صحت

ذیابیطس کو کنٹرول میں رکھنے میں مددگار بہترین مصالحہ

ذیابیطس دنیا میں تیزی سے عام ہوتا ہوا ایسا مرض ہے جسے خاموش قاتل کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ یہ ایک بیماری کئی امراض کا باعث بن سکتی ہے اور حیرت انگیز طور پر ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار 25 فیصد افراد کو اکثر اس کا شکار ہونے کا علم ہی نہیں ہوتا۔

عالمی ادارہ صحت کے تخمینے کے مطابق 2016 میں 16 لاکھ اموات ذیابیطس کے باعث ہوئیں اور وہ اس برس اموات کی 7 ویں بڑی وجہ بننے والا مرض تھا۔

2017 کے ایک سروے میں یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ پونے 4 کروڑ پاکستانی ذیابیطس کا شکار ہیں یعنی ہر چوتھا یا پانچواں پاکستانی اس موذی مرض میں مبتلا ہے۔

مگر اچھی بات یہ ہے کہ آپ اس مرض سے خود کو بچانے کے لیے کچن میں موجود ایک عام چیز سے مدد لے سکتے ہیں۔

اور وہ چیز ہے دارچینی، جو لگ بھگ ہر گھر میں موجود ہوتی ہے۔

مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا کہ دارچنی کا استعمال انسولین کی حساسیت بڑھا کر ذیابیطس ٹائپ ٹو کی پیچیدگیوں پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

اس مصالحے سے وہ خلیات متحرک ہوتے ہیں جو گلوکوز کو استعمال کرنے میں مدد دیتے ہیں جبکہ دارچینی کھانے سے جسم یں انسولین کے اخراج میں بھی مدد ملتی ہے جبکہ انسولین کی حساسیت بڑھتی ہے جس سے گلوکوز کو پراسیس کرنے میں مدد ملتی ہے۔

درج ذیل میں چند طریقے دیئے گئے ہیں جن کی مدد سے دارچینی کو غذا میں استعمال کرکے بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

پانی میں ملائیں

صبح نہار منہ سادہ پانی میں چٹکی بھر دارچینی کو شامل کرکے ابالیں اور پھر اس گرم پانی کو پی لیں، اس سے نہ صرف ذیابیطس کے مریضوں کو فائدہ ہوگا بلکہ یہ اضافی چربی گھلانے میں بھی مدد دے گا۔

چینی کا اچھا متبادل

دارچینی کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے تو اسے قدرتی سویٹنر کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ یہ چینی کا صحت بخش متبادل بھی بن سکتا ہے، یعنی میٹھی اشیا جیسے حلوہ یا کھیر وغیرہ میں کچھ مقدار میں دارچینی پاﺅڈر کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

چائے میں شامل کریں

چائے میں دارچینی کو ملانے سے اس گرم مشروب کا ذائقہ اچھا ہوجاتا ہے جبکہ صحت کو الگ فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

دلیے میں شامل کریں

اگر ناشتے میں دلیہ کھانے کے عادی ہیں تو کچھ مقدار میں دارچینی پاﺅڈر کو شامل کرلیں، جو ذائقہ بھی بہتر بنائے گا۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

پولیو کے خاتمے کی راہ میں خیبر پختونخوا بڑی رکاوٹ

اسلام آباد: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے انسداد پولیو کے تکنیکی ایڈوائزری گروپ (ٹی اے جی) کا کہنا ہے کہ پاکستان سے پولیو کے مکمل خاتمے کی کوششوں کی راہ میں خیبر پختونخوا بڑی رکاوٹ ہے۔

گروپ نے صوبے میں متوازی پولیو ڈھانچے سے پیدا ہونے والی صورتحال کو ‘بحران’ قرار دیا۔

ٹی اے جی کی سفارشات میں پاکستان میں پولیو کے بڑھتے کیسز کے پیچھے خیبر پختونخوا کو مرکزی وجہ قرار دیا گیا۔

اعلیٰ جائزہ گروپ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ‘خیبر پختونخوا کا ایمرجنسی آپریشنز سینٹر وفاقی سینٹر سے منسلک نہیں ہے جس کی وجہ سے صوبائی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کا کردار اور ذمہ داریاں غیر واضح ہیں۔’

ٹی اے جی نے خیبر پختونخوا میں پولیو پروگرام کو مکمل طور پر دوبارہ ترتیب دینے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ ‘صوبائی پولیو پروگرام ایک ہی وقت میں دو لیکن مختلف اسٹریٹیجک نقطہ نظر کے استعمال کی وجہ سے اپنے کردار اور ذمہ داریوں کی نشاندہی میں ناکام رہا ہے۔’

ملک میں رواں سال اب تک رپورٹ ہونے والے پولیو کے 58 کیسز میں سے خیبر پختونخوا میں 44 کیس سامنے آئے۔

ایڈوائزری گروپ نے تسلیم کیا کہ سابق قبائلی علاقوں (فاٹا) کا خیبر پختونخوا میں انضمام اور انگلی میں جعلی مارکِنگ پولیو کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ ہیں، تاہم اس کا کہنا تھا کہ صوبے کے پولیو پروگرام میں استعمال ہونے والی مواصلاتی اسٹریٹجی ‘اس مقصد کے لیے مناسب نہیں ہے۔’

واضح رہے کہ پولیو کے خاتمے کے لیے تکنیکی ایڈوائزری گروپ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ماہرین پر مشتمل ہے، جو پولیو کے خاتمے کے عالمی پروگرام کی جانب سے کام کرتے ہیں اور اس وائرس سے متاثرہ ممالک سے اس کے خاتمے کے لیے تجاویز اور سفارشات دیتے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے برعکس ‘ٹی اے جی’ نے بلوچستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کی تعریف کی۔

پنجاب سے متعلق ٹی اے جی نے کہا کہ اگرچہ چند ماہ قبل تک صوبے سے اچھی پیشرفت سامنے آئی تھی، رواں سال کے آغاز سے ان کوششوں میں گراوٹ دیکھی گئی جو تشویشناک بات ہے۔

‘سندھ میں خیبر پختونخوا سے پولیو وائرس آرہا ہے’

ٹی اے جی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ سندھ میں بڑے پیمانے پر خیبر پختونخوا سے پولیو وائرس آرہا ہے اور کے پی کے کی حکومت کو اس حوالے سے اپنے معاملات درست کرنے کی ضرورت ہے۔

گروپ نے سندھ حکومت کو پولیو مہم بہتر بناکر خیبر پختونخوا سے آنے والے وائرس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی تجویز دی۔

وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے پولیو بابر بن عطا نے رابطہ کرنے پر کہا کہ ‘ٹی اے جی’ کی سفارشات سے وفاقی حکومت کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

جلد کا جتنا خیال رکھتے ہیں اتنی توجہ بالوں کو بھی دیں

خواتین اور مرد دونوں ہی یہ چاہتے تو ضرور ہیں کہ ان کے بال صحت مند، چمکدار اور گھنے ہوں لیکن کبھی کبھار ان کا خیال اس طرح نہیں رکھنے جتنا اپنی باقی چیزوں کا رکھتے ہیں اور انہیں نظر انداز کردیتے ہیں۔

لیکن پھر وقت کے ساتھ ساتھ تیزی سے بال گرنے کی صورت میں شخصیت کی کشش کم ہوتی جاتی ہے اور پھر ہم اس مسئلے کا علاج ڈھونڈنا شروع کرتے ہیں کہ آخر بال اتنا گر کیوں رہے ہیں؟

اگر شروع سے ہی اپنی جلد کی طرح بالوں کا خیال بھی رکھا جائے تو یقیناً بڑھتی عمر کا اثر جلد پر تو نظر آئے گا البتہ بال اس ہی طرح گھنے اور چمکدار رہیں گے۔

بالوں کا گرنا اور ان میں سفیدی آنا دو بہت بڑے مسئلے ہیں جن کا شکار تقریباً سب ہی ہوتے ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ بالوں کی صحت اور غذائی عادات کے درمیان براہ راست تعلق موجود ہے، تازہ اور صحت مند غذا استعمال کرنے ست بالوں کا مزید بہتر خیال رکھا جاسکتا ہے۔

وٹامن بی 12 کی کمی کے لیے چکن

وٹامن بی 12 کی کمی نہ صرف قبل از وقت بالوں کی سفیدی کا باعث بنتی ہے بلکہ یہ دیگر طبی مسائل کا خطرہ بھی بڑھاتی ہے۔ انڈوں اور دودھ کے ساتھ ساتھ چکن بھی جسم میں بی 12 کی سطح بڑھانے میں مددگار غذا ہے۔

سبز سبزیوں کا استعمال

جتنا ہوسکے سبز سبزیوں کا استعمال کرنے کی عادت سفید بالوں کی روک تھام کرتی ہے کیونکہ یہ فولک ایسڈ، وٹامن بی 6 اور بی 12 کے حصول کا ایک آسان قدرتی ذریعہ ہے، سبز پتوں والی سبزیوں کو اپنی روزمرہ کی غذا میں خام شکل میں شامل کرنے کی کوشش کریں۔

سفید بالوں کی روک تھام کے لیے دالیں

امینو ایسڈز بالوں کی رنگت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دالوں کا استعمال جسم میں خون کے سرخ خلیات کی مقدار کو بڑھاتا ہے جبکہ وہ وٹامن بی 9 اور بی 12 کے حصول کا قدرتی ذریعہ بھی ثابت ہوتی ہیں۔

گاجریں کیروٹین بڑھائیں

گاجروں میں کیروٹین کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جسے گرتے بالوں کی روک تھام کے لیے بہترین تصور کیا جاتا ہے۔ روزانہ گاجر کا جوس پینا یا کھانے سے بالوں کا گھنا پن بڑھتا ہے اور ان کا گرنا بھی رک جاتا ہے۔

صحت مند بالوں کے لیے دہی

دہی پروٹینز سے بھرپور ہوتا ہے اور اینٹی آکسائیڈنٹ فراہم کرتا ہے جو بالوں کی صحت اور نشوونما میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ دہی صحت مند بالوں کے لیے ضروری ہے اور آپ کھوپڑی کی غذا بھی کہہ سکتے ہیں۔

مسلز بنانے کے لیے بہترین عمر کیا ہے؟

اگر آپ مسلز بنانا چاہتے ہیں مگر دہائیوں تک ورزش سے دور رہے ہیں تو اچھی خبر یہ ہے کہ کسی بھی عمر میں اس مقصد کو حاصل کرنا ممکن ہے۔

درحقیقت عمر کی 7 ویں یا 8 ویں دہائی میں ورزش کرنے سے بھی بہت زیادہ حاصل کیا جاسکتا ہے، چاہے ساری عمر بیٹھ کر ہی کیوں نہ گزاری ہو۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

برمنگھم یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ بڑھاپے میں بھی جم جاکر مسلز بنانا ممکن ہے۔

درحقیقت بڑھاپے میں بھی ایسے مسلز بنائے جاسکتے ہیں جو اس عمر کے بہت زیادہ تربیت یافتہ ایتھلیٹس کے ہوسکتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتاءجسے ثابت ہوتا ہے کہ زندگی میں فٹنس کے حصول میں کبھی بھی تاخیر نہیں ہوتی، یہاں تک کہ سیڑھیاں چڑھنا بھی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے فرنٹیئرز ان فزیولوجی جرنل میں شائع ہوئے، جس کے دوران بزرگ افراد کے 2 گروپس میں مسلز بنانے کی صلاحیت کا موازنہ کیا گیا۔

پہلے گروپ کو ماہر ایتھلیٹ قرار دیا گیا جن میں 70 اور 80 سال سے زائد عمر کے 7 افراد شامل تھے اور تاحال کھیلوں کی اعلیٰ سطح میں حصہ لیتے تھے۔

دوسرا گروپ اسی عمر کے 8 صحت مند افراد پر مشتمل تھا مگر انہوں نے کبھی ورزش کرنے کی زحمت نہیں کی تھی۔

ہر شخص کو مختلف ورزشیں کرنے کا کہا گیا جن میں وزن اٹھانے والی مشین ایکسرسائز مشین بھی شامل تھی۔

محققین نے ورزش سے 48 گھنٹے پہلے اور ورزش کے 48 گھنٹے بعد مسلز کے نمونے لیے اور دیکھا گیا کہ ورزش سے مسلز پر کس حد تک اثرات مرتب ہوئے۔

پھر دیکھا گیا کہ پروٹین کس طرح مسلز میں بن رہے ہیں۔

محققین کا خیال تھا کہ ماہر ایتھلیٹ کی مسلز بنانے کی صلاحیت زیادہ ہوگی کیونکہ وہ طویل عرصے سے جسمانی فٹنس کو برقرار رکھے ہوئے تھے۔

مگر نتائج سے معلوم ہوا کہ ورزش بنانے کے حوالے سے دونوں گروپس کی مسلز بنانے کی گنجائش یکساں ہے۔

محققین کے مطابق نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ زندگی بھر ورزش کرتے رہے ہو یا نہیں، مگر آپ کسی بھی عمر میں ورزش کرنا شروع کرکے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یقیناً طویل المعیاد بنیادوں پر ورزش اچھی صحت کے لیے زیادہ بہتر ہوتی ہے مگر درمیانی عمر یا بڑھاپے میں ورزش کرنا بھی عمر بڑھنے سے آنے والی مسلز کی کمزوری کی روک تھام میں مدد دے سکتا ہے۔

ان کے بقول چہل قدمی اور سیڑھیاں چڑحنا یا سودا سلف سے بھرا تھیلے اوپر نیچے کرنا بھی ورزش سمجھے جاسکتے ہیں اور فائدہ پہنچاتے ہیں۔

موٹاپے سے نجات دلانے میں مددگار مزیدار چائے

ایسی متعدد غذائیں ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ کرشماتی طور پر اضافی جسمانی وزن میں کمی لاسکتی ہیں ، ان میں سے کچھ ٹھیک ہوتی ہیں اور کچھ نہیں۔

بنیادی طور پر صحت بخش غذا اور جسمانی طور پر متحرک رہنا ایسا امتزاج ہے جو جسمانی وزن کو موثر طریقے سے کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

جسمانی وزن میں کمی لانے والی غذا کا استعمال اس حوالے سے ضروری ہوتا ہے۔

سبز چائے اور ہربل چائے وغیرہ اس حالے سے بہت زیادہ فائدہ مند ہوتی ہیں مگر ایک اور چائے بھی ہے جس سے آپ اضافی چربی کو گھلانے میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔

اور یہ ہے سیب اور ادرک سے بننے والی چائے، جو کہ توند کی چربی کو گھلانے کے لیے کرشماتی ثابت ہوسکتی ہے، جسمانی وزن میں کمی کے ساتھ ساتھ یہ چائے ذائقے میں بہترین ہوتی ہے۔

اس چائے کو دودھ کے بغیر تیار کیا جاتا ہے مگر اس میں موجود سیب اور ادرک اضافی جسمانی وزن کنٹرول کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

مثال کے طور پر سیب کیلوریز میں کم ہوتے ہیں مگر اس میں فائبر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، اسی وجی سے یہ جسمانی وزن میں کمی لانے کے لیے بہترین پھل ہے کیونکہ یہ بھوک کو کنٹرول کرتا ہے۔

سیب جسمانی مدافعتی نظام مضبوط کرتے ہیں، ہاضمہ بہتر اور جسم سے زہریلے مواد کے اخراج میں مدد دیتے ہیں۔

اسی طرح ادرک اینٹی آکسائیڈنٹس اور دیگر فائدہ مند اجزا سے بھرپور ہوتی ہے جو چربی گھلانے میں مدد دیتے ہیں جبکہ نظام ہاضمہ بھی بہتر ہوتا ہے۔

اس میں موجود مرکبات بلڈشوگر لیول کو کنٹرول کرتے ہیں، اس لیے یہ ذیابیطس کے شکار افراد کے لیے بھی بہترین ہے۔

یہ چائے جسم کو سکون بھی پہنچاتی ہے۔

اجزا

ایک سیب

ایک انچ کی ادرک

3 کپ پانی

ایک چائے کا چمچ شہد

بنانے کا طریقہ

سب سے پہلے سیب کو چھیل کر چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔

اس کے بعد ادرک کو چھیل لیں اور پھر کدوکش کرلیں۔

پھر پانی کو سیب اور ادرک کے ٹکڑوں کے ساتھ 10 سے 12 منٹ تک ابال لیں۔

اس کے بعد چولہا بند کرکے مکسچر کو چند منٹ کے لیے ٹھنڈا ہونے دیں۔

آخر میں اس مکسچر کو بلینڈر میں ڈال کر اچھی طرح بلینڈ کرلیں اور شہد کا اضافہ کرلیں، سیب۔ادرک چائے تیار۔

اس چائے کو گرم پینا بہتر ہوتا ہے اور زیادہ اچھا یہ ہے کہ نہار منہ یا خالی پیٹ پینا عادت بنائیں تاکہ زیادہ بہتر نتائج حاصل ہوسکیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

دانتوں کی تکلیف دہ فلنگ ماضی کا حصہ بننے کے قریب

دانتوں میں فلنگ کرانا ایک عام رجحان ہے جو کہ کافی مہنگا اور تکلیف دہ طریقہ علاج ثابت ہوتا ہے، تاہم یہ طریقہ علاج بہت جلد ماضی کا قصہ بن سکتا ہے کیونکہ سائنسدانوں نے دانتوں کی سطح کو کامیابی سے اگانے کا طریقہ دریافت کرلیا ہے۔

اگرچہ متعدد لیبارٹریوں میں دانتوں کی اوپری حفاظتی تہہ کو دوبارہ بنانے کی کوشش کی ہے، مگر اس کی پیچیدہ ساخت کے باعث ناکامی کا سامنا ہوا۔

دانتوں کی سطح انسانی جسم کا سخت ترین ٹشو ہوتا ہے مگر اسے نقصان پہنچ جائے تو اس کی مرمت ناممکن ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں کیوٹیز کا امنا ہوتا ہے اور اس سے نجات کے لیے دانت نکلوانا پڑتا ہے یا فلنگ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

فلنگز عام طور پر بیرونی میٹرول یل میٹل، پروسلین یا دیگر سے بنائی جاتی ہے تو وہ دانتوں کی سطح پر مستقل نہیں رہ پاتی اور اکثر ڈھیلی ہوجاتی ہے۔

مگر اب چین کی ژجیانگ یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین نے ایسا خصوصی جیل تیار کیا ہے جو دانتوں کی مرمت کو ممکن بنائے گا اور فلنگز کی ضرورت سے نجات دلا دے گا۔

محققین نے کیلشیئم اور فاسفورس سے ایک جیل تیار کیا ہے جو دانتوں کی حقیقی سطح کے بلاکس تیار کرتا ہے جس سے دانتوں کی مرمت میں مدد ملتی ہے۔

سائنسدانوں نے اس جیل کو ایسڈ سے متاثر اور مریضوں کے منہ سے نکالے جانے کے بعد آزما کر دیکھا۔

اس جیل کو لگا کر دانتوں کو ایسے سیال کے ڈبوں میں 48 گھنٹے کے لیے رکھ دیا گیا جو انسانی منہ جیسے ماحول کی نقل تھے۔

اس دورانیے کے دوران جیل نے نئی سطح کی نشوونما کو متحرک کیا اور مائیکرو اسکوپی سے دریافت کیا گیا ان میں عام سطح کی طرح کیلشیئم اور فاسفورس کرسٹل کی تہہ بن گئی۔

محققین کے مطابق ایسا عام دانتوں کی نشوونما میں ہوتا ہے، ان کی سطح پر ایسی تہہ ہوتی ہے جس میں کیلشیئم اور فاسفورس کے ذرات ہوتے ہیں، جیل کے استعمال سے اسی وجہ سے تہہ بننے کا عمل شروع ہوا۔

سطح پر یہ نئی کوٹنگ صرف 3 مائیکرو میٹر موٹی تھی جو کہ دانتوں کی صحت مند سطح سے 400 گنا پتلی تھی مگر محققین کا کہنا تھا کہ جیل کا بار بار استعمال اس مرمت شدہ تہہ کو مضبوط بنانے میں مدد دے گا۔

اب اس جیل کی آزمائش چوہوں پر کی جارہی ہے اور اس کے بعد توقع ہے کہ لوگوں پر اسے آزمایا جائے گا۔

سائنسدان اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اس جیل میں موجود کیمیکل محفوظ ہیں اور منہ کے اندر تہہ بنانے کا کام کرسکیں گے، چاہے اس دوران لوگ کھانا بھی کھائیں۔

انڈا ایسی غذا جو بانجھ پن کا خطرہ کم کردے

شادی کے بعد ہر جوڑے کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے ہاں جلد سے جلد اولاد کی پیدائش ہو لیکن ایسا نہ ہونے پر ان کے تعلق میں دوری بھی آسکتی ہے۔

گزرتے سالوں کے ساتھ بانجھ پن کا مرض بہت تیزی سے پھیل رہا ہے جس کی وجہ عام طور پر آلودگی، نیند کی کمی اور طرز زندگی کی چند دیگر عادات ہوتی ہیں۔

آج کل خواتین میں ‘PCOS’ نامی بیماری بھی تیزی سے پھیل رہی ہے، اس بیماری کے باعث خواتین کے ہاں بچے کی پیدائش میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ضروری نہیں کہ کوئی مرد یا خاتون بانجھ ہو درحقیقت ہارمونز کا نظام درست نہ ہونا بھی بچوں کی پیدائش میں تاخیر کا باعث بن جاتا ہے۔

ہارمونز کو متاثر کرنے والے کیمیکلز اور ذہنی تناﺅ ہمارے جسم پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔

تاہم طبی سائنس کا کہنا تھا کہ غذائی عادات بھی اس خطرے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں اور انڈا ان میں سب سے اہم مانا جاتا ہے۔

انڈوں میں کولائن نامی جز موجود ہوتا ہے جو بانجھ پن کے خطرے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

اس کے علاوہ بھی یہ مختلف وٹامنز اور منرلز کا مجموعہ ہوتے ہیں جو مختلف طبی فوائد کا باعث بنتے ہیں۔

انڈے کے علاوہ مچھلی، انار اور اخروٹ بھی ایسی غذاؤں میں شامل ہیں جو بانجھ پن کے خطرے کو کم کرسکتے ہیں۔

سوشل میڈیا سائٹس کا زیادہ استعمال کس حد تک نقصان دہ؟

سوشل میڈیا سائٹس جیسے انسٹاگرام، ٹوئٹر اور فیس بک کا استعمال معمول بنالینا صارف پر تناﺅ بڑھاتا ہے جس کے نتیجے میں ان کی لت کا خطرہ بڑھتا ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

برطانیہ کی لنکا شائر یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ سوشل میڈیا کا بہت زیادہ استعمال لوگوں پر ذہنی بوجھ بڑھاتا ہے جس کی وجہ بار بار چیٹ، نیوز فیڈ اسکرول اور میسجنگ پر سوئچ ہونا ہوتا ہے۔

وقت کے ساتھ یہ معمول لوگوں کے اندر منشیات کے عادی افراد جیسی لت بڑھاتا ہے۔

تحقیق کے دوران 444 فیس بک صارفین کی عادات کا جائزہ لیا گیا اور دیکھا گیا کہ اس سے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ فیس بک کے اندر صارفین مختلف سرگرمیوں کو بار بار سوئچ کرتے ہیں، جس سے ان میں تناﺅ یا دباﺅ بڑھتا ہے اور اسی تناﺅ کو کم کرنے کے لیے بھی لوگ ان سائٹس کا زیادہ استعمال کرنے لگتے ہیں، جس سے ان میں اضطراب اور شدت پسندانہ رویہ پیدا ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس کے نتیجے میں لوگوں کے اندر ایک لت پیدا ہونے لگتی ہے جو انہیں ان سائٹس پر زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے پر مجبور کرتی ہے۔

تحقیق کے مطابق صارفین کو اس سے بچنے کے لیے اپنے استعمال کے طریقہ کار کو بدلنا چاہیے بلکہ اس کا دورانیہ کم کرنا چاہیے۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے انفارمیشن سسٹمز جرنل میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل رواں سال کے شروع میں مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹٰ کی تحقیق میں جائزہ لیا گیا تھا کہ سوشل میڈیا کی لت کس حد تک انسانی رویوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ بہت زیادہ سوشل میڈیا سائٹس کا استعمال ایسے رویوں کو فروغ دیتا ہے جو کہ ہیروئین یا دیگر منشیات کے عادی افراد میں دیکھنے میں آتا ہے۔

اس تحقیق میں 71 رضاکاروں میں فیس بک کے استعمال کے اثرات دیکھے گئے اور ایک ٹیسٹ کا حصہ بنایا گیا جس سے پتا چلتا ہے کہ ان کی فیصلہ سازی کی صلاحیت کس حد تک متاثر ہوچکی ہے۔

محققین نے دریافت کیا کہ جن رضاکاروں نے تسلیم کیا کہ وہ فیس بک پر بہت زیادہ وقت گزارتے ہیں، انہوں نے دیگر ساتھیوں کے مقابلے میں ٹیسٹ میں انتہائی ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

اس طرح کے آئی جی ٹی ٹیسٹ کو دماغی انجری کے شکار افراد سے لے کر ہیروئین کے عادی لوگوں کے ساتھ کیا جاتا ہے مگر یہ پہلی بار ہے کہ اس سوشل میڈیا لت کو جانچنے کے لیے آزمایا گیا۔

ے 2017 میں امریکا کی ڈی پال یونیورسٹی کی تحقیق میں بھی بتایا گیا کہ سوشل میڈیا سائٹس جیسے فیس بک کا زیادہ استعمال دماغ کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔

تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ دماغ کے دو مختلف میکنزم اس عادت کے نتیجے میں متاثر ہوتے ہیں جن میں سے ایک خودکار اور ردعمل کا اظہار کرتا ہے جبکہ دوسرا رویوں کو کنٹرول اور دماغی افعال کو ریگولیٹ کرتا ہے۔

یہ دوسرا نظام لوگوں کو بہتر رویے کو اپنانے اور اضطراب پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے۔

اسی طرح امریکا کی کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں ثابت ہوا کہ جو لوگ کسی المناک واقعے سے متعلق جاننے کے لیے سوشل میڈیا سائٹس کو بہت زیادہ چیک کرتے ہیں، انہیں نفسیاتی مسائل کا سامنا دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ان ویب سائٹ پر غلط معلومات کا پھیلنا بہت آسان ہوتا ہے جس سے بھی کسی فرد کی ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے۔

دوسری جانب کوپن ہیگن یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ فیس بک اور ٹوئٹر پر بہت زیادہ وقت گزارنا ڈپریشن کا باعث بنتا ہے اور جذباتی کیفیات متاثر ہوسکتی ہیں۔

اس تحقیق کے دوران 1100 افراد کی آن لائن عادات اور ذہنی صحت کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔

Google Analytics Alternative