صحت

جگمگاتی جلد کے لیے بہترین غذائیں

آپ نے ایسے اشتہارات تو دیکھے ہوں گے جن میں مختلف کریمیں جادوئی اثرات کے وعدے کرتی نظر آتی ہیں۔

بیوٹی کریمیں اپنے وعدے کس حد تک پورے کرپاتی ہیں، اس بحث سے قطع نظر یہ کہنا درست ہوگا کہ ان کا خرچہ جیب پر کافی بھاری پڑتا ہے۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ کچھ غذائیں ایسی ہوتی ہیں جو جلد کو جگمگانے میں مدد دیتی ہیں اور جلد کی رنگت کو اتنا بہتر کرسکتی ہیں جتنا کریم بھی نہیں کرپاتی۔

یہاں ایسی ہی مزیدار غذاؤں کے بارے میں جانیں جو جگمگاتی جلد کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔

ڈارک چاکلیٹ

اگر آپ کو میٹھا کھانا پسند ہے تو چینی کے بجائے ڈارک چاکلیٹ کو کھانے کی عادت ڈال لیں، کوکا فلیونوئیڈز سے بھرپور یہ چاکلیٹ جلد کی ملائمت اور نمی کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے۔

دہی

دہی بائیوٹن (وٹامن بی کی ایک قسم) سے بھرپور ہوتا ہے جو جلد کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ناخنوں کو بھی خوبصورت بنانے میں مدد دیتا ہے، اس کے علاوہ دہی میں موجود پروٹین، چربی کو ہضم ہونے میں مدد دیتے ہیں جبکہ جسمانی وزن میں بھی کمی لاتے ہیں۔

خربوزہ

تربوز، خربوزہ اور گرمیوں میں سب کے پسندیدہ پھل ہوتے ہیں، خربوزے اور آم میں کیروٹین نامی جز ہوتا ہے جو جلد کے معیار کو بہتر بناتا ہے جبکہ یہ کیل مہاسوں کو دور کرنے، جلد کی خشکی میں کمی، جلد کی لچک میں اضافہ اور عمر بڑھنے سے جلد پر مرتب ہونے والے اثرات کی رفتار کو بھی سست کردیتا ہے۔

مچھلی

مچھلی میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈز دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ جز جلد کے لیے بھی بہترین ہے، جو ورم، دانوں اور سرخی میں کمی لاتے ہیں اور جلد کی پرتیں بننے سے روکنے اور موئسچرائزر کا کام بھی کرتے ہیں۔

سبز پتوں والی سبزیاں

یہ سبزیاں وٹامنز، منرلز اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہیں جو جلد کے خلیات کے تحفظ اور ان کی نشوونما کو بڑھاتی ہیں، جس سے جلد جھریوں سے محفوظ رہتی ہے، اسی طرح یہ جلد کو سورج کی مضر شعاعوں سے بھی تحفظ دیتی ہیں۔

گریپ فروٹ

گریپ فروٹ لائیکو پین سے بھرپور پھل ہے، یہ خلیات کو تحفظ دینے کے لیے موثر اور جسم میں گردش کرنے والے مضر اجزاء کے خلاف مزاحمت کرتا ہے جو جلد کی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔

بہت زیادہ پانی

اگر جسم میں پانی کی مقدار مناسب سطح پر برقرار رکھی جائے تو جلد پر جھریاں پڑنے کا امکان بہت کم ہوتا ہے، لہذا دن بھر میں مناسب مقدار میں پانی کا استعمال فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

پپیتا

یہ مزیدار پھل جسمانی صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہے، یہ فائبر، اینٹی آکسائیڈنٹس اور وٹامنز سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ جلد کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔

شکرقندی

اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جلد کو قدرتی طور پر تروتازہ رکھنے میں مدد دیتے ہیں جبکہ خلیات کو نقصان پہنچانے والے اجزاء کی روک تھام کرکے قبل از وقت بڑھاپے سے تحفظ دیتے ہیں۔

بیریز

اسٹرابیری اور بلیو بیری صحت کے لیے فائدہ مند اجزاء سے بھرپور ہوتی ہیں جو کہ جلد پر پڑنے والے داغوں کی روک تھام کرتے ہیں۔

سبز چائے

سبز چائے کیل مہاسوں کی روک تھام کے لیے مددگار ہے، اس کے علاوہ اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جلد کو جوان نظر آنے اور صحت مند رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

گاجر

گاجر وٹامن سی سے بھرپور ہوتی ہے جو جسم میں کولیجن نامی پروٹین کی قسم کی مقدار بڑھاتی ہے جو کہ جھریوں کی روک تھام اور عمر کے اثرات کو سست کرتا ہے، اس کے علاوہ اس میں موجود وٹامن اے جلد کی رنگت میں بہتری لاتا ہے۔

کھیرے

کھیروں میں متعدد وٹامنز اور منرلز موجود ہوتے ہیں، جن کی جسم کو ضرورت ہوتی ہے جو کہ موٹاپے سے تحفظ کے ساتھ ساتھ جلد کو جگمگانے کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔

اخروٹ

اومیگا تھری فیٹی ایسڈ اور وٹامن ای سے بھرپور یہ خشک میوہ آپ کے بالوں میں نمی برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، اس کے علاوہ ان میں کاپر کی مقدار بھی کافی ہوتی ہے جو جلد اور بالوں کے قدرتی رنگ کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں جبکہ اس منرل کی کمی آپ کے بالوں کو قبل از وقت سفید کرسکتی ہے۔

لاعلاج ذیابیطس کا علاج اب ہوگا ممکن؟

ذیابیطس کو لاعلاج مرض سمجھا جاتا ہے تاہم سائنسدانوں نے ایک نئے طریقہ علاج کے کامیاب تجربات کیے ہیں جس کے نتیجے میں بیماری سے متاثرہ دفاعی نظام کو ‘دوبارہ تربیت’ دی جاتی ہے کہ وہ انسولین کو تباہ نہ کریں۔

برطانیہ کے کنگز کالج لندن اور کارڈف یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق کے دوران محققین نے مریضوں کے اندر ننھے پروٹین ذرات داخل کیے، جنھوں نے دفاعی نظام کے خلیات کو انسولین کو ہدف بنانے سے روکا۔

ذیابیطس ٹائپ ون میں مریضوں کے جسمانی مدافعتی نظام انسولین پیدا کرنے والے خلیات پر حملہ آور ہوکر نقصان پہنچاتے ہیں اور اسی وجہ سے انسولین کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔

غصہ صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے، تحقیق

دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جنہیں غصہ نہیں آتا ہوگا یا وہ غصہ آنے پر اس کا اظہار ہی نہیں کرتے ہوں لیکن غصہ کرنے والے افراد کے لیے بری خبر یہ ہے کہ اس کے صحت پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہےکہ غصہ کے وقت کو شش کی جائے کہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں کیونکہ اس سے کئی مسائل کا سامنا ہوجاتا ہے۔

ماہرین نے تحقیق کے بعد چند ایسی خطرناک علامات وضع کی ہیں جس کی وجہ غصہ ہوسکتا ہے۔

دل کیلئے خطرناک: 

ویک فوریسٹ یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کی تحقیق کے مطابق غصہ دل کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے کیونکہ اس سے خون کا دورانیہ بھی رک جاتا ہے اور دل پر دباؤ پڑنا شروع ہوجاتا ہے جو دل کے دورے کا باعث بن سکتا ہے۔

نظام انہضام کے لیے مضر:

ہارورڈ میڈیکل اسکول کی تحقیق کے مطابق جو لوگ اکثر غصہ کرتے ہیں ان کا نظام ہاضمہ رست طور پر کام کرنا چھوڑدیتا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف ان کی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ خوراک میں بھی کمی آتی ہے۔

غصہ دماغ کمزور کرتا ہے:

غیر ملکی طبی جریدے میں  شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق غصہ کرنے سے دماغی قوت کمزور ہوتی ہے اور ساتھ ہی تناؤ(اسٹریس) کی شکایات موصول ہوتی ہے جس سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہوجاتی ہے۔

تخلیقی صلاحیتوں کو روکنے کا سبب:

ایک تحقیق کے مطابق غصہ نہ صرف دل، نظام ہاضمہ، پھیپڑوں اور دماغ کو متاثر کرتا ہے بلکہ ساتھ ہی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی بڑھنے سے روکتا ہے۔

غصے کی وجہ سے لوگ مضر صحت اشیا جیسے سگریٹ، نوشی تمباکو، نشہ آور چیزیں اور شراب وغیرہ کا استعمال کرنے لگ جاتے ہیں جو صرف اور صرف صحت کے لیے نقصان کا باعث ہیں۔

ماہرین کا مشورہ ہ کہ غصے کے وقت خاموشی اختیار کرنی چاہیے اور دل و دماغ کو زیادہ سے زیادہ سکون فراہم کرنا چاہیے۔

صحت مند رہنے کیلئے درست غذا کا انتخاب ضروری، تحقیق

غذا کے غلط انتخاب کا اثر صحت پر براہِ راست ہوتا ہے تو ایسے میں موٹاپا، معدے کی خرابی نظام ہاضمہ کی شکایات موصول ہوتی ہیں جس کی وجہ سے صحت پر منفی اثرات مرتب ہوجاتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق غذا میں فریزر کیے ہوئے پھل اور سبزیوں کو کھانا مضر ہے اس سے ان کی قدرتی افادیت میں کمی آجاتی ہے جس سے معدے میں خرابی اور تیزابیت کی شکایت کا خدشہ لاحق ہوجاتا ہے اس لیے ماہرین غذا کے انتخاب محتاط رہنے کی ہدایت دیتے ہیں۔

تلی ہوئی چیزوں سے پرہیز:

غذا میں تلی ہوئی چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ پھلوں اور سبزیوں کا زیادہ استعمال کرنا چاہیے۔ سفید ڈبل روٹی کے استعمال کے بجائے براؤن بریڈ کا استعمال کرنا زیادہ مفید ہے۔

فریزر کے پھلوں اور سبزیوں سے پرہیز:

ماہرین کے مطابق فریزر والے پھل اور سبزیوں کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ سبزیوں اور پھلوں کو فریز کرنے سے ان میں نیوٹریشن ختم ہوجاتا ہے اور ساتھ ہی اس میں وٹامنز اور معدنی افادیت فراہم کرنے میں بھی کمی آجاتی ہے جو کہ صحت میں بہت سی شکایات کا سامنا ہوتا ہے۔

اس لیے فریزر والی غذا سے پرہیز کیا جائے اور تازہ پھل اور سبزیوں کا انتخاب کیا جائے۔

جسم میں آئرن کی ضرورت:

جسم میں آئرن کا ہونا انسانی صحت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ آئرن سے جسم میں قوت مدافعت بڑھتی ہے۔

تحقیق کے مطابق آئرن کا جسم میں وافر مقدار میں ہونا دل کے امراض سے بچانے میں مدد فراہم کرتا ہے اس لیے ایسی غذا کا استعمال کیا جائے جس سے آئرن حاصل ہو۔

صحت مندانہ تیل کا استعمال:

ماہرین کا کہنا ہےکہ کھانا بنانے کے لیے ایسے تیل کا استعمال کیا جائے جوصحت کے لیے مفید ہو۔

ماہرین صحت کے مطابق کھانے میں تیل کا استعمال کم سے کم کرنا چاہیے۔ اچھی صحت کے لیے تیل کی مقدار کھانے میں کم رکھی جائے اس سے جسم میں فیٹ سالیوبل وٹامنز جذب ہوجاتے ہیں۔

کافی کا استعمال:

کافی پینے سے جسم کے تمام اعضاء حرکت میں رہتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق جو لوگ روزانہ کافی پیتے ہیں وہ دیر تک جیتے ہیں اور یہ دل کے، دماغ، جگر اور سروسس جیسی بیماری کے خدشات لاحق ہونے سے محفوظ رکھتی ہے

آنکھوں کے کونوں میں یہ ‘گلابی نقطہ’ کیوں ہوتا ہے؟

اپنی آنکھوں کو غور سے دیکھیں، اس کے کونے میں ایک گلابی نقطہ نظر آئے گا جو تکونی شکل میں ہوتا ہے۔

مگر یہ گلابی نقطہ یا طبی زبان میں پلاکا سیمیلیونیرس (Plica semilunaris) کس مقصد کے لیے ہوتا ہے، کیا آپ جانتے ہیں؟

درحقیقت متعدد طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ انسانوں میں کسی زمانے میں تیسری پلک کی نشانی ہے جو اب باقی نہیں رہی۔

اس طرح کی پلکیں پرندوں اور حشرات الارض میں پائی جاتی ہے اور ماہرین کے خیال میں کبھی ہمارے آباﺅ اجداد کی آنکھوں پر دو نہیں بلکہ تین پلکیں ہوتی تھیں۔

جانوروں میں یہ تیسری پلک آنکھوں کے تحفظ یا نمی کے لیے ہوتی ہے جس سے وہ دیکھنے کے قابل ہوتے ہیں۔

اب انسانوں میں یہ بظاہر بلا مقصد موجود ہے یا بس ایک نشانی ہے۔

تاہم اب بھی یہ ٹشو کسی حد تک کارآمد ثابت ہوتا ہے جو کہ آنسوﺅں کو بہنے میں مدد دینے کے ساتھ آنکھ میں داخل ہونے والی بیرونی اشیاء کو باہر نکالتا ہے۔

سائنسدانوں کے خیال میں یہ کسی زمانے میں آنکھوں کی نمی اور صفائی کا کام کرتا ہوگا یا کسی جنگلی علاقے میں شکاری جانوروں کو دیکھنے میں مدد دیتا ہوگا۔

کیا مسلز بنانے کے لیے یہ بہترین طریقہ ہے؟

کیا اپنے مسلز کو تیزی سے بڑھانا چاہتے ہیں ؟ تو بازو پر ایک پٹی یا بینڈ باندھ کر ویٹ اٹھانے کی عادت ڈال لیں۔

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

مسیسپی یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق بلڈ فلور ریسٹرکشن ٹریننگ (بی ایف آر) نامی اس تیکنیک میں ورزش کرتے ہوئے دوران خون کو مسلز تک جانے سے روکا جاتا ہے، جس سے مسلز کو بنانے میں مدد ملتی ہے۔

تحقیق کے مطابق اس تیکنیک کے دوران ہلکا وزن اٹھانا مسلز کو جلد بنانے میں مدد دیتا ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ ایسا کرنے سے مسلز کے بننے کا عمل تیز ہوجاتا ہے اور انہیں مضبوط بنانے میں بھی مدد ملتی ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس طریقہ کار رگوں میں دوران خون کی رفتار سست کی جاتی ہے مگر ایسا شریانوں میں نہیں ہوتا، جس سے سیلولر پراسیس میں تیزی آتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ موثر طریقہ ہے جو کہ لوگوں کو زیادہ ورزش کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سے نشوونما بھی تیز ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھاری وزن سے جسم جلد تھک جاتا ہے اور مسلز میں بل بھی آجاتے ہیں جبکہ اس تیکنک کے دوران ہلکے وزن کے ساتھ ورزش کرنے سے جسم جلد ریکور کرتا ہے اور جوڑ بھاری بوجھ سے بچتے ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ طریقہ کار وزن اٹھائے بغیر فائدہ مند نہیں اور اس تیکنیک کے لیے ہلکے وزن کے ساتھ ورزش کرنا ضروری ہے۔

تحقیق کے مطابق اس تینیک کے ساتھ ورزش کرنا مسلز مضبوط بنانے کے ساتھ مختلف انجریز سے بھی تحفظ دیتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

صحت کے لیے موٹاپے سے بھی زیادہ جان لیوا خطرہ

تنہائی انسانی صحت کے لیے موٹاپے جتنا بڑا خطرہ ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

لوگوں الگ تھلگ کٹ کر رہنے کا احساس قبل از وقت موت کا خطرہ پچاس فیصد تک بڑھا دیتا ہے جبکہ لوگوں سے میل جول بڑھا کر اسے 50 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

لوگوں سے کٹ جانا یا تنہا رہنا کسی بھی مرض کے باعث جلد باعث کا خطرہ موٹاپے کے مقابلے میں زیادہ بڑھانے والا عنصر ہے۔

برگھم ینگ یونیورسٹی کی تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ تنہائی معیار زندگی کو کم کرکے صحت کو نقصان پہنچاتی ہے جس کے نتیجے میں متعدد جان لیوا امراض لاحق ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

سماجی سے الگ تھلک ہونا اور تنہائی کے بارے میں پہلے بھی یہ شواہد سامنے آچکے ہیں کہ یہ قبل از وقت موت کا خطرہ بڑھانے والے عوامل ہیں، تاہم اس تحقیق میں اس کے اسباب کا جائزہ لیا گیا۔

اس تحقیق کے دوران تین لاکھ سے زائد مریضوں پر ہونے والے 148 طبی جائزوں کا تجزیہ کیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ لوگوں سے میل جول صحت کے لیے بہت ضروری ہے کیونکہ تنہا رہنا موٹاپے سے بھی جان لیوا عنصر ثابت ہوسکتا ہے۔

تاہم محققین نے یہ واضح نہیں کیا کہ سماجی تنہائی کن امراض کا خطرہ بڑھا کر موت کا باعث بنتی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سے معیار زندگی متاثر ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ طرز زندگی میں لوگ بہت تیزی سے دوسروں سے کٹتے جارہے ہیں اور تنہائی کا شکار ہورہے ہیں جو مجموعی صحت کے لیے تباہ کن ہے۔

بڑھتی عمر کے اثرات سے بچنے کے طریقے

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کی عمر بھی بڑھتی ہے اس لیے ڈھلتی عمر کے باوجود جوان نظر آنا یا جوانوں جیسے رہنا ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے جس کے لیے آپ ان چند مشوروں کو اپنا کر بڑھتی عمر کے اثرات سے بچ سکتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق انسان پر جوانی کا دور 40 سے 50 برس تک رہتا لیکن اس کو مزید برقرا رکھنے کے لیے آپ کو پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہیے اور ساتھ ہی کھانے میں غذا کا انتخاب محتاط ہو کر کرنا چاہیے۔

کیفین کا استعمال کم کرنا:

روازنہ کیفین کا استعمال کرنے سے جسمانی قوت سست ہوجاتی ہے اور اس سے وزن بڑھنے کے ساتھ موٹاپے کی شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق روزانہ 2 سے 3 کپ کافی اور چائے کا استعمال جواں عمری کو کم کرتا ہے جس کی وجہ سے لوگ اپنی عمر سے زیادہ بڑے دکھنے لگتے ہیں۔ اس لیے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اچھی صحت اور جوان دکھنے کے لیے کیفین کا استعمال کم کریں۔

پانی زیادہ پینا:

پانی زیادہ پینا نہ صرف جسم کے میٹابولک سسٹم کو درست رکھتا ہے بلکہ ساتھ ہی خون کی خرابی سے بھی محفوط رکھتا ہے۔

ماہرین کے مطابق زیادہ پانی کا استعمال چہرے کے بے جان سیلز کو ختم کرتا ہے اور جلد کی چمک و کشش کو بڑھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

رات کی مکمل نیند لینا:

رات کی نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی اہم ہوتی ہے اس لیے کم از کم رات کو 6 گھنٹے لازمی سوئیں جس سے جسمانی و دماغی قوت دونوں میں توانائی واپس آتی ہے۔

ماہرین کے مطابق نیند نظام ہاضمہ کو متوازن رکھتی ہے جب کہ 6 گھنٹے رات کو مکمل نیند لینے سے آنکھوں کے گرد ہلکے اور جلد پر جھائیوں کی شکایت پیدا نہیں ہوتی۔

جلد کے لیے ہلکے موسچرائیزر کا استعمال:

بے داغ اور دلکش جلد کے لیے ضروری ہے کہ اس پر بہت زیادہ کیمیکل کا استعمال نہ کیا جائے اور نہ ہی ایسے کیمیکل کا انتخاب کریں جو وقتی نتیجے کے بعد جلد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو۔ جلد کو پر رونق رکھنے کے لیے سب سے بہترین طریقہ تازہ پھلوں کا استعمال ہے۔

سبزیوں اور پھل کھائیں:

ماہرین صحت مشورہ دیتے ہیں کہ اپنی غذا میں زیادہ سے زیادہ پھل اور سبزیاں استعمال کریں کیونکہ ان میں وٹامن اے، بی اور کے ستھ ٹاکیروٹین ہوتے ہیں۔

اینٹی آکسیڈینٹ غذا بیرونی بیکٹیریا کی شکایت سے بچاتی ہے اور صحت کو تندرست اور توانا رکھتی ہے جس سے انسان اپنی خوبصورتی دیر تک برقرار رکھ سکتا ہے۔

Google Analytics Alternative