صحت

ہر صبح اس چائے کا استعمال موٹاپے سے نجات دلائے

کیا آپ بڑھتے جسمانی وزن سے پریشان ہیں اور تیزی سے اس سے نجات چاہتے ہیں ؟ تو جان لیں کہ یہ کوئی آسان کام نہیں۔

جسمانی وزن میں کمی اور اسے دوبارہ بڑھنے سے روکنے کے لیے متوازن غذا اور جسمانی سرگرمیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایسی غذائیں جو میٹابولزم کو متحرک کریں جیسے پھل، سزیاں اور دیگر، ان میں سے ہی ایک ادرک بھی ہے۔

ادرک ایسی جڑی بوٹی ہے ہاضمے کے لیے انتہائی مفید سمجھی جاتی ہے اور جسمانی مدافعتی نظام بھی مضبوط کرتی ہے اور اس کے متعدد فوائد ایک کپ گرم ادرک کی چائے سے حاصل کرنا ممکن ہے۔

اور یہ جان کر حیران ہوں گے کہ ایک کپ گرم ادرک کی چائے روزانہ توند کی چربی گھلانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔

ادرک کی چائے توند کیسے کم کرتی ہے؟

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ ادرک نظام ہاضمہ کے لیے بہترین ہے جس کا استعمال غذائی نالی میں خوراک کے سفر کو تیز کرتا ہے، گیس، پیٹ پھولنے اور اکڑن کی شکایت کم کرتا ہے۔

صحت مند نظام ہاضمہ جسمانی وزن میں کمی کے لیے انتہائی ضروری ہوتا ہے اور اگر آپ جزو بدن بنائی جانے والی غذا مناسب طریقے سے خارج نہیں کرتے تو میٹابولزم متاثر ہوتا ہے جس سے جسمانی وزن سے نجات مشکل ترین ہوجاتا ہے۔

ادرک کی چائے میں کیلوریز بہت کم ہوتی ہیں جو کہ اسے میٹھے مشروبات کا بہترین متبادل بناتا ہے۔

اس چائے کو گھر میں بنانے کا طریقہ درج ذیل ہیں۔

ایک چائے کا چمچ ادرک، باریک ٹکڑوں میں کاٹ لیں

ایک چائے کا چمچ پتی (ایک کپ چائے کے لیے)

تین کپ پانی

ایک چائے کا چمچ شہد

بنانے کا طریقہ

ایک برتن لیں اور اس میں پانی انڈیل دیں۔

اس کے بعد ادرک کے ٹکڑوں کا اضافہ کریں اور پانی ابلنے دیں۔

جب پانی ابلنے لگے تو چائے کی پتی اور شہد کا اضافہ کردیں۔

تین سے چار منٹ تک چائے کو ابلنے دیں اور اس کا اثر بڑھانے کے لیے چٹکی بھر لیموں کے عرق کا اضافہ کردیں۔

ادرک کی چائے تیار ہے، صبح اسے پینا میٹابولزم کو تیزی سے حرکت میں لانے میں مدد دیتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

تلی ہوئی مچھلی کھانے کے شوقین افراد یہ ضرور جان لیں

پاکستان میں لوگ تلی ہوئی مچھلی بہت شوق سے کھاتے ہیں مگر یہ عادت جلد موت کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

یہ دعویٰ ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔

برٹش میڈیکل جرنل میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ ڈیپ فرائی پکوان خصوصاً مچھلی اور چکن زیادہ کھانا قبل از وقت موت کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ تلی ہوئی اشیاء جیسے مچھلی یا چکن وغیرہ کھانے سے کسی بھی سبب موت کا خطرہ 8 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

اس تحقیق میں فرائی چکن اور مچھلی اور قبل از وقت موت کے درمیان مضبوط تعلق دریافت کیا گیا جس کی وجہ محققین کے خیال میں انہیں ڈیپ فرائی کرنا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ روزانہ فرائیڈ چکن کا ایک ٹکڑا کھانا ہی کسی بھی سبب موت کا خطرہ 13 فیصد جبکہ دل کے امراض سے موت کا خطرہ 12 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔

اسی طرح روزانہ تلی ہوئی مچھلی کھانے سے یہ خطرہ بالترتیب 7 اور 13 تک بڑھ جاتا ہے۔

محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ ان غذاﺅں کا کم استعمال بھی یہ خطرہ بڑھانے کے لیے کافی ہے۔

اس تحقیق کے دوران 50 سے 79 سال کی ایک لاکھ سے زائد خواتین کی غذائی عادات کا جائزہ 18 سال تک لیا گیا۔

اس دورانیے میں 31 ہزار سے زائد خواتین کا انتقال ہوگیا جن میں سے 9 ہزار سے زائد دل کے امراض، 8 ہزار سے زائد کینسر اور 13 ہزار کی اموات دیگر وجوہات کے باعث ہوئیں۔

امریکا کی آئیووا یونیورسٹی کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ اکثر تلی ہوئی غذا کھانا خون کی شریانوں سے جڑے امراض سمیت دیگر سے موت کا خطرہ بہت زیادہ بڑھا دیتا ہے۔

انسانی فضلے کی منتقلی سے امراضِ معدہ کا علاج ممکن

لندن: سائنسدانوں کا خیال ہے کہ صحتمند انسانوں کے معدے اور انتڑیوں میں پائے جانے والے ان گنت اقسام کے بیکٹیریا ہی معدے کو درست رکھتے ہیں اور جن لوگوں میں یہ ترتیب بگڑی ہوئی  ہوتی ہے ان میں معدے اور ہاضمے کی کئی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔

اب بیمار انسانوں میں صحت مند انسانوں کے بیکٹیریا منتقل کرنے کا سب سے بہتر طریقہ یہی ہے کہ وہ اپنا فضلہ عطیہ کریں جس سے صحتمند جرثومے نکال کر بیمار لوگوں میں منتقل کئے جائیں اور اس ضمن میں رضاکاروں نے اپنا فضلہ عطیہ کرنا شروع کردیا ہے۔

بعض ماہرین نے سبزی کھانے والوں کے فضلے کو ’سپر پوپ‘ قرار دیا ہے کیونکہ اس میں تمام اقسام کے مفید بیکٹیریا اچھی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ یونیورسٹی آف آکلینڈ کے پروفیسر جسٹن او سلی ون کہتے ہیں کہ ہمارے پیٹ اور آنتوں میں کروڑوں اقسام کے بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں اور ہر شخص کے جرثومے دوسرے سے مختلف ہوسکتے ہیں۔ تاہم بعض افراد کے فضلے میں بہترین اقسام کے صحتمند بیکٹیریا ہوتے ہیں اور یوں انہیں طب کی اس قدرے نئی شاخ میں آزمایا جاسکتا ہے۔

اس ضمن میں مغربی ممالک میں فضلہ بینک اور ڈپارٹمنٹ قائم کئے جارہے ہیں ۔ ایکسپریس نیوز میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق معدے کے بیکٹیریا کا تناسب الزائمر، دمہ اور دیگر ایسے امراض کی وجہ بھی ہوسکتا ہے جس کے متعلق ہمیں اس سے قبل کوئی علم نہ تھا۔

ماہرین کے مطابق فضلے میں امراض کے جراثیم بھی ہوتے ہیں لیکن ماہرین ان سے صرفِ نظر کرتے ہوئے صرف مفید بکٹیریا پر ہی توجہ مرکوز رکھتےہیں۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس سے کسی کا علاج ہوا ہے تو اس کا جواب ’ہاں‘ میں ہے۔ ماہرین اب تک ایک صحتمند فضلے سے بیکٹیریا لے کر بار بار ڈائریا انفیکشن کے مریضوں کا کامیاب علاج کرچکے ہیں۔ لیکن اس سے قبل پورے فضلے کو فالتو ڈی این اے ، وائرس اور دیگر آلودگیوں سے پاک کیا جاتا ہے۔ مثلاًاگر ایک بیکٹیریا Clostridium difficile کی بڑی مقدار غلطی سے پہلے سے بیمار شخص کے معدے اور آنتوں میں پہنچادی جائیں تو مریض مزید بیمار ہوجائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہےکہ آنتوں اور معدوں کی بیماری میں مفید بیکٹیریا ہمیشہ کے لیے ختم ہوجاتے ہیں اور فضلے سے ان کی منتقلی کے بعد مریض کے اندر ان کی مناسب مقدار کو بڑھایا جاسکتا ہے۔

جگر کے جان لیوا مرض کا شکار کردینے والی عام عادت

جگر انسان جسم کے ان حصوں میں سے ایک ہے جن کو عام طور پر اس وقت تک سنجیدہ نہیں لیا جاتا جب تک وہ مسائل کا باعث نہیں بننے لگتے اور کچھ لوگوں کے لیے بہت تاخیر ہوجاتی ہے۔

جگر کا درست طریقے سے کام کرنا متعدد وجوہات کے باعث اچھی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے تاہم اس کی بڑی اہمیت یہ ہے کہ ہم جو کچھ بھی کھاتے ہیں اسے ہضم کرنے کے لیے جگر کی ضرورت ہوتی ہے۔

تو اس میں کسی بھی قسم کی خرابی یا بیماری کی صورت میں جو علامات سامنے آتی ہیں وہ بھی اکثر افراد نظر انداز کردیتے ہیں۔

مگر ایک عام عادت آپ کو جگر کے امراض کا شکار بنا سکتی ہے، اور وہ ہے میٹھی اشیاءخصوصاً مشروبات کا زیادہ استعمال۔

طبی جریدے دی جرنل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ میٹھے مشروبات اور غذاﺅں کا بہت زیادہ استعمال جگر پر چربی بڑھانے کا باعث بنتا ہے جس کے نتیجے میں امراض قلب، ذیابیطس ٹائپ ٹو، جگر کے کینسر یا خراشوں جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔

ایموری یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ بدقسمتی سے لوگ غذائی عادات پر زیادہ توجہ مرکوز نہیں کرتے ، جس کے نتیجے میں جگر کے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ سافٹ ڈرنکس، فروٹ جوسز اور چینی سے بنی غذاﺅں کا کم استعمال کرکے لوگ جگر پر چربی چڑھنے کے مرض کا خطرہ نمایاں حد تک کم کرسکتے ہیں یا اگر اس کے شکار ہیں تو چربی اور ورم کو کافی حد تک کم کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا صحت مند طرز زندگی کی مدد سے بچوں اور بڑوں میں موٹاپے کی وبا سے جگر پر چربی چڑھنے کی شرح کو نمایاں حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

عام طورپر فیٹی لیور کی علامات بہت زیادہ نمایاں نہیں ہوتیں اور اس کے شکار بیشتر افراد کو اس کا اندازہ بھی نہیں ہوتا۔

اس تحقیق کے دوران محققین نے 40 ایسے بچوں کا جائزہ لیا جو کہ جگر پر چربی چڑھنے کے مرض کا شکار تھے۔

ان بچوں کو 2 مختلف غذائی پلان دیئے گئے ہیں اور 8 ہفتے تک ان پر عملدرآمد کی ہدایت کی گئی۔

ایک گروپ کو میٹھے کا استعمال محدود جبکہ دوسرے گروپ کو معمول کی غذا جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ میٹھی اشیاءکا استعمال محدود کرنے والے گروپ کے جگر کی صحت میں مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئی اور جگر پر چربی اوسطاً 31 فیصد تک کم ہوگئی، جبکہ دوسرے گروپ میں کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔

اس سے قبل امریکا کے فنکشنل میڈیکل انسٹیٹوٹ کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ پانی کم پینا بھی جگر کے امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق جسم میں پانی کی کمی براہ راست جگر کی جسم کے نقصان دہ اجزاءکو فلٹر کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ جب انسان پانی کا کم استعمال کرتے ہیں تو جگر ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہونے لگتا ہے اور ان اجزاءکو کھونے لگتا ہے جو جسم کے باقی حصوں کی نگہداشت کا کام کرتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق ایسا ہونے کی صورت میں جگر کے مہلک امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور لوگوں کو اکثر ان کا علم کافی دیر سے ہوتا ہے۔

محققین نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مناسب مقدار میں پانی کے استعمال کو ہر صورت میں یقینی بنائیں چاہے موسم سرد ہی کیوں نہ ہو۔

اس عام سفید پاؤڈر کے یہ حیرت انگیز طریقہ استعمال جانتے ہیں؟

کھانے کا سوڈا یا بیکنگ سوڈا گھروں میں عام استعمال ہوتا ہے اور اکثر کھانوں وغیرہ کی تیاری کے لیے ہی اسے استعمال کیا جاتا ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ سفید پاﺅڈر جیسی چیز صحت بہتر بنانے اور گھر کی صفائی جیسے کاموں کے لیے بھی استعمال کی جاسکتی ہے؟

بہت کم لوگوں کو ہی معلوم ہے کہ یہ بظاہر معمولی چیز آپ کے ہزاروں روپے بچانے میں مددگار ہوسکتی ہے اور اس کا ایسے طریقوں سے استعمال کیا جاسکتا ہے جو آپ کو دنگ کرکے رکھ دیں گے۔

دانتوں کو جگمگائے

چٹکی بھر بیکنگ سوڈا ٹوتھ برش پر چھڑکیں اور اس پر چند قطرے لموں کا عرق ٹپکا دیں اور برش کرلیں۔ واضح رہیں کہ اس طریقہ کار کو ہفتے میں ایک بار سے زیادہ استعمال نہ کریں۔

ہونٹوں کے اندر زخم کو آرام پہنچائے

یہ تصور کرنا ہی مشکل ہے کہ منہ کے اندر ایک چھوٹا سا زخم یا چھالا کتنی تکلیف کا باعث بنتا ہے۔ اس تکلیف سے فوری نجات کے لیے ایک کپ گرم پانی میں ایک چائے کا چمچ بیکنگ سوڈا چمچ سے اچھی طرح مکس کرلیں اور پھر ہر دو گھنٹے بعد اس محلول سے کلیاں کریں۔

ہاتھوں سے بدبو دور بھگائے

مچھلی یا کسی ایسے ہی چیز کو کاٹنے کے بعد اکثر ہاتھوں میں بو بس جاتی ہے جو عام صابن سے ہاتھ دھونے سے جاتی نہیں۔ اگر آپ اس کو دور بھگانا چاہتے ہیں تو ہاتھوں کوگیلا کرکے ان پر بیکنگ سوڈے کو رگڑے اور پھر گرم پانی سے دھو لیں۔ آپ کے ہاتھوں سے بو دور ہوجائے گی اور اس کی جگہ ایک میٹھی مہک آنے لگے گی۔

بارش کے دوران بچوں کے کھیل کا سامان

تیز بارش کے دوران اگر بچے بیزار ہو رہے ہو تو دو کپ بینگ سوڈا ، ایک کپ میدہ اور ڈیڑھ کپ پانی شامل کرکے اس وقت تک ابالیں جب تک وہ محلول گاڑھا نہ ہوجائے۔ پھر اسے ٹھنڈا کرکے اپنی مرضی سے اس سے مختلف چیزیں جیسے انسانی شکلیں، کپ، برتن کچھ بھی بنائیں۔ یہ سرگرمی بچوں کے اندر ایک نیا جوش دوڑا دے گی۔

بوسیدہ کتابوں کا تحفظ

اگر تو آپ کی کوئی پرانی کتاب بوسیدہ ہوچکی ہے اور اس کے صفحات جھڑنے لگے ہیں تو اس بیکنگ پاﺅڈر کی معمولی مقدار کو اس کے صفحات کے درمیان چھڑکیں اور پھر اس کتاب کو ایک کاغذی تھیلے میں ڈال دیں جبکہ اس کے باہر مزید سوڈا چھڑک دیں۔ کچھ دن تک انتطار کریں اور پھر کتاب کو باہر نکال کر اس میں موجود سوڈے کو نکال دیں اور پھر کتاب کو کچھ دیر کے لیے سورج کی تیز روشنی میں رکھیں۔اس سے بوسیدگی ختم تو نہیں ہوگی تاہم خشک جگہ پر اسے رکھیں گے تو یہ مزید تباہی سے ضرور بچ جائے گی۔

دھوپ کی جلن سے بچاﺅ

بیکنگ پاﺅڈر کا ایک کپ نیم گرم پانی سے بھری بالٹی میں ڈال دیں اور پھر اس سے نہالیں۔ اس سے آپ کو فوری طور پر دھوپ کی تپش سے ہونے والی جلن یا تکلیف کم کرنے میں مدد ملے گی۔

نومولود بچے کے سر کی جلد کی پرت ہٹانا

ننھے فرشتوں کے سر کی جلد اکثر پرت کی شکل میں جھڑنے لگتی ہے جو کہ نقصان دہ تو نہیں ہوتی اور جلد ہی یہ مسئلہ بھی خودبخود ختم ہوجاتا ہے تاہم کچھ والدین کے لیے یہ نظارہ قابل برداشت نہیں ہوتا تو اس کے لیے اہنی ہتھلی پر دو چائے کے چمچ بیکنگ سوڈا اور ایک چائے کا چمچ پانی ڈال کر مکس کرلیں اور پھر بچے کے متاثرہ حصے پر نرمی سے رگڑے، اس بات کا خیال رکھیں کہ یہ محلول آنکھوں کے پاس نہ جائے، پھر خشک کپڑے سے وہ جگہ صاف کردے اور دو سے تین دن اس عمل کو دہرائے، جس دوران صابن یا بے بی شیمپو کا استعمال نہ کریں، یہ مسئلہ کافی حد تک حل ہوجائے گا۔

بلیک ہیڈ سے نجات

اگر چہرے پر بلیک ہیڈ سے پریشان ہیں تو بیکنگ سوڈا کی کچھ مقدار کو لیموں کے تازہ عرق میں مکس کریں، اس کے بعد اسے ان جگہوں پر لگادیں جو بلیک ہیڈ سے متاثر ہوں اور اس وقت تک انتظار کریں جب تک وہ اکڑ نہیں جاتا، جس کے بعد دھولیں اور پھر موئسچرائزر لگائیں۔

کپڑوں کی دھلائی

کپڑے دھونے کے لیے بھی اس سفید پاﺅڈر کا استعمال کیا جاسکتا ہے، اس کے لیے پانی میں بیکنگ سوڈا کا اضافہ کریں اور رات بھر کے لیے کپڑوں کو ان میں بھگودیں، اس کے بعد اگلے دن معمول کے مطابق کپڑوں کو دھولیں، کپڑوں میں ہر قسم کی بساند دور ہوجائے گی بلکہ ان میں سے اچھی خوشبو آنے لگے گی۔

گھریلو پیڈی کیور

اگر آپ گھر میں اپنے پیڈی کیور کے خواہشمند ہیں تو کچھ مقدار میں بیکنگ سوڈا پانی میں ملائیں اور پیروں کو اس میں بھگو دیں، بیکنگ سوڈا پیروں کے مختلف مسائل دور کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔

مائیکرو ویو کو چمکائیں

کیا آپ کے مائیکرو ویو کی دیواروں پر سالن سے لے کر کافی دیگر مواد چپک گیا ہے؟ اگر ہاں تو ایک کپ پانی اور کچھ چائے کے چمچ بیکنگ سوڈا کسی گلاس میں مکس کرلیں، پھر اس گلاس کو تین منٹ تک مائیکروویو کریں اور پھر اسفنج کو استعمال کرتے ہوئے تمام گندگی کو کچھ منٹوں میں صاف کرکے اپنی مشین کو چمکا دیں۔

وال پیپرز کو نئی زندگی دینا

دیواروں پر لگے اپنے پسندید وال پیپر ہر چکنائی کو دیکھ کر پریشان مت ہو، ان داغ دھبوں کو نرمی سے بیکنگ سوڈا اور اسفنج استعمال کرتے ہوئے رگڑیں اور پھر دھو کر کپڑے سے خشک کرلیں، وال پیپر میں ایک نئی جان پڑ جائے گی۔

پیٹ کی تکلیف سے نجات

بیکنگ سوڈا کا محتاط استعمال مخصوص غذاﺅں کو زیادہ کھانے کے قابل بنا دیتا ہے، ایک چٹکی سوڈا کافی، اورنج جوس یا ٹماٹر کے سوپ میں شامل کرنے سے انہیں پینے یا کھانے کے بعد معدے کی تیزابیت سے بچا جاسکتا ہے، مگر یہ احتیاط کرنی چاہئے کہ سوڈے کی زیادہ مقدار شامل کرکے اس غذا کے ذائقے کو خراب نہ ہونے دیں۔

مچھروں کو کاٹنے سے ہونے والی سوزش کو روکنا

اگر تو آپ کو کسی جگہ مچھر نے کاٹ لیا ہے تو ایک چائے کا چمچ اپنی ہتھیلی پر ڈالیں اور اس پر پانی کے چند قطرے ٹپکا دیں، اس کے بعد اس محلول یا پیسٹ کو مچھر کے کاٹنے والی جگہ پر لگادیں، اسے خشک ہونے دیں اور پھر جو پرت جمے اسے صاف کردیں۔ ایسے کرنے سے وہاں پڑنے والا سرخ نشان چھوٹا ہوجائے گا اور خارش بھی روک جائے گی۔ یہی طریقہ کار شہد کی مکھی کے ڈنک میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

پیروں کی بدبو سے نجات

اگر پیروں سے بو اٹھ رہی ہے یا تھکاوٹ کے باعث انگلیاں درد کررہی ہیں تو اپنے پیروں کو ٹھنڈے پانی سے بھرے کسی برتن میں ڈال دیں اور اس پر کچھ مقدار میں بیکنگ سوڈا چھڑک کر پندرہ سے بیس منٹ تک ڈوبا رہنے دیں۔ پھر پیروں کو دھو کر خشک کرلیں، اس سے پیروں کی بو بھی دور ہوجائے گی اور پیروں میں تکلیف ہے تو اس کی شدت میں بھی کمی آجائے گی۔

ورزش کے بعد سافٹ ڈرنک گردوں کےلیے مضر قرار

نیویارک: کیفین سے بھرپور سافٹ ڈرنک پوری دنیا میں عام پی جاتی ہیں اور صحت کے لیے ان کے خطرات کی فہرست بڑھتی جارہی ہے۔ ان میں ذیابیطس اور موٹاپے کے امکانات سرِفہرست قرار دیئے گئے ہیں۔

لیکن اب نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ورزش اور بھاگ دوڑ کے بعد سافٹ ڈرنک پینے سے جسم میں پانی کی کمی مزید بڑھ جاتی ہے اور گردے کے افعال پر برا اثر ہوتا ہے۔ اس بات کا انکشاف نیویارک میں واقع یونیورسٹی آف بفیلو نے کیا ہے جس کی تفصیلات امریکن جرنل آف فزیالوجی کے ذیلی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔

گرم ماحول میں ورزش سے گردوں کی جانب خون کا بہاؤ کم ہوجاتا ہے لیکن گردے اس کمی کو جھیل جاتےہیں۔ تاہم بعض تجربات میں دیکھا گیا ہے کہ اگر گردے کو خون کی فراہمی میں نمایاں کمی ہوجائے تو اس سے اکیوٹ کِڈنی انجری (اے کے آئی) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے کیونکہ خون کی فراہمی کم ہونے سے خود آکسیجن کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔  لیکن سافٹ ڈرنکس کا استعمال اس میں انتہائی عجیب اور پریشان کن کردار ادا کرتا ہے۔

ماہرین نے اوسطاً 24 برس کے 12 صحت نامہ نوجوانوں کو بھرتی کیا ۔ پہلے انہیں دوڑنے کی مشین پر 30 منٹ ورزش کرائی گئی  اور اس کے بعد ایک کھیت میں تین ورزش جیسے کام کروائے جو 15 منٹ طویل تھے۔  اس کے بعد ہر نوجوان کو چینی اور کیفین سے بھرپور 16 اونس سافٹ ڈرنک یا سادہ پانی دیا گیا۔ اس کے بعد ایک گھنٹے کا یہ عمل کل چار مرتبہ دوہرایا گیا۔

کم از کم ایک ہفتے بعد سارے رضاکاروں کو واپس بلایا گیا اور دوبارہ انہیں روزانہ چار گھنٹے کی ورزش اور سافٹ ڈرنک کی مشق دوبارہ کرائی گئی۔ اس بار مشروب کی ترتیب الٹی گئی اور سافٹ ڈرنک والوں کو پانی اور پانی والوں سافٹ ڈرنک پلائی گئی۔

ماہرین نے ورزش  سے قبل ، اس کے درمیان میں اور آخر میں تمام شرکا کے خون، دل ، درجہ حرارت، بلڈ پریشر اور دیگر ٹیسٹ لیے گئے تو معلوم ہوا کہ گردے کو متاثر کرنے والی اے کے آئی کے بایومارکر ، بلڈ پریشر بڑھانے والے ہارمون  اور دیگر مضر کیمیکل میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح ورزش کرنے کے بعد سافٹ ڈرنک پینے والے افراد کےجسم میں پانی کی درمیانے درجے کی کمی دیکھی گئی۔

اگرچہ ابتدائی طور پر تو ثابت ہوا کہ ورزش ک بعد سافٹ ڈرنک سے گردوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ تاہم ماہرین نے کہا ہے کہ یہ مطالعہ بہت چھوٹے پیمانے پر کیا گیا ہے جس کے نتائج کافی نہیں تاہم اس سے یہ ضرور معلوم ہوا ہے کہ ورزش کے بعد سافٹ ڈرنک کے صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

انسانی ہڈیوں میں نئی قسم کی خون کی رگیں دریافت

جرمنی: ہمیں انسانی تشریح الاعضا (ایناٹومی) کی درسی کتب کو نئے سرے سے مرتب کرنا ہوگا کیونکہ انسانی ران کی ہڈی میں ایک بالکل مختلف قسم کی نئی رگ (بلڈ ویسل) دریافت ہوئی ہے۔

ہڈی کے اوپر سے ہوکر اندر کی جانب جاتی ہوئی اس رگ کی دریافت سے ہڈیوں کی ساخت، گٹھیا جیسے امراض اور خود امنیاتی نظام کو سمجھنے میں بہت مدد ملے گی۔ جرمنی میں یونیورسٹی آف ڈائس برگ ایسن سے وابستہ پروفیسر میتھائس گونزراور ان کے ساتھیوں نے یہ نئی دریافت کی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم نے انسانوں میں پہلی مرتبہ اس جگہ خون کی رگیں دریافت کی ہیں جہاں ہماری نظر اس سے پہلے نہیں پہنچی تھی۔

پہلے ماہرین نے پہلے مرحلے پر چوہوں کی ہڈی میں خاص کیمیکل شامل کرکے ہڈی کو شفاف بنایا جس کے بعد کئی رگیں ہڈی کو عبور کرتے ہوئے دیکھی گئیں۔ چوہوں کے ٹانگ کی نچلی ہڈی کی جسامت ماچس کی تیلی جتنی ہے جس میں ہزاروں باریک شریانیں (کیپلریز) نظر آئیں جنہوں نے پوری ہڈی کو لپیٹ میں لے رکھا تھا۔

اس کے بعد سائنسدانوں کی ٹیم نے انسانی ران کی ہڈی میں بھی عین اسی طرح کی رگیں اور وریدیں دیکھی ہیں۔ اگرچہ انسانی ہڈیوں کو خون دینے کے لیے دیگر کئی اقسام کی رگیں بھی ہوتی ہیں اور اسی وجہ سے ان نئی رگوں کی تعداد چوہوں کے مقابلے میں قدرے کم دیکھی گئی ہے جنہیں ماہرین نے ’ٹرانس کورٹیکل ویسلز‘ کا نام دیا گیا ہے۔

پروفیسر میتھائس کے مطابق ہڈیوں کے گودے مین امنیاتی خلیات تشکیل پاتے ہیں اور ہڈیوں کی انہیں شریانوں کے ذریعے باقی جسم تک جاتے ہیں اور شاید یہ بات انسانوں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ اس سے قبل سائنسدانوں کی ایک اور ٹیم نے عین اسے طرح کی وریدیں (کیپلریز) چوہوں کے دماغ اور کھوپڑی کے اندر بھی دریافت کی ہیں۔ اس کے بعد ماہرین نے دیکھا کہ فالج اور گردن توڑ بخار کی صورت میں کھوپڑی کے امنیاتی خلیات اسی راستے سے دماغ کے اندر تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اور شاید یہ نقصان کے ازالے کے طور پر کرتے ہیں۔ تاہم انسانوں میں عین ایسا ہی کردار اب تک نہیں دیکھا جاسکا ہے۔

صرف خواتین کی آواز سننے کی حیرت انگیز بیماری میں مبتلا عورت

اگرچہ دنیا بھر میں سماعت سے محروم افراد موجود ہوں گے جو یکساں طور پر ہر جنس کی آواز کو سننے سے محروم ہوں گے۔

تاہم چین کی ایک خاتون ایسی بھی ہیں جو سماعت سے محرومی کی ایک ایسی حیرت انگیز بیماری میں مبتلا ہیں، جن میں وہ صرف مرد حضرات کی آواز نہیں سن سکتیں۔

جی ہاں، چین کی ایک خاتون ایسی بھی ہیں جو اپنی ہم جنس کی ہر آواز تو بخوبی سن لیتی ہیں، تاہم جیسے ہی ان کے ساتھ کوئی مرد بات کرتا ہے تو انہیں کچھ سنائی نہیں دیتا۔

برطانوی اخبار’ڈیلی میل‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ چین کے صوبے فوجیان کے شہر شیامین کی ایک خاتون انتہائی حیرت انگیز بیماری میں مبتلا ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ چین نامی خاتون کو رواں ماہ 10 جنوری کو اچانک اپنے بوائے فرینڈ کی آواز نہ سننے کی شکایت ہوئی تو وہ چیک اپ کے لیے مقامی ہسپتال گئیں۔

رپورٹ کے مطابق جب خاتون معائنے کے لیے ہسپتال پہنچیں تو انہیں پتہ چلا کہ وہ خاتون ڈاکٹر کی آواز سن سکتی ہیں۔

تاہم خاتون اور ان کا معائنہ کرنے والی لیڈی ڈاکٹر کو اس وقت انتہائی حیرت ہوئی جب خاتون کو ہسپتال کے مرد ڈاکٹر کی آواز سنائی نہیں دی۔

خاتون کی عجیب شکایت کے بعد جب ان کا مکمل معائنہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ انہیں (reverse-slope hearing loss) (آر ایس ایچ ایل) نامی بیماری ہے، جس میں کوئی بھی شخص ایک خاص قسم کی آواز کو سننے سے محروم ہوجاتا ہے۔

اس بیماری یا شکایت میں مبتلا افراد زیادہ تر مرد حضرات کی آواز سننے سے محروم ہو جاتے ہیں جب کہ ایسے افراد کو خواتین کی آوازیں سننے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگرچہ یہ بیماری عام نہیں، تاہم اندازہ دنیا بھر میں ہر 13 ہزار افراد میں سے ایک شخص اس مسئلے سے دوچار ہوتا ہے۔

ساتھ ہی رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ بیماری یا مسئلہ کچھ ممالک میں زیادہ پایا جاتا ہے اور شمالی امریکا میں ہر 3 ہزار افراد میں سے ایک شخص اس مسئلے سے دوچار ہوتا ہے۔

اس مسئلے میں مبتلا چینی خاتون کے مطابق وہ رات کو سونے کے بعد صبح اٹھیں تو اپنے بوائے فرینڈ کی آواز سننے کے قابل نہیں تھیں۔

خاتون نے بتایا کہ انہیں اپنے بوائے فرینڈ سمیت کسی بھی مرد کی آواز سنائی نہیں دے رہی، جب کہ انہیں خواتین کی آواز صاف سنائی دے رہی ہے۔

Google Analytics Alternative