صحت

انسانی سر کی پیوند کاری، سرجن نے مریض تبدیل کرلیا

برطانوی میڈیا کے مطابق جسمانی معذوری کے شکار روسی شخص نے بتایا ہےکہ اب ان کے سر کی پیوندکاری نہیں کی جارہی،بلکہ اب ان کی جگہ سرجن ایک چینی مریض کے ساتھ کام کررہے ہیں جس کی شناخت ابھی تک ظاہر نہیں کی جارہی۔

روس کے شہری ویلری کا کہنا ہے کہ اب وہ اپنی معذوری کا آپریشن روس میں ہی کرانے کی کوشش کرے گا۔

روزانہ کتنا پانی پینا چاہئے؟ معمہ حل ہوگیا

امریکا کے مایو کلینک کے میڈیکل ریسرچ سینٹر نے کہا ہے کہ مردوں کو اوسطاً تیرہ کپ پانی روزانہ پینا چاہئے جبکہ خواتین میں یہ مقدار نو ہونی چاہئے۔

مگر ہر شخص کا جسم مختلف ہوتا ہے اور پانی کی ضرورت کا انحصار بھی اس کے مطابق ہوتا ہے جس کے لیے ایک سادہ سائنسی فارمولا استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اپنے جسمانی وزن کو لیں اور اسے 2.2 سے تقسیم کریں۔

اس کے بعد جو نمبر آئے اسے اپنی عمر کے مطابق ضرب کریں اور مجموعے کو 28.3 سے تقسیم کریں۔

پھر جو نمبر آئے گا وہ بتائے گا کہ روزانہ کتنے اونس پانی پینے کی ضرورت ہے مگر اسے بھی 8 سے تقسیم کریں تاکہ گلاسوں کی تعداد میں نتیجہ سامنے آجائے۔

تاہم محققین کا کہنا تھا کہ اگر آپ ورزش کو معمول کا حصہ بنائے ہوئے ہیں تو زیادہ پانی پینے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ پسینہ بھی زیادہ آتا ہے۔

22 سالہ چینی نوجوان کی آنت 30 انچ کی کیسے ہوئی؟

چین میں ڈاکٹروں نے گزشتہ دنوں  ایک شخص کی سرجری

ر کے تیس انچ لمبی آنت کو ہٹایا تھا۔

اس بائیس سالہ گمنام چینی نوجوان کو پیدائش کے بعد سے قبض کا سامنا تھا اور اس کی سرجری شنگھائی کے ایک ہسپتال میں ہوئی تھی۔

ڈاکٹروں کے مطابق اس نوجوان کو Hirschsprung نامی بیماری کا سامنا تھا جس کے نتیجے میں آنتیں پھول گئی تھیں کیونکہ جو اعصاب معدے کو کنٹرول کرتے ہیں، ان سے اس کا جسم محروم تھا۔

ڈاکٹروں نے اب اس بیماری کی وضاحت کی جس مین اس نوجوان کا پیٹ پھول گیا تھا جس کی وجہ فضلے کا آنتوں میں اکھٹا ہونا تھا۔

ڈاکٹروں کے مطابق برسوں کے قبض کے نتیجے میں وہ نوجوان ایسے نظر آنے لگا تھا ‘جیسے کسی وقت بھی پھٹ جائے گا’۔

یہ مریض ہمیشہ سے قبض کا شکار تھا اور اس حوالے سے قبض کشا ادویات کا استعمال کرتا تھا مگر اس سے کچھ زیادہ فائدہ نہیں ہوتا تھا۔

بائیس سال بعد آخرکار اس نے ہسپتال کا رخ کیا جہاں سرجری کے بعد اس کے مرض کو کنٹرول کرلیا گیا۔

ڈاکٹروں کے مطابق برسوں سے جمع ہونے والے فضلے نے آنتوں کو بہت زیادہ پھولنے پر مجبور کردیا تھا جس کی وجہ سے مریض کو شدید تکلیف کا سامنا تھا۔

یہ آپریشن تین گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد اس پھولے ہوئے جسمانی حصے کو نکال دیا گیا جبکہ اس کے بعد آنتوں کے دونوں حصوں سی دیا گیا تاکہ فضلہ پیٹ میں خارج نہ ہونے لگے۔

یہ مرض پانچ ہزار میں سے صرف ایک بچے کو اپنا شکار بناتا ہے اور بالغوں میں یہ عام طور پر سامنے نہیں آتا۔

طبی ماہرین کے مطابق یہ موروثی مرض ہوتا ہے اور والدین سے بچوں میں منقل ہوتا ہے۔

یہ مرض سب سے پہلے 1691 میں اس وق تسامنے آیا جب نیدرلینڈ میں ایک لڑکی کو اس کی شکایت کا سامنا ہوا جس کے بعد سے اب تک متعدد کیسز سامنے آچکے ہیں۔

عام افراد میں معدے اپنی جگہ سے ہٹنے لگتا ہے تاکہ آنتوں کو کو اپنا کام کرنے میں مدد مل سکے اور فضلہ خارج ہوسکے، اعصابی نظام اور معدے کے درمیان اس حوالے سے پیدائش سے ہی ایک تعلق قائم ہوجاتا ہے۔

تاہم اس مرض کے شکار افراد میں ایسا نہیں ہوتا جس کے نتیجے میں آنتیں فضلہ خارج نہیں کرپاتیں اور تکلیف دہ ورم کا شکار ہوجاتی ہیں۔

چھاپے کے دوران پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹیم پر فائرنگ

لاہور میں جعلی بوتلیں بنانے والی فیکٹری پر چھاپے کے دوران پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹیم پر فائرنگ کر دی گئی تاہم عملہ محفوظ رہا۔ فیکٹری مالکان کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا گیا۔

ڈی جی فوڈ اتھارٹی نور الامین مینگل کے مطابق کامران پارک بارہ دری روڈ کے علاقے میں قائم جعلی بوتلیں بنانے والی فیکٹری پر رات گئے چھاپا مارا گیا۔

فیکٹری مالکان نے پہلے دھمکیاں دیں پھر فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے۔ ڈی جی فوڈ اتھارٹی کے مطابق فیکٹری میں معروف برانڈز کی جعلی بوتلیں تیار ہو رہی تھیں۔

موقع پر موجود 4 لاکھ بوتلوں کا اسٹاک ضبط کرلیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ فیکٹری سے اب تک 33 لاکھ 7 ہزار جعلی بوتلیں فروخت کی جا چکی ہیں۔

فیکٹری کا سامان ضبط کر لیا گیا جبکہ تمام ریکارڈ بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔

مرچوں میں موجود اجزا گھٹنے کی تکلیف کو ختم کرنے میں مددگار

بوسٹن: ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سرخ مرچ میں ایک ایسا جزو پایا جاتا ہے جو گٹھیا کے مرض میں مبتلا انسانوں کی تکلیف دور کرسکتا ہے۔

تحقیق کی رو سے سرخ مرچ کے پودوں سے حاصل شدہ جزو کا ایک تالیفی یا لیبارٹری میں تیارکردہ ورژن اگر انجیکشن کی صورت میں دیا جائے تو اس سے چھ ماہ تک گھٹنوں کی تکلیف اور گٹھیا کے درد کو دور رکھا جاسکتا ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ درد کی جگہ ٹیکے کی صورت میں داخل کی جانے والی دوا بھی تیار کرلی گئی ہے جسے دوا ساز کمپنی فائزر کے سابق چیف ایگزیکٹو جیفرے کائنڈلر کی ایک نئی کمپنی میں بنایا گیا ہے۔

ماہرین نے چلی کے پودے پر مبنی ایک مصنوعی جزو تجربہ گاہ میں بنایا ہے جو مرچوں کے جزو کیپسیسن پر مبنی ہے۔ اس کا انجیکشن دماغ تک درد کے سگنل جانے سے روکتا ہے اور مریض سکون میں رہتا ہے۔ اس دوا کا نام اس وقت سی این ٹی ایکس 4975 رکھا گیا ہے اور اسے 175 ایسے مریضوں کو دیا گیا جن کے گھٹنے میں شدید تکلیف تھی اور درد ان کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتا جارہا تھا۔ ان میں سے بعض مریضوں کو فرضی دوا یا پلے سیبو بھی دی گئی ۔

اس کے بعد مریضوں سے حاصل شدہ ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ جنہیں انجیکشن دیا گیا ان کے گھٹنے کے درد میں بہت کمی واقع ہوئی اور اگلے 24 ہفتے تک اس کا اثر قائم رہا۔ اس کے علاوہ گھٹنے کی سختی بھی کم ہوتی گئی۔

بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے ریاضی میں بہتر ہوتے ہیں، تحقیق

بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد ریاضی میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد کا دماغ زیادہ تیز ہوتا ہے۔ ایسے افراد منطقی فیصلے تیزی سے کرنے کی صلاحیت کے حامل ہوتے ہیں اور چیزوں کو مختلف زاویوں سے سمجھ سکتے ہیں۔

اس سلسلے میں کیے جانے والے سروے میں پرائمری اور ہائی اسکول کے 2300 طالب علموں نے حصہ لیا۔ سروے میں انہیں ریاضی کے مختلف سوالات حل کرنے کو دیئے گئے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ بایاں ہاتھ استعمال کرنے والے طالب علموں نے دیگر کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سوالوں کو درست انداز اور تیزی سے حل کیا۔

عرق گلاب کا یہ فائدہ جانتے ہیں؟

گلاب کو پھولوں کا بادشاہ سمجھا جاتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کا استعمال جراثیم سے پاک کرنے اور ڈپریشن سے نجات کے لیے بھی ہوتا ہے۔

اس پھول سے نکلنے والا عرق گلاب جلد کو صحتمند اور دلکش بنانے کا ایک سستا ترین طریقہ بھی ہے۔ عرق گلاب کا استعمال صدیوں سے چلتا آیا ہے اور آج بھی کئی کاسمیٹک مصنوعات میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔

چونکہ اس میں انفیکشن سے بچانے، جراثیم کش اور اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات موجود ہیں لہٰذا یہ ہر اقسام کی جلد کے لیے کارآمد ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق گلاب کی پتیوں میں موجود مٹھاس اور قدرتی آئل نمی کو جلد میں برقرار رکھتا ہے جس سے چہرہ ہموار اور نرم ہوجاتا ہے، بالکل گلاب کی خوبصورت پتیوں کی طرح۔

انہوں نے مزید بتایا کہ عرق گلاب کو لے کر اس کے چند قطرے کسی بھی کلینر اور موئسچرائزر میں ٹپکائیں اور پھر استعمال کریں۔

اس کی مہک اعصابی نظام کو پرسکون بنائے گی جبکہ عرق گلاب کی انفیکشن سے بچانے والی خصوصیت جلد میں ہائیڈروجن کے لیول کو بحال کریں گی۔

اسی طرح جراثیم کش ہونے کی وجہ سے ہلکی مہک والا عرق گلاب چہرے پر جم جانے والی آلودگی، گردوغبار وغیرہ کو بھی صاف کردیتی ہے جبکہ جلد نمی سے محروم بھی نہیں ہوتی۔

اس طرح یہ مساموں کو بھی کھلنے والا عرق ہے اور اس میں سے کچرے کو صاف کرتا ہے جس سے جلد کی لچک بھی بحال رہتی ہے۔

خون عطیہ کرنے کے فوائد جانتے ہیں؟

دنیا میں ہر سال 14 جون کو خون عطیہ کرنے یا ‘بلڈ ڈونر ڈے’ منایا جاتا ہے جس کا مقصد خون کی محفوظ منتقلی کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔

یہ دن ایسے افراد کا شکریہ ادا کرنے کے لیے بھی منایا جاتا ہے جو بغیر کسی لالچ کے اپنا خون دوسروں کی زندگیاں بچانے کے لیے عطیہ کرتے ہیں۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ عادت جسم کے لیے فائدہ مند بھی ثابت ہوسکتی ہے؟

اگر نہیں تو اس کے فوائد درج ذیل ہیں۔

دوران خون میں بہتری کا امکان

طبی ماہرین کے مطابق خون کا اکثر عطیہ کرنا دوران خون کے نظام میں بہتری لانے کا باعث بنتا ہے کیونکہ اس سے شریانوں کو نقصان کم پہنچتا ہے جس سے خون کے بلاک ہونے کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔ آسان الفاظ میں ایسے افراد میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ 80 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق خون عطیہ کرنے والے افراد کم بیمار ہونے کے باعث ہسپتال بھی بہت کم داخل ہوتے ہیں اور وہاں بھی ان کا قیام مختصر عرصے کے لیے ہوتا ہے، جبکہ ہارٹ اٹیک، کینسر اور فالج وغیرہ کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

مفت طبی چیک اپ

خون عطیہ کرنے سے قبل لگ بھگ ہر فرد کا طبی چیک اپ ہوتا ہے جس میں جسمانی درجہ حرارت، دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر اور ہیموگلوبن کی سطح کو دیکھا جاتا ہے، اسی طرح خون اکھٹا کیے جانے کے بعد اسے لیبارٹری بھیجا جاتا ہے جہاں اس کے مختلف قسم کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں تاکہ جانا جاسکے کہ وہ خطرناک مرض سے آلودہ تو نہیں، جس سے لوگوں کو بھی آگاہ کیا جاتا ہے۔

آئرن کی سطح متوازن رہتی ہے

صحت مند بالغ افراد کے جسم میں پانچ گرام آئرن کی موجودگی ضروری ہوتی ہے جن میں سے بیشتر خون کے سرخ خلیات میں ہوتی ہے، جبکہ بون میرو میں بھی یہ جز پایا جاتا ہے۔ جب خون عطیہ کیا جاتا ہے تو کچھ مقدار میں آئرن بھی کم ہوتا ہے، جو کہ عطیہ کیے جانے کے بعد خوراک سے دوبارہ بن جاتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق آئرن کی سطح میں اس طرح کی تبدیلی صحت کے لیے بہتر ہوتی ہے کیونکہ اس جز کی بہت زیادہ مقدار خون کی شریانوں کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے۔

لمبی زندگی کا امکان

ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ رضاکارانہ بنیادوں پر خون کا عطیہ کرتے ہیں، ان میں مختلف امراض سے موت کا خطرہ کم ہوتا ہے اور اوسط عمر میں چار سال تک کا اضافہ ہوجاتا ہے۔

Google Analytics Alternative