صحت

وٹامن ڈی کی کمی کا ایک اور بڑا نقصان سامنے آگیا

آپ کا جسم صحت کے بارے میں کافی معلومات فراہم کرتا رہتا ہے تاہم آپ کو درست وقت پر اسے سمجھنے اور جاننے کی ضرورت ہے۔

جس سے آپ جان سکتے ہیں کہ جسم کے اندر کیا چل رہا ہے اور اس کی ممکنہ وجہ کیا ہوسکتی ہے۔

اور وٹامن ڈی وہ اہم جز ہے جس کی کمی لوگوں کو کافی بھاری پڑسکتی ہے، کیونکہ یہ صرف ہڈیوں کو ہی کمزور نہیں کرتی بلکہ آپ کو ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کا بھی شکار کرسکتی ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔

یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ذیابیطس ٹائپ ٹو اور ہائی بلڈ پریشر پاکستان میں بہت زیادہ عام ہوچکے ہیں اور ہر گھر میں ہی کوئی نہ کوئی ان کا شکار ہوتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کے 84.2 فیصد جبکہ ہائی بلڈ پریشر کے 82.6 فیصد مریض وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہوتے ہیں اور اس وٹامن کی کمی ان امراض کا خطرہ 83 فیصد تک بڑھا دیتی ہے۔

تحقیق کے مطابق وٹامن ڈی جسم کے لیے انتہائی ضروری ہے اور اس کا ذیابیطس اور ہائی بلڈپریشر سے تعلق ہے۔

محققین کے مطابق ہم یہ نہیں کہتے کہ اس کی کمی ان امراض کا باعث ہے مگر نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ جن افراد میں ان امراض کی تشخیص ہوتی ہے، وہ وٹامن ڈی کی کمی کا بھی شکار ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب ہم دیکھیں گے کہ ان مریضوں میں وٹامن ڈی کی سطح میں بہتری سے ان کے امراض میں کس حد تک مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ویسے ان امراض کا شکار ہونے کے بعد وٹامن ڈی کی کمی پر قابو پانے کی بجائے ڈاکٹروں کی تجویز کردہ ادویات کا استعمال زیادہ ضروری ہے۔

مگر یہ ضروری ہے کہ جسم کو وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہونے سے بچایا جائے کیونکہ اس کی کمی جسمانی مدافعتی نظام کو کمزور کرکے عام انفیکشن اور وائرسز کے حملے کے بعد ٹھیک ہونے کے دورانیے کو بڑھا دیتی ہے۔

چڑچڑا پن، ڈپریشن، ہر وقت تھکاوٹ، کمر درد، جوڑوں کے مسائل، مسلز کی کمزوری، بال گرنے یا گنج پن، زخم بھرنے میں تاخیر، مردانہ کمزوری اور ایسے ہی متعدد مسائل وٹامن ڈی کی کمی کے باعث سامنے آسکتے ہیں۔

لمبی زندگی کا راز آپ کے اپنے اندر چھپا ہے

اگر آپ لمبی اور صحت مند زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو مایوسی کی جگہ امید کو اپنے اندر پیدا کرلیں۔

درحقیقت مثبت سوچ رکھنے والے افراد میں لمبی زندگی کا امکان زیادہ ہوتا ہے، جو 85 سال تک زندہ رہ سکتے ہیں۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ ذہنی تناﺅ کو زیادہ اچھے طریقے سے قابو کرلیتے ہیں، ان کی جسمانی صحت بھی زیادہ ہبتر ہوتی ہے۔

ایسے افراد زندگی کے مقصد کا تعین بھی کرلیتے ہیں اور اس کے حصول پر یقین رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے ان میں ورزش کرنے اور صحت بخش غذا کے استعمال کرنے کا رجحان بھی پایا جاتا ہے۔

امریکا کی بوسٹن یونیورسٹی کی اس تحقیق میں 30 سال تک 70 ہزار سے زائد مردوں اور خواتین کا جائزہ لیا گیا اور زندگی کے بارے میں ان کے خیالات جاننے کے لیے سوالنامے بھروائے گئے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ مثبت سوچ رکھنے والے افراد کی زندگی دیگر کے مقابلے میں 11 سے 15 فیصد طویل ہوسکتی ہے اور ان میں 85 ویں سالگرہ منانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

زیادہ مثبت سوچ رکھنے والی خواتین میں 85 ویں سالگرہ منانے کا امکان 50 فیصد زیادہ ہوتا ہے جبکہ مردوں میں یہ شرح 70 فیصد ہوتی ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ مختلف تحقیقی رپورٹس میں امراض کا خطرات بڑھانے والے عناصر کو دیکھا گیا ہے، مگر مثبت ذہنی عناصر پر توجہ نہیں دی جاتی کہ وہ صحت مند بڑھاپے پر کس حد تک اثرات مرتب کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پرامیدی ایسا نفسیاتی اثاثہ ہے جو انسانی زندگی کو طویل کرسکتا ہے۔

ان کے بقول تحقیق کے نتائج درمیانی عمر کے افراد کے لیے ایک پیغام ہے کہ وہ زیادہ پرامید ہونا سیکھیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف دی سائنسز میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل امریکا کی ہاوروڈ یونیورسٹی کی 80 سال سے جاری ایک طبی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ 6 چیزیں انسانی خوشی اور لمبی عمر پر اثرانداز ہوتی ہیں۔

تمباکو نوشی اور الکحل سے دوری

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ 50 سال کی عمر سے پہلے سیگریٹ نوشی اور الکحل کے استعمال کے عادی ہوتے ہیں ان کا بڑھاپا صحت مند نہیں ہوتا، ایسے افراد میں کسی بھی وجہ سے قبل از وقت موت کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

اچھی تعلیم

تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ حیران کن نہیں کہ جو لوگ زیادہ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں وہ عام طور پر بڑھاپے میں دیگر کے مقابلے میں زیادہ صحت مند بھی ہوتے ہیں، تحقیق کے مطابق کالج تک تعلیم حاصل کرنے والے افراد اپنی صحت کا خیال زیادہ رکھتے ہیں جس کی وجہ انہیں مختلف چیزوں کے نقصانات سے آگاہی ہونا ہے۔

خوش باش بچپن

تحقیق کے مطابق کسی بچے کے اچھے مستقبل کا انحصار والدین کے سماجی رتبے سے نہیں ہوتا بلکہ اس بات پر ہوتا ہے کہ ماں نے انہیں کتنی محبت فراہم کی۔ محققین نے بتایا کہ والدین کی محبت بچوں کی زندگی کو بہتر بناتی ہے اور انہیں نوجوانی میں مشکلات میں سامنا کرنے کی ہمت بھی دلاتی ہے۔

دوستوں اور رشتے داروں سے اچھا تعلق

تحقیق کے مطابق دوستوں اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنا زندگی میں خوشی کے سب سے بڑے ذرائع میں سے ایک ہے، رشتوں کی اہمیت ہمارے تصور سے بھی زیادہ ہوتی ہے سماج سے کٹا ہونے کا احساس آپ کو احمق بنانے کے ساتھ ہلاک بھی کرسکتا ہے، کیونکہ تہنائی امراض قلب، فالج اور ذیابیطس جیسے جان لیوا امراض کا سبب بن سکتی ہے، دوست ہماری زندگی کو بہتر بنانے کی کنجی ہوتے ہیں، ان کے ساتھ اچھی خبروں کا تبادلہ اور جوش تعلقات کو بہتر بناتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : [زندگی میں اصل خوشی کی کنجی][2]

مشکلات پر قابو پانے کی صلاحیت

محققین کا کہنا تھا کہ جو لوگ مشکلات میں گھبرا کر ہمت ہارنے یا سخت رویہ اپنانے کی بجائے زیادہ باشعور انداز فکر جیسے مزاح کو اپناتے ہیں، ان کے لیے زندگی میں آگے بڑھنا آسان ہوتا ہے اور وہ ڈپریشن جیسے مرض کے خطرے سے بھی بچتے ہیں۔

دوسروں کی مدد

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ اپنی زندگی بہتر کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنے ارگرد موجود افراد کی مدد پر توجہ مرکوز کریں، اچھی زندگی کی تعمیر کریں، اپنے آپ پر توجہ دیں اور پھر دوسروں کو بھی وہی سب کچھ فراہم کریں۔

اچھی یادداشت کے لیے پھل اور سبزیاں کھائیں

پھلوں، سبزیوں اور مچھلی پر مشتمل غذا کا زیادہ استعمال نہ صرف انسانی جسم کے لیے اچھا ہے بلکہ یہ دماغ کے افعال کو بھی بہتر کرتا ہے۔

جبکہ تازہ پھلوں اور سبزیوں کا زیادہ استعمال یادداشت کو تیز کرنے میں مفید ثابت ہوتا ہے۔

سبز سبزیوں، خشک میوہ جات، مچھلی، پھل اور زیتون کے تیل کا زیادہ جبکہ سرخ گوشت کا متعدل استعمال دماغ کو تنزلی کا شکار نہیں ہونے دیتا یا یوں کہہ لیں کہ بھولنے کا مرض لاحق نہیں ہوتا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ درمیانی عمر میں ہم جو خوراک استعمال کرتے ہیں وہ دماغی افعال پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

ماضی میں سامنے آنے والی متعدد تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آچکی ہے کہ غذا اور دماغی تنزلی کے درمیان تعلق موجود ہے۔

سبزیوں، پھلوں اور مچھلی وغیرہ سے بھرپور غذا دماغی افعال میں تنزلی کا خطرہ کم کردیتی ہے جبکہ یادداشت بھی بڑھاپے میں جوانی کی طرح تازہ دم رہتی ہے۔

صحت بخش غذا کے استعمال سے دماغی کمزوری کا خطرہ 24 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

صحت بخش غذا کو کم عمری سے ہی عادت بنالینا چاہیے جبکہ دیگر صحت بخش رویے بھی بڑھاپے میں دماغی امراض سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اس پھل کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟

آپ اس عجیب شکل کے پھل کو جنوب مشرقی اور جنوبی ایشیا میں دریافت کرسکتے ہیں اور اسے دنیا میں کسی درخت پر اگنے والا سب سے بڑا پھل قرار دیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ بنگلہ دیش کا قومی پھل بھی ہے اور یہ جسم کے لیے صحت مند فائبر کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔

اگر پھر بھی آپ کو علم نہیں تو جان لیں کہ اسے جیک فروٹ کہا جاتا ہے جسے پکا کر یا کچا، دونوں صورتوں میں کھایا جاتا ہے۔

مگر یہ بھی جان لیں کہ اس کا ذائقہ بہت زیادہ اچھا نہیں جو میٹھا تو ہے مگر اس پھل کی ساخت ایسی ہے کہ جب اسے پکایا جائے تو یہ گوشت جیسا محسوس ہوتا ہے اور یہ چند گوشت کے پکوانوں کا بہترین متبادل بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

درحقیقت بیشتر مقامات پر اسے گوشت کے متبادل کے طور پر کھایا بھی جاتا ہے اور طبی ماہرین کے مطابق یہ پھل ہر وہ ذائقہ جذب کرلیتا ہے جس کے ساتھ اسے بھگویا جائے تو اس کا ذائقہ بدلنا آپ کے اپنے ہاتھوں میں ہے۔

اس پھل میں غذائی اجزا بہت زیادہ ہوتے ہیں، جیسے پروٹین، کیلشیئم، میگنیشم، وٹامن اے اور پوٹاشیم وغیرہ۔

اس کے علاوہ یہ جسمانی توانائی بڑھانے کے ساتھ ساتھ غذائی فائبر بھی فراہم کرتا ہے، درحقیقت کچھ خطوں میں تو اسے مختلف امراض جیسے فشار خون، ذیابیطس، ہیضہ، ٹی بی، بخار اور جگر کی خراشوں وغیرہ کے علاج کے لیے بھی کھایا جاتا ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق یقیناً یہ پھل صحت کے لیے فائدہ مند ہے مگر اس میں ایسے امینو ایسڈز کی کمی ہوتی ہے جو گوشت میں پائے جاتے ہیں تو اسے مکمل طور پر گوشت کی جگہ بھی ٹھیک نہیں۔

کیا کافی پینے کا یہ بڑا فائدہ جانتے ہیں؟

دل کا دورہ دنیا بھر میں اموات کی بڑی طبی وجوہات میں سے ایک ہے تاہم اس جان لیوا مرض سے بچاﺅ کا نسخہ بہت آسان اور آپ کے ہاتھوں میں ہے اور وہ ہے گرما گرم کافی کا استعمال۔

دن بھر میں تین سے پانچ کپ کافی کا استعمال شریانوں میں خون کے جمنے کا خطرہ کم کردیتا ہے جو کہ دل کے دورے کا باعث بنتا ہے۔

معتدل مقدار میں کافی کا استعمال شریانوں کے اندر نقصان دہ کیلشیئم کا امکان کردیتا ہے جو کہ امراض قلب کا عندیہ ہوتا ہے۔

اس کیلشیم کی مقدار بڑھنے سے خون کی شریانیں سخت اور تنگ ہوجاتی ہیں اور لوتھڑے بننے لگتے ہیں جس سے دل کے دورے یا فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

پچیس ہزار مرد و خواتین پر ہونے والی تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ روزانہ دو کپ کافی کے استعمال سے اس کیلشیم کی مقدار بڑھنے کا خطرہ اوسطاً 13.4 فیصد تک کم ہوجاتا ہے جبکہ تین اور پانچ کپوں میں یہ اوسط مزید بڑھ جاتی ہے۔

کافی کا استعمال امراض قلب کے اثرات کو کم کردیتا ہے تاہم اس کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ دل کی شریانوں کے امراض پر اس کے بائیولوجیکل اثرات کا تعین کیا جاسکے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

یہ غذا کینسر سے بچانے میں مددگار

اگر زندگی میں کینسر جیسے جان لیوا مرض سے بچنا چاہتے ہیں تو پھلوں اور سبزیوں کا استعمال زیادہ جبکہ گوشت کھانا کم کردیں۔

زیادہ پروٹین والی سبزیوں اور پھلوں پر مشتمل غذا لمبی زندگی کے ساتھ بڑھاپے میں صحت مند رکھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔

یہ بات جاپان میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

جاپان سینٹر فار پبلک ہیلتھ سائنسز کی اس تحقیق میں 70 ہزار سے زائد افراد کی غذائی عادات کا جائزہ لگ بھگ 20 سال تک لیا گیا اور معلوم ہوا کہ نباتاتی پروٹین یعنی پھلوں اور سبزیوں کا زیادہ استعمال کینسر سمیت متعدد امراض سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

خیال رہے کہ دنیا بھر میں مغربی طرز پر پراسیس غذاﺅں خصوصاً پراسیس شدہ سرخ گوشت کا استعمال بڑھ چکا ہے جس کے نتیجے میں امراض قلب اور موٹاپے کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

جاپانی تحقیق میں بتایا گیا کہ سرخ گوشت کا استعمال کم کرکے پھلوں اور سبزیوں کا استعمال کسی بھی مرض سے موت کا خطرہ نمایاں حد تک کم کرسکتا ہے۔

پروٹین سے بھرپور غذاﺅں کا استعمال زیادہ کھانے کی خواہش پر قابو پانے میں مدد دیکر پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھتا ہے جس سے جسمانی وزن میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے۔

سرخ اور پراسیس گوشت میں ایسی چکنائی ہوتی ہے جو خون کی شریانوں میں جمع ہونے لگتی ہے جس سے شریانیں تنگ ہوجاتی ہیں جس سے دل اور خون کی شریانوں کے نظام پر تناﺅ بڑھ جاتا ہے۔

عام طور پر زیادہ پروٹین والی غذاﺅں کے لیے حیوانی پروٹین کو ترجیح دی جاتی ہے مگر جاپانی تھقیق میں بتایا گیا کہ طویل المعیاد بنیادوں پر یہ غذائیں دل کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں۔

جاپان میں نباتاتی پروٹین پر مبنی غذاﺅں کا استعمال زیادہ ہوتا ہے اور اس تحقیق میں اس کے اثرات کا طویل المعیاد بنیادوں پر جائزہ لیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ حیوانی پروٹین کا زیادہ استعمال مختلف امراض کا خطرہ بہت زیادہ تو نہیں بڑھاتا مگر پھلوں اور سبزیوں کو کھانے کی عادت کینسر سمیت دیگر امراض سے موت کا خطرہ کم کرتی ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ سرخ یا پراسیس شدہ گوشت کی جگہ پھلوں، سبزیوں، گریوں اور اجناس کو دینا کینسر بلکہ متعدد امراض سے لاحق ہونے والے موت کے خطرے کو کم کرتا ہے۔

اس غذا کے استعمال سے امراض قلب کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے جو دنیا بھر میں اموات کی چند بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مچھلی کے تیل فائدہ مند؟

دنیا بھر میں لاکھوں بلکہ کرڑوں افراد مچھلی کے تیل کے کیپسول کھاتے ہیں اور سمجھا جاتا ہے کہ دیگر فوائد کے ساتھ یہ کیپسول ذیابیطس ٹائپ جیسے مرض کا خطرہ بھی کرتے ہیں۔

تاہم اب ایک نئی تحقیق میںبتایا گیا کہ ان کیپسول پر اس مقصد کے لیے پیسے ضائع نہ کریں کیونکہ اس سے ذیابیطس کے مریضوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا یا اس مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ کم نہیں ہوتا۔

متعدد افراد مانتے ہیں کہ مچھلی کے تیل کے کیپسول میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سے ذیابیطس سے تحفظ یا اسے ریورس کرنا ممکن ہے۔

برٹش میڈیکل جرنل میں شائع تحقیق میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کے استعمال اور ذیابیطس پر اس کے اثرات کے حوالے سے ہونے والی 83 طبی تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ لوگ تصور کرتے ہیں کہ مچھلی کے تیل کے کیپسول کے استعمال سے ذیابیطس کا شکار ہونے کا امکان کم ہوتا ہے تاہم اس میں کوئی حقیقت نہیں۔

تحقیق کے مطابق درحقیقت ان کیپسول کو کھانے یا نہ کھانے والوں میں اس مرض کا خطرہ یکساں ہی ہوتا ہے۔

ان دونوں گروپس میں بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول کرنے والے گلیسٹیڈ ہیموگلوبن، انسولین لیول اور بلڈ گلوکوز کو بھی یکساں پایا گیا، یہ پیمانے عام طو رپر ذیابیطس کے خطرے کے تجزیے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

اس سے قبل نیویارک یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کے فوائد کے بیشتر شواہد مچھلی کے کیپسول کے سپلیمنٹس سے نہیں بلکہ خود مچھلی کھانے کے نتیجے میں سامنے آئے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ ماضی کی طبی رپورٹس ان سپلیمنٹس کے حوالے سے کوئی واضح آرا قائم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کے فوائد کے لیے مچھلی کے تیل کے کیپسول کھانے کی بجائے اس کے گوشت کا استعمال کرنا چاہئے۔

اسی طرح امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کی ایک اور تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ مچھلی کے تیل کے کیپسول کا استعمال کسی قسم کے طبی فوائد کا حامل نہیں۔

مگر کچھ طبی رپورٹس میں اسے فائدہ مند بھی قرار دیا گیا ہے۔

کھانوں میں استعمال ہونے والے مصالحے کتنے فائدہ مند؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ دیسی کھانوں میں استعمال ہونے والے متعدد مصالحے صحت کے لیے کتنے فائدے مند ہیں؟

حالیہ ریسرچز میں ان مصالحوں میں شامل دار چینی، میتھی، سونف، زیرہ اور ہلدی کو صحت کے لیے بہترین قرار دیا گیا۔

زیرہ

زیرے کو عام طور پر دالوں میں تڑکا لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ اس کا استعمال کھانوں میں دیگر طریقوں سے بھی ہوتا ہے، اس کے باقاعدہ استعمال سے دل کے کچھ عارضوں سے بچنے میں مدد ملتی ہے جبکہ یہ جگر کے لیے بھی مفید ہے، ایک چمچ زیرہ پانی میں ملاکر پینے سے سینے کی جلن، پیٹ کے درد اور ہاضمے میں مدد ملتی ہے۔

دارچینی

دارچینی بریانی، قیمہ، کابلی چنا اور دیگر کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے، اس خوشبو پیدا کرنے والی جڑی بوٹی میں مینگانیز اور الڈرہاڈ (کیمیکل کمپاؤنڈ) موجود ہوتا ہے جس سے ٹشو، ہڈیاں اور پٹھے نشو نما پاتے ہیں۔

دارچینی جوڑوں کے درد میں مبتلا افراد کو بھی تجویز کی جاتی ہے جبکہ یہ خون میں شوگر کو کنٹرول کرنے میں بھی مددگار ہے۔

میتھی

دالوں اور کڑی سمیت مختلف کھانوں میں میتھی کو استعمال کیا جاتا ہے، میتھی کے باقاعدگی سے استعمال سے کالسٹرول کم ہوتا ہے جبکہ جسم سے مضر صحت چربی کو گھلانے میں مدد ملتی ہے، اس کے استعمال سے ذیابطیس کے مریضوں میں شوگر لیول کم ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ مانا جاتا ہے کہ میتھی کو رات بھر پانی میں ڈال کر صبح اسے پینے سے وزن کم ہوتا ہے۔

سونف

پلاؤ اور دیگر کھانوں میں استعمال ہونے والی سونف میں بھی متعدد فائدے چھپے ہوئے ہیں، ذیابطیس کے مریضوں میں اس کے استعمال سے آنکھوں کی روشنی بچی رہتی ہے جبکہ یہ گلوکوما سے بھی بچاتی ہے، مانا جاتا ہے کہ سونف کی چائے سے ڈپریشن دور ہوتا ہے اور اس میں موجود پوٹاشیم ڈیمینشیا سے بھی بچاتا ہے۔

ہلدی

دالوں، مچھلی بنانے اور سلاد و سوپ بنانے میں استعمال ہونے والی ہلدی بھی صحت کے لیے مفید ہے، ہلدی میں ویٹامن سی بڑی تعداد میں موجود ہوتا ہے، ہلدی کا جوس دنیا بھر میں مقبول ہورہا ہے کیوں اس سے دل کے امراض سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

Google Analytics Alternative