صحت

دوپہر میں نیند کی وجہ کھانا نہیں بلکہ دماغ ہے، تحقیق

سڈنی: اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ دوپہر میں کھانا کھانے کی وجہ سے نیند آتی ہے تو اپنی غلط فہمی دور کرلیجیے کیونکہ آسٹریلوی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ ہمارا دماغ اس نیند کی وجہ بنتا ہے چاہے ہمارا پیٹ بالکل خالی ہو اور ہمیں شدید بھوک ہی کیوں نہ لگ رہی ہو۔

دماغی عکس نگاری کی پیچیدہ اور حساس تکنیکیں استعمال کرتے ہوئے سوئنربرن یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، آسٹریلیا میں اعصابی ماہرین کی ایک ٹیم نے سراغ لگایا ہے کہ دن میں دوپہر 2 بجے کے لگ بھگ ہمارا دماغ انتہائی سست پڑا ہوتا ہے۔

البتہ دماغ میں پیدا ہونے والی یہ سستی اور کاہلی کسی کھانے کا نتیجہ ہر گز نہیں ہوتی بلکہ اس کی وجہ وہ قدرتی حیاتیاتی گھڑی (بایولاجیکل کلاک) ہے جو ہمارے سونے جاگنے کے سارے معمولات کنٹرول کرتی ہے۔ واضح رہے کہ حیاتیاتی گھڑی ایک پیچیدہ قدرتی نظام کا نام ہے جسے طبّی زبان میں ’’سرکاڈیئن ردم‘‘ کہا جاتا ہے۔ اسی نظام کی بدولت ہم دن میں جاگتے ہیں اور رات میں سوتے ہیں، صبح کا ناشتہ کرکے چاق و چوبند محسوس کرتے ہیں اور رات کے کھانے کے بعد ہمیں خود بخود ہی نیند آنے لگتی ہے۔

شادی شدہ ہونا جان لیوا مرض سے تحفظ فراہم کرے

شادی امراض قلب سے موت کے خطرے کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

آسٹن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ شادی شدہ افراد میں ہارٹ اٹیک کی صورت میں بچنے کا امکان تنہا لوگوں کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق شادی امراض قلب سے موت کے خطرے میں اس وجہ سے مددگار ثابت ہوتی ہے کیونکہ شریکحیات ایک دوسرے کے صحت مندانہ طرز زندگی کے لیے مدد کرتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کو ادویات لینا یاد دلاتے ہیں اور عام طور پر مختلف امراض پر قابو پانے میں مدد کرتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق شادی شدہ ہونا زندگی کے مختلف حصوں کے لیے جذباتی اور جسمانی سپورٹ فراہم کرتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران انگلینڈ میں 2000 سے 2013 کے دوران ہسپتال داخل ہونے والے مریضوں کے ڈیتا کا تجزیہ کیا گیا۔

محققین نے ایسے مریضوں کا جائزہ لیا جنھیں ہارٹ اٹیک کا سامنا ہوا یا امراض قلب کی علامات سامنے آئیں، جبکہ ان مریضوں کی درجہ بندی ازدواجی حیثیت سے کی گئی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ شادی شدہ افراد ہارٹ اٹیک کے حملے سے تنہا افراد کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ بچتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کے حوالے سے پیچیدگیوں کی روک تھام میں بھی شادی شدہ افراد کو تنہا لوگوں کے مقابلے میں بالترتیب 14 اور 10 فیصد زیادہ تحفظ ملتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ شادی شدہ زندگی میں تعلق کی بہت اہمیت ہوتی ہے اور ایسے متعدد شواہد موجود ہیں کہ تناﺅ اور پرتناﺅ واقعات جیسے طلاق کا تعلق امراض قلب سے ہے۔

اس تحقیق کے نتائج کو یورپین سوسائٹی آف کارڈیالوجی کانگریس میں پیش کیا گیا۔

ذیابیطس کی ایک اور علامت سامنے آگئی

ذیابیطس ٹائپ ٹو دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والا مرض ہے جو متعدد بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھاتا ہے۔

تاہم یہ ایسا خاموش قاتل مرض ہے جس کا علم اکثر افراد کو اس وقت ہوتا ہے جب وہ کافی زیادہ بڑھ چکا ہوتا ہے جبکہ جسم پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوچکے ہوتے ہیں۔

ذیابیطس کی مختلف علامات ہیں جو اس کی نشاندہی کرتی ہیں جیسے ضرورت سے زیادہ پیشاب آنا خصوصاً رات کو، پیاس کی شدت بڑھ جاتا یا ہر وقت پیاس، تھکاوٹ کا احساس اور خراشیں یا زخم جلد نہ بھرنا وغیرہ۔

مگر کچھ علامات ایسی ہوتی ہیں جو واضح نہیں ہوتیں مگر یبشتر افراد میں وہ دیگر عام علامات کی بجائے سامنے آتی ہیں۔

ایسی ہی ایک علامت کندھوں کے جوڑوں میں اکڑن اور تکلیف کا احساس ہے اور طبی ماہرین کے مطابق اسے بھی ذیابیطس ٹائپ کی علامات میں شامل کیا جانا چاہئے۔

اس عارضے میں کندھوں کے جوڑ کے غلاف میں سوزش ہوتی ہے جس کی بناءپر جوڑ سخت ہوکر ہلنے جلنے سے قاصر ہوجاتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق یہ ذیابیطس کے شکار میں توقع سے زیادہ عام علامت ہوتی ہے اور اکثر ان مریضوں کو یہ علم نہیں ہوتا کہ وہ ذیابیطس کے شکار ہوچکے ہوتے ہیں۔

اس حوالے سے ایک طبی تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ عارضہ ذیابیطس کے شکار افراد کو جسمانی اور ذہنی دونوں طریقوں سے نقصان پہنچانے کا باعث بنتی ہے اور شوگر کے مریضوں میں کندھوں کا درد عام ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق ذیابیطس کے 27.5 فیصد مریضوں کو کندھوں کے کسی قسم کے عارضے کا سامنا ہوتا ہے۔

تحقیق میں یہ بات سامنے نہیں آسکی کہ ذیابیطس کے مریضوں میں یہ شکایت اتنی عام کیوں ہوتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف ڈائیبیٹس انویسٹی گیشن میں شائع ہوئے۔

نمک کا زیادہ استعمال دل کے لیے تباہ کن

کیا نمکین چپس، گریاں، فرنچ فرائز یا دیگر جنک فوڈ کھانا پسند کرتے ہیں ؟ تو یہ عادت آپ کے دل کو تباہ کن نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتی ہے۔

یہ انتباہ فن لینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق کے دوان سامنے آیا۔

نیشنل انسٹیٹوٹ فار ہیلتھ اینڈ ویلفیئر کی تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ روزانہ 13.7 گرام یا اس سے زیادہ نمک استعمال کرتے ہیں، ان میں ہارٹ فیلیئر کا خطرہ دیگر افراد کے مقابلے میں دوگنا زیادہ ہوسکتا ہے۔

کمردرد کا بہترین علاج…قدرتی غذا

آج کی روزمرہ زندگی کی ناہمواریوں کے باعث کمر درد جیسی بیماری عام ہوتی جا رہی ہے، جو کسی کو بھی عمر کے کسی حصہ میں بھی انتہائی تکلیف سے دوچار کر دیتی ہے۔

یہ ایک شدید نوعیت کا درد ہے جو کمر کے عضلات اور اعصاب میں رو نما ہوتا ہے۔ اگر اس کا بر وقت تدراک نہ کیا جا سکے تو حامل درد عمر بھر اس تکلیف میں مبتلا رہنے پہ مجبور ہو سکتا ہے۔ جب کمر درد کا حملہ ہوتا ہے تو مریض کا جسم ناتواں اور کمزور ہو کر رہ جاتا ہے۔ درد کی شدت حرکت کرنے،اٹھنے بیٹھنے اور دن کی نسبت رات کے وقت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اس کی طبی لحاظ سے کئی وجوہات ہوا کرتی ہیں، لیکن آج کل ایسے افراد جن کو زیادہ دیر حالت نشست میں رہنا پڑتا ہو یا زیادہ وقت کھڑے ہو کر کام کرنا پڑتا ہے، وہ اس کی زد میں زیادہ آ تے ہیں۔

مزاج میں گرمی یا سردی کا عنصر بڑھ جانے سے بھی کمر درد حملہ آور ہو جایا کرتا ہے۔ اسی طرح یورک ایسڈ کی طبعی مقدار کی زیادتی، قبض، مہروں میں خلا پیدا ہونا، ورمِ گردہ، گردے میں پتھری کا ہونا اور امراض مردانہ یعنی احتلام، جریان اور امراضِ نسواں جیسے لیکوریا، بندشِ حیض وغیرہ بھی کمر درد کا سبب ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح بھاری وزن اٹھانے سے اچانک کمر میں جھٹکا لگنا یا کمر کے پٹھوں میں کھچاؤ پیدا ہونا بھی کمر درد کا ذریعہ بنتا ہے۔

عیدالاضحیٰ کے پکوان

پنجابی مسالا چانپ

اجزا:

مٹن چانپ: دس عدد، پیاز(درمیانی): دو عدد، ٹماٹر:آدھا کلو، دہی: ایک سے ڈیڑھ کپ، پسا ہوا بُھنا زیرہ: ایک چائے کا چمچہ، پسی ہوئی سرخ مرچ: ایک کھانے کا چمچہ، گرم مسالا: دو چائے کے چمچے، لیموں کا رس: دو کھانے کے چمچے، تازہ ہرا دھنیا: تین کھانے کے چمچے، نمک: ایک سے ڈیڑھ چائے کا چمچہ، ادرک لہسن کا آمیزہ یا پیسٹ: دو سے ڈھائی کھانے کا چمچے، تیل: حسب ضرورت

ترکیب:

ایک گہرے پیندے کی کڑاہی میں تیل ڈال کر گرم کریں۔ پھر اس میں مٹن چانپ، ٹماٹر، باریک کٹی پیاز، لال مرچ، دہی، نمک اور ادرک لہسن کا پیسٹ ڈال کر اچھی طرح ملائیں۔ جب آبال آنے لگے تو کڑاہی کو ڈھک دیں۔ آنچ ہلکی کردیں اور لگ بھگ پچاس منٹ تک پکائیں،یہاں تک کہ چانپ کے گلنے میں معمولی سی کسر رہ جائے۔ اب اس میں اوپر سے پسا ہوا زیرہ ڈال دیں اور مزید دس سے پندرہ منٹ تک پکنے دیں۔ اس عرصے میں گوشت اچھی طرح گل جائے گا اور شوربہ گاڑھا ہوجائے گا۔ آخر میں گرم مسالا اور لیموں کا رس شامل کرلیں اور ہرے دھنیے سے سجا کر نان اور رائتے کے ساتھ پیش کریں۔

مہارانی ران

بکرے کی ران: ایک

بکرے کی ران: ایک سے ڈیڑھ کلو، کچا پپیتا: ایک کھانے کا چمچہ، دہی:  ڈیڑھ کپ، ادرک لہسن کاپیسٹ: دوکھانے کے چمچے، کھویا: آدھا کپ، گرین چلی گارلک سوس: دو کھانے کے چمچے، تلی اور پسی پیاز: چارکھانے کے چمچے، چھلے اور بھنے بادام: ایک کھانے کا چمچہ، نمک: ڈیڑھ چائے کا چمچہ، پسادھنیا: ڈیرھ چائے کا چمچہ، بھنا اور پسازیرہ: ایک 1چائے کا چمچہ، گرم مسالا: ایک چائے کا چمچہ، پسی جائفل: چوتھائی چائے کا چمچہ، پسی جاوتری: نصف چائے کا چمچہ، پسی ہری الائچی: چوتھائی چائے کا چمچہ، فریش کریم: نصف کپ، اْبلے انڈے: دو عدد، فرنچ فرائز: پیش کرنے کے لیے، ثابت چھلے اور تلے ہوئے بادام : پندرہ عدد

ترکیب:

کچا پپیتا ، دہی ، ادرک لہسن کا پیسٹ، کھویا ، گرین چلی گارلک سوس ، تلی اور پسی پیاز ، چھلے اور بھنے بادام، نمک، پسی لال مرچ، پسادھنیا ، جائفل، جاوتری اور پسی ہری الائچی کو ایک برتن میں ڈال کر اچھی طرح ملالیں۔ ایک پیسٹ سا بن جائے گا۔ اس میں سے آدھا یا دو تہائی پیسٹ بکرے کی ران پر اچھی طرح لگا کر دو سے چار گھنٹے کے لیے چھوڑ دیں۔

اس کے بعد کڑاہی یا کھلے منھ کے برتن میں دو کپ تیل کڑکڑائیں اور اس میں ران ڈال کر اچھی طرح فرائی کرلیں۔ اب اس میں باقی پیسٹ ڈال کر  ہلکی آنچ پر 35سے 40منٹ تک پکائیں۔ اس کے بعد دو عدد اْبلے انڈے، فرنچ فرائز، ثابت چھلے اور فرائی بادام اور کریم سے سجاکر شیرمال کے ساتھ کھانے کے لیے پیش کریں۔

افغانی کباب

اجزا

قیمہ: ایک کلو، پیاز: ایک عدد، شملہ مرچ: ایک عدد، ٹماٹر: ایک عدد، ہری مرچ: تین عدد، ہرا دھنیا: آدھ کپ، ثابت دھنیا: ایک کھانے کا چمچہ، ثابت زیرہ: ایک کھانے کا چمچہ، کٹی لال مرچ: ایک کھانے کا چمچہ، نمک: حسب ذائقہ، بیسن: چوتھائی کپ، انار دانہ: دو کھانے کے چمچے

ترکیب:

پیاز ، شملہ مرچ ، ٹماٹر اور ہری مرچ کو باریک کتر کر قیمے میں شامل کردیں۔ اب اس میں نمک ، کٹی لال مرچ ، بیسن ، انار دانہ اور باقی تمام اجزا شامل کرکے اچھی طرح ملالیں۔

اب قیمے کو کباب کی شکل میں سیخ پر لگائیں اور کوئلوں پر تل لیں۔ پتیلی میں ہلکا سا تیل ڈال کر بھی انھیں تلا جاسکتا ہے۔

گلاوٹ کے کباب

اجزا

گائے کا قیمہ: ایک کلو، تازہ کریم: ایک پیکٹ، باریک کٹا ہوا پودینہ: ایک گٹھی، انڈا : ایک عدد، ڈبل روٹی کے سلائس: تین عدد، لونگ: چار عدد، باریک کٹی ہری مرچ: چار عدد، کالی مرچ: چھے عدد، چھوٹی الائچی: چھے عدد، سفید زیرہ: ایک چائے کا چمچہ، کالا زیرہ: ایک چائے کا چمچہ، خشخاش: ایک کھانے کا چمچہ، پسی لا ل مرچ: ایک کھانے کا چمچہ، پسا ہوا کچاپپیتا: دو کھانے کے چمچے، چنے: دو کھانے کے چمچے، تیل: حسب ضرورت، نمک: حسب ضرورت

ترکیب:

پہلے چنے، سفید زیرہ ، کالا زیرہ، چھوٹی الائچی، لونگ ، کالی مرچ اور خشخاش ساتھ ملا کر اچھی طرح پیس لیں۔

اب قیمے میں پسا ہوا مسالا اور ڈبل روٹی کے سلائس ملا کر چوپرمیں پیس لیں۔ اس کے بعد اس میں پساہوا کچا پپیتا، کریم ، نمک ، پسی لال مرچ ، انڈا، پودینہ اور ہری مرچ ملا کر اچھی طرح گوندھ لیں۔ اب اس آمیزے کے کباب بنا کر اتنا تلیں کہ کچھ کسر باقی رہ جائے۔ تمام کباب تلے جاچکیں تو انھیں ایک دیگچی میںپھیلا کررکھیں اور لیموں کارس شامل کرکے ہلکی آنچ پر دَم پر رکھ دیں۔ مزے دار گلاوٹ کے کباب گرم گرم شیرمال کے ساتھ سرو کریں۔

 

گوشت مُضر صحت بھی ہوسکتا ہے

عیدالاضحیٰ سر پر ہے۔ چند روز کے بعد ہر گھر میں خواتین بریانی، تکے، قورمہ، روسٹ سمیت گوشت کے مختلف پکوان بنانے میں مصروف ہوجائیں گی۔

ہمارے میں معاشرے میں عام دنوں میں بھی گوشت شوق سے کھایا جاتا ہے مگر عید قرباں کے دنوں میں اس کا استعمال خاص طور سے بڑھ جاتا ہے۔ دوپہر اور رات کے کھانے کے علاوہ بہت سے لوگ ناشتے میں بھی گوشت کے پکوان کھانا پسند کرتے ہیں۔گوشت پکانے کے بہت سے طریقے ہیں تاہم اس دوران اگر کچھ احتیاطیں اختیار کرلی جائیں تو اس کا ذائقہ بڑھ جائے گا اور غذائیت بھی برقرار رہے گی۔

گوشت پکانے کا ایک مقبول طریقہ باربی کیو ہے، خاص طور سے عیدقرباں کے دنوں میں ہر گھر میں باربی کیو کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس طریقے میں گوشت کو اوون میں یا کوئلوں پر سینکا جاتا ہے۔ کوئلے پر سینکنے کی وجہ سے گوشت کا ذائقہ بڑھ جاتا ہے۔ باربی کیو گوشت پکانے کے دوسرے طریقوں کے مقابلے میں زیادہ صحت بخش ہے کیوںکہ اس طریقے سے گوشت میں موجود چکنائی کم ہوجاتی ہے۔

ادرک جوڑوں کے درد کے لیے اکسیر قرار

کراچی: ادرک کے جسمانی و طبی فوائد سے ہم سب بخوبی واقف ہیں اور اب ماہرین نے اس کے استعمال کو گٹھیا اور جوڑوں کا درد ختم کرنے میں بھی بہت مفید قرار دیا ہے۔

ایشیا اور افریقا میں کثرت سے استعمال ہونے والی ادرک کو تیل، پاؤڈر اور اصل حالت میں کھانوں اور ادویہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ہاضمے کی بہتری کے لیے ادرک کا استعمال عام کیا جاتا ہے لیکن اب جوڑوں کے درد میں اس کی بھرپور افادیت سامنے آئی ہے۔

بعض سائنسی مطالعات سے عیاں ہے کہ جوڑوں کے درد میں مبتلا افراد کو جب ادرک یا اس کے اجزا کھلائے گئے تو ان کے جوڑوں میں سوزش کم ہوئی اور گٹھیا کے مرض میں افاقہ ہوا۔

Google Analytics Alternative