صحت

موٹاپے کی ایک اور عام سی وجہ، جس سے شاید آپ بے خبر ہوں!

کیا آپ جسمانی وزن میں اضافے سے پریشان ہیں تو ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ خوراک نہیں بلکہ نیند کی کمی ہو۔

یہ بات ایک حالیہ طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔

برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق جو بالغ افراد 6 گھنٹے سے بھی کم سوتے ہیں ان کے موٹے ہونے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ نیند کی کمی آپ کی جسمانی خوبصورتی، مزاج اور صحت ہر چیز پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔

تاہم محققین کا کہنا تھا کہ نیند کی کمی سے جسم و ذہن پر طاری ہونے والی تھکاوٹ جسمانی وزن میں اضافے اور بیماریوں کے خلاف جسم میں سرگرم مدافعتی نظام کو کمزور کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 6 گھنٹے سے کم نیند چہرے پر جھریوں کا باعث بنتی ہے اور آنکھوں کے گرد حلقے بھی بدنمائی میں اضافہ کردیتے ہیں مگر زیادہ وقت تک جاگنے کے نتیجے میں جسمانی میٹابولزم کی رفتار سست ہوتی ہے اور کھانا ہضم نہیں ہوپاتا جبکہ آپ مزید کیلیوریز مسلسل جسم کا حصہ بنارہے ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں موٹاپا خودکار طور پر آپ کو شکار کرلیتا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل ایک اور تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ نیند کی کمی سے مردوں میں دل کے دورے یا فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ بلڈپریشر میں اضافہ ہوتا ہے۔

فرائیز اور چپس شوق سے کھانے والا نوجوان بینائی سے محروم

برطانوی ماہرین نے دنیا بھر کے والدین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی غذا پر خصوصی توجہ دیں اور کم عمری میں ہی بچوں کو ’فرائیز‘ ’چپس‘ اور اسی طرح کی دیگر چیزیں کھانے سے روکیں۔

ماہرین نے یہ ہدایت اس وقت جاری کی جب ڈاکٹرز کو پتہ چلا کہ برطانیہ کا ایک نوجوان محض اس لیے بینائی سے محروم ہوگیا، کیوں وہ کم عمری سے فرائیز اور چپس جیسی دیگر چیزیں شوق سے کھاتا آ رہا تھا۔

برطانوی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ کے مطابق ماہرین کا خیال ہے کہ فرائیز، چپس، پرنگلز اور سوساج کو شوق سے کئی سال تک کھانے والا بینائی سے محروم ہونے والا یہ پہلا نوجوان ہے۔

رپورٹ کے مطابق بینائی سے محروم ہونے والے نوجوان کی عمر 17 برس ہے اور اس نے انتہائی کم عمری یعنی 10 برس کے بعد شوق سے اور زیادہ مقدار میں فرائیز، چپس اور اسی طرح کی دیگر چیزیں کھانا شروع کردی تھیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 14 برس کی عمر تک مذکورہ نوجوان میں ’وٹامنز بی 12‘ سمیت اس کی ہڈیوں کے منرلز اور کئی طرح کے دیگر وٹامنز کی کمی دیکھی گئی۔

اگرچہ نوجوان نے وٹامنز اور پروٹین کی کمی مکمل کرنے کے لیے فوڈ سپلیمنٹ یعنی طاقت کی دوائیاں بھی استعمال کیں، تاہم اس سے نوجوان کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

کم عمری سے ہی مسلسل کئی سال تک پھل اور سبزیاں نہ کھانے کی وجہ سے نوجوان کی جسمانی حالت انتہائی خراب ہوگئی تھی اور اس میں وٹامنز، پروٹین اور منرلز کی کمی کی وجہ سے اس سے نہ تو چلا جا سکتا تھا اور نہ ہی وہ اسے ٹھیک طرح سے دکھائی دیتا تھا۔

ہر گزرتے دن میں طبعیت میں خرابی کی وجہ سے نوجوان کو آنکھوں کے ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں دوران علاج ہی وہ مکمل طور پر بینائی سے محروم ہوگیا۔

نوجوان کے نابینہ ہوجانے کے بعد ماہرین اور ڈاکٹرز نے والدین کے لیے ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ والدین اپنے بچوں کی غذا کا خاص خیال رکھیں اور انہیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ خوراک کا نعمل بدل دوائیاں نہیں ہو سکتیں۔

ماہرین نے والدین کو واضح پیغام دیا کہ فوڈ سپلیمینٹ یعنی طاقت کی دوائیاں بھی اس وقت ہی سازگار ہوتی ہے جب متاثرہ شخص میں کچھ نہ کچھ طاقت اور وٹامنز ہوں گی۔

ماہرین نے طاقت کی دوائیوں سے زیادہ خوراک کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو کم عمری میں ہی پھل اور سبزیوں پر مشتمل خوراک دیں۔

کچھ لوگ کبھی موٹے کیوں نہیں ہوتے؟ اصل وجہ سامنے آگئی

کیا آپ نے غور کیا ہے کہ کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جو بہت زیادہ کھاتے ہیں مگر پھر بھی موٹاپے کا شکار نہیں ہوتے، ایسا کیوں ہوتا ہے؟

تو سائنسدانوں نے آخرکار اس کا جواب ڈھونڈ لیا ہے۔

درحقیقت قدرتی طور پر دبلے پتلے رہنے والے افراد کا وزن اس لیے معمول پر رہتا ہے کیونکہ ان کی چربی کے خلیات جینیاتی طور پر زیادہ موثر طریقے سے کام کرتے ہیں۔

یہ بات سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

تحقیق کے دوران محققین نے ایسے افراد کے گروپ کا جائزہ لیا جن کا جو دل کرتا کھاتے مگر ان کا وزن نہیں بڑھتا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ان کے معدے میں موجود چربی کے خلیات ایسے افراد کے مقابلے میں حجم میں 50 فیصد کم اور زیادہ متحرک ہوتے ہیں، جو اوسط جسمانی وزن کے حامل ہوتے ہیں۔

نتائج سے اس خیال کو مزید تقویت ملتی ہے کہ دبلے پتےل افراد کو جسمانی وزن کو معمول پر رکھنے کے حوالے سے دیگر لوگوں کے مقابلے میں کچھ جینیاتی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

طبی جریدے امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع تحقیق میں کہا گیا کہ پہلی بار یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ اپنے جسمانی وزن کو ہمیشہ ایک سطح پر رکھنے والے افراد کو وائٹ ڈپازٹ ٹشو سے فائدہ ہوتا ہے۔

وائٹ ڈپازٹ ٹشوز جسم میں چربی سے بنتے یں اور ان میں لپڈ اسٹور ہوتا ہے جو ہماری غذا میں موجود چربی کا جز ہوتا ہے۔

نیسلے انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ سائنز کی اس تھقیق میں 30 مردوں اور خواتین رضاکاروں کی خدمات حاصل کی گئیں جن کا جسمانی وزن ہمیشہ سے ایک سطح پر رہتا تھا۔

محققین نے دیکھا کہ یہ افراد غذا بھی مناسب مقدار میں کرتے ہیں جبکہ ورزش بھی زیادہ نہیں کرتے مگر پھر بھی ان کا جسمانی وزن ایک سطح پر برقرار رہتا ہے۔

انہوں نے دریافت کیا کہ ان افراد کے معدوں سے چربی کے چھوٹے ٹکڑے، خون، پیشاب اور پاخانے کے نمونے لیے گئے اور نتائج سے معلوم ہوا کہ ان افراد کے چربی کے خلیات غیرمعمولی حد تک چربی گھلانے اور بنانے والے جینز کے تحت متحرک ہوتے ہیں۔

جسمانی وزن کے حوالے سے 200 سے زائد جینز اثرات مرتب کرتے ہیں اور دبلے پتلے افراد کے ایسے چربی والے خلیات عام وزن رکھنے والوں کے مقابلے میں 40 فیصد چھوٹے ہوتے ہیں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ایسے افراد کے یہ خلیات توانائی استعمال کرنے ک ھوالے سے بھی زیادہ متحرک ہوتے ہیں، جس کی بدولت خلیات کے بننے بگڑنے کا عمل بھی خودکار طریقے سے جاری رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

اس سے قبل رواں سال جولائی میں ایک تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ دنیا بھر میں موٹاپے کی شرح 1975 کے بعد سے 3 گنا بڑھ گئی ہے اور اس کی بنیادی وجہ لوگوں میں طرز زندگی کا ناقص انتخاب ہے۔

تحقیق کے مطابق زیادہ کھانا نہیں بلکہ مضر صحت غذا کا انتخاب اور زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا موٹاپے کی وبا کی اصل وجہ ہے، تاہم اس حوالے سے جینز بھی ایک کردار ضرور ادا کرتے ہیں، تاہم وہ بہت زیاد اہم نہیں۔

اس تحقیق کے دوران ایک لاکھ 19 ہزار کے قریب افراد کے جسمانی وزن اور دیگر عوامل کا جائزہ 1963 سے 2008 کے درمیان لیا گیا۔

ان افراد کو 5 گروپس میں تقسیم کیا گیا اور جینز کے ساتھ ساتھ موٹاپے کے دیگر عوامل جیسے عمر، جنس، تمباکو نوشی اور ماحولیاتی عناصر کا تجزیہ کیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ 1980 کی دہائی کے وسط اور 1990 کی دہائی کے وسط مین جسمانی وزن میں اضافے کی شرح میں ڈرامائی اضافہ ہوا۔

محققین نے بتایا کہ موٹاپے میں جینز بھی کچھ کردار ادا کرتے ہیں مگر مرکزی وجہ لوگوں کا ورزش سے دوری، زیادہ وقت بیٹح کر گزارنا اور زیادہ چربی اور چینی والی غذا?ں کا استعمال ہے۔

یہ کہنے کی ضرورت نہیں جسمانی وزن میں اضافہ صحت کے لیے کچھ زیادہ اچھا نہیں ہوتا بلکہ پیٹ اور کمر کے ارگرد جمع ہونے والی چربی جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

موٹاپے کے نتیجے میں کچھ امراض تو فوری سامنے آجاتے ہیں جبکہ طویل المعیاد بنیادوں پر سامنے آتے ہیں۔

بلڈ پریشر اور کولیسٹرول میں کمی لانا ہارٹ اٹیک اور فالج سے بچائے

بلڈ کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کی سطح میں معمولی کمی لاکر ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ نمایاں حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

کیمبرج یونیورسٹی کی تحقیق میں 4 لاکھ 40 ہزار کے قریب افراد کا جائزہ لینے کے بعد دریافت کیا گیا کہ چند معمولی چیزیں ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے جان لیوا امراض سے موت کا خطرہ دوتہائی حد تک کم کردیتی ہیں۔

دنیا میں ہر سال ہارٹ اٹیک یا فالج سے لاکھوں افراد ہلاک ہوتے ہیں جبکہ بلڈ پریشر ایسا عارضہ ہے جو ہر 4 میں سے ایک فرد کو لاحق ہوتا ہے جبکہ ہر 10 میں سے 5 افراد میں کولیسٹرول کا مرض پایا جاتا ہے۔

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے یہ دیکھنے کا فیصلہ کیا کہ یہ دونوں عناصر کس حد تک صحت پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے دریافت کیا کہ صحت کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں 1 ایم ایم او ایل جبکہ بلڈ پریشر 10 ایم ایم ایچ جی کمی دل کے مسائل کا خطرہ 80 فیصد تک کم کرنے کے لیے کافی ہے۔

اس طرح کے نتائج عام طور پر کولیسٹرول کے لیے استعمال ہونے والی statin ادویات اور فشار خون کے لیے کھائی جانے والی گولیوں سے ہی حاصل ہوتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ دل اور دوران خون کے امراض ہر سال صرف برطانیہ میں ہی ایک لاکھ 68 ہزار ہلاکتوں کا باعث بنتے ہیں مگر کولیسٹرول اور بلڈ پریشر میں معمولی کمی لانا ڈرامائی حد تک دل اور دوران خون کے امراض کا خطرہ زندگی بھر کے لیے کم کردیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نتائج سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھانے والے بنیادی عناصر ہیں مگر اہم سوال یہ ہے کہ کتنے افراد کو معلوم ہے کہ ان کا بلڈ پریشر یا کولیسٹرول لیول کیا ہے یا انہیں ک طرح کم کیا جاسکتا ہے؟

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ تحقیق کے نتائج سے اس خطرے میں 80 فیصد تک کمی لانے کی بات سے لوگوں کے اندر طرز زندگی میں طویل المعیاد بنیادوں میں تبدیلی لانے کا خیال پیدا ہوگا۔

اہم بات یہ ہے کہ بلڈ پریشر یا کولیسٹرول کو طرززندگی میں تبدیلیوں اور ادویات کی مدد سے کم کیا جاسکتا ہے، بس آپ کو ہمت کرنے کی ضروت ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جاما میں شائع ہوئے۔

دوپہر کی نیند کا ایک اور بہترین فائدہ سامنے آگیا

قیلولے کی عادت زندگی کو خوش باش بنانے میں مدد دیتی ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ہارٹ فورڈ شائر کی تحقیق میں دوپہر کو مختصر نیند اور خوشی کے درمیان ایک مختصر تعلق دریافت کیا گیا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ویسے تو دوپہر کی مختصر نیند صحت کے لیے متعدد فوائد کی حامل ہے جیسے تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ اور امراض قلب سے تحفظ وغیرہ، مگر یہ عادت زندگی میں خوشی بڑھانے کا باعث بھی بنتی ہے۔

درحقیقت قیلولے کی عادت زندگی سے اطمینان کا احساس دلاتی ہے۔

خیال رہے کہ قیلولہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ہے جس کے متعدد فوائد سائنس عرصے سے تسلیم کررہی ہے۔

اس تحقیق میں شامل ٹیم کا کہنا تھا کہ ماضی میں تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ دوپہر کو 30 منٹ تک نیند سے توجہ مرکوز کرنے، تخلیقی صلاحیتوں میں اضافے اور ذہن کو تیز کرنے میں مدد ملتی ہے، مگر نئے نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ اس سے خوشی کا احساس بھی بڑھ جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سائنسدان عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ دوپہر کو زیادہ وقت تک سونا مختلف امراض کا خطرہ بڑھا سکتا ہے اور ہمارے نتائج سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران ایک ہزار افراد سے ایک آن لائن سروے کے دوران قیلولے کے حوالے سے مختلف سوالت پوچھے گئے اور ان سے ہیپی نیس اسکور دینے کا بھی کہا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ 30 منٹ تک قیلولہ کرنے والے زندگی میں زیادہ خوش باش ہوتے ہیں جبکہ دوپہر کو نہ سونے والے حیران کن طور پر زیادہ دیر تک قیلولہ کرنے والوں سے زندگی میں خوش ہوتے ہیں۔

اس سے قبل جولائی میں سامنے آنے والی ایک امریکی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ دوپہر کو 15 سے 30 منٹ کی نیند ذہنی ہوشیاری، یادداشت، ذہنی صلاحیت کو بڑھانے جبکہ مزاج کو خوشگوار بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

تحقیق کے مطابق قیلولہ لوگوں کے ذہن کے لیے بہت اچھا ہوتا ہے کیونکہ یہ اس کی صفائی کا کام کرتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ اگر لوگ قیلولے کو عادت بنالیں تو وہ معلومات کو زیادہ تیزی اور موثر طریقے سے ذخیرہ، برقرار اور یاد کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ دوپہر کی یہ مختصر نیند ذہنی صلاحیت پر زبردست مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔

تاہم سب سے ضروری امر یہ ہے کہ دوپہر کی نیند مختصر یعنی آدھے گھنٹے سے زیادہ نہ ہو کیونکہ وہ ذہن کے لیے فائدے کی بجائے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

پانی اور پاپ کارن قبض سے نجات کے لیے فائدہ مند

قبض کی بیماری کا سامنا اکثر افراد کو ہوتا ہے اور انہیں اپنی زندگی اس کی وجہ سے بہت مشکل محسوس ہونے لگتی ہے۔

قبض ذیابیطس جیسے مرض کی بھی ایک بڑی علامت ہوسکتا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق ذیابیطس سے ہٹ کر کچھ اقسام کے کینسر لاحق ہونے کی صورت میں بھی قبض کی شکایت اکثر رہنے لگتی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اگر آپ کو اکثر قبض کی شکایت رہتی ہے تو اسے عام سمجھ کر نظر انداز مت کریں۔

تاہم قبض کا علاج تو آپ کے اپنے کچن میں بھی موجود ہے۔

چند عام اور مزیدار چیزوں کو کھانا اس تکلیف سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

پاپ کارن

آلو کے چپس کی بجائے اگر آپ سادے پوپ کارن کو ترجیح دیں تو منہ چلانے کی خواہش کے ساتھ ساتھ قبض سے بھی بچ سکیں گے، طبی ماہرین کے مطابق یہ جسم کی فائبر کی ضروریات پوری کرنے کا آسان ذریعہ ہے، کیونکہ ان کی کچھ مقدار میں تین گرام فائبر ہوتی ہے۔

آلو بخارے

آلو بخارے فائبر سے بھرپور پھل ہے اور یہ وہ جز ہے جو آنتوں کے افعال کو بہتر کرکے قبض کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے، ایک آلو بخارے میں ایک گرام فائبر ہوتا ہے جو کہ جسم کے لیے مناسب مقدار ہے، اسی طرح اس میں موجود دیگر اجزاءبھی نظام ہضم کے مسائل پر قابو پانے کے لیے موثر ثابت ہوتے ہیں۔

پانی

فائبر اور ورزش کے ساتھ ساتھ مناسب مقدار میں پانی پینا بھی قبض کی شکایت میں کمی لانے کے لیے ضروری ہے، پانی آنتوں کے افعال کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے، اگر آپ کا جسم پانی کی کمی کا شکار ہوگا تو قبض کا خطرہ بھی اتنا زیادہ بڑھ جائے گا۔

مالٹے

طبی ماہرین مالٹوں کو بھی قبض سے نجات دلانے کے لیے بہترین قرار دیتے ہیں کیونکہ یہ بھی فائبر سے بھرپور پھل ہے جبکہ کیلوریز بھی بہت کم ہوتی ہیں، اسی طرح ترش پھلوں میں فلیونول نامی جز بھی ہوتا ہے جو کہ قبض کشا کا کام کرتا ہے۔

جو

فائبر کے حصول کے لیے جو بہترین ہے، اس کے ایک کپ میں دو گرام انسولیبل جبکہ دو گرام سولیبل فائبر موجود ہوتا ہے، انسولیبل فائبر کھانے کو معدے سے جلد آنتوں میں پہنچانے میں مدد دیتا ہے جبکہ فائبر کی دوسری قسم پانی میں تحلیل ہوکر جیل جیسا میٹریل بناتی ہے جو کہ قبض کے خلاف موثر ہے۔

چاول

ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ زیادہ چاول کھانے کے عادی ہوتے ہیں ان میں قبض کا خطرہ 41 فیصد تک کم ہوتا ہے، اس کی کوئی واضح وجہ تو نہیں بتائی گئی مگر ممکنہ طور پر چاول میں موجود فائبر اس حوالے سے مددگار ہوتا ہے۔

پالک

پالک نہ صرف فائبر سے بھرپور ہوتی ہے بلکہ میگنیشم کے حصول کا بھی بہترین ذریعہ ہے، یہ منرل آنتوں کے لیے ضروری ہوتا ہے اور فضلے کو صاف کرنے کا کام کرتا ہے۔

بیج

بیج میں نشاستہ پایا جاتا ہے جو کہ آنتوں کے لیے ضروری ہوتا ہے، یا یوں کہہ لیں کہ قبض کشا کا کام کرتا ہے جبکہ غذائی نالی میں بیکٹریا کے توازن میں بھی مدد دیتا ہے۔ تاہم ان کا زیادہ استعمال پیٹ میں گیس اور اس کے پھولنے جیسے مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔

دہی

دہی میں بیکٹریا یا پرو بائیو ٹکس کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ معدے کے لیے اچھے ثابت ہوتے ہیں، یہ نہ صرف غذائی نالی کے نظام کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں بلکہ آنتوں کی کارکردگی کو بھی بہتر بناتے ہیں۔

ذیابیطس کو کنٹرول میں رکھنے میں مددگار بہترین مصالحہ

ذیابیطس دنیا میں تیزی سے عام ہوتا ہوا ایسا مرض ہے جسے خاموش قاتل کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ یہ ایک بیماری کئی امراض کا باعث بن سکتی ہے اور حیرت انگیز طور پر ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار 25 فیصد افراد کو اکثر اس کا شکار ہونے کا علم ہی نہیں ہوتا۔

عالمی ادارہ صحت کے تخمینے کے مطابق 2016 میں 16 لاکھ اموات ذیابیطس کے باعث ہوئیں اور وہ اس برس اموات کی 7 ویں بڑی وجہ بننے والا مرض تھا۔

2017 کے ایک سروے میں یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ پونے 4 کروڑ پاکستانی ذیابیطس کا شکار ہیں یعنی ہر چوتھا یا پانچواں پاکستانی اس موذی مرض میں مبتلا ہے۔

مگر اچھی بات یہ ہے کہ آپ اس مرض سے خود کو بچانے کے لیے کچن میں موجود ایک عام چیز سے مدد لے سکتے ہیں۔

اور وہ چیز ہے دارچینی، جو لگ بھگ ہر گھر میں موجود ہوتی ہے۔

مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا کہ دارچنی کا استعمال انسولین کی حساسیت بڑھا کر ذیابیطس ٹائپ ٹو کی پیچیدگیوں پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

اس مصالحے سے وہ خلیات متحرک ہوتے ہیں جو گلوکوز کو استعمال کرنے میں مدد دیتے ہیں جبکہ دارچینی کھانے سے جسم یں انسولین کے اخراج میں بھی مدد ملتی ہے جبکہ انسولین کی حساسیت بڑھتی ہے جس سے گلوکوز کو پراسیس کرنے میں مدد ملتی ہے۔

درج ذیل میں چند طریقے دیئے گئے ہیں جن کی مدد سے دارچینی کو غذا میں استعمال کرکے بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

پانی میں ملائیں

صبح نہار منہ سادہ پانی میں چٹکی بھر دارچینی کو شامل کرکے ابالیں اور پھر اس گرم پانی کو پی لیں، اس سے نہ صرف ذیابیطس کے مریضوں کو فائدہ ہوگا بلکہ یہ اضافی چربی گھلانے میں بھی مدد دے گا۔

چینی کا اچھا متبادل

دارچینی کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے تو اسے قدرتی سویٹنر کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ یہ چینی کا صحت بخش متبادل بھی بن سکتا ہے، یعنی میٹھی اشیا جیسے حلوہ یا کھیر وغیرہ میں کچھ مقدار میں دارچینی پاﺅڈر کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

چائے میں شامل کریں

چائے میں دارچینی کو ملانے سے اس گرم مشروب کا ذائقہ اچھا ہوجاتا ہے جبکہ صحت کو الگ فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

دلیے میں شامل کریں

اگر ناشتے میں دلیہ کھانے کے عادی ہیں تو کچھ مقدار میں دارچینی پاﺅڈر کو شامل کرلیں، جو ذائقہ بھی بہتر بنائے گا۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

پولیو کے خاتمے کی راہ میں خیبر پختونخوا بڑی رکاوٹ

اسلام آباد: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے انسداد پولیو کے تکنیکی ایڈوائزری گروپ (ٹی اے جی) کا کہنا ہے کہ پاکستان سے پولیو کے مکمل خاتمے کی کوششوں کی راہ میں خیبر پختونخوا بڑی رکاوٹ ہے۔

گروپ نے صوبے میں متوازی پولیو ڈھانچے سے پیدا ہونے والی صورتحال کو ‘بحران’ قرار دیا۔

ٹی اے جی کی سفارشات میں پاکستان میں پولیو کے بڑھتے کیسز کے پیچھے خیبر پختونخوا کو مرکزی وجہ قرار دیا گیا۔

اعلیٰ جائزہ گروپ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ‘خیبر پختونخوا کا ایمرجنسی آپریشنز سینٹر وفاقی سینٹر سے منسلک نہیں ہے جس کی وجہ سے صوبائی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کا کردار اور ذمہ داریاں غیر واضح ہیں۔’

ٹی اے جی نے خیبر پختونخوا میں پولیو پروگرام کو مکمل طور پر دوبارہ ترتیب دینے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ ‘صوبائی پولیو پروگرام ایک ہی وقت میں دو لیکن مختلف اسٹریٹیجک نقطہ نظر کے استعمال کی وجہ سے اپنے کردار اور ذمہ داریوں کی نشاندہی میں ناکام رہا ہے۔’

ملک میں رواں سال اب تک رپورٹ ہونے والے پولیو کے 58 کیسز میں سے خیبر پختونخوا میں 44 کیس سامنے آئے۔

ایڈوائزری گروپ نے تسلیم کیا کہ سابق قبائلی علاقوں (فاٹا) کا خیبر پختونخوا میں انضمام اور انگلی میں جعلی مارکِنگ پولیو کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ ہیں، تاہم اس کا کہنا تھا کہ صوبے کے پولیو پروگرام میں استعمال ہونے والی مواصلاتی اسٹریٹجی ‘اس مقصد کے لیے مناسب نہیں ہے۔’

واضح رہے کہ پولیو کے خاتمے کے لیے تکنیکی ایڈوائزری گروپ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ماہرین پر مشتمل ہے، جو پولیو کے خاتمے کے عالمی پروگرام کی جانب سے کام کرتے ہیں اور اس وائرس سے متاثرہ ممالک سے اس کے خاتمے کے لیے تجاویز اور سفارشات دیتے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے برعکس ‘ٹی اے جی’ نے بلوچستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کی تعریف کی۔

پنجاب سے متعلق ٹی اے جی نے کہا کہ اگرچہ چند ماہ قبل تک صوبے سے اچھی پیشرفت سامنے آئی تھی، رواں سال کے آغاز سے ان کوششوں میں گراوٹ دیکھی گئی جو تشویشناک بات ہے۔

‘سندھ میں خیبر پختونخوا سے پولیو وائرس آرہا ہے’

ٹی اے جی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ سندھ میں بڑے پیمانے پر خیبر پختونخوا سے پولیو وائرس آرہا ہے اور کے پی کے کی حکومت کو اس حوالے سے اپنے معاملات درست کرنے کی ضرورت ہے۔

گروپ نے سندھ حکومت کو پولیو مہم بہتر بناکر خیبر پختونخوا سے آنے والے وائرس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی تجویز دی۔

وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے پولیو بابر بن عطا نے رابطہ کرنے پر کہا کہ ‘ٹی اے جی’ کی سفارشات سے وفاقی حکومت کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

Google Analytics Alternative