صحت

مراقبہ کی اہمیت اور افادیت

دنیا کے مختلف مذاہب میں مراقبہ کی اہمیت اور افادیت مسلمہ ہے۔ چین، جاپان اور ہندوستان میں مذہبی پیشوا، صوفیا کرام اور اولیاء اللہ صلاحیتوں کی نشوونما اور جسمانی علاج کے لیے مراقبہ کی تلقین وتاکید کرتے رہے ہیں۔ دور جدید میں امریکہ، برطانیہ اور جرمنی میں ہونے والی جدید تحقیقات نے ارتکاز رتوجہ، مثبت اندازفکر اختیار کرنے اور بہت سی مہلک بیماریوں کے علاج کے لیے مراقبہ کی اہمیت واضح کردی ہے۔ 1970ء میں پہلی مرتبہ مراقبہ کے طریقہ کاراور اس کے اثرات پر سائنسی تجربات کئے گئے۔
فی زمانہ مراقبے کو ذہنی دباؤ کے خلاف بہترین ہتھیار کے طور پر استعمال کیاگیا ہے۔ مراقبہ کی مدد سے کولیسٹرول کی سطح کوکم اور بلڈپریشر اور دیگر امراض کو کنٹرول کیاجارہا ہے۔ مراقبے سے انسان کو منفی خیالات سے نجات ملتی ہے اور جب منفی خیالات سے چھٹکارا پاکر انسان مثبت طرز فکر اختیار کرتا ہے تو اپنی نظروں میں اس کی قدر وقیمت بڑھ جاتی ہے۔ مراقبہ کے دوران گہرے سانس لینے سے سکون اور طمانیت پیدا ہوتی ہے۔ پھیپھڑوں میں آکسیجن زیادہ بھرنے سے دل کوطاقت ملتی ہے۔ دوران خون بہتر ہو کر دماغ کو سکون پہنچتا ہے۔
دور حاضر کی ذہنی اور اعصابی الجھنیں مثلاََ فکرو تشویش ، جلد بازی، چڑچڑاپن، غصہ اور بدمزاجی ذہنی دباؤ کی علامات ہیں۔ ذہنی دباؤ سے نجات بہت ضروری ہے کیونکہ جب کوئی شخص ذہنی تفکرات کا شکار ہو جائے۔ تواس کاپورا جسم متاثر ہوجاتا ہے دل تیزی سے دھڑکتا ہے بلڈ پریشر اور شوگر کی سطح بڑھ جاتی ہے ہمارے جسم کے مدافعاتی نظام کا اعصابی نظام سے بڑا گہراتعلق ہے۔ ذہنی دباؤ سے جلدی امراض بھی پیدا ہوسکتے ہیں اور جگر ، دماغ اور قلب بھی متاثر ہوسکتے ہیں ۔ مراقبے کے ذریعے چونکہ ہمارا مقصد ذہنی تفکرات سے چھٹکارا پاکر ذہنی سکون حاصل کرنا ہے اس لئے ضروری ہے کہ مراقبے سے پہلے اپنے قول وفعل کے قضاو کو ختم کردیا جائے اور عملی زندگی میں جھوٹ، فریب م دھوکہ دہی اور منافقت سے گریز کیا جائے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ جرم وگناہ کی زندگی سے توبہ کی جائے، رشوت، سود خوری اور رزوق حرام سے منہ موڑ لیاجائے۔
مراقبہ عملی طریقہ:
مراقبہ کے لئے پر سکون جگہ اور وقت کا انتخاب کریں جہاں شور وغیرہ نہ ہو، فرش، کرسی، چار پائی یاجائے نماز پر بیٹھ جائیں۔ لمبے لمبے سانس لیں، معدہ خالی رکھیں تمام اعضاء کو ڈھیلا چھوڑ دیں جسم میں تناؤ نہیں ہونا چاہیے۔
اس کے بعد ذہن کو کسی شے مثلاََ چاند، پھول، ستارہ یاقدرتی منظر کے تصور پر مرکوز کر دیں۔ ابتداء میں اس مشق کے لیے صرف پانچ منٹ کی مشق کافی ہوگی۔ مگر آہستہ آہستہ یکسوئی حاصل ہوجائے گی۔
ذہنی یکسوئی کا وقفہ بڑھنے لگے تو خیالات قابو میں رہیں گے اور طبیعت میں ایک ٹھہراؤ سا محسوس ہونے لگے گا۔ ذہنی ارتکاز جسم، دماغ کی منفی صلاحیتوں کو اجاگرکرے گا۔
مراقبے کے دوسر دور میں روحانی کون اوردماغی بیماریوں کے علاج کے لئے اللہ تعالیٰ کے نام خوش خط لکھ کر ان پر نگاہیں مرکوز کردیں اور غور وفکر کریں۔ دماغی مریض قرآنی آیات اور درود شریف ٹیپ ریکارڈ پر بھی سن سکتے ہیں۔
مراقبے کے پانچویں مرحلے میں یہ تصور کریں کہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے گرامی اور قرآنی آیات سے صحت وتندرستی کی لہریں پھولتی ہیں اور میرے وجود میں سماجاتی ہیں۔ مراقبہ کے لیے وہ لفظ منتخب کیاجائے جودل کو سب سے پیارا لگے مثلاََ یارحیم، یاکریم، یاغنی، یارؤف، یاحفیظ، یارزاق، یاملک وغیرہ۔ مراقبے میں آیات قرآن اور درود شریف بھی پڑھا جاتا ہے اس سے ذہنی تفکرات ختم ہوکر اطمینان وسکون کی دولت میسر آتی ہے۔ مراقبے سے جسم تندرست اور چہرے پر تازگی آتی ہے لاابالی پن ختم ہوکر طبیعت میں ٹھہراؤ پیدا ہوتا ہے جوکہ پروقار شخصیت کے لئے انتہائی لازمی ہے۔ مراقبہ کی مشق کرتے رہنے سے ذہن کی مخفی صلاحیتیں بیدار ہوجاتی ہیں اور انسان خود کوجسمانی، ذہنی، نفسیاتی اور روحانی طور پر چاک وچوبند محسوس کرتا ہے۔

بینائی کوبہتر بنانے والی چیزیں

ایسی بہت سی چیزیں ہیں، جوبینائی کوبہتر بناتی ہیں، جن میں ورزش، غذائیں اور امیک اپ کرنا شامل ہے۔ ذیل میں ان چیزوں کاتذکرہ کیاجارہاہے، جن سے بینائی بہتر کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ایسی بہت سی چیزیں ہیں، جوبینائی کوبہتر بناتی ہیں، جن میں ورزش، غذائیں اور امیک اپ کرنا شامل ہے۔ ذیل میں ان چیزوں کاتذکرہ کیاجارہاہے، جن سے بینائی بہتر کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
شکرقند کھائیے
شکر قند میں حیاتین الف ہوتی ہے، جس سے بینائی میں اضافہ ہوجاتاہے۔ ایسے افراد جنھیں رات کوکم نظر آتا ہے، انھیں شکرقند ضرور کھانا چاہیے۔ اس کے علاوہ بھنا ہوا چقندر بھی بینائی کے لیے مفید ہے۔
درجہ حرارت کم رکھیے
گرمی یاگرم ہواکے تھپیڑوں سے آنکھیں خشک ہوجاتی ہیں۔ گھریادفتر میں گرمی کرنے کے لیے گملوں میں پودے اور کھڑکیوں پر پردے بھی لگائے جاسکتے ہیں۔
پابندی سے ورزش کریں
پابندی سے ورزش کرنے سے آنکھوں کی بیماریوں کم ہوجاتی ہیں، اس لیے کہ اس سے آنکھوں پر پڑنے والا دباوٴ کم ہوجاتاہے۔ ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وہ افراد جوہفتے میں چاردن 40منٹ تک پیدل چلتے ہیں، انھیں دوائیں نہیں کھانی پڑتیں۔
بلیوبیری کھائیے
ناشتے میں بلیوبیری کھانے سے 50برس کی عمر کے بعد آنکھوں پر پڑنے والے منفی اثرات ختم ہو جاتے ہیں۔ مجموعی صحت میں بہتری کے لیے بلیوبیری میں دہی ملاکرکھایاجاسکتاہے۔
خوشبو سونگھیے
گل یاسمین کاعطر شانوں پر لگائیے اور اسے سونگھیے۔ اس سے آپ کے دماغ کی لہروں میں اضافہ ہوجاتاہے اور وہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ فعال ہوجاتی ہیں، جس سے بینائی کاارتکازدرست ہو جاتاہے۔
اپنا بلڈپریشرچیک کیجیے
ہرماہ پابندی سے اپنا بلڈپریشر چیک کیجیے۔ ہائی بلڈپریشر اور ذیابیطس دونوں کاتعلق اندھے پن سے ہے۔ یہ دونوں بیماریاں خون کی شریانوں کونقصان پہنچاتی ہیں۔
مچھلی کھائیے
روغنی مچھلی کھائیے۔ یہ بہت مفید ہوتی ہے۔ ایسی مچھلیوں میں اومیگا۔ 3شحمی تیزاب ہوتا ہے، جس سے بینائی کم زور نہیں ہوتی۔
خاکستری چشمہ پہنیے
خاکستری رنگ کاچشمہ لگانے سے آنکھیں دھوپ کی مضرشعاعوں سے محفوظ رہتی ہیں۔ چناں چہ دن میں گھر سے باہر نکلتے وقت اس رنگ کاچشمہ لگائیے۔
آنکھوں کامیک اپ کیجیے
اپنی آنکھوں میں مسکارا لگائیے اور دوسرے میک اپ بھی کیجیے، اس سے وہ جراثیم مرجاتے ہیں جن کی وجہ سے آنکھوں میں تعدیہ ہوجاتاہے۔

سیلفی لینے والے افراد ذہنی بیماری کا شکار

عام چیزوں سے جسمانی تکالیف کا علاج

کیا آپ کے پیر میں درد ہورہا ہے ؟ یا ناک سے خون بہہ رہا ہے یا جوتوں کے نتیجے میں پیر چھل گیا ہے؟ تو فکر مت کریں اپنے ارگرد دیکھیں اور درد پر قابو پالیں۔

جی ہاں روزمرہ کی تکالیف اور درد پر آپ ایسی چند معمولی اشیاءسے قابو پاسکتے ہیں جن کا آپ نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔

پیر کے درد سے ریلیف

کیا آپ کا نیا جوتا بہت ٹائٹ تھا؟ آپ بہت زیادہ چلے ہیں یا لمبی قطار میں کافی وقت تک کھڑے رہے؟ ایسا ہونے کے باعث پیر میں درد ہورہا ہے تو اس کا حل ایک سادہ سی ورزش میں چھپا ہے۔ چند پینسلوں کو فرش پر رکھیں اور انہیں پیروں کے انگلیوں سے اٹھالیں، پھر اپنے پیر کو آگے کی جانب پھیلا لیں، آپ کو درد میں کمی محسوس ہوگی۔

ناک سے نکلنے والے خون پر قابو پانا

اگر تو کبھی نکسیر پھوٹ جائے یا کسی وج ہسے ناک سے خون نکلنا شروع ہوجائے تو اسے روکنے کے لیے اپنے سر کو سامنے کی جانب جھکائیں اور کپڑے ٹانگنے والی چٹخنی جسے کلاتھ اسپن بھی کہا جاتا ہے، کو استعمال کرتے ہوئے اپنی ناک کو 10 منٹ کے لیے بند کردیں۔ خون کا بہاﺅ جلد تھم جائے گا۔

جوتوں سے پیر چھل گیا ہے ؟

جوتوں کے نتیجے میں کئی بار پیر کا پچھلا حصہ چھل جاتا ہے اور چلنا بہت مشکل ہوجاتا ہے، اس کے علاج کے لیے اکثر لوگ بینڈیج لگا لیتے ہیں مگر اس سے درد بدترین ہوجاتا ہے۔ اس کا علاج ڈکٹ ٹیپ میں چھپا ہے جس کی چوڑی پٹی سے اپنے جوتے کے پچھلے حصے کو کور کریں اور پھر آرام سے گھومیں۔

کٹ کا علاج

اگر جھری وغیرہ سے معمولی کٹ لگ گیا ہے تو اسے ٹھیک کرنے کے لیے اسے خشک رکھنا ضروری ہوتا ہے مگر دن بھر پانی سے بچانا لگ بھگ ناممکن ہوتا ہے تاہم ایسا ہونے پر آپ ایک غبارے سے مدد لے سکتے ہیں۔ بغیر پھولے غبارے کو اپنی متاثرہ انگلی پر لپیٹ لیں اور پھر آرام سے اپنے روزمرہ کے کام کریں۔

انگلی ٹوٹنے پر کیا کریں ؟

اگر کسی وجہ سے آپ کی انگلی ٹوٹ جائیں تو ڈاکٹر کے پاس جانا تو ضروری ہے، مگر طبی مرکز تک پہنچنے سے قبل اپنی متاثرہ انگلی کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے آئسکریم کھانے کے لیے استعمال ہونے والی اسٹک کا استعمال کریں اور اسے متاثرہ انگلی پر رکھ کر اس کے اوپر پٹی سے باندھ لیں۔

ہاتھ میں پھنسی پھانس یا لکڑی کے ریشے کو نکالیں

اگر تو آج کی کھال میں لکڑی کا ریشہ پھنس جائے تو آپ اسے سوئی کے بغیر بھی نکال سکتے ہیں۔ بس ٹیپ کے ایک ٹکڑے کو متاثرہ جگہ پر لگائیں اور پھر اپنی انگلی سے اس وقت تک ٹیپ کو رگڑیں جب تک وہ پھانس سے ٹکرا نہ جائے۔ اب ٹیپ کو اتار لیں امکان ہے کہ ریشہ بھی اس کے ساتھ باہر آجائے گا۔

سردرد کا علاج

اگر سر میں درد ہو تو ایک بڑے سوتی رومال کو اپنے سر پر اتنی مضبوطی سے باندھ لیں کہ آپ کو سر پر دباﺅ محسوس ہو۔ یہ رومال سر کی جانب آنے والے خون کے بہاﺅ کو کم کردے گا اور اس سے سردرد میں بھی کمی آجائے گی۔

کدو کے بیج کے حیرت انگیز فوائد

کراچی: آپ نے کدو کے فوائد کے بارے میں تو سن رکھا ہوگا لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ان کے بیج بھی انتہائی فائدہ مند ہوتے ہیں،آئیے آپ کو کدو کے بیجوں کے فوائد سے آگاہ کرتے ہیں۔
1.ان بیجوں میں ایمینو ایسڈ پایا جاتا ہے جو رات کو پرسکون نیند لینے میں مدد دیتا ہے ،اگر آپ کدو کے بیج استعمال کریں گے تو آپ رات کوپرسکون نیند حاصل کرسکیں گے۔
2.ان میں دل کو سکون دینے والا میگنیشیم پایا جاتا ہے اور یہ جسم کو قدرتی طور پر پرسکون بناتا ہے۔
3.کدو کے بیج میں ایسی پروٹینز پائی جاتی ہیں جو جسم کے شوگر لیول کوکنٹرول میں رکھتی ہیں اور اس سے وزن کم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔
4.تحقیق میں یہ بات بھی ثابت شدہ ہے کہ اس میں اومیگاتھری ایس پایا جاتا ہے جو مثانے کے جملہ امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔
5.ان کے استعمال سے جسم میں خون پیداہوتا ہے اور ساتھ ہی اسے آئرن مہیا ہوتا ہے۔
6.ان کے استعمال سے جسم میں برے کولیسٹرول کی مقدار کم ہوتی ہے۔
7.کدو کے بیج فائبر کا بہترین منبع ہیں اور یہ معدے کو بہت تقویت دیتے ہیں۔
8.ہمارے کئی کھانے جسم میں تیزابیت پیدا کرتے ہیں لیکن اگر کدو کے بیج کھائے جائیں تو جسم میں تیزابیت کی مقدار کم ہوتی ہے اور ہمارے نظام انہضام درست کام کرتا ہے۔

کمزور ی دورکرنے کا گھریلو نسخہ

اسلام آباد: اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں کہ جب وہ صبح اٹھتے ہیں تو انہیں کمزوری محسوس ہوتی ہے لیکن ذیل میں بتائے ہوئے نسخے پر عمل کرکے وہ اپنی یہ شکایت رفع کرسکتے ہیں۔دو چمچ خالص شہد لے کراس میں ایک چوتھائی چائے کا چمچ سمندری نمک ڈالیں اور اسے کھالیں۔تحقیق میں یہ بات ثابت شدہ ہے کہ یہ دونوں اجزاءآپ کو تمام رات نہ صرف پرسکون نیند دیں گے بلکہ اگلی صبح آپ کو کمزوری یا تھکان بھی محسوس نہ ہوگی۔ 2009ءمیں کی گئی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ شہد کی وجہ سے رات کو سوتے میں ہمارا نظام انہضام بہتر طریقے سے کام کرتا ہے اور ہمیں پرسکون نیند آتی ہے۔ایک جرمن یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ہمارا اعصابی نظام نمک کی کمی کی وجہ سے تھکان کا شکارہوتا ہے اور سمندری نمک اسے تروتازہ رکھنے کے لئے بہترین غذا ہے لہذا شہد اور سمندری نمک کو ملا کر استعمال کیا جائے تو اس کے بہت مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ہارٹ اٹیک کی چند علامات، جو بیشتر افراد کو معلوم نہیں

اسلام آباد: ہر سال کروڑوں افراد کو دل کے دورے کا سامنا ہوتا ہے جن میں سے لاکھوں کے لیے زندگی کا سفر ختم بھی ہوجاتا ہے۔ہارٹ اٹیک کی روایتی علامات جیسے سینے میں درد یا دبا، ٹھنڈے پسینے، انتہائی کمزوری وغیرہ تو سب کو معلوم ہی ہے مگر کچھ ایسی واضح علامات بھی ہوتی ہیں جو بیشتر افراد کو معلوم نہیں اور انہیں معمولی سمجھ کر نظر انداز کردیا جاتا ہے تاہم وہ دل کے دورے کے خطرے کی نشاندہی کررہی ہوتی ہیں۔تو ایسی ہی چند خاموش علامات کے بارے میں جانے جن میں سے کسی ایک کا بھی تجربہ آپ کو ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔دل کے دورے کی علامات کو قبل از وقت بھانپ لینے اور علاج کرانے سے زندگی کے بچنے کا امکان کافی حد تک بڑھ جاتا ہے۔
تھکاوٹ
طبی ماہرین کے مطابق ہارٹ اٹیک کی سب سے عام مگر خاموش علامت تھکاوٹ ہے۔ درحقیقت ہارٹ اٹیک سے کچھ عرصہ پہلے لوگ بہت زیادہ تھکاوٹ محسوس کرنے لگتے ہیں اور اپنے روزمرہ کے کام کرنے میں بھی مشکل محسوس کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دل کے دورے سے قبل دل سے خون کے بہاومیں کمی آتی ہے جس سے پٹھوں پر اضافی دباو آتا ہے اور لوگ تھکاوٹ محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ایسی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنے سے گھبرائیں نہیں کیونکہ بعد میں تکلیف آپ کو ہی اٹھانا پڑے گی۔
کمر، ہاتھوں یا سینے میں جلن
کمر، سینے یا بازوں میں شدید درد یا جلن بھی اکثر ہارٹ اٹیک کی خاموش علامت ثابت ہوتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق جب دل کے خلیات آکسیجن کی کمی کا شکار ہو تو شریانوں سے آکسیجن سے بھرپور خون کی فراہمی بلاک ہوجاتی ہے اور اس صورت میں پٹھے درد یا جلن کی شکل میں اعصابی نظام کو مدد کے سگنل بھیجتے ہیں۔ مگر چونکہ اس درد یا جلن کے دوران سینے میں روایتی بھاری پن محسوس نہیں ہوتا اس لیے لوگ اسے نظرانداز کردیتے ہیں۔ اگر آپ کو ایسا تجربہ پہلے کبھی نہ ہوا ہو اور کسی کام کے دوران اچانک ان جگہوں پر درد یا جلن محسوس ہونے لگے تو ڈاکٹر سے فوری رجوع کریں۔
سانس لینے میں مشکل
اگر آپ کو اکثر سیڑھیاں چڑھنے کا موقع ملتا ہو اور سانس لینے میں تکلیف نہ ہوتی ہو تاہم اوپر پہنچنے کے بعد ایسا لگتا ہو جیسے دم گھٹ رہا ہے تو یہ ہارٹ اٹیک کا اشارہ ہوسکتا ہے۔ خاص طور پر خواتین سیڑھیاں چڑھنے یا بازار جانے کے دوران سانس کی کمی کا شکار ہو تو اسے نظر انداز مت کریں۔ درحقیقت دل میں خون کا بہاو بلاک ہونے کی صورت میں سانس کے نظام پر یہ اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
سینے میں جلن
اگر تو آپ کو اکثر اچھا کھانے کے بعد سینے میں جلن کا احساس ہوتا ہو تو یہ فکرمندی کا باعث نہیں تاہم اگر پہلے کبھی ایسا نہ ہوا ہو تو پھر یہ ہارٹ اٹیک کی خاموش علامت بھی ہوسکتی ہے، جبکہ انجائنا کی تکلیف کا اظہار بھی ہوسکتا ہے جس میں دل کو خون کی روانی میں کمی ہونے سے جلن محسوس ہونے لگتی ہے اور یہی چیز آگے بڑھ کر ہارٹ اٹیک کا سبب بن جاتی ہے۔
معدے میں گڑبڑ
دل کے دورے کی علامات میں معدے کے مسائل بھی ہوسکتے ہیں جیسے قے، متلی یا معدے میں تکلیف وغیرہ، خاص طور پر خواتین کو اس حوالے سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر وہ اپنی طبیعت بہتر محسوس نہ کررہی ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں کیونکہ اگر وہ دل کے دورے کی علامت ہے تو وہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔
گلے، گردن یا جبڑے میں بے چینی
گلے، گردن یا جبڑے میں بغیر وجہ کے بے چینی یا گلا تنگ ہونے کا احساس جس کا تجربہ پہلے کبھی نہ ہوا ہو، ہارٹ اٹیک کا اشارہ ہوسکتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ اس طرح کی شکایت پر توجہ مرکوز کریں کیونکہ ان میں دل کے دورے سے قبل کی روایتی علامات جیسے سینے میں درد وغیرہ کا ظاہر ہونے کا امکان کم ہوتا ہے اور اس طرح کی خاموش علامات ظاہر ہونے کے بعد ہارٹ اٹیک سامنے آتا ہے۔
کسی گڑبڑ کا احساس
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر دل کے مریضوں کو ہارٹ اٹیک سے پہلے احساس ہوتا ہے جیسے سب کچھ ٹھیک نہیں، اگر تو ایسا وجدانی احساس آپ کو بھی محسوس ہو اور آپ خود کو بغیر کسی وجہ کے ہی بیمار محسوس کریں تو بہتر ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کرلیں۔ درحقیقت ہارٹ اٹیک سے پہلے اکثر افراد ذہنی طور پر زیادہ مستعد نہیں رہتے جیسے عام زندگی میں ہوتے ہیں اور یہی ایک خاموش علامت بھی ہوتی ہے۔

موٹے لوگوں کی یاداشت پتلے لوگوں کے مقابلے میں خراب ہوتی ہے

لندن: ایک مطالعے کے مطابق موٹے لوگوں کی یاداشت ان کے پتلے دوستوں کے مقابلے میں خراب ہوتی ہے۔پچاس افراد پر کئی گئی اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وزن کی زیادتی کا شکار لوگوں میں ’چیزوں کو کسی تعلق کے حوالے سے یاد رکھنے‘ میں یا پھر ماضی کے واقعات کو صحیح طرح دہرانے میں دشواری ہوتی ہے۔ بی بی سی کے مطابق ایکسپیریمنٹل سائیکولوجی کے سہ ماہی جنرل میں چھپنے والی اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اسی کمزور یاداشت کی وجہ سے ان موٹے افراد کو یہ خیال ہی نہیں رہتا کہ انھوں نے آخری بار کب کھانا کھایا تھا اور وہ مزید کھانا کھا کر خوراک کی زیادتی کا شکار ہوجاتے ہیں۔لیکن یادداشت کے دیگر پہلوؤں جیسے معلومات عامہ وغیرہ پر کوئی اثر نہیں دیکھا گیا۔اس سے قبل چوہوں پر کیے گئے تجربات سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ یادداشت کے امتحان میں موٹے تازے چوہوں کی کارکردگی دبلے چوہوں کے مقابلے میں قدرے خراب تھی لیکن انسانوں پر کیے گئے تجربات میں ملے جلے نتائج سامنے آئے ہیں۔ہم یہاں یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ زیادہ بی ایم آئی رکھنے والیافراد میں چیزوں کو واضح طور پر یاد رکھنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔ لیکن اس کایہ مطلب نہیں ہے کہ ان کے دماغ میں کچھ نہیں ہوتایا پھر ان کو نسیان کا مرض ہوتا ہے۔حالیہ تجربات میں چیزوں کو کسی تعلق کے حوالے سے یاد رکھنے پر غور کیا گیا جس میں لوگوں سے اپنے دماغ میں ویڈیو ٹیپ چلانے کو کہا گیا، جس کے بارے میں سوچنے سے ان کو کافی کی مہک آتی ہے یا محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی کا ہاتھ تھامے ہوئے ہیں۔اس تجربے میں 18 (صحت مند) سے 51 ( انتہائی موٹے ) بی ایم آئی رکھنے والے 50 افراد نے حصہ لیا، جس میں ان کو کمپیوٹر اسکرین پر چیزوں کو مختلف اوقات میں مختلف مقامات پر ’چھپانے‘ کو کہا گیا۔بعد میں ان سے پوچھا گیا کہ انھوں نے کون سے چیز کس وقت اور کہاں چھپائی تھی۔نتائج سے معلوم ہوا کہ موٹے لوگوں نے دبلے لوگوں کے مقابلے میں 15 فیصد کم نمبر حاصل کیے۔کیمبرج یونیورسٹی کی ڈاکٹر لوسی چیک نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم یہاں یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ زیادہ بی ایم آئی رکھنے والیافراد میں چیزوں کو واضح طور پر یاد رکھنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔ لیکن اس کایہ مطلب نہیں ہے کہ ان کے دماغ میں کچھ نہیں ہوتایا پھر ان کو نسیان کا مرض ہوتا ہے۔‘’لیکن اگر ان کو اپنے آخری کھانے کے بارے میں اتنا کچھ یاد نہیں تواس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں کہ وہ اپنے اگلے کھانے کی مقدار کو اعتدال میں رکھنے پر توجہ دیں گے۔‘بھوک کے ہارمونز ہماری غذا کی مقدار کے تعین میں بہت بڑا کرداد اد اکرتے ہیں لیکن اس بات کو بھی تسلیم کیا جاچکا ہے کہ ہمارا دماغ بھی اس میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔یہ بات بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ وہ لوگ جو ٹی وی دیکھتے ہوئے ڈنر کرتے ہیں زیادہ ھ کھانا کھاجاتے ہیں اور ان کو جلد ہی دوبارہ بھوک لگنے لگتی ہے۔اور جن لوگوں کو بھولنے یا نسیان کی بیماری ہوتی ہے، وہ تھوڑے تھوڑے وقفے بعد کھانا کھاتے رہتے ہیں۔داکٹر چیک کہتی ہیں کہ ’ابھی اس تحقیق کے بارے میں کسی قسم کی حتمی رائے دینا قبل از وقت ہے لیکن ہم نے غور کرنا شروع کردیا ہے کہ موٹاپے کے قائم رہنے کی وجوہات کیا ہیں۔‘’اپنی غذا پر توجہ دینے کا پیغام کوئی نیا نہیں ہے، لیکن اگر آپ وزن کی زیادتی کا شکار ہیں تو ایساکرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔‘ان کا کہنا ہے انھیں ’امید ہے کہ اس کام کو جاری رکھتے ہوئے ہم لوگوں کی مدد کا کوئی راستہ نکال لیں گے۔‘

Google Analytics Alternative