صحت

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ناشتے میں اس غذا کا انتخاب فائدہ مند

اگر آپ ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مریض ہیں تو ناشتہ وہ اہم ترین غذا ہے جو بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریضوں کا لبلبہ مناسب مقدار میں انسولین بنانے سے قاصر ہوتا ہے جو بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دینے والا ہارمون ہے، تو اسے کنٹرول میں رکھنے کے لیے متبادل ذرائع کو اپنانا پڑتا ہے۔

خاص طور پر غذا کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرنا پڑتا ہے کیونکہ کچھ غذائی اشیا اگر بلڈ شوگر لیول کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتی ہیں تو کچھ سے یہ سطح بڑھ بھی سکتی ہے۔

اب ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ناشتے میں دودھ کو شامل کرنا دن بھر میں بلڈ شوگر لیول کو مستحکم رکھنے یا اس میں کمی لانے میں مدد دے سکتا ہے۔

کینییڈا کی گیولف یونیورسٹی اور ٹورنٹو یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق میں بتایا گیا کہ ناشتے میں دودھ پینا دن بھر میں بلڈ گلوکوز کی سطح کم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران بلڈ گلوکوز کی سطح اور کھانے کی اشتہا پر ناشتے میں پروٹین سے بھرپور دودھ کے استعمال کے اثرات دیکھے گئے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ناشتے میں کسی بھی شکل میں دودھ کا استعمال کھانے کے بعد بڑھنے والے بلڈ گلوکوز کی سطح کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے جبکہ اس میں پروٹین کی موجودگی دوپہر کے کھانے کے بعد بھی شام میں کچھ کھانے کی خواہش کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں میٹابولک امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں، خاص طور پر ذیابیطس ٹائپ 2 اور موٹاپا انسانی صحت کے لیے وبا بن چکے ہیں، مگر غذائی حکمت عملی سے اس خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے جبکہ ذیابیطس اور موٹاپے کو کنٹرول میں رکھ کر صحت کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ دودھ پینے سے جسم میں ایسے ہارمونز کا اخراج ہوتا ہے جو نظام ہاضمہ کو سست کرکے دیر تک پیٹ بھرے رکھنے کا احساس پیدا کرتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف ڈیری سائنس میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل رواں سال اپریل میں ایک طبی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ناشتہ دن کی وہ غذا ہے جو ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مریضوں کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ ناقص انتخاب کے نتیجے میں بلڈشوگر لیول دن کے آغاز پر ہی اوپر جانے کا امکان ہوتا ہے، تاہم زیادہ پروٹین اور کم کاربوہائیڈریٹ والا ناشتہ دن بھر شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ذیابیطس کے مریض اگر سیریل، ٹوسٹ یا کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور غذا ناشتے میں جزو بدن بنائیں تو بلڈشوگر لیول بڑھتا ہے جس سے ذیابیطس کی پیچیدگیوں کا خطرہ بھی وقت کے ساتھ بڑھنے لگتا ہے۔

محققین کے مطابق ناشتے میں انڈوں کا استعمال شوگر لیول کو بڑھنے سے روکنے کے ساتھ ساتھ دن بھر میں گلیسمک کنٹرول بہتر کرتا ہے جبکہ دیگر پیچیدگیوں کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ ناشتہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے انتہائی اہم غذا ہے کیونکہ ناقص انتخاب دن میں میٹھی غذاﺅں کی اشتہا بڑھاتا ہے جس سے شوگر لیول مزید اوپر جاتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے جرنل آف دی امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہوئے۔

بھارتی ادویات کی درآمدات پر پابندی ہٹادی گئی

اسلام آباد: مقامی مارکیٹ میں جان بچانے والی ادویات کے بحران سے بچنے کے لیے حکومت نے بھارت سے ادویات اور ان کے خام مال کی درآمدات پر سے پابندی ہٹادی۔

وزارت تجارت و ٹیکسٹائل کی جانب سے جاری ہونے والے اسٹیچوٹری ریگولیٹری آرڈرز (ایس آر او) میں کہا گیا کہ بھارت سے تجارت پر پابندی بحال رہے گی تاہم اس کا اطلاق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی جانب سے ریگولیٹ ہونے والی مصنوعات پر نہیں ہوگا۔

اس حوالے سے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ استثنیٰ مفاد عامہ اور مریضوں کو ادویات کی فراہمی کے پیش نظر دی گئی’۔

ڈان کو موصول ہونے والے ڈائریکٹر جنرل (ٹریڈ پالیسی) محمد اشرف کے دستخط شدہ 2 ایس آر اوز کو گزیٹ آف پاکستان میں شائع کیا جائے گا۔

یہاں یہ بات واضح رہے کہ 5 اگست کو نئی دہلی کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کو 2 حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد پاکستانی حکومت نے 9 اگست کو بھارت سے تمام قسم کی تجارت منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ابتدائی طور پر فارماسیوٹیکل انڈسٹری (ادویات سازی کی صنعت) نے حکومت سے قواعد میں نرمی اور بھارتی مصنوعات کو فیصلے سے قبل درآمد کرنے کا کہا تھا، جس پر حکومت نے نرمی کرتے ہوئے پاکستانی بندرگاہوں اور ایئرپورٹس پر پہنچنے والی اشیا کو کلیئرنس دے دی تھی۔

تاہم بھارت سے بڑے پیمانے پر ادویات اور خام مال کی درآمدات کی وجہ سے صنعت نے پابندی کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ‘اگر ایسا نہ کیا گیا تو چند ہفتوں میں ملک میں ادویات کا شدید بحران پیدا ہوسکتا ہے، بالخصوص جان بچانے والی ادویات ناپید ہوسکتی ہیں’۔

ڈریپ حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گزشتہ ہفتے اس مسئلے پر بحث کے لیے ایک اجلاس طلب کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اس اجلاس میں تمام اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی تھی اور بتایا تھا کہ چند ہفتوں میں ادویات کی دستیابی یقینی بنانا ناممکن ہوجائے گا کیونکہ ادویات ساز صنعت بھارتی ادویات اور خام مال پر انحصار کرتی ہے’۔

حکام کا کہنا تھا کہ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ بھارتی ادویات کم قیمت پر دستیاب ہیں اور حکومت نے کوئی متبادل انتظام نہیں کیا تو ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ ‘ہم نے تمام تجاویز کو اکٹھا کیا اور اسے وزارت قومی صحت کو ارسال کردیا، جس کے بعد فیصلہ سازوں کو پابندی کے خاتمے کا کہا یا پھر ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے لیے تیار رہنے کا کہا تھا، اس کے علاوہ تیسرا آپشن ہمارے پاس یہ تھا کہ ادویات کو سبسڈی فراہم کی جائے تاہم ملک کے مالی حالات ایسے نہیں کہ سبسڈی فراہم کی جاسکے’۔

موٹاپے کی ایک اور عام سی وجہ، جس سے شاید آپ بے خبر ہوں!

کیا آپ جسمانی وزن میں اضافے سے پریشان ہیں تو ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ خوراک نہیں بلکہ نیند کی کمی ہو۔

یہ بات ایک حالیہ طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔

برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق جو بالغ افراد 6 گھنٹے سے بھی کم سوتے ہیں ان کے موٹے ہونے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ نیند کی کمی آپ کی جسمانی خوبصورتی، مزاج اور صحت ہر چیز پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔

تاہم محققین کا کہنا تھا کہ نیند کی کمی سے جسم و ذہن پر طاری ہونے والی تھکاوٹ جسمانی وزن میں اضافے اور بیماریوں کے خلاف جسم میں سرگرم مدافعتی نظام کو کمزور کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 6 گھنٹے سے کم نیند چہرے پر جھریوں کا باعث بنتی ہے اور آنکھوں کے گرد حلقے بھی بدنمائی میں اضافہ کردیتے ہیں مگر زیادہ وقت تک جاگنے کے نتیجے میں جسمانی میٹابولزم کی رفتار سست ہوتی ہے اور کھانا ہضم نہیں ہوپاتا جبکہ آپ مزید کیلیوریز مسلسل جسم کا حصہ بنارہے ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں موٹاپا خودکار طور پر آپ کو شکار کرلیتا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل ایک اور تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ نیند کی کمی سے مردوں میں دل کے دورے یا فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ بلڈپریشر میں اضافہ ہوتا ہے۔

فرائیز اور چپس شوق سے کھانے والا نوجوان بینائی سے محروم

برطانوی ماہرین نے دنیا بھر کے والدین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی غذا پر خصوصی توجہ دیں اور کم عمری میں ہی بچوں کو ’فرائیز‘ ’چپس‘ اور اسی طرح کی دیگر چیزیں کھانے سے روکیں۔

ماہرین نے یہ ہدایت اس وقت جاری کی جب ڈاکٹرز کو پتہ چلا کہ برطانیہ کا ایک نوجوان محض اس لیے بینائی سے محروم ہوگیا، کیوں وہ کم عمری سے فرائیز اور چپس جیسی دیگر چیزیں شوق سے کھاتا آ رہا تھا۔

برطانوی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ کے مطابق ماہرین کا خیال ہے کہ فرائیز، چپس، پرنگلز اور سوساج کو شوق سے کئی سال تک کھانے والا بینائی سے محروم ہونے والا یہ پہلا نوجوان ہے۔

رپورٹ کے مطابق بینائی سے محروم ہونے والے نوجوان کی عمر 17 برس ہے اور اس نے انتہائی کم عمری یعنی 10 برس کے بعد شوق سے اور زیادہ مقدار میں فرائیز، چپس اور اسی طرح کی دیگر چیزیں کھانا شروع کردی تھیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 14 برس کی عمر تک مذکورہ نوجوان میں ’وٹامنز بی 12‘ سمیت اس کی ہڈیوں کے منرلز اور کئی طرح کے دیگر وٹامنز کی کمی دیکھی گئی۔

اگرچہ نوجوان نے وٹامنز اور پروٹین کی کمی مکمل کرنے کے لیے فوڈ سپلیمنٹ یعنی طاقت کی دوائیاں بھی استعمال کیں، تاہم اس سے نوجوان کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

کم عمری سے ہی مسلسل کئی سال تک پھل اور سبزیاں نہ کھانے کی وجہ سے نوجوان کی جسمانی حالت انتہائی خراب ہوگئی تھی اور اس میں وٹامنز، پروٹین اور منرلز کی کمی کی وجہ سے اس سے نہ تو چلا جا سکتا تھا اور نہ ہی وہ اسے ٹھیک طرح سے دکھائی دیتا تھا۔

ہر گزرتے دن میں طبعیت میں خرابی کی وجہ سے نوجوان کو آنکھوں کے ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں دوران علاج ہی وہ مکمل طور پر بینائی سے محروم ہوگیا۔

نوجوان کے نابینہ ہوجانے کے بعد ماہرین اور ڈاکٹرز نے والدین کے لیے ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ والدین اپنے بچوں کی غذا کا خاص خیال رکھیں اور انہیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ خوراک کا نعمل بدل دوائیاں نہیں ہو سکتیں۔

ماہرین نے والدین کو واضح پیغام دیا کہ فوڈ سپلیمینٹ یعنی طاقت کی دوائیاں بھی اس وقت ہی سازگار ہوتی ہے جب متاثرہ شخص میں کچھ نہ کچھ طاقت اور وٹامنز ہوں گی۔

ماہرین نے طاقت کی دوائیوں سے زیادہ خوراک کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو کم عمری میں ہی پھل اور سبزیوں پر مشتمل خوراک دیں۔

کچھ لوگ کبھی موٹے کیوں نہیں ہوتے؟ اصل وجہ سامنے آگئی

کیا آپ نے غور کیا ہے کہ کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جو بہت زیادہ کھاتے ہیں مگر پھر بھی موٹاپے کا شکار نہیں ہوتے، ایسا کیوں ہوتا ہے؟

تو سائنسدانوں نے آخرکار اس کا جواب ڈھونڈ لیا ہے۔

درحقیقت قدرتی طور پر دبلے پتلے رہنے والے افراد کا وزن اس لیے معمول پر رہتا ہے کیونکہ ان کی چربی کے خلیات جینیاتی طور پر زیادہ موثر طریقے سے کام کرتے ہیں۔

یہ بات سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

تحقیق کے دوران محققین نے ایسے افراد کے گروپ کا جائزہ لیا جن کا جو دل کرتا کھاتے مگر ان کا وزن نہیں بڑھتا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ان کے معدے میں موجود چربی کے خلیات ایسے افراد کے مقابلے میں حجم میں 50 فیصد کم اور زیادہ متحرک ہوتے ہیں، جو اوسط جسمانی وزن کے حامل ہوتے ہیں۔

نتائج سے اس خیال کو مزید تقویت ملتی ہے کہ دبلے پتےل افراد کو جسمانی وزن کو معمول پر رکھنے کے حوالے سے دیگر لوگوں کے مقابلے میں کچھ جینیاتی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

طبی جریدے امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع تحقیق میں کہا گیا کہ پہلی بار یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ اپنے جسمانی وزن کو ہمیشہ ایک سطح پر رکھنے والے افراد کو وائٹ ڈپازٹ ٹشو سے فائدہ ہوتا ہے۔

وائٹ ڈپازٹ ٹشوز جسم میں چربی سے بنتے یں اور ان میں لپڈ اسٹور ہوتا ہے جو ہماری غذا میں موجود چربی کا جز ہوتا ہے۔

نیسلے انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ سائنز کی اس تھقیق میں 30 مردوں اور خواتین رضاکاروں کی خدمات حاصل کی گئیں جن کا جسمانی وزن ہمیشہ سے ایک سطح پر رہتا تھا۔

محققین نے دیکھا کہ یہ افراد غذا بھی مناسب مقدار میں کرتے ہیں جبکہ ورزش بھی زیادہ نہیں کرتے مگر پھر بھی ان کا جسمانی وزن ایک سطح پر برقرار رہتا ہے۔

انہوں نے دریافت کیا کہ ان افراد کے معدوں سے چربی کے چھوٹے ٹکڑے، خون، پیشاب اور پاخانے کے نمونے لیے گئے اور نتائج سے معلوم ہوا کہ ان افراد کے چربی کے خلیات غیرمعمولی حد تک چربی گھلانے اور بنانے والے جینز کے تحت متحرک ہوتے ہیں۔

جسمانی وزن کے حوالے سے 200 سے زائد جینز اثرات مرتب کرتے ہیں اور دبلے پتلے افراد کے ایسے چربی والے خلیات عام وزن رکھنے والوں کے مقابلے میں 40 فیصد چھوٹے ہوتے ہیں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ایسے افراد کے یہ خلیات توانائی استعمال کرنے ک ھوالے سے بھی زیادہ متحرک ہوتے ہیں، جس کی بدولت خلیات کے بننے بگڑنے کا عمل بھی خودکار طریقے سے جاری رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

اس سے قبل رواں سال جولائی میں ایک تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ دنیا بھر میں موٹاپے کی شرح 1975 کے بعد سے 3 گنا بڑھ گئی ہے اور اس کی بنیادی وجہ لوگوں میں طرز زندگی کا ناقص انتخاب ہے۔

تحقیق کے مطابق زیادہ کھانا نہیں بلکہ مضر صحت غذا کا انتخاب اور زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا موٹاپے کی وبا کی اصل وجہ ہے، تاہم اس حوالے سے جینز بھی ایک کردار ضرور ادا کرتے ہیں، تاہم وہ بہت زیاد اہم نہیں۔

اس تحقیق کے دوران ایک لاکھ 19 ہزار کے قریب افراد کے جسمانی وزن اور دیگر عوامل کا جائزہ 1963 سے 2008 کے درمیان لیا گیا۔

ان افراد کو 5 گروپس میں تقسیم کیا گیا اور جینز کے ساتھ ساتھ موٹاپے کے دیگر عوامل جیسے عمر، جنس، تمباکو نوشی اور ماحولیاتی عناصر کا تجزیہ کیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ 1980 کی دہائی کے وسط اور 1990 کی دہائی کے وسط مین جسمانی وزن میں اضافے کی شرح میں ڈرامائی اضافہ ہوا۔

محققین نے بتایا کہ موٹاپے میں جینز بھی کچھ کردار ادا کرتے ہیں مگر مرکزی وجہ لوگوں کا ورزش سے دوری، زیادہ وقت بیٹح کر گزارنا اور زیادہ چربی اور چینی والی غذا?ں کا استعمال ہے۔

یہ کہنے کی ضرورت نہیں جسمانی وزن میں اضافہ صحت کے لیے کچھ زیادہ اچھا نہیں ہوتا بلکہ پیٹ اور کمر کے ارگرد جمع ہونے والی چربی جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

موٹاپے کے نتیجے میں کچھ امراض تو فوری سامنے آجاتے ہیں جبکہ طویل المعیاد بنیادوں پر سامنے آتے ہیں۔

بلڈ پریشر اور کولیسٹرول میں کمی لانا ہارٹ اٹیک اور فالج سے بچائے

بلڈ کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کی سطح میں معمولی کمی لاکر ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ نمایاں حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

کیمبرج یونیورسٹی کی تحقیق میں 4 لاکھ 40 ہزار کے قریب افراد کا جائزہ لینے کے بعد دریافت کیا گیا کہ چند معمولی چیزیں ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے جان لیوا امراض سے موت کا خطرہ دوتہائی حد تک کم کردیتی ہیں۔

دنیا میں ہر سال ہارٹ اٹیک یا فالج سے لاکھوں افراد ہلاک ہوتے ہیں جبکہ بلڈ پریشر ایسا عارضہ ہے جو ہر 4 میں سے ایک فرد کو لاحق ہوتا ہے جبکہ ہر 10 میں سے 5 افراد میں کولیسٹرول کا مرض پایا جاتا ہے۔

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے یہ دیکھنے کا فیصلہ کیا کہ یہ دونوں عناصر کس حد تک صحت پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے دریافت کیا کہ صحت کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں 1 ایم ایم او ایل جبکہ بلڈ پریشر 10 ایم ایم ایچ جی کمی دل کے مسائل کا خطرہ 80 فیصد تک کم کرنے کے لیے کافی ہے۔

اس طرح کے نتائج عام طور پر کولیسٹرول کے لیے استعمال ہونے والی statin ادویات اور فشار خون کے لیے کھائی جانے والی گولیوں سے ہی حاصل ہوتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ دل اور دوران خون کے امراض ہر سال صرف برطانیہ میں ہی ایک لاکھ 68 ہزار ہلاکتوں کا باعث بنتے ہیں مگر کولیسٹرول اور بلڈ پریشر میں معمولی کمی لانا ڈرامائی حد تک دل اور دوران خون کے امراض کا خطرہ زندگی بھر کے لیے کم کردیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نتائج سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھانے والے بنیادی عناصر ہیں مگر اہم سوال یہ ہے کہ کتنے افراد کو معلوم ہے کہ ان کا بلڈ پریشر یا کولیسٹرول لیول کیا ہے یا انہیں ک طرح کم کیا جاسکتا ہے؟

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ تحقیق کے نتائج سے اس خطرے میں 80 فیصد تک کمی لانے کی بات سے لوگوں کے اندر طرز زندگی میں طویل المعیاد بنیادوں میں تبدیلی لانے کا خیال پیدا ہوگا۔

اہم بات یہ ہے کہ بلڈ پریشر یا کولیسٹرول کو طرززندگی میں تبدیلیوں اور ادویات کی مدد سے کم کیا جاسکتا ہے، بس آپ کو ہمت کرنے کی ضروت ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جاما میں شائع ہوئے۔

دوپہر کی نیند کا ایک اور بہترین فائدہ سامنے آگیا

قیلولے کی عادت زندگی کو خوش باش بنانے میں مدد دیتی ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ہارٹ فورڈ شائر کی تحقیق میں دوپہر کو مختصر نیند اور خوشی کے درمیان ایک مختصر تعلق دریافت کیا گیا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ویسے تو دوپہر کی مختصر نیند صحت کے لیے متعدد فوائد کی حامل ہے جیسے تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ اور امراض قلب سے تحفظ وغیرہ، مگر یہ عادت زندگی میں خوشی بڑھانے کا باعث بھی بنتی ہے۔

درحقیقت قیلولے کی عادت زندگی سے اطمینان کا احساس دلاتی ہے۔

خیال رہے کہ قیلولہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ہے جس کے متعدد فوائد سائنس عرصے سے تسلیم کررہی ہے۔

اس تحقیق میں شامل ٹیم کا کہنا تھا کہ ماضی میں تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ دوپہر کو 30 منٹ تک نیند سے توجہ مرکوز کرنے، تخلیقی صلاحیتوں میں اضافے اور ذہن کو تیز کرنے میں مدد ملتی ہے، مگر نئے نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ اس سے خوشی کا احساس بھی بڑھ جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سائنسدان عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ دوپہر کو زیادہ وقت تک سونا مختلف امراض کا خطرہ بڑھا سکتا ہے اور ہمارے نتائج سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران ایک ہزار افراد سے ایک آن لائن سروے کے دوران قیلولے کے حوالے سے مختلف سوالت پوچھے گئے اور ان سے ہیپی نیس اسکور دینے کا بھی کہا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ 30 منٹ تک قیلولہ کرنے والے زندگی میں زیادہ خوش باش ہوتے ہیں جبکہ دوپہر کو نہ سونے والے حیران کن طور پر زیادہ دیر تک قیلولہ کرنے والوں سے زندگی میں خوش ہوتے ہیں۔

اس سے قبل جولائی میں سامنے آنے والی ایک امریکی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ دوپہر کو 15 سے 30 منٹ کی نیند ذہنی ہوشیاری، یادداشت، ذہنی صلاحیت کو بڑھانے جبکہ مزاج کو خوشگوار بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

تحقیق کے مطابق قیلولہ لوگوں کے ذہن کے لیے بہت اچھا ہوتا ہے کیونکہ یہ اس کی صفائی کا کام کرتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ اگر لوگ قیلولے کو عادت بنالیں تو وہ معلومات کو زیادہ تیزی اور موثر طریقے سے ذخیرہ، برقرار اور یاد کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ دوپہر کی یہ مختصر نیند ذہنی صلاحیت پر زبردست مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔

تاہم سب سے ضروری امر یہ ہے کہ دوپہر کی نیند مختصر یعنی آدھے گھنٹے سے زیادہ نہ ہو کیونکہ وہ ذہن کے لیے فائدے کی بجائے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

پانی اور پاپ کارن قبض سے نجات کے لیے فائدہ مند

قبض کی بیماری کا سامنا اکثر افراد کو ہوتا ہے اور انہیں اپنی زندگی اس کی وجہ سے بہت مشکل محسوس ہونے لگتی ہے۔

قبض ذیابیطس جیسے مرض کی بھی ایک بڑی علامت ہوسکتا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق ذیابیطس سے ہٹ کر کچھ اقسام کے کینسر لاحق ہونے کی صورت میں بھی قبض کی شکایت اکثر رہنے لگتی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اگر آپ کو اکثر قبض کی شکایت رہتی ہے تو اسے عام سمجھ کر نظر انداز مت کریں۔

تاہم قبض کا علاج تو آپ کے اپنے کچن میں بھی موجود ہے۔

چند عام اور مزیدار چیزوں کو کھانا اس تکلیف سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

پاپ کارن

آلو کے چپس کی بجائے اگر آپ سادے پوپ کارن کو ترجیح دیں تو منہ چلانے کی خواہش کے ساتھ ساتھ قبض سے بھی بچ سکیں گے، طبی ماہرین کے مطابق یہ جسم کی فائبر کی ضروریات پوری کرنے کا آسان ذریعہ ہے، کیونکہ ان کی کچھ مقدار میں تین گرام فائبر ہوتی ہے۔

آلو بخارے

آلو بخارے فائبر سے بھرپور پھل ہے اور یہ وہ جز ہے جو آنتوں کے افعال کو بہتر کرکے قبض کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے، ایک آلو بخارے میں ایک گرام فائبر ہوتا ہے جو کہ جسم کے لیے مناسب مقدار ہے، اسی طرح اس میں موجود دیگر اجزاءبھی نظام ہضم کے مسائل پر قابو پانے کے لیے موثر ثابت ہوتے ہیں۔

پانی

فائبر اور ورزش کے ساتھ ساتھ مناسب مقدار میں پانی پینا بھی قبض کی شکایت میں کمی لانے کے لیے ضروری ہے، پانی آنتوں کے افعال کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے، اگر آپ کا جسم پانی کی کمی کا شکار ہوگا تو قبض کا خطرہ بھی اتنا زیادہ بڑھ جائے گا۔

مالٹے

طبی ماہرین مالٹوں کو بھی قبض سے نجات دلانے کے لیے بہترین قرار دیتے ہیں کیونکہ یہ بھی فائبر سے بھرپور پھل ہے جبکہ کیلوریز بھی بہت کم ہوتی ہیں، اسی طرح ترش پھلوں میں فلیونول نامی جز بھی ہوتا ہے جو کہ قبض کشا کا کام کرتا ہے۔

جو

فائبر کے حصول کے لیے جو بہترین ہے، اس کے ایک کپ میں دو گرام انسولیبل جبکہ دو گرام سولیبل فائبر موجود ہوتا ہے، انسولیبل فائبر کھانے کو معدے سے جلد آنتوں میں پہنچانے میں مدد دیتا ہے جبکہ فائبر کی دوسری قسم پانی میں تحلیل ہوکر جیل جیسا میٹریل بناتی ہے جو کہ قبض کے خلاف موثر ہے۔

چاول

ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ زیادہ چاول کھانے کے عادی ہوتے ہیں ان میں قبض کا خطرہ 41 فیصد تک کم ہوتا ہے، اس کی کوئی واضح وجہ تو نہیں بتائی گئی مگر ممکنہ طور پر چاول میں موجود فائبر اس حوالے سے مددگار ہوتا ہے۔

پالک

پالک نہ صرف فائبر سے بھرپور ہوتی ہے بلکہ میگنیشم کے حصول کا بھی بہترین ذریعہ ہے، یہ منرل آنتوں کے لیے ضروری ہوتا ہے اور فضلے کو صاف کرنے کا کام کرتا ہے۔

بیج

بیج میں نشاستہ پایا جاتا ہے جو کہ آنتوں کے لیے ضروری ہوتا ہے، یا یوں کہہ لیں کہ قبض کشا کا کام کرتا ہے جبکہ غذائی نالی میں بیکٹریا کے توازن میں بھی مدد دیتا ہے۔ تاہم ان کا زیادہ استعمال پیٹ میں گیس اور اس کے پھولنے جیسے مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔

دہی

دہی میں بیکٹریا یا پرو بائیو ٹکس کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ معدے کے لیے اچھے ثابت ہوتے ہیں، یہ نہ صرف غذائی نالی کے نظام کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں بلکہ آنتوں کی کارکردگی کو بھی بہتر بناتے ہیں۔

Google Analytics Alternative