صحت

جنک فوڈ انسانی صحت کیلئے مفید نہیں :ماہرین

ماضی میں اس کے نقصانات کے پیش نظر لاس اینجلس میں جنک فوڈ کی تیاری اور فروخت پر پابندی لگا دی گئی تھی

نیویارک  یہ بر گر ، سینڈ وچ کس کے ، امیر کے یا غریب کے یا پھر دونوں کے؟ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ جنک فوڈ امیروں کی مرغوب غذا ہے ۔ ہلکی اور زود ہضم ہے اسی لئے ان کو پسند ہے۔ غذائی ماہرین جنک فوڈ کو صحت بخش نہیں سمجھتے مگر اس کے باوجود جنک فوڈ پر کوئی کنٹرول نہیں ۔ اس کے کھانے والے بڑھتے ہی جا رہے ہیں ۔ دل ، شوگر اور موٹاپے کا سبب یہ جنک فوڈ ہی تو ہیں ۔

پچھلے دنوں بیرون ملک ایک اور ریسرچ ہوئی جس کا موضوع تھا   جنک فوڈ کس کا امیر کا یا غریب کا؟   تحقیق سے پتہ چلا کہ یہ سب کا ہے ۔ متوسط طبقہ کے لوگ اس میں سب سے زیادہ دلچسپی لیتے ہیں ۔ صدر ٹرمپ بھی جنک فوڈ کے شوقین ہیں ، وہ جنک فوڈ بنانے والے اداروں کو اشتہارات بھی دیتے رہے ہیں ۔ وارن بوفے کا شمار دنیا کے پانچ امرا ء میں ہوتا ہے وہ کہتے ہیں :  میں 6 سال کا تھا جب سے جنک فوڈ کھا رہا ہوں    ۔ وہ چپس اور مشروبات کے اس قدر شوقین ہیں کہ ان کے بغیر دن ہی نہیں گزرتا ۔ غذائی ماہرین جنک فوڈ میں شامل نمکیات اور چکنائی کونقصان دہ سمجھتے ہیں ۔

غذائی ماہرین کے مطابق جلدی تیار ہونے اور آسانی سے کھا لینے کے باعث جنک فوڈ مقبول ہیں ۔ امریکہ میں 1957ء سے 1964ء کے درمیان پیدا ہونے والی نسل نے جنک فوڈ سے ہی توانائی حاصل کی ۔ اس کا پتہ ایسے چلا کہ 1979، 2008 اور 2012 میں ان نوجوانوں سے جنک فوڈ کے بارے میں سوالات کیے گئے ۔ مثال کے طور پر   گزشتہ 3 ہفتوں میں انہوں نے کتنی مرتبہ فاسٹ فوڈ کھایا    یا فاسٹ فوڈ بنانے و الے 5 بڑے ہوٹلوں میں گئے ۔ 79 فیصد نے کہا کہ وہ 3 ہفتوں میں کم از کم ایک دفعہ ہوٹل ضرور جاتے ہیں ۔ 10 فیصد امیر ترین افراد میں سے 75 فیصد اور 10 فیصد غریب ترین افراد میں سے 85 فیصد فاسٹ فوڈ کے شوقین نکلے ۔

جنک فوڈ کے نقصانات کو دیکھتے ہوئے لاس اینجلس میں اس پر پابندی لگا دی گئی تھی مگر اس پر عمل نہ ہو سکا ۔ لوگ فاسٹ فوڈ کے لیے قریبی علاقوں میں چلے جاتے ، چنانچہ یہ پابندی اٹھا لی گئی ۔ یہی وجہ ہے کہ جنک فوڈ استعمال کرنے والے موٹاپے کا شکار ہو گئے ۔ اپنے بے ڈھنگے جسم کے باوجود جنک فوڈ ان کی کمزوری بنا رہا ۔ جنک فوڈ سستا بھی نہیں ہے ۔ ایک عام ریسٹورنٹ میں آدمی پیٹ بھر کے 4 ڈالر میں بھی کھانا کھا لیتا ہے لیکن جنک فوڈ بسا اوقات 15 ڈالر میں آتا ہے ۔ 8 ہزار ڈالر کمانے والے غربت کی لکیر سے نیچے سمجھے جاتے ہیں ۔ 16 ہزار ڈالر کی آمدنی کا مطلب 44 ڈالر یومیہ ہے اور 44 ڈالر میں امریکہ میں زندگی گزارنا آسان نہیں ۔ لیکن حقیقت میں جنک فوڈ لوگوں کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے ۔

زیتون اور ناریل سمیت کئی اقسام کے تیل صحت کیلیے مفید

ماہرین کے مطابق السی کے بیج کا تیل اومیگا 3 سے بھر پور ہوتا ہے جو مچھلی میں پایا جاتا ہے اور سورج مکھی کا تیل وٹامن ای کے لحاظ سے اچھا ہے کیونکہ اس سے ہماری جلد بہتر ہوتی ہے۔

ہیلتھ اسپین کے سربراہ اور غذائی ماہر روب ہوبسن کا کہنا ہے کہ مختلف اقسام کے تیل نہ صرف صحت کے لیے مفید ہیں بلکہ کئی اقسام کی بیماریوں جیسے کہ جوڑوں کے درد اور دل کے امراض سے بھی بچاتے ہیں۔

جب کہ زیتون کا تیل صحت کے لیے بہت موثر ہےکیونکہ اس سے یادداشت اچھی ہوتی ہے اور یہ دماغ میں پلاک بننے نہیں دیتا جو ڈیمنشیا کے خطرات کو ختم کرتا ہے۔

زیتون کے تیل میں اولیوسینتھل موجود ہوتاہے جو جسم کو سوزش، جلد کی بیماریوں اور جوڑوں کے درد سے بچاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں اومیگا 9 بھی پایا جاتا ہے جو دل کو محفوظ رکھتا ہے اور خون جمنے سے روکتا ہے۔

ناریل تیل کے بھی کئی فائدے ہیں اس میں لارک ایسڈ کی موجودگی سے ہم بیکٹیریل اور وائرل انفکشن سے بھی بچتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق السی کے بیج کے تیل میں اومیگا 3 پایا جاتا ہے جس سے جسم کو ضروری فیٹی ایسڈ بھرپور مقدار میں ملتا ہے۔ اس تیل سے مچھلی میں موجود اومیگا 3 کی مقدار تو نہیں ہوتی لیکن یہ دل کے لیے کافی مفید ہے۔

السی کے بیج کے تیل میں لگنین موجود ہوتا ہے جو خواتین کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔

سورج مکھی کے تیل میں وٹامن ای موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تیل کا ایک چمچ کا اس کی 50 فیصد کی ضرورت پوری کرتا ہے۔ وٹامن ای سیلوں کی تہہ کی حفاظت کرتا ہے اور یہ جلد، دل اور ہمارے دماغ کے لیے بہت اچھا ہے۔

جب کہ اسے کھانا پکانے، فرائینگ اور بیکنگ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

اخروٹ کا تیل بھی السی کے بیج کے تیل کی طرح اومیگا 3 سے بھر پور ہوتا ہے۔ یہ تیل سلاد میں استعمال کیا جاتا ہے تاکہ اس کا ذائقہ بڑھایا جاسکے۔

مونگ پھلی کے تیل سے کولیسٹرول کی اچھی قسم ایچ ڈی ایل میں اضافہ جب کہ بری قسم ایل ڈی ایل میں کمی ہوتی ہے۔ اس کا استعمال تب کیا جاتا ہے جب کوئی چیز زیادہ درجہ حرارت پر پکائی جاتی ہے۔

جرنل آف نیوٹریشن میں شائع رپورٹ کے مطابق ناشپاتی کے تیل سے صحت اچھی ہوتی ہے کیونکہ اس میں کیروٹینائیڈ اور لوٹن موجود ہے۔

ماہرین کے مطابق تقریباً 70 فیصد ناشپاتی کے تیل میں اولیک ایسڈ ہے جو دل کے لیے فائدے مند ہے۔ اس تیل میں باقی تیلوں کے مقابلے میں کم اومیگا 6 ہوتا ہے جب کہ  اومیگا 6 کا زیادہ استعمال بھی جسم میں سوزش کی وجہ بنتا ہے۔

تل کے تیل میں اومیگا 9، 6 اور 3 موجود ہوتا ہے جو جوڑوں، دماغ اور دل کے لیے مفید ہے۔

تل کے تیل میں زیتون کے تیل سے زیادہ اومیگا 3 ہے اور اس میں وٹامن ای بھی بھرپور مقدار میں پایا جاتا ہے۔ اس کو سلاد میں استعمال کیا جاتا ہے اور جو لوگ مچھلی نہیں کھاتے یہ ان کے لیے بھی فائدے مند ہے۔

ماہرین کے مطابق تیل کی یہ تمام اقسام صرف ذائقے دار ہی نہیں بلکہ صحت کے لیے بھی اچھی ہیں۔

ایپل کے صارفین کیلیے نئے ایموجیز متعارف

دوران گفتگو اپنے جذبات کا اظہار یا رد عمل دینے کے لیے ایموجی استعمال کرنے والوں کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ یونی کوڈ کنسورشیم ان کے لیے مزید 56 نئے ایموجی متعارف کرارہا ہے۔

ان ایموجیز میں ٹیریکس، حجاب میں موجود خاتون، فیری مین اور  ومپائر سمیت مزید زبردست ایموجیز شامل ہیں۔

ایموجی پیڈیا نے ان نئے ایموجی کے بارے میں تفصیل سے بتایا ہے اور ان کی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔

یونی کوڈ 10.0 نے 8518 حروف شامل کیے ہیں جب کہ 56 نئے ایموجی کے ساتھ ساتھ  کُل 139 اسکرپٹ میں چار نئی اسکرپٹ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

مختلف نئے چہرے کے تاثرات جیسے کہ اسٹار اسٹرک، سوشنگ فیس اور منہ کے آگے ہاتھ رکھے ہوئے نئے تاثرات کو بھی متعارف کیا گیا ہے۔

جانوروں میں زیبرا، زرافہ، ہیج ہوگ، سوروپوڈ اور ٹی ریکس شامل کیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور ویلز کے جھنڈے بھی نئے ایموجیز میں شامل ہیں۔

ایموجیز میں پیٹ کا حال بتانے یا اپنی بھوک سے دوسرے کو آگاہ کرنے کے لیے کھانے کی چیزیں بھی رکھی گئی ہیں۔

یونی کوڈ کے مطابق ایپل ڈیوائس پر یونی کوڈ 10 کی سپورٹ موجود نہ ہونے تک یہ ایموجی دستیاب نہیں ہوں گے۔

پنجاب بھر میں عید سے پہلے ناقص مٹھائیوں کےخلاف کریک ڈاؤن

پنجاب فوڈ اتھارٹی نے لاہور میں ایک جبکہ راولپنڈی میں مٹھائیوں کے دو کارخانے سیل کرکے سینتیس من سے زیادہ مٹھائی اور پچیس من کھویا تلف کردیا۔

وحدت روڈ لاہور پر مٹھائی کی دکان پر چھاپا مار کر چھ من مضر صحت مٹھائی، دس من ناقص کھویا اوردیگر اجزا تلف کرکے دکان سیل کر دی گئی۔

پنجاب فوڈاتھارٹی کے مطابق مٹھائی میں لال بیگ سمیت کیڑے مکوڑے پائے گئے، تیار مٹھائیاں گندے فرش پر رکھی گئی تھیں۔

راولپنڈی میں بھی دو بیکریوں کے کارخانے سیل کردیے گئے اور اکتیس من ناقص مٹھائی اور سترہ من خام مال تلف کر دیا گیا۔

دفاتر میں کام کرنے والے افراد وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہوتے ہیں، تحقیق

کینیڈا کی ایلبرٹا یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق دفاترمیں کام کرنے والے افراد میں سے 91 فیصد تک میں وٹامن ڈی کی کمی دیکھی گئی ہے جس کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ وہ سورج کی روشنی میں صرف صبح اور شام میں نکلتے ہیں جب کہ زیادہ وقت دفتر میں گزارتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صبح اور شام کے اوقات میں سورج کی تپش میں کمی ہوجاتی ہے جس کے باعث اس وقت سورج کی روشنی لینے والے افراد کے جسم میں وٹامن ڈی نہیں بن پاتا۔

جب کہ وٹامن ڈی کی کمی سے ہڈیاں کمزور ہوجاتی ہے اور دل کے امراض سمیت کینسر کا بھی خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔

تحقیق میں شامل ڈاکٹر سیبسٹین اسٹروب کا کہنا تھا کہ تحقیق کے نتیجے میں پتا چلا ہے کہ انسان کا کام اس میں وٹامن ڈی کی مقدار کو بڑھانے یا گھٹانے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ جو لوگ دفاتر میں بیٹھے بیٹھے کام کرتے ہیں ان میں باہر کام کرنے والوں کے مقابلے میں 78 فیصد وٹامن ڈی کی کمی ہوتی ہے۔

انہوں نے تجویز کیا کہ مچھلی، گوشت اور انڈوں سے بھی وٹامن ڈی حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن سورج کی شعاعوں سے 90 فیصدوٹامن ڈی بنتا ہے۔

ماہرین کےمطابق حاملہ خواتین اوربوڑھے افراد میں بھی وٹامن ڈی کی کمی پائی جاتی ہے جب کہ جن نوجوانوں میں یہ کمی ہوتی ہے ان کی ہڈیاں کمزور ہوجاتی ہیں۔

مچھلی کھائیں اور جوڑوں کے درد سے محفوظ رہیں

امریکی ریسرچ سینٹر میں ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہےکہ مچھلی کا استعمال صحت کے لیے کافی مفید ہے، یہ ایسے امراض سے نجات دلاتی ہے جو جوڑوں اور ہڈیوں میں درد اور سوزش کی وجہ بنتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق ہفتے میں مچھلی کے صرف 2 پیس کھانے والے لوگ جوڑوں کی خاص بیماری سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔

گزشتہ تحقیق کے مطابق مچھلی کے تیل میں بڑی مقدار میں اومیگا 3 فیٹی ایسڈ شامل ہوتا ہے جو جوڑوں اور ہڈیوں کے درد سے آرام دیتا ہے۔

جن مچھلیوں میں زیادہ اومیگا 3 پایا جاتاہے ان میں بام، سامن، راو اورگروپر مچھلیوں کی قسم شامل ہے۔

ماہرین نے یہاں اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ تلی ہوئی مچھلی میں اومیگا 3 ختم ہوجاتا ہے۔

تحقیق کے دوران خون ٹیسٹ کے نتیجے میں بھی یہ بات ثابت ہوئی ہےکہ مچھلی کھانے والوں میں درد اور سوزش کم ہوتی ہے جب کہ نہ کھانے والوں کو اس قسم کی شکایات رہتی ہیں۔

تحقیق کی بنیاد پر ماہرین کا کہنا ہےکہ مچھلی کا استعمال آپ کو دواوں اور علاج سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

اسنیپ چیٹ نے لوکیشن شیئرنگ کا فیچر متعارف کرادیا

اس فیچر کی مدد سے آپ کسی خاص پروگرام اور دنیا بھر سے آنے والی خبروں کی تصاویر بھی دیکھ سکتے ہیں۔

آپ جن لوگوں کواپنے مقام کے بارے میں بتانا چاہیں گے صرف وہی اس کو دیکھ پائیں گے اور اس کے علاوہ اگر آپ کسی کو اپنا مقام نہیں بتانا چاہتے تو اس کے لیے گھوسٹ موڈ کا آپشن استعمال کرسکتے ہیں۔

اسنیپ چیٹ کے مطابق اگر آپ یا آپ کا کوئی دوست آپ سے ملنا چاہتا ہے تو اس آپشن کو استعمال کرکے اپنا مقام شیئر کریں اور ایک دوسرے سے باآسانی مل سکتے ہیں۔

اسنیپ میپ فیچر استعمال کرنے کے لیے صارفین کو لوکیشن کا آپشن آن رکھنا ہو گا۔

اسے استعمال کرنے کے لیے اپنے کیمرہ اسکرین پر جائیں اور انگلیوں کی مدد سے زوم آوٹ کریں تاکہ آپ اپنے آس پاس کے بارے میں معلوم کرسکیں۔

نقشے میں جس جگہ آئیکون موجود ہو وہاں صرف کرسر لا کر اس پورے منظر کو دیکھ سکتے ہیں۔

اسنیپ چیٹ کے مطابق نیلے آئیکون کا مطلب وہاں اس مقام کی کچھ تصاویر موجود ہیں جب کہ سرخ آئیکون میں آپ کے مطلوب مقام کی کئی تصاویر موجود ہوسکتی ہیں۔

اس طرح اگر آپ کا کوئی دوست آپ کے ساتھ اپنا مقام شیئر کرتا ہے تو آپ اس جگہ کو باآسانی نقشے میں موجود ان تصاویر سے ڈھونڈ سکتے ہیں۔

آپ کے دوستوں کا مقام بٹ موجی کے ذریعے نظر آئے گا اور اگر ان کے پاس بٹ موجی نہیں ہے تو نقشے پر صرف خالی خاکہ نظر آئے گا۔

اس فیچر کے ذریعے آپ اپنے دوست کو صرف اسی صورت میں دیکھ سکتے ہیں جب اس نے اپنا مقام آخری بار اپ ڈیٹ کیا ہوگا۔

اس کے علاوہ آپ کا مقام اسنیپ چیٹ پر تب ہی اپ لوڈ ہوگا جب آپ اسنیپ چیٹ کا استعمال کررہے ہوں گے جب کہ اسنیپ چیٹ بند ہونے پر آپ کا مقام اور نقشہ چند گھنٹوں بعد خود ہی نظر آنا بند ہوجائے گا۔

مدار میں موجود کچھ سیارچے زمین کو تباہ کرسکتے ہیں، ماہر فلکیات

ماہر فلکی طبیعات ڈاکٹر ایلن فٹز سمنز کا کہنا ہے کہ کوئی سیارچہ اچانک زمین سے ٹکرا سکتا ہے اور یہ کسی بھی وقت ہوسکتا ہے جبکہ بہت سے سیارچوں کا تو ہمیں پتہ ہی نہیں ہے اور ان کی تعداد ہزاروں میں ہوسکتی ہے۔

ڈاکٹر ایلن کے مطابق یہ سیارچے ہمارے شہر کے شہر تباہ کر سکتے ہیں اور کئی تو اتنے بڑے ہیں کہ پوری دنیا ہی کو مٹا سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس سال جنوری میں ایک سیارچہ اتنے پاس سے گزرا تھا کہ اس کا فاصلہ چاند کے نصف فاصلے سے بھی کم تھا۔

Google Analytics Alternative