صحت

دماغ کو چاق و چوبند رکھنے کی اہم غذائیں,دماغی قوت بڑھائیں یادداشت کو بہتر کرے

ماہرین نفسیات نے اپنی 20 سالہ تحقیق کے بعد دماغی قوت بڑھانے، یادداشت کو بہتر کرنے اور دماغ کو چاق و چوبند رکھنے کی اہم غذائیں بتائی ہیں جس کی پشت پر ایک وسیع تجربہ اور تحقیقی موجود ہے۔

ماہرین نفسیات کا کہنا ہےکہ ان غذاؤں سے ایسے لاتعداد مریض اپنے مرض پر قابو پاچکے ہیں جو دماغی کمزوریوں میں مبتلا تھے۔ ماہرین کے مطابقغذائی تبدیلیوں سے دماغ کو ایسے اجزا مل جاتے ہیں جو اکتساب، توجہ اور یادداشت کو بہتر بناسکتے ہیں۔ اور ان میں سر فہرست یہ غذائیں اور پھل و سبزیاں شامل ہیں۔

1:ہرے پتوں والی سبزیاں

پالک، چولائی، تیز پتہ اور دیگر گہرے سبز رنگت والی میں بہت قیمتی معدنیات پائی جاتی ہیں جن میں کیلشیئم، پوٹاشیئم، فولیٹ، زنک اور مینگنیز شامل ہیں۔ یہ دماغ کو افعال کو بہتر بناتی ہیں۔

2:چرنے والے  جانوروں کا گوشت

اگرچہ بیف اور مٹن کو دماغ کا دوست نہیں سمجھا جاتا لیکن چراگاہوں سے اپنی بھوک مٹانے والے بکروں، بھیڑوں اور گایوں کے گوشت کی تھوڑی مقدار ہفتے میں ضرور کھائیں ۔ ان جانوروں میں دماغ کے لیے ضروری چکنائیاں موجود ہوتی ہیں۔

3:گِری دار خشک میوے

بادام، پستہ، اخروٹ، کاجو اور دیگر گِری دار میوے ایسے پروٹین اور غذائی اجزا سے بھرپور ہوتے ہیں جو دماغ کو تقویت پہنچاتے ہیں ۔ ان میووں میں سیلینیئم نامی ایک اہم جزو موجود ہوتا ہے جو دماغی کارکردگی بڑھاتا ہے۔

4:زیتون کا نامیاتی تیل

زیتون کا اچھا نامیاتی تیل اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے اور موڈ کو بہتر بناتا ہے۔

5:مختلف اقسام کے بیج

سورج مکھی، السی ، تِل اور دیگر اقسام کے بیج فیٹی ایسڈز سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ان میں اومیگا تھری، فائٹو کیمیکلز ، اینٹی آکسیڈنٹس اور دیگر اہم اجزا موجود ہوتے ہیں جو انسانی دماغ کی نشوونما اور اکتساب پر بہتر اثر ڈالتے ہیں۔

6:رنگ برنگی سبزیاں

شکر قندی، ٹماٹر، گاجر اور سرخ اور نارنجی شملہ مرچوں کی رنگت ظاہر کرتی ہیں کہ ان میں فائبر، معدنیات، خامرے اور دیگر اہم اجزا موجود ہوتے ہیں۔ یہ دماغ کے لیے بہت ضروری ہوتے ہیں۔

7:گوبھی اور شاخ گوبھی

گوبھی اور شاخ گوبھی (بروکولی) میں فائٹو کیمیکلز اور دیگر اہم اجزا پائے جاتے ہیں جو کینسر سے بچاتے ہیں اور دماغ کو تندرست و توانا رکھتے ہیں۔

8:پھلیاں

مٹراور دیگر اقسام کی پھلیاں ایسٹروجن اور دماغ کے لیے ضروری اجزا سےبھرپور ہوتے ہیں۔ ان میں فائبر دماغ کے لیےنہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

دوسری جانب ماہرین نے ایسی غذاؤں سے بھی خبردار کیا ہے جو دماغ کے لیے مضر ثابت ہوسکتی ہے۔ ان میں شراب نوشی، مٹھائیاں، فرائیڈ کھانے اور دیگر اشیا شامل ہیں۔

ڈینگی وائرس پر اب تک قابو نہیں پایا,مزید8 افرادمیں ڈینگی وائرس کی تصدیق

ضلع تھرپارکر میں ڈینگی وائرس پر اب تک قابو نہیں پایا جاسکا،24گھنٹوں کے دوران مزید8 افرادمیں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوگئی۔

صحرائے تھر میں ڈینگی کامرض پھیلتا ہی جا رہا ہے، اسپتال ذرائع کے مطابق مٹھی چھاچھرو اور اسلام کوٹ میں مزید 8افراد ڈینگی کا شکار ہو گئے ہیں جبکہ ضلع کے سرکاری اسپتالوں میں روزانہ درجنوں افراد ڈینگی کے شبہے میں لائے جا رہے ہیں گزشتہ 62دنوں کے دوران ڈینگی سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد213ہو گئی ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ متاثرہ دیہات میں مچھر مار اسپرے نہیں کرایا گیا جبکہ ڈی ایچ او ڈاکٹر چندر گومانی کا کہنا ہے کہ سول اسپتال مٹھی میں ڈینگی وارڈ قائم کیا جا چکا ہے ۔

وٹامن سی اور پوٹاشیئم عمر بڑھانے اور امراض کو دور رکھنے میں مددگار

سیئول: جنوبی کوریا کے ماہرین نے کئی برسوں کی تحقیق کی بنیاد پر دعویٰ کیا ہے کہ وٹامن سی، فولیٹ اور پوٹاشیئم جیسے چھوٹے پیمانے پر کھائے جانے والے اجزا بڑھاپے کو ٹالتے اور کئی امراض سے دور رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

یہ مطالعہ اب بھی جاری ہے جس میں 10 سال تک 1,958 ایسے افراد کو شامل کیا گیا جن کی عمر 40 سے 69 سال کے درمیان ہے اور ان سے پوچھا گیا کہ وہ وٹامن، اے ، بی ون، بی تھری، بی سکس، سی ، ای ، فولیٹ، کیلشیئم، فاسفورس، پوٹاشیئم، فولاد، اور زنک کتنی مقدار میں استعمال کرتے ہیں۔ اس کے بعد ان کے جسم میں خون کے سفید خلیات (وائٹ بلڈ سیلز) اور ڈی این اے کے کناروں پر موجود ایک اہم جزو ٹیلومرز کی لمبائی بھی نوٹ کی گئی۔ یہ تحقیق دس سال تک جاری رہی اور اب بھی جاری ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ  جیسے جیسے ہم بوڑھے ہوتے جاتے ہیں ویسے ویسے ہمارے جسم کے ڈی این اے کے کناروں پر موجود ٹیلومرز چھوٹے ہوتے جاتے ہیں ۔ یعنی ایک بچے کے ڈین اے کے ٹیلومرز ایک بوڑھے کے مقابلے میں کہیں لمبے ہوں گے۔ اس تحقیق کو دس سال پورا ہونے پر ماہرین جے وائی لی اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ وٹامن سی ایک اینٹی آکسیڈنٹ جزو ہے جو ٹیلومرز کی لمبائی پر اثر انداز ہوکر انہیں طویل رکھتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ وٹامن سی اور وٹامن بی ٹیلومرز کی مرمت کرتا ہے اور ڈی این اے کو اچھی حالت میں رکھتا ہے۔ ڈاکٹر لی کے مطابق ان کی تحقیق ایک حد تک اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یہ وٹامن ٹیلومرزچھوٹے ہونے کے عمل کو سست کرتے ہیں۔ اس طرح لوگ بہت تیزی سے بوڑھے نہیں ہوتے اور اس کے متعلقہ امراض مثلاً بلڈپریشر، امراضِ قلب اور دیگر سے محفوظ رہتے ہیں۔

تاہم ماہرین نے اس پر مزید تحقیق پر زور دیا ہے۔ تاہم اس سے قبل کے مطالعات سے یہ معلوم ہوچکا ہے کہ پوٹاشیئم، وٹامن سی اور دیگر وٹامن مختلف امراض کو دور رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ملک بھر میں موسم تبدیل،موسمی بیماریوں میں اضافہ

ملک کے میدانی علاقوں میں موسم تبدیل ہوتا جا رہا ہے،جاتی گرمیوں کےساتھ ہی رات اور صبح کے اوقات میں موسم خنک ہو گیاہے جبکہ بدلتے موسم کے باعث موسمی بیماریوں میں اضافہ شروع ہو گیا ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک رہا جبکہ محکمہ موسمیات نے آج ملک کے بیشتر بالائی علاقوں میں مطلع جزوی طور پر ابر آلود رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے، تاہم مالاکنڈ، ہزارہ ڈویژن، گلگت بلتستان اور کشمیر میں بعض مقامات پر ہلکی بارش ہو سکتی ہے۔جبکہ ملک کے دیگر علاقوں میں موسم خشک رہے گا۔

ادھر سندھ ، پنجاب اور بلوچستان کا موسم روز باروز تبدیل ہوتا جا رہا ہے ،رات اور صبح کے اوقات میں موسم خنک ہوتا ہے جبکہ بدلتے موسم کے باعث موسمی بیماریوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے جس میں کھانسی ، زکام ، بخار جیسے مسائل ہرگھر میں کسی نہ کسی فرد کو اپنی گرفت میں لیکر رکھا ہوا ہے تاہم بالائی علاقوں کے اکثر علاقوں میں موسم خشک اور سردہے۔

کوئٹہ اور گردونواح میں موسم خشک ہے، وادی میں کم سے کم درجہ حرارت ایک ڈگری سنٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق شہر اور ملحقہ علاقوں میں خشکی کی صورت حال برقرار ہے جبکہ وادی میں کم سے کم درجہ حرارت میں کمی آرہی ہے، آج کم سے کم ایک درجہ سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے ، پارہ میں کمی کی وجہ سے وادی میں رات اور خاص طور پر صبح کے وقت خنکی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور لوگ گرم ملبوسات کا استعمال کررہے ہیں ، آئندہ24 گھنٹوں کے دوران وادی کوئٹہ میں موسم خشک رہنے کا ا امکان ہے۔

ملتان میں درجہ حرارت میں بتدریج کمی سے موسم میں خنکی بڑھ رہی ہے جبکہ ہلکی دھند کا سلسلہ بھی جاری ہے۔محکمہ موسمیات کی پشین گوئی کے مطابق آئندہ چوبیس گھنٹوں تک ملتان اور گرد و نواح کا موسم خشک رہنے کا امکان ہے، آج صبح کم سے کم درجہ حرارت 17 اعشاریہ 4 ریکارڈ کیا گیا ہے جو زیادہ سے زیادہ 33 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب 80 فیصد رہا ہے محکمہ موسمیات کے مطابق ملتان کے نواحی علاقوں میں ہلکی دھند کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے دھند کی وجہ سے حد نظر 800 میٹر تک ہے ۔

سن اسکرین یا سن بلاک استعمال, جان جائیں کہ آپ اپنے آپ کو شدید قسم کے خطرات

کیا آپ دھوپ میں نکلنے سے قبل سن اسکرین یا سن بلاک استعمال کرتے ہیں؟ اگر آپ اس عادت پر کاربند نہیں تو جان جائیں کہ آپ اپنے آپ کو شدید قسم کے خطرات کے حوالے کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سورج کی بنفشی یا الٹرا وائلٹ شعاعیں ہمیں جلد کے کینسر میں مبتلا کر سکتی ہیں اور ڈاکٹرز سختی سے ہدایت کرتے ہیں کہ دھوپ میں نکلنے سے قبل سن اسکرین کا استعمال ضرور کریں۔

یہی نہیں بغیر سن اسکرین کے مستقل دھوپ میں وقت گزارنا جلد کو قبل از وقت بوڑھا کرسکتا ہے اور چہرے پر جھریاں نمودار ہوسکتی ہیں

ٹی بی کا مرض موجودہ دواؤں کو بے اثر بناکر ناقابلِ علاج,مزاحمت والی ٹی بی کے علاج میں 82 فیصد کامیابی

پوری دنیا میں ٹی بی کا مرض موجودہ دواؤں کو بے اثر بناکر ناقابلِ علاج ہوتا جارہا ہے لیکن حال ہی میں ایک نئے طریقہ علاج سے دواؤں کے خلاف مزاحمت والی ٹی بی کے علاج میں 82 فیصد کامیابی ملی ہے۔

اس بات کا انکشاف لیورپول میں منعقدہ پھیپھڑوں کی صحت کی عالمی کانفرنس میں کیا گیا۔ یہ دوا افریقا کے 9 ممالک میں آزمائی گئی جس کے حیرت انگیز نتائج برآمد ہوئے ہیں۔  اس میں ٹی بی کے ایسے 1,006 مریضوں کو شامل کیا گیا جو سب ٹی بی کی طاقتور ترین دوا رفامپیسن سے بھی ٹھیک نہیں ہورہے تھے۔ ان میں سے 734 مریض مکمل طور پر تندرست ہوگئے اور 87 کیسز میں بہتری کے آثار ہیں جب کہ بقیہ مریضوں میں سے 54 نے دوا نہیں کھائی، 49 نے واپس آکر اپنی کیفیت نہیں بتائی اور 82 مریض ہلاک ہوگئے۔

انٹرنیشنل یونین اگینسٹ ٹیوبرکلوسس کی افریقا کے لیے سربراہ  ویلری شو بیل نے مختلف دواؤں کے مجموعے سے بننے والی اس نئی دوا کو ایک کامیاب نسخہ قرار دیا ہے۔ اسی تنظیم کی ایک اور ماہر ڈاکٹر پاولہ فیوجی وارا کے مطابق اس دوا کو دوسرے کئی مقامات پر آزمایا گیا تو ایسے ہی نتائج برآمد ہوئے ہیں اور اسے اب تک دوا سے ناقابلِ علاج ٹی بی کا سب سے مؤثر طریقہ علاج کہا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ اس طریقہ علاج میں  افریقا کے دس ملکوں میں سخت جان ٹی بی کے شکار سینکڑوں مریضوں کو سات مختلف دواؤں کا مجموعہ استعمال کرایا گیا ۔ 3 دوائیں ابتدائی 4 ماہ تک دی گئیں جب کہ باقی 4 دوائیں اگلے 9 ماہ تک دی گئیں۔ توقع ہے کہ اس سے ٹی بی کے ان مریضوں کے علاج کی راہ کھلے گی جو اپنے علاج سے مایوس ہوچکے ہیں۔ ٹی بی کی اس کیفیت کو ایم ڈی آر ٹی بی کہا جاتا ہے۔ اس کے سب سے زیادہ مریض بھارت، روس اور چین میں ہیں۔

ذہنی دبائو اور آلودہ ماحول سے فالج کا مرض بڑھ رہا ہے،ماہرین

اس مہلک مرض سےکیسے بچا جا سکتا ہے؟ فالج ایک مہلک اور مفلوج کرنے والا مرض ہے،اس کی بڑی وجوہات میں سگریٹ نوشی، ذیابیطس اور بلند فشار خون شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں ذہنی دباؤ اور آلودہ ماحول کی وجہ سے فالج کا مرض بڑھتا جا رہا ہے،فالج کی دو اقسام میں خون کی نالی کولیسٹرول یا خون کے لوتھڑے سے بند ہو جانااور خون کی نالی کا پھٹ جانا شامل ہیں۔

ماہر امراض اسٹروک ڈاکٹر عائشہ کا کہناتھاکہ پاکستان میں معذورہونے والوں کی اکثریت فالج سے متاثرہ افراد پر مشتمل ہے۔

ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں ہر 10 سیکنڈ میں ایک فردا سڑوک کا شکار ہوتا ہے، اس بیماری کا شکار ہونے والے تقریبا 40 فیصدافراد3 ماہ کے اندر موت کے منہ میں جاتے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر خالد احمد نے کہا کہ فالج کی ابتدائی علامات میں مسلسل سردرد، زبان کا عارضی طور پر غیرمتحرک ہوجانا، ٹانگ، بازو کا کمزور ہو جانا اورجھٹکے لگنا شامل ہیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ 40 سال سے زائد عمر کے افراد نمک اور چکنائی کا استعمال کم اور ورزش کومعمول بنائیں تواسٹروک اور دیگر موذی جیسی مراض کے خطرات سے بچا جاسکتا ہے۔

جھوٹ بولنے سے دماغ بے حس ہوجاتا ہے، تحقیق

لندن: یونیورسٹی کالج لندن کے دماغی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ جھوٹ بولنے سے دماغ بے حس ہوتا چلا جاتا ہے جس کا نتیجہ آخرکار یہ نکلتا ہے ایسے لوگوں کو دوسروں کے جذبات اور احساسات کی کوئی پروا نہیں رہتی اور وہ بڑی آسانی سے بڑے بڑے جھوٹ بولنے اور دھوکا دینے لگتے ہیں۔

جھوٹ بولنا کوئی اچھی عادت نہیں۔ دنیا کے تقریباً ہر مذہب میں جھوٹ بولنے کو انتہائی برا سمجھا جاتا ہے جب کہ بعض معاشروں میں جھوٹ بولنے والوں کو نفسیاتی مریض تک قرار دیا جاتا ہے۔ تازہ تحقیق نے بھی یہی بات ثابت کی ہے کہ جھوٹ بولنے سے انسانی دماغ کے مختلف حصوں پر برے اثرات پڑتے ہیں جن کی وجہ سے دماغ آہستہ آہستہ بے حس ہوتا چلا جاتا ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن میں کیے گئے اس مطالعے میں 80 رضاکار شریک تھے جن سے مختلف حالات کے تحت ذاتی یا اجتماعی فائدے کے لیے سچ اور جھوٹ بولنے کو کہا گیا۔ اس دوران دماغ کے ایک حصے ’’ایمگڈالا‘‘ میں ہونے والی سرگرمیوں پر بطورِ خاص نظر رکھی گئی۔ ایمگڈالا ہمارے دماغ کا وہ حصہ ہے جو دوسروں کے جذبات کو سمجھنے اور موزوں جذباتی ردِعمل میں مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔ ماہرین پر انکشاف ہوا کہ جن لوگوں نے ذاتی فائدے کی خاطر جھوٹ بولا، ان میں ایمگڈالا کی سرگرمی بتدریج کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی گئی جب کہ یہی عمل بار بار دوہرانے پر وہ اور بھی زیادہ بڑے جھوٹ بڑی آسانی سے بولنے لگے۔

اس تحقیق کی روشنی میں ماہرین کا کہنا ہے کہ جھوٹ بولنے کا عمل جہاں ایمگڈالا کو کمزور کرتا ہے وہیں یہ جھوٹ بولنے کی عادت کو تقویت پہنچاتے ہوئے دھوکا دہی اور بددیانتی جیسے منفی رجحانات کو بھی پروان چڑھاتا ہے جو معاشرے میں بڑے بگاڑ کی وجہ بنتے ہیں۔ اسی لیے جھوٹ کی حوصلہ شکنی کرنے کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔

Google Analytics Alternative