صحت

سبز چائے کے ذریعے حساس دانتوں کا علاج

بیجنگ: دانتوں میں ٹھنڈا اور گرم پانی لگنا ایک تکلیف دہ صورتحال ہے لیکن اب ماہرین نے سبز چائے سے ایک مرکب نکالا ہے جس کے ذریعے حساس دانتوں کے اس مرض سے نجات مل سکتی ہے۔

صرف امریکا میں ہی 25 فیصد آبادی دانتوں کی حساسیت کی شکار ہے اور ان کے لیے گرم غذا یا آئسکریم کھانا ناقابلِ برداشت ہوتا ہے۔ دانتوں کی اس کیفیت کے علاج کے لیے اب تک کوئی مؤثر طریقہ دریافت نہیں ہوسکا ہے۔ دانتوں کی حفاظتی پرت انیمل دھیرے دھیرے ختم ہو جاتی ہے اور دانت کی اگلی پرت ڈینٹائن نمایاں ہو جاتی ہے اور اس پر ٹھنڈی اور گرم اشیا بہت تکلیف دیتی ہیں۔ ڈینٹائن میں دانتوں کی حساس رگیں ہوتی ہیں جو سرد اور گرم اشیا کا احساس دلاتی ہیں۔

اب ڈووہان یونیورسٹی چین کے ڈاکٹر چوئی ہوانگ نے گرین ٹی کے پولی فینولز نکال کر اس میں ایک نینو ہائیڈروکسی ایپیٹائٹ شامل کرکے ایک بایومٹیریل (حیاتی مادہ) بنایا ہے۔ واضح رہے کہ سبز چائے میں جو پولی فینول پایا جاتا ہے اس کا پورا نام ایپی گیلوکٹیچن تھری گیلاٹ (ای سی جی سی) ہے اور اس میں میسو پورس سلیکا نینوپارٹیکلز شامل کیے گئے ہیں۔ اب اگر یہ مٹیریل دانتوں پر لگایا جائے تو ڈینٹائن کو نہ صرف بند کرتا ہے بلکہ انیمل کو تباہ کرنے والے بیکٹیریا کے حملے کو بھی روکتا ہے۔

کمر پتلی کرنے کی ورزش

پنجوں کو چھونا:
پاؤں کھلے کر کے کھڑی ہوجائیں۔ پاؤں تقریباََ ایک فٹ کھلے ہوں۔ بازو سرکے اوپر سیدھے اٹھائیں۔ دھڑ جھکاتے ہوئے دونوں پاؤں کے درمیان فرش چھوئیں۔ پھر دھڑ تھوڑا سا اوپر اٹھاتے ہوئے دوبارہ چھوئیں۔ پھر دھڑ اوپر اٹھائے ہوئے پہلی حالت میں واپس آجائیں۔ یہ ورزش پانچ سے دس منٹ تک کریں۔
بازو گھمانا:
سیدھی کھڑی ہوجائیں۔ پاؤں ایک فٹ کھلے ہوں۔ بازو پہلو کے ساتھ ہوں۔ دونوں بازوؤں کو پچھلی طرف پوری گردش کریں۔ ورزشوں کی آدھی تعداد سے آگے کو گردش دیتے ہوئے مکمل کریں اور آدھی آگے سے پیچھے کو۔ یہ ورزش اٹھارہ سے بیس مرتبہ کریں۔
زچگی کے بعد وزن میں اضافے کو روکنے کی ورزش:
فرش پر سیدھی بیٹھ جائیں۔ بازو آگے پھیلائیں اور ٹانگیں بھی سیدھی پھیلا دیں۔ ان آگے جھکتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے پنجوں کو پکڑلیں۔ اپنی اصلی حالت پر آجائیں۔ اب بازو سامنے پھیلائیں اور پچھلی طرف جھکیں، اور دونوں ٹانگیں اندر کو سمیٹیں۔ اپنی اصلی حالت پر آجائیں ۔ اب سیدھی لیٹ جائیں۔ دونوں بازو سر کی طرف فرش پر پھیلادیں۔ ٹانگیں ذرا سمیٹیں اور کمر فرش سے جس قدر اٹھ سکے اوپر اٹھائیں۔ لیکن کندھے، کولھے اور پاؤں فرش سے لگے رہیں۔

نیند کی کمی کا یہ نقصان جانتے ہیں؟

اگر چھ گھنٹے سے کم نیند کو معمول بنالیا جائے تو یہ دماغ کے لیے اسی طرح تباہ کن عادت ثابت ہوتی ہے جیسے شراب نوشی۔

یہ انتباہ کینیڈا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

ویسے تو نیند کی کمی موٹاپے، ڈپریشن، ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے امراض کا بھی بڑھاتی ہے مگر اب یہ بات سامےن آئی ہے کہ یہ دماغ پر بھی نقصان دہ اثرات مرتب کرنے والی عادت ہے۔

ڈیجیٹل ہیلتھ کمپنی Medisys کی تحقیق میں بتایا گیا کہ نیند کیکمی توقعات سے بھی زیادہ دماغ کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔

چاکلیٹ کھائیے اور فالج بھگائیے

لندن: ہفتے میں کم ازکم تین مرتبہ چاکلیٹ کھانے سے دل اور اس سے وابستہ شریانوں کی صحت بہتر رہتی ہے اور دل کی بے ترتیب دھڑکن کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔

چاکلیٹ میں موجود مفید اجزا فلیوینولزدل اور پورے جسمانی شریانی نظام کو اچھی حالت میں رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ چاکلیٹ کھانے سے ایٹریئل فلبریشن (اے ایف) کا خطرہ کم ہوجاتا ہے جو فالج کی سب سے بڑی وجوہ میں سے ایک ہے۔  اگر کوئی ہفتے میں 3 سے 6 مرتبہ چاکلیٹ کھاتا ہے تو اس طرح مہینے میں ایک مرتبہ چاکلیٹ کھانے والے فرد کے مقابلے میں یہ خطرہ 20 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چاکلیٹ کا اہم عنصر کوکو فلیوینوئیڈز سے بھرپور ہوتا ہے۔

ہارورڈ ٹی ایچ چین اسکول آف پبلک ہیلتھ کی ڈاکٹر ایلزبتھ موسٹوفسکی کے مطابق دل کی تیز یا کم دھڑکن سانس میں کمی، تھکاوٹ اور غنودگی کی وجہ بنتی ہے اور مرد اس کے زیادہ شکار ہوتے ہیں اور اسے ایٹریئل فلبریشن کہا جاتا ہے۔ ماہرین نے ڈنمارک کے 55,502  افراد کا 13 سال سے زائد تک جائزہ لیا اور ان میں سے 3,346 اے ایف کے شکار ہوئے۔ ان میں خواتین اور مرد دونوں شامل تھے جن کی عمریں 50 سے 64 برس تھی۔

کیا برتن دھونے والا اسفنج آپ کی جان کا دشمن ہے؟

برلن: اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ برتن صاف کرنے والا اسفنج محفوظ ہوتا ہے کیونکہ اسے روزانہ کئی بار دھویا جاتا ہے تو اپنی غلط فہمی دور کرلیجیے کیونکہ اس میں بیماریاں پھیلانے والے جراثیم کی سینکڑوں اقسام موجود ہوسکتی ہیں۔

جرمن ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ باورچی خانوں میں برتن صاف کرنے کےلیے استعمال ہونے والے اسفنج میں 362 اقسام کے جراثیم وافر ہوتے ہیں جبکہ ان کی تین اقسام ایسی ہیں جو انسانی صحت اور جان کےلیے شدید طور پر نقصان دہ ہیں۔

فرٹ وینجن یونیورسٹی، جرمنی میں ماہرین نے مختلف مقامات سے استعمال شدہ کچن اسفنج (برتن دھونے والے اسفنج) کے 14 نمونے حاصل کیے اور ان کا جینیاتی تجزیہ کیا جس کا مقصد اسفنج کے نمونوں میں موجود جرثوموں کی اقسام کا تعین کرنا تھا۔

ضرورت سے زائد نیند ڈراؤنے خواب کی وجہ بن سکتی ہے

ہارورڈ: اگر آپ ڈراؤنے خواب دیکھتے ہیں تو اس کی وجہ 8 گھنٹے سے زائد کی نیند یا پھر سوتے وقت پریشان کن سوچ ہو سکتی ہے۔

ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ خوفناک خواب انہیں زیادہ دکھائی دیتے ہیں جو کسی ذہنی یا جسمانی حادثے سے گزرنے کے بعد صدمے (پی ٹی ایس ڈی) سے دوچار ہوتے ہیں اور یہ انکشافآکسفورڈ یونیورسٹی کی اسٹیفینی ریک اور ان کے ساتھیوں نے ایک بڑی آبادی میں بھیانک خوابوں کا جائزہلینے کے بعد کیا ہے۔

مطالعے میں 846 افراد اور نیند پر ہونے والے اہم ڈیٹا بیس کا جائزہ بھی لیا گیا جس میں شرکا سے گزشتہ 15 دن کی نیند اور ڈراؤنے خوابوں پر سوالات پوچھے گئے اور ڈراؤنے خوابوں کی شدت ناپنے کے لیے ایک پیمانہ بھی بنایا گیا۔ ہر رضاکار سے ان کی زندگی کے تلخ تجربات، طلاق و قانونی مسائل، شراب نوشی اور فکر و پریشانی کے بارے میں سوالات بھی کئے گئے۔

ریشانی اور بھیانک خواب

ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ جو لوگ اپنے مستقبل کے بارے میں فکرمند تھے یا روزمرہ معاملات سے پریشان تھے انہیں ڈراؤنے خواب زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ پھر یہ بھی خیال رہے کہ سونے سے پہلے منفی اور پریشان کن خیالات آنکھ بند ہونے کے بعد ڈراؤنے خوابوں کی وجہ بنتے ہیں۔ اس لیے بستر پر جانے سے قبل اچھی باتیں سوچیے اور ڈراؤنے خوابوں سے چھٹکارا پائیں۔

دوسری جانب ٹیم نے یہ بھی معلوم کیا کہ جو لوگ 9 گھنٹے سے زائد وقت تک سوتے ہیں ان میں ریپڈ آئی موومنٹ (آرای ایم) کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور عین اسی حالت میں ڈراؤنے خواب زیادہ نظر آتے ہیں۔ اس مطالعے میں شراب نوشی یا ورزش کرنے یا نہ کرنے سے خوابوں کے درمیان کوئی خاص تعلق سامنے نہیں آیا۔ نہ ہی کسی مخصوص خوراک سے پریشان کن خوابوں کا کوئی تعلق واضح ہوا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ نیند کم کر کے اور سوتے وقت پرسکون اور مثبت سوچ کے ساتھ  ڈراؤنے خوابوں کی تعداد کم کی جاسکتی ہے۔

کیڑا کاٹ لے تو ’’بام‘‘ کیوں لگائیں؟

کراچی: ویسے تو ’’بام‘‘ (ویپورب) کا اصل مقصد نزلہ، زکام اور کھانسی میں آرام پہنچانا اور سانس لینے میں سہولت پیدا کرنا ہوتا ہے لیکن اس کا ایک غیر روایتی استعمال بھی ہے جس کا تعلق کیڑے کے کاٹنے سے پیدا ہونے والی جلن میں کمی کرنے سے ہے۔

اگر کوئی کیڑا (خصوصاً کوئی مچھر یا بھڑ) کاٹ لے تو پہلے اس جگہ کو صاف کیجیے اور پھر انگلی میں تھوڑی سی بام لے کر وہاں لگا لیجیے جہاں کیڑے نے کاٹا ہے۔ نرم ہاتھ سے اس جگہ کی مالش کیجیے تاکہ بام اس کھال میں پوری طرح جذب ہو جائے۔

اسی کے ساتھ کیڑے کے کاٹنے سے پیدا ہونے والی جلن بھی کم ہونے لگے گی اور تھوڑی دیر میں بالکل ختم ہو جائے گی۔

یہ طریقہ ہزاروں لوگ استعمال کر چکے ہیں اور ان سب نے ہی اسے مفید پایا ہے۔ اس کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ بام میں شامل اجزاء کا مقصد جلن اور سوزش کی وجہ بننے والے عوامل کو قابو میں کرتے ہوئے آرام پہنچانا ہے۔

البتہ اگر پھر بھی جلن ختم نہ ہو تو بہتر ہو گا کہ کسی ڈاکٹر کو دکھایا جائے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ کچھ اور عوامل بھی اس جلن کے پس پشت کارفرما ہوں۔

ادرک کا استعمال گٹھیا سے نجات دلاتا ہے

لاس اینجلس: امریکی ماہرین نے 247 مریضوں پر کیے گئے ایک مطالعے سے دریافت کیا ہے کہ جوڑوں کے مرض میں ادرک کا عرق، بازار میں دستیاب ’’اینسیڈ‘‘ (NSAID) قسم کی دواؤں سے زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے جبکہ اس کے مضر اثرات بھی نہیں پڑتے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس اور دیگر اداروں کی اس مشترکہ تحقیق میں 247 رضاکاروں کو شامل کیا گیا جو گٹھیا کی وجہ سے گھٹنوں کے درد میں مبتلا تھے۔ ان مریضوں کے ایک گروپ کو چار ہفتوں تک ادرک کا خالص اور گاڑھا رس پلایا گیا جبکہ دوسرے گروپ کو ایک ایسا مصنوعی لیکن بے ضرر مشروب پلایا گیا جو دیکھنے میں ادرک کے رس جیسا تھا۔

ایک ماہ بعد ادرک کا اصلی عرق پینے والے مریضوں میں سے 40 فیصد میں گھنٹوں کے جوڑوں پر سختی اور درد کی کیفیت نمایاں طور پر کم ہو گئی جو گٹھیا کا سب سے تکلیف دہ نتیجہ ہوتی ہے۔

اب تک یہ تو معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ ادرک میں وہ کونسا جزو ہے جو خاص طور پر گھٹیا کا علاج کرنے میں مفید ثابت ہوتا ہے لیکن روایتی طور پر کئی امراض میں ادرک کی افادیت ظاہر کرتی ہے کہ ممکنہ طور پر یہ اثرات ایک سے زائد مرکبات کے عمل کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اینسیڈ قسم کی دوائیں جوڑوں کے درد میں فوری کمی ضرور لاتی ہیں لیکن ان کا روزانہ استعمال دوسری کئی بیماریوں اور تکالیف کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں اگرچہ ادرک کا عرق نسبتاً آہستگی سے فائدہ پہنچاتا ہے لیکن انسانی صحت پر مضر اثرات نہیں ڈالتا۔

ترقی یافتہ ممالک میں ادرک کے عرق سے بھرے کیپسول عام فروخت ہوتے ہیں البتہ اگر آپ بہتر نتائج چاہتے ہیں تو ادرک والی چائے کا استعمال آپ کے لیے زیادہ مفید رہے گا۔ اس کے علاوہ روزمرہ کھانوں کے ساتھ ادرک کا اضافہ بھی آپ کی صحت کے لیے طویل مدتی محافظ ثابت ہو سکتا ہے۔

Google Analytics Alternative