صحت

رحیم یار خان: ہیپاٹائیٹس کا مرض وبائی صورتحال اختیار کرگیا

کوئی جامع سروے نہیں ہر تیسرا شخص اس مرض میں مبتلا ہے، یومیہ تین افراد لقمہ اجل بن رہے ہیں ۔ہیپاٹائیٹس سی کا علاج سرکار کے پاس نہیں ہے۔

ضلع رحیم یار خان میں ہیپاٹائیٹس کے متعلق الارمنگ صورتحال سامنے آئی ہے اور حیرت انگیز طورپر لوگ ہیپاٹائیٹس جیسے موذی مرض کا شکار ہو رہے ہیں۔

ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ اینڈ پروفیسر آف میڈیسن شیخ زاید میڈیکل کالج و اسپتال ڈاکٹر غلام فرید نے انکشاف کیا ہےکہ او پی ڈی میں آنے والے تیس سے چالیس فیصد لوگ اس مرض کا شکار ہیں اور ہر پانچواں شخص ہیپاٹائیٹس میں مبتلا ہے ۔

صرف شیخ زاید اسپتال میں تین سے چار لوگ ہیپاٹائیٹس سے جاں بحق ہو رہے ہیں جبکہ ایم ایس شیخ زاید اسپتال ڈاکٹر غلام ر بانی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اسکریننگ کے دوران ضلع کی پچاس لاکھ کی آبادی میں دس فیصد لوگوں میں ہیپاٹائیٹس کا وائرس موجود ہے اور شیخ زایداسپتال میں یومیہ بیس لوگ مختلف بیماریوں میں جاں بحق ہو رہے ہیں جن میں تین سے چار ہیپاٹائیٹس کا شکار ہوتے ہیں۔

انہوں نے بتا یا کہ اسکی وجہ سرنجوں کا بے دریغ استعمال، خون کی منتقلی، حجامت کے دوران بلیڈ کا استعمال، غیر ضروری قربت و دیگر عوامل شامل ہیں جبکہ وہ ہیپاٹائیٹس بی کی ویکسین کر رہے ہیں جبکہ ہیپاٹائیٹس سی کی میڈیسن دستیاب نہیں ہے۔

کینسر کی تشخیص کرنے والی چیونگم ایجاد

الاباما: امریکا کی ایک بایوٹیکنالوجی کمپنی نے کینسر کی تشخیص کرنے والی چیونگم ایجاد کرلی ہے جو مستقبل میں اس مقصد کے لیے طویل، پیچیدہ اور مہنگے ٹیسٹ کی ضرورت ختم کردے گی۔

الاباما کی بایوٹیکنالوجی اسٹارٹ اپ کمپنی نے ایسے مادّے تیار کیے ہیں جو بالکل چیونگم جیسے ہیں اور ان کی مدد سے فی الحال لبلبے، پھیپھڑے اور چھاتی کے سرطان کی تشخیص کی جاسکتی ہے۔

اس ’’تشخیصی چیونگم‘‘ کو پندرہ منٹ تک چبانے کے بعد منہ سے واپس نکالا جاتا ہے اور تجربہ گاہ میں پہنچادیا جاتا ہے جہاں اس کی کیمیائی جانچ پڑتال کرکے اس میں ایسے مادّوں کی موجودگی یا عدم موجودگی کا پتا چلایا جاتا ہے جو سرطان (کینسر) کی وجہ بن سکتے ہوں۔

کمپنی کی خاتون سربراہ کا کہنا ہےکہ ابھی اس تشخیصی چیونگم پر مزید کام ہونا باقی ہے اور اگر آئندہ چند برسوں میں اسے ایف ڈی اے کی جانب سے منظوری مل گئی تو وہ دن دور نہیں کہ سرطان کی تشخیص کرنے کے لیے تکلیف دہ بائی آپسی کے علاوہ خون اور پیشاب وغیرہ کے ٹیسٹ کروانے کی ضرورت نہ رہے جو ایک طرف تو بہت مہنگے اور پیچیدہ ہیں تو دوسری جانب ان سے تشخیص میں بہت وقت بھی لگتا ہے۔

صومالیہ میں ہیضے کی وبا،533ہلاک ،21ہزار متاثر

عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق رواں سال کے آغاز کے بعد ہیضے کی بیماری سے21 ہزار افراد متاثر ہوئے جن میں سے 533 ہلاک ہو گئے۔

ریڈ کراس نے بھی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ صرف گزشتہ چند دنوں میں صومالی لینڈ کے نیم خود مختار علاقے میں ہیضے سے28 افراد ہلاک جبکہ دیگر 170 اسپتال میں داخل ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ہیضے سے ہلاک ہونے والوں کی شرح اموات 2اعشاریہ3 فیصد ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 62 لاکھ افراد جو صومالیہ کی آبادی کا نصف سے بھی زیادہ ہیں نہیں فوری امداد کی بھی ضرورت ہے۔ ان میں سے لگ بھگ29 لاکھ افراد شدید بھوک کا شکار ہیں ۔

تیزی سے سفید ہوتے بال امراضِ قلب کی علامت

قاہرہ: مصری ماہرین نے ایک مختصر سروے کے بعد کہا ہے کہ تیزی سے سفید ہوتے ہوئے بال دل کی شریانوں کی تنگی ظاہر کرسکتے ہیں جسے شریانی قلبی مرض کہا جاتا ہے۔

دل کی شریانوں میں رکاوٹ اور تنگی پاکستان سمیت دنیا بھر میں امراضِ قلب کی عام ترین وجہ بھی ہے جسے ’’کورونری ہرٹ ڈیزیز‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس مطالعے میں مصری ماہرین نے 545 مردوں کو شامل کرکے ان میں دل کے مرض ہونے اور نہ ہونے کے بارے میں معلوم کیا اور ان کے سر پر سیاہ اور سفید بالوں کے تناسب کا اندازہ بھی لگایا۔

اس تحقیق میں مکمل سیاہ بالوں والے رضاکار کو ایک اور مکمل طور پر سفید بالوں والے افراد کو پانچ نمبر دیئے گئے۔ اس کے علاوہ ذیابیطس، تمباکو نوشی، بلڈ پریشر اور خاندان میں بیماری جیسے اہم عوامل بھی شامل کیے گئے۔ ماہرین نے نوٹ کیا کہ جن کے سر میں سفید بالوں کی زیادتی کی وجہ سے اسکور 3 تھا اور ان میں قلبی شریانیں متاثر ہونے کی شرح بھی زیادہ تھی۔ یہاں تک کہ جس کا سر جتنا زیادہ سفید تھا ان میں شریانوں کی تنگی کی شرح بھی زیادہ نوٹ کی گئی۔

ماہرین نے جب غور کیا تو معلوم ہوا کہ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح میں اضافے کی وجہ سے مردوں کے بال سفید ہوئے اور اس کی تیسری وجہ عمررسیدگی بھی تھی۔ مطلب کہ دو ایسے عوامل بھی بال سفید کرتے ہیں جو آگے چل کر دل کے امراض کی وجہ بن سکتے ہیں۔

سائنسدانوں نے کہا ہے کہ اس سے زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ بال سفید ہونے کے دیگر کئی عوامل ہوتے ہیں جنہیں مطالعے میں شامل نہیں کیا گیا اور دوسری جانب اس میں شامل افراد کی تعداد بہت کم ہے یعنی یہ ایک چھوٹا سا سروے ہے۔ تاہم اب ماہرین دل کی حالت معلوم کرنے میں بالوں کی سفیدی کو بھی شامل کرنا چاہتے ہیں۔

آلودہ مشروب اور خراب پھل گیسٹروکا سبب ہیں،طبی ماہرین

شدید گرمی اور چلچلاتی دھوپ میں شہری موسم کی حدت سے بچنے کے لئے پھلوں اور بازار میں دستیا ب مشروبات کا سہار ا لیتے ہیں، ان مشروبات پر مکھیاں بیٹھی ہوں یا دھول پڑی ہوتو یہ گیسٹرو کا سبب بن سکتے ہیں ۔

طبی ماہرین کے مطابق گیسٹرو کی زد میں زیادہ تر بچےآتے ہیں ،مریض کی علامات میں معدے اورپیٹ میں درد ، قے آنا اور گلے اور سینے میں جلن وغیر ہ شامل ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمیوں میں ہر دسواں فرد گیسٹرو کا شکار ہو سکتا ہے، اس مرض سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ بازار کے کھانوں اور مشروبات سے پرہیزکیا جائے، بیماری بڑھنے لگے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے ۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ گیسٹرو کی علامات کے ظاہر ہوتے ہی پانی کا استعمال بڑھا دینا چاہیے تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو اوربیماری بروقت کنٹرول ہوجائے۔

دنیا بھر میں دو ارب افراد آلودہ پانی پینے پر مجبور

جنیوا: اقوامِ متحدہ کے تحت عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ دنیا میں اس وقت دو ارب افراد آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں اور اس پانی میں انسانی فضلہ بھی موجود ہے۔ اس بات کا انکشاف جمعرات کو ادارے کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او میں شعبہ عوامی صحت کی سربراہ ماریہ نیرا کہتی ہیں کہ آلودہ پانی ہیضے، ٹائیفائیڈ، پولیو اور پیچش وغیرہ کی وجہ بن کر ہر سال کم سے کم 5 لاکھ افراد کو ہلاک کررہا ہے جبکہ ان میں ڈائریا سرِفہرست مرض ہے۔

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آلودہ پانی آنتوں کے امراض، کیڑوں اور دیگر بیماریوں کی اہم وجہ بھی ہے اور ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر پانی کی صاف فراہمی کے منصوبوں پر سرمایہ کاری کریں۔ تاہم رپورٹ میں اس امر کو خوش آئند قرار دیا گیا ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں اکثر ممالک نے صاف پانی کی فراہم کے بجٹ میں 4.9  فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ تاہم اب بھی 80 فیصد ممالک اعتراف کررہے ہیں کہ وہ اب تک پانی کی ترسیل پر مناسب رقم خرچ نہیں کررہے ۔

رپورٹ میں افریقہ اور ایشیا کے غریب ممالک کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہاں صاف پانی اور نکاسی آب کی صورتحال بہت خراب ہے۔

شدید گرمی میں کیا کھائیں اورکن چیزوں سے بچیں، ماہرین صحت کے مشورے

کراچی: ماہرین صحت نے شدید گرمی میں پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال رکھنے، گوشت سے پرہیز، پھل سبزیاں اور ہلکی غذا کھانے کا مشورہ دیا ہے۔

ماہرین صحت نے عوام كو شدید گرمی میں انتباہ كرتے ہوئے كہا ہے شدید گرمی اورتیز دھوپ كے ساتھ جسم كے درجہ حرارت میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوجاتا ہے جس سے خون گرم ہونے لگتا ہے اورخون میں موجود پروٹین بھی پكنے لگتے ہیں، جسم میں پانی كی كمی سے خون گاڑھا ہونے لگتا ہے جس كی وجہ سے متاثرہ افراد میں بلڈ پریشر كم ہونا شروع ہوجاتا ہے، دماغ اور دل تك خون كی فراہمی بتدریج متاثرہونے لگتی ہے جس كی وجہ سے متاثرہ افرادكوما میں چلے جاتے ہیں جو ایك خطرناك صورتحال ہوتی ہے۔

ماین صحت نے بتایا كہ جسم كا درجہ حرارت بڑھنے پر اس کا كنٹرولنگ سسٹم متاثر ہونے لگتا ہے، ایسی صورت میں متاثرہ افراد كو فوری ٹھنڈی جگہ منتقل كرنا چاہیے اور ڈراپس، پانی یا مشروبات كو فوری استعمال كرانا چاہیے، جسم میں پانی كی كمی سے ہیٹ اسٹروك لاحق ہوجاتا ہے لہٰذا شدید گرمی یا لوچلنے كی صورت میں پانی كا مسلسل استعمال ركھیں،  بصورت دیگر ہیٹ اسٹروك ہونے كے واضح امكانات ہوجاتے ہیں۔

ماہرین صحت نے مزید كہا كہ پسینہ خارج ہونے كی صورت میں مسلسل پانی پیتے رہنا انتہائی مفید اور ضروری ہوتا ہے، شدید گرمی اورلو میں ایك بجے دوپہر سے 4 بجے سہ پہركے درمیان زیادہ سے زیادہ گھر، كمرے یا آفس كے اندر رہنے كی كوشش كریں كیونكہ لویا ہیٹ ویوز ہونے كی صورت میں جسم كا درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ ہونے كا امكان ہوجاتا ہے جس میں جسم كا كنٹرولنگ سسٹم بھی متاثر ہونے لگتا ہے اور اس سے جسم كے پٹھے اكڑنے لگنے لگتے ہیں، جسم كا پانی كم ہو جانے سے متاثرہ افراد كو سر درد، چكر آنا اور متلی والی كیفیت ہونے لگتی ہے، جسم كے اہم حصوں میں خون كی رسائی معمول كے مطابق نہیں ہوتی، متاثرہ افراد كو قے بھی ہونے لگتی ہے، جسم نڈھال ہوجاتا ہے، ذیابیطس كا شكار افراد كو گرم موسم میں بہت زیادہ احتیاط كی ضرورت ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ گرم موسم میں او آر ایس یا پانی كے مسلسل استعمال سے جسم كا درجہ حرارت 37 ڈگری برقراررہتا ہے، گرمی كی پیشگوئی اور ہیٹ ویوزكی اطلاعات كے بعد چھوٹے بچوں اور حاملہ خواتین كو بھی بہت زیادہ احتیاط كی ضرورت ہوتی ہے جب كہ امراض گردوں میں مبتلا مریضوں اور نظام تنفس كا شكار افراد كو ایسے موسم میں گھر میں رہنے كو ترجیحی دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ شدید گرمی میں گھر كے مشروبات استعمال كرتے رہیں جب كہ ہلكی پھلی غذا اور سبزیوں كو روزكا معمول بنائیں، دہی كا استعمال بھی مفید ہے، گرم موسم میں یومیہ كم از كم 3 لیٹر پانی ضرور استعمال كریں، گردے كی بیماری والے افراد دن میں مسلسل پانی پیتے رہیں اور بلڈ پریشر پربھی نظر ركھیں كیونكہ جسم میں پانی كی كمی سے ہیٹ اسٹروك ہو سكتا ہے، شدید گرمی میں دن میں كئی بار نہانا بھی مفید ہوتا ہے، غذا میں گوشت كے استعمال سے پرہیزكریں، پھل اور سبزیاں انتہائی مفید ہوتی ہیں۔

حیدرآباد: انسداد پولیو مہم 17اپریل سے شروع ہوگی

مہم میں 879 گشتی مقرر‘110 شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر 24 ٹیمیں شامل ہیںجبکہ 70 یوسی میڈیکل افسر اور 215 ایریا انچارچ مقرر کیے گئے ہیں تاکہ پولیو مہم کی مکمل نگرانی کی جاسکے اور سو فیصد نتائج حاصل کیے جائیں۔

Google Analytics Alternative