صحت

جان لیوا امراض کا باعث بننے والی عام عادتیں

طرز زندگی ہماری صحت اور شخصیت دونوں پر اثر انداز ہوتا ہے اور کچھ عادتیں ایسی ہوتی ہیں جو درحقیقت موت کی جانب لے جاتی ہیں جن سے بچنا طویل عمر کی خواہش پوری کرنے کیلئے ضروری ہے۔

خراب غذائی عادات

جنک یا فاسٹ فوڈ کا استعمال بہت عام ہوگیا ہے جو مختلف امراض کا سبب بن کر قبل از وقت موت کا سبب بھی بن سکتا ہے، طبی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کم چینی اور ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹ والی غذائیں صحت کیلئے بہترین ثابت ہوتی ہیں، جبکہ کچھ تحقیقی رپورٹس کے مطابق سبزیوں و پھلوں کا استعمال طویل زندگی کا سبب بنتا ہے۔

کولیسٹرول چیک نہ کرنا

ہائی بلڈ پریشر کی طرح ہائی کولیسٹرول بھی امراض قلب اور فالج کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔ تو اپنے کولیسٹرول کا چیک اپ کرانا معمول بنالینا ایک اچھا خیال ہے خاص طور پر اگر آپ زیادہ چربی والی خوراک اور کولڈ ڈرنکس وغیرہ کے شوقین ہیں تو۔ کچھ مخصوص غذائیں جیسے مٹر یا مونگ پھلی وغیرہ فائبر اور انٹی آکسائیڈنٹ سے بھرپور ہوتی ہیں جو کولیسٹرول کی شرح رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

ممنوعہ یا بغیر ڈاکٹر کی ہدایت کے ادویات کا استعمال

نیند کی ادویات کا ڈاکٹر کی ہدایات کے بغیر استعمال جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

ذیابیطس سے بے خبر رہنا

ذیابیطس میں مبتلا افراد کی تعداد میں سالانہ لاکھوں کا اضافہ ہوتا ہے اور لگ بھگ ہر پانچ میں سے ایک شخص اس کا شکار ہے۔ اس جان لیوا مرض کے باعث بنیائی ختم ہونے، جسمانی اعضاءسے محرومی اور خون کی رگیں جمنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جو دل کے دورے اور فالج کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ خون کے ایک سادہ سے ٹیسٹ کے ذریعے آپ ہر چھ ماہ یا سالانہ بنیادوں پر اس مرض میں مبتلا ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں جان سکتے ہیں۔

موٹاپا

موٹاپا اس وقت ایک عالمی وباء کی شکل اختیار کرچکا ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ عمر بڑھنے کیساتھ ہمارے میٹابولزم سست ہوجاتا ہے اور کیلیوریز جلنے کی تعداد کم ہوجاتی ہے، اگر ہم اپنی غذائی اور ورزش کی عادات میں تبدیلی نہ لائیں تو جسمانی وزن بڑھنا لازمی ہوجاتا ہے۔ موٹاپا ہائی بلڈ پریشر، امراض قلب اور دیگر متعدد جان لیوا امراض کا سبب بن سکتا ہے۔ اپنے جسمانی وزن میں صرف دس فیصد کمی لانا ہی طبی فوائد کا باعث بنتا ہے تو اسے اپنا مقصد بنالینا ہی بہتر ہے۔

دل کے دورے کے اشاروں کو نظرانداز کرنا

سینے میں درد نہ ہونے کا مطلب دل کا دورہ نہ ہونا نہیں ہے۔ خواتین کو اکثر دل کے دورے بدہضمی اور تھکان کے باعث پڑتے ہیں، جبکہ مردوں کو سینے کے درمیان درد کا احساس ہوتا ہے جو گردن، کندھوں یا جبڑے تک پھیل جاتا ہے۔

کم نیند

آج کل اوسطاً ہر فرد ایک ماہ میں تیرہ راتیں مکمل نیند نہیں لے پاتا، اگرچہ یہ جان لیوا تو نہیں مگر جب آپ نیند سے بوجھل آنکھوں کے ساتھ گاڑی چلارہے ہو تو آپ خود کو اور دیگر افراد کو خطرے میں ڈال رہے ہوتے ہیں، کیونکہ توجہ نہ ہونا اور سست ردعمل عمل حادثات کا سبب بن جاتا ہے۔

ورزش سے گریز

صحت مند رہنے کیلئے ہفتے میں دو بار مسلز مضبوط کرنے والی ورزش کرنا ضروری ہے، اس کے ساتھ سات روز میں ڈھائی گھنٹے کی عام سرگرمیاں جیسے چہل قدمی صحت کیلئے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ ہفتے میں تین بار چہل قدمی سے دماغ کے یاداشت کو کنٹرول کرنے والے حصوں کا حجم بڑھتا ہے، جس سے بڑھاپے میں یاداشت کا مسئلہ نہیں ہوتا۔

بہت زیادہ ذہنی بوجھ

اکثر افراد اپنے کندھوں پر خاندان، دفتر اور دوستوں وغیرہ کی ذمہ داریاں اٹھالیتے ہیں، جس سے ہمارے ذہن بہت بری متاثر ہوتے ہیں اور تناﺅ و مایوسی جیسے ذہنی امراض زندگی سے دلچسپی ختم کردیتے ہیں۔

توند

یہ اضافی وزن نہیں جو ہم لیکر گھومتے ہیں بلکہ یہ ہمارے پیٹ میں چربی کا بہت زیادہ بڑھ جانا ہوتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ توند یا چربی کا یہ ذخیرہ مجموعی صحت کیلئے تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔

تمباکو نوشی

تمباکو نوشی کے نقصانات کے بارے میں سب ہی جانتے ہیں اور اس عادت کو اپنانا مختلف قسم کے کینسر اور دیگر امراض کا سبب بن کر جلد زندگی کا خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔

اچار کھانے کے یہ فائدے جانتے ہیں؟

کھانے کے ساتھ اچار پسند کرتے ہیں اور اس کا جوس یا عرق بھی استعمال کرتے ہیں؟ اگر ہاں تو وہ آپ کی صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔

جی ہاں اچار اور اس کا عرق صحت کے لیے کئی متاثرکن فوائد کے حامل ثابت ہوتے ہیں مگر کچھ احتیاط کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

جیسے ہائی بلڈ پریشر یا نمک کے حوالے سے حساس ہیں تو اس سے گریز کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔

یہاں اس کے چند فوائد درج ذیل ہیں۔

کافی پینا ذیابیطس کا شکار ہونے سے بچائے، تحقیق

کافی دنیا بھر میں سب سے مقبول مشروب ہے جو پاکستان میں کچھ زیادہ پیا نہیں جاتا، تاہم اس کا استعمال ذیابیطس جیسے مرض کا شکار ہونے سے بچاتا ہے۔

یہ دعویٰ ڈنمارک میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

Aarhus یونیورسٹی ہاسپٹل کی تحقیق کے مطابق روزانہ کافی کے تین سے چار کپ پینا ذیابیطس ٹائپ ٹو سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

ذیابیطس جسے ماہرین طب خاموش قاتل قرار دیتے ہیں، اس وقت پوری دنیا میں ایک وباءکی طرح پھیل رہا ہے اور اکثر اس کے شکار افراد اس کی علامات سے بھی بے خبر ہوتے ہیں۔

اس تحقیق میں بتایا گیا کہ کافی میں موجود ایک جز ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ کم کرتا ہے۔

کیا کرنسی نوٹ بیمار کرسکتے ہیں؟

جب آپ کھانے کی کوئی چیز خریدتے ہیں تو پیسوں کی ادائیگی کے بعد وہ چیز کھانے سے پہلے ہاتھ دھوتے ہیں؟ اگر نہیں تو اس عادت کو اپنالیں، ورنہ بیمار ہونے کے لیے تیار ہوجائیں۔

یہ انتباہ امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

کولمبیا یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ہمارے اردگرد جو نوٹ گردش کررہے ہوتے ہیں، ان پر ہزاروں قسم کے جراثیم موجود ہوتے ہیں، جس کی وجہ ان کا مختلف چیزوں کو چھونا ہوتا ہے اور ہاتھوں کی تو بات ہی الگ ہے۔

بلیچ پھیپھڑوں کے امراض کا خطرہ بڑھائے

بلیچ اور عام صفائی کرنے والے کیمیکلز جان لیوا پھیپھڑوں کے امراض کا خطرہ بڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔

یہ انتباہ فرانس میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

فرنچ نیشنل انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ کی تحقیق میں بتایا گیا کہ صفائی کرنے والی پراڈکٹس کے کیمیکلز میں اکثر سانس لینا پھیپھڑوں کے ایسے مرض سی او پی ڈی کا خطرہ 32 فیصد تک بڑھا دیتا ہے جو عام طور پر تمباکو نوشی کے نتیجے میں ہی لاحق ہوتا ہے۔

کیا طفیلیے (پیراسائٹس) ہمارے دوست ہیں؟

لندن: طفیلیے یا پیراسائٹس وہ جاندار ہوتے ہیں جو کسی دوسرے جاندار کے وسائل میں بن بلائے مہمان کے طور پر شریک ہوجاتے ہیں اور عموماً اپنے میزبان کےلیے مشکلات اور بیماریوں کی وجہ بنتے ہیں۔

پودوں اور جانوروں کی طرح انسان کو بھی ہر وقت ایسے طفیلیوں کا سامنا رہتا ہے جو اس کے جسم میں پلتے رہتے ہیں اور اس کی غذا، خون اور دوسرے وسائل میں سے اپنا حصہ وصول کرتے رہتے ہیں۔ ان طفیلیوں کی زیادتی کے باعث ہمیں کئی بیماریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

لیکن اب یونیورسٹی آف باتھ، برطانیہ کی بین ایشبی اور ان کے ساتھیوں نے پتا چلایا ہے کہ طفیلیے ہمارے دشمن نہیں بلکہ دوست ہوتے ہیں۔ ریسرچ جرنل ’’ایوولیوشن لیٹرز‘‘ کے تازہ شمارے میں ان کی شائع شدہ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ انسانی جسم میں موجود طفیلیے دو طرح سے اس کی مدد کرتے ہیں۔

گلے کی خراش سے نجات حاصل کرنے کے آسان نسخے

گلے کی خراش یا سوزش ایک عام بیماری ہے، جو ہر بدلتے موسم کے وقت ہوتی ہے، یا پھر ٹھنڈا گرم ایک ساتھ کھانے اور پینے سے بھی ہوجاتی ہے۔

کچھ لوگ انتہائی حساس ہوتے ہیں، اور وہ تھوڑی بہت موسمی تبدیلی، بڑھتی آلودگی اور ایک ساتھ مختلف غذائیں کھانے سے بھی اس میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

گلے کی خراش یا سوزش ابتدائی طور پر بہت تکلیف دیتی ہے، اور اس کے شکار افراد کھانے اور پینے سمیت ٹھیک طرح سے بول پانے سے بھی کچھ وقت کے لیے محروم ہوجاتے ہیں۔

گلے میں سوزش کی وجہ سے بولنے میں بھی تکلیف ہوتی ہے، جب کہ کوئی چیز نہ تو نگلی جاتی ہے، اور نہ ہی کھائی جاتی ہے، لیکن اس بیماری سے آسان اور گھریلو نسخوں کے ذریعے بھی نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔

کلیجی صحت مند دانتوں کے لیے فائدہ مند

ہم سب جانتے ہیں کہ دانتوں کو سونے سے قبل برش کرنا بہت ضروری ہے جبکہ اس سے بھی ممکنہ طور پر واقف ہوں گے کہ کچھ چیزیں موتیوں جیسے سفید دانتوں کے لیے کھانی نہیں چاہئے۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ کلیجی کھانا بھی دانتوں کی سفیدی کے لیے بہت اہم ہے؟

جی ہاں واقعی، یہ صحیح ہے کہ کلیجی کھانا دانتوں کو چمکدار اور صحت مند رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

درحقیقت کلیجی وٹامن اے اور ڈی سے بھرپور ہوتی ہے جو کہ دانتوں کی فرسودگی اور منہ کی ناقص صفائی کے لیے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔

Google Analytics Alternative