صحت

حقہ پینا دل کے لیے سیگریٹ نوشی جتنا تباہ کن

حقہ پینے کی عادت بھی دل اور دوران خون کے لیے اتنی ہی تباہ کن ہے، جتنا سیگریٹ نوشی۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ جو کمپنیاں حقہ نوشی کو تمباکو نوشی کا محفوظ متبادل قرار دیتی ہیں، وہ درحقیقت لوگوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

آج کل شیشہ کی شکل میں تمباکو کو حقے میں استعمال کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے، جس کے حوالے سے تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ واٹر پائپ سے تمباکو کا استعمال بھی محفوظ نہیں۔

تحقیق کے دوران دریافت کیا گیا کہ حقہ پینے کی عادت کے نتیجے میں خون کی شریانوں پر سیگریٹ نوشی جیسے ہی مختصر المدت اور طویل المعیاد اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

رواں سال کے شروع میں برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ اس وقت دنیا بھر میں 10 فیصد نوجوان حقہ پینے کی عادت کا شکار ہیں۔

نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ فلیور تمباکو کا استعمال اکثر نوجوانوں کے لیے تمباکو مصنوعات کے استعمال کا پہلا ذریعہ بنتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ یہ نوجوان اور بڑی عمر کے افراد اس عادت کے نتیجے میں سیگریٹ جیسے زہریلے کیمیکلز سے متاثر ہوسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ درحقیقت حقہ نوشی سیگریٹ کے مقابلے میں زیادہ نقصان دہ اجزاء جسم کا حصہ بناتی ہے کیونکہ اسے پینے کا دورانیہ ایک سیگریٹ کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق عام طور پر اس کا ‘سیشن’ ایک گھنٹے تک ہوسکتا ہے اور اس دورانیے میں لوگ متعدد بار دھواں کھینچتے ہیں جو کہ بہت زیادہ سیگریٹ کے برابر نکوٹین جسم تک پہنچا دیتا ہے۔

اس نکوٹین کے اثرات دل اور شریانوں کے نظام کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔

اس عادت کے نتیجے میں سب سے پہلے تو شریانیں اکڑنا شروع ہوتی ہیں جس کے بعد بتدریج دل کو نقصان پہنچنے لگتا ہے۔

یعنی شریانوں میں زہریلا مواد جمع ہونے لگتا ہے جو کہ آہستہ آہستہ دل کی جانب دوران خون کو محدود کرنے لگتا ہے، جس کے باعث دل کو اپنے کام کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ صرف 30 منٹ تک حقہ پینا ہی شریانوں کو اکڑن کا شکار بنانے لگتا ہے۔

ٹافیوں اور میک اپ کے عام رنگ سے بھی ذیابیطس کا خطرہ

آسٹن: غذاؤں اور میک اپ میں استعمال ہونے والے انتہائی مضر کیمیکلز پر آئے دن رپورٹیں چھپتی رہتی ہیں۔ اب امریکی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عام میک اپ اور ٹافیوں میں استعمال ہونے والے کیمیکلز ٹائپ ٹو ذیابیطس کی وجہ بن رہے ہیں۔

آسٹن میں یونیورسٹی آف ٹیکساس کے ماہرین نے کہا ہے کہ ٹائٹانیئم ڈائی آکسائیڈ ایک عام سفید رنگ ہے جو کاسمیٹکس سے لے کر ٹافیاں بنانے تک میں بکثرت استعمال ہوتا ہے۔ اس کی خاطر خواہ مقدار ایسے افراد کے لبلبوں میں ملی ہے جو پہلے ہی ٹائپ ٹو ذیابیطس کے شکار ہوچکے تھے۔

اسی بنا پر ماہرین کہہ رہے ہیں کہ ٹائٹانیئم ڈائی آکسائیڈ بھی ٹائپ ٹو ذیابیطس کی وجہ بن سکتی ہے۔ انسانی جسم میں کئی دھاتوں کی موجودگی کے باوجود یہ رنگ (پگمنٹ) صحتمند انسانی ٹشوز اور خلیات میں نہیں پایا جاتا۔ اسی بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کی اشیا سے انسانی جسم میں پہنچ رہا ہے۔

 اس کےلیے ڈاکٹروں نے ٹائپ ٹو ذیابیطس کے 8 مریضوں اور 3 صحمتند افراد کے عطیہ کردہ لبلبے لے کر انہیں چیر پھاڑ کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ شوگر سے محفوظ افراد کے لبلبوں میں ٹائٹانیئم ڈائی آکسائیڈ موجود نہیں تھا جبکہ ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں کے لبلبوں میں اس دھات کے ذرات موجود تھے۔

ماہرین نے فی گرام لبلبے میں ٹائٹانیئم ڈائی آکسائیڈ کے 20 کروڑ ذرات دیکھے ہیں جو بہت بڑی مقدار کو ظاہر کرتے ہیں۔ لیکن شوگر سے بچ رہنے والے مریضوں میں ان کا کوئی نشان تک نہ تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ٹائٹانیئم ڈائی آکسائیڈ کے یہ ذرّات میک اپ مصنوعات اور ٹافیوں یا مٹھائیوں کے ذریعے بدن کے اندر پہنچے ہیں۔

اس وقت مٹھائیوں، روغن، میک اپ، دواؤں ، ٹوتھ پیسٹ، پلاسٹک، کاغذ، کاسمیٹکس اور دیگر مصنوعات میں ٹائٹانیئم ڈائی آکسائیڈ اندھا دھند استعمال ہورہا ہے۔ 1960 سے اب تک اس کی سالانہ عالمی کھپت 40 لاکھ ٹن تک پہنچ چکی ہے۔

دوسری جانب عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق گزشتہ چالیس برس میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 400 فیصد تک بڑھ چکی ہے۔ اسی بنا پر ماہرین کہہ رہے ہیں کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس کے وبائی پھیلاؤ میں ٹائٹانیئم ڈائی آکسائیڈ کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

توند سے تیزی سے نجات میں مددگار نسخہ

کیا آپ جسمانی وزن یا توند سے نجات کی کوشش کررہے ہیں ؟ تو نیچے دیا گیا ٹوٹکا مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

جسمانی وزن میں کمی کے لیے ڈائیٹنگ کا سہارا لینا درحقیقت اس میں مزید اضافے کا باعث بنتا ہے، اس کی جگہ کچھ ٹوٹکے اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

ایسا ہی ایک ٹوٹکا درج ذیل ہے جو توند کی چربی سے نجات کے عمل کو تیز کردیتا ہے۔

اس کے لیے آپ کو پانی میں اکثر گھروں کے کچن میں موجود چند چیزوں کا اضافہ کرنا ہوگا اور بس۔

یہ چیزیں ہیں سیب کا سرکہ، ادرک، لیموں اور ہلدی۔

سیب کا سرکہ، لیموں، ادرک اور ہلدی سب اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور اجزاءہیں جو جسم کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں۔

اجزاء

ایک کپ پانی

ایک کھانے کا چمچ شہد

ایک چائے کا چمچ سیب کا سرکہ

ایک کھانے کا چمچ ہلدی

ایک انچ ادرک

طریقہ کار

اسے بنانے کے لیے ایک برتن لیں اور اس میں پانی کو ڈال دیں، اس کے بعد پانی کو ابال لیں، جب وہ ابل جائے تو اس میں ادرک کو شامل کردیں اور ایک بار پھر اس وقت تک ابالیں جب تک مہک نہ آنے لگے۔ اب شہد، ہلدی اور سیب کے سرکے کو پانی میں ڈال دیں۔ اس مکسچر کو اچھی طرح مکس کریں اور بس۔

اس مشروب کے استعمال سے نظام ہاضمہ بہتر ہوتا ہے، شہد اور ادرک مل کر نظام ہاضمہ کو بہترین بناتے ہیں جبکہ میٹابولزم تیز کرتے ہیں۔ اس مشروب کو نہار منہ پینا ہی زیادہ فائدہ پہنچاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

ناشتہ نہ کرنے کے نقصانات جانتے ہیں؟

کیا آپ اکثر ناشتہ چھوڑ دیتے ہیں؟ اگر ہاں تو یہ صحت کے لیے تباہ کن عادت ہے جو متعدد طبی مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔

ویسے تو کہا جاتا ہے کہ ناشتہ دن کی سب سے اہم خوراک ہے اور اسے کسی صورت نہیں چھوڑنا چاہیئے۔

تاہم یہ جان لینا بہتر ہے کہ اگر آپ اکثر ناشتہ نہیں کرتے تو جسم پر یہ عادت کیا اثرات مرتب کرسکتی ہے۔

ذیابیطس

ناشتہ نہ کرنا ذیابیطس جیسے جان لیوا مرض کا شکار ہونے کا خطرہ بڑھا دیتا ہے خاص طور پر خواتین کے لیے یہ زیادہ تباہ کن ہے، مختلف طبی رپورٹس کے مطابق جو خواتین ناشتہ نہیں کرتیں ان میں ذیابیطس ٹائپ ٹو میں مبتلا ہونے کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتا ہے۔

برین ہیمرج کا خطرہ

اوساکا یونیورسٹی کے ماہرین کی 13 سالہ تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ ناشتہ چھوڑنے کی عادت موٹاپے کے ساتھ ساتھ فالج کا خطرہ 30 فیصد تک بڑھا دیتی ہے۔اس تحقیق کے دوران 45 سے 74 سال کی عمر کے 80 ہزار مرد و خواتین کی ناشتے کی عادات کا جائزہ لیا گیا جن میں اس سے قبل کینسر یا خون کی شریانوں کے امراض کی کوئی تاریخ نہیں تھی۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ جو لوگ ہفتے میں 5 بار ناشتہ نہیں کرتے ان میں برین ہیمرج (دماغ میں خون کی شریان پھٹ جانا) کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے۔

جسمانی وزن میں اضافہ

اگر آپ بڑھتے وزن سے پریشان اور اس وجہ سے صبح کی پہلی غذا چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں تاکہ موٹاپے سے بچ سکیں، تو یہ ایک غلطی فہمی سے زیادہ نہیں۔ ایسی متعدد طبی تحقیقی رپورٹس سامنے آچکی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ناشتہ کرنے کی عادت صحت مند جسمانی وزن کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ثابت ہوچکا ہے کہ جو لوگ ناشتہ نہیں کرنے کے عادی ہوتے ہیں، وہ دیگر اوقات میں لاشعوری طور پر حد سے زیادہ کھالیتے ہیں۔

میٹابولزم متاثر ہوتا ہے

ناشتہ نہ کرنے کی عادت اور میٹابولزم کی رفتار میں کمی کے درمیان تعلق موجود ہے، جب بھی کسی وقت کا کھانا چھوڑا جاتا ہے تو اس کا اثر جسمانی افعال پر مرتب ہوتا ہے، جسم کا میٹابولک ریٹ گرجاتا ہے تاکہ کیلوریز کی کمی کا ازالہ ہوسکے۔ اگر آپ طویل دورانیے تک نہیں کھاتے تو اس سے جسم کی کیلوریز جلانے کی صلاحیت منفی انداز سے متاثر ہوتی ہے۔

چڑچڑا پن

ناشتہ نہ کرنے یا طویل وقت تک بھوکے رہنے سے مزاج بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ ناشتہ کرنے کے عادی ہوتے ہیں، ان کا مزاج دن کی پہلی غذا سے دوری اختیار کرنے والوں کے مقابلے میں زیادہ خوشگوار ہوتا ہے۔ ناشتہ نہ کرنے سے بلڈشوگر لیول بھی گرتا ہے جو کہ چڑچڑے پن کا باعث بنتا ہے۔

امراض قلب

جو لوگ روزانہ ناشتہ کرتے ہیں ان میں امراض قلب کا باعث بننے والے عناصر کا خطرہ کم ہوجاتا ہے، ایک طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ناشتہ چھوڑنا فشار خون یا بلڈ پریشر میں اضافے، بلڈ شوگر بڑھانے اور انسولین کی مزاحمت کا باعث بنتا ہے۔

سانس کی بو

ناشتہ نہ کرنا صرف صحت کے لیے ہی نقصان دہ نہیں بلکہ یہ سماجی زندگی پر بھی اثرانداز ہوتا ہے کیونکہ اس عادت کے نتیجے میں سانس میں بو جیسے مسئلے کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ناشتہ نہ کرنے سے لعاب دہن بننے کا عمل متحرک نہیں ہوپاتا، جس سے زبان پر بیکٹریا کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے جو اس مسئلے کا باعث بنتا ہے۔

آدھے سر کا درد

ناشتہ چھوڑنا جسم میں شوگر لیول کو بہت زیادہ کم کردیتا ہے جس کے باعث گلوکوز کی سطح بھی گر جاتی ہے۔ یہ نہ صرف بلڈ پریشر کو بڑھاتا ہے بلکہ اس سے آدھے سر کے درد کی تکلیف بھی لاحق ہوجاتی ہے۔

بالوں کا گرنا

ناشتہ دن کی اہم ترین غذا ہے جو بالوں کی جڑوں کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے، کم پروٹین والی غذا کا استعمال بالوں کی نشوونما کے لیے ضروری عناصر پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے جس سے بال گرنا شروع ہوجاتے ہیں اور گنج پن کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

شہری 5 دن سادہ کھانا، 2 دن روزہ رکھیں یا سخت پرہیز کریں، ماہرین طب

کراچی: ماہرین صحت نے موٹاپے اور وزن میں کمی کرنے کیلیے نیا فارمولا پیش کردیا جس کے مطابق ایسے افراد جو موٹاپے یا وزن کی زیادتی کا شکار ہیں ،وہ ایک ہفتے میں5دن سادہ کھانا کھائیں لیکن 2 دن روزے رکھ کر اپنے وزن میں غیر معمولی کمی لاسکتے ہیں، ایسے افراد جو روزے نہ رکھ سکیں وہ افراد 2دن کھانے میں انتہائی سخت پرہیز کرکے اپنے وزن میں غیر معمولی کمی لاسکتے ہیں۔

آسٹریلیا میں کی جانے والی نئی طبی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے سرسید انسٹیٹیوٹ آف ڈائیبیٹک کے سربراہ پروفیسر زمان شیخ نے ایکسپریس کو بتایا کہ حال ہی میں موٹاپے یا وزن کی زیادتی کو کم کرنے کیلیے کی جانے والی نئی تحقیق میں ثابت ہوا ہے کہ ایک ہفتے کے دوران5 دن معمول کے مطابق سادہ کھانے کھائیں لیکن 2دن روزے رکھ لیں یا کھانے میں سخت پرہیز کرکے اپنے وزن میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ترقی یافتہ ممالک میں اس تحقیق کے سامنے آنے کے بعد وزن کی زیادتی والے افراد نے مرغن کھانے پینے میں احتیاط شروع کردی اور نارمل کھانے کے ساتھ ہفتہ میں2دن انتہائی سخت پرہیزشروع کردیا جس کے نتیجے میں وزن میں نمایاں کمی آنا شروع ہوگئی ، ان کا کہنا تھا کہ ایک اور نئی تحقیق میں یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ شوگر کے وہ مریض جن کی شوگر خون میں حیرت انگیز طور پر بہت کم ہو جاتی تھی جس کو Hypo Glycemia کہاجاتا ہے، ایسے مریضوں کی جان کو شدید خطرات لاحق ہوتے تھے اب ایسے ہائی پووالے مریضوں کے لیے ناک میں اسپرے کرنے والی نئی دوا دریافت کرلی گئی ،متاثرہ مریض ناک میں اسپرے کرکے خون میں شوگرکی مطلوبہ مقدارکو فوری بحال کرسکے گا۔

پروفیسر زمان شیخ نے کہا کہ یہ شوگرکے مریضوں کے لیے اچھی خوشخبری ہے کہ اب خون میں شوگرکی مقدارکم ہونے اورمطلوبہ مقدارکو فوری بحال کرنے کیلیے ناک میں اسپرے کیا جا سکے گا ، یہ اسپرے عنقریب پاکستان میں بھی دستیاب ہوگا۔

دریں اثنا پروفیسر زمان شیخ کا کہنا تھا کہ کراچی میں ذیابطیس او ر اس مرض پر ہونے والی عالمی تحقیق پر بین الاقوامی کانفرنس آئندہ ماہ منعقد کی جائے گی جس میں دنیا بھر سے ماہرین صحت شرکت کریں گے۔

کانفرنس کے چیئرمین اور معروف ماہر امراض ذیابطیس پروفیسر ڈاکٹر زمان شیخ کے مطابق کانفرنس کے انعقادکا مقصد دنیا بھر میں نہ صرف ذیابطیس کے حوالے سے ہونے والی جدید تحقیق کو پیش کرنا ہے بلکہ لوگوں کے طرزِ زندگی سے مطابقت رکھنے والے جملہ مسائل کو زیر غور لاکراس کا حل پیش کرنا ہے۔

کانفرنس میں ہارمون ڈیزیز،ذیابطیس ،تھائی رائیڈ ڈس آرڈر،بچوں کے چھوٹے قد،ان فرٹیلیٹی، اسٹی رائیڈ پرابلم،وٹامن ڈی کی کمی،ہڈیوں کی کمزوری،خواتین میں غیر ضروری بالوں کی نشوونما اور موٹاپے سمیت دیگر بیماریوں پر روشنی ڈالی جائے گی،ملکی اور غیر ملکی طبی ماہرین اس حوالے سے دنیا بھر میں ہونے والی تحقیق پیش کریں گے۔

انٹرنیشنل کانفرنس ان ڈائیبیٹک اینڈ انڈوکرینولوجی کے پیٹرن پروفیسر ڈاکٹر صمد شیرا ہیں، کانفرنس سرسید انسٹیٹیوٹ آف ڈائیبیٹک اینڈ انڈوکرینولوجی اورکالج آف فیملی میڈیسن پاکستان کے تحت منعقد کی جارہی ہے جو یکم سے 2 ستمبر تک جاری رہے گی جس میں امریکا، برطانیہ ، مصر، متحدہ عرب امارات، قطر ،کینیڈا ودیگر ممالک سے ماہرین شرکت کریں گے۔

کانفرنس سے قبل ورکشاپس بھی منعقد کی جائیں گی اورکانفرنس کا ہدف فیملی فزیشن میڈیکل آفیسر اور پوسٹ گریجویٹس ہوں گے۔ کی جائے گی جس میں دنیا بھر سے ماہرین صحت شرکت کریں گے، کانفرنس کے چیئرمین اور معروف ماہر امراض ذیابطیس پروفیسر ڈاکٹر زمان شیخ کے مطابق کانفرنس کے انعقادکا مقصد دنیا بھر میں نہ صرف ذیابطیس کے حوالے سے ہونے والی جدید تحقیق کو پیش کرنا ہے بلکہ لوگوں کے طرزِ زندگی سے مطابقت رکھنے والے جملہ مسائل کو زیر غور لاکراس کا حل پیش کرنا ہے۔

کانفرنس میں ہارمون ڈیزیز،ذیابطیس ،تھائی رائیڈ ڈس آرڈر،بچوں کے چھوٹے قد،ان فرٹیلیٹی، اسٹی رائیڈ پرابلم،وٹامن ڈی کی کمی،ہڈیوں کی کمزوری،خواتین میں غیر ضروری بالوں کی نشوونما اور موٹاپے سمیت دیگر بیماریوں پر روشنی ڈالی جائے گی،ملکی اور غیر ملکی طبی ماہرین اس حوالے سے دنیا بھر میں ہونے والی تحقیق پیش کریں گے،انٹرنیشنل کانفرنس ان ڈائیبیٹک اینڈ انڈوکرینولوجی کے پیٹرن پروفیسر ڈاکٹر صمد شیرا ہیں۔

کانفرنس سرسید انسٹیٹیوٹ آف ڈائیبیٹک اینڈ انڈوکرینولوجی اورکالج آف فیملی میڈیسن پاکستان کے تحت منعقد کی جارہی ہے جو یکم سے 2 ستمبر تک جاری رہے گی جس میں امریکا، برطانیہ ، مصر، متحدہ عرب امارات، قطر ،کینیڈا ودیگر ممالک سے ماہرین شرکت کریں گے، کانفرنس سے قبل ورکشاپس بھی منعقد کی جائیں گی اورکانفرنس کا ہدف فیملی فزیشن میڈیکل آفیسر اور پوسٹ گریجویٹس ہوں گے۔

 

سیل خریدنے سے پہلے یہ احتیاط پیسے بچانے میں مددگار

گھر میں ٹیلیویژن تو ہوگا؟ یا وال کلاک بھی ؟ تو ٹی وی کے لیے ریموٹ کنٹرول کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ سیل یا بیٹری سے چلتا ہے جبکہ وال کلاک، کھلونے اور متعدد اشیاءکے لیے بھی ان بیٹریوں کی ضرورت تو پڑتی ہے۔

تاہم بازار سے آپ خراب سیل تو خرید کر نہیں لارہے یا ریموٹ یا کسی بھی چیز کے صحیح سیل خراب سمجھ کر تو نہیں پھینک رہے؟

درحقیقت سیل خریدتے ہوئے اگر ایک معمولی ٹیسٹ کرلیا جائے تو آپ جان سکتے ہیں کہ وہ کس حد تک ٹھیک ہے جبکہ گھر میں بھی اس طریقے کو آزما کر بظاہر خراب بیٹری کی کنڈیشن جانی جاسکتی ہے۔

اکثر ہاف ڈیڈ بیٹری کو ہی لوگ خراب سمجھ کر پھینک دیتے ہیں حالانکہ اس کی زندگی ابھی باقی ہوتی ہے۔

مگر آپ کیسے جانیں گے کہ کس سیل یا بیٹری میں ابھی بھی زندگی باقی ہے؟

ویسے تو پروفیشنل افراد اس کے لیے بیٹری ٹیسٹرز اور وولٹ میٹرز کی مدد لیتے ہیں جو کہ درست ریڈنگ بتاتے ہیں، تاہم یہ ڈیوائسز ہر ایک کے پاس تو نہیں ہوتیں۔

تو ایسی صورت میں کیا کرنا چاہئے؟

9 وولٹ کی بیٹری کی زندگی کے بارے میں آپ اپنی زبان سے مدد لے سکتے ہیں، بس اس کے ٹرمینل کو زبان سے چھو کر دیکھیں۔

اگر آپ کو ہلکا سا جھٹکا لگے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ بیٹری ابھی بھی ٹھیک ہے، تاہم یہ طریقہ کار صرف 9 وولٹ سیل پر ہی کام کرتا ہے، دیگر پر نہیں۔

تو دیگر کے لیے ایک آسان طریقہ ہے کہ انہیں زمین پر عمودی یعنی ان کے نچلے سپاٹ سلور سطح کو فرش سے ذرا اونچائی سے ٹکرائیں۔

نئے الکلائن سیل کبھی بھی زمین سے ٹکرا کر اوپر نہیں اچھلیں گے۔

یہ طریقہ کار AAA، AA، سی، ڈی اور 9 وولٹ بیٹریوں کی زندگی جاننے میں مدد دیتا ہے۔

سیل جتنا مردہ ہوگا وہ زمین سے ٹکرا کر اتنا ہی زیادہ اچھلے گا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ان بیٹریوں کے اندر زنک میٹل زنک آکسائیڈ میں تبدیل ہوکر بجلی فراہم کرتا ہے۔

تو جب بیٹری نئی ہوتی ہے تو زنک میٹل سختی سے پیک ہوتا ہے اور گرنے پر اچھلتا نہیں،مگر زنک آکسائیڈ ایسے پل بناتی ہے جو اسپرنگ کی طرح کام کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں جان جتنی کم ہوتی جائے گی، بیٹری اتنی زیادہ اچھلنے لگے گی۔

تو نئے سیل خریدنے سے پہلے یہ طریقہ آزمانا چند روپے کی بچت کرنے میں ضرور مدد دے سکتا ہے۔

بخار سے جلد نجات میں مددگار نسخے

بخار کے دوران جسمانی درجہ حرارت معمول سے زیادہ بڑھ جاتا ہے، یعنی 98.6 فارن ہائیٹ سے زیادہ۔

آپ بخار میں کمی لانے کے لیے کئی چیزوں کو کرسکتے ہیں جن سے اس مرض کی شدت میں کم آسکتی ہے۔

پانی کا زیادہ استعمال

جب جسم گرم ہوتا ہے تو وہ خود کو پسینے کے ذریعے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتا ہے، تاہم اگر جسم سے پانی کی زیادہ مقدار خارج ہوجائے تو تیز بخار کا تجربہ ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں جسم مزید پانی بچانے کے لیے پسینے کے مسام بند کردیتا ہے، جس کی وجہ سے بخار پر قابو پانے مشکل ہوجاتا ہے، تو پانی زیادہ پینا اس مسئلے کی شدت میں نمایاں کمی لاسکتا ہے۔

برف سے مدد لیں

اگر زیادہ پانی پینا مشکل لگتا ہے تو برف کو بھی چوس سکتے ہیں یا کسی فروٹ جوس کو آئس کیوب ٹرے میں جما کر اسے چوس لیں۔

جسم کو ٹھنڈا کریں

گیلے کپڑے سے بھی جسمانی درجہ حرارت کو کم کیا جاسکتا ہے، گرم یا ٹھنڈے پانی سے کپڑے کو گیلا کرکے پیشانی ، کلائی اور بغلوں میں رکھیں جبکہ باقی جسم کو کور رکھیں۔ اگر بخار 103 فارن ہائیٹ سے زیادہ ہوجائے تو گرم پانی کا استعمال نہ کریں، ٹھنڈے پانی سے بھیگا کپڑا بخار کو بڑھنے سے روکے گا۔

اسفنج سے بھی مدد لیں

اسفنج کے ذریعے بھی جسمانی درجہ حرارت میں کمی لائی جاسکتی ہے، ٹھنڈے پانی میں اسفنج کو بھگو کر جلد پر پھیریں تاکہ اضافی حرارت خارج ہوسکے، اسفنج کو پورے جسم پر پھیرا جاسکتا ہے مگر ان مقامات پر خاص توجہ دیں جہاں حرارت بہت زیادہ ہو۔

آرام

آپ کو بخار میں کمی لانے کے لیے آرام کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ جسمانی سرگرمیوں کے نتیجے میں جسمانی درجہ حرارت بھی بڑھنے کا امکان ہوتا ہے۔

کپڑوں کا خیال

ہلکے کپڑے پہنیں اور سونے کے دوران اوڑھنے کے لیے چار یا ہلکے کمبل کا استعمال کریں۔

ڈاکٹر سے رجوع کب کریں؟

بالغ افراد 103 فارن ہائیٹ یا اس سے زیادہ ہونے پر فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں یا عام بخار تین دن سے زیادہ رہے تو طبی امداد لی جانی چاہئے۔

اگر بخار کے ساتھ شدید سردرد، گلے میں سوجن، غیرمعمولی جلدی خارش، تیز روشنی سے حساسیت، گردن اکڑنا اور درد، ذہنی الجھن، مسلسل قے آنا، سانس لینے میں مشکل یا سینے میں درد اور معدے میں درد یا پیشاب کرتے ہوئے درد ہونے پر ڈاکٹر سے فوری رجوع کیا جانا چاہئے۔

آسٹریلیا میں خصوصی مچھروں کے ذریعے ڈینگی بخار کا کامیاب خاتمہ

برسبین: sdfdsfآسٹریلوی ماہرین نے لوہے کو لوہا کاٹنے کے مصداق خصوصی مچھروں سے ڈینگی بردار مچھروں کا کامیابی سے خاتمہ کیا ہے جس کے حتمی نتائج منظرِ عام پر آگئے ہیں۔

اس سال کوئنس لینڈ کے شہر ٹاؤنس ویلی میں ڈینگی کیسز صفر ہوگئے جس کی وجہ یہ ہے کہ پورے شہر میں تبدیل شدہ خاص مچھر چھوڑے گئے جن کی بدولت ڈینگی وائرس کا جڑ سے خاتمہ ہوگیا ہے۔ اگر اسے پوری دنیا میں آزمایا جائے تو ہر سال اربوں افراد کو ڈینگی اور مچھروں سے پیدا ہونے والی دیگر بیماریوں سے نجات مل سکتی ہے۔

اس کے لیے ماہرین نے ایک مشہور بیکٹیریا ’وولبیکیا‘ کا انتخاب کیا جو کرہ ارض پر پھل مکھی سمیت 60 فیصد کیڑوں میں عام پایا جاتا ہے لیکن یہ ڈینگی، چکن گونیا اور دیگر بیماریاں پیدا کرنے والے سب سے خوفناک مچھر ’ایڈس ایجپٹیائی‘ کے اندر نہیں پایا جاتا۔

ماہرین نے پہلے تحقیق کی کہ اگر کسی طرح ڈینگی والے مچھر میں وولبیکا بیکٹیریا داخل کردیا جائے تو خود اس کے اندر ڈینگی وائرس کی افزائش متاثر ہوگی۔ اس ضمن میں بہت محنت سے ڈینگی کے لاکھوں انڈوں میں وولبیکا بیکٹیریا داخل کیے گئے۔

اس طرح کوئی 40 لاکھ انڈے تیار کرکے انہیں مچھروں کی مقامی آبادی کے ساتھ ملا کر ٹاؤنس ویلی کے 25 مربع میل میں پھیلادیا گیا ۔ جب وولبیکا بیکٹیریا والے ایڈس ایجپٹیائی مچھروں کی پیدائش ہوئی تو ملاپ کے بعد مزید مچھر وولبیکا والے پیدا ہوئے لیکن اسی شرح سے ان میں ڈینگی وائرس کم سے کم تر ہوتا گیا۔

چار سال قبل علاقے میں ڈینگی کے ہزار سے زائد کیس ہوئے تھے لیکن اس سال ڈینگی بخار کا ایک معاملہ بھی سامنے نہیں آیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ڈینگی بردار مچھر اب پیدا تو ہورہے ہیں لیکن ان میں ڈینگی وائرس موجود نہیں رہا۔ یہ بہت مہنگا نسخہ ہے جس میں فی فرد 15 ڈالر یا 1700 روپے خرچ ہوئے ہیں۔

اس کے لیے ماہرین نے لوگوں کے گھروں کے باہر وولبیکا والے مچھروں کے انڈے رکھوائے تھے تاکہ وہ اچھی طرح پھیل سکیں۔

Google Analytics Alternative