صحت

ایسی زہریلی جھاڑی جو گنج پن کا شکار لوگوں کے سر بالوں سے بھر دے

مرد ہو یا عورت بالوں کا جھڑنا یا گنج پن سب کے لیے بہت بڑا مسئلہ ہے، آج کل مرد حضرات کے ساتھ خواتین بھی بالوں کے جھڑنے اور گنج پن جیسے مسائل کا شکار ہیں جب کہ ایک باراگر بال جھڑنا شروع ہوجائیں تو انہیں واپس اگانا نہایت کٹھن ہوتا ہے۔

خواتین بالوں کی نشوونما اورانہیں گھنا اور چمکدار بنانے کیلئے مہنگی مصنوعات کی خریداری میں ہزاروں روپے برباد کردیتی ہیں اوراکثر پروڈکٹس میں شامل کیمیکلز بالوں کو فائدہ پہنچانے کے بجائے انہیں نقصان پہنچاتے ہیں جس کے نتیجے میں بال جھڑنا شروع ہوجاتے ہیں، تاہم خواتین و حضرات یہ آسان سا گھریلو ٹوٹکا آزماکر بالوں کے مسائل کا شکار ہونےسے بچ سکتے ہیں۔

گرم مرطوب علاقوں میں پایا جانے والا کینر کا درخت جسامت میں کافی چھوٹا ہوتا ہے جب کہ یہ اکثر جھاڑیوں کی شکل میں بھی پایا جاتا ہے اس درخت کے پتے ابتدا میں سرمئی رنگ کے ہوتے ہیں  بعد ازاں یہ ہرے رنگ میں تبدیل ہوجاتے ہیں اس کے علاوہ اس درخت کے پھول پیلے اور سرخ رنگ کے ہوتے ہیں۔

آپ کی شخصیت کیسی ہے؛ اپنے ناخنوں سے پوچھ لیجیے

 ہر انسان کے ناخن دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں یہاں تک کہ بچوں کے ناخن بھی والدین سے جداگانہ ہو سکتے ہیں۔ البتہ ناخنوں کی ساخت میں شخصیت کے راز بھی پوشیدہ ہوتے ہیں۔

نائجیریا کے ایک ماہر نے ہزاروں افراد کے ناخنوں کی ساخت اور ان کے کردار کا جائزہ لینے کے بعد بتایا ہے کہ اگر ناخنوں کا بغور جائزہ لے لیا جائے تو اس سے انسان کی پوشیدہ شخصیت بھی بے نقاب ہو سکتی ہے۔ وہ کیسے؟ ملاحظہ کیجیے:

چوڑے، لمبے اور مستطیل نما ناخن

اس ساخت والے ناخن پرسکون، بردبار، متوازن، آزاد اور وسیع تر ذہنیت رکھنے والی شخصیت کے عکاس ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ قابلِ بھروسہ ہوتے ہیں اور وہ اپنی گفتگو سے لے کر عمل تک میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ پیدائشی لیڈر بھی ہوتے ہیں۔

بہت چھوٹے اور مربع شکل والے ناخن

ایسے ناخن جن لوگوں کے ہوتے ہیں وہ تیز دماغ، لچک دار مزاج اور دوسروں سے بہت اچھے تعلقات رکھنے والے ہوتے ہیں۔ وہ بہت جلدی غصے میں آجاتے ہیں لیکن اتنی ہی جلدی ان کا غصہ ختم بھی ہوجاتا ہے۔ البتہ وہ بہت لالچی اور پرتشدد مزاج رکھنے کے علاوہ دوسروں سے جلن اور حسد کرنے والے بھی ہوتے ہیں۔

لمبے لیکن کم چوڑے ناخن

کافی کا استعمال طویل العمری کا سبب بن سکتا ہے ؛ طبی ماہرین

کافی پینا کسے پسند نہیں ، کچھ اسے ترو تازگی اورفریشنس کا سبب مانتے ہیں تو کچھ اسے چستی کی وجہ بھی قرار دیتے ہیں تاہم صرف یہی نہیں بلکہ کافی طویل العمری کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

ایسا ہم نہیں کہہ رہے بلکہ حال ہی میں امریکی ماہرین کی تحقیق کے مطابق کافی کا استعمال طویل العمری کا سبب بنتا ہے۔

انلز آف انٹرنل میڈیسن کی رپورٹ کے مطابق دن میں تین کپ کافی پینے والے افراد لمبی عمر پاتے ہیں۔

تحقیق میں دس یورپی ممالک سے 5لاکھ بیس ہزارافراد کوریسرچ کا حصہ بنایاگیا جس کے نتائج میں واضح ہوا کہ کافی کے استعمال سے امراضِ قلب ، کینسر، گردے کے امراض،فالج، نظامِ تنفس میں خرابی اورشوگر جیسے خطرناک مرض سے چھٹکارا مل سکتا ہے

ہانگ کانگ چست، انڈونیشیا سست ترین افراد کے حوالے سے سر فہرست

نئی تحقیق نے چست اور سست ممالک کی نشاندہی کردی، ہانگ کانگ چست ترین جبکہ انڈونیشیا سست ترین افراد کے حوالے سے سر فہرست قرار پایا ہے۔

امریکی ماہرین کہتے ہیں جس ملک کے لوگ جتنا زیادہ پیدل چلتے ہیں اس ملک میں موٹاپے کا تناسب اتنا ہی کم ہوتا ہے۔

اسٹین فورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے مختلف ممالک کے 7لاکھ سے زائد لوگوں پر ریسرچ کی، ماہرین نے اسمارٹ فون موبائل ایپ کے ذریعے ان لوگوں کے پیدل چلنے کا ڈیٹا ریکارڈ کیا۔

تحقیق کے مطابق مختلف ممالک میں لوگوں کے پیدل چلنے کا تناسب یومیہ 4ہزار 961قدم تھا،اس حوالے سے ہانگ کانگ سرفہرست رہا جہاں کے لوگ زیادہ پیدل چلتے ہیں اور یومیہ 6ہزار 881قدم اٹھاتے ہیں ۔

سست ترین ممالک میں انڈونیشیا کا نام آیا جہاں پیدل چلنے کا تناسب یومیہ 3ہزار 513قدم تھا۔

ماہرین کے مطابق نئی تحقیق سے دنیا میں بڑھتے ہوئے موٹاپے کو کنٹرول کرنے کے مزید نئے طریقے سامنے آئیں گے اور اس تحقیق سے موٹاپے کا شکار افراد کو پیدل چلنے اور جسمانی سرگرمیوں کی ترغیب بھی دی جاسکے گی

مٹی کے برتن سے پانی پینے کے حیران کن فوائد

فریج میں پانی ٹھنڈا کر کے پینے کے با نسبت مٹکے میں پانی محفوظ کر کے پینا انسانی صحت کے لیے خوب فائدہ مند ہے۔

مٹی کے کولر یا مٹکے میں پانی محفوظ کرکے پینا صحت کے لیے انتہائی مؤثر اور مفید ہے۔ زمینی مٹی سے قدرتی طور پر بے شمار معدنیات اور وٹامنز حاصل ہوتے ہیں۔ اسی طرح مٹی کے برتن میں بھی یہ خصوصیت پائی جاتی ہے ۔

پہلے زمانے کے لوگ مٹی کے برتن سے پانی پیتے تھے کیونکہ ہمارے آباؤاجداد اس کی افادیت کو خوب جانتے تھے لیکن اب یہ رواج نہیں رہا۔ بہت ہی کم لوگوں کے گھر میں آج کل مٹکے میں پانی رکھا جاتا ہے۔ مٹکے کے پانی کی خصوصیات میں سب سے اہم پانی کا ٹھنڈا رہنا ہے۔

مٹکے کا پانی ٹھنڈا رہتا ہے:

مٹکے کے اندر پانی قدرتی طور پر ٹھنڈا رہتا ہے اور ساتھ ہی مٹی کی معدنیاتی نعمت سے بھی بھر پور رکھتا ہے ۔مٹکے کا پانی قدرتی طور پر بدلتے ہوئے موسم کے حساب سے ٹھنڈا رہتا ہے۔

الکلائن کی فراہمی :

مٹی کے اندر قدرتی الکا لائن ہوتا ہے جو کہ جسم کے پی ایچ لیول کو متوازن رکھتا ہے ۔انسانی جسم میں ایسیڈک ایسڈ ہوتا ہے، مٹی میں الکلائن کی فراہمی ہونے کی وجہ سے یہ پیٹ درد، معدے کی سوزش، تیزابیت اور دیگر اندرونی درد کی شکایات کو دور رکھتا ہے۔

مٹکے یا مٹی کے برتن میں پانی محفوظ کر کے پینے سے یہ تمام فائدے حاصل ہوتے ہیں جو جسم کے لیے موثر ہیں۔

نظام ہاضمہ اور میٹا بولزم کو بہتر کرتا ہے:

مٹکے کا پانی پینے سے میٹابولزم سسٹم بہتر ہوتا ہے۔ اس سے کوئی خطرناک کیمیکلز کا خدشہ لاحق نہیں ہوتا جب کہ پلاسٹک کی بوتل اور دیگر چیزوں میں اکثر خطرناک کیمیکل بی پی اے وغیرہ شامل ہوتا ہے۔ مٹکے کا پانی پینے سے نظام ہاضمہ اور جسم میں ٹیسٹوسٹیرون متوازن رہتا ہے۔ اس کے اندر معدنیات محفوظ ہونے کے باعث یہ معدے اور نظامہ ہاضمہ کو درست رکھتا ہے۔

گلے کے لیے مؤثر:

فریج میں رکھے ہوئے ٹھنڈے پانی کو پینے سے اکثر گلے میں تکلیف کی شکایت ہوتی ہے کیونکہ یہ گلے کے غدود کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

لیکن مٹکے کا پانی ایک ہی درجہ حرارت پر برقرار رہتا ہے اور اس کے پینے سے گلے کی کوئی شکایت درپیش نہیں ہوتی اس لیے مٹکے کا پانی کھانسی، ٹھنڈ اور سانس کی تکلیف سے بچاؤ میں مدد فراہم کرتا ہے۔

ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ :

موسم گرما میں سورج پانی کی پیاس زیادہ لگتی ہے اس لیے دور جدید میں ہر کوئی فریج کی سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹھنڈا پانی پیتا ہے جو نقصان دہ ہے۔

گرمی میں مٹکے کا پانی استعمال کرنا جسم میں نیوٹریشن ،وٹامن گلوکوز کو متوازن رکھتا ہے اور ہیٹ اسٹروک کے خدشے سے محفوظ رکھتا ہےجب کہ مٹکے کا پانی دن بھر تازگی اور تسکین فراہم کرتا ہے اور ساتھ ہی صحت کو تحفظ دیتا ہے۔

سویٹنر کا استعمال ذیابیطس کا خطرہ بڑھائے

کیا آپ چینی کی جگہ مصنوعی مٹھاس یا سویٹنر کو ترجیح دیتے ہیں؟ اگر ہاں تو اب وقت ہے کہ اس کا استعمال ترک کردیں۔

یہ انتباہ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

یالے یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ مصنوعی مٹھاس موٹاپے اور ذیابیطس جیسے جان لیوا مرض کا خطرہ بڑھانے کا باعث بن سکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق سویٹنر کا ذائقہ جسمانی میٹابولزم کو دھوکا دے کر یقین دلاتا ہے کہ ہم زیادہ کیلوریز استعمال کررہے ہیں جس کے نتیجے میں جسم توانائی کی موجودگی کے سگنلز محسوس کرتا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہوتا

بچوں کے پھیپھڑوں میں وائرس سے اموات میں پاکستان سرِفہرست

کراچی: ماہرین کے مطابق پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں پھیپھڑوں کے وائرس سے ہلاک ہونے والے ممالک میں پاکستان سرِفہرست ہے۔

ماہرین نے رسپائٹری سنسیشیئل وائرس (آر ایس وی) سے بچاؤ کی مؤثر ویکسین تیار کرنے پر زور دیا ہے تاکہ ہرسال ہونے والی قریباً 115,000  اموات کو ٹالا جا سکتا ہے۔

آر ایس وی عموماً چھ ماہ تک کے بچوں کو زیادہ شکار بناتا ہے اور ان میں سے 99 فیصد بچوں کا تعلق ترقی پزیر ممالک سے ہے۔ پاکستان کے علاوہ باقی ملکوں میں بھارت، چین، نائجیریا اور انڈونیشیا شامل ہیں اور پوری دنیا کے نصف سے زائد آرایس وی کے کیس ہوتے ہیں۔ تاہم باضابطہ اعدادوشمار کی عدم موجودگی کی وجہ سے انفیکشن کے واقعات اور اموات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

احساسِ تنہائی؛ ایک نئی ہلاکت خیز عالمی وبا

یوٹاہ: نفسیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ احساسِ تنہائی کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے کیونکہ اب یہ کیفیت ایک نئی اور جان لیوا بیماری کا روپ دھارتی جا رہی ہے جب کہ اس سے وابستہ خطرات موٹاپے سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔

امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن کے 125 ویں سالانہ اجلاس میں برگہام ینگ یونیورسٹی، یوٹاہ کی نفسیات داں، پروفیسر ڈاکٹر جولیان ہولٹ لنسٹاڈ اور ان کی ٹیم نے 218 مطالعات کے تجزیئے (میٹا اینالیسس) پر مبنی نتائج پیش کیے۔ ان نتائج سے پتا چلتا ہے کہ وہ لوگ جو لمبے عرصے تک اکیلے رہتے ہیں، تنہا رہنے کے عادی ہوتے ہیں، زیادہ دوست بنانے سے گریز کرتے ہیں، زیادہ ملنا جلنا پسند نہیں کرتے یا پھر احساسِ تنہائی کا شکار ہوتے ہیں، ان کی اوسط عمر دوسروں سے کم ہوتی ہے جبکہ ان میں ناگہانی اموات کی شرح بھی ایسے افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے جو میل جول اور سماجی روابط رکھنے کے معاملے میں پیش پیش رہتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق اس وقت صرف امریکا میں 45 سال یا اس سے زیادہ عمر کے تقریباً 4 کروڑ 26 لاکھ افراد کو ’’طویل مدتی تنہائی‘‘ کا سامنا ہے جس کی وجہ یا تو ان کا اپنا مزاج ہے یا پھر معاشرے کی ان کے ساتھ لاتعلقی۔ اگرچہ ساری دنیا کے بارے میں طویل مدتی تنہائی سے متعلق اعداد و شمار تو دستیاب نہیں لیکن پھر بھی ممکنہ طور پر اس کیفیت میں مبتلا افراد کی مجموعی تعداد 1 ارب سے زیادہ ہوسکتی ہے۔

Google Analytics Alternative