صحت

چاول کا چھلکا بھی غذائیت سے بھرپور

کولاراڈو: چاول کا شمار دنیا میں کھائی جانے والی اہم ترین اجناس میں ہوتا ہے لیکن اس کا اہم انقلابی حصہ ہم بے کار سمجھ کر پھینک دیتے ہیں اور وہ ہے چاول کا چھلکا جو قدرتی طورپر بے پناہ غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے۔

چاول کے چھلکے میں پروٹین، لحمیات (پروٹین)، معدنیات اور خردغذائی اجزاء (مائیکرونیوٹریئنٹس) اور وٹامن بی کی کئی اقسام ہوتی ہیں۔ اگرچہ یہ چھلکا جانوروں کو کھلا دیا جاتا ہے یا پھر جلانے اور تعمیراتی کام میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے لیکن اب طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانوں کو اسے ضرور استعمال کرنا چاہیے۔

کولوراڈو اسٹیٹ یونیورسٹی کی پروفیسر ایلزبتھ ریان کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق اگر صرف دن میں ایک مرتبہ چاول کا 28 گرام چھلکا کھا لیا جائے تو یہ کسی بالغ شخص کی روزانہ کی نصف توانائی پوری کرسکتا ہے جن میں نیاسِن، تھایامین اور وٹامن بی 6 قابلِ ذکر ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ چاول کے چھلکے کو جانوروں کو کھلا دیا جاتا ہے۔

ماہرین نے چاول کے چھلکے میں چھپے اہم اجزاء کا پتا لگانے کے لیے امریکا میں استعمال ہونے والی چاولوں کی تین اہم اقسام پر غور کیا، اور اس کے لئے ایک مشہور طریقے ماس اسپیکٹروسکوپی کی مدد سے معلوم کیا گیا کہ اس میں کتنے غذائی اجزاء کے سالمات (مالیکیولز) موجود ہیں۔ معلوم ہوا کہ اس میں 453 اہم اجزاء موجود ہیں جن میں سے 65 تو طبی اور صحت کے لیے بہترین خواص رکھتے ہیں اور 16 اس سے قبل چاول کے چھلکے میں دیکھے ہی نہیں گئے تھے۔

پروفیسر ایلزبتھ کہتی ہیں کہ چاول کے چھلکے میں طبی اور غذائی اجزا کی بھرمار ہے۔ مثلاً اس میں موجود اجزا بلڈ پریشر، سوزش اور جلن کے علاوہ جراثیم کو ختم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ چاول کا چھلکے میں 12 سے 15 فیصد پروٹین بھی ہوتا ہے۔

صرف ایک گھریلو مشروب سے 4 دن میں 4 کلو وزن کم کیجیے

کراچی: اگر آپ بھی زیادہ وزن اور موٹاپے میں مبتلا ہیں تو گھر میں یہ سادہ مشروب تیار کرکے صرف چار دن استعمال کریں اور آپ کا وزن 4 کلوگرام اور کمر 16 سینٹی میٹر تک کم ہوجائیں گے۔

دلچسپی کی بات ہے کہ یہ مشروب صدیوں سے موٹاپا اور وزن گھٹانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اور کئی نسلوں کے لاکھوں لوگوں کا آزمودہ بھی ہے۔ البتہ مطلوبہ نتائج کے لیے آپ کو اس مشروب کے ساتھ ساتھ روزانہ ہلکی پھلکی ورزش اور متوازن غذا کو بھی اپنے معمول کا حصہ بنانا ہوگا۔

پہلے اس مشروب کے اجزاء ملاحظہ کریں:

  • 8 گلاس (دو لٹر) پانی
  • درمیانی جسامت کا 1 عدد کھیرا (چھلکا اتار کر ٹکڑے کیا ہوا)
  • درمیانی جسامت کا 1 عدد لیموں (چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹا ہوا)
  • پسی ہوئی ادرک، 1 چائے کا چمچہ
  • تازہ پودینے کی 12 پتیاں
  • خشک پودینے کا سفوف، 1 چائے کا چمچہ

مشروب بنانے کے لیے ان تمام اجزاء کو بلینڈر میں ڈال کر اچھی طرح سے چلا لیں تاکہ پانی میں شامل ان تمام چیزوں کا یک جان آمیزہ بن جائے۔ اسے محفوظ کرنے کے لیے ریفریجریٹر میں رکھ دیں اور روزانہ 4 سے 5 گلاس پیئیں۔ البتہ پینے سے پہلے اس مشروب کی بوتل اچھی طرح سے ہلا لیں۔

عجیب ذائقے کی وجہ سے شروع میں یہ مشروب پینا کچھ مشکل محسوس ہوگا لیکن گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ ابتداء میں صبح ناشتے سے کچھ دیر پہلے اس کا ایک گلاس پیجئے اور ناشتے کے دو گھنٹے بعد دوسرا گلاس نوش کریں۔ اس کے بعد دن میں جس وقت بھی سہولت ہو، ایک سے دو گھنٹے کا وقفہ رکھتے ہوئے مزید 2 یا 3 گلاس پی لیں۔

آپ کو دوسرے دن ہی سے اپنے وزن اور کمر میں کمی محسوس ہونے لگے گی۔

اس معمول پر روزانہ ورزش اور زود ہضم کھانوں کے ساتھ 4 دن تک سختی سے عمل کرتے رہیں لیکن چار دن پورے ہونے کے بعد یہ مشروب پینا روک دیں۔ یہ بات اس لیے بھی بطورِ خاص بتائی جارہی ہے کیونکہ غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مشروب کا سب سے زیادہ فائدہ ان لوگوں میں دیکھا گیا ہے جنہوں نے اس مشروب کے ساتھ متوازن غذاؤں کا استعمال جاری رکھا اور دن میں کچھ نہ کچھ ورزش (ایک گھنٹے تک تیز قدموں سے چہل قدمی اور جاگنگ وغیرہ) بھی کرتے رہے۔

ایک مرتبہ چار روزہ استعمال پورا کرنے کے بعد ایک ہفتے کا وقفہ دے کر یہ مشروب ایک بار پھر اسی طرح استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن محتاط رہیں کہ اسے مسلسل، بغیر وقفے کے، چار دنوں سے زیادہ تک پیتے رہنے کے منفی نتائج نکل سکتے ہیں اور آپ بیمار بھی پڑ سکتے ہیں۔

30 منٹ کی ورزش کینسر کے مریضوں کے لیے مفید: تحقیق

ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ کم از کم 30 منٹ پیدل چلنے سے کینسر کے باعث ہونے والی اموات کو 50 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی اور برسبین کی کوئنز لینڈ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نے کینسر کے باعث ہونے والی اموات پر  حال ہی میں تحقیق کی جس کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ 30 منٹ پیدل چلنے سے آنتوں اور چھاتی کے سرطان سے موت کے خطرے کو 50 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کی ٹیم نے اپنی تحقیق میں 992 ایسے مردوں کو شامل کیا گیا جو آنتوں کے کینسر ( اسٹیج تھری) میں مبتلا تھے۔ وہ مریض جنہوں نے روزانہ باقاعدگی سے 30 منٹ پیدل چلنا شروع کیا اور غذائیت سے بھرپور خوراک استعمال کی ان میں 42 فیصد تک موت کا خطرہ کم ہوگیا جب کہ ان کے مقابلے میں معمول کی زندگی گزارنے والے مریض جلد انتقال کرگئے۔

آنتوں کے کینسر پر کی جانے والی تحقیق کو شکاگو میں ہونے والی امریکن سوسائٹی آف کلینکل آنکالوجی کانفرنس میں بھی پیش کیا گیا تھا۔

دوسری تحقیق آسٹریلوی ریسرچر نے 194 ایسی خواتین پر کی جنہوں نے حال ہی میں چھاتی کے سرطان کی سرجری کرائی تھی۔ محققین نے خواتین کو دو گروپوں میں تقسیم کیا اور 8 سال تک ان کا بہت قریب سے مشاہدہ کیا۔

ماہرین کے مطابق ایسی خواتین جنہوں نے باقاعدگی سے 30 منٹ یا اس سے زائد وقت تک پیدل چلنے کو معمول بنایا ان میں موت کی شرح 55 فیصد تک کم رہی جب کہ وہ خواتین جنہوں نے چھاتی کے سرطان کی سرجری کے بعد معمول کے مطابق زندگی گزاری وہ جلد انتقال کر گئیں۔

ریسرچ کے لئے شامل کئے گئے وہ مریض جنہوں نے ورزش اور پیدل چلنے کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا ان کا کہنا تھا کہ پیدل چلنا اور زیادہ سے زیادہ سائیکل چلانا ان کی معمول کی سرگرمی تھی جس نے کینسر کے باوجود ان کی عمر کو بڑھانے میں کردار ادا کیا۔

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ایرن نے کینسر کے مریضوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ہفتے میں کم سے کم 150 منٹ ضرور پیدل چلیں اور ڈاکٹروں کو بھی چاہیے کہ وہ مریضوں کو ورزش کی تاکید کریں۔

بلوچستان کے سرکاری اسپتالوں میں نرسز کا بائیکاٹ

ترجمان نرسزایکشن کمیٹی بلوچستان کےمطابق نرسز نے اپنے مطالبات کے حق میں سرکاری اسپتالوں میں ڈیوٹی کا بائیکاٹ کیا ہے، نرسز آج سے صرف ایمرجنسی ڈیوٹی انجام دیں گی۔

ایمرجنسی ڈیوٹی میں شعبہ حادثات، گائنی اور لیبر روم میں خدمات شامل ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو دو روز بعد ایمرجنسی ڈیوٹی کا بھی بائیکاٹ ہوگا۔

مطالبات میں ہیلتھ پروفیشنل اور رسک الاؤنس، سروس اسٹرکچر سمیت دیگر مطالبات شامل ہیں۔

 

ذہن کی صلاحیت بڑھانے کے چند قدرتی طریقے

روزہ مرہ کی زندگی میں انسان کی خوراک اور ارد گرد کا ماحول ذہنی صلاحیت پر براہ راست اثر کرتا ہے اس لئے ماہرین ذہنی صلاحیت بڑھانے کے لئے غذائیت سے بھرپور خوراک کھانے کا مشورہ دیتے ہیں لیکن تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جڑی بوٹیوں کا کھانے میں استعمال اور انہیں سونگھنے سے بھی ذہن کے کام کرنے کی صلاحیت کو بڑھایا جاسکتا ہے۔

یہاں آپ کو چند ایسے قدرتی طریقے بتائے گئے ہیں جن کے استعمال سے آپ نہ صرف اپنے ذہن کی صلاحیت کو بڑھا سکتے ہیں بلکہ اپنی یادداہشت کو بھی بہتر بناسکتے ہیں۔

اکلیل کوہستانی ( سدا بہار) :

سدا بہار کے پتوں کو سونگھنے سے پروسپیکٹیو میموری بہتر ہوتی ہے جو کوئی بھی بات یاد رکھنے کا کام کرتی ہے۔ سدا بہار کے پتوں کو سونگھ کر طالبعلم امتحانات کے دوران اپنی یادداہشت کو بہتر بناسکتے ہیں اور خاص طور پر 60 سال سے زائد عمر کے افراد کے لئے سدا بہار کے پتوں کی خوشبو انتہائی مفید ہے۔

پودینے کی چائے:

نارتھ ایمبریا یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی حالیہ تحقیق کے مطابق پودینے کی چائے کا استعمال طویل المدت یادداہشت اور کام کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔

سویا بین کا استعمال:

ماہرین کے مطابق سویا بین میں موجود وٹامن دماغ کی کثیرالمدتی اور قلیل المدتی صلاحیت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

اخروٹ:

روزانہ ایک سے دو اخروٹ کھانے سے دماغ کی صلاحیت بڑھانے کے ساتھ دماغ کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت (کوگنیٹیو اسپیڈ) کو بڑھایا جاسکتا ہے۔

ہری سبزیوں کو استعمال:

ماہرین کے مطابق سبز سبزیاں وٹامن سے بھرپور ہوتی ہیں جو دماغ کے لئے انتہائی ضروری ہے۔

کراچی: رواں سال 3 ہزار افراد چکن گونیا کا شکار ہوئے

قومی ادارہ صحت کے مطابق کراچی میں 243 افراد کے خون کے نمونوں میں سے 205 افراد میں چکن گونیا کے وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

ڈائریکٹر ہیلتھ کراچی ڈاکٹر محمد توفیق کا بتانا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر کراچی میں 15 سے 20 افراد چکن گونیا کی مشتبہ علامات کے ساتھ آرہے ہیں۔

ڈائریکٹر ہیلتھ کے مطابق ابتدائی علامات اور مکمل طبی معائنے کے بعد چکن گونیا کے مریضوں کی تعداد 7 سے 10 رہ جاتی ہے اور یہ مرض دس سے پندرہ روز میں خود ختم ہو جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگ سحری اور افطاری کے اوقات میں باہر نکلیں تو جسم کو ڈھانپ کر رکھیں۔ انسداد چکن گونیا کے لئے صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں، مچھر مار ادویات کا استعمال کریں ۔

لڑکوں کی نسبت لڑکیاں ڈپریشن کا زیادہ شکار، تحقیق

امریکا کی نیو پورٹ اکیڈمی میں کی گئی تحقیق سے پتا چلا ہےکہ نوجوان لڑکیاں تناؤ (ڈپریشن) جیسے مرض میں زیادہ مبتلا ہیں۔

تحقیق کے مطابق تناؤ میں مبتلا نوجوان لڑکیوں کی تعداد 36 فیصد جب کہ ان کے مقابلے میں لڑکوں میں یہ تعداد 14 فیصد ہے۔

اکیڈمی کی ڈائریکٹر کرسٹن ولسون کے مطابق ان کے نزدیک لڑکیوں کا زیادہ ڈپریشن کا شکار ہونا  کوئی حیرانی  کی بات نہیں کیونکہ وہ پچھلے کچھ وقت سے  لڑکیوں کو زیادہ اس مرض میں مبتلا دیکھ رہی ہیں۔

ولسون کا کہنا ہے حیرانی کی بات یہ ہے کہ ڈپریشن کے مرض میں لڑکیاں لڑکوں سے دگنی تعداد میں مبتلا پائی جا رہی ہیں۔

انہوں نے لڑکیوں میں تناؤ بڑھنے کی اہم وجہ معاشرتی ذمہ داروں کو قرار دیا اور کہا کہ لڑکیوں کو معاشرتی ذمہ داروں کا خاص خیال رکھنا ہوتا ہے اور ان پر معاشرے کا دباؤ زیادہ ہوتا ہے۔

ولوسن کے مطابق لڑکیاں لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ حساس ہوتی ہیں اور ان کی نزاکت ان کی شخصیت کو اثر انداز کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لڑکیاں پنے احساسات و جذبا ت کا کھل کر اظہار نہیں کر پاتیں نا امید ہونا، اداس رہنا، کھانے پینے کا خیال نہ رکھنا، تنہائی پسند ہونا اور اپنے آپ کو کسی محفل میں بھی اکیلا محسوس کرنا، یہ تمام چیزیں ڈپریشن کی اہم نشانیاں ہیں۔

کہانیاں سنانا بچوں کی دماغی صلاحیت بڑھانے میں مددگار

ماہرین کے مطابق اگر بچے کہانی سننے کے دوران اس میں بھرپور حصہ لیتے ہیں تو یہ عمل ان کی دماغی صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔

امریکا میں بچوں کے اسپتال میں کیے گئے سروے میں اسکول کے بچوں کا پڑھائی کے دوران دماغ کا جائزہ لیا گیا۔

ماہرین نے تحقیق میں پتالگایا کہ جو بچے کہانیاں سنتے ہیں ان کا دماغ تیز اور بہتر کام کرتا ہے۔

ماہرین نے 4 سال کے 22  بچوں پر تحقیق کی اور انہیں اپنی ماؤں کے ساتھ کہانی پڑھنے کا کہا گیا۔

اس کے ذریعے معلوم ہوا کہ جو بچے اس عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور ان کے دماغ کا وہ حصہ جو یادداشت اور کام پر توجہ دلانے کا کام کرتا ہے اس نے زیادہ بہتر کام کیا۔

تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر جان ہوٹن کا کہنا ہےکہ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو اپنے ساتھ بٹھا کر کہانیاں سنائیں تاکہ وہ سوال کریں جس سے والدین اور بچوں کے درمیان بات چیت ہوتی رہے، اس سے بچوں کو سیکھنے کا موقعہ ملتا ہے۔

جان ہوٹن کے مطابق اس عمل کے ذریعے اسکول کے بچوں کی سیکھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تحقیق والدین اور بچوں دونوں کے لیے ہے جس کا اصل مقصد بچوں کو موبائل فون سے دور رکھنا ہے جو ان کی پڑھائی میں بڑی رکاوٹ بنتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ اس پر مزید کام کررہے ہیں تاکہ بچوں کی دماغی صلاحیت کو مزید بہتر کیا جا سکے۔

Google Analytics Alternative