صحت

اکثر افراد کو دوپہر کی نیند کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟

دوپہر کو سونا یا قیلولہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم ہے اور اس کے متعدد فوائد بھی ہیں، مگر کیا وجہ ہے کہ کچھ افراد کو ہی دوپہر میں نیند یا غنودگی کا احساس ستاتا ہے جبکہ بیشتر افراد ذہنی طور پر بہت زیادہ الرٹ ہوتے ہیں؟

تو اب سائنسدانوں نے اس کی وجہ ڈھونڈ لی ہے کہ آخر کیوں کچھ افراد کی آنکھیں دوپہر میں بند ہونے لگتی ہیں اور وہ کچھ منٹ کی نیند کا مزہ لیتے ہیں۔

یا آسان الفاظ میں آخر کچھ لوگوں کو کیوں دیگر کے مقابلے میں زیادہ نیند کی ضرورت پڑتی ہے۔

اس کا جواب جاپان کی Tsukuba یونیورسٹی کی تحقیق میں دیا گیا ہے، جس کے مطابق ایک جین میں آنے والی تبدیلی ایک دن میں نیند کا دورانیہ بڑھانے کا باعث بن سکتی ہے۔

اس تحقیق کے دوران چوہوں پر تجربات کرتے ہوئے ایک جین یا پروٹین SIK3 میں تبدیلی کی گئی اور اس سے نیند کی عادات میں آنے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا گیا۔

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

محققین نے دیکھا کہ یہ چوہے کتنی دیر تک سوتے ہیں اور ان کی بیداری کا دورانیہ کیا ہے جبکہ بیداری کے دوران ان کا ذہن کس حد تک چوکنا ہوتا ہے۔

انہوں نے دریافت کیا کہ SIK3 میں ایک امینو ایسڈ کو شامل کرنے سے چوہوں کو زیادہ نیند آنے لگی اور وہ زیادہ وقت تک سونے لگے، جس کی عکاسی ان کی دماغی لہروں کی سرگرمیوں سے بھی ہوئی، یعنی جب رات کو بیدار ہوتے تو ذہنی طور پر زیادہ الرٹ نہیں، حالانکہ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب یہ جانور عام طور پر زیادہ متحرک ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جین نیند کو کنٹرول کرنے والے میکنزم پر کس حد تک اثرانداز ہوتا ہے اور اس پروٹین یا جین میں امینو ایسڈ انسانوں میں بھی ہوتا ہے، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ انسانوں کی نیند کی عادات پر یہ اثرانداز ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان نتائج سے لوگوں میں نیند کے مسائل کو سمجھنے اور ان پر قابو پانے میں مدد ملے گی، جبکہ ہم جان سکتے ہیں کہ آخر کچھ لوگ دن کے وقت غنودگی یا سستی کے شکار کیوں ہوجاتے ہیں اور انہیں نیند کی ضرورت کیوں ہوتی ہے۔

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ویسے تو یہ تحقیق چوہوں پر ہوئی مگر محققین کے خیال میں اس کے نتائج کا اطلاق انسانوں پر بھی ہوتا ہے جو کہ دیگر کے مقابلے میں قیلولے کے عادی ہوتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہوئے۔

گزشتہ سال امریکا کی سدرن کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ دوپہر کی نیند یا قیلولے کا بہترین وقت دوپہر تین بجے کا ہے اور اس وقت بیس سے تیس منٹ کی نیند صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ دوپہر کو بیس سے تیس منٹ کی نیند ہی بہترین ہوتی ہے، اس سے زیادہ دورانیہ ذہن کو زیادہ غنودگی کا شکار کردیتا ہے، جبکہ رات کو سونا بھی مشکل ہوتا ہے۔

انجری سے مفلوج افراد کیلئے اب چل پانا ہوگا ممکن

ریڑھ کی ہڈی پر انجری کے نتیجے میں مفلوج ہوجانے والے افراد اب ایک بار پھر چل سکیں گے اور ایسا سائنسدانوں کی تیار کردہ ایک ڈیوائس کی بدولت ممکن ہوسکے گا۔

طبی جریدے نیچرڈے میڈیسین اور نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسین میں شائع مقالہ جات میں تحقیقی ٹیم نے بتایا کہ ریڑھ کی ہڈی پر انجری کے باعث مفلوج ہوجانے والے متعدد مریض اس ڈیوائس کی بدولت ایک بار پھر چلنے کے قابل ہوگئے، جو ان کی ریڑھ کی ہڈی میں نصب کی گئی۔

یہ ڈیوائس بنیادی طور پر درد پر کنٹرول کے لیے تیار کی گئی تھی، جس میں 16 الیکٹروڈز موجود ہیں جو ریڑھ کی ہڈی کے متاثرہ حصے کے بالکل نیچے نصب کی جاتی ہے، جہاں سے وہ ٹانگوں کو حسی حرکی (sensorimotor) سگنل بھیجتی ہے۔

ایک بیٹری کو معدے کی دیوار کے اندر نصب کیا جاتا ہے، جسے وائرلیس طریقے سے متحرک کیا جاسکتا ہے، جب وہ متحرک ہوتی ہے تو ڈیوائس کو دماغی سگنل مطلوبہ مسلز تک پہنچانے میں مدد ملتی ہے، تاکہ معذور شخص ایک بار پھر چل سکے۔

تحقیقاتی ٹیم کا کہنا تھا کہ یہ ڈیوائس کسی نقصان کی بھرپائی نہیں کرتی بلکہ یہ دماغی سگنل کی گردش کو مدد فراہم کرتی ہے۔

تاہم یہ فوری حل نہیں بلکہ مریضوں کو اس کے لیے طویل اور سخت جسمانی تھراپی کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے، جس کے بعد وہ چلنے کے قابل ہوپاتے ہیں۔

اسی طرح یہ ہر ایک کے لیے کارآمد نہیں، تحقیق میں شامل 2 رضاکار اس ڈیوائس کے لگنے کے باوجود دوبارہ چلنا نہیں سیکھ پائے، تاہم ان کے کھڑے ہونے، خود کو سیدھا کھڑا کرنے اور ٹانگوں کو ہلانے میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔

تحقیقی ٹیم کے مطابق یہ نتائج تاریخ ساز ہیں اور اس سے ان افراد کے لیے نئی امید پیدا ہوگی جن کے بارے میں سوچا جاتا ہے کہ اب وہ کبھی نہیں چل سکیں گے۔

اب تحقیقی ٹیم کے لیے بڑا چیلنج یہ سمجھنا ہے کہ یہ ڈیوائس کس طرح کام کرتی ہے، جب وہ اس کو بہتر طریقے سے ہینڈل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے تو اس تحقیق کو دیگر انجری کے شکار مریضوں تک تو وسعت دی جائے گی۔

روزانہ چند بادام کھانے کے فائدے جانتے ہیں؟

بادام ایسا میوہ ہے جو اکثر افراد کو پسند ہوتا ہے جو نہ صرف لذیذ بلکہ صحت بخش بھی ہوتا ہے۔

اس میں متعدد وٹامنز اور ایسے اجزاءہوتے ہیں جو جسم کو صحت مند اور شخصیت کو خوبصورت بناتے ہیں۔

تاہم کیا آپ کو معلوم ہے کہ روزانہ بادام کی صرف چار گریاں کھانا جسم پر کتنے نمایاں مثبت اثرات کرسکتا ہے ؟

وہ فوائد درج ذیل ہیں جو آپ کو یہ عادت اپنانے پر مجبور کردیں گے۔

ذیابیطس سے تحفظ

باداموں میں مونوسچورٹیڈ فیٹی ایسڈز کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ جسمانی افعال کے لیے انتہائی ضروری ہوتے ہیں، کیونکہ یہ خون میں گلوکوز کی مقدار متوازن رکھتے ہیں جبکہ گلوکوز کے جذب ہونے کے عمل کو کنٹرول بھی کرتے ہیں، آسان الفاظ میں بادام بلڈ گلوکوز کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، جس سے ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ بادام کھانے سے انسولین کی مزاحمت کی روک تھام بھی ہوتی ہے جو کہ گلوکوز کی سطح بڑھانے کا باعث بنتی ہے۔

غذائی اجزاء کو جذب ہونے میں مدد دے

باداموں کا استعمال اتنا فیٹ ہوتا ہے جو کہ وٹامن اے اور ڈی کے افعال اور ان کے جذب ہونے کو بہتر کرتے ہیں، جو کہ چربی جذب کرنے میں فائدہ پہنچاتے ہیں۔

کولیسٹرول میں کمی

بادام جسم کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی لانے کے لیے موثر ترین غذاﺅں میں سے ایک ہیں، اگر کولیسٹرول بہت زیادہ ہو تو گریوں کی تعداد دن بھر میں چار کی بجائے بیس سے تیس کردیں۔ عام طور پر زیادہ کولیسٹرول کی علامات پکوں کے نیچے سفید دھبے، ٹانگوں میں خارش اور قبل از وقت سفید بالوں کی شکل میں سامنے آتی ہیں۔

نظام ہاضمہ کو صحت مند بنائے

باداموں کے چھلکے پر ایسے پروبائیوٹیک کمپاؤنڈز موجود ہوتے ہیں جو نظام ہاضمہ کو صحت مند بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ معدے میں صحت کے لیے فائدہ مند بیکٹریا ہوتے ہیں جو غذا کو ہضم کرنے اور مختلف اجزاء میں تبدیل کرتے ہیں۔ ان بیکٹریا کے بغیر متعدد امراض کا سامنا ہوسکتا ہے، بادام کھانے کی عادت اس خطرے کی روک تھام کرتی ہے کیونکہ وہ بیکٹریا کی تعداد بڑھاتی ہے۔

جگمگاتے بال

باداموں میں وہ سب وٹامن اور اجزاءہوتے ہیں جو بالوں کی نشوونما کے لیے ضروری ہوتے ہیں اور انہیں مضبوط بناتے ہیں، اس میں موجود میگنیشم اور زنک بالوں کی نشوونما بہتر کرتے ہیں، جبکہ وٹامن ای انہیں مضبوط اور وٹامن بی چمکدار اور لمبی عمر دیتے ہیں۔

کینسر سے تحفظ

باداموں میں وٹامن ای کی ایسی قسم ہوتی ہے جو کہ طاقتور اینٹی آکسائیڈنٹ سے بھرپور ہونے کی وجہ سے کینسر کا باعث بننے والے فری ریڈیکلز کے خلاف مزاحمت کرتی ہے۔ مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں باداموں کے استعمال اور آنتوں، مثانے یا بریسٹ کینسر کے خطرے میں کمی کے درمیان تعلق کو دریافت کیا گیا ہے۔

امراض قلب سے تحفظ

باداموں میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس، صحت بخش چربی، میگنیشم اور کاپر دل اور خون کی شریانوں کی صحت کے لیے بہترین ثابت ہوتے ہیں۔ بادام کے چھلکے میں پائے جانے والا ایک نباتاتی کمپاؤنڈ خون کی شریانوں سے جڑے امراض اور ہارٹ اٹیک وغیرہ سے بچاتا ہے اسی طرح باداموں میں موجود فلیونوئڈز جسم میں ورم کم کرتے ہیں جو کہ دل کی صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔۔

جھریوں کی روک تھام

بادام میں مینگنیز نامی جز موجود ہوتا ہے جو کہ کولیگن نامی ایک پروٹین کی مقدار بڑھانے میں مدد دیتا ہے جو کہ جلد کو ہموار رکھتا ہے۔ اس میں شامل وٹامن ای بھی بڑھاپے کے اثرات کے خلاف جدوجہد میں مدد دیتا ہے۔

ہڈیاں اور دانت مضبوط بنائے

بادام میں میگنیشم، کیلشیئم اور فاسفورس موجود ہوتا ہے جو کہ مضبوط اور صحت مند ہڈیوں اور دانتوں کے لیے ضروری ہے، باداموں کا استعمال ہڈیوں کے بھربھرے پن یا فریکچر کا خطرہ کم کرتا ہے جبکہ عمر بڑھنے سے دانتوں کی فرسودگی کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔

جسمانی وزن میں کمی

ایک طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ باداموں میں مٹھاس وغیرہ بہت کم ہوتی ہے اور اس کو روزانہ تھوڑی مقدار میں کھانا میٹابولزم کو بہتر بناکر جسمانی وزن میں کمی لاتا ہے۔

دماغ کے لیے بھی بہترین

یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ بادام کو دماغ کی غذا بھی قرار دیا جاتا ہے جو کہ یاداشت کو بہتر بناتا ہے اور یہ سب وٹامن ای اور اس میں شامل فیٹی ایسڈز کا اثر ہوتا ہے۔ اسی طرح یہ میوہ دماغ پر عمر کے اثرات کو جھاڑنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

پیٹ کے درد سے نجات دلانے میں مددگار نسخے

پیٹ میں درد عام طور پر آہستہ آہستہ بڑھتا ہے یا ایسا لگتا ہے کہ جیسے ایک ننھی گیند جسم کے اندر ٹکرا رہی ہے۔

احساس جو بھی ہو، تکلیف بہت زیادہ ہوتی ہے اور ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ اس درد سے فوری نجات مل جائے۔

اچھی بات یہ ہے کہ اکثر اس درد سے چھٹکارے میں مدد دینے والا حل آپ کے کچن میں ہی موجود ہوتا ہے۔

سیب کا سرکہ

سیب کا سرکہ معدے میں تیزابیت کو متوازن کرتا ہے جو کہ غذا کو ہضم کرنے لیے ضروری ہے، عام طور پر معدے میں تیزابیت کی کمی کھانے کو ہضم کرنا مشکل بناتا ہے، جس کا نتیجہ اکثر پیٹ میں درد کی صورت میں نکلتا ہے۔ ایک کھانے کا چمچ ایک کپ پانی میں ملا کر پینا معدے کے تیزاب بننے کے عمل کو تیز کرتا ہے جبکہ پیٹ کے درد سے بھی نجات دلاتا ہے۔

پیٹ پر مالش

اگر پیٹ میں درد قبض کی وجہ سے ہے تو پیٹ کے اوپر نرمی سے مالش کرنا ریلیف دے سکتا ہے بلکہ قبض سے نجات بھی دلا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے پیٹ پر شہادت کی انگلی اور بڑی انگلی سے کلاک وائز مالش کریں، جس سے آنتوں میں پھنسے کھانے کے ٹکڑے ہونے میں بھی مدد ملے گی۔

اضافی پانی پینا

اکثر پیٹ کا درد قبض کا نتیجہ اور آنتوں میں اکڑن کا نتیجہ ہوتی ہے ، جس کی بڑی وجہ اکثر پانی کی کمی ہوتی ہے، پانی نہ صرف آنتوں کے لیے ضروری ہے بلکہ نظام ہاضمہ کو بہتر کرنے اور غذائیت کو جذب کرنے میں بھی مدد دیتا ہے، تو مناسب مقدار میں پانی پینا پیٹ درد سے نجات دلا سکتا ہے۔

ادرک چبائیں

ادرک بھی نظام ہاضمہ کو متحرک کرتا ہے، ایک سینٹی میٹر کے ادرک کے ٹکڑے کو چند منٹ تک چبائیں، جس سے نظام ہاضمہ متحرک ہوگا اور پیٹ کے درد میں ریلیف محسوس ہوگا۔

ایلو ویرا کا جوس بھی فائدہ مند

اگر پیٹ میں کھانے کے بعد درد ہو تو ایلوویرا کا جوس اس سے نجات میں مدد دے سکتا ہے، 1/3 کپ اس جوس کو پینا غذائی نالی کو سکون پہنچا کر پیٹ کے درد کو دور کرتا ہے۔

یخنی

ہڈیوں کی یخنی میں متعدد اجزا موجود ہوتے ہیں جو خلیات کی مرمت میں مدد دیتے ہیں، اگر ناقص غذا کے نتیجے میں پیٹ میں درد یا نظام ہاضمہ کے مسائل ہوں، یا ادویات کے استعمال سے پیٹ میں تکلیف ہو تو یہ اکثر خلیات کو پہنچنے والے نقصان کا نتیجہ ہوتی ہے، یخنی اس کی مرمت کے لیے اچھا ہتھیار ثابت ہوسکتی ہے۔ ایک کپ گرم یخنی پینے کے بعد چند گہری سانسیں لیں اور بس۔

لیموں کی چائے یا پانی

لیموں بھی نظام ہاضمہ کے بہت فائدہ مند ہے، اگر کھانے کے بعد پیٹ ٹھیک مھسوس نہ ہو تو ایک کپ گرم لیموں کی چائے یا ایک کھانے کا چمچ لیموں کا عرق ایک کپ پانی میں ملا کر پینا پیٹ کے درد سے ریلیف دلاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

آدھی رات کو بیدار ہونا کسی بیماری کی علامت؟

زندگی میں نیند کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، جس کی کمی بیمار کرسکتی ہے تو مناسب وقت تک سونا لمبی زندگی کے حصول میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

ایک رات کی خراب نیند اگلا دن خراب کرسکتی ہے یعنی کام پر توجہ نہیں رہتی یا غلط کرنے لگتے ہیں۔

تاہم نیند کی کمی سے قطع نظر اکثر افراد کو ایک عجیب مسئلے کا سامنا ہوتا ہے اور وہ ہے سونے کے بعد آدھی رات کو اچانک آنکھ کھل جانا۔

تو کیا یہ کسی مرض کی علامت ہے یا عام چیز ہے؟

درحقیقت یہ غیرمعمولی نہیں کہ کوئی فرد اچانک رات کو جاگ جائے یا ایک ہی رات میں 3 سے 4 بار اس کا تجرب ہو، طبی ماہرین کے مطابق انسانی نیند کا سائیکل 90 سے 12 منٹ تک ہوتا ہے، یعنی رات بھر کی نیند کے دوران 3 سے 4 نیند کے چکر کا سامنا ہوتا ہے۔

ہر چکر کے اختتام پر نیند کم گہری ہوجاتی ہے اور اٹھنے کا امکان بڑھ جاتا ہے، کئی بار تو لوگ جاگ کر بھی شعوری طور پر بے خبر رہتے ہیں کہ وہ رات کو کسی وقت جاگے تھے جو کہ نارمل ہے، یہی وجہ ہے کہ بیشتر افراد مسلسل 7 یا 8 گھنٹے بلاتعطل نیند نہیں لے پاتے۔

یہ اس وقت مسئلہ ہوتا ہے جب اٹھنے کے بعد دوبارہ سونا مشکل ہوجائے، اگر آپ آدھی رات کو جاگتے ہیں اور پھر نیند نہیں آتی تو یہ کسی مسئلے کی علامت ہوسکتی ہے جس پر قابو پایا جانا چاہئے۔

ہر رات ایک ہی وقت آنکھ کھول جانا

اگر آپ دریافت کریں کہ آپ لگ بھگ ہر رات ایک ہی وقت اچانک جاگتے ہیں، تو پریشان مت ہوں، درحقیقت یہ تو صحت مندی اور اچھی نیند کی ایک علامت ہوسکتی ہے۔ تاہم اگر رات کو مسلسل آنکھ کھلتی ہے اور نیند دوبارہ نہیں آتی تو پھر یہ ضرور خطرے کی گھنٹی ہے، جس کے لیے نیند کی عادات کو بدلنے کی ضرورت ہوسکتی ہے۔

بہت زیادہ ذہنی تناﺅ

اگر آپ سونے سے قبل ذہنی تناﺅ کے شکار ہوں تو اس بات کے امکانات زیادہ ہیں کہ رات کو کسی وقت اچانک بیدار ہوجائیں گے کیونکہ تناﺅ نیند کو گہری نہیں ہونے دیتا، جس کی وجہ دماغ کا الرٹ ہونا ہوتا ہے جو نیند کا حصول مشکل بناتا ہے۔

کھانے سے قبل نقصان دہ غذا کا استعمال

اگر آپ ٹرانس فیٹ (بیکری مصنوعات)، پراسیس ویجیٹبل آئل سے بنے پکوان، پھلوں کے جوس، دہی، الکحل یا سیگریٹ نوشی کے عادی ہیں، تو روزانہ آدھی رات کو بیدار ہونے پر حیران ہونے کی ضرورت نہیں۔

سونے سے قبل ڈیوائسز کا استعمال

جدید ٹیکنالوجی کی بدولت اب لوگوں کے ہاتھوں میں ہر وقت اسمارٹ فونز یا ٹیبلیٹ وغیرہ موجود ہوتے ہیں، تاہم ان ڈیوائسز سے خارج ہونے والی نیلی روشنی نیند کو متاثر کرنے کا باعث بنتی ہے۔ یہ نیلی روشنی دماغ کے لیے جانی پہچانی ہوتی ہے کیونکہ ایسی روشنی دھوپ کی بدولت دوپہر میں ہم اپنے ارگرد دیکھتے ہیں، تو ڈیوائسز کی روشنی سے جسمانی گھڑی کے نظام کے لیے سونے کے وقت کا تعین کرنا مشکل ہوتا ہے، خاص طور پر سونے سے کچھ دیر قبل اس طرح کی ڈیوائس آپ کے ہاتھ میں ہو۔

سونے کا معمول نہ ہونا

انسانی دماغ روٹین کو پسند کرتا ہے، یعنی ایک ہی طرح کی سرگرمی یا عادت اسے پسند ہوتی ہے اور اس کے لیے اپنے افعال کو سرانجام دینا آسان ہوتا ہے۔ اگر نیند کا کوئی خاص وقت طے نہ ہو تو دماغ اکثر الجھن کا شکار ہوجاتا ہے اور نیند سے اٹھا دیتا ہے۔

عام گھی کے یہ فوائد دنگ کردیں گے

ویسے تو آج کل اکثر کھانے تیل میں پکائے جاتے ہیں مگر گھی وہ چیز ہے جو دہائیوں سے استعمال ہورہی ہے اور لگ بھگ پاکستان کے ہر کچن میں موجود ہوتی ہے، جسے اکثر افراد صحت کے لیے نقصان دہ بھی سمجھتے ہیں۔

تاہم اس میں کچھ زیادہ صداقت نہیں بلکہ بہت زیادہ گھی کا استعمال نقصان دہ ہوتا ہے، اعتدال میں رہ کر کھانا متعدد فوائد کا حامل ہوتا ہے۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ کھانوں کو مزیدار کرنے کے ساتھ ساتھ گھی جسم کے لیے کس حد تک فائدہ مند ہے؟

درحقیقت یہ متعدد فوائد کا حامل ہوتا ہے ، جس کے چند فوائد اور گھریلو ٹوٹکے درج ذیل ہیں۔

نظام ہاضمہ کی مدد کرے

گھی میں بٹرک ایسڈ کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے، جو کہ ورم کو کم کرنے کے ساتھ نظام ہاضمہ کو بہتر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ گھی کے استعمال سے معدے کے تیزاب کو متحرک کرنے میں بھی مدد ملتی ہے جو کہ صحت مند نظام ہاضمہ کے لیے ضروری ہے۔

جلنے کے زخموں کے لیے فائدہ مند

اگر کھانا پکاتے ہوئے ہاتھ معمولی سا جل جائے تو گھی سے ریلیف حاصل کیا جاسکتا ہے جو کہ سوجن پر بھی قابو پاتا ہے، متاثرہ حصے پر اسے لگانے سے ورم کو کم کیا جاسکتا ہے جبکہ جلن کے احساس سے بھی ریلیف ملتا ہے۔

جسمانی دفاعی نظام مضبوط کرے

اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہونے کے باعث گھی جسم کی وٹامنز اور منرلز کو جذب کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے، جس سے جسمانی دفاعی نظام مضبوط ہوتا ہے اور امراض کے خلاف زیادہ موثر دفاع کرتا ہے۔

توند کی چربی گھلائے

گھی میں ضروری امینو ایسڈز موجود ہوتے ہیں جو کہ توند کی چربی گھلانے میں مدد دیتے ہیں، اس میں موجود اومیگا تھری اور اومیگا سکس فیٹی ایسڈز توند گھٹانے اور چربی گھلانے میں مدد دیتے ہیں۔

آنکھوں کے سیاہ حلقوں سے نجات

نیند کی کمی، ذہنی تناﺅ یا بہت زیادہ کام کرنے کے نتیجے میں آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے ابھر آتے ہیں، مگر گھی کی مدد سے ان سے فوری نجات پائی جاسکتی ہے۔ سونے سے قبل نرمی سے گھی کی کچھ مقدار کو آنکھوں کے ارگرد لگائیں، جس سے بہت جلد سیاہ حلقوں سے نجات پانے میں مدد ملے گی۔

روکھے بالوں کو نئی جان دے

گھی میں موجود فیٹی ایسڈز اور اینٹی آکسائیڈنٹس اسے خشک اور روکھے بالوں کے لیے بہترین ہیئر کنڈیشنر بناتے ہیں، گھی اور زیتون کے تیل کو ملا کر بالوں پر لگانا انہیں نرم اور جگمگانے میں مدد دیتا ہے، اسی طرح گھی میں لیموں کے عرق کو ملا کر لگانا خشکی سے نجات دلاتا ہے۔

خشک اور پھٹے ہوئے ہونٹوں کا مسئلہ حل کرے

ہوائی آلودگی، سورج کی روشنی، مٹی یا دھویں کے نتیجے میں ہونٹ خشک ہوکر پھٹنے لگتے ہیں، تو سونے سے قبل گھی کو معمولی گرم کرکے ہونٹوں پر لگانا انہیں نرم اور نمی فراہم کرتا ہے۔

جگمگاتی صحت مند جلد کا حصول بھی ممکن

گھی میں موجود فیٹی ایسڈز اور دیگر اجزاءروکھی اور بے جان جلد پر کرشماتی اثر دکھا سکتے ہیں اور جلد کو جگمگانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

روزانہ صرف ایک کیلا جسم پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے؟

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ صحت کے لیے فائدہ مند غذا ذائقہ دار نہیں ہوتی مگر جب بات کیلوں کی ہو تو ایسا بالکل نہیں۔

جو نہ صرف ذائقے دار ہوتے ہیں بلکہ صحت کے لیے بھی متعدد فوائد کے حامل ہوتے ہیں۔

ہوسکتا ہے کہ آپ کو علم نہ ہو مگر روزانہ صرف ایک کیلا کھانا ہی صحت کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے، جن میں سے کچھ فوائد درج ذیل ہیں۔

پوٹاشیم سے بھرپور پھل

ایک کیلے میں 422 ملی گرام پوٹاشیم ہوتی ہے جو کہ دن بھر کے لیے جسم کو درکار مقدار کا 12 فیصد ہے۔ جسم کو اپنے افعال کے لیے پوٹاشیم کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے، یہ منرل مسلز، اعصابی نظام، کھانے میں موجود غذائیت کو خلیات تک پہنچانے، دل کی دھڑکن کو ریگولیٹ کرنے اور جسم میں نمکیات کی سطح کو کنٹرول میں رکھتا ہے۔ تو جسم میں پوٹاشیم کی کمی ہائی بلڈپریشر اور گردوں میں پتھری کا خطرہ بڑھا سکتی ہے، جسمانی طور پر کمزوری اور تھکاوٹ کا مسئلہ بھی درپیش ہوسکتا ہے۔

جسم میں پانی کی کمی نہیں ہونے دیتا

ویسے سننے میں عجیب لگے کہ ایک ٹھوس پھل سیال کی کمی کیسے پوری کرسکتا ہے، مگر یہاں بھی پوٹاشیم مددگار ثابت ہوتا ہے جو کہ ورزش یا ورک آﺅٹ کے بعد جسم میں سیال کی مقدار کو ریگولیٹ کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جسم بنانے کے خواہشمند افراد کو کیلوں کے استعمال کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

معدے کے لیے فائدہ مند

ایک درمیانے کیلے میں 3 گرام فائبر موجود ہے جو کہ روزانہ درکار مقدار کا دس فیصد ہے۔ کیلوں میں پری بائیوٹک بھی موجود ہے جو فائبر کی ہی ایک قسم ہے جس سے معدے میں فائدہ مند بیکٹریا کی مقدار بڑھانے میں مدد ملتی ہے، یہ بیکٹریا نظام ہاضمہ بہتر، موسمی نزلہ زکام کا دورانیہ کم اور جسمانی وزن میں کمی میں بھی مدد دیتے ہیں۔

جسمانی توانائی بڑحائے

کسی جسمانی محنت کے کام یا ورک آﺅٹ سے قبل کیلا کھالینا فائدہ پہنچاتا ہے کیونکہ اس میں موجود قدرتی مٹھاس جسمانی توانائی بڑھاتی ہے، ایک تحقیق کے مطابق کیلوں میں موجود اجزا جسمانی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔

دل کے لیے بھی بہترین

پوٹاشیم دل کے لیے بہت اہم منرل ہے، مختلف تحقیقی رپورٹس کے مطابق پوٹاشیم والی غذاﺅں کا استعمال بلڈ پریشر کی سطح کم کرتا ہے، جس سے ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے، پوٹاشیم دل پر تناﺅ بڑھانے والے سوڈیم کو پیشاب کے راستے خارج کرتا ہے جس سے دل کو نقصان پہنچنے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

وٹامن بی سکس جسم کو پہنچائے

ویسے تو اکثر افراد کو وٹامن بی 6 کی اہمیت کا علم نہیں ہوتا مگر یہ میٹابولزم کے انزائمے کو متحرک کرتا ہے، اس کے علاوہ بھی یہ وٹامن انسولین، ہیموگلوبن اور امینو ایسڈز بنانے میں بھی مدد دیتا ہے جو کہ صحت مند خلیات کے لیے ضروری ہے۔

بے وقت منہ چلانے سے روکے

متوازن غذا کے ساتھ ایک کیلا کھالینا بے وقت لگنے والی بھوک کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، کیلے میں موجود فائبر کھانے کی اشتہا کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے، تو جسمانی وزن بڑحنے سے پریشان ہیں تو ناشتے یا کھانے کے بعد ایک کیلا کھالیں۔

گردوں کی صحت بہتر کرے

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ بہت زیادہ پھل اور سبزیاں کھاتے ہیں، ان میں گردوں کے کینسر کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے، تحقیق کے دوران اس مقصد کے لیے فائدہ مند پھلوں کا جائزہ لیا گیا تو کیلے سب سے بہتر ثابت ہوئے جس کی وجہ اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹ فینولیکس کی موجودگی ہے۔ ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پوٹاشیم کا استعمال گردوں میں پتھری کا خطرہ کم کرتا ہے اور جیسا اوپر بتایا جاچکا ہے کہ کیلے پوٹاشیم سے بھرپور پھل ہے۔

خون کی کمی سے تحفظ

خون کی کمی سے جلد کی زردی، تھکاوٹ اور سانس گھٹنے جیسی شکایات ہوتی ہیں، عام طور پر یہ خون کے سرخ خلیات کی کمی اور ہیموگلوبن کی سطح میں کمی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ کیلوں میں آئرن کی کافی مقدار ہوتی ہے جو کہ خون کے سرخ خلیات کی پیداوار کو حرکت میں لانے والا جز ہے، اسی طرح وٹامن بی سکس بلڈ گلوکوز کی سطح کو کنٹرول کرتا ہے جبکہ یہ خون کی کمی کے شکار افراد کے لیے بھی فائدہ مند پھل ہے۔

ذہنی امراض سے بھی بچائے

کیلے مزاج کو بہتر بناتے ہیں، اس پھل میں موجود جز tryptophan جسم میں سیروٹونین نامی ہارمون کے لیے فائدہ مند ہے، جسے خوشی کا ہارمون بھی کہا جاتا ہے۔ ہر کیلے میں میگنیشم بھی ہوتا ہے جو کہ خوشگوار مزاج اور صحت بخش نیند کے لیے ضروری ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

مارکیٹ میں دستیاب دہی میں مشروب سے بھی زیادہ چینی کا انکشاف

دیہی علاقوں اور چھوٹے شہروں کو چھوڑ کر بڑے شہروں میں بسنے والے زیادہ تر افراد مارکیٹ میں دستیاب مختلف برانڈز کی دہی کو صحت کے لیے بہتر سمجھ کر استعمال کرتے ہیں۔

زیادہ تر لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ بڑی اور ملٹی نیشنل کمپنی کی دہی یا دہی کے اجزاء سے تیار چیزیں صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتیں۔

تاہم برطانیہ میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ مارکیٹ میں دستیاب زیادہ تر کمپنیوں کی دہی میں مشروب سے بھی زیادہ شگر موجود ہوتی ہے۔

سائنس جرنل ‘بی ایم جے اوپن‘ میں شائع رپورٹ کے مطابق تحقیق سے پتہ چلا کہ صرف برطانیہ کے مارکیٹس میں دستیاب 900 اقسام کی دہی میں بھی مشروب سے زیادہ شگر موجود تھی۔

انگلینڈ کی ‘دی لیڈز یونیورسٹی’ کی تحقیق سے پتہ چلا کہ نہ صرف بڑی کمپنیوں کی دہی بلکہ دہی کے اجزاء سے تیار چیزوں میں بھی ضرورت سے زیادہ چینی کی مقدار پائی گئی۔

حیران کن بات یہ ہے کہ بڑے بڑے برانڈز کی دہی کے اجزاء سے بچوں کے لیے تیار کی گئی آئس کریم، چاکلیٹ اور دیگر میٹھے کھانوں میں بھی حد سے زیادہ چینی کی مقدار پائی گئی۔

رپورٹ کے مطابق عام طور پر مارکیٹ میں دستیاب دہی اور اس کے اجزاء سے تیار کردہ چیزوں میں ہر 100 گرام میں 16 گرام چینی کی مقدار پائی گئی، جو مشروب سے بھی زیادہ مقدار ہے۔

تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ بچوں کے لیے دہی کے اجزاء سے تیار کی جانے والی آئس کریم سمیت دیگر غذاؤں میں بھی ہر 100 گرام پر 9 گرام سے زیادہ چینی پائی گئی، جو بچوں کے لیے مقررہ حد سے زائد مقدار ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف خالص دودھ سے قدرتی طریقے سے تیار ہونے والی دہی میں ہی چینی کی مقدار درست ہوتی ہے، ساتھ ہی گریک اسٹائل کی دہی کو بھی دیگر کے مقابلے بہتر قرار دیا گیا۔

Google Analytics Alternative