صحت

امراض قلب اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھانے والی غذائیں

ایک زمانہ تھا جب ہارٹ اٹیک اور دل کے دیگر امراض درمیانی عمر یا بڑھاپے میں سامنے آتے تھے مگر اب یہ نوجوانوں میں بھی عام ہوتے جارہے ہیں۔

دل انسانی جسم کے اہم ترین اعضاءمیں سے ایک ہے مگر حیران کن طور پر ہم اس کی زیادہ پروا نہیں کرتے۔

روزمرہ کے تناﺅ اور مضر صحت غذا کے استعمال سے اس پر بوجھ بڑھاتے رہتے ہیں حالانکہ سب کو علم ہے کہ بہت زیادہ چکنائی سے بھرپور غذا بلڈ کولیسٹرول کی سطح بڑھانے کا باعث بنتی ہے جس کے نتیجے میں خون کی شریانیں سکڑنے لگتی ہیں اور دل اپنے افعال سرانجام دینے سے قاصر ہونے لگتا ہے۔

اس کا نتیجہ ہارٹ اٹیک یا امراض قلب کی شکل میں نکلتا ہے۔

مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ کون کون سی غذائیں دل کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہیں؟ اگر نہیں تو جان لیں۔

گوشت کے قتلے

گوشت کے قتلے میں ایسی چربی بہت زیادہ مقدار میں ہوتی ہے جو کہ نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ کرتی ہے جس سے ہارٹ اٹیک یا فالج کا خطرہ بڑھتا ہے، ان قتلوں میں نمک کی مقدار بھی کافی زیادہ ہوتی ہے جس سے بلڈ پریشر بڑھتا ہے اور دل کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے، نمک کی زیادہ مقدار فالج، امراض قلب اور ہارٹ فیلیئر کا باعث بن سکتی ہے۔

سرخ گوشت

ایسا نہیں کہ گائے یا بکرے کا گوشت نہ کھائیں، مگر اس کا بہت زیادہ استعمال امراض قلب اور ذیابیطس کا خطرہ بڑھاتا ہے، جس کی وجہ اس میں چربی کی مقدار زیادہ ہونا ہے جو کولیسٹرول کی سطح بڑھاتا ہے، تو سرخ گوشت سے لطف اندوز ہوں مگر بہت زیادہ کھانے سے گریز کریں جبکہ چربی سے پاک گوشت کو زیادہ ترجیح دیں۔

سافٹ ڈرنکس

ان میٹھے مشروبات کو کبھی کبھار پینا تو زیادہ نقصان نہیں پہنچاتا مگر ان کا روزانہ استعمال ضرور خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، جس کی وجہ ان میں مٹھاس کی مقدار بہت زیادہ ہونا ہے، ان مشروبات کو زیادہ پینے سے جسمانی وزن میں اضافہ ہوتا ہے جس سے ذیابیطس ٹائپ 2، ہائی بلڈ پریشر اور امراض قلب کا خطرہ بڑھتا ہے جو آگے بڑھ کر ہارٹ اٹیک اور فالج کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔

بیکری کی مصنوعات

بسکٹ، کیک اور دیگر یقیناً مزیدار ہوتے ہیں مگر ان میں چینی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور انہیں زیادہ کھانا موٹاپے کا باعث بنتا ہے، ان میں ٹرائی گلیسڈر کی سطح بھی بہت زیادہ ہوتی ہے جو کہ امراض قلب کا باعث بنتی ہے، ان مصنوعات کی تیاری کے لیے میدے کا استعمال ہوتا ہے جو بلڈ شوگر بڑھا سکتا ہے اور بھوک بڑھاتا ہے۔

سفید ڈبل روٹی، پاستا اور چاول

چاول، ڈبل روٹی اور پاستا جو میدے سے بنے ہوں، ان میں صحت بخش فائبر، وٹامنز اور منرلز کی کمی ہوتی ہے، ریفائن اجناس جسم میں جاکر بہت تیزی سے شکر میں بدل جاتی ہیں جو جسم چربی کے طور پر ذخیرہ کرتا ہے۔ اس طرح کی ریفائن اجناس کا زیادہ استعمال توند کا باعث بنتا ہے جو کہ امراض قلب اور ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

پیزا

پیزا صحت کے لیے فائدہ مند بھی ہوسکتا ہے کہ اگر اسے درست طریقے سے پکایا جائے مگر بازار میں دستیاب اکثر پیزا نمک، چربی اور کیلوریز سے بھرپور ہوتے ہیں اور یہ سب ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھانے والے عناصر ہیں۔

فرنچ فرائیز

تیل میں بننے والے یہ چپس مزیدار تو ہوتے ہیں مگر ان میں چربی اور نمک کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو دل کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ فرنچ فرائیز زیادہ کھانے کے عادی ہوتے ہیں ان میں ہارٹ اٹیک یا امراض قلب سے جلد موت کا خطرہ بڑھتا ہے۔

فرائیڈ چکن

فرنچ فرائیز کی طرح فرائیڈ چکن کو بھی ڈیپ فرائی کیا جاتا ہے جس سے ان میں کیلوریز، چربی اور نمک کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جن کے نقصانات اوپر درج ہوچکے ہیں، مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں تلی ہوئی غذاﺅں سے ذیابیطس ٹائپ ٹو، موٹاپے اور ہائی بلڈ پریشر کے خطرات بڑھنے کی نشاندہی کی گئی ہے جو سب ہارٹ فیلیئر کا باعث بن سکتے ہیں۔

آئسکریم

آئسکریم میں چینی، کیلوریز اور سچورٹیڈ فیٹ کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے تو اسے کبھی کبھار کھانا ہی بہتر ہوتا ہے، چربی اور چینی سے بھرپور غذاﺅں کا زیادہ استعمال موٹاپے کے ساتھ جسم میں ٹرائی گلیسڈر کی سطح بڑھاتا ہے جس سے ہارٹ اٹیک کا امکان بڑھتا ہے۔

چپس

بیکری یا کمپنیوں کے تیار کردہ چپس موٹاپے کا باعث بن سکتے ہیں جس کی وجہ ان میں چربی کی مقدار زیادہ ہونا ہے جبکہ ان میں نمک کی مقدار بھی بہت زیادہ ہے جو امراض قلب کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

بچے کی پیدائش سے والدین کی نیند کتنے عرصے کیلئے متاثر ہوتی ہے؟

جب کسی جوڑے کی پہلی اولاد ہوتی ہے تو زندگی کا بہترین تجربہ تو ہوتا ہے مگر والدین کی نیند کے لیے بھیانک خواب ثابت ہوتا ہے۔

اولاد کی پیدائش کے بعد پہلی بار والدین بننے والے یہ جان کر شاک رہ جاتے ہیں کہ بچے کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران ان کی نیند کا دورانیہ کتنا کم ہوجاتا ہے۔

مگر اب ماہرین نے دریافت کیا کہ والدین بننے والے جوڑوں کی نیند کا دورانیہ اور معیار کتنے عرصے کے لیے متاثر ہوتا ہے، درحقیقت بچے کی پیدائش سے پہلے والی نیند کے لیے انہیں 6 سال کا انتظار کرنا پڑسکتا ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

برطانیہ کی واروک یونیورسٹی، امریکا کی ویسٹ ورجینیا یونیورسٹی اور جرمنی کے جرمن انسٹیوٹ فار اکنامک ریسرچ کی مشترکہ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ماں اور باپ کے نیند کا دورانیہ اور معیار بچے کی پیدائش سے قبل کی سطح میں آنے کے لیے 6 سال کا طویل عرصہ درکار ہوتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ باپ کے مقابلے میں ماں کی نیند کا دورانیہ اور معیار زیادہ متاثر ہوتا ہے، مجموعی طور پر اوسطاً خواتین رات کی نیند کے ایک گھنٹے سے محروم ہوتی ہیں جبکہ مردوں یہ دورانیہ 15 منٹ ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ بچوں کی پیدائش کے بعد باپ کے مقابلے میں ماں کی نیند زیادہ متاثر ہونا حیران کن نہیں کیونکہ خواتین ہی مردوں کے مقابلے میں بچوں کی نگہداشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے بچے کی پیدائش کے بعد ماں اور باپ دونوں کو اپنی معمول کی نیند کے معمولات کے حصول میں 6 سال لگ جاتے ہیں، یہاں تک کہ بچے کی پیدائش کے 4 سے 6 سال کے دوران بھی مائیں ہر رات 20 منٹ کی نیند سے محروم ہوتی ہیں جبکہ مردوں میں یہ دورانیہ 15 منٹ ہوتا ہے۔

اس سے قبل بچے کی پیدائش کے ابتدائی مہینوں کے دوران والدین کی نیند متاثر ہونے پر تو سائنسدانوں کے کافی کام کیا مگر پہلی بار اس کے طویل المعیاد دورانیے پر توجہ دی گئی ہے اور یہ ان کے لیے بھی حیران کن ہے کہ نیند کا دورانیہ اور معیار بہتر ہونے میں 6 سال کا طویل عرصہ درکار ہوتا ہے۔

تحقیق میں بتایا کہ پہلی بار والدین بننے والوں کی نیند زیادہ متاثر ہوتی ہے کیونکہ بعد میں والدین اس تجربے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوجاتے ہیں۔

اس تحقیق کے دوران ساڑھے 4 ہزار سے زائد والدین کے انٹرویوز 2008 سے 2015 کے دوران لیے گئے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل سلیپ میں شائع ہوئے۔

مسلز بنانے میں مددگار غذائیں

ہر شخص کو اپنے مسلز کو مضبوط اور خوبصورت بنانے کا شوق ہوتا ہے جس کے لیے جسمانی سرگرمیاں ضروری ہوتی ہیں مگر خوراک کی اہمیت سے بھی انکار ممکن نہیں۔

درحقیقت درست غذا حیرت انگیز انداز سے جسم کو بنانے کے ساتھ ساتھ ہارمون کے توازن کو بھی درست رکھتی ہے۔

یہاں ایسی غذاﺅں کا ذکر ہے جو مسلز بنانے میں فائدہ مند ہوتے ہیں۔

سویابین

سویابین پروٹین سے بھرپور ہوتا ہے اور ایک کپ کے اندر 37 گرام پروٹین ہوتا ہے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ پروٹین مسلز بنانے کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے، خواتین کو دن بھر میں 46 جبکہ مردوں کو 5 گرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم اگر آپ مسلز بنانا چاہتے ہیں اور ورک آﺅٹ کرتے ہیں تو جسم کو زیادہ پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ مسلز کی مرمت کرسکے اور نئے مسلز ٹشو بناسکے۔ تو سویا بین میں پروٹین تو ہوتا ہی ہے اس کے ساتھ میگنیشم بھی ہوتا ہے جو کہ وزن اٹھانے والی ورزشوں سے مسلز بنانے مٰں مدد دیتا ہے۔

امرود

اس مزیدار پھل کے ایک کپ میں 4.2 گرام پروٹین موجود ہوتا ہے اور اس کے علاوہ وٹامن سی بھی موجود ہوتاہ ے جو کہ جلد کی صحت کو بہتر کرتا ہے، وٹامن سی سے بھرپور غذائیں دوران خون بھی بہتر کرتے ہیں جو کہ مسلز بنانے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

مچھلی

مچھلی بھی پروٹین کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے جبکہ اس میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈز بھی ورزش کرنے والے افراد میں جسمانی چربی کم کرکے مسلز بنانے میں مدد دیتے ہیں۔

بغیر چربی کا قیمہ

قیمے کی کچھ مقدار سے کافی مقدار میں پروٹین کو جسم کا حصہ بنایا جاسکتا ہے جبکہ اس میں آئرن کی مقدار بھی کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ جم میں کارکردگی کو بہتر بناتا ہے۔

گوشت

ماہرینِ طب اگرچہ اس بات پر تو اب تک متفق نہیں ہوسکے کہ گوشت نقصان دہ ہے یا فائدہ مند، مگر ایک بات واضح ہے، گوشت کا استعمال ایک ہارمون ٹیسٹوسٹیرون کی سطح بڑھاتی ہے خاص طور پر اگر کم چربی والا گوشت کھانا اکثر استعمال کریں (روزانہ نہیں)۔

انڈے

انڈے وٹامن ڈی سے بھرپور ہوتے ہیں جو خون میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح معمول پر رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، ایک انڈہ روزانہ آپ کی غذا کا حصہ ہونا چاہیے، تاہم اس سے زیادہ کھانے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرلینا ضروری ہے۔

تربوز

تربوز دوران خون کو بہتر بناتا ہے جس کے دل پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور کولیسٹرول کی سطح کنٹرول میں رکھنے میں مدد ملتی ہے، بس مسئلہ یہ ہے کہ یہ پھل سال میں ایک مخصوص عرصے میں ہی کھانے کو ملتا ہے۔

گوبھی

گوبھی جسم میں ایسٹروجن (فیمیل ہارمون) کی سطح کم کرتا ہے جبکہ ٹیسٹوسٹیرون کی سطح بڑھاتا ہے، اسے کسی بھی شکل میں کھائیں فائدہ ہوتا ہے۔

شہد

شہد جسمانی دفاعی نظام کو مضبوط کرنے کے لیے بہترین ہے، روزانہ ایک چمچ شہد کا استعمال فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔

لہسن

لہسن میں ایک ایسا کیمیکل ہوتا ہے جو تناﺅ میں کمی لاتا ہے جس سے بلاواسطہ طور پر مسلز بنانے میں مدد ملتی ہے۔

انگور

انگور میں موجود اجزاء عمر بڑھنے کے اثرات کو سست کرتے ہیں جبکہ اس سے ٹیسٹوسٹیرون کی سطح بڑھانے میں بھی مدد ملتی ہے، اس کے لیے روزانہ کچھ مقدار میں اس مزیدار پھل کا استعمال فائدہ مند ہوتا ہے۔

بیج

ہر قسم کے بیج وٹامن ڈی اور پروٹین سے بھرپور ہوتے ہیں، جنھیں سوپ، سلاد، تلنے یا پھر کسی بھی شکل میں کھایا جاسکتا ہے، یہ نہ صرف ٹیسٹوسٹیرون کی سطح برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں بلکہ دل کو بھی صحت مند رکھتے ہیں۔

دودھ

دودھ وٹامنز سے بھرپور مشروب ہے جو مسلز کو بنانے میں مدد دیتا ہے، اس میں کیلشیئم ہوتا ہے جو ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے جبکہ وٹامن ڈی ٹیسٹوسٹیرون کی سطح بڑھاتا ہے۔

چاکلیٹ

اعلیٰ معیار کی ڈارک چاکلیٹ میں 70 فیصد کوکا ہوتا ہے جو کہ اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے جو صحت کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے، مسلز بنانے کے خواہشمند افراد کے لیے چاکلیٹ کم مقدار میں زیادہ کیلوریز فراہم کرنے والی سوغات ہے، اگر چاکلیٹ پسند نہیں تو چینی سے پاک کوکا پاﺅڈر سے مشروب یا دہی میں شامل کرکے استعمال کرنا بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔

خشک پھل

خشک پھل جیسے انناس، چیری اور سیب زیادہ کیلوریز جسم کو فراہم کرتے ہیں جبکہ فائبر اور اینٹی آکسائیڈنٹس بھی جسم کو ملتے ہیں، خشک ہونے پر بھی پھل فائبر سے محروم نہیں ہوتے جبکہ وٹامنز بھی موجود ہوتے ہیں، انہیں ایسے ہی کھالیں یا پروٹین شیک کا حصہ بنالیں یا دہی میں ڈال کر کھالیں۔

گریاں

گریاں اور ان سے بننے والے مکھن بھی مسلز بنانے کے خواہشمند افراد کے لیے فائدہ مند ہیں، گریاں جیسے بادام کیلوریز، پروٹین اور صحت مند چربی سے بھرپور ہوتے ہیں، انہیں ایسے ہی کھالیں یا کھانے کا حصہ بنالیں۔

دالیں

دالیں ایک ایسا خفیہ ہتھیار ہے جو مسلز تیزی سے بڑھانے میں مدد دیتا ہے، یہ ایک سستا، آسان اور تیزی سے تیار کیا جانے والا نسخہ ہے، جن کو آپ چاول کے ساتھ کھا سکتے ہیں، سوپ میں شامل کرسکتے ہیں۔ ایک کپ دال میں 18 گرام پروٹین اور 40 گرام سستی سے ہضم ہونے والا کاربوہائیڈریٹس ہوتا ہے جو بلڈ شوگر لیول کو مستحکم رکھنے میں بھی مدد دیتا ہے جبکہ جسم کو دیرپا توانائی فراہم کرتا ہے۔

توند نکلنے کا باعث بننے والی عام عادات

اپنے جسم میں نکلتی ہوئی توند کسی کو اچھی لگ سکتی ہے؟ خواتین اور مرد دونوں اپنی پھیلتی کمر اور نکلتے پیٹ سے پریشان ہوتے ہیں۔

اگر آپ موٹاپے کا شکار نہیں مگر پھر بھی توند نکل رہی ہے تو یہ دل کی صحت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

یہ انتباہ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

مایو کلینک کی تحقیق میں بتایا گیا کہ جن لوگوں کی کمر پھیل جاتی ہے اور پیٹ باہر نکل آتا ہے، ان میں ہارٹ اٹیک یا فالج کا خطرہ دوگنا بڑھ جاتا ہے اور ایسے افراد کو اپنا طبی معائنہ لازمی کرانا چاہئے۔

درحقیقت پیٹ اور کمر کے ارگرد جمع ہونے والی یہ چربی سب سے خطرناک ہوتی ہے جو ایسے اعضا کے گرد جمع ہوتی ہے جو امراض قلب، ذیابیطس اور دیگر سنگین طبی مسائل کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔

اور اکثر یہ آپ کی اپنی ہی چند عادات ہوتی ہیں جو توند کا باعث بنتی ہیں۔

سوشل میڈیا کی لت

اگر آپ فیس بک اور انسٹاگرام سے دور نہیں رہ سکتے تو یہ عادت بھی توند نکلنے کا باعث بن سکتی ہے۔ ہارورڈ ہیلتھ بلاگ میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر فیس بک صارفین کا کوئی آن لائن دوست موٹاپے کا شکار ہوجائے تو اس بات کا امکان 57 فیصد بڑھ جاتا ہے کہ وہ خود بھی موٹاپے کا شکار ہوجائے کیونکہ اپنے دوستوں کی توند دیکھ کر لوگ اسے نقصان دہ نہیں سمجھتے۔

فروٹ جوسز کا استعمال

اگر آپ پھل کی بجائے ان کا جوس پینا زیادہ پسند کرتے ہیں تو اس سے صحت کو فائدے کی بجائے نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں، ان جوسز میں چینی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو پیٹ میں ورم کا باعث بنتی ہے جس کے نتیجے میں توند نکلنے لگتی ہے، ان جوسز میں کیلوریز اور مٹھاس بہت زیادہ ہوتی ہے جبکہ فائبر اور دیگر اہم وٹامنز اور منرلز کی کمی ہوتی ہے جو کسی پھل میں موجود ہوتے ہیں۔

بلاسوچے سمجھے کھانا

طبی ماہرین کے مطابق اگر لوگ اپنے جسم کو کچرا دان سمجھ کر کچھ بھی اس میں ڈالتے رہیں گے تو توند نکلنے پر انہیں پریشان نہیں ہونا چاہئے، دن بھر منہ چلانے کی عادت وہ بھی جنک یا تلی ہوئی اشیاءکو کھانا توند نکلنے کا باعث بنتا ہے۔

ورزش سے دوری

ورزش توند سے نجات میں بہت مددگار ثابت ہوتی ہے کیونکہ جسمانی سرگرمیوں کے دوران مسلز چربی کو توانائی کے لیے استعمال کرتے ہیں اور وہ پیٹ میں ذخیرہ نہیں ہوتی، تو ورزش نہ کرنے پر اس کا الٹا اثر ہوتا ہے اور توند نکل آتی ہے۔

پروبائیوٹیکس سے دوری

معدے میں موجود بیکٹریا جسمانی وزن میں کمی یا اضافے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، دہی اور دیگر سپلیمنٹس میں موجود پروبائیوٹیکس اچھے اور برے بیکٹریا کے توازن کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ بیکٹریا کا یہ توازن موٹاپے سے بچاﺅ میں مدد دیتا ہے اور بھوک کا باعث بننے والے ہارمون کو بھی ریگولیٹ کرتا ہے۔

کھانے کا معمول نہ ہونا

اگر آپ کے کھانے کا کوئی وقت طے نہیں تو اس بات کا امکان زیادہ ہوتا ہے جو کچھ ملے گا، وہ کھالیں گے، تاہم پہلے سے پلان بنانا بہتر غذائی انتخاب میں مدد دیتا ہے، یعنی ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانے میں کیا کھانا چاہئے، اس کا فیصلہ پہلے کرلینا توند سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

سبزیوں سے منہ موڑ لینا

سبزیوں سے دوری بھی جسمانی وزن کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے، سبزیوں میں موجود فائبر ہاضمے کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے جو چربی کو ذخیرہ ہونے سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

میٹھے مشروبات کا شوق

روزانہ صرف ایک سافٹ ڈرنک پینے کی عادت بھی موٹاپے اور توند کا باعث بن جاتی ہے، اس مشروب کے ایک کین میں 10 چائے کے چمچ چینی اور 150 کیلوریز ہوتی ہیں مگر ان میں صحت کے لیے فائدہ مند کوئی جز نہیں ہوتا بلکہ یہ چربی کی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔

ہر وقت بیٹھے رہنا

اگر آپ دفتر میں 8 گھنٹے اپنی کرسی سے ہلتے بھی نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ جسمانی سرگرمیوں سے دور ہیں جو کیلوریز کو جلانے میں مددگار ہوتی ہیں جبکہ اس عادت سے چربی جلانے والے انزائمے کی سرگرمی بھی کم ہوجاتی ہے، تو ہر گھنٹے میں کسی نہ کسی کام کے لیے اپنی کرسی سے اٹھ کر یہاں وہاں گھوم لیں۔

فاقہ کرنا

ناشتہ، دوپہر یا رات کسی بھی وقت کے کھانے سے دوری جسمانی وزن میں کمی کی بجائے توند نکلنے کا خطرہ بڑھاتی ہے۔ ایک وقت کے کھانے سے دوری میٹابولزم سست ہوتا ہے جس کا مطلب ہے کہ کیلوریز کم جلتی ہیں اور اکثر جنک فوڈ کو دیکھ کر ہاتھ روکنا مشکل ہوجاتا ہے۔

نیند کی کمی

7 گھنٹے کی نیند نہ لینا بھی توند کا باعث بن سکتا ہے، نیند کی کمی سے ناقص غذا کے انتخاب کا امکان بڑھتا ہے جبکہ جسمانی سرگرمیوں سے دور رہنے کا امکان بھی بڑھتا ہے اور میٹابولزم بھی متاثر ہوتا ہے۔

ٹی وی کے سامنے کھانا

کھانے کے دوران ٹیلیویژن کو دیکھنا آپ کو زیادہ کھانے پر مجبور کرسکتا ہے، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اس عادت کے نتیجے میں توند نکلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

پِتے میں پتھری کی خاموش علامات

پتہ آپ کے پیٹ میں جگر کے بالکل نیچے دائیں جانب ہوتا ہے اور امرود کی شکل کے اس عضو میں ایک سیال بائل یا صفرا ہوتا ہے۔

یہ سیال جگر میں بنتا ہے جو کہ چربی اور مخصوص وٹامنز کو ہضم ہونے میں مدد دیتا ہے۔

جب آپ کھاتے ہیں تو جسم اسے خارج کرنے کا سگنل دیتا ہے۔

تاہم پتہ میں اکثر افراد کو پتھری کا مسئلہ لاحق ہوتا ہے جس کی وجہ سیال کا ٹھوس شکل اختیار کرلینا ہے جو کہ ایک گولف بال جتنی بڑی بھی ہوسکتی ہے جبکہ ایک یا متعدد بھی ہوسکتی ہیں۔

یہ پتھریاں سینکڑوں کولیسٹرول سے بنتی ہیں مگر کچھ افراد جنھیں جگر کے مختلف امراض لاحق ہوں، ان میں اس کی اقسام الگ ہوسکتی ہیں۔

اگر پتہ سوجنے لگے جسے طبی زبان میں Cholecystitis کہا جاتا ہے، جو کہ پتھری کی نشانی بھی ہے، اس کی علامات درج ذیل ہیں۔

معدے میں درد

معدے میں درد پتے میں پتھری کی سب سے عام علامت ہے اور عام طور پر یہ شکم کی اوپری دائیں جانب ہوتا ہے، کئی بار یہ درد کمر اور دائیں کندھے تک بھی پھیل جاتا ہے، یہ عام طور پر تیز دھار جیسا ہوتا ہے اور کھانے کے بعد آدھے سے ایک گھنٹے تک ہوتا ہے، جس کے بعد یہ دور ہوجاتا ہے۔

درد کش ادویات مددگار نہیں ہوتیں

اگر درد دور کرنے والی ادویات سے بھی مسئلہ حل نہیں ہوتا تو یہ پتے میں مسائل کی علمات ہوسکتی ہے، اپنی پوزیشن کو بدلنے یا گیس کے اخراج سے کچھ بہتری محسوس کرنا بھی اس کی علامات ہیں۔

یرقان

یرقان جگر میں مسائل کی نشانی ظاہر کرنے والی علامت ہے جس میں جلد اور آنکھوں کی سفیدی پر زردی چھاجاتی ہے جبکہ پیشاب کی رنگت بھی گہری ہوجاتی ہے، یہ مرض بالغ افراد میں پتے میں مسائل کا بھی ایک اشارہ ہوسکتا ہے، پتہ چھوٹی آنت میں بائل کو ایک ٹیوب کے خارج کرتا ہے اور یرقان اس وقت نمودار ہوتا ہے جب یہ ٹیوب بلاک ہوتی ہیں اور ایسا ہونے پر بائل پتے میں جمع ہوکر ٹھوس شکل اختیار کرلیتا ہے۔

دل متلانا اور قے

ایسا دیگر امراض میں بھی ہوتا ہے مگر پتے میں پتھری کی شکل میں بھی یہ کافی عام ہوتا ہے اور اکثر افراد اسے سینے میں جلن یا معدے میں تیزابیت سمجھ کر نظرانداز کردیتے ہیں۔ اگرچہ قے اور دل متلانا پتے میں پتھری کی کوئی واضح علامت نہیں مگر اوپر دی گئی علامات میں سے بھی کسی کا سامنا ہو تو پھر یہ پتے میں پتھری کی جانب اشارہ ہوسکتی ہے۔

لبلبہ کی سوزش

اگر لبلبے کی سوزش یا ورم کا سامنا ہو تو پتے میں پتھری کا چیک اپ بھی کرالینا چاہئے، لبلبہ جگر کے برابر میں ہوتا ہے اور اسی حصے میں انزائمے خارج کرتا ہے جہاں سے بائل گزرتا ہے، تو پتے میں پتھری اس کے افعال کو بھی متاثر کرتی ہے، جس سے لبلبے میں ورم اور معدے میں درد کا سامنا ہوتا ہے۔

موٹاپا یا اچانک جسمانی وزن میں کمی

موٹاپے کے شکار افراد میں پتے میں پتھری کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے اور جسمانی وزن میں کمی سے اس میں کمی آتی ہے، مگر یہ وزن بغیر کسی کوشش کے اچانک کم ہونا شروع ہوجائے تو اس سے بھی پتے میں پتھری بننے کا خطرہ بڑھتا ہے۔

خبردار ! ’ڈائٹنگ‘ وبال جان بھی بن سکتی ہے

واشنگٹن: سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ عصر حاضر میں وزن کم کرنے کے لیے سب سے مقبول ڈائٹ ’کم نشاستہ والی غذاؤں‘ سے دل کی دھڑکن کے عارضے میں مبتلا ہونے کے قوی امکانات ہیں۔

چین کی یونیورسٹی سن یاٹ-سین کے ماہرین امراض قلب نے دن بھر میں نشاستہ کی نہایت کم مقدار لینے والے افراد پر اس کے اثرات کا مطالعہ کیا اور اپنے اخذ شدہ نتائج کو مقالے کی صورت میں امریکن کالج آف کارڈیولوجی کی کانفرنس میں پڑھا۔

تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر شیاؤڈونگ زواہنگ نے اپنی تحقیق کے لیے مختلف رنگ، نسل اور قومیت کے 14 ہزار افراد پر مشتمل دو گروپس کی میڈیکل ہسٹری، خوراک اور طرز زندگی کو  22 سال تک مشاہدے میں رکھا۔ ان میں سے کسی کو بھی بے ربط دل کی دھڑکن کا عارضہ نہیں تھا۔

بدقسمتی میں جو گروپ کم نشاستہ والی خوراک یعنی ’لو کاربوہائیڈریٹس ڈائٹ‘ پر تھے ان میں سے 1900 افراد کو بے ربط دل کی دھڑکن کا عارضہ لاحق ہو گیا جب وہ گروپ جو نارمل غذائیں لے رہا تھا وہ صحت مند رہا اور ان کی ای سی جی میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔

Carb

محققین کا کہنا ہے کہ دل کے عارضے میں مبتلا ہونے کی سب سے بڑی وجہ ان افراد کا نشاستہ کی جگہ چکنائی اور لحمیات کا زیادہ استعمال ہے۔ لو کاربو ہائیڈیٹ ڈائٹ میں نشاستہ کی کمی کو چکنائی یعنی Fats  سے پورا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس سے دل کا عارضہ ہونے کے امکانات 70 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔

ریسرچ کے سربراہ ڈاکٹر شیاؤڈونگ زواہنگ نے متنبہ کیا ہے کہ وزن کم کرنے کے لیے لو کاربوہائیڈریٹ ڈائٹ تجویز کرنے میں احتیاط سے کام لینا چاہیئے اور ایسے افراد کا مکمل طبی معائنہ کراتے رہنا چاہیے۔

ریسرچ سربراہ نے ہدایت کی ہے کہ ہمارے جسم کو ہر قسم کی غذا یعنی نشاستہ، لحمیات اور چکنائی کی ضرورت رہتی ہے اس لیے کسی ایک کو کم یا کسی کو زیادہ کرنے کے بجائے متوازن غذا استعمال کرنی چاہیئے۔

جی ہاں! بھوک آپ کا موڈ تبدیل کرسکتی ہے

جرمنی: اکثر خواتین و حضرات بھوک سے بے تاب ہوکر غضب ناک ہوجاتے ہیں جسے انگریزی میں ’ہینگری‘ کہا جاتا ہے۔ اب ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ بھوک کا اثر انسانی رویے اور موڈ پر ہوتا ہے اور اس کے منفی جسمانی اثرات بھی ہوتے ہیں۔

یہ تحقیق یونیورسٹی آف ہیجن کے سائنس داں پروفیسر اینڈریاس گلوئکنر نے کی ہے جس میں  ماہرین نے کہا ہے کہ ’ طیش والی بھوک‘ یا ’ہینگری‘ ایک حقیقی شے ہے کیونکہ بعض افراد میں بھوک سے خون میں گلوکوز کی سطح کم ہوجاتی ہے۔ اس کیفیت میں ان کی توجہ کم ہوجاتی ہے اور وہ اپنے جذبات پر بھی قابو نہیں رکھ پاتے۔

دوسری جانب گلوکوز کی کمی سے جسم سے تناؤ والے ہارمون اور کیمیکل خارج ہونے لگتے ہیں جن میں کورٹیسول، ایڈرینالِن اور نیوروپیپٹائڈ وائے بھی شامل ہیں۔ اس کیفیت سے لوگ واقعی اشتعال میں آجاتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس غصے کی کیفیت سے خود آپ کے گھر والے بھی محفوظ نہیں رہ پاتے اور آپ کے پیاروں کو بھی اس کا سامنا ہوتا ہے۔ اسی بنا پر ایک دلچسپ سروے بھی سامنے آیا ہے کہ اگر دوپہر کے کھانے میں دیر ہوجائے اور عدالتی کارروائیاں جاری رکھی جائیں تو اس کا اثر ججوں کے فیصلے پر بھی پڑتا ہے اور یہ فرق 23 فیصد تک ہوسکتا ہے یعنی غلط فیصلوں کا امکان بڑھ جاتا ہے کیونکہ بھوک سے توجہ اور ارتکاز میں کمی ہوجاتی ہے۔

اسی بنا پر ماہرین نے کہا ہے کہ بھوک سے اشتعال میں آنے والے افراد اپنے لیے فوری طور پر کچھ نہ کچھ کھانے کی چیز رکھیں اور یاد رکھیں خالی پیٹ کوئی اہم فیصلہ نہ کریں۔

قیلولے کا بہترین وقت کیا ہے اور اس کا فائدہ کیسے حاصل کریں؟

دوپہر کو کچھ دیر کی نیند صرف مزاج ہی خوشگوار نہیں بناتی بلکہ یہ زندگی کو طویل کرنے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔

گزشتہ روز یونان میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ 20 منٹ کا قیلولہ عادت بنالینا درمیانی عمر میں دل کے دورے کا خطرہ کم کرتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ کچھ دیر کی یہ نیند بلڈپریشر کی سطح کم کرتی ہے جس سے دل کی صحت بہتر ہوتی ہے اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ کم ہوتا ہے اور ہر عمر کے افراد اس عادت سے یہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ قیلولہ یا دوپہر کو کچھ دیر سونا سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے۔

قیلولے کا بہترین وقت کونسا ہے؟

کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ رات بھر 8 گھنٹے کی نیند، صبح کی متحرک سرگرمیاں اور دوپہر کا صحت بخش کھانے کے بعد اچانک طبیعت سست اور غنودگی چھانے لگتی ہے؟

تو اس کی وجہ یہ ہے کہ سہ پہر تین بجے کے قریب انسانی جسمانی گھڑی سست ہوجاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ غنودگی یا سستی سی محسوس ہونے لگتی ہے۔

امریکا کی سدرن کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ دوپہر کی نیند یا قیلولے کا بہترین وقت بھی دوپہر تین بجے کا ہے اور اس وقت بیس سے تیس منٹ کی نیند صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ دوپہر کو بیس سے تیس منٹ کی نیند ہی بہترین ہوتی ہے، اس سے زیادہ دورانیہ ذہن کو زیادہ غنودگی کا شکار کردیتا ہے، جبکہ رات کو سونا بھی مشکل ہوتا ہے۔

دفتر میں قیلولہ کیسے ممکن ہے؟

یقیناً گھر میں تو کچھ دیر کی نیند ایک اچھا خیال ہے مگر دفتر میں ایسا کیسے ممکن ہے ؟ تو اس کا جواب ہے کہ بس آرام کرنا بھی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ محض خاموشی سے بیٹھ کر آنکھیں بندکرکے آرام کرنا بھی صحت کو قیلولے جیسے فوائد پہنچاسکتا ہے، اب یہ آپ اپنی کرسی میں کریں یا کچھ دیر کے لیے ٹوائلٹ جاکر، یہ آپ کی اپنی مرضی ہے۔

ہلکی سی غنودگی یا نیند کا یہ دورانیہ 10 منٹ تک ہونا چاہئے جس سے تناﺅ کا باعث بننے والے ہارمونز کی سطح کم ہوتی ہے جبکہ جنک فوڈ کی خواہش سے بچنا بھی ممکن ہوتا ہے۔

زیادہ دیر تک سونے سے گریز کریں

2016 میں مشی گن یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے دوران 3 لاکھ سے زائد افراد کا جائزہ لے کر یہ نتیجہ نکالا گیا جو افراد دن میں ایک گھنٹے سے زیادہ دوپہر کی نیند لینے کے عادی ہوتے ہیں ان میں تھکاوٹ کا احساس بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے جس کے باعث ذیابیطس کا خطرہ 50 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

اسی طرح ایک گھنٹے سے زائد قیلولہ اور تھکاوٹ میٹابولزم کے نظام کو بھی نقصان پہنچا کر امراض قلب کے عوامی جیسے موٹاپے، ہائی بلڈ پریشر وغیرہ کا خطرہ 50 فیصد پہنچا دیتا ہے۔

تاہم تحقیق میں طویل قیلولے اور امراض کے خطرات کی وجہ کا تعین نہیں کیا جاسکا یعنی محققین یہ بتانے سے قاصر رہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ دوپہر میں بہت زیادہ سونا اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ جسم میں سب کچھ ٹھیک نہیں۔

Google Analytics Alternative