صحت

کیا چاول کھانا موٹاپے سے بچا سکتا ہے؟

چاول کھانا اکثر افراد کو بہت پسند ہوتا ہے اور پاکستان میں بھی ان کا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے۔

مگر کم کاربوہائیڈریٹس والی یہ غذا موٹاپے سے نجات میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے؟

تو اس کا جواب جاپان میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں دیا گیا ہے، جس میں بتایا گیا کہ ایشیائی یا جاپانی انداز کے کھانوں (جن میں چاولوں کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے)کو ترجیح دینے والے ممالک میں موٹاپے کی شرح کم ہوتی ہے۔

اس تحقیق کے دوران 136 سے زائد ممالک اور چاول کھانے سمیت کیلوریز کے استعمال کی شرح کا تجزیہ کیا گیا جبکہ جسمانی وزن کے ڈیٹا کو بھی دیکھا گیا۔

کیوٹو کی ڈوشیھا ویمنز کالج آف لبرل آرٹس کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ چاول زیادہ کھانے کی عادت رکھنے والے ممالک میں موٹاپے کی شرح مغربی ممالک سے کم ہے جہاں چاول کھانے کی شرح کم ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ چاول میں چربی کی مقدار کم ہونا جبکہ فائبر، نباتاتی کمپاﺅنڈز اور دیگر اجزا کی موجودگی ہے جو پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھنے میں مدد دیتے ہیں اور بسیار خوری سے بچنا ممکن ہوجاتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ دنیا بھر میں موٹاپے کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس سے بچنے کے لیے چاول کھانا موثر عادت ثابت ہوسکتی ہے۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اعتدال میں رہ کر چاول کھانا ہی فائدہ مند ہے اس کو بہت زیادہ کھانا ذیابیطس اور میٹابولک سینڈروم کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

اس سے قبل امریکا کی آرسیرو یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ نشاستہ کی مزاحمت کرنے والے کاربوہائیڈریٹس کا استعمال موٹاپے کے کنٹرول میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

یہ کاربوہائیڈریٹس بیج، اجناس، سفید چاول اور پاستا وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ کاربوہائیڈریٹس دیر سے ہضم ہوتے ہیں اور معدے میں فیٹی ایسڈز میں تبدیل ہوجاتے ہیں، جنھیں ہمارا جسم توانائی کے طور پر جلاتا ہے۔

یہ کاربوہائیڈریٹس سفید ڈبل روٹی یا میٹھی اشیا میں پائے جانے والے کاربوہائیڈریٹس سے مختلف ہوتے ہیں جو فوری طور پر جسم میں جذب ہوکر جلنے کی بجائے چربی کا ذخیرہ کرتے ہیں اور موٹاپے کا باعث بنتے ہیں۔

اس تحقیق میں پہلی بار یہ بات سامنے آئی ہے کہ سفید چاول اور پاستا میں موٹاپے سے تحفظ دینے والے کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں اور سادہ چاول کا اکثر استعمال موٹاپے سے تحفظ میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ جب نشاستہ کی مزاحمت کرنے والی غذا کا استعمال کیا جاتا ہے تو پیٹ جلد بھر جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ زیادہ کھانے سے قاصر رہتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

دل کے مریضوں کیلیے خوشخبری، بیٹری کے بغیر چلنے والا پیس میکر ایجاد

بیجنگ: سائنس دانوں نے دل کے امراض میں حیرت انگیز نتائج دینے والے آلے ’پیس میکر‘ کو بیٹری کے بغیر چلانے کا کامیاب تجربہ کرلیا ہے جس کے بعد مریضوں کو بار بار پیس میکر کی بیٹری تبدیل کرنے کی جھنجھٹ سے جان چھوٹ جائے گی اور دل کی کارکردگی میں بھی کوئی رکاوٹ یا تنزلی نہیں آئے گی۔ 

سائنسی جریدے نیچر کمیونیکیشن میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی مقالے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دل کے مریضوں کے لیے ایک ایسا پیس میکر ایجاد کرلیا گیا ہے جو بغیر بیٹری کے اپنا کام جاری رکھ سکے گا۔ چینی سائنس دانوں نے چوہوں اور ایک بڑے جانور پر کامیاب تجربے کے بعد اس پیس میکر کو ’انرجی ہاروَیسٹر‘ کا نام دیا ہے جسے مارکیٹ میں آنے میں ابھی چند برس اور لگیں گے۔

چین کی سائنسی علوم کی اکیڈمی کے ماہر اور اس تحقیق کے مرکزی محقق ژُولی نے میڈیا کو بتایا کہ انتہائی جدید پیس میکر ’انرجی ہارویسٹر‘ کی سب سے نمایاں خصوصیت مریض  کی نقل و حرکت اور اس کے دل کی دھڑکن سے پیدا ہونے والی حرکی توانائی سے اپنی برقی توانائی کی ضروریات پوری کرنا ہے جس کے بعد اس آلے کو روایتی آلوں کی نسبت بیٹری کی ضرورت نہیں رہتی۔

سائنس دان ژولی اپنی ایجاد کی کامیابی کے لیے کافی پُر امید نظر آتے ہیں، اس ایجاد سے ناصرف مریضوں کے علاج میں اخراجات میں کمی واقع ہوگئی بلکہ بار بار بیٹری کی تبدیلی سے آلے کی کارکردگی پر پڑنے والے اثرات سے بھی بچا جا سکے گا۔ یوں دل کے پٹھوں کو مسلسل ایک ردھم میں حرکت جاری رکھنے کا موقع میسر آئے گا جس سے پورے جسم کو خون کی سپلائی جاری رہ پائے گی۔

واضح رہے کہ پیس میکر وہ آلہ ہے جو مریض کے سینے میں دل سے کچھ اوپر لگایا جاتا ہے اور وہ مریض کے دل کی دھڑکن کو کنٹرول میں رکھتا ہے جس کے لیے یہ آلہ بیٹری سے برقی توانائی لیکر دل کے پٹھوں کو منتقل کرتا ہے جس کی مدد سے دل کے خانے بند ہوتے اور کُھلتے ہیں اور اس طرح دل کی دھڑکن مسلسل ردھم کے ساتھ جاری رہتی ہے۔

ہڈیوں کو ہر عمر میں کمزور ہونے سے بچانا چاہتے ہیں؟

ہڈیوں کی کمزوری یا آسٹیو پوروسز کو خاموش مرض کہا جاتا ہے جس کا احساس ہونا لگ بھگ ناممکن ہوتا ہے۔

اس مرض کے دوران ہڈیوں کی کثافت کم ہوجاتی ہے اور وہ کمزوری کا شکار ہوجاتی ہیں۔

ہر دو میں سے ایک خاتون اور ہر چار میں سے ایک مرد اس کا شکار ہوتا ہے اور ہڈیاں ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

مزید پڑھیں : ہڈیوں کو کمزور ہونے سے بچانے میں مددگار نکات

روزمرہ کی زندگی میں چند عادات کا استعمال اس مسئلے کا شکار بھی بنا سکتا ہے جبکہ کچھ فوڈز کا استعمال اس سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

عمر بڑھنے کے ساتھ ہڈیوں میں آنے والی کمزوری سے بچنا چاہتے ہیں تو یہ نکات ضرور جان لیں۔

بہت زیادہ نمک

بہت زیادہ نمک کھانے کے نتیجے میں جسم سے کیلشیئم کا اخراج زیادہ ہونے لگتا ہے جو ہڈیوں کی کمزوری کا باعث بنتا ہے۔ جنک فوڈ میں نمک کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جبکہ عام غذاﺅں میں بھی اس کا زیادہ استعمال نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

ٹی وی کے سامنے زیادہ وقت گزارنا

ایسا نہیں کہ ٹیلیویژن کو دیکھنا ہی چھوڑ دیں مگر لاتعداد گھنٹے اسکرین کے سامنے بیٹھے رہنا اگر عادت بن جائے اور جسمانی طور پر کم متحرک ہوجائیں تو ہڈیوں کے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ورزش کرنا جسم کو مضبوط بناتا ہے جبکہ ہڈیاں بھی مضبوط ہوتی ہیں۔

سورج کی روشنی سے دور رہنا

جسم سورج کی روشنی سے وٹامن ڈی بناتا ہے جو کہ ہڈیوں کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے، ہفتہ بھر میں کچھ وقت سورج کی روشنی میں گزارنا ہڈیوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے، اس کے علاوہ غذا سے بھی وٹامن ڈی حاصل کیا جاسکتا ہے جیسے فورٹیفائیڈ ملک اور انڈے وغیرہ، ڈاکٹر کے مشورے سے وٹامن ڈی سپلیمنٹ کا بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

سافٹ ڈرنکس سے دور رہیں

ویسے تو ان مشروبات کا استعمال متعدد طبی عوارض کا خطرہ بڑھاتا ہے اور ہڈیاں بھی ان میں سے ایک وجہ ہے، روزانہ صرف ایک بار اس مشروب کو پینا کولہے کے فریکچر کا خطرہ خواتین میں 14 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ یہ تو واضح نہیں کہ اس کی وجہ کیا ہے مگر ممکنہ طور پر ان مشروبات میں موجود کیفین، فاسفورس یا چینی کیلشیئم کی سطح کو متاثر کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

ڈائٹنگ بھی نہ کریں

نوجوان افراد خصوصاً خواتین اگر مناسب مقدار میں غذا کا استعمال نہیں کرتیں تو ان کی ہڈیوں کو نقصان پہنچتا ہے جو درمیانی عمر میں جاکر جوڑوں کے امراض یا فریکچر وغیرہ کا باعث بن سکتا ہے۔ خالی پیٹ گھومنا خواتین میں ہارمونز کے نظام کو متاثر کرتا ہے جو ہڈیوں کی صحت پر بھی اثرانداز ہوتا ہے۔

تمباکو نوشی بھی نقصان دہ

اگر آپ تمباکو نوشی کے عادی ہیں تو اس عادت کے نتیجے میں ہڈیوں کے لیے نئے صھت مند ٹشوز آسانی سے نہیں بنتے، بلکہ تمباکو نوشی کے عادی افراد میں ہڈیاں ٹوٹنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جبکہ اس کے جڑنے میں بھی زیادہ وقت لگتا ہے۔

ہڈیوں کو مضبوط رکھنے میں درج ذیل غذائیں فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہیں۔

دہی

دہی پروبایوٹیکس، کیلشیئم، پوٹاشیم اور وٹامن ڈی، اے اور فولیٹ کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے، طبی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ روزانہ دہی کو کھانا ہڈیوں کی کمزوری اور فریکچر کے خطرے کی روک تھام کرتا ہے، اگر آپ کو لگتا ہے کہ ہڈیاں کمزور ہوچکی ہیں تو دہی کھانا عادت بنالیں۔

دودھ

دودھ بھی کیلشیئم، فاسفورس اور وٹامنز اے اور ڈی کے حصول کا چھا ذریعہ ہے، گائے کا دودھ ہڈیوں کو مضبوط بنانے کے لیے فائدہ مند ہے، اس کے لیے فورٹیفائیڈ ملک پینا بھی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

سبز پتوں والی سبزیاں

سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک اور ساگ وغیرہ کیلشیئم، اینٹی آکسائیڈنٹس اور وٹامن کے اور سی کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے، ان سبزیوں کو اکثر کھانا ہڈیوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ جسمانی مدافعتی نظام بھی طاقتور کرتا ہے۔

خشک میوہ جات

بادام، کاجو اور مونگ پھلی وغیرہ میگنیشم کے حصول کا اچھا ذریعہ ہیں، جو ہڈیوں کی ساخت کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے، جبکہ یہ کیلشیئم جذب کرنے کے لیے بھی ضروری ہے۔

آلو بخارہ

ہڈیوں کو 20 فیصد زیادہ مضبوط بناتا ہے مگر پھر بھی اکثر افراد اس کی خوبی سے لاعلم ہوتے ہیں۔ ایک طبی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ خشک آلو بخارے بھی ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں اور یہ ہڈیوں کو ریڈی ایشن سے تحفظ بھی فراہم کرتے ہیں۔

پنیر

پنیر کو دودھ سے بنایا جاتا ہے اور اسی لیے کیلشیئم کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے، جبکہ اس سے جسم کو وٹامن اے، وٹامن بی 12، زنک اور فاسفورس بھی ملتے ہیں، اسے کھانا معمول بنانا نہ صرف منہ کا ذائقہ بہتر بناتا ہے بلکہ ہڈیوں کو بھی کمزور ہونے سے بچاتا ہے۔

مچھلی

وٹامن ڈی کے سپلیمنٹ کے ساتھ ساتھ اس سے بھرپور غذائیں جیسے مچھلی کو کھانا بھی عادت بنانا چاہیئے اور ہر ہفتے ایک سے دو بار مچھلی کھانا وٹامن ڈی کی فراہمی میں مدد دیتا ہے۔

انڈے

انڈے کی زردی وٹامن اے، ڈی، کے اور ای کے حصول میں مدد دیتی ہے، وٹامن ڈی کیلشیئم جذب کرنے کے لیے ضروری عنصر ہے جس سے ہڈیوں کی صحت بہتر ہوتی ہے۔

دالیں

دالوں سے جسم کو صرف پروٹین ہی نہیں ملتا بلکہ یہ کیلشیئم ، فاسفورس، پوٹاشیم اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سے بھی بھرپور ہوتی ہیں، محققین نے تصدیق کی ہے کہ دالوں کو کھانے کی عادت ہڈیوں کی کثابت میں کمی کی روک تھام کرتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

قبض جیسے مسئلے کو دور رکھنے میں مددگار چائے

قبض ایک ایسا عام عارضہ ہے جو لوگوں کے لیے بہت تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔

اور یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ غذاؤں میں زیادہ چربی اور آئل کی موجودگی کے باعث پاکستان بھر میں نظام ہاضمہ بری طرح متاثر ہوا ہے اور قبض کے شکار افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

نظام ہاضمہ کمزور ہونے پر آنتوں کی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں قبض کا سامنا ہوتا ہے جبکہ پانی کم پینا، مخصوص ادویات، تناﺅ اور کچھ امراض بھی اس کی وجہ ہوسکتے ہیں۔

قبض کی بھی کئی اقسام ہیں جیسے عام سے لے کر دائمی۔

دائمی قبض کے شکار افراد کو اس حوالے سے فوری ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ علاج میں تاخیر اس مرض کو زیادہ بدتر بنادیتی ہے جبکہ عام قبض پر گھریلو ٹوٹکوں کی مدد سے قابو پایا جاسکتا ہے۔

پانی زیادہ پینا یا مشروبات کو غذا میں شامل کرنا بھی اس مسئلے کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے۔

جہاں تک گھریلو ٹوٹکو کی بات ہے تو السی کے بیجوں کی چائے ایسا نسخہ ہے جو قبض کو دور رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

چائے کو بنانے کا طریقہ

رات کو ایک کھانے کا چمچ السی کے بیج کو ایک کپ پانی میں 2 سے 3 منٹ تک ابال لیں اور پھر بیجوں سمیت ہی اسے پی لیں۔

السی کے بیج نظام ہاضمہ کے لیے بہترین ہوتے ہیں اور جلاب کش اثر رکھتے ہیں۔

ان بیجوں میں فائبر کی قمدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو قبض کے مسئلے پر قابو پانے میں مدد دینے والا جز ہے جبکہ اس میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کولیسٹرول سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں اور دل کو صحت مند رکھتے ہیں۔

اس کے علاوہ پروٹین کی موجودگی ان بیجوں کو جسمانی وزن میں کمی لانے میں مدد دیتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

دواؤں کو بے اثر کرنے والے جراثیم لاکھوں اموات کی وجہ بن سکتے ہیں

جنیوا: پوری دنیا میں بیکٹیریا اور جراثیم ہماری دواؤں سے مزاحمت کرکے انہیں بے اثر بنارہے ہیں۔ اگر یہی کیفیت برقرار رہی اور ہم نے نئی ادویہ نہیں بنائیں تو سال 2050 کے بعد سے ایک جانب ہرسال 1 کروڑ افراد لقمہ اجل بن جائیں گے اور مزید کروڑوں افراد غربت اور مفلسی کے چنگل میں پھنس جائیں گے۔

اس ضمن میں اقوامِ متحدہ نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں اینٹی مائیکروبیئل ریسسٹینس (اے ایم آر) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بڑھتا ہوا چیلنج 2030 تک دو کروڑ چالیس لاکھ افراد کو انتہائی غربت کی جانب دھکیل دے گا۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت ہمارے پاس جو ادویہ ہیں وہ کئی امراض کے جراثیم اور بیکٹیریا کو روکنے میں ناکام ہوچکی ہے اوراس کی وجہ سے  ہرسال سات لاکھ افراد لقمہ اجل بن رہے ہیں جن میں 2 لاکھ 30 ہزار ٹی بی کے ایسے مریض ہیں جن پر تمام دوائیں ناکارہ ہوچکی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی نائب سیکریٹری جنرل امینہ محمد کہتی ہیں کہ یہ رپورٹ اے ایم آر کو روکنے اور صحت میں ترقی کے ایک سوسالہ تحفظ پر گہرائی میں روشنی ڈالتی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے دواؤں کے خلاف جراثیم کی مزاحمت اور ارتقا کو پوری دنیا کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جراثیم اور بیکٹیریا ہماری تمام دواؤں کے حوالے سے کچھ اسطرح سے تبدیل ہورہے ہیں کہ بہت سی عام بیماریوں سے شفا بھی مشکل ہوتی جارہی ہے۔ آگے چل کر اقوامِ متحدہ نے اپنی رپورٹ میں  تمام فریقین سے کہا ہے کہ وہ ہنگامی بنیادوں رپر لوگوں کو بچانے کا کام کریں تاکہ پائیدار مستقبل کی بنیاد رکھی جاسکے۔

لیکن دوائیں بے کار کیوں ہورہی ہیں؟

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم اینٹی بایوٹکس کا بے تحاشہ استعمال کررہے ہیں جس سے دواؤں کی تاثیر ختم ہورہی ہے۔ اس کے علاوہ بالخصوص غریب ممالک میں صاف پانی، گندے پانی کی نکاسی، دواؤں اور ڈاکٹروں تک عدم رسائی سے بھی اے ایم آر میں شدت پیدا ہورہی ہے۔ ان ممالک میں کوڑے کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کا مناسب بندوبست نہیں اور نہ ہی فوڈ سیفٹی پر زور دیا جارہا ہے۔

رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ پہلے مرحلے میں انسانوں اور جانوروں کو ’انتہائی ضرورت پر ہی‘ اینٹی بایوٹکس دی جائیں جبکہ زراعت اور پولٹری فارمز میں ان کا استعمال بتدریج کم کرتے کرتے ختم کردیا جائے۔

دنیا بھر کے ماہرین نے اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کی تائید کرتے ہوئےدیگر تجاویز کو سراہا ہے۔ لیکن ماہرین نے کہا ہے کہ غریب اور کم ترقی یافتہ ممالک میں انقلابی اقدامات اپنانے، تحقیق اور عالمی مدد کی ضرورت بھی ہے۔

ایڈز کے خاتمے کے لیے سائنسدانوں کی بڑی پیشرفت

ایچ آئی وی ایڈز کو ناقابل علاج مرض قرار دیا جاتا ہے مگر اب اس کے شکار افراد کے لیے نئی امید اس وقت سامنے آئی جب ایک تحقیق میں اس مرض کے شکار افراد میں اینٹی ریٹرووائرل ادویات سے وائرس کو دوسرے فرد میں منتقل کرنے کے خطرے پر قابو پالیا گیا۔

طبی ماہرین کی اس کامیابی کا مطلب ہے کہ اگر ایچ آئی وی کے مریض کو مکمل علاج کی سہولت دستیاب ہوگی تو انفیکشن مزید آگے نہیں پھیل سکے گا۔

اس تحقیق کے دوران یورپ بھر میں ایک ہزار جوڑوں کو شامل کیا گیا تھا اور ہر جوڑے میں سے ایک فرد ایچ آئی وی کا شکار تھا جس کا وائرس دبانے کے لیے علاج کیا جارہا تھا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ اس طریقہ علاج کے بعد ایچ آئی وی کے شکار فرد سے شریک حیات میں ایڈز کا وائرس منتقل نہیں ہوا۔

اس تحقیق میں شامل لندن کالج یونیورسٹی کی محقق پروفیسر الیسن روجر کے مطابق تحقیق کے نتائج سے ثابت ہوا ہے کہ اینٹی ریٹرووائرل ادویات سے ایچ آئی وی وائرس شادی شدہ جوڑے میں کسی ایک سے دوسرے تک منتقل کرنے کا خطرہ صفر کیا جاسکتا ہے جو ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مزید اقدامات کیے جانے کی ضرورت ہے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ تمام ایچ آئی وی پازیٹو افراد کو ٹیسٹوں، موثر علاج اور دیگر معاونت تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔

ایک رپورٹ کے مطابق 2017 میں دنیا بھر میں لگ بھگ 4 کروڑ افراد ایچ آئی وی کے شکار تھے جن میں سے صرف 2 کروڑ 17 لاکھ افراد اینٹی ریٹرووائرل ادویات تک رسائی حاصل تھی۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے دی لانسیٹ میڈیکل جرنل میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل رواں سال کے شروع میں بھی طبی ماہرین نے ایڈز کے علاج کے حوالے سے بڑی پیشرفت کی تھی جب برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ایک مریض کو بون میرو ٹرانسپلانٹ کے بعد اس وائرس سے کلیئر قرار دے دیا گیا۔

اس مریض جس کا نام بتایا نہیں گیا، کا بون میرو اسٹیم سیلز ٹرانسپلانٹ 3 سال قبل ہوا تھا اور اس کے لیے ایسے ڈونر کی خدمات حاصل کی گئیں جس میں ایسی جینیاتی تبدیلی ہوچکی تھی جو ایچ آئی وی انفیکشن کے خلاف مزاحمت کرتی ہے۔

اس مریض کو ڈیڑھ سال تک ایچ آئی وی کو کنٹرول کرنے والی ادویات سے دور رکھا گیا اور ٹیسٹوں سے ثابت ہوا کہ اب اس شخص میں ایچ آئی وی انفیکشن کے آثار باقی نہیں رہے۔

ڈاکٹروں نے بتایا کہ اب کوئی وائرس موجود نہیں اور ہم کچھ بھی تلاش نہیں کرسکے۔

ماہرین کے مطابق یہ کیس اس بات کا ثبوت ہے کہ سائنسدان ایک دن دنیا سے ایڈز کا خاتمہ کرنے کے قابل ہوجائیں گے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایڈز کا علاج دریافت کرلیا گیا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ یہ مریض عملی طور پر صحت یاب ہوچکا ہے مگر ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ وہ اس موذی مرض سے مکمل چھٹکارا پاچکا ہے۔

اس مریض کو لندن پیشنٹ کہا گیا ہے اور اس سے قبل محض ایک امریکی شخص کو ہی 2007 میں جرمنی میں اسی طرح کے علاج کے بعد ایچ آئی وی سے کلیئر قرار دیا گیا تھا۔

ذیابیطس پر قابو کےلیے، کھانے کے اوقات پر قابو پائیے

لندن: چھوٹے پیمانے کے ایک مطالعے سے انکشاف ہوا ہے کہ اگر کھانے کے اوقات پر سختی سے عمل کیا جائے تو اس کا ایک بہترین فائدہ خون میں شکر کی مقدار قابو کرنے کی صورت میں ظاہرہوتا ہے۔

اگر ذیابیطس کے کنارے کھڑے مریض اپنے تمام کھانوں کو 9 گھنٹے کے اندر اندر ختم کریں تو اس سے خون میں شکر کی مقدار کو قابو کرنے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔ ذیابیطس کی کیفیت میں بہت سے عوامل اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں جن میں کھانے کے اوقات اور طرزِ زندگی بھی شامل ہے۔

ایک نئے مطالعے سے انکشاف ہوا ہے کہ  غذا سے ذیابیطس پر اثر ہوتا ہے لیکن اپنے وقت پر کھانے سے بھی اس پر فرق پڑتا ہے۔ اس کے لیے لاہولا، کیلیفورنیا میں سالک انسٹی ٹیوٹ آف بائلوجیکل اسٹڈیز کے ماہرین نے پہلے چوہوں کو ذیابیطس میں مبتلا کیا اور اس کے بعد انہیں صبح 9 سے شام 6 بجے تک تمام کھانے کھلا کر اس پر سختی سے عمل کرایا۔اس کے بعد انسانوں پر اس کی آزمائش کی گئی۔

اس ضمن میں 15 ایسے مردوں کو بھرتی کیا گیا جو ٹائپ ٹو ذیابیطس مرض کے قریب پہنچ چکے تھے۔ ان میں 30 سے 70 برس کے لوگ تھے اور ان کی کمروں کا گھیر 102 سینٹی میٹر تھے۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ وہ ایک ہفتے تک صبح 9 بجے سے شام 6 بجے کے درمیان اپنے تمام کھانے کھاکر مکمل کرلیں۔

اس تجربے میں شرکا کے ایک اور گروہ کو دن کے وسط سے رات 9 بجے تک کھانا کھانے کی اجازت دی گئی۔ لیکن اس دوران وہی عام غذا کھلائی گئی جسے وہ پسند کرتے تھےاور ان کے خون میں گلوکوز کی مقدار کو روزانہ کی بنیادوں پر نوٹ کیا گیا۔

اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ اگر دن میں 9 گھنٹے کے دوران کھانے پینے کے سارے ادوار مکمل کرلیے جائیں تو اسطرح خون میں شکر کی مقدار برقرار رہتی ہے۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے اس طرح وزن میں معمولی کمی بھی نوٹ کی گئی جس کے دور رس اثرات رونما ہوسکتے ہیں۔

اس کے بعد لوگوں سے کہا گیا کہ وہ مزید 8 ہفتے تک اسے برقرار رکھے اور صبح ساڑھے نو سے شام ساڑھے سات تک اپنی خوراک مکمل کریں تو اس سے نہارمنہ (فاسٹنگ) گلوکوز کی سطح بہتر ہوئی اور شرکا میں ذیابیطس کا بڑھتا ہوا خطرہ دھیرے دھیرے نارمل کی جانب آتا گیا۔ ان تجربات کا احوال تحقیقی جرنل اوبیسٹی میں شائع ہوا ہے۔

ڈائٹ مشروبات کا ایک اور نقصان سامنے آگیا

مصنوعی مٹھاس والے مشروبات یا ڈائٹ سافٹ ڈرنکس موٹاپے سے بچاﺅ میں مددگار ثابت نہیں ہوتیں بلکہ جسمانی وزن میں اضافے کا خطرہ بڑھاتی ہیں۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

جارج واشنگٹن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ اگرچہ ان مشروبات کو چینی نکال کر صحت کے لیے فائدہ مند بنانے کی کوشش کی گئی ہے مگر یہ لوگوں کے اندر زیادہ کھانے کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔

اس تحقیق کے دوران امریکا میں 7 ہزار سے زائد بچوں کی غذائی عادات کا جائزہ لیا گیا اور دریافت کیا کہ جو بچے پانی کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں، وہ کم کیلوریز جزو بدن بناتے ہیں۔

اس کے مقابلے میں ڈائٹ مشروبات پینے والے بچے 200 اضافی کیلوریز اپنی غذا کا حصہ بناتے ہیں اور دیگر غذاﺅں اور مشروبات میں زیادہ چینی استعمال کرتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ جسمانی وزن میں کمی کے لیے ڈائٹ مشروبات کا استعمال فائدہ مند نہیں۔

اس سے قبل گزشتہ سال آسٹریلیا کے ایڈیلیڈ میڈیکل اسکول کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ محض 2 ہفتے تک مصنوعی مٹھاس کا استعمال ہی معدے میں موجود بیکٹریا میں تبدیلیاں لانے کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے۔

یہ تبدیلیاں جسم کی بلڈشوگر جذب اور کنٹرول کرنے کی صلاحیت کو بدل دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں ذیابیطس کا خطرہ بڑھتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران 2 ہفتے تک 29 صحت مند نوجوانوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔

ان میں سے آدھے نوجوانوں کو مصنوعی مٹھاس کے کیپسول دیے گئے جو مقدار میں دن بھر میں ساڑھے 4 ڈائٹ سافٹ ڈرنکس کے کین کے برابر تھے۔

باقی افراد کو عام کیپسول دیے گئے، جن میں کوئی مٹھاس نہیں تھی۔

محققین نے رضاکاروں کے معدے کے بیکٹریا کا تجزیہ کیا اور جن نوجوانوں نے مصنوعی مٹھاس استعمال کی تھی، ان کے بیکٹریا میں نمایاں تبدیلیاں دریافت کیں جبکہ اس ہارمون کا اخراج کم ہوگیا جو کہ بلڈ گلوکوز لیول کو کنٹرول کرتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ محض 2 ہفتے تک مصنوعی مٹھاس کا استعمال ہی بیکٹریا کو متاثر کرکے ذیابیطس کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

Google Analytics Alternative