسمانی ہارمونز کو متاثر کرتے ہیں۔ ان میں وہ ہارمون بھی ہیں جو خواتین کو ماں بننے میں مدد دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ میک اپ کیمیکلز اور تولیدی صحت والے ہارمون کے درمیان تعلق بتانے والی اپنی نوعیت کی یہ پہلی اسٹڈی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ میک اپ میں شامل کئی کیمیکلز اور یووی فلٹرز تولیدی ہارمون کم کرتے ہیں جبکہ دیگر کیمیائی اجزا مزید پیچیدہ صورتحال پیدا کررہے ہیں۔

پیرابین کیمیکل خواتین کے جسم میں ایسٹروجن ہارمون بڑھاتے ہیں اور اگراس کی سطح بڑھ جائے تو اس سے چھاتی (بریسٹ) کے سرطان کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

کشمش کھانا عادت بنائیں اور صحت مند ہوجائیں

کشمش کو تو آپ نے دیکھا ہی ہوگا جو کہ انگور خشک کرکے بنائی جاتی ہے اور اس کی رنگت گولڈن، سبز یا سیاہ ہوسکتی ہے۔

یہ مزیدار میوہ عام استعمال کیا جاتا ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ اگر اس کا روز استعمال کیا جائے تو آپ کیا فائدہ حاصل کرسکتے ہیں؟

اگر نہیں تو ضرور جان لیں۔

قبض سے نجات

فائبر سے بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ کشمش میں ٹارٹارک ایسڈ بھی شامل ہوتا ہے جو ہلکے جلاب جیسا اثر دکھاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق آدھا اونس کشمش روزانہ کا استعمال کرنے والے افراد کا نظام ہاضمہ دوگنا تیزی سے کام کرتا ہے۔

خون کی کمی دور کرے

کشمش آئرن سے بھرپور میوہ ہے، جو خون کی کمی دور کرنے کے لیے اہم ترین جز ہے، کشمش کو آسانی سے دلیہ، دہی یا کسی بھی میٹھی چیز میں شامل کرکے کھایا جاسکتا ہے بلکہ ویسے کھانا بھی منہ کا ذائقہ ہی بہتر کرتا ہے۔ تاہم ذیابیطس کے شکار افراد کو یہ میوہ زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہئے یا ڈاکٹر کے مشورے سے ہی استعمال کریں۔

بخار سے بھی تحفظ دے

کشمش میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس وائرل اور بیکٹریا سے ہونے والے انفیکشن کے نتیجے میں بخار کے عارضے کا علاج بھی فراہم کرتے ہیں۔

معدے کی تیزابیت ختم کریں

کشمش میں پوٹاشیم اور میگنیشم ہوتا ہے جو کہ معدے کی تیزابیت میں کمی لاتے ہیں، معدے میں تیزابیت کی شدت بڑھنے سے جلدی امراض، جوڑوں کے امراض، بالوں کے گرنا، امراض قلب اور کینسر تک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

آنکھوں کی صحت بہتر کرے

کشمش میں موجود اجزاءآنکھوں کو مضر فری ریڈیکلز سے ہونے والے نقصان سے تحفظ دیتے ہیں جبکہ عمر بڑھنے کے ساتھ پٹھوں کی کمزوری، موتیا اور بینائی کی کمزوری سے تحفظ ملتا ہے۔ اس میوے میں موجود بیٹا کیروٹین، وٹامن اے اور کیروٹین بھی بینائی کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔

جسمانی توانائی بڑھائے

کاربوہائیڈریٹس اور قدرتی چینی کی بدولت یہ میوہ جسمانی توانائی کے لیے بھی اچھا ذریعہ ہے، کشمش کا استعمال وٹامنز، پروٹین اور دیگر غذائی اجزاءکو جسم میں موثر طریقے سے جذب ہونے میں بھی مدد دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باڈی بلڈرز اور ایتھلیٹس کشمش کا استعمال عام کرتے ہیں۔

بے خوابی سے نجات دلائے

اس میوے میں موجود آئرن بے خوابی یا نیند نہ آنے کے عارضے سے نجات دلانے میں مدد دیتا ہے جبکہ نیند کا معیار بھی بہتر ہوتا ہے۔

بلڈ پریشر

آئرن، پوٹاشیم، بی وٹامنز اور اینٹی آکسائیڈنٹس بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے میں مدد دیتے ہیں، خاص طور پر پوٹاشیم خون کی شریانوں کے تناﺅ کو کم کرتا ہے اور بلڈ پریشر کو قدرتی طور پر کم کرتا ہے۔ اسی طرح قدرتی فائبر شریانوں کی اکڑن کو کم کرتا ہے جس سے بھی بلڈ پریشر کی سطح میں کمی آتی ہے۔

ہڈیوں کی صحت

اس میں موجود کیلشیئم ہڈیوں کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے جو ہڈیوں کی مضبوطی برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

گردوں کی صحت کے لیے بہتر

پوٹاشیم سے بھرپور ہونے کی وجہ سے ان کا استعمال معمول بنانا گردوں میں پتھری کا خطرہ کم کرتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

بلڈ پریشر ناپنے کے لیے الٹرا ساؤنڈ کا پیوند تیار

سان ڈیاگو: بلڈ پریشر ناپنے کا روایتی آلہ بہت بڑا ہوتا ہے جس سے فشارِ خون معلوم کرنے کے لیے خاص مہارت کی ضرورت ہوتی ہے تاہم اب جسم کی کسی بھی موٹی رگ سے پیوست ہوکر بلڈ پریشر ناپنے کا ایک سادہ برقی پیوند (الیکٹرانک پیچ) تیار کرلیا گیا ہے۔

نیچر بایو میڈیکل انجینئرنگ میں شائع رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف کیلی فورنیا سان ڈیاگو کے سائنس دانوں نے ایک لچک دار الٹرا ساؤنڈ پیوند بنایا ہے جس میں ٹونومیٹر نامی آلہ کسی رگ کے اوپر پیوند کی صورت میں لگادیا جاتا ہے۔ اسے سلیکن الاسٹومر شیٹ سے بنایا گیا ہے جس میں الیکٹروڈ اور داب برق (پیزو الیکٹرک)  مٹیریل لگا ہوا ہے۔ لچک دار پیوند کھنچتا اور سکڑتا ہے لیکن اس کے سرکٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔

یہ چھوٹا سا پیوند جلد کی چار سینٹی میٹر گہرائی میں موجود رگ کو دیکھتے ہوئے بلڈ پریشر نوٹ کرتا ہے۔ اس کا ڈیٹا، پروسیسنگ کے لیے ایک ڈیٹا پروسیسر میں بھیجا جاتا ہے۔

رضا کاروں نے پیوند کو کلائی، گردن اور پیر وغیرہ پر پہن کراس کی آزمائش کی ہے، حیرت انگیز طور پر سکون سے بیٹھے رہتے ہوئے اور ورزش کی صورت میں بھی بلڈ پریشر کی درست ریڈنگ حاصل ہوئی ہیں۔

اس کامیابی کے بعد ماہرین اسی پیوند میں پاور سپلائی، پروسیسر اور وائرلیس رابطہ شامل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ فی الحال یہ بلڈ پریشر ریڈنگز کو ایک دستی آلے کی جانب وائرلیس کے ذریعے بھیجتا ہے۔

Google Analytics Alternative