صحت

کبوتر کسی بھی شخص میں کینسر کی موجودگی سے آگاہ کرسکتے ہیں

اسلام آباد: زمانہ قدیم سے کبوتر کو پیغام رسائی کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے اور اسے ایک ذہین پرندہ تصور کیا جاتا ہے لیکن جدید سائنس نے اس کی ایک نئی خوبی کو آشکار کردیا ہے جس سے پتا چلا ہے کہ کبوتر کسی بھی شخص میں کینسر کی موجودگی سے بھی آگاہ کرسکتے ہیں۔یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے سائنس دانوں کے مطابق کبوتر کو ایسی تربیت دی جا سکتی ہے جس سے وہ کسی بھی انسان میں کینسر کا پتا دے سکتا ہے تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ کبوتر کسی لیبارٹری یا ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتا نظرآئیں لیکن ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کبوتر کے اندر کینسر کو جانچنے کی بھر پور صلاحیت موجود ہے اور تھوڑی سے ٹریننگ کے بعد وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ کینسر کی تشخیص کر سکے۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کبوتر کا وڑن اگر انسان سے بہتر نہیں تو اس سے کم بھی نہیں ہے جب کہ کبوتر روشنی کی ویو لینتھ کو زیادہ بہتر طور پر جانچ سکتا ہے جس میں الٹرا وائلٹ شعاع کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے جبکہ یہ سن کر آپ کو حیرت ہوگی کہ کبوتر کا دماغ انسانی دماغ کے ایک ہزارویں حصے کے برابر ہے۔ سابقہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ کبوتر چیزوں کو کیٹیگری میں تقسیم کرسکتا ہے بلکہ حروف کو بھی الگ الگ کر سکتا تھا اور یہاں تاکہ اگر آپ نے کپڑے تبدیل کیے ہیں تو وہ ان کی بھی پہچان کر سکتا ہے۔یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے شعبہ اسٹریٹجک ٹیکنالوجی میڈیکل پیتھالوجی اور لیبارٹری میڈیسن کے وائس چیرمین پروفیسر رچرڈ لیونسن کا کہنا ہے کہ کبوتر کی دیکھنے کی زبردست صلاحیت نے انہیں حیران کردیا ہے جسے پیتھالوجی میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیق کے دوران 8 کبوتروں کو ایک ہائی ٹیک ڈبے میں رکھا گیا اورانہیں ایک تصویر دکھائی گئی جسے سائنس دان دو الگ ڈبوں میں رکھی گئی مائیکرواسکوپ سے دیکھ رہتے تھے جب کہ مائیکرو اسکوپ پر رکھی گئی سلائڈز پر کینسر سیل اوربغیر کینسر والے سیل واضح نظرآرہے تھے۔ اب سائنس دانوں نے کبوتروں کو ٹریننگ دی کہ وہ اس بکس پر ٹھونگ ماریں جس میں کینسر کے خطرناک سیل موجود ہیں یا پھر جو بے ضرر ہیں، ان کبوتروں کا اس طرح کی 144 تصاویر دکھائی گئیں۔15 دن کی ٹریننگ کے دوران کبوتروں نے ان سیل کی مختلف شکلوں کے درمیان بالکل درست فرق کیا اور ان کے درست جواب دینے کا تناسب 85 فیصد تھا جس نے سائنس دانوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اب انسانی پتھالوجسٹ کی جگہ کبوتر لے لیں گے تاہم اسے مہنگے ٹیسٹ کی جگہ پر نعم البدل طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کم عمر افراد میں دل کے امراض تیزی سے پھیل رہی ہے ‘ طبی ماہرین

اسلام آباد:ماہرین امراض قلب کا کہنا ہے کہ نا مناسب طرز زندگی ، ورزش اور غذاکی طرف عدم توجہ کے باعث کم عمر افراد میں دل کے امراض تیزی سے پھیل رہیںہے۔لاہور میں 45 ویں سالانہ ہارٹ کانفرنس کا آغاز ہوگیا، پہلے روز ملکی اورغیر ملکی طبی ماہرین نے دل کے مرض کی علامات ،ان سے بچاو اور علاج پر روشنی ڈالی۔ڈاکٹر اظہر فاروقی کا کہنا تھا کہ گذشتہ سالوں کی نسبت دل کا مرض زیادہ پھیل رہا ہے،35 سال کی عمر تک کے لوگوں نے ورزش چھوڑ دی ہے اور مرغن غذاوں کا استعمال زیادہ کرتے ہیں جو خطرے کی گھنٹی ہے ،ڈاکٹر ندیم حیات ملک کا کہنا تھا کہ کانفرنس میں شریک طبی ماہرین جدید انجیو پلاسٹی بھی کرکے دکھائیں گے۔

ایک خون کا قطرہ آپ کی قسمت کا فیصلہ کرتاہے

واشنگٹن:ایک خون کا قطرہ آپ کی قسمت کا فیصلہ کرتاہے !آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ ذیابیطس ، مرض رینو (تشنج)، مرض برگر سمیت دیگر متعدد بیماریوں کے ٹیسٹ کیلئے ہاتھ کی انگلی سے ایک قطرہ خون لیا جاتاہے۔ حالیہ تحقیق میں سائنسدانوں نے ہاتھ کی انگلی کے ایک قطرہ خون سے کیے گئے ٹیسٹ کو غلط قرار دیاہے اور کہاہے کہ ٹیسٹ کے لیے انگلی سے لیا گیا ایک قطرہ خون زیادہ تر غلط رہنمائی اور غلط نتائج بھی دیتاہے۔ تحقیق میں یہ بات ثابت کی گئی ہے کہ ماہرین صحت بیماری کی صحیح تشخیص کیلئے انگلی سے کم ا زکم 6سے 8قطرے خون لیں۔ امریکی رائس یونیورسٹی کے محقق ریبیکا رچرڈ کورٹم نے کہاکہ ابتدائی تحقیق میں چند حیرت انگیز نتائج حاصل کرنے کے بعد ہم نے اس پر غور کرنا شروع کردیا۔ یہ تحقیق امریکی جریدے کلینیکل پیتھالوجی میں شائع ہوئی ہے۔

بالوں کو سیدھا کی کرنے کا آسان طریقہ

کون سی خاتون ہوگی جس کو سیدھے اور نرم لمبے بالوں کی خواہش نہ ہو لگ بھگ کوئی بھی نہیں اور یہی وجہ ہے کہ بالوں کو سیدھا کرنے والی پروڈکٹس کی بہت زیادہ مانگ ہے تاہم ان اشیاءمیں شامل کیمیکلز بالوں کی صحت کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں بالوں کو سیدھا کردینے والے قدرتی ٹوٹکے مستقل بنیادوں پر استعمال کرنے کے لیے محفوظ اور موثر ہیں۔ تو بالوں کو سیدھا کرنے والے ایسے ہی چند قدرتی ٹوٹکوں کے بارے میں جانیے جو اس حوالے سے جادوئی اثر ہوتے ہیں اور ان کے کوئی مضر اثرات بھی نہیں ہوتے۔ ناریل کے تیل میں لیموں کا عرق ملا کر ناریل کا پانی بالوں کو نرم کرنے کے لیے موثر ثابت ہوتا ہے، آپ ایک کپ میں ناریل کے پانی کو دو بڑے لیمو?ں کے عرق کے ساتھ ملائیں اور رات بھر کے لیے فریج میں چھوڑ دیں۔ اگلی صبح آپ کپ کے اوپر کریمی تہہ دیکھیں گے، اس کریم کو اکھٹا کرکے اپنے بالوں پر لگائیں اور پھر بالوں کو ایک گرم تولیے میں ایک گھنٹے تک ڈھانپ کر رکھیں، اس کے بعد انہیں دھو کر کنڈیشنر کرلیں آپ کے بال نرم اور سیدھے ہوجائیں گے۔ گرم تیل بالوں پر گرم تیل کا اکثر استعمال انہیں نرم اور صحت مند بناتا ہے اور آپ کو خود اندازہ ہوگا کہ اس تیل کے استعمال کو معمول بنالینے سے بال سیدھے ہوگئے ہیں۔ بس ناریل کے تیل اور بادام کے تیل کی برابر مقدار ملائیں اور اس مکسچر کو گرم کریں اور اپنے سر پر لگانے کے بعد بالوں کو ایک گرم تولیے سے 45 منٹ تک ڈھانپ کر رکھیں جس کے بعد انہیں شیمپو سے دھولیں، بالوں پر پڑنے والا فرق آپ کو حیران کردے گا۔ بالوں کی قدرتی کنڈیشنگ آپ اپنے بالوں کے خود قدرتی کنڈیشنر تیار کرسکتے ہیں جو ان کی نشوونما اور صحت کو بہتر بنانے کے ساتھ انہیں نرم اور سیدھا بھی کرے گا۔ بس آدھا کپ السی کے بیجوں کو تین کپوں کے برابر پانی میں رات بھر کے لیے بھگو کر رکھیں اور اس پانی کو اپنے بالوں کو شیمپوں سے دھونے کے بعد استعمال کریں۔ دودھ اور انڈے کی زردی کا ماسک یہ دونوں ہی بالوں کو سیدھا کرنے اور صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔ ایک کپ دودھ میں انڈوں کی دو زردیوں کو مکس کریں اور پھر اپنے سر پر لگالیں، اسے ایک گھنٹے تک سر پر لگا رہنے دیں تاکہ پروٹین اور نیوٹریشنز بالوں میں جذب ہوسکیں اور پھر شیمپو سے دھولیں۔ ہوسکتا ہے کہ بالوں کو دھونے کے لیے دو بار شیمپو کا استعمال کرنا پڑے مگر آپ اس کے نتائج دیکھ کر حیران رہ جائیں گے۔ دودھ اور شہد دودھ کو شہد میں ملائیں اور اس میں کیلے کو پیس کر ڈال کر پیسٹ بنالیں، اس پیسٹ کو اپنے بالوں پر لگائیں اور سوکھنے دیں۔ اس پیسٹ کو خشک ہونے میں ڈیڑھ سے دو گھنٹے لگ سکتے ہیں جس کے بعد اپنے بالوں کو شیمپو سے دھولیں۔

ایک منٹ میں دوائی کے بغیر میں بند ناک کھولیں

اسلام آباد:اگرآپ بند ناک کی وجہ سے پریشان ہیں اور طرح طرح کی ادویات استعمال کرکے بھی آرام نہیں آرہا تو ایک انتہائی آسان نسخہ آزما کردیکھیں۔آپ کو بس یہ کرنا ہے کہ اپنی زبان کو ’تالو‘ کے ساتھ لگانا ہے،اس کے بعداپنی شہادت اور درمیانی انگلیوں کو ناک کے اوپر ماتھے پردبانا ہے اور پھر چھوڑ دینا ہے۔اس عمل کو بار بار تقریباًایک منٹ تک دہرائیں،آپکی ناک فوری طور پر کھل جائے گی۔ایک اور طریقے میں آپ کو یہ کرنا ہے کہ ایک لمبی سانس کھینچ کر تھوڑی دیر کے لئے سانس روک لینا ہے،اس طرح آپ کا دماغ survivalموڈ میں چلا جائے گا اور ساتھ ہی آپ کی ناک کُھل جائے گی۔

الجی سے کینسر کا کامیاب کا علاج

اسلام آباد:آسٹریلیا اور جرمنی کے سائنسدانوں نے کائی سے کینسرکےکامیاب علاج کا طریقہ دریافت کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ایک سائنسی جریدے کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا اور جرمنی کے سائنسدانوں کی ٹیم نیکائی (الجی ) کے ذریعے مریض کی صحت پر منفی اثرات مرتب کیے بغیر کینسر کے کامیاب علاج کا طریقہ دریافت کرلیاہے۔کینسر ایک مہلک مرض ہے لیکن لاعلاج بیماری تپ دق کی طرح یہ بیماری بھی اب لاعلاج نہیں ہوگی کیونکہ سائنسدانوں نے یک خلوی الجی کو جینیاتی طورپر کینسر کے 90فیصد خلیوں کو ناکارہ بنانے کے قابل بنایاہے۔سائنسدانوں نے اس دریافت کو کارہائے نمایاں قرار دیاہے۔کائی کے ذریعے کینسر کے علاج سے مریض کی صحت پر کوئی منفی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔آپ کو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ دس کروڑ سے زائد مساموں والی یک خلوی کائی (الجی)کا شمار یک خلوی خوردبینی جانداروں کے سب سے بڑے گروپ میں ہوتاہے۔اس کی قطرمحض 4سے 6مائیکرومیٹر ہوتاہے جو کسی بھی انسان کے بال سے بہت سے زیادہ چھوٹی ہے۔اس تحقیق کے مصنف وماہرنینو میڈیسن نائیکو وئیلکر نے کہاکہ جینیاتی طورپر تیار کی جانے والی خوردبینی کائی یک خلوی اور اس میں ضیائی تالیف کی صلاحیت موجود ہے۔اس کے 10کروڑ سے زائد مسام ہوتے ہیں۔اس الجی کے ذریعے ہم ان کے خول کی سطح پراینٹی باڈی بائنڈنگ پروٹین بنانے کے قابل ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم اس الجی سے تیار کی جانے والی دوائی کے ذریعے کینسر کے 90فیصد خلیات کو ختم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں جبکہ اس کا منفی اثر بھی کوئی نہیں ہے۔یاد رہے کہ الجی نباتات کا ایک گروہ ہے ان کا قدرتی مسکن پانی ہے الجی کے الکان کا شمار سادہ ترین پودوں میں ہوتا ہے ،ان کی جڑ تنا اور پتے نہیں ہوتے الجی یونی سیلولر ملٹی سیلولر بھی ہوتے ہیں کچھ بیضہ نما اور کچھ شاخ دار چونکہ ان میں کلوروفل موجود ہوتی ہے اس لیے الجی گروہ میں شامل سارے پودے اپنی خوراک خود تیار کرتے ہیں ان میں کلوروفل کے علاوہ دیگر رنگدار پگمنٹ بھی ہوتے ہیں جن کی وجہ سے ان کا رنگ متعین ہوتا ہے ، الجی کی 20 ہزار سے زائد اقسام ہیں ، الجی ایک خلیاتی کثیر خلیاتی دونوں طرح کی ہوتی ہے تازہ پانی میٹھے نم جگہوں درختوں کے تنو پر بھی پیدا ہوتی ہے ،

اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت وقت کے ساتھ سنگین سے سنگین تر

اسلام آباد:چین میں سائنسدانوں نے انسانوں اور مویشیوں میں تمام قسم کے علاج کی ناکامی کے بعد آخری حربے کے طور پر استعمال کی جانے والی دواوں کے خلاف مدافعت کرنے والے بیکٹیریا دریافت کیا ہے۔اس دریافت کے بعد سائنسدانوں نے متنبہ کیا ہے کہ دنیا اب مابعد اینٹی بایوٹکس دور میں داخل ہو رہی ہے۔اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت وقت کے ساتھ سنگین سے سنگین تریہ رپورٹ ’لینسٹ‘ میں شائع ہوئی ہے جس کے مطابق چین میں ایسے بیکٹیریا ملے ہیں جن پر’ کولسٹین‘ کا بھی کوئی اثر نہیں جبکہ یہ وہ اینٹی بایوٹک ہے جو تمام دواوں کے بےاثر ہونے کے بعد استعمال کی جاتی ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بیکٹیریا کی یہ مدافعت دنیا بھر میں پھیل سکتی ہے جس سے انفیکشنز کے لاعلاج ہونے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پریشان کن مسئلہ عالمی سطح پر بیدار ہو جانے کی منادی ہے۔یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دواو¿ں کے خلاف بیکٹریا میں مدافعت پیدا ہوجانے کے سبب یہ پھر سے طب کو دور جہالت میں پہنچا دے گا۔ایک بار پھر سے عام انفیکشن سے جان لیوا ہو جائے گا جبکہ سرجری اور کینسر کا علاج جو کہ اینٹی بایوٹکس پر منحصر ہے اسے خطرہ لاحق ہو جائے گا۔اینٹی بایوٹک سے مدافعت پیدا کرنے والے عوامل کا نام ایم سی آر 1 دیا گیا ہے چینی سائنسدانوں نے بیکٹیریا میں آنے والی اس نئی تبدیلی کو ’ایم سی آر – 1‘ کا نام دیا ہے جو کہ ’کولسٹین‘ (ایک اینی بایوٹک دوا) کو بیکٹیریا کو مارنے سے باز رکھتا ہے۔یہ جین جانچ کیے جانے والے 20 فیصد مویشیوں، 15 فیصد کچے گوشت کے نمونوں اور 16 انسانی مریضوں پایا گیاہے۔اس بات کے بھی شواہد ہیں کہ یہ لاو¿س اور ملائشیا تک پھیل چکا ہے۔کارڈف یونیورسٹی کے پروفیسر ٹیموتھی والش نے بی بی سی کو بتایا کہ کوائف یہ بتا رہے ہیں کہ ’مابعد اینٹی بایوٹکس دنیا ایک حقیقت ہے۔انھوں نے کہا کہ ’اگر ایم آر سی-1 عالمی سطح پر پھیل جاتا ہے اور یہ دوسرے اینٹی بایوٹک جین کے ساتھ انضمام کرلیتا ہے جو کہ ناگزیر ہے تو ہم مابعد اینٹی بایوٹک عہد میں پہنچ جائیں گے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’ایسے میں کوئی ای کولی کے مرض میں متبلا ہو جاتا ہے تو اس کے لیے آپ کچھ نہیں کر سکتے۔‘خیال رہے کہ پہلے بھی ایسا ہو چکا ہے لیکن اس بار یہ بہ آسانی دوسرے قسم کے بیکٹیریا میں پھیل رہا ہے۔

سگریٹ نوشی جسمانی صحت کے لیے تو نقصان دہ ہے

ایڈنبرگ:نئی طبی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیاہے کہ سگریٹ نوشی کی عادت جسمانی صحت کے لیے تو نقصان دہ ہے مگر یہ دماغ کو بھی قبل از وقت بڑھاپے کا شکار کردیتی ہے۔یہ انتباہ اسکاٹ لینڈ میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ایڈنبرگ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق تمباکو نوشی کسی عام دماغ کی عمر کی رفتار کو تیز کردیتی ہے اور اس کے نتیجے میں منصوبہ بندی، فیصلہ سازی اور مسائل حل کرنے جیسی صلاحیتوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں مگر جو لوگ اس عادت کو ترک کردیتے ہیں چاہے عمر کے کسی بھی حصے میں ان کےلئے ان مضر اثرات کو ریورس کرنا ممکن ہوسکتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ سیگریٹ پینے کے نتیجے میں دماغی کی اوپری تہہ یا قشر کی تہہ کو پتلا کرنے کی رفتار کو تیز کردیتی ہے جو عام طور پر بڑھاپے میں ہوتی ہے یہ دماغ کا وہ حصہ ہے جو متعدد اہم افعال سے جڑا ہوتا ہے اور یاداشت، توجہ، زبان اور شعور کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتا ہے۔محقق پروفیسر آئن ڈیرے نے بتایا کہ یہ جاننا اہمیت رکھتا ہے کہ بڑھاپے میں دماغی صحت کیسی ہوتی ہے اور ہماری تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ سیگریٹ نوشی کے نتیجے میں دماغ کی عمر میں دوگنا اضافہ ہوتا ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس عادت کو ترک کرنے سے دماغ کے قشر کو اپنی موٹائی کو واپس حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے اگرچہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

Google Analytics Alternative