صحت

گوشت میں دھنس جانے والے ناخن سے پریشان؟

ناخن گوشت میں گھس جانا کافی تکلیف دہ ہوتا ہے اور انفیکشن کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

ایسا ہونے پر کئی بار تو دل کرتا ہے کہ ناخن پکڑ کر اس وقت تک کھینچیں جب تک وہ باہر نکل نہ آئے یا ٹوٹ نہ جائے۔

اگر آپ کو بھی اس تکلیف کا سامنا ہے تو ایسی کچھ چیزیں ہوتی ہیں جو اس تکلیف کی حالت میں کرنے سے آرام مل سکتا ہے، جبکہ کچھ چیزوں سے دور رہنا چاہئے۔

عام طور پر گوشت میں ناخن گھسنے کا مسئلہ اس وقت ہوتا ہے جب اسے صحیح طرح سے کاٹا نہ جائے۔

ڈاکٹروں کے مطابق اگر ناخن کو بہت زیادہ اور گوشت کے قریب کاٹا جائے تو اس کی نوک جلد میں داخل ہونے لگتی ہے۔

بتدریج وہ ناخن جلد کے اندر اگنے لگتا ہے اور مسئلہ بن جاتا ہے، اسی طرح تنگ جوتے بھی اس مسئلے کا باعث بن سکتے ہیں۔

تو اس کا گھر بیٹھے علاج کیسے کریں؟

ڈاکٹروں کے مطابق ناخن تراش سے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کوئی زیادہ اچھا طریقہ نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں گوشت کٹنے کا امکان بڑھ جاتا ہے یا زخم پڑسکتا ہے۔

تو اس مسئلے سے نجات کے لیے اپنے پیروں کو روزانہ گرم پانی میں ڈبو دیں، جس سے سوجن اور درد کم کرنے میں مدد ملے گی جو کہ ناخن جلد میں گھسنے میں عام ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق کئی بار اس مسئلے کا حل متاثرہ ناخن کے کچھ حصے کو کاٹ دینا ہوتا ہے، اگر اس میں خون، سوجن، پیپ یا انفیکشن کی دیگر علامات کو دیکھیں تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

وہاں ہونے والی انفیکشن جسم کے دیگر حصوں میں پھیلنے کا بھی امکان ہوتا ہے۔

بے وقت بھوک لگنے پر کبھی یہ چیز نہ کھائیں

سموسے کھانا کس کو پسند نہیں ہوگا، پاکستان میں تو بے وقت بھوک کو مٹانے کے لیے اسے بہت شوق سے کھایا جاتا ہے۔

اگر آپ کو بھی اسے کھانا پسند ہے تو کبھی سوچا کہ صحت کے لیے فائدہ مند ہے یا کہیں مختلف امراض کا باعث تو نہیں بنتا؟

کبھی کبھار اسے کھانا تو ٹھیک ہے مگر اسے عادت بنالینا درحقیقت متعدد طبی مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔

جی ہاں واقعی سموسے صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔

میدے کا استعمال

سموسے میدے سے تیار کیے جاتے ہیں اور یہ جز صحت کے لیے کسی قسم کے فائدے کا حامل نہیں، بلکہ اسے زیادہ مقدار میں جزو بدن بنانا میٹابولک امراض، بلڈ شوگر کی سطح میں اضافے، جسمانی وزن میں اضافے اور امراض قلب کا باعث بن سکتا ہے۔

بہت زیادہ گھی کا ہونا

سموسے کے ہر ٹکڑے کا منفرد مزہ گھی کی بدولت ہوتا ہے، اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ضرورت سے زیادہ گھی کا استعمال صحت کے لیے کتنا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

ٹرانس فیٹ

اگر طبی ماہرین کسی غذا کو سب سے نقصان دہ قرار دیتے ہیں تو وہ ٹرانس فیٹس ہیں، جو صحت کو تو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے بلکہ صحت کو مسلسل نقصان پہنچاتے ہیں جو کہ توند نکلنے کا باعث بھی بنتا ہے جوکہ آج کل بیشتر افراد کا بڑا مسئلہ ہے جبکہ ہائی بلڈ پریشر اور امراض قلب کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

ڈیپ فرائی

سموسوں کو کئی بار تیل میں تلا جاتا ہے تاکہ انہیں گرم رکھا جاسکے، جب تیل میں کوئی چیز ڈیپ فرائی کی جاتی ہے تو ایسے ٹرانس فیٹ بنتے ہیں جو کینسر کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی بیمار ہوتا ہے تو ڈاکٹر سب سے پہلے تلی ہوئی اشیاء سے دوری کا مشورہ دیتے ہیں۔

بہت زیادہ نمک

سموسے کے پیڑے اور اس میں بھرے جانے والے بھرتے سب میں نمک بہت زیادہ مقدار میں ہوتا ہے تاکہ اسے ذائقہ دار بنایا جاسکے۔ اگر اتنا نمک روز جسم کا حصہ بنے تو نیند کے مسائل، جلد کی خرابی، بلڈ پریشر اور دیگر متعدد مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

کاربوہائیڈریٹس کی بھرمار

میدہ اور آلو سموسے کے لازمی اجزاء ہیں اور جب آلوﺅں کو بہت زیادہ گھی، نمک اور میدے کے ساتھ تلا جاتا ہے تو وہ صحت بخش نہیں رہتے۔

بہت زیادہ کیلوریز

سموسوں میں بہت زیادہ چیزیں ہوتی ہیں تاکہ بے وقت بھوک کی تشفی ہوسکے اور اسے خوب تلا بھی جاتا ہے جس کے نتیجے میں کیلوریز بہت زیادہ بڑھ جاتی ہیں، ہوسکتا ہے کہ آپ کو لگے روزانہ یا ایک دن چھوڑ کر ایک سموسہ کھانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، مگر یہ غلط فہمی ہے، اس کے نتیجے میں موٹاپے کا امکان بڑھ جاتا ہے خاص طورپر توند نکلنے کا امکان تو بہت زیادہ ہوتا ہے۔

کن امراض کا خطرہ بڑھتا ہے؟

اگر اسے روز یا ہفتے میں ایک بار بھی کھانا عادت بنالیا جائے تو بھی ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، خون کی شریانوں کے مسائل وغیرہ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

رواں سال ایک کروڑ افراد کینسر سے لقمہ اجل بن جائیں گے، عالمی ادارہ صحت

جینیوا: عالمی ادارہ صحت نے ہولناک خبر سنائی ہے کہ رواں برس پوری دنیا میں ایک کروڑ افراد کینسر کے ہاتھوں موت کے منہ میں چلے جائیں گے جبکہ مزید ایک کروڑ 81 لاکھ افراد کینسر کے شکار ہوجائیں گے۔

عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیوا یچ او) کے تحت کینسر پر تحقیق کے بین الاقوامی ادارے (آئی اے آر سی ) نے مزید کہا ہے کہ ہر پانچ میں سے ایک مرد اور ہر 6 خواتین میں سے ایک اپنی زندگی میں سرطان کے شکار ہوسکتے ہیں۔ دوسری جانب عمررسیدہ آبادی بھی اس کا شکار ہورہی ہے۔

رپورٹ میں ایک حیرت انگیز بات یہ بھی بتائی گئی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں جدید طرزِ زندگی سے کینسر کا مرض بڑھ رہا ہے۔ ان میں سے پھیپھڑوں، چھاتی اور آنتوں کے سرطان سرِ فہرست ہیں جو 33 فیصد اموات کی وجہ بن رہے ہیں۔

آئی اے آر سی سے وابستہ کرسٹوفر وائلڈ نے کہا ہے کہ ’کینسر کی ابتدائی علامات کے فوری بعد علاج شروع کرنا اور مؤثر طرز زندگی اس تباہ کن مرض کو روکنے کا مؤثر راستہ ہے جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے‘۔

ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ خواتین میں اچانک ’ پھیپھپڑوں کے سرطان‘ کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور 28 ممالک میں ان کی شرح بڑھی ہے۔ دوسری جانب ماہرین نے تمباکو نوشی پر سختی سے پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔

نہار منہ یہ مشروب پینا فائدہ مند

ادرک بہت عام استعمال ہونے والی چیز ہے جو لگ بھگ پاکستان میں ہر کھانے کا حصہ ہوتی ہے۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ صحت کے لیے کتنی بہترین چیز ہے ؟ بدہضمی سے لے کر جسمانی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے تک یہ جڑی بوٹی متعدد فوائد کی حامل ہے۔

اس کا استعمال نہار منہ کرنا نظام ہاضمہ کو بہتر کرتا ہے، دل متلانے اور دیگر ہاضمے کے مسائل کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس موسمی نزلہ زکام سے نجات دلانے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

ادرک خون کی شریانوں کے لیے بھی بہترین ہے جو کہ خون میں کولیسٹرول کی سطح کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

نہار منہ ادرک کو پانی میں ملا کر پینا آپ کی صحت کے لیے متعدد فوائد کا حامل ہوسکتا ہے۔

اس کو بنانے کا طریقہ درج ذیل ہیں :

اجزا

ادرک کے دو انچ کے ٹکڑے

چوتھائی کپ لیموں کا عرق

تین کپ پانی

شہد

تیاری

ادرک کو چھل کر کدوکش کرلیں اور پھر پانچ منٹ تک پانی میں ابالیں۔

اس کے بعد اسے ٹھنڈا ہونے کے لیے رکھ دیں اور جب پانی ٹھنڈا ہوجائے تو آخر میں اس میں لیموں کے عرق اور شہد کا اضافہ کردیں۔

اس مکسچر کو صبح ناشتے سے پہلے یعنی نہار منہ پینا فائدہ مند ہوتا ہے جو کہ متعدد طبی مسائل کی روک تھام یا علاج میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ نظام ہاضمہ اور میٹابولزم کو بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ جسمانی وزن میں کمی لانے میں بھی موثر ثابت ہوتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

ہارٹ اٹیک اور فالج سے بچاؤ کا نسخہ آپ کے کچن میں

کیا آپ خود کو ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے جان لیوا امراض سے بچانا چاہتے ہیں؟ تو اپنی روزمرہ کی مصروفیات میں بس ایک چیز کا اضافہ کرلیں۔

اور وہ چیز ہے دودھ یا اس سے بنی مصنوعات۔

یہ بات کینیڈا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

میک ماسٹر یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ دودھ جسم کے لیے بہت فائدہ مند ہے اور اسے پینا یا اس سے بنی مصنوعات کا استعمال خون کی شریانوں سے جڑے امراض جیسے ہارٹ اٹیک یا فالج وغیرہ کا خطرہ کم کرتا ہے۔

اس تحقیق میں 21 ممالک سے تعلق رکھنے والے 35 سے 70 سال کی عمر کے 36 ہزار سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا۔

تحقیق کے دوران دیکھا گیا کہ یہ لوگ ایک دن میں دودھ یا اس سے بنی مصنوعات کا کتنا استعمال کرتے ہیں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ دودھ کا استعمال خون کی شریانوں کے مسائل سے لاحق ہونے والی بیماریوں کا خطرہ کافی حد تک کم کردیتا ہے۔

اسی طرح زیادہ مقدار میں دودھ پینے کی عادت بھی امراض قلب اور فالج کا خطرہ کم نمایاں حد تک کم کردیتی ہے، چاہے وہ دودھ چکنائی والا ہو یا بغیر چکنائی والا۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ کم آمدنی والے افراد کے لیے دودھ ک استعمال اچھی صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہے، جس کے لیے زیادہ خرچے کی ضرورت بھی نہیں۔

اس سے قبل گزشتہ دنوں ہی یہ بات سامنے آئی تھی کہ پنیر کھانے کی عادت دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ گائے کا دودھ غذائی معیار کے لحاظ سے دیگر اقسام سے زیادہ بہتر ہوتا ہے اور اس کے ایک گلاس میں دیگر کے مقابلے میں 8 گنا زیادہ پروٹٰن ہوتا ہے، جبکہ فاسفورس، پوٹاشیم، وٹامن ڈی کے ساتھ ساتھ کیلوریز بھی بہت کم ہوتی ہیں۔

100 ڈالرکا دنیا کا سب سے چھوٹا الٹراساؤنڈ سسٹم

وینکووا: ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی کے باوجود الٹرا ساؤنڈ مشینیں اب بھی مہنگی اور بھاری بھرکم ہیں لیکن اب یونیورسٹی آف کولمبیا کے ماہرین نے زخم پر باندھنے والی پٹی جتنا الٹراساؤنڈ سسٹم بنالیا ہے جس کی قیمت صرف 100 ڈالر یا پاکستانی 12500 روپے ہے۔

یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا (یوبی سی )، کینیڈا کے ماہرین نے نئی تکنیک کے ذریعے الٹراساؤنڈ کا عمل سادہ اور کم خرچ بنادیا ہے۔ اس میں داب برق (پیزوالیکٹرک) معدن کے بجائے پولیمر سے بنا گوند نما مادہ استعمال کیا گیا ہے جو تھرتھراہٹ پیدا کرکے ٹرانس ڈیوسر کا کام کرتا ہے۔ اسے ’’پولی سی ایم یو ٹی ٹرانس ڈیوسر ڈرم‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

عموماً الٹراساؤنڈ میں داب برق (پیزوالیکٹرک) کرسٹلز استعمال کیے جاتے ہیں جو کرنٹ ملنے پر شکل بدلتے ہیں اور تھرتھراہٹ (وائبریشن) پیدا کرتے ہیں۔ آواز کی لہروں میں یہ ارتعاشات جسم میں جاتے ہیں اور وہاں موجود اعضا سے ٹکرا کر ریڈار کی لہروں کی طرح واپس لوٹتے ہیں۔

اب یہی داب برق کرسٹلز ان صوتی لہروں کو دوبارہ بجلی میں بدلتے ہیں اور پروسیسنگ کے بعد اس کی ایک تصویر ظاہر کرتے ہیں۔ اس تصویر کو دیکھ کرماہرین جسم کےاندر بیماری مثلاً پتھری وغیرہ کا پتا لگاتے ہیں۔

عموماً یہ ٹرانس ڈیوسر ڈرم سخت سلیاکن سے بنائے جاتے ہیں جو مہنگا اور ماحول دشمن عمل ہے اور اسی لیے الٹراساؤنڈ کےلیے یہ بہتر امیدوار نہیں۔ مگر اب بی یوٹی کے پی ایچ ڈی طالب علم نے پولیمرکی سے عین پیزوالیکٹرک مٹیریل کا کام لیا ہے۔ اس طرح بہت سے پرزوں کی ضرورت بھی ختم ہوگئی جس سے اس کی قیمت کم ہوتی گئی۔

ابتدائی تجربات سے معلوم ہوا کہ اس چھوٹے الٹراساؤنڈ سے عین وہی نتائج حاصل ہوتے ہیں جو کسی بڑے اور مہنگے الٹراساؤنڈ سے حاصل کئے جاتے ہیں۔ اس کی دوسری اچھی بات یہ ہے کہ اسے 10 وولٹ بجلی درکار ہوتی ہے اور یہ اسمارٹ فون اور پاور بینک سے بھی چل سکتا ہے۔

اس طرح کا الٹراساؤنڈ کسی بھی لچکدار شکل میں ڈھل کر بدن پر لپیٹا بھی جاسکتا ہے۔ اچھی بات یہ ہے مزید تحقیق کرکے اس نظام سے رگوں اور شریانوں کو دیکھنا بھی ممکن ہوسکے گا۔ اس طرح یہ الٹراساؤنڈ مستقل دل اور دیگر اعضا کی کیفیات سے بھی آگاہ کرے گا۔

مسواک کا استعمال کتنا فائدہ مند؟

مسواک کا استعمال سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے جو کہ دانتوں کی صفائی کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

نیم، زیتون، پیلو یا کسی بھی پودے کی ریشہ دار ٹہنی کو کہتے ہیں جو عام طور پر انگلی جتنی باریک اور ایک بالشت لمبی ہوتی ہے۔

مگر کیا آپ اس کے استعمال کے فائدے جانتے ہیں ؟

مسوڑوں کی سوزش اور پلاک سے تحفظ

دانتوں کی صفائی کے لیے مسواک کے استعمال سے منہ میں بیکٹریا کی سرگرمیوں کو روکنے میں مدد ملتی ہے جس سے پلاک (دانتوں پر جمنے والی گندگی) اور مسوڑوں کی سوزش جیسے مرض سے بچنے میں مدد ملتی ہے، مسواک میں موجود اینٹی بایوٹک بیکٹریا کی نشوونما کو روکتے ہیں۔

کسی لت سے نجات میں مددگار

طبی ماہرین کے مطابق اگر آپ کسی لت جیسے تمباکو نوشی وغیرہ کے عادی ہیں، تو مسواک کا استعمال اس سے نجات میں مدد دے سکتا ہے۔

مسوڑوں کو مضبوط بنائے

مسواک نہ صرف دانتوں کی صفائی کرتی ہے بلکہ مسوڑوں کو بھی مضبوط بناتی ہے۔

سانس کی بو سے نجات

مسواک کا استعمال معمول بنالینا سانس میں بو کے مسئلے کو ہمیشہ دور رکھتا ہے۔

دانتوں کی سطح مضبوط بنائے

مسواک میں پوٹاشیم، سوڈیم، کلورائیڈ، کیلیشیئم آکسائیڈ اور سوڈیم بائی کاربونیٹ موجود ہوتا ہے، یہ منرلز دانتوں کی سطح مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔

دانتوں کو سفید کرے

مسواک کا استعمال چائے، کافی، کھانے کے ذرات، تمباکو کی مصنوعات اور چھالیہ وغیرہ سے دانتوں پر لگنے والے داغوں کو کم کرنے بلکہ سفیدی واپس لانے کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔

دانتوں کی فرسودگی سے بچائے

عمر بڑھنے کے ساتھ دانتوں کی فرسودگی عام مسئلہ ہوتا ہے اور وہ جلد ٹوٹنے لگتے ہیں، مسواک کا استعمال اس سے تحفظ دینے میں مدد دیتا ہے کیونکہ یہ جراثیموں کا خاتمہ کرتا ہے۔

دانت کا درد دور کرے

چونکہ مسواک کا استعمال بیکٹریا اور جراثیموں کا خاتمہ کرتا ہے تو دانتوں کے درد سے ریلیف کے لیے بھی یہ مدد دیتا ہے۔

پیشاب کی رنگت آپ کی صحت کے بارے میں کیا بتاتی ہے؟

کیاآپ کو معلوم ہے کہ پیشاب کی رنگت آپ کی صحت کے بارے میں کافی کچھ بتاسکتی ہے؟

جی ہاں سننے میں تو عجیب لگے گا مگر آپ جب بھی ٹوائلٹ کا رخ کریں تو آپ کے پاس صحت کو جانچنے کا ایک موقع ہوتا ہے اور اس مقصد کے لیے پیشاب کی رنگت مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

مختلف کھانے اور ادویات پیشاب کی رنگت کو بدل سکتے ہیں اور اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کب ڈاکٹر کا رخ کرنا چاہئے۔

یہاں آپ جان سکیں گے کہ پیشاب کی کونسی رنگت خطرے کی گھنٹی ہے جبکہ کس رنگ پر فکرمند نہیں ہونا چاہئے۔

نارنجی

اگر پیشاب کی رنگت نارنجی یا اورنج ہو تو یہ وٹامن بی ٹو یا بیٹا کیروٹین (گاجر) کے بہت زیادہ استعمال کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے یا ورم کش ادویات، کیموتھرپی ادویات اور جلاب کا اثر بھی۔ تاہم اگر ایسا نہیں تو زیادہ مقدار میں پانی پی کر دیکھیں کیونکہ ڈی ہائیڈریشن سے بھی پیشاب کی رنگت گہرے زرد سے اورنج میں بدل سکتی ہے، پانی پینے کے بعد دیکھیں کہ وہ رنگت معمول پر آئی یا نہیں، تاہم ایسا نہ ہو تو آنکھوں کو معائنہ کریں کہ سفید حصہ میں ہلکی سی زردی تو نہیں، جو کہ جگر کے افعال میں خرابی کی علامت ہوتی ہے۔

بھورا رنگ

اگر پیشاب کی رنگت بھوری ہو تو یہ جسم میں بہت زیادہ پانی کی کمی ہوسکتی ہے تاہم مناسب پانی پینے کے بعد بھی رنگت میں تبدیلی نہ آئے تو یہ جگر کے امراض جیسے ہیپاٹائٹس اور دیگر کی علامت ہوسکتی ہے، ایسی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کیا جانا چاہئے۔

گلابی اور سرخی مائل

اگر پیشاب کی رنگت گلابی یا سرخ ہے تو خطرے کی گھنٹی بھی ہوسکتی ہے، مگر اس سے پہلے یہ دیکھیں کہ حال ہی میں چقندر، پیزا وغیرہ تو نہیں کھایا، اگر ہاں تو پھر فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح ٹی بی کے لیے کھائی جانے والی ادویات سے بھی پیشاب کی رنگت میں ایسی تبدیلی آسکتی ہے۔ تاہم اگر ایسا کچھ نہیں تو یہ خون ہوسکتا ہے جو گردوں کے امراض، رسولی، پیشاب کی نالی میں انفیکشن یا مثانے کے امراض کی علامت ہوسکتے ہیں، تو پہلی فرصت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔

سبز یا نیلا

اگر پیشاب کی رنگت نیلی یا سبز ہوجائے تو ایسا اکثر فوڈ کلر کی وجہ سے ہوتا ہے جو کچھ ادویات میں استعمال ہوتا ہے یا ایسے غذائیں بھی اس کی وجہ ہوسکتی ہیں جنھیں رنگا گیا ہو، اگر یہ مسئلہ ایک یا 2 دن میں حل نہ ہو تو پھر ڈاکٹر سے رجوع کریں کیونکہ سبز رنگت پیشاب کی نالی میں سنگین مسئلے کا اشارہ ہوسکتی ہے۔

جھاگ دار

اگر پیشاب جھاگ دار ہورہا ہے تاہم ایسا کبھی کبھار ہو تو پریشانی کی بات نہیں بلکہ یہ پیشاب کرنے کی رفتار کا نتیجہ ہوسکتا ہے، تاہم ایسا بار بار ہو اور وقت کے ساتھ جھاگ نمایاں ہونے لگے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں، کیونکہ عام طور یہ جھاگ پروٹین کے اخراج کی نشانی ہوتا ہے جو کہ گردوں کی امراض کی علامت ہوسکتی ہے۔

شفاف رنگت

اگر پیشاب بے رنگ یا بالکل پانی کی طرح شفاف ہو تو اس کا مطلب ہے کہ آپ بہت زیادہ پانی پی رہے ہیں، جو کہ چند خطرات کا باعث بن سکتا ہے، مگر سب سے اہم جسم میں نمکیات کی کمی ہے جس سے جسم میں کیمیائی عدم توازن پوسکتا ہے۔

ہلکا زرد، شفاف زرد یا گہرا زرد

عام طور پر پیشاب معمولی سا زرد ہو تو اس سے پتا چلتا ہے کہ آپ صحت مند ہیں اور جسم کو مناسب مقدار میں پانی مل رہا ہے۔ اگر پیشاب کی رنگ کافی حد تک زرد ہو تو یہ بھی نارمل ہونے کی علامت ہے تاہم اگر وہ کچھ زیادہ زرد رنگ کا ہو تو اس کا مطلب ہے کہ آپ صحت مند تو ہیں مگر جسم میں پانی کی کمی ہورہی ہے اور آپ کو پانی پی لینا چاہئے۔ اسی طرح اگر اس کی رنگت شہد جیسی ہو تو یہ واضح طور پر ڈی ہائیڈریشن کی نشانی ہے جس کا علاج پانی کے زیادہ استعمال سے ہی ممکن ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Google Analytics Alternative