صحت

تلوں کے تیل کے 6 حیران کن فوائد

تِل تو اکثر وبیشتر کھانے میں شامل کیے جاتے ہیں مگر کیا آپ نے اس کے تیل کو کبھی استعمال کیا؟ اگر نہیں تو آپ یقیناً اس کے حیرت انگیز فوائد سے بھی واقف نہیں ہوں گے۔

حالیہ طبی تحقیقی رپورٹس میں اس تیل کے طبی فوائد سامنے آئے ہیں جو کہ حیران کن ہیں کیونکہ یہ جلد اور بالوں کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ مختلف امراض سے بھی تحفظ دیتا ہے۔

تو یہاں اس کے فوائد کو جانیں۔

سگریٹ کے نقصان دہ اجزا کا اثر زائل کرے

فری ریڈیکلز ہمارے ڈی این اے، خلیات اور پروٹینز کو نقصان پہنچاتے ہیں جس کے نتیجے میں الزائمر، پارکنسن اور کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، کچھ چیزیں جیسے تمباکو نوشی، کیڑے مار ادویات، فضائی آلودگی اور جنک فوڈ ان فری ریڈیکلز سے بھرپور ہوتے ہیں، لہذا اس کے لیے ضروری ہے کہ ہماری غذا اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہو تاکہ فری ریڈیکلز کے نقصان سے بچ سکیں جبکہ جسم میں آکسائیڈیٹو اسٹریس بھی کم ہو، ایسے شواہد سامنے آئے ہیں کہ تلوں کے تیل کا استعمال اس حوالے سے فائدہ مند ہوتا ہے۔

دل کو صحت مند بنائے

اس وقت مارکیٹ میں اچھے، برے یا نقصان دہ فیٹس والی اشیاء دستیاب ہیں، تلوں کا تیل پولی اَن سیچوریٹڈ اور مونو سیچوریٹڈ فیٹس سے بھرپور ہوتا ہے جبکہ اس میں سیچوریٹڈ فیٹس کم ہوتے ہیں جو کہ اسے دل کے لیے صحت مند بنانے اور کولیسٹرول کی سطح کنٹرول میں رکھنے کے قابل بناتے ہیں۔

دانتوں کی صفائی کے لیے بہترین

طبی ماہرین کے مطابق تلوں کے تیل سے 10 منٹ تک کلیاں کرنا منہ میں بیکٹریا کی سطح کم کرکے دانتوں اور مسوڑوں کو صحت مند رکھتا ہے۔

جلد اور ہڈیوں کے لیے فائدہ مند

تل کے تیل کا ایک جز زنک ہے، جو کہ جسم میں کولیگن کی مقدار بڑھاتا ہے اور جلد کو لچکدار بنانے میں مدد دیتا ہے، اس طرح یہ ہڈیوں کی کثافت بڑھانے کے لیے بھی فائدہ مند جز ہے۔

قبض دور بھگائے

لوگوں کو کبھی نہ کبھی قبض کا سامنا ضرور ہوتا ہے، مناسب مقدار میں پانی پینا اور غذا میں فائبر کی موجودگی اس سے بچاﺅ میں مددگار ہوتی ہے، تاہم اگر کوئی چیز سمجھ نہ آرہی ہو تو تلوں کا تیل بھی فائدہ مند ہوتا ہے، صبح یا شام ایک سے دو چائے کے چمچ اس تیل کا استعمال آنتوں کو حرکت میں لاکر قبض کی شکایت کم کرتا ہے۔

بالوں کو چمکدار اور گھنا بنائے

بال روکھے، بے جان یا گرنے لگیں تو اکثر افراد مہنگی مصنوعات کا استعمال کرتے ہیں جن کے نتائج بھی مثبت نہیں ہوتے، لہذا ایسے افراد کے لیے تلوں کا تیل فائدہ مند ہے جس میں وٹامن بی اور ای، میگنیشیئم، کیلشیئم اور فاسفورس ہوتے ہیں جو بالوں اور سر کی جلد کے لیے ضروری اجزاء ہیں، اس کی معمولی سی مقدار سے سر پر مالش کریں اور 30 منٹ تک کے لیے چھوڑ دیں، اس کے بعد گرم پانی اور شیمپو سے بال دھو لیں۔

ایک عام عادت جو مختلف امراض کا خطرہ بڑھائے

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دفتر یا تعلیمی ادارے تک پہنچنے کی جلدی یا دوپہر اور رات کو وقت نہ ہونے پر ناشتہ ، دوپہر یا رات کی غذا چلتے پھرتے یا سفر کرتے ہوئے کھانا پڑتی ہے۔

لوگوں کو لگتا ہے کہ اس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا بلکہ ایک طرح کی ملٹی ٹاسکنگ ہے، جس سے وقت بھی بچتا ہے۔

مگر اس کو عادت بنالینا صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ متعدد طبی عوارض کا باعث بن سکتی ہے۔

یہاں آپ اس عادت سے صحت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کے بارے میں جان سکیں گے۔

پیٹ پھولنا

یہ ایسے افراد کے سب سے بڑا مسئلہ ہے جو سفر کے دوران کھانے کے عادی ہوتے ہیں، یعنی وقت بچانا ان کو پیٹ پھولنے کی تکلیف کا شکار کردیتا ہے اور ایسا کاثر ہوتا ہے۔ ماہرین طب کے مطابق غذا کو پرسکون جسم کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اسے مناسب طریقے سے ہضم کرسکے، ہمارا جسم خوراک کو توانائی کے حصول کے لیے استعمال کرتا ہے مگر جلدی بازی یا چلتے پھرتے میں کھانے کے نتیجے میں ایسا نہیں ہوپاتا کیونکہ معدے کو آرام نہیں ملتا۔

سینے میں جلن

معدے میں تیزابیت یا سینے میں جلن درحقیقت جسم کی جانب سے یہ اظہار کرنا ہوتا ہے کہ آپ نے کچھ غلط کیا ہے، اگر آپ سفر کے دوران کھاتے ہیں یا چلتے پھرتے، اس کے نتیجے میں نظام ہاضمہ میں موجود سیال متحرک ہوتا ہے جس کی وجہ جسم کی حرکت ہوتی ہے، اس کے نتیجے میں سینے میں جلن کا احساس ہونے لگتا ہے، یعنی جسم کو کھانے کے دوران آرام نہ دینا اس کی بڑی وجہ ہوتی ہے۔

ہضم نہ ہونا

اگر تو آپ نے ایسی جلد بازی میں کھایا ہے تو ہوسکتا ہے کہ ایسا احساس ہو کہ کھانے معدے میں ہی حرکت کررہا ہے، جس کی وجہ جسم کو اسے ہضم کرنے کے لیے مناسب وقت نہ مل پاناہے۔ اگر آپ تلے ہوئے یا مصالحے دار غذائیں کھانا پسند کرتے ہیں تو ایسا اکثر ہونے کا امکان ہوتا ہے۔

قے یا بدہضمی

قے ہونا یا بدہضمی اکث چلتے پھرتے دودھ پینے یا ملک شیک وغیرہ کے نتیجے میں شکار بنا سکتا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ دودھ ہمارے معدے کو ہضم کرنے کے لیے کافی ٹھوس ثابت ہوتا ہے اور اسے پرسکون ماحول میں ہی پینے کی ضرورت ہوتی ہے۔

مثانے کے مسائل

چائے اور کافی لوگوں کو کافی پسند ہوتے ہیں اور انہیں چلتے پھرتے بھی پی لیتے ہیں، تاہم اس کے نتیجے میں پیشاب زیادہ آنے لگتا ہے جبکہ مثانے کے دیگر مسائل کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

گیس

پیٹ میں گیس کافی تکلیف دہ ثابت ہوتی ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ چلتے پھرتے کیفین اور کاربونیٹ مشروبات کا استعمال ہوسکتا ہے۔

کنوارے لوگ شادی شدہ افراد سے زیادہ صحت مند و خوش؟

دنیا بھر میں کئی سالوں سے یہ بحث جاری ہے کہ شادی انسانی صحت پر اچھے اثرات مرتب کرتی ہے یا نہیں؟

اس بات پر بھی کئی سروے اور تحقیقاتی رپورٹس منظر عام پر آ چکی ہیں کہ شادی شدہ افراد کنوارے لوگوں کے مقابلے زیادہ لمبی عمر پاتے ہیں یا کم؟َ

حتیٰ کہ اس بات پر بھی سالوں سے بحث جاری ہے کہ زیادہ خوش زندگی کنوارے لوگ گزارتے ہیں یا شادی شدہ؟

ماضی میں سامنے آنے والی متعدد تحقیقات میں شادی شدہ افراد کو کنوارے لوگوں کے مقابلے زیادہ صحت مند، لمبی عمر پانے اور خوش زندگی گزارنے والے افراد کے طور پر پیش کیا گیا۔

تاہم ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بعض شادی شدہ افراد کے مقابلے کنوارے لوگ زیادہ صحت مند اور خوش زندگی گزارتے ہیں۔

سائنس جرنل سوشل سائنز کوارٹرلی میں شائع اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرین کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق بعض شادی شدہ افراد کنوارے لوگوں کے مقابلے انتہائی کم صحت مند اور غیر مطمئن زندگی گزارتے ہیں۔

تحقیق کے لیے ماہرین نے 1955 اور 1984 کے دوران شادی کرنے والے افراد کی زندگی، صحت اور خوشی کا موازنہ کیا۔

تحقیق کے لیے ماہرین نے افراد کو تین مختلف گروپس میں تقسیم کیا، پہلے گروپ میں وہ افراد شامل تھے، جن کی شادی 4 سے 5 سال تک چل سکی، دوسرے گروپ میں وہ افراد شامل تھے، جن کی شادی 7 سے 9 سال تک جاری رہی، جب کہ تیسرے گروپ میں وہ افراد شامل تھے، جن کی شادی 10 یا اس سے زائد سال تک جاری رہی۔

ماہرین نے شادی شدہ افراد کی شادی کے دورانیے، صحت، خوشی اور کمائی کے موازنے سمیت طلاق یافتہ افراد اور کنوارے لوگوں کی صحت، خوشی اور کمائی کا موازنہ بھی کیا۔

نتائج سے پتہ چلا کہ جن افراد کی شادی کامیاب رہی وہ لوگ سب سے زیادہ صحت مند، خوش اور امیر رہے، ان کی صحت، خوشی اور دولت کنوارے لوگوں سے بھی زیادہ تھی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ طلاق یافتہ افراد اور کنوارے لوگوں میں زیادہ فرق نہیں تھا، البتہ طلاق کی وجوہات اور ذہنی پریشانیوں کے باعث ہر گروپ کے طلاق یافتہ افراد کی زندگی مختلف تھی۔

نتائج کے مطابق وہ شادی شدہ افراد کنوارے لوگوں سے بھی بدتر زندگی گزارتے ہیں جن کی نہ تو طلاق ہوتی ہے، اور نہ ہی ان کی شادی کامیاب ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جن شادی شدہ افراد کی شادی ان کی زندگی کے لیے بوجھ بن جاتی ہے، اور ان کے تعلقات میں شکوک و شبہات، جھگڑے اور مسائل آجاتے ہیں، وہ لوگ کنوارے لوگوں کے مقابلے بیمار اور پریشان زندگی گزارتے ہیں۔

پیٹ درد ختم کرنے والے 5 گھریلو نسخے

اکثر لوگوں کو دیر سے کھانا کھانے یا مرچوں والی چیز کھانے اور ہاضمے کی کمزوری کی وجہ سے پیٹ کے درد کی شکایت رہتی ہے لیکن 5 نسخے ایسے ہیں جو آپ کو پیٹ درد سے فوری نجات دلا سکتے ہیں۔  

اللہ پاک نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اور انسانی جسم بھی قدرت ہی کا شاہکار ہے اگرچہ جسم کا کوئی حصہ تکلیف میں مبتلا ہوتو پورا جسم متاثر رہتا ہے اور پیٹ کی تکلیف انسان کو ہمیشہ بے چین رکھتی ہے۔

پیٹ درد کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں جن میں گیس، معدے کی سوجن، مرچوں والی خوراک شامل ہے اور اس درد سے نجات حاصل کرنے کے لیے لوگ ادویات کا استعمال کرتے ہیں لیکن ان 5 گھریلو نسخوں سے بھی پیٹ درد کو ختم کیا جاسکتا ہے۔

جلی ہوئی ڈبل روٹی

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ لوگ پیٹ درد میں ڈبل روٹی کا استعمال کرنا ہی بہترسمجھتے ہیں لیکن یہ بات بہت ہی کم لوگ جانتے ہوں گے کہ پیٹ درد میں جلی ہوئی ڈبل روٹی کھانے سے درد سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے کیوںکہ اس کا سیاہ حصہ اُن زہریلے اجزا کو جذب کرلیتا ہے جو کہ آپ کو کسی طرح متاثر کر سکتا ہے۔

سیب کا سرکہ

سیب کا سرکہ اکثر و بیشتر ہچکیوں اور گلے کے درد کے لئے بھی گھروں میں بطور نسخہ استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں موجود پوٹاشیئم اور وٹامن ڈی اور سی موجود ہوتے ہیں۔علاوہ ازیں یہ سرکہ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھی مالا مال ہوتا ہے اگر ایک گلاس نیم گرم پانی میں ایک چمچ سیب کا سرکہ اور ایک چمچ شہد شامل کر کے پیا جائے تو فوری پیٹ درد سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔

دہی

پیٹ درد کی ایک وجہ ہاضمے کا صحیح طریقے سے کام نہ کرنا بھی ہوتا ہے۔ خصوصاً ڈیری مصنوعات کھانے سے پیٹ درد کی شکایات ہوتی ہیں تاہم اگر پیٹ درد میں ایک کپ دہی کا استعمال کیا جائے جو  صحت کے لئے فائدے مند بھی ہے کیوںکہ دہی میں موجود بیکٹیریا جسم میں جراثیم سے لڑنے کی توانائی کو بڑھاتا ہے اور ہاضمے کو بہتر کرتا ہے۔

پودینے کی چائے یا پتے

تمام سبزیاں قدرتی خصوصیات سے مالا مال ہوتی ہیں تاہم پودینے سے بنی چائے میں بھی وہ قدرتی اجزا ہیں جس کو لوگ معدے میں تکلیف، سردرد، اعصابی تناؤ، ذہنی سکون، متلی یا کسی بھی قسم کے دوسرے جسمانی درد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ تاہم پیٹ درد میں ایک گلاس پودینے کی چائے یا اُس کے پتے کھالیے جائیں تو پیٹ درد سے آرام کے ساتھ  جسمانی سکون بھی ملتا ہے۔

اجوائن

اجوائن کا استعمال کھانوں میں کیا جاتا ہے کیوںکہ اجوائن اینٹی بیکٹیریل ہونے کی وجہ سے انسان کو جلد کے انفیکشن سے محفوط رکھتا ہے اور اس کے استعمال سے جسم کو وٹامن ‘ کے’ حاصل ہوتا ہے جو کہ ہڈیوں کی نشونما اور خون کو جمنے سے روکتا ہے۔ ایک چمچ اجوائن کو نمک یا چینے کے ایک گلاس نیم گرم پانی کے ساتھ کھایا جائے تویہ کچھ دیر میں ہی معدے کو سکون اور پیٹ درد کی بیماری سے نجات دلا سکتا ہے۔

بلڈ پریشر کنٹرول کرنے کے 7 گھریلو نسخے

بلڈ پریشر میں مبتلا افراد مہنگےعلاج کی وجہ سے ذہنی طور پر ہمیشہ پریشانی کا شکار رہتے ہیں تاہم ایسے افراد 

گھر بیٹھے اس مرض سے باآسانی نجات حاصل کر سکتے ہیں۔  آج کل کی تیز رفتار زندگی میں اکثر لوگ وقت کی کمی کے باعث کھانے پینے میں بے اعتدالی، ورزش کی کمی، اور ذہنی تناؤ کی وجہ بلڈ پریشر (بلند فشارِخون) کا شکار ہوجاتے ہیں اور پھر اس کو کنٹرول میں کرنے کے لیے مسلسل ادویات کا استعمال کرتے ہیں جس سے دیگر خطرناک امراض کا شکار ہوجانے کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔

ماہرین بلڈ پریشر کو قابو کرنے کے لیے گھریلو نسخے تجویز کرتے ہیں جو بلڈپریشر کو کنٹرول میں رکھتی ہیں جب کہ ان  7  گھریلو نسخوں سے بلڈ پریشر کے مرض سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔

کیلا

ہائی بلڈ پریشر کے مریض اگر روزنہ ایک یا دو کیلے کھائیں تو اس سے یہ مرض  قابو میں رہتا ہے کیوںکہ کیلا غذائی اجزاء اور پوٹیشیم سے بھرپور ہوتا ہے جو ہمارے جسم میں 10 فیصد سے زائد سوڈیم (نمکیات) کے اثر کو کم کرسکتا ہے اور گردوں کی حفاظت میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔

کالی مرچ

کالی مرچ میں اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی سیپٹک خصوصیات ہوتی ہیں جس کا روز مرہ زندگی میں استعمال خون کی شریانیں کھلتی ہیں جس سے خون کی روانی کو پورے جسم تک رسائی حاصل ہوتی ہے،  سب سے بڑھ کر یہ کہ  یہ  بلڈپریشر کی شرح کو قدرتی طور پر کم سطح پر لانے میں مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔

پیاز

روزانہ پیاز کا استعمال کرنے والے مریضوں کا بلڈ پریشر ادویات کا استعمال کرنے والوں کے مقابلے بہتر ہوتا ہے کیوںکہ پیاز اینٹی آکسیڈنٹ مادوں سے بھرپور ہوتی ہے جو ذیا بطیس اورکینسر جیسی بیماریوں سے لڑنے میں بھی انسانی جسم کو مدد فراہم کرتی ہے۔

شہد

شہد ایسی غذا ہے جو قدرتی طور پر میٹھا ہونے کے ساتھ ساتھ کئی بیماریوں کےعلاج کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور شہد میں موجود کاربوہائیڈریٹ دل کی طرف سے خون کے پریشر کوکم کرتا ہے۔ دو ہفتوں تک رات کو سونے سے پہلے ایک گلاس نیم گرم دودھ میں دو چمچ شہد ملا کر پینے سے بلڈ پریشر جیسے بیماری سے بچا جا سکتا ہے۔

میتھی دانے

میتھی سردیوں کی وہ سبزی ہے جس میں (Vitamin A,B,C)، آئرن، فاس فورس اور کیلشیم بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے۔ پاک وہند میں اس کو کھانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے نہ صرف پتے بلکہ بیج بھی علاج کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں کیونکہ میتھی کے دانوں میں بڑی مقدار میں موجود پوٹیشیم بلڈ پریشر کو بڑھنے سے روکتا ہے۔

لہسن

وہ خطرناک عوامل جو شریانوں کو سخت کرنے کا باعث بنتے ہیں ان کے علاج کے لئے لہسن بہت مفید ہے۔ ہائی بلڈ پریشر میں کچے لہسن کی ایک پھانک روزانہ کھانے سے بہت جلد بلڈ پریشر میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ لہسن ہائی کولیسٹرول اور ہائی بلڈپریشر کا علاج کرتا ہے اور شریانوں میں پلیٹلیٹس کو جمع ہونے سے روکتنے کے ساتھ  دل پر زیادہ خون کے پریشر سے بڑھنے والے اثرات سے بھی روکتا ہے جب کہ کھانے میں لہسن کا استعمال بھی دیگر بیماریوں سے حفاظت کرتا ہے۔

لیمو

لیمو جسم میں موجود شریانوں کو نہ صرف سخت ہونے سے بچاتا ہے بلکہ خون کی روانی کو بھی کم رکھتا ہے کیونکہ لیمو میں موجود وٹامن سی  فری ریڈیکلز کے نقصان دہ اثرات سے بچاتا ہے اورلیمو اینٹی آکسیڈینٹ ہونے کی وجہ سے خون کی شریانی کو نرم اور لچک دار بناتا ہے۔

پاکستان میں دل، پھیپھڑوں کا مرض ہرچار میں سےایک شخص کی موت کی وجہ

کراچی: پاکستان میں اموات کی سب سی بڑی وجہ دل اور پھیپھڑوں کے امراض بن رہی ہے، مرنے والے ہر چار میں سے ایک پاکستانی اسی عارضے میں مبتلا ہوتے ہیں۔

آغا خان یونیورسٹی (اے کے یو) میں ہونے والی 20ویں نیشنل ہیلتھ سائنسس ریسرچ سمپوزیم کی تین روزہ کانفرنس کا انقعاد کیا گیا جس میں بتایا گیا کہ دل اور اس کے خطرے کو کم کرنے کے لیے عوام میں شعور بیدار کرنے کے علاوہ عوام کی صحت کا نظام بھی مؤثر اور مضبوط بنانا ہوگا۔

کانفرنس میں دل اور پھیپھڑوں کے عارضے اور مسائل سے نمٹنے اور ان کی بحالی کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔

کانفرنس میں ماہرین نے دل اور پھیپھڑوں کے عارضے میں مبتلا افراد کے نئے طریقہ علاج اور زندگی بچانے والے طریقہ کار پر بحث کی جن کے ذریعے امراض کی فوری تشخیص اور علاج کے بہتر انتخاب کے عمل میں فائدہ پہنچا ہے۔

دل کے عارضے کے علاج میں ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے ماہرین کا کہنا تھا کہ کراچی اور اسلام آباد کے ہسپتالوں نے دل کے مرض سے نمٹنے کے لیے نیا طریقہ علاج اپنا لیا ہے جن میں ٹرانسکیتھیٹر اورٹک والو امپلیمنٹیشن (ٹاوی) اینڈو ویسکیلور اینیوریزم ریپیئر (ایوار) شامل ہیں، ان دونوں طریقہ علاج سے آرٹا کی مرمت کا عمل کیا جاتا ہے جو پہلے صرف ترقی یافتہ ممالک کے بڑے ہسپتالوں میں کیا جاتا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس طریقہ علاج سے امراض کے آخری اسٹیج کے مریضوں کے لیے بھی علاج ممکن ہوگیا ہے‘۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان دونوں طریقہ علاج نے مشکل ترین دل اور واسکیولر عارضے کے علاج میں ایک نئی راہ پیدا کردی ہے جبکہ پاکستان میں اس طریقہ علاج کے چند ماہرین بھی موجود ہیں۔

آغا خان یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر عثمان فہیم کا کہنا تھا کہ ہمیں اس طریقہ علاج کو بڑے پیمانے پر کم لاگت میں مریضوں تک پہنچانے کے چیلینج کا سامنا ہے۔

پھیپھڑوں کے مرض کے علاج میں ہونے والی جدت پر ماہرین کا کہنا تھا کہ ویڈیو اسسٹڈ تھوراسک سرجری اور برونکواسکوپی کی وجہ سے پھیپھڑوں کے امراض کے علاج میں واضح بہتری آئی ہے۔

ان دونوں طریقہ علاج میں سرجری کرنے والے ڈاکٹروں کو ٹیومر کی شناخت اور اس سے نمٹنے میں آسانی ہوتی ہے اور اس طریقہ علاج سے مریض کو درد بھی کم ہوتا ہے۔

کانفرنس میں دل کے عارضے میں مبتلا افراد پر اسٹیم سیل تھیراپی کے تجربات کے نتائج بھی پیش کیے گئے۔

آزمائشی مرحلے میں ہونے کے باوجود ماہرین کا ماننا ہے کہ اسٹیم سیل کو متاثرہ پھیپھڑے یا متاثرہ دل میں لگانے سے اعظاء کی بحالی سمیت، ان کے کام کرنے میں بھی دوبارہ بحالی دیکھی گئی۔

کانفرنس میں جدید ٹیکنالوجی اور تشخیص کے طریقہ کار تھری ڈی ایکو اور کارڈیک ایم آر آئیز پر بھی بات چیت کی اور بتایا کہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے انسانی اعضاء کی بہترین تصویر سامنے آجاتی ہے جس کے ذریعے سرجنز اور فزیشنز کو مرض سے نمٹنے کے لیے بہترین معلومات میسر ہوجاتی ہیں۔

تقریب کے مقاصد بتاتے ہوئے کانفرنس منتظم صولت فاطمی کا کہنا تھا کہ ’ہمارا مقصد جامعات کے درمیان باہمی تعلقات کے ساتھ بنائے گئے نئے منصوبوں کو سامنے لانا ہے تاکہ دنیا بھر میں ہوئی تحقیق سے پاکستانی مریض بھی مستفید ہو سکیں اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہم نے بین الاقوامی مقررین سے رجوع کیا تا کہ اس کانفرنس کا دیرپا اثر پڑ سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کانفرنس کا ایک اور مقصد ’گول 3‘ کی عالمی کوششوں کو حاصل کرنا اور نومولود بچوں میں کارڈیو ویسکیولر کے مرض سے اموات کی شرح کو 2030 تک کم کرنا ہے۔

آنکھیں سرخ کیوں ہوجاتی ہیں اور ان کا علاج کیا ہے؟

آنکھیں نہ صرف دنیا کو دیکھنے کے لیے آئینے کا کام سر انجام دیتی ہیں، بلکہ یہ انسانی جسم کا انتہائی نفیس عضو بھی ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی یا آلودگی کے باعث اگر کوئی انسانی عضو تیزی سے متاثر ہوتا ہے تو وہ بھی آنکھیں ہی ہیں۔

آنکھیں نہ صرف مٹی، آلودگی، ہوا میں نمی، گرمی اور سردی کی لہر میں متاثر ہوتی ہیں، بلکہ کبھی کبھار آنکھیں کسی موسمی تبدیلی کے بغیر بھی خراب ہوجاتی ہیں۔

آنکھیں جب خراب ہوتی ہیں تو وہ سرخ ہوجاتی ہیں، جب کہ ان میں سوزش کے ساتھ ساتھ سوجن بھی آجاتی ہے، جس کا زیادہ تر لوگ گھریلو ٹوٹکوں کے ذریعے علاج کرتے ہیں۔

اگرچہ گھریلو ٹوٹکوں سے آنکھیں ٹھیک بھی ہوجاتی ہیں، تاہم کبھی کبھی وہ زیادہ خراب بھی ہوجاتی ہیں، اس لیے امراض چشم کے ماہرین کہتے ہیں کہ اگر سرخ ہونے والی آنکھیں ایک دن کے اندر گھریلو ٹوٹکوں کے ذریعے ٹھیک نہ ہوں تو معالج سے مشورہ کرنا چاہیے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ آنکھیں سرخ کیوں ہوتی ہیں، اور ان کا جلد اور پہلا علاج کیا ہے؟

ماہرین امراض چشم کے مطابق کم سے کم 8 وجوہات کی وجہ سے آنکھیں سرخ ہوجاتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق آنکھوں کا اچانک سرخ ہوجانا، ان میں سوزش اور سوجن کا آجانا بظاہر کوئی بڑی بیماری نہیں، کیوں کہ آنکھیں زیادہ تر موسمیاتی خرابی کی وجہ سے خراب ہوجاتی ہیں۔

ماہرین امراض چشم کے مطابق اگر آنکھیں موسمیاتی و ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے خراب ہوجائیں تو کسی ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہوتی، ایسے وقت میں آنکھوں کو ٹھنڈے پانی سے دھونا چاہیے، اور میڈیکل پر دستیاب ٹھنڈے اور عام آئی ڈراپس استعمال کرنے چاہیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایک دن کے اندر ٹھنڈے پانی اور آئی ڈراپس سے کوئی فائدہ نہ پہنچے تو فوری طور پر دوسرے دن معالج کے پاس جانا چاہیے کیوں کہ ایسی صورتحال میں آنکھوں میں انفیکشن اور وائرس پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

ہیلتھ جرنل میں شائع مضمون کے مطابق آنکھیں درج ذیل 8 وجوہات کی وجہ سے سرخ ہوجاتی ہیں۔

الرجی

الرجی کے شکار لوگوں کی آنکھیں اور چہرہ سرخ ہوجاتا ہے، مگر زیادہ تر ان کی آنکھیں خراب ہوجاتی ہیں، ایسے افراد کو آنکھوں کو ٹھنڈے پانی سے دھونا چاہیے اور الرجی دینے والی چیزوں سے دور رہنا چاہیے۔

بیکٹریل وائرس

وائرس کا شکار ہونے والی آنکھیں سرخ نہیں بلکہ گلابی مائل ہوجاتی ہیں، اور ان میں سوزش ہوجاتی ہے، ایسے افراد کو بھی ٹھنڈے پانی یا میڈیکل پر دستیاب فرسٹ ایڈ آئی ڈراپس استعمال کرنے چاہیے، پہلے دن فرق نہ پڑنے پر فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں

سرخ دانے نکل آنا

—فوٹو: شٹر اسٹاک
—فوٹو: شٹر اسٹاک

بعض افراد کی آنکھوں کے پپوٹوں کے اندر سرخ دانے نکل آتے ہیں، جو بہت ہی سرخ ہوتے ہیں، جس وجہ سے آنکھوں میں بھی سوزش اور سوجن آجاتی ہے، ایسے افراد کو فوری پر معالج سے رابطہ کرنا چاہیے، کیوں کہ سرخ دانے کسی وائرس کی وجہ سے نکلتے ہیں۔

زیادہ منشیات کا استعمال

زیادہ منشیات استعمال کرنے والے افراد کی آنکھیں بھی سرخ ہوجاتی ہیں، ایسے افراد کو نہ صرف منشیات ترک کرنی چاہیے، بلکہ کئی گھنٹے تک مکمل آرام بھی کرنا چاہیے۔

نیند کی کمی

زیادہ کام، تھکاوٹ اور مسلسل نیند کی کمی کے باعث بھی آنکھیں سرخ ہوجاتی ہیں، ایسے افراد کو اپنا آرام مکمل کرنے سمیت آنکھوں کو ٹھنڈے پانی سے دھونا چاہیے۔

کانٹیکٹ لینس کی الرجی

بعض افراد کی آنکھیں تھکاوٹ، نیند کی کمی، منشیات کے استعمال اور الرجی کے باعث نہیں بلکہ کانٹیکٹ لینس کی الرجی سے بھی سرخ یا خراب ہوجاتی ہیں، ایسے افراد کو اپنے معالج اور ماہر امراض چشم سے مشورہ کرنا چاہیے۔

ہیموریج انجری

—فوٹو: وکی پیڈیا
—فوٹو: وکی پیڈیا

کچھ افراد کی آنکھوں میں موجود سفید حصے میں اچانک ہلکہ سرخ نشان یا داغ آجاتا ہے، جو آنکھوں کو لگنے والی معمولی چوٹ کا نتیجہ ہوتا ہے، اگرچہ اس سے کوئی درد یا بڑی بیماری نہیں ہوتی، مگر اس کے نمودار ہونے کے بعد ماہر امراض چشم سے رابطہ کیا جائے تو بہتر ہے۔

یہ سرخ داغ یا نشان چند ہفتے جاری رہنے کے بعد از خود ختم ہوجاتا ہے، لیکن کبھی کبھی کسی کے لیے یہ مسئلہ بھی بن جاتا ہے۔

گلوکوما – سبز موتیا

—فوٹو: شٹر اسٹاک
—فوٹو: شٹر اسٹاک

گلوکوما جسے سبز موتیا بھی کہا جاتا ہے، اس کے دوران آنکھیں نہ صرف سرخ ہوجاتی ہیں، بلکہ ان میں درد بھی ہوتا ہے۔

گلوکوما دراصل آنکھوں کی بیماری ہے، جس کے لیے ماہر امراض چشم سے فوری رابطہ کرنا چاہیے، اس بیماری کی علامات میں آنکھوں کا سرخ ہوجانا، ان میں درد رہنا، آنکھوں سے پانی کا بہنا اور سر میں درد ہونا بھی شامل ہے۔

اس خاتون نے 182 کلو وزن کیسے کم کیا؟

یقین کریں یا نہ کریں مگر تین سال پہلے 26 سالہ امریکی خاتون امبر راچڈی کا وزن 289 کلو گرام سے زائد تھا اور ان کی حالت بہت زیادہ خراب تھی بلکہ معذور کہنا زیادہ درست ہوگا۔

2014 میں یہ خاتون امریکا میں چلنے والے ایک ایسے رئیلٹی ٹی وی شو میں شریک ہوئیں جس میں ایسے افراد کو پیش کیا جاتا تھا جو کہ بہت زیادہ موٹاپے کا شکار ہوکر زندگی گزارتے ہیں، جس کے دوران انہیں روزمرہ میں کیا مشکلات پیش آتی ہیں اور کس جدوجہد کا سامنا ہوتا ہے۔

تو امبر اس شو میں 2014 میں شریک ہوئیں اور اس وقت ان کا وزن 289 کلوگرام سے زیادہ تھا اور ان کے لیے عام چیزیں جیسے چند قدم چلنا بھی لگ بھگ ناممکن ہوچکا تھا، وہ گاڑی میں فٹ نہیں ہوتی تھیں اور خود نہانے سے بھی قاصر تھیں، آسان الفاظ میں زندگی بستر تک محدود ہوکر رہ گئی تھی۔

شو کے دوران امبر نے کہا تھا کہ انہیں نہیں لگتا کہ اب وہ کبھی بہتر ہوسکیں گی مگر خود کو ٹی وی پر دیکھنے کے بعد انہوں نے موٹاپے سے جان چھڑانے کا فیصلہ کیا۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

اب تین سال بعد ان کی زندگی مکمل طور پر بدل چکی ہے اور اپنے وزن کو وہ 182 کلوگرام تک کم کرچکی ہیں، مگر انہوں نے ایسا کمال کیسے کر دکھایا؟

تو اس کے لیے انہوں نے اپنی غذائی عادات اور جسمانی سرگرمیوں میں تبدیلیوں کو اپنایا اور اپنے جسمانی وزن کو اتنا کم کرلیا کہ موٹاپے میں کمی لانے والی سرجری کراسکیں۔

ان کے بقول ‘ ایسی سرجری عارضی فائدے کے لیے اچھا ٹول ہے مگر یہ مستقل اثر نہیں رکھتی بلکہ موٹاپے کو خود سے دور رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان صحت بخش غذا اور جسمانی سرگرمیوں جیسی نئی عادات کو سیکھیں اور ان پر قائم رہے’۔

انہوں نے اپنی غذا کے حوالے سے جو تبدیلیاں کیں ان میں گھر کے پکے کھانے کو ترجیح دینا تھا جبکہ ورزش کو اپنا معمول بنا لینا تھا۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

اس مقصد کے لیے انہیں گھر والوں اور دوستوں کی مکمل معاونت بھی حاصل رہی اور امبر کے مطابق زندگی میں کبھی بھی اتنی تاخیر نہیں ہوتی کہ آپ خود کو صحت مند نہ بنا سکیں، وزن چاہے جتنا مرضی ہو، آپ عزم کرلیں تو اس سے نجات ممکن ہے، مگر اس کے لیے مثبت تبدیلیوں کو اپنا کر ان پر ڈٹے رہنا ضروری ہے۔

Google Analytics Alternative