صحت

جگر کو صحت مند رکھنے میں مددگار غذائیں

جگر انسانی جسم کا انتہائی اہم عضو ہے جو غذا کو ہضم ہونے، توانائی کے ذخیرے اور زہریلے مواد کو نکالنے کا کام کرتا ہے۔

تاہم مختلف عادات یا وقت گزرنے کے ساتھ جگر کو مختلف امراض کا سامنا ہوسکتا ہے اور وائرسز جیسے ہیپاٹائٹس اے، بی اور سی سمیت دیگر جان لیوا بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

آپ اپنے جگر کو مختلف بیماریوں سے بچانا چاہتے ہیں تو ان صحت مند غذاؤں کو اپنالیں، جبکہ نقصان دہ کھانوں سے گریز کریں۔

لہسن

زہریلے مواد کا اخراج جگر کو صحت مند رکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے اور لہسن اس حوالے سے بہترین غذاﺅں میں سے ایک ہے، لہسن میں ایک اینٹی آکسائیڈنٹ الیسین جسم کو تکسیدی تناﺅ سے ہوےن والے نقصان سے بچاتا ہے۔ الیسین وہ اہم بائیو ایکٹیو کمپاﺅنڈ ہے جو جگر کے انزائمے کو حرکت میں لاکر نقصان دہ مواد کو خارج کرنے میں مدد دیتا ہے۔

سبز پتوں والی سبزیاں

اپنی پلیٹ کو سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک یا ساگ وغیرہ سے جتنا بھریں گے، اتنا ہی جگر کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ یہ سبزیاں قدرتی طور پر جگر کی صفائی میں مدد دیتی ہیں۔

چقندر

چقندر میں اینٹی آکسائیڈنٹس موجود ہوتے ہیں اور ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ چقندر کا جوس پینے کی عادت ڈی این اے کے نقصان کو کم کرکے جگر کو نقصان پہنچانے والی انجری سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔

ہلدی

ہلدی ایسا مصالحہ ہے جو صحت کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند سمجھا جاتا ہے، اور یہ جگر کی صحت کے لیے بھی موثر ثابت ہوتا ہے جو جگر کے خلیات کو دوبارہ بننے میں مدد دیتا ہے۔

گاجر

گاجر اینٹی آکسائیڈنٹس، وٹامنز، منرلز اور غذائی فائبر موجود ہوتے ہیں اور اس کا جوس جگر میں ڈی ایچ اے، ٹرائی گلیسڈر اور مونو ان سچورٹیڈ فیٹی ایسڈز لیول کم کرتا ہے جبکہ جگر میں چربی چڑھنے اور زہریلے مواد سے ہونے والے نقصان سے بچنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

اچھی چربی

صحت کے لیے فائدہ مند فیٹ یا چربی جیسے زیتون کے تیل، وغیرہ جگر کی صفائی کے لیے اچھے سمجھے جاتے ہیں۔

سبزچائے

سبز چائے پینے کی عادت کے متعدد طبی فوائد ہیں اور اس میں موجود پولی فینولز جگر کے کینسر، جگر کے امراض اور ہیپاٹائٹس جیسے امراض کا خطرہ کم کرتے ہیں۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ گرین ٹی ایکسٹریکٹ جگر کی چربی چڑھنے کا باعث بننے والے انزائمے کا خطرہ کم کرتا ہے، تاہم اس کا زیادہ استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہئے اور 2 سے 3 کہ ہی مناسب ہیں۔

وٹامن سی

وٹامن سی سے بھرپور غذائیں جیسے ترش پھل وغیرہ زہریلے مواد کی صفائی کرکے جگر پر چربی چڑھنے کا خطرہ کم کرتی ہیں۔

سیب

چین میں ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ سیب میں موجود پولی فینولز جگر کے ورم کا خطرہ کم کرتے ہیں جس سے مختلف امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے، بس ایک سیب روزانہ اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

پانی کا زیادہ استعمال

پانی کی کمی جسم میں مختلف مسائل کا باعث بنتی ہے جن میں جگر کے افعال بھی شامل ہیں۔ روزانہ 8 سے 10 گلاس پانی کا استعمال جگر کی صفائی کے عمل کو بہتر بناتا ہے جو اسے امراض سے بچانے کے لیے بہت ضروری ہے۔

زیتون کا تیل

جگر کے مسائل میں سب سے عام نان الکحلک فیٹی لیور ڈیزیز ہے جس کی وجہ طرز زندگی کی خراب عادتیں ہوتی ہیں، مگر طبی سائنس نے دریافت کیا ہے کہ جو لوگ زیتون کے تیل کا استعمال کرتے ہیں، ان میں جگر کے امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے، زیتون کا تیل نقصان دہ کولیسٹرول کو کم کرتے ہیں جبکہ انسولین کی حساسیت بڑھتی ہے۔

اومیگا تھری فیٹی ایسڈ

جنک فوڈ کا استعمال کم اور اومیگا تھری ایسڈز سے بھرپور غذا کا زیادہ استعمال جگر کی صحت کے لیے ضروری ہوتا ہے، جنک فوڈ میں موجود چربی جگر پر جم جاتی ہے جو سوجن اور دیگر عوارض کا باعث بنتی ہے جبکہ جسم کے لیے مناسب چربی اس سوجن کے خلاف جدوجہد کرتی ہے۔

اخروٹ

اکروٹ صحت بخش چربی سے بھرپور ہوتے ہیں جبکہ ورم کش خصوصیات بھی رکھتے ہیں۔ ایک تحقیق میں دریافت کای گیا کہ زیادہ حیوانی چربی کھانے سے جگر پر چربی چڑھنے کا خطرہ بڑھتا ہے مگر اخروٹ کا استعمال اس سے تحفظ فراہم کرسکتا ہے۔ اس کے لیے روزانہ چند اخروٹ کھانا کافی ہوتا ہے۔

اجناس کا استعمال

چینی، سفید آٹے اور پراسیس فوڈ کا استعمال کم کریں اور سبزیوں، پھلوں اور اجناس کو ان کی جگہ ترجیح دیں جو موٹاپے ، ذیابیطس سمیت مختلف امراض سے تحفظ تو دیتے ہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ جگر کو بھی صحت مند رکھتے ہیں۔

ٹماٹر

ٹماٹر بھی جگر کے لیے صحت بخش ہوتے ہیں، ان میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جگر کا ورم کم کرنے کے ساتھ انجری سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

کافی

ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ کافی پینے کی عادت جگر کے امراض کا خطرہ کم کرنے میں مدد دیتی ہے جس کی وجہ اس مشروب میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس ہوتے ہیں۔ تاہم 4 کپ سے زیادہ کافی پینا فائدے کی بجائے نقصان پہنچا سکتا ہے۔

مچھلی

مچھلی پروٹین کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے جو کہ جگر کو صحت مند رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ مچھلی سے جسم کو امینو ایسڈز اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈز بھی ملتے ہیں جو کہ جگر میں نقصان دہ چربی کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

گریپ فروٹ

یہ پھل وٹامن سی اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے جو جگر سے زہریلے مواد کی صفائی میں مدد دیتے ہیں۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ گریپ فروٹ میں موجود اجزا ایسے کیمیکلز کو حرکت میں لاتے ہیں جو کہ جگر پر چربی چڑھنے کا خطرہ کم کرتے ہیں۔

وہ نشانیاں جو گردوں کے امراض کی جانب اشارہ کریں

گردے انسانی جسم کا اہم عضو ہیں، دنیا میں ہر سال پچاس ہزار سے زائد افراد گردے کے مختلف امراض میں مبتلا ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ گردہ عطیہ کرنے والوں کی کمی ہے۔

پاکستان میں اس حوالے سے مستند اعدادوشمار تو دستیاب نہیں مگر ایک اندازے کے مطابق لاکھوں افراد گردے کے مختلف امراض میں مبتلا ہیں جبکہ ایسے مریضوں کی تعداد میں سالانہ 15 سے 20 فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر افراد گردے کے امراض کو نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن یہ ایک ایسی بیماری ہے جو جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق گردوں کے امراض سے بچنے کے لیے پانی کا زائد استعمال، سگریٹ نوشی اور موٹاپے سے بچنا ضروری ہے۔

اگر درج ذیل نشانیاں سامنے آئے تو ڈاکٹر سے ضرور رجوع کیا جانا چاہیے۔

سونے میں مشکل

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

جب گردے اپنے افعال درست طریقے سے سرانجام نہیں دے پاتے تو اس کے نتیجے میں زہریلا مواد جسم سے پیشاب کے راستے خارج نہیں ہوپاتا اور خون میں موجود رہتا ہے، اس مواد کی سطح بڑھنے سے سونا مشکل ہوجاتا ہے اور بے خوابی کی شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔ اسی طرح گردوں کے مریضوں میں نیند کے دوران سانس لینے میں مشکل کا عارضہ بھی سامنے آسکتا ہے اور اگر کوئی فرد اچانک خراٹے لینے لگے تو اسے ڈاکٹر سے رجوع کرنا جانا چاہیے۔

مسلز اکڑنا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

گردوں کی کارکردگی میں کمی آنے سے الیکٹرولائٹ عدم توازن کا شکار ہوجاتے ہیں، مثال کے طور پر کیلشیئم کی سطح میں کمی اور فاسفورس کا کنٹرول سے باہر ہونا مسلز اکڑنے کا باعث بنتے ہیں۔

سردرد، تھکاوٹ اور جسمانی کمزوری

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اگر گردے درست کام کررہے ہوں تو وہ جسم میں وٹامن ڈی کو ہڈیوں کی مضبوطی کے ساتھ ساتھ ایک ہارمون ای پی او بنانے کا کام بھی کرتے ہیں، یہ ہارمون خون کے سرخ خلیات بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اگر گردے مسائل کا شکار ہوں تو ای پی او کی مقدار کم بنتی ہے جس سے خون کے سرخ خلیات میں کمی آتی ہے جو جسم اور دماغ کو اچانک تھکاوٹ، سردرد اور جسمانی کمزوری کا شکار کردیتا ہے۔ خیال رہے کہ گردوں کے امراض میں اینیمیا کا مرض عام ہوتا ہے۔

دل کی دھڑکن میں خرابی

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اگر گردوں کو نقصان پہنچے تو جسم میں پوٹاشیم کی مقدار بڑھنے لگتی ہے جو دل کی دھڑکن میں غیر معمولی تیزی کی شکل میں سامنے آتی ہے۔

خشک اور خارش زدہ جلد

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

جیسا بتایا جاچکا ہے کہ گردے جسم میں جمع ہونے والے کچرے کی صفائی کا کام کرتے ہیں، خون کے سرخ خلیات کی سطح بڑھانے اور جسم میں منزل کی سطح مناسب سطح پر رکھتے ہیں۔ خشک اور خارش زدہ جلد اس بات کی نشانی ہے کہ گردے منرلز اور غذائی اجزاءکا درست توازن نہیں رکھ پارہے۔ اگر آپ کی جلد خشک اور خارش زدہ ہورہی ہے تو زیادہ سے زیادہ پانی پینا چاہیے اور خارش کے لیے کوئی دوا لینے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ لینا چاہیے۔

دل خراب ہونا یا قے

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اگر جسم میں کافی مقدار میں کچرا جمع ہوجائے تو دل متلانے یا قے کا تجربہ اکثر ہونے لگتا ہے، درحقیقت یہ جسم اپنے اندر جمع ہونے والے مواد سے نجات کی کوشش کا نتیجہ ہوتا ہے، دل متلانے کے نتیجے میں کھانے کی خواہش ختم ہونے لگتی ہے، اگر ایسا کچھ عرصے تک ہوتا رہے تو جسمانی وزن میں بہت تیزی سے کمی آتی ہے۔

سانس میں بو اور ذائقہ بدلنا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

جب کچرا خون میں جمع ہونے لگتا ہے تو کھانے کا ذائقہ بدلا ہوا محسوس ہوتا ہے اور منہ میں دھات یا میٹالک ذائقہ رہ جاتا ہے۔ اسی طرح سانس میں بو پیدا ہونا بھی دوران خون میں بہت زیادہ زہریلا مواد جمع ہونے کی علامت ہے۔ مزید برآں ایسا ہونے پر گوشت کھانے یا کھانے کی ہی خواہش کم یا ختم ہوجاتی ہے، جس کے نتیجے میں جسمانی وزن میں غیرمتوقع کمی آتی ہے۔ ویسے منہ کا ذائقہ بدلنے کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں اور عام علاج سے مسئلہ دور ہوجاتا ہے، تاہم اگر یہ علاج کے باوجود برقرار رہے تو اپنے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

سانس گھٹنا یا لینے میں مشکل

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

گردوں کے امراض اور سانس گھٹنے کے درمیان تعلق پایا جاتا ہے، خصوصاً تھوڑی سی جسمانی سرگرمی کے بعد یہ مسئلہ لاحق ہوجاتا ہے۔ اس کی دو وجوہات ہوتی ہیں، ایک تو گردوں کے کام نہ کرنے سے جسم میں اضافی سیال پھیپھڑوں میں جمع ہونا، دوسری خون کی کمی جسم میں آکسیجن کی کمی کا باعث بنتی ہے جس کے نتیجے میں سانس گھٹنے لگتا ہے۔ اگر آپ کو تھوڑا کام کرنے کے بعد بھی سانس لینے میں مشکل ہوتی ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے کیونکہ یہ گردوں سے ہٹ کر دمہ، پھیپھڑوں کے کینسر اور ہارٹ فیلیئر کی نشانی بھی ہوسکتی ہے۔

زیادہ یا کم پیشاب آنا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

چونکہ گردے پیشاب کے لیے ضروری ہیں، لہذا جب وہ کسی بیماری کا شکار ہوتے ہیں تو اکثر لوگوں کو پیشاب کی خواہش تو ہوتی ہے مگر آتا نہیں، جبکہ کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جو عام معمول سے ہٹ کر واش روم کے زیادہ چکر لگانے لگتے ہیں، متعدد افراد کو یہ مسئلہ راتوں کو جاگنے پر مجبور کرتا ہے۔

ٹخنوں، پیروں اور ہاتھوں کا سوجنا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

جب گردے جسم سے اضافی سیال کو خارج کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو نمکیات کا اجتماع ٹخنوں، پیروں اور ہاتھوں کے سوجنے کا باعث بنتا ہے، زیریں جسم کے اعضا سوجنا دل اور جگر کے امراض یا ٹانگ کی شریان میں مسائل کی نشانی بھی ہوتی ہے۔ کئی مرتبہ ادویات کے استعمال سے نمک اور اضافی سیال میں کمی آتی ہے جس سے سوجن رک جاتی ہے، تاہم اگر اس سے مدد نہ ملے تو ڈاکٹر سے علاج میں تبدیلی کا مشورہ کرنا چاہیے۔

کمردرد

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

گردے کا کام روکنا یا کڈنی فیلیئر کمردرد کا باعث بنتا ہے جو عام طور پر دائیں جانب پسلی کے نیچے محسوس ہوتا ہے۔ یہ درد کولہوں میں بھی محسوس ہوسکتا ہے۔ کمر اور پیر میں درد گردوں میں مواد جمع ہونے کی نشانی ہوسکتی ہے۔ کڈنی فیلیئر کی شکل میں کمرمیں ہونے والا درد کے ساتھ بخار، متلی اور پیشاب زیادہ آنے کی تکلیف بھی ہوسکتی ہے۔

آنکھیں پھولنا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

گردوں کے نظام میں خرابی کی ابتدائی علامات میں سے ایک آنکھوں کے ارگرد کا حصہ پھولنا ہوتا ہے، یہ اس بات کی جانب اشارہ ہوتا ہے کہ گردوں سے بڑی مقدار میں پروٹین کا اخراج پیشاب کے راستے ہورہا ہے۔ اگر ایسا ہونے پر جسم کو مناسب آرام اور پروٹین ملے اور پھر بھی آنکھوں کے ارگرد پھولنے کا عمل جاری رہے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

ہائی بلڈ پریشر

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

دوران خون اور گردے ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں، گردے خون میں موجود کچرے اور اضافی سیال کو فلٹر کرتے ہیں اور اگر شریانوں کو نقصان پہنچے تو گردے کے اس حصے جو خون کو فلٹر کرتے ہیں، اسے آکسیجن اور غذائیت نہیں مل پاتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کڈنی فیلیئر کا خطرہ بڑھانے والی دوسری بڑی وجہ ہے۔

پیشاب کی رنگت میں تبدیلی

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

گردے پیشاب بنانے کے ذمہ دار ہیں اور اس کے ذریعے کچرے کا اخراج کرتے ہیں، اگر پیشاب کی بو، رنگت وغیرہ میں تبدیلی آئے تو اسے کبھی نظرانداز مت کریں۔ ایسی تبدیلیاں جیسے پیشاب زیادہ کرنا خصوصاً رات کو، پیشاب میں خون آنا یا جھاگ بننا وغیرہ۔

دنیا کا سب سے کم وزن بچہ علاج کے بعد صحتیاب، گھر جانے کی اجازت

جاپان میں دنیا کے سب سے چھوٹی جسامت اور وزن والے ایک اور نومولود کی پیدائش ہوئی جسے تقریباً 7 ماہ کے کامیاب علاج کے بعد گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق یہ بچہ اکتوبر کے مہینے میں پیدا ہوا تھا جسے ڈاکٹروں نے دنیا کا سب سے چھوٹی جسامت والا بچہ قرار دیا تھا۔

ریئوسوکی سیکیہ نامی اس بچے کو ان کی والدہ توشیکو نے اپنی طبعیت خراب ہونے پر ایمرجنسی میں قبل از وقت جنم دیا جس کی پیدائش آپریشن کے ذریعے ہوئی۔

ڈاکٹروں کے مطابق ریئوسوکی سیکیہ کا وزن محض 258 گرام تھا جس کا وزن اب تک دنیا میں پیدا ہونے والے سب سے کم وزن اور جسامت کے بچے سے بھی کم تھا۔

اس سے قبل دنیا میں سب سے کم وزن رکھنے والا بچہ بھی جاپان میں ہی پیدا ہوا تھا جس کا وزن 268 گرام ریکارڈ کیا گیا تھا۔

یکم اکتوبر 2018 کو پیدا ہونے والے ریئوسوکی سیکیہ کا قد صرف 22 سینٹی میٹر تھا، جنہیں ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں منتقل کر دیا گیا تھا۔

قبل از پیدا ہونے والے اس نومولود کو ٹیوب کی مدد سے غذا دی گئی جبکہ اس کے لیے کبھی کبھی روئی کے ٹکڑوں کا بھی استعمال کیا گیا۔

ہسپتال میں علاج کے دوران بچے کا وزن تقریباً 13 گنا بڑھا جو اب 3 کلوگرام (3 ہزار گرام) سے بھی زیادہ ہو چکا ہے۔

بچے کی والدہ نے اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جب میرا بچہ پیدا ہوا تو وہ بہت چھوٹا تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ وہ چھونے سے زخمی ہوجائے گا، لہٰذا ہم بہت پریشان ہوگئے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب ان کا بچہ دودھ پیتا ہے، وہ نہا سکتا ہے، تاہم اسے بڑھتا ہوا دیکھ کر بہت خوشی ہورہی ہے۔

خیال رہے کہ دنیا میں سب سے کم وزن لڑکی 2015 میں جرمنی میں پیدا ہوئی تھی جس کا وزن 252 گرام ریکارڈ کیا گیا تھا۔

سمندری گھاس اور الجی میں دواؤں کے خزانے دریافت

پرتگال: ہمیں نئی دواؤں اور بالخصوص اینٹی بایوٹکس کی شدید ضرورت ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ سمندری گھاس اس کی بہترین امیدوار ہوسکتی ہے۔

سمندری گھاس (سی ویڈ) پر طرح طرح کے بیکٹیریا پائے جاتے ہیں جن میں ایکٹینوبیکٹیریا سرِ فہرست ہیں اور ان میں کینسر، ملیریا سمیت کئی اقسام کے انفیکشن روکنے کی صلاحیت دیکھی گئی ہے۔

بیکٹیریا سمیت کئی اقسام کے خردبینی جاندار ( پروٹوزوا، مولڈ اور امیبا وغیرہ) ہمارے لیے بہت فائدہ مند ہوتے ہیں۔ انہی کی بدولت کئی دوائیں بھی بنائی جاتی ہیں اور اب سمندری گھاس پر موجود ایکٹینوبیکٹیریا میں ایسے مرکبات ملے ہیں جو نئی دواؤں میں مدد دے سکتے ہیں۔ اگرچہ ایکٹینوبیکٹیریا خشکی پر موجود ہوتے ہیں لیکن سمندروں کی گہرائی میں موجود ایکٹینوبیکٹیریا کو اب تک بہت کم آزمایا گیا ہے۔

فرنٹیئرز آف بایوٹیکنالوجی نامی جریدے میں شائع ایک مقالے میں پرتگال کے بین الموضوعاتی مرکز برائے سمندری اور ماحولیاتی تحقیق کی ڈاکٹر ماریا ڈی فاطمہ کاروالہو کہتی ہیں کہ دنیا بھر میں 20 ہزار سے زائد موجود ادویہ کی نصف تعداد ایکٹینوبیکٹیریا سے بنائی گئی ہیں۔

سمندری ایکٹینوبیکٹیریا سے ایک حیاتی مرکب salinosporamide A اخذ کیا گیا ہے جو کینسر کے علاج میں مفید ثابت ہوسکتا ہے اور اسی بنا پر تجربہ گاہوں میں آزمائش کے مراحل میں ہے۔ اسی طرح سمندر میں ایک بھوری الجی ہے جس کا نام L. ochroleuca ہے اس میں طبی استعمال کے کئی بیکٹیریا دیکھے گئے ہیں۔

اس بھوری الجی سے صرف چھ ہفتوں کی تحقیق میں ماہرین نے 90 اقسام کے نئے ایکٹینوبیکٹیریا ڈھونڈ نکالے ہیں۔ ان میں سے 45 ایکٹینوبیکٹیریا نے کئی بیماریوں کے جراثیم کو روکنے میں کامیابی حاصل کی جن میں اسٹائفلوکوکَس اوریئس اور کینڈیڈا البیکانز شامل ہیں ۔ بعض ایکٹینوبیکٹیریا سرطان کے خلاف بھی مؤثر دیکھے گئے۔

ڈاکٹر ماریا ڈی فاطمہ نے کہا کہ سات ایکٹینوبیکٹیریا دماغی اور چھاتی کے سرطان کو روکنے میں مفید دیکھے گئے ہیں۔ ماہرین اس بھوری الجی سے بہت پرامید ہیں کہ شاید اس سے شفا کے نئے باب کھل سکتے ہیں۔

کیا فالسے کے یہ فوائد جانتے ہیں؟

آگ برساتے سورج کے ساتھ موسم گرما کی شدت ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہے مگر یہ موسم اپنے ساتھ چند مزیدار پھلوں کو بھی لے کر آتا ہے۔

اور یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ لاتعداد افراد ایسے ہوں گے جو یہ کہیں گے کہ فالسے ان کے پسندیدہ پھلوں میں سے ایک ہے۔

اس کا جوس بنائیں یا ویسے ہی کھائیں، کچھ دنوں کے لیے آنے والا یہ پھل کئی طرح منہ کے ذائقہ بہتر بنانے کا کام کرتا ہے۔

مگر کیا آپ کو صحت کے لیے اس کے فوائد کا علم ہے؟ جن میں سے ایک ہیٹ اسٹروک سے بچاﺅ بھی ہے؟

درحقیقت یہ کسی بھی سپر فوڈ سے کم نہیں جس کے چند فوائد درج ذیل ہیں۔

معدے کے لیے بہترین

فالسے کا جوس نظام ہاضمہ کے لیے بہترین ہے، انسائیکلو پیڈیا آف ورلڈ Medicinal پلانٹس کے مطابق یہ نہ صرف نظام ہاضمہ کے افعال کو کنٹرول میں رکھتا ہے بلکہ یہ جسم کو ٹھنڈک پہنچانے کے ساتھ جسم میں پانی کی کمی کو دور بھی کرتا ہے۔ کچھ ماہرین کے مطابق فالسے کا جوس پینے سے پیٹ کے درد کا علاج بھی ممکن ہے، جس کے لیے جوس میں تین گرام اجوائن ملائیں اور تھوڑا سا گرم کرکے پی لیں۔

گرمی کا یہ پھل کس کو پسند نہیں؟

دل کو مضبوط بنائے

فالسے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ورم میں کمی لاتا ہے جو اسے دل کی صحت کے لیے مفید پھل بناتا ہے، چٹکی بھر کالی مرچ اور نمک کو 50 ملی لیٹر فالسے کے جوس میں ملائیں اور پی لیں۔

کینسر کے خلاف مفید

یہ اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور پھل ہے جس سے کینسر کے خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے۔

نظام تنفس کے مسائل پر قابو پائے

فالسے کا شربت پینا دمہ، نزلہ زکام اور نظام تنفس کے دیگر مسائل پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے، بس فالسے کے جوس میں لیموں کا عرق یا ادرک کا اضافہ کریں اور پی لیں۔

مسلز بنانے میں مدد دے

یہ ننھا پھل مسلز بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے جس کی وجہ پوٹاشیم اور پروٹین کی موجودگی ہے جو کہ مسلز مضبوط بنانے کے ساتھ پٹھوں کے افعال کو بھی بہتر کرتے ہیں۔

جسمانی توانائی بڑھائے

پروٹین کی وجہ سے فالسے کھانے کی عادت جسم کو زیادہ توانائی فراہم کرتی ہے اور اس کا شربت بھی اس حوالے سے مددگار ثابت ہوتا ہے۔

ہڈیاں مضبوط بنائے

اس پھل میں کیلشیئم کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو ہڈیوں کو صحت مند بنانے کے لیے ضروری جز ہے، صحت مند ہڈیاں عمر بڑھنے سے ہڈیوں کی کثافت کم ہونے کا خطرہ بھی کم کرتی ہیں۔

خون کی کمی دور کرے

فالسے میں موجود آئرن خون کی کمی دور کرنے میں مدد دیتا ہے، آئرن کی کمی خون کی کمی کے ساتھ مختلف طبی مسائل کا خطرہ بڑھاتی ہے جس کی ایک علامت ہر وقت تھکاوٹ طاری ہونا بھی ہے۔

ذیابیطس کے مریض دل کھول کر کھائیں

فالسے میں مٹھاس عام طور پر نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے، پاکستان جرنل آف فارماسیوٹیکل سائنز کے مطابق فالسہ کم شکر والا پھل ہے، جس کا مطلب ہے کہ ذیابیطس اور خون کی شریانوں سے متعلق امراض کے شکار افراد اس سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔

جوان رکھے

اس پھل کی قدرتی رنگت یعنی جامنی رنگ درحقیقت ایک اینٹی آکسائیڈنٹ کی وجہ سے ہے جو اینتھوسیان سے بھرپور ہوتا ہے۔ یہ کیمیکل ایک ہارمون کولیگن (جو جلد کی لچک اور نرمی کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے)کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور جلد کی جوانی کو بحال کرتا ہے۔ فالسے کا استعمال خون کو بھی صاف کرتا ہے جس سے جلد بھی شفاف ہوتی ہے اور وہ جگمگانے لگتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

ناشتہ نہ کرنے کا ایک اور نقصان سامنے آگیا

وہ افراد جو ناشتہ نہیں کرتے یا رات کو سونے سے کچھ دیر پہلے کھانا کھاتے ہیں، ان میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

یہ بات برازیل میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ساﺅ پاﺅلو یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ناشتہ نہ کرنا اور رات کو دیر سے کھانا ایسی غذائی عادات ہیں جو ہارٹ اٹیک کے ایک ماہ بعد انجائنا، ایک اور ہارٹ اٹیک اور موت کا خطرہ بڑھاتی ہیں۔

تحقیق میں ناشتہ نہ کرنے سے یہ خطرہ 58 فیصد، سونے سے کچھ دیر پہلے کھانے کی عادت سے 51 فیصد جبکہ دونوں عادتیں کسی فرد میں موجود ہونا یہ خطرہ 41 فیصد تک بڑھا دیتی ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ صحت بخش ناشتہ دودھ سے بنی مصنوعات، کاربوہائیڈریٹ اور پھلوں پر مشتمل ہوتا ہے اور اس کے ذریعے دن بھر کی کیلوریز کا 15 سے 35 فیصد حصہ جسم کا حصہ بننا چاہیے۔

اس کے مقابلے میں رات کو سونے سے 2 گھنٹے پہلے کھانا کھا لینا صحت کے لیے فائدہ مند ہے تاہم ایسا نہ کرنا ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

اس سے قبل ماضی میں تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ جو لوگ ناشتہ نہیں کرتے یا سونے سے کچھ دیر پہلے کھانا کھاتے ہیں، ان میں تمباکو نوشی اور جسمانی طور پر متحرک نہ ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ عادات ہیں۔

اس نئی تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ ناشتہ نہ کرنا اور رات کو دیر سے کھانا صحت کے لیے نقصان دہ مختلف عادات کا باعث بنتی ہیں، جس سے حالات زیادہ خراب ہوتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ رات گئے کھانے والے افراد صبح اٹھنے کے بعد بھوک محسوس نہیں کرتے تو اس وجہ سے ناشتہ کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے یورپین جرنل آف پرینیٹو کارڈیالوجی میں شائع ہوئے۔

گرمی میں دن میں کتنے انڈے کھانے چاہئیں؟

ایسا کون ہوگا جسے انڈا کھانا نہ پسند ہو؟ انڈے کو سب سے زیادہ غذائیت سے بھرپور خوراک مانا جاتا ہے۔

صرف ایک انڈے میں آپ کو وہ سب ملے گا جس کی ضرورت ہمارے جسم کو صحت مند رہنے کے لیے ہوتی ہے۔

انڈے کی زردی میں کیلشیم اور آئرن کی مقدار بہت زیادہ پائی جاتی ہے، جبکہ سفیدی میں پروٹین شامل ہے۔

وہ افراد جن کو انڈے سے کسی قسم کی الرجی ہے ان کے علاوہ انڈا ہر کسی کے لیے سب سے بہترین خوراک مانا جاتا ہے، لیکن انڈے کے لیے بھی لوگوں کے دلوں میں چند وہم موجود ہیں۔

انڈا کھانے کے حوالے سے سب سے زیادہ سوال جو سامنے آتا ہے وہ یہ کہ کیا گرمیوں میں بھی انڈا کھانا چاہیے، یا یہ صرف سردیوں میں کھانا صحت کے لیے مثبت ہے؟

دراصل یہ ایک غلط فہمی ہے کہ گرمیوں میں انڈے کھانا صحت پر منفی اثرات چھوڑتے ہیں۔

گرم موسم کا انڈوں سے کوئی تعلق نہیں، اور گرمیوں میں انڈا کھانے سے صحت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا، انڈوں میں طرح طرح کے وٹامنز اور منرلز موجود ہیں، جن کی ضرورت جسم کو گرمیوں میں بھی اتنی ہی پڑتی ہے جتنی کے سردیوں میں پڑتی ہے۔

یہ بات صحیح ہے کہ انڈے سے جسم میں گرمی پیدا ہوتی ہے، اور زیادہ کھانے سے نظام ہاضمہ متاثر ہوسکتا ہے، لیکن اگر انڈے کو صحیح مقدار میں کھایا جائے تو اس کا کوئی نقصان نہیں۔

گرمیوں میں دن میں ایک انڈا کھانا یقیناً فائدہ مند ہی ثابت ہوگا۔

انڈے کے دیگر فوائد جو آپ کو حیران کردیں گے:

امراض قلب کا خطرہ کم

ایک تحقیق کے مطابق انڈوں میں موجود کولیسٹرول صحت کے لیے نقصان دہ نہیں جبکہ اس میں موجود اومیگا تھری فیٹی اسیڈز ٹرائی گلائیسرائیڈز کی سطح میں کمی لاتا ہے جس سے خون کی شریانوں سے جڑے مسائل جیسے امراض قلب وغیرہ کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

جسمانی وزن میں کمی

ایک امریکی تحقیق کے مطابق انڈوں کے ساتھ ناشتے میں کم کیلوری والی غذا جسمانی وزن میں دوگنا تیزی سے کمی لانے میں مدد دیتی ہے۔

بینائی کو تحفظ

ایک تحقیق کے مطابق انڈے لیوٹین نامی جز سے بھرپور ہوتے ہیں، یہ جز بینائی کو درست رکھنے کا ذمہ دار ہوتا ہے، جبکہ اس کی کمی آنکھوں کے ٹشوز میں تباہ کن تبدیلیاں لاتی ہے اور بینائی کو ناقابل نقصان پہنچ سکتا ہے۔

بانجھ پن سے بچائے

وٹامنز بی ایسے ہارمونز کو تشکیل دیتا ہے جو بانجھ پن سے بچاﺅ کے لیے ضروری ہے، وٹامن بی نائن یا فولک ایسڈ خون کے سرخ خلیات کو بہتر بناتا ہے جبکہ دوران حمل بچوں کی دماغی نشوونما میں رکاوٹ کے خطرے کو کم کرتا ہے۔

جلد، بالوں اور جگر کے لیے بہترین

انڈوں میں موجود بائیوٹن، وٹامن بی 12 اور دیگر پروٹینز بالوں اور جلد کی مضبوطی اور لچک میں کردار ادا کرتے ہیں، اسی طرح انڈے کھانے کی عادت جگر سے زہریلے مواد کے اخراج کے عمل کو بہتر کرتی ہے۔


نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

کہیں آپ بھی نیند کے حوالے سے ان وہمات کا شکار تو نہیں؟

کیا انسان، کیا جانور یہاں تک کہ نباتات کے لیے بھی ‘نیند’ کو بنیادی ضرورت مانا جاتا ہے اور اسی ‘نیند’ کے حوالے سے لوگوں کے ذہنوں میں بہت سے وہم اور غلط تصورات بھی ہیں جن پر عمل کر کے صحت کے خرابی کے ساتھ ساتھ مزاج کی برہمی بھی شروع ہو جاتی ہے۔

سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ نیند سے جڑے مسائل انسانی زندگی کم کرنے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

نیویارک یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے انٹرنیٹ پر ‘اچھی نیند’ سے متعلق کیے گئے دعووں کو سائنسی شواہد پر جانچا اور بعد ازاں یہ تحقیق سلِیپ ہیلتھ جرنل میں بھی شائع ہوئی۔

ٹیم کا کہنا ہے کہ نیند سے متعلق وہمات کی تردید سے لوگوں کی جسمانی اور ذہنی صحت بہتر ہونے میں مدد ملے گی۔

واہمہ نمبر 1 : ‘5 گھنٹوں سے کم کی نیند سے بھی گزارا کیا جا سکتا ہے’

یہ سمجھنا کہ 5 گھنٹے سے کم کی نیند سے صحت پر منفی اثرات نہیں ہوتے غلط ہے۔

سابق برطانوی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر اپنی رات کی چار گھنٹے کی نیند کے حوالے سے مشہور تھیں۔ جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل بھی کچھ ایسا ہی دعویٰ کرتی ہیں۔

عام لوگ بھی اسی طرح کے دعوے کرتے نظر آتے ہیں تاکہ وہ بستر سے وقت بچا کر اپنے دیگر کاموں کو وقت دے سکیں۔

تاہم سائنسدانوں نے اس وہم کی تردید کی ہے، ان کے مطابق 5 گھنٹوں سے کم کی نیند صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

تحقیق کرنے والی ٹیم میں شامل ڈاکٹر ربیکا روبنسز کا کہنا ہے کہ مسلسل5 گھنٹوں یا اس سے کم کی نیند صحت پر برے اثرات مرتب کرتی ہے۔ان اثرات میں دل کی بیماریاں جیسے ہارٹ اٹیک اور فالج کا حملہ شامل ہوسکتے ہیں اور ان کی وجہ سے طبعی عمر میں کمی بھی ہوسکتی ہے۔

انھوں نے رات کو کم سے کم 7 یا 8 گھنٹوں کی نیند لینے کی تجویز دی ہے۔

وہم نمبر 2 : ‘سونے سے قبل ٹی وی دیکھنا سکون آور ہوتا ہے’

سونے سے قبل ٹی وی دیکھنے سے دماغ کو سکون ملنے کے دعوے بھی غلط ہیں۔ڈاکٹر روبنسز کا کہنا ہے کہ عموماً ہم سونے سے قبل ٹی وی پر خبریں یا ان سے متعلق تجزیے ہی دیکھتے ہیں۔اس سے نیند میں خلل پیدا ہوتا ہے یا اس کا نتیجہ ایک بے سکون نیند کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

ٹی وی اور دیگر جدید آلات کا ایک بڑا تکنیکی مسئلہ یہ ہے کہ ان سے نیلی روشنی کا انعکاس ہوتا ہے جس کی وجہ سے جسم میں ‘سلیپ ہارمون میلاٹونن’ کی پروڈکشن تاخیر سے شروع ہوتی ہے۔

وہم نمبر 3 : ‘اگر آپ سونے کی کوشش کر رہے ہیں تو بستر میں لیٹے رہیں’

اکثر لوگ سونے کی کوشش میں خود کو تھکا لیتے ہیں اور نیند سے پھر بھی دور رہتے ہیں۔تو پھر کرنا کیا چاہیے،سائنسدانوں کا جواب ہے کہ زبردستی سونے کی کوشش ترک کر دیں۔

ڈاکٹر روبنسز کا کہنا ہے ایک صحت مند شخص کو بھی سونے کے لیے کم از کم 15 منٹ درکار ہوتے ہیں لیکن اس سے بھی زائد وقت ہونے کی صورت میں بستر سے نکل آئیں اور خالی ذہن کے ساتھ کچھ ایسا کریں جس سے دماغ نیند کے مدعے سے ہٹ جائے۔

وہم نمبر 4 : ‘الارم میں تاخیری حربوں سے نیند پوری ہوجاتی ہے’

الارم لگا کر پھر اس پر اسنوز کے بٹن دبا دبا کر بستر پر مزید لیٹے رہنے کے تاخیری حربے کون نہیں آزماتا۔لیکن کیا ان کچھ زائد منٹوں سے کوئی فرق پڑتا ہے؟

تحقیق کرنے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ جیسے ہی الارم بند ہو بغیر کسی تاخیر کے آپ بستر سے اٹھنے کی کوشش کریں۔

ڈاکٹر روبنسز کا کہنا ہے کہ اسنوز کا بٹن دبا دینے کے بعد بے شک آپ کچھ دیر نیند کے لمحے حاصل کر لیتے ہیں لیکن یہ نیند بہت ہلکی اور بے آرام کر دینے والی ہوتی ہے۔

ان کی تجویز ہے کہ اسنوز کا بٹن دبانے کی بجائے اٹھ کر کمرے کے پردے پیچھے کر دیں اور دن کی روشنی کے سامنے کھڑے ہوجائیں، کوشش کریں کہ تازہ ہوا میں سانس لے سکیں۔ آپ فوری طور پر خود کو تازہ دم محسوس کریں گے۔

وہم نمبر 5 : ‘نیند کے دوران لیے جانے والے خراٹے ہمیشہ بے ضرر ہوتے ہیں’

خراٹے لینا بے ضرر ہو سکتا ہے لیکن ہمیشہ نہیں، یہ نیند کے ایک مسئلے ‘اپنوئیا’ کی نشانی بھی ہوسکتی ہے۔اس سے نیند کے دوران سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اس مسئلے میں مبتلا لوگ بلند فشار خون، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی یا ہارٹ اٹیک کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر روبنسز کا کہنا ہے کہ رات کی نیند جسمانی ، ذہنی صحت  اور مزاج کو بہتر رکھنے کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے لہٰذا رات کے وقت کم سے کم 8 گھنٹے کی پرسکون نیند لینے کی کوشش کرنی چاہیے۔

Google Analytics Alternative