صحت

کیا ذیابیطس کے مریضوں کے لیے شہد چینی کا اچھا متبادل ہے؟

اگر آپ ذیابیطس کا شکار ہوجائے تو زندگی کافی تلخ محسوس ہوسکتی ہے خصوصاً اگر آپ کو میٹھا کھانا زیادہ پسند ہو۔

تاہم ذیابیطس کے مریضوں کی غذا ضروری نہیں کہ تمام میٹھی اشیاءسے پاک ہو، بلکہ آپ کو غذاﺅں میں گلسیمک انڈیکس (جی آئی) پر نظر رکھنا ہوتی ہے۔

جی آئی ایک پیمانہ ہے کہ جو بتاتا ہے کہ کاربوہائیڈریٹ والی غذا کا کتنا حصہ کھانے کے بعد اس میں موجود مٹھاس (گلوکوز) مخصوص وقت میں خون میں جذب ہوسکتی ہے اور یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔

کاربوہائیڈریٹس صرف میٹھی اشیاءجیسے شہد، چینی وغیرہ میں ہی نہیں پائے جاتے بلکہ یہ اجناس، نشاستہ دار سبزیوں اور پھلوں میں بڑی مقدار میں ہوتے ہیں۔

امریکن ڈائیبیٹس ایسوسی ایشن کے مطابق ہر کھانے میں ذیابیطس کے مریضوں کو 45 سے 60 گرام کاربوہائیڈریٹ جسم کا حصہ بنانے چاہئے تاکہ بلڈ شوگر کنٹرول کو بہتر بنایا جاسکے۔

تو سوال یہ ہے کہ کیا ذیابیطس کے مریضوں کے لیے شہد اچھا متبادل ثابت ہوسکتا ہے؟

شہد میں چینی کی طرح کاربوہائیڈریٹس موجود ہوتے ہیں اور ایک کھانے کے چمچ شہد سے جسم کو 17.3 گرام کاربوہائیڈریٹ ملتا ہے جبکہ ایک چائے کے چمچ میں یہ مقدار 5.8 گرام ہوتی ہے۔

اگرچہ یہ مقدار بظاہر معمولی لگتی ہے مگر اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ ایک وقت میں کتنا شہد کھاتے ہیں۔

ویسے جہاں تک چینی کے متبادل کی بات ہے تو اکثر افراد شہد کو سفید چینی کا صحت مند متبادل سمجھتے ہیں، اگرچہ اس میں مٹھاس زیادہ قدرتی اور کم پراسیس ہوتی ہے مگر اس میں مٹھاس کی شرح اتنی ہی ہے، جتنی چینی میں۔

مثال کے طور پر ایک چائے کے چمچ چینی میں 4.8 گرام کاربوہائیڈریٹس ہوتے ہیں اور شہد میں یہ مقدار تو اوپر بتائی جاچکی ہے، مگر کاربوہائیڈریٹس کی مقدار اس وقت اہمیت رکھتی ہے جب آپ ذیابیطس کے شکار ہوں۔

تو شہد ذیابیطس کے مریضوں کے اچھا متبادل ہے یا نہیں، تو اس کا جواب ہے کہ یہ بھی کچھ زیادہ بہتر نہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق قدرتی اشیاءجیسے پھل یا شہد اور چینی سے بنی اشیاءمیں موجود مٹھاس یکساں ہی ہوتی ہے۔

اگر آپ چینی کی جگہ شہد سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں تو اس کا استعمال کرسکتے ہیں۔

مگر یہ مقدار بہت کم ہونی چاہئے، مثال کے طور پر آپ آدھا چائے کا چمچ شہد اپنی چائے میں شامل کرسکتے ہیں یا کسی غذا کا حصہ بنا سکتے ہیں۔

اگرچہ یہ مقدار بہت کم ہے مگر زبان کی ذائقہ محسوس کرنے والی حس بہت جلد کم مٹھاس سے مطابقت کرلیتی ہے اور کم مقدار میں بھی لطف اندوز ہونے کا احساس دلانے لگتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

دل کی کیفیت معلوم کرنے کیلئے ای سی جی کی طرح مؤثر اسمارٹ فون ایپ ایجاد

لندن: دل کے دورے اور انجائنا معلوم کرنے کے لیے سب سے پہلے ای سی جی پر اعتبار کیا جاتا ہے جس میں 12 عدد برقیرے (الیکٹروڈز) لگا کر دل کی برقی کیفیت معلوم کی جاتی ہے۔ لیکن اب ایک اسمارٹ فون ایپ عین ای سی جی کی طرح کام کرسکتی ہے اور اس کی آزمائش کے بعد بہت اچھے نتائج نکلے ہیں۔

ایپ کو روایتی ای سی جی کی طرح درست پایا گیا ہے۔ فی الحال یہ اس ہارٹ اٹیک کی خبر دیتی ہے جو کئی طرح سے جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ دل کے شدید دورے کی یہ قسم ایس ٹی ایلی ویشن مایوکورڈئیل انفارکیشن (ایس ٹی ای ایم آئی ) کہلاتی ہے ۔ اس میں کوئی بڑی شریان مکمل طور پر بند ہوجاتی ہے اور دل کو خون کی روانی متاثر ہونے سے شدید تکلیف ، بے ہوشی اور موت بھی واقع ہوجاتی ہے۔

اس دوران ایک ایک لمحہ قیمتی ہوتا ہے اور مریض کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنا ضروری ہوتا ہے اور فوری انجیوپلاسٹی سے شریان کو کھولا جاتا ہے۔ یہ عمل جتنی جلدی ہوجائے مریض کے لیے اتنا بہتر ہوتا ہے۔

عام ای سی جی میں جسم کے 12 مقامات پر الیکٹروڈز لگا کرمختلف مقامات پر دل کی برقی کیفیت میں اتار چڑھاؤ معلوم کیا جاتا ہے۔ لیکن نئی ایپ کے ساتھ ایک ہارڈویئر پر دو الیکٹروڈ لگے ہیں جنہیں بدن کے اندر مختلف مقامات پر گھمایا جاتا ہے اور آخر کار یہ عام ای سی جی مشین کی طرح 12 الیکٹروڈز کی طرح ریڈنگ لیتا ہے اور پھر ایپ دل کی کیفیت کا فیصلہ کرکے کاغذ کی پٹی کی طرح ای سی جی ظاہر کرتی ہے۔

اس کی افادیت جاننے کے لیے  ایسے 204 مختلف مریضوں پر آزمایا گیا جنہیں سینے میں شدید درد محسوس ہورہا تھا اور انہیں دل کے ہسپتال کی ایمرجنسی میں لایا گیا تھا۔ تمام افراد کی ای سی جی اور ایپ پر تشخیص کی گئی تو معلوم ہوا کہ ایس ٹی ای ایم آئی کی شناخت میں ایپ اور ہارڈویئر نے عین ای سی جی کی طرح کے نتائج دیئے جو اس کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

ایپ اور ہارڈویئر بطورِ خاص ان ممالک کے لیے تیار کی گئی ہے جہاں ای سی جی مشینوں کا فقدان ہے اور غریب ممالک میں اس سے بہت سی جانوں کو بچایا جاسکتا ہے۔

پاکستان اور چین کے درمیان وائرل امراض کی تحقیق پرمعاہدہ

 کراچی: بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی اور چین کے تحقیقی ادارے وہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرو لوجی، چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان نہ صرف ’’وائرو لوجی‘‘ بلکہ تحقیقی و تعلیمی تعاون کو مزید بڑھانا ہے ملک میں ’’وائرو لوجی‘‘ کا کوئی قومی ادارہ موجود نہیں ہے جبکہ پاکستان وائرل مرض ہیپا ٹائٹس میں دنیا بھر میں اول نمبر پر ہے۔

آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کے سینئر افسر نے کہا ہے کہ معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان سائنس دانوں اور ٹیکنیشنز کا باہمی تبادلہ بھی کیا جائے گا تاکہ ماہرین کو سائنسی، تربیتی اور تحقیقی مواقع فراہم ہوسکیں، دونوں تعلیمی و تحقیقی ادارے ہر سال متعلقہ موضوعات پر مشترکہ ورکشاپ اور سیمینار کا انعقاد بھی کریں گے اس معاہدے کی مدت 5 سال ہے۔

سینئر افسر کے مطابق آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹرمحمد اقبال چوہدری جبکہ چینی ادارے وہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر چن زنوین نے وہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی کے کیمپس میں حال ہی میں منعقدہ تقریب کے دوران اس معاہدے پر دستخط کیے۔

اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹرمحمد اقبال چوہدری نے کہا کہ بدقسمتی سے ملک میں ’وائرولوجی‘ کا کوئی قومی ادارہ موجود نہیں جبکہ پاکستان وائرل مرض ہیپاٹائٹس میں دنیا میں اول نمبر پر ہے، علاوہ ازیں دیگر وائرل امراض میں ڈنگی، زکا، کانگو وائرس اور چکن گونیا بھی شامل ہیں۔

انھوں نے کہا آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کا شمار ترقی پذیر دنیا کے بہترین حیاتیاتی اور کیمیائی علوم کے اداروں میں ہوتا ہے جہاں دنیا بھر سے سائنس دان سائنسی و تحقیقی تربیت کے لیے پاکستان آتے ہیں، اس میں، ایچ ای جے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف کیمسٹری، لطیف ابراہیم جمال (ایل ای جے) نیشنل سائنس انفارمیشن سینٹر اور ڈاکٹر پنجوانی سینٹرفار مالیکیولر میڈیسن ا ینڈ ڈرگ ریسرچ (پی سی ایم ڈی) جیسے معرف ادارے بھی شامل ہیں جبکہ مزید 10 عمارتیں بھی ہیں جہاں جدید تجربہ گاہیں سرگرم ہیں اور ان تحقیقی اداروں کا حصہ ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر چن زنوین نے کہا بین الاقوامی تعاون دراصل تحقیقی منصوبہ بندی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے، انھوں نے کہا دونوں تحقیقی ادارے سائنس اور ٹیکنالوجی میں پیش رفت کے لیے یکساں مقاصد رکھتے ہیں۔

بالوں کو گرنے سے روکنے میں مددگار آسان اور مفت طریقہ

اگر آپ کے بالوں کا گھنا پن کم ہونے لگے اور درمیان میں چاند کی طرح جلد نمایاں ہونے لگے تو اکثر افراد خصوصی شیمپوز، سپلیمنٹس اور علاج پر ہزاروں یا لاکھوں روپے رچ کردیتے ہیں، مگر ایک آسان اور مفت طریقے کو نہیں آزماتے جس کی حمایت سائنس بھی کرتی ہے۔

بالوں سے محرومی صرف مردوں کا مسئلہ نہیں درحقیقت خواتین کی بڑی تعداد کو بھی اس کا سامنا ہوتا ہے، لیکن مردوں میں یہ مسئلہ زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔

اگر آپ بالوں سے مھروم ہونے لگے تو اس آسان طریقے کو آزمائیں اور وہ ہے سر کی مالش، جو کہ بالوں کی نشوونما دوبارہ بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق سر کی مالش سے کھوپڑی اور بالوں کی جڑوں میں دوران خون بڑھتا ہے۔

ایک تھقیق میں دریافت کیا گیا کہ دن بھر میں صرف 4 منٹ کی مالش سے ایسے جینز کی سرگرمیوں کو بڑھایا جاسکتا ہے جو کہ بالوں کی نشوونما میں مدد دیتے ہیں جبکہ ان جینز کی سرگرمیاں کم ہوتی ہیں جو کہ گنج پن اور ورم کا باعث ہوتی ہیں۔

تحقیق میں اس عام طریقہ کار سے بالوں کے گھنے پن میں بھی بہتری دیکھی گئی۔

محققین کا کہنا تھا کہ سر پر نرمی سے کی جانے والی مالش سے بالوں کی جڑوں میں خون کا بہاﺅ بڑھتا ہے، یہ طریقہ سر میں خون کی انتہائی چھوٹی شریانوں کو کشادہ کرتا ہے جس سے بالوں کی جڑوںکو وافر مقدار میں خون ملتا ہے اور نشوونما کا عمل تیز ہوجاتا ہے۔

سر کی مالش سے ذہنی تناﺅ بھی کم ہوتا ہے جو کہ گنج پن کا باعث بننے والی بڑی وجہ ہے۔

اور اچھی بات یہ ہے کہ اس مالش کے لیے ضروری نہیں کہ کسی تیل کی مدد لی جائے، درحقیقت نہانے کے دوران شیمپو لگاتے ہوئے بھی ایسا کیا جاسکتا ہے اور کم از کم 3 منٹ تک دونوں ہاتھوں سے سر کے بڑے حصے پرمالش کرنا کافی ہوتا ہے۔

گلے کی سوزش سے نجات دلانے میں مددگار گھریلو ٹوٹکے

موسم سرما کے ساتھ ہی اکثر افراد نزلہ زکام کا شکار ہوجاتے ہیں مگر بہتی ناک ہی بڑا مسئلہ نہیں بلکہ اس کو زیادہ تکلیف دہ بنانے والا عنصر گلے کی سوزش بنتی ہے جو کھانا نگلنا مشکل جبکہ بستر پر کروٹیں بدلنے پر مجبور کردیتی ہے۔

صبح گلے میں کانٹے چبھنے کے احساس کے ساتھ اٹھنا اس بات کا عندیہ ہے کہ وائرس آپ کے جسمانی مدافعتی نظام میں داخل ہوچکا ہے۔

اور اس وجہ سے ہی لگتا ہے کہ جیسے بہت زیادہ مرچوں والی کوئی چیز کھالی ہے کیونکہ یہ وائرس جسمانی ورم کا باعث بنتا ہے خصوصاً ٹانسلز یا گلے میں۔

یہ جلن کا احساس کئی روز تک برقرار رہ سکتا ہے مگر اچھی بات یہ ہے کہ اس سے نجات کا نسخہ آپ کے گھر میں ہی موجود ہے۔

گل بابونہ کی چائے

گل بابونہ یا chamomile کی چائے نہ صرف ہاضمے کے لیے بہترین ہے بلکہ مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا ہے کہ یہ ورم کش اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہے جو کہ گلے کی سوزش یا خراش سے آرام پہنچانے میں مدد دیتے ہیں، یہ چائے کیفین سے پاک ہوتی ہے تو اسے سونے سے پہلے پینا نیند کو متاثر نہیں کرتا، اس میں کچھ مقدار میں شہد ملاکر پینا گلے کی سوزش سے نجات کا عمل زیادہ تیز کردیتا ہے۔

لیموں اور گرم پانی

کچھ لوگ لیموں کا عرق گرم پانی میں اس وقت توقع کے ساتھ ملا کر پتے ہیں کہ اس سے جسمانی وزن میں کمی اور جلد شفاف ہوگی، مگر یہ مشروب تکلیف دہ گلے کی سوزش سے تحفظ بھی فراہم کرتا ہے۔ جراثیم کش اور جسمانی مدافعتی نظام مضبوط کرنے کی صلاحیت رکھنے والا یہ مشروب گلے کے لیے ایسا تیزابی ماحول بناتا ہے جو کہ وائرس اور بیکٹریا کی نشوونما کو بہت مشکل بنادیتا ہے۔ لیموں میں وٹامن سی کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ موسمی نزلہ زکام کے خلاف لڑنے میں مدد دیتا ہے۔

شہد اور کلونجی

شہد کے متعدد طبی فوائد ہیں، ایک چائے کا چمچ شہد چائے میں ملانا یا ایسے ہی کھالینا بھی گلے کی سوزش میں کمی لاسکتا ہے، مگر اس کے اثرات کو بہتر بنانے کے لیے اس میں 2 سے 3 قطرے کلونجی کے تیل کے شامل کرلیں، یہ تیل ورم کش ہوتا ہے اور گلے کی تکلیف میں فوری سکون پہنچانے میں مدد دے سکتا ہے۔

نمک ملے پانی سے غرارے

یہ بہت ٹوٹکا ہے اور انتہائی موثر بھی، نمک ملے پانی سے غرارے کرنے سے تکلیف دہ سوجن میں کمی آتی ہے جبکہ بیکٹریا بھی مرتے ہیں، اس مقصد کے لیے آدھا چائے کا چمچ ایک گلاس گرم پانی میں ملائیں اور پھر ایک سے 2 منٹ غرارے ہیں، یہ پانی نگلنے سے گریز کریں۔

سیب کا سرکہ اور شہد

سیب کے سرکے میں تیزابیت کی سطح کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ بیکٹریا کو ختم کرنے میں مدد دتی ہے، اس سرکے کو شہد سے ملا کر سوزش کے شکار گلے کی تکلیف میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ ایک کھانے کے چمچ سیب کے سرکے، ایک کھانے کے چمچ شہد کو ایک کپ گرم پانی میں مکس کریں، اور پھر اسے پی لیں۔

بھاپ سے مدد لیں

بھاپ بھی گلے کی سوزش میں کمی لانے کے لیے مدد فراہم کرتی ہے، اس مقصد کے لیے ایک بڑا باﺅل لیں، اسے گرم پانی سے آدھا بھر لیں، اس کے بعد ایک تولیہ لیں اور اسے سر پر اوڑھ کر اپنا سر باﺅل کے اوپر ایسے رکھ لیں کہ ایک خیمہ بن جائیں۔ بس پھر پانی سے نکلنے والی بھاپ میں سانس لیں اور بس۔

لونگ بھی فائدہ مند

لونگ کا استعمال تو صدیوں سے ہورہا ہے بلکہ چینی ادویات میں تو انہیں عام استعمال کیا جاتا ہے جو کہ دانتوں کے درد میں کمی بھی لاتی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ گلے کی تکلیف کے بھی فائدہ مند ہے۔ اس میں موجود اجزا قدرتی طور پر دردکش ہوتے ہیں جبکہ یہ مصالحہ جراثیم کش بھی ہے جو گلے کی تکلیف کو سن کرکے اس میں کمی لاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک یا 2 لونگیں لیں اور منہ میں ڈال کر چوسنا شروع کردیں، جب وہ نرم ہوجائے تو چبا کر نگل لیں۔

میتھی کے پتے

میتھی کے پتوں کو کسی بھی تیل میں ملاکر گلے کے باہر اور گردن کے ارد گرد مالش کی جائے، یا پھر انہیں چائے کے ساتھ ملاکر استعمال کیا جائے تو اس سے بھی خراش یا سوزش کا باعث بننے والے بیکیٹیریاز کا خاتمہ ہوگا۔ میتھی کے پتوں کو گرم پانی میں ابال کر اس کے غرارے بھی کیے جاسکتے ہیں۔

لہسن

تھوڑے سے لہسن کو نیم گرم پانی میں ابال کر غرارے کرنے سے منہ میں موجود خراب بیکٹیریا کا خاتمo ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں اگر لہسن کی مدد سے ٹوتھ برش کو معمول بنایا جائے تو اس سے نہ صرف دانت مضبوط ہوں گے، بلکہ سانس کی بدبو کا بھی خاتمہ ہوگا۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

مونگ پھلی کھانے کے بعد پانی پینا نقصان دہ؟

اس موسم میں مونگ پھلی کھانے کا شوق تو اکثر افراد کو ہوتا ہے مگر کیا اس گری کو کھانے کے بعد پانی پینا واقعی صحت کے لیے نقصان دہ ہے؟

آپ نے اکثر لوگوں سے سنا ہوگا کہ مونگ پھلی کھانے کے بعد پانی پینے سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ اس کے نتیجے کھانسی اور گلے میں خراش ہوسکتی ہے۔

اگرچہ یہ سائنسی طور پر ثابت شدہ نہیں مگر کیا واقعی ایسا ہوتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس حوالے سے کئی خیالات گردش کررہے ہیں جن میں سے طبی سائنس نے کسی کو بھی فی الحال ثابت نہیں کیا۔

ایک خیال یہ ہے کہ چونکہ مونگ پھلی جیسی گریاں قدرتی طور پر خشک ہوتی ہیں تو ان کے کھانے سے پیاس محسوس ہوتی ہے اور اس میں موجود تیل کی موجودگی پانی سے دور رہنے کو بہتر ثابت کرتی ہے۔

اس خیال کے مطابق زیادہ تیل والی غذائیں یا گریاں کھانے کے بعد غذائی نالی میں چربی کا اجتماع ہوسکتا ہے جو کہ گلے میں خراش اور کھانسی کا باعث بنتا ہے، ویسے یہ اب تک ثابت نہیں ہوسکا ہے۔

ایک اور خیال یہ ہے کہ مونگ پھلی کھانے سے جسم میں حرارت پیدا ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسے سردیوں میں زیادہ کھایا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پانی پینا اس حرارت کو کم کرتا ہے، مگر حرارت اور ٹھنڈک کا یہ عمل بیک وقت ہونا نزلہ زکام، کھانسی اور نظام تنفس کی متعدد بیماریوں کا باعث بنتا ہے، ویسے کچھ ماہرین تو کسی بھی کھانے کے بعد پانی پینے کو اچھا عمل نہیں سمجھتے کیونکہ اس سے بدہضمی یا تیزابیت کا امکان بڑھتا ہے، اس لیے کم از کم دس سے پندرہ منٹ تک انتظار کرنا بہتر ہوتا ہے۔

اسی طرح ایک خیال یہ بھی ہے کہ مونگ پھلی کھانے کے بعد پانی پینا معدے کے مسائل کا باعث بنتا ہے خصوصاً بچوں میں، اکثر اوقات یہ مونگ پھلی سے الرجی کا نتیجہ ہوتا ہے اور اس پر پانی پینا حالات بدتر بنادیتا ہے۔

ویسے اگر مونگ پھلی کے بعد پانی پینا نقصان دہ ثابت نہیں بھی ہوا تو بھی احتیاطی تدبیر اختیار کرنا کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچاتا۔

یہ چائے جسم میں انسولین کی سطح کو مستحکم رکھے

لونگ تقریباً ہر قسم کے پکوان میں استعمال ہوتی ہے کیوں کہ اس سے کھانے میں ایک الگ ذائقہ آجاتا ہے۔

ہر مصالحے کا سب سے اہم جز لونگ کو ہی مانا جاتا ہے۔

لونگ کا استعمال سردیوں میں بڑھ جاتا ہے کیوں کہ یہ کھانسی نزلے اور پیٹ کی خرابی میں بھی مددگار مانی جاتی ہے۔

لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ لونگ آپ کے خون میں شوگر کی سطح (blood sugar level) کو بھی مستحکم رکھنے میں مددگار ہے؟

ذیابیطس کی روک تھام کے لیے لونگ کا استعمال کیسے کیا جاسکتا ہے؟

انسولین ہمارے جسم کا ایک ایسا ہارمون ہے جو بلڈ شوگر کی سطح کو کنڑول میں رکھتا ہے، لیکن وہ افراد جنہیں ذیابیطس ہے ان کا یہ ہارمون اس طرح کام نہیں کرپاتا جس طرح اسے کرنا چاہیے۔

اس دوران انسولین ہارمون اس بات کا اندازہ نہیں لگا پاتا کہ جسم کو کتنی شوگر کی ضرورت ہے اور کتنی غیر ضروری ہے۔

ایسے میں لونگ کا تیل بھی کافی مفید ثابت ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ یہاں لونگ کی ایک خاص چائے کی ترکیب بھی بتائی جارہی ہے، جسے آپ باآسانی گھر میں تیار کرسکتے ہیں:

ایک چائے کے چمچ لونگ کو گرائنڈ کرلیں۔

اس کے بعد اس کے پاؤڈر کو ایک کپ پانی میں 8 سے 10 منت تک کے لیے ابال لیں۔

جیسے ہی یہ ابلنے لگے تو آدھا چائے کا چمچ چائے کا پاؤڈر ڈال کر اسے چند اور منٹ کے لیے پکائیں۔

بعدازاں چھان کر ٹھنڈا کرلیں اور اس چائے کو پی لیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

بچوں کو مچھلی کھلائیں، دمے سے بچائیں

سڈنی: ماہرین نے تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ وہ بچے جو دمے کے تکلیف دہ مرض میں مبتلا ہیں انہیں مچھلی پابندی سے کھلائی جائی تو اس مرض سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔

بچوں میں دمے کا مرض بہت تکلیف دہ ہوتا ہے اور کئی مرتبہ شدید مشکلات کی وجہ بھی بن جاتا ہے جس کے لیے اسپتال کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ اب ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ تیل بردار مچھلیوں مثلاً ٹراؤٹ، سامن اور سارڈین یا ترلی مچھلی کھانے سے خصوصاً بچوں میں دمے کے مرض کی شدت کم ہوجاتی ہے اور ان کے پھیپھڑے مضبوط اور بہتر ہوجاتے ہیں لیکن ضروری ہے کہ مسلسل 6 ماہ تک بچے کو مچھلی کھلائی جائے۔

سڈنی میں واقع لا ٹروب یونیورسٹی نے ایک سروے سے ثابت کیا ہےکہ بالخصوص سامن، ٹراؤٹ، سارڈین اور دیگر تیل والی مچھلیوں سے بچوں کے پھیپھڑوں کی استعداد بہتر ہوتی ہے اور دمے کی کیفیت میں افاقہ ہوتا ہے۔

اس ضمن  میں یونیورسٹی سے وابستہ اور تحقیقی سروے میں شریک ڈاکٹر ماریا پاپا مائیکل کہتی ہیں کہ ’ ہم پہلے سے جانتے ہیں کہ نمک ، چکنائی، شکر اور دمے کے درمیان تعلق پایا جاتا ہے یعنی ان سے دمہ بڑھتا ہے تاہم اب دمے کو غذا کے ذریعے قابو کرنے کے کئی ثبوت سامنے آئے ہیں‘۔

اس مطالعے میں 64 ایسے بچوں کو شامل کیا گیا جنہیں درمیانی شدت کا دمہ لاحق تھا۔ ان میں سے نصف تعداد کو پودوں کی غذا اور مچھلیاں کھلائی گئیں جبکہ نصف تعداد کو ان کی پسند کا معمول کا کھانا دیا جاتا رہا۔  سروے کے اختتام پر معلوم ہوا کہ جن بچوں کو میڈیٹرینیئن ڈائٹ یا سبزیوں اور مچھلیوں والی غذا دی گئی تھی ان کے پھیپھڑوں میں سوزش اور اینٹھن کم ہوئی۔

ماہرین اس کی وجہ بتاتے ہیں کہ چکنائی والی مچھلیوں میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز بکثرت پائے جاتے ہیں جو پھیپھڑوں کے علاوہ بھی پورے اندرونی بدن میں سوزش اور جلن کو رفع کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ بھارت میں ایک صاحب چھوٹی زندہ مچھلیاں دمے کے مریضوں کو نگلنے کے لیے دیتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ایک بار اس کے استعمال سے پرانا دمہ ختم ہوجاتا ہے تاہم ماہرین نے کہا ہے کہ تیل والی مچھلیوں کو پکا کر کھانا چاہیے اور اگر چھ ماہ تک دمے کے شکار بچوں کو کھلائی جائیں تو اس کے بہت اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ایک اور تحقیق سے ثابت ہوچکا ہے کہ تیل بردار مچھلیوں سے کئی اقسام کے کینسر کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔

Google Analytics Alternative