صحت

تنگ کپڑے پیشاب کی نالی میں سوزش کا خطرہ بڑھائیں

اپنے جسم پر تنگ کپڑوں کا اکثر استعمال  پیشاب کی نالی میں سوزش یا انفیکشن جیسے تکلیف دہ مرض کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ بات بھارت میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ برسات یا مون سون کے موسم میں بارش اور نمی جراثیموں کی نشوونما کو بڑھانے کا باعث بنتی ہے اور ٹائٹ یا تنگ کپڑوں کا استعمال پیشاب کی نالی میں سوزش کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔

گوشت کھانا آنتوں کے امراض سے بچائے

ویسے تو کہا جاتا ہے کہ سرخ گوشت کو زیادہ کھانا صحت کے لیے نقصانہوسکتا ہے تاہم اب یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ یہ غذا آنتوں کے مختلف امراض سے تحفظ میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

واشنگٹن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ حیوانی پروٹین (سرخ گوشت، چکن، انڈوں وغیرہ) اور چاکلیٹ کو کھانا آنتوں کی سوزش یا ورم سے جڑے امراض سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔

آنتوں کے امراض میں معدے میں درد، پیٹ پھولنا، فضلے میں خون آنا، ہیضہ، جسمانی وزن میں کمی اور شدید تھکاوٹ قابل ذکر ہیں۔

عام طور پر اس طرح کے امراض میں گوشت اور چاکلیٹ سے دور رہنے کو کہا جاتا ہے مگر نئی تحقیق کے مطابق ان میں موجود امینیو ایسڈ ٹرائیپٹوفن جسمانی دفاعی خلیات کو آنتوں کی خرابی ٹھیک کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق یہ خلیات نقصان دہ جراثٰموں کو جسم میں چھپنے نہیں دیتے اور معدے کے نظام کو بگڑنے نہیں دیتے۔

چوہوں پر کیے جانے والے تجربات میں ان غذاﺅں کے فوائد کو جانا گیا اور محققین کے مطابق ان کے ذریعے جو خلیات حرکت میں آتے ہیں، وہ نظام ہاضمہ کو بہتر بناتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انسانوں پر بھی یہ اسی طرح کام کریں گی۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے جرنل سائنس میں شائع ہوئے۔

اس سے پہلے گزشتہ ماہ امپرئیل کالج لندن کی تحقیق میں بتایا گیا کہ گوشت اور دیگر غذاؤں میں موجود آئرن کی جسم میں زیادہ مقدار خون کی شریانوں کے امراض سے تحفظ دیتی ہے جو کہ امراض قلب کا باعث بنتے ہیں

سنگین امراض کا اشارہ دینے والی علامات

ہم اکثر بیمار ہونے کے بعد سوچتے ہیں کہ آخر یہ بیماری کسی قسم کی علامات ظاہر کیے بغیر ہم پر حملہ آور کیسے ہوگئی جبکہ ہم تو بالکل صحت مند تھے؟

مگر یہ سوچ ٹھیک نہیں کیونکہ ایسی متعدد علامات ہوتی ہیں جنھیں ہم معمولی سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں جو درحقیقت یہ ظاہر کررہی ہوتی ہیں کہ جسم کے اندر سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا۔

ایسی ہی چند علامات کے بارے میں جانیے جو آپ کو کسی سنگین مرض سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

ہونٹوں کا پھٹنا یا کریکس

ہوسکتا ہے کہ ایسا موسم کی شدت کی وجہ سے ہو، مگر ہونٹوں کا پھٹنا خاص طور پر کونوں سے درحقیقت یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کے جسم میں وٹامن B12 کی کمی ہے، اس وٹامن کی کمی متعدد طبی مسائل جیسے خون کی کمی کے امراض کا سبب بھی بن سکتی ہے، اس وٹامن کی کمی سے قبل از وقت آگاہ ہوکر آپ خود کو کافی مسائل سے بچاسکتے ہیں۔

جسمانی قد میں کمی

سننے میں ہوسکتا ہے کہ عجیب لگے مگر عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہمارا قد گھٹنے لگتا ہے، مگر اس کی رفتار میں تیزی اس بات کی طرف اشارہ ہوتی ہے کہ آپ کی ہڈیوں میں کچھ خرابی ضرور ہے یا وہ آسٹیوپوروسز جیسے مرض کا شکار ہورہی ہیں، ہڈیوں کے امراض کا مطلب یہ ہے کہ گرنے کی صورت میں کسی بھی وقت فریکچر کا خطرہ سامنے آسکتا ہے، تو اس کی قبل از وقت شناخت سے ہمیں اپنی غذا تبدیل کرکے صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

زیادہ ٹھنڈ لگنا

اگر آپ کو کچھ زیادہ ہی سردی لگتی ہے تو یہ اس بات کا عندیہ ہوسکتا ہے کہ آپ کو اپنے جسمانی دفاعی نظام کو بڑھانے کی ضرورت ہے یا اس کو مسائل درپیش ہیں۔ یہ علامت وٹامن سی کی کمی یا کسی وائرس کے حملے کی نشانی بھی ہوسکتی ہے جس سے آپ آگاہ نہ ہوں، ایسی صورت میں ایک خون کے ٹیسٹ کے ذریعے خود کو مسائل سے قبل از وقت بچایا جاسکتا ہے اور اپنی عام صحت کو بہتر بنانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔

پیشاب زیادہ زرد ہونا

یہ بہت اہمیت رکھتا ہے کہ آپ اپنے پیشاب کی رنگت پر توجہ دیں کیونکہ یہ ہماری عام صحت کے بارے میں آگاہ کرنے کا بہترین ذریعہ ہوتا ہے، اگر آپ کے جسم میں پانی مناسب مقدار میں ہو تو اس کی رنگت لگ بھگ شفاف ہوتی ہے، تاہم اگر اس کی رنگت زیادہ زرد یا پیلی ہے تو یہ اس بات کی علامت ہوسکتی ہے کہ گردوں میں کوئی مسئلہ ہے اور وہاں جمع ہونے والا کچرا مناسب طریقے سے پراسیس نہیں ہورہا۔

جلد میں مسائل

اگر آپ کو بار بار جلد میں خارش یا کسی اور قسم کے مسئلے کا سامنا ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ الرجی کا ردعمل ہے یا آپ کا جسم آپ کو بتانے کی کوشش کررہا ہے کہ آپ بہت زیادہ تناﺅ کا شکار ہیں اور حالات کو سست کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری جلد جسم کا سب سے بڑا عضو ہوتا ہے تو اس کی بات سننا بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ جسم اکثر اسے مدد کی پکار کے لیے استعمال کرتا ہے۔

معمول کی نیند سے محرومی

اگر آپ کو معلوم ہو کہ آپ کی نیند مسائل کا شکار ہے اور آپ کو بے خوابی کی شکایت ہورہی ہے تو یہ جسم اور ذہن کے تناﺅ کا شکار ہونے کی علامت بھی ہوسکتا ہے، جب ہم سوتے ہیں تو ہمارا جسم تناﺅ کا سبب بننے والے ہارمون کورٹیسول کی شرح کو کم کردیتا ہے، مگر جب ہم تناﺅ کا شکار ہوتے ہیں تو ایسا نہیں ہوتا اور بے خوابی کی شکایت پیدا ہواتی ہے، ایسا ہونے سے جسم اپنی مرمت خود کرنے سے قاصر ہوتا ہے اور متعدد امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

مناسب نیند کے باوجود تھکن

اگر آپ مناسب نیند لینے کے بعد باوجود دن میں خود کو تھکن کا شکار محسوس کررہے ہیں تو یہ آپ کے تھائی رائیڈ میں مسئلے کا اشارہ بھی ہوسکتی ہے، میٹابولزم کی شرح کو کنٹرول کرنے والے اس بے نالی غدود میں خرابی کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا جسم بغیر کسی ضرورت کے بھی تمام تر توانائی ایک ساتھ استعمال کررہا ہے، یہ مسئلہ آپ کے جسم کو گرانے کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے معمول کا کام کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے

یہ مزیدار چیز فالج سے بچاؤ میں مددگار

فالج ایسا مرض ہے جس کے دوران دماغ کو نقصان پہنچتا ہے اور جسم کا کوئی حصہ مفلوج ہوجاتا ہے، مگر مزیدار تربوز اور ٹماٹروں کو کھانا اس سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق فالج سے بچنے کا بہترین طریقہ صحت بخش غذا کا استعمال ہے، خصوصاً کچھ غذائیں اس حوالے سے زیادہ موثر ثابت ہوتی ہیں۔

 ایسا مرض ہے جس کے دوران دماغ کو نقصان پہنچتا ہے اور جسم کا کوئی حصہ مفلوج ہوجاتا ہے، مگر مزیدار تربوز اور ٹماٹروں کو کھانا اس سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق فالج سے بچنے کا بہترین طریقہ صحت بخش غذا کا استعمال ہے، خصوصاً کچھ غذائیں اس حوالے سے زیادہ موثر ثابت ہوتی ہیں۔

کھانسی کے دوران چند چیزوں سے احتیاط ضروری

ماہرین کے مطابق کھانسی کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ادرک ،شہد، وٹامن سی الائچی اور دارچینی کا استعمال مفید ہے جب کہ ساتھ ہی ماہرین کھانسی کے دوران بعض چیزوں سے بچنے کا بھی مشورہ دیتے ہیں۔

دودھ کے استعمال سے پرہیز:

دوران کھانسی دودھ کا استعمال مضر ہے اس لیے اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔ دودھ پینے سے بلغم میں اضافہ ہوتا ہے جو کہ پھیپھڑوں اور سینے کی تکلیف کا باعث بنتا ہے اور ساتھ ہی اس سے گلے میں خرابی پیدا ہوجاتی ہے۔

ماہرین صحت مشورہ دیتے ہیں کہ کھانسی کے دوران تمام ڈیری اشیا سے احتیاط کرنا چاہیے۔

پانی زیادہ پئیں:

کھانسی کے دوران پانی کا استعمال زیادہ کریں اور جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں۔ پانی کا زیادہ استعمال گلے کو خشک رکھنے سے بچاتا ہے جب کہ نیم گرم پانی پینے سے گلے کی خشکی بھی دور ہوتی ہے اور ساتھ ہی گلے کی سوجن بھی ختم ہوجاتی ہے۔

کھانسی کے دوران چائے کافی اور ایسے مشروبات سے پرہیز کرنا چاہیئے جن میں کیفین شامل ہو ۔

میٹھی اشیا سے پرہیز:

دوران کھانسی زیادہ میٹھی غذا نہیں کھانی چاہیے کیوں کہ اس سے کھانسی میں اضافہ ہوتا ہے۔وائٹ بریڈ ،پاستہ، چپس اور مصنوعی ذائقے کی مٹھائیوں کے بجائے پتے والی سبزیوں کا استعمال کرنا چاہیے۔

تلی ہوئی غذا نہ کھائیں:

کھانسی کے دوران تلی ہوئی غذا کا سختی سے پرہھیز کرنا چاہیئے کیونکہ تلی ہوئی چیزیں گلے میں چکناہٹ پیدا کردیتی ہیں جو مزید تکلیف کا سبب بنتا ہے۔

کھٹی چیزوں سے پرہیز:

ماہرین کے مطابق دوران کھانسی کھٹی چیزیں کھانے اور پینے سے پرہیز کرناچاہیے کیونکہ اس میں موجود ایسیڈک ایسڈ  گلے کے غدود کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

ماہرین اور ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ علاج سے بہتر پرہیز ہے اس لیےکوشش کی جائے کہ دوران کھانسی ان تمام اشیاء سے پرہیز کیا جائے۔

پتوں والی سبزیاں اور انڈا دماغی صحت کیلئے فائدہ مند

ماہرین نے انڈے اور پتوں والی سبزیوں کو دماغ کے لیے انتہائی مفید قرار دیا ہے۔

دماغ کی تندرستی اور نشونما کے لیے ایسی خوراک کی ضرورت ہوتی ہے جس سے بھر پور نیوٹریشن مل سکے۔عام طور پر زیادہ تر افراد سبزی اور انڈا کھانا پسند نہیں کرتےلیکن اب ایک تحقیق سے ان غذاؤں کی افادیت سامنے آئی ہے۔

امریکی یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق نوجوانوں اور پختا عمر کے افراد کے درمیان بڑھتا اور کم لیوٹن لیول سامنے آیا۔ لیوٹن ایک مدافعی قوت ہے جو کہ خوراک  سے حاصل ہوتی ہے اور اس خوراک میں پتے والی سبزیاں یعنی پالک، بندگوبھی، مولی کے پتے وغیر شامل ہیں جب کہ اس کی وافر مقدار انڈے اور ناشپاتی میں بھی پائی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق لیوٹن سے یادداشت تیز ہوتی ہے اور دماغی تھکاوٹ سے نجات ملتی ہے حالانکہ دماغ کی صحت کے ساتھ یہ پوری جسمانی صحت کے لیے مفید ہے اور خاص کر دماغ کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔

دانتوں اور مسوڑھوں کی تکلیف سے بچنے کے نسخے

اکثر اوقات ہم کھانے پینے میں بے احتیاطی سے کام لیتے ہیں اور ٹھنڈا گرم کا ایک ساتھ استعمال کرلیتے ہیں جس سے دانتوں کے ساتھ مسوڑھوں میں بھی تکلیف کی شکایت ہوتی ہے لیکن اب ماہرین نے گھریلوں ٹوٹکوں سے اس تکلیف کا حل تلاش کرلیا ہے۔

مسوڑھوں میں جلن، درد ،سوجن یا خون نکلنے کی شکایت وٹامن کی کمی، ہارمونز میں تبدیلی، ذیابیطس اور سکروی امراض کے باعث پیدا ہوتی ہے۔ دانتوں اور مسوڑھوں کی اکثر تکلیف دانتوں پر برش غلط طریقے سے استعمال کرنا یا پھر برش نا کرنے کی صورت میں بھی رونما ہوجاتی ہیں جس کے باعث دانتوں میں پیلاہٹ اور کیڑا بھی لگ جاتا ہے۔

دانتوں اور مسوڑھوں کو مضبوط رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ صحت مند خوراک کا انتخاب کیا جائے۔

غذا کا درست تعین:

ایسی خوراک لینے سے پرہیز کرنا چاہیے جس میں مٹھاس زیادہ مقدار میں شامل ہو کیونکہ زیادہ مٹھاس مسوڑھوں اور دانتوں کے لیے مضر ہے اس سے دانت اور مسوڑھے کمزور ہوجاتے ہیں پھر دانتوں میں گندگی پیلاہٹ اور کیڑا لگنے لگتا ہے۔

اس سے بچاو کے لیے لازمی ہے کہ کوئی بھی میٹھی چیز کھانے کے بعد دانتوں کی صفائی کی جائے جب کہ مسوڑھوں اور دانتوں کے لیے ضروری ہے کہ پانی خوب پیا جائے۔

کیلشیم:

صحت مند رہنے کے لیے درست غذا کا انتخاب کرنا انتہائی ضروری ہوتا ہے ۔اگر غذا ہی ایسی کھائی جائے جس سے کیلشیم پروٹین کی فراہمی نا ہو تو صحت متاثر ہوجاتی ہے۔ کیلشیم کی کمی مسوڑھوں اور دانتوں کی جڑوں کو کمزور کر دیتی ہے جس کے نتیجے میں مسوڑھوں میں درد، سوجن اور دیگر شکایات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔

دانتوں اور مسوڑھوں کی حفاظت کے لیے دودھ پینا چاہیے کیوں کہ دودھ وافر مقدار میں کیلشیم فراہم کرتا ہے ۔

نمکین پانی:

نمکین پانی سے دانتوں کو صاف کرنا ایک پرانا ٹوٹکا ہے جو کہ انتہائی مفید ہے اس سے دانتوں کی پیلاہٹ اور بیکٹیریا دور ہوتا ہے۔ نمکین پانی میں بیکنگ سوڈا اور لیمو ملا کر دانتوں کی صفائی کی جائے تو مسوڑھوں کی تکلیف بھی دور ہوتی ہے ساتھ ہی دانتوں کی پیلاہٹ بھی چلی جاتی ہے۔

رسیلے پھلوں کا استعمال کرنا:

وٹامن سی کی کمی کی وجہ سے مسوڑھوں سے خون آنے لگتا ہے جس سے منہ میں بدبو بھی پیدا ہو جاتی ہے کیوں کہ مسوڑھوں میں بہت زیادہ خون آنے کی وجہ سے جگر میں خرابی ہوجاتی ہے۔

وٹامن سی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ رسیلے پھلوں کی خوراک لی جائے ۔نارنجی، تربوز، لیمو، آملہ، ناشپتی یہ تمام پھل وٹامن سی کی کمی کو دور کرتے ہیں۔ان کے استعمال سے دانت اور مسوڑھے مضبوط ہوتے ہیں۔

فضائی آلودگی بچوں کی پیدائش پر اثرانداز ہوتی ہے، تحقیق

نیویارک: 

ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگر حاملہ خواتین حمل کے پہلے تین ماہ تک ٹریفک آلودگی میں زیادہ وقت گزاریں تو ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں میں پیدائشی نقائص کی شرح غیرمعمولی طور پر بڑھ جاتی ہے۔

نیویارک یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ حمل ٹھہرنے کے پہلے تین ماہ کے دوران اگر خواتین کا زیادہ وقت فضائی آلودگی میں گزرتا ہے تو اس سے بچوں کی قبل ازوقت پیدائش یا پھر وزن میں کمی والے بچوں کی پیدائش کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

سروے میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ فضائی آلودگی کا سامنا کرنے والی خواتین کے 83 فیصد بچے اوسط وزن میں کمی کا شکار تھے۔ اس لیے ماہرین کا مشورہ ہے کہ حاملہ خواتین فضائی آلودگی اور ٹریفک کے ہجوم سے پرہیز کریں اور اگر ایسی جگہ رہائش ہے جہاں فضائی آلودگی زیادہ ہے تو گھر کے دروازے اور کھڑکیاں بند کر کے خود کو بچانے کی کوشش کریں۔

Google Analytics Alternative