صحت

شہد اور دارچینی کا روزانہ استعمال صحت کے لیے بہتر

شہد کا استعمال تو صدیوں سے لوگ مختلف طبی مسائل سے بچاﺅ کے لیے کررہے ہیں اور یہ وہ چیز ہے جو کبھی ایکسپائر نہیں ہوتی۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ شہد میں دار چینی کو ملا کر روزانہ استعمال کیا جائے تو اس کے کتنے فوائد ہیں؟

یہاں ایسے ہی سائنسی شواہد جانیں جو ان دونوں کے امتزاج سے صحت کو ہونے والے فوائد کے بارے میں بتاتے ہیں۔

بڑھاپے کی روک تھام

جسم میں مضر اجزاء یا آکسائیڈنٹس خلیات اور ٹشوز کو نقصان پہنچاتے ہیں، جس کے نتیجے میں قبل از وقت بڑھاپے اور دیگر امراض کا خطرہ بڑھا جاتا ہے، اس کے مقابلے میں اینٹی آکسائیڈنٹس ان مضر اجزاءسے پاک ہوتے ہیں اور بڑھاپے کے عمل کی رفتار کو سست کردیتے ہیں، شہد بھی متعدد اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے اور طبی سائنس کے مطابق گہرے رنگ کا شہد ان اجزاءکے حصول کا بہترین ذریعہ ہے، جبکہ دارچینی میں فولی فینول نامی اینٹی آکسائیڈنٹس ہوتے ہیں۔

دل کی صحت میں بہتری

شہد اور دارچینی کا استعمال خون کی شریانوں کے امراض کی روک تھام بھی کرتے ہیں جو کہ دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہیں، شہد کا استعمال دل کی جانب دوران خون کو بڑھاتا ہے جبکہ اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس خون کو گاڑھا یا جمنے سے روکنے میں مدد دیتے ہیں جو کہ ہارٹ اٹیک اور فالج کا باعث بنتے ہیں، اسی طرح دار چینی کا استعمال جسم کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح کم کرتا ہے، جبکہ صحت کے لیے بہتر کولیسٹرول کا لیول بڑھتا ہے۔ ناشتے میں ایک چمچ شہد میں کچھ مقدار میں دارچینی کا روزانہ استعمال دل کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔

بیکٹریا کے انفیکشن کے خلاف جدوجہد

شہد اور دارچینی دونوں بیکٹریا کش اثرات رکھتے ہیں، تو آپ ان دونوں کے امتزاج کو استعمال کرکے نہ صرف نزلہ زکام سے بچ سکتے ہیں بلکہ دیگر انفیکشنز جیسے گردوں یا مثانے کو بھی دور رکھ سکتے ہیں۔

جسمانی وزن میں کمی

شہد اور دارچینی جسمانی وزن میں کمی لانے والی اشیاءنہیں مگر یہ جسمانی وزن کو تیزی سے کم کرنے میں مدد ضرور دیتے ہیں، اس کے لیے چینی اور میٹھی اشیاءکو شہد سے بدل دیں کیونکہ ریفائن چینی بلڈ گلوکوز کی سطح کو بڑھاتی ہے جس کے بعد اچانک بلڈ شوگر کی سطح گر بھی جاتی ہے، جس کے نتیجے میںانسولین زیادہ بننے لگتی ہے، اس کے مقابلے شہد دوران خون میں سست روی سے جذب ہوتا ہے جس سے بلڈ شوگر کی سطح نہیں بڑھتی، جبکہ دارچینی بلڈ شوگر کی سطح میں کمی اور انسولین کی حساسیت کو کم کرتی ہے جس سے میٹابولزم تیز ہوتا ہے اور گلوکوز چربی میں بدلنے کی بجائے جسم کو توانائی پہنچانے کا کام آتا ہے۔ اس کے لیے روزانہ ایک گلاس پانی میں چائے کا چمچ شہد اور آدھا چمچ دارچینی ملا کر ناشتے سے آدھے گھنٹے پہلے یا رات کو سونے سے آدھے گھنٹے پہلے پی لیں۔

بلڈ شوگر میں کمی

ہائی بلڈ شوگر ذیابیطس سمیت متعدد امراض کا بنتا ہے، مگر شہد اور دارچینی اس کے لیے مفید ہیں، ایک تحقیق کے مطابق شہد میں پانی کی مقدار صرف 17 فیصد ہوتی ہے جبکہ دیگر اجزاءبھی جسم میں آسانی سے جذب ہوجاتے ہیں اور بلڈ شوگر کی سطح نہیں بڑھتی، ایک اور تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ دارچینی کا استعمال بلڈ شوگر کی سطح کو کم کرتا ہے تاہم اسے دوا کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

پیٹ پھولنے کے مسئلے سے نجات دلانے والے مشروبات

بہت زیادہ یا بہت تیزی سے کھانے کے نتیجے میں پیٹ پھول جاتا ہے یا یوں کہہ لیں اندر سے سوج جاتا ہے جس کے نتیجے میں کافی تکلیف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ویسے یہ جان لیں کہ ہر وقت پیٹ سپاٹ رکھنا نارمل نہیں ہوتا کیونکہ کھانے یا پینے کے بعد غذائیں اور سیال مواد معدے اور آنتوں میں جگہ بنا لیتے ہیں، یعنی وہ کچھ پھول جاتے ہیں۔

ویسے تو پیٹ کا بہت زیادہ پھولنا ضروری نہیں، اس بات کی علامت ہو کہ آپ نے کچھ غلط کھالیا ہے تاہم یہ اتنا پھول جائے کہ کپڑے تنگ محسوس ہونے لگیں تو اس کی وجہ آپ کی غذا ہی ہوسکتی ہے۔

تاہم کچھ مشروبات اس حوالے سے فائدہ مند ہوتے ہیں جن کے بارے میں جاننا آپ کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں۔

پودینے کی چائے

اگر رات کو کھانے کے بعد پیٹ میں گرانی کا احساس ہو تو پودینے کی چائے کا ایک کپ اس احساس سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، اس چائے کو پینے سے غذائی نالی کے مسلز کو سکون ملتا ہے جبکہ ہاضمہ بھی بہتر ہوتا ہے۔

ناریل کا پانی

سافٹ ڈرنکس اور دیگر میٹھے مشروبات کی جگہ ناریل کے پانی کا استعمال موٹاپے سے بچاﺅ کے لیے فائدہ مند ہے، درحقیقت یہ صرف 14 دن میں توند میں نمایاں کمی لانے میں مدد دیتا ہے، یہ کم کیلوریز مشروب پیٹ کو دیر تک بھرے رکھنے کا احساس دیتا ہے، کھانے سے قبل ایک گلاس اس مشروب کا استعمال آپ کو زیادہ کھانے نہیں دے گا، اس میں موجود پوٹاشیم پیٹ پھولنے کا مسئلہ بھی کم کرتا ہے۔

پانی

اگر پیٹ پھول جائے تو ہوسکتا ہے کہ آپ کو لگے کہ اب پیٹ میں کسی چیز کی گنجائش نہیں، مگر پانی پینا نظام کی صفائی، گیس کے اخراج اور پیٹ سپاٹ کرنے میں مدد دے سکتا ہے، درحقیقت اگر مناسب مقدار میں پانی نہ پیا جائے تو جسم ڈی ہائیڈریشن سے بچنے کے لیے پانی کو جمع کرلیتا ہے جو پیٹ پھولنے کا باعث بنتا ہے۔

لیموں پانی

لیموں ترش ہوتے ہیں جو نظام ہاضمہ کو بہتر اور گیس کو کم کرتے ہیں، اس میں پوٹاشیم بھی موجود ہوتا ہے جو جسم میں نمک کی سطح کو کنٹرول میں رکھتا ہے، ایک تجربے کے دوران ایک خاتون نے 2 ہفتے تک لیموں پانی پیا اور کچھ دن بعد ہی انہیں یہ احساس ہوا کہ ان کے پیٹ پھولنے یا گیس پیدا ہونے کا مسئلہ کم ہوگیا ہے۔

سبز چائے

سبز چائے نظام ہاضمہ کو صاف کرنے، میٹابولزم کو بہتر بنانے اور پیٹ پھولنے کو کم کرتی ہے جبکہ سبز چائے ایک ایسا مشروب ہے جس کا زیادہ استعمال کسی قسم کے مضر اثرات کا باعث بھی نہیں بنتا، اگر اکثر پیٹ پھولنے اور گیس کا مسئلہ ہوتا ہے تو اس گرم مشروب سے لطف اندوز ہونا مت بھولیں۔

ادرک کی چائے

ادرک موسمی نزلہ زکام، مسلز میں تکلیف وغیرہ کے لیے گھریلو ٹوٹکے کے طور پر استعمال کی جاتی ہے اور پیٹ پھولنے کی تکلیف میں کمی کے لیے بھی فائدہ مند ہے، یہ قدرتی طور پر ورم کش اور نظام ہاضمہ کے لیے بہترین ہے۔ یہ نظام ہاضمہ کو سکون پہنچا کر غذائی نالی کے مسلز کو ریلیکس کرتی ہے۔ اس میں موجود انزائمے پروٹین کو جذب کرنے میں مدد دیتے ہیں، جس سے بھی پروٹین کے زیادہ استعمال سے پیٹ پھولنے اور گیس کا مسئلہ کم ہوتا ہے، اس کی چائے بناکر استعمال کرنا اس حوالے سے فائدہ مند ہوتا ہے۔

سونف کی چائے

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ سونف پیٹ پھولنے کے مسئلے سے نجات دلانے کے لیے بہترین ٹوٹکا ہے جو گیس کم کرنے والے آئلز سے بھرپور ہوتی ہے، اگر پیٹ پھولنے کا مسئلہ ہو تو ایک کپ گرم پانی میں سونف کا اضافہ کرکے اسے 10 منٹ بعد پی لیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

اس مزیدار میوے کو روز کھانا کیوں ضروری ہے؟

مونگ پھلی، بادام، پستے، اخروٹ اور ایسی ہی گریوں کے ساتھ ایک اور میوہ اس موسم میں لوگوں کو بہت پسند آتا ہے اور وہ ہے چلغوزہ۔

چلغوزہ ہوتا تو مپنگا ہے مگر انتہائی لذیذ ہونے کے ساتھ صحت کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند بھی ہے۔

اس میں متعدد غذائی اجزا موجود ہیں جن کا استعمال سردیوں میں جسم کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

یہاں اس موسم میں چلغوزے روز کھانے کے فوائد درج ذیل ہیں۔

بے وقت بھوک کی روک تھام

چلغوزہ فیٹی ایسڈز سے بھرپور میوہ ہے جو کہ بے وقت بھوک کی روک تھام میں مدد دیتا ہے، یہ فیٹی ایسڈز ایک ہارمون کے اخراج میں مدد دیتا ہے جو کہ کھانے کی اشتہا کو دباتا ہے، ایک تحقیق میں دریافت کیا چلغوزے کھانے سے کھانے کی خواہش 60 فیصد تک کم ہوجاتی ہے۔

جسمانی توانائی بڑھائے

اس گری میں موجود مختلف اجزا جیسے مونوانسچورٹیڈ فیٹ، آئرن اور پروٹین جسمانی توانائی کو بڑھانے میں مدد دیتے ہیں، اس کے علاوہ یہ میگنیشم کے حصول کا بھی اچھا ذریعہ ہے جو کہ جسمانی تھکاوٹ کو کم کرتا ہے۔

امراض قلب کا خطرہ کم کرے

گریاں عام طور پر صحت کے لیے فائدہ مند سمجھی جاتی ہیں جس کی وجہ ان میں وٹامن ای اور کے، میگنیشم، مونوسچورٹیڈ فیٹ اور دیگر اجزاءکی موجودگی ہے، یہی چیز چلغوزے کو بھی دل کے لیے فائدہ مند بناتی ہے جو کہ صحت بخش کولیسٹرول کی سطح بہتر جبکہ نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح کم کرتا ہے۔ اس میں موجود وٹامن کے خون کی رکاوٹ سے بچاتا ہے جبکہ وٹامن ای خون کے سرخ خلیات بنانے میں مدد دیتا ہے، جبکہ اس میں موجود پوٹاشیم بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے جس سے ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

ذیابیطس کے لیے بھی فائدہ مند

چلغوزے روز کھانا ذیابیطس ٹائپ ٹو کو کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتا ہے، یہ گری ذیابیطس سے منسلک پیچیدگیوں جیسے بینائی کو نقصان اور فالج سے بھی تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔ اس میوے کا روزانہ استعمال بلڈ گلوکوز کو بھی بہتر کرتا ہے۔

دماغی صحت بہتر کرے

چلغوزے آئرن سے بھرپور ہوتے ہیں اور یہ منرل دماغ کو آکسیجن کی فراہمی کے لیے بہت ضروری ہے جس سے دماغی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔ کچھ رپورٹس میں عندیہ دیا گیا ہے کہ اسے کھانے کی عادت ذہنی بے چینی، ڈپریشن اور تناﺅ جیسے مسائل سے بھی بچاتا ہے۔

کینسر کا خطرہ کم کرے

چلغوزوں میں موجود میگنیشم مختلف اقسام کے کینسر کا خطرہ کم کرتا ہے، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جسم میں میگنیشم کی مقدار کم ہونا لبلبے کے کینسر کا خطرہ 24 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔

ہڈیاں مضبوط بنائے

وٹامن کے کا استعمال کیلشیئم کی طرح ہڈیوں کی مضبوطی میں مدد دیتا ہے، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ یہ وٹامن ہڈیوں کے بھربھرے پن کے علاج یا اس سے بچاﺅ میں مدد دیتا ہے، اس سے نہ صرف ہڈیوں کی کثافت بڑھتی ہے بلکہ فریکچر کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

جسمانی وزن کم کرے

بے وقت کھانے سے روکنے میں مددگار یہ سوغات پینولینک ایسڈ سے بھی بھرپور ہوتا ہے جو کہ جسمانی وزن میں کمی لاتا ہے، اس کے علاوہ چلغوزے کھانے سے توند کی چربی گھلانے کا عمل بھی تیز ہوتا ہے اور اس کے لیے غذائی عادات میں تبدیلی یا اس کی مقدار کم کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔

بالوں اور جلد کے لیے بھی مفید

مختلف وٹامنز، منرلز اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور چلغوزے جلد کی نگہداشت کے لیے حیران کن حد تک مددگار ثابت ہوتے ہیں، وٹامن ای اور اینٹی آکسائیڈنٹس عمر بڑھنے سے آنے والی جسمانی تنزلی کی روک تھام کرتے ہیں جبکہ ورم کش ہونے کی وجہ سے یہ حساس جلد کے لیے بھی مفید میوہ ہے۔ اس میں موجود وٹامن ای بالوں کی نشوونما کو تیز کرتا ہے، جن لوگوں کو بالوں کے گرنے یا ہلکے ہونے کا سامنا ہو، ان کے لیے چلغوزے انتہائی مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

بجلی کے ذریعے زخم تیزی سے ٹھیک کرنے والی پٹی

وسکانسن: یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ دیرینہ زخم اور ناسور برقی سرگرمی سے جلدی ٹھیک ہوجاتے ہیں اسی بنا پر امریکی ماہرین نے ہلکی پھلکی پٹی بنائی ہے جو برقی جھماکوں سے زخم کو تیزی سے ٹھیک کرسکتی ہے۔

یونیورسٹی آف وسکانسن میڈیسن کے سائنس دانوں نے ایک ایسی برقی بینڈیج بنائی ہے جسے پہنتے وقت الجھن نہیں ہوتی کیونکہ اس سے پہلے الیکٹرو تھراپی کی پٹیاں بہت بھاری بھرکم اور پیچیدہ ہوا کرتی تھیں۔ اسی وجہ سے ماہرین نے یہ باسہولت برقی ڈریسنگ بنائی ہے جو مریض کے گھومنے پھرنے سے بجلی بناتی ہے۔

جدید ڈریسنگ میں بہت باریک نینو جنریٹرز لگائے گئے ہیں اور ان سے ایک تار نکل کر پہننے والے کے بدن تک جاکر وہاں ایک پیوند سے منسلک ہوتا ہے۔ جیسے جیسے مریض چلتا پھرتا ہے تو نینو جنریٹرز میں بجلی بنتی ہے اور بجلی کی لہروں سے دیرینہ ناسور تیزی سے مندمل ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

سانس لیتے ہوئے پسلیوں کے پھیلنے اور سکڑنے سے جو حرکت ہوتی ہے وہ نینو جنریٹر کے لیے بجلی کی تیاری میں بہت ہوتی ہے۔ اس لیے پٹی کے لیے کسی بیٹری کی ضرورت نہیں ہوتی۔

پٹی پر لگے برقیروں سے ہلکی بجلی زخم تک جاتی ہے اور کٹے پھٹے زخم کو تیزی سے مندمل کرتی ہے۔ تجربہ گاہ میں چوہوں پر کیے گئے تجربات سے ثابت ہوا کہ جو زخم عام حالات میں 12 روزمیں درست ہوتے ہیں الیکٹریکل پٹی نے اسے تین دن میں ٹھیک کردیا۔

ماہرین کے مطابق اس عمل سے زخم کو کوئی نقصان نہیں ہوتا اورکرنٹ محسوس بھی نہیں ہوتا۔ بجلی کی صورت میں فائبرو بلاسٹ خلیات (سیلز) تیزی سے سرگرم ہوکرزخم کو بھرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس طرح بڑے سے بڑا زخم تیزی سے مندمل ہوسکتا ہے۔ ماہرین نے برقی بینڈیج ایسے ناسوروں کے لیے بھی بنائی ہے جو عام حالات میں ٹھیک ہونے کا نام نہیں لیتے۔

سردیوں میں ہونٹوں کا خیال کیسے رکھا جائے؟

سردیاں ان افراد کو پسند تو ہیں جنہیں گرمیوں کی دھوپ بردداشت نہین، لیکن اس سرد موسم میں سب سے زیادہ مسئلہ ان افراد کو ہوتا ہے جن کی جلد خشک ہے۔

بعض افراد سردیوں میں جلد خشک، بال روکھے اور ہونٹ پھٹنے جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

خشک اور ٹھنڈا موسم ہونٹوں کو بھی خشک بنادیتا ہے جس سے ہونٹ پھٹنا شروع ہوجاتے ہیں۔

ایسے میں اپنی جلد کے ساتھ ساتھ ہونٹوں کا خیال رکھنا بھی بےحد ضروری بن جاتا ہے، کیوں کہ پھٹے ہوئے ہونٹ آپ کی شخصیت پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔

اپنے ہونٹوں کا خیال رکھنے کے لیے بھی آپ کو کسی مہنگی پروڈکس خریدنے کی ضرورت نہیں، بلکہ ہونٹوں کو نرم رکھنے کے لیے آپ کے کچن میں ایسی کئی چیزیں موجود ہیں جو اس مسئلے میں مدد دے سکتی ہیں۔

سردیوں میں ہونٹوں کا خیال رکھنے کی چند ٹپس

1- ہونٹوں کو تھوک سے گیلا کرنا سب سے بڑی غلطی ہے، اس سے یہ مزید خشک ہوتے ہیں۔

2- اگر ہونٹوں کا خیال نہ رکھا جائے تو انفیکشن ہوجانے کا خطرے ہوتا ہے۔

3- ہمیشہ ہونٹوں پر بام رات کو سونے سے قبل لگائیں، ہونٹوں کو ٹھیک ہونے کا وقت دیں۔

4- ہونٹوں پر بھی سن اسکرین لوشن لگائیں۔

5- ویسے تو سردیوں میں زیادہ پیاس نہیں لگتی لیکن زیادہ سے زیادہ پانی پینے کی کوشش کریں۔

سردیوں میں ہونٹوں کے لیے گھریلو ٹوٹکے

ایلو ویرا (کوار گندل)

ایلوویرا کا پودا آسانی سے مل جاتا ہے، اس میں موجود گودا اپنے ہونٹوں پر لگائیں تاکہ یہ نرم رہیں۔

گھی

خشک ہونٹوں پر گھی کی ایک بوند بھی کمال دکھا سکتی ہے، رات کو سونے سے قبل ہونٹوں پر نرمی رہنے کے لیے گھی لگائیں۔

شہد

شہد خشک اور پھٹے ہوئے ہونٹوں کے لیے مددگار غذا ہے، گلسرین کے ساتھ شہد ملا کر ہونٹوں پر لگائیں۔

چینی

چینی ہونٹوں پر اسکرب کی طرح کام کرتی ہے، جو خراب جلد کو بھی صاف کرتی ہے۔

ناریل کا تیل

ناریل کے تیل کو ہونٹوں پر سونے سے قبل لگاکر چھوڑ دیں، یہ خشکی کو ختم کرکے انہیں نرم بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

پاکستان میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ گئی

ایڈز ایسا مہلک اور جان لیوا مرض ہے جس کا اب تک علاج دریافت نہیں کیا جاسکا۔

1981 میں منظر عام پر آنے والے اس مرض کے حوالے سے ہر سال یکم دسمبر کو ورلڈ ایڈز ڈے منایا جاتا ہے اور اس سال کی تھیم چیک یور اسٹیٹس یعنی اپنا معائنہ کرائے ہے۔

جیسا کہ آپ کو علم ہوگا کہ انسانی جسم میں مختلف بیماروں سے بچنے کے لیے ایک طاقتور دفاعی نظام کام کررہا ہوتا ہے اور ایڈز اسی کو ناکارہ کرتا ہے۔

پاکستان میں مریضوں کی تعداد

نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام (این اے سی پی) کے نیشنل پروگرام منیجر ڈاکٹر بشیر خان اچکزئی نے اس عالمی دن کے حوالے سے جمعے کو اپنے ایک بیان میں بتایا کہ پاکستان میں ڈیڑھ لاکھ کے قریب ایچ آئی وی پازیٹو مریض موجود ہیں، جن میں سے 25 ہزار این اے سی پی میں رجسٹر ہیں، جن میں سے 15 ہزار سے زائد کا اینٹی retroviral علاج کیا جارہا ہے۔ گزشتہ سال سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے فوکل پرسن نے بتایا تھا کہ حکومت پاکستان کو اس بیماری پر خصوصی توجہ دینی چاہیے ورنہ پورے ملک کا بجٹ بھی اس بیماری کے خاتمے کے لیے کم پڑے گا۔ کے پی ایڈز کنٹرول پروگرام کے منیجر ڈاکٹر سلیم کے مطابق صوبے میں ایڈز کے شکار افراد کی تعداد 4266 ہے جبکہ بلوچستان میں یہ تعداد 5 ہزار سے زائد، سندھ میں 56 ہزار سے زائد ہے تاہم پنجاب کے اعدادوشمار اس حوالے سے واضح نہیں۔ پاکستان میں منشیات کے عادی افراد میں ایچ آئی وی ایڈز کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے کیونکہ وہ سرنج کو بار بار استعمال کرتے ہیں جبکہ جسمانی تعلقات دوسرا بڑا خطرہ ہے، اسی طرح خون کی منتقلی کے عمل کے حوالے سے بھی خدشات موجود ہیں۔

ایڈز کیا ہے؟

ایڈز کا مرض ایک وائرس ایچ ائی وی کے ذریعے پھیلتا ہے جسے جسمانی مدافعتی نظام ناکارہ بنانے والا وائرس بھی کہا جاتا ہے۔ عام طور پر یہ جنسی بے راہ روی، ایڈز کے وائرس سے متاثرہ سرنج اور سوئیاں دوبارہ استعمال کرنے، وائرس سے متاثرہ اوزار جلد میں چبھنے، جیسے ناک، کام چھیدنے والے اوزار، دانتوں کے علاج میں استعمال ہونے والا آلات، حجام کے آلات اور سرجری کے لیے دوران استعمال ہونے والے آلات سے کسی فرد میں منتقل ہوسکتا ہے۔ درحقیقت ایڈز ایچ آئی وی وائرس کی آخری اسٹیج کو کہا جاتا ہے، اگر ایچ آئی وی کا علاج نہ کرایا جائے تو مدافعتی نظام تباہ ہوکر ایڈز کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔

علامات

اس کی ابتدائی علامت معمولی زکام ہوسکتا ہے جس پر عموماً دھیان نہیں دیا جاتا جبکہ ایڈز کا مریض مہینوں یا برسوں تک صحت مند بھی نظر آتا ہے یعنی وہ بتدریج ایڈز کا مریض بنتا ہے۔ دیگر بڑی علامات میں بہت کم وقت میں جسمانی وزن دس فیصد سے کم ہوجانا، ایک مہینے سے زیادہ اسہال رہنا، ایک مہینے سے زیادہ بخار رہنا وغیرہ۔

ایڈز سے بچا کیسے جائے؟

ہمیشہ اپنے شریک حیات تک محدود رہیں اور جنسی بے راہ روی سے بچیں، اگر انجیکشن لگوانا ہے تو ہمیشہ نئی سرنج کا استعمال کریں، خون کی منتقلی اسی صورت میں کروائیں جب ضروری ہو جبکہ اس بات کو یقنی بنائیں کہ خون ایڈز کے وائرس سے پاک ہو۔ یہ مرض کسی مریض کے ساتھ گھومنے، ہاتھ ملانے یا کھانا کھانے سے نہیں پھیلتا، لہذا مریض سے دور بھاگنے کی ضرورت نہیں۔

علاج

اگر ایچ آئی وی وائرس کی تشخیص کے بعد علاج نہ کرایا جائے تو اس سے دیگر امراض جیسے تپ دق، بیکٹریل انفیکشن، کینسر اور سرسام کا خطرہ بڑھتا ہے، جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ ایچ آئی وی لاعلاج مرض ہے مگر علاج سے اس وائرس کو کنٹترول کرکے مریض صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔ پاکستان بھر میں ایچ آئی وی ایڈز کے لیے 33 مراکز موجود ہیں جہاں مفت ٹیسٹ اور ادویات فراہم کی جاتی ہیں۔

انڈوں کی زردی کی رنگت کیا بتاتی ہے؟

انڈے صحت کے لیے بہت فائدہ مند قرار دیئے جاتے ہیں مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ اس کی زردی کی رنگت سے بھی جان سکتے ہیں کہ وہ صحت کے لیے کتنے فائدہ مند ہیں؟

جی ہاں واقعی زردی کی رنگت سے بتایا جاسکتا ہے کہ وہ صحت مند مرغی سے ہیں اور ان میں مناسب مقدار میں وٹامن اے، سی اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈز موجود ہیں۔

اسی طرح زردی کی رنگت سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ ان میں صحت بخش اجزاءکی کمی ہوسکتی ہے۔

گہرے اورنج رنگ کی زردی

اگر انڈے کی زردی گہرے اورنج رنگ کی ہو تو عام طور پر یہ اس کے بہت زیادہ صحت بخش ہونے کی علامت ہوتی ہے، اور ممکنہ طور پر ایسے فارم سے اس کا تعلق ہوسکتا ہے جہاں مرغیوں کو دن کی روشنی میں گھومنے کا موقع ملتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ تاریک جگہوں پر قید نہیں رہتیں۔ ان مرغیوں کو قدرتی غذا کھانے کا موقع ملتا ہے اور اسی وجہ سے انڈے صحت بخش اجزاءسے بھرپور ہوتے ہیں جیسے وٹامن اے، ای اور فیٹی ایسڈز بھرپور مقدار میں ہوتے ہیں۔

ہلکے اورنج رنگ کی زردی

اس طرح کے انڈے یاسے فارمز سے تعلق رکھتے ہیں جہاں مرغیوں کے لیے حالات تو زیادہ خراب نہ ہو مگر پھر بھی بہت زیادہ موزوں نہ ہوں۔ آسان الفاظ میں ان فارمز میں مرغیوں کو گھومنے کی زیادہ آزادی نہیں ہوتی بلکہ وہ جنگلے کے اندر مصنوعی روشنیوں میں پرورش پاتی ہیں۔ انہیں قدرتی غذا کھانے کا موقع بھی نہیں ملتا بلکہ پولٹری فیڈ استعمال کرائی جاتی ہے۔

پیلے یا زرد رنگ کی زردی

ایسے انڈے عام طور پر سپر مارکیٹس میں دستیاب ہوتے ہیں اور فیکٹری چکن سے تعلق رکھتے ہیں، یعنی ایسے بڑی فیکٹریاں، جہاں ان پرندوں کی حالت کسی بھیانک خواب سے کم نہیں ہوتی، انہیں سورج کی روشنی کبھی میسر نہیں آتی، رہنے کی جگہ بہت کم ہوتی ہے اور اکثر غلیظ جگہیں ہوتی ہیں۔ ان مرغیوں کی غذا بھی صحت بخش نہیں ہوتی اور ان میں صحت بخش اجزاءکی واضح کمی ہوتی ہے۔

پیشاب کی نالی میں سوزش سے بچانے والے گھریلو ٹوٹکے

پیشاب کی نالی میں سوزش کافی تکلیف دہ مرض ہوتا ہے جس کے بارے میں بات کرتے ہوئے کافی لوگ ہچکچاتے بھی ہیں۔

اس سوزش یا یو ٹی آئی کی علامات واضح ہوتی ہیں بلکہ انہیں بیماری کے آغاز پہلے ہی پہچانا جاسکتا ہے۔

ویسے تو خواتین میں اس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے مگر مردوں کو بھی اس کا سامنا ہوسکتا ہے۔

تاہم اس سے بچنا بہت آسان ہے اور چند گھریلو ٹوٹکے اس معاملے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

سیب کا سرکہ

دو کھانے کے چمچ سیب کا سرکہ، ایک کھانے کا چمچ شہد، آدھے لیموں کا عرق اور ایک کپ پانی مکس کریں اور اسے پی لیں، اس مشروب کو روزانہ 2 بار اس وقت تک پینا جاری رکھیں جب تک کہ انفیکشن ختم نہیں ہوجاتا۔

زیادہ پانی پینا

پانی زیادہ پینے کی عادت پیشاب کی نالی کی سوزش جیسے تکلیف دہ مرض کا خطرہ کم کردیتا ہے، خصوصاً خواتین کے لیے تو یہ عادت بہت ضروری ہے۔ میامی یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق زیادہ پانی پینے سے مثانے میں اکھٹا ہونے والے بیکٹریا کو نکالنا آسان ہوجاتا ہے اور ان کا اجتماع نہیں ہوپاتا جو کہ اس مرض کا باعث بنتے ہیں۔ محققین کا کہنا تھا کہ پیشاب کی نالی میں انفیکشن سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ بیکٹریا کو جمع ہونے سے روکا جائے۔

بیکنگ سوڈا

بیکنگ سوڈا میں اکلائن ہوتا ہے جو کہ پیشاب میں تیزابیت کو متوازن کرتا ہے، اس مقصد کے لیے ایک کھانے کے چمچ بیکنگ سوڈا کو ایک گلاس پانی میں ملائیں اور پی لیں، جس حد تک ممکن ہو اس مشروب کا استعمال کریں۔

دہی

سادہ دہی لیں اور ہر کھانے کے بعد کچھ مقدار میں کھالیں، دہی نہ صرف مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ یہ پیشاب کی نالی کے سوزش سے بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔

وٹامن سی

لیموں، مالٹے، پپیتا، شملہ مرچ اور ترش پھلوں سمیت متعدد میں وٹامن سی کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے اور یہ پیشاب کی نالی میں انفیکشن کے علاج کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر اس سوزش کا سامنا ہے تو اس وقت تک ترش پھل کچھ مقدار میں روز کھائیں جب تک انفیکشن ختم نہیں ہوجاتا۔

سبز چائے

ای کتحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ایک کپ سبز چائے روزانہ پینے کی عادت پیشاب کی نالی میں سوزش کا مقابلہ ہی نہیں کرتی بلکہ اس کے دوبارہ پلٹنے سے بھی تحفظ فراہم کرتی ہے، اگر اس مرض کا سامنا ہے تو صبح شام 2 کپ سبز چائے پینا عادت بنائیں۔

دھنیے کی چائے

دھنیے کی 2 گڈیاں اور 4 کپ پانی لیں، دھنیے کو کاٹ کر پانی میں مکس کریں اور پھر اسے پندرہ منٹ تک ابالیں، اس کے بعد چھان کر پی لیں۔ اس چائے میں ورم کش خصوصیات ہوتی ہیں جو کہ پیشاب کی نالی میں انفیکشن کو دور کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

لیموں کا عرق

لیموں کا عرق روزانہ پینا نہ صرف ہر قسم کے انفیکشن کو ختم کرتا ہے بلکہ اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جسم میں گردش کرنے والے مضر اجزا کا بھی خاتمہ کرتا ہے۔ پیشاب کی نالی میں سوزش کی صورت میں آدھا کپ لیموں کا عرق اور ایک کپ گرم پانی کا لیں اور ان کو مکس کرکے صبح نہارمنہ پی لیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Google Analytics Alternative