صحت

صرف ایک رات کی خراب نیند کا یہ نقصان جانتے ہیں؟

صرف ایک رات کی خراب نیند ہی دماغی امراض کا خطرہ بڑھانے کے لیے کافی ثابت ہوتی ہے۔

یہ انتباہ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

تحقیق کے مطابق جن لوگوں کو نیند کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے، ان میں الزائمر امراض کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

نیشنل انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ کی تحقیق میں بتایا گیا کہ محض ایک رات نیند کی کمی ہی دماغی میں ایسے پروٹین کے اخراج کو فوری بڑھا دیتا ہے جو کہ الزائمر امراض سے تعلق رکھتے ہیں۔

اس سے قبل ماضی میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ ناقص نیند دماغی افعال کو ناقص بنانے کا باعث بنتی ہے۔

الزائمر امراض میں بیٹا ایمیلوئیڈ پروٹینز کا اجتماع ایمیلوئیڈ پلاک کو تشکیل دیتا ہے جو کہ اس دماغی مرض کی علامت ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے نیند کی کمی کے دماغ پر اثرات کے حوالے سے نئی معلومات سامنے آئی ہے اور اس سے الزائمر کی شناخت کے حوالے سے مدد ملے گی۔

اس تحقیق کے دوران 22 صحت مند افراد کی خدمات حاصل کی گئیں اور ان کا دماغی اسکین ایک رات کی پرسکون نیند اور نیند کی کمی (31 گھنٹے تک جاگنے کے بعد) کیے گئے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ نیند کی کمی سے ایمیلوئیڈ کی سطح میں ایک رات کی نیند کھونے کے بعد مختلف دماغی حصوں میں 5 فیصد تک اضافہ ہوگیا، خصوصاً وہ حصے جو الزائمر کے ابتدائی مرحلے پر زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

الزائمر امراض میں بیٹا ایمیلوئیڈ ایک اندازے کے مطابق 43 فیصد تک بڑھ جاتا ہے اور دماغی صحت کو متاثر کرتا ہے۔

اس تحقیق میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ایک رات کی نیند کھونے سے بڑھنے والے ایمیلوئیڈ کی سطح میں مناسب نیند کے بعد کمی آئی یا نہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہوئے۔

روزانہ سبز چائے پینا صحت کے لیے فائدہ مند کیسے؟

عمر کے ساتھ جسمانی وزن میں اضافہ قدرتی ہوتا ہے اور کوئی بری بات بھی نہیں۔

تاہم اگر یہ اضافہ بہت زیادہ ہو تو پھر ضرور پریشان ہونا چاہئے کیونکہ موٹاپا متعدد امراض جیسے ذیابیطس، کینسر، امراض قلب، بلڈ پریشر اور ایسے ہی متعدد جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھانے والا سب سے بڑا عنصر ہے۔

تاہم جب وزن کم کرنے کی بات ہو تو پھر کیا کرنا چاہئے ؟ تو اس کے لیے دوستوں کی جانب سے شرمندہ کیے جانے پر ایک خاتون نے ایک ماہ تک ایک مخصوص چیز کو غذا کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا۔

اس خاتون نے موٹاپے اور توند سے نجات کے لیے جم جانے اور صحت بخش غذاﺅں کے ساتھ اپنی غذائی پلان میں سبز چائے کو شامل کیا اور ایک ماہ تک روزانہ اس گرم مشروب کے 3 کپ نوش کیے۔

اس سے خاتون کو یہ درج ذیل فوائد حاصل ہوئے۔

جسمانی توانائی میں اضافہ

اس خاتون کے بقول سبز چائے کو غذا کا حصہ بنانے سے وہ خود کو زیادہ توانائی سے بھرپور محسوس کرنے لگی جبکہ جلد کی صحت بھی بہتر ہوئی۔ اس مشروب کے استعمال سے پہلے ان کی جلد کیل مہاسوں کا شکار تھی تاہم سبز چائے نے ان کا خاتمہ کرکے چہرہ شفاف اور چمکدار بنادیا۔

زہریلا مواد خارج کرے

طبی ماہرین کی وجہ سے اکثر سبز چائے کے استعمال کا مشورہ اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس کی وجہ سے دیا جاتا ہے، جو کہ جسم میں موجود زہریلے مواد کو خارج کرتے ہیں، اس میں موجود فلیونوئڈز اور کیفین میٹابولک ریٹ کو بڑھاتے ہیں جس سے انسولین ایکٹیویٹی بہتر ہوجاتی ہے۔

توند سے نجات

جی ہاں سبز چائے توند کی اضافی چربی کو گھلانے میں مدد دیتی ہے، اس خاتون نے ایک ماہ تک اس کا استعمال کیا اور نمایاں فرق محسوس کیا۔ سبز چائے میں موجود ایک ایکٹیو اینٹی آکسائیڈنٹ catechins، جو میٹابولزم کو کی رفتار بڑھا کر چربی کو تیزی سے گھلاتا ہے۔

احتیاط

تاہم خیال رہے کہ زیادہ مقدار میں سبز چائے کے استعمال سے معدے کے مسائل، ہیضہ اور آئرن کی کمی وغیرہ کا سامنا ہوسکتا ہے، اسی طرح نیند کم ہونے کا خطرہ بھی ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ 3 سے 4 کپ سے زیادہ اس مشروب کا استعمال کرنے گریز کرنا بہتر ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

کینسر کے خلاف قدرت کا اسلحہ خانہ: لیموں

لندن: اپنی خوشبو، تاثیر اور فوائد کی وجہ سے لیموں پوری دنیا میں وافر استعمال کیا جاتا ہے لیکن حالیہ تحقیق نے اس کی افادیت مزید دو چند کردی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس میں ایک درجن سے زائد ایسے اجزا ہیں جو کئی طرح کے سرطان (کینسر) کو روکتے ہیں یا ان کے علاج میں استعمال ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ لیموں کے چھلکوں میں بھی اینٹی کینسر اجزا پائے جاتے ہیں۔

لیموں کے چھلکے میں جسم کے قدرتی دفاعی (امنیاتی) نظام کو مضبوط کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اس طرح انسانی جسم کینسر جیسے مرض سے لڑنے کے قابل ہوجاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بقیہ لیموں میں 22 ایسے اجزا مل چکے ہیں جو کسی نہ کسی طرح سرطان کو ناکام بناتے ہیں۔

لیموں ٹرپینس سے مالامال ہے جن میں سب سے قابلِ ذکر ڈی لیمونین ہے جو کینسر سے بچاتا ہے اور اسے دور کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اس ضمن میں یونیورسٹی آف ایریزونا کے کینسر سینٹر نے ایک چھوٹی سی تحقیق کی ہے۔ اس مطالعے میں 43 ایسی خواتین کو شامل کیا گیا تھا جن میں کچھ عرصے قبل چھاتی (بریسٹ) کے سرطان کی شناخت ہوئی تھی۔ سرجری سے 2 سے 6 ہفتے قبل انہیں روزانہ دو گرام ڈی لیمونین کی مقدار دی گئی تھی۔

ان خواتین میں چھاتی کی رسولی بنانے والے اہم بایومارکرز کی تعداد میں 22 فیصد کمی دیکھی گئی جن میں کینسر کا پتا دینے والا اہم بایومارکر سائیکلین ڈی ون بھی شامل تھا۔

اس بنیاد پر ماہرین کہہ رہے ہیں کہ اگر خواتین لیموں کا باقاعدہ استعمال جاری رکھیں تو اس سے چھاتی کے سرطان کاخطرہ 50 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔

تاہم اب تک یہ جاننا باقی ہے کہ آخر یہ اہم جزو کس طرح سرطان کو روکتا ہے۔ لیموں کے تازہ چھلکوں کے باریک ٹکڑوں میں بھی یہ خاصیت دیکھی گئی ہے کہ ان میں موڈیفائیڈ سٹرس پیکٹن (ایم سی پی) کی وسیع مقدار بھری ہوتی ہے۔  ایم سی پی فوری طور پر خون میں شامل ہوجاتا ہے اور نظامِ ہاضمہ کا حصہ بن جاتا ہے۔ اسے چھاتی، پروسٹیٹ اور جلد کے سرطان کے خلاف مؤثر دیکھا گیا ہے۔ یہ کینسر کے خلیات کے پھیلنے کی رفتار کو سست کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ لیموں میں موجود دیگر اہم اجزا منہ، غذائی نالی، پیٹ اور حلق کے کینسر کو روکنے میں مددگار ہوتے ہیں۔

لیموں کے چھلکے کے اندر سفید گوشہ ڈی لیمونین سے بھرپور ہوتا ہے اور اس میں اوسطاً 300 ملی گرام ڈی لیمونن موجود ہوتا ہے۔

دانتوں کا خلا بھرنے والا انوکھا ٹوتھ پیسٹ

واشنگٹن: یونیورسٹی آف واشنگٹن کے ماہرین نے قدرتی اجزا سے بھرپور ایک نیچرل پراڈکٹ پر مشتمل ٹوتھ پیسٹ بنایا ہے جو روزمرہ کی بنیاد پر دانتوں میں جوف (کیویٹی) بننے کا عمل روکتا ہے اور دانتوں کے سخت حصے یعنی اینامل کو فروغ دیتا ہے۔

یونیورسٹی کے پروفیسر محمت ساریکایا اور ان کے ساتھیوں نے ایک خاص پروٹین ایملوجینن سے پیپٹائڈز (امائنوایسڈز کی چھوٹی زنجیروں) کو اخذ کرکے اس سے ایک ٹوتھ پیسٹ تیار کیا ہے۔ واضح رہے کہ ایملوجینن پروٹین دانتوں کے سخت حصے اینامل کی تشکیل میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اس طرح ٹوتھ پیسٹ میں موجود قدرتی پیپٹائڈز ایک جانب تو دانتوں کی سطح سے چپک جاتے ہیں تو دوسری جانب وہ کیلشیئم اور فاسفیٹ آئن خارج کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح دانتوں میں بننے والے سوراخوں کو ابتدائی کیفیت میں بھرا جاسکتا ہے اور ایک طرح سے دانتوں پر اینامل کی پرت چڑھتی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ دانتوں میں موجود اینامل کی بھی حفاظت ہوتی رہتی ہے۔

لیبارٹری میں کئے گئے تجربات سے معلوم ہوا کہ جب جب ٹوتھ پیسٹ لگائی جائے تو اس سے ہر بار دانتوں پر 10 سے 50 مائیکرو میٹر اینامل کی ایک تہہ چڑھ جاتی ہے۔ توقع ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے تجارتی پیمانے پر فروغ کے بعد اسے روزمرہ استعمال کے ٹوتھ پیسٹ میں ڈھالنا ممکن ہوگا جو بچوں اور بوڑھوں دونوں کے لیے یکساں طور پر مفید ثابت ہوگا۔

اس ایجاد پر دندان سازوں نے بھی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپٹائڈز دانتوں کی حفاظت کا ایک مختلف طریقہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ یہ عمل بہت سادہ ہے اور یہ دانتوں کی حفاظت کی تمام مصنوعات کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔

کچے آموں کو غذا کا حصہ کیوں بنانا چاہیے؟

کچے آم یا کیری تو آج کل ہر جگہ دستیاب ہیں اور لوگ انہیں چٹنیوں یا مختلف چیزوں کے لیے استعمال بھی کرتے ہیں۔

پاکستان جیسے ملک میں جہاں گرمی بہت زیادہ پڑتی ہے، کچے آم بہت زیادہ استعمال ہوتے ہیں، جن کا مشروب بھی تیار کیا جاسکتا ہے یا چٹنیوں کا ذکر تو اوپر ہو ہی چکا ہے۔

اسی طرح کیری کا اچار بھی بنا کر فریج میں محفوظ کیا جاسکتا ہے اور آپ یہاں کچے آموں کے چند فوائد جان سکیں گے جو صحت کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہے۔

شدید گرمی اور ڈی ہائیڈریشن سے تحفظ

کچے آموں کا جوس پینا صرف فرحت بخش ہی نہیں بلکہ یہ شدید گرمی کے اثرات کو کم کرکے ڈی ہائیڈریشن کی روک تھام کرتا ہے۔ گرمیوں میں پسینے کی شکل میں بہت زیادہ سوڈیم کلورائیڈ اور آئرن خارج ہوسکتا ہے، جس سے جسم ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہوتا ہے، کیری کا شربت اس سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

معدے کے مسائل کا حل

کچے آم کا استعمال معدے کے عوارض سے بچاﺅ میں مدد دیتا ہے، جو موسم گرما میں کافی عام ہوجاتے ہیں۔ کیری کھانے کی عادت قبض، ہیضے، سینے کی جلن اور متلی کی کیفیت اور بدہضمی سے تحفظ یا ان کا اچھا علاج ثابت ہوتی ہے۔

دل کے لیے فائدہ مند

کچے آموں میں نیاسن نامی ایسڈ ہوتا ہے جو کہ دل کے لیے صحت بخش جز ہے، نیاسن خون کی شریانوں کے مسائل سے جڑے امراض کا خطرہ کم کرتا ہے جبکہ بلڈ کولیسٹرول لیول بہتر کرتا ہے۔

گوشت خورے (مسوڑوں کے امراض)کا علاج کرے

کیری کا سفوف یا آمچور کو گوشت خورے کا موثر علاج سمجھا جاتا ہے، اس مرض میں اکثر مسوڑوں سے خون، خراشیں، کمزوری اور تھکاوٹ وغیرہ کا سامنا ہوتا ہے۔ کچے آم وٹامن سی سے بھرپور ہوتے ہیں اور عام طور پر اس کی کمی ہی اس مرض کا باعث بنتی ہے۔ اسی طرح یہ وٹامن خون کی شریانوں کی لچک بڑھاتا ہے اور خون کے سرخ خلیات کو بڑھاتا ہے جس سے اینیما کا مسئلہ بھی کم ہوتا ہے۔

جگر اور آنتوں کے لیے فائدہ مند

کچے آم جگر کے لیے بہت فائدہ مند ہیں اور یہ جگر کے مختلف امراض سے بچانے یا علاج میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ کیری کے ٹکڑوں کو چبانا چھوٹی آنت میں پتے میں بننے والے سیال بائل کو داخل کرتا ہے، جہاں وہ چربی کو جذب کرنے کی صلاحیت بڑھاتا ہے جبکہ غذا میں موجود نقصان دہ جراثیموں کو مارتا ہے۔

جسمانی توانائی بڑھائے

معمولی مقدار میں کیری کا سفوف دوپہر کے وقت کی سستی کو دور کرنے کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے جو عام طور پر کھانے کے بعد طاری ہوتی ہے۔ درحقیقت کچے آم جسمانی توانائی بڑھاتے ہیں اور کارکردگی بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔vb

سرخ گوشت زیادہ کھانا جگر کے لیے نقصان دہ

سرخ گوشت کو زیادہ کھانے کی عادت جان لیوا جگر کے امراض کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔

یہ دعویٰ ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

تحقیق میں سرخ گوشت کھانے اور جگر پر چربی چڑھنے کے مرض کے درمیان تعلق کو دریافت کیا گیا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ بھنے ہوئے گوشت کو کھانے والے افراد میں اس مرض کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے جو آگے بڑھ کر جگر سکڑنے ، کینسر یا لیور فیلیئر کا باعث بن سکتا ہے۔

اس سے قبل یہ بات پہلے ہی سامنے آچکی ہے کہ سرخ گوشت کو بہت زیادہ کھانا کینسر، امراض قلب اور ذیابیطس کا خطرہ بڑھاتا ہے تاہم اس تحقیق میں جگر پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

اس نئی تحقیق میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی کہ سرخ گوشت کو زیادہ کھانا ذیابیطس کا باعث بن سکتا ہے جو کہ جگر کے امراض کا خطرہ بڑھانے والی ایک بڑی وجہ ہے۔

حیفہ یونیورسٹی کی تحقیق کے دوران 789 بالغ افراد سے ان کی غذائی اور پکانے کی عادات کے بارے میں پوچھا گیا اور پھر ان کے جگر کے الٹرا ساﺅنڈ اسکین اور انسولین مزاحمت کے ٹیسٹ بھی ہوئے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ جنک اور سرخ گوشت زیادہ کھاتے ہیں، ان میں جگر کے امراض کا خطرہ 47 فیصد زیادہ ہوتا ہے جبکہ انسولین کی مزاحمت کا امکان 55 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق سرخ گوشت کو تیز آنچ پر زیادہ تک پکانا بھی جگر کے امراض اور ذیابیطس کا خطرہ بڑھانے سے تعلق رکھتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ سرخ اور پراسیس شدہ گوشت کا بہت زیادہ استعمال صحت کے لیے انتہائی مضر ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انسولین کی مزاحمت اور جگر پر چربی چڑھنے سے بچنے کے لیے لوگوں کو سرخ گوشت کا کم جبکہ مچھلی اور چکن کو زیادہ ترجیح دینی چاہئے۔

اسی طرح تلے ہوئے یا بھنے ہوئے گوشت کی بجائے ابالنا یا سالن کی شکل میں کھانا زیادہ بہتر ہے۔

جگر پر چربی چڑھنے کا مرض اکثر ممالک میں بہت عام ہے اور ہر 4 میں سے ایک شخص اس کا نشانہ بنتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف Hepatology میں شائع ہوئے۔

ذیا بیطس کے مریضوں کےلیے کونسا سیب زیادہ فائدہ مند؟

نیویارک: ویسے تو پھل اور سبزیاں صحت کے لیے بہترین ہوتی ہیں لیکن ان کی اقسام اپنی مخصوص غذائیت یا خاصیت کے اعتبار سے ایک دوسرے پر فوقیت رکھتی ہیں۔

ایسا ہی کچھ صحت کے لیے انتہائی مفید پھل سیب کے ساتھ ہے کہ جو ہر لحاظ سے صحت مند پھل ہے تاہم لال (گالا) اور سبز (گرینی) سیب میں سے کونسا سیب ذیابیطس کے مریضوں کےلیے زیادہ مفید ہے؟ یہ  شوگر کے مریضوں کےلیے جاننا ضروری ہے۔

لال (گالا) اور سبز (گرینی) سیب میں فرق

سبز رنگ کا سیب جسے کچا سیب بھی کہا جاتا ہے، اس میں شوگر کی مقدار لال سیب کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔ ایک درمیانے سائز کے سبز سیب میں 17 گرام جب کہ درمیانے سائز کے لال (گالا) سیب میں 23 گرام شوگر پائی جاتی ہے۔ اس لحاظ سے لال کے مدمقابل ذیابیطس کے مریضوں کےلیے سبز سیب زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

جوانی میں ہی بوڑھا کردینے والی اس عام غذا سے بچیں

کیا آپ کو معلوم ہے کہ بہت زیادہ میٹھا کھانا جوانی میں ہی آپ کے چہرے اور جسم کو بوڑھا کرسکتا ہے؟

جی ہاں یہ حقیقت ہے کہ بہت زیادہ شکر اور ریفائن کاربوہائیڈریٹس سفید چاول، سفید ڈبل روٹی اور پاستا وغیرہ جسم میں بلڈ شوگر لیول کو بڑھا دیتے ہیں اور اسے کم بھی نہیں ہونے دیتے۔

اس کے نتجیے میں شوگر مالیکیول پروٹین سے مستقل تعلق بنالیتے ہیں خصوصاً جلد میں موجود کولیگن سے جس کے نتیجے میں جلد پر کیمیائی ردعمل ہوتا ہے اور اوپری سطح کی لچک ختم ہوجاتی ہے جبکہ وہ سخت بھی ہوجاتی ہے، اس کے باعث جوانی میں ہی بڑھاپے کے آثار جلد پر نمایاں ہونے لگتے ہیں جبکہ جھریاں بھی نمودار ہوجاتی ہیں۔

آسان الفاظ میں زیادہ میٹھا کھانے سے بڑھاپے کے 3 آثار نمایاں ہوتے ہیں جو کوئی بھی جوانی میں دیکھنا پسند نہیں کرتا یعنی جھریاں، فائن لائنز اور جلد بے رنگ ہوجانا۔

زیادہ سنگین ہو تو جلد کی رنگت گہری ہوجاتی ہے جس کی وجہ کولیگن اور ایلسٹین کو نقصان پہنچنا ہوتا ہے۔

امریکن کالج آف نیوٹریشن نامی جرنل میں شائع ایک تحقیق کے دوران مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ساڑھے 4 سو سے زائد بالغ افراد کی غذائی عادات کا جائزہ لے کر نتیجہ نکالا گیا جو لوگ زیادہ مچھلی، زیتون کا تیل اور دالیں کھاتے ہیں، ان میں جھریوں کا امکان گوشت، گھی، زیادہ چربی والی دودھ کی مصنوعات اور چینی پسند کرنے والوں کے مقابلے میں بہت کم ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق پراسیس گوشت یا جنک فوڈ، سافٹ ڈرنکس اور بیکری کی میٹھی مصنوعات جلد پر زیادہ جھریوں کا باعث بنتی ہیں، جبکہ بیج، سبز پتوں والی سبزیاں، گریاں، زیتون، سیب اور ناشپاتی عمر بڑھنے کے اثرات کو سست کردینے والی غذائیں ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ زیادہ چینی اور ریفائن کاربوہائیڈریٹس والی غذاﺅں کو زیادہ کھانے سے گریز کرنے کے ساتھ ساتھ تمباکونوشی، جنک فوڈ، تلی ہوئی غذاﺅں کو اعتدال میں کھانا چاہیے۔

اسی طرح مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق چینی کا استعمال کم کرنا تکسیدی تناﺅ کو گھٹاتا ہے خاص طور پر جنک فوڈ اور سافٹ ڈرنکس سے بچنا ضروری ہے۔

اچھی بات یہ ہے کہ اگر بہت زیادہ میٹھا کھانے کے عادی ہیں تو اس کے اثرات کو ریورس کرنا ممکن ہے جس کے لیے مچھلی، زیتون کے تیل، پھلوں، سبزیوں اور گریوں پر مشتمل غذا کا زیادہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔

دالوں، بیج، چنوں اور فائبر سے بھرپور سبزیوں کا استعمال بھی اس حوالے سے مددگار ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ غذائیں فائبر بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول کرکے جسم کے اندر ہونے والے نقصان کو روکتی ہیں۔

ایک اور اچھا طریقہ سبز چائے کے روزانہ ایک سے دو کپ کا استعمال ہے جو جلد کے تحفظ کے لیے کولیگن کی سطح کو حرکت میں لاتا ہے جبکہ ٹماٹر کھانا بھی اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

Google Analytics Alternative