صحت

خوشخبری! چائے کے شوقین افراد کے لیئے

اگر آپ چائے پینے کے شوقین ہیں تو اچھی خبر یہ ہے کہ یہ گرم مشروب آپ کے دانتوں کو خراب ہونے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی طبی تحقیق میں سامنے آیا۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ چائے فلورائیڈ کے حصول کے لیے ایک قدرتی ذریعہ ہے جو دانتوں کی سطح کو مضبوط اور انہیں خراب ہونے سے بچاتا ہے۔طبی جریدے نیوٹریشن بلیٹن میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دن بھر میں 4 کپ بغیر دودھ کی چائے سے اتنا فلورائیڈ مل جاتا ہے جتنا دانتوں کی اچھی صحت کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ایک کلو کھلی چائے کی پتی میں 2300 ملی گرام فلورائیڈ شامل ہوتا ہے جو مختلف کمپنیوں کے تیار کردہ پتی میں یہ مقدار مختلف ہوتی ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ لوگوں کو دودھ کے بغیر چائے کی عادت بھی ڈالنی چاہئے کیونکہ اس سے دانتوں کے لیے مفید فلورائیڈ جسم کا حصہ بنتا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چائے کا بہت زیادہ استعمال کرنا دانتوں اور ہڈیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ زیادہ مقدار میں فلورائیڈ تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔

لیموں کے حیرت انگیز فوائد

کیا آپ کو معلوم ہے کہ لیموں کھانے یا پینے سے ہٹ کر بھی یہ کیا کرشمے دکھا سکتا ہے؟آیئے ہم آپ کو بتاتے ہیں اس ترش پھل کے چند ایسے ہی حیرت انگیز فوائد جانے جو آپ کو دنگ کر کے رکھ دیں گے۔فریج میں بس جانے والی بو کو ختم کرنے کے لیے لیموں کا عرق سے کسی روئی یا اسفنج کو بھگوئیں اور اسے کچھ گھنٹوں کے لیے فریج کے اندر چھوڑ دیں۔ اس دوران یہ بات یقینی بنائیں کہ کوئی بو پیدا کرنے والی چیز فریج میں نہ ہو۔اپنی بدنما پتیلیوں اور برتنوں کو اندر اور باہر سے چمکانا چاہتے ہیں؟ تو لیموں کو آدھا کاٹ کر اسے برتن پر ہر جگہ رگڑیں اور پھر کسی نرم کپڑے سے پونچھ دیں۔ ۳۔آپ اپنے کچن سے کیڑے مکوڑووں کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ جی ہاں اس کیلئے آپ سب سے پہلے تو لیموں کا عرق کچھ مقدار میں فرش پر دہلیز کے مقام پر اور کھڑکیوں پر چھڑک دیں، اس کے بعد ایسے کسی سوراخ یا دراڑ میں اس عرق کو ڈالیں جہاں سے چیونٹیاں آتی ہوں۔ آخر میں لیموں کے چھلکے کے چھوٹے ٹکڑے کرکے بیرونی دروازے کے گرد رکھ دیں، چیونٹیاں دور ہوجائیں گی۔ چار لیموں کا عرق چھلکوں سمیت 2 لیٹر پانی میں مکس کریں اور پھر فرش کو اس سے دھولیں اور پھر آپ خود لال بیگوں کووہاں سے بھاگتے ہوئے دیکھیں گے کیونکہ انہیں اس کی خوشبو سے نفرت ہے۔مائیکرو ویو کے اندر اکثر چکنائی اور دیگر چیزیں جم جاتی ہیں ۔ اب آپ تین چائے کے چمچ لیموں کے عرق کو ڈیڑھ کپ پانی میں مکس کرکے کسی مائیکرو ویو میں رکھے جانے والے ڈونگے میں رکھ دیں۔ اس کے بعد مائیکرو ویو کو 5 سے 10 منٹ تک چلائیں جس سے پیدا ہونے والا دھواں اندرونی دیواروں اور چھت میں جذب ہوجائے گا جس کے بعد جم جانے والی چکنائی نرم ہوجائیگی جسے آرام سے صاف کرلیں۔< ۔ چہرے یا جسم پر چھائیاں پڑجانے پر لیموں کے عرق کو براہ راست متاثرہ حصے پر لگا کر 15 منٹ تک لگا رہنے دیں اور پھر دھولیں۔ جلد صاف ہو جائے گی. اگر سر میں کھجلی اور خشکی نے آپ کو تنگ کررکھا ہے تو اس سے ریلیف کے لیے دو چائے کے چمچ لیموں کے عرق کی مالش اپنے سر پر کریں اور پھر پانی سے دھولیں۔ اس کے بعد ایک چائے کا چمچ لیموں کا عرق ایک کپ پانی میں ملائیں اور اس سے اپنے بال دھولیں۔ اس عمل کو روزانہ اس وقت تک دہرائیں جب تک خشکی غائب نہ ہوجائے۔چھوٹی خراشیں آجانے پر ان پر کچھ قطرے لیموں کا عرق ڈالیں یا روئی کو عرق میں بھگو کر متاثرہ جگہ پر ایک منٹ تک کے لیے دبا کر رکھیں۔گرم پانی میں لیموں کا عرق شامل کریں اور اس میں اپنے سفید کپڑے بھگو دیں، کچھ دیر بعد انہیں معمول کی طرح نچوڑ کر دھولیں۔ اس کے علاوہ آپ واشنگ مشین میں بھی بلیچ کی جگہ آدھا کپ لیموں کا جوس ڈال کر بھی بہترین نتیجہ حاصل کرسکتے ہیں۔اپنے سفید کپڑوں کو زیادہ سفید کرنا چاہتے ہیں تو لیموں کا عرق کپڑے دھونے والے پانی میں ملادیں، آپ کے کپڑے زیادہ جگمگانے لگیں گے جبکہ ان میں لیموں کی خوشبو میں بس جائے گی. سنگ مرمرکے فرش پر سے زنگ کے دھبوں کو ہٹانے کے لیے کھانے کا سوڈا داغ پر چھڑکیں اور اس پر کچھ لیموں کا عرق ڈال دیں، اس جگہ کو رگڑیں، ضرورت پڑنے پر پھر سوڈا اور لیموں کا عرق ڈالیں، اس کے بعد صاف گیلے کپڑے سے اس جگہ کو صاف کردیں، آپ کا فرش جگمگانے لگے گا۔ لیموں سے عرق نکال کر اسے زیتون کے تیل میں شامل کریں ہلانے کے بعد اس محلول کو کپڑے پر ڈال کر اپنے فرنیچر کو پالش کریں، آپ کرسیوں اور میزوں کی چمک کو دیکھ کر حیران رہ جائیں گے. پانی کے نتیجے میں نلکوں اور شاور وغیرہ پر نظر نہ آنے والے دھبے پڑ جاتے ہیں اور بتدریج جم کر موٹے ہوتے چلے جاتے ہیں، جس کی صفائی کے لیے ایک لیموں کو کاٹ کر اسے اپنے نلکے یا شاور پر رگڑے، اس عمل کے بعد چمکنے لگیں گے اور بالکل نئے جیسے ہوجائیں گے.

پالاک کے استعمال کے انتہائی مفید فوائد

طبی ماہرین نے کہا ہے کہ پالک ایک ایسی سبزی ہے جس میں بے شمار قدرتی غذائی اجزا ءپائے جاتے ہیں۔ پالک میں وٹامن کے، وٹامن اے ، میگنشیم،آئرن ، کیلشیم ، پوٹاشیم، وٹامن سی، وٹامن بی2، اور وٹامن بی سمیت پروٹین ، فاسفورس ، وٹامن ای، جست اور تانبا ودیگر وٹامنز وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ حکیم منیر احمد امر تسری نے کہا کہ پالک ہر موسم میں موجود ہوتی ہے اسے سلاد میں اور پکا کر کھایا جا سکتا ہے۔ پالک سے قبض نہیں ہوتی یہ خون میں شوگر کو اعتدال میں رکھتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پالک کا استعمال ہڈیوں اور بلڈ پریشر کے امراض میں بھی فائدہ مند ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالک کا استعما ل نظر اور جلد کے امراض پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ پالک کا استعمال جلد کوتندرست رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالک میں ”وٹامن کے” کثیر تعداد میں موجود ہوتا ہے اس لئے یہ دماغ اور اعصابی نظام کو بہتر بنانے کیلئے بھی مفید ہے۔ پالک گرم اور سرد مزاج دونوں افراد کیلئے یکساں مفید ہے علاوہ ازیں معدے کی سوزش ، پیشاب کی جلن، نزلہ، سینہ، پھیپھڑوں کے درد اور بخار میں بھی پالک کھانا صحت بخش ہے اور یہ خون کو صاف کرتی ہے۔

دہی کا استعمال,بلڈ پریشر سے نجات

 بیشتر افراد صبح ناشتے میں دہی کا استعمال بڑے شوق سے کرتے ہیں ۔ قدرت نے اپنی پیدا کردہ غذاﺅں میں بہت سے جادوئی اثرات پوشیدہ کر رکھے ہیں جن کا استعمال انسانی صحت پر بہت سے مثبت اثرات مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف بیماریوں سے بچاﺅ کا باعث بھی بنتا ہے۔دودھ سے تیار کیا جانے والا دہی بھی قدرت کی ان نعمتوں میں سے ایک ہے ۔حال ہی میں امریکہ کی بوسٹن یونیورسٹی سکول آف میڈیسن میں کی جانے والی ایک تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ دہی کا استعمال بلڈ پریشر کے مریضوں کیلئے بہترین ہے۔ محققین کا کہناہے کہ دہی کے استعمال کے اثرات بلڈ پریشر کے مریضوں پر ادویات کے استعمال سے بھی ذیادہ بہتر سامنے آئے ہیں ۔ دی مرر کے مطابق مذکورہ تحقیق ڈاکٹر جسٹن بینڈیا کی زیر نگرانی مکمل کی گئی اور اس میں تقریباً اڑھائی لاکھ نرسوں اور تقریباً 51 ہزار عام مردوں کی صحت پر دہی کے اثرات کا مطالعہ کیا گیا۔ اس جامع تحقیق میں ثابت ہوا کہ دہی ہائی بلڈ پریشر کے مرض پر فوراً قابو پاتا ہے، جبکہ دہی استعمال کرنے والے صحت مند افراد بلڈ پریشر کے خدشات سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ جو افراد ہفتے میں پانچ دفعہ دہی کھاتے ہیں ان میں ہائی بلڈ پریشر کی شرح مہینے میں ایک بار دہی کھانے والوں کی نسبت پانچ گنا کم پائی گئی ہے۔ جو لوگ پھلوں اور سبزیوں جیسی غذاﺅں کا زیادہ استعمال کرتے ہیں ان کے لئے دہی اور بھی مفید ثابت ہوتا ہے اور ہائی بلڈ پریشر کے علاوہ دیگر کئی بیماریوں سے بھی نجات دلاتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بلڈ پریشر کے لئے دہی کے جادوئی اثرات کو سمجھنے کے لئے مزید تحقیقات جاری ہیں، البتہ یہ بات واضح ہے کہ دہی کولیسٹرول میں کمی لاتا ہے اور بالواسطہ طور پر ہائی بلڈ پریشر کا خاتمہ کرتا ہے۔ کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کی بیماری سے نجات کا ایک اہم فائدہ دل کی بیماری سے محفوظ رہنے کی صورت میں بھی حاصل ہوتا ہے۔

پرسکون نیند کا حصول ممکن،پودوں کا استعمال

 عام طور پر نیند کی کمی کا شکار افراد سکون آور ادویات کا استعمال کرتے ہیں ۔تاہم حال ہی میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق کچھ پودے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی سونے کے کمرے میں موجودگی سے پرسکون نیند کا حصول ممکن ہوسکتا ہے ۔آج ہم آپکے ساتھ پرسکون نیند لانے والے 5پودوں کے خواص کے متعلق معلومات شیئر کریں گے ۔ پہلا پودا، چمیلی یا جیسمین:اس پودے پر لگنے والے پھولوں کی خوشبوبے حد مسحورکن ہوتی ہے جس کی وجہ سے دماغ اور جسم کو سکون ملتا ہے۔اس کی وجہ سے نہ صرف آپ پرسکون نیند پاسکیں گے بلکہ آپ کا ذہنی تناﺅاور بے چینی بھی کم ہوگی۔دوسرا پودا،نیاز بو یا لیونڈر:عام طور پر نیاز بو یا لیونڈر کے پودے کو گھروں میں خوشبو کے لئے اگایا جاتاہے اور اس کا آئل بھی ہمارے جسم کے لئے بہت مفید ہے جس کی وجہ اس میں موجود ایسے اجزاءہیں جو جسم کو تقویت دیتے ہیں۔اس کی خوشبو کی وجہ سے ہمارے جسم اور دماغ کو بہت سکون ملتا ہے جس کی وجہ سے رات کو سوتے میں اچھی نیند آتی ہے۔تیسراپودا،سنیک پلانٹ یا سانپ بوٹی:دیکھنے میں اس کے پتے سانپ کی طرح کے ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ ہمارے گھر کی فضاکو آلودگی سے پاک کرتا ہے۔اس کے ہرے اور پیلے پتے دیکھنے میں بہت خوبصورت لگتے ہیں اور اس کی ایک خاص بات اسے زندہ رکھنے کے لئے بہت زیادہ کوشش بھی نہیں کرنی پڑتی یہ صرف پانی دینے سے یہ خود بخود ٹھیک رہتا ہے۔دوسرے پودوں کے برعکس یہ پودا رات میں آکسیجن خارج کرتا ہے جس کی وجہ سے آپ کے کمرے میں آکسیجن کا لیول برقرار رہتا ہے اور پرسکون نیند بھی آتی ہے۔چوتھا پودا،انگلش آئی وی پلانٹ: یہ ایک ایسی بیل ہے جس کے پتے ہروقت سرسبز رہتے ہیں جس کی وجہ سے جہاں بھی اسے رکھا جاتا وہاں کی آب وہوا تازہ اور آلودگی سے پاک رہتی ہے۔اسے اگانا بھی آسان ہے اور اس کی دیکھ بھال بھی زیادہ مشکل نہیں ہے۔اسے کمرے میں رکھنے سے آکسیجن کا لیول برقرار رہنے کے ساتھ ہوا بھی صاف رہتی ہے جس کی وجہ سے رات کو پرسکون نیند آتی ہے۔اگرآپ کے گھر میں بچے ہیں تو پھر یہ پودا استعمال نہ کریں کیونکہ اگر انسان اسے کھا لے تو یہ اس کے لئے زہر کا کام کرتا ہے۔پانچواں پودا،کوار گندل یا ایلوویرا:یہ پودا جہاں ہماری جلد کے لئے بہت مفید ہے وہیں اس کی وجہ سے رات کے وقت بھی کمرے میں آکسیجن مہیا ہوتی رہتی ہے اور آپ پرسکون نیند حاصل کرسکتے ہیں۔

ایک منٹ کی سخت ورزش سے طبی فوائد حاصل ہوتے ہیں, مزید جانیئے

ماسٹر یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق روزانہ ایک منٹ کی سخت ورزش سے بھی اتنے ہی طبی فوائد حاصل ہوتے ہیں جو زیادہ دورانیے تک کرنے کے نتیجے میں حاصل ہوتے ہیں۔محققین کے مطابق یہ ورزش کے حوالے سے ایک موثر حکمت عملی ہے، مختصر مگر سخت ورزش انتہائی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔محققین نے اس حوالے سے رضاکاروں پر تجربات کیے اور انہیں مختلف ورزشیں کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ان کی جسمانی فٹنس اور انسولین کی حساسیت جیسے طبی اشاریوں کو جانچا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے ایک منٹ تک ورزش کی ان کی صحت میں کچھ عرصے بعد اتنی ہی بہتری آئی جتنی عام طور پر زیادہ دیر تک ورک آﺅٹ کرنے والوں میں آتی ہے۔محققین کے مطابق بیشتر افراد وقت نہ ہونے کو جسمانی ورزش سے دوری کا جواز بناتے ہیں مگر ہماری تحقیق کے نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کم وقت میں بھی صحت اور فٹنس فوائد حاصل کرسکتے ہیں.

خوبصورتی کو نکھارنے کے لئے بیسن کا استعمال انتہای مفید

بیسن کا نام سنتے ہی ہمارے تصور وذہن میں چٹ پٹے کرارے آلو پیاز کے پکوڑے اور دہی بیسن کے ملاپ سے تیار کی گئی گھٹی مصالحہ دار کڑھی کا ذائقہ منہ میں پانی بھر دیتا ہے۔ یہ غذائی جز بیسن نہ صرف آپ کے زبان کے چٹخار ے کو مزیدار پکوڑوں ،بیسن کے لڈو، بیسن کے حلوے اور دسری انواح اقسام کی لذیذ ڈشز سے تقویت بخشتا ہے۔ بلکہ یہ آپ کی جلد کے تمام مسائل وپریشانی کو دور کرنے کی خصوصیات بھی رکھتا ہے۔بیسن (چنے کا آٹا) قدیم زمانے سے حسن و خوبصورتی کی حفاظت کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ بیسن خاص طور پر جلد کو گہرائی تک صاف کرنے اور ایکسفولیٹر کا کام کرتا ہے۔ بلکہ حقیقتاََ قدیم سنگھاری ٹریٹمنٹ میں بیسن سب سے اہم جزتصور کیا جاتا تھا۔ خاص طور پر دلہنوں کے جسم پر ان کی دلکشی وجاذبیت کو ابھارنے کے لئے بیسن سے ہی اسکرب کیا جاتا تھا۔ دلہنوں کا اسکرب بیسن، چاول کے آٹے، پسے ہوئے بادام ، دہی اور ہلدی کے اجزاء پر مشتمل ہوتا تھا۔ اس لئے پرانے وقتوں کی دلہنوں کے سراپے میں مصنوعی لیپاپوتی کے بغیر ہی قدرتی چمک دمک قابل دید ہواکرتی تھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پہلے زمانے میں اتنے جلدی امراض ومسائل بھی جنم نہیں لیتے تھے البتہ حالیہ دورمیں دورسرا شخص کسی نہ کسی چھوٹی موٹی جلدی بیماری میں مبتلا ضرور نظر آتا ہے۔ قدرتی اجزاء کے استعمال سے ان مسائل پر قابو اور چھٹکارا پایا جا سکتا ہے ۔بیسن بھی انہی میں سے ایک قدرت کا انمول تحفہ ہے۔ سونے کی مانند چمکتا سنہرا بیسن آپ کی جلد کو چاندی کیسی دودھیار عنایت بخشنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتاہے۔بیسن پمپلز کے علاج کے لئے نہایت موزوں سمجھا جاتا ہے جلدکی گہری رنگت کا ہلکا کرنے اور جلد پر ماحولیاتی آلودگی کے باعث مٹی گرد، ٹریفک کا دھواں اور جمے ہوئے میل کچیل کو جلد سے صاف کرنے کی تمام خصوصیات اس میں موجود ہیں۔ بیسن جلد کی تمام اقسام کے لئے نہایت مناسب ترین قدرتی سنگھاری جز ہے جو اس کا سب سے اہم واعلیٰ پہلوہے۔ لیکن بیسن کو اپنی جلد پر استعمال کرنے سے پہلے اس بات کی مکمل یقین دہانی کر لیں کہ بیسن باسی یا پرانا نہ ہو، ہمیشہ تازہ باریک پسا ہوا بیسن استعمال کریں۔ ورنہ آپ کی جلد پر خراشیں ڈال کر آپ کو مزید الجھن و پریشانی میں مبتلا کر سکتا ہے۔ تو پھر بیوٹی سلون اور پارلر کو بائے بائے کہہ دیں۔ خوبصورت چمکتی دمکتی جلد حاصل کرنے کے لئے گھر پر بیسن سے اپنے لئے فیس پیک تیار کریں۔ذیل میں آپ کو جلد کی تمام اقسام کے لئے بیسن استعمال کرنے کے طریقے اور فوائد بتائے گئے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر آپ نہایت سستی اور مضراثرات سے پاک قدرتی مصنوعات کو باقاعدگی سے استعمال کرکے اپنی جلد کی صحت اور حسن و دلکشی میں اضافہ پیدا کر سکتی ہیں تو آئیے خوبصورت شخصیت کے مالک بننے کے لئے تیار ہو جائیں۔۔ خشک جلد کے لئے: بیسن صرف چکنی جلد کی حفاظت کے لئے ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ حیرت انگیز طور پر خشک جلد کے لئے بھی نہایت بہترین وکار گر ثابت ہوتا ہے بیسن مختلف اقسام کی جلد پر مختلف طریقہ کار کو عمل میں لا کر استعمال میں لایا جاتا ہے۔ عموماََ بیشتر لوگوں کا نظریہ یہی ہے کہ بیسن جلد کی اضافی چکنائی کو جذب کرنے کیلئے استعمال ہوتا ہے ۔ یہ بالکل صحیح ہے لیکن خشک جلد کی حامل خواتین بیسن سے بھر پور استفادہ کر سکتی ہے اس کے لئے آپ کو ذیل میں بتائی جانے والی ٹپس پر عمل کرنا ہوگا ۔ ایک پیالی میں 2 کھانے کے چمچے بیسن لیں اور اس میں دودھ یا بالائی ، شہد اور 1 چٹکی ہلدی پاوٴڈر شامل کر کے بہترین سا پیسٹ بنالیں۔ اب اس فیس پیک کو پورے چہرے پرلگا کر 15 منٹ کے لئے چھوڑ دیں۔ جب پیک خشک ہو جائے تو پانی سے دھو کر صاف کر لیں۔ یہ فیس پیک خشک جلد کی حامل خواتین کے لئے نہایت آئیڈیل ثابت ہوتا ہے۔ یہ جلد سے میل کچیل کو صاف کرنے اور جلد کی نمی کو بر قرار رکھنے میں کافی مدد فراہم کرتا ہے۔ خشک جلد کی حامل خواتین اس فیس کو مہینے میں دوبار ضرور آزما کر دیکھیں آپ اپنی جلد میں خوشگوار تبدیل وفرق محسوس کر یں گی۔ ۔ چکنی جلد کے لئے: چکنی جلد کے لئے بیسن کا پیک نہایت پر اثر ثابت ہوتا ہے۔ جو گلینڈز اضافی آئل پیدا کرتے ہیں انکو جذب کرنے کی خصوصیت رکھتا ہے علاوہ ازیں جلد کو نرم وملائم اور چمکدار بنانے میں بھی معاونت کرتا ہے۔ کسی کیمیائی اجزا سے بھر پور فیس واش یا صابن بار کو استعمال کرنے کے بجائے اگر دن میں دوبار بیسن میں چند قطرے لیموں کے شامل کر کے اس سے منہ دھویا جائے تو چہرہ نکھرا نکھرا نظر آئے گا اور چہرے پر نمایاں ہونے والا آئل بھی کافی حد تک کم ہوجائے گا۔ چکنی جلد کی مالک خواتین کے لئے نہایت آسان فیس پیک بنانے کا طریقہ کار یہ ہے کہ بیسن میں تھوڑے سے قطرے عرق گلاب کے شامل کرکے اس پیک کو چہرے اور گردن پر لگائیں۔ جب پیک خشک ہوجائے تو نیم گرم پانی سے چہرے کو اچھی طرح دھولیں اور تمام بیسن صاف کر دیں۔ آپ اس پیک میں دودھ یا دہی بھی شامل کر کے چہرے پر لگا کر اس کو خوبصورتی کی ابھار سکتی ہیں۔ چکنی جلد کی حامل خواتین اس فیس پیک کو ہفتے میں دوبا استعمال کر سکتی ہیں۔ کیل مہاسے اور دانوں کے لئے: دانے اور پھوڑے پھنسیاں جلد کی سطح پر گہرے بدنما داغ دھبے چھوڑ جاتے ہیں۔ ایکنی وپیمپلز کی شکار جلد انتہائی حساس ہو جاتی ہے۔ اور اس کو خصوصی دیکھ بھال اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔تو ایکنی اپیمپلز زدہ جلد کے مسائل سے نمٹنے کے لئے بیسن سے تیار شدہ فیس پیک چہرے پر لگائیں۔ بیسن میں شہد کو اچھی طرح مکس کر کے پیسٹ بنالیں اور پورے چہرے پر اپلائی کر لیں۔ فیس پیک خشک ہونے کے بعد پانی سے نہایت نرمی وملائمت کے ساتھ صاف کر لیں۔ آپ اس فیس پیک کو روزانہ کی بنیاد پر لگانے کے عمل کو یقینی بنالیں۔ شہد میں جراثیم سے لڑنے کی قابلیت وصلاحیت موجود ہوتی ہیں جس کی بدولت شہد جلد سے ایکنی و پیمپلز کو کم کرنے اور اسکی روک تھام کرنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے ۔ دوسری صورت میں آپ اس میں صندل پاوٴڈر، ہلدی پاوٴڈر اور عرق گلاب کو مکس کرکے دوسرا پیک تیار کر سکتی ہیں۔ ان تمام پیک کے استعمال سے آپ ایکنی وپیمپلز سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں ۔ جلد پر داغ دھبوں کیلئے: داغ دھبے اور نشانات جلد کی ساخت کو ناہموار اور کھر درا بنا دیتے ہیں۔ جبکہ کھلے ہوئے مساموں میں گردوغبار اور گندگی داخل ہوکر پیمپلز کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔چنانچہ بے داغ وشگفتہ جلد پانے کیلئے پمپلز کا علاج کرنا نہایت اہمیت رکھتا ہے ۔ ایکنی وپمیپلز کے داغ دھبوں کوختم کرنے کے لئے بیسن میں کھیرے کا رس شامل کر کے پیسٹ تیار کر لیں اور اس فیس پیک کو پورے چہرے پر اپلائی کر لیں۔ خشک ہو جائے تو نیم گرم پانی سے دھولیں۔ اس پیک کو روزانہ باقاعدگی سے دن میں ایک بار ضرور لگائیں۔یہ چہرے سے بدنما داغ دھبوں کے مٹانے میں معاونت کرے گا اور آپ کی جلد کو جاذب نظر اور تابندہ بنانے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔ یہ چہرے کی جلد کوتنا ہوا اور جست کرنے میں بھی کافی مدد کرے گا۔ اور آپ کی جلد کو چمکتا دمکتا اور شفاف تاثر فراہم کرے گا۔ جھلسی ہوئی جلد کیلئے: صرف یہ ایک پیک تمام اقسام کی جلد کے لئے استعمال ہو سکتا ہے۔ بیسن ،لیموں کا رس اور ہلدی کو خوب یکجان کر کے بلینڈ کر لیں اورعرق گلاب شامل کر کے پیسٹ تیار کر لیں۔ چہرے پر پیک اپلائی کریں اور خشک ہونے کے بعد پانی سے دھولیں۔اس پیک کا روزانہ اک استعمال نہ صرف آپ کی رنگت کو نکھارنے میں مدد کرے گا بلکہ یہ آپ کی جلد کو دلکش وحسین لک عطا کرے گا۔ دھوپ میں جھلسی ہوئی سوختہ جلد اس پیک کے استعمال سے اپنی درست حالت میں واپس لوٹ کر آسکتی ہے اور جلد کی رعنایت بحال ہو سکتی ہے۔ بیسن کو کھانے کے علاوہ اگر اس کو درست ومتوازن طریقہ سے جلد کی حفاظت کے لئے باقاعدگی سے استعمال کیاجائے تویہ آپ کی جلد کی صحت وتندرستی اور خوبصورتی کا ضامن ثابت ہوسکتا ہے۔ صنف نازک ہونے کی حیثیت سے اپنی جلد کا بھر پور طریقے سے تمام سنگھاری نسخوں پر عمل کر کے دھیان رکھیے اور خوش رہنے اور دوسروں کو بھی خوش رکھنے کی کوشش کیجیے.

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو سکون کی نیند آہے تو آپ یہ کھانے کھاہیں

یہ ہماری غذا ہی ہے جو ہمیں صحت کی دولت بخشتی ہے یا بیماری سے ہمکنارکرتی ہے، ہمیں پرسکون رکھتی ہے یا بے سکونی میں مبتلا کرتی ہے۔اگر ہماری خوراک بہتر اور متوازن نہ ہو تو جہاں جسم میں اور بگاڑ پیدا ہوتے ہیں وہیں انسان بے خوابی کا شکار بھی ہو جاتا ہے۔ آج ہم آپ کو کچھ صحت مند غذاوں کے بارے میں بتائیں گے جنہیں کھانے سے آپ انرجی حاصل کرنے کیساتھ ساتھ اپنی نیند کوبھی پرسکون بنا سکتے ہیں۔مچھلی کے گوشت میں موجود توانائی سے کون واقف نہیں، لیکن اس کا ایک فائدہ ایسا بھی ہے جو بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ مچھلی میں وٹامن B6 بکثرت پایا جاتا ہے جوجسم میں میلیٹونن (Melatonin) اور سیروٹونن (Serotonin)نامی ہارمونز پیدا ہونے کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے اور یہ ہارمونز انسان کی نیند کو کنٹرول کرتے ہیں اور اسے خوشگوار اور پرسکون بناتے ہیں۔اگر آپ نیند کی بے سکونی یا بے خوابی کا شکار ہیں تو اپنی خوراک میں شہد کو شامل کر لیں۔شہد میں قدرتی مٹھاس اور گلوکوز کی مناسب مقدار موجود ہوتی ہے جو جگر کو صحت مند رکھنے کے لیے انتہائی مفید ہے۔ اور چونکہ جگر نیند کے دوران مستقل طور پر کام کرتا رہتا ہے اس لیے شہد بالواسطہ طور پر نیند پر اثرانداز ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ شہد میں موجود گلوکوز دماغ میں کیمیکل اوریکسن(Orexin)کی پیداوار کو بھی کم کرتی ہے، یہ کیمیکل دماغ کو چوکنا رکھتا ہے۔ لہٰذا شہد میں موجود یہ دونوں اجزاءآپ کی نیند کو بہتر بنا سکتے ہیں۔اوپر ہم نے میلیٹونن(Melatonin)نامی ہارمون کا ذکر کیا جو نیندکو کنٹرول کرتا ہے۔ معروف پھل ”چیری“ بھی یہ ہارمون مناسب مقدار میں حاصل کرنے کااہم ذریعہ قدرتی ذریعہ ہے۔ چیری کو اپنی غذا میں شامل کرنے سے بھی آپ کی نین پر سکون ہو جائے گی۔طویل دن کے بعد اپنے آپ کو پرسکون بنانے کے لیے بابونہ(Chamomile)کی چائے بہترین چیز ہے۔ اس سے آپ کو جلد اور پر سکون نیند آئے گی۔بابونہ میں تھینائن(Theanine)وافر مقدار میں پایا جاتا ہے جو انسانی جسم کو پرسکون بناتا ہے اور اسے نیند کی ترغیب دیتا ہے۔اپنی غذا میں کیلے کا استعمال کرنے سے آپ کی نیند کسی بچے کی طرح پر سکون ہو جائے گی۔ کیلے میں میگنیشیم، پوٹاشیم اور کیلیشیم پائے جاتے ہیں۔ یہ تینوں اجزاء ہمارے مسلز کو پرسکون کرتے ہیں اور راحت بخش نیند دلانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔سونے سے قبل اناج(گندم، چاول، دالیں وغیرہ) کی بجائے پھل اور ان سے بنی اشیائے خورونوش تناول فرمائیں۔ پھلوں میں پروٹین اور کاربوہائیڈریٹس مناسب مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ ان دونوں اجزاءمیں امائنو ایسڈ کی ایک قسم ٹرائیپٹوفن(Tryptophan)پایا جاتا ہے جو نیند کا ایک قدرتی محرک ہے۔اخروٹ اور بادام میں پروٹینز بکثرت پائے جاتے ہیں اور ان پروٹینز میںمذکورہ بالااجزائ تھینائن (Theanine)اورسیروٹونن(Serotonin)وافر پائے جاتے ہیں جو پرسکون نیند کے لیے بہت مفید ہوتے ہیں۔

Google Analytics Alternative