صحت

تعلیم مکمل نہ کرنے والابھارتی گوگل کا سی ای او بن گیا

Sndar-pichai

انٹر نیٹ کی بڑی کمپنیوں میں سے ایک گوگل نے پیر کے روز اپنی کمپنی کو ایک نئی شکل دے دی ہے۔ گوگل اگرچہ اپنا وجود قائم رکھے گی تاہم اس نے اپنے بہت سے نئے کاروباری معاملات کو مختلف کمپنیوں کی شکل میں ڈھال لیا ہے۔ یہ چھوٹی کمپنیاں ایک بڑی کمپنی ’’الفابیٹ‘‘ کا حصہ ہوں گی۔ گوگل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر لیری پیج اب نئی کمپنی کے سی ای او ہوں گے۔ پیج کی جگہ گوگل کے نئے سی ای او بھارتی نژاد سندر پیچائی ہوں گے۔ اگر چہ سندر نے نئی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد اپنی بلاگ پوسٹ میں لکھا ہے کہ گوگل اب ’’سکڑ‘‘ جائے گی تاہم پیچائی کے پاس کرنے کو اب بھی بہت کچھ ہے۔ گوگل نے اپنے پرانے کاروبار کے بہت سے حصے اپنے پاس رکھے ہیں۔ جو چیزیں اب بھی گوگل اور پیچائی کے پاس ہیں ان میں سرچ، اشتہارات،میپس، ایپس، یو ٹیوب اور اینڈرائڈ شامل ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ انہی مصنوعات کی وجہ سے گوگل آج دنیا کی بڑی انٹر نیٹ کمپنی ہے تو اس میں مبالغہ نہ ہو گا۔ ان سب چیزوں کا گوگل کے پاس رہنے کا مطلب یہ ہے کہ اب بھی ہزاروں ملازمین پیچائی کو جواب دہ ہوں گے۔ پیچائی سٹین فورڈ یونیورسٹی سے اپنی تعلیم مکمل نہ کر پائے لیکن پچھلی ایک دہائی سے وہ کمپنی کا نمایاں ترین چہرہ ہیں۔ سی سی او کی ذمہ داریاں سنبھالنے سے قبل وہ گوگل کے نائب صدر تھے۔ پیچائی جب سے گوگل میں آئے ہیں انہوں نے ہی اس کی تمام کنزیومر پراڈکٹس کو لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے اور وہ کمپنی کی جانب سے منعقدہ تمام سالانہ پروگراموں کی میزبانی بھی کرتے رہے ہیں۔

موبائل فون کی بیٹری جو صرف 5 منٹ میں چارج ہو جائے

نیویارک (نیوز ڈیسک) ہم میں سے ہر کوئی اس مصیبت کا سامنا کرچکا ہے کہ کہیں نکلنے کی جلدی ہوتی ہے اور مختصر وقت میں فون کی بیٹری مکمل چارج کرنا ممکن نہیں ہوتا، مگر ایلومینیم سے بھرے ننھے سیلز والی نئی بیٹری اس مسئلے کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنے والی ہے، کیونکہ یہ نئی بیٹری محض 5 منٹ میں مکمل چارج ہوجائے گی۔
اس بیٹری کی طاقت موجودہ لیتھیم آئن بیٹری سے چار گنا زیادہ ہوگی، جبکہ اس کا چارج ختم ہونے میں بھی زیادہ وقت لگتا ہے، یعنی یہ زیادہ لمبے عرصے تک چلتی ہے۔ اسے تیار کرنے کیلئے ایلومینیم کے گرد ٹائٹینیم ڈائی آکسائیڈ کی تہہ لپیٹ کر ننھے انڈے تیار کئے گئے ہیں اور انہیں کی وجہ سے اس ٹیکنالوجی کو Shell and Yolk کا نام دیا گیا ہے۔ موجودہ بیٹریوں میں گریفائیٹ استعمال کیا جاتا ہے، جو کہ کاربن کی ایک شکل ہے، اسے چارج ہونے میں زیادہ وقت لگتا ہے اور اس کا چارج جلد ختم ہوجاتا ہے۔

کائنات رفتہ رفتہ اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے، سائنسدانوں کا انکشاف

لندن: آسمان پر جگمگاتے چاند ستارے اور کہکشائیں رات کی تاریکی میں اپنی چمک سے ایک دلکش منظر پیش کرتے ہیں جو آنکھوں کو سکون اور راحت دیتا ہے لیکن اب سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ کائنات کی چمک دمک رفتہ رفتہ ماند پڑ رہی ہے اور اپنی اختتام کی طرف بڑھ رہی ہے۔

دنیا بھر کے 100 سے زائد عالمی شہرت یافتہ سانس دانوں اور ماہرین فلکیات کی جانب سے کئی سالوں سے کی جانے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ہماری کائنات میں چمکتے دمکے اور روشن نظر آنے والے ستاروں اور کہکشاؤں کی روشنی رفتہ رفتہ مدھم ہوتے ہوئے اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کافی عرصے سے ان کا ماننا ہے کہ ستاروں کی روشنی کم ہوتی جارہی ہے لیکن گزشتہ سالوں میں کی جانے والی تحقیق سے اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ستاروں کی روشنی کم ہونے کا عمل ان کی سوچ سے کہیں تیز ہے۔

پاکستانی لڑکے سمائل نے میدان مار لیا

سیاٹل (نیوز ڈیسک) امریکا میں منعقد ہونے والے ای گیمز کے دنیا کے مہنگے ترین ٹورنامنٹ میں پاکستانی لڑکے سمائل حسن نے ایک دفعہ کامیابی کے جھنڈے گاڑھ دئیے اور دنیا بھر کی ٹیموں کو شکست دے کر اپنی ٹیم کو ایک دفعہ پھر چیمپیئن بنادیا۔ Dota2 انٹرنیشنل 2015ء کے مقابلے امریکی شہرسیاٹل میں منعقد ہوئے اور ان میں 16 سالہ سمائل حسن ایک دفعہ پھر اپنی ٹیم Evil Geniuses کی طرف سے دفاعی ذمہ داری نبھارہے تھے۔ ٹورنامنٹ جیتنے کے بعد سمائل حسن کی ٹیم 10 لاکھ ڈالر (تقریباً 10 کروڑ پاکستانی روپے) انعام کی حقدار قرار پائی جبکہ وہ خود انفرادی طور پر 2 لاکھ ڈالر (تقریباً 2 کروڑ پاکستانی روپے) جیت چکے ہیں۔
وہ شمالی امریکا کی گیمنگ لیگ میں غیر معمولی مہارت دکھانے کے بعد منظر عام پر آئے اور بین الاقوامی شہرت یافتہ ٹیم Evil Geniuses نے ان کی خدمات حاصل کرلیں۔ وہ اس سال کے آغاز میں چین میں منعقد ہونے والی Dota2 ایشیئن چیمپیئن شپ میں بھی اپنی ٹیم کو فتح دلاچکے ہیں۔ انہیں خراج تحسین پیش کرنے والوں کا کہنا ہے کہ بے پناہ ذہانت کے مالک سمائل حسن نے الیکٹرانک گیمز کی دنیا میں اپنے وطن کا جھنڈا ساری دنیا کے جھنڈوں سے ممتاز کرکے اہل وطن کے سرفخر سے بلند کردئیے ہیں

صحت دشمنوں کو کوئی رعایت نہیں دیں گے: شہباز شریف

پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ عوام کی صحت سے کھیلنے والوں کے خلاف کارروائی بنا کسی دباؤ کے جاری رکھی جائے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے لاہور میں کی جانے والی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے شہباز شریف نے تمام ڈسٹرکٹس کے ڈی سی اوز کو ہدایت کی ہے کہ وہ بھی اپنے اضلاع میں اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی ریسٹورنٹ غیر معیاری اشیائے خور و نوش فروخت نہ کر سکے۔ پنجاب فوڈ ایکٹ کے تحت قائم کی جانے والی پنجاب فوڈ اتھارٹی نے اب تک پانچ سو ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کی فیکٹریوں کا دورہ کیا ہے۔ اس دوران غیر معیاری اشیائے خور و نوش کی تیاری اور ان کی فروخت میں ملوث سماج دشمنوں کے خلاف بھاری جرمانے، دکانیں و فیکٹریاں سیل کرنے اور مقدمات کے اندراج کرانے کے ساتھ ساتھ متعدد دکانوں اور ریسٹو رنٹس کو اپنا معیار بہتر بنانے کے لیے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ شہباز شریف نے اس موقع پر یہ اعلان بھی کیا ہے کہ پنجاب کے تمام ریسٹورنٹس کو ان کے کھانے کے معیار کے مطابق گریڈنگ دی جائے گی۔ اس کے لیے ان کی صفائی، سیکیورٹی اور پانی کے معیار کو بھی سامنے رکھا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے اس مہم میں ڈائریکٹر عائشہ ممتاز کے کردار کو خصوصی طور پر سراہا کہ انہوں نے اپنی کارروائیوں میں کسی کو رو رعایت کا مستحق نہیں سمجھا

گورمے، بٹ اور حافظ سویٹس کے خلاف کارروائی: بھاری جرمانہ عائ

پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹیم نے آج کارروائی کرتے ہوئے ’’گورمے بیکرز اینڈ سویٹس‘‘ شاد باغ پر چھاپہ مارا۔ اس چھاپے کے دوران ٹیم نے دکان میں موجود فریزروں کا جائزہ لیا۔ فریزروں کی صفائی نہ ہونے اور متعدد ان لیبل آئٹمز کی فروخت پر چھاپہ مار ٹیم نے گورمے سویٹس پربھاری جرمانہ عائد کیا ہے۔شالیمار ٹاؤن کی ٹیم نے ہی ٹوکے والا چوک میں واقع حافظ سویٹس پر بھی چھاپہ مارا۔ اس کارروئی کے دوران ٹیم نے کھانے پینے کی اشیاء کھلی رکھنے اور بغیر لیبل آئٹمز کی فروخت پر بھاری جرمانہ عائد کیا ہے۔داتا گنج بخش ٹاؤن کی ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے بٹ سویٹس ابدالی روڑ کو سیل کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق چھاپہ مار ٹیم جب دکان پر پہنچی تو وہاں مٹھائی کے تمام ریکوں سے مری اور زندہ مکھیاں موجود تھیں اس کے علاوہ پیزا اور چکن کی آئٹمز پر ایکسپائری کی کوئی تاریخ موجود نہ تھی۔ جب کہ فریز کریم کیکوں پر ایکسپائری کی دو تاریخیں ڈالی گئیں تھیں

سندھ کے تعلیمی ادارے 3 اگست کو کھولنے کی سمری وزیر اعلیٰ نے مسترد کر دی

کراچی ( مانیٹرنگ ڈیسک ) سندھ کے صوبائی محکمہ تعلیم نے سکولوں میں تعطیلات سے متعلق چھٹیوں کے ختم ہونے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا لیکن  اس سمری کو وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے مسترد کر دیا ہے۔ اب سندھ کے تعلیمی ادارے  11 اگست کو ہی کھلیں گے۔

تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر سندھ میں تعطیلات بڑھائے جانے پر بات کی جا رہی تھی جسے پرائیوٹ سکولز کی جانب سے مسترد کر دیا گیا تھا ۔ اس کے بعد سیکرٹری تعلیم سندھ کی جانب سے دوبارہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق سندھ بھر کے تعلیمی ادارے 3 اگست کو کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ سیکرٹری تعلیم کا کہنا تھا کہ صوبے میں سنگین سیلابی صورتحال نہیں ہے اس لیے طلبہ کے مفاد اور انہیں تعلیمی نقصان سے بچانے کے لیے 3 اگست کو تعلیمی ادارے کھول دیے جائیں گے ۔دوسری جانب سیکرٹری تعلیم کی جانب سے پیش کردہ سمری کو وزیر اعلیٰ سندھ نے مسترد کر دیا ہے اور انہوں نے تعلیمی ادارے 11 اگست کو ہی کھولنے کا حکم نامہ برقرار رکھا ہے ۔ اس کے بعد سیکرٹری تعلیم کا کہنا تھا کہ انہوں نے سمری ارسال کی تھی لیکن مسترد  ہو گئی ہے اب کیا ہو سکتا ہے

لائٹ یا کم تارکول والے سگریٹ زیادہ خطرناک ہیں: تحقیق

خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق غیر تمباکو نوش افراد کو سگریٹ کا عادی بنانے اور بظاہر ’لائٹ‘ یا ’کم تارکول والے‘ سگریٹوں میں زیادہ ذائقے کی خاطر استعمال کیے جانے والے اضافی کیمیائی مادے عام لوگوں کو اس نشے کا عادی بنانے میں خطرناک کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ بات ایک نئی لیکن وسیع تر طبی تحقیق کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔ اس تحقیق کے نتائج کے مطابق تمباکو کی بین الاقوامی صنعت کی طرف سے سگریٹوں کی تیاری میں خالص تمباکو کے پتوں کے علاوہ جو اضافی کیمیائی مادے استعمال کیے جاتے ہیں انہیں عرف عام میں additives اور کیمیائی حوالے سے ’’پائیرازائنز‘‘ کہا جاتا ہے۔ خام مادے کے طور پر تمباکو میں یہ pyrazines تمباکو نوش افراد کے لیے خاص طور پر’ ’لائٹ کہلانے والے، کم نکوٹین کے حامل اور کم تارکول والے‘‘ سگریٹوں کو’ ’زیادہ ذائقے دار اور پرکشش‘‘ بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ لیکن نئی تحقیق نے ثابت کر دیا ہے کہ یہی کیمیائی مادے تمباکو مصنوعات کے استعمال کرنے والوں کو ’’نشے کا عادی بنا دینے کی اضافی صلاحیت کے حامل‘‘ بھی ہو سکتے ہیں۔ اس تحقیق کے دوران ماہرین نے طویل عرصے تک انٹرنیشنل ٹوبیکو انڈسٹری کی سات ملین سے زائد ایسی دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لیا، جو انہی اضافی کیمیائی مادوں یا additives کے بارے میں تھیں۔ پتہ یہ چلا کہ آج کل سگریٹ سازی میں ایسے جو اضافی کیمیائی مادے استعمال ہوتے ہیں، ان کا استعمال 1960ء کی دہائی میں اس وقت شروع کیا گیا تھا جب تمباکو نوش افراد نے low۔tar والی مصنوعات کے طور پر تیار کردہ اولین سگریٹوں کو ’’بے ذائقہ‘‘ کہہ کر مسترد کر دیا تھا۔ اس بارے میں امریکی ریاست نیو یارک کے شہر Buffalo کے رَوس وَیل پارک کینسر انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر ماسیئے گونِیوِچ نے رائٹرز کو بتایا، ’’تمباکو میں پائی جانے والی نکوٹین ایک ایسا کیمیکل ہے، جس کے انسانی جسم، اعصاب اور دوران خون پر اثرات پوشیدہ نہیں ہیں اور یہ بات مدت سے طے ہے کہ نکوٹین ایک addictive یا اپنے استعمال کا عادی بنا دینے والا مادہ ہے۔‘‘ ڈاکٹر ماسیئے گونِیوِچ کے مطابق، ’’نئی تحقیق اس بارے میں تازہ شواہد مہیا کرتی ہے کہ تمباکو مصنوعات تیار کرنے والے اداروں نے اضافی کیمیائی مادوں کا استعمال ممکنہ طور پر اسی وجہ سے شروع کیا کہ سگریٹ نوشوں کو ’نشے کا عادی بنا دینے کی اسی صلاحیت‘ میں اضافہ کیا جا سکے۔‘‘نیو یارک کے اس محقق نے مزید بتایا کہ ’’یہ اضافی کیمیائی مادے نکوٹین کی انسانی دماغ تک ترسیل کو آسان بنا سکتے ہیں، اس طرح تمباکو نوش افراد کے لیے نکوٹین کی ان کے جسم میں موجودگی کا تجربہ زیادہ شدید اثرات کا حامل ہوتا ہے یا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کے جسم میں نکوٹین کی موجودگی کے اثرات میں تیز رفتاری آ جاتی ہے۔‘‘ تمباکو نوشی انسانی اموات کی ان سب سے بڑی وجوہات میں شامل ہے، جن کا تدارک کر کے ہر سال کئی ملین انسانوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچایا جا سکتا ہے۔

Google Analytics Alternative