صحت

تلخ یادوں کو دور کرنے کے لیے آنکھوں کی مشق

لندن: اسے ہپناٹزم کہیں یا کچھ اور لیکن پوری دنیا میں تلخ یادوں، ڈپریشن اور پریشانی کو دور کرنے کے لیے آنکھوں کی مشق کا ایک طریقہ بہت مقبول ہورہا ہے جسے لوگوں نے مؤثر قرار دیا ہے۔

اسے آئی موومنٹ ڈی سینسیٹائزیشن اینڈ ری پروسیسنگ ( ای ایم ڈی آر) کا نام دیا گیا ہے جسے کسی صدمے اور سانحے کے بعد ذہنی تکالیف اور دردناک یادوں کو دور کرنے، ذہنی تناؤ اور مایوسی کو دور کرنے کے لیے کامیابی سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اس میں لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ کسی پنڈولم کی طرح آنکھوں کو دائیں اور بائیں دونوں کناروں تک لے جائیں اور یہ عمل 20 سے 30 مرتبہ دُہرائیں۔ اسے کرنے والے افراد نے مؤثر پایا ہے اور اسے بہتر احساس کی وجہ قرار دیا ہے لیکن ماہرین کے مطابق اگر اسے کوئی تربیت یافتہ ماہر نفسیات انجام دے تو یہ اور بھی پراثر ثابت ہوتا ہے۔

ماہرین کا دعویٰ ہے کہ یہ طریقہ آپ کی زندگی کو بہت حد تک خوشگوار بناکر پریشانیوں کو دور کرسکتا ہے اس میں مریض اور ڈاکٹر آمنے سامنے بیٹھتے ہیں اور معالج اپنی انگلیوں کو دائیں اور بائیں حرکت دے کر مریض کو اس پر نظر رکھنے کو کہتا ہے ۔

ماہرین کے مطابق تلخ یادیں ذہن میں جم جاتی ہیں اور بہت دیر تک نقش قائم رکھتی ہیں اور پورے مزاج پر وار کرتی رہتی ہیں۔  ماہرین نے اسے ڈپریشن، مایوسی، تلخ یادوں کے شکار کئی افراد پر آزمایا تو بہت مؤثر نتائج برآمد ہوئے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ آنکھوں کو دائیں بائیں گھمانے سے ڈپریشن کی وجہ بننے والی یادوں کے عصبی راستے کمزور پڑتے ہیں اور اس کے فوری نتائج برآمد ہوتے ہیں۔

احتیاطی تدابیر اختیار کر کے کینسر کو شکست دی جا سکتی ہے

ماہرین طب کا کہنا ہے کہ بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کر کے کینسر کو شکست دی جا سکتی ہے۔ امراض قلب کے بعد سب سے زیادہ اموات سرطان کے سبب ہوتی ہیں تاہم بہتر طرز زندگی اختیار کرنے سے کینسر کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔

کینسر یا سرطان کی کئی اقسام ہیں اور ان سے بچاؤ کے طریقوں پر سبھی ماہرین متفق بھی نہیں ہیں تاہم محققین اس بات پر ضرور اتفاق رائے رکھتے ہیں کہ کینسر کی نصف سے زائد اقسام سے بچاؤ ممکن ہے۔ ماہرین کی رائے میں سگریٹ نوشی اور شراب نوشی سے پرہیز، خوراک پر توجہ اور وزن کم رکھنے جیسی تدابیر اس مرض سے بچا سکتی ہیں۔

جرمنی کے شہر ہائیڈلبرگ میں قائم کینسر پر تحقیق کرنے والے ادارے کے سربراہ رُوڈولف کاکس کہتے ہیں، ’’بلاشبہ قسمت کا بھی کردار ہے، لیکن آپ حفاظتی اقدامات کے ذریعے کینسر کے امکانات ضرور کم کر سکتے ہیں۔‘‘

تمباکو نوشی

سگریٹ نوشی کی وجہ سے پھیپھڑوں، گلے، غذائی نالی اور مثانے کے کینسر میں مبتلا ہونے کے امکانات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ پھیپھڑوں کا کینسر عام طور پر جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ جرمن کینسر سوسائٹی کے سکریٹری جنرل یوہانس برُونس کے مطابق، ’’کینسر کے مرض میں مبتلا ہونے کی ایک بہت بڑی وجہ تمباکو نوشی ہے۔ یوں سگریٹ سب سے بڑا قاتل ہے۔‘‘

سرطان کا سب سے بڑا سبب تمباکو نوشی ہے

ماہرین کے مطابق تمباکو نوشی ترک کرنے سے اس مرض میں مبتلا ہونے کے امکانات میں واضح کمی ہو جاتی ہے۔

موٹاپا

عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ موٹاپے کا کینسر سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن کاکس کا کہنا ہے کہ کینسر کے 5 سے 6 فیصد مریض زیادہ وزن اور موٹاپے کی وجہ سے ہی اس مرض میں مبتلا ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق صرف زیادہ وزن ہونے سے اس مرض کے امکانات میں اضافہ نہیں ہو جاتا بلکہ ایسے دبلے پتلے افراد جن کے پیٹ میں چربی کی مقدار زیادہ ہو، ان میں بھی اس مرض میں مبتلا ہونے کے کافی امکانات ہوتے ہیں۔

غذا

ماہرین کے مطابق 10 فیصد مریض غیر متوازن غذا استعمال کرنے کے سبب کینسر میں مبتلا ہوتے ہیں۔ سائنس تصدیق کر چکی ہے کہ سرخ گوشت کے استعمال سے نقصان دہ اثرات مرتب ہوتے ہیں جب کہ غذائی ریشوں کے فائدہ مند ہونے کی بھی تصدیق ہو چکی ہے۔ ابھی تک اس مفروضے کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ پھلوں اور سبزیوں کا بکثرت استعمال کینسر سے بچاؤ میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے گزشتہ برس خبردار کیا تھا کہ پہلے سے تیار شدہ گوشت استعمال کرنے کے باعث کینسر میں مبتلا ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات اہم نہیں ہے کہ آپ کس قسم کا گوشت کھاتے ہیں، اصل بات یہ ہے کہ آپ کتنی مقدار میں اسے استعمال کر رہے ہیں۔

تمباکو نوشی اور شراب کے ایک ساتھ استعمال سے کینسر کے امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں

ورزش

جسمانی ورزش اور سرگرمیوں سے بڑی آنت اور چھاتی کے سرطان سے بچاؤ میں مدد ملتی ہے۔ کاکس کا کہنا ہے کہ ورزش کر کے کینسر کی دیگر اقسام سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ زیادہ تر ماہرین کی رائے میں تندرست رہنے سے مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے، تاہم ایسا سمجھنا بھی غلط ہے کہ میراتھن دوڑ میں شامل ہونے سے سرطان کے امکانات ختم ہو جائیں گے۔

شراب نوشی

تقریباﹰ 5 فیصد مریض شراب نوشی کی وجہ سے سرطان میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ شراب کے ساتھ سگریٹ بھی پینے والے افراد میں تو یہ خطرہ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ کاکس کے مطابق روزانہ صرف ایک گلاس وائن یا بیئر پینے سے کینسر کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے تاہم کثرت استعمال تو بہر صورت جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔

یو وی (الٹرا وائلٹ)

ماہرین کا کہنا ہے کہ جلد کے سرطان کا بنیادی سبب (sunburns) سن برن ہوتا ہے۔ اس لیے دھوپ سے بچنا ضروری ہے۔ تاہم ہر وقت گھر کے اندر یا صرف سائے میں رہنا بھی نقصان دہ ہے۔ دھوپ وٹامن ڈی کا اہم ذریعہ ہے جو ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔

تمباکو نوشی، شراب نوشی اور مندرجہ بالا دیگر وجوہات کے حوالے سے مناسب اور بروقت احتیاطی تدابیر کے علاوہ اہم بات یہ بھی ہے کہ آپ وقتاﹰ فوقتاﹰ چیک اپ یعنی طبی معائنہ ضرورا کرانا چاہیے۔‍

بنگلہ دیش کا ’ٹری مین‘ ،علاج کے لیے پرعزم

بنگلہ دیشی شہری ابول بازوندر کو اپنی گومڑیوں کی نشوونما روکنے کے لیے مزید کئی آپریشن کرانے کی ضرورت ہے۔ اسے پیروں اور ہاتھوں پر درخت کی شاخوں جیسی ساخت والی جڑوں کی نشوونما کی وجہ سے ’ٹری مین‘ بھی کہا جاتا ہے۔

ڈھاکا میڈیکل کالج ہسپتال کے ڈائریکٹر سمنتا لال سین کا کہنا ہے کہ ابول بازوندر Abul Bajandar کے جسم پر گومڑیوں یا Warts کی نشوونما بہت تیزی سے ہو رہی ہے اور ان کے مکمل خاتمے کے لیے اس کے کئی آپریشن کرنا پڑیں گے۔

ہفتے کے دن ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے بازوندر کے دائیں ہاتھ پر گومڑیوں کی نشوونما کو روکنے کے لیے کامیاب سرجری کی۔ یہ اپنی نوعیت کی دوسری سرجری تھی، جس میں بازوندر کے کچھ ’وارٹس‘ کاٹ دیے گئے تھے۔

Bangladesh's 'Tree Man' is All Set for Surgery 3

چھبیس سالہ بازوندر کو گزشتہ ماہ ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا تاکہ اس کے ہاتھوں اور پیروں پر نکلنے والی شاخوں والی گومڑیوں کو کاٹنے کا عمل شروع کیا جا سکے۔ دس برس قبل وہ اس بیماری میں مبتلا ہوا تھا اور اب اس کے جسم پر ان گومڑیوں کا وزن پانچ کلوگرام تک پہنچ چکا ہے۔

ڈاکٹر سین نے اتوار اٹھائیس فروری کے روز اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ہم نے بازوندر کے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی سے کچھ وارٹس کو کاٹا ہے۔ ہم نے اس کی انگلیوں کا علاج بھی کیا ہے۔ اب اس کا دایاں ہاتھ کچھ بہتر ہوا ہے۔‘‘

انہوں نے اس پیچیدہ بیماری کے علاج میں مزید وقت لگنے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بازوندر کو کم از کم مزید پندرہ آپریشن کرانا پڑیں گے۔ ڈاکٹر سین کے مطابق اس کے مکمل علاج میں چھ ماہ تا ایک سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

شادی شدہ اور ایک بچے کا باپ بازوندر بنگلہ دیش کے ضلع کھلنہ کا رہائشی ہے، جو ایک انتہائی کمیاب جینیاتی بیماری epidermodysplasia verruciformis کا مریض ہے۔

Bangladesh's 'Tree Man' is All Set for Surgery

ڈاکٹر سین کے مطابق دنیا بھر میں اس بیماری میں مبتلا معلوم مریضوں کی تعداد صرف تین ہے۔ اس بیماری کی وجہ سے بازوندر کی روزمرہ کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ پرعزم ہے اور اپنا علاج جاری رکھے گا، چاہے اس میں کتنا ہی وقت کیوں نہ لگ جائے۔

بازوندر نے اے ایف پی کو بتایا، ’’پہلے آپریشن نے مجھے امید دی ہے۔ میں مکمل علاج سے پہلے اپنے گاؤں واپس نہیں جانا چاہتا۔ میں اپنی معمول کی زندگی بحال کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ ڈھاکا حکومت نے اس کا علاج کرانے کا ذمہ اٹھایا ہے اور اس سلسلے میں اسے خود کوئی ادائیگی نہیں کرنا ہو گی۔

اس بیماری کا شکار ہونے سے قبل ابول بازوندر سائیکل رکشہ چلاتا تھا تاہم اب اس کے پیروں اور ہاتھوں پر وارٹس کی نشوونما کے بعد وہ کوئی کام کرنا تو دور کی بات، خود کھانا بھی نہیں کھا سکتا۔

مردانہ جنسی عضو کی پیوندکاری

ایک دھماکے کے نتیجے میں زخمی ہونے والا امریکی فوجی امریکا کا وہ پہلا شخص بن جائے گا جس کے مردانہ عضو کی پیوندکاری کی جائے گی۔ یہ بات جانز ہاپکنز ہاسپٹل کے ڈاکٹرز نے بتائی ہے۔

اس کامیابی کی صورت میں ان 60 دیگر فوجیوں کی امیدیں بھی جاگ اٹھیں گی جو مختلف حادثات میں اپنے جنسی اعضاء کھو چکے ہیں۔ جانز ہاپکنز ہسپتال کے ڈاکٹروں کو امید ہے کہ حال ہی میں انتقال کرنے والے کسی شخص کی طرف سے عطیہ کیا گیا مردانہ عضو پیوندکاری کے بعد بالکل درست افعال انجام دے گا جن میں پیشاب کرنا، حساسیت اور جنسی عمل انجام دینا وغیرہ شامل ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مائیکرواسکوپ کے نیچے کی جانے والی اس سرجری میں پٹھوں، اعصاب اور خون کی باریک نالیوں کو جوڑا جائے گا۔

ڈاکٹروں اور ایسے امدادی کارکنوں کے مطابق جو زخمی فوجیوں کے ساتھ کام کرتے ہیں، مردانہ عضو ضائع ہونا جذباتی حوالے سے ایک انتہائی تکلیف دہ چوٹ ہے۔ کیونکہ یہ کسی فرد میں اس کی شناخت اور مردانہ پن کھو جانے کا احساس پیدا کر دیتی ہے۔ یہ صورتحال اُس وقت اور زیادہ تکلیف دہ ہو جاتی ہے جب کوئی شخص باپ بننے کا منصوبہ بنا رہا ہو۔

جانز ہاپکنز ہاسپٹل سے منسلک ڈاکٹر رچرڈ ریڈٹ نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’جب آپ ایسے لوگوں سے ملتے ہیں تو آپ کو احساس ہوتا ہے کہ وہ ملک کے لیے کیا کچھ قربان کر چکے ہیں۔ اس سے آپ کو صورت حال سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔‘‘ ریڈٹ اس آپریشن میں مدد فراہم کریں گے۔

ڈاکٹرز عطیہ کرنے والے کسی ایسے فرد کی تلاش میں ہیں جس کی عمر اور جلدکا رنگ وغیرہ اس فوجی سے ملتا جُلتا ہوا

روئٹرز کے مطابق جس فوجی میں مردانہ عضو کی پیوندکاری کی جائے گی اس کی شناخت نہیں بتائی گئی تاہم ملک سے باہر تعیناتی کے دوران ایک بم دھماکے کے نتیجے میں اس شخص کا نچلا دھڑ شدید متاثر ہوا تھا۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق یہ فوجی افغانستان میں زخمی ہوا تھا۔

سرجری آئندہ چند ہفتوں کے دوران کی جائے گی۔ ڈاکٹرز عطیہ کرنے والے کسی ایسے فرد کی تلاش میں ہیں جس کی عمر اور جلدکا رنگ وغیرہ اس فوجی سے ملتا جُلتا ہوا۔ صرف یہی نہیں پھر اس شخص کے انتقال کے بعد یہ بھی ضروری ہو گا کہ اس کا خاندان ڈاکٹروں کو اس فرد کا مردانہ عضو الگ کرنے کی اجازت دے۔

روئٹرز کے مطابق اب تک پوری دنیا میں دو بار مردانہ عضو کی پیوندکاری کی گئی ہے۔ پہلی مرتبہ چین میں 2006ء میں ہوئی جو ناکام ثابت ہوئی۔ جبکہ دوسری مرتبہ جنوبی افریقہ میں یہ پیوندکاری کی گئی۔ 2014ء میں کی جانے والی یہ پیوندکاری کامیاب رہی تھی۔

ناشتے کی اہمیت

آپ نے کئی بار پڑھا یا سنا ہوگا کہ دن کی سب سے اہم غذا ناشتہ ہوتا ہے اور اس کو چھوڑنا جسمانی وزن کو بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق ناشتہ جسم اور دماغ کو رات بھر کی فاقہ کشی کے بعد ایندھن فراہم کرتا ہے۔ مگر اکثر لوگ ڈائیٹنگ یا اپنی مصروف زندگی کی وجہ سے ناشتے سے دوری اختیار کرلیتے ہیں۔

یہ بات یو اے ای میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ناشتہ کرنے کا بہترین وقت اٹھنے کے ایک گھنٹے کے اندر کرلینا ہے جسسے بلڈ شوگر کو مستحکم رکھنے میں مدد ملتی ہے اور اگر تاخیر ہوجائے تو بھوک مٹانے کے لیے لوگ اکثر زیادہ چربی اور کیلوریز والی غذا کو ترجیح دیتے ہیں۔

ناشتہ کرنا رات بھر سونے کے بعد اٹھنے پر جسم کو ایندھن اور توانائی فراہم کرتا ہے اور خالی پیٹ گھومنا کچھ ایسا ہی ہوتا ہے جیسے گاڑی کو بغیر پٹرول کے چلایا جائے۔

محققین کے مطابق ناشتہ کرنے سے یاداشت، توجہ، تخلیقی صلاحیتوں میں بہتری، مزاج میں خوشگواریت اور ذہنی تناﺅ کی سطح کم ہوتی ہے۔

گزشتہ دنوں یہ بات ایک تحقیق میں سامنے آچکی ہے کہ ناشتہ نہ کرنا ذیابیطس کے مرض کا باعث بن سکتا ہے اور اس کو کرنے سے خون میں گلوکوز کی سطح دن بھر میں مستحکم رہنے کا امکان ہوتا ہے۔

ناشتہ کرنے کا ایک بڑا فائدہ جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھنا ہوتا ہے کیونکہ یہ میٹابولزم کو حرکت میں لاکر بھوک بڑھانے والے ہارمونز کو کنٹرول اور دن بھر میں زیادہ کھانے سے روکتا ہے۔

ناشتہ کرنے سے دل کو بھی تحفظ ملتا ہے جس کی وجہ جسمانی وزن کے اضافے سے لاحق ہونے والے امراض جیسے ذیابیطس، فشار خون اور کولیسٹرول کا خطرہ کم ہونا ہے جو امراض قلب کا باعث بن سکتے ہیں۔

شیشا پینا صحت کیلئے انتہائی خطرناک

نیویارک: ہمارے نوجوانوں کو جکڑنے والا تازہ ترین فیشن شیشا یا جدید حقہ ہے، جس کا دھواں اڑاتے ہوئے نوعمر لوگ خود کو فلمی ہیرو محسوس کرتے ہیں لیکن اگر انہیں اس انتہائی خطرناک فعل کے نتائج معلوم ہوں تو وہ کبھی بھی اس کے قریب نہ جائیں۔

امریکا میں کی گئی ایک تازہ ترین سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ایک نشست کے دوران شیشا پینا ایسا ہی ہے، جیسا کہ آپ تقریباً 20 سے 40 سگریٹ مسلسل پئیں، سائنسدانوں کے مطابق چاہے یہ روایتی حصہ ہو جس میں تمباکو کو کوئلوں پر جلایا جاتا ہے یا جدید شیشا جس کیمیکل ملا دھواں پانی میں سے گزرتا ہے، دونوں صورتوں میں اس میں زہریلا بینرین پیدا ہوتا ہے جو خون کے کینسر اور جگر اور پھیپھڑوں کے امراض کا باعث بنتا ہے۔

تحقیق میں شامل 105 نوجوانوں کے پیشاب کے نمونوں میں  نامی کیمیکل کی مقدار بھی نارمل سے چار گنا زیادہ پائی گئی، جسے انتہائی تشویشناک صورتحال قرار دیا گیا۔

ماہرین نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ اکثر نوجوان محض فیشن کے شوق میں اپنے جسموں میں زہر انڈیل رہے ہیں۔

سعودی عرب میں مرس وائرس نے 5 افراد کو نشانہ بنا لیا

ریاض: سعودی عرب میں مرس وائرس نے 5 افراد کو نشانہ بنا لیا۔

غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق سعودی عرب کی وزارت صحت نے حشیم کے علاقہ میں فوری وارننگ جاری کرتے ہوئے لوگوں کومحتاط رہنے کی ہدایت کی ہےاورانھیں احتیاطی تدابیرپرعمل کرنے کے لیےکہا ہے۔

سعودی عرب میں مرس وائرس کے  کیسز مریدا، جدہ، نجران اور ریاض میں سامنے آئے ہیں۔

تکلیف دہ یادوں کو مٹانے میں نائٹرس آکسائیڈ گیس کا اہم کردار

لندن: نفسیاتی معالجین نے انکشاف کیا ہے کہ کسی حادثے کے بعد ستانے والی یادوں کو مٹانے میں نائٹرس آکسائیڈ گیس اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔

سائیکولوجیکل میڈیسن میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق کسی سانحے، دکھ کے لمحات یا حادثے کے بعد مریض کو تکلیف دہ یادوں کا سامنا ہوتا ہے جسے پوسٹ ٹرامٹک اسٹریس ڈس آرڈر (پی ٹی ایس ڈی) کہا جاتا ہے، یہ 5 فیصد مرد اور 10 سے 12 فیصد خواتین کو زندگی میں کبھی لاحق ہوتا ہے جب کہ آبروریزی کی شکار 60 سے 80 فیصد خواتین اس سے چھٹکارا نہیں پاسکتیں۔

یونیورسٹی کالج آف لندن کے پروفیسر اور ان کے ساتھیوں نے 50 تندرست لوگوں کو پہلے 2002 کی ایک پرتشدد فلم ’ارریورسیبل‘ دکھائی جو اتنی خوفناک تھی کہ بعض نے تو اسے دیکھنے سے ہی انکار کردیا، اس کے بعد آدھے لوگوں کو 30 منٹ تک نائٹرس آکسائیڈ گیس سونگھنے کو کہا گیا جس میں 50 فیصد آکسیجن بھی شامل تھی جب کہ بقیہ کو عام ہوا میں سانس لینے کو کہا گیا، پھر انہیں ایک ہفتے تک اس فلم کے مناظر کی یاد کو نوٹ کرنے کو کہا گیا تو معلوم ہوا کہ  جنہوں نے گیس سونگھی تھی وہ تیزی سے برے مناظر کو بھول گئے جب کہ صرف ہوا میں سانس لینے والے افراد میں اس کی تلخ یادیں دھیرے دھیرے ختم ہوئیں۔

ماہرین نے اس کی وجہ بتائی کہ نائٹرس آکسائیڈ کسی خوفناک تصور کو یاد کا مستقل حصہ بننے سے روکتی ہے اور دھیرے دھیرے اس کے نقوش مٹادیتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ نائٹرس آکسائیڈ این ڈی ایم اے ریسیپٹرز پر مداخلت کرکے یاد کو مستقل ہونے سے روکتی ہے۔

اس رپورٹ کے ایک اور مصنف نے بتایا کہ نائٹرس آکسائیڈ عموماً درد کم کرنے کے لیے بھی سونگھائی جاتی ہے اور ایمرجنسی میں بھی اس کا استعمال کیا جاتا ہے جب کہ گمان ہے کہ یہ پی ٹی ایس ڈی کو روکنے کا ایک مؤثر طریقہ بن سکتی ہے۔

Google Analytics Alternative