صحت

یہ مزیدار غذا روزانہ کھانا معدے کے امراض دور رکھے

معدے کے امراض کا شکار رہتے ہیں؟ تو اپنی غذا میں دہی کو روزانہ استعمال کرکے اس سے بچا جاسکتا ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

طبی جریدے جرنل آف نیوٹریشن میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ دہی کھانے کو عادت بنالینا جسمانی ورم کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے جو کہ معدے، جوڑوں کے امرض کے ساتھ دمہ جیسے عارضوں کا خطرہ کم کرتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ دہی کھانے سے معدے کے بیکٹریا میں ورم کا باعث بننے والے مالیکیولز کی روک تھام ہوتی ہے۔

ورم کش ادویات جیسے اسپرین بھی اس حوالے سے استعمال کی جاتی ہیں مگر ان کے اپنے مضر اثرات مرتب ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ دہی وٹامن بی 12 اور کیلشیئم کے حصول کا بھی اچھا ذریعہ ہے جبکہ اس میں پروٹین کی مقدار بھی کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ جسمانی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔

اس تحقیق کے دوران 120 خواتین کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے 60 موٹاپے جبکہ دیگر معمول کے جسمانی وزن کی حامل تھیں۔

ان میں سے 50 فیصد کو 9 ہفتے تک روزانہ 12 اونس دہی کا استعمال کرایا گیا جبکہ دیگر کو نان ڈیری پڈنگ کھلائی گئی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ دہی کھانا وقت گزرنے کے ساتھ معدے کی صحت کو بہتر بناتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

سحری میں کیا کھانا چاہیے اور کیا نہیں کھانا چاہیے؟

پاکستان سمیت دنیا بھر میں رمضان المبارک کا آغاز ہوگیا ہے اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس مرتبہ روزے کا دورانیہ تقریباََ 15 گھنٹے سے زائد ہوگا جبکہ موسم بھی انتہائی گرم ہوگا۔

اور اس کو دیکھتے ہوئے سحری کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

ویسے بھی سحری کھانا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور باعث برکت بھی مانی جاتی ہے جو صحت کو بھی فائدہ پہنچاتی ہے۔

مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ سحری میں کیا کھانا چاہیے اور کیا نہیں کھانا چاہیے؟

ویسے یہ ضرور جان لیں کہ سحری میں بہت زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہیے ورنہ معدے کے مختلف مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

سحری میں کیا کھانا چاہیے؟

سحری کے وقت کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور غذائیں جیسے روٹی اور آلو وغیرہ فائدہ مند ہوتی ہیں جو کہ ہضم ہونے میں زیادہ وقت لیتی ہیں جبکہ جسمانی توانائی کو دیر تک برقرار رکھتی ہیں۔

فائبر سے بھرپور پھل اور اجناس جیسے کیلے، سیب اور جو وغیرہ بھی دیر تک پیٹ کو بھرے رکھتے ہیں جبکہ قبض سے بچانے میں بھی مدد دیتے ہیں، تاہم ان کی زیادہ مقدار کھانے سے گریز کرنا چاہیے، ورنہ پیاس زیادہ لگتی ہے۔

پروٹین سے بھرپور غذا کو بھی سحری کا حصہ بنانا چاہیے جن میں انڈے، چکن، دہی اور دالیں وغیرہ قابل ذکر ہیں، پروٹینز روزے دار کو جسمانی طور پر متحرک رہنے کے ساتھ ساتھ جسمانی توانائی کو بھی برقرار رکھتے ہیں۔

زیادہ پانی والی غذائیں اور مشروبات وغیرہ بھی سحری کا حصہ بنائے جاسکتے ہیں، کھیرے، ٹماٹر اور پانی وغیرہ دن بھر میں جسمانی طور پر سست نہیں ہونے دیتے۔

کیا نہیں کھانا چاہیے؟

ایسی غذاﺅں سے گریز کریں جو بہت زیادہ مرچوں یا مصالحے دار ہوں، ان کے استعمال سے سینے میں جلن اور بدہضمی کا خطرہ بڑھتا ہے۔

سحری میں زیادہ چائے پینے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ کیفین سے جسم میں پانی کی سطح کم ہونے سے پیاس بڑھتی ہے۔

اسی طرح نمکین غذاﺅں سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے جسم میں پانی کی کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے۔

زیادہ میٹھی اشیاء کھانے سے بھی گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ بہت تیزی سے ہضم ہوتی ہیں جس سے کچھ گھنٹے بعد ہی بھوک لگنے لگتی ہے۔

شدید گرمی میں دھوپ کی تمازت سے جلد متاثر ہوسکتی ہے، ماہرین طب

کراچی:  شدید گرمی کے دوران براہ راست دھوپ میں نکلنے سے دھوپ کی تمازت کے باعث جلد متاثر ہوسکتی ہے۔

بچوں اور ضعیف افراد کو غیرضروری طور پردھوپ میں نکلنے سے روکاجائے گرمی کی وجہ سے خارج ہونے والے پسینے سے جسم میں نمکیات کی کمی ہوجاتی ہے ایسی صورت میں پانی نہ پینے سے سر درد،چکر آنا اور متلی محسوس ہونے لگتی ہے شہری شدید گرمی میں دن بھر میں15گلاس پانی پئیں، پانی پینے سے خون میں پانی کا تناسب بھی برقرار رہتا ہے،خون میں پانی کی کمی سے سیل کا توازن بھی بگڑ سکتا ہے ۔

ان خیالات کا اظہار ماہرین صحت نے گفتگو میں کیا ماہرین طب کا کہنا تھا کہ گرمی میں تیز مصالحے دار مرغن کھانوں سے پرہیز کیاجائے،گھرکے ٹھنڈے مشروبات مفید ہیں، مشروبات میں لیموں کا رس شامل کیا جائے تاہم ٹھیلوں پر فروخت ہونے والے مشروبات سے اجتناب کیا جائے ،رنگین مشروبات مضر صحت ماحول اور اجزا سے تیارکیے جاتے ہیں ،ماہرین طب نے کہا ہے کہ دوپہر میں دہی اور ہلکی غذا کھائی جائے ،دوپہر12سے4 بجے تک تیز دھوپ میں نکلنے سے اجتناب کریں ،احتیاط ہی علاج سے بہتر ہے ۔

دل کی رگوں کو صاف کرنے والے انجکشن میں اہم کامیابی

شکاگو: دل کی شریانوں میں دھیرے دھیرے چربی اور دیگر اجزا جمع ہونے لگتے ہیں جنہیں مجموعی طور پر ’’پلاک‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس پلاک کے بڑھنے سے دل کو خون کی فراہمی رک جاتی ہے اور دل کے دورے کی وجہ بنتی ہے۔ اب اسے صاف کرنے کے لیے ایک خاص طرح کا ٹیکہ بنایا گیا ہے جس کے بہت مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

اس عمل میں کئی ماہ سے سال لگتے اور پلاک سخت سے سخت ہوتی جاتی ہے۔ خون کی شریانوں میں جمنے والا یہ چکنا مادہ کولیسٹرول، چربی، کیلشیم، فائبرین اور غیرحل پذیر پروٹین پر مشتمل ہوتا ہے۔ پھر شریانوں کی لچک ختم ہوجاتی ہے اور وہ سخت ہوجاتی ہیں جس سے دورانِ خون شدید متاثر ہوتا ہے۔

لیکن اب شکاگو کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے فائنبرگ اسکول آف میڈیسن میں ڈاکٹر نیل منسکھانی اور ان کے ساتھیوں نے خاص قسم کے نینو فائبرز تیار کرکے ان کا انجکشن ایسے چوہوں کو لگایا ہے جن کے دل کی شریانیں بند تھیں۔ ٹیکے میں موجود اجزا نے کولیسٹرول کو ہدف بنایا اور دل کی رگیں کھولنے میں اہم کردار ادا کیا۔

انجکشن میں شامل سب سے اہم جزو نینو میٹر پیمانے کے ریشے ہیں جو بدن کے لیے نقصان دہ نہیں اور وہ نسیجوں اور شریانوں میں جمے کولیسٹرول صاف کرتے ہیں۔ ڈاکٹر نیل کے مطابق یہ ایک غیر جراحی (non-invasive)، غیرتکلیف دہ اور مؤثر طریقہ علاج ہے جس سےقلبی شریانوں کے مرض کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ انجکشن میں ایک اہم امائنوایسڈ ہے جو کولیسٹرول پگھلا کر ختم کردیتا ہے۔

نینو ریشوں کی ڈیزائننگ اور تیاری کا سارا کام تجربہ گاہوں میں کیا گیا ہے۔ بیمارچوہوں کو روزانہ 14 ہفتوں تک نینو ریشوں والا ٹیکہ لگایا گیا اور خاص آلات سے شریانوں کی اندرونی تصاویر لی گئیں۔ صرف 24 گھنٹے میں ہی ٹیکے نے اثر دکھانا شروع کردیا جبکہ ان کی شریانوں کی رکاوٹوں 7 سے 10 دنوں میں بہت افاقہ ہوا۔ 8 ہفتوں میں نر چوہوں کی 11 فیصد اور چوہیاؤں کی شریانوں کی چربی 9 فیصد تک کم ہوئی۔

تاہم یہ ابتدائی کامیابی ہے اور اس ایجاد کو انسانوں تک پہنچنے میں کئی برس لگ سکتے ہیں۔

گردوں میں پتھری کی ان علامات کو کبھی نظرانداز مت کریں

گردوں میں پتھری ایک تکلیف دہ مرض ہوتا ہے جس کا علاج بھی آسان نہیں ہوتا کیونکہ وہ دوبارہ بھی بن سکتی ہے۔

گردوں میں پتھری کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں جیسا پانی کم پینا، خاندان میں اس کے مریضوں کی موجودگی، مخصوص غذائیں خاص طور پر زیادہ نمک اور کیلشیئم والے کھانے، موٹاپا، ذیابیطس، پیٹ کے امراض اور سرجری وغیرہ۔

گردے کی پتھری پیشاب کی نالی کے کسی بھی حصے کو متاثر کرسکتی ہے اور وہاں سے ان کا نکلنا کافی تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔

عام طور پر اس سے کوئی زیادہ نقصان نہیں ہوتا، درد کش ادویات اور بہت زیادہ پانی پینا معمولی پتھری کو نکانے کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے تاہم اگر وہ پیشاب کی نالی میں پھنس جائے یا پیچیدگیوں کا باعث بنے تو پھر سرجری کروانا پڑتی ہے۔

اس حوالے سے آپ کا معالج زیادہ بہتر مشورہ دے سکتا ہے اور پتھری نکل جانے کے بعد اس کے دوبارہ ابھرنے کو روکنے کے لیے اقدامات کے لیے اقدامات تجویز کرسکتا ہے۔

اس کی علامات کیا ہوتی ہے ؟

درحقیقت آغاز میں تو اس کی علامات سامنے نہیں آتیں تاہم گردوں میں حرکت کرنے یا پیشاب کی نالی میں جانے کے بعد یہ علامات سامنے آتی ہیں۔

اچانک اور انتہائی شدید درد

بالغ افراد میں اکثر گردوں میں پتھری کی تشخیص ہی اس وقت ہوتی ہے جب وہ پسلیوں کے نیچے سائیڈ اور پیچھے کی جانب کی بہت شدید درد، ایسا درد جو پیٹ سے نیچے جاتا محسوس ہو یا ایسا درد جس کی لہریں اور ارتعاش شدت سے محسوس ہو کے باعث ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں، معدے اور کمر کے اطراف میں ہونے والا اچانک اور شدید درد ہی اس کی واضح نشانی ہوتی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق گردوں میں پتھری کی صورت میں لوگوں کو اچانک شدید درد کا سامنا ہوتا ہے اور حیران کن بات یہ ہے کہ پتھری کے حجم کا تعلق درد سے نہیں ہوتا، بہت چھوٹی پتھری بھی تکلیف دہ درد کا باعث بن سکتی ہے جبکہ بڑی پتھری سے ہوسکتا ہے درد نہ ہو۔

پیشاب میں خون آنا

ایک اور انتباہی نشانی پیشاب میں خون آنا ہے، ایسا اکثر مریضوں کے ساتھ ہوتا ہے اور طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کوئی اچھی علامت نہیں اور اسے دیکھنے پر فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کیا جانا چاہئے۔

دیگر علامات

اچانک درد اور پیشاب میں خون آنا تو گردوں میں پتھری کی واضح علامات ہیں، مگر چند نشانیوں کا سامنا بھی ہوسکتا ہے جیسے متلی یا جی متلانا، قے ہونا، بہت زیادہ پسینے کا اخراج اور درد کی شدت سے رنگت زرد پڑ جانا وغیرہ۔ چند اقسام کی پتھریوں کے نتیجے میں انفیکشن کا سامنا ہوتا ہے جو کہ بخار کا باعث بنتا ہے۔

پتھری سے بچا کیسے جائے؟

طبی ماہرین کے مطابق ایک آسان طریقہ جس سے لوگ گردوں میں پتھری کو بننے سے روک سکتے ہیں، وہ مناسب مقدار میں پانی کا استعمال ہے کیونکہ ڈی ہائیڈریشن کو گردوں میں پتھری کی ایک بڑی وجہ سمجھا جاتا ہے۔

اگر کوئی ایک سبزی کھانی ہو تو شاخ گوبھی کھائیں، معروف ڈاکٹر کا مشورہ

لندن: برطانیہ کے ایک معروف ڈاکٹر رنگن چیٹرجی کا مشورہ ہے کہ اگر آپ صرف ایک سبزی کھانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے شاخ گوبھی (بروکولی) سے بہتر کوئی اور شے نہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے ایک پروگرام میں اپنی اہم کتاب ’ دی فور پِلر پروگرام‘ میں انہوں نے کہا کہ یہ سبزی انسانی آنتوں میں صحت مند بیکٹیریا کی تعداد بڑھاتی ہے، پورے معدے کو درست کرتی ہے اور جسم کو بیماریوں سے لڑنے کے لیے مضبوط بناتی ہے۔ ڈاکٹر چیٹرجی کے مطابق بروکولی کو سپرفوڈ قرار دیا جانا چاہیے۔

ڈاکٹروں کا اصرار ہے کہ معدے کی صحت پورے جسم پر مفید اثر ڈالتی ہے، وزن کو برقرار رکھتی ہے اور کئی دماغی امراض سے بچاتی ہے، طبِ مشرق میں بھی معدے کی صحت کو ایک اہم حیثیت حاصل ہے اور اسی وجہ سے معدے کو درست رکھنے کی ان گنت دوائیں حکمت کا اہم حصہ ہیں۔

بروکولی کے دیگر فوائد

شاخ گوبھی میں موجود سلفورافین کئی اقسام کے کینسر سے بچاتا ہے جن میں آنتوں کا سرطان سرِفہرست ہے۔

دوسری جانب ایک کپ بروکولی میں 92 مائیکرو گرام وٹامن کے پایا جاتا ہے جو ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے، اس کا باقاعدہ استعمال بڑھاپے میں ہڈیوں کے فریکچر کے خطرے کو کم کرتا ہے۔

اس میں موجود کئی وٹامن اور دیگر مرکبات جلد، بال اور اہم اعضا کو تقویت پہنچاتے ہیں۔

آم کے یہ فائدے جانتے ہیں؟

موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی لوگوں کو جس پھل کا بے صبری سے انتظار ہوتا ہے، وہ کوئی اور نہیں پھلوں کا بادشاہ آم ہے۔

آم نہ صرف لذیذ ہوتے ہں بلکہ صحت کے لیے متعدد فوائد کے بھی حامل ہوتے ہیں اور اعتدال سے کھانے پر یہ مجموعی صحت پر جادوئی اثرات کرسکتا ہے۔

مگر کھانے سے ہٹ کر بھی آم چہرے کی خوبصورتی کے لیے انتہائی کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں۔

آم کا گودا کو جلد پر لگانا متعدد جلدی مسائل کا حل ثابت ہوتا ہے۔

ایسے ہی چند فوائد آپ کو دنگ کردیں گے۔

آم کے گودے کا فیس پیک

گرم موسم میں جلد کی رنگت خراب ہونا عام ہوتا ہے مگر اس سے بچنا بھی آسان ہے۔ آم کا گودا جلد کی نمی بھی بحال رکھتا ہے۔ رنگت صاف رکھنے اور جلد کی نمی برقرار رکھنے کے لیے آم کا گودا لیں اور اسے چہرے پر 2 سے 3 منٹ تک رگڑیں، پھر اسے 5 منٹ کے لیے لگا چھوڑ دیں، جس کے بعد ٹھنڈے پانی سے دھولیں۔ اس سے جلد کی جگمگاہٹ واپس آتی ہے جبکہ رنگت بھی بہتر ہوتا ہے، اس عمل کو موثر نتائج کے لیے ایک ہفتے میں 3 بار دہرائیں۔

آم اور بیسن کا فیس پیک

اس کے لیے پکے ہوئے آموں کا گودا اور 2 چائے کے چمچ بیسن، 1/2 چائے کا چمچ شہد اور چند بادام لیں۔ ایک ڈونگا لیں اور اس میں آم کا گودا ڈال دیں، جس کے بعد بیسن، بادام اور شہد کو گودے میں ڈال کر انہیں اچھی طرح مکس کرکے پیسٹ بنالیں۔ اس مکسچر کو نرمی سے چہرے پر رگڑیں اور 10 سے 12 منٹ کے لیے لگا چھوڑ دیں۔ اس کے بعد پانی سے دھولیں۔ اس عمل کو دوبار دہرانا جھلسی ہوئی جلد کو بحال کرتا ہے۔

آم اور دہی کا فیس پیک

اگر تو آپ کی جلد آئلی ہے تو یہ فیس پیک آپ کے لیے ہی ہے۔ پکے ہوئے آم کا گودا، ایک کھانے کا چمچ دہی اور ایک چائے کا چمچ شہد لے کر انہیں اچھی طرح مکس کرکے گاڑھے پیسٹ کی شکل دے دیں۔ اسے چہرے پر لگائیں اور 10 منٹ بعد دھولیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

گنج پن کے علاج میں پیش رفت

اگرچہ گزشتہ برس مئی میں امریکی جب کہ 2016 میں جاپانی ماہرین نے بھی گنج پن کا ممکنہ علاج دریافت کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

تاہم اب برطانوی ماہرین نے بھی ممکنہ طور گنج پن کے ممکنہ علاج کو دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی ماہرین نے گزشتہ برس کینسر کی رسولیوں کی تحقیق کے دوران اچانک گنج پن کا علاج دریافت کرتے ہوئے ایسی کریم اور روغن متعارف کرانے کا اعلان کیا، جس سے بالوں کا گرنا یا ان کا سفید ہونا بند ہوسکتا تھا۔

ماہرین نے ساتھ ہی کہا تھا کہ اس دریافت میں مزید تحقیق کرنا ہوگی، جس کے بعد ہی کریم یا روغن کو متعارف کرایا جائے گا۔ اسی طرح 2016 میں جاپانی ماہرین نے بھی ایک مصنوعی جلد کے ذریعے گنج پن کا ممکنہ علاج دریافت کیا تھا۔

جاپانی ماہرین نے چوہوں کے مسوڑوں کے ٹشوز کی مدد سے ایک مصنوعی کھال بنا نے کے بعد اس پر مصنوعی بال اگانے کا تجربہ کیا تھا، جو ابتدائی طور پر کامیاب گیا تھا۔

جاپانی ماہرین نے بھی اسے ابتدائی تحقیق قرار دیتے ہوئے اس پر مزید کام کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اب برطانوی ماہرین نے بھی گنج پن کا ممکنہ علاج دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم ساتھ ہی انہوں نے اس پر مزید کام کرنے کی ضرورت پر زور بھی دیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے مطابق یونیورسٹی آف مانچسٹر کے ماہرین نے بھربھری اور کمزور ہڈیوں کے علاج میں استعمال ہونے والی ایک دوا سے گنج پن کا ممکنہ علاج دریافت کیا ہے۔

تحقیق کاروں کے مطابق ہڈیوں کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی دوا نے حیران کن طور پر انسانی جسم میں بال اگانے والے خلیات کو متاثر کرنے والے وائرسز کا راستہ روکنے کا کام کیا۔

ساتھ ہی برطانوی ماہرین نے بھی کہا کہ اس حوالے سے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے، کیوں کہ یہ ابتدائی اور اچانک ہونے والی دریافت ہے۔

ہڈیوں کی کمزوری کے لیے استعمال ہونے والی دوا کا بال اگانے والے خلیات کو مضبوط کرنے کی تحقیق کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ جلد ہی ماہرین گنج پن کے شکار افراد کے لیے کوئی مستند علاج اور حل ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

خیال رہے کہ اس وقت گنج پن کا کوئی بھی سائنسی اور مستند علاج موجود نہیں۔

گنج پن کے شکار افراد ہیئر ٹرانسپلانٹ سمیت مختلف ٹوٹکوں اور دوائیوں کے ذریعے اپنے بال اگانے اور بچانے پر مجبور ہیں۔

گنج پن کا شکار زیادہ تر مرد حضرات ہوتے ہیں، تاہم حالیہ سالوں میں خواتین میں بھی گنج پن کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

گنج پن ہونے کی مختلف وجوہات ہیں، بعض افراد قدرتی طور پر اس مرض کا شکار ہوتے ہیں، جب کہ بعض افراد مختلف مسائل کی وجہ سے اس مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

Google Analytics Alternative