صحت

بیکٹریائی انفیکشن جو جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے

گزشتہ دنوں عالمی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر ایک کینیڈین لڑکی کی موت کی خبر نمایاں رہی۔

خبر کو توجہ ملنے کا سبب لڑکی کی وجۂ موت تھی۔ وہ ٹاکسک شاک سنڈروم (toxic shock syndrome) نامی مرض کا شکار ہوئی۔ یہ بیماری کسی زمانے میں عام تھی مگر اب نایاب ہوچکی ہے۔ اب اس کے کیسز بہت کم سامنے آتے ہیں۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ ٹاکسک شاک سنڈروم کا سبب روئی کے عام سے پھاہے ( ٹیمپون) بنتے ہیں جو خون کے اخراج کو روکنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

ٹاکسک شاک سنڈروم مختلف قسم کے بیکٹیریائی انفیکشنز کی پیچیدگی کا نام ہے جو جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔ عام طور پر یہ مرض Staphylococcus aureus نامی بیکٹیریا سے خارج ہونے والے زہریلے مواد سے پھیلتا ہے۔ تاہم ایک اور قسم کے اسٹریپ بیکٹیریا بھی یہی زہر پیدا کرتے ہیں۔

 یہ بیکٹیریا روئی کے جاذب پھاہوں میں نمو پاتے ہیں، اسی لیے خواتین اس مرض کا زیادہ شکار ہوتی تھیں جو اپنے مخصوص ایام کے دوران روئی سے بنے ٹیمپون کا استعمال کرتی تھیں۔ تاہم ان واقعات کے بعد بیکٹیریا کی افزائش کرنے والے ٹیمپون، سینیٹری پیڈز اور زخموں سے خون کا اخراج روکنے میں استعمال ہونے والے روئی کے پھاہوں کی مخصوص اقسام کی تیاری روک دی گئی۔

اس اقدام سے ٹاکسک شاک سنڈروم کے کیسز میں کمی آتی چلی گئی، تاہم اب بھی بعض اوقات یہ واقعات پیش آجاتے ہیں۔ تیسری دنیا کے ممالک میں جہاں عوام کی صحت حکومتوں کی ترجیحات میں شامل نہیں ہوتی وہاں یقیناً اس بیکٹیریائی انفیکشن کے واقعات رونما ہوتے ہوں گے، یہ دوسری بات ہے کہ ذرائع ابلاغ میں ان کا تذکرہ نہ ہوتا ہو۔

ٹاکسک شاک سنڈروم خواتین، مردوں اور بچوں کو کسی بھی عمر میں نشانہ بنا سکتا ہے۔ جن افراد کی جلد پر زخم ہوتے ہیں یا جو آپریشن سے گزرتے ہیں، وہ اس بیکٹیریائی انفیکشن کا شکار ہوسکتے ہیں۔

علامات

٭ اچانک بخار ہوجانا

٭ لَو بلڈ پریشر

٭ قے ہونا

٭ ہتھیلوں اور تلووں پر سرخی آجانا

٭ الجھن یعنی کنفیوژن کا شکار ہونا

٭ پٹھوں میں درد

٭ آنکھوں، منھ اور حلق میں سرخی آجانا

٭ دورہ پڑنا

٭ سر میں درد

ان علامات کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ بالخصوص اگر متأثرہ فرد میں یہ علامات ٹیمپون استعمال کرنے کے بعد ظاہر ہوئی ہوں اور اس کی جلد پر زخم بھی ہو تو پھر فوری ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

اسباب

Staphylococcus aureus نامی بیکٹیریا اس مرض کا سبب بنتا ہے۔ علاوہ ازیں اسٹریپ بیکٹیریا بھی اس کی وجہ بن سکتے ہیں۔ یہ مرض کسی کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے تاہم عام طور پر یہ انفیکشن ان خواتین میں زیادہ دیکھنے میں آیا ہے جو مخصوص ایام کے دوران ٹیمپون استعمال کرتی ہیں۔ بعض صورتوں میں اس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے:

٭ اگر جلد پر زخم ہوں

٭ حال ہی میں آپریشن ہوا ہو

٭ برتھ کنٹرول اسفنج اور اسی قسم کی مصنوعات استعمال کی جارہی ہوں

٭ کوئی وائرل انفیکشن جیسے چکن پوکس لاحق ہوا ہو

ٹاکسک شاک سنڈروم سے جُڑی پیچیدگیاں

یہ انفیکشن برق رفتاری سے پھیلتا ہے۔ نتیجتاً کئی پیچیدگیاں ہوسکتی ہیں:

٭ گردے ناکارہ ہوسکتے ہیں

٭ آخر کار موت واقع ہوسکتی ہے

احتیاطی تدابیر

ترقی یافتہ ممالک میں ان تمام میٹیریلز کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی تھی جو ٹاکسک شاک سنڈروم کے بیکٹیریا کی افزائش کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ تمام کمپنیوں کو روئی کی جاذب مصنوعات کے ڈیزائن، معیار، سائز مقرر کرنے کے علاوہ ڈبے پر صارفین کے لیے رہنما ہدایات درج کرنے کا بھی پابند کردیا گیا تھا۔ خواتین کو مخصوص ایام کے دوران ٹیمپون کا استعمال ان ہدایات کے مطابق کرنا چاہیے اور ہر چار سے آٹھ گھنٹے بعد انھیں تبدیل کرتے رہنا چاہیے۔

اگر کسی فرد کو یہ انفیکشن ایک بار ہوچکا ہے تو دوبارہ بھی ہوسکتا ہے، چناں چہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔ اس صورت میں بہتر یہ ہے کہ ٹیمپون کا استعمال ترک کردیا جائے۔

 

امریکا نے پاکستان کیلئے صحت کا انتباہ جاری کردیا

واشنگٹن: امریکا کی جانب سے پاکستان کے لیے ایک صحت کا انتباہ جاری کیا گیا ہے، جس میں لوگوں کو ایک وباء’ بڑے پیمانے پر ادویات سے مزاحمت ‘ کرنے والے ٹائیفائڈ بخار سے خبردار کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس قسم کے بخار پر زیادہ تر اینٹی بائیوٹکس اثر نہیں کر رہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مرکز ( سی ڈی سی ) کی جانب سے جاری بیان میں ’ پاکستان یا جنوبی ایشیا کے کسی حصے میں سفر کرنے والے مسافروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ خوراک اور پانی کے معاملے میں زیادہ دیکھ بھال کریں اور ٹائیفائڈ ویکسینیشن ضرور لیں۔

سی ڈی سی نے کہا کہ پاکستان جانے والے مسافروں کی اس بیماری کے ساتھ واپس لوٹنے کے بعد مبصرین کی جانب سے سطح دوئم کے خطرے کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

امریکی ادارے کی جانب سے خبردار کیا گیا کہ ’ پاکستان سفر کرنے والے مسافروں کو ایکس ڈی آر ٹائیفائڈ بخار ہونے کا خطرہ ہے جبکہ سیاحوں اور کاروباری مسافروں کے مقابلے میں اپنے دوستوں یا رشتہ داروں کے جانے والے مسافروں میں یہ خطرہ انتہائی حد تک زیاہ ہے‘۔

اس کے ساتھ ساتھ سی ڈی سی نے مسافروں پر زور دیا گیا کہ وہ خوراک اور پانی کے حوالے سے گائڈلائن کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی اضافی دیکھ بھال کریں، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ معلومات پر مبنی یہ گائڈ لائنز پاکستان میں رہائش پذیر افراد کےلیے فائدے مند ثاب ہوسکتی ہیں۔

موجودہ صورتحال کیا ہے؟

ایکس ڈی آر ٹائیفائڈ بخار کی ابتداء نومبر 2016 میں حیدرآباد میں ہوئی، سلمونیلا ٹائیفائی وائرس کا حصہ ہونے والے اس بخار میں ٹائیفائڈ بخار کے لیے استعمال ہونے والی زیادہ تر اینٹی بائیوٹک اثر نہیں کرتیں۔

حیدرآباد سے شروع ہونے والی یہ وباء کراچی اور مختلف اضلاع تک پھیل چکی ہے جس میں اب تک مختلف اموات بھی رونما ہوچکی ہیں۔

پاکستان میں موجود صحت کی انتظامیہ ممکنہ ٹائیفائڈ بخار کے کیسز کی نشاندہی کررہے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع میں ٹائیفائڈ ویکسینیشن کیمپ کا بھی آغاز کردیا گیا ہے، ساتھ ہی یہ پیغام بھی عام کیا جارہا ہےکہ صحت مند رہنے کے لیے اچھے طریقے سے ہاتھ دھوئے جائیں اور اپنے کھانے اور پینے کا خیال رکھا جائے۔

دوسری جانب امریکی ادارے کی جانب سے جاری کی گئی گائڈ لائنز مسافروں اور پاکستان کے شہریوں کے لیے کارآمد ثابت ہوسکتی ہیں، ان گائڈلائنز میں ٹائیفائڈ کی ویکسین لینا سب سے زیادہ ضروری ہیں۔

گائڈ لائن کے مطابق دو طرح کی ٹائیفائڈ ویکسن آسانی سے دستیاب ہیں، جن میں ایک کھانے پینے والی (اورل ) ویکسین ہے جبکہ دوسری انجیکشن کے ذریعے لگانے والی ہیں۔

اورل ویکسین سفر سے کم از کم ایک ہفتے قبل کم از کم 6 سال کی عمر کے بچے کو دی جاسکتی ہے جبکہ انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی ویکسن کم از کم 2 سال کی عمر کے بچے کو دے سکتے ہیں اور یہ سفر سے کم از کم 2 ہفتے قبل دینی چاہیے۔

آواز کی لہروں سے خون میں کینسر کی کامیاب شناخت

ڈرہم ، نارتھ کیرولینا: کینسر کی شناخت کے لیے ماہرین نے خون کے نمونوں پر مبنی مائع (لیکوئڈ) بایوپسی کا طریقہ وضع کیا ہے جس میں کئی مشکلات درپیش تھیں لیکن اب آواز کی لہروں سے کینسر کی شناخت کا ایک آسان اور کم خرچ طریقہ دریافت کرلیا گیا ہے۔

مریض کے خون میں سرطانی پھوڑے کے چھوٹے ذرات (سی ٹی سی)  موجود ہوتے ہیں جو خود سرطان کے بارے میں زبردست معلومات فراہم کرتے ہیں۔ انہیں خون میں شناخت کرکے الگ کرنا ہمیشہ سے ہی ایک چیلنج رہا ہے کیونکہ خون کے اربوں صحتمند خلیات میں یہ چند ہی پائے جاتے ہیں۔

اب ڈیوک یونیورسٹی، ایم آئی ٹی اور سنگاپور کی ننیانگ یونیورسٹی کے ماہرین نے مل کر ایک آلہ بنایا ہے جو آواز کے ذریعے سرطانی رسولیوں کے ذرات کو خون سے الگ کرکے بہ آسانی شناخت کرسکتا ہے۔ ڈیوک یونیورسٹی میں مٹیریل سائنس کے پروفیسر ٹونی جون ہوانگ اور ان کے ساتھیوں نے خون کو ایک باریک نالی سے گزارا اور اس پر ایک خاص سمت سے آواز کی لہریں پھینکیں۔ چونکہ آواز یہاں دباؤ کی قوت ڈال رہی تھی اس لیے  خون کے تندرست خلیات گزرتے رہے لیکن کینسر والے بڑے اور سخت خلیات خون کی سطح پر ظاہر ہوگئے جنہیں ایک اور چینل کے ذریعے ایک خانے میں ڈال دیا گیا۔

 اس عمل میں کینسر کا خلیہ تباہ نہیں ہوتا اور اسے آسانی سے بعد میں بہت تفصیل سے دیکھا جاسکتا ہے کہ یہ کس قسم کا کینسر ہے۔ یہ آلہ ایک گھنٹے میں ساڑھے 7 ملی لیٹر خون کا جائزہ لیتا ہے اور 86 فیصد درستگی سے کینسر کے باریک ذرات کو پہچان لیتا ہے۔ اس طریقے سے ہر مریض کے انفرادی سرطان کو خون کے اندر سے شناخت کرکے اس کے لیے مخصوص علاج مہیا کرنا بھی ممکن ہوگا جسے ’انفرادی طب‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ماہرین نے مرد مریضوں کے خون میں سے پروسٹیٹ کینسر کی کامیاب شناخت اسی آواز کے ذریعے انجام دی ہے۔

خواتین میں ذیابیطس کی علامات جن سے واقفیت ضروری

ذیابیطس کو موجودہ عہد کا انتہائی خطرناک مرض سمجھا جاتا ہے جو خاموشی سے متاثرہ فرد کو دیگر متعدد طبی پیچیدگیوں کا شکار بنادیتا ہے۔

گزشتہ سال ذیابیطس کے عالمی دن کی تھیم ‘خواتین اور ذیابیطس’ تھی، کیونکہ ہر 10 میں سے ایک خاتون اس مرض کا شکار ہورہی ہے۔

خواتین کو زیادہ مشکلات کا سامنا اس لیے بھی ہوتا ہے کیونکہ وہ گھر کی دیکھ بھال کی ذمہ داری کو بھی سنبھالتی ہیں چاہے انہیں ذیابیطس کی متعدد علامات کا سامنا ہی کیوں نہ ہو۔

خواتین اور مردوں میں اس مرض کی علامات کافی حد تک یکساں ہیں، مگر کچھ علامات مختلف بھی بھی ہیں اور ان سے واقفیت اس مرض کو کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

پیشاب کی نالی میں سوزش کا اکثر سامنا

مردوں کے مقابلے میں خواتین میں پیشاب کی نالی میں سوزش (یو ٹی آئی) کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، تاہم اگر یہ مرض اکثر شکار کرنے لگے تو یہ وقت ہے کہ متاثرہ خاتون بلڈ شوگر کا چیک اپ کروالے۔ بلڈ شوگر بڑھنے سے انفیکشن کا باعث بننے والے عوامل جیسے بیکٹریا وغیرہ کا امکان بڑھتا ہے، اگر ایک ماہ میں 2 سے 3 مرتبہ اس مسئلے کو سامنا ہو تو یہ جسم میں بلڈ شوگر لیول بڑھنے کی نشانی ہوسکتی ہے۔

زیادہ پیشاب کرنا

ذیابیطس کے متاثرہ افراد کے خون میں شوگر کی مقدار بڑھ جاتی ہے تو جسم اس اضافی مقدار کو پیشاب کے ذریعے خارج کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ علامت مردوں اور خواتین میں مشترک سمجھی جاسکتی ہے اور اگر کسی کو معمول سے زیادہ پیشاب آنے لگے تو یہ سلسلہ 2 سے 3 ہفتے تک برقرار رہے تو یہ بھی ذیابیطس کی علامت ہوسکتی ہے۔

گردن اور بغلوں کی رنگت گہری ہوجانا

جسم کے یہ حصے انسولین کے حوالے سے زیادہ حساس ہوتے ہیں، تو جب جسم کو انسولین کی مزاحمت کا سامنا ہوتا ہے تو گردن اور بغلوں کی جلد کی رنگت زیادہ گہری ہوجاتی ہیں، ایسا اچانک ہونے پر بھی شوگر چیک اپ ضرور کروائیں۔

جسمانی وزن میں غیرمعمولی کمی

جب جسم شوگر کو معمول کے مطابق پراسیس نہیں کرپاتا جس سے شوگر جسمانی ایندھن کے طور پر استعمال نہیں ہوپاتی، ایسی صورت میں جسم توانائی کے لیے چربی کو گھلانے لگتا ہے جس سے جسمانی وزن میں اچانک کمی آتی ہے۔

بینائی

بلڈ شوگر لیول بڑھنے سے بینائی کے مسائل پیدا ہوتے ہیں کیونکہ شوگر قرینے کے لینس اور شریانوں میں تبدیلیاں لاتی ہے۔

مختلف اعضاءمیں سوئیاں چبھنا

ذیابیطس کے نتیجے میں اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے جس کے نتیجے میں جسم کے مختلف حصوں جیسے ہاتھوں، پیروں اور ٹانگوں میں سوئیاں چبھنے اور کسی چیز کو محسوس کرنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔

دیر تک کام کرنے والی ملازمت پیشہ خواتین کیلئے ذیابیطس کا شدید خطرہ

ٹورانٹو: دفتر یا کارخانوں میں زیادہ دیر تک اور طویل مدت کےلیے کام کا معمول ذیابیطس جیسے مرض کے امکانات کو بڑھاتا ہے۔

طویل اور صبرآزما مطالعے میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ ہفتے میں 45 گھنٹے سے زائد کام کرنے کی مسلسل عادت ذہنی و جسمانی دباؤ، پریشانی اور فکر کو جنم دے کر کئی امراض کی وجہ بنتی ہے جن میں ٹائپ ٹو ذیابیطس سرِ فہرست ہے۔ یہ تحقیق ٹورانٹو کے انسٹی ٹیوٹ آف ورک اینڈ ہیلتھ کی ماہر ڈاکٹر ماہی گلبرٹ اوئمت نے کی جس میں پورے کینیڈا سے 7000 ملازمین اور کارکنوں کا 12 سال تک جائزہ لیا گیا اور اس عرصے میں انہیں لاحق ہونے والے امراض کا جائزہ لیا ۔

برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کا خلاصہ یہ ہے کہ ہفتے میں 45 گھنٹے سے زیادہ کام کرنے والی خواتین میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ 51 فیصد تک بڑھ جاتا ہے جب کہ 35 سے 40 گھنٹے تک کام میں مصروف عورتوں میں یہ خطرہ قدرے کم ہوتا ہے۔

اس سروے میں ماہرین نے کام کے علاوہ طرزِ زندگی، غذا، بی ایم آئی اور تمباکو نوشی سمیت دیگر عوامل بھی نوٹ کیے ہیں لیکن حیرت انگیز طور پر مردوں پر اس کا کوئی خاص منفی اثر نہیں ہوتا، یعنی مرد اگر طویل عرصے تک کام کریں تو آگے چل کر ان میں ذیابیطس کا خطرہ اتنا نہیں بڑھتا جتنا خواتین کےلیے بڑھتا ہے۔

اگرچہ مردوں پر طویل کام کے منفی اثرات نہ ہونا اپنی جگہ ایک عجیب بات ہے لیکن خواتین کا معاملہ الگ ہوتا ہے۔ انہیں دفتر کے ساتھ ساتھ گھرداری اور بچوں کی دیکھ بھال بھی کرنا پڑتی ہے۔ اسی دوہری مشقت سے ان پر منفی اثرات ہوتے ہیں اور وہ ذیابیطس کی شکار ہوجاتی ہیں۔

دوسری جانب مرد اگر زیادہ کام کرتے ہیں تو وہ کام کے دوران چلتے پھرتے اور کھڑے بھی ہوتے ہیں اور خواتین دیر تک بیٹھی رہتی ہیں جس سے ان کے جسم پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ زیادہ کام کا مطلب زیادہ ذہنی تناؤ ہوتا ہے اور اس طرح خود ہارمون بھی متاثر ہوتے ہیں۔ مثلاً فکر اور پریشانی کارٹیسول ہارمون کو متاثر کرتی ہیں جو جسم میں انسولین پر اثرانداز ہوتا ہے۔ اسی طرح ذہنی تناؤ نیند اور دیگر معمولات کو بھی شدید متاثر کرتا ہے۔ ماہرین نے خواتین کو مشورہ دیا ہے کہ اگروہ دفاتر میں دیر تک کام کرتی ہیں تو اسے اعتدال پر لانا بہت ضروری ہے۔

16 چیزیں جو آپ کو بالوں سے محروم کردیں

یہ بات ٹھیک ہے کہ خواتین کے مقابلے میں مردوں میں بالوں سے محرومی کا امکان زیادہ ہوتا ہے تاہم خواتین میں بھی بال گرنا عام ہوتا ہے اور ان کے لیے بھی یہ امر مایوس کن ثابت ہوتا ہے۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ بالوں کے گرنے یا گنج پن اکثر آپ کی اپنی عام عادتوں کا نتیجہ ہوتا ہے؟

ان میں پروٹین کی کمی یا وٹامن کی زیادتی سے لے کر متعدد چیزیں شامل ہوسکتی ہیں۔

ایسی ہی چیزوں کے بارے میں جانے جو آپ کو بالوں جیسی قیمتی نعمت سے محروم کرسکتی ہیں۔

ہارمونز کے مسائل

جب خواتین ہارمونز کے مسائل کا شکار ہوتی ہیں تو انہیں بالوں کے گرنے کا تجربہ ہوسکتا ہے، عام طور پر اس کے ساتھ کیل مہاسے اور چہرے پر بال اگنے جیسی علامات بھی سامنے آتی ہیں، اس مسئلے سے نجات کے لیے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ادویات کا استعمال مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

جینز میں شامل ہونا

بالوں کے رنگوں کی طرح اکثر جینز بالوں کے گرنے کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس کی متعدد جینیاتی وجوہات ہوسکتی ہیں تاہم خواتین کے مقابلے میں مردوں میں اس سے گنج پن کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

آپ کی غذا

جو کچھ آپ کھاتے ہیں وہ بھی بالوں کی صحت پر اثرانداز ہوتا ہے۔ بالوں کو نشوونما کے لیے بہت زیادہ توانائی اور غذائیت کی ضرورت ہوتی ہے، بالوں کے غدودوں کے خلیات جسم کے کسی بھی حصے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے تقسیم اور بنتے ہیں، تو یہ ضروری ہے کہ صحت بخش اور متوازن غذا کا استعمال کیا جائے۔ غذا میں کچھ اجزا جیسے بی وٹامنز، زنک اور آئرن کی کمی بالوں کے اگنے کے سائیکل کو متاثر کرکے قبل از وقت گنج پن کا شکار بناسکتا ہے۔

ہیٹ یا ٹوپی کا بہت زیادہ استعمال

بالوں کو کور کرنے کے لیے ٹوپی یا ہیٹ بہترین ہوتے ہیں جو کہ سر کو سورج کی روشنی اور ماحولیاتی عناصر سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق ٹوپیاں بار بار سر کے مخصوص کو رگڑتی ہیں، خصوصاً اگر انہیں مسلسل پہنا جائے۔ ایسا ہونے پر بالوں کے غدود ورم کا شکار ہونے لگتے ہیں اور ان کے تیزی سے گرنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

جسمانی تناﺅ

کسی بھی قسم کی جسمانی سرجری، گاڑی کا حادثہ یا شدید بیماری یہاں تک کہ فلو بھی عارضی طور پر بالوں سے مھرومی کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر آپ پرتناﺅ حالات سے گزر رہے ہو تو اس سے بالوں کی نشوونما متاثر ہوتی ہے بلکہ تھم جاتی ہے اور ان ک گرنے کی شرح بڑھ جاتی ہے۔ بالوں کے گرنے کی یہ شرح ایسے حالات میں عام طور پر تین سے چھ ماہ میں نوٹس میں آتی ہے۔

بہت زیادہ وٹامن اے کا استعمال

بہت زیادہ وٹامن اے کا جسم میں پہنچنا بھی بالوں کے گرنے کی رفتار کو بڑھا دیتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق وٹامن اے سے بھرپور سپلیمنٹس یا ادویات کا استعمال اس کی وجہ بنتا ہے۔ اگر وٹامن اے بڑھنے کی صورت میں بالوں سے محروم ہورہے ہو تو اس سے بچا جاسکتا ہے بس اس وٹامن اے کا استعمال ترک کرنا ہوگا جس کے نتیجے میں بال دوبارہ معمول کے مطابق بڑھنے لگیں گے۔

پروٹین کی کمی

اگر آپ کی غذا میں مناسب مقدار میں پروٹین شامل نہ ہو تو آپ کا جسم اسے پورا کرنے کے لیے بالوں کی نشوونما روک دے گا۔ ایک تحقیق کے مطابق پروٹین کی کمی کی صورت میں بالوں کے گرنے کی رفتار دو سے تین ماہ میں بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اس سے بچنے کے لیے غذا میں مچھلی، انڈے اور گوشت کا استعمال معمول بنانا پڑتا ہے، تاہم گوشت پسند نہیں تو مٹر، چنوں، گریوں، سبز پتوں والی سبزیوں، دودھ وغیرہ کا بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

جذباتی تناﺅ

جذباتی تناﺅ جسمانی تناﺅ کے مقابلے میں بالوں کے گرنے کی رفتار بہت زیادہ تو نہیں بڑھاتا مگر اس سے ایسا ہوتا ضرور ہے۔ کسی پیارے کی موت یا والدین کی بیماری وغیرہ کا ذہنی تناﺅ بالوں کی نشوونما کو نقصان پہنچاتا ہے۔

خون کی کمی

خون یا آئرن کی کمی بالوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔ اینیما نامی اس مرض کا تعین تو بلڈ ٹیسٹ ہوسکتا ہے تاہم بالوں کو اس سے بچانا اتنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ اکثر لوگوں میں تشخیص ہی نہیں ہوپاتی۔ تاہم اگر خون کی کمی اور بالوں کے گرنے کا علم ہوجائے تو آئرن سپلیمنٹ اس مسئلے سے تحفظ دے سکتا ہے۔

وٹامن بی کی کمی

جسم یں وٹامن بی کی کمی بھی بالوں سے محرومی کی وجہ بنتی ہے۔ اینیما کی طرح اس سے تحفظ بھی سپلیمنٹ سے ممکن ہے، یا اپنی غذائی عادات تبدیل کرکے مچھلی، گوشت، نشاستہ دار سبزیاں اور پھل کو خوراک کا حصہ بنالیں۔

دق

چہرے کی جلد کا یہ مرض بھی آپ کو گنج پن کا شکار کرسکتا ہے۔ اس مرض میں جسمانی دفاعی نظام ہی بالوں کو دشمن سمجھ کر اس کے خلیات پر حملہ کردیتا ہے اور اگر اس کے نتیجے میں آپ بالوں سے محروم ہوجائیں تو ان کی واپسی ناممکن ہوتی ہے۔

جسمانی وزن میں ڈرامائی کمی

جسمانی وزن میں اچانک کمی کے نتیجے میں بال کمزور ہوجاتے ہیں۔ ایسا اس صورت میں بھی ہوتا ہے جب آپ موٹاپے سے بچنے کے لیے وزن کم کرتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق اس عمل کے دوران جسمانی تناﺅ یا مناسب مقدار میں وٹامن یا منرل کا استعمال نہ کرنا بالوں کے گرنے کا باعث بنتا ہے۔ تاہم محققین کے مطابق ایسا ہونے کی صورت میں مناسب غذا سے چھ ماہ کے عرصے میں بالوں کے گرنے کے مسئلے کو ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔

سکون آور، خون پتلا کرنے والی ادویات

کچھ مخصوص ادویات بھی بالوں سے محرومی کا خطرہ بڑھا دیتی ہیں۔ ان میں خون پتلا کرنے والی اور بلڈ پریشر کے لیے استعمال کی جانے والی ادویات قابل ذکر ہیں۔ اسی طرح سکون آور ادویات بھی بالوں کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتی ہیں۔ ایسا ہونے کی صورت میں ڈاکٹر سے رابطہ کرکے متبادل دوا یا اس کے کم استعمال پر مشورہ لینا چاہئے۔

بالوں کے اسٹائلز

بالوں کے بہت زیادہ اسٹائلز اور ٹریٹمنٹ بھی گنجا کرسکتے ہیں۔ ان اسٹائلز اور ٹریٹمنٹ کے نتیجے میں بالوں کی جڑیں کمزور ہوتی ہیں اور اگر وہ گرنا شروع ہوجائیں تو ان کی دوبارہ نشوونما کا امکان بھی بہت کم ہوجاتا ہے۔

بالوں کو نوچنا

اگر تو آپ اضطراری طور پر بالوں کو نوچنے کی عادت کا شکار ہیں تو جان لیں ایسا کرنے کی صورت میں جو بال سر سے الگ ہوگا اس کی جگہ کوئی اور نہیں لے گا۔

عمر میں اضافہ

یہ بات غیرمعمولی نہیں کہ عمر بڑھنے کے ساتھ بال پتلے یا گرنا شروع ہوجاتے ہیں، جس کی اب تک طبی ماہرین کوئی واضح وجہ دریافت نہیں کرسکے۔

پسینے کی بو کیسے ختم کی جائے؟ سائنس دانوں نے حل ڈھونڈ نکالا

آکسفورڈ: ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ پسینے کی بو ختم کرنے والے deodorant جلد کے لیے خطرناک ثابت ہوتے ہیں جسے مد نظر رکھتے ہوئے مفید ڈیوڈرینٹ کی تیاری حتمی مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق آکسفورڈ  اور نیویارک یونیورسٹیز کی تحقیقی ٹیموں نے انسانی جسم کے جلد سے نکلنے سے والے پسینے کی بو کو زائل کرنے کے لیے استعمال ہونے والے Deodorant  کے جلد پر مضر اثرات کا مطالعہ کیا۔ تحقیق سے پتہ چلا کہ پسینے کی بو ختم کرنے والے یہ پروڈکٹس جلد کے مفید بیکٹیریا کو بھی ہلاک کردیتے ہیں۔ جس سے جلد کے زیریں حصے میں انفیکشن ہونے کا احتمال رہتا ہے۔

انسانی جلد سے پسینے کا اخراج دو گلینڈز سے ہوتا ہے۔ ایک گلینڈ ورزش یا جسمانی کام کرنے پر جسم کے تمام حصوں سے پسینے کا اخراج کراتا ہے تاکہ جسم ٹھنڈا رہے اور اس پسینے سے بو بھی نہیں آتی اس گلینڈ کو Eccrine Gland  کہتے ہیں جب کہ دوسرا گلینڈ جلد کے ان حصوں سے پسینے کا اخراج کراتا ہے جہاں بال ہوتے ہیں اس گلینڈ کو Apocrine Gland  کہتے ہیں۔ اور اسی گلینڈ سے خارج ہونے والے پسینے میں بو ہوتی ہے۔

ایپوکرائن گلینڈ سے خارج ہونے والے پسینے سے بو آنے کی وجہ اس میں مختلف قسم کے پیچیدہ مالیکیولز کی موجودگی ہے جس میں پروٹین بھی شامل ہے جو پسینے کے ساتھ خارج  ہونے والے بیکٹیریا کی وجہ سے پیاز، ترش اور مشک جیسی بو آتی ہے تاہم چند ہی بیکٹییریا بو کا باعث ہوتے ہیں زیادہ تر بیکٹیریا جلد کے لیے مفید ہوتے ہیں لیکن ڈیوڈیرینٹ بلاتفریق مفید اور مضر بیکٹریاز کو ختم کردیتے ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اسٹیفلو کوکس ہومینیز بیکٹیریا پسینے میں موجود پروٹین کی منتقلی کے لیے ذرائع نقل وحمل کا کردار ادا کرتا ہے اور یہی پسینے میں بو کا باعث ہوتا ہے۔ لہذا اس امر پر مزید تحقیق سے ایسے ڈیوڈیرینٹ تیار کیے جاسکتے ہیں جو مفید بیکٹیریا کو ختم کیے بغیر پسینے سے بو ختم کرسکتے ہیں۔

کیا ذیابیطس کے مریض آم کھا سکتے ہیں یا نہیں؟

گرمیوں کا آغاز ہوتے ہی لوگوں کے اندر پھلوں کے بادشاہ آم کھانے کی خواہش بھی بڑھنے لگتی ہے مگر اکثر افراد اس خیال سے پریشان رہتے ہیں کہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اس مزیدار پھل کو کھانا محفوظ ہے یا نہیں۔

ویسے اس کی تفصیل میں جانے سے پہلے یہ جان لیں کہ کسی پھل میں مٹھاس ذیابیطس کے لیے اتنی اہم نہیں ہوتی جتنی اس میں موجود گلیسمیک انڈیکس (جی آئی)۔

جی آئی ایک پیمانہ ہے کہ جو بتاتا ہے کہ کاربوہائیڈریٹ والی غذا کا کتنا حصہ کھانے کے بعد اس میں موجود مٹھاس (گلوکوز) مخصوص وقت میں خون میں جذب ہوسکتی ہے اور یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔

تو کیا آم ذیابیطس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے یا نہیں؟

تو اس کا جواب طبی ماہرین ان الفاظ میں دیتے ہیں ‘ ذیابیطس کے مریضوں کو اپنا بلڈ گلوکوز لیول کنٹرول میں رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کی غذا ایسی ہونی چاہئے جو اس لیول کو کنٹرول میں رکھ سکے۔ تو ایسے مریضوں کے لیے 15 گرام کاربوہائیڈریٹ کسی پھل کے ذریعے جسم کا حصہ بننا نقصان دہ نہیں، آسان الفاظ میں ذیابیطس کے شکار افراد آم کھاسکتے ہیں مگر محدود مقدار میں یا اعتدال میں رہ کر’۔

مگر سوال یہی ہے کہ ذیابیطس کے مریض کتنی مقدار میں آم کو کھا سکتے ہیں؟

ماہرین کے مطابق ‘ آم کا ایک سلائیس یا کٹے ہوئے آم کا آدھا چھوٹا کپ کھایا جاسکتا ہے، مگر مینگو شیک، جوس وغیرہ سے گریز کرنا چاہئے’۔

یہ مزیدار پھل صحت کے لیے متعدد فوائد کا حامل ہے کیونکہ یہ غذائی نالی کے افعال کو درست رکھتا ہے، جبکہ فائبر سے بھرپور ہونے کے باعث بھی نظام ہاضمہ کے لیے فائدہ مند ہے، اس سے وٹامن سی جسم کو ملتا ہے جو کہ جسمانی دفاعی نظام کو مضبوط بناتا ہے۔

آم میں موجود بیٹا کیروٹین آنکھوں کی صحت کو بہتر بناتا ہے اور اس سے ہٹ کر بھی آم کھانا کئی فوائد پہنچاتا ہے۔

Google Analytics Alternative