صحت

اے سی کے بغیر گرمی سے بچانے میں مددگار آسان ٹپس

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ گرم موسم کو برداشت کرنا کسی کے بس کی بات نہیں بلکہ اکثر راتوں کی نیند بھی آنکھوں سے روٹھ جاتی ہے۔

ہر وقت پسینے کا اخراج الگ پریشان کرتا ہے اور لوڈشیڈنگ اس مشکل کو مزید بڑھا دیتی ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ائیرکنڈیشنر کے بغیر گزارا ممکن نہیں۔

مگر اچھی بات یہ ہے کہ چند سادہ ٹپس کو اپنا کر آپ کسی حد تک گرمی کی شدت کو خود سے دور رکھ سکتے ہیں۔

درج ذیل میں ایسے ہی نسخے دیئے جارہے ہیں جن کو آزمانا شرط ہے فائدے کے قائل آپ خود ہی ہوجائیں گے۔

چادریںفریز کریں

اپنے بستر کو چادروں اور تکیوں کے غلاف سے ٹھنڈا کریں، انہیں پلاسٹک بیگز میں رکھ کر فریزر میں کچھ گھنٹوں کے لیے رکھ دیں۔ اس کے بعد سونے سے کچھ دیر پہلے ہی بستر پر رکھ دیں اور پھر اے سی جیسے ماحول میں میٹھی نیند کا مزہ لیں۔

ایلو ویرا جیل کے آئس کیوب

اگر سورج کی تپش سے جلد جل گئی ہے تو ایلو ویرا جیل کی ایک بوتل لیں اور اس سے آئس کیوب ٹرے کو بھر دیں، جب وہ جم جائے تو اسے جل جانے والی جلد پر استعمال کریں جبکہ اس سے گرمی کا اثر بھی کم کیا جاسکتا ہے۔

اسفنج کو منجمد کردیں

ایک نئے اسفنج کو پانی میں ڈبوئیں اور کسی تھیلے میں ڈال کر اسے بند کریں اور پھر فریزر میں رکھ دیں، جب گرمی حد سے زیادہ محسوس ہو تو اس کو نکالیں اور اپنی پیشانی یا کلائی پر پھیرلیں، آپ بہت جلد گرمی سے ریلیف محسوس کرنے لگیں گے۔

گیلی جرابیں

جب رات کو گرمی سے نیند نہ آرہی ہو تو ایک تولیہ اپنے بستر کے پیروں کی جانب والے سرہانے پر لٹکا دیں اور جرابوں کو ٹھنڈے پانی میں بھگو کر پہن لیں، اس کے بعد پنکھے کا رخ اپنے پیروں کی جانب کریں اور دیر تک جسم میں دوڑنے والی ٹھنڈی لہر کے لیے تیار ہوجائیں۔

زیادہ پانی

جسم میں معمولی ڈی ہائیڈریشن بھی جسم کی درجہ حرارت کو ریگولیٹ کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرسکتی ہے۔ ایک امریکی تحقیق کے مطابق اگر جسم ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہو تو پیشاب کی رنگت زرد یا شفاف پیلے رنگ کی ہوجاتی ہے، مناسب مقدار میں پانی پینا جسم کو زیادہ درجہ حرارت سے بچاتا ہے۔

گال اور ایڑیاں ٹھنڈے کریں

گال اور ایڑیاں ایسی شریانوں سے بھری ہوتی ہیں جو ٹھنڈک سے زیادہ متاثر نہیں ہوتی، برف کی تھوڑی مقدار یا ٹھنڈے کپڑے کو ان حصوں پر رکھ کر 5 منٹ میں جسمانی درجہ حرارت کو 50 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے، ایسا گردن اور بغلوں پر کرنا بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔

پانی کی بوتلیں فریز کرلیں

پانی کی کچھ بوتلیں فریز کریں اور انہیں کسی فرشی یا ڈیسک فین کے سامنے رکھ دیں اور پھر آپ اس عارضی ائیرکنڈیشنر سے خارج ہونے والی ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہوسکیں گے۔ کچھ ماہرین کے مطابق پانی میں نمک کو ڈال کر فریز کرنا گرمی کو دیر تک شکست کرنے کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے۔

پودینے کی چائے

پودینے کی چائے کو تیار کریں اور پھر فریج میں رکھ دیں، ایک بار جب وہ صحیح معنوں میں ٹھنڈی ہوجائے ، اس کو نوش کریں اور اگر دل کرے تو کسی اسپرے بوتل میں ڈال کر اپنے اوپر چھڑکاﺅ کریں۔ یہ پانی سے زیادہ بہتر ہوگا کیونکہ چائے میں پودینے کے باعث شامل ہوجانے والا مینتھول آپ کی جلد کو ٹھنڈک اور جھنجھناہٹ کا احساس پیدا کرتا ہے۔

اپنا دیسی ‘اے سی’ بنائیں

آپ اس گرم موسم کو ایک گھریلو ساختہ اے سی صرف 5 منٹ میں تیار کرکے شکست دے سکتے ہیں جس کے لیے زیادہ چیزیں بھی درکار نہیں بس ایک برقی پنکھا، ایک بڑا ڈبہ جس میں 25 لیٹر تک پانی آسکے، پولیسٹرین لائنر، پی وی سی پائپ اور برف۔

سب سے پہلے تو ڈبے کے ڈھکن پر آری سے پنکھے کے منہ جتنا سوراخ کریں اور اس کے بعد ڈبے کے درمیان 3 مکمل گول سوراخ کریں، 3 سوراخ کرنے کے بعد ڈبے کے اندر پولیسٹرین لائنررکھ دیں اور پھر ان سوراخوں میں سے آری کی مدد سے ایک پھر لائنرز میں سوراخ کریں۔

پھر ان سوراخوں میں 3 پائپ کے ٹکڑے لگادیں، پھر ایک چھوٹا سا برقی پنکھا لیں اور اسے ڈھکن میں کیے گئے سوراخ پر رکھ دیں اور ڈبے کو منجمد پانی سے بھردیں۔اب کچھ کاغذی جھالریں پائپس کے ٹکڑوں پر ٹیپ کی مدد سے چپکا لیں تاکہ پنکھے کی ہوا کا اندازہ لگایا جاسکے۔

اب اس پنکھے کو کسی 15 واٹ کے شمسی پینل سے لگالیں اور 5 گھنٹے تک گھریلو ساختہ اے سی کی ٹھنڈی ہوا کا لطف لیں۔

پیٹ پھولنے اور گیس کے مسئلے سے نجات کے لیے بہترین ٹوٹکا

بہت زیادہ یا بہت تیزی سے کھانے کے نتیجے میں پیٹ پھول جاتا ہے یا یوں کہہ لیں اندر سے سوج جاتا ہے جس کے نتیجے میں کافی تکلیف کا سامنا ہوتا ہے۔

ویسے یہ جان لیں کہ ہر وقت پیٹ سپاٹ رکھنا نارمل نہیں ہوتا کیونکہ کھانے یا پینے کے بعد غذائیں اور سیال مواد معدے اور آنتوں میں جگہ بناتا ہے، یعنی وہ کچھ پھول جاتے ہیں۔

ویسے تو پیٹ کا بہت زیادہ پھولنا ضروری نہیں، اس بات کی علامت ہو کہ آپ نے کچھ غلط کھالیا ہے تاہم یہ اتنا پھول جائے کہ کپڑے تنگ محسوس ہونے لگے تو اس کی وجہ آپ کی غذا ہی ہوسکتی ہے۔

درحقیقت نظام ہاضمہ کے پاس یہ ایسا ذریعہ ہے جو بتاتا ہے کچھ گڑبڑ ہے، جب ایسا ہوتا ہے تو آپ کو قبض، گیس یا درد کی شکایت ہوسکتی ہے۔

جب ایسا ہو تو کیا کرنا چاہئے؟ کیا ایک یا 2 درد کش گولیاں کھا کر دن گزرنے کا انتظار کریں یا کچھ گھریلو ٹوٹکوں کو آزمائیں جو موثر بھی ثابت ہوسکتے ہیں؟

اگر آپ کو اس مسئلے کا سامنا ہے تو گھریلو ٹوٹکوں سے مسئلہ پوری طرح تو حل نہیں ہوتا مگر کافی ریلیف ضرور مل جاتا ہے۔

آپ کے کچن میں ہی ایک چیز ایسی موجود ہوگی جس کا استعمال آسان ہونے کے ساتھ فوری اثر کرتا ہے اور اس کے ساتھ بس ایک کپ پانی کی ہی ضرورت ہوتی ہے۔

ویسے تو بہترین حل یہ ہے کہ کھانا آرام سے کھائیں اور نوالے کو اچھی طرح چبائیں۔

جی ہاں بس سونف اور پانی پیٹ پھولنے اور گیس کے مسئلے سے نجات دلانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

اس مشروب کو بنانے کے لیے آدھا یا ایک چائے چمچ سونف، ایک کپ پانی اور شہد (اگر دل کرے تو) درکار ہوگا۔

اسے بنانے کے لیے سونف کو پیس لیں اور پھر اس سفوف کو ایک گپ گرم پانی میں شامل کرکے 5 سے 10 منٹ کے لیے چھوڑ دیں، اس کے بعد چمچ سے مکس کریں اور حسب ذائقہ شہد شامل کردیں۔

اس مشروب کا روزانہ استعمال کریں، اگر مشروب پسند نہیں تو آدھا چائے کا چمچ سونف روزانہ کھانا بھی اس مسئلے سے نجات میں مدد دے سکتا ہے۔

سونف نظام ہاضمہ کے لیے بہت موثر ہوتی ہے جس میں موجود اجزا جراثیم کش خصوصیات رکھتے ہیں جو گیس اور پیٹ پھولنے کے مسئلے سے نجات دلانے کے لیے اسے مفید بناتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

چائے کے یہ فوائد جانتے ہیں؟

پاکستان میں چائے کی مقبولیت سے انکار ممکن نہیں اور یہ گرم مشروب دنیا کے بیشتر حصوں میں بھی پسند کیا جاتا ہے۔

مختلف تحقیقی رپورٹس میں چائے نوشی کی عادات کے فوائد کا ذکر ہوا ہے جیسے قبل از وقت دماغی تنزلی سے تحفظ، مخصوص اقسام کے کینسر، فالج، امراض قلب اور ذیابیطس کے خطرے میں کمی وغیرہ۔

درحقیقت چائے میں موجود کیفین مزاج کو خوشگوار بنانے کے ساتھ جسم کو توانائی فراہم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

کیفین اعصابی نظام اور دماغی مسلز کو متحرک کرتا ہے اور روزانہ محض ایک کپ چائے پینے کے فوائد جان کر آپ دنگ رہ جائیں گے۔

گلے کی خراش کے خلاف موثر

چائے کی پیالی میں چٹکی بھر نمک کا اضافہ کریں اور گلے کی خراش پر قابو پانے کے لیے اس کا جادو دیکھیں، اگر آپ کھانسی، گلے میں درد یا خراش وغیرہ سے متاثر ہیں، تو نمک سوجن کو کم کرنے کے ساتھ انفیکشن کے باعث بننے والے بیکٹریا کا خاتمہ کرنے میں مدد دے گا۔

قبض دور کرے

ایک کپ گرم چائے میں ایک چائے کے چمچ مکھن کو شامل کردیں، گرم چائے کے ساتھ مکھن کا استعمال نظام ہاضمہ کو سیال فراہم کرتا ہے جبکہ آنتوں کے افعال کو بہتر بناتا ہے، مکھن معدے میں تیزابیت کو بھی کم کرتا ہے جس سے سینے میں جلن کی شکایت کم ہوتی ہے جبکہ کھانا ہضم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

نزلہ زکام پر قابو پائیں

چائے بنانے کے بعد اس میں تلسی کے 5 سے 6 پتوں کا اضافہ کرنا نزلہ زکام دور کرنے میں مدد دے سکتا ہے، یہ پتے ورم کش ہونے کے ساتھ اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں جو فلو اور موسمی نزلہ زکام کی روک تھام میں موثر ثابت ہوتے ہیں۔

پیٹ میں درد دور کرے

اگر اکثر پیٹ میں درد رہتا ہے تو آدھا چائے کا چمچ سونف کو چائے میں شامل کرلیں، سونف نظام ہاضمہ کے لیے بہت فائدہ مند ہے اور چائے میں اس کا استعمال پیٹ میں درد کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے۔

بلڈ پریشر کنٹرول کرے

کیلیفورنیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ چائے میں شامل اجزا بلڈ پریشر کو کم کرنے کے ساتھ دوران خون کے افعال کو بہتر بناتے ہیں، جس سے امراض قلب اور فالج کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔تحقیق کے مطابق چائے کے ساتھ آپ کو فلورائیڈ اور دیگر اجزا بھی ملتے ہیں جو دوران خون پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں اور اس کے مضر اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں خاص طور پر اگر آپ باہر کی بجائے گھر کی چائے کو ترجیح دیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

ہائی بلڈ شوگر کی نشاندہی کرنے والی 9 علامات

جب آپ ہائی بلڈ شوگر کے بارے میں سنتے ہیں تو زیادہ امکان یہی ہے کہ ذہن میں ایسے افراد کا خیال آئے جن میں ذیابیطس کی تشخیص ہوچکی ہو اور انسولین یا علاج کی ضرورت ہو تاکہ مزید پیچیدگیوں سے بچ سکیں۔

مگر بلڈ شوگر لیول ایسے افراد کا بھی بڑھ سکتا ہے جو ذیابیطس کے شکار نہ ہوں اور اگر وہ علاج نہ کرائیں تو اعصاب، گردے، آنکھوں کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ امراض قلب کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔

خون میں شکر کی مقدار اس وقت بڑھنے لگتی ہے جب جسم انسولین کو استعمال کرنے سے قاصر ہوجاتا ہے جو غذا کو جسمانی توانائی میں بدلنے کا کام کرنے والا ہارمون ہے۔

تاہم ہائی بلڈ شوگر کی چند علامات یا نشانیاں سامنے آتی ہیں جنھیں دیکھ کر کسی ڈاکٹر سے رجوع کرکے اس کی روک تھام کے لیے مدد طلب کی جاسکتی ہے۔

اگر آپ کو درج ذیل علامات نظر آئیں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرکے بلڈ شوگر کا ٹیسٹ کروالیں۔

خشک منہ

جب گردے خون میں موجود گلوکوز کو فلٹر نہیں کرپاتے تو جسم پانی کی کمی کا شکار ہوجاتا ہے ، شروع میں تو یہ پیاس زیادہ تکلیف کا باعث نہیں بنتی مگر وقت گزرنے کے ساتھ پانی کی کمی جسم کو نقصان پہنچانے لگتی ہے اور دیگر امراض جیسے بلڈ شوگر کو بڑھانے کا باعث بن جاتی ہے، اس دوران منہ ہر وقت خشک محسوس ہوتا ہے اور پانی پینے کے کچھ دیر بعد ہی وہ پھر خشک ہوجاتا ہے۔

زیادہ پیشاب آنا

اگرچہ سننے میں غیرمنطقی لگے، یعنی پیاس بڑھنے کے ساتھ زیادہ پیشاب آنا، مگر یہ ہائی بلڈ شوگر کی نشانی ہے، ایسا اس وقت ہوتا ہے جب جسم اضافی سیال کو گردوں کی جانب بھیجتا ہے جس کے نتیجے میں اسے خون کو فلٹر کرنے میں زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے اور زیادہ پیشاب آتا ہے۔ چونکہ پیاس زیادہ لگنے پر پانی بھی زیادہ پیا جائے گا تو شروع میں اس کا خیال رکھنا مشکل ہوسکتا ہے تاہم ایسا مستقل ہونے لگے تو یہ ہائی بلڈ شوگر کی واضح نشانی ہے۔

دماغی دھند

جیسے گاڑیوں کو ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح جسم کو بھی ٹھیک طرح کام کے لیے گلوکوز کی شکل میں ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے جو جسم کو طاقت دیتا ہے، جب مناسب مقدار میں انسولین نہیں بنے گی تو جسم بھی کمزوری کا شکار ہوگا، ایسا ہونے پر اکثر تھکاوٹ اور توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

ہر چیز دھندلی نظر آنا

جب بلڈ شوگر لیول بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے تو آنکھوں کا لینس بھی سوچ جاتا ہے جس سے بینائی دھندلاہٹ کا شکار ہوجاتی ہے، بلڈ شوگر کو نیچے لاکر بینائی کو معمول پر لایا جاسکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ذیابیطس کے شکار افراد کو اکثر آنکھوں کا معائنہ کرانے کا مشورہ دیا جاتا ہے کیونکہ بہت زیادہ بلڈ شوگرآنکھوں کو مستقل نقصان یا بینائی کے خاتمے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

خراشیں دیر تک موجود رہنا

ہائی بلڈ شوگر جسم کے قدرتی زخم مندمل کرنے کے عمل کو بھی سست کردیتا ہے، جب بلڈ شوگر اوپر ہوتا ہے تو شریانیں اکڑ جاتی ہیں جس سے وہ سکڑنے پر مجبور ہوکر جسم میں دوران خون کی سپلائی کم کردیتی ہیں، اس کے نتیجے میں جسم زخموں کو جلد بھرنے سے قاصر رہتا ہے۔

کپڑے ڈھیلے ہوجانا

اگرچہ یہ مثبت محسوس ہوتا ہے مگر ہائی بلڈ شوگر میں جسمانی وزن میں کمی بہت زیادہ غیر صحت مند ہوتا ہے، کیونکہ ایسا ہونے پر جسم گلوکوز کو توانائی کے لیے استعمال کرنے کی بجائے چربی گھلانے لگتا ہے۔ اگر غذا یا ورزش میں کسی تبدیلی کے بغیر وزن میں کمی ہونے لگے تو یہ ہائی بلڈ شوگر کی بڑی علامت ہوسکتی ہے۔

دوپہر کو نیند

ہائی بلڈ شوگرجسم میں گلوکوز کو ضائع کرنے کا باعث بنتی ہے جس کے نتیجے میں جسمانی طاقت میں کمی آتی ہے اور تھکاوٹ محسوس ہوسکتی ہے، ایسا اس وقت بدترین ہوجاتا ہے جب رات کو کئی بار پیشاب کرنے کے لیے اٹھنا پڑے، جبکہ دن میں اکثر نیند آنے لگتی ہے۔

ہر وقت تھکاوٹ

ویسے تو ہائی بلڈ شوگر کی اصطلاح سے لگتا ہے کہ جسمانی توانائی بڑھ گئی ہے مگر حقیقت میں ایسا ہونے پر جسم تھکاوٹ کا شکار اور سست ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جسمانی خلیات گلوکوز یا شکر کو توانائی کے حصول کے لیے استعمال نہیں کرپاتے، جس کے نتیجے میں وقت کے ساتھ متاثرہ فرد ہر وقت تھکاوٹ محسوس کرنے لگتا ہے۔

شدید سردرد

بلڈ شوگر لیول بڑھنے پر ایسے ہارمونز متاثر ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے جو دماغی افعال کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں، تو متاثرہ فرد کو اکثر سردرد کا تجربہ ہوسکتا ہے۔

مچھروں کو آپ کی جانب کھینچنے والے 10 عناصر

کیا آپ کو ایسا لگتا ہے کہ ہر جگہ مچھر دیگر افراد کو چھوڑ کر خاص طور پر آپ کو ہی کاٹتے ہیں ؟

تو اس کی وجہ ہوسکتا ہے آپ کے اندر ہی چھپی ہو۔

جی ہاں عام طور پر مچھر اپنے شکار (آپ) کا انتخاب کچھ عناصر کی بناپر کرتے ہیں اور طبی سائنس نے ان میں سے کچھ کو دریافت کیا ہے جو درج ذیل ہیں۔

اگر آپ بیمار ہیں

مچھر صحت مند کے مقابلے میں بیمار افراد کی جانب زیادہ متوجہ ہوتے ہیں کیونکہ بیماری کے دوران جسمانی درجہ حرارت عموماً بڑھ جاتا ہے جبکہ جسم زیادہ مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ بھی خارج کرنے لگتا ہے۔

گہرے رنگ کا لباس

اگر آپ کی خواہش ہے کہ مچھر آپ سے دور رہیں تو ہلکے رنگ کے کپڑوں کا انتخاب کریں، گہرے رنگ کا لباس سورج سے زیادہ حرارت جذب کرتا ہے جس کے تنیجے میں مچھر بھی آپ کی جانب زیادہ کشش محسوس کرتے ہیں۔

کپڑوں میں بو

پسینے کے اخراج کے دوران جسم مختلف اقسام کے کمپاﺅنڈ خارج کرتا ہے، جلد پر موجود بیکٹریا ان کمپاﺅنڈ کے ٹکڑے کرکے ایک بو بناتے ہیں جو مچھروں کو کشش کرتی ہے۔ تو صاف کپڑوں کا استعمال مچھروں کو دور رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

بدبو دار پیر

کیا آپ نے کبھی سوچا کہ مچھر پیروں میں ہی زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟ اس کی وجہ وہاں قدرتی طور پر موجود بیکٹریا کی موجودگی ہے، یہ بیکٹریا جلد میں ایک مخصوص بو کا باعث بنتا ہے جو کہ مچھروں کو اپنی جانب زیادہ کھینچتی ہے۔

خون کا گروپ

جرنل آف میڈیکل اینٹومولوجی میں شائع ایک تحقیق کے مطابق بلڈ گروپ O مچھروں کو دیگر بلڈ گروپس کے مقابلے میں زیادہ اپنی جانب کھینچتا ہے۔

حمل

ایک تحقیق کے مطابق حاملہ خواتین کا جسمانی درجہ حرارت زیادہ ہوتا ہے اور اس وجہ سے وہ مچھروں کے لیے پرکشش ہوجاتی ہیں، خاص طور پر ملیریا کا مچھر ان کو زیادہ کاٹتا ہے۔

الکحل

ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ الکحل کے استعمال کرنے والے افراد کو مچھر اپنے شکار کے لیے زیادہ پسند کرتے ہیں۔

بو

کچھ افراد کے جسم مچھروں کو اپنی جانب کھینچنے والی بو پیدا کرتے ہیں اور بھی یہ واضح نہیں کہ ایسا کیسے ہوتا ہے تاہم ایک تحقیق کے مطابق جسمانی بو بھی مچھروں کو اپنی جانب کھینچنے والے عناصر میں سے ایک ہے۔

جلد میں چھپے بیکٹریا

جلد میں رہنے والے بیکٹریا جسمانی بو کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق جن افراد کی جلد میں زیادہ مختلف اقسام کے بیکٹریا موجود ہو وہ مچھروں کے حملوں سے کافی حد تک محفوظ رہتے ہیں۔

ورزش

جب آپ ورزش کرتے ہیں تو جسم میں lactic acidپیدا ہوتا ہے جو کہ مچھروں کو اپنی جانب کھینچنے والا عنصر ہوتا ہے جس کی تصدیق کچھ طبی تحقیقی رپورٹس میں کی جاچکی ہے۔

خیال رہے کہ دنیا بھر میں مچھروں کی 3 ہزار سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں جن میں سے کچھ جان لیوا امراض جیسے ملیریا، زرد بخار، ڈینگی وغیرہ کو انسانوں میں منتقل کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ہر سال سات لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔

اس عام سبزی کا جوس امراض قلب سے بچانے میں مددگار

ٹماٹر ایسی سبزی (یا پھل) ہے جس کا استعمال پاکستان کے ہر گھر میں ہوتا ہے اور کوئی بھی پکوان اس کے بغیر ادھورا محسوس ہوتا ہے۔

یہ کھانوں کو رنگت اور ذائقہ ہی فراہم نہیں کرتا بلکہ متعدد غذائی اجزا سے بھرپور بھی ہوتا ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس کا جوس آپ کو کس خطرناک مرض سے بچاسکتا ہے؟

جی ہاں ٹماٹر کا جوس پینے کی عادت منہ کا ذائقہ بدلنے کے ساتھ امراض قلب سے بچانے میں بھی مدد دیتا ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

طبی جریدے جرنل آف فوڈ سائنس اینڈ نیوٹریشن میں شائع تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ بغیر نمک کے ٹماٹر کے جوس پینے کی عادت دل کی صحت کو بہتر بنانے کے ساتھ امراض قلب کا خطرہ کم کرتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ٹماٹر کا جوس بالغ افراد میں بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح میں کمی لاتا ہے جس سے امراض قلب کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

جاپان کی ٹوکیو میڈیکل اینڈ ڈینٹل یونیورسٹی کی اس تحقیق میں 500 رضاکاروں کا جائزہ لیا گیا اور معلوم ہوا کہ ٹماٹر کے جوس کا استعمال بلڈپریشر کی سطح کم کرتا ہے جبکہ نقصان دہ کولیسٹرول کا لیول بھی کم ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس جوس کا اثر مردوں اور خواتین دونوں کو ہوتا ہے اور تمام عمر کے افراد اس سے مستفید ہوسکتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ ٹماٹر کے جوس میں فائبر اور ایک مرکب نیاسن موجود ہوتا ہے جو نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح کم کرتا ہے۔

اس کے علاوہ ٹماٹر کا جوس اینٹی آکسائیڈنٹ بیٹا کیروٹین اور لائیکوپین بھی ہوتا ہے جو خون کی شریانوں کے مسائل سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔

شانگلہ: 20 برس میں پہلا پولیو کیس سامنے آگیا

مالاکنڈ ڈویژن کے ضلع شانگلہ میں گذشتہ 2 دہائی میں پہلی مرتبہ پولیو کا کیس سامنے آیا ہے۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ دریائے سندھ سے متصل دیدل کمچ نامی علاقے میں 18 ماہ کا بچہ پولیو کے مرض کا شکار ہوا۔

انسداد پولیو ٹیم (ای پی آئی) کے ضلعی رابطہ کار ڈاکٹر واجد خان نے بتایا کہ پہلے مقامی افراد نے پولیو کیس کے بارے میں بتایا اور بعد ازاں ای پی آئی کی ٹیم نے اس کی تصدیق کی۔

انہوں نے بتایا کہ مذکورہ علاقہ ضلع بونیر اور تورغر سے متصل ہے جو ضلع شانگلہ کی سرحد پر واقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ بچے کا نام علی شیر ہے اور یہ گذشتہ 20 برسوں میں پہلا پولیو کا کیس ہے۔

ضلعی ہیلتھ افسر ڈاکٹر محمد ریاض خان نے ڈان کو بتایا کہ متاثرہ بچے کو پولیو مہم کے دوران قطرے نہیں پلائے گئے اور اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ٹیم تشکیل دی جاچکی ہے۔

علاوہ ازیں مقامی یونین کونسل میں جرگہ بلایا گیا جس میں علاقے کی اہم شخصیات اور پولیس نے بھی شرکت کی۔

جرگے سے خطاب کرتے ہوئے اہم شخصیات نے کہا کہ علاقے میں پولیو ٹیم کو رکاوٹ کا سامنا نہیں ہے ہر شخص اپنے بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلانے پر آمادہ ہے۔

سماجی رکن عبید اللہ خان نے بتایا کہ علاقہ مکینوں نے ہمیشہ ای پی آئی کے عملے کے ساتھ انسداد پولیو مہم میں تعاون کیا۔

قدرتی خوبصورتی سے مالا مال مقامات پر وقت گزارنے کے حیران کن فوائد

قدرتی خوبصورتی سے مالا مال مقامات کو دیکھنے اور وہاں کچھ لمحات گزارنے کی خواہش نہ رکھنے والے افراد اس دنیا میں بہت کم ہوتے ہیں۔

تاہم جو لوگ قدرتی خوبصورتی سے بھرپور مقامات پر نہ جانے کی خواہش رکھتے ہیں دراصل وہ اپنی زندگی اور صحت کے ساتھ غلط کر رہے ہیں۔

نفسیاتی اور ماہرین صحت کی جانب سے ہمیشہ لوگوں کو اچھی صحت کے لیے جہاں ورزش اور اچھی خوراک کا مشورہ دیا جاتا ہے، وہیں ان کی جانب سے لوگوں کو سیر و سیاحت اور کچھ وقت سمندر کنارے، باغیچوں، پہاڑوں کے دامن اور گھنے جنگلات میں وقت گزارنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

قدرتی خوبصورتی سے مالا مال مقامات کے علاوہ ہرے بھرے مقامات، جیسے پارکس اور باغیچوں سمیت دیگر تفریحی مقامات پر وقت گزارنے کو صحت کے لیے اچھا سمجھا جاتا ہے۔

اور اب ایک حالیہ تحقیق سے بھی یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ قدرتی خوبصورتی سے مالا مال مقامات پر وقت گزارنے کے صحت اور زندگی پر حیران کن فوائد ہوتے ہیں۔

سر سبز مقامات پر جانا بھی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے،ماہرین—فوٹو: شٹر اسٹاک
سر سبز مقامات پر جانا بھی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے،ماہرین—فوٹو: شٹر اسٹاک

برطانوی ریاست انگلینڈ میں ماہرین کی جانب سے کی جانے والی حالیہ تحقیق کے مطابق جو افراد ہفتے میں صرف 2 گھنٹے قدرتی خوبصورتی سے مالا مال اور تفریحی مقامات پر وقت گزارتے ہیں ان کی جسمانی اور ذہنی صحت دوسروں کے مقابلے بہتر ہوتی ہے۔

حکومت انگلینڈ کے تعاون سے کی جانے والی اس تحقیق کے دوران ماہرین نے 20 ہزار افراد کے مسلسل انٹرویوز کیے اور ان سے قدرتی خوبصورتی سے مالا مال یا تفریحی مقامات پر وقت گزارنے کے بعد جسمانی اور ذہنی صحت سے متعلق سوالات کیے۔

پارکس، ساحل سمندر، باغیچوں، ہرے بھرے مقامات اور جنگلات میں وقت گزارنے والے افراد انٹرویو کے دوران زندگی سے مطمئن نظر آئے اور ان کے مطابق وہ خود کو پرسکون، تندرست اور فریش محسوس کر رہے ہیں۔

ماہرین نے ان افراد کے انٹرویوز بھی کیے جنہوں نے ایک ہفتے میں قدرتی خوبصورتی سے مالا مال اور تفریحی مقامات کا دورہ نہیں کیا۔

خوبصورت مقام پر جاکر فطرت کی نعمتوں کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے، ماہرین—فوٹو: شٹر اسٹاک
خوبصورت مقام پر جاکر فطرت کی نعمتوں کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے، ماہرین—فوٹو: شٹر اسٹاک

تفریحی مقامات، پارکس، ساحل سمندر اور ہرے بھرے مقامات کا دورہ نہ کرنے والے افراد زندگی سے غیر مطمئن نظر آئے، ساتھ ہی انہوں نے ذہنی الجھن اور پریشانیوں کا ذکر بھی کیا۔

ماہرین نے لوگوں کے انٹرویوز کے بعد نتیجہ اخذ کیا کہ جو لوگ ہفتے میں 120 منٹ یعنی محض 2 گھنٹے قدرتی خوبصورتی سے مالا مال مقامات پر گزارتے ہیں وہ نہ صرف زندگی سے مطمئن ہوتے ہیں بلکہ ان کی ذہنی و جسمانی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ قدرتی خوبصورتی سے مالا مال مقامات میں شہروں کے پارکس، ساحل سمندر، باغیچے، سر سبز مقامات، پہاڑے علاقے اور ہرے بھرے مقامات بھی شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص یومیہ ان مقامات پر نہیں جا سکتا تو کم سے کم ہفتے میں 2 گھنٹے نکال کر ان مقامات پر وقت گزارے اور قدرت کی نعمتوں سے فائدہ اٹھائے۔

قدرتی خوبصورتی سے مالا مال مقام پر وقت گزارنے والے افراد زندگی سے مطمئن دکھائی دیتے ہیں، ماہرین—فوٹو: شٹر اسٹاک
قدرتی خوبصورتی سے مالا مال مقام پر وقت گزارنے والے افراد زندگی سے مطمئن دکھائی دیتے ہیں، ماہرین—فوٹو: شٹر اسٹا
Google Analytics Alternative