صحت

اس رمضان دلیہ شیک پینا پسند کریں گے؟

آپ نے کیلے کا ملک شیک یا پھر دلیے کا ملک شیک تو ضرور پیا ہوگا، عین ممکن ہے کہ آپ نے کبھی کیلے کا دلیہ شیک بھی پیا ہو۔

لیکن یہ شیک عام طور پر پاکستان میں بہت ہی کم تیار کیا جاتا ہے۔

کیلے کے دلیے شیک کے جہاں صحت کے حوالے سے کئی فوائد ہیں، وہیں وہ گرمیوں کے اس سیزن میں روزہ داروں کے لیے ایک بہترین غذا بھی ہے۔

کیلے کے دلیے شیک کو نہ صرف افطار بلکہ سحری میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، کیوں کہ یہ غذائیت، مٹھاس اور طاقت سے بھرپور ہوتا ہے۔

اس شیک کو تیار کرنا بہت ہی آسان ہے، جب کہ اس کے ذائقے کا کوئی ثانی نہیں۔

اجزاء

کیلے 2 عدد ہلکے سخت

کچا دلیہ ایک کپ (مارکیٹ میں دستیاب ڈبہ پیک)

دہی ایک کپ

دودھ ایک کپ

شہد 2 کھانے کے چمچ

چینی حسب ذائقہ

ترکیب

تمام اجزاء کو بلینڈر کرلیں۔

چاہیں تو شیک کو ٹھنڈا کرکے پئیں، چاہیں تو ایسے ہی نوش فرمائیں۔

چاہیں تو اس شیک میں ڈرائی فروٹ بھی ملالیں۔

نمک کے زیادہ استعمال سے یہ مسئلے لاحق ہوسکتے ہیں

نمک ایسی چیز ہے جس کے بغیر کھانا نامکمل اور بے ذائقہ محسوس ہوتا ہے اور طبی ماہرین کی ہدایات کے مطابق دن بھر میں 2300 ملی گرام (ایک کھانے کا چمچ) نمک ہی استعمال کرنا چاہئے۔

تاہم بیشتر افراد زیادہ مقدار میں نمک جزو بدن بناتے ہیں اور اس کے نتیجے میں فشار خون سمیت سنگین طبی مسائل وقت کے ساتھ ابھرنے لگتے ہیں۔

غذا میں زیادہ نمک کے استعمال کی چند عام علامات درج ذیل ہیں۔

سوجن

اگر ہاتھ میں انگوٹھیاں تنگ ہوجائیں، آپ پیروں میں سوجن محسوس کریں یا صبح آنکھیں پھولی ہوئی ہو، تو اس کی ممکنہ وجہ زیادہ نمک کا استعمال ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب جسم نمک کی زیادہ مقدار کی وجہ سے زیادہ پانی اکھٹا کرنے لگتا ہے اور اس کا علاج ڈاکٹر کے مشورے سے غذا میں تبدیلیوں سے ہی ممکن ہوتا ہے۔

زیادہ پیاس لگنا

نمک میں موجود سوڈیم جسم میں سیال کا توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے، جب زیادہ نمک کھایا جائے تو جسم کو سیال کی بھی زیادہ ضرورت ہوتی ہے تاکہ مسلز اور دیگر اعضاءاپنا کام معمول کے مطابق کرسکیں اور پانی پینا ہی صورتحال کو معمول پر لانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ یاد رکھیں مناسب مقدار میں پانی نہ پینا ڈی ہائیڈریشن کا شکار بناسکتا ہے۔

پیشاب کی رنگت میں تبدیلیاں

جب جسم میں سوڈیم کا ذخیرہ ہونے لگتا ہے تو جسم میں آنے والی تبدیلیوں کا اظہار پیشاب کے ذریعے 2 وجوہات کی وجہ سے ہوتا ہے۔ زیادہ نمک کھانے کے نتیجے میں گردوں کو اس کے اخراج کے لیے بہت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے جس کے نتیجے میں گردوں کے امراض کا خطرہ پیدا ہوتا ہے اور اس کا عندیہ اکثر پیشاب کی صورت میں نکلتا ہے جس کی رنگت بالکل شفاف ہوسکتی ہے۔ اسی طرح بہت زیادہ سوڈیم کی جسم میں موجودگی سے جسم سیال کی سطح سے محروم ہونے لگتا ہے جس سے ڈی ہائیڈریشن کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ جسم جسم میں پانی کی کمی ہو تو پیشاب کی مقدار گھٹ جاتی ہے، جس سے وہ گاڑھا اور گہرے زرد رنگ کا ہوسکتا ہے۔

ہڈیوں میں درد

جب بہت زیادہ نمک کھایا جائے تو گردے اسے مکمل طور پر خارج نہیں کرپاتے، جس سے کیلشیئم کی سطح میں نمایاں کمی آتی ہے، کیلشیئم کی کمی ہڈیوں کی کمزوری کا باعث بنتی ہے۔ دانتوں کے مسائل اور ہڈیوں کے بھربھرے پن کا خطرہ بڑھتا ہے۔

مسلز اکڑنا

سوڈیم اور پوٹاشیم کا توازن برقرار رکھنا صحت کے لیے ضروری ہوتا ہے کیونکہ یہ عناصر مسلز کو کام کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اگر یہ توازن نمک کے زیادہ استعمال سے بگڑ جائے تو پٹھے اکڑنے یا کھچنے کا تجربہ زیادہ ہونے لگتا ہے جبکہ مسلز میں تکلیف بھی ہوتی ہے۔

مسلسل سردرد رہنا

زیادہ مقدار میں نمک کے استعمال سے خون کا والیوم بھی بڑھاتا ہے جس کے نتیجے میں شریانوں میں خلاءبڑھتا ہے، ایسا ہونے پر ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھتا ہے جبکہ ہر وقت شدید سردرد کی شکایت بھی ہوسکتی ہے۔

ذہنی مسائل

فشار خون کے نتیجے میں دماغ کی جانب جانے والی شریانوں کو نقصان پہنچتا ہے، جس کے باعث دماغ کی سوچنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے اور روزمرہ کے کاموں کو کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ اسی طرح ڈی ہائیڈریشن ناقص یاداشت، تھکاوٹ اور ردعمل کو سست کرنے کا باعث بھی بنتی ہے۔

میٹھا سوڈا کینسر کے علاج میں مفید

پنسلوانیا: کینسر کے ایک نسبتاً نئے طریقہ علاج امیونوتھراپی کو مزید بہتر بنانے کےلیے بیکنگ سوڈا کا استعمال نہایت مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ اس سے کئی طرح کے سخت جان سرطان کو قابو کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

کینسر کے ماہرین جانتے ہیں کہ سرطانی رسولیوں کا بڑا حصہ ایسا ہوتا ہے جہاں آکسیجن نہیں ہوتی اور انہی مقامات کا علاج بہت مشکل ہوتا ہے۔ خلیے کو جب مناسب آکسیجن نہیں ملتی تو وہ ایک خاص حالت میں چلا جاتا ہے جسے کوشنٹ اسٹیٹ کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر ایم ٹی او آر سی ون نامی ایک مالیکیولر سوئچ خلیے کی صورتحال کا جائزہ لے کر بتاتا ہے کہ خلیے کو تقسیم ہونا ہے یا نہیں۔ اگر mTORC1 موجود نہ ہو تو خلیہ کا اندرونی کام ٹھپ ہوجاتا ہے اور سرطانی رسولی کے اندر اس مالیکیول کی سرگرمی ختم ہوجاتی ہے۔

اسی تحقیق کو آگے بڑھاتے ہوئے یونیورسٹی آف پنسلوانیا میں واقع وسٹر انسٹی ٹیوٹ نے اس ضمن میں بیکنگ سوڈا کا استعمال کیا ہے جس کی تفصیل سائنسی جرنل سیل میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ میٹھا سوڈا خود امنیاتی یا آٹو امیون امراض میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے جن میں کینسر بھی شامل ہے۔

ڈاکٹر کائی وین ڈینگ اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ خلیہ کوشنٹ اسٹیٹ میں ہو تو اس پر سرطانی ادویہ کام نہیں کرتیں اور اسے اس صورتحال سے باہر نکالنا ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے تجربہ گاہ میں سرطان زدہ چوہوں کو پانی میں بیکنگ سوڈا گھول کر پلایا تو اس سے سرطانی رسولی آکسیجن کی کمی والی صورتحال سے واپس آگئی اور mTORC1 سرگرمی شروع ہوگئی۔ اس کے بعد جب کینسر امیونو تھراپی شروع کی گئی تو وہ بہت کامیاب ٹھہری کیونکہ سرطانی رسولیوں کی تیزابیت بڑھ گئی۔

اب ماہرین کی ٹیم نے کہا ہے کہ کینسر کے علاج کا ایک نیا طریقہ اگر بیکنگ سوڈا کے ساتھ ملا کر لاگو کیا جائے تو اس سے علاج کی نئی راہیں ہموار ہوں گی۔

واضح رہے کہ دنیا کے کئی ڈاکٹر پہلے بھی کینسر کے علاج میں بیکنگ سوڈا کو انتہائی مؤثر قرار دے چکے ہیں لیکن انہیں خاص پذیرائی نہیں مل سکی تھی۔

دماغ کو ہر عمر میں جوان رکھنا بہت آسان

روزانہ 20 منٹ سے بھی کم وقت کی ہلکی ورزش جیسے چہل قدمی یا یوگا وغیرہ درمیانی عمر میں دماغ کو تنزلی کا شکار ہون سے بچانے میں مدد دے سکتی ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

میامی یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ہفتہ بھر میں 2 گھنٹے کی یہ ہلکی ورزش دماغ کو درمیانی عمر یا بڑھاپے میں جوان رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہلکی نوعیت کی جسمانی سرگرمیاں بھی دماغ کے لیے فائدہ مند ہیں۔

میامی یونیورسٹی کی تحقیق کے دوران 11 ہزار سے زائد رضاکاروں کا جائزہ لیا گیا اور معلوم ہوا کہ ہلکی ورزش لوگوں کو ذہنی طور پر تیز رکھنے اور ذہنی کام کرنے میں موثر ثابت ہوتی ہے۔

تحقیق کے مطابق 17 منٹ کی جسمانی سرگرمیاں دماغ کے مختلف حصوں جیسے توجہ مرکوز کرنا، مقاصد کا حصول اور ٹائم منیجمنٹ وغیرہ کی اہلیت بڑھاتی ہیں۔

ہلکی ورزشیں جیسے چہل قدمی، سائیکل چلانا اور یوگا وغیرہ دماغ کو تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ طویل المعیاد بنیادوں پر ہلکی ورزش کا پروگرام سوچنے کی صلاحیت کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہر ایک کے لیے سخت ورزشیں کرنا ممکن نہیں ہوتا مگر ہر ایک ہلکی ورزشوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے نیورولوجی کلینیکل پریکٹس میں شائع ہوئے۔

کیا ذیابیطس کے مریضوں کو چاول کھانے چاہئے؟

ذیابیطس اس وقت پاکستان میں تیزی سے پھیلنے والا عارضہ ہے اور کروڑوں افراد اس کے شکار ہیں۔

ذیابیطس کے شکار افراد میں مناسب مقدار میں انسولین بن نہیں پاتی یا جسم اسے استعمال کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے۔

عام طور پر ذیابیطس ٹائپ 2 کا مرض طرز زندگی کی مخصوص عادات کا نتیجہ ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں بلڈ شوگر لیول طویل عرصے کے لیے بڑھ جاتا ہے جس کے نتیجے میں دیگر طبی مسائل جیسے امراض قلب وغیرہ کا خطرہ بڑھتا ہے

اس عارضے کا ابھی تک کوئی مکمل علاج تو موجود نہیں مگر چند غذائی عادات اور طرز زندگی میں تبدیلیوں سے اسے کنٹرول میں رکھا جاسکتا ہے۔

بیشتر طبی ماہرین ذیابیطس کے مریضوں کی غذا میں سے چاول نکالنے کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ اس سے بلڈ شوگر لیول متاثر ہونے کا امکان ہوتا ہے۔

مگر چاول ایسی چیز ہے جو پاکستان بھر میں بہت زیادہ عام ہوتی ہے تاہم اس میں موجود نشاستہ بلڈشوگر لیول بڑھا سکتا ہے۔

اسی طرح چاول میں فائبر نہیں ہوتا جو کہ مٹھاس کو جذب کرنے کا عمل لمبا کرکے بلڈشوگر لیول ریگولیٹ کرتا ہے۔

چاول ہائی گلیسمک انڈیکس غذا ہے اور اس طرح کی غذا بلڈ شوگر لیول بڑھانے کا باعث سمجھی جاتی ہے جبکہ اس میں موجود کاربوہائیڈریٹس ذیابیطس کے مریض کو انسولین استعمال نہیں کرنے دیتے جس سے بھی بلڈشوگر لیول بڑھتا ہے۔

تو ان عناصر کو دیکھتے ہوئے سوال یہ ہے کہ کیا واقعی چاول ذیابیطس کے شکار افراد کو نہیں کھانے چاہئے؟

امریکن ڈائیبیٹس ایسوسی ایشن کے مطابق نشاستہ دار غذائیں جیسے چاول صحت مند غذائی عادات کا حصہ ہوسکتی ہیں مگر ان کی مقدار کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

چاول، پاستا، آلو، مٹر اور مکئی وغیرہ کو غذاﺅں کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔

تو ذیابیطس کے مریض سفید یا براﺅن چاول کھا سکتے ہیں مگر اعتدال کنجی ہے اور ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے سے اسے کھانے کی عادت بنائیں۔

رمضان میں موٹاپے اور توند سے نجات پانا چاہتے ہیں؟

ویسے تو ماہ رمضان کے دوران روزے رکھنا مذہبی فریضہ ہے، مگر یہ صحت کی بہتری کے لیے بھی بہترین وقت ہوتا ہے، خصوصاً جسمانی وزن میں کمی اور توند سے نجات کے لیے۔

اگر آپ سحری اور افطار میں سمجھ داری سے کام لیں تو آپ روزوں کے دوران کئی کلو تک جسمانی وزن گھٹا سکتے ہیں۔

اس کا طریقہ کار کچھ اس طرح ہوسکتا ہے۔

سحری کی تیاری

ماہرین کے مطابق جو اور اناج کی روٹی کو سحری کا حصہ لازمی بنانا چاہئے تاکہ پیٹ دیر تک بھرا رہ سکے، اسی طرح کیفین یعنی چائے یا کافی کے استعمال سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ یہ گرم مشروبات ڈی ہائیڈریشن اور جسم میں پانی کی کمی کا باعث بن سکتے ہیں جو اس گرم موسم میں نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔

ماہرین کا مزید کہنا تھا کہ پروٹینز اور کاربوہائیڈریٹس جیسے انڈے، آلو، دہی، دالیں، گوشت وغیرہ استعمال کرنا چاہئے تاکہ جسمانی توانائی کو دن بھر میں مستحکم رکھا جاسکے ۔

متوازن افطار

افطار کے وقت جسمانی وزن میں کمی کے خواہشمند افرد کو زیادہ سیال جیسے پانی یا قدرتی مٹھاس والے مشروبات کو ترجیح دینی چاہئے، تاکہ دن بھر میں جسم میں ہونے والی کمی پر قابو پایا جاسکے۔ زیادہ کیلوریز اور تلی ہوئی غذاﺅں کو اجناس، پھلوں ، سبزیوں اور چربی سے پاک گوشت سے بدل دیں۔

یا اگر ایسا ممکن نہیں تو جو کھانا ہو وہ ضرور کھائیں، مگر اعتدال سے، ورنہ زیادہ کھانا نقصان دہ ہی ثابت ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق دن بھر کے فاقے کے بعد میٹابولزم کی رفتار کم ہوچکی ہوتی ہے اور اس وقت زیادہ کھانے کی صورت میں کیلوریز کو ہضم کرنا مشکل ہوتا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کھجور سے روزہ کھولنا اس لیے بھی بہترین ہے کیونکہ اسے ہضم کرنا آسان اور اسے کھانے سے بھوک کے احساس کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اسی طرح کھجور جسم کو توانائی بھی فراہم کرتی ہے جبکہ زیادہ کھانے سے روکتی ہیں۔

ورزش سے گریز نہ کریں

دنیا بھر میں لوگ جسمانی وزن میں کمی کے لیے 16 سے 20 گھنٹے کے فاقے کو اپناتے ہیں اور اس کے دوران 4 سے 6 گھنٹے کے وقفے میں کم مقدار میں غذاﺅں کا استعمال کرتے ہیں اور ایسا ہی کچھ رمضان میں بھی ہوتا ہے۔ تو رمضان کے دوران ورزش کو جاری رکھنے سے کیلوریز کی کمی کو فائدے کی صورت میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ایسا کرنے سے جسمانی چربی کی سطح میں نمایاں کمی آسکتی ہے یا یوں کہہ لیں توند سے نجات کافی آسان ہوجاتی ہے۔

روزانہ بادام کھانے کے یہ فائدے جانتے ہیں؟

اگر بے وقت بھوک لگے تو چپس یا بسکٹ کی بجائے مٹھی بھر بادام کھالیں، یہ وہ مثالی گری ہے جسے دن بھر کھایا جاسکتا ہے، جس سے نہ صرف جسمانی توانائی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ متعدد طبی مسائل کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق بادام متعدد اجزاءکے حصول کا قدرتی ذریعہ ہے جن میں پروٹین اور صحت بخش چربی قابل ذکر ہیں، روزانہ 30 گرام تک بادام کھانا صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔

بادام وٹامن ای، غذائی فائبر، میگنیشم، کاپر، زنک، آئرن، پوٹاشیم اور کیلشیئم سمیت 15 غذائی اجزاءجسم کو فراہم کرتے ہیں۔

اس کے فوائد درج ذیل ہیں۔

طبی جریدے جرنل نیوٹریشنز میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ کچھ مقدار میں بادام کھانا خون میں چربی کی سطح میں کمی لانے میں مدد دے سکتا ہے، یہ چربی امراض قلب کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

اسی طرح جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسین میں شائع ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی جو لوگ گریاں جیسے بادام روزانہ کھانا پسند کرتے ہیں، ان میں کسی بھی مرض کے نتیجے میں درمیانی عمر میں موت کا خطرہ ان افراد کے مقابلے میں 20 فیصد کم ہوتا ہے جو بادام کھانا پسند نہیں کرتے۔

اسی طرح پنسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ کچھ بادام کھانے سے صحت کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی آتی ہے جس سے ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

اسی طرح بادام میں وٹامن اور ایسے اجزاءموجود ہوتے ہیں جو بالوں کی نشوونما اور مضبوطی کے لیے ضروری ہوتے ہیں، جیسے میگنیشم اور زنک بالوں کی نشوونما بہتر کرتے ہیں جبکہ وٹامن ای بالوں کو مضبوط اور وٹامن بی چمکدار بناتے ہیں۔

بادام میں مینگنیز نامی جز بھی موجود ہوتا ہے جو کہ کولیگن نامی ایک پروٹین کی مقدار بڑھاتا ہے جس سے جلد کو ہمرار رکھنے میں مدد ملتی ہے اور قبل از وقت جھریاں نمودار نہیں ہوتیں۔

اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ باداموں کی کچھ مقدار کو روز کھانا جسمانی میٹابولزم کو بہتر بناکر موٹاپے اور توند سے نجات دلانے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ بہت تیزی سے چربی گھلاتا ہے۔

بادام کو دماغی غذا بھی کہا جاتا ہے جو کہ یاداشت کو بہتر بناتا ہے اور اس کی وجہ وٹامن ای اور فیٹی ایسڈز کی موجودگی ہے، آسان الفاظ میں یہ میوہ بڑھتی عمر کے اثرات دماغ پر طاری نہیں ہونے دیتا۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

ہیٹ اسٹروک کے درمیان رمضان میں تربوز اسٹرابری شیک بنائیں

ہیٹ اسٹروک اور سخت گرمیوں کے ان دنوں میں روزہ رکھنے والے افراد یقینا افطاری تک نڈھال ہوجاتے ہوں گے، تاہم اگر ان گرمیوں میں اپنی غذاء کی پسند اور مقدار بہتر رکھی جائے تو اس مشکل پر کافی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔

گرمیوں کی وجہ سے افطار و سحر میں ہر گھر میں جہاں میٹھے مشروب کا اہتمام کیا جاتا ہوگا، وہیں ٹھنڈی اور میٹھی غذائیں بھی دستر خوان کی زینت بنائی جاتی ہوں گی۔

لیکن اگر دن بھر کے روزے اور سخت گرمی کے بعد افطار میں تربوز اسٹرابیری شیک کو دیگر مشروب کی جگہ رکھا جائے تو یہ گرمیوں کے حوالے سے بہتر انتخاب ہوگا۔

تربوز اسٹرابیری شیک کو بنانا بہت ہی آسان ہے، جب کہ اس کا ذائقہ لاجواب ہے، ساتھ ہی اس میں شامل غذائیت انسانی صحت کے لیے بہتر بھی ہے۔

تربوز اسٹرابیری کے اجزاء

دہی۔ ٹھنڈی ایک کپ

تربوز۔ باریک کٹا ہوا 2 کپ

منجمند۔ اسٹرابیریز یا بلیو بیریز ایک کپ

شہد۔ ایک کھانے کا چمچ

ترکیب

تمام اجزاء کو بلینڈر کرلیں۔

بلینڈر کیے ہوئے شیک میں حسب ضرورت برف ڈالیں یا پھر فرج میں ٹھنڈا کرکے افطار میں نوش فرمائیں۔

Google Analytics Alternative