صحت

عباسی شہید اسپتال میں صفائی کا ناقص نظام، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ معطل

میئر کراچی اچانک عباسی شہید اسپتال پہنچے اور اسپتال میں گندگی اور کچرے کے ڈھیردیکھ کر شدید برہمی کا اظہار کیا جبکہ عباسی شہید اسپتال میں داخل مریضوں کی عیادت کے دوران مریضوں نے میئر کراچی وسیم اختر کے سامنے شکایات کے انبار لگا دیئے جس پر میئر کراچی نے کہا کہ بہت ہوچکا اب ناقابل برداشت ہوگیا ہے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ یورولوجی وارڈ میں ایئرکنڈیشنڈ کی مرمت کا کام جلد شروع ہوجانا چاہیے، عباسی شہید اسپتال کے شعبہ حادثات کو 24گھنٹے فعال رکھا جائے۔

دریں اثناء میئر کراچی نے اس دوران کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج اور کڈنی سینٹرنارتھ ناظم آباد کا بھی دورہ کیا۔

بڑھاپے میں نیند کی کمی کئی امراض کی وجہ بن سکتی ہے، تحقیق

کیلی فورنیا: بڑھاپے میں نیند کم گہری اور متاثر ہونا شروع ہوجاتی ہے لیکن ماہرین کا اصرار ہے کہ یہ بہت سے بیماریوں کی وجہ بن سکتی ہے جن میں دماغی و نفسیاتی امراض بھی شامل ہیں۔  

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے کی جانب سے شائع ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ بڑھاپے میں نیند کی کمی اور کچی نیند سے یادداشت متاثر ہونے کے ساتھ کئی طرح کے ذہنی وجسمانی امراض کے شکار کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا ہےکہ عمررسیدگی میں اجل لانے والی ہر بیماری کا تعلق کسی نہ کسی طرح خراب نیند سے ہوسکتا ہے، نیند میں خلل الزائیمر، دل کی بیماریوں، موٹاپے، ذیابیطس اور فالج وغیرہ کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہےکہ بزرگ افراد اپنی نیند میں خلل اور دماغی کیفیت کا زیادہ نوٹس نہیں لیتے اور اس کا تذکرہ بھی نہیں کرتے۔

ماہرین کےمطابق لاتعداد دماغی مطالعوں سے ثابت ہوا ہے کہ خراب نیند اور راتوں کو بار بار جاگنے کا عمل ذہنی صلاحیتوں کی تباہی کو ثابت کرتا ہے، اکثر افراد 30 سال کے بعد نیند میں خلل کی شکایت کرتے ہیں جو درمیانی عمر میں کئی جسمانی، دماغی اور نفسیاتی عوارض کی وجہ بنتی ہے، پھر عمر کے ساتھ ساتھ دماغ کا جو حصہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے وہ نیند کی صلاحیت ہی ہے، اس کے علاوہ بڑھاپے میں دماغ کی گہری نیند متاثر ہونا شروع ہوتی ہے جس این آر ای ایم یعنی نان ریپڈ آئی موومنٹ کہتے ہیں۔

سائنسدانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ضروری نہیں کہ ہر بزرگ نیند کی کمی یا خراب نیند کا شکار ہو، بعض بوڑھے افراد بہت اچھی طرح سوتے ہیں اور تروتازہ رہتے ہیں تاہم نیند کی خرابی کے شکار بزرگوں کے لیے مشورہ ہے کہ وہ نیند کی گولیاں کھانے سے اجتناب کریں، نیند لانے کے لیے ورزش، غذا، مراقبے اور دیگر صحتمند رحجانات کو اپنائیں۔

انسان کو رات دیر تک جگانے والا جین دریافت

نیویارک: اگر آپ رات کو دیر تک جاگنے اور صبح دیر سے اٹھنے کے عادی ہیں تو یہ آپ کی غلطی نہیں بلکہ اس میں سارا قصور آپ کے ایک جین میں ہونے والی تبدیلی کا ہے۔

راک فیلر یونیورسٹی نیویارک کے ماہرین نے انسانی جسم میں ایک ایسا جین دریافت کیا ہے جس میں ہونے والی معمولی سی تبدیلی بھی ایک اچھے بھلے انسان کو الوؤں کی طرح رات کو دیر تک جاگنے والا بناسکتی ہے۔ یہ جین انسانی جسم کی حیاتیاتی گھڑی (بایولاجیکل کلاک) سے تعلق رکھتا ہے جس کی وجہ سے ہمیں قدرتی طور پر رات کے وقت نیند آتی ہے اور صبح ہونے پر ہم جاگ جاتے ہیں، چاہے ہماری نیند پوری ہوئی ہو یا نہیں۔

دورانِ تحقیق ماہرین نے دیکھا کہ رات کو صحیح وقت پر سونے اور صبح سویرے جاگنے والوں اور رات کے پچھلے پہر تک جاگتے رہنے والے لوگوں میں ’’سی آر وائی ون‘‘ جین ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ مزید چھان بین پر معلوم ہوا کہ اس جین میں معمولی فرق کی وجہ سے متاثرہ افراد کی حیاتیاتی گھڑی گڑبڑ کرنے لگتی ہے جس کی وجہ سے انہیں رات کو بہت دیر سے نیند آتی ہے جب کہ علی الصبح اٹھنے میں وہ شدید دشواری محسوس کرتے ہیں۔

چونکہ یہ کیفیت جینیاتی خرابی کی وجہ سے ہوتی ہے اس لیے یہ بے چارے لوگ ساری زندگی اسی مسئلے کا عذاب جھیلتے رہتے ہیں اور اپنی پوری خواہش کے باوجود بھی صبح جلدی اٹھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس تحقیق کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’سیل‘ (Cell) کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

اینٹی بایوٹکس ممکنہ طور پرکینسر کا باعث ہیں، تحقیق

سائنسی جریدے ‘’گٹ‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق آنتوں میں پائے جانے والے جراثیم کا رسولیوں کی نشو و نما میں ہاتھ ہوتا ہے تاہم اس ضمن میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اینٹی بایوٹکس جسم میں جراثیم کا مجموعی ماحول تبدیل کر دیتی ہیں، اس سے جراثیم کی تعداد اور تنوع میں فرق پیدا ہو جاتا ہے اور خطرناک جراثیم کے لیے مزاحمت کم ہو جاتی ہے۔ جو سرطان کی نشو و نماکا باعث ہوتی ہے۔

اس کےساتھ ہی وہ جراثیم جن کے خلاف اینٹی بایوٹکس استعمال کی جاتی ہیں وہ بھی سوزش پیدا کرتی ہیں جس سے سرطان کی وجہ بنتی ہے۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹی وائٹنرز کیلئے نئی پیکنگ کی منظوری

ڈی جی فوڈ اتھارٹی نور الامین مینگل کے مطابق یکم جون سے تمام ٹی وائٹنر نئی پیکنگ میں ہی فروخت ہوں گے، خلاف ورزی پر لائسنس منسوخ کردیا جائے گا۔

ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل نے اتھارٹی بورڈ اجلاس میں ٹی وائٹنرز کی نئی پیکنگ کی منظوری دی،تمام کمپنیوں نے نئی پیکنگ کے سیمپل پنجاب فوڈ اتھارٹی میں منظوری کے لیے بھیجے تھے۔

ڈی جی فوڈ اتھارٹی نور الامین مینگل کے مطابق یکم جون کے بعد تمام ٹی وائٹنرز نئی پیکنگ میں ہی فروخت ہوں گے، خلاف ورزی پر لائسنس منسوخ کردیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ لاعلمی کی وجہ سے ٹی وائٹنر کا استعمال بچوں کے لیے نقصان کا باعث بن رہا تھا، وارننگ درج کرنے سے عام آدمی خالص دودھ اور ٹی وائٹنر میں فرق کر سکے گا۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی کے سائنٹیفک پینل نے نئی پیکنگ کی باضابطہ منظوری دی۔

’خودکش مائیکروکیپسولز‘ سے کینسر کا علاج

لندن: سائنسدانوں نے کینسر کی رسولیوں تک پہنچ کر انہیں براہِ راست تباہ کرنے والے باریک کیپسول تیار کیے ہیں جو کینسر ختم کرنے والی دوا کو اس کے مقام تک پہنچا سکیں گے۔

یہ کیپسول کئی تہوں میں لپیٹا جاتا ہے جسے الٹراساؤنڈ کے ذریعے آگے بڑھایا جاتا ہے اور الٹرا ساؤنڈ ہی ان مائیکروکیپسولز کی رہنمائی کرکے انہیں متاثرہ رسولی یا خلیات تک پہنچاتی ہے۔  مستقبل میں اسے کیموتھراپی جیسے تکلیف دہ عمل کی جگہ استعمال کیا جاسکے گا۔

کینسر کےخلاف دوا بھرے اس کیپسول کو یونیورسٹی آف الاباما برمنگھم (یو اے بی) نے تیار کیا ہے جس میں تین ایسی خاصیتیں ہیں جو ایک جگہ لانا ممکن نہیں ۔

اول: یہ ہلکے الٹراساؤنڈ سے آگے بڑھتے ہیں۔

دوم: ان میں ڈوکسوریو بی سن جیسی مشہور دوا رکھی جاسکتی ہے

سوم: اسے الٹراساؤنڈ سے ہی مطلوبہ مقام تک لے جاکر اس سے دوا خارج کی جاسکتی ہے۔

ڈوکسوریو بی سن کیموتھراپی میں استعمال ہونے والی عام دوا ہے جو مختلف الاقسام کینسر کو ختم کرنے میں مدد دیتی ہے۔

کیپسول پر کام کرنے والی ڈاکٹر یوجینیا کرلامپیوا کے مطابق انہوں نے ٹھوس رسولیوں کو ختم کرنے کا ایک قدرے مختلف طریقہ وضع کیا ہے۔ اس میں دوا اپنی منزل تک پہنچتے ہوئے متاثر نہیں ہوتی اور الٹراساؤنڈ سے دوا کو عمل کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ بیرونی طور پر الٹراساؤنڈ کے ذریعے ہی دوا خارج کیا جاسکتا ہے۔

کیپسول کے اندر دوا رکھ کر اسے ٹینِک ایسڈ اور پولی این وینائل پائرول آئیڈون کی کئی تہوں میں بند کیا گیا ہے۔ ان تمام پرتوں کو گھلانے اور دوا خارج کرنے کے لیے الٹراساؤنڈ کی جو مقدار درکار ہوتی ہے وہ ایف ڈی اے کی مروجہ شدت کے اندر اندر ہے۔

یہ کیپسول انسانی خون کے خلیے (سیل) سے بھی چھوٹے ہیں اور ان میں سے ہر ایک پر 8 مختلف پرتیں چڑھائی گئی ہیں۔ اس کے اندر موجود اصل دوا بھرا کیپسول صرف 50 نینومیٹر چوڑا ہے جس میں سرطان ختم کرنے والی دوا بھری ہے۔ اب اگلے مرحلے میں سائنسداں ان کیپسولوں کی خون میں روانی اور دوا ڈالنے کا عملی مظاہرہ کریں گے جس کے بعد اس کی افادیت سامنے آسکے گی۔

اس تحقیق کا لبِ لباب یہ ہے کہ اس سے دوا کو ٹھیک سرطان والی جگہ پہنچایا جاسکے جو اب بھی دنیا بھر کے ماہرین کے لیے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔

ہیٹ اسٹروک سے کیسے بچیں؟

جب انسان کے جسم کا درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گرڈ سے تجاوزکرجائے تو ہیٹ اسٹروک کا خدشہ بڑھ جاتا ہے ۔

طبی ماہرین کے مطابق ہیٹ اسٹروک کی علامات میں بخار، ضرورت سے زیادہ پسینہ آنا، نقاہت ،کمزوری اور کپکپاہٹ شامل ہے، اس صورت میں پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال، سایہ دار جگہ میں رہنا اور سر کو ڈھانپنا انتہائی ضروری ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ گرم ہوائیں چلنے کے باعث لوگ کھلے کپڑے پہنیں، ہر وقت پانی اپنے ساتھ رکھیں اور غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نہ نکلیں۔

باپ کے ساتھ رہنے والے بچے بہتر نشوونما پاتے ہیں

لندن: برطانوی ماہرین نے ایک دلچسپ سروے میں انکشاف کیا ہے کہ جو بچے اپنے والد کےساتھ رہتے ہیں وہ نہ صرف زیادہ صحتمند، مسرور، نفسیاتی اور جسمانی طور پر بہتر نشوونما پاتے ہیں۔

برطانوی ماہرین کے اس سروے میں یہ بات ثابت ہوئی ہےکہ جو بچے اپنے والد کےساتھ رہتے ہیں وہ نہ صرف ذیادہ صحتمند، مسرور، نفسیاتی اور جسمانی طور پر بہتر نشوونما پاتے ہیں جس سے گھر میں والد کے بہت اہم کردار کی اہمیت بھی واضح ہوئی ہے۔ صرف یہی نہیں جو بچے اپنے سگے والد کے ساتھ زیادہ وقت گزارتے ہیں وہ عملی زندگی میں بھی کامیاب رہتے ہیں۔

لیکن اس سروے کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ اگر سگے باپ کی جگہ سوتیلا والد بچوں کے ساتھ رہے تو اس سے بچوں کی صحت اور فلاح پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا۔ اس سے ثابت ہوا کہ سوتیلا باپ کبھی بھی سگے باپ کی جگہ نہیں لے سکتا اور نہ ہی اس سے بچوں کو فلاح اور بہتری پر کوئی اثر پڑتا ہے۔

لندن اسکول آف اکنامکس کے ماہرین نے اس سروے کے لیے ایک ہزار بچوں کا جائزہ لیا اور ان میں معاشی صورتحال، تعلیم، صحت اور دیگر اہم رحجانات کا جائزہ اس وقت سے لینا شروع کیا جب بچوں کی اوسط عمر 7 برس تھی۔ اس سروے میں سگے والد، سوتیلے والد اور صرف اپنی ماں کے ساتھ رہنے والے بچوں کا جائزہ لیا گیا۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ جب کسی خاندان میں سوتیلے باپ نے قدم رکھا تو مسائل ویسے ہی رہے جیسے کہ پہلے تھے۔ اس کے علاوہ بچوں کی تعلیمی کارکردگی، جرائم ، بگاڑ اور رویے میں زیادہ فرق دیکھنے میں نہیں آیا۔ سروے میں یہ بھی دیکھا گیا کہ اگر سگا باپ بچوں کو چھوڑ کرچلاجائے یا فوت ہوجائے تو اس گھر میں ایسے مسائل جنم لیتے ہیں جو بچوں کو متاثر کرتے ہیں اور وہ سوتیلے باپ کی آمد سے حل نہیں ہوتے۔

Google Analytics Alternative