صحت

سر درد سے نجات صرف 3منٹ.

نیویارک: سر میں درد شدید ہوجائے تو بہت تکلیف ہوتی ہے ،اگر دوائی کا استعمال بھی کرلیا جائے تب بھی درد ٹھیک ہونے میں دیر لگتی ہے لیکن آج ہم آپ کو سر درد سے نجات پانے کا ایک ایسای طریقہ بتائیں گے کہ درد صرف 3منٹ میں ختم ہوجائے گا۔ تولیے سے مساج ایک تولیے کو گول لپیٹ لیں اور اب اس تولیے کو اپنے ماتھے پر دبائیں،اب اس تولیے کو دونوں ہاتھوں سے سر،کندھوں اور گردن پر پھیریں۔اس عمل کو 3سے5منٹ تک آرام سے دہرائیں،کچھ ہی دیر میں درد ختم ہوجائے گا۔اگرآپ کو افاقہ نہ ہو تو اس عمل کو دس منٹ کے وقفے کے بعد پھر دہرائیں۔آپ چاہیں تو سر درد کی صورت میں پودینے والی چائے کا بھی استعمال کرسکتے ہیں۔

گوشت کو 20 دنوں سے زیادہ فریزر میں ر کھنا صحت کیلئے نقصان دہ ہے ۔ماہرین غذائیات

اسلام آباد : ماہرین غذائیات کا کہنا ہے کہ گوشت کو 20 دنوں سے زیادہ فریزرمیں ر کھنے اور بار بار فریج سے نکالنے سے گوشت کی تازگی اور غذائیت متاثر ہوتی ہے جو انسانی صحت کیلئے نقصان دہ ہے ۔عیدالاضحیٰ کے موقع پر کئی کئی ہفتوں تک قربانی کے گوشت کو فریج یا ڈیپ فیزر میں رکھنا معمول بن گیا ہے تا کہ عید کے ایام کے بعد میں قورمہ ‘ بریانی ‘ تکے ،چانپیں اورمزے مزے کی چٹ پٹے کھانوں کے مزے لئے جا سکیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بلڈ پریشر اور امراض قلب کے مریضوں کوگوشت کھانے میں زیادہ احتیاط کرنی چاہئے۔ طبی ماہرین نے خبردارکیا ہے کہ قربانی کا گوشت محتاط ہوکر اعتدال کے ساتھ کھائیں اور گوشت کو 20 دنوں سے زیادہ فریج اور فریزر کی زینت نہ بنائیں کیونکہ بار بار فریج کھولنے سے گوشت کی تازگی اور غذائیت بھی متاثر ہوتی ہے جو انسانی صحت کیلئے نقصان دہ ہے ۔طبی ماہرین باربی کیو سے بھی ہاتھ روکنے کی تلقین کرتے ہیں۔

چیونگم چبانے کی عادت ذہنی تناﺅ میں کمی لانے کا باعث بنتی ہے۔ طبی تحقیق

اگر تو آپ چیونگم چبانے کے شوقین ہیں تو اچھی خبر یہ ہے کہ یہ عادت ذہنی تناﺅ میں کمی لانے کا باعث بنتی ہے۔

یہ دعویٰ جاپان میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔

ٹوکوشیما یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ لوگ جتنا زیادہ چیونگم کو چباتے ہیں اتنا ہی ان کے ذہنی تناﺅ میں کمی آتی ہے۔

تحقیق کے دوران 19 مرد و خواتین رضاکاروں پر تجربات کرتے ہوئے ان کے ذہنی تناﺅ کا جائزہ چیونگم چبانے سے قبل اور بعد میں لعاب دہن کے ذریعے کیا گیا۔

تجربے سے معلوم ہوا کہ صرف تین منٹ تک چیونگم کو بھرپور طریقے سے چبانا ایسے ہارمونز کی شرح کم کرتا ہے جو تناﺅ کا باعث بنتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ چیونگم کو دس منٹ تک چبانے سے ایک جز catecholamines کی تعداد بڑھتی ہے۔

واضح رہے کہ یہ جز اس وقت جسم سے خارج ہوتا ہے جب کوئی فرد ذہنی تشویش یا تناﺅ کا شکار ہوتا ہے اور یہ اس میں کمی لانے کا کام کرتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ تحقیق کے نتائج دلچسپ رہے اور یہ معلوم ہوا کہ اسے چبانا تناﺅ میں کمی لاتا ہے اور یہ ایسا فوری طور پر ہوتا ہے۔

محققین اس حوالے سے مکمل یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ چبانا تناﺅ کی سطح پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے مگر ان کے خیال میں چبانے سے جبڑے حرکت مین آنے کا عمل دماغ کے لیے خون کا بہاﺅ بڑھاتا ہے اور اس کے کچھ حصے مختلف انداز سے کام کرنے لگتے ہیں۔

اسی طرح ان کا ایک خیال یہ بھی ہے کہ چیونگم سے دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھتی ہے جس سے دماغ کو زیادہ آکسیجن پہنچتی ہے۔

یہ تحقیق طبی جریدے جرنل آف پروستھوڈونٹک ریسرچ میں شائع ہوئی۔

پڑھائی میں دل لگانے کے بہترین نسخے.

دنیا بھرمیں طلبا پرتعلیم کا دباؤ ہمیشہ سے رہا ہے لیکن کئی بار کتاب کھولنے کے باوجود ان کے لیے پڑھائی پر توجہ مرکز رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ دماغ کو بیدار اور چوکس رکھنے کے لیے یہ طریقے اپنائے جا سکتے ہیں۔ پڑھائی کے دوران کھڑے ہوجانا: کچھ دیر بیٹھنے کے بعد جسم سستی کا شکار ہونے لگتا ہے، جس کا اثر دماغ پر پڑتا ہے۔ امریکا کی ٹیکساس یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق لیکچر کے دوران وقفے وقفے کے ساتھ کھڑے ہونے والے طالب علم زیادہ توجہ کے ساتھ سنتے ہیں۔ ذمہ داری: اکثر طالب علم باقی سارے کام تو ذمے داری کے ساتھ کرتے ہیں لیکن تعلیم کے معاملے میں ایسا نہیں کرتے۔ باقی کاموں کی طرح ہی تعلیم کو بھی ایک ذمے داری سمجھ کر حاصل کریں۔ ایسا کرنے سے آپ کی استعداد میں بہتری آئے گی۔ غذائیت سے بھری خوراک : محققین کے مطابق صحت مند دماغ کے لیے وٹامن اور معدنیات بہت ضروری ہیں۔ ساتھ ہی پانی پینا بھی بہت ضروری ہے۔ کئی ممالک میں سیب کو طالب علموں کے لیے بہت اچھا پھل سمجھا جاتا ہے۔ اگر آپ اپنے دماغ کو بہترین رکھنا چاہتے ہیں تو اخروٹ، بادام، سبزیاں، ٹماٹر اور پھل ضرور کھائیں۔ مچھلی اور چائے بھی ذہن کو چاق و چوبند رکھنے کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں. فاسٹ فوڈ سے دور رہیں: آج کل نوجوانوں کی مرغوب غذا فاسٹ فوڈ ہے، جس کی اچھی خاصی مقدار کھانے کے بعد وہ کولڈ ڈرنک بھی ضرور پیتے ہیں۔ جن سے پیٹ تو بھر جاتا ہے لیکن دماغ اور جسم کے لیے ضروری غذائیت نہیں ملتی۔ پڑھائی کے دوران وقفہ: پڑھائی کے دوران وقفہ بہت ضروری ہے لیکن اس وقفے کے دوران سوشل میڈیا پر اپنا وقت خرچ کرنے کے بجائے موسیقی سننا، دوستوں کے ساتھ مل کر گپ شپ کرنا یا ٹہلنے چلے جانا زیادہ اچھی اور صحت بخش مصروفیات ہیں۔ اس سے ناصرف دماغ کو آرام اور سکون ملتا ہے بلکہ ایسی سرگرمیوں کے بعد پڑھائی پر یکسوئی سے توجہ دی جاسکتی ہے۔ ورزش: سائنسدانوں کے مطابق ورزش بھی دماغ کو ہلکا پھلکا کرنے میں مدد دیتی ہے۔ کہتے ہیں کہ دَس منٹ سے زیادہ جسمانی مشقت کرنے پر کئی ایسے ہارمون نکلتے ہیں جو فیصلہ سازی کے عمل میں مدد دیتے ہیں۔

لوگ کینسر کی ابتدائی وجوہات نظر انداز کردیتے ہیں.ماہرین

ماہرین کے مطابق کینسر کے نصف سے زائد مریض ایسی علامات سے گزرتے ہیں جنہیں وہ نظر انداز کردیتے ہیں اور اسی وجہ سے بالآخر وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ 1.مسلسل کھانسی یا گلے میں خراش : اگر آپ کے گلےمیں خراش ہے اور کھانسی ہے کہ جانے کانام نہیں لیتی، کھانسنے کے دوران خون بھی آتا ہے تو ضروری ہے کہ آپ فوری طور پر اپنے معالج سے رجوع کریں کیونکہ یہ گلے کے کینسر کی ابتدائی وجوہات بھی ہوسکتی ہیں، 2. کھانا نگلنے میں مشکل : عام طور پر گلے میں خراش یا زخم کی وجہ سے ٹھوس خوراک نگلنے میں تکلیف ہوتی ہے ایسی صورت میں لوگ عام طور پرنرم کھانا کھانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتے جو درست نہیں ہے، کھانا نگلنے میں تکلیف گلے کے کینسر کی علامت بھی ہوسکتی ہے۔ 3.مناسب خوراک کے باوجود وزن میں تیزی سے کمی : اگر آپ مناسب خوراک کے باوجود بغیر کسی وجہ کے مسلسل دبلے ہوتے جا رہے ہیں تو اس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ کینسر کا بھی اشارہ ہو سکتا ہے۔ 4.نظام انہضام میں خرابی : ماہرین کا کہنا ہے کہ نظام انہضام میں خرابی ایک عام مسئلہ ہے تاہم اگر آپ کو یہ شکایت مسلسل ہے تو فوری طور پر اپنے ڈاکٹر سے ملیں۔ 5.پیشاب میں خون : مثانے میں انفیکشن کی وجہ سے پیشاب میں خون آتا ہے لیکن یہ مثانے یا گردے کے کینسر کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے 6. جسم کے کسی بھی حصے میں مسلسل درد رہنا : اگرآپ کو جسم کے کسی بھی حصے میں مسلسل درد رہتا ہے اوروہ معالج کی تجویزکردہ دوا سے دورنہیں ہورہا تو پھر ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔ درد کی وجہ کینسر بھی ہوسکتا ہے۔ 7. جسم پر تل کی طرح کے نشانات : ڈاکٹروں کے مطابق جسم پر نظر آنے والا تل درحقیقت تل نہیں ہوتا، اگر جلد پر ایسے نشانات تیزی کے ساتھ ابھرنے لگیں تو یہ جِلد کے کینسر کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔ 8. جسم میں گٹھلیاں نکلنا: آپ کو جسم کے کسی بھی حصے میں اگر گٹھلی یا گانٹھ محسوس ہو تو اس پر توجہ دیں۔ اگرچہ ہر گٹھلی خطرناک نہیں ہوتی لیکن کچھ گٹھلیاں کینسر کی وجہ سے بھی ہوتی ہیں 9. زخم بھرنے میں تاخیر : جسم کے کسی حصے پر چوٹ یا زخم تھیک ہونے میں تاخیر کا سب سے بڑا سبب ذیابطیس ہے لیکن اگر کوئی زخم 3 ہفتے میں بھی نہ بھرے تو ڈاکٹر کو دکھانا انتہائی ضروری ہے.

رات میں پیاز پاس رکھنے کے فوائد۔

نیویارک: پیاز کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور یہی وجہ ہے کہ یہ ماں رات کو سوتے ہوئے اپنے بچے کے پاس پیاز رکھتی ہے،آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ اس کا کیا فائدہ ہوتا ہے۔ کھانسی سے نجات پیازمیں سلفر پایا جاتا ہے اور بچوں اور بڑوں کو اگررات کو کھانسی ہونے لگے تو آنکھ کھل جاتی ہے اور کافی مشکل ہوتی ہے یکن اگر پیاز پاس رکھا جائے تو کھانسی نہیں ہوتی۔ متلی کے لئے اگر آپ کو متلی ہونے لگے یا دل گھبرائے تو پیاز کاٹ کر بغل میں دبا لیں،تھوڑی ہی دیر میں آپ کی طبیعت بحال ہوجائے گی۔ کیڑے مکوڑوں اور مچھروں سے حفاظت جب پیاز پاس رکھا جائے تو آپ کے پاس کیڑے مکوڑے اور مچھر نہیں آئیں گے اور آپ پرسکون نیند لیں سکیں گے۔ انفیکشن کے لئے پیاز پاس رکھنے سے کانوں اور جسم کی دیگر انفیکشن سے بچا جاسکتا ہے۔ سردی لگنے کی صورت میں اگر سردی لگ جائے تو پیاز سے طبیعت ٹھیک ہوجاتی ہے،پیاز کی چائے بنائیں اور پی کر سردی ے نجات حاصل کریں۔ دانوں کے لئے اگر دانے بن جائیں تو ایک پیاز لے کر اسے آدھے کپ شہد میں ڈالیں اور اس محلول کو دانوں پر لگانے سے دانے ٹھیک ہوجائیں گے۔ گرتے بالوں کے لئے اگر آپ کے بال گرنے لگیں تو پیاز کا رس سر میں لگانے سے بال مضبوط ہوں گے۔پیازمیں موجود سلفر آپ کے سر کے بالوں کومضبوط کرے گا اور وہ گرنا رک جائیں گے۔ نوٹ : اگر کسی قسم کی الرجی کا شکار ہوں تو اس نسخے پر عمل سے پہلے ڈاکٹر سے اجازت لے لیں

ایک روز میں کتنا پانی پینا چاہیے؟

نئی دہلی: ایک روز میں کتنا پانی پینا چاہیے؟ یہ ایک نہایت اہم سوال ہے، جس کا جواب ہم آپ کو ماہرین غذا کی زبانی دیں گے۔ پانی انسانی جسم کا اہم ترین کیمیائی جز وہے جو قدرتی طور پر جسم سے زہریلے مادوں کا اخراج بھی کرتا ہے لیکن لوگوں کی اکثریت اس بات سے ناواقف ہے کہ ایک روز میں انہیں کتنا پانی پینا چاہیے۔ایک معروف کہانی ہے کہ آٹھ گلاس روزانہ پانی استعمال کرناچاہیے لیکن طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آٹھ گلاس پانی ہر شخص کے لئے مواقف نہیں۔ معروف بھارتی ماہر غذا وینو ادھیا ہیرانی نے کہاہے کہ عمومی طورپر کہا جاتا ہے کہ ایک دن میں 10 گلاس پانی پینا چاہیے لیکن میرے خیال میں دن میں 12سے 15گلاس مائع استعمال کرنا چاہیے جس میں پانی، چائے، لسی اور سوپ وغیرہ تمام لیکوڈ اشیاءبھی شامل ہیں، اس طرح آپ اڑھائی لٹر مائع روزانہ استعمال کریں گے۔ ماہر غذا نیوپر کرشنا کے مطابق ایک شخص کا لائف سٹائل یہ طے کرتا ہے کہ اسے روز کتنا پانی پینا چاہیے، اگر آپ ایئرکنڈیشنڈ روم میں بیٹھ کر کام کرتے ہیں تو پھر 2.5 لٹر پانی آپ کے لئے زائد ہے، اس سے آپ کے گردے پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ دوسرا اگر کوئی شخص سیلزمین ہے جس نے جسمانی مشقت بھی کرنا ہے تو اسے ایک روز میں تقریباً 3 لٹر پانی ضرور پینا چاہیے۔موسم کے لحاظ سے بھی پانی کی مقدار میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے ۔ اگر آپ شوگر یا بلڈ پریشر کے مریض نہیں تو موسم گرما میں گلوکوز اور لیموں پانی کا استعمال کریں۔ ڈاکٹر وینو ادھیا ہیرانی کہتے ہیں کہ موسم گرما میں یہ نہایت ضروری ہے کہ آپ صبح اٹھنے کے بعد تھوڑے وقفہ سے 2سے4گلاس پانی پیئں، ہو سکے تو اس میں لیموں، شہد اور دار چینی بھی ڈال لیں۔

پیٹ کو کھانوں سے بنائیں خوبصورت۔

نیویارک : آج کل پیٹ کا بڑھنا اور لٹکی توند عام سامسئلہ ہے ، اس وجہ سے جہاں آپ دوسروں کو اچھے دکھائی نہیں دیتے وہاں یہ متعدد امراض کے جنم کا باعث بھی بنتا ہے۔ ہموار یا چپٹا پیٹ ہر کوئی پسند کرتا ہے لیکن یہ خواہش پوری کرنے کے لئے بڑی تگ و دو کرنا پڑتی ہے، تو ہم آپ کے لئے اس مشکل کو آسان کئے دیتے ہیںبس اس کے لیے مناسب خوراک کھائیں۔ دہی پروٹین سے بھرپور دہی ایسی غذا ہے جسے آپ کسی بھی وقت استعمال کر سکتے ہیں لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ دہی کے استعمال سے آپ اپنا پیٹ ہموار کر سکتے ہیں۔ دہی کا استعمال نہ صرف بھوک کی خواہش کو کم کرتا ہے بلکہ یہ پیٹ بھرنے کے احساس کو طویل المدت تک قائم رکھتا ہے۔ بیری بیری میں شوگر کی سطح کم لیکن یہ اینٹی آکسائیڈینٹس سے بھرپور ہوتی ہیں۔ اگر آپ اپنا پیٹ گھٹانا چاہتے ہیں تو روزانہ باقاعدگی سے ایک کپ بیری ضرور کھائیں۔ بیری کے استعمال سے نظام انہضام بہتر ہوتا ہے۔ انڈہ انڈہ فیٹس کے اخراج کا قدرتی ذریعہ ہے اور اپنی اسی خصوصیت کے باعث یہ بڑھا ہوا پیٹ گھٹانے میں نہایت معاون تصور کیا جاتا ہے۔ مچھلی مچھلی میٹابولزم کو تیز جبکہ بھوک لگنے کے احساس کو کم کرتی ہے۔ مچھلی میں شامل اومیگاتھری نامی ایسڈ وزن گھٹانے میں نہایت معاون ہے۔ خشک میوہ جات گو کہ خشک میوہ جات فیٹس یعنی چکنائی سے بھرپور ہوتے ہیں لیکن ان کے متناسب استعمال سے وزن گھٹانے کا مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ان کے علاوہ سویا بین، سیب، پتوں والی سبزیوںکا سلاد اور ناشپاتی کو اپنی روزمرہ کی خوراک کا حصہ بنانے سے بھی بڑھے ہوئے پیٹ کو کم کیا جا سکتا ہے۔

Google Analytics Alternative