صحت

خبردار! گنج پن ذیابیطس کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے

پیرس: ماہرین نے جدید تحقیق کی روشنی میں دعویٰ کیا ہے کہ شوگر کے مریض گنج پن کا سب سے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق فرانسیسی ماہرین نے ذیابیطس اور بالوں کی صحت کے درمیان تعلق جاننے کے لیے ایک تحقیق کی جس میں 60 ہزار افراد کو شامل کیا گیا۔ تحقیق میں ظاہر ہوا کہ گنج پن یا خراب بالوں والے تمام کے تمام افراد ذیابیطس کا شکار تھے اور ان میں سے اکثر کو اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ وہ شوگر کے مریض ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک صحت مند انسان کی سر پر 80 ہزار سے ایک لاکھ 20 سے تک بال ہوتے ہیں، اور یہ ہر روز صفر اعشاریہ 4 ملی میٹر یا پھر ایک مہینے میں ایک سینٹی میٹر تک بڑھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ذیابیطس ایک ایسی بیماری ہے جو انسان کے ہر عضو اور حصے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ شوگر کے نتیجے میں ناصرف سر بلکہ جسم کے دیگر حصوں میں موجود بالوں کی نشونما بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔

تحقیق میں شامل ماہروں کا کہنا تھا گو کہ یہ ضروری نہیں کہ صرف ذیابیطس کے مریض ہی گنج پن کا شکار ہوں لیکن یہ ضروری ہے کہ اس پریشانی کا شکار افراد اپنے معالج سے ضرور مشورہ کریں۔

ادرک جوڑوں کے درد کے لیے اکسیر قرار

کراچی: ادرک کے جسمانی و طبی فوائد سے ہم سب بخوبی واقف ہیں اور اب ماہرین نے اس کے استعمال کو گٹھیا اور جوڑوں کا درد ختم کرنے میں بھی بہت مفید قرار دیا ہے۔

ایشیا اور افریقا میں کثرت سے استعمال ہونے والی ادرک کو تیل، پاؤڈر اور اصل حالت میں کھانوں اور ادویہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ہاضمے کی بہتری کے لیے ادرک کا استعمال عام کیا جاتا ہے لیکن اب جوڑوں کے درد میں اس کی بھرپور افادیت سامنے آئی ہے۔

بعض سائنسی مطالعات سے عیاں ہے کہ جوڑوں کے درد میں مبتلا افراد کو جب ادرک یا اس کے اجزا کھلائے گئے تو ان کے جوڑوں میں سوزش کم ہوئی اور گٹھیا کے مرض میں افاقہ ہوا۔

زخم بھرنے اور بیکٹیریا سے لڑنے کے قدرتی جسمانی عمل میں تھوڑی بہت سوزش پیدا ہوتی ہے جس کے دوران جسم خون کے سفید خلیات خارج کرتا ہے لیکن یہ کیفیت ایک مسلسل صورت بھی اختیار کر سکتی ہے جبکہ گٹھیا کے مرض میں جوڑوں کے اطراف مستقل تکلیف کی وجہ بن جاتی ہے۔

ایک تجربے میں جب گٹھیا اور جوڑوں کے درد میں مبتلا مریضوں کو ادرک کے کیپسول دن میں دو مرتبہ 6 ماہ تک کھلائے گئے تو ان کی جلن میں واضح کمی دیکھنے میں آئی تاہم ان میں سینے کی جلن کا سائیڈ افیکٹ بھی نوٹ کیا گیا۔ اہم بات یہ ہے کہ ادرک ہر قسم کی جسمانی سوزش اور اندرونی جلن کم کر سکتی ہے۔

جسمانی درد اور پٹھوں میں اینٹھن کے شکار مریض بھی ادرک سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ 2010 میں حادثے میں زخمی ہونے والے افراد کو ادرک دی گئی تو ان کی شدید تکلیف میں 30 فیصد تک کمی نوٹ کی گئی۔ تاہم بعض سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ درد کم کرنے میں ادرک خاص مفید نہیں ہوتی اور اس ضمن میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

ادرک کیسے استعمال کی جائے

ادرک پاؤڈر کے کیپسول اور درد کی جگہ ملنے والی کریمیں بھی دستیاب ہیں۔ اس کی چائے بنا کر یا اسے پکوانوں میں ڈال کر بھی کھایا جا سکتا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ روزانہ 2 سے 4 گرام ادرک دن میں تین مرتبہ کھائی جا سکتی ہے لیکن خیال رہے کہ اس کی مقدار 4 گرام سے ہرگز نہ بڑھے۔  ماہرین کے مطابق ادرک کے علاوہ دارچینی اور ہلدی کا استعمال بھی جوڑوں کی تکلیف کو کم کرنےمیں بہت مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

کافی پینے والے افراد لمبی عمر پاتے ہیں، تحقیق

بارسلونا: یورپ میں تقریباً 20 ہزار افراد پر کیے گئے 17 سالہ سروے کے بعد ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ جو لوگ زیادہ کافی پیتے ہیں وہ ایک طرف تو بیماریوں سے کم متاثر ہوتے ہیں تو دوسری جانب لمبی عمر بھی پاتے ہیں۔

یورپین سوسائٹی آف کارڈیالوجی کے مطابق اس سروے میں تقریباً تمام یورپی ممالک کا احاطہ کیا گیا تھا البتہ بحیرہ روم سے متصل یورپی علاقے اس سروے میں شامل نہیں کیے گئے۔

مطالعے کی ابتداء میں مختلف یورپی ممالک سے 19,896 رضاکار شامل کیے گئے جن کی اوسط عمر 37 سال اور 8 مہینے تھی۔ 17 سالہ مدت میں ان افراد کے کھانے پینے اور چلنے پھرنے کے روزمرہ معمولات کے علاوہ انہیں ہونے والی بیماریوں اور صحت کے دیگر مسائل پر بھی نظر رکھی گئی۔

مطالعے کے اختتام پر معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے روزانہ اوسطاً 4 کپ کافی پی تھی ان میں کسی بھی وجہ سے ناگہانی موت کے امکانات ایسے افراد کے مقابلے میں 64 فیصد کم تھے جو کافی نہیں پیتے تھے۔

کافی کی روزانہ مقدار اور عمومی صحت میں تعلق کا تجزیہ کرنے پر معلوم ہوا کہ روزانہ 2 کپ کافی کے اضافی استعمال سے ناگہانی موت کے امکانات مزید 22 فیصد کم ہورہے تھے، چاہے وہ کسی بھی وجہ سے ہو۔ 45 سال یا اس سے زیادہ عمر والے افراد کےلیے 2 کپ اضافی کاپی استعمال کرنے کا یہی فائدہ 30 فیصد تک دیکھا گیا۔ البتہ نسبتاً کم عمر والے افراد میں زیادہ کافی استعمال کرنے کے فوائد اتنے نمایاں اور واضح نہیں تھے۔

اس تحقیق کے نتائج بارسلونا، اسپین میں منعقدہ ’’ای ایس سی کانگریس 2017‘‘ میں پیش کیے گئے ہیں جو 26 اگست کو شروع ہوئی اور 31 اگست تک جاری رہے گی۔

عید قرباں پر گوشت خوری اور صحت مند رہنے کے طریقے

کراچی: عید قرباں اور گوشت خوری لازم و ملزوم ہیں لیکن گوشت کی بسیار خوری سے پرہیز کے علاوہ چند حفاظتی تدابیر آپ کی صحت و زندگی کی ضامن ہوسکتی ہیں۔

طبی ماہرین صحت مند انسان کے لیے گوشت کی مناسب مقدار کی حد 100 گرام بتاتے ہیں لیکن عید قرباں ایک ایسا تہوار ہے جس میں صحت مند افراد کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی اوسط مقدار سے زیادہ گوشت استعمال کر لیتے ہیں جو کسی عارضے میں مبتلا ہوں۔

گوکہ گوشت عید الاضحی کا تحفہ ہے مگر ہر وہ شے جو اعتدال سے تجاوز کر جائے، نقصان پہنچانے کا سبب بنتی ہے۔ ایسے میں خاتون خانہ کو چاہیے کہ وہ گھر کے تمام افراد کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ بقر عید اور اس کے پکوانوں کا بھرپور لطف بھی اٹھایا جا سکے اور صحت سے متعلقہ خطرات سے بچنے کی بھی ہر ممکن کوشش کی جا سکے۔

عموماً بقر عید کے موقع پر خوب چٹ پٹی ڈشز کا اہتمام کیا جاتا ہے، جس میں روغن، سرخ مرچوں اور گرم مسالوں کی بھرمار ہوتی ہے۔ قربانی کے گوشت میں قدرتی روغن موجود ہوتا ہے، لہٰذا تیل اور مصالحوں کی مقدار کم سے کم استعمال کریں۔ سرخ مرچوں کے بجائے ہری مرچیں کاٹ کر یا پیس کر استعمال کریں۔ دَم پر کُٹا ہوا زیرہ بھون کر ضرور ڈالیں۔ یہ ہاضمے میں مدد دیتا ہے۔ گوشت کو جلدبازی میں پکانے کی بجائے اندر سے خون کو مکمل طور نکلنے دیں ورنہ اس سے کئی بیماریاں لاحق یوسکتی ہیں مثلاً بدہضمی اور پیٹ کا درد وغیرہ۔

صرف 10 سیکنڈ میں کینسر کی شناخت کرنے والا قلم

آسٹن، ٹیکساس: دیکھنے میں یہ آلہ بالکل کسی قلم کی طرح نظر آتا ہے لیکن اس کی مدد سے سرطان (کینسر) کی شناخت صرف 10 سیکنڈ میں ممکن ہے۔ اسے یونیورسٹی آف ٹیکساس آسٹن کے ماہرین نے تیار کیا ہے۔

اس آلے کو ’’دی ماس اسپیک پین‘‘ (The MasSpec Pen) کا نام دیا ہے جبکہ اس سے کی گئی طبّی آزمائشوں کے نتائج تحقیقی مجلے ’’سائنس ٹرانزیشنل میڈیسن‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئے ہیں۔

ان تفصیلات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ آلہ سرطان کی شناخت 96 فیصد درستگی کے ساتھ کرسکتا ہے اور اپنی غیرمعمولی تیز رفتاری کے باعث سرطان زدہ رسولی (کینسر ٹیومر) کو نکال باہر کرنے کے آپریشن بھی بہت کم وقت میں مکمل کروا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ اس نوعیت کے آپریشنوں میں بالعموم کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں لیکن پھر بھی سرطانی رسولی کا کچھ نہ کچھ حصہ مریض کے جسم میں باقی رہ جاتا ہے جس کے نتیجے میں کینسر ایک بار پھر سے شدت اختیار کرنے لگتا ہے۔

زیادہ گوشت کھانے سے ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

سنگاپور: سنگاپور میں کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سرخ گوشت اور مرغی کھانے سے ذیابیطس کے مرض کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

یہ تحقیق سنگاپور کی آبادی میں کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر اس کی جگہ مچھلی اور دیگر سمندری غذائیں کھائی جائیں تو اس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا اور کئی طبی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اس سے قبل ماہرین کہہ چکے ہیں کہ سبزیوں اور پھلوں کا استعمال صحت کے لیے ازحد مفید ہوتا ہے اور ذیابیطس سمیت کئی امراض کو روکنے میں مددگار ہوتا ہے۔

سنگاپور میں واقع ڈیوک این یو ایس میڈیکل اسکول کے پروفیسر وون پوائے کوہ اور ان کے ساتھیوں نے لال گوشت اور مچھلی کھانے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے درمیان تعلق پر تحقیق کا فیصلہ کیا۔ اس مطالعے میں گوشت میں موجود فولاد پر بطورِ خاص غور کیا گیا۔

اس کے لیے ماہرین نے سنگاپور کی آبادی کے 63 ہزار سے زائد افراد کا جائزہ لیا جن کی عمریں 45 سے 74 برس کے درمیان تھیں۔ ان افراد کا پانچ سال یعنی 1993 سے 1998 تک جائزہ لیا گیا۔ بعد ازاں 1999 اور 2004 میں اور پھر 2006 سے 2010 تک ان کے انٹرویو لیے گئے۔

ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ سرخ گوشت اور مرغی کھان

سائی بورگ بیکٹیریا؛ ماحول دوست توانائی کے حصول کا ذریعہ

عبدالریحان

پودے اپنی خوراک ضیائی تالیف ( فوٹوسنتھیسس) کے ذریعے تیار کرتے ہیں۔ اس عمل کے دوران دھوپ کی موجودگی میں پودے پانی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو آکسیجن اور گلوکوز میں تبدیل کردیتے ہیں۔

ضیائی تالیف کے عمل میں پتوں میں موجود سبز مادّہ کلوروفل کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ سورج کی روشنی سے توانائی حاصل کرنے کے لیے سائنس داں قدرتی ضیائی تالیف کے عمل کی نقل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ مگر ان کے تیارکردہ نظام اتنے زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوئے۔ اب ایک بیکٹیریا نے ان کی یہ مشکل آسان کردی ہے۔ یہ جرثومہ دھوپ سے ایسیٹک بناتا ہے جسے ایندھن اور پلاسٹک میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

یہ بیکٹیریا جسے سائی بورگ بیکٹیریا کا نام دیا گیا ہے امریکا کی ہارورڈ یونی ورسٹی کے ماہرین نے تیار کیا ہے۔ مذکورہ یونی ورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر کیلسے ساکی موٹوکہتے ہیںکہ کچھ جراثیم میں قدرتی طور پر کیڈمیئم، پارہ اور سیسے کے خلاف مزاحمت پائی جاتی ہے۔ مزاحمت کی یہ صلاحیت ان بھاری دھاتوں کو ان کے سلفائیڈ میں بدل دیتی ہے۔ سلفائیڈ کی یہ مختصر ترین تہہ بیکٹیریا کے اوپر نمودار ہوتی ہے یعنی اس کا گھیرائو کرلیتی ہے اور ایک نیم موصل کا کام کرتی ہے۔ یہ دھاتی تہہ بیکٹیریا کے جسم کا حصہ بن جاتی ہے۔ اسی وجہ سے محققین نے اسے ’ سائی بورگ بیکٹیریا‘ کا نام دیا ہے۔ سائی بورگ کی اصطلاح ان جان داروں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو آدھی مشین اور آدھا جان دار ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر کیلسے کے مطابق سائی بورگ بیکٹیریا کی تیاری انتہائی آسان ہے۔ ہم انھیں خوراک کے طور پر کیڈمیئم دیتے ہیں اور یہ اسے سلفائیڈ میں تبدیل کرکے خود ایسے جان داروں میں بدل جاتے ہیں جو ضیائی تالیف کا عمل کرسکتے ہیں۔ سائی بورگ بیکٹیریا کاربن ڈائی آکسائیڈ، پانی اور روشنی سے ایسیٹک ایسڈ، خاص طور سے سرکہ بناتے ہیں۔ سائی بورگ بیکٹیریا کی سب سے خاص بات ان کی حیران کُن کارکردگی ہے۔ ان کی کارکردگی کی شرح 80فی صد ہے جو سولر پینلز سے چار گنا زیادہ ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پودوں میں ہونے والے ضیائی تالیف کے عمل سے بھی سائی بورگ کی کارکردگی چھے گنا زیادہ بہتر ہے۔

سورج کی روشنی سے توانائی حاصل کرنے کے لیے اب تک جتنے بھی طریقے اختیار کیے گئے ہیں ان کی کارکردگی خاصی محدود اور کثیرلاگتی ہے۔ مگر اس طریقے میں جراثیم کو صرف پانی کے بڑے بڑے کنیٹینرز میں شامل کرکے دھوپ میں رکھ دیا جائے گا اور پھر بڑی مقدار میں ایسیٹک ایسڈ حاصل ہوگا جو توانائی کے حصول کا ذریعہ بنے گا۔

قربانی کا گوشت اور ہماری صحت

نیاز عاطف (میڈیکل پامسٹ)

عیدِ قرباں مسلمانوں کا جہاں ایک مذہبی تہوار ہے وہیں گوشت کے شوقین حضرات کے لیے جی بھر کرگوشت کھانے کا ایک شاندار موقع بھی، علاوہ ازیں ایسے افراد جو اپنے کم وسائل کی وجہ سے روز مرہ گوشت کھانے کی گنجائش نہیں رکھتے عیدِ قرباں پہ انہیں بھی گوشت کی فراوانی میسر آتی ہے۔

عام طور پہ دیکھا جاتا ہے کہ قربانی کے موقع پر بڑا گوشت بکثرت ہوتا ہے، جبکہ بڑا گوشت بہت سے بدنی مسائل کا سبب بھی بنتا ہے۔ گوشت اگرچہ ہماری خوراک کا ایک لازمی اور ضروری حصہ ہے مگر وہ لوگ جو امراض قلب، گردہ، جگر، ہائی بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرول قبض، جوڑوں کا درد،یورک ایسڈ اور ذیابیطس جیسے امراض کا شکار ہوں ان کے لیے بڑا گوشت انتہائی مضر ثابت ہو سکتا ہے۔

قارئین!ہم  یہاں گوشت کے نقصانات اور استعمال کے مفید طریقے تحریر کیے دیتے ہیں تاکہ گوشت کے مُضر اثرات سے محفوظ رہا جا سکے۔ہم وثوق سے کہتے ہیں کہ عیدِ قرباں کے گوشت کے استعمال کے حوالے سے اگر ہم اپنی مذہبی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں تو کئی ایک معاشرتی،بدنی اور اخلاقی مسائل سے بچ سکتے ہیں۔جیسا کہ شرعی حوالے سے تو قربانی کے گوشت کو تین برابر حصوں میں بانٹ کر ایک حصہ مساکین،فقراء اور دیگر مستحقین میں تقسیم کر دیا جاتا ہے،دوسرا حصہ عزیز و اقرباء اور ہمسایوں کو دے دیا جاتا ہے۔جبکہ تیسرا حصہ خود گھر میں رکھ کر استعمال کیا جاتا ہے۔

لیکن ہمارے ہاں بد قسمتی سے عید آ نے سے قبل گو شت جمع اور محفوظ کرنے کی تراکیب بنائی جاتی ہیں۔اضافی فریزر اور فریج وغیرہ کا بند و بست کیا جاتا ہے۔رانیں روسٹ کرنے والوں کی طرف سے جا بجا بینر ز اور اشتہارات عام دیکھنے کو ملتے ہیں۔ لوگ گوشت کو گھر میں ہی رکھنے کے بند وبست کرنے میں مصروف پائے جاتے ہیں۔

قربانی کا تاثر ایک مذہبی تہوار کا کم اور گوشت کھانے کا موقع زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ صاحب ِ ثروت اور مالدار حضرات تو عام دنوں میں بھی پورا سال گوشت ہی کھاتے ہیں جبکہ غریب وغرباء کو سال میں چند دن گوشت کھانے کا موقع ملتا ہے۔لہٰذا ہم قربا نی کر نے کی سعادت حاصل کرنے والوں سے التماس کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کے فرمانِ اقدس کے مطابق ہی گوشت کی تقسیم کریں تاکہ قربانی کے مکمل اور صحیح ثمرات سے فیض یاب ہو نے والے بن سکیں۔

علاوہ ازیں طبی نقطہ نظر کے مطابق گو شت موجودہ دور کے خطرناک اور مہلک امراض کا باعث بھی بنتا ہے۔امراضِ قلب،امراضِ گردہ، جگر، مثانہ،یو رک ایسڈ کولیسٹرول، جوڑوں کا درد،ہائی بلڈ پریشر،قبض،گیس اوردماغی بیماریوں کو انسانی جسم پر مسلط کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

دانا کہتے ہیں کہ گوشت انسان کے اندر حیوانی خصوصیات پیدا کرتا ہے۔ذہن کو کُند کرکے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو ماند کرتا ہے۔ہوش کی نسبت جوش اور اشتعال انگیزی کو بڑھاوا دیتا ہے۔اس کے علاوہ دانتوں میں گوشت کے ریشے پھنس کر امراض ِ دندان کے مسائل پیدا کرتے ہیں۔گائے کے گوشت کے بارے ماہرین کی رائے ہے کہ اس کی زیادہ مقدار کھانے سے دماغی و سوداوی امراض پیدا ہو تے ہیں۔

علاوہ ازیں ہونٹوں اور مسوڑھوں پر سوجن کی کیفیت بھی طاری ہو جاتی ہے۔ بڑے گوشت کی نسبت چھوٹا گوشت کم مضرات کا حامل ہوتا ہے لہٰذا کوشش کریں کہ بڑے کی بجائے چھوٹے کو ترجیح دی جائے ۔ طبی ماہرین کے مطابق اگر گوشت میں سبزیاں ملا کر پکایا اور کھایا جائے تو اس کے مضر اثرات کا فی حد تک بے اثر ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا گوشت پکاتے وقت اس میں شلجم، مولی، پالک، گھیا، ٹینڈے اور کریلے شامل کر کے ہم اس کے نقصانات سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔اس کے علاوہ سبز پتوںوالی کچی سبزیوں کی سلاد،سلاد کے پتے،ٹماٹر ،پیاز اور بند گوبھی کو بھی بطور سلاد استعمال کر کے ہم اس روزِ سعید کو اپنے اور اپنی صحت کے لئے پیغامِ شفاء بناسکتے ہیں۔

جب بھی گوشت کھائیں تو درج ذیل اجزاء سونف1/4 گرام،زیرہ1/4 گرام،ادرک1 گرام،الائچی دانہ5 دانے اور شکر سرخ نصف چمچ کو ڈیڑھ کپ پانی میں پکا کر بطورِقہوہ استعمال کریں، آپ معدے سے جڑے کئی ایک مسائل سے محفوظ رہیںگے۔یخ ٹھنڈے کولا مشروبات پینے سے حتی المقدور بچنے کی کوشش کریں۔

گوشت خود ضرور کھایئے مگر حقیقی مستحقین تک ان کا حصہ بھی ضرور پہنچا یئے۔ قربانی کا دن در اصل ہمیں ایثار و قربانی کا درس دیتا ہے۔ہم اپنے مذہب، ملک و قوم،عزیز و اقرباء،دوست و احباب اور اپنے گرد و نواح کے لوگوں کے لئے قربانی دینے والے بن جائیں۔ حضرت ابراہیمؑ کی تقلید کرتے ہوئے اللہ کی رضاء و خوشنودی کی خاطر بڑی سے بڑی قربانی دینے سے بھی دریغ نہ کریں۔

palmistg@yahoo.com

Google Analytics Alternative