صحت

سیب کے سرکے کے یہ فوائد جانتے ہیں؟

زیادہ تر گھروں میں عام طور پر غذاؤں کی تیاری میں سفید سرکہ استعمال کیا جاتا ہے، تاہم بعض گھروں میں سیب اورانگورسمیت دیگر پھلوں سے تیار کیے گئے سرکے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔

جس طرح سفید سرکے کے کئی فوائد ہیں، اس طرح سیب کے سرکے کے بھی متعدد طبی فوائد ہیں۔

سیب کے سرکے کو کولیسٹرول کی کمی، دانتوں کی چمک، سانس کی بو کے خاتمے اور بالوں کو گرنے سے بچانے میں مددگار سمجھا جاتا ہے۔

تاہم اس کے علاوہ بھی سیب کے سرکے کے کچھ اہم طبی فوائد ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق سیب کے سرکے میں پائی جانے والی اسیسیک ایسڈ خصوصیات کی وجہ سے یہ ذیابیطس 2 کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق سیب کے سرکے کو غذاؤں میں شامل کرکے استعمال کرنے والے افراد اضافی وزن سے محفوظ رہتے ہیں، کیوں کہ اس میں پائی جانے والی خصوصی اجزاء کولیسٹرول کی شرح کو برقرار رکھ کے وزن کو بڑھنے سے روکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سیب کا سرکہ میٹابولزم کو مضبوط بناکر انسانی جسم میں شوگر کی مقدار کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ سیب کا سرکہ خصوصی طور پر خواتین کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔

سیب کے سرکے کو باقاعدگی سے استعمال کرنے والی خواتین بچہ دانی میں پیدا ہونے والی بیماریوں سے بھی محفوظ رہتی ہیں، کیوں کہ یہ ان جراثیم کو بڑھنے سے روکتا ہے، جو پیچیدہ بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔

غذائی ماہرین کے مطابق سیب کے سرکے میں موجود امینوایسڈز انسانی جسم کی کمزوری اور سستی کو دور کرکے اس میں توانائی کی مقدار بڑھاتے ہیں۔

ان کے مطابق اس سرکے میں پوٹاشیم سمیت دیگراجزاء بھی شامل ہیں جو تھکان کی کیفیت کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔


نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

روزانہ 20 منٹ ورزش کرکے کینسر اورشوگر سے بچیں

واشنگٹن: امریکی محکمہ صحت نے مختلف بیماریوں سے بچاؤ کے لیے نئے رہنما اصول جاری کردیئے ہیں جن کے مطابق اگر کوئی شخص پورے ہفتے کے دوران مجموعی طور پر صرف ڈھائی گھنٹے ہلکی پھلکی ورزش کی عادت ڈال لے تو وہ دل کی بیماریوں کے علاوہ ذیابیطس، سرطان کی مختلف اقسام اور دوسری کئی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ روزانہ صرف 20 منٹ کی ورزش آپ کے لیے کافی ہوگی جسے آپ اپنی سہولت اور جسمانی برداشت کے حساب سے اختیار کرسکتے ہیں۔ مثلاً آپ تیز قدموں سے پیدل چل سکتے ہیں، دوڑ بھی سکتے ہیں، جسم اجازت دے تو کھیل کود وغیرہ میں حصہ لے سکتے ہیں اور اگر جیب اجازت دے تو فٹنس سینٹر جاکر باقاعدہ ورزش بھی کرسکتے ہیں۔

اس کے علاوہ یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ روزانہ ایک ہی بار میں 20 منٹ ورزش کریں بلکہ آپ پورے دن میں 2 سے 3 مرتبہ 10، 10 منٹ کے لیے ورزش کرکے بھی وہی تمام فوائد حاصل کرسکتے ہیں جو آپ کو ایک ہی وقت میں 20 منٹ ورزش کرنے سے حاصل ہوتے ہیں۔

زیادہ نمک کا استعمال آنتوں کے مفید بیکٹیریا کے لیے تباہ کن قرار

برلن: ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ نمک کا زیادہ استعمال معدے اور آنتوں میں پائے جانے والے انسان دوست بیکٹیریا کو شدید نقصان پہنچاتا ہے اور ان کے متاثر ہونے سے ہائی بلڈ پریشر کا عارضہ لاحق ہوجاتا ہے۔ ساتھ ہی دیگر کئی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں جو انسان کے فطری دفاعی نظام کو متاثر کرتی ہیں۔

اگرچہ نمک اور بلڈ پریشر کے درمیان گہرا تعلق پہلے ہی دریافت ہوچکا ہے لیکن نمک کی معدے کے بیکٹیریا کو تباہ کرنے  کی وجہ پہلی بار سامنے آئی ہے۔ اس کے علاوہ نمک سے بھرپور غذائیں کھانے سے ازخود امنیاتی امراض (آٹو امیون ڈیزیز) بھی پیدا ہوسکتی ہیں جن میں ملٹی پل اسکلیروسس بہت نمایاں ہیں۔

یہ تحقیق جرمنی میں واقع میکس ڈیلبرؤک سینٹر فار مالیکیولر میڈیسن میں ہوئی ہے۔ ماہرین نے بتایا ہے کہ دہی، پنیر اور دیگر خمیر والی غذاؤں میں خاص قسم کے بیکٹیریا ’لیکٹو بیسی لس‘ پائے جاتے ہیں جو ہمیں کئی امراض سے بچاتے ہیں۔

لیکٹو بیسی لس نامی بیکٹیریا جسم میں مرض پیدا کرنے والے جراثیم کو دواؤں کو بے اثر بنانے سے باز رکھتے ہیں اور خواتین میں گردے کی سوزش اور انفیکشن کو دور کرنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکٹو بیسی لس آنتوں میں بھی پائے جاتے ہیں اور ان کے خاتمے سے بلڈ پریشر بڑھتا ہے جس سے امراضِ قلب سمیت کئی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

چوہوں پر کیے گئے تجربات میں دیکھا گیا کہ جب انہیں زیادہ نمک والی غذائیں دی گئیں تو ان میں لیکٹوبیسی لس ختم ہونے لگے جس سے بلڈ پریشر بڑھنے لگا۔ دوسری جانب ان کے جسم میں سوزش کا اضافہ بھی دیکھا گیا۔ اسی طرح چوہوں کو ایک دماغی عارضہ بھی لاحق ہوگیا جو ملٹی پل اسکلیروسس جیسا تھا۔

لیکن سائنس دانوں نے اس کا الٹا عمل بھی کیا یعنی دماغی عارضے میں مبتلا چوہوں کو لیکٹو بیسی لس کے سپلیمنٹ بھی دیئے جس سے چوہوں کا بلڈ پریشر بھی معمول پر آنے لگا۔ اس کے بعد اسے 12 صحت مند مردوں پر آزمایا گیا۔ انہیں دو ہفتے تک روزانہ 6 گرام نمک اضافی دیا گیا یعنی وہ معمول سے دگنا نمک کھانے لگے تھے۔

دو ہفتے بعد معلوم ہوا کہ ان حضرات کے نظام ہاضمہ میں سے لیکٹو بیسی لس بالکل ختم ہوگئے اور ان کا بلڈ پریشر بھی بڑھنے لگا اور جسمانی سوزش میں بھی اضافہ ہوا۔ اس طرح غذا میں نمک کی زیادتی، لیکٹو بیسی لس کی تباہی اور بلڈ پریشر کے درمیان ایک گہرے تعلق کا انکشاف ہوا ہے۔

تاہم ماہرین نے اس ضمن میں مزید تحقیقات پر زور دیا ہے۔

ہارٹ اٹیک کی نئی قسم دریافت

عام طور خیال کیا جاتا ہے کہ ہارٹ اٹیک یعنی دل کے دورے کی 4 اقسام ہیں، تاہم اب کینیڈا کے ماہرین نے اس کی ایک نئی قسم دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

خیال رہے کہ عام طور پر ہارٹ اٹیک کی 4 اقسام’acute coronary syndrome‘ (اے سی ایس) ’ ST segment elevation myocardial infarction‘ (ایس ٹی ای ایم آئی) ’ on-ST segment elevation myocardial infarction‘ (این ایس ٹی ای ایم آئی) اور ’ coronary spasm‘ یا ’ unstable angina‘ بتائی جاتی ہیں۔

تاہم اب کینیڈا کی یونیورسٹی آف البرٹا کے ماہرین نے اپنی تحقیق میں دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ہارٹ اٹیک کی ایک نئی قسم دریافت کی ہے، جو ابتدائی طور پر زیادہ تر خواتین کو متاثر کرتی ہے۔

ہارٹ اٹیک کی نئی قسم سے زیادہ تر خواتین متاثر ہوتی ہیں، ماہرین—فوٹو: شٹر اسٹاک
ہارٹ اٹیک کی نئی قسم سے زیادہ تر خواتین متاثر ہوتی ہیں، ماہرین—فوٹو: شٹر اسٹاک

ہیلتھ جرنل ’انٹرنیشنل جرنل آر کارڈیولاجی‘ میں شائع تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ماہرین نے ’ myocardial infarction with nonobstructive coronary arteries ‘ (مائنوکا) نامی ہارٹ اٹیک کی ایک نئی قسم دریافت کی ہے۔

رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ہارٹ اٹیک کی یہ نئی قسم ابتدائی طور پر زیادہ تر خواتین کو متاثر کرتی ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ ماہرین صحت ہارٹ اٹیک کی اس قسم کو دل کا دورہ سمجھتے ہی نہیں۔

رپورٹ کے مطابق چوں کہ ہارٹ اٹیک کی یہ قسم باقی اقسام کی طرح دل کو خون پہنچانے والی شریان کی خرابی سمیت ہارٹ اٹیک کا باعث بننے والی دیگرعلامات کی وجہ سے نہیں ہوتی، اس لیے ماہرین صحت اسے دل کا دورہ ہی نہیں سمجھتے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دل کے دورے کی یہ قسم عام طور پر دل کی سوزش اور دل کو خون ترسیل کرنے والی نالی میں پائے جانے والے انتہائی باریک اور چھوٹے غدود ہیں۔

تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہارٹ اٹیک کی اس قسم سے متاثر ہونے والے 60 فیصد مریضوں کو ماہرین امراض قلب کوئی دوا ہی نہیں دیتے اور مریض کو یہ کہہ کر واپس بھیج دیتے ہیں کہ انہیں دل کی کوئی بیماری نہیں۔

رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ کیوں کہ دل کے دورے کی اس قسم کی علامات بھی مختلف ہیں، اس لیے ماہرین اسے ہارٹ اٹیک نہیں سمجھتے۔

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ہارٹ اٹیک کی یہ نئی قسم دیگر اقسام سے کتنی خطرناک ہے اور اس سے دنیا بھر میں سالانہ کتنی ہلاکتیں ہوتی ہیں۔

ڈپریشن میں مبتلا مردوں میں بانجھ پن کا خدشہ

ذہنی دباؤ، الجھن، پریشانی اور ڈپریشن کو ویسے بھی انسانی صحت کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔

تاہم ایک حالیہ تحقیق سے ڈپریشن کا ایک اور خطرناک سبب سامنے آیا ہے، جو یقیناً مرد حضرات کے لیے باعث تکلیف ہوگا۔

ہیلتھ جرنل ’میڈیسن نیٹ ورک‘ میں شائع رپورٹ کے مطابق اسرائیلی ماہرین کی جانب سے کی جانے والی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ صرف 2 ماہ کی ڈپریشن یا ذہنی دباؤ بھی مرد کے اسپرم کو کمزور کرنے کے لیے کافی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کی سوروکا میڈیکل سینٹر یونیوسٹی اوربین گوریو یونیورسٹی کے ماہرین نے مشترکہ تحقیق کے دوران 11 ہزار مردوں کے اسپرم کے نمونوں کا جائزہ لیا۔

ماہرین نے جن مردوں کے اسپرم کا جائزہ لیا وہ اسرائیل کے ہی 2 مختلف علاقوں کے رہنے والے تھے اور ان میں سے نصف لوگ ایسے تھے جو کسی بھی ذہنی دباؤ میں مبتلا نہیں تھے، جب کہ نصف لوگ ڈپریشن کا شکار تھے۔

رپورٹ کے مطابق ماہرین کی جانب سے اسپرم کے لیے گئے جائزے سے پتہ چلا کہ جو لوگ 8 ہفتوں تک ذہنی دباؤ اور کشیدگی کا شکار رہے، ان کے اسپرم میں کمزوری پائی گئی۔

ماہرین نے مردوں کے اسپرم میں کمزوری اور ان کی ڈپریشن کے دورانیے کا موازنہ کیا، جس سے پتہ چلا کہ زیادہ وقت تک ڈپریشن کا شکار رہنے والے افراد میں بانجھ پن کے خطرات بڑھ گئے تھے۔

ماہرین نے ڈپریشن کے شکار افراد کو تجویز دی کہ بانجھ پن سے بچنے اور ذہنی دباؤ سے نکلنے کے لیے انہیں زیادہ سے زیادہ ورزش کرنی چاہیے۔

ماہرین نے تجویز دی کہ ڈپریشن کے شکار افراد کو زیادہ سے زیادہ سوئمنگ یا اس طرح کی دیگر ایکسر سائز کرنی چاہیے

کینسر کے مرض کی جانچ کے لیے ’تشخیصی کِٹ‘ تیار

برلن: سائنس دانوں نے کینسر کی تشخیص کے لیے ایک کِٹ تیار کرلی ہے جس کے ذریعے کوئی بھی مریض خود سے کینسر کے مرض کا پتہ چلا سکے گا۔

سائنس دان ایچ آئی وی وائرس کی تشخیص کے لیے ایک سادہ سی کٹ تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جس کے ذریعے کوئی بھی شخص خود سے خون میں اس موزی وائرس کی موجودگی کا پتہ چلا سکتا ہے اور بروقت تشخیص کے ذریعے اس مرض کو شکست دی جاسکتی ہے۔ یہ سادہ ٹیسٹ لیبارٹری جائے بغیر گھر میں بھی انجام دیا جاسکتا ہے جو نہایت ارزاں قیمت بھی ہے۔

کینسر کے مرض کی تشخیص کے لیے کی جانے والی اس کامیاب تشخیصی کٹ کو تجرباتی بنیاد پر رواں سال اپریل میں پیش کیا گیا تھا جسے اب دنیا بھر میں سال کے آخر تک مارکیٹ کیا جا سکے گا۔ جرمنی کی وزارت صحت نے ایچ آئی وی وائرس کو ٹیسٹ کرنے کے لیے خود تشخیصی کِٹ کی جلد دستیابی کے لیے اقدامات کر لیے ہیں اسی طرح امریکا سمیت دیگر ممالک میں بھی اس ٹیسٹ کٹ کو ماہرین طب کی جانب سے پذیرائی حاصل ہورہی ہے۔

جرمن وزارت صحت کا کہنا ہے کہ کینسر کی تشخیص کے لیے ’ٹیسٹ کٹ‘ کی ہر خاص و عام کو دستیابی کا مقصد پرائیوسی کو برقرار رکھتے ہوئے مدافعتی نظام کو نقصان پہنچانے والے ایچ آئی وائرس کی موجودگی کا پتہ چلانا ہے تاکہ مریض بروقت علاج کا آغاز کرسکیں گے۔ جرمنی میں 88 ہزار افراد کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں اور 13 ہزار ایسے مریض ہیں جنہیں اپنے جسم میں کینسر کی موجودگی کا علم ہی نہیں۔

واضح رہےکہ کینسر اس وقت ایک بڑا چیلنج ہے اور اس کی اولین شناخت کے لیے دنیا بھر میں تحقیق کی جارہی ہے امید کی جا رہی ہے کہ یہ خود تشخیصی کٹ اسی برس کے آخر تک فروخت کے لیے دستیاب ہو گی۔

 

پھلوں کا بادشاہ آم ہاضمے اور آنتوں کےلیےنہایت مفید ہے

ٹیکساس: پھلوں کا بادشاہ آم غذائیت سے بھرپور ایک عمدہ پھل ہے۔ اب ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ آم کھانے سے آنتوں کی سوزش دور ہوتی ہے اور یہ پورے نظامِ ہاضمہ کو بہترین بناتا ہے۔

آم میں کئی طرح کے وٹامن، اینٹی آکسیڈنٹس، پولی فینولز اور فائبر (ریشے) پائے جاتے ہیں۔ اس کے کئی فائدوں میں آنتوں کی سوزش دور کرنا، نظامِ ہاضمہ کو بہتر بنانا اور غذا کو فوری طور پر جزوِبدن بنانا ہے۔ آج کی تیزرفتار زندگی میں ہر دوسرا فرد خراب نظامِ ہاضمہ اور پیٹ کے امراض میں مبتلا ہے اور آم اس کا مؤثر حل ہے۔

ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی کے ماہرین نے اس کا عملی مظاہرہ کیا ہے ۔ انہوں نے 36 خواتین و حضرات کو دو گروہوں میں تقسیم کیا۔ ان میں سے ایک گروہ کو روزانہ 300 گرام آم کھلایا گیا اور دوسرے گروہ کو فائبر کا پاؤڈر دیا گیا۔ دونوں گروہوں کی غذا میں پروٹین، کیلوریز، کاربوہائیڈریٹس، فائبر اور پروٹین کی مقدار یکساں رکھی گئی تھی۔

ایک ماہ بعد دونوں گروہوں نے قبض کم ہونے کا اعتراف تو کیا لیکن آم کھانے والوں میں اس کا اثر بہت نمایاں تھا۔ اس سے ثابت ہوا کہ بہترین اور مہنگے فائبر سپلیمنٹ ایک طرف رکھ کر آم کھایا جائے تو اس کا فائدہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

یونیورسٹی کی پروفیسر سوزین مارٹیس ٹالکوٹ نے بتایا کہ آم قبض دور کرنے، آنتوں کی جلن کم کرنے اور ہاضمے کو بہتر بنانے کا زبردست نسخہ ہے۔ اس میں موجود فائبر کسی بھی سپلیمنٹ سے بہتر ہیں۔

کولیسٹرول کنٹرول کرنے میں مددگار عام غذائیں

کولیسٹرول ایک چربیلا،نرم اور ملائم مادہ ہے جس کی متعین مقدارانسانی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے مگر اس میں اضافہ خون کی نالیوں یا شریانوں کی دیواروں کے گرد جم کر انہیں تنگ اور سخت کردیتا ہے۔

کولیسٹرول کی شرح میں اضافے کا بڑا سبب فاسٹ فوڈ اور غیر صحت بخش غذاﺅں کا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے جو دوران خون میں اس کی شرح بڑھا دیتی ہے جوکہ بلڈپریشر،امراض قلب اور دیگر بیماریوں کی وجہ بن جاتی ہے۔

کولیسٹرول کی شرح کو قابو میں رکھنے کے لیے جہاں تازہ پھلوں کا استعمال بہت ضروری ہے، وہیں اسے کنٹرول کرنے کے لیے ایکسر سائز کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

پھلوں کے استعمال اور ایکسر سائز سے ہٹ کر بھی ایسی عام چیزیں ہر گھر میں پائی جاتی ہیں، جو کولیسٹرول کی شرح کو کنٹرول کرنے میں مددگار ہوتی ہیں۔

لہسن

لہسن تقریبا ہر گھر کے باورچی کھانے میں موجود ہوتا ہے اور اس میں کولیسٹرول کی شرح کو کم کرنے کرنے والے فعال اجزاء پائے جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق کولیسٹرول میں مبتلا افراد کو اس کی شرح برقرار رکھنے کے لیے یومیہ لہسن کی 2 گٹھلیاں یا پھر 300 ملی گرام خشک لہن کا پاؤڈر استعمال کرنا چاہیے۔

دھنیا

دھنیا اور خصوصا خشک دھنیا میں بھی ایسی اجزاء پائی جاتی ہیں، جو کولیسٹرول کی شرح کو برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

زیادہ کولیسٹرول کے شکار افراد کو اپنے کھانوں میں باقاعدگی سے خشک دھنیا کا استعمال کرنا چاہیے۔

بھوسی

اسپغول کی بھوسی میں خوردنی فائبر موجود ہوتا ہے جو نہ صرف نظام ہاضمہ کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے ، بلکہ حیران کن طور پر یہ کولیسٹرول کی اضافی مقدار کو بھی ختم کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

میتھی دانہ

میتھی دانے سے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ہر طرح کے کولیسٹرول کو قابو رکھنے میں مددگار چیز ہے۔

میتھی دانے کو استعمال کرنے والے افراد میں جہاں خون کی روانی بہتر ہوتی ہے، وہیں وہ کولیسٹرول کے بڑھ جانے کے خطرے سے بھی آزاد ہوجاتے ہیں۔

گرین ٹی اور آملا

اینٹی آکسائڈس اور امینو ایسڈس سے بھرپور گرین ٹی اور آملا بھی کولیسٹرول کی شرح کو قابو رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

آملا اور گرین ٹی کا باقاعدگی سے استعمال کرنے والے افراد کولیسٹرول کے بڑھ جانے سے آزاد ہوجاتے ہیں۔


نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Google Analytics Alternative