صحت

ہمارے جسم کو روزانہ کتنے پانی کی ضرورت ہوتی ہے؟

کیا آپ کو معلوم ہے کہ روزانہ کتنے گلاس پانی پینا صحت کے لیے ٹھیک رہتا ہے ؟ یقیناً بیشتر افراد کے ذہنوں میں 8 کا ہندسہ گونجا ہوگا جو کہ ہمارے ذہنوں میں برسوں سے روزانہ پانی کے استعمال کی مثالی مقدار کی شکل میں چپک چکا ہے۔

مگر حقیقت تو یہ ہے کہ روزانہ کتنا پانی پینا چاہئے اس کا انحصار فرد کے جسمانی وزن اور ساخت پر ہوتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق ہر فرد کے لیے پانی کی مقدار مختلف ہوسکتی ہے مگر ہم متحرک بالغ افراد کو 2 سے 4 لیٹر پانی پینے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ جسم میں اس سیال کی مقدار مناسب سطح پر رہ سکے جبکہ پانی کی ضرورت میں کمی بیشی کا انحصار موسم پر بھی ہوتا ہے۔

اگر آپ ورزش کرتے ہیں تو پانی کا زیادہ استعمال کرنا چاہئے کیونکہ پٹھوں کو مناسب افعال اور مرمت کے لیے زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

اسی طرح جسم گرم موسم میں پسینے کے ذریعے خود کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے کافی محنت کرتا ہے اور اگر پسینہ زیادہ آئے تو پانی زیادہ پینا چاہئے تاکہ ڈی ہائیڈریشن سے بچا جاسکے، یعنی پیاس محسوس کیے بغیر بھی دن بھر جب موقع ملے پانی پی لیں۔

کچھ طبی ماہرین جسمانی وزن اور اونس کو پانی پینے کا معیار قرار دیتے ہیں، جیسے اگر آپ کا وزن 180 پونڈ (81 کلو گرام سے زیادہ) ہو تو 90 اونس پانی یا 3 لیٹر پانی روزانہ جسم کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس سے ہٹ کر امریکا کا مایو کلینک نے خواتین کو روزانہ 2.7 لیٹر اور مردوں کو 3.7 لیٹر پانی پینے کا مشورہ دے رکھا ہے۔

آسان فارمولا

امریکا کے مایو کلینک کے میڈیکل ریسرچ سینٹر نے کہا ہے کہ مردوں کو اوسطاً تیرہ کپ پانی روزانہ پینا چاہئے جبکہ خواتین میں یہ مقدار نو ہونی چاہئے۔

مگر ہر شخص کا جسم مختلف ہوتا ہے اور پانی کی ضرورت کا انحصار بھی اس کے مطابق ہوتا ہے جس کے لیے ایک سادہ سائنسی فارمولا استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اپنے جسمانی وزن کو لیں اور اسے 2.2 سے تقسیم کریں۔

اس کے بعد جو نمبر آئے اسے اپنی عمر کے مطابق ضرب کریں اور مجموعے کو 28.3 سے تقسیم کریں۔

پھر جو نمبر آئے گا وہ بتائے گا کہ روزانہ کتنے اونس پانی پینے کی ضرورت ہے مگر اسے بھی 8 سے تقسیم کریں تاکہ گلاسوں کی تعداد میں نتیجہ سامنے آجائے۔

جسم میں پانی کی کمی کیسے جانیں؟

پیشاب کی رنگت سے یہ جاننا ممکن ہے کہ آپ کو مزید پانی پینے کی ضرورت ہے یا نہیں، طبی ماہرین کے مطابق اگر پیشاب کی رنگت لیمونیڈ یا لیموں پانی کے قریب ہے تو اس کا مطلب ہے کہ مناسب مقدار میں پانی استعمال کیا جارہا ہے، اگر اس کی رنگت گہری زرد ہے تو مزید پانی پینے کی ضرورت ہے۔

اسی طرح تھکاوٹ، خشک جلد، سانس میں بو، پٹھے کاڑنا، قبض اور غشی طاری ہونا بھی ڈی ہائیڈریشن کی عام علامات ہیں۔

عمر بھی جسمانی ہائیڈریشن کے حوالے سے اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ عمر بڑحنے سے پیاس کم محسوس ہونے لگتی ہے جس کی وجہ اس کا میکنزم کمزور ہونا ہے، تو درماینی عمر میں بغیر پیاس کے بھی دو سے 3 گھنٹے کے وقفے کے بعد پانی پی لینا چاہئے۔

یہ بھی پڑھیں : سانس میں بو سے نجات دلانے میں مددگار طریقے

صرف پانی نہیں غذا بھی اہم

زیادہ پانی والی غذاﺅں کا استعمال بھی جسم کو ڈی ہائیڈریشن سے بچانے کے لیے کافی ہے۔

کھیرے، تربوز، پالک اور متعدد دیگر سبزیاں اور پھلوں میں پانی کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو جسم کو ڈی ہائیڈریشن سے تحفظ فراہم کرنے میں مددگار ہیں۔

بی وٹامنز کے لیے حصول میں مدد دینے والی غذائیں

 بی وٹامنز ہمارے جسم کو صحت مند رکھنے کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں جیسے اعصابی نظام کی معاونت، جلد، خلیات، خون بنانے، میٹابولزم اور توانائی وغیرہ کے لیے ان کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

وٹامن بی کی 8 مختلف اقسام پائی جاتی ہیں یعنی تائی مائن (بی 1)، ویبو فلیووین (بی 2)، نیاسین (بی 3)، فینٹوتینک ایسڈ (بی 5)، پرآئیڈکسین (بی سکس)، بائیوٹین (بی 7)، فولیٹ (بی 9) اور کوبالامن (بی 12) اور ان سب کو بی کمپلیکس وٹامنز کہا جاتا ہے۔

اب سب بی وٹامنز میں بی 12 واحد ہے جو ہمارے جسم میں طویل عرصے تک محفوظ رہ سکتا ہے اور اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ باقی بی وٹامنز کا حصول غذا یا سپلیمنٹ سے ممکن ہوتا ہے۔

ویسے یہ جان لیں کہ بی کمپلیکس سپلیمنٹ عام طور پر اس وقت تک فائدہ مند نہیں ہوتے جب تک ان وٹامنز کی کمی جسم میں نہ ہوجائے۔

اور ان سپلیمنٹس پر پیسے خرچ کرنے کی بجائے ان غذاﺅں کے بارے میں جان لیں جن کے ذریعے آپ تمام بی وٹامنز کو حاصل کرسکتے ہیں۔

کلیجی

گائے کی کلیجی اکثر افراد کو کچھ زیادہ پسند نہیں ہوتی مگر اس میں بی وٹامنز کی مختلف اقسام کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، سو گرام کلیجی سے کافی مقدار میں وٹامن بی 2، بی فائیو اور بی 3 مل جاتا ہے جبکہ فولیٹ، بی سکس اور بی 12 کو حاصل کرنا بھی ممکن ہوتا ہے، یہ غذا خون کی کمی کے شکار افراد کو اس مسئلے سے نجات دلانے کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔

انڈے

انڈے کھانے کی عادت بی وٹامنز کے حصول کا اچھا ذریعہ خصوصاً بائیوٹین (بی 7) کے لیے۔ بائیوٹین انڈے کی زردی اور سفیدی دونوں میں پایا جاتا ہے۔ اور یہ وٹامن اسی وقت جسم کو یہ بائیوٹین بالوں، ناخنوں کی صحت کے لیے ضروری ہوتا ہے جبکہ ڈپریشن اور ذہنی مسائل سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔ اس وٹامن کے حصول کے لیے انڈوں کو اچھی طرح پکا کر کھانا چاہیے کیونکہ انڈے کی کچی سفیدی میں ایک ایسا پروٹین ہوتا ہے جو جسم کو بائیوٹین جذب کرنے سے روکتا ہے۔

سورج مکھی کے بیج

سورج مکھی کے بیج وٹامن بی 5 سے بھرپور ہوتے ہیں، اگرچیہ یہ وٹامن اکثر نباتاتی اور حیوانی غذاﺅں میں موجود ہوتا ہے مگر وہ مقدار بہت کم ہوتی ہے اور اکثر پکانے کے عمل میں ضائع ہوجاتی ہے۔ اس لیے سورج مکھی کے بیج اس حوالے سے فائدہ مند ہوتے ہیں۔

مچھلی

چربی والی مچھلی میں بی وٹامنز کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، سوگرام مچھلی میں بی تھری، بی 12 اور بی سکس کے ساتھ ساتھ وٹامن بی 2، بی 1 اور بی فائیو بھی موجود ہوتے ہیں۔

چکن

چکن وٹامن بی تھری اور بی سکس کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے، ویسے اس گوشت میں 8 میں سے 6 بی وٹامنز موجود ہوتے ہیں۔

گائے کا گوشت

اگر آپ بی وٹامنز کی زیادہ مقدار چاہتے ہیں تو گائے کا گوشت اچھا ذریعہ ہے جس میں 8 میں سے 6 بی وٹامنز پائے جاتے ہیں، خصوصاً وٹامن بی تھری کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ اعصابی نظام اور جلد کو اچھی ساخت برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے، اس کے علاوہ بی 1، بی ٹو اور بی سکس بھی اس گوشت سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

دودھ

دودھ سے جسم کو وٹامن بی 2 ملتا ہے جو غذا سے حاصل ہونے والے توانائی کو جسم میں اخراج میں مدد دیتا ہے، گائے کا دودھ اس وٹامن کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے، اس کے علاوہ دودھ سے جسم کو کچھ مقدار میں بی 12، بی 1 اور بی فائیو بھی ملتا ہے۔

دالیں

دالوں سے جسم کو وٹامن بی نائن یا فولیٹ ملتا ہے جو خون کے صحت مند سرخ خلیات کے بننے میں مدد دیتا ہے، چنے، کالے چنے وغیرہ اس اہم وٹامن کے حصول کا اچھا ذریع ہیں۔

سبز پتوں والی سبزیاں

سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک یا ساگ کو اپنی غذا کا حصہ بنانا بھی فولیٹ کے حصول میں مدد دیتا ہے، کچھ مقدار میں پالک کو کھانے سے ہی جسم کو کافی مقدار میں فولیٹ مل جاتا ہے جس سے خون کی کمی کو دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔

جب ایک مکڑی نے ایک شخص کے کان میں گھر بنالیا

چین میں اکثر ایسے مریض سامنے آتے ہیں جو دنیا کو دنگ کرکے رکھ دیتے ہیں۔

ایسا ہی ایک مریض گزشتہ دنوں سامنے آیا جسے کان میں عجیب سی سنسناہٹ کی شکایت تھی۔

اور جب ڈاکٹروں نے تشخیص کی تو ان کی اپنی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں کیونکہ یہ سنسناہٹ ایسی وجہ سے تھی جس کی کسی نے توقع بھی نہیں کی۔

چین کے صوبے جیانگ سو کے رہائشی یانگ زو یونیورسٹی میں اس شکایت کے ساتھ گیا تھا اور ڈاکٹروں کو اس مرض کو ایک مکڑی کی شکل میں دریافت کیا۔

ڈاکٹروں کے مطابق آنکھوں سے کان کا معائنہ کرتے ہوئے تو ہمیں معلوم نہیں ہوا مگر اینڈواسکوپ کے استعمال سے ہم نے ایک مکڑی کو کان کے اندر دریافت کیا۔

ڈاکٹروں نے پہلے عام آلات سے مکڑی کو پکڑنے کی کوشش کی مگر وہ بچنے میں کامیاب ہوگئی۔

اس کے بعد ڈاکٹروں سے اسے فلش آﺅٹ کرنے کا فیصلہ کیا اور مریض کے کان میں ڈراپس ڈالے گئے جس سے مکڑی کا جال بکھر گیا۔

اس واقعے کی فوٹیج چینی سوشل میڈیا پر لوگوں کے ہوش اڑاتی رہی اور اسے دیکھ کر بیشتر افراد کو اپنے کانوں میں تکلیف کا احساس ہونے لگا۔

ویسے تو لوگوں کے کانوں میں کیڑوں کا گھس جانے کے واقعات شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں مگر یہ اتنے بھی نئے نہیں۔

ایسے کیسز پہلے بھی سامنے آچکے ہیں پہلے بھارت میں تو ایک شخص کان کے درد پر ڈاکٹروں کے پاس آیا تو اس کے کان سے جھینگر کو نکالا گیا۔

ڈاکٹروں کے مطابق مکڑیوں جیسے کیڑے گرم ممالک میں دن کے وقت اندھیرے میں رہنا پسند کرتے ہیں اور کان ان کے لیے اچھی پناہ گاہ ثابت ہوتے ہیں۔

گوگل اے آئی پروگرام نے کینسر کی شناخت میں انسانی ماہرین کو مات دے دی

الینوائے: بیماریوں کی اکثریت کی طرح پھیپھڑے کے سرطان کو اگر ابتدائی درجے میں معلوم کرلیا جائے تو اس سے مریض کی جان بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس ضمن میں گوگل کے بنائے ہوئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) پروگرام کے ذریعے نہ صرف درست شناخت کی گئی ہے بلکہ پہلے درجے میں اس نے ماہرریڈیالوجسٹ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

مصنوعی ذہانت کی ترقی سے کئی شعبوں سمیت طب میں غیرمعمولی کام لیا جارہا ہے بالخصوص چھاتی، جلد اور بچہ دانی کے کینسر میں اے آئی سے مدد ملی ہے اور گزشتہ برسوں ایسے کمپیوٹر پروگراموں کی مدد سے بروقت اور درست تشخیص میں بہت مدد ملی ہے۔

اس کے لیے کمپیوٹرپروگراموں کو پہلے صحتمند اور کینسر سے متاثرہ مریضوں کے ہزاروں ایکس رے، اسکین اور تصاویر دکھائی جاتی ہیں جسے کمپیوٹر پڑھ کر اپنے پروگرام کی معلومات میں اضافہ کرتا رہتا ہے۔ اس کےبعد ہزاروں تصاویر دیکھ کر خود کمپیوٹر پروگرام ایک ماہر بن جاتا ہے۔ ہزاروں طبی تصاویر اور اسکین دیکھنے کے بعد کمپیوٹر پروگرام ایسی معمولی تبدیلیاں بھی نوٹ کرسکتا ہے جسے انسانی آنکھ نظرانداز کردیتی ہے۔ اس طرح مرض کو ابتدائی درجے میں شناخت کیا جاسکتا ہے۔

گوگل اے آئی الگورتھم نے سینے کے 45 ہزار ایکسرے دیکھ کر اپنا ڈیٹا بیس اور پروگرام مرتب کیا جو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اور نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی سے لیے گئے تھے۔ ان میں کئی مریض کینسر کے مختلف درجوں پر تھے ۔ سافٹ ویئر نے سی ٹی اسکین کے تھری ڈی ماڈل بھی بنائے اور معمولی تبدیلیوں کو بھی نوٹ کرکے بیماری کی پیشگوئی بھی کی ۔  اس کی درستگی کا درجہ ایسا ہی تھا جو 6 ریڈیالوجی ماہرین کا بورڈ کرسکتا ہے۔ اپنے پورے عمل میں سافٹ ویئر نے 5 فیصد زائد کیس پکڑے اور غلط تشخیص کی شرح 11 فیصد کم ہوئی۔

تحقیقی جرنل نیچر میں چھپنے والی اس رپورٹ کو دیگر ماہرین نے بھی بہت سراہا ہے۔ اس پر کام کرنے والے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس سے کئی ایسے مریضوں میں بیماری کی شناخت میں مدد ملے گی جو اپنے مرض سے غافل ہیں اور اس طرح ان کی بروقت جان بچائی جاسکے گی۔

روزمرہ کی اشیا میں موجود کیمیکلز جگر کے امراض کا خطرہ بڑھائے

شیمپو اور کھلونوں میں موجود کیمیکلز سے موٹاپے، ذیابیطس، امراض قلب اور جگر کے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔

یہ بات روس میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

سائبریا کی نووی ساڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جن لوگوں کے پیشاب کے نمونوں میں ان مصنوعات میں موجود کیمیکلز کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے ان میں موٹاپے یا ذیابیطس کے مرض کا خطرہ بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔

اسی طرح ان لوگوں کے دوران خون میں چربی کی مقدار خطرناک حد تک زیادہ ہوتی ہے جس سے جگر کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے اور میٹابولک امراض میں مبتلا ہونے کا امکان بڑھتا ہے۔

ان مصنوعات میں موجود کیمیکلز Phthalates کا استعمال متعدد روزمرہ کی مصنوعات میں ہوتا ہے جیسے پانی کی بوتل اور پرفیوم وغیرہ۔

ان کیمیکلز کو پہلے ہی مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں بانجھ پن، موٹاپے اور نشوونما میں رکاوٹ کا باعث قرار دیا گیا ہے، تاہم اب تک انسانوں کی بجائے یہ تحقیقاتی مطالعہ جات چوہوں پر ہوئے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ سائبریا کی یونیورسٹی نے انسانوں پر ان کیمیکلز کے اثرات کو جانچنے کا فیصلہ کیا اور 3305 افراد کے پیشاب کے نمونے جمع کیے۔

ان کیمیکلز کی مقدار کا موازنہ جسمانی وزن، ذیابیطس ٹائپ کی تشخیص اور جگر کے ناقص افعال سے کیا گیا۔

نتائج سے معلولم ہوا کہ 66 افراد کے نمونوں میں مونوایتھل Phthalate جبکہ 72 افراد کے نمونوں میں مونو ٹو ایتھل Phthalate کی مقدار کافی زیادہ تھی۔

موٹاپے کے شکار افراد میں مونوایتھل Phthalate کی مقدار زیادہ پائی گئی جبکہ ایسے انزائمے بھی دریافت کیے گئے جو جگر کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

نتائج میں مزید انکشاف کیا گیا کہ جو لوگ صحت مند وزن کے حامل تھے، ان کے نمونوں میں ان کیمیکلز کی سطح بہت کم تھی۔

محققین کا کہنا تھا کہ اگرچہ جمع کیے گئے نمونوں کی تعداد بہت کم تھی مگر نتائج سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ یہ کیمیکلز جگر کو نقصان پہنچانے کے ساتھ میٹابولزم پر ایسے اثرات مرتب کرتے ہیں جس سے موٹاپے اور ذیابیطس کا خطرہ بڑھتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج یورپی سوسائٹی آف Endocrinology کے سالانہ اجلاس کے موقع پر پیش کیے گئے۔

کیا الٹراساؤنڈ سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کا علاج ممکن ہے؟

واشنگٹن: ذٰیابیطس کا مرض اتنا عام ہے کہ اب دنیا دو طرح کے لوگوں میں بٹ گئی ایک وہ جو ذیابیطس کے شکار ہیں اور دوم وہ جو اس مرض سے آزاد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے علاج کےلیے کئی میدانوں پر کام ہورہا ہے جن میں سے ایک نئی پیشرفت الٹراساؤنڈ کی صورت میں سامنے آئی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر الٹراساؤنڈ لہروں کو لبلبے پر ڈالا جائے تو اس سے لبلبے کو بی ٹا خلیات (سیلز) کی پیداوار کے قابل بنایا جاسکتا ہے۔ اس طرح غیرمضراور دوا سے پاک ایک ایسا طریقہ وضع ہوسکے گا جس سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کا علاج کیا جاسکے گا۔

ہم جانتے ہیں کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس میں لبلبہ شکر گھلانے والا اہم جزو انسولین کم کم خارج کرنے لگتا ہے جس سے خون میں شکر کی مقدار بڑھ جاتی ہے جو تمام جسم اور اعضا کو متاثر کرنا شروع کردیتی ہے اور اس کمی کو دور کرنے کے لیے انسولین کے ٹیکے لگانا ایک معمول بن جاتا ہے۔

جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے حالیہ ایک میٹنگ میں کہا ہے کہ  انہوں نے چوہے کے بدن میں لبلبے کے رخ پر الٹراساؤنڈ ڈال کر لبلبے کو تحریک دی کہ وہ بی ٹا خلیات بناسکے۔ اس عمل میں جلد اور لبلبے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ بی ٹا خلیات میں انسولین بنتی ہے، جمع رہتی ہے اور ضرورت کے وقت خارج ہوتی رہتی ہے اور خون میں شکر کے لحاظ سے اپنا ردِ عمل ظاہر کرتی ہے۔

پہلے ایک تجرباتی ڈش میں بی ٹا خلیات رکھ کر اس پر الٹراساؤنڈ ڈالی گئی تو وہ انسولین بنانے لگے ۔ اس کے بعد زندہ چوہوں میں اس کے تجربات کئے گئے اور ایک میگا ہرٹز فری کوئنسی کی الٹراساؤنڈ پانچ منٹ تک لبلبے کی جانب پھینکی گئی۔ تجربے سے پہلے اور بعد میں چوہوں کے خون کے نمونے لیے گئے۔ حیرت انگیز طورپر الٹراساؤنڈ کے عمل سے گزرنے والے چوہوں کےلبلبے سے انسولین کی خاطرخواہ مقدار خارج ہوئی جس کی نشاندہی خون کے نمونوں میں نوٹ کی گئی۔

اس کام کی نگراں ڈاکٹر تانیہ سنگھ نے ایک انکشاف یہ بھی کیا کہ انسولین کے اخراج کے باوجود خون میں شکر کی مقدار کم نہیں ہوئی اور یہ وہ معمہ ہے جسے سمجھنے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔ سائنسدانوں نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ انسولین دیگر بہت سے کام بھی کرتا ہے جن میں ہاضمے کے خامرے (اینزائم) اور دیگررس کا اخراج بھی شامل ہیں۔ اس طرح معلوم ہوا کہ لبلبہ دیگر کئی اہم کام بھی کرتا ہے۔

مائیں بچوں کو دودھ پلائیں اور امراضِ قلب سے محفوظ رہیں

ایتھنز: ماں اور بچے کا ساتھ ایک فطری تحفہ ہے اور اب معلوم ہوا ہے کہ وہ مائیں جو اپنے بچوں کو باقاعدگی سے اپنا دودھ پلاتی ہیں اور دیگر خواتین کے مقابلے میں دل کے امراض سے دوررہتی ہیں۔

یہ تحقیقات یورپی سوسائٹی آف اینڈوکرائنالوجی کی سالانہ میٹنگ میں پیش کی گئی ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جو خواتین اپنے بچوں کو مقررہ مدت تک دودھ پلاتی ہیں ان میں دل کے عارضوں کا خطرہ کم ہوجاتا ہے جس کے بعد ماہرین نے تمام خواتین سے کہا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو دودھ خود پلائیں جس کے دیگر بہت سے فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔

اس سے قبل ماہرین ثابت کرچکے ہیں کہ دودھ پلانے کا عمل بچے کی ولادت کے بعد خواتین میں ایک قسم کی ڈپریشن اور کئی اقسام کے سرطان سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ اگر مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلاتی رہیں تو اس سے ان کے خون میں شکر کی مقدار برقرار رہتی ہے اور جسمانی وزن بھی صحتمند رہتا ہے۔

دودھ پلانے والی ماؤں میں ایک خاص قسم کا ہارمون ’پرولیکٹِن‘ زیادہ ہوجاتا ہے جو ذیابیطس کے خطرے کو کم کرتا ہے اور یوں دل کی بیماریوں کا خطرہ بھی کم تر ہوتا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین نے دودھ پلانے اور اس کے درمیان صحتمند دل کے تعلق پر بھرپور تحقیق کی ہے۔

یہ تحقیق یونیورسٹی آف ایتھنز کی پروفیسر آئرین لیمبرینوداکی اور ان کے ساتھیوں کی ہے جس میں سن یاس (مینوپاز) والی خواتین، ان میں دودھ پلانے کا رحجان اور دل کے والو اور شریانوں کی صحت کا جائزہ لیا گیاہے۔ ساتھ ہی باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی)، کولیسٹرول اور سگریٹ نوشی کا رحجان بھی نوٹ کیا گیا ہے۔

ثابت ہوا کہ جن خواتین نے اپنے بچوں کو پابندی سے دودھ پلایا تھا ان میں امراضِ قلب اور اس سے وابستہ دیگر بہت سے خطرات دیگر کے مقابلے میں بہت کم تھے۔ ماؤں نے جتنے عرصے بچوں کو دودھ پلایا ان میں دل کی بیماریوں کا خطرہ اتنا ہی کم دیکھا گیا۔

اگلے مرحلے میں پروفیسر آئرین اور ان کی ٹیم پرولیکٹِن ہارمون اور اس کے اثرات کی سائنسی وجوہ معلوم کریں گے تاکہ نہ صرف دودھ پلانے والی خواتین بلکہ دیگر خواتین میں بھی اس کے فوائد کا جائزہ لیا جاسکے۔

افطار کے دوران کیچپ کا زیادہ استعمال نقصان دہ

ہم پاکستانی ہر ڈش کے ساتھ کیچپ کھانا پسند کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ماہ رمضان میں کیچپ کے استعمال میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔

افطار کے دوران جیسے سموسے اور پکوڑے ضروری سمجھے جاتے ہیں ایسے ہی کیچپ کی موجودگی بھی کھانے کی ٹیبل پر اہم ہوتی ہے۔

چاہے فرنچ فرائز ہوں، برگر ہو، گوشت کے پکوان یا چائنیز کھانے، پاکستانیوں کو ہر ڈش کا مزہ بڑھانے کے لیے کیچپ کی ضرورت پڑتی ہے۔

ایسا کہنا شاید غلط نہیں ہوگا کہ اگر فروٹ چاٹ کے ساتھ کیچپ کھانے کی کوئی بہترین ترکیب سامنے آجائے تو یقیناً لوگ پھلوں کے ساتھ بھی کیچپ کا استعمال شروع کردیں گے۔

اس ماہ میں کیچپ کے استعمال میں اضافہ تو ہوجاتا ہے جس کے فائدے بھی ہیں لیکن ساتھ ساتھ اس کے کچھ نقصانات جاننا بھی ضروری ہیں۔

کیچپ کے نقصانات

کیا کبھی آپ نے کیچپ کی بوتل پر لکھے اجزاء پر غور کیا ہے؟ آئیے سب سے پہلے ان کے بارے میں جانتے ہیں:

ٹماٹو کنسنٹریٹ (Tomato concentrate) — اس عمل میں ٹماٹر کو بہت زیادہ پکایا جاتا ہے، جس کے بعد اس کے بیج اور چھلکا ہٹا کر اسے دوبارہ پکاتے ہیں جس کے نتیجے میں اس میں موجود وٹامن اور منرلز ختم ہوجاتے ہیں۔

ہائی فرکٹوز کارن سیرپ (High fructose corn syrup) — یہ اجزاء صرف کیچپ نہیں بلکہ کولڈ ڈرنکس اور اجناس وغیرہ میں موجود ہوتا ہے، جس سے موٹاپے کا خطرہ بڑھتا رہتا ہے۔

کارن سیرپ (Corn syrup) — یہ ہائی فرکٹوز کارن سیرپ جیسا ہی ایک اور سیرپ ہوتا جس کی وجہ سے کیچپ میں مزید مٹھاس پیدا ہوتی ہے جو صحت کے لیے بہتر نہیں۔

نیچرل فلیورز (Natural flavors) — یہاں یہ بیان نہیں کیا جاتا کہ کون سے نیچرل فلیورز کا استعمال کیچپ میں کیا جارہا ہے، تاہم ایسی کئی تحقیق سامنے آچکی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ کھانے کے اجزاء میں نیچرل فلیورز شامل کرنے کے باعث مختلف طرح کی فوڈ الرجیز پیدا ہوسکتی ہیں۔

کیچپ میں مختلف طریقوں سے چینی کا بےحد استعمال کیا جاتاہے، جس سے اس کی مٹھاس میں اضافہ ہوتا ہے اور بے انتہا مٹھاس ہماری صحت کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند نہیں، اس لیے اس رمضان اپنے کھانوں میں کیچپ کا استعمال کم کرنا ہی بہتر ہے۔

Google Analytics Alternative