صحت

وہ علامات جن کے نظر آنے پر ڈاکٹر سے فوری رجوع کریں

آپ کا جسم صحت کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے اور اس میں کسی قسم کی تبدیلیاں جیسے رنگت غائب ہوجانے سے لے کر کسی نئی چیز کا نمودار ہونا کسی قسم کے عارضے کی علامت ہوسکتی ہے۔

ہوسکتا ہے کہ یہ تبدیلی کسی قسم کی غذائی کمی کا نتیجہ ہو اور ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کوئی سنگین مرض ہو جیسے ذیابیطس، امراض قلب یا دیگر۔

تو یہ ضروری ہے کہ جسم میں آنے والی نئی تبدیلیوں پر نظر رکھی جائے اور ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔

ڈاکٹر کسی قسم کے مرض سے بچانے میں مدد دے سکتے ہیں، اگر جسم میں درج ذیل تبدیلیاں نظر آئیں تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

کسی قسم کی گلٹی

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

درحقیقت جسم میں کسی بھی نئی یا مشتبہ تبدیلی کو کبھی نظر انداز مت کریں خصوصاً گلٹی کو، طبی ماہرین کے مطابق کوئی بھی نئی گلٹی یا اس میں تبدیلی جسم میں نظر آئے تو فوری طور پر ڈاکٹر رجوع کریں، یہ ضروری ہے کہ اس تبدیلی کا جائزہ لیا جائے کیونکہ وہ کینسر کی علامت بھی ہوسکتی ہے۔

ناخنوں میں گہری لکیر

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ناخن انسانی صحت کے بارے میں بہت کچھ بتا سکتے ہیں، اس پر کچھ نشانات غذائی کمی کی جانب اشارہ ہوسکتے ہیں یا موروثی ہوسکتے ہیں، مگر ناخن میں سیاہ یا گہرے بھورے رنگ کی لکیر زیادہ سنگین بھی ہوسکتی ہے بلکہ یہ رسولی کی بھی علامت ہوسکتی ہے۔

ناخنوں پر شگاف

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ناخنوں میں شگاف عام طور پر کسی قسم کی انجری، بالوں کے گرنے وغیرہ کا باعث ہوتے ہیں، یہ ناخنوں کی چنبل کی علامت بھی ہوسکتی ہے جو جوڑوں کے امراض یا ورم کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے۔

دانتوں پر نشانات

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اگر آپ دانتوں پر سفید، زرد یا بھورے نشانات اچانک نظر آئے جن کا تعلق کافی، چائے یا تمباکو نوشی سے نہ ہو تو یہ شکمی عارضہ یا زبان میں سوزش کی علامت ہوسکتی ہے، یہ آٹو امیون مرض ہے جس میں جسم گندم، جو یا رائی میں پائے جانے والے پروٹین گلیوٹین پر ردعمل ظاہر کرتا ہے جس سے معدے کو نقصان پہنچتا ہے جبکہ غذائی اجزا کو جذب کرنا مشکل ہوتا ہے جن میں سے ایک کیلشیئم بھی ہے جو دانتوں کی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

گردن پر سیاہ نشانات

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

گردن پر خارش کے نتیجے میں سیاہ حلقے بن جاتے ہیں، یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ وہ شخص ذیابیطس یا انسولین کی مزاحمت کا سامنا کررہا ہے۔

جلد مالٹے کے چھلکے جیسی ہوجائے

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

جلد پر ڈمپل جو مالٹے کے چھلکے سے ملتے جلتے ہوں، مختلف طبی مسائل کا نتیجہ ہوتے ہیں، ان میں سے ایک خواتین میں بریسٹ کینسر کی نشانی بھی ہے، جس کے دوران ان ڈمپلز میں سرخی اور سوجن کی شکایت بھی ہوسکتی ہے، ذیابیطس کے مریضوں میں بھی اس طرح کا جلدی ردعمل ہاتھوں اور پیروں میں نظر آتا ہے، اس کا فیصلہ ڈاکٹر ہی تشخیص کے بعد کرسکتا ہے۔

خراشیں پڑنا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اگر جسم میں کسی وجہ کے بغیر خراشیں نمودار ہورہی ہیں تو یہ خون کے کینسر کی ابتدائی علامت بھی ہوسکتی ہے، اس مرض کے دوران خون کی آکسیجن کو لے جانے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے جس کے باعث ہلکی رگڑ پر بھی خراش نمودار ہوجاتی ہے، یہ وٹامن سی کی کمی کا نتیجہ بھی ہوسکتی ہے۔

ہتھیلی پر سرخ نشانات

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ہتھیلی پر سرخ نشانات کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں جن میں سے کچھ سنگین بھی ہوتی ہیں، یہ نشانات چنبل کی نشانی بھی ہوسکتی ہے جبکہ کسی قسم کے انفیکشن کی جانب بھی اشارہ ہوسکتے ہیں، اس کے علاوہ جگر کے امراض اور جوڑوں کے امراض میں بھی ایسا ہوسکتا ہے۔

خون میں سرخ نشان ابھرنا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

آنکھ میں سرخ نشان ابھر آنا خطرے کی گھنٹی ہوسکتی ہے خصوصاً اگر وہ 2 ہفتے کے اندر غائب نہ ہوں، کیونکہ ہائی بلڈ پریشر یا ذیابیطس کے مریض میں دماغی شریان پھٹنے کا خطرہ ظاہر کرتی ہے۔

توند سے نجات میں مددگار گھریلو ٹوٹکے

اگر تو آپ کی توند نکل آئے تو یقیناً شخصیت کا سارا تاثر خراب ہوجاتا ہے اور ذہنی پریشانی الگ ہوتی ہے۔

یقیناً ایسا ہونے پر سب لوگ اچھا نطر آنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اور اضافی چربی سے نجات حاصل کرنا مشن بنالیتے ہیں جو کہ مختلف سنگین امراض کا خطرہ بھی بڑھاتی ہے، جیسے ذیابیطس، امراض قلب وغیرہ۔

ویسے تو توند کی چربی سے نجات ایک لاحاصل جدوجہد لگتی ہے مگر یہ صرف شخصیت کو ہی بہتر نہیں بناتی بلکہ طویل المعیاد بنیادوں پر صحت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے جبکہ سنگین امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

یہاں کچھ ایسے گھریلو ٹوٹکے دیئے جارہے ہیں جو توند سے نجات میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

پروٹین کا استعمال بڑھائیں

پروٹین کا استعمال زیادہ جبکہ کاربوہائیڈریٹس سے دوری بغیر سخت ورزش کے توند سے نجات کا تیز ترین نسخہ ہے، پروٹین بلڈ شوگر کو متوازن رکھنے اور انسولین کی سطح کم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، انسولین وہ ہارمون ہے جو جسم کو چربی خاص طور پر پیٹ اور کمر کے ارگرد جمع کرنے کا سگنل بھیجتا ہے۔ سفید ڈبل روٹی کو چھوڑ کر اجناس، سیزن کے پھل، جڑوں والی سبزیاں وغیرہ کا استعمال معمول بنالیں۔

ناریل کے تیل کو آزمائیں

ناریل کا تیل میڈیم چین triglycerides سے بنتا ہے جبکہ سبزیوں اور بیجوں کے تیل میں لانگ چین triglycerides ہوتے ہیں، طبی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ناریل کے تیل کا میڈیم چین سے بننا متعدد فوائد کا حامل ہوتا ہے، کیونکہ یہ آسانی سے ہضم ہوجاتا ہے اور بہت تیزی سے غذا کو توانائی میں بدل دیتا ہے اور وہ چربی کی شکل میں جسم میں ذخیرہ نہیں ہوتی۔

چینی سے دوری

چینی کا استعمال پیٹ اور کمر کے گرد چربی کے ذخیرے کی بنیادی وجہ بنتا ہے، چینی میں شامل گلوکوز اور دیگر اجزاءدوران خون میں تیزی سے جذب ہوکر توانائی میں بدل جاتے ہیں، تاہم مٹھاس کا بہت زیادہ استعمال اس توانائی کو چربی کی شکل میں بدل کر پیٹ کے گرد ذخیرہ کرنے پر مجبور کردیتا ہے۔ اسی طرح بہت زیادہ چینی بلڈ شوگر کو بڑھاتی ہے جس سے انسولین کی مزاحمت کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے، اگر تو آپ توند سے نجات چاہتے ہیں تو کچھ دن کے لیے چینی سے منہ موڑ لیں یا بہت کم کردیں اور اس کی جگہ تازہ پھل، شہد، کھجور اور ناریل وغیرہ کو اپنالیں۔

فائبر کو بھی خوراک کا حصہ بنائیں

غذا میں زیادہ فائبر خاص طور پر جو، دالوں، سبزیوں اور پھلوں میں موجود فائبر توند میں اکھٹا ہونے والی چربی کو گھلانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ فائبر بے وقت کی بھوک کا احساس دور رکھتا ہے جبکہ معدے کے نظام کو درست رکھتا ہے، اسی طرح یہ غذائی جز چربی کے جذب ہونے کے عمل کو کم کردیتا ہے جس سے توند نکلنے کا خطرہ نہیں ہوتا۔

تناﺅ میں کمی لائیں

شدید تناﺅ بھی توند نکلنے کا باعث بنتا ہے، زیادہ دورانیے تک تناﺅ کے نتیجے میں ایک ہارمون کورٹیسول اشتہا بڑھاتا ہے اور انسان زیادہ کھانے لگتا ہے جبکہ میٹابولزم سست ہوجاتا ہے جس سے پیٹ کے ارگرد چربی جمع ہونے لگتی ہے۔مراقبہ، گہری سانسیں لینا یا نہانا، یہ سب روزمرہ کے تناﺅ میں کمی لانے سمیت توند سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

سبز چائے نوش فرمائیں

سبز چائے میں کمر کو گھٹانے والے اجزاءموجود ہوتے ہیں اسی لیے یہ پیٹ کی چربی گھلانے کے لیے بہترین مشروب سمجھا جاتا ہے، سبز چائے میں موجود اجزا میٹابولزم کی رفتار بڑھا کر جگر کو چربی گھلانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ طبی رپورٹس کے مطابق روزانہ یہ فوائد حاصل کرنے کے لیے چار سے پانچ کپ سبز چائے کا استعمال ضروری وہتا ہے، تاہم اس میں چینی کو شامل کرنے سے گریز کریں۔

سیڑھیاں چڑھنا عادت بنائیں

سست طرز زندگی متعدد امراض اور موٹاپے کا باعث بنتا ہے، آپ ورزش نہیں کرتے تو کوئی بات نہیں مگر سیڑھیاں چڑھنا، تیز چہل قدمی اور فون پر بات کرتے ہوئے بھی تیز چلنے جیسی عادتیں اپنا کر آپ توند کو تیزی سے کم کرسکتے ہیں۔

سونے کا وقت طے کریں

توند میں ورزش کے بغیر کمی لانے کا ایک حیران کن طریقہ زیادہ نیند ہے، طبی رپورٹس کے مطابق رات کو چھ سے آٹھ گھنٹے کی نیند انسولین کی سطح کو متوازن رکھنے اور تناﺅ کا باعث بننے والے ہارمون کو بڑھنے نہیں دیتی، مکمل آرام سے جسم کے پاس دن بھر کے کاموں کے لیے مناسب مقدار میں کیلوریز بھی دستیاب ہوتی ہیں۔

گرم مصالحے

ہلدی ورم کش اجزاءموجود ہوتے ہیں، اس کا استعمال جسمانی میٹابولزم کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے اور توند میں کمی لاتا ہے۔

پانی کا زیادہ استعمال

روزانہ آٹھ گلاس پانی کا استعمال نظام ہضم کو بہتر، پیٹ پھولنے کا خطرہ کم اور میٹابولزم کے افعال کو درست رکھتا ہے، اپنے میٹھے مشروبات کو پانی سے بدل کر آپ مجموعی وزن میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ توند کو بھی اندر کرسکتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

انسانی منہ میں ان نوکیلے دانتوں کی موجودگی کی وجہ جانتے ہیں؟

شیروں میں یہ ہوتے ہیں، دریائی گھوڑے (ہپو) میں بھی ہوتے ہیں اور ہم انسانوں میں بھی ہوتے ہیں اور وہ ہیں انسانی منہ میں سب سے لمبے نوکیلے دانت۔

جی ہاں ہم سب کے منہ میں اوپر نیچے 4 لمبے اور نوکیلے دانت ہوتے ہیں اور انسانوں میں یہ گوشت پھاڑنے یا کاٹنے کے لیے نہیں ہوتے بلکہ ان کی موجودگی کی اصل وجہ کافی رومانوی ہے۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ مردوں میں یہ لمبے دانت خواتین کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ لمبے ہوتے ہیں اور انسانوں کے علاوہ صرف گوریلوں میں ہی ایسا دیکھنے میں آتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ نر گوریلوں کے درمیان مادہ گوریلوں کے لیے اکثر لڑائیاں ہوتی ہیں اور یہ دانت اس میں کافی کام آتے ہیں۔

مگر انسانوں میں ماضی میں شاید کبھی ایسا ہوتا ہو مگر اب ارتقائی مراحل سے گزار کر اب یہ دانت کافی مختلف مقصد کے لیے استعمال ہورہے ہیں۔

درحقیقت انسانوں میں یہ دانت وقت کے ساتھ چھوٹے ہوتے چلے گئے بلکہ موجودہ عہد میں یہ مختصر ترین ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ مردوں کو لڑائیوں کے لیے اب دانتوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی ضرورت نہیں اور سائنسدان اس حوالے سے مکمل یقین سے تو کچھ کہہ نہیں سکتے مگر ان کے بقول ایک امکان یہ ہے کہ ہمارا جسم بہت زیادہ بے بس ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مردوں کو بچوں کی نگہداشت کے لیے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے جبکہ شریک حیات کے لیے کم وقت بچتا ہے۔

اس کے نتیجے میں ہمارے منہ میں یہ دانت مختصر ہوگئے اور اب یہ ہتھیار کے طور پر کسی بھی طرح کارآمد نہیں رہے۔

یعنی شیروں کی طرح اب ان سے شکار کو پکڑنا ممکن نہیں اور نہ ہی دشمنوں کو ان سے ڈرایا جاسکتا ہے بلکہ اب یہ غذا کو چبانے میں مدد دیتے ہیں۔

جسمانی فٹنس اور ورزش کینسر کے خطرات کو دوررکھتی ہے

بالٹی مور: کثیرنسلی اور وسیع آبادی پر کئے گئے ایک مطالعے سے انکشاف ہوا ہے کہ اگر کوئی جسمانی طور پر فٹ ہے اور باقاعدہ ورزش کرتا ہے تووہ کئی اقسام کے سرطانی حملوں سے بچ سکتا ہے۔ 

ڈیٹرائٹ کے ہینری فورڈ ہیلتھ سسٹم اور بالٹی مور کے جان ہاپکنز اسکول آف میڈیسن نے جسمانی طور پر بہترین اور فٹ افراد اور ان میں پھیپھڑوں اور آنتوں کے سرطان کے درمیان تحقیق کرکے بتایا ہےکہ ایسے لوگوں میں اول تو ان کینسر کا خطرہ کم ہوتا ہے اور دوم لاحق ہونے کی صورت میں زندہ رہنے کا امکان دیگر کے مقابلے میں بہتر ہوتا ہے۔

اس سروے میں 49 ہزار سے زائد مریضوں کا ڈیٹا حاصل کیا گیا جو 1991 سے 2009 کے درمیان ورزش، اسٹریس اور فٹنس کے کئی ٹیسٹ سے گزرے تھے۔ اس گروپ میں 46 فیصد خواتین ، 64 فیصد سفید فام، 29 فیصد سیاہ فام اور ایک فیصد ہسپانوی شامل تھے۔

سروے سے وابستہ کینسر کی ماہر ڈاکٹر کیتھرین مارشل نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا مطالعہ ہے جس میں سفید فام کے علاوہ کثرنسلی افراد کو شامل کیا گیا ہے۔  اگرچہ ورزش اور دل کے امراض میں کمی کے درمیان گہرا تعلق دریافت ہوچکا ہے لیکن اب تک فٹنس اور ورزش اور کینسر کے درمیان تعلق دریافت نہیں کیا گیا تھا۔

مطالعے میں شریک افراد کی عمریں 40 سے 70 برس تھیں اور اوسطاً ساڑھے سات سال تک ان کی ورزشی عادات مثلاً کارڈیو رسپائرٹری ورزش اور ایم ای ٹی ورزشوں کو نوٹ کیا گیا ۔ اس کے بعد ماہرین نے ان میں سرطان سے متاثرہونے کا رحجان نوٹ کیا۔

سروے سے معلوم ہوا کہ انتہائی فٹ اور ورزش کرنے والے افراد میں پھیپھڑے کا کینسر لاحق ہونے کا خطرہ 77 فیصد اور آنتوں کے کینسر کا خدشہ 61 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ اس کےعلاوہ تندرست اور فٹ لوگ اگر کینسر کی ان دو اقسام کے شکار ہوجائیں تب بھی ان میں بحالی اور زندہ رہنے کا امکان بہت روشن ہوتا ہے۔

کیا ذیابیطس کے مریض آم کھا سکتے ہیں یا نہیں؟

گرمیوں کا آغاز ہوتے ہی لوگوں کے اندر پھلوں کے بادشاہ آم کھانے کی خواہش بھی بڑھنے لگتی ہے مگر اکثر افراد اس خیال سے پریشان رہتے ہیں کہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اس مزیدار پھل کو کھانا محفوظ ہے یا نہیں۔

ویسے اس کی تفصیل میں جانے سے پہلے یہ جان لیں کہ کسی پھل میں مٹھاس ذیابیطس کے لیے اتنی اہم نہیں ہوتی جتنی اس میں موجود گلیسمیک انڈیکس (جی آئی)۔

جی آئی ایک پیمانہ ہے کہ جو بتاتا ہے کہ کاربوہائیڈریٹ والی غذا کا کتنا حصہ کھانے کے بعد اس میں موجود مٹھاس (گلوکوز) مخصوص وقت میں خون میں جذب ہوسکتی ہے اور یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔

تو کیا آم ذیابیطس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے یا نہیں؟

تو اس کا جواب طبی ماہرین ان الفاظ میں دیتے ہیں ‘ ذیابیطس کے مریضوں کو اپنا بلڈ گلوکوز لیول کنٹرول میں رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کی غذا ایسی ہونی چاہئے جو اس لیول کو کنٹرول میں رکھ سکے۔ تو ایسے مریضوں کے لیے 15 گرام کاربوہائیڈریٹ کسی پھل کے ذریعے جسم کا حصہ بننا نقصان دہ نہیں، آسان الفاظ میں ذیابیطس کے شکار افراد آم کھاسکتے ہیں مگر محدود مقدار میں یا اعتدال میں رہ کر’۔

مگر سوال یہی ہے کہ ذیابیطس کے مریض کتنی مقدار میں آم کو کھا سکتے ہیں؟

ماہرین کے مطابق ‘ آم کا ایک سلائیس یا کٹے ہوئے آم کا آدھا چھوٹا کپ کھایا جاسکتا ہے، مگر مینگو شیک، جوس وغیرہ سے گریز کرنا چاہئے’۔

یہ مزیدار پھل صحت کے لیے متعدد فوائد کا حامل ہے کیونکہ یہ غذائی نالی کے افعال کو درست رکھتا ہے، جبکہ فائبر سے بھرپور ہونے کے باعث بھی نظام ہاضمہ کے لیے فائدہ مند ہے، اس سے وٹامن سی جسم کو ملتا ہے جو کہ جسمانی دفاعی نظام کو مضبوط بناتا ہے۔

آم میں موجود بیٹا کیروٹین آنکھوں کی صحت کو بہتر بناتا ہے اور اس سے ہٹ کر بھی آم کھانا کئی فوائد پہنچاتا ہے۔

ماہرین آم کھانے کے لیے چند دیگر مشورے بھی دیتے ہیں۔

آم کھائیں، اس کا جوس نہیں

آم کا جوس یا شیک فائبر سے محروم ہوجاتا ہے، فائبر ذیابیطس کے مریضوں کے لیے انتہائی ضرور جز ہے کیونکہ وہ دوران خون میں شکر کے اخراج کو سست کرتا ہے اور بلڈشوگر کو بڑھنے سے روکتا ہے۔ مینگو شیک سے اس لیے بھی گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس میں اکثر افراد چینی کا اضافہ بھی کردیتے ہیں جبکہ آم خود بھی بہت میٹھا ہوتا ہے تو اس سے بلڈ شوگر لیول بڑھنے کا امکان ہوتا ہے۔

آم اسی وقت کھائیں جب بلڈشوگر لیول مستحکم ہو

اگر بلڈشوگر لیول مسلسل زیادہ رہتا ہو تو آم سے گریز کریں یا ڈاکٹر سے رجوع کریں اور مشورے سے ہی آم کھائیں۔

زیادہ پکے ہوئے آم کھانے سے گریز کریں

زیادہ پکے ہوئے آم میں مٹھاس بھی زیادہ ہوتی ہے، کچے آم ذیابیطس کے مریضوں کے لیے زیادہ محفوظ ہوتے ہیں۔

کھانے کے بعد نہیں بلکہ درمیان میں کھائیں

یہ زیادہ اچھا ہے کہ دوپہر اور رات کے کھانے کے درمیان آم کو کھائیں یعنی منہ چلانے کا جب دل کریں تو اس وقت۔ آم اس حوالے سے زیادہ صحت بخش انتخاب ہے۔

آم کے ساتھ چاول سے گریز کریں

چاولوں میں کاربوہائیڈریٹس کی شرح زیادہ ہوتی ہے تو آم کھاتے ہوئے چاولوں سے گریز کریں اور رات کی بجائے دن میں ہی اس پھل کو کھائیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں

اس رمضان سحر و افطار کے دوران یہ پھل ضرور کھائیں

ماہ رمضان کا آغاز ہوچکا ہے اور ایسا کون ہوگا جس کا افطار پھلوں یا پھلوں کی چاٹ کے بغیر مکمل ہو؟

اس بار بھی رمضان موسم گرما میں آیا ہے، اگر تو آپ رمضان کے دوران اپنے جسم کو صحت مند بنانا چاہتے ہیں تو بازار میں عام دستیاب ان چند پھلوں کو افطار میں استعمال کرنا اپنی عادت بنالیں جن کے فوائد آپ کو حیران کردیں گے۔

تربوز

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

تربوز میں 92 فیصد پانی موجود ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ انسانی صحت کے لیے بہترین غذا ہے جو اس موسم میں پانی کی کمی کو دور کرتی ہے۔ سخت گرمی کے باعث زیادہ مقدار میں پانی پینے کے باوجود انسانی جسم میں پانی کی کمی رہ جاتی ہے۔لیکن ماہرین صحت کے مطابق تربوز میں ایسی جزیات پائی جاتی ہیں، جو نہ صرف گرمی کم کرنے میں مدد دیتی ہیں، بلکہ وہ انسانی جسم میں پانی کی نمکیات کو بھی کنٹرول کرتی ہیں۔اسی طرح تربوز کے ایک کپ میں 46 فیصد کیلوریز سمیت وٹامن سی اور وٹامن اے بھی بھاری مقدار میں پایا جاتا ہے۔

خوبوزہ

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

خربوزوں میں بھی بیٹا کروٹین اور وٹامن اے پائے جاتے ہیں جو نہ صرف آپ کے سر کے جلدی خلیات کی نشوونما کو کنٹرول کرتے ہیں بلکہ جلد کی اوپری تہہ کی چمک بھی بڑھاتے ہیں۔ یہ چہرے پر جلد کو مردہ ہوکر پرت کی شکل میں بھی تبدیل نہیں ہونے دیتے۔

فالسے

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اس موسم میں فالسے آسانی بلکہ انتہائی سستے داموں دستیاب ہیں، یہ پھل ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ میں مدد دیتا ہے جبکہ معدے کے لیے بھی بہترین ہے جو جسم کو ٹھنڈک پہنچانے کے ساتھ جسم میں پانی کی کمی دور کرتا ہے۔

لیچی

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

چونکہ اس میں فائبر موجود ہے تو اسے ہضم کرنا آسان ہوتا ہے، رمضان کے دوران ایک بڑا مسئلہ قبض کا ہوسکتا ہے جس کی وجہ غذا میں فائبر کی مناسب مقدار نہ ہونا ہوتی ہے۔ تو صحت مندانہ جسمانی وزن میں کمی کے لیے یہ پھل فائدہ مند ہے اور نظام ہاضمہ بہتر ہونے سے غذاﺅں کو ہضم کرنا بھی آسان ہوجاتا ہے۔

آڑو

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

ویسے تو ہوسکتا ہے کہ سب کو معلوم ہو کہ کیلوں میں پوٹاشیم کی بہت زیادہ مقدار ہوتی ہے مگر آڑو میں جسم کے لیے ضروری اس منرل کی مقدار ایک درمیانے سائز کے کیلے سے زیادہ ہوتی ہے، جو اعصابی طاقت کو بڑھانے کے ساتھ پٹھوں کی صحت بھی بہتر بناتی ہے۔ آڑو کی جِلد اینٹی آکسائیڈنٹس اور فائبر سے بھرپور ہوتی ہے اور وہ لوگ جو اپنے بڑھتے وزن سے پریشان ہیں ان کے لیے آڑو کسی بھی غذا میں مٹھاس بڑھانے کے لیے ایک صحت مند ذریعہ ہے۔

انناس

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

یہ بھی کافی آسانی سے مل جانے والا پھل ہے جسے کسی بھی شکل جیسے تازہ، خشک، منجمند وغیرہ میں استعمال کیا جائے یہ صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے جس کی وجہ اس میں موجود ورم کش جُز bromelain ہے جو دل کے دورے اور فالج جیسے امراض کے خطرات کم کرتا ہے جبکہ بانجھ پن کا امکان بھی دور کرتا ہے۔

انگور

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

دنیا بھر میں مقبول یہ پھل امراض قلب اور ہائی کولیسٹرول کے خلاف موثر ثابت ہوتا ہے جس کی وجہ اس میں اینٹی آکسائیڈنٹس کی بہت زیادہ مقدار کا ہونا ہے۔ اس کے ہر دانے میں پوٹاشیم اور آئرن جیسے منرلز موجود ہوتے ہیں جو خون کی کمی اور پٹھوں کی اکڑن سے تحفظ دیتے ہیں۔

آم

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

آم تو پھلوں کا بادشاہ ہے اور گرمیوں میں اس کے بغیر اکثر افراد کا گزارہ نہیں ہوتا، اس میں ایک جُز بیٹا کیروٹین بہت زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے جو جسم میں جاکر وٹامن اے میں تبدیل ہوجاتا ہے اور ہڈیوں کی نشوونما کے لیے جسمانی دفاعی نظام کو مضبوط بناتا ہے، جبکہ بینائی کے لیے بھی یہ وٹامن بہت ضروری ہوتا ہے۔ اسی طرح اس میں وٹامن سی بھی ہوتا ہے جو جلد کی صحت کے لیے بہترین تصور کیا جاتا ہے۔

سیب

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

ایک درمیانے سائز کے سیب میں صرف 80 کیلوریز ہوتی ہیں مگر ایک طاقتور اینٹی آکسائیڈنٹ کیورٹیشن اس کا حصہ ہوتا ہے جو ان دماغی خلیات کی تنزلی کی روک تھام کرتا ہے جو الزائمر جیسے مرض کا باعث بنتے ہیں۔ جو افراد سیب کھانے کے شوقین ہوتے ہیں ان میں ہائی بلڈ پریشر کے مرض کا امکان بھی ہوتا ہے جبکہ یہ پھل کولیسٹرول کی سطح کم کرنے کے ساتھ ساتھ آنتوں کے کینسر سے بھی تحفظ دیتا ہے۔ اور ہاں یہ دانتوں کی صحت کے لیے بھی بہترین پھل ہے جبکہ جسمانی وزن بھی کم کرتا ہے۔ اس کے چھلکے میں بھی بیماریوں کے خلاف لڑنے والے اجزاءہوتے ہیں جو امراض قلب کا خطرہ کم کرتے ہیں۔

انار

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

انار کا جوس ہفتے میں 2 سے 3 مرتبہ استعمال کرنا پوٹاشیم کے حصول کا بہترین ذریعہ ثابت ہوتا ہے جو جسمانی توانائی کو مستحکم رکھنے اور ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتا ہے۔ مختلف تحقیقی رپورٹس کے مطابق روزانہ ایک چوتھائی کپ انار کا جوس پینے سے خون کی شریانوں کی صحت بہتر ہوتی ہے، کولیسٹرول کی سطح کم اور دیگر جسمانی افعال میں بہتری آتی ہے۔تاہم اس جوس کا روزانہ استعمال عادت بنالینے سے پہلے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ لے لیں کیونکہ کئی بار یہ ادویات کے ساتھ استعمال کرنے پر مضر اثرات کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

کیلے

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

کیلے پوٹاشیم اور فائبر سے بھرپور پھل ہے جو جسمانی توانائی کو دیر تک برقرار رکھتے ہیں اور آپ کو جسمانی طور پر پورا دن چوکنا رکھتے ہیں۔ اس میں چربی یا نمک شامل نہیں، اس لیے یہ جسمانی وزن میں اضافے یا کسی اور مرض کا خطرہ بھی نہیں بڑھاتے۔

بلیو بیریز

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

ویسے یہ پھل پاکستان میں تو بہت کم ملتا ہے تاہم جن کو دستیاب ہو وہ ضرور اس کا استعمال کریں کیونکہ یہ اینٹی آکسائیڈنٹس اور وٹامن سی سے بھرپور ہوتا ہے جو مختلف امراض سے تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ دماغی طاقت کو بھی بڑھاتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ اکثر اس پھل کو استعمال کرتے ہیں ان میں عمر بڑھنے کے ساتھ آنکھوں کے پٹھوں کی کمزوری کے مسائل پیدا ہونے کا امکان بھی کم ہوتا ہے جو بڑھاپے میں بینائی کے مختلف امراض کا باعث بنتا ہے۔

ماہ رمضان میں لاحق عام شکایت کا آسان حل

ماہ رمضان میں اکثر افراد کو پیٹ پھولنے یا گیس کی شکایت ہوجاتی ہے اور ممکنہ طور پر انہیں علم نہیں ہوتا کہ ان کی غذا ہی اس شکایت کا باعث بن رہی ہے۔

ذیل میں کچھ ایسی ہی غذاؤں اور پھلوں کا تذکرہ کیا جارہا ہے، جو ہیں تو صحت بخش، مگر اکثر یہ معدے یا چھوٹی آنت میں گیس پیدا ہونے کا باعث بھی بن جاتے ہیں۔

اس کے نتیجے میں پیٹ پھول جاتا ہے جبکہ معدے میں تکلیف ہونے لگتی ہے تو پہلے تو یہ جان لیں کہ کونسی غذائیں اس کا باعث بنتی ہیں جس کے بعد ان کے علاج پر بات ہوگی۔

تلی ہوئی غذائیں

ماہ رمضان کے دوران پکوڑوں، سموسے اور ایسی ہی تلی ہوئی غذاؤں کا استعمال بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے جس کے نتیجے میں بھی پیٹ پھولنے اور گیس کے مسئلے کا سامنا ہوتا ہے، اعتدال میں ان کا استعمال اس مسئلے سے بچاسکتا ہے۔

تربوز

موسم گرما کی یہ سوغات انسان کو تازہ دم کردیتی ہے تاہم یہ معدے میں گیس یا پھولنے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

درحقیقت اس پھل میں چینی کی قدرتی شکل fructose کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جسے پوری طرح ہضم کرنے میں اکثر معدہ ناکام رہتا ہے جس کے نتیجے میں گیس پیدا ہوتی ہے، ہر تین میں سے ایک شخص تربوز کھانے کے بعد اس تکلیف کا شکار ہوتا ہے۔

مصالحے دار غذائیں

مصالحے دار غذائیں معدے کے ایسڈ کو حرکت میں لاتی ہیں جس کے نتیجے میں پیٹ پھولنے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

زیادہ بو والی سبزیاں

سبزیاں جن کی بو بہت تیز ہوتی ہے جیسے سبز پیاز، لہسن، پیاز وغیرہ میں فائبر کی ایک قسم فریوکٹانس کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے اور ہمارے معدے کے لیے اسے توڑ کر ہضم کرنا آسان نہیں ہوتا جس کے نتیجے میں پیٹ کے مختلف مسائل جیسے گیس اور پھولنا وغیرہ سامنے آتے ہیں۔

کولڈ ڈرنکس

تمام کاربونیٹڈ مشروبات یعنی سوڈا سے فیزی منرل واٹر سب پیٹ پھولنے کا باعث بنتے ہیں جس کی وجہ کاربن ڈائی آکسائیڈ معدے میں بھرنا ہے، ان مشروبات میں تیزابیت کی سطح کافی زیادہ ہوتی ہے جو غذائی نالی کے لیے تکلیف دہ ثابت ہوتی ہے جس کے باعث وہ سوج اور پھول جاتی ہے۔

آم

آم کو تو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے اور سامنے ہو تو کسی کے لیے بھی ہاتھ روکنا مشکل ہوجاتا ہے مگر اس میں گلوکوز کے مقابلے میں fructose کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور یہ عدم توازن جسم کے لیے ہضم کرنا مشکل ہوجاتا ہے، جب بھی ایسا ہوتا ہے تو پیٹ کے پھولنے، گیس یا دیگر مسائل درپیش ہوسکتے ہیں۔

آلو بخارے

آلو بخارے میں بھی polyols کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں معدے کے بیکٹریا میں ہلچل پیدا ہوتی ہے جو گیس یا پیٹ پھولنے کا باعث بنتی ہے۔

سیب

سیب میں موجود قدرتی مٹھاس اگر ہضم نہ ہو تو اس کے نتیجے میں پیٹ پھولنے، ہیضے اور معدے کے دیگر مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔

گیس سے نجات قدرتی اور ڈاکٹر کے خرچے کے بغیر نجات چاہتے ہیں تو ان چیزوں کو استعمال کرکے دیکھیں۔

زیرہ

ایک کپ ابلے ہوئے پانی میں ایک سے دو چائے کے چمچ پسے ہوئے زیرے کو ملائیں، دس سے پندرہ منٹ تک ٹھنڈا ہونے دیں اور پھر پی لیں۔ دن میں دو سے چار بار کھانے کے دوران اس کا استعمال کرنا فائدہ مند ثابت ہوگا۔

اجوائن

ایک کپ ابلے ہوئے پانی میں ایک چائے کا چمچ اجوائن ملائیں اور دس سے پندرہ منٹ تک ٹھنڈا ہونے دیں اور پھر اسے کھانے سے پہلے یا بعد میں پی لیں۔

سونف

ایک کپ گرم پانی میں ایک سے دو چمچ پسی ہوئی سونف کو ملائیں، دس سے پندرہ منٹ تک ٹھنڈا کریں اور پی لیں۔ اسے کھانے سے پہلے یا بعد پی لیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

انڈے کھانے کی عادت کا ایک اور فائدہ سامنے آگیا

انڈوں کو صحت کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے اور اب اس کو کھانے کے لیے ایک اور وجہ سامنے آگئی ہے اور وہ بینائی کو تحفظ فراہم کرنا۔

درحقیقت انڈے کھانا معمول بنانا عمر بڑھنے سے آنکھوں کے پٹھوں میں آنے والی تنزلی (اے ایم ڈی) سے تحفظ فراہم کرتا ہے، اے ایم ڈی دنیا بھر میں 50 سال سے زائد عمر کے افراد میں اندھے پن کا باعث بننے والی سب سے عام وجہ ہے، اسی طرح بینائی میں کمزوری کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔

یہ بات آسٹریلیا میں ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

طبی جریدے جرنل کلینیکل نیوٹریشن میں شائع تحقیق کے دوران ساڑھے 3 ہزار سے زائد افراد کا جائزہ 15 سال تک لیا گیا اور دریافت کیا گیا ہفتہ بھر میں 2 سے 4 انڈے کھانے والوں میں درمیانی عمر میں اے ایم ڈی کا خطرہ 49 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

انڈے قدرتی طور پر کیروٹین لیوٹین اور zeaxanthin سے بھرپور ہوتے ہیں جو بینائی کے لیے فائدہ مند ہونے کے ساتھ اے ایم ڈی کو پھیلنے سے روکتے ہیں۔

اس سے قبل بھی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ انڈوں میں موجود لیوٹین بینائی کو درست رکھنے کا ذمہ دار ہوتا ہے جبکہ اس کی کمی آنکھوں کے ٹشوز میں تباہ کن تبدیلیاں لاتی ہے اور بینائی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

انڈے کی زردی میں کیلشیم اور آئرن کی مقدار بہت زیادہ پائی جاتی ہے، جبکہ سفیدی میں پروٹین شامل ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ انڈوں کو کسی بھی موسم میں کھایا جاسکتا ہے اور یہ تاثر غلط ہے کہ گرمیوں میں انڈے کھانا صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔

یہ بات صحیح ہے کہ انڈے سے جسم میں گرمی پیدا ہوتی ہے، اور زیادہ کھانے سے نظام ہاضمہ متاثر ہوسکتا ہے، لیکن اگر انڈے کو صحیح مقدار میں کھایا جائے تو اس کا کوئی نقصان نہیں۔

Google Analytics Alternative