صحت

احساسِ تنہائی؛ ایک نئی ہلاکت خیز عالمی وبا

یوٹاہ: نفسیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ احساسِ تنہائی کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے کیونکہ اب یہ کیفیت ایک نئی اور جان لیوا بیماری کا روپ دھارتی جا رہی ہے جب کہ اس سے وابستہ خطرات موٹاپے سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔

امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن کے 125 ویں سالانہ اجلاس میں برگہام ینگ یونیورسٹی، یوٹاہ کی نفسیات داں، پروفیسر ڈاکٹر جولیان ہولٹ لنسٹاڈ اور ان کی ٹیم نے 218 مطالعات کے تجزیئے (میٹا اینالیسس) پر مبنی نتائج پیش کیے۔ ان نتائج سے پتا چلتا ہے کہ وہ لوگ جو لمبے عرصے تک اکیلے رہتے ہیں، تنہا رہنے کے عادی ہوتے ہیں، زیادہ دوست بنانے سے گریز کرتے ہیں، زیادہ ملنا جلنا پسند نہیں کرتے یا پھر احساسِ تنہائی کا شکار ہوتے ہیں، ان کی اوسط عمر دوسروں سے کم ہوتی ہے جبکہ ان میں ناگہانی اموات کی شرح بھی ایسے افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے جو میل جول اور سماجی روابط رکھنے کے معاملے میں پیش پیش رہتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق اس وقت صرف امریکا میں 45 سال یا اس سے زیادہ عمر کے تقریباً 4 کروڑ 26 لاکھ افراد کو ’’طویل مدتی تنہائی‘‘ کا سامنا ہے جس کی وجہ یا تو ان کا اپنا مزاج ہے یا پھر معاشرے کی ان کے ساتھ لاتعلقی۔ اگرچہ ساری دنیا کے بارے میں طویل مدتی تنہائی سے متعلق اعداد و شمار تو دستیاب نہیں لیکن پھر بھی ممکنہ طور پر اس کیفیت میں مبتلا افراد کی مجموعی تعداد 1 ارب سے زیادہ ہوسکتی ہے۔

زندگی بڑھانے والا پروٹین دماغی بیماریوں کا بھی دشمن

سان فرانسسکو: تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ قدرتی طور پر پایا جانے والا ایک پروٹین ’’کلوتھو‘‘ نہ صرف زندگی بڑھاتا ہے بلکہ دماغ کی اکتسابی صلاحیتوں کو بہتر بناتے ہوئے الزائیمر، پارکنسن اور دوسری کئی دماغی بیماریوں کے خلاف ڈھال کا کام بھی کر سکتا ہے۔

اگرچہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان فرانسسکو میں یہ تحقیق چوہوں پر کی گئی ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی نتائج انسانوں میں بھی حاصل کیے جاسکیں گے۔ اب اس پروٹین کو استعمال کرتے ہوئے ابتدائی انسانی تجربات کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ کلوتھو پروٹین انسانی دماغ اور گردوں میں قدرتی طور پر تیار ہوتا ہے جو دورانِ خون (بلڈ سرکولیشن) میں ایک ہارمون کے طور پر شامل ہو کر مختلف افعال انجام دیتا ہے۔ ایک طرف یہ جسم میں انسولین کی پیداوار کو بہتر بناتا ہے تو دوسری جانب یہ پٹھوں کو مضبوط بنانے والے خلیوں یعنی ’’فائبروبلاسٹس‘‘ کی افزائش میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔

یرقان سے چھٹکارا حاصل کرنے کے گھریلو ٹوٹکے

یرقان جسے عام طور پر پیلیا یا جوائنڈس بھی کہا جاتا ہے، سے چھٹکارا حاصل کرنا اب پہلے جیسا ناممکن نہیں رہا بلکہ چند گھریلو ٹوٹکوں کے ذریعے یرقان کی شدت میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

جگر انسانی جسم میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے جو کھانا ہضم کرنے کے ساتھ تمام ضروری غذائیت بھی جسم کو فراہم کرتا ہے جب کہ جگر ہی خون میں پروٹین، چربی اور چینی کی سطح کو منظم کرتا ہے اور جسم میں جمع ہونے والے زہر کے خاتمے کے لیے مسلسل کام کرتا رہتا ہے لیکن جگر کی بہت سی بیماریاں بھی ہیں جن میں ہیپاٹائٹس اے، بی، سی، ڈی اور یرقان وغیر شامل ہیں، صحت مند رہنے کے لیے ان تمام بیماریوں سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔

ڈاکٹرز بھی جگر کو نقصان نہ پہنچانے کے لیے ایسی غذاوں سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہیں جو جگر کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں لیکن خدانخواستہ اگر آپ جوائنڈس یعنی یرقان میں مبتلا ہو جائیں تو چند گھریلو ٹوٹکوں کے ذریعے اس بیماری سے باآسانی نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔

جگمگاتی جلد کے لیے بہترین غذائیں

آپ نے ایسے اشتہارات تو دیکھے ہوں گے جن میں مختلف کریمیں جادوئی اثرات کے وعدے کرتی نظر آتی ہیں۔

بیوٹی کریمیں اپنے وعدے کس حد تک پورے کرپاتی ہیں، اس بحث سے قطع نظر یہ کہنا درست ہوگا کہ ان کا خرچہ جیب پر کافی بھاری پڑتا ہے۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ کچھ غذائیں ایسی ہوتی ہیں جو جلد کو جگمگانے میں مدد دیتی ہیں اور جلد کی رنگت کو اتنا بہتر کرسکتی ہیں جتنا کریم بھی نہیں کرپاتی۔

یہاں ایسی ہی مزیدار غذاؤں کے بارے میں جانیں جو جگمگاتی جلد کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔

ڈارک چاکلیٹ

اگر آپ کو میٹھا کھانا پسند ہے تو چینی کے بجائے ڈارک چاکلیٹ کو کھانے کی عادت ڈال لیں، کوکا فلیونوئیڈز سے بھرپور یہ چاکلیٹ جلد کی ملائمت اور نمی کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے۔

دہی

دہی بائیوٹن (وٹامن بی کی ایک قسم) سے بھرپور ہوتا ہے جو جلد کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ناخنوں کو بھی خوبصورت بنانے میں مدد دیتا ہے، اس کے علاوہ دہی میں موجود پروٹین، چربی کو ہضم ہونے میں مدد دیتے ہیں جبکہ جسمانی وزن میں بھی کمی لاتے ہیں۔

خربوزہ

تربوز، خربوزہ اور گرمیوں میں سب کے پسندیدہ پھل ہوتے ہیں، خربوزے اور آم میں کیروٹین نامی جز ہوتا ہے جو جلد کے معیار کو بہتر بناتا ہے جبکہ یہ کیل مہاسوں کو دور کرنے، جلد کی خشکی میں کمی، جلد کی لچک میں اضافہ اور عمر بڑھنے سے جلد پر مرتب ہونے والے اثرات کی رفتار کو بھی سست کردیتا ہے۔

مچھلی

مچھلی میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈز دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ جز جلد کے لیے بھی بہترین ہے، جو ورم، دانوں اور سرخی میں کمی لاتے ہیں اور جلد کی پرتیں بننے سے روکنے اور موئسچرائزر کا کام بھی کرتے ہیں۔

سبز پتوں والی سبزیاں

یہ سبزیاں وٹامنز، منرلز اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہیں جو جلد کے خلیات کے تحفظ اور ان کی نشوونما کو بڑھاتی ہیں، جس سے جلد جھریوں سے محفوظ رہتی ہے، اسی طرح یہ جلد کو سورج کی مضر شعاعوں سے بھی تحفظ دیتی ہیں۔

گریپ فروٹ

گریپ فروٹ لائیکو پین سے بھرپور پھل ہے، یہ خلیات کو تحفظ دینے کے لیے موثر اور جسم میں گردش کرنے والے مضر اجزاء کے خلاف مزاحمت کرتا ہے جو جلد کی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔

بہت زیادہ پانی

اگر جسم میں پانی کی مقدار مناسب سطح پر برقرار رکھی جائے تو جلد پر جھریاں پڑنے کا امکان بہت کم ہوتا ہے، لہذا دن بھر میں مناسب مقدار میں پانی کا استعمال فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

پپیتا

یہ مزیدار پھل جسمانی صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہے، یہ فائبر، اینٹی آکسائیڈنٹس اور وٹامنز سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ جلد کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔

شکرقندی

اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جلد کو قدرتی طور پر تروتازہ رکھنے میں مدد دیتے ہیں جبکہ خلیات کو نقصان پہنچانے والے اجزاء کی روک تھام کرکے قبل از وقت بڑھاپے سے تحفظ دیتے ہیں۔

بیریز

اسٹرابیری اور بلیو بیری صحت کے لیے فائدہ مند اجزاء سے بھرپور ہوتی ہیں جو کہ جلد پر پڑنے والے داغوں کی روک تھام کرتے ہیں۔

سبز چائے

سبز چائے کیل مہاسوں کی روک تھام کے لیے مددگار ہے، اس کے علاوہ اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جلد کو جوان نظر آنے اور صحت مند رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

گاجر

گاجر وٹامن سی سے بھرپور ہوتی ہے جو جسم میں کولیجن نامی پروٹین کی قسم کی مقدار بڑھاتی ہے جو کہ جھریوں کی روک تھام اور عمر کے اثرات کو سست کرتا ہے، اس کے علاوہ اس میں موجود وٹامن اے جلد کی رنگت میں بہتری لاتا ہے۔

کھیرے

کھیروں میں متعدد وٹامنز اور منرلز موجود ہوتے ہیں، جن کی جسم کو ضرورت ہوتی ہے جو کہ موٹاپے سے تحفظ کے ساتھ ساتھ جلد کو جگمگانے کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔

اخروٹ

اومیگا تھری فیٹی ایسڈ اور وٹامن ای سے بھرپور یہ خشک میوہ آپ کے بالوں میں نمی برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، اس کے علاوہ ان میں کاپر کی مقدار بھی کافی ہوتی ہے جو جلد اور بالوں کے قدرتی رنگ کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں جبکہ اس منرل کی کمی آپ کے بالوں کو قبل از وقت سفید کرسکتی ہے۔

لاعلاج ذیابیطس کا علاج اب ہوگا ممکن؟

ذیابیطس کو لاعلاج مرض سمجھا جاتا ہے تاہم سائنسدانوں نے ایک نئے طریقہ علاج کے کامیاب تجربات کیے ہیں جس کے نتیجے میں بیماری سے متاثرہ دفاعی نظام کو ‘دوبارہ تربیت’ دی جاتی ہے کہ وہ انسولین کو تباہ نہ کریں۔

برطانیہ کے کنگز کالج لندن اور کارڈف یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق کے دوران محققین نے مریضوں کے اندر ننھے پروٹین ذرات داخل کیے، جنھوں نے دفاعی نظام کے خلیات کو انسولین کو ہدف بنانے سے روکا۔

ذیابیطس ٹائپ ون میں مریضوں کے جسمانی مدافعتی نظام انسولین پیدا کرنے والے خلیات پر حملہ آور ہوکر نقصان پہنچاتے ہیں اور اسی وجہ سے انسولین کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔

غصہ صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے، تحقیق

دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جنہیں غصہ نہیں آتا ہوگا یا وہ غصہ آنے پر اس کا اظہار ہی نہیں کرتے ہوں لیکن غصہ کرنے والے افراد کے لیے بری خبر یہ ہے کہ اس کے صحت پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہےکہ غصہ کے وقت کو شش کی جائے کہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں کیونکہ اس سے کئی مسائل کا سامنا ہوجاتا ہے۔

ماہرین نے تحقیق کے بعد چند ایسی خطرناک علامات وضع کی ہیں جس کی وجہ غصہ ہوسکتا ہے۔

دل کیلئے خطرناک: 

ویک فوریسٹ یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کی تحقیق کے مطابق غصہ دل کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے کیونکہ اس سے خون کا دورانیہ بھی رک جاتا ہے اور دل پر دباؤ پڑنا شروع ہوجاتا ہے جو دل کے دورے کا باعث بن سکتا ہے۔

نظام انہضام کے لیے مضر:

ہارورڈ میڈیکل اسکول کی تحقیق کے مطابق جو لوگ اکثر غصہ کرتے ہیں ان کا نظام ہاضمہ رست طور پر کام کرنا چھوڑدیتا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف ان کی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ خوراک میں بھی کمی آتی ہے۔

غصہ دماغ کمزور کرتا ہے:

غیر ملکی طبی جریدے میں  شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق غصہ کرنے سے دماغی قوت کمزور ہوتی ہے اور ساتھ ہی تناؤ(اسٹریس) کی شکایات موصول ہوتی ہے جس سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہوجاتی ہے۔

تخلیقی صلاحیتوں کو روکنے کا سبب:

ایک تحقیق کے مطابق غصہ نہ صرف دل، نظام ہاضمہ، پھیپڑوں اور دماغ کو متاثر کرتا ہے بلکہ ساتھ ہی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی بڑھنے سے روکتا ہے۔

غصے کی وجہ سے لوگ مضر صحت اشیا جیسے سگریٹ، نوشی تمباکو، نشہ آور چیزیں اور شراب وغیرہ کا استعمال کرنے لگ جاتے ہیں جو صرف اور صرف صحت کے لیے نقصان کا باعث ہیں۔

ماہرین کا مشورہ ہ کہ غصے کے وقت خاموشی اختیار کرنی چاہیے اور دل و دماغ کو زیادہ سے زیادہ سکون فراہم کرنا چاہیے۔

صحت مند رہنے کیلئے درست غذا کا انتخاب ضروری، تحقیق

غذا کے غلط انتخاب کا اثر صحت پر براہِ راست ہوتا ہے تو ایسے میں موٹاپا، معدے کی خرابی نظام ہاضمہ کی شکایات موصول ہوتی ہیں جس کی وجہ سے صحت پر منفی اثرات مرتب ہوجاتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق غذا میں فریزر کیے ہوئے پھل اور سبزیوں کو کھانا مضر ہے اس سے ان کی قدرتی افادیت میں کمی آجاتی ہے جس سے معدے میں خرابی اور تیزابیت کی شکایت کا خدشہ لاحق ہوجاتا ہے اس لیے ماہرین غذا کے انتخاب محتاط رہنے کی ہدایت دیتے ہیں۔

تلی ہوئی چیزوں سے پرہیز:

غذا میں تلی ہوئی چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ پھلوں اور سبزیوں کا زیادہ استعمال کرنا چاہیے۔ سفید ڈبل روٹی کے استعمال کے بجائے براؤن بریڈ کا استعمال کرنا زیادہ مفید ہے۔

فریزر کے پھلوں اور سبزیوں سے پرہیز:

ماہرین کے مطابق فریزر والے پھل اور سبزیوں کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ سبزیوں اور پھلوں کو فریز کرنے سے ان میں نیوٹریشن ختم ہوجاتا ہے اور ساتھ ہی اس میں وٹامنز اور معدنی افادیت فراہم کرنے میں بھی کمی آجاتی ہے جو کہ صحت میں بہت سی شکایات کا سامنا ہوتا ہے۔

اس لیے فریزر والی غذا سے پرہیز کیا جائے اور تازہ پھل اور سبزیوں کا انتخاب کیا جائے۔

جسم میں آئرن کی ضرورت:

جسم میں آئرن کا ہونا انسانی صحت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ آئرن سے جسم میں قوت مدافعت بڑھتی ہے۔

تحقیق کے مطابق آئرن کا جسم میں وافر مقدار میں ہونا دل کے امراض سے بچانے میں مدد فراہم کرتا ہے اس لیے ایسی غذا کا استعمال کیا جائے جس سے آئرن حاصل ہو۔

صحت مندانہ تیل کا استعمال:

ماہرین کا کہنا ہےکہ کھانا بنانے کے لیے ایسے تیل کا استعمال کیا جائے جوصحت کے لیے مفید ہو۔

ماہرین صحت کے مطابق کھانے میں تیل کا استعمال کم سے کم کرنا چاہیے۔ اچھی صحت کے لیے تیل کی مقدار کھانے میں کم رکھی جائے اس سے جسم میں فیٹ سالیوبل وٹامنز جذب ہوجاتے ہیں۔

کافی کا استعمال:

کافی پینے سے جسم کے تمام اعضاء حرکت میں رہتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق جو لوگ روزانہ کافی پیتے ہیں وہ دیر تک جیتے ہیں اور یہ دل کے، دماغ، جگر اور سروسس جیسی بیماری کے خدشات لاحق ہونے سے محفوظ رکھتی ہے

آنکھوں کے کونوں میں یہ ‘گلابی نقطہ’ کیوں ہوتا ہے؟

اپنی آنکھوں کو غور سے دیکھیں، اس کے کونے میں ایک گلابی نقطہ نظر آئے گا جو تکونی شکل میں ہوتا ہے۔

مگر یہ گلابی نقطہ یا طبی زبان میں پلاکا سیمیلیونیرس (Plica semilunaris) کس مقصد کے لیے ہوتا ہے، کیا آپ جانتے ہیں؟

درحقیقت متعدد طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ انسانوں میں کسی زمانے میں تیسری پلک کی نشانی ہے جو اب باقی نہیں رہی۔

اس طرح کی پلکیں پرندوں اور حشرات الارض میں پائی جاتی ہے اور ماہرین کے خیال میں کبھی ہمارے آباﺅ اجداد کی آنکھوں پر دو نہیں بلکہ تین پلکیں ہوتی تھیں۔

جانوروں میں یہ تیسری پلک آنکھوں کے تحفظ یا نمی کے لیے ہوتی ہے جس سے وہ دیکھنے کے قابل ہوتے ہیں۔

اب انسانوں میں یہ بظاہر بلا مقصد موجود ہے یا بس ایک نشانی ہے۔

تاہم اب بھی یہ ٹشو کسی حد تک کارآمد ثابت ہوتا ہے جو کہ آنسوﺅں کو بہنے میں مدد دینے کے ساتھ آنکھ میں داخل ہونے والی بیرونی اشیاء کو باہر نکالتا ہے۔

سائنسدانوں کے خیال میں یہ کسی زمانے میں آنکھوں کی نمی اور صفائی کا کام کرتا ہوگا یا کسی جنگلی علاقے میں شکاری جانوروں کو دیکھنے میں مدد دیتا ہوگا۔

Google Analytics Alternative