صحت

دماغ کو ہر عمر میں جوان رکھنے میں مدد دینے والی آسان عادات

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جسم چاہے جتنا بھی مضبوط ہو اگر دماغی طور پر کمزور ہو تو دنیا میں آگے بڑھنے یا روشن مستقبل کا تصور تک ممکن نہیں۔

حیران کن بات یہ ہے کہ لوگ جسمانی صحت پر تو توجہ دیتے ہیں مگر دماغی نشوونما کو نظرانداز کردیتے ہیں۔

درحقیقت دماغ ہمارے جسم کا ایسا حصہ ہے جس کو عمر بڑھنے سے آنے والی تنزلی سے تحفظ دینے میں کبھی تاخیر نہیں ہوتی بلکہ آپ کسی بھی عمر میں چند عادات یا چیزوں کو اپنا کر ذہنی طور پر جوان رہ سکتے ہیں۔

اگر آپ کو لگتا ہے کہ دماغ اتنا بوڑھا ہوچکا ہے کہ نئی چیزیں نہیں سیکھ سکتا بلکہ دماغٰ تنزلی سے بچنا ممکن نہیں تو جان لیں دماغی عصبی خلیات اس حصے میں مسلسل بنتے رہتے ہیں جو یادوں کے تجزیے کا کام کرتے ہیں اور یہ عمل 90 سال کی عمر کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔

کینیڈا کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ دماغ کو مضبوط بنانے والی عادات کو روزمرہ کا معمول بنانا بڑھاپے اور امراض کے خلاف زیادہ مزاحمت میں مدد دیتا ہے۔

ایسی ہی چند آسان سی عادات کے بارے میں جانیں جو دماغ کو جسمانی عمر میں اضافے کے باوجود بوڑھا نہیں ہونے دیتیں۔

متحرک ہونا

طبی جریدے جاما نیٹ ورک اوپن میں شائع ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ درمیانی عمر میں روزانہ 10 ہزار یا اس سے زائد قدم چلتے ہیں، ان کا دماغ ہم عمر ساتھیوں کے مقابلے میں اوسطاً 2.2 سال زیادہ جوان ہوتا ہے۔ مزید براں 2018 کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ عمر کے ساتھ فٹنس برقرار رکھنا درمیانی عمر یا بڑھاپے میں ڈپریشن سے بچانے میں بھی مدد دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جسمانی سرگرمیاں ورم کو کم کرکے ایسے کیمیکلز کے اخراج کے عمل کو متحرک کرتی ہیں جو دماغی خلیات اور دماغی شریانوں کی نشوونما کو حرکت مین لاتے ہیں۔ جسمانی سرگرمیاں ذہنی تناﺅ اور نیند کو بھی بہتر کرتی ہیں جس سے بھی دماغ کو صحت مند رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

سبز سبزیاں

طبی جریدے نیورولوجی میں شائع ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ روزانہ کم از کم ایک بار سبز سبزیاں کھاتے ہیں وہ ایسے افراد جو کبھی کبھار ان سبزیوں کو کھاتے ہیں، دماغی طور پر 11 سال زیادہ جوان ہوتے ہیں۔ محققین کا ماننا ہے کہ پالک اور ساگ وغیرہ میں موجود ایک جز لیوٹین اس کی وجہ ہوسکتا ہے۔ اس سے قبل ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ لیوٹین دماغ کے گرے میٹر کی شرح بڑھانے میں مدد دیتا ہے، گرے میٹر کا تعلق یاداشت سے ہوتا ہے، آپ جتنا زیادہ سبز سبزیوں کی شکل میں لیوٹٰن کو جزوبدن بنائیں گے، طویل المعیاد بنیادوں پر دماغ کو اتنا ہی فائدہ حاصل ہوگا۔

دماغی آزمائش کے کھیل

اخبارات میں آنے والے کراس ورڈ یا معمے، شطرنج یا کسی بھی قسم کا دماغ کو متحرک کرنے والا کھیل لوگوں کی دماغی عمر کو 8 سال تک کم کرسکتی ہے، درحقیقت ایسے افراد کی مسائل حل کرنے کی ذہنی صلاحیت اپنے سے ایک دہائی چھوٹے افراد کے برابر ہوسکتی ہے۔

بلڈ پریشر کو کنٹرول کریں

ہوسکتا ہے کہ آپ کو علم ہو کہ بلڈ پریشر بڑھنے کے نتیجے میں امراض قلب اور فالج کا خطرہ بھی بڑھتا ہے، مگر عمر کی چوتھی، 5 ویں یا چھٹی دہائی میں فشار خون کا شکار ہونا بعد کی زندگی میں ذہن کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔

نیند کی اہمیت کو سمجھیں

طبی ماہرین کے مطابق اگر آپ چاہتے ہیں کہ عمر کے ساتھ بھی دماغی کارکردگی برقرار رہے تو اچھی نیند کو ترجیح بنائیں۔ طبی تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا کہ اچھی اور گہری نیند ایسے ہارمونز کی نشوونما کے لیے ضروری ہے جو صحت مند دماغی عمل جیسے یاداشت اور ہوشیاری وغیرہ کو تنزلی سے بچاتے ہیں۔ ہمارا دماغ مختلف نقصان دہ اجزا جیسے امینو ایسڈ، بیٹا ایمیلوئیڈ کی صفائی کا کام نیند کے دوران کرتا ہے، اگر نیند کا معیار ناقص ہو تو اس کچرے کی صفائی نہیں ہوتی اور وہ جمع ہونے لگتا ہے۔ بیٹا ایمیلوئیڈ الزائمر کا باعث بننے والا اہم ترین عنصر ہے۔

جنک فوڈ سے گریز

اپنے پیٹ کو فاسٹ یا جنک فوڈ سے بھرنا دماغ میں مدافعتی خلیات کو متحرک کردیتا ہے، جس کے نتیجے میں کم درجے کے ورم کا سامنا ہوسکتا ہے جو الزائمر امراض کا ایک اہم سبب ثابت ہوتا ہے۔ 2015 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جنک یا پراسسیس غذاﺅں کا استعمال دماغی ٹشوز کا حجم گھٹاتا ہے اور ڈیمینشیا یا دماغی تنزلی کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر آپ زندگی بھر فاسٹ فوڈ ہی کھاتے رہے ہیں تو اب بھی صحت بخش غذا کو اپنالینا دماغی تنزلی کا خطرہ کم کرنے کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے۔

اچھے دوست بھی دماغ کے لیے فائدہ مند

ہارورڈ میڈیکل اسکول کے مطابق جذباتی سپورٹ دماغی کے ایسے مخصوص حصوں میں تحرک پیدا کرتی ہے جو ایسے مرکب یا مالیکیول بنانے میں مدد دیتے ہیں جو دماغی خلیات کی مرمت کے لیے انتہائی ضروری ہوتا ہے جبکہ وہ نئے کنکشن بھی بناتے ہیں۔ سماجی طور پر الگ تھلگ ہوجانے کے حوالے سے 2017 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اس کے نتیجے میں اس مرکب کی سطح میں کمی آتی ہے اور الزائمر امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔ محققین کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ سماجی روابط میں کمی آتی ہے تو یہ ضروری ہے کہ جو آپ کے دوست ہیں، ان کے ساتھ تعلق کو زیادہ مضبوط بنائیں۔

بیریز کو کھانا عادت بنائیں

اسٹرابیری، بلیو بیری، شہتوت یا کسی بھی قسم کی بیری دماغی صحت کے لیے بہترین ثابت ہوتی ہے، اس کی وجہ ان میں ایسے اینٹی آکسائیڈنٹس کی موجودگی ہے جو تکسیدی تناﺅ کے خلاف لڑتے ہیں۔ تکسیدی تناﺅ دماغ کو تحفظ دینے والے اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کی ایک قسم ڈی ایچ اے کی سطح میں کمی لاتا ہے۔ ہفتے میں چند بار کچھ مقدار میں بیریز کو کھانا ڈی ایچ اے کی سطح کو تحفظ فراہم کے دماغی افعال درست رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ آسان الفاظ میں ایک ہفتے میں 3 یا 4 بار اسٹرابیری کھا کر یاداشت کی کمزوری کا خطرہ ڈھائی سال تک کم کیا جاسکتا ہے۔

مراقبہ کرنا

ایک تحقیق میں 50 سال کی عمر میں مراقبہ کرنے والے افراد کا جائزہ لیا گیا تو دریافت ہوا کہ ایسے افراد کے دماغ اپنی عمر کے افراد کے مقابلے میں اوسطاً ساڑھے 7 سال جوان ہوتے ہیں۔ اس سے بھی اچھی بات یہ ہے کہ 50 سال کی عمر کے بعد ہر گزرتے سال کے ساتھ مراقبے کی عادت دماغی عمر میں ایک مہینہ 22 دن کی کمی لاتی ہے۔

مچھلی سے لطف اندوز ہوں

اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی قسم ڈی ایچ اے دماغی افعال کو معمول پر رکھنے اور موثر طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتی ہے، یہ فیٹی ایسڈز ہمارا جسم خود بنانے سے قاصر ہوتا ہے تو اسے غذا سے ہی حاصل کیا جاتا ہے۔ مچھلی کا گوشت خصوصاً زیادہ چربی والی مچھلیوں میں ڈی ایچ اے پایا جاتا ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہفتے میں ایک بار مچھلی کھانا سوچنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے اور یہ ان افراد کے لیے بھی فائدہ مند ہے جن میں الزائمر امراض کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

ذیابیطس سے بچیں

پری ڈائیبیٹس اور ذیابیطس کے شکار افراد کو طویل المعیاد یاداشت اور مسائل حل کرنے کی صلاحیتوں میں تنزلی کا سامنا ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق اگر مریض بلڈ شوگر لیول کو معمول پر رکھیں یا پری ڈائیبیٹس کے شکار افراد ذیایبطس کے شکار ہونے کے عمل کو سست کردیں تو ان کی دماغی صحت بھی زیادہ متاثر نہیں ہوتی۔

گریاں کھائیں

گریوں کو دماغی غذا سمجھا جاتا ہے خصوصاً اخروٹ میں صحت بخش اومیگا تھری فیٹی ایسڈ الفا لینولینک ایسڈ موجود ہوتے ہیں جو جسم میں جاکر اومیگا تھری ڈی ایچ اے کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ ڈی ایچ اے کی اہمیت کا ذکر اوپر ہوچکا ہے جو دماغی افعال کے تحفظ کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے۔ اخروٹ کھانا عادت بنانا تیزی سے فیصلہ کرنے، ذہنی لچک اور بہتر یاداشت میں بھی مدد دیتا ہے۔اگر اخروٹ پسند نہیں تو ایسے افراد جن کی عمریں 55 سال سے زائد ہے وہ روزانہ 10 گرام بادام یا مونگ پھیلی کھا کر ذہن کو تیز رکھ سکتے ہیں۔

تناﺅ میں کمی لائیں

ذہنی تناﺅ بذات خود تو کوئی مسئلہ نہیں بلکہ یہ اس پر ہے کہ ہمارا جسم اس پر کیسے ردعمل کا اظہار کرتا ہے۔ ایک حالیہ تحقیق میں دریافت کیا کہ جو پرتناﺅ حالات میں منفی انداز سے ردعمل ظاہر کرتے ہیں، ان کی ذہنی توجہ اور دماغی صحت زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ محققین نے دریافت کیا کہ ذہنی تناﺅ پر ضرورت سے زیادہ ردعمل ظاہر کرنے والے افراد ذہنی آزمائش کے امتحانات میں ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

کچھ نیا سیکھیں

2014 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 60 سال سے زائد عمر کے افراد کو ذہن مصروف رکھنے والے مشغلوں کو اپنالینا چاہیے جس سے یاداشت اور تجزیے کی رفتار میں بہتری آتی ہے۔ محققین کے خیال میں تخلیقی صلاحیت کو جلا دینے والے مشغلے دماغی دفاع کو مضبوط کرتے ہیں، ویسے ضروری نہیں کہ کچھ نیا سیکھنے کے لیے 60 سال کی عمر کا انتظار کیا جائے، ایک اور تحقیق کے مطابق کسی بھی عمر میں دماغی طور پر کچھ نیا سیکھنا ذہنی تحفظ کو بہتر کرتا ہے۔

کیا اکثر رات کو ٹانگوں میں تکلیف کا سامنا ہوتا ہے؟

اگر آپ کو کبھی رات کو نیند کے دوران پنڈلی، پیر یا ران میں شدید تکلیف کا احساس ہوا ہو تو جانتے ہوں گے کہ یہ کس قدر دردناک ہوتا ہے۔

طبی زبان میں اسے چارلی ہارس کہا جاتا ہے جس میں اکثر نیند کے دوران پنڈلی، ران یا پیر کے مسلز میں شدید درد ہوتا ہے جو کہ چند سیکنڈ سے لے کر کئی منٹ تک برقرار رہ سکتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق اگر یہ درد صرف 10 سیکنڈ بھی ہو تو ایسا محسوس ہوسکتا ہے جیسے 20 برس سے ہورہا ہو، ویسے یہ تکلیف بیداری کے دوران ورزش سے پہلے یا بعد میں بھی ہوسکتی ہے اور جسم کے دیگر حصوں میں بھی سامنے آسکتی ہے۔

تاہم یہ زیادہ تر رات کو ٹانگوں کے کسی حصے میں ہوتا ہے۔

اس کی وجہ کیا ہے؟

یہ تو مکمل طور پر واضح نہیں کہ اس کی وجوہات کیا ہیں مگر متعدد عناصر کی جانب اشارہ کیا جاتا ہے۔

برسوں سے ماہرین کا ماننا تھا کہ مسلز کی یہ اکڑن ڈی ہائیڈریشن اور الیکٹرولائٹس سے محرومی کا نتیجہ ہوتی ہے، تاہم تحقیقی رپورٹس میں عندیہ دیا گیا ہے کہ اس کی وجوہات اس سے زیادہ بھی ہوسکتی ہیں۔

ٹولیڈو میڈیکل سینٹر کے ماہر نبیل ابراہیم کے مطابق ایسا مانا جاتا ہے کہ مسلز کا یہ کھچاﺅ اعصاب کی باربار ہونے والی فائرنگ کا نتیجہ ہوتی ہے اور اس کا مسل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، اس کی سب سے عام وجہ مسلز پر بہت زیادہ تناﺅ یا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے۔

دیگر عناصر میں دیر تک بیٹھے رہنا، خون کی ناقص گردش، مخصوص ادویات، سست طرز زندگی اور ضرورت سے زیادہ سخت ورزش کرنا بھی ہے، حاملہ خواتین، ایتھلیٹس، بزرگ اور موٹاپے کے شکار افراد اس کے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔

رات کو کیوں ہوتا ہے؟

یہ بھی تاحال واضح نہیں کہ چارلی ہارس اکثر نیند کے دوران کیوں سامنا آتا ہے مگر ماہرین کے پاس اس حوالے سے کچھ خیالات ہیں۔

راسوچ فزیکل تھراپی کے ڈاکٹر جوناتھن میلٹزر کے مطابق دن کے اختتام پر بہت زیادہ بیٹھنے، مسلز کو رکھنے کا ناقص انداز یا ورزش کے نتیجے میں مسلز کی تھکاوٹ ان کی اکڑن کا باعث بن سکتی ہے۔

اس کے علاوہ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ نیند کے دوران جسم کی پوزیشن کیا تھی جو اکڑن کا باعث بن سکتی ہے۔ اگر آپ چت لیتےے ہیں اور پیر نیچے کے جانب لٹکے ہوتے ہیں تو طویل المعیاد بنیادوں پر پنڈلی کے مسلز اکڑن کی شکایت ہوسکتی ہے۔

بچنا کیسے ممکن ہے؟

ایسے چند طریقے ہیں جو اس کی روک تھام یا درد میں کمی لانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

اچھی عادات کو اپنانا جیسے اسٹریچنگ اور مسلز رولر اسٹک سے سخت مسلز کو ڈھیلا کیا جاسکتا ہے۔ مسلز کو پھیلانا ان کے افعال کو مناسب طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتا ہے، سونے سے پہلے پنڈلی اور پیروں کو اسٹریچ کرنا اس مسئلے سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

جسمانی طور پر متحرک رہنا بھی اس مسئلے کا شکار ہونے سے بچاتا ہے کیونکہ بہت زیادہ وقت بیٹھے رہنا یا کسی ایک جگہ کھڑے رہنا مسلز پر دباﺅ بڑھاتا ہے، گھر اور دفتر میں مسلسل جسمانی پوزیشن کو بدلنا اس تکلیف سے بچاسکتا ہے، جیسے ہر گھنٹے میں کرسی سے اٹھ کر کھڑے ہونا اور کچھ دیر چہل قدمی کرنا وغیرہ۔

اگرچہ ڈی ہائیڈریشن اور مسلز کی اکڑن کے حوالے سے تحقیقی نتائج ملے جلے ہیں مگر اس میں کوئی نقصان نہیں کہ مناسب مقدار میں پانی پینا عادت بنالیا جائے، طبی ماہرین کے مطابق ہم یقین سے تو نہیں کہہ سکتے کہ اس سے مسلز کی اکڑن کو کوئی فائدہ ہوگا یا نہیں، مگر یہ یقیناً نقصان دہ نہیں۔

سونے کی پوزیشن کو ایڈجسٹ کرنے سے بھی اس مسئلے سے بچا جاسکتا ہے۔

اگر رات کو تکلیف ہو تو کیسے ریلیف حاصل کریں؟

اگر آپ کو کبھی نیند میں اس تکلیف کا شکار ہوں تو پیروں کی انگلیاں جسم کی جانب موڑنا بھی کچھ ریلیف فراہم کرسکتا ہے۔

اگر مسلز میں سوجن کا سامنا ہو تو گرم کپڑا، مالش یا برف سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔

ایک شکرقندی کے اتنے فائدے جانتے ہیں؟

شکرقندی کو تو آپ نے دیکھا یا کھایا ہوگا مگر کیا جانتے ہیں کہ ایسی سبزی ہے جو دنیا بھر میں کھائی جاتی ہے اور اسے میٹھے آلو کا نام بھی دیا جاتا ہے۔

یہ متعدد رنگوں جیسے نارنجی، سفید اور جامنی وغیرہ میں دستیاب ہوتی ہے جبکہ حجم بھی الگ الگ ہوسکتا ہے مگر سب اقسام وٹامنز، منرلز، اینٹی آکسائیڈنٹس اور فائبر سے بھرپور ہوتی ہیں۔

یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ یہ صحت کے لیے بہت زیادہ فوائد کی حامل ہے اور غذا میں اس کی شمولیت آسانی سے ممکن ہوسکتی ہے۔

یہاں آپ اس کے چند فوsdfsائد جان سکیں گے۔

بہت زیادہ پرغذائیت

شکرقندی وٹامنز، فائبر اور منرلز سے بھرپور ہوتی ہے اور 200 گرام مقدار میں اسے کھانے سے جسم کو 180 کیلورز، 41.4 کاربوہائیڈریٹس، 4 گرام پروٹین، 0.3 چکنائی، 6.6 گرام فائبر، وٹامن اے، وٹامن سی، میگنیز، وٹامن بی سکس، پوٹاشیم، کاپر، پینٹوتھینک ایسڈ اور نیاسین ملتے ہیں۔

اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جسم میں گردش کرنے والے نقصان دہ اجزا سے تحفظ پہنچاتے ہیں۔

یہ نقصان دہ فری ریڈیکلز ڈی این اے کو نقصان پہنچانے کے علاوہ جسمانی ورم کا باعث بنتے ہیں اور ان کا تعلق کینسر، امراض قلب اور قبل از وقت بڑھاپے سے جوڑا جاتا ہے، تو شکرقندی جیسے اینٹی آکسائیڈنٹس والی غذاﺅں کا استعمال صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

معدے کی صحت بہتر بنائے

شکرقندی میں موجود فائبر اور اینٹی آکسائیڈنٹس معدے کی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں، اس میں 2 اقسام کی فائبر پائی جاتی ہے ایک حل پذیر اور دوسری حل نہ ہونے والی، ہمارا جسم دونوں اقسام کی فائبر ہضم نہیں کرپاتا، یہی وجہ ہے کہ فائبر غذائی نالی میں موجود رہ کر معدے سے متعلق متعدد طبی فوائد پہنچاتا ہے۔ حل پذیر فائبر کی مخصوص اقسام پانی کو جذب کرکے آنتوں میں فضلے کو نرم کرتا ہے۔ دونوں اقسام کی فائبر آنتوں میں موجود بیکٹریا کی مقدار بڑھاتی ہے، شارٹ چین فیٹی ایسڈز بنانے جو آنتوں کے خلیات کے ایندھن کا کام کرتے ہیں اور ان کو صحت مند اور مضبوط رکھتے ہیں۔

فائبر سے بھرپور غذائیں آنتوں کے کینسر کا خطرہ کم کرتی ہیں جبکہ قبض سے تحفظ فراہم کرتی ہیں، جبکہ شکرقندی میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس بھی معدے کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔

ممکنہ طور پر کینسر سے لڑنے میں مددگار

شکرقندی میں متعدد اقسام کے اینٹی آکسائیڈنٹس موجود ہوتے ہیں جو کہ ممکنہ طور پر مخصوص اقسام کے کینسر سے تحفظ فراہم کرسکتے ہیں۔

جامنی شکرقندی میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس کا ایک گروپ Anthocyanins کے بارے میں ٹیسٹ ٹیوب اسٹڈیز میں دریافت کیا گیا کہ یہ مخصوص اقسام کے کینسر جیسے مثانے، آنتوں، معدے اور بریسٹ کینسر وغیرہ کی نشوونما کو سست کردیتا ہے۔

دوسری جانب نارنجی رنگ کی شکرقندی جو پاکستان میں عام ملتی ہے کہ ایکسٹریکٹس اور چھلکوں میں بھی ٹیسٹ ٹیوب اسٹڈیز میں کینسر کش خصوصیات کو دریافت کیا گیا ہے ، تاہم ان تحقیقی نتائج کا اثر انسانوں پر دیکھنا ابھی باقی ہے۔

صحت مند بینائی کے لیے معاون

شکرقندی بیٹا کیروٹین سے بھرپور ہوتی ہے، یہ اینٹی آکسائیڈنٹ ہی سبزی کے شوخ نارنجی رنگ دیتی ہے۔ اس طرح کی چھلکوں کے ساتھ 200 گرام بھونی ہوئی قندی کو کھانا دن بھر کے لیے درکار بیٹا کیروٹین کی مقدار کا 7 گنا زیادہ جسم کو فراہم کرتی ہے۔ بیٹا کیروٹین جسم میں وٹامن ای کی شکل بدل لیتا ہے اور آنکھوں میں روشنی کو ڈیٹیکٹ کرنے والے ریسیپٹرز کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ وٹامن اے کی بہت زیادہ کمی ترقی پذیر ممالک میں ایک بڑا مسئلہ ہے اور اندھے پن کا باعث بن سکتی ہے۔ بیٹا کیروٹین سے بھرپور غذائیں جیسے نارنجی شکرقندی اس سے بچانے میں مدد دے سکتی ہے۔ جامنی شکرقندی بھی بینائی کے لیے فائدہ مند ہے، ٹیسٹ ٹیوب اسٹڈیز میں دریافت کیا گیا کہ اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس آنکھوں کے خلیات کو نقصان سے بچاتا ہے جو آنکھوں کی مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔

ممکنہ طور پر دماغی افعال کے لیے فائدہ مند

جامنی شکرقندی کا استعمال دماغی افعال کو ممکنہ طور پر بہتر بناسکتا ہے۔

جانوروں پر ہونے والی تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا کہ اس رنگ کی شکرقندی میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس دماغی ورم سے تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ فری ریڈیکلز سے ہونے والے نقصان سے بھی بچاتے ہیں۔

شکرقندی کے اینٹی آکسائیڈنٹس والے سپلیمنٹس کے استعمال سے چوہوں میں سیکھنے اور یاداشت کے افعال میں بہتری کو بھی ریکارڈ کیا گیا۔ ان اثرات کی تحقیق تاحال انسانوں پر نہیں ہوئی، مگر پھلوں، سبزیوں اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور غذا دماغی تنزل یاور ڈیمینشیا کا خطرہ 13 فیصد تک کم کردیتا ہے۔

جسمانی مدافعتی نظام مضبوط بنائے

شکرقندی بیٹا کیروٹین کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے، یہ ایسا نباتاتی مرکب ہے جو جسم میں وٹامن اے کی شکل اختیار کرتا ہے، یہ وٹامن بینائی کے ساتھ صحت مند مدافعتی نظام کے لیے ضروری ہوتا ہے اور اس کی کمی امراض کے خلاف جسمانی دفاع کو کمزور کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ معدے کی لائننگ کے لیے بھی فائدہ مند ہے، کیونکہ ہمارا معدہ متعدد امراض کا باعث بننے والے جرثوموں کا سب سے پہلے شکار ہوتا ہے اور صحت مند معدہ مضبوط مدافعتی نظام کا اہم حصہ ہے۔

تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا ہے کہ وٹامن اے کی کمی معدے کو ورم کو بڑھانے کے ساتھ جسمانی مدافعتی نظام کو ممکنہ خطرات پر ردعمل کی صلاحیت کو کم کرتے ہیں۔

اس حوالے سے کوئی سائنسی تحقیق تو نہیں ہوئی مگر اس کو کھانا عادت بنالینا وٹامن اے کی کمی کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

دنیا میں اس وقت 5 کروڑ افراد ڈیمنشیا کے شکار ہیں، ماہرین

کراچی  : دماغی صحت کے ماہرین نے کہا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں 5 کروڑ افراد ڈیمنشیا کے شکار ہیں جن کی تعداد 2050ء تک ڈیڑھ کروڑ تک جاپہنچے گی۔

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسِس کے ذیلی ادارے ڈاکٹر عبدالقدیر خان انسٹی ٹیوٹ آف بیہیورل سائنسِس کے زیرِ اہتمام عالمی یومِ دماغی صحت کے تحت ماہرین نے کہا کہ 70 سال سے زائد عمر کے 12 فیصد لوگ ڈیمینشیا میں میتلا ہوتے ہیں، دنیا میں ہر تین سیکنڈ میں ایک بزرگ ڈیمنشیا کا شکار ہورہا ہے اس کے مریض بہت حد تک دوسروں کے محتاج ہوجاتے ہیں۔

عالمی سطح پر ہونے والے مطالعے میں ظاہر ہوا ہے کہ بڑی عمر کو پہنچنے والے افراد میں سے دوتہائی میں ڈیمینشیا میں مبتلا ہونے کےخطرات موجود ہوسکتے ہیں۔

سیمینار سے معروف نیورو لوجسٹ ڈاکٹر بشیر احمد سومرو، ڈاکٹر حیدر نقوی، ڈاکٹر قرات العین، ایگزیکٹو ڈائریکٹر بریگیڈیر شعیب احمد اور دیگر نے خطاب کیا۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ الزائمر ڈیزیز انٹرنیشنل کے مطابق دنیا میں اس وقت لگ بھگ 5 کروڑ افراد ڈیمنشیا کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

ڈاکٹر بشیر احمد سومرو نے ڈیمنشیا اور الزائمر کی علامات تشخیص اور علاج کے موضوع پر اپنے خطاب میں کہا کہ ابتدائی طور پر ڈیمنشیا میں یادداشت میں درمیانے درجے کی تبدیلیاں ہوتی ہیں مگر یہ تبدیلیاں معمولات اور خود مختاری پر اثر انداز نہیں ہوتیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈیمنشیا کا سبب بننے  والے عوامل میں عمر، فیملی ہسٹری میں الزائمر یا پارکنسن کا ہونا، سر پر چوٹ، ڈپریشن، شوگر، ہائی بلڈ پریشر، ڈاؤن سنڈروم  و دیگر شامل ہیں۔ خواتین میں یہ مرض اس لیے بھی زیادہ ہوتا ہے کہ عموماَ ہمارے خواتین کی عمریں زیادہ ہوتی ہیں۔

انہو ں نے کہا کہ ڈیمنشیا میں مبتلا 60 سے 80 فیصد افراد الزائمر کا شکار ہوتے ہیں جبکہ پارکنسن میں مبتلا 30 فیصد افراد کے ڈیمنشیا سے متاثر ہونے کے خدشات ہوتے ہیں۔ انہوں نے ڈیمنشیا کے علاج اور احتیاط کے بارے میں تفصیل بیان کی اور کہا کہ ڈیمنشیا کے علاج کے لیے اس کی مختلف اقسام کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے، مریضں کی مکمل ہسٹری کے ساتھ رسک فیکٹر کو ختم کرکے ڈیمنشیا کو بڑھنے سے روکا جاسکتا ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سول اسپتال کے شعبہ نفسیات کے سربراہ پروفیسر حیدر نقوی نے کہا کہ ڈیمنشیا کی تشخیص کے میدان میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ڈیمنشیا کے متعلق آگہی پھیلانے کے لیے ایک ایسوسی ایشن بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ڈاکٹر قراۃ العین نے ڈیمنشیا کی تشخیص اور علاج کے سلسلے میں جدید معلومات سے شرکا کو آگاہ کیا۔ ماہرین نے کہا کہ 62 فیصد معالجین سمجھتے ہیں کہ بڑھتی عمر میں ڈیمنشیا ایک عام سی بات ہے جبکہ ڈیمنشیا کے مرض کو نظر انداز کردیتے ہیں حالانکہ اس پر توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

چند دن تک چہل قدمی کوترک کرنابھی صحت کیلئے نقصان دہ

کسی صحت مند شخص کو ناقص صحت کا حامل بننے کے لیے کتنا وقت درکار ہوسکتا ہے؟ یہ آپ کی توقعات سے بھی کم ہوسکتا ہے۔

درحقیقت محض 2 ہفتے تک سست طرز زندگی (زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا) کسی فٹ انسان کو جسمانی طور پر کمزور دینے کے لیے کافی ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

لیورپول اور نیوکیسل یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق میں بتایا گیا کہ 2 ہفتے تک جسمانی سرگرمیوں کو کم کردینا جیسے روزانہ 10 ہزار قدم سے ڈیڑھ ہزار قدم چلنے پر آجانا دل اور پھیپھڑوں کی صحت کو متاثر کرسکتا ہے، کمر اور پیٹ کا گھیراﺅ بڑھا سکتا ہے، جسمانی اور جگر کی چربی کا ذخیرہ بڑھا سکتا ہے اور انسولین کی مزاحمت بڑھ سکتی ہے۔

آسان الفاظ میں 2 ہفتے کا آرام ذیابیطس ٹائپ ٹو اور خون کی شریانوں سے جڑے امراض جیسے ہارٹ اٹیک یا فالج کے خطرات بڑھا سکتا ہے۔

مگر اچھی خبر یہ ہے کہ جسم کو ایک بار سرگرم کرکے اس نقصان کی تلافی کی جاسکتی ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ یہ بات اہم ہے کہ جب لوگ معمول کی جسمانی سرگرمیوں کی سطح پر واپس آتے ہیں تو صحت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات ریورس ہوجاتے ہیں۔

اس تحقیق کے لیے محققین نے 28 صحت مند اور جسمانی طور پر متحرک رہنے والے افراد کی خدمات حاصل کیں جن میں 18 خواتین بھی شامل تھیں اور ان کی اوسط عمر 32 سال تھی۔

یہ تمام افراد عام زندگی میں کافی متحرک تھے اور عموماً 10 ہزار قدم روزانہ چلنے کے عادی تھے، مگر محققین نے انہیں اپنی جسمانی سرگرمیوں کو نمایاں حد تک کم کرنے کی ہدایت کی اور روزانہ سو منٹ تک کمی لائے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ 2 ہفتے تک بیٹھے رہنے کی عادت کے نتیجے میں خون کی شریانوں کی فٹنس کی سطح میں 4 فیصد تک کمی آئی، کمر کا گھیراﺅ ایک انچ کے ایک تہائی حصے تک بڑھ گیا، جگر کی چربی 0.2 فیصد بڑھ گئی جبکہ مجموعی جسمانی چربی میں 0.5 فیصد اضافہ ہوا اور انسولین کی مزاحمت اور خون میں چربی کی سطح بھی کچھ بڑھ گئی۔

مگر معمول کی جسمانی سرگرمیاں بحال ہونے کے 14 دن بعد یہ تمام منفی اثرات ریورس ہوگئے اور مھققین کا کہنا تھا کہ جسمانی سرگرمیوں میں معمولی اضافہ بھی صحت کے لیے مثبت ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ نتائج اس لیے بھی حیران کن ہیں کیونکہ اس میں نوجوان اور صحت مند افراد کی جسمانی تبدیلیوں کو دیکھا گیا تھا اور محققین کے مطابق جو لوگ اتنے صحت مند نہ ہوں ان میں ان امراض کے خطرات کی سطح کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

دفتر میں اکثر سردرد کا شکار رہتے ہیں؟

اکثر افراد ڈیوڈرنٹ کا استعمال پسینے کی بو کو دبانے کے لیے کرتے ہیں مگر بظاہر عام سی عادت دفتر کے اندر ہوائی آلودگی بڑھانے کا باعث بن سکتی ہے۔

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

پیورڈیو یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ محض سانس لینا یا ڈیوڈرنٹ لگانا بھی دفتری ماحول پر آپ کے خیال سے زیادہ اثرانداز ہوسکتا ہے۔

اس مقصد کے لیے محققین کی ٹیم نے اپنی طرز کی منفرد تحقیق کو بڑے پیمانے پر کیا اور مختلف دفاتر میں ہزاروں سنسرز نصب کیے، جس کا مقصد ہر قسم کی اندرونی ہوائی آلودگی کی شناخت اور کنٹرول کرنے کے طریقوں کی تجویز دینا تھا۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ خوشبو دار محلول، میک اپ اور ہیئر اسپرے سے خارج ہونے والے کیمیکلز باہر کے مقابلے میں اندرونی فضا میں20 گنا زیادہ خارج ہوتے ہیں۔

یہاں تک کہ ایک مالٹا چھیلنے پر بھی ایسے اجزا خارج ہوتے ہیں جو پھیپھڑوں کے اندر دفن ہوسکتے ہیں بلکہ سانس لینے سے بھی ایسے ذرات کا اخراج ہوتا ہے جو ہوا میں طویل وقت تک موجود رہتے ہیں۔

سائسندانوں کے خیال میں اگر ہوا کی نکاسی کا مناسب انتظام نہ ہو تو دفتر کی یہ آلودہ ہوا تھکاوٹ، سردرد اور سانس کی گزرگاہوں میں خراش کا باعث بن سکتی ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ دفتر کی اندرونی فضا کتنی ناقص ہوتی ہے اور یہ صحت اور شخصیت پر منفی انداز سے اثرانداز ہوتی ہے کیونکہ یہ آلودگی تھکاوٹ، سردرد اور نظام تنفس میں خراش کا باعث بن سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تحقیق کے نتائج کا مقصد لوگوں کو بہتر فضائی معیار کے حوالے سے آگاہ کرنا ہے تاکہ ان کی تعمیری صلاحیت کو بہتر بنایا جاسکے۔

انہوں نے لکھا کہ تحقیقی رپورٹس سے عندیہ ملتا ہے کہ لوگ اور وینٹی لیشن سسٹم اندرونی ہوا کی کیمسٹری پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔

تحقیق کا کہنا تھا کہ ایک کمرے میں زیادہ افراد کی موجودگی کا مطلب ہے کہ مختلف مرکبات سانس کے ذریعے کمرے کی فضا میں خارج ہوتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج آئندہ ہفتے امریکن ایسوسی ایشن فار ایروسول ریسرچ کانفرنس کے دوران پیش کیے جائیں گے۔

صبح اٹھنے کے بعد کی جانے والی عام غلطیاں جو صحت متاثر کریں

صبح کا معمول آپ کے پورے دن کا تعین کرتا ہے اور چند معمولی غلطیاں بھی مختصر یا طویل المعیاد بنیادوں پر کافی بھاری ثابت ہوسکتی ہیں۔

مگر اچھی بات یہ ہے کہ چند چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں کو اپنا کر آپ اپنے صبح کے معمولات کو درست کرکے جسمانی وزن، توانائی اور تناﺅ وغیرہ بھی بہتر بناسکتے ہیں۔

ایسی ہی غلطیاں جانیں جو اکثر افراد صبح کرتے ہیں۔

اٹھنے کا ایک وقت نہ ہونا

کیا آپ کو لگتا ہے کہ بستر پر اضافی 15 منٹ پورے دن کے لیے جسمانی توانائی فراہم کرنے میں مدد دے سکتا ہے؟ ایسا بالکل نہیں، آپ کے جسم کو زیادہ آرام اس وقت ملتا ہے جب روزانہ ایک ہی وقت پر بستر پر سونے کے لیے لیٹے اور جاگنا عادت بنائی جائے۔

اندھیرا رکھنا

صبح کے وقت اکثر افراد کو کمرے میں روشنی پسند نہیں ہوتی اور پردے کے ذریعے اندھیرا رکھنا پسند کرتے ہیں، مگر ایسا مت کریں، دن کی روشنی جسم کو گھڑی طے کرنے میں مدد دیتی ہے، جس سے اچھی نیند میں مدد ملتی ہے جبکہ انفیکشن اور ورم سے لڑنا آسان ہوجاتا ہے۔ سورج کی روشنی سے جسم کو وٹامن ڈی بھی ملتا ہے، سوچنے میں شفافیت آتی ہے اور زندگی میں خوشی کا احساس بھی بڑھتا ہے۔

دیر تک سونا

کئی بار بہت دیر تک سونا بہت اچھا لگتا ہے خصوصاً جب آپ کے پاس وقت ہو اور رات کی نیند پوری نہ ہوئی ہو، مگر طویل المعیاد بنیادوں پر نیند کا معیار بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ سونے کے اوقات طے شدہ ہوں، یعنی ایک ہی وقت سونا اور جاگنا، چاہے رات گئے کو ہی سونا پڑا ہو۔

اٹھتے ہی بستر سے کھڑے ہوجانا

جب آپ لیٹے ہوتے ہیں اور پھر کھڑے ہوتے ہیں تو کشش ثقل خون کو ٹانگوں کی جانب بھیجتی ہے جس سے بلڈپریشر تیزی سے گرتا ہے اور کچھ دیر کے لیے سر چکرا سکتا ہے۔ تو آرام سے اٹھیں اور بستر کے کنارے کچھ دیر بیٹھ کر جسم کو تیار ہونے میں مدد دیں، اگر ماضی میں اکثر سر چکرانے کا سامنا ہوچکا ہے تو یہ ایک آسان سی احتیاط کسی سنگین چوٹ سے بچاسکتی ہے۔

ورزش سے دوری

ورزش کو معمول بنانا نیند، وزن، دل اور مزاج کے لیے مددگار ہوتا ہے، صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے ورزش کرنا اس حوالے سے زیادہ فائدہ مند ہوسکتا ہے، کیونکہ اس سے دن بھر کے لیے غذائی کیلوریز اور وزن کو کنٹرول میں رکھنا آسان ہوسکتا ہے۔

کیفین سے گریز

اگر آپ صبح اٹھتے ہی چائے یا کافی پینے کے عادی ہیں تو اس مشروب کو چھوڑنا ذہن میں دھندلے پن کا باعث بن سکتا ہے، سوچنے اور توجہ مرکوز کرنے میں مشکل کے ساتھ تھکاوٹ، شدید سردرد، دل متلانے او رفلو جیسی علامات کا بھی سامنا ہوسکتا ہے، اگر آپ صبح اٹھتے ہی کیفین کی عادت سے پیچھا چھڑانا چاہتے ہیں تو اس طرح کے اثرات سے بچنے کے لیے یہ کام بتدریج کریں۔

دانتوں کو بھول جانا

ہر رات دانتوں کی سطح پر پلاک جمنے لگتا ہے اور اگر صبح اٹھ کر برش نہیں کریں، تو وہ سخت ہوکر ٹارٹر کی شکل اختیار کرسکتا ہے جو پھر ڈینٹسٹ ہی نکال سکتے ہیں۔اگر پلاک اور ٹارٹر طویل عرصے سے ہوں تو اس سے مسوڑوں کی سوجن یا خون نکلنے جیسے مسال کا بھی سامنا ہوسکتا ہے، کیویٹیز، سانس میں بو اور دیگر امراض بھی سامنے آسکتے ہیں۔

چائے یا کافی پیتے ہی برش کرنا

کافی یا چائے میں ایسڈ ہوتا ہے اور کسی بھی ایسڈ غذا یا مشروب کے بعد برش کرنے سے گریز کرنا چاہیے، یہ ایسڈ دانتوں کی سطح کو کمزور کرتا ہے اور فوراً برش کی بجائے یا تو پہلے کرلیں یا پھر 30 سے 60 منٹ تک انتظار کریں۔

ڈیوائسز کا استعمال

اگر آپ مسلسل ڈیجیٹل ڈیوائسز، ای میل اور سوشل میڈیا چیک کرنے کے عادی ہیں تو اس سے ذہنی تناﺅ اور بے چینی کا سامنا ہوسکتا ہے، صبح اٹھتے ہی ای میل چیک کرنے پر کسی کام کا دباﺅ زیادہ بڑھ سکتا ہے، صبح اٹھنے کے بعد کچھ دیر تک ڈیوائسز سے دور رہیں۔

بغیر کسی منصوبہ بندی کے دن کا آغاز

اگر آپ دن کے آغاز میں پورے دن کی مصروفیات کے بارے میں سوچے بغیر حرکت میں آتے ہیں تو ہوسکتا ہے کہ مقصد کے حصول میں مشکل کا سامنا ہو، کام ہو، گھروالے یا طرز زندگی، یہ ضروری ہے کہ ان کے اہم پہلوﺅں کا تعین کریں اور روزانہ کے کاموں کا تعین کریں، ترجیحات بنا کر ایک فہرست تیار کریں اور دن کے آخر میں اپنی پیشرفت کا جائزہ لیں۔

روزمرہ کے مسائل میں گم ہوجانا

جب ایک بار روزمرہ کے مسائل سے نمٹنے کی منصوبہ بندی کرلیں تو اپنی زندگی کے اچھے لمحات پر شکرگزار ہوں، ایسے افراد زیادہ خوش، صحت مند اور اپنے تعلقات سے زیادہ مطمئن ہوتے ہیں۔

ناشتے سے منہ موڑ لینا

جو لوگ ناشتہ کرنے کے عادی ہوتے ہیں وہ زیادہ بہتر سوچتے ہیں اور جسمانی چربی کا کم سامنا ہوتا ہے ، خاص طور پر یہ عادت ذیابیطس ٹائپ ٹو اور امراض قلب کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے، ایسے افراد ورزش کو بھی معمول بناتے ہیں اور صحت بخش غذا کا استعمال کرتے ہیں، تو صحت بخش ناشتے سے لطف اندوز ہوں، یہ دن کے پرلطف آغاز کا آسان ترین طریقہ ہے۔

بہت زیادہ میٹھا

دن کا آغاز بہت زیادہ میٹھا کھا کر کرنے سے بلڈشوگر لیول تیزی سے اوپر نیچے ہوتا ہے جس سے تھکاوٹ، چڑچڑاہٹ اور بھوک زیادہ لگتی ہے، اس کے مقابلے میں انڈے میں موجود پروٹین اور پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس میں زیادہ فائبر اور غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں، دلیہ، اجناس، پھل وغیرہ ہضم ہونے میں زیادہ وقت لیتے ہیں، جس سے دن بھر کے لیے جسمانی توانائی برقرار رکھنا آسان ہوجاتا ہے۔

کسی بھی قسم کے میٹھے مشروبات ذیابیطس کا شکار بنانے کے لیے کافی

ذیابیطس ٹائپ 2 موجودہ عہد میں دنیا بھر میں وبا کی طرح پھیلنے والی ایسی بیماری ہے جو دیگر متعدد امراض کا خطرہ بھی بڑھا دیتی ہے۔

ایسا مانا جاتا ہے کہ بہت زیادہ میٹھا کھانا یا سافٹ ڈرنکس کا استعمال ذیابیطس کا شکار بناسکتا ہے مگر اب انکشاف ہوا ہے کہ درحقیقت ہر طرح کے میٹھے مشروبات بھی اس خاموش قاتل مرض کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ہارورڈ ٹی چی چن اسکول آف پبلک ہیلتھ کی تحقیق میں بتایا یگا کہ مصنوعی (چینی) یا قدرتی مٹھاس والے تمام مشروبات کا زیادہ استعمال ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بہت زیادہ بڑھا دیتے ہیں۔

آسان الفاظ میں چینی سے بنے مشروبات جیسے سافٹ ڈرنکس یا سو فیصد فروٹ جوسز وغیرہ سب ذیابیطس ٹائپ ٹو کا شکار بناسکتے ہیں۔

اسی طرح تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ مصنوعی مٹھاس یا سویٹنر والے مشروبات کا استعمال بھی ذیابیطس کا خطرہ کم نہیں کرتا تاہم ان میٹھے مشروبات کی جگہ پانی، کافی یا چائے کو دینا اس جان لیوا مرض سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔

یہ پہلی تحقیق ہے جس میں ان مشروبات کے استعمال اور ذیابیطس ٹائپ ٹو کے خطرے کے درمیان طویل المعیاد تعلق کا جائزہ لیا گیا اور اس کے نتائج جریدے جرنل ڈائیبیٹس کیئر میں شائع ہوئے۔

تحقیق کے دوران رضاکاروں کا 4 سال تک جائزہ لینے کے بعد نتیجہ نکالا گیا کہ روزانہ ایک سافٹ ڈرنک یا جوس کی جگہ پانی، کافی یا چائے (بغیر چینی کے) کو دینا ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا خطرہ 10 فیصد تک کم کردیتا ہے۔

اس کے مقابلے میں میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال اسی دورانیے میں ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ 16 فیصد تک بڑھا سکتا ہے۔

اس تحقیق میں ایک لاکھ 60 ہزار خواتین اور 35 ہزار مردوں کے غذائی ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا اور پھر ان سے 26 سال کے دوران ہر 4 سال بعد غذائی سروے بھروائے گئے تاکہ ان کی صحت اور طرز زندگی کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکے یا وہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار تو نہیں۔

محققین نے پھر ان کے مشروبات میں تبدیلی، وزن اور مجموعی صحت کو بھی مانیٹر کیا۔

محققین نے دریافت کیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ زیادہ میٹھے مشروبات پینے والے افراد میں جسمانی وزن میں اضافے اور ذیابیطس ٹائپ ٹو کا شکار ہونے کے امکانات بڑھ گئے۔

یہ نتائج زیادہ حیران کن نہیں کیونکہ یہ مشروبات جیسے سوڈا کیلوریز اور چینی سے بھرپور ہوتا ہے جو جسمانی وزن میں اضافے کا باعث بنتا ہے جسے ذیابیطس کے خطرے کا بنیادی عنصر سمجھا جاتا ہے۔

مگر اس تحقیق میں بتایا گیا کہ جسمانی وزن میں اضافے کو ہٹا کر بھی میٹھے مشروبات اور ذیابیطس ٹائپ ٹو کے درمیان براہ راست تعلق بھی موجود ہے ۔

تحقیق میں صرف 28 فیصد کیسز میں میٹھے مشروبات کے استعمال سے جسمانی وزن میں ضافے اور ذیابیطس کے خطرے کو ریکارڈ کیا گیا جس سے عندیہ ملتا ہے کہ دیگر عناصر بھی اس حوالے سے اہم کردار کرتے ہیں۔

محققین کے مطابق ایک وجہ ان مشروبات کے استعمال سے جگر میں چربی کا ذخیرہ ہوسکتا ہے جو انسولین کی سرگرمیوں کو متاثر کرسکتا ہے۔

مگر تحقیق میں فروٹ جوسز اور ڈائٹ مشروبات اور ذیابیطس کے درمیان تعلق زیادہ حیران کن ہے کیونکہ انہیں سافٹ ڈرنکس کے مقابلے میں صحت بخش متبادل سمجھا جاتا ہے۔

محققین نے دریافت کیا کہ سو فیصد فروٹ جوس پینا بھی ذیابیطس کا خطرہ بہت زیادہ بڑھا سکتا ہے حالانکہ یہ سوڈا کے مقابلے میں زیادہ غذائی اجزا سے بھرپور ہوتا ہے اور اس میں فائبر بھی موجود ہوتا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ڈائٹ مشروبات اور ذیابیطس کے درمیان تعلق کا مطلب یہ نہیں کہ یہ مشروبات میٹھے مشروبات جتنے نقصان دہ ہیں، کیونکہ کچھ افراد میں کسی قسم کا طبی عارضہ بھی اس کی وجہ ہوسکتا ہے، تو فروٹ جوسز کا استعمال اعتدال میں رہ کر کرنا ممکنہ طور پر نقصان دہ نہیں۔

اس نئی تحقیق سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کہ میٹھے مشروبات صحت کے لیے کتنے نقصان دہ ہیں جبکہ چائے یا کافی جیسے مشروبات صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔

Google Analytics Alternative