صحت

مچھر کچھ لوگوں کو زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟

ہوسکتا ہے کہ کبھی اپنے دوستوں کے ہمراہ کسی کھلی جگہ میں چہل قدمی یا کیمپنگ کے ارادے سے گئے ہو اور آپ نے محسوس کیا ہو کہ مچھر کچھ لوگوں سے دور رہتے ہیں جبکہ کچھ سے انہیں بہت ‘ محبت’ ہوتی ہے؟ یہاں تک کہ گھر میں بھی کچھ افراد اس ننھے سے کیڑے کے ڈنک کا زیادہ شکار ہوتے ہیں جبکہ کچھ کو اس کا تجربہ تک نہیں ہوتا؟

تو اس کی وجہ ایک نئی تحقیق میں سامنے آگئی ہے جس میں محققین نے اس کا جواب دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکا کی فلوریڈا یونیورسٹی کے پروفیسر جوناتھن ڈے کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ 2 وجوہات کی بناءپر کچھ لوگ مچھروں کے لیے بہت زیادہ ‘پرکشش’ ہوجاتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ پہلی وجہ سہ پہر کے وقت مچھروں کی بینائی ‘بہت تیز’ ہوجانا ہے، جس دوران انہیں آس پاس کے مناظر زیادہ آسانی سے نظر آنے لگتے ہیں، تو اگر کسی شخص نے گہرے رنگ جیسے نیلے، سرخ یا سیاہ لباس پہن رکھا ہو، تو وہ خون چوسنے والے کیڑوں کی نظروں میں آکر ان کا ہدف بن جاتے ہیں۔

اسی طرح باہر گھومنے کے دوران بھی لوگ مچھروں کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں، اب چاہے وہ ورزش کررہے ہوں یا دوستوں کے ساتھ کسی جگہ بیٹھے ہوں۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ دوسری وجہ کچھ افراد کی جلد میں موجود مخصوص کیمکلز کی مقدار زیادہ ہونا ہے، کچھ کیمیکل جیسے لیسٹک ایسڈ مچھروں کو اپنی جانب کھینچتے ہیں۔

لیسٹک ایسڈ پسینے کے دوران خارج ہوتا ہے، اسی طرح سانس کے دوران بھی ایک کیمیکل acetone کا اخراج مچھروں کو اپنی جانب کھینچتا ہے اور ایسے افراد ان کیڑوں کے ڈنک کا بہت زیادہ شکار ہوتے ہیں۔

تحقیق میں یہ دلچسپ بات بھی بتائی گئی کہ اے اور بی بلڈ گروپس کے مقابلے میں او بلڈ گروپ کے حامل افراد مچھروں کو زیادہ مرغوب ثابت ہوتے ہیں۔

اس سے پہلے فلوریڈا یونیورسٹی کی ہی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ جسمانی طور پر زیادہ حجم رکھنے والے افراد زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں اور یہ گیس مچھروں کو اپنی جانب زیادہ کھینچتی ہے، یہی وجہ ہے کہ بچوں کے مقابلے میں بالغ افراد مچھروں کا زیادہ نشانہ بنتے ہیں۔

اچھی خبر یہ ہے کہ ننھے کیڑوں کے حملے سے بچنے کے لیے ہلکے پھلکے اور ہلکے رنگ کے کپڑے پہننا مددگار ثابت ہوسکتا ہے جبکہ جسم کے کھلے حصوں کو ڈھانپ کر رکھنا بھی مدد دیتا ہے۔

خیال رہے کہ ہر سال 20 اگست کو مچھروں سے بچاؤ کا عالمی دن منایا جاتا ہے کیونکہ ان کیڑوں کے کاٹنے سے ہر سال لاکھوں اموات ہوتی ہیں۔

امراض کی تشخیص کے لیے گوگل کا سہارا لینا فائدہ مند

اگر تو آپ کسی قسم کی غیرمعمولی جسمانی علامات کے بارے میں گوگل پر سرچ کرتے ہیں تو اچھی خبر یہ ہے کہ سائنسدان آپ کو ذہین مانتے ہیں۔

یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آئی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ ڈاکٹر کا پاس رخ کرنے سے قبل علامات کے بارے میں جاننے کے لیے ‘ڈاکٹر گوگل’ سے رجوع کرتے ہیں، ان کے ڈاکٹر کے لیے مرض کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔

تاہم اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ مریض ذہنی طور پر کافی پریشان اور بے چینی کا شکار ہوسکتا ہے۔

تاہم محققین کا کہنا تھا کہ مرض کے بارے میں آن لائن سرچ کرنا طبی ماہرین کو اپنے عارضے کے بارے میں سمجھانا آسان بناتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران 400 افراد کا جائزہ لیا گیا جنھوں نے 2 ہسپتالوں کے ایمرجنسی رومز کا رخ کیا تھا۔

سینٹ ونسینٹ ہاسپٹل اور آسٹن ہاسپٹل کی مشترکہ تحقیق میں بتایا گیا کہ 34.8 فیصد مریضوں نے اپنے مرض کی علامات آن لائن سرچ کرنے کے بعد ہسپتال کا رخ کیا تھا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل لوگوں کو خبردار کیا جاتا تھا کہ آن لائن مرض کی تشخیص کرنے سے گریز کریں کیونکہ یہ نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

مگر اس تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ عادت اس وقت مددگار ثابت ہوسکتی ہے جب اچھی ساکھ والی ویب سائٹس سے رجوع کیا جائے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس طرح کی تحقیق سے مریضوں کے لیے اپنی حالت کے بارے میں سمجھنا آسان ہوجاتا ہے اور وہ ڈاکٹروں کے سوالات کا جواب زیادہ موثر طریقے سے دینے کے قابل ہوجاتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے دی میڈیکل جرنل آف آسٹریلیا میں شائع ہوئے۔

ناشتے میں ایک گلاس دودھ ذیابیطس اور موٹاپے سے بچائے

ناشتے میں روزانہ ایک دودھ کے گلاس کا اضافہ ذیابیطس اور موٹاپے جیسے امراض سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

یہ دعویٰ کینیڈا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

گیولف یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ناشتے میں 250 ملی لیٹر گائے کے دودھ کا گلاس یا دلیہ میں ڈال کر اس کا استعمال دن بھر بلڈ شوگر لیول کو کم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

ایسا مانا جاتا ہے کہ دودھ میں موجود پروٹین ایسے ہارمونز کے اخراج میں مدد دیتا ہے جو کہ خوراک ہضم ہونے کے عمل کو سست کرتا ہے اور لوگوں کو بھوک کم لگتی ہے۔

تحقیق کے مطابق ناشتے میں دودھ کا اضافہ ذیابیطس اور موٹاپے کو ہمیشہ دور رکھنے کی کنجی ثابت ہوسکتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے ناشتے میں دودھ کی شمولیت کی اہمیت ثابت ہوتی ہے جو کہ بلڈ شوگر لیول کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماہرین ہمیشہ سے صحت بخش ناشتے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں اور اس تحقیق سے لوگوں میں دودھ کے استعمال کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

محققین کے مطابق یہ دریافت بہت اہم ہے کیونکہ ذیابیطس ٹائپ ٹو اور موٹاپا دنیا بھر میں انسانی صحت کے لیے فکرمندی کا باعث بن چکے ہیں۔

تحقیق کے دوران ایسے 32 رضاکاروں کو ناشتے میں ڈھائی سو ملی لیٹر دودھ استعمال کراکے اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

اس کے بعد دن بھر ان کے بلڈ شوگر لیول کا جائزہ لیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ دودھ کا استعمال کھانے کے بعد بلڈشوگر لیول کم کرتا ہے اور اس میں موجود پروٹین شوگر لیول کو کم کرتا ہے۔

اس سے ذیابیطس ٹائپ ٹو کا مقابلہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے جو کہ خون میں شوگر کی سطح میں کنٹرول سے باہر ہونے پر تشویش کا باعث بنتی ہے۔

اسی طرح دودھ میں موجود لوگوں کے پیٹ کو بھرا رکھتا ہے اور ان کی بے وقت کھانے کی خواہش کم ہوجاتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف ڈیری سائنس میں شائع ہوئے۔

کراچی میں کانگو وائرس کا ایک اور کیس، 23 سالہ نوجوان جناح اسپتال میں زیرِ علاج

کراچی میں کانگو وائرس کا ایک اور کیس سامنے آگیا، جہاں نیو کراچی کا رہائشی نوجوان جناح اسپتال میں زیرِ علاج ہے۔

جناح اسپتال کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق نیو کراچی کے رہائشی 23 سالہ سلمان کو ہفتے کے روز اسپتال لایا گیا تھا، جس کے ٹیسٹ کے بعد اس کے جسم میں کانگو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی

سیمی جمالی کے مطابق اس سے قبل جناح اسپتال میں اس سال کانگو سے متاثرہ 8 مریض لائے گئے تھے، جن میں سے دو انتقال کر گئے۔

ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ قربانی کے جانور خریدتے وقت اور قربانی کرتے ہوئے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔

کانگو وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر

ماہرین کے مطابق ہڈیوں اور پیٹ میں درد، تیز بخار اور جسم کے کسی بھی حصے سے خون آنا کانگو کی علامات ہیں۔

رواں ماہ کے آغاز میں محکمہ صحت سندھ کی جانب سے کانگو وائرس سے بچاؤ کے لیے الرٹ جاری کیا گیا تھا، جس میں عوام الناس کو مویشی منڈی جانے سے قبل احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا کہا گیا۔

ایڈوائزری میں ہدایت کی گئی کہ مویشی منڈی جاتے ہوئے ہلکے رنگ اور کھلے کپڑے پہنیں اور جسم کو مکمل طور پر ڈھانپ کر رکھیں۔

ایڈوائزری میں مزید بتایا گیا کہ کانگو وائرس کی چھچڑ جانور کی کھال پر موجود ہوتی ہے، لہذا جانور کو ہاتھ لگانے سے قبل دستانے ضرور استعمال کریں۔

 واضح رہے کہ کانگو کا مرض ایک انسان سے دوسرے میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بڑھاپے کی جانب سفر سست کرنے میں مددگار غذائیں

عمر میں اضافہ زندگی کا ایک قدرتی حصہ ہے جس سے بچنا ممکن نہیں۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ جو غذا آپ کھاتے ہیں وہ عمر میں اضافے کے اثرات کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوتی ہے ؟ یعنی جسم کے اندر اور باہر دونوں جگہ؟

جی ہاں واقعی ہماری غذائی عادات بڑھاپے کے اثرات کو جسم پر مرتب ہونے سے روکنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

بدقسمتی سے ہر لمحہ بڑھتے وقت کو واپس کرنا تو ممکن نہیں مگر غذا کے ذریعے جلد کے افعال میں بہتری لاکر جوان نظر آنے میں مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔

یہاں ایسی ہی چند غذاﺅں کا ذکر ہے جو آپ کو بڑھتی عمر میں بھی کم عمر نظر آنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

ٹماٹر

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ٹماٹر صحت کے لیے فائدہ مند چیز ہے جو کہ وٹامن اے، وٹامن سی اور فولک ایسڈ سمیت دیگر اجزاء سے بھرپور ہوتا ہے۔تاہم عمر بڑھنے کے اثرات کی رفتار سست کرنے میں اس میں موجود جز لائیکوپین اہم کردار ادا کرتا ہے۔لائیکو پین ایسا اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو جلد کو سورج کی شعاعوں کی اثرات سے تحفظ دیتا ہے جبکہ یہ شریانوں کی صحت اور وبائی امراض سے بھی تحفظ دیتا ہے۔

شہد

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

شہد قدرتی طور پر جراثیم کش ہوتا ہے جبکہ اس میں اینٹی آکسیڈنٹس اور متعدد دیگر اجزا موجود ہوتے ہیں، تو یہ حیران کن نہیں کہ یہ جلد کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند کیوں سمجھا جاتا ہے۔ اب اسے فیس ماسک کی شکل میں استعمال کیا جائے یا خام حالت میں لگایا جائے، یہ چہرے کا ورم کم کرنے کے ساتھ ساتھ کیل مہاسوں کا علاج کرتا ہے جبکہ خشک جلد کو نمی فراہم کرتا ہے۔ اسے کھانا بھی ایک اچھا خیال ہے خصوصاً اگر آپ دیگر میٹھی اشیا کو بدل کر ان کی جگہ شہد کو دے دیں۔

بلیو بیریز

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

یہ فلیونوئڈز نامی اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ جسم میں ورم اور مضر اجزاءکے خلاف جدوجہد کرتا ہے، ایک تحقیق کے مطابق موٹاپے، ذیابیطس اور خون کی شریانوں کے امراض جیسی میٹابولک بیماریاں جسم میں ورم کے باعث لاحق ہوتی ہیں، تو بلیو بیریز کا استعمال اس ورم کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتا ہے جبکہ میٹابولزم اپنا کام ہموار انداز سے جاری رکھتا ہے۔

سبز چائے

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

یہ گرم مشروب میٹابولزم کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے فائدہ مند ہے جس کی وجہ اس میں موجود ای جی سی جی نامی جز ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق سبز چائے میں موجود پولی فینول اور ای جی سی جی اسے دیگر اقسام کی چائے کے مقابلے میں جسمانی ورم یا سوجن کی روک تھام کے لیے زیادہ موثر بناتے ہیں۔ اسی طرح سبز چائے جسمانی وزن کو کنٹرول کرنے میں میں بھی مدد دیت ہے جبکہ بلڈ شوگر بھی کنٹرول میں رہتا ہے۔ پولی فینول جلد میں پائے جانے والے اہم جز کولیگن کا بھی تحفظ کرتا ہے جس سے بڑھتی عمر کے آثار کو کسی حد تک واپس دھکیلا جاسکتا ہے۔

ڈارک چاکلیٹ

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

چاکلیٹ کس کو پسند نہیں ہوتی تاہم کیا آپ کو معلوم ہے کہ ڈارک چاکلیٹ فلیونوئڈز اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہے اور یہ دونوں خون کی شریانوں میں لوتھڑے بننے اور سوجن کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق جسمانی سوجن بڑھاپے اور اس سے متعلقہ امراض کا باعث بنتی ہے، لہذا سوجن پر قابو پانے والی غذا طویل زندگی کی کنجی ثابت ہوسکتی ہے۔

ہلدی

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ہلدی میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹ ورم کے خلاف جادوئی اثر رکھتا ہے، جبکہ یہ میٹابولزم کی کارکردگی کو نوجوانی جیسا رکھنے میں بھی مدد دینے والا مصالحہ ہے اور ہاں یہ دماغی تنزلی سے بھی تحفظ دیتی ہے جبکہ جگر کو نقصان پہنچنے، امراض قلب اور جوڑوں کے درد کے خلاف بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

چقندر

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

چقندر کا استعمال برصغیر میں بہت عام ہے، سلاد سے لے کر اس کا جوس کافی پسند کیا جاتا ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس ایک جز بیتھین سے بھرپور ہوتا ہے جو سوجن پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ اس طرح یہ متعدد جسمانی امراض سے تحفظ فراہم کرسکتا ہے جبکہ چہرے کو جگمگا کر بڑھاپے کے اثرات کو بھی دور کرتا ہے۔

خام کوکو

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

خام کوکو اس لیے بہترین سمجھا جاتا ہے کیونکہ ایک بہت طاقتور اینٹی آکسائیڈنٹ resveratrol موجود ہوتا ہے جو کہ سورج سے متاثرہ جلد کی مرمت کرتا ہے اور قبل از وقت بڑھاپے کی نشانیوں کی روک تھام کرتا ہے۔ کوکو میگنیشم کے حصول کا بڑا ذریعہ ہے جو کہ جلدی خارش کا امکان کم کرتا ہے۔

انڈے

اے ایف پی فوٹو
اے ایف پی فوٹو

انڈے پروٹین سے بھرپور ہوتے ہیں جو کہ چربی سے پاک مسلز بنانے میں مدد دیتے ہیں جس سے میٹابولزم کی کارکردگی متاثر نہیں ہوتی، اس میں وٹامن ڈی بھی ہوتا ہے جو کہ مجموعی صحت کو بہتر اور ورم کش ہوتا ہے جبکہ یہ چربی گھلانے والے جز کولین سے بھی بھرپور غذا ہے۔

دلیہ

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

سست روی سے ہضم ہونے والے کاربوہائیڈریٹ جیسے جو کا دلیہ بلڈ شوگر کو مستحکم رکھنے کے لیے بہتر ہوتا ہے جبکہ اس میں موجود وٹامن بی سکس مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب کرتا ہے، اسی طرح جو لوگ دلیہ کھانے کو عادت بنالیتے ہیں، ان میں فالج اور ہارٹ اٹیک کا باعث بننے والے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں سات فیصد تک کمی آتی ہے۔

مالٹے

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

2 بڑی وجوہات مالٹوں کو صحت کے لیے فائدہ مند بناتے ہیں، ایک تو وٹامن سی کی موجودگی اور پانی کی مقدار۔ پانی جلد کو اندر سے نمی فراہم کرکے کیل مہاسوں سے بچاتا ہے جبکہ وٹامن سی کولیگن بننے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ جز جلد کو ہموار رکھنے میں مدد دیتا ہے اور جھریوں کی روک تھام کرتا ہے۔

زیتون کا تیل

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

زیتون کا تیل عمر بڑھنے کے ساتھ لاحق ہونے والی متعدد عام بیماریوں کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس کا استعمال بلڈ پریشر کو کم کرتا ہے، امراض قلب کا خطرہ کم کرتا ہے، میٹابولک سینڈروم کی روک تھام کرتا ہے یعنی ذیابیطس اور خون کی شریانوں کے امراض سے تحفظ دیتا ہے اور یہ کینسر کے خلاف جدوجہد کے لیے موثر ثابت ہوتا ہے۔ زیتون کا تیل جلد کو جوان رکھنے کے لیے بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔ جانوروں پر ہونے والی طبی تحقیق کے مطابق یہ جلد کے لیے ورم کی روک تھام کرتا ہے اور سورج کی شعاعوں سے ہونے والے نقصان سے بھی بچا سکتا ہے۔ مزید برآں زیتون کے تیل کا 73 فیصد حصہ مونو سچورٹیڈ فیٹ پر مبنی ہوتا ہے جو جلد کی لچک اور مضبوطی کو بڑھاتا ہے۔

دہی

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اپنا کام صحیح طرح کرنے والا معدہ جسمانی ورم کی روک تھام کے لےی ضروری ہے اور دہی میں اس مقصد کے لیے فائدہ مند بیکٹریا موجود ہوتے ہیں، ایک تحقیق کے مطابق دہی کے ذریعے ان بیکٹریا کو جسم کا حصہ بنانے سے تناﺅ کا باعث بننے والے ہارمون کی سطح میں کمی آتی ہے، تاہم کم شکر والے دہی کا استعمال ہی فائدہ مند ہوتا ہے۔

انار

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

انار کے فوائد کے بارے میں بتانے کی ضرورت نہیں بیشتر افراد سے اس سے واقف ہیں۔تاہم اگر آپ نہیں جانتے تو جان لیں کہ اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس کی مقدار سبز چائے سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ انار جسمانی ورم کو کم کرتے ہیں، ہائی بلڈ شوگر لیول سے ہونے والے نقصان کی روک تھام کرتے ہیں اور ہاں آنتوں کے کینسر کے شکار افراد کو اس مرض کے علاج میں بھی مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح انار جلد کو سورج سے ہونے والے نقصان سے بھی بچانے میں مددگار پھل ہے۔ طبی محققین کے مطابق انار کے مختلف حصے اکھٹے مل کر کام کرتے ہیں اور نقصان زدہ جلد کی مرمت کرکے اس میں کولیگن کی پیداوار میں اضافہ کرتے ہیں۔

اسٹرابری

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اس پھل میں مالٹوں ے زیادہ وٹامن سی ہوتا ہے، جو کہ موسمی نزلہ زکام سے بچانے کے ساتھ یہ ذہنی تناﺅ سے بھی تحفظ دیتا ہے۔ مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق وٹامن سی کے استعمال سے تناﺅ کا باعث بننے والے ہارمون کورٹیسول کی سطح میں کی آتی ہے، جبکہ بلڈ پریشر بھی تیزی سے کم ہوتا ہے۔

گریاں

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ایک حالیہ طبی تحقیق کے مطابق روزانہ کچھ مقدار میں نٹس جیسے مونگ پھلی یا اخروٹ وغیرہ کا استعمال کسی فرد کی زندگی کو طویل کرنے میں مدد کرسکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق نٹس کے نتیجے میں جان لیوا امراض جیسے ذیابیطس اور کینسر کے نتیجے میں موت کا خطرہ کافی حد تک کم ہوجاتا ہے۔

سرخ شملہ مرچ

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

یہ سرخ مرچ وٹامن سی سے بھرپور ہوتی ہے جس کے فوائد اوپ لکھے جاچکے ہیں مگر اس یں شامل دیگر اجزاءجسم میں موجود مضر صحت اجزاءکے خلاف مزاحمت کرتے ہیں جس سے عمر بڑھنے سے جسمانی تنزلی کی رفتار میں کمی آتی ہے۔

چاول

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چاول میں نشاستہ کی مزاحمت کرنے والے کاربوہائیڈریٹس موجود ہوتے ہیں جو کہ موٹاپے کو کنٹرول میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، یہ کاربوہائیڈریٹس دیر سے ہضم ہوتے ہیں اور معدے میں فیٹی ایسڈز میں تبدیل ہوجاتے ہیں، جنھیں ہمارا جسم توانائی کے طور پر جلاتا ہے جبکہ چربی گھلتی ہے۔

کیلے

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

پوٹاشیم اور میگنیشم سے بھرپور ہونے کی وجہ سے کیلے اچھی نیند میں مدد دیتے ہیں اور نیند کی کمی جلد بڑھاپے کی سب سے بڑی وجہ مانی جاتی ہے، اسی طرح یہ بلڈ پریشر میں کمی، اضافی وزن سے نجات، خون کی کمی کا خطرہ کم کرنے، نظام ہاضمہ بہتر بنانے، ذہنی تناﺅ میں کمی، وٹامن کی کمی دور کرنے اور جسمانی توانائی بڑھانے والا پھل بھی ہے۔

پالک

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ روزانہ کچھ مقدار میں پالک یا کسی بھی سبز پتوں والی سبزی کا استعمال عمر بڑھنے کے ساتھ دماغی صلاحیتوں میں آنے والی کمی کو روکتا ہے۔ ان سبزیوں میں وٹامن کے کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے اور جسم کو اضافی فائبر بھی فراہم کرتی ہیں جس سے کھانے کے دوران جلد پیٹ بھرنے کا احساس ہوتا ہے او رموٹاپے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔

سیب

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

سیب کا استعمال بھی بڑھاپے کے اثرات کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ سیب کے چھلکوں میں ایک ایسا کیمیکل دریافت ہوا جو عمر بڑھنے کے ساتھ پٹھوں میں آنے والی تنزلی کی روک تھام کا کام کرتا ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ایک پروٹین اے ٹی ایف 4 پٹھوں یا مسلز میں کمزوری آنے لگتی ہے جس کی وجہ جینز میں آنے والی تبدیلی ہوتی ہے تاہم دو ماہ تک سیب یا سبز ٹماٹر کا استعمال اس کی روک تھام کرتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ ان دونوں چیزوں میں پائے جانے والا قدرتی عمر بڑھنے سے مرتب ہونے والے اثرات کی روک تھام کرتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

شہد کی مکھی کے ڈنک کے اثر سے بچانے والے گھریلو ٹوٹکے

شہد کی مکھی کا ڈنک کا اثر اکثر بہت تیز درد، سوجن، سرخی، متاثرہ حصے کے گرم ہونے اور خارش کی شکل میں نظر آتا ہے۔

تاہم یہ سب عارضی ہوتا ہے اور عام طور پر کسی قسم کا خطرہ نہیں ہوتا تاہم اگر مکھیوں سے الرجی ہو یا متعدد ڈنک کا سامنا ہو تو پھر ضرور مسئلہ ہوسکتا ہے۔

جب شہد کی مکھی ڈنک مارتی ہے تو اس کا ڈنک جلد کے اندر چلاتا ہے جس کے بعد ایک زہریلا مادہ سم کا حصہ بنتا ہے جو درد اور دیگر علامات کا باعث بنتا ہے۔

تو اگر آپ کو شہد کی مکھیوں کے ڈنک سے الرجی نہیں یا شدید الرجی ری ایکشن کا سامنا نہیں ہوا تو گھر میں بھی آسانی سے اس کا علاج کیا جاسکتا ہے۔

بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ اکثر اس ڈنک کا علاج آپ کے کچن میں ہی موجود ہوتا ہے۔

مگر سب سے پہلے ناخن یا کسی چیز سے ڈنک کو جلد سے باہر نکالیں تاکہ کم از کم زہریلا مادہ جلد کا حصہ بنے۔

اس کے بعد متاثرہ حصے کو صابن اور پانی سے دھولیں، ہوسکے تو برف کو ڈنک والی جگہ پر رکھ دیں جو کہ سوجن کم کرنے کے ساتھ زہر جذب کم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

دیگر گھریلو ٹوٹکے درج ذیل ہیں۔

شہد

شہد بھی ڈنک سے ہونے والے درد، خارش بلکہ علاج میں مدد دے سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے شہد کی تھوڑی سی مقدار کو متاثرہ حصے میں لگائیں اور ڈھیلی پٹی سے جگہ کو کور کرکے ایک گھنٹے کے لیے چھوڑ دیں۔

بیکنگ سوڈا

پانی اور بیکنگ سوڈا کو ملا کر ایک پیسٹ بنائیں اور اس کی موٹی تہہ متاثرہ حصے پر لگائیں، جس کے بعد پیسٹ کو بینڈیج سے کور کرکے پندرہ منٹ کے لیے چھوڑ دیں، ضرورت پڑے تو یہ پیسٹ پھر لگائیں، اس سے درد، خارش اور سوجن کم ہوگی۔

سیب کا سرکہ

یہ سرکہ بھی شہد کی مکھی کے زہر کا اثر کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، متاثرہ حصے کو سیب کے سرکے میں کم از کم 15 منٹ تک ڈبو کر رکھیں یا پٹی یا کپڑے کو اس سرکے میں ڈبو کر متاثرہ حصے پر لگائیں۔

ٹوتھ پیسٹ

ٹوتھ کی کچھ مقدار کو متاثرہ حصے پر لگادیں اور کچھ دیر کے لیے چھوڑ دیں، جس سے شہد کی مکھی کے زہر کا اثر فوری کم ہوسکتا ہے۔

اسپرین کی گیلی گولی

اسپرین کی گولی کو گیلا کرکے متاثرہ حصے میں لگائیں یا گولی کا پیسٹ بناکر لگائیں، درحقیقت یہ نسخہ شہد کی مکھی کے ساتھ بھڑ کے ڈنک کا اثر کم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

کیا چکن پاکس کسی شخص کو 2 بار نشانہ بناسکتا ہے؟

چکن پاکس جسے لاکڑا کاکڑا بھی کہا جاتا ہے، ویریسیلا زوسٹر نامی وائرس نتیجے میں لاحق ہوتا ہے اور بہت تیزی سے مریض سے صحت مند افراد میں پھیل سکتا ہے۔

عام طور پر یہ بچوں کو اپنا شکار بناتا ہے مگر بالغ افراد بھی یہ سامنے آسکتا ہے۔

عام طر پر اس کا آغاز جسم کے مختلف حصوں میں سرخ رنگ کے دانے نکلنے کی شکل میں ہوتا ہے جو کہ جلد پورے جسم میں پھیل جاتے ہیں، جن میں خارش اور جلن کا احساس بھی ہوتا ہے۔

عام طور پر ان دونوں کے ساتھ بخار، سردرد، تھکاوٹ اور سرچکرانے جیسی علامات کا بھی سامنا ہوتا ہے۔

کوئی فرد چکن پاکس کا شکار کیسے ہوتا ہے؟

جیسے اوپر بتایا جاچکا ہے کہ یہ مرض ایک سے دوسرے میں بہت تیزی سے پھیلتا ہے، جیسے ایسی فضاءمیں سانس لینا جہاں مریض موجود ہے۔

مریض کے دانوں میں بھرے سیال کو چھونا۔

دانوں کو چھولینا۔

مریض کی چھینکیں۔

کن میں زیادہ خطرہ ہوتا ہے؟

اگر آپ کو چکن پاکس کا سامنا کبھی نہ ہوا ہو تو اس کے شکار ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں، خصوصاً کسی متاثرہ فرد سے تعلق پر۔ چکن پاکس کے دانوں کو ڈاکٹر آسانی سے پہچان لیتے ہیں۔

کیا کسی کو یہ مرض 2 بار لاحق ہوسکتا ہے؟

نہیں ایسا ممکن نہیں کہ چکن پاکس کسی شخص کو 2 بار لاحق ہو، تاہم اس کا وائرس 2 بار ضرور بیمار کرسکتا ہے۔

یعنی اگر آپ کو کبھی چکن پاکس کا سامنا ہو تو اس کا وائرس جسم میں موجود ہوسکتا ہے مگر وہ متحرک نہیں ہوتا۔

عمر بڑھے کے ساتھ جب جسمانی دفاعی نظام کمزور ہو تو یہ وائرس پھر حرکت میں آسکتا ہے مگر چکن پاکس کا شکار نہیں بناتا بلکہ shingle نامی عارضے کا باعث بنتا ہے۔

یہ عارضہ بھی چکن پاکس سے ملتا جلتا ہے تاہم اس کے دانے جسم کے ایک حصے میں ہوتے ہیں جو 3 ہفتے تک موجود رہ سکتے ہیں۔

کیا اس مرض سے مکمل بچنا ممکن ہے؟

یہ کافی حد تک ممکن ہے کہ زندگی بھر کسی کو چکن پاکس کا سامنا نہ ہو، کیونکہ اب بچوں کے ساتھ بالغ افراد کے لیے بھی اس مرض کے لیے ویکسینیشن آسانی سے دستیاب ہیں۔

سگریٹ نوش والدین کے بچے جان لیوا امراض میں مبتلا ہوجاتے ہیں، تحقیق

واشنگٹن: امریکی محققین نے انکشاف کیا ہے کہ سگریٹ نوشی کی لت میں مبتلا والدین کے بچوں کے موذی امراض میں مبتلا ہونے کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں۔

تحقیقی مجلے ’امریکن جرنل آف پریونٹیو میڈیسن‘ میں شائع ہونے والی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ سگریٹ نوشی کے عادی والدین اپنے بچوں کی ہلاکت کا سبب بن رہے ہیں۔ اگر والدین اپنے معصوم بچوں کو موت کے منہ میں جانے سے روکنا چاہتے ہیں تو انہیں سگریٹ نوشی ترک کرنا ہوگی۔

سگریٹ نوشی کے عادی والدین کے ہمراہ روزانہ 10 گھنٹے گزارنے والے بچوں میں مختلف موذی بیماریوں میں مبتلا ہو کر ہلاک ہونے کے امکانات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ سگریٹ نہ پینے والے والدین کے بچوں کے مقابلے میں سگریٹ نوشی کے عادی والدین کے بچوں میں دل کے امراض میں 27 فیصد، فالج میں 23 فیصد اور پھیپھڑوں کی بیماریوں میں 42 فیصد تک زیادہ مبتلا ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔

امریکن کینسر سوسائٹی کے محققین نے یہ اعداد و شمار 70 ہزار 9 سو افراد پر تحقیق سے حاصل کیے۔ یہ تمام افراد سگریٹ نوشی نہ کرنے کے باوجود پھیپھڑوں، دل اور فالج  کے عارضے میں مبتلا ہو گئے تھے۔ پھیپھڑوں کے عارضے کے باعث  ہلاک ہونے والے ایک لاکھ  میں سے 7 افراد ایسے تھے جو سگریٹ نوشی نہیں کیا کرتے تھے تاہم والدین کی سگریٹ نوشی کے باعث انہیں اس موذی بیماری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

سگریٹ نوشی کے عادی افراد پھیپھڑے، ہونٹ اور منہ کے کینسر میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور ساتھ ہی سگریٹ کے دھوئیں کو دوسرے افراد میں منتقل کرنے کا سبب بن رہے ہیں جس سے گھر میں رہنے والے دیگر افراد بھی موذی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

Google Analytics Alternative