صحت

موٹاپے کے شکار افراد کیلئے خوشخبری، روزانہ 40بادام کھانے سے کتناوزن کم ہوگ,جانئے

اسلام آبا د(مانیٹرنگ ڈیسک )موٹاپے کا شکار افراد پریشان نہ ہوں انکے لئے تحقیقات کے بعد ایسی خوارک تجویز کی گئی ہے جس سے ان کاموٹاپہ ختم ہوجائے گا۔امریکی یونیورسٹی نے اپنی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ اگر آپ جسمانی وزن یا موٹاپے کی روک تھام کے لیے ڈائیٹنگ کو اپنانے کا سوچ رہے ہیں تو اس کی جگہ ایک مزیدار چیز کو روزانہ کھانا اپنی عادت بناکر بھی مقصد کو حاصل کرسکتے ہیں۔ فلوریڈا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ روزانہ کچھ مقدار میں بادام کو کھانے سے جسمانی وزن میں کمی لائی جاسکتی ہے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ روزانہ محض 40 گرام بادام کھانے سے کسی فرد کے غذائی معیار کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔محققین نے کہا کہ والدین اور بچوں کو نمکین اور پراسیس غذاؤں کو باداموں سے تبدیل کردینا چاہئے جو کہ جسم میں کیلوریز کی مقدار کم کرنے کے ساتھ پروٹین فراہم کرتا ہے۔تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ غذا میں بادام کا اضافہ کرکے مجموعی صحت کو باآسانی بہتر بنایا جاسکتا ہے۔محققین کے مطابق بادام کھانے کو عادت بنالینے سے نہ صرف موٹاپے کی روک تھام ممکن بنائی جاسکتی ہے بلکہ بچوں کو اس کی عادت ڈالنا انہیں بعد کی عمر میں صحت کے لیے نقصان دہ غذاؤں کی جانب جانے نہیں دیتی۔یہ تحقیق طبی جریدوں میں بھی شائع ہو چکی ہے۔

چاندنی راتیں نیند میں کمی کا سبب بنتی ہیں

کیا آپ نیند کے مسائل کا شکار رہتے ہیں؟ ماہرین کے مطابق اگر آپ نیند کی کمی کا شکار ہیں یا بے سکون نیند سوتے ہیں تو اس کی وجہ کمرے میں نامناسب روشنی اور درجہ حرارت، شور، جانوروں کی موجودگی یا غیر موجودگی اور سونے سے پہلے آپ کی مصروفیات ہیں۔

لیکن ایک وجہ اور ہے جو بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ وہ ہے پورے چاند کی روشنی.

ماہرین کے مطابق پورے چاند کی راتوں میں اکثر افراد کو نیند کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے لیے ماہرین نے 30 افراد سے ایک اندھیرے کمرے میں رات گزارنے کو کہا۔ تجربہ میں شامل افراد کو علم نہیں تھا کہ انہیں کس مقصد کے لیے تجربہ میں شامل کیا گیا۔ سونے سے قبل ان کے کمروں میں مکمل اندھیرا کردیا گیا۔ ماہرین نے اس بات کا بھی خیال رکھا کہ ان کی  روزمرہ کی عادات میں کوئی تبدیلی نہ لائی جائے۔

ماہرین نے دیکھا کہ پورے چاند کی رات نے ان افراد کے سونے پر منفی اثرات مرتب کیے۔ یہ لوگ اپنے معمول کے وقت سے 20 منٹ کم سوئے جبکہ انہیں سونے میں بھی وقت لگا۔

ماہرین کے مطابق مجموعی طور پر پورے چاند کی راتیں سونے کی شرح میں 30 فیصد کمی کرتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ وہ کیا وجہ ہے جس کے باعث چاند کی روشنی زمینی چیزوں پر اثر انداز ہوتی ہے.

ہم دیکھتے ہیں چاند کی روشنی کا مختلف چیزوں سے پرانا تعلق ہے۔ پورا چاند کئی جانوروں میں غیر معمولی حرکات کا سبب بنتا ہے۔ یہ سمندر کی لہروں میں شدت پیدا کرتا ہے۔

ایک تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ وہ آوارہ کتے اور بلیاں جو راتوں کو آوارہ گردی کرتے ہیں چاند کی راتوں میں مختلف حادثات کا شکار ہوکر زخمی ہوجاتے ہیں۔

نیند لانے کے 5 آزمودہ طریقے:

بعض ماہرین کے مطابق چاند کی گردش کا تعلق خواتین سے بھی ہوتا ہے اور چاند کے ارتقائی مراحل کے ساتھ ان کی کیفیات و نفسیات میں بھی تبدیلی پیدا ہوتی ہے تاہم سائنس ابھی تک اس کی وجہ تلاش کرنے سے قاصر ہے۔

چاند کی روشنی کے نیند پر منفی اثر کی وجہ ابتدا میں میلاٹونین کو سمجھا گیا۔ میلاٹونین ہمارے دماغ میں ایک ہارمون ہے جو اندھیرے میں متحرک ہوجاتا ہے اور نیند لانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے ہمارا اندرونی نظام قدرتی طور پر بیرونی عوامل کے ساتھ مطابقت کر لیتا ہو اور ہمیں اس کا علم نہ ہوتا ہو.

روزانہ استعمال کی ایسی چیز جو آپ کوموت کے قریب لے کر جا رہی ہے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)انسان پتھروں کے دور سے نکل کر ٹیکنالوجی کی دنیا میں قدم رکھ چکا ہے ۔ہر آنے والا نیا دن انسانوں کیلئے آسانیاں لاتا ہے ۔ پہلے وقتوں میں صحت کے متعلق ایسے ایسے جتن کئے جاتے تھے کہ رہے نام اللہ کا ۔ کبھی انڈے توڑ کر پئے جارہے ہیں تو کبھی کشتے بناکر کھائے اور کھلائے جا رہے ہیں ۔ آج کے دور میں ایسا نہیں ہوتا ۔ بناوٹی چیزیں ، بناوٹی مکھن وغیرہ وغیرہ۔ خیر تو جناب ماہرین کی تازہ ترین تحقیق کے مطابق مکھن، گوشت یا کریم میں پائے جانے والا سچورٹیڈ فیٹ آپ کی ہلاکت کی وجہ نہیں بن سکتا مگر مارجرین سے ایسا ضرور ہوسکتا ہے۔ یہ دعویٰ کینیڈا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ اگرچہ عام طور پر ماہرین غذائیت لوگوں کو حیوانی چربی سے گریز کا مشورہ دیتے ہیں مگر اب تک کی سب سے بڑی اس کینیڈین تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ان سے فالج، امراض قلب یا ذیابیطس کا خطرہ نہیں بڑھتا۔میک ماسٹر یونیورسٹی کی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ٹرانس فیٹس جو پراسیس فوڈ جیسے مارجرین میں موجود ہوتے ہیں، موت کا خطرہ 34 فیصد تک بڑھا دیتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق برسوں سے ہر ایک کو مشورہ دیا جارہا ہے کہ چربی کا استعمال کم کردیں تاہم درحقیقت ٹرانس فیٹس میں کسی قسم کے طبی فوائد نہیں اور یہ امراض قلب کا خطرہ نمایاں کرسکتے ہیں جبکہ سچورٹیڈ فیٹس میں یہ بات واضح نہیں۔ تاہم محققین کا کہنا تھا کہ ان نتائج کا مطلب یہ نہیں کہ لوگ سچورٹیڈ فیٹس کا استعمال بہت زیادہ کرنے لگے کیونکہ ہمیں ان کی زیادہ مقدار کے استعمال کے بھی صحت کے لیے فوائد کے شواہد نہیں ملے۔سچورٹیڈ فیٹس عام طور پر حیوانی مصنوعات جیسے مکھن، گائے کے دودھ، گوشت، مچھلی اور انڈے کی زردی میں پائے جاتے ہیں جبکہ چاکلیٹ اور پام آئل میں بھی ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ٹرانس فیٹس عام طور پر صنعتی طور پر تیار کردہ نباتاتی آئل کے ذریعے حاصل ہوتے ہین جنھیں مارجرین اور بیکری مصنوعات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کینیڈین تحقیق میں 10 لاکھ سے زائد افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لینے کے بعد کہا گیا کہ سچورٹیڈ فیٹس کے صحت پر مضر اثرات کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ یہ تحقیق برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہوئی.

پیٹ کے درد کا ایسا آسان علاج کہ آپ کو ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت ہی نہیں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) یہ نظامِ قدرت ہے کہ جسم کا کوئی حصہ خراب ہو تو پورا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے ایک عجیب سی بے چینی سی رہتی ہے ۔پیٹ کا درد ایک ایسی بیماری ہے جو انسان کو لاحق ہو جائے تو شب و روز گزارنے بے حد مشکل ہو جاتے ہیں مگر اب پریشان ہونا چھوڑیں چونکہ ماہرین نے ایسا طریقہ علاج بتا دیا ہے جس کے ذریعے آپ اس بیماری سے نجات حاصل کر سکتے ہیں ۔
کیسٹر آئل
کیسٹر آئل کو گرم کرکے پیٹ پر اس کی مالش کریں، اس سے جسم کو اضافی چربی گھلانے اور پیٹ کو کم کرنے میں مدد ملے گی اور اس طرح پیٹ پھولنے اور گیس پیدا ہونے کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا۔
سبز چائے
چائے خاص طور پر سبز چائے نظام ہاضمہ کو صاف کرنے، میٹابولزم کو بہتر بنانے اور پیٹ پھولنے کو کم کرتی ہے، جبکہ سبز چائے ایک ایسا مشروب ہے جس کا زیادہ استعمال کسی قسم کے مضر اثرات کا باعث بھی نہیں بنتا۔
بہتر نیند
اگر تو آپ کم سونے کے عادی ہیں تو پیٹ پھولنا اور گیس پیدا ہونے کے لیے تیار رہنا چاہیئے، تاہم 7 سے 9 گھنٹے کی نیند سے آنتوں کا نظام بہتر اور قبض کا مسئلہ ختم ہوجاتا ہے، جس سے پیٹ پھولنے اور گیس کی شکایت بھی کم ہوجاتی ہے۔
چیونگم سے دوری
اگر تو آپ مسلسل چیونگم چبانے کے عادی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ٹافیاں چوسنے اور کولڈ ڈرنکس کو پسند کرتے ہیں تو پیٹ میں ہوا بھر جانا لازمی ہوجاتا ہے۔ یہ ہوا معدے میں پھنس جاتی ہے جس کے نتیجے میں پیٹ پھولتا ہے یا گیس کی شکایت ہوجاتی ہے، تو ان عادات سے دوری اس تکلیف سے بچا? کے لیے ضروری ہے۔
کم غذا کا استعمال
جب آپ زیادہ کھانا کھاتے ہیں تو اسے ہضم ہونے میں بھی وقت لگتا ہے، یہ ہضم نہ ہونے والا کھانا آنتوں میں گیس کا باعث بنتا ہے اور یہی مسئلہ آگے بڑھ کر آنتوں اور معدے کو پھلا دیتا ہے، لہذا کم مقدار میں کھانا بہترین حکمت عملی ہے۔
مخصوص غذاؤں کا کم استعمال
سفید ڈبل روٹی، سفید چاول، بسکٹ، کیک، ٹافیاں اور گوبھی وغیرہ پیٹ میں گیس پیدا کرتے ییں، لہذا ان کا استعمال کبھی کبھار کریں تاکہ اس تکلیف سے بچا جاسکے۔

ہلکی پھلکی چہل قدمی بلڈ شوگر کو معمول پر رکھنے میں مددگار،تحقیق

واشنگٹن : ایریزونا یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جو لوگ اپنے دن کا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں،اگر وہ ہلکی پھلکی چہل قدمی کو عادت بنالیں تو دن اور رات کو اپنے اوسط بلڈ شوگر کی بڑھتی ہوئی سطح کو کم کرسکتے ہیں.

تفصیلات کےمطابق ایریزونا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بلڈ گلوکوز کی سطح میں کمی لانے کے لیے اگر لوگ کچھ کرسکتے ہیں تو اس کے لیے سست رفتاری سے چہل قدمی کو عادت بنانا ہوگا.

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ دن بھر میں عام طور پر لوگ دفتری اوقات میں اپنا بہت زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں جو مختلف جسمانی امراض کا باعث بن سکتا ہے مگر اس سے بچنے کے لیے کچھ دیر کھڑے رہنا یا چہل قدمی مددگار ثابت ہوسکتی ہے.

اس تحقیق کے دوران محققین نے موٹاپے کا شکار 9 افراد کے بلڈ شوگر اور بلڈ پریشر کے لیول کو ایک ہفتہ تک جانچا اور پھر انہیں دن میں 10 سے 30 منٹ تک کے پانچ وقفوں کے ساتھ کھڑے رہنے کی ہدایت کی گئی.

امریکی ماہرین کی تحقیق کےنتائج سے معلوم ہوا کہ چہل قدمی یا کھڑے رہنے کے نتیجے میں ان افراد کا بلڈ شوگر لیول معمول کی سطح پر آنا شروع ہوگیا.

واضح رہےکہ محققین کے مطابق طرز زندگی میں اس معمولی سی تبدیلی سے 24 گھنٹے کے دوران بلڈ شوگر کی سطح میں 5 سے 12 فیصد تک کمی ہوتی ہے.

کانگو وائرس: علامات اور احتیاطی تدابیر

عید الاضحیٰ کی آمد قریب آتے ہی گانگو وائرس نے سر اٹھانا شروع کردیا ہے۔ اب تک کوئٹہ میں 2 افراد کانگو وائرس کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ رواں سال بلوچستان میں کانگو وائرس کے 56 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 13 مریض دم توڑ چکے ہیں۔

کانگو وائرس کوئی نئی بیماری نہیں۔ پاکستان میں سال 2002 میں کانگو وائرس سے ایک لیڈی ڈاکٹر اور 4 بچوں سمیت 7 افراد لقمہ اجل بنے۔ یہ دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی وبائی بیماری ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق کانگو نامی کیڑا بھیڑ، بکری، گائے، بھینس اور اونٹ کی جلد پر پایا جاتا ہے جو جانور کی کھال سے چپک کر خون چوستا رہتا ہے۔ یہ کیڑا اگر انسان کو کاٹ لے یا متاثرہ جانور ذبح کرتے ہوئے انسان کو کٹ لگ جائے تو اس بات کے امکانات کافی حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ یہ وائرس انسان میں منتقل ہوجائے۔

اس کیڑے کے کاٹنے کے بعد وائرس انسانی جسم میں داخل ہوکر تیزی سے سرایت کرجاتا ہے جس کے باعث متاثرہ شخص پھیپھڑے متاثر ہوجاتے ہیں۔ بعد ازاں جگر اور گردے بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور مریض موت کے منہ میں چلاجاتا ہے۔

کانگو وائرس کی علامات:

کانگو وائرس کا مریض تیز بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

اسے سر درد، متلی، قے، بھوک میں کمی، نقاہت، کمزوری اور غنودگی، منہ میں چھالے، اور آنکھوں میں سوجن ہوجاتی ہے۔

تیز بخار سے جسم میں سفید خلیوں کی تعداد انتہائی کم ہوجاتی ہے جس سے خون جمنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ متاثرہ شخص کے جسم کے مختلف حصوں سے خون نکلنے لگتا ہے، جگر اور گردے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور یوں مریض موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اگر اس مرض کا بروقت علاج کروا لیا جائے تو متاثرہ شخص صحت مند ہوسکتا ہے تاہم علاج کے لیے پابندی ضروری ہوگی۔

احتیاطی تدابیر:

کانگو سے بچاؤ اور اس پر قابو پانا تھوڑا مشکل ہے کیوں کہ جانوروں میں اس کی علامات بظاہر نظر نہیں آتیں تاہم ان میں چیچڑیوں کو ختم کرنے کے لیے کیمیائی دوا کا اسپرے کیا جائے۔

کانگو سے متاثرہ مریض سے ہاتھ نہ ملائیں۔

مریض کی دیکھ بھال کرتے وقت دستانے پہنیں۔

مریض کی عیادت کے بعد ہاتھ اچھی طرح دھوئیں۔

لمبی آستینوں والی قمیض پہنیں۔

مویشی منڈی میں بچوں کو نہ لے جایا جائے۔

مویشی منڈی میں جانوروں کے فضلہ سے اٹھنے والا تعفن بھی اس مرض میں مبتلا کر سکتا ہے لہٰذا اس سے دور رہیں۔

کپڑوں اور جلد پر چیچڑیوں سے بچاؤ کا لوشن لگائیں۔

جانوروں کی خریداری کے لیے فل آستین والے کپٹرے پہن کر جائیں کیونکہ بیمار جانوروں کی کھال اورمنہ سے مختلف اقسام کے حشرت الارض چپکے ہوئے ہوتے ہیں جو انسان کو کاٹنے سے مختلف امراض میں مبتلا کرسکتے ہیں۔

جانوروں کی نقل و حمل کے وقت دستانے اور دیگر حفاظتی لباس پہنیں۔ خصوصاً مذبح خانوں، قصائی اور گھر میں ذبیحہ کرنے والے افراد لازمی احتیاطی تدابیراختیار کریں۔

مذبح خانوں میں جانوروں کے طبی معائنہ کے لیے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم کا ہونا بہت ضروری ہے جو ایسے جانوروں کی نشاندہی کر سکیں۔

مذبح خانوں کی صفائی کاخاص خیال رکھیں۔

دوحہ میں بریسٹ کینسر کی تشخیص کے لیے موبائل یونٹ کا قیام

دوحہ: قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک موبائل بریسٹ اسکریننگ یونٹ لانچ کیا گیا ہے تاکہ خواتین میں بریسٹ کینسر کی اسکریننگ کو فروغ دیا جاسکے۔

یہ اسکریننگ یونٹ قطر کے اس قومی پروگرام کا حصہ ہے جس کے تحت شہریوں پر مختلف اقسام کے کینسر کے ٹیسٹ کروانے پر زور دیا جارہا ہے تاکہ ان امراض کی ابتدائی مرحلہ میں ہی تشخیص کی جاسکے۔

یہ اسکریننگ یونٹ شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرے گا اور ان خواتین کی میمو گرافی کرے گا جنہوں نے پہلے ہی اس سروس کے ذریعہ میمو گرافی کا وقت لیا ہے۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ابتدائی تشخیص ہی اس مرض کو شکست دے سکتی ہے۔

واضح رہے کہ قطر میں بریسٹ کینسر کی شرح بہت زیادہ ہے۔ اس مرض سے خواتین کی کل آبادی کا 31 فیصد حصہ متاثر ہے.

قطر میں ہر ایک لاکھ خواتین میں سے 56 خواتین بریسٹ کینسر کا شکار ہیں اور یہ شرح مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ سے بھی زیادہ ہے جہاں ایک لاکھ کی آبادی میں سے 43 خواتین اس مرض سے متاثر ہیں۔

افریقہ میں ڈاکٹرزضرورت سے زیادہ ادویات تجویز کرتے ہیں

لندن : نئی سائنسی تحقیق سے پتہ چلاہے کہ افریقہ کے زیرِ صحارا علاقوں میں عالمی ادارہ صحت کی ہدایات سے کہیں زیادہ ادویات ڈاکٹزر کی جانب سےتجویز کی جاتی ہیں.

تفصیلات کےمطابق بین الاقوامی تحقیق یونیورسٹی آف لندن اور گھانا ہیلتھ کنسلٹ نے مشترکہ طور پر کی اور ان میں نو زیرِ صحارا ملک شامل تھے.

تحقیق سے پتہ چلا کہ ڈاکٹرز مریضوں کو فی نسخہ اوسطاً تین ادویات لکھ کر دیتے ہیں،جبکہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دو ادویات فی مریض فی نسخہ ہونی چاہیے.

تحقیق کے مطابق زیادہ مسئلہ پرائیویٹ اداروں میں نظر آیا جہاں زیادہ ادویات تجویز کرنے کا مطلب زیادہ منافع ہے.

سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ مریضوں کو ضرورت سے زیادہ ادویات دینے سے زیادہ غلطیاں پیش آ سکتی ہیں،اور مختلف ادویات کے آپس میں تعامل سے مضر اثرات رونما ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں.

واضح رہے کہ سائنس دانوں کو یہ بھی معلوم ہوا کہ مریضوں کو بغیر تفصیلی معائنے کے اینٹی بائیوٹکس دی جا رہی ہیں،جس سے جراثیم کے اندر ان ادویات کے خلاف مدافعت پیدا ہونے کا خطرہ ہے.

Google Analytics Alternative