صحت

نیند کے دوران انسانی دماغ میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں؟

انسان جب سوتے ہیں تو ان کے دماغ میں کچھ حیرت انگیز ہوتا ہے کیونکہ جیسے ہی عصبی خلیات خاموش ہوتے ہیں، تو خون سر سے باہر بہہ جاتا ہے اور ایک پانی جیسا سیال کا بہاﺅ شروع ہوجاتا ہے جو دماغ کی صفائی کرتا ہے۔

درحقیقت دماغی صفائی کرنے والا یہ سیال دماغ کو تنزلی کا باعث بننے والے مرض ڈیمینشیا سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

بوسٹن یونیورسٹی کی تحقیق میں پہلی بار سائنسدان نیند کے دوران دماغ میں ہونے والے اس عمل کی تصاویر لینے میں کامیاب ہوئے اور انہیں توقع ہے کہ اس سے دماغی امراض کو سمجھنے میں مدد مل سکے گی۔

کیئر برو اساپئنل فلوئیڈ (سی ایس ایف) نامی یہ سیال ریڑھ کی ہڈی میں پایا جاتا ہے اور اس کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ یہ دماغ سے زہریلے مواد کو صاف کرتا ہے جو ڈیمینشیا کا باعث بنتا ہے۔

محققین کا کنا تھا کہ جو لوگ اچھی معیاری نیند کو معمول بنالیتے ہیں وہ عمر بڑھنے سے دماغی تنزلی سے بھی خود کو بچالیتے ہیں۔

طبی جریدے جرنل سائنس میں شائع تحقیق میں تحقیقی ٹیم میں شامل پروفیسر لورا لوئس کا کہنا تھا کہ یہ ایک ڈرامائی اثر ہے، سی ایس ایف نیند کے دوران یہ کام کرتا ہے، یہ کچھ ایسا ہے جس کا ہمیں پہلے علم نہیں تھا۔

تحقیق کے دوران 23 سے 33 سال کے 13 صحت مند افراد کی خدمات حاصل کرکے دوران نیند ایم آر آئی اسکینر سے ان کے دماغ کا جائزہ لیا گیا۔

اس کے ساتھ ساتھ سائنسدانوں نے رضاکاروں کے دماغوں میں مختلف قسم کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی اور الیکٹروڈز سے اعضابی خلیات کی جانچ پڑتال کی گئی جبکہ ایم آر آئی سے ان عصبی خلیات کو توانائی فراہم کرنے والے آکسیجن ملے خون کی موجودگی کو دیکھا گیا۔

ایم آر آئی کی ایک اور قسم سے تحقیقی ٹیم نے دماغ میں سی ایس ایف کی سرگرمیوں کا بھی معائنہ کیا۔

انہوں نے دیکھا کہ نیند کے دوران برقی سگنلز جن کو ڈیلٹا ویوز بھی کہا جاتا ہے، نمودار ہوئیں اور اس کے چند سیکنڈ بعد سر سے خون باہر نکلنے لگا اور پھر سی ایس ایف دماغ میں بھرنے لگا۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہم یہ دیکھ کر اچھل پڑے کیونکہ یہ بہت چونکا دینے والا تھا۔

الزائمر (ڈیمینشیا کی سب سے عام قسم) امراض کے شکار افراد میں ڈیلٹا ویوز کمزور اور بہت کم ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں دماغ میں دوران خون متاثر ہوتا ہے اور سی ایس ایف کی نیند کے دوران صفائی کا عمل بھی پورا نہیں ہوتا۔

اس کے نتیجے میں زہریلے پروٹین کا اجتماع ہونے لگتا ہے اور یاداشت متاثر ہوجاتی ہے۔

محققین کا کہن تھا کہ پہلے بھی سی ایس ایف بہاﺅ، خون کے بہاﺅ اور دماغی لہروں کا الگ الگ تجزیہ کیا گیا مگر اب ثابت ہوا ہے کہ ان کا قریبی تعلق ہے مگر یہ واضح نہیں کہ کتنا قریبی۔

تحقیق ٹٰم کو توقع ہے کہ وہ اب یہ جان سکیں گے کہ عمر بڑھنے سے اس عمل پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اس کے لیے معمر افراد پر الگ سے تحقیق کی جائے گی، تاہم یہ واضح ہے کہ اچھی نیند سے ڈیمینشیا کے خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے۔

بھارتیوں کے دماغ دنیا میں سب سے چھوٹے: تحقیق

آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے بڑے ملک بھارت کے لوگ اگرچہ اس وقت ٹیکنالوجی، صحت و کاروبار سے متعلق کام کرنے والے عالمی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، تاہم ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ دراصل بھارتی لوگوں کے دماغ دنیا میں سب سے چھوٹے ہوتے ہیں۔

اپنی نوعیت کی یہ منفرد تحقیق خود بھارتی ماہرین نے کینیڈا سمیت دیگر ممالک کے ماہرین سے کی ہے اور اس تحقیق کے دوران بھارت کے مرد و خواتین کے دماغوں کا جائزہ لیا گیا تھا۔

بھارتی سائنس جرنل ’نیورولاجی انڈیا‘ میں شائع رپورٹ کے مطابق بھارتیوں کا دماغ نہ صرف مغربی ممالک کے افراد کے مقابلے دماغ چھوٹا ہوتا ہے بلکہ ان کا دماغ کئی مشرقی ممالک کے لوگوں سے بھی چھوٹا ہے۔

تحقیق میں بھارتی ماہرین نے بھی حصہ لیا—فوٹو: شٹر اسٹاک
تحقیق میں بھارتی ماہرین نے بھی حصہ لیا—فوٹو: شٹر اسٹاک

مذکورہ تحقیق میں بھارتی شہر حیدرآباد میں موجود ’انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ (آئی آئی آئی ٹی) اور کینیڈا کی مک گیل اور مونٹریال یونیورسٹی کے ماہرین نے حصہ لیا۔

ماہرین نے ابتدائی طور پر 350 افراد کے دماغوں کی تصاویر اور مختلف ٹیسٹ سے ’برین ایٹلس‘ تشکیل دیا جو کسی بھی انسان کے دماغ کے حصوں کو جانچنے کا درست سائنسی طریقہ ہوتا ہے۔

اسی تحقیق کے دوران ماہرین نے 100 بھارتی افراد کے دماغوں کی ایم آر آئی اسکیننگ سمیت دیگر ٹیسٹوں کی مدد سے ’برین ایٹلس‘ کا خاکہ تیار کیا، جس کے بعد ماہرین نے بھارتی افراد کے برین ایٹلس کا موازنہ عالمی افراد کے برین ایٹلس سے کیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ حیران کن طور پر بھارتیوں کے دماغ دنیا کے دیگر ممالک کے افراد سے قدامت، جسامت، حجم اور ڈیزائن میں دوسروں سے مختلف اور چھوٹے پائے گئے۔

رپورٹ کے مطابق بھارتیوں کے دماغ چینی اور جنوبی کورین افراد سے بھی مختلف پائے گئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارتیوں کے دماغ اگرچہ دوسرے ممالک کے لوگوں سے چھوٹے پائے گئے، تاہم اس کے نقصانات نہیں بتائے گئے لیکن اس امید کا اظہار کیا گیا کہ اس سے ہندوستانی لوگوں میں قبل از وقت الزائمر سمیت دیگر بیماریوں کا پتہ لگایا جا سکے گا۔

ماہرین نے واضح کیا کہ یہ تحقیق محدود تھی اور اس پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

کوریا اور چینی افراد کے دماغ بھی بھارتیوں سے بڑے ہیں، ماہرین—فوٹو: شٹر اسٹاک
کوریا اور چینی افراد کے دماغ بھی بھارتیوں سے بڑے ہیں، ماہرین—فوٹو: شٹر اسٹاک

قبض سے نجات دلانے میں مددگار بہترین پھلوں کے جوس

کیا آپ یقین کریں گے کہ امریکا میں لوگ ہر سال 25 کروڑ ڈالرز ایک ایسے عام مسئلے سے نجات پانے کے لیے ادویات پر خرچ کردیتے ہیں جو پاکستان میں بھی کافی عام ہے اور وہ ہے قبض۔

پاکستان میں اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعدادوشمار تو موجود نہیں مگر لاتعداد افراد قبض جیسے تکلیف دہ اور جھنجھلا دینے والے عارضے کا شکار ہوتے ہیں۔

حیران کن طور پر اکثر افراد میں اس مرض کی وجہ مناسب مقدار میں فائبر والی غذاﺅں سے گریز یا پانی کی کم مقدار پینا ہوتی ہے۔

اور پھلوں اور سبزیوں کے جوس میں پانی کے ساتھ ساتھ غذائی اجزا اور کچھ مقدار میں فائبر جسم کو ملتا ہے۔

جسم میں پانی کی مناسب مقدار قبض سے نجات میں مدد دے سکتا ہے مگر کچھ مخصوصFG جوسز اس حوالے سے زیادہ بہتر انتخاب ثابت ہوتے ہیں، جن کے بارے میں آپ نیچے جان سکتے ہیں۔

آلوبخارے یا خشک آلوبخارے کا جوس

آلوبخارے یا خشک آلوبخارے جسم پر جلاب کش اثرات مرتب کرتے ہیں، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ 100 گرام خشک آلوبخارے کھانے سے قبض سے نجات پانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس پھل میں غذائی فائبر کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے مگر جوس کی شکل میں بیشتر مقدار ختم ہوجاتی ہے۔

مگر یہ جوس جلاب جیسا اثر کرتا ہے کیونکہ اس میں میگنیشم، پوٹاشیم اور سوربیتول موجود ہوتے ہیں جو آنتوں کے افعال کو بہتر بناتے ہیں۔

لیموں کا جوس

لیموں وٹامن سی سے بھرپور ہوتے ہیں جو ایک ایسا اینٹی آکسائیڈنٹ ہے جو معدے میں پانی کی مقدار کو بڑھا کر فضلے کو نرم کرکے آنتوں کی حرکات کو متحرک کرتا ہے۔ جسم میں پانی کی کمی سے قبض ہوتا ہے اور پانی کا استعمال بڑھانے سے اس سے نجات میں مدد مل سکتی ہے۔

لیموں کے عرق اور پانی کو ملا کر پینا بھی کچھ افراد کو قبض سے نجات میں مدد دیتا ہے، اسی طرح لیموں کے عرق کو کھانے میں شامل کرکے بھی یہ فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔

سیب کا جوس

سیب کھانے کی عادت بھی قبض سے نجات میں مدد دے سکتی ہے کیونکہ اس میں فائبر اور سوربیتول موجود ہوتے ہیں۔

سیب میں پیسٹن نامی جز بھی ہوتا ہے جو حل پذیر فائبر ہوتا ہے جو آنتوں کے افعال کو حرکت میں لاتا ہے، سیب کے جوس میں قدرتی مٹھاس کی مقدار دیگر پھلوں کے مقابلے میں زیادہ ہوسکتی ہے تو اس کی زیادہ مقدار سے حساس معدے والے افراد کو مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

تاہم مناسب مقدار میں اس کو پینا قبض سے نجات میں مدد دے سکتا ہے مگر اس کا اثر دیگر جوسز کے مقابلے میں زیادہ موثر نہیں ہوتا۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں

ایووکاڈو کھانا کس حد تک فائدہ مند؟

سیب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ روزانہ ایک سیب کھانے سے ڈاکٹر کو دور رکھا جاسکتا ہے مگر ایک ایووکاڈو (ناشپاتی کی ایک قسم) کو روز کھانا بھی مختلف امراض سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

یہ مزیدار پھل فائبر، پوٹاشیم اور دیگر اہم اجزاء سے بھرپور ہے ساتھ ساتھ کم کیلوریز کے ساتھ جسم کو مختلف اینٹی آکسائیڈنٹس بھی فراہم کرتا ہے۔

لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ افراد جو ذیابطیس کا شکار ہیں یا پھر موٹاپے سے پریشان ہیں ان کے لیے بھی ایووکاڈو کھانا کتنا فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے؟

مولیکیولر نیوٹریشن اینڈ فوڈ ریسرچ نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ایووکاڈو میں ایک ایسا کمپاؤنڈ موجود ہے جو ذیابطیس کی جانب لے جانے والے نظام کی روک تھام کرتا ہے۔

یہ کمپاؤنڈ خون میں جذب ہوجاتا ہے، جس کے باعث گردے، جگر یا پٹھوں پر اس کا کوئی منفی اثر نہیں پڑتا۔

موٹاپے کے شکار افراد میں زیادہ تر ٹائپ ٹو ذیابطیس کی بیماری دیکھی جاتی ہے اور بڑھے ہوئی انسولین لیول کے لیے ایووکاڈو مفید ثابت ہوتا ہے۔

یہ تحقیق چوہوں پر کی گئی جنہیں لگاتار 8 ہفتوں تک ایووکاڈو کھلائے گئے جس کے بعد دیکھا گیا کہ ان میں انسولین لیول کے ساتھ ساتھ وزن میں کمی بھی سامنے آئی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ جو لوگ ایووکاڈو کو روزانہ کھاتے ہیں ان کے موٹے ہونے کا امکان 35 فیصد کم ہوتا ہے۔ امریکا کی لوزیانے اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ایووکاڈو فائبر اور وٹامن سی کے حصول کے لیے بہترین ذریعہ ہے، جو جسمانی وزن میں کمی لانے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

تمباکو نوشی چہرے کو جوانی میں ہی بڑھاپے کا شکار بنائے، تحقیق

سانس میں بو سے لے کر انگلیوں پر نشانات تک، تمباکو نوشی صحت کے علاوہ شخصیت پر بھی متعدد منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔

اور اب سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ تمباکو نوشی آپ کے چہرے کو جوانی میں ہی بوڑھا بھی کرسکتی ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

برسٹل یونیورسٹٰ کی تحقیق میں یوکے بائیو بینک کے 2 گروپس کو دیکھا گیا جس میں ایک گروپ میں شامل ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد نے کبھی تمباکو نوشی نہیں کی تھی جبکہ ڈیڑھ لاکھ کا دوسرا گروپ ایسے لوگوں پر مشتمل تھا جو سابق یا اب بھی سیگریٹ پینے کے عادی تھے۔

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے 18 ہزار عادات کو سرچ کیا اور ان کا موازنہ ان دونوں گروپس کے ساتھ کیا۔

نتائج سے انکشاف ہوا کہ جو لوگ تمباکو نوشی کرتے ہیں یا کرتے رہے ہیں، ان کے چہرے کی عمر بہت تیزی سے بڑھتی ہے اور وہ قبل از وقت ہی بوڑھا محسوس ہونے لگتا ہے جبکہ اس عادت سے پھیپھڑوں کے افعال خراب ہوتے ہیں اور جلد کے کینسر کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہم نے ایسا طریقہ کار تجویز کیا ہے جو کہ بہت زیادہ تمباکو نوشی کے اثرات کو جاننے میں مدد دیتا ہے، ہزاروں عادات کو دیکھنے کے بعد یہ دریافت کیا گیا کہ یہ عادت کس طرح اثرات مرتب کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پھپھڑوں کی صحت جیسے متعدد منفی اثرات تو پہلے ہی تمباکو نوشی کے نتیجے میں جسم پر مرتب ہوتے ہیں اور اب ہم نے بہت زیادہ تمباکو نوشی اور چہرے پر بڑحاپے کے درماین تعلق کو دریافت کیا ہے۔

اس سے قبل 2017 میں امریکا کے مایو کلینک کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ تمباکو نوشی کی عادت چہرے پر جھریاں بڑھانے کا باعث بنتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ سیگریٹ میں موجود نکوٹین خون کی شریانوں کو سکیڑتی ہے جس کے باعث جلد میں دوران خون کی شرح کم ہوجاتی ہے۔

تحقیق کے مطابق ایسا ہونے پر آکیسجن اور اہم غذائیت جلد کو نہیں پہنچ پاتی جو کہ صحت مند نظر آنے کے لیے ضروری ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ سیگریٹ میں موجود متعدد کیمیکلز براہ راست کولیگن اور Elastin نامی پروٹینز کو نقصان پہنچاتے ہیں جو کہ جلد کے اسٹرکچر کو سپورٹ کرتے ہیں۔

اسی طرح سیگریٹ نوشی کے دوران چہرے کے اعضائ کو بار بار ایک عمل کرنا پڑتا ہے جیسے ہونٹوں کو سکیڑنا وغیرہ، تو ایسا کرنے پر جھریوں کی رفتار کو پر لگ جاتے ہیں۔

محققین نے مشورہ دیا کہ مختلف جان لیوا امراض کے ساتھ ساتھ قبل از وقت بڑھاپے سے بچنے کے لیے تمباکو نوشی کی عادت کو ترک کردینا ہی بہتر ہے۔

ایڑی میں اکثر درد رہتا ہے تو اس کی وجہ جان لیں

کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے پیر اور ٹخنے 26 ہڈیوں اور 33 جوڑوں سے بنتے ہیں ؟ جن میں ایڑی پیر کی سب سے بڑی ہڈی ہے۔

اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ایڑی fghfghمیں درد یا تکلیف پیروں کا سب سے عام مسئلہ ہے۔

عام طور پر یہ درد ایڑی کے اندر یا اس کے پیچھے ہوتا ہے جہاں پنڈلی سے ایڑی تک آنے والا طاقتور پٹھا ایڑی کی ہڈی سے جڑتا ہے، کئی بار یہ درد ایڑی کے سائیڈ میں بھی محسوس ہوتا ہے۔

اگر یہ درد ایڑی کے اندر ہو تو اسے plantar fasciitis کہا جاتا ہے جو ایڑی میں درد کی سب سے عام وجہ ہے جبکہ ایڑی کے پیچھے درد کو Achilles tendinitis کہا جاتا ہے۔

اکثر اوقات یہ درد کسی چوٹ کا تنیجہ نہیں ہوتا جو شروع میں زیادہ نہیں ہوتا مگر اس کی شدت بڑھ جاتی ہے اور کئی بار ہلنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔

عام طور پر یہ درد بغیر علاج کے ہی ختم ہوجاتا ہے مگر کئی بار یہ برقرار رہتا ہے اور دائمی بھی بن جاتا ہے۔

ایڑی کے درد کی عام وجوہات

ایڑی کے نیچے ہونے والا درد عام طور پر بہت زیادہ دباﺅ کا نتیجہ ہوتا ہے جس سے پاﺅں کی جھلی کی بافتوں کو نقصان پہنچتا ہے اور درد اور اکڑن کی شکایت ہوتی ہے۔

ایڑی کے پیچھے ہونے والا درد پنڈلی سے ایڑی تک آنے والے پٹھے کو پہنچنے والی چوٹ کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔

اسی طرح موچ بھی اس کی وجہ ہوسکتی ہے کسی قسم کا فریکچر، جوڑوں میں پانی بھرجانے، جوڑوں کے امراض یا ہڈیوں کی کوئی بیماری ھبی اس کی وجہ ہوسکتے ہیں۔

اس سے بچنا کیسے ممکن؟

ویسے تو ایڑی میں درد کی مکمل روک تھام تو ممکن نہیں مگر کچھ آسان نکات سے چوٹ اور درد سے بچنے کی کوشش ضرور کرسکتے ہیں جو درج ذیل ہیں:

مناسب فٹنگ والے جوٹوں کا استعمال جو پیروں کو سپورٹ فراہم کریں

جسمانی سرگرمی کے لیے درست جوتوں کا انتخاب

ورزش سے قبل مسلز کو اسکریچ کریں

جسمانی سرگرمیوں کے دوران رفتار

صحت بخش غذا

تھکاوٹ یا مسل میں تکلیف پر آرام

صحت مند جسمانی وزن کو برقرار رکھنے کی کوشش

تکلیف کو دور کیسے کریں؟

اگر ایڑی میں درد ہے تو کچھ طریقوں سے آپ اسے کم کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں، جو درج ذیل ہیں:

جتنا ہوسکے آرام کریں

روزانہ 2 بار 10 سے 15 منٹ کے لیے برف سے ٹکور کریں

عام درد کش ادویات کا استعمال

ایسے جوتے پہنیں جو زیادہ ٹائٹ نہ ہوں

ایڑی کو زمین پر رکھنے کی بجائے اوپر اٹھا کر رکھیں

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

اگر آپ کو اکثر ایڑی میں تکلیف ہوتی ہے تو ممکنہ طور پر سب سے پہلے تو گھریلو نسخوں کو ہی آزمائیں گے جیسے آرام، تاہم اگر یہ درد 2 سے 3 ہفتوں میں بہتر نہیں ہوتا تو ڈاکٹر سے رجوع کرلینا چاہیے۔

کچھ علامات میں ڈاکٹر سے فوری رجوع کرنا چاہیے جو کہ درج ذیل ہیں :

شدید درد

اچانک درد ہونا

ایڑی میں سرخی نظر آنا

ایڑی سوج جانا

درد کے باعث چلنے سے قاصر ہوجانا

ایڑی کے درد سے کیا پیچیدگیاں ہوسکتی ہیں؟

ایڑی کے درد چلنے پھرنے سے معذور کرسکتا ہے اور روزمرہ کی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔ چلنے کا انداز متاثر ہوسکتا ہے، اگر ایسا ہو تو جسمانی توازن بگڑ سکتا ہے اور گرنے کا خطرہ بڑھتا ہے، جبکہ انجری کا خطرہ بھی زیادہ ہوجاتا ہے۔

پودینے کی چائے پینا کوئی نقصان تو نہیں پہنچاتا؟

پودینے کا استعمال تو لگ بھگ ہر گھر میں ہی ہوتا ہے اور سیکڑوں سال سے ان پتوں کو ذائقے اور طبی فوائد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

درحقیقت پودینے کو موجودہ دور کی مختلف مصنوعات جیسے ٹوتھ پیسٹ اور ٹافیوں وغیرہ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ پودینے کی چائے نہ صرف مزیدار ہوتی ہے بلکہ صحت کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند بھی ثابت ہوسکتی ہے؟

سانسوں کو مہکائے

ویسے تو پودینے کے پتے کو چبانا بھی قدرتی طور پر سانس کی بو دور کرنے میں مدد دیتا ہے ، مگر اس کی چائے بناکر پینا سانس کو زیادہ دیر تک مہکانے میں مدد دیتا ہے اور سانس کی بو سے لڑنا آسان ہوجاتا ہے۔ 2015 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا کہ پودینے کے تیل میں جراثیم کش خصوصیات ہوتی ہیں جو کہ منہ میں بو اور مسوڑوں کے امراض کا باعث بننے والے بیکٹریا کی مقدار کم ہوتی ہے۔

تناﺅ سے ہونے والے سردرد سے نجات

2016 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پودینے کے تیل سے مسلز کی تکلیف دور کرنے میں مدد ملتی ہے اور انہیں سکون محسوس ہوتا ہے۔ مینتھول کے باعث ٹھنڈک کا احساس تناﺅ یا آدھے سرکے درد میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ یہ پودینے کی چائے کی مہک سے بھی یہی فائدہ حاصل ہوسکے۔

بند ناک کھولنے میں مددگار

ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پودینے کے تیل کی بھاپ جراثیم کش خصوصیات رکھتی ہے اور اس سے نظام تنفس کے انفیکشن کی کچھ اقسام سے نجات میں مدد مل سکتی ہے۔ اس بھاپ کے نتیجے میں زکام کے باعث بند ہونے والی ناک کو کھولنے میں مدد مل سکتی ہے۔ کچھ افراد نے دریافت کیا کہ پودینے کی چائے سے نکلنے والی بھاپ بھی اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

نظام ہاضمہ بہتر کرے

لوگ طویل عرصے سے پودینے کے مختلف مسائل جیسے بدہضمی، پیٹ پھولنے اور گیس وغیرہ سے نجات کے لیے استعمال کررہے ہیں، 2017 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پودینے کے تیل کے کیپسول بچوں میں پیٹ کے درد کو کم کرسکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ پودینے کی چائے کو پینے سے بھی ایسے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

جسمانی توانائی بڑھائے

پودینے میں موجود تیل تھکاوٹ کی علامات کو کم کرکے جسمانی توانائی بڑھا سکتا ہے۔ 2018 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پودینے کے تیل کے کیپسول کا استعمال ذہنی تھکاوٹ کم کرکے ذہنی افعال کو بہتر کرتا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

جراثیم کش خصوصیات

2018 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پودینے کے تیل سے سالمونیلا اور دیگر جراثیموں کی نشوونما رکنے میں مدد ملتی ہے، 2015 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کپ پودینے کا تیل منہ میں موجود مضر صحت بیکٹریا کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے جبکہ مینتھول فنگل کش خصوصیات بھی رکھتا ہے۔

احتیاط

اس چائے کا استعمال دن بھر کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ قدرتی طور پر کیفین سے پاک ہوتی ہے یعنی نیند پر منفی انداز سے اثرات مرتب نہیں کرتی جبکہ زیرو کیلوریز کی بدولت یہ سافٹ ڈرنکس، فروٹ جوسز اور دیگر میٹھے مشروبات کا اچھا متبادل بھی ہے، مگر کچھ افراد کو اسے پینے سے سینے میں جلن کا سامنا ہوسکتا ہے یا پہلے سے سینے میں جلن کے شکار ہیں تو حالت زیادہ خراب ہوسکتی ہے۔

ناف کیسے بنتی ہے اور اس کا کام کیا ہوتا ہے؟

پلکیں آپ کی آنکھوں کو تحفظ دینے کا کام کرتی ہیں، پھیپھڑے سانس لینے میں مدد دیتے ہیں اور جسم کا ہر حصہ (باہر یا اندر) اپنے مختص کردہ کام کررہا ہوتا ہے۔

مگر ناف پیٹ کے درمیان رہ کر صرف کچرا جمع کرنے کے علاوہ کیا کرتی ہے؟

ویسے تو یہ سب کو ہی معلوم ہوگا کہ ناف آپ کی پیدائش سے پہلے بہت زیادہ اہم ہوتی ہے مگر بعد میں بھی مکمل طور پر بیکار نہیں ہوتی۔

جب انسان ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو ناف پر آنول یا نالی موجود ہوتی ہے جو ماں کے رحم کی اندرونی دیوار پر نالی سے جاکر ملتی ہے جس سے جینن کو رحم مادر میں غذا اور آکسیجن ملتی ہے اور اس کے فضلات خارج کرنے میں مدد ملتی ہے۔

پیدائش کے بعد جب اس نالی کو کاٹا جاتا ہے تو ایک چھوٹا ابھار بنتا ہے جو زخم ٹھیک ہونے کے بعد نشان چھوڑ جاتا ہے اور یہی آپ کی ناف ہوتی ہے۔

حالیہ سائنسی شواہد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ آنول کو کاٹنے میں چند منٹ کی تاخیر سے بچے کو 80 سے سو ملی لیٹر خون ملتا ہے جو کہ بچے کی نشوونما پر مثبت اثر بھی مرتب کرتا ہے۔

ویسے تو اکثر افراد کا خیال ہے کہ ناف کی ساخت کا انحصار پیدائش میں مدد دینے والی ڈاکٹر یا دائی کی قینچی کی صلاحیت پر ہوتا ہے مگر یہ درست نہیں۔

بنیادی طور پر ناف کی ساخت کا انحصار مادر رحم میں بچے کی جلد کے پھیلاﺅ پر ہوتا ہے۔

ویسے ناف کی شکل جیسی بھی ہو یہ تو یقینی ہے کہ ہم میں سے بیشتر افراد کو اس کا استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی، تاہم اگر آپ طب کے کسی شعبے کی تعلیم حاصل کررہے ہیں تو پھر آپ اسے معدے کے مرکز کی حیثیت سے شناخت کرتے ہوں گے۔

یعنی معدے کے 4 حصے کیے جائیں تو ناف مرکز میں ہوگی جبکہ ایک اور طریقے میں اسے 9 حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اور ناف کا حصہ مرکز میں ہوتا ہے۔

آنول کٹ جانے کے بعد ناف کے اندرونی حصے کی رگیں اور شریانیں بند ہوکر عضو یا جوڑ کا سہارا دینے والی بافتوں کی شکل اختیار کرلیتی ہیں یعنی کنکٹیو ٹشوز کا کام کرنی لگتی ہیں۔

یہ بافتیں اوپر جگر کے پاس مختلف حصوں میں تقسیم ہوجاتی ہے اور ناف کے پیچھے بدستور جڑی ہوتی ہیں۔

ناف کے قریب موجود شریانیں جسم کے اندر گردشی نظام کا حصہ بن جاتی ہے اور وہاں سے خون مثانے اور دیگر حصوں میں جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اگر آپ ناف کے اندر انگلی گھمائیں تو ایسا لگے گا کہ مثانے میں جھنجھناہٹ ہورہی ہے۔

اس کے علاوہ ناف laparoscopic سرجری کے آغاز کے طور پر بھی کام کرتی ہے جس سے پیٹ کے کسی اور حصے پر زخم سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

یوگا میں بھی ناف کو توازن یا کشش کا مرکز سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ معدے کے ملز کے اوپر موجود ہے اور اس سے انسٹرکٹر کو مختلف ہدایات دینے میں ملتی ہے۔

ویسے جہاں تک ناف کے اندر کچرے کی بات ہے تو وہ درحقیقت اکثر کپڑوں کے ریشوں کا مجموعی ہوتا ہے جس میں جلد کے مردہ خلیات بھی شامل ہوجاتے ہیں۔

Google Analytics Alternative