صحت

ایک ہفتے تک ناشتے میں انڈوں کا استعمال کیوں کرنا چاہئے؟

انڈے اکثر افراد ناشتے میں شوق سے کھاتے ہیں اور اسے صحت کے لیے فائدہ مند بھی مانا جاتا ہے، مگر یہ کس حد تک بہتر غذا ہے؟

اسی بات کو جاننے کے لیے ایک خاتون نے ناشتے میں ایک ہفتے تک ابلے ہوئے انڈوں کے استعمال کا تجربہ کیا تو جو نتیجہ سامنے آیا وہ درج ذیل ہے۔

اس خاتون کے مطابق اسے بچپن سے انڈے کھانا پسند نہیں تھے مگر ایک بڑے شہر میں رہائش کے بعد پچیس سال کی عمر میں صحت بگڑنا شروع ہوگئی ‘ تو میں نے یہ جانا کہ مقامی غذائیں میری صحت کے لیے فائدہ مند نہیں، تو مختلف تجربات کے دوران میں نے انڈوں کو ناشتے میں آزمانے کا فیصلہ کیا جبکہ اس کے ساتھ ورزش کو بھی اپنالیا’۔

اس خاتون نے ایک ہفتے تک روزانہ دو ابلے ہوئے انڈے ناشتے میں کھائے جو کہ ان کے خیال میں زیادہ مشکل کام نہیں اور نتائج ایسے ضرور تھے جو ان کے طرز زندگی میں تبدیلی کے لیے کافی ثابت ہوئے۔

پیٹ تادیر بھرے رہنے کا احساس

آج کل فاسٹ یا جنک فوڈ کا استعمال بہت عام ہوچکا ہے اور اکثر افراد بے وقت بھوک لگنے پر انہیں کھانا پسند کرتے ہیں، اس تجربے کے دوران خاتون نے ایک ہفتے تک روزانہ ناشتے میں دو ابلے ہوئے انڈے کھائے اور یہ جانا کہ اس سے پیٹ بھرنے کے احساس کا دورانیہ بھی بڑھ گیا اور جنک فوڈ کی خواہش بہت کم رہ گئی۔ اسی طرح سہ پہر کو بے وقت بھوک کا احساس بھی ختم ہوگیا۔

جسمانی توانائی میں اضافہ

اس تجربے کے دوران انڈوں کو کھانا عادت بنانے کے صرف چار دن بعد ہی خاتون کو جسمانی توانائی میں اضافے کا احساس ہونے لگا، ان کے بقول’ پانچویں صبح بیدار ہونے پر مجھے تازگی کا احساس ہوا، اس تجربے سے قبل صبح اٹھنے پر میں خود کو نڈھال اور ناخوش محسوس کرتی تھی، مگر اس تجربے نے یہ احساس ختم کردیا’۔

جسمانی وزن میں کمی

ایک ہفتے تک اس ناشتے کو اپنانے سے خاتون کی توند کی سطح میں ایک انچ کی کمی دیکھنے میں آئی جس کی وجہ انڈوں میں پروٹین کی موجودگی ہے اور اسے کھانا معمول بنانا کچھ عرصے میں توند کی چربی گھلانے میں مدد دیتا ہے۔

پیٹ پھولنے اور گیس کی شکایت میں کمی

بازاری کھانے اکثر ہاضمے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں اور بدہضمی، پیٹ پھولنے یا گیس کا باعث بنتے ہیں، ایسا تجربہ کرنے والی خاتون کا بھی مسئلہ تھا مگر ایک ہفتے تک انڈوں کے استعمال نے انہیں اس مشکل سے نجات دلادی۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

ہر سال منہ کے کینسر میں 30 ہزار افراد مبتلا ہونے لگے

کراچی / حیدرآباد /  کراچی: پاکستان میں منہ کے کینسرکی شرح تشویشناک حد تک بڑھتی جارہی ہے،عالمی ادارہ صحت کے مطا بق پاکستان میں منہ کے کینسرکی شرح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے،کراچی میں منہ کے کینسرکی شرح 30 فیصد تک پہنچ گئی ہے،عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہونے والی ہلاکتوں میں ہر8ویں ہلاکت منہ کے کینسر سے ہورہی ہے۔

دنیا بھر میں ہر سال 80 لاکھ سے زائد افراد مختلف اقسام کے کینسر کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں،عالمی رپورٹ کے مطابق 2030 تک دنیا کی ڈھائی کروڑ سے زائد آبادی منہ سمیت دیگر اقسام کے کینسر کا شکار ہوجائے گی،ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کینسر کی بنیادی وجہ انسانی جینز میں رونما ہونے والے تغیرات ہیں جوکینسر کا سبب بن رہے ہیں،پاکستان میں بھی مختلف اقسام کے کینسرکی شرح تشویش ناک حد تک بلند ہورہی ہے اور اس حوالے سے پاکستان ایشیائی ممالک میں سرفہرست ملک ہے، 15 سال قبل منہ کے کینسر کا شکار ہونے والے افراد کی عمریں 50 سال سے زائد ہوتی تھیں، مگرپاکستان میں پان، چھالیہ،گٹکے،مین پوری اور سگریٹ نوشی کے استعمال سے اب 14 سے 15 سال کے نوجوانوں میں اس کی شرح میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے،کراچی میں ہر سال منہ سمیت دیگرکینسر کے 148,000 کیسز رپورٹ ہورہے ہیں،کینسر کے مرض پر تحقیق کے بین الاقوامی ادارہ (آئی اے آر سی) کے مطابق دنیا بھر میں2016 میں 28.2 ملین کینسرکے نئے مریض موجود تھے جس میں سے 10.5 ملین افراد ہلاک ہوئے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ غذا میں پائے جانے والے چند عناصر مثلاً ذخیرہ اجناس میں پائے جانے والے افلاٹوکسن، تابکاری اثرات، الیکٹرومیگنیٹک شعاعیں،وائرل انفیکشن، فضائی اور غذائی آلودگی، فوڈکیمیکلز، جینیاتی طور پر تبدیل کیے جانے والی غذائیں، پان، چھالیہ، تمبا کو،سگریٹ نوشی، شیشہ وغیرہ کینسر کا سبب بن رہے ہیں،جناح اسپتال ای این ٹی ٹو کے سربراہ پروفیسر محمد عثمان نے ایکسپریس کو بتایا کہ پاکستان میں70سے 75 فیصد منہ کا کینسر پان، چھالیہ، گٹکا اور مین پوری سے ہوتا ہے، تمباکو، شیشہ، نسوار اور شراب نوشی بھی اس میں شامل ہیں ، منہ کے کینسر میں پاکستان سرفہرست جبکہ انڈیا دوسرے نمبر پر ہے، پاکستان ایشیائی ممالک کا دوسرا ملک ہے جہاں منہ کا کینسرسرفہرست ہے ،بھارت میں منہ کے کینسر کے مریضوں کی تعداد بھی ہولناک صورت اختیار کرگئی ہے ، منہ کا کینسر سری لنکا، بنگلہ دیش میں بھی ہولناک سر اٹھارہا ہے جن ممالک میں پان ، چھالیہ ، مین پوری،گٹکے کا عام استعمال ہے ان ممالک میں منہ ، حلق ، جبڑے کے کینسر شدت اختیار کررہے ہیں۔

پاکستان میں سالانہ 3لاکھ50ہزار افراد منہ کے کینسر میں رپورٹ ہورہے ہیں، منہ کا کینسرکی اہم وجوہ گیلی چھالیہ کا استعمال ہے گیلی چھالیہ میں Fungus ُ(پھپھوند) لگ جاتی ہے اس پھپھوند میں مخصوص زہریلے مادے شامل ہوتے ہیں جس کو Aflotoxin کہتے ہیں جوکینسر کا باعث بنتا ہے اس سے عام افراد ناواقف ہوتے ہیں ، انھوں نے گیلی چھالیہ کو انتہائی خطرناک قرار دیا ہے لیکن ایشیائی ممالک میں پان ،کے ساتھ گیلی چھالیہ کا استعمال عام ہوگیا ہے جبکہ نسوار، شیشہ، پان، سمیت دیگر مضر صحت اشیاجس میں گٹکا ، مین پوری بھی شامل ہیں ان اشیا کے استعمال سے منہ،گلے ،حلق ،جبڑے کا کینسر تیزی سے پھیل رہا ہے،جناح اسپتال ای این ٹی یونٹ 2کے سربراہ پروفیسر عثمان نے بتایا کہ ہمارے یونٹ میں ماہانہ 60منہ کے کینسرکے آپریشن کیے جارہے ہیں انھوں نے بتایا کہ دیہی علاقوں میں خواتین میں بھی چھالیہ، مین پوری، گٹکے کا استعمال ہولناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔

اب مردوں کے ساتھ دیہی علاقوںکی خواتین بھی منہ کے کینسر میں رپورٹ ہورہی ہیں، منہ کے کینسر میں خطرناک اقسام کے کینسر رپورٹ ہورہے ہیں بیشتر منہ کے کینسر میں جبڑے، زبان بھی شدید متاثر ہورہی ہیں،ان کا کہنا تھا کہ ایشیائی ممالک میں منہ،حلق، گلے زبان کا کینسر تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جس کی بنیادی وجہ پان، چھالیہ ، گٹکے، مین پوری شامل ہیں، جن ممالک میں چھالیہ ، مین پوری کا استعمال ہورہا ہے ان ممالک میں منہ، حلق، گلے کاکینسرکا مرض ہولناک صورت اختیار کرررہاہے،انھوں نے بتایا کہ منہ کے کینسر میںبھارت پہلے نمبر پر آگیا، جناح اسپتال کے ای این ٹی یونٹ میں جدید لیزر تیکنیک کے ذریعے منہ ،حلق، جبڑے،گردن کے کینسر کا علاج کامیابی سے جاری ہے، ان کا کہنا تھا کہ بچوںکو چھالیہ، سپاری، مین پوری سے دور رکھیں،چھالیہ منہ کی جھلی کو شدید متاثر کرتی ہے، جھلی کو گلا دیتی ہے جس کی وجہ سے منہ کے کھولنے کا عمل شدید متاثر ہوجاتا ہے ۔

ڈھلتی عمر کے ساتھ چہرے کی خوبصورتی کیسے برقرار رکھی جائے؟

دبئی: ڈھلتی عمر کے ساتھ چہروں پر پڑنے والی بدنما جھریوں سے پریشان افراد جہاں خود اعتمادی میں کمی کا شکار ہوجاتے ہیں وہیں ڈپریشن جیسے مرض کا بھی آسان شکار بن جاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ان جھریوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے پیسے کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں اور ناتجربہ کار کاسمیٹک سرجنز کے ہاتھوں نقصان اٹھا بیٹھتے ہیں۔

دبئی کے ماہر کاسمیٹک سرجن ڈاکٹر جنید خان نے اس پیچیدہ مسئلے کا آسان حل بتاتے ہوئے کہا کہ ڈھلتی عمر کے اثرات میں شدت لانے والے عوامل میں تناؤ، غذا، ورزش، ماحول اور جینیاتی عوامل شامل ہیں جس پر قابو پاکر ڈھلتی عمر کے اثرات سے محفوظ رہا جاسکتا ہے جب کہ جلد کی خوبصورتی میں اضافے کے لیے کیمیکل سے تیار کردہ پراڈکٹس سے فائدے کے بجائے نقصان کا زیادہ احتمال رہتا ہے۔

ڈاکٹر جنید خان کا کہنا تھا کہ ڈھلتی عمر کے اثرات نمایاں طور پر سب سے پہلے چہرے پر نظر آتے ہیں چنانچہ ایسے وقت میں ایک ایسے ٹریٹمنٹ کی ضرورت پڑتی ہے جس سے چہرے کی جھریاں بھی ختم ہوجائیں اور چہرہ صاف و شفاف ہوجائے چنانچہ لوگوں کی بڑی تعداد کاسمیٹک سرجری اور بوٹیکس ٹریٹمنٹ کرانے کی طرف راغب ہورہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کاسمیٹک سرجری کی صنعت میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے اور 2031ء تک اس صنعت میں 330 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ آج کل بوٹیکس ٹریٹمنٹ کرانے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور صرف امریکا میں لوگوں نے بوٹیکس کے انجکشن لگوانے میں 10 ارب ڈالر خرچ کر ڈالے جس سے اس معاملے کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

کاسمیٹک سرجن کا کہنا ہے کہ ڈھلتی عمر کے چہروں پر پڑنے والے اثرات کو چھپانے کے لیے ادھیڑ عمر افراد میں بوٹیکس ٹریٹمنٹ کرانے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے، چہرے کی جھریوں کو چھپانے کے لیے بوٹیکس کا استعمال کارگر تو ثابت ہورہا ہے جو فوری نتائج دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے لیکن یہی نتائج قدرتی ذرائع سے بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

ماہر امراض جلد ڈاکٹر جنید خان کا کہنا تھا کہ اگر بوٹیکس کی مہنگی ٹریٹمنٹ سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو خود کو تناؤ سے دور رکھیں، متوازن غذا کا استعمال کریں، ورزش کو معمول کا حصہ بنائیں، دن میں کم سے کم 12 گلاس پانی پئیں اور کیمیکل سے بنی ہوئی پراڈکٹ استعمال نہ کریں اگر بہت ضروری ہے ہو تو صرف سن بلاک استعمال کریں۔

گنے کا رس پینا پسند کرتے ہیں؟

پاکستان میں جگہ جگہ آپ نے ایسی مشینیں ضرور دیکھی ہوں گی جس کے ارگرد کافی لوگ کھڑے ہوتے ہیں اور گنے کے رس سے لطف اندوز ہورہے ہوتے ہیں۔

اور یہ بات بالکل درست ہے کہ موسم کوئی بھی ہو، گنے کا رس فرحت اور تازگی بخشنے کے حوالے سے دیگر مشروبات پر سبقت لیے نظر آتا ہے۔

گرمیوں میں یہ جسم کو ٹھنڈا کرتا ہے تو سردیوں میں بھی بغیر برف کے اسے پینا کافی فائدہ مند ہوتا ہے۔

مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ لذیذ اور میٹھا ہونے سے ہٹ کر یہ رس انتہائی فائدہ مند اور صحت کے لیے سپرفوڈ سے کم نہیں؟

اگر نہیں تو انہیں ضرور جان لیں کیونکہ یہ متعدد مسائل کا قدرتی حل ثابت ہوسکتا ہے۔

گردوں کے لیے فائدہ مند

یہ مشروب پیشاب آور ہے، جس سے پیشاب کی نالی کے انفیکشن، گردوں کی پتھری کے امراض کے علاج میں مدد ملتی ہے جبکہ گردوں کے افعال میں بہتری آتی ہے۔

جگر کے امراض دور کرے

یہ تو بیشتر افراد کا ماننا ہے کہ گنے کا رس جگر کو مضبوط کرتا ہے اور یرقان کا علاج ثابت ہوتا ہے۔یرقان جگر کے افعال پر مضر اثرات بڑھانے کا باعث بنتا ہے جبکہ گنے کا رس جسم میں ان پروٹین کی کمی پوری کرتا ہے جو اس مرض کے نتیجے میں ہوتی ہے جس سے جلد بحالی صحت میں مدد ملتی ہے۔

جسمانی توانائی بڑھائے

گنے کا رس کاربوہائیڈریٹس، پروٹینز، آئرن، پوٹاشیم اور دیگر غذائی اجزاءسے بھرپور ہوتا ہے جو کہ اسے اچھا انرجی ڈرنک بنانے کے لیے کافی ہے، خصوصاً گرمیوں میں، ایک گلاس ٹھنڈا رس جسمانی توانائی کو فوری بحال کرتا ہے۔ یہ ایسا پلازما اور جسمانی سیال بناتا ہے جو گرمی سے جسم میں آنے والی خشکی اور تھکاوٹ کو دور کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

نظام ہاضمہ بہتر کرے

گنے کا رس جلاب جیسے اثرات بھی رکھتا ہے اور اعتدال میں اس کا استعمال آنتوں کی حرکت کو بہتر کرتا ہے جبکہ قبض سے نجات دلاتا ہے۔ اسی طرح یہ رس معدے کی تیزابیت اور سینے کی جلن کے علاج کے لیے بھی مؤثر ہے۔

دانتوں کے لیے بھی فائدہ مند

گنے کا رش ایسے منرلز سے بھرپور ہوتا ہے جو دانتوں کی فرسودگی اور سانس کی بو کی روک تھام کرتے ہیں۔

احتیاط

آپ کو ہیپاٹائیٹس سے بھی چوکنا رہنا ہوتا ہے کیونکہ اکثر ٹھیلے والے صفائی کا خیال نہیں رکھتے لہٰذا گندی مشینوں سے نکالا جانے والا رس خطرناک ہوسکتا ہے۔

توند سے چند دنوں میں نجات چاہتے ہیں؟

اگر تو آپ کی توند نکل آئے تو یقیناً شخصیت کا سارا تاثر خراب ہوجاتا ہے اور ذہنی پریشانی الگ ہوتی ہے۔

یقیناً ایسا ہونے پر سب لوگ اچھا نطر آنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اور اضافی چربی سے نجات حاصل کرنا مشن بنالیتے ہیں جو کہ مختلف سنگین امراض کا خطرہ بھی بڑھاتی ہے، جیسے ذیابیطس، امراض قلب وغیرہ۔

یہاں کچھ ایسے گھریلو ٹوٹکے دیئے جارہے ہیں جو توند سے نجات میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

پروٹین کا استعمال بڑھائیں

پروٹین کا استعمال زیادہ جبکہ کاربوہائیڈریٹس سے دوری بغیر سخت ورزش کے توند سے نجات کا تیز ترین نسخہ ہے، پروٹین بلڈ شوگر کو متوازن رکھنے اور انسولین کی سطح کم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، انسولین وہ ہارمون ہے جو جسم کو چربی خاص طور پر پیٹ اور کمر کے ارگرد جمع کرنے کا سگنل بھیجتا ہے۔ سفید ڈبل روٹی کو چھوڑ کر اجناس، سیزن کے پھل، جڑوں والی سبزیاں وغیرہ کا استعمال معمول بنالیں۔

ناریل کے تیل کو آزمائیں

ناریل کا تیل میڈیم چین triglycerides سے بنتا ہے جبکہ سبزیوں اور بیجوں کے تیل میں لانگ چین triglycerides ہوتے ہیں، طبی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ناریل کے تیل کا میڈیم چین سے بننا متعدد فوائد کا حامل ہوتا ہے، کیونکہ یہ آسانی سے ہضم ہوجاتا ہے اور بہت تیزی سے غذا کو توانائی میں بدل دیتا ہے اور وہ چربی کی شکل میں جسم میں ذخیرہ نہیں ہوتی۔

چینی سے دوری

چینی کا استعمال پیٹ اور کمر کے گرد چربی کے ذخیرے کی بنیادی وجہ بنتا ہے، چینی میں شامل گلوکوز اور دیگر اجزاءدوران خون میں تیزی سے جذب ہوکر توانائی میں بدل جاتے ہیں، تاہم مٹھاس کا بہت زیادہ استعمال اس توانائی کو چربی کی شکل میں بدل کر پیٹ کے گرد ذخیرہ کرنے پر مجبور کردیتا ہے۔ اسی طرح بہت زیادہ چینی بلڈ شوگر کو بڑھاتی ہے جس سے انسولین کی مزاحمت کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے، اگر تو آپ توند سے نجات چاہتے ہیں تو کچھ دن کے لیے چینی سے منہ موڑ لیں یا بہت کم کردیں اور اس کی جگہ تازہ پھل، شہد، کھجور اور ناریل وغیرہ کو اپنالیں۔

فائبر کو بھی خوراک کا حصہ بنائیں

غذا میں زیادہ فائبر خاص طور پر جو، دالوں، سبزیوں اور پھلوں میں موجود فائبر توند میں اکھٹا ہونے والی چربی کو گھلانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ فائبر بے وقت کی بھوک کا احساس دور رکھتا ہے جبکہ معدے کے نظام کو درست رکھتا ہے، اسی طرح یہ غذائی جز چربی کے جذب ہونے کے عمل کو کم کردیتا ہے جس سے توند نکلنے کا خطرہ نہیں ہوتا۔

تناﺅ میں کمی لائیں

شدید تناﺅ بھی توند نکلنے کا باعث بنتا ہے، زیادہ دورانیے تک تناﺅ کے نتیجے میں ایک ہارمون کورٹیسول اشتہا بڑھاتا ہے اور انسان زیادہ کھانے لگتا ہے جبکہ میٹابولزم سست ہوجاتا ہے جس سے پیٹ کے ارگرد چربی جمع ہونے لگتی ہے۔مراقبہ، گہری سانسیں لینا یا نہانا، یہ سب روزمرہ کے تناﺅ میں کمی لانے سمیت توند سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

سبز چائے نوش فرمائیں

سبز چائے میں کمر کو گھٹانے والے اجزاءموجود ہوتے ہیں اسی لیے یہ پیٹ کی چربی گھلانے کے لیے بہترین مشروب سمجھا جاتا ہے، سبز چائے میں موجود اجزا میٹابولزم کی رفتار بڑھا کر جگر کو چربی گھلانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ طبی رپورٹس کے مطابق روزانہ یہ فوائد حاصل کرنے کے لیے چار سے پانچ کپ سبز چائے کا استعمال ضروری وہتا ہے، تاہم اس میں چینی کو شامل کرنے سے گریز کریں۔

سیڑھیاں چڑھنا عادت بنائیں

سست طرز زندگی متعدد امراض اور موٹاپے کا باعث بنتا ہے، آپ ورزش نہیں کرتے تو کوئی بات نہیں مگر سیڑھیاں چڑھنا، تیز چہل قدمی اور فون پر بات کرتے ہوئے بھی تیز چلنے جیسی عادتیں اپنا کر آپ توند کو تیزی سے کم کرسکتے ہیں۔

سونے کا وقت طے کریں

توند میں ورزش کے بغیر کمی لانے کا ایک حیران کن طریقہ زیادہ نیند ہے، طبی رپورٹس کے مطابق رات کو چھ سے آٹھ گھنٹے کی نیند انسولین کی سطح کو متوازن رکھنے اور تناﺅ کا باعث بننے والے ہارمون کو بڑھنے نہیں دیتی، مکمل آرام سے جسم کے پاس دن بھر کے کاموں کے لیے مناسب مقدار میں کیلوریز بھی دستیاب ہوتی ہیں۔

گرم مصالحے

ہلدی ورم کش اجزاءموجود ہوتے ہیں، اس کا استعمال جسمانی میٹابولزم کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے اور توند میں کمی لاتا ہے۔

پانی کا زیادہ استعمال

روزانہ آٹھ گلاس پانی کا استعمال نظام ہضم کو بہتر، پیٹ پھولنے کا خطرہ کم اور میٹابولزم کے افعال کو درست رکھتا ہے، اپنے میٹھے مشروبات کو پانی سے بدل کر آپ مجموعی وزن میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ توند کو بھی اندر کرسکتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

ہلدی دردکش ادویات سے زیادہ بہتر اور موثر علاج

پاکستان بھر میں کھانوں کی تیاری میں استعمال ہونے والا ایک مصالحہ عام دردکش ادویات کے مقابلے میں زیادہ موثر علاج ثابت ہوتا ہے۔

جی ہاں ہلدی کسی انجری کے نتیجے میں ہونے والی تکلیف میں کمی لانے کے لیے دردکش ادویات سے زیادہ موثر ثابت ہوتی ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ عام درد کش ادویات کے مقابلے میں کسی انجری کے علاج کے لیے ہلدی میں پائے جانے والا جز curcumin زیادہ موثر ثابت ہوتا ہے جس کے کوئی مضراثرات بھی نہیں ہوتے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دردکش ادویات کا انتخاب معدے سے متعلق پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھانے کا باعث بن سکتا ہے۔

اٹلی میں ہونے والی تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ ہلدی میں موجود جز محفوظ علاج ثابت ہوتا ہے جو جسمانی سرگرمیوں کے نتیجے میں آنے والے اثرات کی روک تھام کرتا ہے۔

محققین کا یہ بھی ماننا تھا کہ ہلدی جوڑوں کے مریضوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے جس کے کسی قسم کے مضر اثرات بھی مرتب نہیں ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ ورم کش ادویات کے نتیجے میں معدے پر مضر اثرات مرتب ہونے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے جبکہ ہلدی اس حوالے سے ایک بہتر انتخاب ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے یورپین ریویو فار میڈیکل اینڈ فارمالوجیکل سائنسز جنرل میں شائع ہوئے۔

عام دودھ دل کی صحت کے لیے بہتر؟

اسکم ملک (بالائی نکلا دودھ) بہتر ہوتا ہے یا عام چکنائی یا ملائی والا دودھ ؟ یہ وہ سوال ہے جو کافی ذہنوں میں ابھرتا ہے۔

اس سوال کا جواب ڈنمارک میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔

کوپن ہیگن یونیورسٹی کی تحقیق نیں بتایا گیا کہ اگرچہ سمجھا جاتا ہے کہ اسکم ملک کھلے دودھ کا صحت مند متبادل ہے مگر شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ بازار میں ملنے والے اس چکنائی والے دودھ کے طبی فوائد اپنے متبادل سے زیادہ ہیں۔

تحقیق کے مطابق چکنائی والا دودھ دل کے لیے اسکم ملک کے مقابلے میں ممکنہ طور پر زیادہ بہتر انتخاب ہوسکتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران دونوں اقسام کے دودھ کے دوران میں پائے جانے والے صحت کے لیے فائدہ مند سمجھے جانے والے کولیسٹرول ایچ ڈی ایل کی سطح پر مرتب اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

جسم میں ایل ڈی ایل نامی کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ امراض قلب، فالج اور شریانوں کے امراض کا خطرہ بڑھاتے ہیں جبکہ ایچ ڈی ایل کولیسٹرول اس سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

تحقیق کے مطابق عام دودھ یا فل فیٹ ملک ملائی سے پاک دودھ سے بدتر نہیں بلکہ زیادہ صحت بخش ہوسکتا ہے۔

تحقیق میں کہا گیا کہ دہائیوں سے کہا جارہا ہے کہ کم چربی والا دودھ استعمال کیا جانا چاہئے کیونکہ وہ جسم میں ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح بڑھاتا ہے مگر نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے یورپین جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل امریکا میں پندرہ برس کے عرصے تک جاری رہنے والی تحقیق کے دوران محققین نے دریافت کیا کہ جو لوگ زیادہ چکنائی والا دودھ استعمال کرتے ہیں، ان میں ذیابیطس کا خطرہ 46 فیصد تک کم ہوتا ہے۔

تحقیق میں کہا گیا کہ ایسے انسانی شواہد نہیں ملے کہ جو لوگ کم چکنائی والا دودھ استعمال کرتے ہیں وہ صحت کے لحاظ سے کھلا دودھ استعمال کرنے والوں سے زیادہ فائدہ حاصل کرتے ہیں۔

اس کے مقابلے میں ایسے شواہد ضرور ملیں کہ چکنائی والا دودھ ذیابیطس کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور لوگوں کو اسکم ملک کا مشورہ دینا کچھ اتنا زیادہ فائدہ مند نہیں۔

اس سے قبل ایک اور تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ زیادہ چکنائی والا دودھ استعمال کرنے والے افراد میں موٹاپے کے شکار ہونے کی شرح دیگر افراد کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔

یہ نئی تحقیق امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے جریدے جرنل سرکولیشن میں شائع ہوئی۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

ڈائٹنگ کرنا ہوسکتا ہے جان لیوا

موٹاپے میں کمی لانے کے لیے کم کھانا یا ڈائٹنگ کا طریقہ کار اپنانا دل کی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ انتباہ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق جسمانی وزن میں کمی لانے کے لیے غذائی کیلوریز کی مقدار کم کرنے دل کے مسائل کا باعث بن سکتی ہے جبکہ امراضِ قلب کے شکار افراد کو ڈائٹنگ اپنانے سے قبل لازمی ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔

اس تحقیق میں ایم آر آئی کے ذریعے دن بھر میں 800 سے بھی کم کیلوریز جسم کا حصہ بنانے سے دل کے افعال اور معدے، جگر اور دل کے پٹھوں کی چربی کی تقسیم پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

خیال رہے کہ طبی ماہرین مردوں کو دن بھر میں 2500 جبکہ خواتین کو 2 ہزار کیلوریز جزو بدن بنانے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ صحت مند وزن کو برقرار رکھا جاسکے، تاہم متعدد افراد دن بھر کی غذا میں بہت زیادہ کمی کردیتے ہیں تاکہ موٹاپے سے نجات حاصل کرسکیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ کریش ڈائٹ یا بہت کم کھانا گزشتہ چند برس کے دوران فیشن بن چکا ہے، جس کے دوران 6 سے 8 سو کیلوریز ہی جسم کا حصہ بنائی جاتی ہے، جسے جسمانی وزن میں کمی کے لیے موثر سمجھا جاتا ہے جبکہ بلڈپریشر اور ذیابیطس پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، مگر اس کے نتیجے میں دل پر بہت زیادہ منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اس تحقیق کے دوران موٹاپے کے شکار 21 رضاکاروں کا جائزہ لیا گیا، جنھوں نے آٹھ ہفتوں تک چھ سے آٹھ سو کیلوریز روزانہ استعمال کی۔

رضاکاروں کا تحقیق کے آغاز سے قبل، ایک دن بعد اور آٹھ ہفتے بعد ایم آر آئی کیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ کریش ڈائٹ طریقہ کار اپنانے کے ایک ہفتے بعد جسمانی چربی میں مجموعی طور پر چھ فیصد جبکہ جگر کی چربی میں 42 فیصد کمی ہوئی، انسولین کی مزاحمت میں نمایاں بہتری ہوئی، کولیسٹرول، بلڈ گلوکوز اور بلڈ پریشر بہتر ہوا۔

مگر ایک ہفتے بعد دل کی چربی میں 44 فیصد اضافہ ہوا اور دل کے افعال میں نمایاں تنزلی دیکھنے میں آئی جیسے خون پمپ کرنے کی صلاحیت بری طرح متاثر ہوئی۔

محققین کا کہنا تھا کہ جگر کی چربی اور ذیابیطس ریورس ہونے سے ہمیں توقع تھی کہ دل کے افعال بھی بہتر ہوں گے مگر ایک ہفتے بھی ان میں بدترین اثرات دیکھنے میں آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ بہت کم غذا کھانے سے جسم کے مختلف حصوں سے چربی خون میں خارج ہوتی ہے اور دل کے پٹھوں کو وہ بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ دل کے پٹھے ایندھن کے لیے چربی یا شوگر کو استعمال کرتے ہیں اور چربی کی زیادہ مقدار دل کے افعال کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔

تحقیق میں خبردار کیا گیا کہ موٹاپے سے نجات کے لیے یہ طریقہ کار دل کے لیے نقصان دہ ہے خصوصاً امراض قلب کے شکار افراد کے لیے تو جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے اور ان میں ہارٹ فیلیئر کا امکان بڑھتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج یورپین سوسائٹی آف کارڈیالوجی کے سالانہ اجلاس میں پیش کیے گئے۔

Google Analytics Alternative