صحت

پیٹ بھر ناشتہ اچھی صحت کے لیے ضروری

ہر دن ناشتہ چھوڑ کر مزید 20-30 منٹ سو لینا پرکشش لگ سکتا ہے تاہم حالیہ ریسرچز میں ایسا کرنے پر خبردار کیا گیا ہے۔

کئی سالوں سے ریسرچز میں یہ بات سامنے آتی رہی ہے کہ بھاری ناشتہ صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔ ایک سروے میں بھاری ناشتہ کرنے والے بچوں کو ان بچوں سے بہتر پایا گیا جو ہلکہ ناشتہ کرتے تھے۔

تاہم ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک حالیہ ریسرچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ بات بڑوں پر بھی لاگو ہوتی ہے جبکہ یہ عادت امراض قلب سے بچانے میں بھی سودمند ثابت ہوسکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ بات زیادہ اہمیت نہیں رکھتی کہ آپ ناشتے میں کیا کھاتے ہیں۔ ناشتہ اس لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیوں کہ اس سے پہلے آپ نے کافی دیر سے کچھ نہیں کھایا ہوتا ہے۔ اس وقت کو مزید بڑھانے سے ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریاں ہوسکتی ہیں۔

اس کے علاوہ بھاری ناشتے سے وزن کم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ ایک ریسرچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن افراد نے بھاری ناشتہ کیا اور دوپہر اور شام میں ہلکا کھانا کھایا انہوں نے تین ماہ کے دوران 17.8 پاونڈز کم کیے جبکہ جن لوگوں نے ناشتہ چھوڑ کر بھاری کھانا کھایا انہوں نے صرف 7.3 پاؤنڈز کم کیے۔

ایک پرانی کہاوت ہے کہ ناشتہ بادشاہ کی طرح، دوپہر کا کھانا شہزادے کی طرح اور رات کا کھانا بھکاری کی طرح کرنا چاہیے۔

اس کہاوت پر عمل کرتے ہوئے اپنے دن کا آغاز صحت کے اصولوں کے مطابق کریں۔

غذائی سپلیمنٹس نوجوانوں کی صحت کے لیے نقصان دہ

متعدد افراد جسمانی وزن یا موٹاپے سے نجات اور مسلز بنانے کے لیے غذائی سپلیمنٹس کا استعمال کرتے ہیں، مگر کیا یہ واقعی فائدہ مند ہوتے ہیں؟

درحقیقت مسلز بنانے، موٹاپے سے نجات اور جسمانی توانائی فراہم کرنے کے دعوﺅں کے ساتھ فروخت کیے جانے والے یہ سپلیمنٹس بچوں اور نوجوانوں کو ہسپتال پہنچا سکتے ہیں۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

طبی جریدے جرنل آف Adolescent Health میں شائع تحقیق میں 25 سال یا اس سے کم عمر ایک ہزار افراد میں غذائی سپلیمنٹس کے استعمال کے ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا جو کہ جنوری 2004 سے اپریل 2015 تک کا تھا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ 40 فیصد کو سنگین نوعیت کے امراض کا سامنا ہوا تھا جس کے نتیجے میں 166 ہسپتال پہنچ گئے جبکہ 22 اموات ہوئیں اور محققین کا کہنا تھا کہ یہ اعدادوشمار تو نہ ہونے کے برابر ہیں، کیونکہ بیشتر کیسز کی رپورٹ نہیں ہوتی۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ مخصوص سپلیمنٹس دیگر کے مقابلے میں صحت کے لیے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں جیسے جسمانی وزن میں کمی لانے والے، مسلز بنانے والے اور جسمانی توانائی فراہم کرنے والے سپلیمنٹس تین گنا زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔

محققین نے دریافت کیا کہ ان سپلیمنٹس میں کچھ میں ہیوی میٹل، کیڑے مار ادویات اور prescription ادویات کی ملاقاٹ ہوتی ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں کہا گیا کہ ان خطرناک اجزا اور کیمیکلز کی موجودگی ان سپلیمنٹس کو نوجوانوں کے لیے خطرناک بنادیتے ہیں اور ڈاکٹروں کے مشورے کے بغیر ان کا استعمال کرنا نہیں چاہیے۔

صحت مند افراد کا بلڈ شوگر لیول کتنا ہونا چاہیے؟

زندگی کس کو پیاری نہیں ہوتی مگر اچھی صحت کے بغیر جینا آسان نہیں ہوتا اور وہ جہنم جیسی لگنے لگتی ہے اور موجودہ عہد میں جو مرض انسانوں کے لیے سب سے زیادہ مہلک ثابت ہو رہا ہے وہ ذیابیطس ہے۔

ذیابیطس وہ مرض ہے جو دیمک کی طرح خاموشی سے انسانی جسم کے اندرونی اعضا کو چاٹ جاتا ہے اور اگر اس کے بارے میں بروقت معلوم نہ ہوسکے تو یہ بینائی سے محرومی سے لے کر گردوں کے فیل ہونے اور دیگر لاتعداد طبی مسائل کا سبب بنتا ہے۔

حیرت انگیز طور پر ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار 25 فیصد افراد کو اکثر اس کا شکار ہونے کا علم ہی نہیں ہوتا تو یہ ضروری ہے کہ بلڈ شوگر چیک اپ کرانا معمول بنالیا جائے۔

مگر سوال یہ ہے کہ وہ کونسی عمر ہے جب بلڈ شوگر کا چیک اپ کرانا زندگی کے معمولات کا حصہ بنانا چاہیے ؟

مگر اس سے پہلے جان لیں کہ صحت مند افراد کا بلڈ شوگر لیول کیا ہونا چاہیے۔

ایک صحت مند شخص کا کھانے سے پہلے شوگر لیول 70 سے 100 ایم جی/ڈی ایل اور کھانے کے بعد 70 سے 140 ایم جی/ ڈی ایل ہوتا ہے جبکہ ذیابیطس کے آغاز یا پری ڈائیبٹیس کے شکار افراد میں کھانے سے قبل 101 سے 125 ایم جی/ ڈی ایل اور کھانے کے بعد 141 سے 200 ایم جی/ ڈی ایل ہوسکتا ہے۔

ذیابیطس کے شکار افراد میں کھانے سے قبل بلڈ شوگر 125 ایم جی/ ڈی ایل یا اس سے زیادہ جبکہ کھانے کے بعد 200 ایم جی/ ڈی ایل یا اس سے زائد ہوسکتا ہے۔

کس عمر یا عناصر کو دیکھ کر بلڈشوگر چیک اپ عادت بنانا چاہیے؟

ہر وہ شخص جس کی عمر 45 سال سے زیادہ ہو، اسے اپنا ابتدائی بلڈ شوگر چیک اپ کرالینا چاہیے، اگر نتیجہ نارمل آتا ہے تو ہر تین سال بعد ایسا کرنا چاہیے۔

اگر جسمانی وزن بہت زیادہ بڑھ جائے تو بھی بلڈ شوگر لیول چیک اپ کرانا ہر ایک سے 3 ماہ کے اندر کرالیان چاہیے جبکہ ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول لیول میں اجافہ، ہر وقت بیٹھے رہنے یا امراض قلب کی صورت میں بھی اس چیک اپ کو عادت بنالینا چاہیے۔

اگر پری ڈائیبیٹس کی تشخیص ہوچکی ہے تو ہر سال اس چیک اپ کو عادت بنانا چاہیے۔

دوران حمل اگر خواتین میں ذیابیطس کی تشخیص ہوتی ہے تو انہیں ہر تین سال ذیابیطس کی اسکریننگ کرانی چاہیے۔

بلڈ شوگر بڑھنے کی علامات

بہت زیادہ پیاس۔

بہت زیادہ پیشاب آنا خاص طور پر رات کو۔

وزن میں کمی۔

جلد پر خارش۔

زخم جو معمول کی بجائے بہت دیر سے بھریں۔

لو بلڈ شوگر کی علامات

کمزوری اور کپکپاہٹ محسوس ہونا۔

جلد زرد پڑ جانا اور ٹھنڈ سمیت چپچپاہٹ محسوس ہونا۔

چڑچڑاہٹ، الجھن اور خراب رویے کا مظاہرہ۔

دل کی دھڑکن کی رفتار اچانک بڑھ جانا۔

مریض کا ہوش و حواس کھو دینا یا بے ہوش ہوجانا۔

ایک دن میں کتنے انڈے کھانا صحت کے لیے فائدہ مند؟

انڈے تو دنیا بھر میں لوگ کھانا پسند کرتے ہیں مگر روزانہ ان کی کتنی تعداد صحت کے لیے فائدہ مند یا نقصان دہ ہوسکتی ہے؟

تو اس کا جواب اب ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آگیا ہے۔

طبی جریدے امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ 2 سے زیادہ انڈے کھانا خون کی شریانوں سے جڑے امراض (امراض قلب، ہارٹ اٹیک یا فالج وغیرہ) کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران 30 ہزار سے زائد افراد کی غذا، صحت اور طرز زندگی کی عادات کا جائزہ لگ بھگ 31 سال تک لیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ انڈوں میں موجود غذائی کولیسٹرول کا زیادہ مقدار میں استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

خیال رہے کہ ایک بڑے انڈے میں اوسطاً 200 ملی گرام کے قریب کولیسٹرول ہوتا ہے۔

میساچوسٹس یونیورسٹی کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ 300 ملی گرام سے زیادہ کولیسٹرول کو روزانہ جزو بدن بنانا خون کی شریانوں سے جڑے امراض کا خطرہ 17 فیصد جبکہ موت کا خطرہ 18 فیصد تک بڑھا سکتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ایک ہفتے میں متعدد انڈے کھانے میں کوئی برائی نہیں مگر توازن اور اعتدال کی ضرورت ہوتی ہے اور ایک دن میں 2 سے زائد انڈوں کو کھانے سے گریز کرنا چاہیے۔

ویسے انڈوں کے بارے میں متعدد افواہیں بھی پھیلی ہوئی ہیں جن میں اسے نقصان دہ غذا قرار دیا گیا ہے، تو جانیں سائنس کیا کہتی ہے۔

انڈے کیل مہاسوں کا باعث بنتے ہیں

تو یہ بات غلط ہے، انڈے کیل مہاسوں کا باعث اس وقت تک نہیں بن سکتے جب تک آپ ان سے الرجک نہ ہو۔

انڈے کی سفیدی گردوں کو نقصان پہنچاتی ہے

متعدد افراد کا خیال ہے کہ انڈے کی سفیدی کا بہت زیادہ استعمال گردوں کو نقصان پہنچاسکتی ہے مگر حقیقت مختلف ہے۔ درحقیقت زیادہ پروٹین کھانا (انڈے کی سفیدی میں پروٹین کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے) وقت گزرنے کے ساتھ گردوں کے مسائل سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

انڈے جسمانی فٹنس کے لیے ہی فائدہ مند ہیں

انڈے کوئی بھی کھا سکتا ہے یعنی ایک سال کے بچے سے لے کر 80 سال کے بزرگ تک، یہ پروٹین کے حصول کا ایک صحت بخش اور سستا ذریعہ ہے جس کا استعمال ہر ایک کو کرنا چاہئے (اگر پسند ہو تو)۔

انڈے کھانے کی ایک حد ہے

درحقیقت انڈوں کو کھانے کی کوئی حد نہیں، اس کا انحصار آپ کی پروٹین اور چربی کی ضروریات پر ہوتا ہے، مگر یہ بھی درست ہے کہ کسی بھی چیز کا بہت زیادہ استعمال نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

انڈے کی زردی صحت کے لیے نقصان دہ ہے

یہ بات درست ہے کہ انڈے کی زردی میں چربی اور پروٹین کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے مگر اعتدال میں رہ کر کھایا جائے تو یہ نقصان دہ نہیں، درحقیقت انڈے کی زردی ذیابیطس سے تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔

کیا انڈے کھانے سے کولیسٹرول بڑھ سکتا ہے؟

انڈوں میں کولیسٹرول کی مقدار کافی ہوتی ہے یعنی 212 ملی گرام، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ جسم میں ‘برے’ کولیسٹرول کی سطح کو بڑھانے کا کام کرتا ہے۔ جسم خود بھی کولیسٹرول بنانے کا عمل مسلسل جاری رکھتا ہے اور ایک تحقیق کے مطابق انڈے ہماری کولیسٹرول پروفائل کو بہتر بنانے کا کام کرتے ہیں اور اچھے کولیسٹرول کی سطح کو بڑھاتے ہیں۔

کیسے پکائیں؟

انڈوں کو اس وقت تک پکانا چاہئے جب تک زردی اور سفیدی سخت نہ ہوجائیں جبکہ انڈوں پر مشتمل پکوانوں کو 160 ڈگری فارن ہائیٹ درجہ حرارت پر پکانے کی ضرورت ہے تاکہ سالمونیلا جراثیم ختم ہوجائیں۔ یہ جراثیم ہاضمے کے متعدد امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

بلیوبیری بھی ’سپرفوڈز‘ کی دوڑ میں شامل

گلاسگو: حال ہی میں ماہرین نے ایک تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ اگر روزانہ 150 گرام بلیوبیریاں کھائی جائیں تو دل کے امراض کا خطرہ 15 فیصد تک ٹل سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ بلیوبیری کے بعض اجزا خون کی روانی کو بہتر بناتے ہیں اور شریانوں اور رگوں کی سختی دور کرتے ہیں۔

یہ تحقیق یونیورسٹی آف ایسٹ اینجلیا کے ماہرین نے کی ہے جس میں 138 سے زائد فربہ خواتین و حضرات کو روزانہ 150 گرام بلیوبیری کھلائی گئی تھیں۔ اس مطالعے میں شامل افراد کی عمر 50 سے 75 سال کے درمیان تھی۔ اس تمام عرصے میں لوگوں میں کارڈیو میٹابولک سنڈروم یا سی ایم ایس کو نوٹ کیا گیا جس میں ذیابیطس، بلڈ پریشر اور دیگر ایسے عارضوں کو دیکھا جاتا ہے جو دل کی بیماری کی طرف لے جاتے ہیں۔ اس کیفیت میں سب سے پہلے خون کی رگیں متاثر ہوتی ہیں۔

چھ ماہ تک مسلسل بلیو بیری کھلانے کے بعد ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا کہ بلیوبیری رگوں کی سختی کم کرتی ہیں اور خون کے بہاؤ کو بڑھاتی ہے جس سے امراض قلب کا خطرہ 12 سے 15 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

لیکن بلیو بیری کے فوائد یہاں ختم نہیں ہوتے۔ اس سے قبل لندن میں کی گئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ بلیو بیری کا باقاعدہ استعمال بچوں میں ذہانت اور دماغی صلاحیت میں 9 فیصد تک اضافہ کرتا ہے۔ اسی مناسبت سے بچوں کو ذہین بنانے میں یہ اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

اس کے علاوہ دیگر کئی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں موجود خاص فلیوینوئڈز بلڈ پریشر کو قابو میں رکھتے ہیں۔ بلیو بیری جلد کو صحتمند رکھتی ہے، ہڈیوں کو مضبوط بناتی ہیں، ذیابیطس میں انتہائی مفید ہےاور اس میں موجود خاص اجزا کئی اقسام کے کینسر کو روکنے میں معاون ثابت ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ بلیوبیری دماغی صحت کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

دوران حمل خواتین کو ڈپریشن کی شکایت ہوسکتی ہے: تحقیق

دوران حمل خواتین متعدد جسمانی و جذباتی تبدیلیوں سے گزرتی ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق اس دوران جسمانی تبدیلیوں کی جانب ان کا منفی رویہ بچے کی پیدائش کے بعد ڈپریشن کا باعث بن سکتا ہے۔

سائیکولوجیکل اسسمنٹ جنرل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق جسمانی تبدیلیوں کے حوالے سے حاملہ خواتین کے احساسات سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے شکم میں موجود بچے کے ساتھ تعلق کس حد تک بہتر ہوسکتا ہے اور بچے کی پیدائش کے بعد جذباتی صحت کیسی ہوسکتی ہے۔

انگلینڈ کی یونیورسٹی آف یارک سے منسلک جسمانی ساخت کی ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ، ’خواتین بچے کی پیدائش کے دوران اور اس کے بعد بھی اپنی ظاہری جسمانی ساخت کو لے کر مسلسل دباؤ کا شکار رہتی ہیں۔‘

اسی لیے اس بات کو یاد رکھنا ضروری ہے کہ حمل کے دوران صرف ماں اور بچے کی جسمانی صحت کا ہی خیال نہ رکھا جائے بلکہ خواتین کی جذباتی صحت کا بھی خاص خیال رکھا جائے، جذباتی صحت ہی ہمیں یہ اہم معلومات فراہم کرسکتی ہے کہ بطور ایک ماں عورت طویل مدتی تناظر میں کس طرح کا ردِ عمل کا اظہار کرسکتی ہے۔

تحقیق کے نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ حمل کے دوران جن خواتین نے اپنی جسمانی تبدیلیوں کے بارے میں مثبت انداز میں محسوس کیا، ان کے اپنے جیون ساتھی کے تعلقات بڑی حد تک بہتر پائے گئے، ان میں ڈپریشن اور اینزائٹی کی شرح کافی حد تک کم پائی گئی۔

جبکہ وہ اندرونی یا بیرونی جسمانی حالات میں کسی قسم کی تبدیلی پر جسمانی طور پر ملنے والے اشاروں کو سمجھنے میں کافی بہتر رہیں۔ اس کے علاوہ ان کا اپنے شکم میں موجود بچے کے ساتھ زیادہ مثبت تعلق بھی پایا گیا۔

دوسری طرف وہ خواتین جو حمل کے دوران اپنی ظاہری جسمانی ساخت کو لے کر منفی احساسات رکھتی تھیں، انہیں حمل کے دوران اضافی جذباتی سہارے کی ضرورت لاحق ہوئی اور اس کے ساتھ ساتھ بچے کی پیدائش کے بعد پوسٹ نیٹل ڈپریشن (یہ ایک قسم کا ڈپریشن ہے جس کا سامنا والدین کو بچے کی پیدائش کے بعد ہوتا ہے) کی علامات کے لیے مانیٹرینگ مطلوب ہوتی ہے۔

ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ، ’بڑی حد تک یہ پایا گیا ہے کہ حمل کے دوران خواتین کا اپنی جسمانی تبدیلی کا تجربہ ماں اور بچے کی صحت پر مثبت یا منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے. لہٰذا خواتین کو زیادہ منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ہمارے نظام صحت میں اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔‘

بعض سبزیاں اور پھل خواتین سے زیادہ مردوں کے لیے فائدہ مند

اگرچہ سبزی اور پھلوں کو تمام جنس کے ہر عمر کے افراد کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے، تاہم ایک حالیہ تحقیق کے مطابق یہ خواتین کے مقابلے مردوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوتے ہیں۔

جی ہاں، امریکی ماہرین غذائیت کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق پھل اور سبزیاں خواتین کےمقابلے مردوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوتے ہیں۔

سائنس جرنل ’جzxczxcاما‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ہری سبزیوں اور تازے پھلوں کا کثرت سے استعمال دل کی بیماریوں، موٹاپے اور ذیابیطس سمیت کینسر کی کچھ اقسام سے محفوظ رکھنے میں مددگار ہوتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا اگرچہ پھل اور سبزیاں مرد و خواتین اور ہر عمر خاص طور پر بالغ افراد کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں، تاہم یہ مردوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق خاص طور پر پھل اور سبزیاں مردوں کے موٹاپے کم کرنے اور انہیں دل کے امراض سے بچانے میں خواتین کے مقابلے زیادہ فائدہ پہنچاتے ہیں۔

بعض سبزیاں مردوں کو ڈپریشن بھی دیتی ہیں—فوٹو: شٹر اسٹاک
بعض سبزیاں مردوں کو ڈپریشن بھی دیتی ہیں—فوٹو: شٹر اسٹاک

ماہرین غذائیت کے مطابق مردوں کو خاص طور پر سیب، ناشپاتی اور ہری سبزیاں خاص طور پر پتوں پر مبنی سبزیاں خواتین کے مقابلے زیادہ فائدہ پہنچاتی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے قبل ایک تحقیق میں بتایا تھا کہ بعض سبزیاں مردوں کے لیے ذہنی تناؤ کا سبب بنتی ہیں۔

برطانیہ کے ماہرین نے تحقیق کے بعد بتایا تھا کہ سبزی کھانے والے مرد حضرات میں گوشت کھانے والوں کے مقابلے ذہنی الجھن، ذہنی دباؤ، اداسی یا ڈپریشن 74 فیصد زیادہ پائی گئی۔

ماہرین کا کہنا تھا مردوں کی جانب سے سبزی کھائے جانے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، ان میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگوں نے خود ہی یہ طے کرلیا ہے کہ سبزی صحت کے لیے مفید ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں کہ لوگوں کی جانب سے صرف سبزی کھائے جانے کے پیچھے ان کے معاشی مسائل بھی ہوسکتے ہیں، تاہم زیادہ تر لوگ خود سے ہی سبزیوں کو ڈائٹ کے لیے بہتر سمجھ کر کھاتے ہیں۔

ماہرین نے بتایا تھا کہ سبزیاں کئی بیماریوں کے لیے مفید بھی ہیں، لیکن زیادہ سبزیوں میں وٹامن بی 12، بی 6، فولک ایسڈ اور آئرن سمیت دیگر وٹامنز کی کمی ہوتی ہے، جو ذہنی صحت میں مددگار ہوتی ہیں۔

ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھانے والی عام عادت

آج کے نوجوانوں کو منہ چلانے کی بہت زیادہ عادت ہوتی ہے مگر وہ جو کچھ کھاتے ہیں اس کے نتیجے میں ہارٹ اٹیک یا فالج جیسے جان لیوا امراض کا سامنا ہوسکتا ہے۔

یہ انتباہ فرانس میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

تحقیق کے مطابق جو لوگ بہت زیادہ الٹرا پراسیس غذائیں جیسے میٹھے سریلز، سافٹ ڈرنکس اور چپس وغیرہ کے نتیجے میں خون کی شریانوں سے جڑے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دن میں کچھ مقدار میں ان اشیا کا استعمال ہارٹ اٹیک یا فالج کا خطرہ لگ بھگ دوتہائی بڑھا دیتا ہے۔

الٹرا پراسیس فوڈز عام طور پر فوری طور پر کھانے کے لیے تیار اشیا ہوتی ہیں اور یہ سویٹنر اور ایسی ہی صنعتی اجزا سے بھرپور ہوتی ہیں۔

تحقیق مین دریافت کیا کہ چپس یا ایسی ہی چیزوں کو کھانے کی عادت کے نتیجے میں ہارٹ اٹیک یا فالج کا کطرہ 12 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

اس سے قبل اسپین میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ الٹرا پراسیس اشیا کھانے کی عادت کے نتیجے میں جلد موت کا خطرہ 62 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ ممکنہ طور پر ایسی غذائیں لوگوں کا پیٹ کم بھرتی ہیں اور بھوک زیادہ بڑھاتی ہیں، جس سے موٹاپے کا خطرہ بڑھتا ہے جو کہ امراض قلب اور جلد موت کا باعث بننے والا بڑا عنصر سمجھا جاتا ہے۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ناقص غذائی عادات اور کینسر کے درمیان بھی تعلق ہوتا ہے اور پراسیس گوشت کا زیادہ استعمال آنتوں کے کینسر کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

Google Analytics Alternative