صحت

آخر ان میٹھے مشروبات سے دوری کیوں ضروری ہے؟

 zxcانسانی دماغ ہمیشہ سے ہی مٹھاس کا دیوانہ رہا ہے مگر ماضی میں کبھی ہمارے آباﺅ اجداد کو بہت زیادہ چینی اور کیلوریز سے بھرپور کولڈ ڈرنکس جیسی چیز نہیں ملی تھی۔

اس مشروب کا بہت زیادہ استعمال موٹاپے کا شکار کرتا ہے، جبکہ اس سے پیدا ہونے والا کیمیائی ردعمل دماغ کو بتاتا ہے کہ ہم کچھ اچھا کر رہے ہیں حالانکہ ایسا ہوتا نہیں۔

اس کے نتیجے میں چینی کا استعمال ایک عادت بن جاتی ہے جسے ترک کرنا ناممکن سا ہوجاتا ہے جو ذیابیطس، دل کی بیماریوں اور فالج وغیرہ کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔

مگر یہ مشروب ہماری توقعات سے بھی زیادہ صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہ وجوہات جان کر آپ اگلی بار اس کو استعمال کرنے سے پہلے کئی بار سوچیں گے ضرور۔

ضروری اجزا سے محرومی

جو لوگ صحت بخش مشروبات کی جگہ سوڈے کو ترجیح دیتے ہیں ان کو مناسب مقدار میں وٹامن اے، کیلشیئم اور میگنیشم کی کمی کا امکان ہوتا ہے، اسی طرح سوڈے میں فاسفورس ایسڈ موجود ہوتا ہے جو کہ جسم میں کیلشیئم اور میگنیشم کی سطح کم کرتا ہے اور یہ دونوں اجزا ہڈیوں سمیت متعدد جسمانی افعال کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔

ذیابیطس کا خطرہ بڑھتا ہے

یہ بتانے کی ضرورت نہیں ان مشروبات میں شیرے کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو جسم میں نقصان دہ فری ریڈیکلز بننے کی رفتار بڑھا دیتے ہیں جس سے ٹشوز کو نقصان پہنچتا ہے اور وقت کے ساتھ ذیابیطس کا مرض لاحق ہوجاتا ہے جبکہ ذیابیطس کی پیچیدگیوں کا امکان بھی بڑھتا ہے۔

موٹاپے کا شکار

ڈائٹ سوڈا جسمانی وزن میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ ڈائٹ سوڈا پیتے ہیں ان میں موٹاپے کا امکان ہر کین کے ساتھ 41 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ درحقیقت کسی بھی قسم کی مٹھاس جسمانی خلیات کو چربی اور کاربوہائیڈریٹس کو ذخیرہ کرنے کا سگنل دیتی ہے جس سے بھوک زیادہ لگتی ہے۔ مٹھاس سے انسولین کا اخراج بھی ہوتا ہے جس سے جسم کی چربی گھلانے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔

بہت زیادہ چینی

دن بھر میں دو کولڈ ڈرنکس کا استعمال لوگوں کے اندر مٹھاس کے حوالے سے تصور کو متاثر کرتا ہے اور ان کے اندر چینی کی طلب میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔ برطانیہ کی بنگور یونیورسٹی کی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ چونکہ مٹھاس کا دماغ کے طلب کے حصے سے مضبوط تعلق قائم ہوجاتا ہے اس لیے لوگ چینی کا بہت زیادہ مقدار میں استعمال کرنے لگتے ہیں جبکہ کولڈ ڈرنکس میں موجود بلبلے بھی یہ اثر بڑھاتے ہیں کیونکہ اس سے ہماری زبان کے ذائقے کی لذت بڑھ جاتی ہے۔

فاسفورس ایسڈ کی موجودگی

یہ ایسڈ جسم کی قدرتی طور پر کیلشیئم جذب کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے، کیلشیئم کی کمی ہڈیوں کی کمزوری، بھربھرے پن اور دانتوں کی کیویٹیز کا باعث بن سکتی ہے، فاسفورس ایسڈ معدے میں موجود ایسڈ کو بھی نقصان پہنچا کر نظام ہاضمہ کو متاثر کرسکتا ہے۔

ڈی ہائیڈریشن کا امکان

سوڈا پینے کی عادت کے نتیجے میں جسم کو ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ بھی لاحق ہوتا ہے جس کی وجہ ان میں چینی، سوڈیم اور کیفین کی زیادہ مقدار ہوتی ہے۔ بیشتر افراد کھانے کے ساتھ ان مشروبات کا استعمال کرتے ہیں اور پانی کی اہمیت کو فراموش کردیتے ہیں۔

ڈائٹ سوڈا میں مصنوعی مٹھاس کی موجودگی

ڈائٹ مشروبات میں چینی کی جگہ aspartame موجود ہوتا ہے جو کہ جسم کے لیے زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے، تحقیقی رپورٹس کے مطابق aspartame ذیابیطس، جذباتی عارض اور دیگر طبی مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔

اس میں کوئی فائدہ مند جز نہیں ہوتا

درحقیقت ان مشروبات کی غذائی ویلیو صفر ہوتی ہے، منہ کاذائقہ بہتر کرنے کے علاوہ ان کا کوئی بھی مثبت فائدہ اب تک سامنے نہیں آسکا ہے۔

دانتوں کے لیے نقصان دہ

ان مشروبات میں شامل چینی دانتوں کے مسوڑوں میں بیکٹریا کی سرگرمیاں بڑھا دیتی ہے جس کے نتیجے میں مضرصحت ایسڈز کا اخراج ہوتا ہے جو دانتوں کے ٹوٹنے کا باعث بن جاتی ہیں۔ مگر بات یہی تک نہیں برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق یہ مشروب فروٹ جوسز کے مقابلے میں دانتوں کے لیے دس گنا زیادہ تباہ کن ثابت ہوتا ہے چاہے اس میں چینی کی مقدار جوس جتنی ہی ہو یہاں تک کہ چینی سے پاک ڈائٹ مشروبات بھی دانتوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں، جس کی وجہ اس میں شامل سٹرک ایسڈ اور کاربونیٹ ایسڈ ہوتا ہے۔

جگر کے امراض

کولڈ ڈرنکس کے نتیجے میں جگر میں چربی بڑھنے کے امراض کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ایک اسرائیلی تحقیق کے مطابق جو لوگ روزانہ دو کین کولڈ ڈرنکس کا استعمال کرتے ہیں ان میں جگر کے امراض کا خطرہ پانچ گنا زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پھلوں سے حاصل ہونے والی چینی سے بنے مشروبات جگر میں جذب ہوکر چربی کی شکل میں تبدیل ہوجاتے ہیں اور مختلف جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں۔

رمضان میں روزے رکھنے کا ایک اور فائدہ سامنے آگیا

رمضان میں دنیا بھر میں مسلمان روزے رکھتے ہیں اور اس سے انہیں خطرناک امراض سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

بیلور کالج آف میڈیسین کی تحقیق میں بتایا گیا کہ رمضان میں روزہ رکھنے سے انسولین کی مزاحمت کا خطرہ کم ہوتا ہے جس سے ذیابیطس جیسے مرض سے بچنے میں مدد ملتی ہے جبکہ جسمانی وزن کو صحت مند سطح پر رکھنا بھی ممکن ہوجاتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ رمضان میں روزے رکھنے کے دوران سحر سے افطار تک کھانے پینے سے دوری کے نتیجے میں جسم میں ایسے پروٹینز کی سطح بڑھ سکتی ہے جو کہ انسولین کی مزاحمت کو بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ زیادہ چربی اور چینی والی غذاﺅں سے لاحق ہونے والے خطرات سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں 65 کروڑ سے زائد افراد موٹاپے کا شکار ہیں جس کے نتیجے میں متعدد امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے مگر روزے ذیابیطس، میٹابولک سینڈروم اور جگر پر چربی چڑھنے جیسے امراض سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ کھانا اور روزہ جسم پر نمایاں اثرات مرتب کرتے ہیں جیسے کس طرح پروٹینز کو بنانا اور استعمال کرنا ہے جو کہ انسولین کی مزاحمت کا خطرہ کم کرنے اور صحت مند جسمانی وزن کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کھانے پینے کے اوقات اور ان کے درمیان وقفہ ایسے اہم عوامل ہیں جو موٹاپے سے منسلک عوارض سے متاثر افراد کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔

اس تحقیق کے دوران 14 صحت مند افراد کا جائزہ لیا گیا جنہوں نے رمضان کے مہینے میں 30 دن تک روزانہ 15 گھنٹے کا روزہ رکھا۔

محققین نے ان افراد کے خون کے نمونے رمضان کے آغاز سے پہلے لیے اور ایک بار پھر رمضان کے چوتھے مہینے اور رمضان کے ایک ہفتے بعد لیے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ خون کے نمونوں میں ٹروپومایوسن (ٹی پی ایم)ون، تھری اور فور پروٹینز کی سطح بڑھ گئی ہے جو کہ خلیات کی صحت اور خلیات کی مرمت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جس سے انسولین کے حوالے سے جسمانی ردعمل بہتر ہوتا ہے۔

ٹی پی ایم تھری انسولین کی حساسیت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے جس سے جسم کو بلڈگلوکوز کو زیادہ موثر طریقے سے استعمال کرنے میں مدد ملتی ہے جبکہ بلڈ شوگر کم ہوتی ہے۔

نتائج میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ ٹی پی ایم تھری جین پروٹین رمضان کے ایک ہفتے بعد بھی جسم میں موجود تھے جبکہ ٹی پی ایم ون اور ٹی پی ایم فور پروٹین کے بارے میں بھی یہی دریافت کیا گیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہم اب تحقیق کا دائرہ ایسے افراد تک پھیلانے والے ہیں جو میٹابولک سینڈروم اور جگر پر چربی چڑھنے کے امراض کا شکار ہوں تاکہ تعین کیا جاسکے کہ ایسے افراد اگر روزہ رکھیں تو ان پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیق کے نتائج پر ہمارا ماننا ہے کہ سحر سے افطار تک روزہ رکھنا موٹاپے سے جڑے عوارض سے تحفظ دینے کے لیے ایک اچھا ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے ڈائجسٹیو ویک 2019 کانفرنس میں شائع ہوئے۔

ائیر کنڈیشنر کا ایسا نقصان جو کسی نے سوچا بھی نہیں تھا

کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ دفاتر میں خواتین ائیرکنڈیشنر کی ہوا سے پریشان رہتی ہیں؟ کیونکہ یہ ٹھنڈی مشین ان کی ذہنی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ اے سی کو بند کرنا دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کی ذہنی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔

تحقیق کے مطابق کمرے کا درجہ حرارت زیادہ ہونے پر خواتین ریاضی اور زبانی ٹیسٹوں میں زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

مگر مردوں کے معاملے میں ایسا نہیں بلکہ وہ سرد ماحول میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ یہ پہلی تحقیق ہے جس میں مردوں اور خواتین پر درجہ حرارت سے ذہنی کارکردگی پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ایسی سائنسی وجوہات موجود ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آخر مردوں اور خواتین کے درمیان اے سی کا درجہ حرارت بڑھانے یا کم کرنے کے معاملے پر جنگ کیوں جاری رہتی ہے۔

اس سے قبل یوٹاہ یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ خواتین کے ہاتھ اور پیر مردوں کے مقابلے میں جلد ٹھنڈے ہوجاتے ہیں۔

اسی طرح میری لینڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ مردوں کا میٹابولک ریٹ خواتین کے مقابلے میں 23 فیصد زیادہ ہوتا ہے یعنی خواتین کے جسم مردوں کے جسم کے مقابلے جلد سردی سے متاثر ہوجاتے ہیں۔

اس نئی تحقیق میں محققین نے 500 طالبعلموں کی خدمات حاصل کیں اور ان پر اے سی کے اثرات کا جائزہ ستمبر 2017 سے دسمبر 2017 کے درمیان لیا گیا۔

ان رضاکاروں سے منطق، ریاضی اور زبانی ٹیسٹ ایسے کمرے میں لیے گئے جہاں کا درجہ حرارت 16 سینٹی گریڈ سے 32 سینٹی گریڈ کے درمیان تھا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جب کمرے کا درجہ حرارت گرم ہوا تو طالبات نے زیادہ بہتر نتائج کا مظاہرہ کیا اور نہ صرف زیادہ سوالات کے جوابات درست دیئے بلکہ زیادہ جواب جمع کرائے۔

اس کے مقابلے میں مردوں نے سرد درجہ حرارت میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہر کیا مگر جب درجہ حرارت بڑھایا گیا تو ان کی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے پلوس ون میں شائع ہوئے۔

کالی مرچ کے استعمال کے یہ فوائد جانتے ہیں؟

کالی مرچ ایسا مصالحہ ہے جس کا پاکستان میں استعمال بہت عام ہے اور لگ بھگ ہر کھانے میں اسے ڈالا جاتا ہے۔

اگر رمضان کے حوالے سے بات کی جائے تو کالی مرچ کے استعمال میں کافی اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ کھانے میں ڈالنے سے ہٹ کر بھی یہ کتنی فائدہ مند ہے؟

جی ہاں مختلف امراض کے ساتھ ساتھ یہ بہت کچھ ایسا کرتی ہے جو آپ کو حیران کردے گا۔

پیٹ کے مسائل دور کرے

غذا میں کالی مرچ کا زیادہ استعمال معدے کے لیے بہتر ہوتا ہے کیونکہ یہ کھانے کو ہضم کرنے میں مدد دیتی ہے، جبکہ یہ معدے کے ایسے تیزاب کو بھی حرکت میں لاتی ہے جس سے کھانے جلد ہضم ہوتا ہے اور قبض ختم ہوجاتا ہے۔

گیلی کھانسی سے آرام

گیلی کھانسی پر قابو پانا چاہتے ہیں تو کالی مرچ کو شہد کے ساتھ چائے میں استعمال کریں۔ کالی مرچ بلغم کو حرکت میں لائے گی جبکہ شہد کھانسی سے آرام دلانے والی قدرتی چیز ہے۔ ایک چائے کا چمچ پسی ہوئی کالی مرچ اور دو چائے کے چمچ ایک کپ میں ڈالیں، اس کے بعد اسے ابلتے ہوئے پانی سے بھردیں اور پندرہ منٹ بعد ہلا کر پی لیں۔ ایک اور گھریلو ٹوٹکا یہ ہے کہ لیموں کی قاش پر کالی مرچ چھڑکیں اور اس قاش کو جتنا ہوسکے چوسیں تاکہ کھانسی سے فوری ریلیف مل سکے۔

کپڑوں کے رنگ مدھم نہ ہونے دے

دھونے سے آپ کی پسندیدہ شوخ رنگ قمیض کا رنگ مدھم ہوگیا ہے؟ اگر ہاں تو اگلی بار دھوتے ہوئے ایک چائے کا چمچ کالی مرچیں واشنگ مشین میں ڈالے گئے کپڑوں پر چھڑک دیں، جس کے بعد مشین کو چلائیں۔ یہ رنگوں کو برقرار رکھے گی۔

تمباکو نوشی ترک کریں

ایک تحقیق کے مطابق نکوٹین استعمال کرنے والے کالی مرچ کے تیل کی مہک کو سونگھتے ہیں تو تمباکو نوشی کے لیے ان کی خواہش میں کمی آتی ہے۔ ایسے کرنے سے لوگوں کے گلے میں ایک جلن سی پیدا ہوتی ہے جو کہ کچھ ایسا لطف پہنچاتی ہے جیسے سیگریٹ پیتے ہوئے محسوس ہوتی ہے۔

تھکے ہوئے مسلز کو آرام پہنچائیں

ورزش کے بعد عدم اطمینان محسوس ہورہا ہے؟ تنے ہوئے مسلز کو ڈھیلا کرنے کے لیے سیاہ مرچ کے تیل سے مالش کریں، یہ ایک گرم تیل مانا جاتا ہے جو اس جگہ خون کی گردش اور حرارت بڑھا دیتا ہے جہاں اسے لگایا جائے۔ دو قطرے سیاہ مرچ کے تیل کو چار قطرے روزمیری آئل میں ملائیں اور پھر اسے براہ راست جہاں لگانا ہو لگالیں۔

جلدی نگہداشت کے لیے فائدہ مند

کالی مرچ جراثیم کش اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہے جو شفاف جلد کے حصول میں مدد دیتی ہے۔ یہ مرچ خون کی گردش کو قدرتی طور پر بڑھا دیتی ہے اور اپنی حرارت سے جلد میں مساموں کو کھول کر ان کی صفائی کرتی ہے۔

کھٹملوں سے نجات میں مددگار موثر طریقے

کچھ عرصے قبل ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ زندگی اجیرن کردینے والے خون چوسنے والے کیڑے یعنی کھٹمل مخصوص رنگوں کو پسند نہیں کرتے۔

یونین کالج کی اس تحقیق کے مطابق سیاہ اور سرخ رنگ کو بہت زیادہ پسند کرتے ہیں جبکہ سبز اور زرد کو ناپسند۔

تاہم محققین کا کہنا تھا کہ دیانتداری کی بات تو یہ ہے کہ کھٹملوں کو جو رنگ پسند نہیں ان کا استعمال ضروری نہیں انہیں آپ سے دور رکھ سکے تاہم اس حوالے سے وہ کسی طریقہ کار کی تیاری پر ضرور کام کریں گے۔

اسی طرح شیفیلڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ کیڑے گندے کپڑوں کی جانب لپکتے ہیں اور کھٹملوں کو سونے کے بستر سے دور رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ کپڑوں کو سونے کے کمرے میں کبھی نہ چھوڑیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ ایک بار جب کھٹمل کسی کمرے میں آجائیں تو ان سے نجات بہت مشکل ہوتی ہے جس کے نتیجے میں لوگ اپنے ملبوسات اور فرنیچر سے جان چھڑاتے ہیں جو انہیں کافی مہنگا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گندے کپڑوں کو کسی بیگ میں بند کرکے رکھا جائے جس سے ان سے نجات پانا کچھ حد تک آسان ہوجائے گا جبکہ ان کا پھیلاؤ بھی تھم جائے گا۔

تاہم کچھ گھریلو ٹوٹکے ضرور ایسے ہوتے ہیں جو ہوسکتا ہے آپ کو ان خون چوسنے والے کیڑوں سے نجات دلا سکیں۔

کھٹملوں سے نجات کے لیے تمام چیزوں کو دھو دیں

تمام کپڑے یا کوئی بھی چیز جو کھٹمل کی زد میں آچکی ہو جیسے بستر کی چادر، کمبل یا دیگر، انہیں گرم پانی سے اچھی طرح دھو دیں۔ کھٹمل بہت زیادہ گرم پانی میں زندہ نہیں رہ پاتے اور انہیں ختم کرنے کا یہ آسان ترین طریقہ ہے۔

تمام متاثرہ جگہوں کو دھو ڈالیں

کپڑے یا چادریں دھونے کے بعد متاثرہ جگہوں اور چیزوں کو اچھی طرح صاف کریں۔ کمروں کی صفائی ہی کھٹملوں سے نجات دلانے کا واحد ذریعہ ہے۔

دھوئیں سے مدد لیں

اگرچہ گرم پانی سے دھلائی کپڑوں یا چادروں کو کھٹملوں سے پاک کردیتی ہے مگر آپ میٹریس میں ان کے انڈوں کا خاتمہ نہیں کرپاتے اور وہ ایک بار پھر اپنی آبادی بڑھا کر زندگی اجیرن کردیتے ہیں۔ تو اپنے میٹریس کو گرم دھویں میں کچھ دیر رکھیں تو کھٹملوں کے انڈوں کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ ورجینیا ٹیک ڈیپارٹمنٹ کے مطابق پورے گھر میں دھواں چھوڑنا بھی کھٹملوں سے نجات میں مدد دیتا ہے، دھواں ان کیڑوں کو اپنی پناہ گاہوں سے باہر نکلنے پر مجبور کردیتا ہے اور دھویں سے درجہ حرارت بڑھنا کھٹملوں کو ختم کردیتا ہے۔

ہیئر ڈرائیر بھی مددگار

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ گرم ماحول کھٹملوں کو ختم کردیتا ہے، تو ہیئر ڈرائیر کی گرم ہوا بھی اس حوالے سے مددگار ثابت ہوتی ہے، خصوصاً کھٹملوں کے انڈوں کا خاتمہ اس سے موثر طریقے سے ہوجاتا ہے۔

ٹی ٹری آئل فائدہ مند

ٹی ٹری آئل کھٹملوں کو بستر سے دور رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے جس کی وجہ اس کی تیز مہک ہوتی ہے، تو آپ اس آئل کا چھڑکا? اپنے بستر کے ارگرد اور کسی بھی متاثرہ حصے میں کرکے کھٹملوں کو خود پر حملے سے روک سکتے ہیں۔

ڈبل سائیڈڈ ٹیپ

وہ جگہ ڈھونڈیں جہاں کھٹمل بہت زیادہ نظر آتے ہوئے اور وہاں ڈبل سائیڈڈ ٹیپ لگادیں، یہ کیڑے اس ٹیپ میں چپک جائیں گے اور بہت جلد مرجائیں گے یا آپ خود ان کو مار دیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ٹیپ کو بدلتے رہیں۔

لیونڈر آئل بھی بہترین

لیونڈر آئل کھٹملوں سے نجات دلانے کا قدرتی اور انتہائی موثر ذریعقہ قرار دیا جاتا ہے۔ اپنے بستر اور فرش وغیرہ پر اس تیل کو رگڑنے سے آپ کھٹملوں سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔

سلیکا جیل بھی موثر

کیا آپ کو معلوم ہے کہ نئے جوتوں یا کچھ غذائی اشیا کے ساتھ ننھے پیکٹ میں آنے والے سلیکا جیل کے دانے کیا کچھ کرسکتے ہیں؟ ان کی مدد سے آپ کھٹملوں کا خاتمہ کرسکتے ہیں، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ سلیکا جیل کھٹملوں کی جلد سے لپڈ کو جذب کرکے انہیں ڈی ہائیڈریٹ کرکے مار دیتا ہے۔

پودینہ

پودینہ بھی ایسی چیز ہے جو کھٹملوں کو پسند نہیں اور اس کے پتوں کو پیس کر متاثرہ جگہوں پر ڈال دیا جائے تو وہاں سے کھٹمل غائب ہوجاتے ہیں، اسکے خشک پتے اپنے میٹریس کے درمیان اور کپڑوں کے پاس رکھنے سے بھی کھٹملوں سے نجات میں مدد مل سکتی ہے۔

ڈرائی آئس

ایک امریکی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ڈرائی آئس کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتی ہے جس کے نتیجے میں کھٹملوں کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔

سرکے کا اسپرے بنائیں

سرکے میں موجود ایسٹکڈ ایسڈ ان کیڑوں کے اعصابی نظام کو نقصان پہنچاتا ہے، تو سرکے کو اسپرے کرکے بھی ان کیڑوں کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ کسی خالی اسپرے بوتل میں سرکے کو بھرلیں اور متاثرہ حصوں پر اسپرے کردیں اور ان حصوں پر بھی اسپرے کریں جہاں سے یہ کیڑے گھر میں داخل ہوسکتے ہیں۔

اچھی صحت کے لیے اس موسم کا بہترین پھل

 کون ہوگا جسے مزیدار اور کھٹے میٹھے آڑو پسند نہیں ہوں گے؟

منہ کا ذائقہ بہتر کرنے کے ساتھ یہ صحت کے لیے بھی فائدہ مند پھل ہے۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ آڑو میں پوٹاشیم کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو اعصاب اور پٹھوں کو مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہے؟

اسی طرح یہ جسم کے مختلف حصوں کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے۔

جسمانی وزن میں کمی کے لیے بہترین

صبح ناشتے میں آڑو کھانا پیٹ کو دیر تک بھرا رکھتا ہے جبکہ اس پھل میں کیلوریز بہت کم ہوتی ہیں۔ آڑو فائبر کے حصول کا بھی بہترین ذریعہ ہے جو کہ جسمانی وزن میں کمی میں مدد دینے والا جز ہے۔

جلد کے لیے فائدہ مند

آڑو وٹامن اے سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ جلد کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے جبکہ یہ پھل جلد کی رنگت کو بھی بہتر بناتا ہے۔اس میں موجود وٹامن سی جھریوں کا امکان کم کرتا ہے، جلد کی ساخت بہتر اور اسے دھوپ و آلودگی سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق وٹامن سی عمر بڑھنے سے جلد میں آنے والی تبدیلیوں کی روک تھام کرتا ہے۔

دل کا دوست

آڑو میں بائیو ایکٹو کمپاﺅنڈ کا منفرد امتزاج ہے جو کہ خون کی شریانوں سے جڑے امراض کا خطرہ کم کرتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق میٹھے مشروبات کی بجائے پولی فینول سے بھرپور پھل آڑو کو ترجیح دینا امراض قلب کا خطرہ کافی حد تک کم کرتا ہے۔ اس میں موجود فائبر اور پوٹاشیم بھی دل کی صحت کو بہتر بناتے ہیں، اسی طرح اس پھل میں موجود اجزا بلڈ پریشر کو مستحکم رکھ کر بھی امراض قلب کا خطرہ کم کرتے ہیں۔

نظام ہاضمہ بہتر کرے

جیسا اوپر ذکر کیا جاچکا ہے کہ اس پھل میں فائبر موجود ہے جو کہ نظام ہاضمہ کو ریگولیٹ اور بہتر بناتا ہے، اسی طرح یہ پھل گردوں اور مثانے کی صفائی کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔

بینائی کو بھی فائدہ پہنچائے

اس پھل میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جیسے لیوٹین وغیرہ اسے آنکھوں کی صحت کے لیے بہترین بناتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق اس پھل میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس آنکھوں کو روشنی سے قرینے کو پہنچنے والے نقصان سے بچنے میں مدد دیتے ہیں۔ اسی طرح لیوٹین عمر بڑھنے سے لاحق ہونے والے آنکھوں کے امراض کا خطرہ بھی کم کرتا ہے۔

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی فائدہ مند ہوسکتا ہے

اکثر ذیابیطس کے مریضوں کو کاربوہائیڈریٹس کے استعمال سے روکا جاتا ہے، لیکن یہ درست نہیں، بس مقدار کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ ایک آڑو سے جسم کو 15 گرام کاربوہائیڈریٹس حاصل ہوتے ہیں، جبکہ اس میں موجود دیگر اجزا مجموعی صحت کو بہتر رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ذیابیطس کے مریض اس پھل کی کچھ مقدار روز کھا کر اپنی صحت کو بہتر بناسکتے ہیں۔

ورم کش

ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ آڑو ورم کش خصوصیات رکھتا ہے، اس میں موجود وٹامن سی جسمانی ورم پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے، یہ خاص طور پر موٹاپے کے شکار افراد یا ذیابیطس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ ایک اور تحقیق میں بتایا گیا کہ وٹامن سی دمہ کے شکار افراد کے ورم کے علاج میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

خون کی کمی دور کرے

عام طور پر جسم میں خون کی کمی کی بڑی وجہ آئرن کی کمی ہوتی ہے، آڑو آئرن کے حصول کے لیے بہترین ذرائع میں سے ایک ہے۔ اسی طرح خون کی کمی اکثر وٹامن سی کی کمی کا نتیجہ بھی ہوتی ہے کیونکہ اس کی وجہ سے جسم میں آئرن کے جذب ہونے کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ آڑو آئرن اور وٹامن سی سے بھرپور پھل ہے اور اس طرح اینیما پر قابو پانے کے لیے اسے بہترین ثابت کرتا ہے۔

عمر کے اثرات دور کرے

آڑو کا ایک بڑا فائدہ اس میں موجود فلیونوئڈز میں چھپا ہے جو کہ عمر بڑھنے سے جسم میں آنے والی تبدیلیوں کی رفتار سست کرتے ہیں۔ اس میں موجود وٹامن سی بڑھتی عمر کے باوجود جسم پر اس کے اثر کو ظاہر نہیں ہونے دیتا۔ آڑو میں وٹامن ای بھی موجود ہے جو کہ جلد کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

ذہنی تناﺅ کم کرے

ایک تحقیق کے مطابق آڑو ذہنی تناﺅ میں کمی لانے کے لیے بھی بہترین ہے، یہ ذہنی بے چینی یا تشویش کو بھی کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

ہڈیاں اور دانت مضبوط بنائے

آڑو میں موجود وٹامن سی دیگر فوائد کے ساتھ ساتھ ہڈیوں اور دانتوں کے لیے بھی فائدہ مند ہے اور ان کی نشوونما بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں مضبوط بناتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

محض 2 غذائی عادات لاکھوں کینسر کیسز کا باعث

 آپ کی غذا زندگی میں کینسر کے خطرے کو بڑھانے یا اس سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ محض 2 غذائی عادات اس وقت کینسر کے لاتعداد نئے کیسز کا باعث بن رہی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ اپنی غذا میں اناج اور دودھ سے بنی مصنوعات کا کم استعمال کینسر کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق اناج اور دودھ سے بنی مصنوعات کا ناکافی استعمال اس وقت لاکھوں نئے کینسر کیسز کا باعث بن رہا ہے اور یہ اعدادوشمار صرف امریکا کے ہیں۔

محققین نے دریافت کیا کہ 2015 میں غذا پر دھیان نہ دینے کے نتیجے میں امریکا میں 80 ہزار کینسر کیسز سامنے آئے۔

ناقص غذائی عادات کینسر کا خطرہ بہت زیادہ بڑھا دیتی ہیں اور یہ ہر وقت بیٹھے رہنے کے مقابلے میں بھی زیادہ خطرناک ہے۔

اس سے پہلے بھی تحقیقی رپورٹس میں غذائی عادات اور کینسر کے درمیان تعلق سامنے آچکا ہے یعنی پراسیس گوشت کا زیادہ استعمال اور اناج کو کم کھانا آنتوں کے کینسر کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

اس نئی تحقیق میں ماضی کی تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا گیا اور دریافت کیا گیا کہ 2015 میں 38.3 فیصد آنتوں کے کینسر کا خطرہ ناقص غذائی عادات کا نتیجہ تھا۔

اس طرح 25.9 فیصد منہ اور چند دیگر اقسام کے کینسر کا تعلق بھی غذا سے تھا۔

محققین کے مطابق اناج، دودھ سے بنی مصنوعات، پھلوں اور سبزیوں کا کم استعمال جبکہ زیادہ پراسیس گوشت اور سرخ گوشت کے ساتھ ساتھ میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال لاکھوں کینسر کیسز کا باعث بنتا ہے۔

تحقیق میں بھی تخمینہ لگایا گیا کہ 16 فیصد غذا سے جڑے کینسر کینسز کا تعلق موٹاپے سے بھی تھا۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جے این سی آئی کینسر اسپیکٹرم میں شائع ہوئے۔

کینسر کے مریضوں کے علاج میں پھل مکھیاں مددگار ہوسکتی ہیں

نیویارک: کینسر کے مرض میں جینیاتی اور سالماتی سطح پر تبدیلیاں (میوٹیشن) پیدا ہوتی ہیں اور ہر کینسر کی نوعیت دوسرے سے مختلف ہوسکتی ہے۔ اسی بنا پر پھل مکھی (ڈروزیفیلا) میں انسانی کینسرکی تفصیلات شامل کرکے انہیں مریض کی کاپی یا ’کینسر اوتار‘ بناکر علاج کرنے کی انوکھی تجویز سامنے آئی ہے۔

پہلا طریقہ تو یہ ہے کہ مکھی میں عین ویسی ہی جینیاتی تبدیلیاں پیدا کردی جائیں جو کینسر کے مریض میں ہوتی ہیں۔ یہ چھوٹی مکھیاں تھوڑے عرصے تک زندہ رہتی ہیں اور تجربہ گاہوں میں ان کی بڑی تعداد کو تیار کرکے ایک وقت میں ان پر درجنوں بلکہ سینکڑوں ادویہ آزمائی جاسکتی ہیں۔

اس کے لیے ماہرین نے ایک دلچسپ تجربہ بھی کیا۔ اس میں  آنتوں کے پیچیدہ ترین کینسر میں مبتلا ایک ایسے مریض پر تحقیق کی گئی جو تین سال جیتا رہا جو ایک ریکارڈ مدت ہے۔ نیویارک میں ماؤنٹ سینائی ہسپتال کے ڈاکٹر روس کیگن اور ان کے ساتھیوں نے دیکھا کہ کینسر مریض کے جسم میں پھیل چکا تھا اور کئی دواؤں کو ناکام بنارہا تھا۔

اس مریض کے جینیاتی تجزیئے سے معلوم ہوا کہ سرطانی رسولیوں میں 9 مختلف سرطانی تبدیلیاں ہیں ۔ اس کے بعد ڈاکٹروں نے سینکڑوں مکھیوں کو عین انہی نو تبدیلیوں سے گزارا اورایک خاص روبوٹ سسٹم کے ذریعے مکھیوں پر 121 دوائیں آزمائیں۔ بعض مواقع پر ایک سے زائد دوائیں بھی دی گئیں۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایک موقع پر دواؤں کے مجموعے نے کینسر کی افزانش سست کردی اور مکھیاں زیادہ عرصے زندہ رہیں۔ اس میں کینسر کی ایک مشہور دوا ٹرامیٹینب اور گٹھیا کے ایک مرض میں استعمال ہونے والی دوا زولڈرونیٹ کا مجموعہ تھا۔ ماہرین نے دوا کا یہ مجموعہ اس مریض کو دیا اور وہ مریض زیادہ دن زندہ رہا۔

اس موقع پر ڈاکٹر روس نے کہا کہ ہم نہیں جانتے کہ کس طرح کی جینیاتی تبدیلیاں کونسا کینسر بنارہی ہیں اور اس ضمن میں مکھیوں کو عین وہی کیفیات دے کر ان پر لاتعداد دوائیں آزمائی جاسکتی ہیں۔ اسطرح پھل مکھیاں کینسر سے علاج اور دواؤں کے لیے ایک بہترین امیدوار بن سکتی ہیں۔

تاہم جس شخص کا علاج کیا گیا اس پر بھی دواؤں کا اثر 11 ماہ بعد ختم ہوگیا ۔ ماہرین نے دوبارہ اس مریض کے ڈی این اے کا جائزہ لیا لیکن اس بار وہ اس جینیاتی تبدیلی کو بھانپ نہیں سکے۔ تاہم مزید تحقیقات سے مکھیوں کے ماڈل کو بہتر بناکر کینسر کے علاج کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔

Google Analytics Alternative