صحت

ناک کے بیکٹیریا ، جاڑے اور سردی لگنے کا تعین کرتے ہیں

ورجینیا : جاڑا یا سردی لگ جانے کو انگریزی میں صرف ’کولڈ‘ کے لفظ سے بیان کیا جاتا ہے۔ وائرس سے لاحق ہونے والا یہ مرض، کھانسی، بخار، سردی لگنے، حلق میں سوزش اور بہتی ناک کی وجہ بنتا ہے۔ تاہم اب ماہرین نے کہا ہے کہ اس کیفیت کی قسم اور شدت کی وجہ ہمارے ناک میں موجود بیکٹیریا کو قرار دیا جاسکتا ہے۔

نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جن افراد کے ناک میں اسٹفائلوکوکس بیکٹیریا پایا جاتا ہے اگر انہیں سردی لگ جائے تو وہ بہت شدید ہوتی ہے ۔ اور اگر دوسرے مریض کی ناک میں اسٹفائلوکوکس کی مقدار کم ہوتو ان کا ناک زیادہ متاثر نہیں ہوتا۔ ڈاکٹروں نے ایک دلچسپ بات بھی دریافت کی ہے کہ ناک کے بیکٹیریا چھ مختلف انداز یا پیٹرن میں پائے جاتے ہیں۔

ہر پیٹرن سردی لگنے کی مختلف شدت کا ذمے دار ہوتا ہے۔ یعنی جس انداز سے ناک میں بیکٹیریا ہوں گے اسی طرح سردی یا ٹھنڈ لگنے کا کم یا زیادہ اثر بھی ہوگا۔ ماہرین کے مطابق ناک میں بیکٹیریا کا یہ تناسب جسم کے اندر سردی لگانے والے وائرسوں سے بھی عین مطابقت میں ہوتا ہے۔

یہ تحقیق یونیورسٹی آف ورجینیا اسکول آف میڈیسن کے ماہرین نے کی ہے۔ اس تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر رونلڈ بی ٹرنر کہتے ہیں کہ یہ حیرت انگیز تحقیق بتاتی ہے کہ بیکٹیریا کا بوجھ اور اقسام کا تعلق کس طرح جاڑے سے بیمار ہونے کی شدت پر ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ناک کے بیکٹیریا کس طرح ٹھنڈ کے وائرس سے ہمیں بیمار کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ ناک کے بیکٹیریا ہمیں ٹھنڈ نہیں لگاتے بلکہ سردی کا وائرس ہمیں بیمار کرتا ہے لیکن ناک کے بیکٹیریا اس شدت کو کم یا زیادہ کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم اس پر مزید تحقیق لازمی ہے۔

سبز چائے پینے کا یہ فائدہ آپ کو ضرور پسند آئے گا

ذیابیطس ایسا مرض ہے جو دیگر لاتعداد بیماریوں کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

ذیابیطس کے مرض میں خون میں شوگر یا گلوکوز کی سطح بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے جبکہ لبلبہ انسولین بنانے سے قاصر ہوتا ہے جو کہ بلڈگلوکوز کو ریگولیٹ کرتا ہے۔

ذیابیطس ایسا مرض ہے جس کا ابھی مکمل علاج دستیاب نہیں، تاہم اسے کنٹرول کیا جاسکتا ہے، جس کے لیے صحت بخش غذا ، ورزش یا جسمانی سرگرمیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق کچھ غذائیں اور مشروبات بلڈشوگر لیول کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتے ہیں، جن میں سے ایک سبز چائے بھی ہے۔

سبز چائے سے جسم کو کئی فوائد ہوتے ہیں، جبکہ ذیابیطس کے شکار ہونے کا خطرے کو بھی کم کیا جاسکتا ہے۔

طبی جریدے انالز آف انٹرنل میڈیسین میں شائع ایک تحقیق کے مطابق کیفین والی سبز چائے کو پینے کی عادت ذیابیطس ٹائپ ٹو میں مبتلا ہونے کا خطرہ کم کرتی ہے۔

اس تحقیق کے دوران رضاکاروں کو روزانہ 6 کپ سبز چائے پلائی گئی اور نتائج سے معلوم ہوا کہ ان میں ذیابیطس کے شکار ہونے کا خطرہ 33 فیصد تک کم ہوگیا۔

سبز چائے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند کیوں؟

سبز چائے جسمانی وزن میں کمی میں کافی مددگار ثابت ہوتی ہے اور اس طرح ذیابیطس ٹائپ ٹو میں مبتلا افراد میں بلڈ شوگر لیول کنٹرول میں رہتا ہے۔ اس مشروب میں کیلوریز صفر ہوتی ہے جبکہ اینٹی آکسائیڈنٹس انسولین کی مزاحمت کے اثرات کم کرتی ہے۔

اسی طرح سبز چائے میں موجود پولی فینول نامی جز ورم کش خصوصیات رکھتا ہے جو کہ خلیات کو نقصان پہنچے سے بچاتا ہے۔

ذیابیطس جیسے مرض کے شکار افراد میں تناﺅ اور ذہنی بے چینی کا امکان زیادہ ہوتا ہے، سبز چائے اس مسئلے پر قابو پانے میں مدد دے سکتی ہے جو کہ جسم اور ذہن کو سکون پہنچاتی ہے۔

ذیابیطس کے مریض کتنی مقدار میں سبز چائے استعمال کریں؟

کسی بھی چیز کا بہت زیادہ استعمال نقصان دہ ہوتا ہے اور اعتدال کو اپنانا ضروری ہوتا ہے۔ سبز چائے میں موجود کیفین کی زیادہ مقدار بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے۔ ڈاکٹر سے بھی مشورہ کریں کہ کتنی مقدار میں سبزچائے پی سکتے ہیں اور اس سے جسم کو کتنی مدد ملے گی۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

وہ غذائیں جو آپ کو جلد بوڑھا کردیں

کیا آپ اپنی موجودہ عمر کے مقابلے میں زیادہ بڑی عمر کے نظر آتے ہیں؟

اگر آپ آئینے میں ایسا منظر دیکھنا نہیں چاہتے تو اپنی روزمرہ کی غذائی عادات میں تبدیلی لانا ہی سب سے بہترین طریقہ کار ثابت ہوگا۔

جی ہاں واقعی چند مخصوص غذائیں ایسی ہوتی ہیں جن کا بہت زیادہ استعمال آپ کی شخصیت پر قبل از وقت بڑھاپے طاری کرسکتا ہے اور آپ اصل عمر سے بیس سال زیادہ کے لگ سکتے ہیں۔

تو ایسی چند غذاﺅں کے بارے میں جانیں جو آپ کو جلد بوڑھا کرسکتی ہیں۔

مارجرین

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ویسے تو برسوں قبل مارجرین کو مکھن کا بہتر متبادل سمجھ کر ناشتے کا حصہ بنالیا گیا، مگر یہ اتنا بھی اچھا نہیں ہوتا۔ طبی ماہرین کے مطابق مارجرین میں موجود ٹرانس فیٹ جسم میں پانی کی سطح کو کم کرتا ہے، آپ کی جلد جتنی نمی سے محروم ہوگی، اتنی تیزی سے جھریاں نمودار ہوں گی اور قبل از وقت بڑھاپا طاری ہوجائے گا۔

انرجی ڈرنکس

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

مانیں یا نہ مانیں مگر انرجی ڈرنکس صحت کے لیے کچھ زیادہ اچھی نہیں، اکثر اس حوالے سے تحقیقی رپورٹس بھی سامنے آتی رہتی ہیں اور ماہرین کے مطابق ان مشروبات میں بہت زیادہ چینی اور تیزابیت ہوتی ہے، جو کہ دانتوں کو نقصان پہنچانے والے عناصر ہیں، جبکہ کیفین اور نمک کی بہت زیادہ مقدار جسم کو پانی سے محروم کرتی ہے، خاص طور پر اگر آپ پانی کم پیتے ہوں تو جلد بڑھاپے کے لیے آپ کو تیار ہوجانا چاہئے۔

پراسیس گوشت

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

یہ مغربی غذا جسمانی عمر کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے، یہ جسم میں ایسے مضر اجزاءکی تعداد بڑھاتی ہے جو ڈی این اے اور خلیات پر اثرانداز ہوکر انہیں نقصان پہنچاتے ہیں، جبکہ کینسر اور دیگر سنگین امراض کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

چینی کا زیادہ استعمال

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

میٹھی اشیاءکس کو پسند نہیں ہوتی مگر یہ جسمانی وزن میں اضافے کے ساتھ ساتھ آپ کے چہرے کی عمر بھی بڑھا دیتی ہیں۔ شوگر یا چینی زیادہ استعمال کی وجہ سے ہمارے خلیات سے منسلک ہوجاتی ہے اور اس کے نتیجے میں چہرے سے سرخی غائب ہوجاتی ہے اور آنکھوں کے نیچے گہرے حلقے ابھر آتے ہیں۔ اسی طرح جھریاں اور ہلکی لکیریں بھی چہرے کو بوڑھا بنا دیتی ہیں۔ ایسا نہیں کہ چینی کو مکمل طورپر زندگی سے نکال دیں مگر تو میٹھی اشیاءسے کچھ گریز آپ کے چہرے کی چمک برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

میٹھے مشروبات

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

انسانی دماغ ہمیشہ سے ہی مٹھاس کا دیوانہ رہا ہے مگر ماضی میں کبھی ہمارے آباء و اجداد کو بہت زیادہ چینی اور کیلوریز سے بھرپور کولڈ ڈرنکس جیسی چیز نہیں ملی تھی۔ اس کا بہت زیادہ استعمال موٹاپے کا شکار کرتا ہے جبکہ اس سے پیدا ہونے والا کیمیائی ردعمل دماغ کو بتاتا ہے کہ ہم کچھ اچھا کر رہے ہیں حالانکہ ایسا ہوتا نہیں، اس کے نتیجے میں چینی کا استعمال ایک عادت بن جاتی ہے جسے ترک کرنا ناممکن سا ہوجاتا ہے جو ذیابیطس، دل کی بیماریوں اور فالج وغیرہ کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔

زیادہ نمکین غذائیں

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

نمک کھانے کا ذائقہ دوبالا کرتا ہے مگر بہت زیادہ نمک کی عادت صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے، طبی ماہرین کے مطابق زیادہ نمک والے کھانے جسم میں پانی کی سطح متاثر کرنے کے ساتھ پیٹ پھولنے کا باعث بھی بنتی ہے، جبکہ پانی کی کمی سے جلد بے رونق اور پوھل جاتی ہے، جبکہ ڈی ہائیڈریشن کے نتیجے میں ڈی این اے کو بھی نقصان پہنچتا ہے اور ٹیلومیئرز مختصر ہونے کے نتیجے میں بڑھاپے کی جانب سفر تیز ہوجاتا ہے۔

تلی ہوئی غذائیں

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

فرنچ فرائیز ہو یا کوئی بھی ڈیپ فرائی چیز، یہ کبھی کبھار کھانا تو ٹھیک ہے، مگر ان کا استعمال معمول بنالینا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ بہت زیادہ درجہ حرارت میں بننے والی ان غذاﺅں میں موجود آئل اور چربی انسانی جسم کا حصہ بنتی ہے، جس کے نتیجے میں بڑھاپے کا باعث بننے والے مضر اجزاءتیزی سے بننے لگتے ہیں، جبکہ بڑھاپے اور دیگر امراض کا خطرہ الگ لاحق ہوتا ہے۔

ٹرانس فیٹ

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ٹرانس فیٹ جسمانی وزن میں اضافے کے ساتھ ساتھ جلدی خلیات کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں، یہ ٹرانس فیٹ مصنوعی ہائیڈروجن پر مبنی ہوتے ہیں جو کہ جسم میں ورم کا باعث بن سکتے ہیں، اسی طرح ٹرانس فیٹ ہماری جلد کو سورج کی شعاعوں سے نقصان پہنچانے کے لیے عمل کو بھی تیز کردیتے ہیں، جنک یا فاسٹ فوڈ میں ان کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔

ٹافیاں

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

پراسیس شدہ چینی سے بننے والی ٹافیاں بچوں کے لیے تو ٹھیک ہے کیونکہ وہ جسمانی طور پر بہت سرگرم ہوتے ہیں، مگر جوانی خصوصاً درمیانی عمر میں یہ انسولین کی حساسیت اور جسمانی وزن میں تیزی سے اضافے کا باعث بن سکتی ہیں، اس کے علاوہ ان کا زیادہ استعمال دانتوں کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوتا ہے اور جگمگاتے دانتوں سے محرومی جلد بڑھاپے سے کم نہیں۔

آلو کے چپس

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اگر تو آپ کو آلو کے خستہ کرارے چپس کھانے کی عادت ہے تو یہ بڑھاپے کی جانب سفر بہت تیز کرنے والی غذا ہے جس کی وجہ اس میں شامل اجزاءہیں، اس مین ٹرانس فیٹ ایسڈ موجود ہوتے ہیں جو کہ جسم میں ایسے عناصر کو متحرک کرتے ہیں جو ورم کا باعث بنتے ہیں اور جسمانی عمر میں تیزی سے اضافہ ہونے لگتا ہے۔ چونکہ انہیں تلا جاتا ہے لہذا یہ خلیات پر منفی انداز سے اثرانداز ہوکر جسمانی دفاعی نظام کے کارکردگی کو بھی کم کردیتے ہیں۔

بریسٹ کینسر سے بچانے میں مددگار عادتیں

بریسٹ یا چھاتی کا کینسر پاکستان میں بہت عام ہے۔

کچھ عرصے پہلے طبی ماہرین نے بتایا تھا کہ پاکستان میں 40 سے 50 سال کی عمر کی 30 سے 40 فیصد خواتین اس کینسر سے متاثر ہورہی ہیں۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ خواتین میں ہلاکتوں کی دوسری سب سے بڑی وجہ چھاتی کا کینسر ہی ہے کیونکہ ہر 9 میں سے ایک خاتون میں اس جان لیوا مرض کا خطرہ ہوتا ہے۔

انہوں نے مشورہ دیا ہے کہ خواتین کو 40 سال کی عمر کے بعد سالانہ جبکہ 20 سال کے بعد ہر تیسرے سال اپنا تفصیلی طبی معائنہ کرانا چاہیئے۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 2018 کے دوران 6 لاکھ سے زائد افراد کا اس کینسر کے نتیجے میں ہلاک ہونے کا امکان ہے۔

مگر اچھی بات یہ ہے کہ اگر آغاز میں ہی اس کینسر کی تشخیص ہوجائے تو اس کا علاج آسانی سے ممکن ہے جبکہ کچھ عادات کو اپنا کر بھی اس کینسر میں مبتلا ہونے کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔

ورزش

ورزش کے متعدد فوائد ہیں، یعنی خون کی شریانوں کی صحت بہتر بنانے سے لے کر مزاج خوشگوار بنانے تک۔ مگر ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ جسمانی سرگرمیوں کو معمول بنانا بریسٹ کینسر میں مبتلا ہونے کا خطرہ بھی کم کرتا ہے۔ ورزش سے جسمانی ورم کم ہوتا ہے، جسمانی دفاعی نظام بہتر جبکہ جسمانی چربی کم ہوتی ہے اور یہ سب عناصر بریسٹ کینسر کا خطرہ کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ہر ہفتے 300 منٹ تک جسمانی طور پر متحرک رہنا بریسٹ کینسر کی روک تھام میں مدد دیتا ہے۔

فائبر سے بھرپور غذائیں

فائبر ایسا جز ہے جو جسم جذب اور ہضم نہیں کرپاتا، مگر پھر بھی وہ نظام ہاضمہ بہتر بنانے، کولیسٹرول کنٹرول کرنے اور جسمانی وزن کم کرتا ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو خواتین فائبر سے بھرپور غذاﺅں کا زیادہ استعمال کرتی ہیں، ان میں بریسٹ کیسنر کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

چربی کا کم استعمال

حالیہ طبی تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا کہ جو خواتین کم چربی والی غذاﺅں کا استعمال کرتی ہیں، ان میں بریسٹ کینسر سے موت کا خطرہ 22 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ تحقیق میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس قسم کی غذا کینسر کا خطرہ کیوں کم کرتی ہے تاہم محققین کا کہنا تھا کہ اس طرح کی غذا ممکنہ طور پر جسمانی وزن کم کرتی ہے جس سے کینسر کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

تمباکو نوشی سے گریز

تمباکو نوشی کو عام طور پر پھیپھڑوں کے کینسر سے جوڑا جاتا ہے، مگر کچھ تحقیقی رپورٹس میں عندیہ دیا گیا ہے کہ سیگریٹ نوشی بریسٹ کینسر کا خطرہ بڑھانے کا باعث بھی بنتی ہے۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ خطرہ ان خواتین میں زیاد ہوتا ہے جو کم عمری سے ہی اس عادت کی شکار ہوں، کیونکہ سیگریٹ ہارمونز کے نظام کو متاثر کرتی ہے۔

مناسب نیند

نیند کی کمی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے اور اس کی وجہ سے بریسٹ کینسر کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ نیند کی کمی خواتین میں بریسٹ کیسنر کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

بچے اگر سبزیاں نہیں کھاتے تو کیا کیا جائے؟

بچے کھانے کے وقت سے پہلے بے حد شور مچاتے ہیں کہ وہ بھوکے اور پیاسے ہیں۔ لیکن جب کھانا سامنے آتا ہے تو وہ اور چلّاتے ہیں، ‘یخ’ اور کھانا نہیں کھاتے۔ 5 منٹ گزرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں، ‘کوئی اسنیک ملے گا؟’

والدین کو اپنے بچوں کو سبزیاں کھلانے میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر آپ کا بچہ بھی سبزیاں نہیں کھاتا تو آپ ممکنہ طور پر بطور والدین اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے۔

کہا جاتا ہے کہ ایک بھوکا بچہ ہی ٹھیک سے کھانا کھاتا ہے مگر کچھ بچے ایسے ہوتے ہیں جو کھانے کی میز پر اپنی پسندیدہ چیزیں مثلاً کاربوہائیڈریٹس وغیرہ تو کھا لیتے ہیں مگر باقی چیزوں کی باری ہی نہیں آنے دیتے اور باقی چیزوں سے مراد غذائیت سے بھرپور چیزیں ہیں۔

تصویر: شٹر اسٹاک
تصویر: شٹر اسٹاک

پہلے میں نے سوچا کہ میں کھانے کی میز پر صرف سبزیاں ہی رکھوں اور بچوں کو واضح انداز میں بتا دوں کہ کچھ اور کھانے سے قبل انہیں سبزیاں کھانی ہی ہوں گی۔

مگر پھر میں نے سوچا کہ میں کتنی دیر تک میز پر بیٹھی انہیں رشوت دیتی اور ان سے مذاکرات کرتی رہوں گی۔ یہ تو تھکا دینے والا کام ہے۔ پھر میں نے یونیورسٹی آف منیسوٹا کی ماہرِ نفسیات ٹریسی مین کا طریقہ استعمال کرنے کا ارادہ کیا۔ وہ گزشتہ 20 سالوں سے کھانے پینے کی عادات کا مطالعہ کر رہی ہیں اور کہتی ہیں کہ اپنے بچوں کو سبزیاں کھلانے کے لیے آپ کو سبزیوں کے مقابل کھانے ہٹا دینے ہوں گے۔

ٹریسی کی تحقیق کے مطابق جب بھی بچوں کے سامنے چٹ پٹے کھانے اور سبزیاں رکھی جائیں گی تو سبزیاں ہمیشہ ہار جائیں گی۔ سبزیوں کا مقابلہ ہٹا دیا جائے تو پھر بچوں کے پاس کھانے کے لیے صرف سبزیاں بچتی ہیں۔

جب آپ کے بچے کھانے سے چند گھنٹے پہلے بھوک سے بے تاب ہوں تو میز پر سبزیوں کی قطار سجا دیں۔

ایسا کرنے کے بعد میں کہتی کہ آپ کو ابھی کھانے کی ضرورت ہے؟ یا تو سبزیوں میں سے کچھ کھا لیں یا پھر کھانے کے وقت تک کا انتظار کریں۔ چنانچہ مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی کہ میرے بچے جا کر میز سے کچھ گاجریں، ٹماٹر، کھیرے، یہاں تک کہ بروکولی بھی کھا لیتے۔ ایک دن تو میری بیٹی گاجروں کا آدھا تھیلا کھا گئی۔ کچھ دن وہ کم سبزیاں کھاتے یا بالکل نہیں کھاتے، مگر کیوں کہ اب وہ پہلے سے زیادہ سبزیاں کھا رہے تھے اس لیے یہ قابلِ برداشت تھا۔

پھر جب کھانے کے وقت میں میز سجاتی تو مجھے بچوں کو زبردستی کھلانے کا دباؤ نہیں جھیلنا پڑتا تھا کیوں کہ وہ غذائیت والی زیادہ تر چیزیں پہلے ہی کھا چکے ہوتے تھے۔

تصویر: شٹر اسٹاک
تصویر: شٹر اسٹاک

ٹریسی مین کے مطابق یہ طریقہ اس لیے کام کرتا ہے کہ بچوں کو سبزیاں کھلانے کے لیے آپ کوئی بھی دوسرا کھانا سامنے لانے سے قبل انہیں سبزیاں کھلا دیں۔ اس طرح جب وہ شدید بھوکے ہوں گے اور ان کے پاس کچھ اور نہیں ہوگا، تو وہ سبزیاں کھانے پر مجبور ہوں گے۔

اس پورے طریقے کی بنیاد یہ ہے کہ آپ غلط فیصلہ کرنا مشکل بنا دیں اور صحیح فیصلہ کرنا آسان بنا دیں۔ ہم نے اسے اسکول کیفے ٹیریاز میں بھی آزما کر دیکھا ہے جس کے بعد بچوں کے سبزیاں کھانے میں 4 گنا اضافہ ہوا۔

کمزور بینائی کو صحت مند بنانے میں مددگار ٹپس

کیا آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے جسم کا کونسا مسل سب سے زیادہ متحرک رہتا ہے؟ تو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق وہ ہماری آنکھیں ہیں جو دن بھر میں ایک لاکھ سے زائد بار حرکت کرتی ہیں۔

مگر اس کا متحرک رہنا آنکھوں کو صحت مند رہنے میں مدد نہیں دیتا اور انسانوں کی لاپروائی بینائی کمزور کردینے کا باعث بنتی ہے۔

ایسی ہی چند عام عادات جن سے پیچھا چھڑا کر آپ نظر کے چشمے سے بھی نجات پاسکتے ہیں۔

فائدہ مند غذا کو انکار

اکثر افراد کو سبز پتوں والی، کیروٹین، وٹامن اے اور سی سے بھرپور غذائیں پسند نہیں ہوتیں، جیسے بیٹا کیروٹین گاجر، شکرقندی، پالک اور کدو میں پایا جاتا ہے، جبکہ لیوٹین سبز پتوں والی سبزیوں میں زیادہ ہوتا ہے، مچھلی اور اخروٹ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سے بھرپور ہوتے ہیں جبکہ گائے یا چکن کی کلیجی، انڈے، مکھن اور دودھ وٹامن اے سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ترش پھلوں میں وٹامن سی پایا جاتا ہے، یہ تمام اجزاءصحت مند بینائی کے لیے بہت ضروری ہیں۔

ایک سرگرمی پر بہت زیادہ وقت لگانا

آج کل دفاتر میں کمپیوٹر کے سامنے بہت وقت گزارا جاتا ہے اور بیشتر افراد 15 منٹ کا وقفہ نہیں لیتے، جس کا مشورہ طبی ماہرین دیتے ہیں۔ کمپیوٹر اسکرین پر نظریں جمائے رکھنا آنکھوں کی سوجن، بینائی دھندلانے اور دیگر عوارض کا باعث بنتا ہے۔

آنکھوں کی ورزشوں سے دوری

اگر تو چمشہ لگاتے ہیں تو مختلف ورزشیں ان سے جلد نجات میں مدد دے سکتی ہیں، روزانہ آنکھوں کی ورزش صحت مند بینائی کے حصول میں مدد دیتی ہے جبکہ آنکھوں کو تکلیف کا سامنا بھی نہیں ہوتا۔

نیند کی کمی

نیند جسم کے لیے انتہائی اہم ہوتی ہے اور اس کی کمی کے نتیجے میں بھی بینائی کے مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے، طبی ماہرین آنکھوں کی اچھی صحت کے لیے کم از کم 6 گھنٹے کی نیند کا مشورہ دیتے ہیں۔

تمباکو نوشی

تمباکو نوشی صرف پھیپھڑوں کو ہی نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ یہ بینائی کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوتی ہے، درحقیقت بینائی سے محرومی کی سب سے بڑی وجہ موتیا نامی مرض کو قرار دیا جاتا ہے اور تمباکو نوشی کے عادی افراد میں اس کا خطرہ دوگنا زیادہ ہوتا ہے۔

اسپرین کئی اقسام کے کینسر کے علاج میں بھی مفید ہے، ماہرین

لندن: سائنس دانوں کے ایک گروہ نے کہا ہے کہ اب ہمیں یہ اعلان کردینا چاہیے کہ بعض اقسام کے کینسر کے علاج میں اسپرین مفید ثابت ہوسکتی ہے۔

برطانیہ میں کارڈف یونیورسٹی میں واقع کوکرین انسٹی ٹیوٹ آف پرائمری کیئر اینڈ ہیلتھ سے وابستہ پیٹر ایل وُڈ نے اس ضمن میں 71 تحقیقی جائزوں (ریسرچ سرویز) اور مطالعات کا بغور تجزیہ کیا ہے اور اس کے نتائج پبلک لائبریری آف سائنس ون کی ویب سائٹ پر شائع کرائے ہیں۔

ایل وُڈ کے مطابق اسپرین کی کم خوراک دل، فالج اور کینسر کی بیماریوں میں مؤثر ثابت ہوچکی ہے اور اب اس بات کے مزید ثبوت ملے ہیں کہ اسپرین کئی اقسام کے کینسر کو روکنے یا انہیں دور رکھنے میں مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ اس سے قبل ممتاز طبی جریدے لینسٹ میں شائع شدہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ادھیڑ عمری میں کینسر کے شکار ہونے والے افراد میں اسپرین فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

گزشتہ برس چوہوں پر تجربات کے بعد یہ بات سامنے آئی تھی کہ کینسر کے مروجہ معالجے کے ساتھ ساتھ اگر اسپرین بھی استعمال کی جائے تو اس سے علاج کی اثر پذیری اور رفتار، دونوں بڑھ جاتی ہیں۔ ڈاکٹر پیٹر اور ان ساتھیوں نے 120,000 ایسے مریضوں کا ڈیٹا کھنگالا جو کینسر کا علاج کروا رہے تھے اور ساتھ میں اسپرین بھی کھارہے تھے۔ پھر اس ڈیٹا کا موازنہ چار لاکھ ایسے مریضوں سے کیا گیا جو اسپرین نہیں لے رہے تھے۔

اس ضمن میں بڑی آنت کے کینسر، بریسٹ کینسر اور پروسٹیٹ کینسر کے مریضوں کی رپورٹس دیکھی گئیں۔ ماہرین یہ جان کر حیران رہ گئے کہ سرطان کے جن مریضوں نےعلاج کے ساتھ ساتھ اسپرین کھائی تھی، ان میں بقیہ مریضوں کے مقابلے میں زندہ بچ جانے کی شرح 20 سے 30 فیصد زیادہ تھی۔ بہ الفاظ دیگر، اسپرین سے ان کی زندگی کا دورانیہ بڑھ گیا تھا۔ تاہم ماہرین نے اس ضمن میں مزید آزمائش اور تحقیق پر بھی زور دیا ہے۔

انجیر کھانا بہت زیادہ فائدہ مند

انجیر پاکستان میں ایک عام پھل ہے جس کا ذکر قدیم یونانی اور رومی تاریخ میں بھی ملتا ہے۔

اس زمانے میں اس پھل کو خوشحالی، بانجھ پن سے بچاﺅ اور فراخی رزق کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

انجیر کو خشک یا تازہ کسی بھی شکل میں کھایا جائے، متعدد فائدہ مند اجزاء سے بھرپور یہ سوغات متعدد بیماریوں سے بچانے میں مدد دے سکتی ہے۔

یہ پھل متعدد حوالوں سے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے اور عام صحت کو بھی بہتر بناتا ہے جس کے چند فوائد درج ذیل ہیں۔

بانجھ پن سے تحفظ

یہ مردوں اور خواتین دونوں کو بانجھ پن سے تحفظ دیتا ہے، طبی سائنس کے مطابق اس پھل میں موجود منرلز ان ہارمونز کے لیے ضروری ہیں جو بانجھ پن سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

بواسیر کے خلاف مفید

انجیر قدرتی فائبر سے بھرپور ہے جو کہ بواسیر کے حوالے سے مددگار ثابت ہوتا ہے۔

نظام ہاضمہ کے لیے بہترین

انجیر کا استعمال معدے کے تیزاب کو الکلی میں بدل دیتا ہے تو جن افراد کو معدے کے امراض جیسے تیزابیت، بدہضمی اور مرض کروہن کا سامنا ہوتا ہے، ان کے لیے انجیر کھانا فائدہ مند ہوتا ہے، کچھ ہفتوں تک رات کو انجیر پانی میں بھگو کر صبح کھانا ایسے افراد کے لیے مفید ہے۔

قبض دور کرے

انجیر میں غذائی فائبر کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ آنتوں کو متحرک کرنے میں مدد دیتی ہے، جس سے قبض کی شکایت دور ہوتی ہے۔

امراض قلب سے تحفظ

انجیر میں موجود فینول، اومیگا تھری اور اومیگا تھری سکس فیٹی ایسڈز خون کی شریانوں کی صحت مستحکم رکھتے ہیں، فیٹی ایسڈز سے امراض قلب کا خطرہ کم ہوتا ہے جس سے ہارٹ اٹیک سے تحفظ ملتا ہے۔

جسمانی توانائی اور اعصاب کے لیے

انجیر میں قدرتی وٹامن بی کمپلیکس موجود ہوتا ہے جو کہ اعصاب کے لیے انتہائی ضروری ہوتا ہے، اسی طرح وٹامن بی جسمانی توانائی کے لیے بھی بہت ضروری ہے کیونکہ اس کی کمی ہیموگلوبن کی مناسب مقدار نہ بننے کا باعث بنتی ہے، جس کے نتیجے میں جسم تھکاوٹ کا جلد شکار ہوتا ہے جبکہ اکثر سر بھی چکرانے لگتا ہے۔

جسمانی وزن میں کمیہ

انجیر میٹابولزم کو قدرتی استحکام فراہم کرنے والا پھل ہے جو جسمانی وزن میں کمی لانے میں مدد دے سکتا ہے اور اکثر اسے موٹاپے کے شکار افراد کو کھانے کا مشورہ بھی دیا جاتا ہے، تاہم دودھ کے ساتھ اسے کھانا جسمانی وزن میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

بلڈ پریشر میں کمی

انجیر میں موجود کیلشیئم اور میگنیشم خون کی شریانوں کو سکون پہنا کر بلڈ پریشر کوبڑھنے سے روکتے ہیں۔

چینی کی لت سے نجات میں بھی مدد دے

اگر آپ کو چینی یا یوں کہہ لیں میٹھا بہت پسند ہے تو انجیر اس کا صحت مند متبادل ثابت ہوسکتی ہے، اس میں قدرتی مٹھاس کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ کچھ میٹھا کھانے کی خواہش پر قابو پانے میں مدد دے گی جبکہ زیادہ کیلوریز بھی جسم کا حصہ نہیں بنیں گی۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Google Analytics Alternative