صحت

کوئٹہ سمیت صوبےکے13اضلاع میں پولیو مہم شروع

بلوچستان میں موسم کی شدت کےباوجود پولیو مہم جاری رکھنےکے فیصلے کے بعد آج سے کوئٹہ سمیت صوبےکے13اضلاع میں پولیو مہم شروع کردی گئی ہے۔

ایمرجنسی آپریشن سینٹر حکام کے مطابق صوبےکے13اضلاع میں پولیو مہم آج سےشروع کردی گئی ہے، مہم کوئٹہ،بارکھان،بولان،جھل مگسی،قلعہ عبداللہ،خاران،خضدار،لورالائی،موسی خیل،پشین ،شیرانی ،سبی اور واشک میں چلائی جارہی ہے۔

مہم میں 13لاکھ سےزائد بچوں کو پولیو سےبچاؤکی ویکسین پلائی جانےکاہدف مقرر کیا گیا ہے،مہم کے دوران ژوب کی کچھ یونین کونسلوں میں بھی بچوں کو پولیو سے بچاؤکے قطرے پلائے جائیں گے۔

صوبےکے13اضلاع میں پولیو مہم موسم کی وجہ سےملتوی کردی گئی تھی جبکہ صوبےکے دیگر گیارہ اضلاع میں پولیو مہم پہلے مکمل کی جاچکی ہے۔

میوہسپتال میں جعلی سٹنس کی فروخت، ایف آئی اے نے رپورٹ سپریم کورٹ بھجوادی

لاہورہ : میو ہسپتال میں غیر رجسٹرڈ سٹنٹس ڈالے جانے کے معاملے سے متعلق ایف آئی اے نے ابتدائی رپورٹ سپریم کورٹ کو بھجوا دی۔

Channel24-HD-Mayo-Hospital

رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ میو ہسپتال کے ڈاکٹر ثاقب شفیع اور دیگر عملے کی نگرانی میں غیر رجسٹرڈ سٹنٹس کی فروخت جاری تھی۔ غیر متعلقہ افراد ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں سٹنٹس کی فروخت کے لیے موجود تھے.  چھاپے کے دوران مہنگے سٹنٹس فروخت کرنےوالے کوئی لائسنس نہ دکھاسکے۔ ایف آئی ار کے لیے کیس ڈرگ ریگولیرٹی کو بھجوایا دیا۔

ایف آئی اے کے مطابق میو ہسپتال اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو ہسپتال سے قبضے میں لیے گئے سٹنٹس کے بارے میں ریکارڈ دینے کے لیے ثمن بھی.

تولیدی صحت کا پتا اب اسمارٹ فون کے ذریعے

نیویارک: بے اولادی کی وجہ مرد اور خاتون دونوں ہی ہوسکتے ہیں جب کہ بے اولادی کے ضمن میں سب سے پہلے مرد و خاتون کے تولیدی مادے کا ٹیسٹ لیا جاتا ہے لیکن اب اسمارٹ فون سے جڑنے والے ایک چھوٹے آلے کے ذریعے وہ مرد حضرات گھر بیٹھے اپنا ٹیسٹ کرسکتے ہیں جو ڈاکٹروں کے پاس جاکر ٹیسٹ کرانے میں کسی قسم کی جھجھک محسوس کرتے ہیں۔

آلے کو ’’ یو اسپرم کِٹ‘‘ کا نام دیا گیا ہے جس پر مرد حضرات نطفے کا ایک قطرہ ڈال کر اس میں تولیدی اجزا کی تعداد اوران کی تاثیر معلوم کرسکتے ہیں،یو اسپرم ٹیسٹ امریکی کمپنی میڈیکل الیکٹرانکس نے تیار کیا ہے،50 ڈالر کے اس آلے کو امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی ( ایف ڈی اے) نے استعمال کے لیے منظور کرلیا ہے۔

اسپرم ٹیسٹ کٹ مادہ تولید کا نمونہ (سیمپل) جمع کرنے والے ایک کپ، ٹیسٹنگ سلائیڈ، پلاسٹک پپٹ اور مائع کرنے والے سفوف پر مشتمل ہے۔ میڈیکل الیکٹرانکس سسٹم کی سی ای او مارسیا ڈیوچ کے مطابق  ہر روز میڈیکل ایپ بازار میں آرہی ہیں اور اب لوگ اسمارٹ فون کے ذریعے تولیدی صحت اور مادہ منویہ میں جراثیم کی تعداد بھی معلوم کرسکتے ہیں۔

مارسیا کے مطابق اکثر ٹیسٹ خواتین کے لیے ہی بنائے گئے ہیں لیکن اب تک مردوں کے لئے اسمارٹ فون کٹ کا کوئی ٹیسٹ نہیں بنایا گیا تھا۔ کمپنی کا دعویٰ ہےکہ 5 ہزار روپے والی اسپرم کِٹ 97 فیصد درستگی کے ساتھ مردوں کو یہ بتاتی ہے کہ وہ باپ بن سکیں گے یا نہیں۔ اس میں ایک چھوٹی خوردبین بھی اسمارٹ فون کیمرے سے منسلک ہوجاتی ہے جو جراثیم کی حرکت کو نوٹ کرتی ہے، اس کے علاوہ نمونے میں اسپرم کی تعداد کا شمار بھی کرتی ہے۔

یو اسپرم کِٹ آئی فون کے نئے ماڈلز کے علاوہ گیلکسی ایس 6 اور ایس 7 پر کام کرتی ہے تاہم یہ آئی فون کے پلس ماڈل کے لئے کارآمد نہیں ۔

کیلا شفایاب پھل کے ساتھ دلکشی بھی بڑھائے

کراچی: کیلا ایسا پھل ہے جو ناصرف توانائی سے بھرپور اور کئی بیماریوں کا علاج ہے بلکہ آپ کی خوبصورتی میں بھی اضافہ کرسکتا ہے۔ مگر کیسے؟ ملاحظہ فرمائیے۔

کیل مہاسوں کا خاتمہ:

ہم اسے گھریلو بیوٹی پیسٹ بھی کہہ سکتے ہیں جسے تیار کرنے کےلئے درمیانی جسامت کا ایک کیلا (چھلکوں کے بغیر)، ایک چائے کا چمچہ دودھ، ایک چٹکی جائفل اور ایک چائے کا چمچہ دلیہ درکار ہوگا۔ ان تمام اجزاء کو بلینڈر میں ڈال کر اتنا چلائیے کہ ان کا ایک گاڑھا پیسٹ بن جائے۔

اب اس پیسٹ کو کیل مہاسوں والے حصوں پر خصوصیت سے جبکہ پورے چہرے پر فیشل ماسک کی طرح لگائیے اور اس کے سوکھنے کا انتظار کیجئے۔ پیسٹ کے سوکھ جانے کے بعد چہرے کو ٹھنڈے پانی سے دھو لیجئے۔ باقی بچے ہوئے پیسٹ کو ریفریجریٹر میں رکھ دیجئے اور یہ عمل روزانہ دوہرائیے۔ ایک ہفتے میں چہرے پر کیل مہاسے تقریباً ختم ہوجائیں گے اور آئندہ کےلئے بھی آپ کی جلد کیلوں مہاسوں سے محفوظ ہوجائے گی۔

اس کے بعد ہفتے میں ایک سے دو مرتبہ اس پیسٹ کا استعمال جاری رکھنے سے کیلوں مہاسوں کی شکایت کبھی نہیں ہوگی۔

کیلے کا فیشل اسکرب:

کمپنیوں کے تیارکردہ فیشل اسکرب میں کئی مصنوعی مادے شامل ہوتے ہیں جن میں سے بعض آپ کی جلد کےلئے نقصان دہ اور زہریلے بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔ کیلے کا گھریلو فیشل اسکرب اس ضمن میں بہترین متبادل ثابت ہوسکتا ہے جسے تیارکرنے کےلئے ایک کیلا (چھلکوں کے بغیر)، مٹھی بھر دلیہ اوردو کھانے کے چمچے تازہ ناریل (پانی سمیت) درکار ہوگا۔ ان سب کو بلینڈر میں ڈال کر اچھی طرح سے پیس لیجئے تاکہ یہ آمیزہ ایک گاڑھے پیسٹ میں تبدیل ہوجائے۔

اسے چہرے پر لگائیے اور سوکھنے کے بعد تازہ پانی سے اچھی طرح دھو لیجئے۔ یہ گھریلو فیشل اسکرب آپ کی جلد پر موجود مردہ خلیات کو دھو ڈالے گا اور اس میں شامل اجزاء آپ کی جلد کو پورا دن تر و تازہ رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔ خاص بات یہ ہے کہ اسی فیشل اسکرب کی بدولت آپ کی جلد بھی عمر رسیدگی کے اثرات یعنی جھریوں وغیرہ سے بھی محفوظ رہے گی۔ بہتر ہے کہ اس کا استعمال ہفتے میں ایک مرتبہ ضرور کیا جائے۔

متبادل فیشل اسکرب:

اوپربتائے گئے فیشل اسکرب میں اگر دلیہ (اوٹ میل) موجود نہ ہو تو گھبرانے کی کوئی ضرورت  نہیں کیونکہ اس کی جگہ ایک کھانے کا چمچہ شکربھی استعمال کی جاسکتی ہے۔ باقی اجزاء، تیاری، استعمال کا طریقہ اور حاصل شدہ نتائج وہی ہیں جو اوپر بیان کئے جاچکے ہیں۔

جلد کی نمی برقرار:

خشک اورپھٹی ہوئی جلد بہت تکلیف دہ بھی ہوتی ہے لیکن صرف پانی سے منہ دھوتے رہنا اس مسئلے کا حل نہیں۔ جلد کی نمی بحال کرنے کےلئے طرح طرح کی مہنگی کریمیں بھی مارکیٹ میں دستیاب ہیں لیکن یہی کام کیلے سے بھی لیا جاسکتا ہے جو بہت آسان ہے۔ ایک کیلا (چھلکوں کے بغیر) اورایک کھانے کا چمچہ دیسی شہد لیجئے اورانہیں بلینڈرمیں چلا کر گاڑھا پیسٹ بنالیجئے۔ واضح رہے کہ اس مقصد کےلئے کمپنی کا بنایا ہوا مصنوعی شہد کسی کام کا نہیں بلکہ خام دیسی شہد ہی (جسے کسی مشین یا کیمیائی عمل سے نہ گزارا گیا ہو) مفید ثابت ہوتا ہے۔

کیلے اور دیسی شہد کے پیسٹ کو انگلی کی مدد سے چہرے پر 20 منٹ تک آہستگی سے رگڑیئے، جس کے بعد نیم گرم پانی سے دھو لیجئے۔ شدید سرد اور خشک موسم میں بھی آپ کے چہرے کی جلد میں نمی برقرار رہے گی اور چہرہ تر و تازہ رہے گا۔ اسے روزانہ دن میں صرف ایک بار استعمال کرنا کافی رہتا ہے۔

جلد کی چکنائی ختم:

درمیانی جسامت کا ایک کیلا (چھلکوں کے بغیر) اور دو چائے کے چمچے لیموں کا تازہ رس لے کر بلینڈر میں اچھی طرح چلا لیجئے تاکہ ایک گاڑھا پیسٹ بن جائے۔ اس پیسٹ میں لیموں کا رس آپ کی جلد پر موجود غیر ضروری چکنائی ختم کرے گا جبکہ کیلا آپ کی جلد کو تر و تازہ اور نمی سے بھرپور رکھے گا۔ چہرے پر یہ پیسٹ لگانے کے بعد 10 سے 15 منٹ تک کےلئے یونہی چھوڑ دیجئے اور پھر تازہ پانی سے دھو لیجئے۔ جلد پر تازگی اور صحت کی دمک آپ کو خود محسوس ہوگی۔

اسے بھی روزانہ صرف ایک مرتبہ استعمال کرنے سے آپ کی جلد نہ صرف چکنائی سے پاک رہے گی بلکہ ضروری نمی کی بدولت تر و تازہ بھی دکھائی دے گی۔

بالوں کی خشکی کا علاج:

دو کیلے (چھلکوں کے بغیر) اور دو کھانے کے چمچے دیسی شہد لے کر انہیں بلینڈر میں اچھی طرح سے چلا لیجئے؛ ایک گاڑھا پیسٹ تیار ہوجائے گا۔ اس پیسٹ کو اپنی انگلیوں کی مدد سے، آہستگی کے ساتھ، اپنے بالوں اور کھوپڑی پر مساج کے انداز میں لگائیے۔ جب یہ پیسٹ اچھی طرح سے بالوں اور کھوپڑی تک (بالوں کی جڑوں میں) پہنچ جائے تو 15 سے 20 منٹ تک کےلئے شاور کیپ یا نمی والا تولیہ سر پر لپیٹ لیجئے تاکہ بالوں کی نمی برقرار رہے۔

اب اپنے بالوں کو نیم گرم پانی سے اچھی طرح دھوئیے تاکہ یہ پیسٹ مکمل طور پر دُھل کر نکل جائے۔ البتہ اس کے فوراً بعد بالوں پر ٹھنڈا پانی ڈالئے تاکہ کھوپڑی کے مساموں میں اس پیسٹ کی مفید باقیات محفوظ ہوجائیں کیونکہ یہ خشکی کے ذرات بننے میں رکاوٹ ڈالتی ہیں۔ خشکی ختم کرنے والے اس گھریلو پیسٹ کو ہفتے میں دو سے تین مرتبہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تاہم اس پیسٹ کو لگانے سے پہلے اور اسے دھونے کے فوراً بعد کوئی شیمپو استعمال نہ کیجئے بلکہ درمیان میں ایک دن کا وقفہ دیجئے ورنہ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکیں گے۔

ناقص اسٹنٹ کی فراہمی، چیف جسٹس کا از خود نوٹس

لاہورمیں دل کے مریضوں کو ناقص اسٹنٹ کی فراہمی پر چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لے لیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے اس حوالے سے ڈی جی ایف آئی اے سے رپورٹ طلب کر لی۔

اس حوالے سے لاہور میں ایک گروہ دل کے مریضوں کو جعلی اسٹنٹ فروخت رہا ہے، جعل سازوں سے 4کروڑ مالیت کے جعلی اسٹنٹ برآمد ہوتے تھے۔

جعل ساز ڈاکٹروں کے ساتھ مل کر مریضوں کو اسٹنٹ ڈالنے کا مشورہ دیتے تھے، چھ ہزار روپے مالیت کے اسٹنٹ کے 2 لاکھ روپے وصول کیے جاتے لیکن اسٹنٹ نہیں ڈالا جاتا تھا۔

سروسز ہسپتال کے سامنے فٹ پاتھ پر پڑی مریضہ مسیحاؤں کی منتطر

لاہور : لاہور کے ہسپتالوں کی حالت زار بہتر نہ ہوسکی ، سروسز ہسپتال کے سامنے فٹ پاتھ پر پڑی مریضہ مسیحاؤں کی منتطر، سروسز ہسپتال کے نام نہاد مسیحاؤں کا علاج کرنے سے انکار۔ 

سروسز ہسپتال کے باہر فٹ پاتھ پر 33 سالہ شبنم علاج کیلئے ڈاکٹرز  کی راہ تکنے لگی۔ 33 سالہ شبنم لاہور کی کچی آباد کی رہائشی ہے اور فٹ پاتھ پر علاج کیلئے بھیک مانگ رہی ہے۔  تین ماہ قبل خاتون کا سروسز ہسپتال کے گائنی وارڈ میں آپریشن کیا گیا تھا آپریشن ٹھیک نہ ہونے پر دوبارہ آپریشن کیا گیا اور حالت بہتر نہ ہونے پر ہسپتال سے کچھ روز قبل ڈسچار ج کردیا گیا تھا  آج شبنم کو طبعیت ٹھیک  نہ ہونے اور سانس لینے میں دشورای کی وجہ سے ہسپتال لایا گیا تھا جہاں سروسز ہسپتال کے ڈاکٹرز نے بیڈ نہ ہونے اور میڈیکل رپورٹ نہ ہونے کا بہانہ کرکے ہسپتال میں داخل نہیں کیا۔  حکومت کی جانب  سے عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے دعوے تو بہت کیے جاتے ہیں لیکن آج بھی غریب عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

دوسری جانب  سروسز ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس بیڈ نہیں ہے مریضہ کو کہاں پر علاج فراہم کریں۔

واضح رہے کہ چندروز قبل جناح ہسپتال کے ٹھنڈے فرش پر ایک مریضہ علاج نہ ملنے پر دم توڑ گئی تھی،  آج  ایک مریضہ سروسز ہسپتال کے سامنے فٹ پاتھ پر لیٹی ہے اور ڈاکٹرز کی منتظر ہے ۔

کھانے میں نمک کی کم مقدار کئی امراض سے بچاتی ہے، تحقیق

بوسٹن:ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ کھانے میں نمک کی مقدار کم کرکے کئی امراض سے محفوظ رہا جاسکتا ہے اور یوں دنیا بھر میں لاکھوں زندگیاں ہرسال بچائی جاسکتی ہیں۔

یہ تحقیق امریکی شہر بوسٹن میں واقع ٹفٹ یونیورسٹی میں کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ اگر نمک کے روزمرہ استعمال میں صرف 400 ملی گرام بھی کم کردیا جائے تو اس سے امریکا میں 3 ارب ڈالر سالانہ کے وہ اخراجات بچائے جاسکتے ہیں جو نمک سے پیدا ہونے والے امراض کے علاج پر خرچ ہوسکتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق اگر چپس کا ایک پیکٹ بھی کم کیا جاسکے تو اس سے زندگی پر خوشگوار اثر پڑتا ہے اور عمر میں اضافہ ہوسکتا ہے، یعنی صرف 200 ملی گرام نمک کم کرنے سے ہزاروں لاکھوں زندگیوں کو بچایا جاسکتا ہے کیونکہ نمک کا استعمال گوناگوں جان لیوا امراض کی وجہ بن رہا ہے۔

اسی بنیاد پر برطانوی اور امریکی ماہرین نے 183 ممالک میں 10 سال تک نمک کے 10 فیصد کمی کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ اگر ہر ملک اپنی صحت کی پالیسی میں نمک کا استعمال کم کرنے پر زور دے تو امراض ( امراضِ قلب اور بلڈ پریشر) سے پیدا ہونے والے بے عملی کے 58 لاکھ دنوں کو کم کیا جاسکتا ہے۔

حکومت پنجاب صحت کے مراکز شمسی توانائی پر منتقل کرے گی

حکومت پنجاب نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے پیش نظر صوبہ بھر کے تمام بنیادی مراکز صحت کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کیلئے ابتدائی طور پر 2 ارب روپے کے فنڈز مختص کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔

صوبہ بھر کے دور دراز علاقوں میں واقعہ بنیادی مراکز صحت کو پہلے مرحلہ میں شمسی توانائی پر منتقل کیا جائیگا تاکہ بجلی جانے کی صورت میں بنیادی مراکز میں عوام کو طبی سہولتیں فراہم کرنے میں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Google Analytics Alternative