صحت

انسانی نظامِ ہاضمہ میں 2000 نئی اقسام کے بیکٹیریا دریافت

 لندن: ہمارے نظامِ ہاضمہ میں بیکٹیریا نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں اور اب ماہرین نے ایک دو نہیں بلکہ دوہزار سے زائد نئی اقسام کے ایسے بیکٹیریا دریافت کیے ہیں جو ہماری آنتوں اور معدے میں پائے جاتے ہیں۔

ہمارے جسم میں کھربوں خرد یے اور دیگر بیکٹیریا پائے جاتے ہیں لیکن ان کی اقسام کی بات ہو تو صرف 20 سے 40 قسم کے بیکٹیریا ہی ہمارے علم میں تھے مگر اب دوہزار سے زائد اقسام کے بیکٹیریا دریافت کیے گئے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ہمارے معدے اور نظامِ ہاضمہ میں ایک ہزار سے 40 ہزار اقسام کے بیکٹیریا ہوسکتے ہیں لیکن اب تک انہیں دریافت نہیں کیا جاسکا تھا اب میٹا جینومک طریقے کی مدد سے مزید بیکٹیریا دریافت کیے گئے ہیں۔

یہ اہم انکشاف یورپی بایو انفارمیٹکس انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ماہر روب فیرس اور ان کی نگرانی میں دیگر بین الاقوامی سائنس دانوں نے  کیا ہے۔ کمپیوٹر اور میٹاجینومکس کی مدد سے ماہرین نے 2000 کے لگ بھگ نئے بیکٹیریا دریافت کیے ہیں جو بالکل نئی فیملی اور گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق امریکی اور یورپی آبادی کے نظامِ ہاضمہ میں بیکٹیریا کی یکسانیت ہے تاہم افریقی اور جنوبی امریکی آبادیوں کے ڈیٹا میں بہت تنوع دیکھا گیا ہے اسی بنا پر ماہرین نے نظرانداز کردہ آبادیوں پر تحقیق پر زور دیا ہے۔

ماہرین نے اعتراف کیا ہے کہ وہ ان بیکٹیریا کے متعلق بہت کم جانتے ہیں اور انہیں تجربہ گاہ میں بھی نہیں تیار کیا گیا اسی بنا پر ان کی درجہ بندی کرنے اور نام دینے کا سلسلہ جاری ہے تاہم اس سے قبل ماہرین نے اتنی بڑی تعداد میں بیکٹیریا دریافت نہیں کیے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس تحقیق کے ذریعے وہ آنتوں اور معدے میں پائے جانے والے تمام بیکٹیریا کا مکمل نقشہ بناسکیں گے۔ اس دریافت سے امراض کے علاج، تشخیص اور تحقیق کی نئی راہیں ہموار ہوں گی۔

ہر ایک کی پسندیدہ یہ غذا جلد موت کا خطرہ بڑھائے

مغر بی غذاﺅں کا استعمال آپ کی زندگی کے لیے جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ بات فرانس میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

پیرس۔ سوربون یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ سفید ڈبل روٹی، برگر، پیزا، بسکٹ، فرنچ فرائیز، چپس، سافٹ ڈرنکس اور کیک وغیرہ کھانے کا شوق زندگی کے کئی برس کم کرسکتا ہے۔

45 ہزار کے قریب درمیانی عمر کے افراد پر ہونے والی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ امراض قلب، کینسر اور دیگر جان لیوا امراض اور مغربی غذاﺅں کے درمیان تعلق موجود ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ یہ غذائیں اکثر کھانا عادت بنانا قبل از وقت موت کا باعث بن سکتی ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ ان غذاﺅں کا زیادہ استعمال اگلے 8 برسوں میں مختلف امراض سے موت کا خطرہ 14 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔

اس سے قبل طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ چربی سے بھرپور ایسی غذائیں جن میں فائبر بہت کم ہوتا ہے، ہائی بلڈ پریشر اور کینسر کا خطرہ بڑھاتی ہیں، مگر یہ پہلی بات ہے کہ جب ان کے استعمال اور موت کے خطرے کا جائزہ لیا گیا۔

محققین نے بتایا کہ یہ پراسیس شدہ غذائیں متعدد اجزا پر مشتمل ہوتی ہیں جیسے چربی، سچورٹیڈ فیٹ، ایڈڈ شوگر اور دیگر، جن سے طویل العمیاد بنیادوں پر جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جاما انٹرنل میڈیسین میں شائع ہوئے، جس کے دوران محققین نے 3 ہزار مختلف غذائی اجزا کو پراسیسنگ کے لحاظ سے 4 گروپس میں تقسیم کیا۔

ان ‘کرشماتی دانوں’ کے حیران کن فوائد جانتے ہیں؟

سونف ایسی چیز ہے جو اکثر ماﺅتھ فریشنر کے لیے کھائی جاتی ہے اور لگ بھگ پاکستان میں ہر گھر میں ہی ہوتی ہے۔

اسے کھانوں اور مختلف اشیاءمیں ذائقہ بڑھانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے جبکہ یہ معدے کی تیزابیت اور نظام ہاضمہ کے لیے بھی بہترین سمجھی جاتی ہے، مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ موٹاپے یا توند سے نجات کے لیے بھی فائدہ مند ہے؟

جی ہاں سونف کو گرم پانی میں شامل کرنا یا رات بھر ٹھنڈے پانی میں بھگوئے رکھ کر نہار منہ پی لینا موٹاپے سے نجات میں اس وقت مدد دیتا ہے جب آپ اسے استعمال کرنا معمول بنالیں۔

سونف وٹامنز اور منرلز سے بھرپور ہوتی ہے اور یہ کھانے کو جلد ہضم ہونے میں مدد دینے کے علاوہ میٹابولزم کو بہتر کرتی ہے، جس سے بے وقت بھوک نہیں لگتی اور غذائی اجزاءزیادہ بہتر طریقے سے جسم کا حصہ بنتے ہیں۔

اور ہاں یہ ان لوگوں کے لیے بھی مفید ہے جو اکثر قبض کا شکار رہتے ہیں۔

اس کے مزید فوائد درج ذیل ہیں۔

سانس کی بو سے نجات

سونف چبانا سانس کو مہکاتا ہے، اس کے پانچ سے 10 دانے سانس کی بو دور کرنے کے لیے کافی ہے۔ سونف تھوک کی مقدار بڑھاتی ہے جس سے بھی بیکٹریا ختم ہوتے ہیں، آپ اس کے دانے جتنی دیر چبائیں گے ، سانس اتنی ہی زیادہ تازہ دم ہوجائے گی۔

ذیابیطس سے تحفظ

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ سونف کا تیل ذیابیطس کے مریضوں کا بلڈ شوگر لیول کم کرنے میں مدد دیتا ہے، سونف میں وٹامن سی بھی موجود ہوتی ہے جو کہ بلڈشوگر لیول کرنے میں مدد دیتی ہے جبکہ اس میں موجود بیٹا کیروٹین بھی ٹائپ ٹو ذیابیطس کے شکار افراد کا کولیسٹرول لیول کم کرتا ہے۔

جگر کی صفائی

سونف میں سیلینیم کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، یہ جز جگر کے لیے فائدہ ہوتا ہے جو ایسے انزائمے بنانے میں مدد دیتا ہے جس سے قدرتی طور پر اس عضو کی صفائی ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لیے سونف کے دانے چبائیں یا ہر صبح ایک کپ سونف کی چائے پینا عادت بنالیں۔

اچھی نیند میں مددگار

دماغ میں ایک ہارمون میلاٹونین اچھی نیند میں مدد دیتا ہے اور سونف کے پانی کا استعمال اس ہارمون بننے کی مقدار بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔ مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق اچھی نیند جسمانی وزن میں کمی اور صحت مند وزن برقرار رکھنے کا ایک موثر ذریعہ ہے۔

**###بلڈپریشر کنٹرول کرنے میں مدد دے

طبی جریدے جرنل آف فوڈ سائنسز میں شائع ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ سونف کے دانے چبانا لعاب دہن میں نائٹریٹ کی سطح بڑھانے میں مدد دیتا ہے، جو کہ قدرتی طور پر بلڈ پریشر کی سطح کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ سونف پوٹاشیم سے بھی بھرپور ہوتی ہے اور یہ جز بلڈپریشر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔

بینائی بہتر بنائے

سونف کے چند دانے کھانا کمزور بینائی کو بحال کرنے میں مدد دے سکتا ہے، اس میں وٹامن اے موجود ہوتا ہے جو کہ بینائی کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

معدے میں تیزابیت سے نجات

کچھ ماہرین کی رائے ہے کہ کھانے کے بعد کچھ مقدار میں سونف چبانا معدے میں تیزابیت کی روک تھام میں مدد دیتا ہے۔ سونف کی چائے غذائی نالی کو صحت مند رکھتی ہے جبکہ یہ مشروب بدہضمی اور پیٹ پھولنے کے خلاف بھی فائدہ مند ہے۔

کیل مہاسوں سے نجات

جب سونف کو روزانہ کھانا عادت بنالیا جائے تو یہ جسم کو ضروری منرلز جیسے زنک، کیلشیئم اور سیلینیم بھی فراہم کرتا ہے، یہ منرلز ہارمون توازن میں بہت مدد فراہم کرتے ہیں جبکہ آکسیجن کی سطح بھی متوازن رکھتے ہیں، جس سے جلد پر گرمی کا اثر کم ہوتا ہے جس سے کیل مہاسوں سے نجات ملتی ہے۔**

میٹابولزم بہتر کرے

میٹابولزم وہ جسمانی فعل ہے جو کہ غذا سے حاصل ہونے والی توانائی کو خلیات کے لیے استعمال کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس عمل کو بہتر کرنا اور تیز کرنے سے جو کیلوریز ہم استعمال کرتے ہیں، وہ جلد جلتی ہیں، جس سے جسمانی توانائی کے ساتھ ساتھ چربی بھی گھلتی ہے۔ سونف کا پانی میٹابولزم کو تیز کرتا ہے، خصوصاً جب نہار منہ استعمال کیا جائے۔

قبض دور کرے

سونف کو کھانے کے بعد استعمال کرنا نظام ہاضمہ کو بہتر طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتا ہے جبکہ سانس کی بو کی شکایت بھی ختم ہوتی ہے، سونف اکثر قبض کے شکار رہنے والے افراد کے لیے بہترین ہے جبکہ اس کا تیل بھی نظام ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے۔

بھوک کو قابو میں رکھے

سونف کا پانی بے وقت بھوک کی روک تھام کرتا ہے، سونف میں موجود غذائی فائبر بے وقت بھوک سے بچاتی ہے۔ اسی طرح سونف معدے کے مسلز کو ریلیکس کرتی ہے۔

نظام ہاضمہ بہتر کرے

سونف کا پانی جسم میں موجود زہریلے مواد کی صفائی کے لیے بہترین ہوتا ہے اور نظام ہاضمہ کے مسائل دور کرتا ہے، نظام ہاضمہ ٹحیک ہو تو جسمانی وزن میں کمی لانا آسان ہوجاتا ہے۔

پیٹ پھولنے اور گیس کے لیے بھی فائدہ مند

سونف نظام ہاضمہ کے لیے بہترین ہے، یہ بیج غذائی نالی کو سکون پہنچاتے ہیں، جس سے گیس خارج ہوتی ہے اور پیٹ پھولنے کا عارضہ کم ہوتا ہے۔ اسے پھانک لیں یا چائے کی شکل میں کھانے کے بعد پی لیں۔

خون کی صفائی

سونف کا پانی خون میں یورک ایسڈ کی باقیات کو صاف کرتا ہے جبکہ جگر میں اضافی چربی کے اجتماع کی روک تھام کرتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

معدے کے بیکٹیریا دواؤں کے منفی اثرات بڑھاسکتے ہیں

نیویارک:ہم جانتے ہیں کہ ایک ہی دو اگرچہ کافی لوگوں کو فائدہ دیتی ہے لیکن بعض افراد میں شدید ضمنی اثرات کی وجہ بنتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی وجہ ان افراد کے معدے میں موجود بیکٹیریا ہوسکتے ہیں۔

’سائنس‘ نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں ییل یونیورسٹی کے ماہرین نے لکھا ہے کہ تین دوائیں ایسی ہی جو معدے میں موجود خاص بیکٹیریا کی صورت میں انتہائی مضر اثرات مرتب کرتی ہیں۔ یونیورسٹی کے پروفیسر اینڈریو گُڈمین کہتے ہیں ، ’ اگر ہمیں پتا چل جائے کی معدے میں موجود ہزاروں لاکھوں اقسام کے بیکٹیریا دواؤں کی صورت میں کس طرح کا برتاؤ کرتے ہیں تو ہم کئ مریضوں کو پریشانی اور مزید خطرناک سائیڈ افیکٹس سے بچاسکتے ہیں۔‘

اس کے لیے ماہرین نے کئی ایک اینٹی وائرل ادویہ کو چوہوں پر آزمایا تو معلوم ہوا کہ معدے میں موجود بعض بیکٹیریا کی موجودگی میں دوائیں زہریلے اثرات پیدا کرتی ہیں۔ اگلے مرحلے میں چوہوں میں ان بیکٹیریا کو تھوڑا تبدیل کیا گیا اور پھر اس دوا کے ضمنی اثرات نوٹ کئے گئے۔

اس بنا پر ماہرین نے معدے کے بیکٹیریا اور دواؤں کے ضمنی اثرات کی پیشگوئی کرنے والا ایک ریاضیاتی ماڈل تیار کیا جس نے تین دواؤں کے ضمنی اثرات کی درست پیشگوئی کی ان میں ایک دوا کلونازیپام بھی شامل ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ کسی دوا کے خطرناک ری ایکشن میں معدے کے جرثوموں کا کردار 20 تا 80 فیصد تک ہوسکتا ہے۔

اس اہم تحقیق سے اول تو یہ بات سامنے آئی ہے کہ بعض دوائیں کیوں الٹا اثر کرتی ہیں اور اس کے بعد دواؤں کو مؤثر اور بے ضرر بنانے میں بھی مدد مل سکے گی۔

لیموں اور سبزیوں کا استعمال پتھریوں سے بچائے

ڈرہم ، نارتھ کیرولینا: اگر آپ سبزیوں اور لیموں (بالخصوص لیموں پانی) کا استعمال بڑھاتے ہیں تو نہ سرف پتے بلکہ گردے کی پتھریوں سے بھی بچ سکتے ہیں۔ تو پہلے سبزیوں کے متعلق اہم سروے کی روداد سن لیجئے۔

نیوٹریئنٹس نامی جرنل میں شائع ہونے والی ایک تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سبزیوں کا باقاعدہ استعمال جہاں دیگر ان گنت فوائد دیتا ہے وہیں انہیں کھانے والے افراد دیگر افراد کے مقابلے میں پتھریوں سے مؤثر انداز میں بچے رہتے ہیں۔

اس ضمن میں ایک تحقیقی سروے کیا گیا جس میں ایک طویل عرصے کے لیے 4,839  افراد کی غذائی عادات، کولیسٹرول کی

مقدار اور پتے کے پتھریوں کے واقعات نوٹ کئے گئے۔ اس مطالعے کے بعد معلوم ہوا کہ سبزیوں پر اکتفا نہ کرنے والی خواتین میں دیگر کے مقابلے میں پتے کی پتھری ہونے کا خطرہ چارگنا تک بڑھ جاتا ہے۔ رپورٹ سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سبزیاں کولیسٹرول گھٹاتی ہیں اور ان میں موجود فائبر بلڈ پریشر اور شوگر سے بھی بچاتا ہے۔ سبزی خوری کا تیسرا  بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے موٹاپا بھی لاحق نہیں ہوتا۔

ائنس دانوں نے سروے کے بعد کہا ہے کہ ایک جانب تو لیموں پانی گردے میں پتھری بننے کے عمل کو پہلے سے ہی روکتا ہے اور اگر پتھری ہوتو اس کے بڑھنے کی رفتار کو بھی سست کرتا ہے۔ اس ضمن میں یہ مشروب جادوئی اثرات رکھتا ہے یہاں تک کہ امریکی ماہر ڈاکٹر راجر سر اور جامعہ وسکانسن میں یورو لوجی کے پروفیسر اسٹیون ناکاڈا لیموں پانی کو تمام دواؤں سے بھی مؤثر قرار دیتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ لیموں میں تمام پھلوں کے مقابلے میں سٹرک ایسڈ کی بلند مقدارپائی جاتی ہے اور یہ تیزاب گردے کی پتھریوں کا مؤثر سدِ باب کرتا ہے۔ اس عمل کو اب لیموں تھراپی بھی کہا جانے لگا ہے۔ دوسری جانب سپلیمنٹ کے طور پر مریض کو پوٹاشیئم سائٹریٹ دیا جاتا ہے لیکن یہ بھی لیموں کے سامنے بہت کم اثر رکھتا ہے۔

تازہ اطلاع کے مطابق امریکی شہر ڈرہم میں واقع ڈیوک یونیورسٹی کے کڈنی اسٹون سینٹر میں پتھری والے 12 مریضوں کو چار برس تک لیموں پانی کے علاج سے گزارا اور ان کے گردوں میں پتھری بننے کا عمل بہت سست دیکھا گیا۔ ان تمام 12 افراد کو چار سال کے دوران پتھری کی وجہ سے کسی طبی ایمرجنسی اور علاج کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

آسانی سے یہ دستیاب غذا متعدد امراض سے بچائے

ہر سال 10 فروری کو دالوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ آج ساری دنیا میں دالوں کی روزمرہ خوراک میں اہمیت اور افادیت کو اجاگر کیا جائے گا۔

اس دن کو منانے کا مقصد عوام الناس کو یہ شعور دینا ہے کہ مختلف دالیں غذائی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ ماحول دوستی کا حق بھی ادا کرتی ہیں کیونکہ ان کے پودوں کو اگنے کے لیے کھادوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ پودے نہ صرف (ماحولی نظام) ecosystems بلکہ عالمی سطح پر مختاف گرین ہاؤس ایفیکٹ کوبرقرار رکھنے میں بھی بھرپور مدد کرتے ہیں۔

دالوں کی ان خوبیوں کی وجہ سے اقوام متحدہ کے 68ویں جنرل اسمبلی نے 2016ء کو دالوں کے سال کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔ دالوں میں پروٹین (لحمیات) کی موجودگی کی وجہ سے انھیں گوشت کا نعم البدل کہا جاتا ہے یعنی جو افراد گوشت خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے وہ مختلف دالیں کھا کر گوشت کی کمی پوری کر سکتے ہیں۔

دالوں میں پروٹین، فائبر، آئرن، زنک، فاسفورس، فولیت اور بی۔وٹامن کی وافر مقدار اس بات کی ضمانت ہے کہ یہ مکمل غذائیت کی حامل ہیں۔

کسانوں کے لیے دالیں اگانا ایک منافع بخش کاروبار ہے کیونکہ دالوں کی کاشت میں کسانوں کو کھاد اور کیڑے مار ادویات کی زیادہ ضرورت پیش نہیں آتی لہزا یہ ماحول دوست فصل ہے۔

قیمت میں سستی ہونے کی وجہ سے دالیں عام آدمی کی قوت خرید میں ہیں۔ غریب سے غریب شخص بھی دال روٹی کھلا کر ابنے خاندان کو پال سکتا ہے۔

پاکستان میں عام دستیاب دالوں میں مونگ، چنا، ماش، مسور، لال اور سفید لوبیا وغیرہ شامل ہیں۔ پاکستان کے تقریبا ہر دوسرے فرد کی پسندیدہ غذا دال چاول ہے۔

دالوں کو روزمرہ خوراک میں شامل کرنا اچھی صحت کی ضمانت ہے۔ دسترخوان پر زیرے اور لہسن کے تڑکے والی دال کھانے والوں کی بھوک اور بڑھا دیتی ہے۔ میرے بچپن کی یادوں میں سخت گرمی کی دوپہر میں نانی کے ہاتھ کے بنے دال چاول پودینے کی چٹنی اور پیاز کی سلاد کا مزہ ابھی بھی تازہ ہے۔

10 فروری یعنی دالوں کا عالمی دن میرے ساتھ قارئین کو بھی بچپن کی حسین وادیوں میں لے جائے گا۔ اس دن کی مناسبت سے دالوں کے فوائد سے خود بھی اٹھائیں اور اپنے عزیزوں کو بھی شعور دیں کہ وہ اپنی خوراک میں دالوں کے استعمال سے چست اور متحرک زندگی گزار سکتے ہیں۔

دالوں کے استعمال کے چند فوائد بھی ضرور جان لیں۔

بانجھ پن سے تحفظ

ختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ جو خواتین نباتاتی پروٹین سے بھرپور غذاﺅں کا استعمال کرتی ہیں، ان میں بانجھ پن کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔ دالوں سے فرٹیلائزیشن کا عمل آسان ہوتا ہے جو حمل ٹھہرنے کے امکانات بڑھاتا ہے۔

جسمانی توانائی بڑھائے

دالوں میں فائبر (نشاستہ یا ریشے دار غذا)کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے تو یہ ہضم سست روی سے ہوتی ہیں، جس سے جسم اور دماغ کو زیادہ وقت تک توانائی کی سپلائی جاری رہتی ہے۔ اسی طرح فائبر نیند کے لیے بھی مددگار جز ہے جس سے بھی جسمانی توانائی کی سطح بہتر ہوتی ہے۔

جسمانی وزن قابو میں رکھے

ٹورنٹو کے لی کا شینگ نالج انسٹیٹوٹ کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ روزانہ 130 گرام دالوں کا استعمال جسمانی وزن میں کمی کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے جبکہ جسم میں خراب کولیسٹرول کی سطح میں بھی کمی آتی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ جسمانی وزن میں کمی دیگر اشیاءکا استعمال ترک کیے بغیر ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اکثر لوگ دالوں کا استعمال کم کرتے ہیں تاہم جسمانی وزن کو مستحکم رکھنے کے لیے اس کے استعمال کو یقینی بنایا جانا چاہئے۔

پتے میں پتھری کا خطرہ کم کرے

گوشت کم کھا کر زیادہ توجہ دالوں، بیج وغیرہ پر دینا پتے کے افعال کے لیے بہتر ثابت ہوتا ہے، کیونکہ چربی والا سرخ گوشت پتے میں ورم کا باعث بن سکتا ہے (اگر بہت زیادہ کھایا جائے)۔ چربی والی غذائیں جیسے تلے ہوئے پکوان، پنیر، آئسکریم اور گوشت کا اعتدال میں رہ استعمال کرنا بھی پتے کی صحت کے لیے بہتر ہے۔

بلڈ پریشر کنٹرول کرے

دالوں کا استعمال بلڈ پریشر کی شرح میں جان لیوا اضافے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ کینیڈا کی مینٹوبا یونیورسٹی کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مسور کی دال کا استعمال خون کی رگوں کی صحت پر بھی مثبت اثرات کرتا ہے۔تحقیق کے مطابق دالوں کا استعمال دوران خون کی خرابیوں اور بلڈ پریشر کیخلاف انتہائی فائدہ ثابت ہوتا ہے، کیونکہ خون کی رگوں کا نظام درست رہنے سے ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ خودبخود کم ہوجاتا ہے۔ تحقیقی ٹیم کے قائد ڈاکٹر پیٹر زردکا کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ دالیں خون کی رگوں میں تبدیلیاں لاکر ان کو پہنچنے والے نقصانات کی مرمت کردیتی ہیں۔

ذیابیطس کا خطرہ کم کرے

کینیڈا کی Guelph یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ دال کھانا نظام ہاضمہ اور شوگر کے دوران خون میں اخراج کی رفتار سست کرتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ ہفتہ وار بنیادوں پر چاول یا آلو کا کم جبکہ دالوں کو زیادہ کھانا بلڈشوگر کی سطح 35 فیصد تک کم کردیتا ہے۔ تحقیق کے مطابق دال کھانے سے ہائی بلڈ شوگر کے شکار افراد ذیابیطس ٹائپ ٹو کا شکار ہونے سے بچ جاتے ہیں کیونکہ یہ غذا انسولین کی مزاحمت کے خلاف جدوجہد کرتی ہے۔

مریضہ کے پیٹ میں رہ جانے والی قینچی کو 3 ماہ بعد نکال لیا گیا

حیدرآباد دکن: بھارت میں ڈاکٹرز کی غلطی سے آپریشن کے دوران مریضہ کے پیٹ میں رہ جانے والی قینچی کو 3 مہینے بعد نکال دیا گیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق حیدرآباد شہر میں 33 سالہ خاتون مہیشواری چوہدری کو پیٹ کے شدید درد کی شکایت پر اسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں ایکسرے میں خاتون کے پیٹ میں قینچی کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔ ڈاکٹرز نے فوری طور پر آپریشن کرکے خاتون کے پیٹ سے 6 انچ لمبی قینچی کو نکال دیا۔

اہل خانہ نے انکشاف کیا کہ مذکورہ خاتون کا 2 نومبر کو اسی اسپتال میں آپریشن کیا گیا تھا اور اُس آپریشن کے دوران قینچی پیٹ ہی میں رہ گئی۔ جس کے بعد سے خاتون کو پیٹ میں درد کی شکایت رہی تھی جسے ڈاکٹرز نظر انداز کرتے ہوئے درد کشا دواؤں سے علاج کرتے رہے۔

مریضہ کے شوہر نے اسپتال کے خلاف شکایت درج کروائی ہے جس پر اسپتال انتظامیہ نے 2 رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو غفلت اور لاپرواہی برتنے والوں کا تعین کرکے ایک ہفتے کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی جس کی روشنی میں تادیبی کارروائی کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔

موٹاپے کے دشمن 5 مشروبات

عمر کے کسی حصے میں بھی موٹاپا جسمانی خصورتی کو ختم کرتا ہے بلکہ یہ مختلف امراض کا باعث بھی بنتا ہے۔ اگر آپ موٹاپے کی پریشانی اور روز مرہ مصروفیات کی وجہ سے غذائی ترتیب کو اپنا نہیں سکتے تو مشروبات بھی موٹاپے سے نجات دلا سکتے ہیں۔ ان میں سے یہ پانچ بہت زیادہ موثر ثابت ہوتے ہیں۔

سبز چائے

اگر کہا جائے کہ سبز چائے موٹاپے کا دشمن ہے تو غلط بات نہیں ہو گی۔ سبز چائے برسوں سے مختلف فوائد کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ اگرچہ گرین ٹی سے چند پونڈ وزن ہی کم ہوتا ہے تاہم یہ آپ کی خوراک میں زبردست اضافہ ثابت ہوتی ہے۔ روزانہ ایک کپ سبز چائے کا استعمال آپ کو تمام اینٹی آکسیڈنٹ فراہم کرتا ہے اور میٹابولزم کو بڑھا کر چربی جلانے کا عمل تیز کر دیتا ہے۔ لیکن خیال رہے کہ سبزچائے میں چینی کے استعمال سے گریز کریں۔

سبزیوں کا جوس

ماہرین طب کے مطابق سبزیوں کے جوس کے استعمال سے ہارمونز لیول متوازن ہوتے ہیں اور متعدد کئی بیماریوں کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔ اس حوالےسے کہا جاتا ہے کہ اگر مختلف سبزیوں کو الگ الگ یا ملا کر استعمال کیا جائے تو یہ موٹاپے کی جنگ میں بہت موثر ہتھیار ثابت ہوتا ہے جبکہ اس سے جسم میں نقصان دہ مواد بھی ختم ہوتا ہے

ڈیٹوکس جوسز

ڈیٹوکس جوسز اضافی وزن میں کمی کے خلاف جنگ میں موثر ہتھیار ثابت ہوتا ہے، اسے سنگترے اور سبزیوں یا ان دونوں کے امتزاج سے با آسانی تیار کیا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر چکوترے اس حوالے سے بہت طاقتور ڈیٹوکس ثابت ہوتا ہے جو جسم کے اندر سے تمام زہریلا مواد ختم کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ ادرک، گاجریں یا سیب بھی اس حوالے سے بہت موثر ثابت ہوتے ہیں کیونکہ اس سے نظام ہاضمہ زیادہ کام کرنے لگتا ہے، اس طرح یہ جسمانی وزن کا سب سے تیز اور قدرتی طریقہ ہے۔

فروٹ جوسز

پھلوں کا جوش مزیدار، بنانے میں آسان اور غذائیت، وٹامنز اور منرلز سے بھر پور ہوتا ہے، اگرچہ سینکڑوں پھلوں کا جوس بنا کر استعمال کیا جاسکتا ہے مگر کرین بیری اور ناشپاتی ایسے 2 پھل ہیں جو سب سے زیادہ مزیدار، زیادہ موثر اور وٹامن سی کی مقدار جسم تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ یہ نہ صرف جسمانی وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں بلکہ یہ جسمانی توانائی بڑھاتے ہیں اور جسم کو درکار تمام ضروری وٹامنز اور پروٹینز بھی فراہم کرتے ہیں۔

بلیک کافی

سب سے آخر میں دنیا کے مقبول ترین مشروبات میں سے ایک بلیک کافی موجود ہے، جس کے متعدد طبی فوائد ہیں، جو نہ صرف مختلف اقسام کے کینسر کا خطرہ کم کرتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ میٹابولزم کو بڑھا کر چربی گھلانے کا عمل بھی تیز کر دیتی ہے۔ یہ تلخ مشروب ذیابیطس اور امراض قلب کے خطرے کی روک تھام کیلئے بھی مفید ہے۔

Google Analytics Alternative