صحت

گنج پن کا باعث بننے والا غذائی جز

کیا آپ چاہتے ہیں کہ گنج پن کا شکار نہ ہوں؟ تو متوازن غذا روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنالیں۔

درحقیقت طبی سائنس میں ایسے شواہد سامنے آرہے ہیں کہ صرف پھلوں یا سبزیوں تک غذا کو محدود کرنا بال گرنے یا گنج پن کے عمل کو تیز تر کرسکتا ہے۔

2006 کی ایک تحقیق میں آئرن کی کمی اور گنج پن کے درمیان تعلق دریافت کیا گیا۔

اگرچہ اس تحقیق کے نتائج کا مطلب یہ نہیں کہ آئرن کی کمی یقیناً بالوں کے گرنے کا باعث بنے مگر سبزیاں کھانے کے عادی افراد اور گنج پن کے شکار لوگوں میں ایک تعلق دریافت ہوا ہے اور وہ ہے گوشت کا کم استعمال۔

انٹرنیشنل فوڈ انفارمیشن کونسل کے ڈاکٹر کرس سولائڈ کے مطابق بالوں کی نشوونما میں آئرن کا کیا کردار ہے، وہ تو ابھی نامعلوم ہے، مگر بالوں کا گرن آئرن کی کمی ایک بڑی علامت ضرور ہے۔

بوسٹن میڈیکل سینٹر کی ڈاکٹر کیرولین اپویان کے مطابق طبی سائنس یہ جان چکی ہے کہ اگر آپ ک خون کے سرخ خلیات کو ہیموگلوبن سے مناسب مقدار میں آئرن نہ ملے تو بالوں کی نشوونما اور مرمت کے لیے آکسیجن کی سپلائی محدود ہوجاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سبزیاں کھانے کے عادی افراد میں عام طور پر آئرن کی سطح بہت کم ہوتی ہے۔

آئرن کی 2 اقسام ہوتی ہیں ایک قسم کا آئرن صرف گوشت میں پایا جاتا ہے جبکہ ایک قسم کا آئرن سبزیوں اور گوشت دنوں میں پایا جاتا ہے۔

گوشت میں موجود آئرن جسم میں سبزیوں والے آئرن کے مقابلے میں زیادہ اچھی طرح جذب ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سبزیاں کھانے کے عادی افراد کو آئرن کو روزانہ آئرن کی دوگنی مقدار درکار ہوتی ہے۔

ویسے یہ خیال رہے کہ صرف آئرن ہی گنج پن کی واحد وجہ نہیں بلکہ متعدد عناصر جیسے ذہنی تناﺅ، عمر میں اضافہ، جینز، ہارمون میں تبدیلیاں اور دیگر طبی مسائل بھی اس میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔

امریکن اکیڈمی آف ڈرماٹولوجی کے مطابق بالوں کے اسٹائل کی غلطیاں بھی گنج پن کا شکار بناسکتی ہیں۔

ویسے اگر گنج پن کا شکار ہورہے ہیں اور ایسا غذا کی وجہ سے نہیں، تو بھی صحت بخش غذا کا انتخاب نقصان نہیں پہنچاتاتا۔

آئرن سے بھرپور غذاﺅں، وٹامن سی، وٹامن بی اور ای والے کھانے سب صحت کے لیے فائدہ مند ہی ثابت ہوتے ہیں۔

کیا آپ 8 گھنٹے سے زیادہ سونے کے عادی ہیں؟

کہتے ہیں کہ کم از کم 8 گھنٹوں کی نیند لینا اچھی صحت کے لیے بہت ضروری ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ بہت زیادہ سونا اچھی صحت کی علامت نہیں بلکہ نہایت خطرناک عمل ہے۔

حال ہی میں سامنے آئی ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ بہت زیادہ نیند فالج کے دورے کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

تحقیق کے مطابق کم نیند کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ سونے کو بھی عادت بنا لینا جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ 8 گھنٹے سے زائد نیند لینے کے عادی ہوتے ہیں ان میں فالج کا خطرہ اوسط دورانیے کے نیند لینے والے افراد کے مقابلے میں دوگنا زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق اسی طرح جو لوگ رات بھر میں 6 گھنٹے سے کم سونے کو عادت بنالیتے ہیں ان میں اس جان لیوا مرض کے دورے کا خطرہ 4 گنا زیادہ ہوتا ہے کیونکہ ان کے دماغ کے مختلف حصوں کو خون کی سپلائی متاثر ہوتی ہے۔

10 ہزار افراد پر ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا کہ رات کی اچھی اور مناسب دورانیے کی نیند بہت اہمیت رکھتی ہے مگر بہت زیادہ دیر تک بستر پر رہنا بلڈ پریشر کو بڑھا کر فالج کے خطرے میں 46 فیصد تک اضافہ کردیتا ہے۔

محققین کا کہنا کہ اس کی وجوہات ابھی واضح نہیں ہوسکیں اور اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ آخر کیوں بہت زیادہ نیند جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔

روزانہ سیب کھانے کا ایک اور فائدہ سامنے آگیا

روزانہ ایک سیب کھانے کی عادت نمونیا کو آپ سے دور رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

طبی جریدے جرنل نیچر کمیونیکشن میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ سیب میں موجود وٹامن سی جراثیموں کے خلاف جسمانی مدافعت کو بڑھانے میں مدد دیتا ہے جس سے نمونیا سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ بیکٹریا ہائیڈروجن پرآکسائیڈ کو استعمال کرکے جسمانی مدافعتی نظام کو کمزور کرتے ہیں جس سے نمونیا کا خطرہ بڑھتا ہے۔

ہائیڈروجن پرآکسائیڈ عام طور پر ہیئر کلر یا صفائی کے لیے استعمال ہونے والی مصنوعات میں استعمال ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہائیڈروجن پرآکسائیڈ کے اثرات سے بچانے میں وٹامن سی اہم کردار ادا کرتا ہے جو پھلوں میں پایا جاتا ہے، اس حوالے سے سیب کافی اہمیت رکھتا ہے۔

سیب ایک جادوئی پھل ہے جو اینٹی آکسائیڈنٹس، وٹامنز، فائبر اور دیگر غذائی اجزا سے بھرپور ہوتا ہے جس کی دنیا بھر میں ساڑھے 7 ہزار سے زائد اقسام دستیاب ہیں۔

یہ پھل صحت کے لیے ہی فائدہ مند نہیں بلکہ اس کے ساتھ مٹھاس کی خواہش کو بھی پوری کرتا ہے جبکہ پیٹ کو بھرنے میں میں بھی مدد دیتا ہے۔

اس سے قبل رواں سال جولائی میں آسٹریا کی گراز یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ایک عام سیب میں 10 کروڑ سے زائد بیکٹریا ہوتے ہیں، جن میں سے کچھ جراثیم صحت مند معدے کے ماحول کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق ایسے سیب جن پر کیڑے مار ادویات کا استعمال نہ ہوا ہو، وہ دیگر سیبوں کے مقابلے میں صحت کے لیے زیادہ فائدہ ہوتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق یہ کروڑوں جراثیم معدے کو صحت مند رکھتے ہیں جس سے الرجی کا خطرہ کم ہوتا ہے جبکہ دماغی صحت میں بہتری آتی ہے جبکہ صحت کو دیگر فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہر سیب میں ہی بیکٹریا کی مقدار اتنی زیادہ ہوتی ہے مگر اورگینک سیب (کیڑے مار ادویات سے محفوظ) میں یہ بیکٹریا صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوتے ہیں۔

2016 میں آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ ایک کیلا یا ایک سیب خون کی شریانوں کی پیچیدگیوں سے لاحق ہونے والے امراض سے موت کا خطرہ ایک تہائی حد تک کم کردیتا ہے۔

تاہم تحقیق میں کہا گیا ہے کہ یہ پھل تازہ ہونے چاہئے کیونکہ پراسیس شدہ پھل میں سے بیشتر طبی فوائد ختم ہوجاتے ہیں۔

اس تحقیق کے دوران چین کے 5 لاکھ کے لگ بھگ بالغ افراد کی غذائی عادات کا جائزہ لیا گیا جس کی وجہ یہ ہے کہ چینی شہریوں میں پھلوں کے استعمال کا رجحان کافی کم ہے۔

محققین کے مطابق پھلوں کے کم استعمال کی وجہ سے پھلوں کے استعمال اور ہارٹ اٹیک یا فالج سے موت کا خطرہ کم ہونے کے حوالے سے جانے میں مدد ملی اور خاص بات یہ ہے کہ وہ لوگ پراسیس کی بجائے تازہ پھلوں کو ترجیح دیتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق ان پھلوں میں پوٹاشیم، فائبر، اینٹی آکسائیڈنٹس اور دیگر اجزا شامل ہوتے ہیں تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ ان مہلک امراض کی روک تھام کیسے کرتے ہیں۔

محققین نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ جو لوگ اکثر پھلوں کو کھانے کے عادی ہوتے ہیں ان میں امراض قلب یا فالج کا خطرہ کافی کم ہوتا ہے تو روزانہ کسی ایک پھل کو کھانا عادت بنالینی چاہئے۔

صرف سبزیاں کھانا فالج کا خطرہ بڑھائے، تحقیق

کہا جاتا ہے کہ صرف سبزیاں کھانے کی عادت امراض قلب کا خطرہ کم کرتی ہے مگر اس کے نتیجے میں فالج کا امکان بہت زیادہ بڑھ سکتا ہے۔

یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

جریدے دی بی ایم جے میں شائع تحقیق میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے لگ بھگ 50 ہزار مرد و خواتین کی غذائی عادات اور صحت کا جائزہ 18 برسوں تک لیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ اپنی غذا سے گوشت کو مکمل طور پر نکال کر سبزیوں تک محدود ہوجانے والے افراد میں امراض قلب کی شرح کم ہوگئی مگر فالج کی شرح گوشت کھانے والوں کے مقابلے میں زیادہ بڑھ گئی۔

درحقیقت صرف سبزیاں کھانے والے افراد میں برین ہیمرج (دماغی شریان پھٹنا) کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

تاہم جو لوگ سرخ گوشت سے گریز مگر مچھلی کھانے کے عادی ہوتے ہیں ان مٰں امراض قلب کا خطرہ تو کم ہوتا ہے مگر فالج کا خطرہ نہٰں بڑھتا۔

تاہم محققین کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ تاکہ دریافت کیا جاسکے کہ کونسی غذا صحت کے لیے زیادہ مفید ثابت ہوسکتی ہے۔

اس تحقیق میں اس خیال کو تقویت دی گئی کہ جسم میں کولیسٹرول کی سطح میں کمی جو کہ ویسے تو صحت کے لیے فائدہ مند ہے، مگر اس سے کسی طرح برین ہیمرج کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

سبزیوں تک محدود ہونے کے نتیجے میں جسمانی کولیسٹرول لیول کم ہوتا ہے جو امراض قلب سے تحفظ فراہم کرتا ہے مگر ایسے افراد میں وٹامن بی 12، وٹامن ڈی اور امینو ایسڈز کی بھی کمی ہوجاتی ہے اور یہ تینوں عناصر بھی فالج کا خطرہ بڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔

اس سے قبل 2016 میں آسٹریا کی ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جسمانی طور پر زیادہ متحرک ہونے اور کم تمباکو نوشی کے باوجود خوراک میں سبزی کو ترجیح دینے والے افراد کم صحت مند ہوتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سبزی خور افراد کولیسٹرول اور سیچورٹیڈ فیٹ کا کم استعمال کرتے ہیں جس سے ان کے اندر کینسر، الرجیز اور ذہنی صحت کے مسائل جیسے ڈپریشن اور ذہنی تشویش وغیرہ کے خطرے میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران آسٹریا میں ہونے والے ایک طبی سروے کے ڈیٹا کو استعمال کیا گیا جس میں لوگوں کی غذائی عادات سمیت گوشت پسند کرنے والے اور سبزی کھانے کے شوقین افراد کے طرز زندگی میں تبدیلوں کا جائزہ لیا گیا تھا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ سبزی کھانے والے افراد کا جسمانی وزن کم ہوتا ہے مگر پھر بھی وہ جسمانی اور ذہنی صحت کے حوالے سے زیادہ بہتر نہیں ہوتے۔

محققین کا کہنا تھا کہ جو لوگ گوشت کم کھاتے ہیں ان کے اندر طبی شعور بھی زیادہ نہیں ہوتا جیسے ڈاکٹروں سے معائنہ کرانے سے گریز اور ویکسین وغیرہ سے دوری۔

ان کا کہنا تھا کہ تحقیق کا لب لباب یہ ہے کہ سبزی کو خوراک میں استعمال کرنے والے کم صحت مند ہوتے ہیں ، معیار زندگی بھی کم تر اور انہیں زیادہ طبی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔

محققین کے مطابق سبزی خور مخصوص بیماریوں کا زیادہ شکار ہوتےہیں جیسے دمہ، کینسر اور ذہنی امراض جبکہ گوشت پسند کرنے والوں میں ان کی شرح کم ہوتی ہے۔

رات میں کتنے گھنٹے کی نیند صحت کے لیے ضروری ہوتی ہے؟

یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ بہت کم سونا امراض قلب کا شکار بنا سکتا ہے مگر بہت زیادہ سونا بھی ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

امریکا کی کولوراڈو یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ 5 گھنٹے سے کم سونے کے عادی افراد میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ 52 فیصد زیادہ ہوتا ہے جبکہ 10 گھنٹے یا اس سے زائد نیند لینے والوں میں یہ خطرہ دوگنا بڑھ جاتا ہے۔

یہاں تک کہ تمباکو نوشی سے دور افراد میں بھی کم یا زیادہ سونے کے نتیجے میں امراض قلب کا خطرہ بڑھ جاا ہے۔

4 لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد پر ہونے والی تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ جینیاتی طور پر ہارٹ اٹیک کے زیادہ خطرے کے شکار افراد 6 سے 9 گھنٹے کی نیند کو معمول بنا کر اس خطرے کو کافی حد تک کم کرسکتے ہیں۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ بہت زیادہ نیند کے نتیجے میں جسمانی ورم بڑھتا ہے جس سے خون کی شریانیں متاثر ہوتی ہیں جبکہ بہت کم سونے سے ٹشوز کو نقصان پہنچتا ہے جبکہ ناقص غذا کے انتخاب جیسے تباہ کن عادات بھی طرز زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے نتائج اب تک کہ ٹھوس ترین ہیں کہ نیند کا دورانیہ دل کی صحت کے لیے بنیادی عنصر کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کا اطلاق سب پر یکساں انداز سے ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف دی امریکن کالج آف کارڈیالوجی میں شائع ہوئے۔

گزشتہ سال ڈیوک یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ویسے تو رات بھر 7 گھنٹے کی نیند کا ہدف بہت اہمیت رکھتا ہے مگر اس کے فوائد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ سونے کا ایک وقت طے کرلیا جائے۔

تحقیق کے مطابق بیشتر افراد کو لگتا ہے کہ سونے کا مخصوص وقت بچوں کے لیے ہوتا ہے اور بلوغت کے بعد کسی بھی وقت سوجانے میں کوئی برائی نہیں۔

مگر اس نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ جن لوگوں کی نیند کا کوئی وقت طے نہیں ہوتا، وہ موٹاپے کے زیادہ شکار، کم صحت مند، بلڈ شوگر اور ہائی بلڈ پریشر کے شکار ہوسکتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں آخر نیند کا کوئی وقت طے نہ ہونا اور ان عوارض کے درمیان تعلق کیا ہے، تاہم ایسا ہوتا ضرور ہے۔

تحقیق کے دوران 2 ہزار کے قریب بالغ افراد کی نیند کی عادات کا تجزیہ کیا گیا اور دیکھا گیا کہ وہ رات کو کتنے گھنٹے سوتے ہیں اور ان کا کوئی شیڈول ہے یا نہیں۔

اس سے قبل 2016 میں جرمنی کے ایسین یونیورسٹی ہاسپٹل کی تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ بے خوابی اور حد سے زیادہ سونا دماغ تک جانے والی خون کی فراہمی کو روکنے کا باعث بن سکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق بہت کم یا زیادہ نیند کی صورت میں فالج کا دورہ پڑنے سے صحت یابی کا امکان بہت کم ہوجاتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ نیند کے معمولات میں تبدیلی منفی اثرات کا باعث بنتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نیند کے مسائل عام طور پر دو وجوہات کی بنائ پر ہوتے ہیں ایک دوران نیند نظام تنفس کا متاثر ہونا (خراٹے) اور دوسرا بے خوابی یا نیند نہ آنا۔

تحقیق کے مطابق ایسے شواہد ملے ہیں جن کے مطابق نیند کے دوران نظام تنفس کے مسائل فالج کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں جبکہ بے خوابی بھی اس جان لیوا مرض کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ اس سے ریکوری کے امکانات بھی کم کرتی ہے۔

برطانیہ کی لوف بورگ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ لوگ 6 گھنٹے کی نیند لے کر بھی خود کو مختلف بیماریوں کے خطرے سے بچاسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جسم کو 6 گھنٹے کی نیند لینے کے لیے تیار کرنے کے حوالے سے چند نکات پر عمل کرنا چاہیے۔

محققین کے مطابق سب سے پہلے تو یہ بات یقینی بنائیں کہ آپ ہر روز صبح ایک ہی وقت پر بیدار ہوں۔

اسی طرح پہلے ہفتے 20 منٹ تاخیر سے سونے کے لیے جائیں، دوسرے ہفتے یہ وقت 40 منٹ اور تیسرے ہفتے ایک گھنٹے تک لے جائیں۔

ہر ہفتے 20 منٹ تاخیر سے جانے کا عمل ا±س وقت تک برقرار رکھیں جب تک نیند کا دورانیہ 6 گھنٹے تک نہیں آجاتا۔

محققین کا کہنا تھا کہ 7 سے 9 گھنٹے اکثر افراد کے لیے نیند کا مثالی دورانیہ سمجھا جاتا ہے مگر اس کا انحصار جینز پر بھی ہوتا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ نیند کا دورانیہ 6 گھنٹے تک لانے کے دوران اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ اس کا معیار اچھا ہو۔

اس کے لیے سونے سے ایک گھنٹے قبل تک اسمارٹ فون یا کمپیوٹر وغیرہ کا استعمال نہ کریں جبکہ کیفین کا استعمال کم کردیں، اس سے فوری سونا ممکن ہوسکے گا اور لیٹ کر دیر تک جاگنا نہیں پڑے گا۔

اسی طرح آرام دہ بستر، تاریکی اور مناسب درجہ حرارت بھی ضروری ہے۔

جلد موت کا خطرہ بڑھانے والی عام عادت سامنے آگئی

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہارٹ اٹیک یا فالج سے اموات کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ آج کل لوگوں میں پائی جانے والی ایک عام عادت ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

امپرئیل کالج لندن کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ سافٹ ڈرنکس چاہے وہ چینی سے بنے ہو یا مصنوعی مٹھاس سے، لوگوں میں مختلف امراض سے موت کا خطرہ بڑھانے کا باعث بن سکتے ہیں۔

اس تحقیق کے دوران 10 یورپی ممالک کے ساڑھے 4 لاکھ افراد سے زائد کا جائزہ لینے کے بعد نتیجہ نکالا گیا کہ رزانہ ان مشروبات کے 2 یا اس سے زائد گلاس پینا کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ بہت زیادہ بڑھا دیتے ہیں۔

محققین نے دریافت کیا کہ مصنوعی مٹھاس سے بنے مشروبات اور دوران خون کی گردش کے امراض سے اموات کے درمیان تعلق ہے جبکہ چینی سے بنی سافٹ ڈرنکس نظام ہاضمہ کے امراض سے موت کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

اس تحقیق کا آغاز 1992 میں ہوا جس کے دوران لوگوں کے کھانے پینے کی عادات کا جائزہ 2000 تک لیا گیا جبکہ اس کے 16 سالہ بعد ان رضاکاروں کی صحت کا ایک بار پھر معائنہ کیا گیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس تحقیق سے ان شواہد کو تقویت ملتی ہے کہ سافٹ ڈرنکس اور امراض قلب یا فالج سے اموات کے درمیان تعلق موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تعلق کافی پیچیدہ ہے اور اسے اتفاق نہیں سمجھا جاسکتا ‘ہم نے دریافت کیا کہ ان مشروبات کا زیادہ استعمال مختلف وجوہات کے بنا پر موت کا خطرہ بڑھاتا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں صرف سافٹ ڈرنکس ہی قبل از وقت موت کا باعث بنتی ہیں بلکہ مزید عناصر بھی اس کے پیچھے چھپے ہوسکتے ہیں، جیسے زیادہ سافٹ ڈرنکس پینے والوں کی غذائی عادات ناقص ہوتی ہیں جبکہ ان میں جسمانی وزن بھی زیادہ ہوتا ہے اور تمباکو نوشی کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل جاما انٹرنل میڈیسین میں شائع ہوئے۔

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ناشتے میں اس غذا کا انتخاب فائدہ مند

اگر آپ ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مریض ہیں تو ناشتہ وہ اہم ترین غذا ہے جو بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریضوں کا لبلبہ مناسب مقدار میں انسولین بنانے سے قاصر ہوتا ہے جو بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دینے والا ہارمون ہے، تو اسے کنٹرول میں رکھنے کے لیے متبادل ذرائع کو اپنانا پڑتا ہے۔

خاص طور پر غذا کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرنا پڑتا ہے کیونکہ کچھ غذائی اشیا اگر بلڈ شوگر لیول کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتی ہیں تو کچھ سے یہ سطح بڑھ بھی سکتی ہے۔

اب ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ناشتے میں دودھ کو شامل کرنا دن بھر میں بلڈ شوگر لیول کو مستحکم رکھنے یا اس میں کمی لانے میں مدد دے سکتا ہے۔

کینییڈا کی گیولف یونیورسٹی اور ٹورنٹو یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق میں بتایا گیا کہ ناشتے میں دودھ پینا دن بھر میں بلڈ گلوکوز کی سطح کم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران بلڈ گلوکوز کی سطح اور کھانے کی اشتہا پر ناشتے میں پروٹین سے بھرپور دودھ کے استعمال کے اثرات دیکھے گئے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ناشتے میں کسی بھی شکل میں دودھ کا استعمال کھانے کے بعد بڑھنے والے بلڈ گلوکوز کی سطح کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے جبکہ اس میں پروٹین کی موجودگی دوپہر کے کھانے کے بعد بھی شام میں کچھ کھانے کی خواہش کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں میٹابولک امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں، خاص طور پر ذیابیطس ٹائپ 2 اور موٹاپا انسانی صحت کے لیے وبا بن چکے ہیں، مگر غذائی حکمت عملی سے اس خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے جبکہ ذیابیطس اور موٹاپے کو کنٹرول میں رکھ کر صحت کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ دودھ پینے سے جسم میں ایسے ہارمونز کا اخراج ہوتا ہے جو نظام ہاضمہ کو سست کرکے دیر تک پیٹ بھرے رکھنے کا احساس پیدا کرتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف ڈیری سائنس میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل رواں سال اپریل میں ایک طبی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ناشتہ دن کی وہ غذا ہے جو ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مریضوں کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ ناقص انتخاب کے نتیجے میں بلڈشوگر لیول دن کے آغاز پر ہی اوپر جانے کا امکان ہوتا ہے، تاہم زیادہ پروٹین اور کم کاربوہائیڈریٹ والا ناشتہ دن بھر شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ذیابیطس کے مریض اگر سیریل، ٹوسٹ یا کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور غذا ناشتے میں جزو بدن بنائیں تو بلڈشوگر لیول بڑھتا ہے جس سے ذیابیطس کی پیچیدگیوں کا خطرہ بھی وقت کے ساتھ بڑھنے لگتا ہے۔

محققین کے مطابق ناشتے میں انڈوں کا استعمال شوگر لیول کو بڑھنے سے روکنے کے ساتھ ساتھ دن بھر میں گلیسمک کنٹرول بہتر کرتا ہے جبکہ دیگر پیچیدگیوں کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ ناشتہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے انتہائی اہم غذا ہے کیونکہ ناقص انتخاب دن میں میٹھی غذاﺅں کی اشتہا بڑھاتا ہے جس سے شوگر لیول مزید اوپر جاتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے جرنل آف دی امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہوئے۔

بھارتی ادویات کی درآمدات پر پابندی ہٹادی گئی

اسلام آباد: مقامی مارکیٹ میں جان بچانے والی ادویات کے بحران سے بچنے کے لیے حکومت نے بھارت سے ادویات اور ان کے خام مال کی درآمدات پر سے پابندی ہٹادی۔

وزارت تجارت و ٹیکسٹائل کی جانب سے جاری ہونے والے اسٹیچوٹری ریگولیٹری آرڈرز (ایس آر او) میں کہا گیا کہ بھارت سے تجارت پر پابندی بحال رہے گی تاہم اس کا اطلاق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی جانب سے ریگولیٹ ہونے والی مصنوعات پر نہیں ہوگا۔

اس حوالے سے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ استثنیٰ مفاد عامہ اور مریضوں کو ادویات کی فراہمی کے پیش نظر دی گئی’۔

ڈان کو موصول ہونے والے ڈائریکٹر جنرل (ٹریڈ پالیسی) محمد اشرف کے دستخط شدہ 2 ایس آر اوز کو گزیٹ آف پاکستان میں شائع کیا جائے گا۔

یہاں یہ بات واضح رہے کہ 5 اگست کو نئی دہلی کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کو 2 حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد پاکستانی حکومت نے 9 اگست کو بھارت سے تمام قسم کی تجارت منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ابتدائی طور پر فارماسیوٹیکل انڈسٹری (ادویات سازی کی صنعت) نے حکومت سے قواعد میں نرمی اور بھارتی مصنوعات کو فیصلے سے قبل درآمد کرنے کا کہا تھا، جس پر حکومت نے نرمی کرتے ہوئے پاکستانی بندرگاہوں اور ایئرپورٹس پر پہنچنے والی اشیا کو کلیئرنس دے دی تھی۔

تاہم بھارت سے بڑے پیمانے پر ادویات اور خام مال کی درآمدات کی وجہ سے صنعت نے پابندی کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ‘اگر ایسا نہ کیا گیا تو چند ہفتوں میں ملک میں ادویات کا شدید بحران پیدا ہوسکتا ہے، بالخصوص جان بچانے والی ادویات ناپید ہوسکتی ہیں’۔

ڈریپ حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گزشتہ ہفتے اس مسئلے پر بحث کے لیے ایک اجلاس طلب کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اس اجلاس میں تمام اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی تھی اور بتایا تھا کہ چند ہفتوں میں ادویات کی دستیابی یقینی بنانا ناممکن ہوجائے گا کیونکہ ادویات ساز صنعت بھارتی ادویات اور خام مال پر انحصار کرتی ہے’۔

حکام کا کہنا تھا کہ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ بھارتی ادویات کم قیمت پر دستیاب ہیں اور حکومت نے کوئی متبادل انتظام نہیں کیا تو ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ ‘ہم نے تمام تجاویز کو اکٹھا کیا اور اسے وزارت قومی صحت کو ارسال کردیا، جس کے بعد فیصلہ سازوں کو پابندی کے خاتمے کا کہا یا پھر ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے لیے تیار رہنے کا کہا تھا، اس کے علاوہ تیسرا آپشن ہمارے پاس یہ تھا کہ ادویات کو سبسڈی فراہم کی جائے تاہم ملک کے مالی حالات ایسے نہیں کہ سبسڈی فراہم کی جاسکے’۔

Google Analytics Alternative