صحت

ٹماٹو کیچپ کے حیرت انگیز فوائد

لندن:پاکستان میں دن با دن بیوٹی کریموں کا استعما ل بڑھ رہا ہے لیکن ترقی یافتہ ممالک میں حسن و خوبصورتی کے لیے ٹماٹو کیچپ کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کے حیرت انگیز نتائج بھی سامنے آرہے ہیں۔ ٹماٹو کیچپ کا فیس ماسک: ٹماٹروں میں لائسوپین نامی طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ پایا جاتا ہے جو دھوپ سے جھلسنے والی جلد کی مرمت کرتا ہے اس میں وٹامن اے ، سی اور کے بھی ہوتا ہے جو جلد کو نرم رکھتے ہوئے اسے مزید تباہی سے بچاتا ہے۔ دلچسپ بات ہے کہ ٹماٹروں کو پکانے سے لائسوپین کی مقدار مزید بڑھ جاتی ہے اس کے خاص اجزا جلد میں موجود کولاجن کی پیداوار بڑھاتے ہیں اور جلد تروتازہ اور خوبصورت لگتی ہے۔ یاد رہے کہ بازار کے ٹماٹو کیچپ میں سرکہ ہوتا ہے جو اس کے فائدے کو ختم کردے گا اسی لیے جوسر میں ٹماٹر کا رس نکال کر استعمال کرنا بہت مفید ہے۔ ٹماٹر کے رس کو 15 منٹ چہرے پر ماسک کی طرح لگائیں اور ٹھنڈے پانی سے چہرے کو دھولیں کچھ ہی دنوں میں آپ کو حوصلہ افزا نتائج ملیں گے۔ بالوں کے لیے کنڈیشنر: ٹماٹر کے کیچپ میں کئی طرح کے تیزاب موجود ہوتے ہیں جو بالوں کی جڑوں میں جذب ہوکر بالوں کو چمکدار بناتے ہیں لیکن ان سے بالوں میں خشکی بھی پیدا ہوسکتی ہے اور وہ سر کی کھال میں کھنچاؤ پیدا کرسکتی ہے۔ 5 منٹ تک ٹماٹو کیچپ اپنے بالوں میں لگائیں اور اس کے بعد کسی اچھے شیمپو سے اسے دھولیں اس سے آپ کے بال چمکدار ہوجائیں گے۔ ٹماٹو کیچپ سے اسٹیل کے برتن چمکائیں: جن تانبے کے سکوں اور برتنوں کا رنگ متاثر ہوتا ہے ٹماٹو کیچپ میں موجود تیزاب سے پرانے سکوں کو بھی چمکایا جاسکتا ہے اس کے علاوہ فرائی پین کے اندرونی حصے کو صاف کرنے کے لیے بھی ٹماٹو کیچپ کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔

مستقبل کی منصوبہ بندی کیسے اور کب کی جائے ، رہنمائی حاصل کرنے کے لیے پڑیئے

کریئر کی منصوبہ بندی، یعنی آپ کس تعلیمی شعبے کو اپنانا اور نتیجتاً کس شعبے میں کام کرنا چاہتے ہیں، کس طرح کی جائے، اس کا سب سے بہتر طریقہ تو یہ ہے کہ آپ کسی پروفیشنل کریئر کونسلر سے رابطہ کریں جو آپ کی اس حوالے سے رہنمائی کرے۔ لیکن پاکستان میں کریئر کونسلرز کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ میری ذاتی معلومات کے مطابق (لاہور میں) کوئی بھی کریئر کونسلر ذاتی طور پر کام نہیں کر رہا۔ کچھ تعلیمی اداروں نے اپنے طور پر کریئر کونسلرز کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں۔ لیکن اگر آپ کو خود یا اپنے بچے کے لیے کسی کریئر کونسلر کی تلاش ہے تو آپ کو شاید مایوسی ہوگی۔

کریئر پلاننگ کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ خود وہ طریقہء کار اپنائیں جو پروفیشنل کریئر کونسلرز اختیار کرتے ہیں۔ اس طریقہء کار سے آپ زیادہ آسانی اور زیادہ بہتر طور پر تعین کر سکتے ہیں کہ بطور طالب علم خود آپ کے لیے یا بطور والدین آپ کے بچے کے لیے کون سا شعبہ زیادہ فائدہ مند ہے۔

اور یاد رکھیں کہ آپ جو بھی منصوبہ بندی کریں، اس کو لازمی کاغذ پر (Black and White) درج کریں تاکہ بعد میں آپ کو رزلٹ حاصل کرنے اور اس کا تجزیہ کرنے میں آسانی ہو۔

طلبہ یا والدین کو کریئر پلاننگ کے لیے مندرجہ ذیل امور کو مدِ نظر رکھنا چاہیے۔

1: ذہانت کا امتحان (آئی کیو ٹیسٹ)

2: رجحان /مزاج

3: دلچسپی

4: معاشی حالات

5: صنف

6: دستیاب تعلیمی مواقع

1: بنیادی ذہانت/آئی کیو لیول کو ٹیسٹ کرنا: اس ٹیسٹ میں کسی بھی انسان کی ذہنی صلاحیتوں کی سائنسی بنیاد پر پیمائش کرنا مقصود ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ طالب علم مطلوبہ شعبے میں جانے کی بنیادی قابلیت رکھتا ہے یا نہیں، (ویسے آپ کو بطور والدین اپنے بچے کے بارے میں اور ہر طالب علم کو خود اپنے بارے میں زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ اس کی ذہنی صلاحیت کتنی ہے اور اس کو اس کورس/شعبے میں داخلہ لینا چاہیے یا نہیں)۔ کریئر کی بہتر منصوبہ سازی کے لیے یہ بنیادی شرط ہے۔

بنیادی ذہانت معلوم کرنے کے لیے بہت سی کتابیں اردو اور انگریزی زبان میں مارکیٹ میں دستیاب ہیں جن سے آپ استفادہ کر سکتے ہیں۔

اس کا ایک جدید طریقہ آئی کیو ٹیسٹ کا بھی ہے جس سے زیادہ جامع معلومات مل جاتی ہے۔ آج کل آئی کیو ٹیسٹ کمپیوٹر کے ذریعے بھی ہوتا ہے۔ آئی کیو ٹیسٹ یعنی ذہانت کی جانچ کے مرحلے میں صرف طالب علم کی خواندگی اور حافظے (یاد رکھنے کی صلاحیت) کے معیار کو چیک کیا جاتا ہے۔ لیکن خیال رکھیے کہ یہ ٹیسٹ صرف انگلش میں ہوتا ہے، اس لیے صرف ان بچوں کو جن کی انگریزی بہت اچھی ہے، ان کے لیے ہی یہ طریقہء کار کارآمد ہے۔ اردو میڈیم بچوں کو یا وہ بچے جن کی انگریزی کمزور ہے، ان سے یہ ٹیسٹ نہیں لینے چاہیئں کیونکہ اس سے بچے میں کئی نفسیاتی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

ٹیسٹ دینے والے طالب علم کے جتنے زیادہ نمبر ہوں گے وہ اتنا ہی زیادہ ذہین شمار کیا جاتا ہے۔ آئی کیو ٹیسٹ میں عام انسان کے نمبر 70 سے 90 تک ہوتے ہیں۔ جب کہ جو شخص 90 سے زیادہ پوائنٹس لیتا ہے اس کو ذہین تسلیم جاتا ہے۔ اکثر سائنس دانوں کا آئی کیو لیول 120 کے آس پاس ہوتا ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ مشہور سائنس دان البرٹ آئن اسٹائن کا آئی کیو 160پوائنٹس ہوگا۔

آئی کیو ٹیسٹ کئی حصوں پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں سائنس، زبان، سماجی سوجھ بوجھ، ریاضی، اور پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت اور زندگی کے مختلف شعبوں میں مہارت کا جائزہ لے کر ایک اوسط تخمینہ لگایا جاتا ہے۔

2: رویہ: عملی زندگی میں کامیابی کے لیے کسی بھی شعبے کے انتخاب کے لیے لازمی ہے کہ طالبِ علم کا رویہ اس شعبے کے بارے میں درست ہو۔ رویے کو تبدیل بھی کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے لیے کافی محنت درکار ہوتی ہے اس لیے زیادہ بہتر یہ ہے کہ طالب علم کا جو عمومی رویہ یعنی مزاج ہو، اسی طرح کے شعبے کا انتخاب کیا جائے۔ مثلاً جو بچے زیادہ سخت جسمانی مشقت نہیں کر سکتے ان کو پولیس یا فوج کے شعبے کا انتخاب نہیں کرنا چاہے کیونکہ وہاں ساری زندگی سخت ترین جسمانی مشقت، سخت حالات، اور تھکا دینے والے روز مرہ کے معمول کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اگر کوئی ایسا طالب علم جو مطلوبہ مزاج کا نہ ہو اور وہ پولیس یا فوج کے شعبے کا انتخاب کرتا ہے تو اس کو دو میں سے ایک چیز کا انتخاب کرنا ہوگا: یا تو وہ نوکری چھوڑ دے یا اپنا رویہ یا مزاج تبدیل کر لے۔ چونکہ رویے کو تبدیل کرنا کافی مشکل کام ہے اسی لیے ایسے محکموں میں بھرتی کا عمل مشکل ہوتا ہے تاکہ صرف مطلوبہ رویے/مزاج کے لوگ ہی کامیاب ہوں۔

جو طالب علم اپنا رویہ مزاج تبدیل /درست کرنا چاہتے ہیں ان کو چاہیے کہ ایسا طرز عمل اپنائیں جو ان کا پسندیدہ شعبے کی ضرورت ہو۔ اپنے بارے میں اپنی رائے کو ہمیشہ مثبت رکھیں۔ اور جو شعبہ اختیار کرنا ہے، اس کے کامیاب و ناکام افراد سے ملاقات کریں، اور ان سے ان کی کامیابی اور ناکامی کے اسباب جانیں۔

3: طالب علم کی ذاتی دلچسپی: کسی بھی انسان سے اس کی مرضی کے خلاف کوئی کام نہیں لیا جا سکتا۔ اگر زبردستی کام کروا بھی لیا جائے، تو بھی اس میں وہ نفاست نہیں ہوگی جو دلچسپی سے کرنے پر آتی ہے۔ اسی طرح جب تک کہ طالب علم کی کسی کام میں ذاتی دلچسپی نہیں ہوگی وہ اس شعبے میں کامیاب نہیں ہوگا۔ اس لیے سب سے زیادہ والدین کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی مرضی بچوں پر مسلط نہ کریں اور کریئر کے انتخاب کے مراحل میں طلبہ کے شوق اور مرضی یعنی ان کی دلچسپی کا خیال رکھیں، ورنہ بعد میں ان کی تمام محنت ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔

یاد رکھیے کہ عملی زندگی میں لوگ اس لیے ناکام نہیں ہوتے کہ ان کے پاس ٹیلنٹ نہیں تھا یا وہ ذہین نہیں تھے، یا ان کے پاس اعلیٰ ڈگری نہیں تھی، بلکہ وہ صرف اور صرف اس لیے ناکام ہوتے کیونکہ وہ دلچسپی کے بغیر بے دلی سے کام کرتے تھے۔

4: خاندان کے معاشی حالات: اپنے لیے یا اپنے بچے کے لیے کسی بھی کورس کا انتخاب کرتے وقت اپنے خاندان کے معاشی حالات کو مدِ نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ پاکستان میں طلبہ و طالبات کی بہت بڑی تعداد ڈاکٹری کا پیشہ اختیار کرنا چاہتی ہے، لیکن حکومتی سطح پر ملک بھر میں میڈیکل کالجز اور ان میں سیٹوں کی تعداد شرمناک حد تک کم ہے۔ ہر سال پاکستان بھر سے لاکھوں کی تعداد میں طلبہ و طالبات میڈیکل کالجز میں داخلے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ لیکن ان میں سے صرف چند ہزار کو ہی داخلہ ملتا ہے اور باقی کے لیے صرف نجی کالجز بچتے ہیں جن کی فیسیں بہت زیادہ ہیں۔

کہنے کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں ہے، لیکن کیا یہ بہتر نہیں کہ ایسی صورتحال میں دلبرداشتہ ہونے کے بجائے ایک بیک اپ پلان موجود ہو؟ کئی لوگ ایسے ہیں جو میڈیکل کالجز میں داخلہ نہ ہونے پر ہمت ہار کر بیٹھ جاتے ہیں اور کئی کئی سالوں تک کوشش کرتے رہتے ہیں جس میں وقت اور توانائی ضائع ہوتی ہے جبکہ ہر سال داخلہ نہ ملنے پر ہمت میں کمی آتی جاتی ہے۔ جبکہ کئی لوگ اسی ناکامی کو اپنی دوسری دلچسپی والا شعبہ اپنا کر کامیابی میں تبدیل کر لیتے ہیں۔

5: صنف: پاکستانی معاشرے میں خواتین کے بارے میں کافی تنگ نظری موجود ہے اس لیے لڑکیوں کو ان شعبہ جات کا انتخاب کرنا چاہیے جس میں اگر وہ عملی زندگی میں جاب کرنا چاہیں تو ان کو زیادہ مشکلات نہ ہوں۔

خواتین کی جاب کے بارے میں پاکستانی معاشرے کی سوچ کے لیے صرف پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی یہ رپورٹ ہی کافی ہے کہ ’’50 فیصد لڑکیاں میڈیکل کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کبھی جاب نہیں کرتیں۔‘‘ اس میں خاندانی دباؤ اور بہت سارے دیگر عوامل شامل ہیں۔

بعض واقعات میں دیکھا گیا ہے کہ لڑکیوں نے اپنی پسند سے سول انجینیئرنگ میں ڈگری اچھے نمبروں سے حاصل کی لیکن ان کو اچھی کمپنیز میں جاب نہ مل سکی، کیونکہ نجی کمپنیز کے مالک ان سے کہتے تھے کہ ہم آپ کی جگہ مردوں کو جاب دیتے ہیں تو وہ آفس کے ساتھ ساتھ بطور سائٹ انجینیئر سٹرکوں، پلوں، اور جنگلوں میں کام کر سکتا ہے جبکہ ’’لیڈی سول انجینیئر‘‘ یہ کام نہیں کر سکتیں۔ اگر ہم آپ کو جاب دیتے ہیں تو ہمیں بطور سائٹ انجینیئر ایک اور شخص کو اضافی تنخواہ دینی ہوگی اس لیے معذرت۔

کریئر کونسلنگ کے ماہرین کے مطابق اگر ایسی لڑکیاں سول انجینیئرنگ کے بجائے آرکیٹکچر کا انتخاب کرتیں تو ان کو عملی زندگی میں زیادہ مشکلات نہ ہوتی اور ان کا تعمیرات کا شوق بھی پورا ہوجاتا۔

اسی طرح پرائمری اسکول ٹیچرز کا کام نوجوان لڑکے نہیں کر سکتے۔ وہ کلاس میں چھوٹے چھوٹے بچوں سے بہت جلدی تنگ آ جائیں گے اور فوری ان پر تشدد شروع کر دیں گے۔

6: دستیاب تعلیمی مواقع: اس سے مراد یہ ہے کہ ہمارے ہاں اکثر طالب علموں اور ان کے والدین کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اس وقت کون کون سے تعلیمی شعبہ جات میں وہ داخلہ لے سکتے ہیں۔ مثلاً عمومی طور پر ایف ایس سی پری میڈیکل کرنے والے خواہشمند طلبہ اس کے بعد کے مزید شعبہ جات کے بارے میں لاعلم ہوتے ہیں حالانکہ پاکستان میں ایم بی بی ایس/بی ڈی ایس کے علاوہ فارمیسی، ویٹرنری، میڈیکل سائنسز، بائیو میڈیکل، کیمیکل میڈیکل، ایگریکلچرل، مائیکرو بائیولوجی اور منسلک طبی سائنسز جیسے سائیکاٹری، سائیکولوجی، فزیوتھیراپی وغیرہ کے شعبہ جات میں تعلیم اور روزگار کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

اس میں سارا قصور والدین یا طلبہ کا نہیں بلکہ ہماری حکومت کا بھی ہے جس نے کبھی اس سمت میں کوئی کام کیا ہی نہیں اور نہ ہی سرکاری یونیورسٹیوں اور ایجوکیشن کے ذمہ دار محکموں نے اس طرح کا مواد شائع کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس لیے آپ کو خود اپنے لیے محنت کرنا ہوگی اور اپنے لیے دستیاب تمام تعلیمی مواقع تلاش کرنے ہوں گے۔

بہترین تعلیمی شعبے کا انتخاب ہر طالب علم اور اس کے خاندان کے لیے سب سے اہم فیصلہ ہوتا ہے، لہٰذا ہر طالب علم کو اپنی شخصیت، صلاحیت، خواہش، ذہنی استعداد، مالی وسائل اور اپنی عملی ضروریات کو دیکھ کر اپنے لیے بہترین شعبے کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ چونکہ معاشرے کے ہر فرد کی ضروریات اور مسائل مختلف ہیں، چنانچہ ہو سکتا ہے کہ ایک شعبہ ایک طالب علم کے لیے بہترین ہو لیکن دوسرے طالب علم کے لیے وہ بدتر ہو۔ اس لیے ہر شخص کو اپنے وسائل اور حالات کے مطابق خود فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ اس کے لیے کون سا تعلیمی شعبہ بہترین ہے۔

بلوچستان: 400 سے زائد گھوسٹ اساتذہ برطرف

بلوچستان حکومت نے مسلسل غیر حاضر رہنے والے 400 سے زائد سرکاری سکولوں کے اساتذہ کو برطرف کر دیا۔ صوبائی سیکریٹری تعلیم (سکولز) عبدالصبور کاکڑ نے ہفتہ کو بتایا کہ مسلسل غیر حاضر رہنے والے اساتذہ اور محکمہ تعلیم کے عملے کی نشان دہی کیلئے ایک کمیٹی بنائی گئی تھی۔

کمیٹی نے ضلع وار تحقیقات کے دوران کوئٹہ سمیت مختلف اضلاع میں 400 گھوسٹ اساتذہ کی نشان دہی کی ۔

پنجاب یونی ورسٹی نے بی اے بی ایس سی نتائج کا اعلان کر دیا

punjab-university

پنجاب یونی ورسٹی نے بی اے اور بی ایس سی 2015 کے امتحانی نتائج کا اعلان کر دیا ہے جس میں طالبات ایک مرتبہ پھر طلبہ پر سبقت لے گئی ہیں۔

پنجاب یونی ورسٹی کے جاری کردہ امتحانی نتائج کے مطابق آرٹس اور سائنس میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 21 ہزار 658 طالبعلموں نے شرکت کی جس میں سے 48 ہزار 582 امیدوار قرار پائے اور کامیابی کا تناسب 39.93 فیصد رہا۔

آرٹس گروپ میں رملہ طیب نے 674 نمبر لے کر پہلی، اظہر علی نے 664 نمبر لے کر دوسری جب کہ ام کلثوم نے 656 نمبر لے کر تیسری پوزیشن حاصل کی۔

سائنس گروپ میں پہلی تینوں پوزیشنز طالبات نے حاصل کیں۔ بی ایس سی کی عائشہ خان نے 699 نمبر لے کر پہلی، حفصہ نے 695 نمبر لے کر دوسری جب کہ فصاحت فاطمہ نے 645 نمبر لے کر تیسری پوزیشن حاصل کی۔

راولپنڈی: ڈینگی زور پکڑنے لگا،33افراد مرض کا شکار

راولپنڈی میں ڈینگی زور پکڑنے لگا، شہر میں اب تک ڈینگی سے 33 مریض متاثر ہو چکے ۔ڈینگی کی زد میں انتظامیہ کے مطابق اگست میں اب تک 33افراد میں اس جان لیوا مرض کی تشخیص ہو چکی ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ڈینگی کا خطرہ ستمبر کے آخر تک رہے گا۔ڈینگی کے مریضوں کے لیے ہولی فیملی،ڈی ایچ کیواور بے نظیر بھٹو اسپتال میں الگ وارڈز بنادیے گئے ہیں ۔راولپنڈی میں ڈینگی سے ڈرے سہمے شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اقدامات نا کا فی ہیں۔احتیاط نہ برتنے والے لوگوں کو جرمانے تو کیے جا رہے ہیں لیکن مچھر مار اسپرے نہیں کیا گیا۔

زیادہ کام فالج کا سبب بن سکتا ہے

overwork

ایک تازہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیادہ کام فالج کا سبب بن سکتا ہے۔

اس تحقیق کے لیے پانچ لاکھ افراد کا تجزیہ کیا گیا۔ لینسٹ میڈیکل جرنل میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ روایتی اوقات صبح 9 سے شام 5 بجے تک کے علاوہ کام کرتے ہیں ان کو فالج ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔یہ معلومات غیر یقینی ہیں لیکن تحقیق کے مطابق تناؤ والے کام آپ کی زندگی پر تباہ کن اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق جو لوگ زیادہ دیر تک کام کرتے ہیں انھیں اپنا بلڈ پریشر چیک کرتے رہنا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق ہفتے میں 35-40 گھنٹے کام کرنے والوں کے مقابلے میں 48 گھنٹے کام کرنے والوں میں یہ خطرہ 10 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح 54 گھنٹے کام کرنے والوں میں 27 فیصد اور 55 گھنٹوں سے زائد کام کرنے والوں میں اس کا خطرہ 33 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

احمد فراز کو دنیا سے بچھڑے 7 برس بیت گئے

ahmed-faraz

ترقی پسند اور محبت کی شاعری پیش کر نے والے شاعر احمد فراز کو اپنے مداحوں سے بچھڑے 7 برس ہو گئے۔

4 جنوری 1931 کو کوہاٹ میں پیدا ہونے والے احمد فرازاردو، فارسی، پنجابی سمیت دیگر زبانوں پربھی مکمل عبور رکھتے تھے۔ احمد فراز نے ہزاروں نظمیں اوردرجنوں مجموعہ کلام بھی تحریرکیے۔ احمد فرازکے تین بیٹے سعدی فراز، شبلی فراز اور سرمد فراز ان کا نام زندہ و جاوید رکھے ہوئے ہیں، ترقی پسندانہ شاعری کے باعث انھیں جنرل ضیاء الحق کے دور میں گرفتار کرکے 6 سال تک پابند سلاسل بھی رکھا گیا۔

احمد فراز کی شاعری پر مبنی ان کے 14 مجموعہ کلام شائع ہوئے جن میں تنہا تنہا، دردآشوب، شب خون، نایافت، میرے خواب ریزہ ریزہ، بے آواز گلی کوچوں میں، نابینا شہر میں آئینہ، پس انداز موسم، سب آوازیں میری ہیں، خواب گل پریشاں ہے، بود لک، غزل بہانہ کروں، جاناں جاناں اور اے عشق جنوں پیشہ شامل ہیں۔

احمد فراز کو ہلال امتیاز، ستارہ امتیاز، نگار ایوارڈز اور ہلال پاکستان سے بھی نوازا گیا، مختلف یونیورسٹیز اوردیگر تعلیمی اداروں میں ماہر تعلیم کے طور پر بھی اپنے فرائض سر انجام دینے والے کڈنی فیلیئر کے باعث 25 اگست 2008 کو اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔

آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ: یاسر شاہ اور یونس خان کی ایک ایک درجہ ترقی

younis-yasir

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے نئی ٹیسٹ رینکنگ جاری کر دی ہے جس کے مطابق قومی ٹیم کے کھلاڑی یونس خان ایک درجہ ترقی کے بعد بہترین کھلاڑیوں کی فہرست میں ساتویں نمبر سے چھٹے نمبر پر آ گئے ہیں ۔

آئی سی سی کی جانب سے جاری کر دہ نئی ٹیسٹ رینکنگ کے مطابق بہترین کھلاڑیوں کی فہرست میں پہلے نمبر پر سٹیون سمتھ براجمان ہیں جبکہ قومی ٹیم کے کھلاڑی یونس خان ایک درجہ ترقی کے بعد ساتویں سے چھٹے نمبر پر آ گئے ہیں ۔نئی رینکنگ کے مطابق ٹاپ ٹین باولر ز میں پاکستانی باولر یاسر شاہ ایک درجہ ترقی کے بعد پانچویں سے چوتھے نمبرپر آ گئے ہیں جبکہ پہلے نمبر پر ڈیل سٹائن موجود ہیں

Google Analytics Alternative