صحت

یہ عام عادت جلد موت کا خطرہ کم کرے

درمیانی عمر میں ایک آسان عادت اپنا کر مختلف امراض سے موت کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے، چاہے پوری زندگی ورزش سے دور ہی کیوں نہ رہے ہوں۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ سست طرز زندگی گزارنے والے افراد میں مختلف امراض کے نتیجے میں جلد موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

تاہم جسمانی طور پر متحرک ہوکر اس خطرے کو 25 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے اور اگر آپ پہلے ہی ورزش کرتے رہے ہوں تو زیادہ متحرک ہونا جلد موت کا خطرہ 42 فیصد تک کم کردیتا ہے۔

تحقیق کے مطابق زندگی میں فٹنس کے حصول کے لیے جسمانی سرگرمیوں کو اپنانے میں کبھی تاخیر نہیں ہوتی، چاہے آدھی زندگی بیٹھ کر ہی کیوں نہ گزار دی جائے۔

کیمبرج یونیورسٹی کی اس تحقیق میں 15 ہزار کے قریب مردوں اور خواتین کے طرز زندگی کا جائزہ 8 سال تک لیا گیا۔

اس کے بعد بھی ٹیم نے مختلف تبدیلیوں سے صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ 13 سال تک لیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ درمیانی عمر اور بڑھاپے میں بھی جسمانی سرگرمیوں کو طرز زندگی کا حصہ بنالینا مختلف جان لیوا امراض سے موت کا خطرہ کم کرتا ہے۔

جسمانی سرگرمیوں کو اپنا کر ہارٹ اٹیک، فالج اور ذیابیطس سمیت مختلف امراض کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔

ان جسمانی سرگرمیوں کے لیے ضروری نہیں کہ جم میں جاکر محنت کی جائے روزانہ کچھ دیر کے لیے تیز چہل قدمی سے بھی صحت کو کافی حد تک بہتر بنایا جاسکتا ہے، مجموعی طور پر ہفتہ بھر میں کم از کم 150 منٹ کی سرگرمیاں اچھی صحت کے حصول میں مدد دیتی ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہوئے۔

بادام بھگو کر کھانا صحت کے لیے کس حد تک فائدہ مند؟

اگر بے وقت بھوک لگے تو چپس یا بسکٹ کی بجائے مٹھی بھر بادام کھالیں، یہ وہ مثالی گری ہے جسے دن بھر کھایا جاسکتا ہے، جس سے نہ صرف جسمانی توانائی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ متعدد طبی مسائل کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق بادام متعدد اجزا کے حصول کا قدرتی ذریعہ ہے جن میں پروٹین اور صحت بخش چربی قابل ذکر ہیں۔

بادام وٹامن ای، غذائی فائبر، میگنیشم، کاپر، زنک، آئرن، پوٹاشیم اور کیلشیئم سمیت 15 غذائی اجزا جسم کو فراہم کرتے ہیں۔

مگر آپ نے دیکھا ہوگا کہ اکثر افراد باداموں کو پانی میں بھگو کر کھانے کے عادی ہوتے ہیں، تو کیا یہ طریقہ کار اس میوے کو زیادہ صحت مند بنادیتا ہے؟

تو اس کا جواب ہے کہ بادام کو جیسے بھی کھایا جائے صحت کے لیے فائدہ مند ہے مگر پانی میں بھگو کر استعمال کرنا انہیں زیادہ صحت بخش بنادیتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بادام کو رات بھر پانی میں بھگو کر رکھنے سے اس سے کوٹنگ کی شکل جمع ہوجانے والا زہریلا مواد نکل جاتا ہے جبکہ گلیوٹین ڈی کمپوز ہوکر phytic ایسڈ کا اخراج ہوجاتا ہے جو اس گری کے فوائد بڑھاتا ہے۔

یہاں اس طریقہ کار کے فوائد درج ذیل ہیں۔

نظام ہاضمہ بہتر ہوتا ہے

باداموں کو بھگو کر کھانا غذا کے ہضم ہونے کے عمل کو زیادہ ہموار اور تیز کردیتا ہے، جب پانی میں بادام کو بھگویا جاتا ہے اس میں ایک مخصوص انزائے کی تہہ بن جاتی ہے جو اسے آسانی سے ہضم ہونے میں مدد دینے کے ساتھ مکمل غذائیت جسم کو فراہم کرتی ہے، اس کے علاوہ ایسے باداموں سے شحم چربی گھلانے والے انزائمے کے اخراج میں بھی مدد دیتے ہیں جو نظام ہاضمے میں بھی مدد دیتا ہے۔

دماغی افعال میں بہتری

سائنسدانوں نے ثابت کیا ہے کہ روزانہ 4 سے 6 بادام بھگو کر کھانا دماغی ٹونک کا کام کرتا ہے اور دماغی افعال کو بہتر کرتا ہے۔

یاداشت کے لیے بھی فائدہ مند

حافظے کو تیز کرنے کے لیے بہت زیادہ بادام کھانے کی ضرورت نہیں، بس 8 سے 10 باداموں کو رات کو پانی میں بھگو کر صبح کھانا ہی موثر ثابت ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پانی میں بھگو کر بادام کھانا غذائی اجزا کو جسم میں آسانی سے جذب ہونے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں موجود وٹامن بی سکس پروٹینز کے میٹابولزم میں مدد دیتا ہے، جس سے دماغی خلیات میں آنے والی خرابیوں کی مرمت میں مدد ملتی ہے۔

کولیسٹرول لیول کم کرے

پانی میں بادام کو بھگونے سے بلڈکولیسٹرول کی سطح میں کمی لانے میں بھی مدد دیتا ہے، اس گری میں موجود مونوسچورٹیڈ فیٹی ایسڈز دوران خون میں موجود نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح کم کرتا ہے، اس کے علاوہ بادام میں موجود وٹامن ای بھی کولیسٹرول لیول کے خلاف مزاحمت میں مدد دیتا ہے۔

دل کی صحت بہتر کرے

کولیسٹرول لیول کو کنٹرول میں رکھنے سے دل کی صحت میں بھی بہتری آتی ہے، اس میں موجود پروٹین، پوٹاشیم اور میگنیشم خون کی شریانوں کے نظام کو صحت مند رکھنے کے لیے ضروری ہیں، اس کے علاوہ بھی وٹامن ای ایسا اینٹی آکسائیڈنٹ وٹامن ہے جو امراض قلب کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

بلڈ پریشر کی سطح میں کمی

بادام میں سوڈیم کی مقدار بہت کم جبکہ پوٹاشیم کافی زیادہ ہوتا ہے جو بلڈ پریشر کو بڑھنے سے روکتا ہے، اس کے علاوہ میگنیشم اور فولک ایسڈ بھی اس خطرے کو کم کرنے والے اجزا ہیں۔

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہترین

باداموں کو بھگو کر کھانا ذیابیطس کو کنٹرول مین رکھنے میں مدد دینے والا قدرتی ٹوٹکا ہے، اس سے بلڈ شوگر لیول کنٹرول میں رہتا ہے جس سے اس مرض سے بچنا بھی ممکن ہوتا ہے۔

جسمانی وزن کم کرنے کے لیے معاون

اگر جسمانی وزن میں کمی کے خواہشمند ہیں تو بادام کو روزانہ کی غذا کا حصہ بنانے پر غور کریں، بادام کو بھگو کر کھانا جسمانی وزن میں کمی کے عمل کو تیز کرتا ہے، اس میں موجود مونوسچورٹیڈ فیٹ بے وقت بھوک کی خواہش پر قابو پانے میں مدد دیتے ہیں۔

قبض کا علاج

دائمی قبض کے شکار افراد بھی بادام کھانے کے اس طریقہ کار سے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں، جس کی وجہ اس گری میں فائبر کی موجودگی ہے جو آنتوں کے افعال کو ٹھیک کرکے قبض کو دور کرتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

کیا یہ 6 عادات آپ میں بھی ہیں؟ اگر ہاں تو آپ بہت ذہین ہیں

ایسا نظر آتا ہے کہ جدید سائنس ذہانت کے حوالے سے مخصوص اور روایتی رویوں کی نفی کرتے ہوئے ایسی عادات کے حامل افراد کو ذہین قرار دیتی ہے جن کا تصور کرنا مشکل ہوتا ہے۔

ویسے اس بات سے اختلاف نہیں کہ ذہین افراد اپنے دیگر ساتھیوں کے مقابلے میں کافی مختلف ہوتے ہیں مگر اتنا فرق بھی ہوتا ہے کیا؟

تو جانیں کہ جدید سائنسی رپورٹس میں کیسے رویوں کے حامل افراد کو ذہانت کا حامل قرار دیا گیا ہے جو اکثر افراد کو مضحکہ خیز یا ناقابل برداشت لگتے ہیں۔

لوگوں کے چبانے کی آواز سے جھنجھلاہٹ کا شکار ہونے والے

دنیا کی 20 فیصد آبادی ایک نفسیاتی عارضے misophonia یا مخصوص آوازوں کے معاملے حساسیت کا شکار ہے۔ امریکا کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اس طرح کے افراد زیادہ تخلیقی ذہن رکھنے والے ہوتے ہیں۔ تو اگر آپ بھی اپنے ارگرد لوگوں کے کھانا چبانے کی آواز سے پریشان ہوجاتے ہیں تو ہوسکتا کہ آپ ایک ذہین ترین فرد ہوں۔

غیرمنظم یا صفائی پسند نہ ہونا

امریکا کی مینیسوٹا یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے دوران دو گروپس کو لیا گیا، ایک گروپ کو صاف ستھرے ماحول جبکہ دوسرے کو بکھیرے ہوئے سامان کے ساتھ رکھا گیا۔ پھر ان دونوں گروپس کو ایک موضوع پر آئیڈیاز دینے کے لیے کہا گیا تو نتائج سے معلوم ہوا کہ بکھیرے ہوئے سامان والی جگہ پر رہنے والے گروپ کے خیالات زیادہ دلچسپ اور تخلیقی تھے۔ محققین کے مطابق بے ترتیبی لوگوں کو روایات سے دور رکھتی ہے اور ان کے لیے نت نئے خیالات کا اظہار کرنا آسان ہوجاتا ہے۔

رات گئے تک جاگنا

میڈرڈ یونیورسٹی کی ایک ہزار نوجوانوں پر کی جانے والی تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ رات گئے تک جاگنے والے افراد صبح جلد جاگنے والوں کے مقابلے میں آئی کیو لیول میں زیادہ آگے ہوتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ کافی زیادہ ذہین ہوتے ہیں۔ تو کیا آپ بھی رات گئے تک جاگنے کے عادی ہیں؟

اپنے آپ سے باتیں کرنا

ایک تحقیق کے مطابق اپنے آپ سے باتیں کرنا فائدہ مند ہوتا ہے اور اس سے کسی کو بحث میں قائل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ اپنے آپ سے باتیں کرتے ہیں ان کا دماغ زیادہ موثر طریقے سے کام کرتا ہے اور سیکھنے اور مقاصد کے حصول میں مدد دیتا ہے۔

کسی بھی چیز سے زیادہ آسانی سے توجہ ہٹ جانا

بیشتر افراد کہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی نے لوگوں کی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو چھین لیا ہے مگر ایک تحقیق میں اس برعکس روشنی ڈالی گئی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ شواہد سے عندیہ ملتا ہے کہ ٹیکنالوجی آپ کا دھیان بٹا سکتی ہے مگر درست ماحول اور درست تیکنیکس کی بدولت یہ چیز آپ کو ذہین ترین بناسکتی ہے۔ تحقیق کے بقول اس سے لوگوں کو ملٹی ٹاسکنگ اور ترجیحات طے کرنے میں مدد ملتی ہے جبکہ اس سے اطلاعات کا بہتر تجزیہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

خاکے بنانا

ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ خاکے بنانے سے لوگوں کو توجہ مرکوز کرنے، نئے تصورات ذہن میں لانے اور معلومات اکھٹا کرنے میں مدد ملتی ہے۔ تاہم محققین یہ بتانے سے قاصر رہے کہ خاکے بنانے سے ذہن تیز ہونے کی اصل وجہ کیا ہے۔

معدے کی جلن دورکرنے میں دودھ مفید قرار

پینسلوانیہ: سینےاور معدے کی جلن کم کرنے کے لیے ایک گھریلو ٹوٹکا دودھ بھی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مرغن اور مصالحے دار غذاؤں کی سوزش کم کرتا ہے۔ لیکن اب ماہرین نے اس  کےسائنسی ثبوت پیش کردیئے ہیں۔

چکنائی والا یا چکنائی کے بغیر دودھ دونوں ہی مرچ مصالحوں کی شدت کم کرتے ہیں۔ اگرچہ میٹھے مشروب بھی اس جلن کو کم کرسکتے ہیں لیکن سافٹ ڈرنکس اس میں کوئی کردار ادا نہیں کرتیں۔

پینسلوانیہ اسٹیٹ یونیورسٹی نے اس ضمن میں ایک چھوٹا سا مطالعہ کیا ہے جس میں 72 افراد پر سات مختلف اقسام کے مشروبات آزمائے گئے تھے۔ اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ چکنائی کے ساتھ اور چکنائی کے بغیر دودھ منہ اور معدے جلن دور کرنے میں سب سے بہترین ثابت ہوتے ہیں۔

مرچوں میں جلن پیدا کرنے والا ایک مرکب عام پایا جاتا ہے جسے کیپسیسن کہا جاتا ہے۔ یہ منہ اور معدے میں جلن پیدا کرتا ہے۔ دودھ میں موجود خاص پروٹین اس کی شدت اور جلن کو ماند کرتے ہیں۔

لیکن ماہرین نے کہا ہے کہ اس جلن کو بیئر اور شراب نوشی سے کم نہیں کیا جاسکتا اور اس سے جلن مزید بڑھ جاتی ہے۔ دوسری جانب سافٹ ڈرنک اور سوڈا بھی اس ضمن میں مفید نہیں ہوتے۔

ماہرین نے رضاکاروں کو پہلے کیپسیسن والا ایک مشروب دیا اور اس کے بعد شدت کم کرنے کے لیے پانی، کولا، چیری کے ذائقے والا کول ایڈ، کاربونیٹ پانی، بغیر الکحل والی بیئر، چکنائی والا اور اس کے بغیر دودھ پینے کو دیا۔

مرچ مصالحوں والی غذائیں کھانے کے بعد دودھ پینے سے منہ، سینے اور معدے کی جلن کم ہوجاتی ہے اور یہ عمل سالماتی سطح پر ہوتا ہے۔ تقریباً تمام اقسام کی مرچوں میں کیپسیسن پایا جاتا ہے اور دودھ اس کی شدت کم کرتا ہے۔

تولیدی صحت کے لیے تباہ کن غذا

جنک فوڈ جیسے پیزا، چپس، برگر اور ایسی ہی دیگر زیادہ چربی والی غذاﺅں کا شوق نوجوانوں میں بانجھ پن کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ہارورڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں 18 سے 20 سال کی عمر کے 3 ہزار کے قریب نوجوانوں میں ‘مغربی غذا’ یعنی جنک فوڈ کے استعمال سے تولیدی صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

تحقیق کے مطابق زیادہ چربی والی غذاﺅں کا استعمال جسم پر تکسیدی تناﺅ بڑھا دیتا ہے جس سے اسپرم کاﺅنٹ بری طرح متاثر ہوتا ہے اور یہ مستقل نقصان ثابت ہوسکتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ یہ حیران کن ہے کہ عام غذا نوجوانوں کی صحت پر کس حد تک اثر انداز ہوتی ہے اور مغربی جنک فوڈ کا شوق اسپرم کی مقدار کو بہت زیادہ کم کردیتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس طرح کی غذا سے خلیات کو نقصان پہنچتا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ صحت بخش غذا سے تولیدی صحت کو کسی حد تک بہتر بنایا جاسکتا ہے مگر ایسا ممکن نہیں بلکہ یہ نقصان ریورس نہیں ہوسکتا۔

خیال رہے کہ گزشتہ 15 برسوں کے دوران مردوں میں بانجھ پن کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج یورپین سوسائٹی آف ری پروڈکشن اینڈ ایمبرولوجی کانفرنس میں پیش کیے گئے۔

رواں ہفتے ہی نیدرلینڈ کی آراہوس یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ اگر مرد حضرات بچوں کے خواہشمند ہیں تو انہیں بستر پر رات ساڑھے 10 بجے تک لیٹ جانا چاہیے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو مرد جلد سونے کے لیے لیٹ جاتے ہیں، ان میں بانجھ پن کا خطرہ رات ساڑھے 11 بجے یا اس کے بعد سونے والے افراد کے مقابلے میں 4 گنا کم ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ نیند کی کمی جسمانی مدافعتی نظام کو زیادہ متحرک کردیتی ہے جو اسپرم کے معیار پر حملہ آور ہوجاتا ہے، جبکہ مردوں پر جسمانی اور نفسیاتی دباﺅ بھی بڑھ جاتا ہے، جس سے بھی شادی کے بعد بچوں کی پیدائش کے امکانات متاثر ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تحقیق کے نتائج موجودہ عہد کے حوالے سے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں جب متعدد افراد رات گئے تک ٹیلیویڑن یا اسمارٹ فونز میں مصروف رہتے ہیں۔

تمباکو نوشی خواتین میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھائے

ویسے تو تمباکو نوشی ایسی عادت ہے جو ہر عمر کے مردوں اور خواتین میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھا دیتی ہے مگر خواتین میں اس کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ناردرن جنرل ہاسپٹل کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 18 سے 49 سال کی خواتین میں اس لت سے دور رہنے والی خواتین کے مقابلے میں جان لیوا ہارٹ اٹیک کا خطرہ 13 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

طبی جریدے جرنل آف دی امریکن کالج آف کارڈیالوجی میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ نتائج سے خواتین میں تمباکو نوشی اور ہارٹ اٹیک کے درمیان تعلق پر روشنی ڈالی گئی ہے اور اس لت سے دور رہ کر درمیانی عمر میں اس جان لیوا مرض سے بچنا ممکن ہوسکتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ تمباکو نوشی کو چھوڑنے سے خواتین میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ اس لت سے دور رہنے والی خواتین جتنا ہی کم ہوجاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس خطرے میں اتنی کمی حیران کن ہے مگر یہ اچھی خبر بھی ہے کہ اس لت سے دوری اختیار کرنا دل کی صحت کے لیے کس حد تک فائدہ مند ہے۔

اس حوالے سے ڈیٹا کا جائزہ لینے پر محققین نے دریافت کیا کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین میں اس عادت کے نتیجے میں جان لیوا ہارٹ اٹیک کا خطرہ 6 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

50 سال سے کم عمر خواتین میں یہ امکان اس لت سے دور رہنے والی خواتین کے مقابلے میں 13 گنا زیادہ ہوتا ہے، جبکہ اس عمر کے تمباکو نوشی کے عادی مردوں میں یہ خطرہ 8 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے میں مددگار چائے

ذیابیطس دنیا میں تیزی سے عام ہوتا ہوا ایسا مرض ہے جسے خاموش قاتل کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ یہ ایک بیماری کئی امراض کا باعث بن سکتی ہے اور حیرت انگیز طور پر ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار 25 فیصد افراد کو اکثر اس کا شکار ہونے کا علم ہی نہیں ہوتا۔

مگر اچھی بات یہ ہے کہ آپ اس مرض سے خود کو بچانے کے لیے کچن میں موجود ایک عام چیز سے مدد لے سکتے ہیں۔

اور وہ چیز ہے میتھی دانہ ، جو لگ بھگ ہر گھر میں موجود ہوتا ہے۔

میتھی دانہ صحت کے لیے متعدد فوائد کا حامل ہوتا ہے اور اس سے تیار کردہ پانی بلڈ شوگر لیول کو مستحکم رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق میتھی دانے میں حل ہونے والے فائبر کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ خوراک ہضم ہونے اور کاربوہائیڈریٹس کے جذب ہونے کے عمل کو سست کرکے بلڈ شوگر لیول کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یہ دانے ذیابیطس ٹائپ ون اور ٹائپ ٹو کے شکار افراد میں بلڈگلوکوز لیول کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ گلوکوز کی برداشت کو بہتر بناتے ہیں، یعنی ان دانوں سے ذیابیطس کے مریض کافی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

ان دانوں کے استعمال کا ایک مخصوص طریقہ بلڈشوگر کو بڑحنے سے روکنے کے ساتھ ساتھ انسولین کی سرگرمی بہتر بناتا ہے۔

میتھی دانہ جسم کو شکر اس طریقے سے استعمال کرنے میں بھی مدد دیتا ہے جیسا اسے استعمال کرنا چاہئے۔

اس مقصد کے لیے میتھی دانے کی چائے مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

اس مقصد کے لیے ڈھائی گرام میتھی دانے کو مصالحے کوٹنے والے برتن میں ڈال کر کوٹ لیں اور پھر ایک کپ میں ڈال کر اسے 8 اونس گرم پانی سے بھرلیں۔

اس کے بعد چمچ سے اچھی طرح چائے کو ہلائیں اور کچھ ٹھنڈا ہونے کے بعد پی لیں۔

ایک اور طریقہ کار یہ ہے کہ ایک چائے کا چمچ میتھی دانے کا پاﺅڈر نیم گرم پانی میں ملائیں اور نہار منہ پی لیں۔

اس کے دیگر فوائد درج ذیل ہیں۔

جسمانی وزن کو کنٹرول کرنے میں مددگار

اس چائے کو نہار منہ پینا میٹابولزم کو تیز کرتا ہے جس سے اضافی جسمانی وزن میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔

قبض سے نجات

میتھی دانے کی چائے معدے کے مسائل کے حوالے سے بہت زیادہ موثر ہے جو تیزابیت کم کرتی ہے، جبکہ اس میں موجود فائبر آنتوں کے افعال کو بہتر کرکے قبض سے نجات دلانے میں مدد دیتا ہے، اسی طرح پیٹ پھولنے کے مسئلے پر قابو پانا بھی ممکن ہوجاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

معدے کی تیزابیت سے نجات دلانے میں مددگار غذائیں

تیزابیت یا ایسیڈیٹی نظام ہاضمہ کے چند بڑے مسائل میں سے ایک ہے، جو بظاہر تو ایک معمولی طبی مسئلہ لگتا ہے کہ مگر جس شخص کو اس کا سامنا ہوتا ہے، اس کے لیے یہ تجربہ انتہائی ناخوشگوار ثابت ہوتا ہے۔

معدے کے گیسٹرگ گلینڈز میں تیزابیت کی اضافی پیداوار اس مسئلے کا باعث بنتی ہے۔

اس کے نتیجے میں سینے میں جلن، معدے میں السر اور معدے میں ورم جیسی تکالیف کا سامنا ہوسکتا ہے۔

عام طور پر اس کی علامات سینے، معدے اور گلے میں جلن کا احساس، منہ کا تلخ ذائقہ، کھانے کے بعد بھاری پن، قے اور بدہضمی کی شکل میں سامنے آتی ہیں۔

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ معدے کی تیزابیت پر قابو پانے کے لیے استعمال کی جانے والی عام دوا سے گردوں کے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے سائنٹیفیک رپورٹس جرنل میں شائع ہوئے تھے اور محققین کے مطابق اس حوالے سے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

تاہم اچھی بات یہ ہے کہ چند مخصوص غذاﺅں کا استعمال معدے کی تیزابیت کے مسئلے پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے۔

ادرک

ادرک کے متعدد طبی فوائد ہیں، یہ ہاضمے کے لیے بہترین اور ورم کش ہوتی ہے۔ معدے کی تیزابیت کم کرنے کے لیے ایک ٹکڑا ادرک چبالیں یا کچھ مقدار میں ادرک ابلتے ہوئے پانی کے کپ میں ڈالیں اور پی لیں۔

جو

جو کا دلیہ اکثر افراد ناشتے میں کھانا پسند کرتے ہیں، یہ اناج جسم کو فائبر فراہم کرتا ہے جبکہ معدے میں تیزابیت کو جذب کرتا ہے جس سے سینے میں جلن پر قابو پانا ممکن ہوجاتا ہے۔

سونف

کچھ ماہرین کی رائے ہے کہ کھانے کے بعد کچھ مقدار میں سونف چبانا معدے میں تیزابیت کی روک تھام میں مدد دیتا ہے۔ سونف کی چائے غذائی نالی کو صحت مند رکھتی ہے جبکہ یہ مشروب بدہضمی اور پیٹ پھولنے کے خلاف بھی فائدہ مند ہے۔

گریاں اور بیج

اخروٹ اور السی کے بیج وغیرہ میں ایسی چکنائی ہوتی ہے جو معدے کی تیزابیت کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتی ہے۔

چربی سے پاک گوشت

چکن اور مچھلی کے گوشت میں عام طور پر چربی کم ہوتی ہے اور ان کے کھانے سے سینے میں جلن کی علامات میں کمی آتی ہے، تاہم زیادہ مرچ مصالحے کی بجائے چکن یا مچھلی کے ابلے ہوئے یا گرل والے گوشت کو ترجیح دیں۔

انڈوں کی سفیدی

انڈوں کی سفیدی بھی اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے ایک اچھا آپشن ہے، تاہم اکثر سینے میں جلن کا مسئلہ ہونے پر انڈے کی زردی سے گریز کرنا بہتر ہوتا ہے جس میں چکنائی زیادہ ہوتی ہے جس سے جلن کی شکایت بڑھنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

دہی

دہی میں موجود پروبائیوٹیکس غذائی نالی میں صحت کے لیے فائدہ مند بیکٹریا کی مقدار بڑھاتے ہیں جس سے مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے، دہی میں موجود پروٹین بھی کھانا ہضم کرنے مین مدد دیتے ہیں جس سے بھی معدے کی تیزابیت کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

کیلا

کیلے میں ایسے اجزاہوتے ہیں جو تیزایبت کو پھیلنے سے روکتے ہیں۔ یہ معدے کی تیزابیت سے نجات کے لیے انتہائی آسان ٹوٹکا ہے، یعنی روزانہ صرف ایک کیلا کھانا بھی تیزابیت سے ہونے والی تکلیف کی روک تھام کرتا ہے۔

ناریل کا پانی

جب ناریل کا پانی پیا جاتا ہے تو تیزابی سطح الکلائن میں بدل جاتی ہے، جبکہ ایسے جز کی مقدار بھی معدے میں بڑھتی ہے جو اسے اضافی تیزابیت کے نقصان دہ اثرات سے بچاتا ہے۔ یہ پانی چونکہ فائبر سے بھرپور ہوتا ہے اس لیے تیزابیت کو ابھرنے سے روکتا بھی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Google Analytics Alternative