صحت

خواتین کا وزن کم نہ ہونے کی وجوہات

اپنے بڑھتے ہوئے وزن سے فکر مند خواتین موٹاپے کو روکنے کے لیے لاکھوں جتن کرتی ہیں لیکن ورزش، یوگا اور بھوکا رہنے کے باوجود ان کا وزن کم نہیں ہوتا اور خواتین اس کی وجہ جاننے سے قاصر رہتی ہیں لیکن اب ماہرین اس کی پانچ بڑی وجوہ بیان کررہے ہیں۔
یو یو ڈائٹنگ
وزن کم کرنے اور دوبارہ بڑھنے کے مسلسل چکر کو یو یو ڈائٹنگ کہتے ہیں۔ خواتین اہم تقریبات اور مواقع کے لیے اپنا وزن کم کرتی ہیں لیکن اس کے بعد توجہ ختم کرنے سے دوبارہ وزن بڑھ جاتا ہے۔ اگرچہ یہ عمل خواتین میں مقبول ہے لیکن طویل وقت کے لیے وزن بڑھنے میں اس کا اہم کردارادا ہوتا ہے۔ خوراک اور موٹاپے کی ایک ماہر ڈاکٹر کے مطابق یو یو ڈائٹنگ خواتین کی عمر رسیدگی میں وزن بڑھنے کا خطرہ پیدا کرتی ہے اور جیسے ہی یو یو ڈائٹنگ ناکام ہوتی ہیں اور خواتین وزن بڑھنے سے دلبرداشتہ اور اداس ہوجاتی ہے تو باقی تمام کوششیں بھی چھوڑ دیتی ہیں جس کے باعث ان کا وزن مزید تیزی سے بڑھنے لگتا ہے۔
عدم توجہی سے خود کو آخری درجے پر رکھنا
شادی شدہ خواتین کے لیے گھریلو کام، بچوں کی نگہداشت اور شوہر کی خدمت زیادہ اہم ہوتی ہے اور اسی لیے وہ خود کو آخری درجے پر رکھتی ہیں جب کہ وہ اسی وجہ سے اپنی صحت کے لیے کسی خاص کھانے کا اہتمام نہیں کرپاتیں اور اس میں سب سے زیادہ نقصان اس وقت ہوتا ہے جب وہ صبح کا ناشتہ نہیں کھاتیں اور دن میں بے وقت کی بھوک دور کرنے کے لیے کچھ بھی کھا کر گزارا کرتی ہیں جس سے ان کا وزن بڑھنے لگتا ہے۔ ناشتہ چھوڑدینے سے دن بھر غیر صحت بخش کھانوں کا راستہ کھلتا ہے جو موٹاپے کی جانب لے جاتا ہے اسی لیے بہتر صحت کے لیے ناشتہ انتہائی اہم ہے۔
ایک دوسرے سے موازنہ کرنا
خواتین ایک دوسرے کو دیکھ کر وزن کم کرنے کا پروگرام شروع کرتی ہیں اور پورے عرصے میں اپنی سہیلی سے خود کا موازنہ کرتی رہتی ہیں اس دوران وہ نہیں سمجھ پاتیں کہ ہر شخص کی جسمانی ساخت اور نظام الگ الگ ہوتا ہے اور پھر ذہنی ونفسیات کیفیات کا بھی اس پر اثر پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ خواتین اپنے والدین سے بھی موازنہ کرتی ہیں جب کہ اس معاملے میں اگر بیوی اور شوہر دونوں ہی وزن کم کررہے ہوں تو مرد اپنی جسمانی کیفیات کی وجہ سے زیادہ تیزی سے وزن کم کرتے ہیں جس سے خواتین کچھ اداس ہوجاتی ہیں اور ان کی کوششوں میں کمی آجاتی ہے ۔ اسی لیے خود کو منفرد سمجھتے ہوئے وزن گھٹانے پر عمل کیا جائے اور دوسروں کی جانب نہ دیکھا جائے۔
صحت مند غذاں کا انبار
ٹیلی ویژن یا اخبار سے متاثر ہوکر یا کسی کے کہنے پر خواتین صحت بخش سبزیوں اور پھلوں کے ڈھیر لگادیتی ہیں اور ان کو ضرورت سے زیادہ کھاتی ہیں جب کہ وہ یہ بھول جاتی ہیں کہ کم چکنائی جسم کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے تاکہ وٹامن جسم میں جذب ہوسکے اور ان کے متبادل کے طور پر وہ کاربوہائڈریٹس سے بھرپور خوراک کھاتی ہیں جو بدن میں انسولین کے اتار چڑھا پیدا کرکے مزید چربی جمع کرنے کا کام کرتی ہیں۔ اس سے یہ حیرت انگیز بات سامنے آئی ہے کہ بظاہر وزن گھٹانے والی صحتمند غذاں سے بھی وزن بڑھتا ہے اور جسم کو نقصان پہنچنے کا خدشہ رہتا ہے۔
ورزش سے بیزاری
اگر وزن کم کرنا ہے تو آپ کو اپنے آرام دائرے (کمفرٹ زون ) سے باہر نکلنا ہوگا کیونکہ وزن کم کرنے کے لیے ورزش بہت ضروری ہے اوراس کے لیے یہ ضروری نہیں کہ کسی جم جایا جائے لیکن کوشش کیجئے کہ ورزش کے بعد بھوک لگنے پر اپنے ہاتھ اور معدے پر قابو رہے اوراگر ممکن ہو تو گروپ ورزش کیجئے اس سے ایک شخص دوسرے کو حوصلہ دیتا ہے اور ورزش جاری رہتی ہے۔ ورزش نہ کرنے سے موٹاپے کا عفریت دور نہیں کیا جاسکتا ۔

فالج کے خطرے کو کم کرنے کے آسان طریقے

فالج ایک ایسا مرض ہے جو صرف جسم کے کسی حصے کو مفلوج نہیں کرتا بلکہ موت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

فالج کا حملہ اس وقت ہوتا ہے جب دماغ کو خون پہنچانے والی کسی شریان میں خون اور آکسیجن بلاک ہوجائے (ischemic stroke) یا پھٹ جائے (برین ہیمرج)۔

یہ صرف بڑھاپے میں لوگوں کو شکار بناتا ہے تو ایسا بالکل نہیں درحقیقت فالج کسی بھی عمر کے فرد کو ہدف بنا سکتا ہے جس کی وجہ آج کا طرز زندگی ہے جو فشار خون کو بڑھا کر اس جان لیوا مرض کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔

فالج کی علامات میں شدید سردرد، سرچکرانا، بینائی میں تبدیلی یا دھندلاہٹ، بولنے میں مشکلات، جسم میں سننسی کی لہر دوڑنا وغیرہ شامل ہیں، تاہم چلتے چلتے اچانک گرجانا یا گردن میں درد بھی اس کی نشانہ ہوسکتے ہیں اور ان علامات میں سے کسی کی موجودگی کی صورت میں طبی ماہرین سے رجوع کرنا ضروری ہے چاہے وہ بعد میں عام بیماری ہی کیوں نہ ثابت ہو۔

تاہم اپنے طرز زندگی میں کچھ تبدیلیاں لاکر آپ فالج کے خطرے کو کافی حد تک کم کرسکتے ہیں جو درج ذیل ہیں۔

ٹماٹر کھانا

لائیکوپین نامی اینٹی آکسائیڈنٹ ٹماٹر کو سرخ رنگ دیتا ہے اور ایک حالیہ طبی تحقیق کے مطابق جن افراد کے خون میں لائیکوپین کی مقدار زیادہ ہو ان میں کسی بھی قسم کے فالج کا خطرہ 55 فیصد، ischemic stroke کا خطرہ 59 فیصد تک کم ہوتا ہے۔ اس اینٹی آکسائیڈنٹ کی زیادہ مقدار ٹماٹر میں ہی پائی جاتی ہے جبکہ تربوز اور امرود بھی اس کے حصول کے لیے بہترین قرار دیئے جاتے ہیں۔

پسینہ بہانا

ورزش کرنا بھی فالج کے خطرے کو کم کرنے کا ایک بہترین ذیعہ ہے۔ ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ متعدل سے سخت ورزش جیسے جاگنگ یا سائیکلنگ سے خاموش فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے جو یاداشت کے مسائل کا باعث بنتا ہے، اسی طرح ایک اور تحقیق میں یہ بات سامنے آ ¾ی تھی کہ صحت مند طرز زندگی جیسے تمباکو نوشی سے گریز، روزانہ ورزش، جسمانی وزن معمول پر رکھنا اور الکحل سے دوری فالج کا خطرہ 80 فیصد تک کم کرسکتا ہے۔

نمک کا کم استعمال

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن نے روزانہ آدھا چائے کا چمچ نمک استعمال کرنے کی سفارش کی ہے مگر بیشتر افراد اس سے کافی زیادہ مقدار میں نمک کا استعمال کرتے ہیں۔ نمک بلڈ پریشر کو بڑھاتا ہے جو فالج کا خطرہ بڑھانے والا اہم ترین عنصر ہے۔ جو لوگ بہت غذا میں نمک کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں ان میں فالج کا خطرہ دوگنا بڑھ جاتا ہے۔

روزانہ ایک سیب

ایک تحقیق کے مطابق جوگ سفید رنگ کے پھلوں اور سبزیوں کا روزانہ استعمال کرتے ہیں (171 گرام سے زیادہ) ان میں فالج کا خطرہ 52 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔ سیب اور ناشپاتی فائبر اور سوجن سے لڑنے والے اینٹی آکسائیڈنٹ ہلوطین سے بھرپور ہوتے ہیں جبکہ کیلے، گوبھی، کھیرے، لہسن اور پیاز وغیرہ بھی اس حوالے سے فائدہ مند ہیں۔

چاکلیٹ

چاکلیٹ میں موجود کوکا فلیونوئڈز اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے جو خون کی شریانوں کو ہونے والے نقصان سے لڑنے اور خون کے لوتھڑے بننے کی روک تھام کرتے ہیں جو فالج کا باعث بن سکتے ہیں۔ سوئیڈن میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ چاکلیٹ کھانے کے شوقین ہوتے ہیں ان میں فالج کا خطرہ 17 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ چاکلیٹ نہیں پسند تو سبز اور سیاہ چائے، بلیو بیریز، اسٹرابری اور لہسن بھی فلیونوئڈز سے بھرپور ہوتے ہیں۔

بلڈ پریشر

معمول کے بلڈ پریشر میں کمی پر نظر رکھنا بھی فالج کی روک تھام کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ بلڈ پریشر میں معمولی اضافہ یا کمی بھی فالج کے خطرے کو 55 فیصد سے 79 فیصد تک بڑھا سکتا ہے۔ بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے روزانہ ورزش، صحت بخش غذا، جسمانی وزن میں معمولی کمی، تمباکو نوشی سے گریز وغیرہ مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

ذہنی تشویش اور ڈپریشن سے بچنا

ڈپریشن ایسی چیز ہے جو فالج کے خطرے پر اثرانداز ہوتی ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ڈپریشن کے شکار افراد میں فالج کا خطرہ 45 فیصد اور اس کے نتیجے میں موت کا امکان 55 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ مایوسی کے شکار عام طور پر تمباکو نوشی زیادہ کرنے لگتے ہیں، ناقص غذا کا استعمال اور جسمانی سرگرمیوں سے دور اختیار کرلیتے ہیں اور یہ سب فالج کے خطرے کا باعث بننے والے عناصر ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق معمولی ذہنی پریشانی اور مایوسی بھی خون کی شریانوں سے متعلق امراض سے موت کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں۔

ادویات کا طبی ماہرین کے مشورے کے بغیر استعمال نہ کرنا

کچھ عام ادویات بھی فالج کا خطرہ بڑھانے کا باعث بنتی ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق امریکا میں جو لوگ بروفین کا اکثر استعمال کرتے ہیں ان میں فالج کا خطرہ بھی تین گنا بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جوڑوں کے درد میں کمی لانے والی کچھ ادویات بھی فالج کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔ اسی طرح جو خواتین تمباکو نوشی اور مانع حمل ادویات کا استعمال کرتی ہیں ان میں خون کی روانی میں رکاوٹ کا خطرہ پیدا ہوتا ہے جو فالج کا باعث بن سکتا ہے۔

دانتوں کا خیال

صحت مند دانت دل اور دماغ کو بھی صحت مند رکھتے ہیں۔ مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ دانتوں کے امراض اور خون کی شریانوں سے متعلق بیماریوں کے درمیان تعلق موجود ہے۔ طبی خیال ہے کہ خراب مسوڑے بیکٹریا کی تعداد بڑھنے کا باعث بنتے ہیں جو کہ دل کی شریانوں پر حملہ کرکے خون کی روانی کو روکنے کے لیے رکاوٹ پیدا کرسکتے ہیں۔ تو اپنے دانتوں کی صفائی اور خلال کا خیال رکھیں اور کسی مسئلے کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

تمباکو نوشی سے گریز

اگر آپ تمباکو نوشی کرتے ہیں تو سیگریٹ کو بجھا دیں کیونکہ یہ عادت فالج کی دونوں اقسام کا خطرہ 2 سے 4 گنا تک بڑھا دیتی ہے اور ہاں سیگریٹ نوشی کسی بھی عمر میں فالج کا بھی باعث بن سکتی ہے۔ درحقیقت تمباکو نوشی خون میں آکسیجن کی مقدار کم کردیتی ہے جس سے لوتھڑے بننے کا عمل آسان ہوجاتا ہے۔

مالٹا کھائیے تندرستی بڑھائیے

کینو‘فروٹر‘گریپ فروٹ‘سنگترہ‘مسمی‘لیموں اور مالٹوں کاخزانہ پاکستان کے گلی کوچوں‘ ریڑھیوں‘ٹھلیوں اور دکانوں پر جگمگا رہا ہے۔ سنہری رنگ کے یہ پھل فائدے اور صحت بخشی کے اعتبار سے وٹامن سی کاخزانہ ہیں۔

جب تک یہ دستیاب ہیں انہیں رغبت اور اہتمام سے کھائیے اور اپنی صحت وتندرستی میں اضافہ کیجئے۔وٹامن سی کاسب سے بہترین خزانہ مالٹے کی شکل میں موجود ہے۔ مالٹامزاج کے لحاظ سے سروتر ہے۔اس کارنگ پختہ حالے میں سرخی مائل زردہوتاہے۔اس کا ذائقہ قدرے شیریں اور ترش ہوتاہے۔اس کی مقدارخوراک دوسے چھ دانہ ہے۔یہ سٹرس فروٹ دیگرصحت بخش اجزاء کے علاوہ سب سے زیادہ وٹامن سی فراہم کرتے ہیں۔جسم میں اس کی کمی کئی قسم کی تکالیف کاسبب بن جاتی ہے۔
یوں تویہ وٹامن تقریباََتمام تازہ غذاؤں میں موجودہوتاہے۔لیکن ٹماٹر کارس‘گوبھی‘ہری مرچ اور کھٹے پھل‘ لیموں‘ سنگترے‘ کینو‘ مالٹے وغیرہ اس کے سب سے اہم ذرائع ہیں۔ وٹامن سی کی کمی کی وجہ سے مسوڑھے کمزورہوجاتے ہیں۔ ان سے خون رسنے لگتاہے اور زخم بن جاتے ہیں۔ان زخموں میں جراثیم کی وجہ سے پیپ پڑجاتی ہے۔یہی مرض پائیوریا کہلاتا ہے۔ پائیوریا کی وجہ سے مسوڑھے مسلسل کمزورہوجاتے ہیں یہاں تک کہ دانت اپنی جگہ چھوڑکر گرنے لگتے ہیں۔

مالٹامفرح اور خوش ذائقہ پھل ہے۔یہ ہاضم ہوتاہے مگراسے کھاتے وقت کالی مرچ اور نمک کا اضافہ کرنے سے اس کاذائقہ مزے دارہوجاتاہے۔

خون پیداکرتاہے اور بلڈپریشر میں مفیدہے۔ بدہضمی کودورکرتاہے جگرکی خرابی طحال اور تلی کے بڑھنے کی بیماری میں مالٹے کااستعمال انتہائی سودمند ہے نزلہ زکام اور کھانسی میں مالٹے کااستعمال نقصان دیتاہے۔

جگرکی گرمی کو دور کرتا ہے۔ یہ پیاس بجھاتا اور طبیعت کوصاف کرنے کے ساتھ ساتھ طاقت بخشتاہے۔سرخ مالٹافوائد کیااعتبار سے عام مالٹے سے زیادہ مفیدہوتے ہیں۔اس میں وٹامن کی وافرمقدارپائی جاتی ہے۔

خون کی حرارت کوکم کرتاہے۔ پھوڑے پھنسیوں میں مالٹے کارس بغیرنمک مرچ پینامفید ہوتاہے۔امراض بلغمی میں مالٹے کااستعمال نقصان دہ ہے۔مثلاََدمہ وغیرہ۔ یرقان اور بخار میں اس کااستعمال مفیدہوتاہے۔

یہ پھل پندرہ بیس روز تک پڑارہنے سے خراب نہیں ہوتاہے۔اس کا چھلکا چہرے کا رنگ نکھارنے میں مفیدہوتاہے۔

اس کا طریقہ یوں ہے کہ مالٹے کے چھلکے کے اندرونی سفیدحصے کوصاف کر کے رگڑ لیں اور تیل سرسوں ملاکر رات کے وقت چہرے پرلیپ کرکے سوجائیں صبح سویرے اٹھ کرکسی اچھے صابن سے منہ دھولیں۔ صرف چھ دن کے استعمال سے چہرے کے تمام داغ‘دھبے اور چھائیاں دور ہوجائیں گے۔
مالٹے کے چھلکے کے صرف زردی والے حصے کوہی اگررات سونے سے قبل چہرے پرمل لیاجائے اور یہ عمل کوئی پانچ منٹ تک جاری رہے تومذکورہ بالافائدہ چندہی روزکے استعمال سے ہوجاتاہے۔

اگر ہاتھو اور پاؤں کے تلوے جلتے ہوں یعنی ان سے گرمی نکلتی محسوس ہوتی ہوتوچھ عدد مالٹے رات کوچھیل کران پرنمک اور کالی مرچ لگاکراوس میں رکھیں اور صبح نہارمنہ کھانے سے یہ مرضج دور ہوجاتاہے۔

نومولود بچے ماں کے پیٹ سے اپنے جسم میں کافی وٹامن سی لے کراس دنیامیں آتے ہیں۔ماں کادودھ پینے کی صورت میں بھی انہیں درکارمقدارمل سکتی ہے‘بشرطیکہ خودماں کی غذامیں یہ وٹامن کی مزید مقداردرکارہوتی ہے۔

اس لیے انہیں مالٹے، کینو یا سنترے کاخالص رس پلاناچاہیے۔اس رس میں چینی وغیرہ شامل کرنامناسب نہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں جن سنہرے سٹرس فروٹ سے نوازاہے ان کے استعمال سے ہم اپنی صحت‘تندرستی میں اضافہ کرسکتے ہیں

موبائل کا زیادہ استعمال، ڈپریشن میں مبتلا

لندن: اگر آپ اپنے اسمارٹ فون پر زیادہ وقت صرف کرتے ہیں تو طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آپ ڈپریشن میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ جرنل آف میڈیکل انٹرنیٹ ریسرچ میں شائع رپورٹ کے مطابق امریکی طبی ماہرین نے اس پر تحقیق کی کہ اسمارٹ فون پر زیادہ وقت صرف کرنے سے فون استعمال کرنے والے کی صحت اور مزاج کے متعلق کیا معلوم ہوسکتا ہے۔ یہ جاننے کے لیے ماہرین نے 19 سے 58 سال کی عمر کے 28 افراد کا انتخاب کیا اور ان کے اسمارٹ فون میں مقام کی نشاندہی اور فون کے استعمال کی نگرانی کرنے والے سافٹ ویئر ڈال دیے۔ ساتھ ساتھ ماہرین نے ایک سوال نامہ بھی مرتب کیا جس سے ڈپریشن کی علامات کو جانچا جاسکتا تھا۔ دو ہفتے تک اسمارٹ فون کی نگرانی کے دوران پچاس فی صد افراد میں ڈپریشن کی علامات پائی گئیں۔ ان افراد نے زیادہ وقت اپنے گھروں میں بسر کیا اور زیادہ تر اپنا فون گھروں میں ہی استعمال کیا۔ تجربے سے یہ بات سامنے آئی کہ اسمارٹ فون 87 فی صد درستگی کے ساتھ یہ بتاسکتا ہے کہ فون استعمال کرنے والے میں ڈپریشن کی علامات ہیں یا نہیں۔

کیلشیم کی مقدار بڑھانے والی غذائیں

کیلشیم کی کمی سے سب سے پہلے جسم میں ہڈیاں اور دانت متاثر ہوتے ہیں ‘ ہڈیوں کاچٹخنا‘ ہڈیوں وجوڑوں میں درد ہاتھوں پیروں کامڑجانا یہ سب کیلشیم کی کمی کی علامات ہیں آج کل جدید طرززندگی اور کیلوریز سے بھر پور غذاؤں (چاکلیٹ‘ کیک‘ کولڈڈرنک‘ جنک فوڈز) کے باعث کیلشیم کی کمی ایک عام مسئلہ بنتی جارہی ہے۔ آج کل صرف بزرگ‘ ادھیڑ عمر افراد ہی نہیں نوجوان اور بچے بھی کیلشیم کی کمی کی پریشانی سے دوچار ہورہے ہیں۔ ڈاکٹر زحضرات جسم میں کیلشیم کی کمی کی نشاندہی کرنے کے بعد کیلشیم کی کمی کوپورا کرنے کے لیے ادویہ تجویز کرتے ہیں جوکچھ حدتک ہمارے جسم کو توانائی فراہم کرنے میں مدد کرتی ہیں لیکن ان کا زیادہ استعمال گردوں پر اثرانداز ہوسکتاہے۔ قدرتی طریقے سے حاصل کردہ کیلشیم صحت کے لیے زیادہ مفید اور فائدہ مند ثابت ہوتاہے۔ کیلشیم کی مناسب مقدار جسم کو فراہم کرنے کے لیے کون سی غذائیں کار آمدہیں اور کن قدرتی غذائی اشیاء میں کیلشیم کی مقدار بھرپور ہوتی ہے۔ آئیے جانتے ہیں۔
پتے دار سبزیاں نہایت فائدہ مند 
سبزیاں وپھل ہماری صحت وتندرستی کے ضامن ہوتے ہیں لیکن کیلشیم کمی کودور کرنے کے لیے پتے دار سبزیاں انتہائی مفید ہوتی ہیں مثلاََگوبھی‘ مشروم‘ ساگ‘ بروکلی وغیرہ۔ آپ ان سبزیوں کوباقاعدگی سے اپنے ڈائیٹ پلان میں شامل کرلیں یہ مقررہ کردہ DVکو پورا کرنے میں معاونت فراہم کرتی ہیں۔

ڈیری اشیاء
دودھ کیلشیم کی کمی کوپورا کرنے کے لیے نہایت بہترین ٹانک ہے۔ اس میں کیلشیم بڑی مقدار میں پایاجاتا ہے۔ دودھ میں موجود کیلشیم کی خصوصیت ہڈیوں ‘ جوڑوں ‘ پٹھوں کومضبوط کرنے میں نہایت کلیدی کردار ادا کرتی ہے، اس کے علاوہ ڈیری اشیاء جیسے پنیردہی‘ مکھن‘ وغیرہ بھی جسم کومناسب مقدار میں کیلشیم فراہم کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ بوڑھے‘ بچے‘ جوان ان غذاؤں کوکثرت سے استعمال کرکے صحت مند اور چاک وچوبندزندگی گزار سکتے ہیں۔

پھلیاں 
پھلیاں انسانی جسم کوکیلشیم کی بھرپور رسدفراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ سیم کی پھلی‘ مٹر‘ گوار کی پھلی‘ فرنیچ بینس‘ لوبیہ کی پھلی وغیرہ میں کیلشیم کے ساتھ پروٹین بھی وافرمقدار میں پایا جاتا ہے۔ لہٰذا خواتین پھلیوں پر مشتمل غذائی روٹین کوزیادہ ترجیح دیں۔

بھنڈی کے استعمال کے حیرت انگیز فوائد

بھنڈی کسی بھی طریقے سے پکا کر کھائیں، یہ صحت کے لیے مفید ہے۔ بھنڈی کواُبالا جاتا ہے۔ دم پخت (بھاپ میں پکانا) کیاجاتا ہے۔ شوربا بنایا اور سلاد میں بھی ڈالا جاتاہے۔
بھنڈی کی صحت بخشی 
ماہرین کہتے ہیں کہ پیدایشی عمل کے دوران خواتین کوبھنڈی ضرور کھانی چاہیے، اس لیے کہ اس میں فولیٹ ہوتا ہے۔ فولیٹ سے زچگی کے دوران پیدا ہونے والی پیچیدگیاں دور ہوجاتی ہیں۔ اس کے علاوہ فولیٹ سے خون میں سرخ ذرات کی کمی دور ہوجاتی ہے اور نومولود کامرکزی اعصابی نظام درست رہتا ہے۔
حیاتین 
بھنڈی میں چوں کہ حیاتین ج (وٹامن سی) شامل ہوتی ہے، اس لیے حمل کے دوران بھنڈی کھانے سے ماں اور بچے کو تعدیہ (Infection) نہیں ہوتا۔ اگر حمل کے دوران آپ کا بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے تو آپ کو پابندی سے بھنڈی کھانے چاہیے۔ یہ حمل کے دوران پیدا ہونے والی دل کی بیماریوں کوبھی گھتا دیتی ہے۔
مانع قبض
بھنڈی میں ریشہ (Fiber) بہت ہوتا ہے، لہٰذا اسے پابندی سے کھایا جائے تو قبض نہیں ہوتا۔ یہ بیماری کے دوران حمل خواتین کودرپیش ہوتی ہے۔ ریشے سے جسم میں موجود گلوکوس آسانی سے ہضم ہوجاتا ہے، لہٰذا بھنڈی کھانے سے حمل کے دوران ذیابیطس ہونے کے امکانات کم رہ جاتے ہیں۔
لحمیات
بھنڈی کھانے سے جسم میں موجود کولا جن (Collagen) کی مقدار میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ کولا جن نسیجوں یا پٹھوں میں ہوتاہے۔ حمل کی وجہ سے جلد پر جونشانات پڑ جاتے ہیں، انھیں دور کردیتا ہے۔ دوران حمل جلد پر اگر داغ دھبے پڑ جائیں تو چند بھنڈیاں کاٹ کر انھیں دس منٹ تک پانی میں اُبالیں۔ پھر چمچے سے دباؤ ڈال کرانھیں مسل لیں اور لگدی بنالیں۔ جب لگدی ٹھنڈی ہو جائے تو اسے داغ دھبوں پر لگائیں۔ داغ دھبے دور ہوجائیں گے۔
بھنڈی میں چوں کہ حیاتین الف ( وٹامن اے) ہوتی ہے، چنانچہ یہ بینامیں اضافہ کرتی ہے۔ موتیا بند کو قریب نہیں آنے دیتی ہے۔ چہرے پر پڑنے والی جھریوں کو ممکنہ حدتک روکتی ہے۔ حیاتین الف سے آنکھوں کا فعل درست

دمہ کی بیماری سے نجات

رہتا ہے۔ یہ معدے میں ہونے والے زخم (Ulcer) کو مندمل کرتی ہے۔
بھنڈی کے مانع تکسیداجزا (Antioxidants) کی بنا پر آپ تنفس کی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں اور دمہ بھی آپ پر حمہ آور نہیں ہوتا۔ بھنڈی کے کھانے سے آپ کو پودوں میں پائی جانے والی لحمیات بھی حاصل ہوتی ہیں، جن سے آپ کے عضلات اور ہڈیاں مضبوط رہتی ہیں۔ چند بھنڈیاں کاٹ کر پانی میں ڈال دیں۔ جب ان کالعاب پانی میں شامل ہوجائے توا سے سرکے بالوں میں لگالیں۔ تھوڑی دیر بعد سرد ھوڈالیں۔ آپ کے بال چمک دار ہوجائیں گے۔

شوگر کی بیماری سے نجات

ھنڈی ہر گھرمیں استعمال ہونےوالی مرغوب غذا ہےاس میں موجود فائبرنہ صرف ہڈیوں کو مضبوط کرتاہے بلکہ شوگرجیسی موذی بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتاہے۔

فائبر

بھنڈی میں صحت سے متعلق کئی راز چھپے ہیں، بھنڈی میں بھرپورمقدار میں فائبرپایا جاتا ہے جو بلڈ شوگر کو کنٹرول کرتا ہے، اس لئے یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لئے بہت فائدہ مند ہے۔

کیلشیم

اس میں کیلشیم پایا جاتا ہے جو ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے اور جوڑوں کے درد میں آرام پہنچاتا ہے، اس میں موجود لیس دار مادہ ہڈیوں کے لئے بہت مفیدہوتا ہے،بھنڈی میں وٹامن سی بھی بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے، جو دمہ کی علامات کو پنپنے سے روکتا ہے

خطرناک بیماریوں کی چند علامات

اگر ہم کسی خطرناک بیماری کی طرف بڑھ رہے ہوں تو ہمارا جسم وقت سے پہلے ہی کچھ علامات دکھانے لگتا ہے۔ماہر کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر جان ارون کا کہنا ہے کہ اگرہم ان علامات کو سنجیدگی سے لے لیں تو کسی بڑے حادثے سے بچاجاسکتا ہے اوراگر اسے نظر انداز کردیا جائے تو جان کو شدید خطرات بھی لاحق ہوسکتے ہیں۔

1۔جنسی کمزوری
کچھ لوگوں کو خیال ہے کہ جنسی کمزور ایک دماغی یا پوشیدہ اعضاءکی کمزوری کی وجہ سے ہوتا ہے لیکن یہ دل کی بیماری کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے۔بالخصوص اگر مردوں کو یہ مسئلہ ہوجائے تو یہ دل کے مرض کی جانب اشارہ ہے۔کچھ لوگ اسے جنسی کمزوری سمجھ کر ادویات لینے لگتے ہیں لیکن اصل مسئلہ اپنی ہی جگہ موجود رہ جاتا ہے۔ڈاکٹر جان کا کہنا ہے کہ اگر خواتین میں جنسی تسکین کی خواہش کم ہونے لگے تو یہ دل کی بیماری کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے۔sexual weaknesse
2۔خراٹے لینا
اگر آپ کے ساتھ کوئی ایسا انسان سوئے جو بلند آواز میں خراٹے لیتا ہوتو آپ کی نیند حرام ہوجاتی ہے۔ڈاکٹر جان کا کہنا ہے کہ کئی کیسز میں دیکھا گیا ہے کہ دل کی بیماری لاحق ہونے سے قبل لوگوں کو خراٹے آنے لگے۔اس کا کہناہے کہ دل کی دھڑکن میں بے اعتدالی کی وجہ سے خون کا دباوٗ متاثر ہوتا ہے جس سے دل کی بیماری اور خراٹے بھی آنے لگتے ہیں۔ Snoring in sleeping
3۔گردن اور کندھوں میں درد یا بے چینی
جن لوگوں کو ہارٹ اٹیک ہوتا ہے ان کا کہنا ہے کہ ایسا لگتاہے کہ ان کے سینے پر کوئی ہاتھی بیٹھ گیا ہے جبکہ کچھ بازوو¿ں میں کھچاو¿ کی شکایت کرتے ہیں۔تاہم ہر کوئی ان علامات کے بارے میں نہیں بتاتابلکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی گردن،کندھوں اور جبڑوں پر شدید دباوٗ یا درد محسوس ہونے لگتا ہے۔یہ علامات دل کے دورے کی ہوسکتی ہیں لہذا آپ کو چاہیے کہ فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔neck-pain
4۔بدہضمی اور سینے کی جلن
سینے کی جلن اگر کبھی کبھار ہوتو کوئی عجیب بات نہیں لیکن اگر آپ کو مستقل یہ مسئلہ درپیش رہے تو یہ دل کی بیماری کی جانب ایک اشارہ ہوسکتا ہے۔اگر سینے کی جلن کے ساتھ،ہچکیاں،دل کا متلانا،سانس لینے میں مشکل یا ٹھنڈا پسینہ آنے لگے تو یہ انتہائی خطرناک بات ہے اور آپ کو ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔Burning stomach
5۔ٹانگوں اور پاوٗں میں سوجن
پاو¿ں یا ٹانگوں میں سوجن کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن اگر اس کے ساتھ آپ کو سانس لینے میں دشواری ہویا سوتے ہوئے بے چینی ہوتو یہ بھی ایک خطرناک علامت ہے اور ڈاکٹرسے فوری رابطے کی متقاضی ہے۔جن لوگوں کو یہ مسئلہ مستقل درپیش ہوانہیں تو فوری طور پر اس کا علاج کرانا چاہیے۔Swelling in the feet
6۔دانتوں میں درد اور ان سے خون آنا
بہت ہی کم لوگوں کا خیال ہوگا کہ دانتوں سے خون آنے کی علامت بھی دل کی بیماری کی جانب ایک اشارہ ہوسکتا ہے۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ دانتوں اور مسوڑھوں سے خون آنے کی وجہ سے ہمارا جبڑا متاثر ہوتا ہے اور سارے جسم میں سوزش بھی ہوسکتی ہے اور اس کا براہ راست اثر ہمرے دل پر ہوتا ہے لہذا دانتوں یا مسوڑھوں کے سوجنے یا ان سے خون آنے کی علامت کو ہرگز نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔tooth-pain

چند چیزیں جو بالوں سے محروم کرسکتی ہیں

ایسی چند چیزوں کے بارے میں جانیئے جو آپ کو بالوں جیسی قیمتی نعمت سے محروم کرسکتی ہیں۔

دق
چہرے کی جلد کا یہ مرض بھی آپ کو گنج پن کا شکار کرسکتا ہے۔ اس مرض میں جسمانی دفاعی نظام ہی بالوں کو دشمن سمجھ کر اس کے خلیات پر حملہ کردیتا ہے اور اگر اس کے نتیجے میں آپ بالوں سے محروم ہوجائیں تو ان کی واپسی ناممکن ہوتی ہے۔
جسمانی وزن میں ڈرامائی کمی
جسمانی وزن میں اچانک کمی کے نتیجے میں بال کمزور ہوجاتے ہیں۔ ایسا اس صورت میں بھی ہوتا ہے جب آپ موٹاپے سے بچنے کے لیے وزن کم کرتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق اس عمل کے دوران جسمانی تناوٴ یا مناسب مقدار میں وٹامن یا منرل کا استعمال نہ کرنا بالوں کے گرنے کا باعث بنتا ہے۔ تاہم محققین کے مطابق ایسا ہونے کی صورت میں مناسب غذا سے چھ ماہ کے عرصے میں بالوں کے گرنے کے مسئلے کو ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔
سکون آور، خون پتلا کرنے والی ادویات
کچھ مخصوص ادویات بھی بالوں سے محرومی کا خطرہ بڑھا دیتی ہیں۔ ان میں خون پتلا کرنے والی اور بلڈ پریشر کے لیے استعمال کی جانے والی ادویات قابل ذکر ہیں۔ اسی طرح سکون آور ادویات بھی بالوں کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتی ہیں۔ ایسا ہونے کی صورت میں ڈاکٹر سے رابطہ کرکے متبادل دوا یا اس کے کم استعمال پر مشورہ لینا چاہئے۔

جسمانی تناوٴ
کسی بھی قسم کی جسمانی سرجری، گاڑی کا حادثہ یا شدید بیماری یہاں تک کہ فلو بھی عارضی طور پر بالوں سے مھرومی کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر آپ پرتناوٴ حالات سے گزر رہے ہو تو اس سے بالوں کی نشوونما متاثر ہوتی ہے بلکہ تھم جاتی ہے اور ان ک گرنے کی شرح بڑھ جاتی ہے۔ بالوں کے گرنے کی یہ شرح ایسے حالات میں عام طور پر تین سے چھ ماہ میں نوٹس میں آتی ہے۔
بہت زیادہ وٹامن اے کا استعمال
بہت زیادہ وٹامن اے کا جسم میں پہنچنا بھی بالوں کے گرنے کی رفتار کو بڑھا دیتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق وٹامن اے سے بھرپور سپلیمنٹس یا ادویات کا استعمال اس کی وجہ بنتا ہے۔ اگر وٹامن اے بڑھنے کی صورت میں بالوں سے محروم ہورہے ہو تو اس سے بچا جاسکتا ہے بس اس وٹامن اے کا استعمال ترک کرنا ہوگا جس کے نتیجے میں بال دوبارہ معمول کے مطابق بڑھنے لگیں گے۔
پروٹین کی کمی
اگر آپ کی غذا میں مناسب مقدار میں پروٹین شامل نہ ہو تو آپ کا جسم اسے پورا کرنے کے لیے بالوں کی نشوونما روک دے گا۔ ایک تحقیق کے مطابق پروٹین کی کمی کی صورت میں بالوں کے گرنے کی رفتار دو سے تین ماہ میں بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اس سے بچنے کے لیے غذا میں مچھلی، انڈے اور گوشت کا استعمال معمول بنانا پڑتا ہے، تاہم گوشت پسند نہیں تو مٹر، چنوں، گریوں، سبز پتوں والی سبزیوں، دودھ وغیرہ کا بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
جذباتی تناوٴ
جذباتی تناوٴ جسمانی تناوٴ کے مقابلے میں بالوں کے گرنے کی رفتار بہت زیادہ تو نہیں بڑھاتا مگر اس سے ایسا ہوتا ضرور ہے۔ کسی پیارے کی موت یا والدین کی بیماری وغیرہ کا ذہنی تنا? بالوں کی نشوونما کو نقصان پہنچاتا ہے۔
خون کی کمی
خون یا آئرن کی کمی بالوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔ اینیما نامی اس مرض کا تعین تو بلڈ ٹیسٹ ہوسکتا ہے تاہم بالوں کو اس سے بچانا اتنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ اکثر لوگوں میں تشخیص ہی نہیں ہوپاتی۔ تاہم اگر خون کی کمی اور بالوں کے گرنے کا علم ہوجائے تو آئرن سپلیمنٹ اس مسئلے سے تحفظ دے سکتا ہے۔
وٹامن بی کی کمی
جسم یں وٹامن بی کی کمی بھی بالوں سے محرومی کی وجہ بنتی ہے۔ اینیما کی طرح اس سے تحفظ بھی سپلیمنٹ سے ممکن ہے، یا اپنی غذائی عادات تبدیل کرکے مچھلی، گوشت، نشاستہ دار سبزیاں اور پھل کو خوراک کا حصہ بنالیں۔
بالوں کے اسٹائلز
بالوں کے بہت زیادہ اسٹائلز اور ٹریٹمنٹ بھی گنجا کرسکتے ہیں۔ ان اسٹائلز اور ٹریٹمنٹ کے نتیجے میں بالوں کی جڑیں کمزور ہوتی ہیں اور اگر وہ گرنا شروع ہوجائیں تو ان کی دوبارہ نشوونما کا امکان بھی بہت کم ہوجاتا ہے۔
بالوں کو نوچنا
اگر تو آپ اضطراری طور پر بالوں کو نوچنے کی عادت کا شکار ہیں تو جان لیں ایسا کرنے کی صورت میں جو بال سر سے الگ ہوگا اس کی جگہ کوئی اور نہیں لے گا۔
عمر میں اضافہ
یہ بات غیرمعمولی نہیں کہ عمر بڑھنے کے ساتھ بال پتلے یا گرنا شروع ہوجاتے ہیں، جس کی اب تک طبی ماہرین کوئی واضح وجہ دریافت نہیں کرسکے۔

Google Analytics Alternative