صحت

کچرا ہٹائیے، سبزہ لگائیے اور ڈپریشن سے نجات پائیے

فلا ڈلفیا: فطری مناظر اور سبزہ اپنے اندر زبردست شفائی قوت رکھتے ہیں۔ اگر خالی جگہوں پر کوڑا کرکٹ صاف کرکے وہاں درخت اور سبزہ اگا دیئے جائیں تو اس سے وہاں رہنے والے افراد کے ڈپریشن میں کمی ہوتی ہے اور ان کی مسرتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔

سبزہ اور ذہنی صحت کے درمیان تعلق کے حوالے سے ہونے والی اپنی نوعیت کی یہ پہلی تحقیق ہے جس میں امریکی شہر فلاڈیلفیا کے غریب اور متوسط علاقوں میں موجود کچرے سے اٹی خالی جگہوں کو سبزے میں بدلا گیا اور وہاں رہنے والوں نے اس پر خوشی کا اظہار کیا۔

ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ڈپریشن، چوٹ اور نشے کی لت کو ہم کئی تناظر میں دیکھتے ہیں لیکن کبھی اس جگہ پر غور نہیں کرتے کہ جہاں ایسے مریض رہتے ہیں۔ یہ تحقیق اس جمعے کو امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کے جرنل میں شائع ہوئی ہے جس میں فلاڈیلفیا کی ان 541 جگہوں کو نوٹ کیا گیا جو خالی تھیں اور کچرے سے اٹی ہوئی تھیں اور اطراف میں لوگ رہ رہے تھے۔ ان میں سے ایک تہائی جگہوں کو صاف کرکے درخت اور گھاس لگائی گئی، ایک تہائی مقامات کو صرف صاف کیا گیا جبکہ ایک تہائی جگہوں کو اسی طرح کوڑا کرکٹ سے بھرپور چھوڑدیا گیا۔

پھر 2011 سے 2014 کے تین سال تک یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے ماہرین نے ان جگہوں پر رہنے والے  342 افراد سے رابطہ کیا اور ان سے جذباتی کیفیات مثلاً خوشی یا غم کے بارے میں سوالات کیے۔ معلوم ہوا کہ جن علاقوں میں خالی جگہوں کو صاف کرکے شجرکاری ہوئی وہاں کے لوگ پہلے کے مقابلے میں زیادہ مطمئن پائے گئے اور ڈپریشن کی شرح 40 فیصد تک کم ہوئی؛ جبکہ غریب علاقوں کی عوام  میں ڈپریشن 70 فیصد تک کم دیکھا گیا۔ اسی طرح ناامیدی، بے وقعتی اور دیگر منفی خیالات میں بھی کمی نوٹ کی گئی۔

ماہرین نے کہا ہے کہ فطرت سے بھرپور سرسبز مقامات کے پاس رہنے سے دماغی اور نفسیاتی صحت پر بہت اچھا اثر ہوتا ہے جبکہ گندی اور کوڑے کرکٹ والی جگہوں پر رہائش نفسیاتی طور پر شدید متاثر کرتی ہیں۔

اس سروے سے ایک اہم بات یہ بھی سامنے آئی کہ جن ایک تہائی علاقوں کو چھوئے بغیر اجاڑ اور گندا چھوڑدیا گیا تھا ان کے اطراف رہنے والے لوگوں کے ذہنی تناؤ اور ڈپریشن میں بہت معمولی کمی ہوئی جو نہ ہونے کے برابر تھی۔

باقاعدگی سے مچھلی کھایئے، لمبی عمر پائیے، تحقیق

واشنگٹن: اگرچہ غذائی ماہرین مچھلی کو ’سپر فوڈ‘ قرار دے کر ہفتے میں تین بار مچھلی کھانے کا مشورہ دیتے ہیں لیکن اب نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ باقاعدگی سے مچھلی کھانے والے خواتین و حضرات طویل عمر پاتے ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ مچھلی کئی امراض کو دور کرتے ہوئے جسم کو بہترین حالت میں رکھتی ہے۔

ماہرین نے اس کےلیے پانچ لاکھ خواتین و حضرات کا 16 سال تک مطالعہ کیا اور اس بنا پر کہا گیا ہے کہ مچھلی سے بھرپور غذا کئی امراض کو روکنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتی ہے اور اس طرح اوسط عمر بڑھ سکتی ہے۔  خصوصاً روغنی یا تیل والی(آئلی) مچھلی میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے جو جسم کےلیے انتہائی مفید قرار دی گئی ہے۔ ساتھ ہی مچھلی میں مفید پروٹین، لحمیات اور وٹامن بھی موجود ہوتے ہیں۔

امریکا میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اینڈ اے اے آر پی ڈائٹ اینڈ ہیلتھ اسٹڈی کے تحت غذاؤں اور ان کی صحت بالخصوص کینسر کے اثرات پر ایک طویل مطالعہ کیا گیا۔ اس میں 16 برس تک 240,729 مردوں اور 180,580 خواتین کے غذائی معمولات، ان کے امراض اور زندگی کی طوالت پر غور کیا گیا۔ اس ہمہ گیر تحقیق سے کئی اہم پہلو سامنے آئے جن کی تفصیلات جرنل آف انٹرنل میڈیسن میں شائع ہوئی ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ زیادہ مچھلی کھانے اور اومیگا تھری کے استعمال سے قبل ازوقت اموات کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ مچھلی نہ کھانے والے مردوں کے مقابلے زیادہ مچھلی کھانے والے مردوں میں موت کا خطرہ 9 فیصد تک کم ہوتا ہے۔ اس کی مجموعی وجوہ بہت سی ہیں جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں:

  • مچھلی کھانے سے دل کے امراض کی شرح میں 10 فیصد کمی ہوتی ہے۔
  • کینسر کے خطرات 6 فیصد تک کم ہوجاتے ہیں۔
  • سانس کے امراض کی شرح میں 20 فیصد اور جگر کی بیماریوں کی شرح 37 فیصد تک کم ہوجاتی ہے۔
  • ان کے علاوہ دماغی امراض اور الزائیمر سے بچانے میں بھی مچھلی ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اپنے دن کی شروعات ان 6 غذاؤں سے کریں

صبح اٹھ کر غذائیت سے بھرپور ناشتہ کرنا ہمارت جسم کے لیے بےحد ضروری ہے لیکن اس کا یہ مطلب بالکل بھی نہیں کہ آپ ناشتے کی صورت میں اپنے پیٹ کو ایسے کھانے سے بھرلیں جس کا کوئی فائدہ نہ ہو۔

سو کر اٹھنے کے بعد ہمارے جسم کو ایسی غذاؤں کی ضرورت ہوتی ہے جو ہمیں گھنٹوں بھر آرام کرنے کے بعد ایکٹو کرسکیں۔

ڈاکٹرز کا ماننا ہے کہ سو کر اٹھنے کے دو گھنٹے بعد پیٹ بھر ناشتہ کریں، لیکن اس سے پہلے غذائیت سے بھرپور چند چیزیں ضرور کھائیں۔

اپنے میٹابولزم کو بہتر بنانے کی صورت میں صبح اٹھنے کے بعد ان غذاؤں کا استعمال ضرور کریں۔

نیم گرم پانی اور شہد

بھگوئے ہوئے بادام

پپیتا

تخم بلنگا

تربوز

کھجور

کیا ٹوتھ پیسٹ ذیابیطس کا شکار بناسکتا ہے؟

ایک عام کیمیکل جو روزمرہ کی اشیاءجیسے غذائیں، ادویات، ٹوتھ پیسٹ اور کاغذ کو سفید رنگ دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، وہ آپ کو ذیابیطس ٹائپ ٹو کا شکار بناسکتا ہے۔

یعنی آپ جو ٹوتھ پیسٹ دانتوں کی صفائی کے لیے استعمال کرتے ہیں، وہ اس خاموش قاتل مرض کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

ٹیکساس یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ٹائیٹینیم ڈائی آکسائیڈ جو کہ مختلف اشیاءکو سفید رنگ دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، وہ ذیابیطس جیسے مرض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

اس تحقیق میں بتایا گیا کہ 60 کی دہائی سے اس کیمیکل کی پیداوار بڑھنا شروع ہوئی جبکہ 70 کی دہائی میں ذیابیطس کے کیسز کی تعداد چار گنا بڑھ گئی۔

ٹائیٹینیم ڈائی آکسائیڈ کو بڑے پیمانے پر ننھے ذرات کی شکل میں استعمال کیا جاتا ہے جو کہ دانتوں کی صفائی کے دوران سانس لینے یا غذا کے ذریعے دوران خون میں شامل ہوجاتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس کیمیکل کے کرسٹلائز ذرات ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار افراد کے لبلبے میں پائے جاتے ہیں مگر جو اس مرض کے شکار نہیں ہوتے، ان میں یہ نہیں ہوتے۔

محققین کے مطابق اس سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ ذرات لبلبے کو نقصان پہنچا تے ہیں جس کے نتیجے میں ذیابیطس کا مرض لاحق ہوتا ہے۔

محققین نے ذیابیطس ٹائپ ٹو کو ایک وبا قرار دیا جس کے کروڑوں مریض دنیا بھر میں موجود ہیں۔

ذیابیطس ٹائپ ٹو کے دوران لبلبہ مناسب مقدار میں انسولین بنانے سے قاصر ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں جسم بلڈ شوگر لیول کو ریگولیٹ کرنے میں ناکام ہوجاتا ہے، تبدریج یہ عارضہ ذیابیطس کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔

محققین نے اس خیال کے ھوالے سے مزید تحقیق بھی شروع کردی ہے تاکہ جانا جاسکے کہ یہ کیمیکل کس طرح ذیابیطس کا باعث بن رہا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل کیمیکل ریسرچ میں شائع ہوئے۔

نیند سے پہلے ان عادات کو اپنانا صحت کے لیے فائدہ مند

دیوار پر لگی گھڑی کی طرح ہمارے جسم کے اندر موجود خلیات کی بھی اپنی 24 گھنٹے کی ٹائم لائن ہوتی ہے، اگر وہ ایک ترتیب میں ہو تو ہماری جسمانی گھڑی ذہنی اور جسمانی امراض سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

اور ہماری نیند کا اس حوالے سے بہت اہم کردار ہوتا ہے جو جسمانی گھڑی کو فعال رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

مگر صرف ایک رات کی خراب نیند مختلف امراض کا خطرہ بڑھانے کے لیے کافی ثابت ہوتی ہے۔

تاہم سونے سے قبل چند عام عادات کو معمول بنالینا اچھی نیند، جسمانی وزن میں کمی اور فٹنس کے حصول میں مدد دیتا ہے۔

دانتوں کی صفائی

صبح تو دانتوں پر برش کرنا ہی چاہئے مگر سونے سے قبل بھی یہ کام ضروری ہے کیونکہ دن بھر کے دوران غذا کے ذرات دانتوں میں پھنسے رہتے ہیں۔ رات کو سونے سے قبل برش کرلینا پلاک، کیویٹیز اور مسوڑوں کے امراض سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔

رات گئے ہلکا پھلکا کھانے سے گریز

گزشتہ سال میکسیکو یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ رات گئے یا سونے سے قبل منہ چلانے کی عادت امراض قلب اور ذیابیطس کا خطرہ بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔ رات گئے کھانے سے جسمانی گھڑی کا نظام متاثر ہوتا ہے اور جب یہ سائیکل ٹوٹتا ہے تو خون میں چربی کی سطح بڑھنے لگتی ہے جس سے دل کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس سے قبل بھی طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ یہ عادت جلد کو بھی متاثر کرتی ہے۔

سونے سے قبل منہ دھونا نہ بھولیں

ویسے تو یہ اصول سب پر لاگو ہوتا ہے مگر ایسی خواتین جو روزانہ میک اپ کا استعمال کرتی ہیں، ان کے لیے لازمی ہے کہ سونے سے قبل میک اپ اتار کر منہ ضرور دھوئیں۔ میک اپ کے ساتھ ہونا جلد کو نقصان پہنچاتا ہے جبکہ اس سے جلد کا اپنی مرمت کا قدرتی عمل متاثر ہوتا ہے۔

سونے سے قبل گرم مشروبات سے پرہیز

کولوراڈو یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ رات کو سونے سے قبل کیفین کو جسم کا حصہ بنانا اندرونی جسمانی گھڑی کے نظام کو متاثر کرتا ہے اور اسے سمجھ نہیں آتا کہ کس وقت سونا ہے اور کس وقت اٹھنا ہے۔

سونے کا مخصوص وقت

یہ عادت جسم کو شیڈول کے مطابق رہنے کی تربیت دیتی ہے۔ رات کو سونے کے دوران جسم اپنی مرمت کرتا ہے، مگر نیند کا کوئی خاص وقت نہ ہونا اس عمل کو متاثر کتا ہے۔ تو سونے کا ایک وقت طے کرلیں اور اس کے مطابق بستر پر جائیں۔

مراقبہ یا یوگا

سونے سے قبل ورزش کرنا ٹھیک نہیں ہوتا بلکہ صحت کو نقصان پہنچا سکتا ہے، مگر مراقبہ یا آسان یوگا آسن جلد سونے میں مدد دیتے ہیں۔

درست غذا کا انتخاب

غذائیں جیسے بادام، ہلدی ملا دودھ، اخروٹ، چیری جوس وغیرہ خواب آور خصوصیات رکھتی ہیں۔ سونے سے چند گھنٹے پہلے ان کا استعمال معیاری نیند کے حصول میں مدد دیتا ہے۔

سکون کے چند لمحے

چاہے آپ کا دن بہت زیادہ تناﺅ میں کیوں نہ گزرا ہو، اچھی نیند اسی وقت ممکن ہے جب آپ بستر پر لیٹنے سے قبل ذہنی طور پر پرسکون ہوں۔ ایک یا 2 گھنٹے ایسے مشاغل میں گزاریں جو آپ کو پسند ہوں، جیسا مطالعہ، ٹی وی یا فلم دیکھنا وغیرہ۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

چکن کھانا جسم کو کتنا فائدہ یا نقصان پہنچاتا ہے؟

اگر لوگوں سے ان کی پسندیدہ غذا کے بارے میں سوال کیا جائے تو اس بات کا امکان بہت زیادہ ہے کہ ان کے مرغوب پکوان میں ایک جز مشترک ہوگا اور وہ ہے چکن، کیونکہ یہ سفید گوشت دنیا میں سب سے زیادہ کھایا جاتا ہے۔

اور یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اسے پکانا بہت آسان ہوتا ہے جبکہ پکوانوں کا تنوع اتنا زیادہ ہے کہ بس۔

اسی طرح پروٹین سے بھرپور ہونے کے ساتھ بہت کم چربی اسے سرخ گوشت کے مقابلے میں زیادہ صحت بخش انتخاب بنادیتی ہے۔

اگرچہ چکن کو کھانا صحت کے لیے کافی فائدہ مند ہے مگر اسے بہت زیادہ کھانا ضرور نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

تو یہ جانیں کہ روزانہ کتنا چکن کھایا جاسکتا ہے، اس کے فوائد کیا ہے اور کیا نقصان ہوسکتا ہے۔

کتنا چکن روز کھایا جاسکتا ہے؟

ماہرین کے مطابق اگر آپ کا وزن 65 سے 75 کلوگرام کے درمیان ہیں تو آپ روزانہ 200 گرام چکن کھا سکتے ہیں، اس سے زیادہ کھانا وزن بڑھانے کا باعث بن سکتا ہے۔

پروٹین کے حصول کا بہترین ذریعہ

اگر آپ نہیں جانتے تو جان لیں کہ چکن کا گوشت پروٹین کے حصول کے چند بہترین ذرائع میں سے ایک ہے جو کہ جسمانی استحکام اور اسٹرکچر بنانے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے جبکہ زہریلے مواد کو خارج کرنے میں مدد دیتا ہے۔

سکون آور

چکن کھانا عام طور پر لوگوں کے اندر ایک ریلیف کا احساس پیدا کرتاہ ے جس کی وجہ اس میں موجود امینو ایسڈ ٹرائیپیتھوفان کی موجودگی ہے، یہ امینو ایسڈ دماغ میں سیروٹونین کی سطح میں اضافہ کرکے مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب کرتا ہے۔

امراض کے خلاف لڑنے والے اجزائ

چکن ایک اینٹی آکسائیڈنٹ سیلینیم کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے جو کہ عمر بڑھنے کے ساتھ لاحق ہونے والے امراض بشمول جسمانی ورم کے امراض، خون کی شریانوں سے جڑے مسائل اور دماغی مسائل کے خلاف جدوجہد کرتا ہے۔ یہ اینٹی آکسائیڈنٹ خلیات کو نقصان پہنچانے والے اجزاءکے خلاف بھی لڑتا ہے۔

کولیسٹرول لیول کو کنٹرول کرے

چکن وٹامن بی تھری سے بھرپور غذا ہے جو کہ جسم میں جاکر کاربوہائیڈریٹس کو توانائی میں تبدیل کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سے کولیسٹرول لیول میں کمی آتی ہے اور امراض قلب کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

میٹابولزم کو متحرک کرے

وٹامن بی سکس سے بھرپور ہونے کی وجہ سے چکن کا گوشت میٹابولزم کو بہتر کرتا ہے اور اسے متحرک کرکے جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

بہت زیادہ پروٹین جسم کا حصہ بننا

مایو کلینک کی ایک تحقیق کے مطابق غذائی کیلوریز کا دس سے 35 فیصد حصہ پروٹین سے بھرپور ہونا چاہئے، مگر اکثر افراد ضرورت سے زیادہ پروٹین غذا کا حصہ بنالیتے ہیں جو کہ اچھا ثابت نہیں ہوتا۔ اگر غذا میں پروٹین بہت زیادہ ہو تو جسم اسے چربی کی طرح ذخیرہ کرنے لگتا ہے، جس کے نتیجے میں جسمانی وزن میں اضافہ جبکہ خون میں چربی بڑھنے لگتی ہے اور یہ بتایا جاچکا ہے کہ چکن پروٹین کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے، تو اس کی زیادہ مقدار یہ خطرہ بڑھاتی ہے۔

امراض قلب کا خطرہ

پروٹین سے بھرپور غذائیں جیسے چکن، دودھ، سرخ گوشت اور انڈے وغیرہ کولیسٹرول اور سچورٹیڈ فیٹ سے بھی بھرپور ہوتی ہیں۔ غذائی کولیسٹرول اور خون کی شریانوں کے امراض کے درمیان تعلق پایا جاتا ہے جو کہ دنیا بھر میں اموات کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ بہت زیادہ چکن کھانا غذائی کولیسٹرول کی سطح بڑھاتا ہے جس کے نتیجے میں امراض قلب کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ایک طبی تحقیق میں یہ انتباہ سامنے آیا ہے بہت زیادہ پروٹین کا استعمال درمیانی عمر کے افراد میں ہارٹ فیلیئر کا خطرہ 33 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ درمیانی عمر میں غذائی پروٹین جیسے دودھ، مرغی، مکھن اور پنیر وغیرہ سے ہارٹ فیلیئر کا خطرہ 49 فیصد بڑھا دیتے ہیں۔

صحت مند جسمانی وزن برقرار رکھنے میں مشکل

حیوانی پروٹین کا زیادہ استعمال صحت مند جسمانی وزن برقرار رکھنا بہت مشکل بنا دیتا ہے۔ چکن کا بہت زیادہ استعمال میٹابولزم کو سست کرتا ہے جس کے نتیجے میں جسمانی وزن میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔

فوڈ پوائزننگ

چکن کو پکانے کے لیے ہمیشہ زیادہ درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے، اگر وہ تھوڑا سا بھی کچا رہ جائے تو فوڈ پوائزننگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اسی طرح کچے چکن کو دیگر غذاﺅں سے الگ رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ نقصان سے بچا جاسکے۔ چکن کو ہاتھ لگانے پر ہاتھوں کو لازمی دھونا چاہئے۔

اتنا بھی صحت مند نہیں جتنا خیال کیا جاتا ہے

اگرچہ چکن صحت کے لیے فائدہ مند ہے مگر اسے پکانے کا طریقہ اس کے غذائی فوائد پر فائدہ مند ہوتا ہے۔ اگر چکن کو تیل یا گھی میں پکایا جاتا ہے یا بہت زیادہ مصالحے لگائے جاتے ہیں تو اتنا صحت بخش نہیں رہتا جتنا خیال کیا جاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

اس مشروب کا روزانہ استعمال توند سے نجات دلائے

ہلدی ایسا مصالحہ ہے جو لگ بھگ ہر گھر میں ہی استعمال کیا جاتا ہے اور ہر کھانے میں اس کی ایک چٹکی کی موجودگی لازمی ہوتی ہے۔

اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہلدی کو صحت اور جلد کے لیے کتنا فائدہ مند سمجھا جاتا ہے، جس کو اب مغربی دنیا کے لوگ بھی ماننے لگے ہیں۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ ہلدی سے آپ توند سے بھی بہت تیزی سے نجات پاسکتے ہیں؟

جی ہاں واقعی ہلدی کی چائے اس مقصد کے لیے فائدہ مند ہے، جس کا روزانہ استعمال اس مسئلے کو حل کرسکتا ہے۔

چربی کی سطح گھٹائے

ہلدی میں ایک بائیو ایکٹو کمپاﺅنڈ curcuminoids پایا جاتا ہے جو کہ متعدد ادویات میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ کمپاﺅنڈ چربی کے ٹشوز کی نشوونما کو کم کرکے چربی گھلانے میں مدد دیتا ہے۔ ہلدی کی چائے کا استعمال کرنے سے چربی بڑھانے والے خلیات کو بڑھنے سے روکا جاسکتا ہے۔

ورم کش

شدید جسمانی وزم متعدد امراض کا باعث بننے کے ساتھ موٹاپے کی بھی وجہ ہوتا ہے جبکہ یہ وزن کم کرنے کی کوشش کو بھی ناکام بناتا ہے۔ ہلدی ملی چائے کا استعمال ورم کو قابو میں لاتا ہے اور اس سے جسمانی وزن میں کمی میں مدد ملتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ورم کے نتیجے میں بھی موٹاپا بڑھتا ہے جس سے ذیابیطس ٹائپ ٹو، بلڈ پریشر اور امراض قلب وغیرہ کا خطرہ بڑھتا ہے۔

نظام ہاضمہ بہتر کرے

اگر ہاضمہ ٹھیک ہوگا تو میٹابولزم زیادہ موثر ثابت ہوگا، ہلدی کی چائے غذا کے ہضم ہونے کی صلاحیت کو بہتر کرنے کے ساتھ گیس، پیٹ پھولنے، معدے میں تکلیف سے نجات دلانے کے ساتھ آنتوں کی حرکت کو بھی بہتر بناتی ہے۔

حمل کے بعد وزن کم کرنے کے لیے بھی مددگار

دوران حمل خواتین کا وزن اکثر بڑھ جاتا ہے اور بچے کی پیدائش کے بعد ہلدی اس اضافی وزن سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

ہلدی چائے کیسے بنائیں؟

دو کپ دودھ، ایک چائے کا چمچ ہلدی، آدھاچائے کا چمچ دارچینی کا پاﺅڈر، چٹخی بھر کالی مرچ، ادرک کے چند چھوٹے ٹکڑے لیں اور ان تمام اجزاءکو بلینڈ کرلیں، اس کے بعد انہیں برتن میں ڈالیں اور 3 سے پانچ منٹ تک درمیانی آنچ میں گرم ہونے تک پکائیں، اس کے بعد پی لیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

ایک انجیکشن سے موٹاپے اور ذیابیطس کا علاج ہوگا ممکن؟

کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ صرف ایک انجیکشن سے موٹاپے اور ذیابیطس ٹائپ 2 جیسے عارضوں سے نجات پانا ممکن ہے؟

کم از کم اسپین میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں یہی دعویٰ سامنے آیا ہے۔

بارسلونا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ایک ہارمون FGF21 کو جسم کا حصہ بناکر جسمانی وزن میں کمی اور انسولین کی مزاحمت کے مسئلے پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

موٹاپے کے شکار چوہے پر اس طریقہ کار کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔

اس ہارمون کے استعمال نے جسمانی وزن میں کمی کرکے چوہوں کی جسمانی توانائی بڑھائی اور انہیں زیادہ متحرک کردیا۔

خیال رہے کہ موٹاپا ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بڑھانے والا عنصر ہے اور اس وقت دنیا بھر میں وبا کی طرح پھیل رہا ہے۔

اس تحقیق کے دوران چوہوں کو پہلے زیادہ چربی والی غذاﺅں کے ذریعے موٹا کیا گیا اور پھر اس ہارمون کو انجیکشن کے ذریعے جسم کا حصہ بنایا گیا۔

ایک سال تک اس کا تجربہ کرنے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ جن چوہوں میں یہ ہارمون انجیکٹ کیا گیا، ان کا جسمانی وزن معمول پر آگیا۔

اسی طرح انسولین کی مزاحمت کے شکار چوہوں میں اس مسئلے پر قابو پانے میں مدد ملی۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج کافی حوصلہ افزا ثابت ہوئے تاہم انسانوں پر اس کے استعمال سے پہلے جانوروں پر مزید تجربات کیے جانے کی ضرورت ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل EMBO مالیکیولر میڈیسین میں شائع ہوئے۔

 

Google Analytics Alternative