صحت

اگر کھاتے ہوئے نوالہ پھنسنے سے دم گھٹنے لگے تو کیا کریں؟

بہت کم افراد اس بات کو سمجھتے ہیں کہ اگر کچھ کھاتے ہوئے کسی کے گلے میں کچھ پھنس جائے تو کیا کرنا چاہئے۔

مگر اس وقت کیا کریں گے جب اچانک ایسی کسی وجہ سے دم گھٹنا شروع ہوجائے اور آس پاس مدد کے لیے کوئی نہ ہو؟

اس حوالے سے طبی ماہرین نے کچھ ٹپس شیئر کی ہیں جو زندگی بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

کھانسنے کی کوشش کریں

اگر آپ کھانس سکتے ہیں یا کسی قسم کی آواز نکال سکتے ہیں تو یہ اچھی خبر ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ سانس کی نالی مکمل بلاک نہیں ہوئی، تو آپ پوری قوت سے کھانسنے کی کوشش کریں، جیسے بلغم تھوکتے ہوئے کرتے ہیں۔ خیال رہے کہ اس دوران پانی پینے سے گریز کریں کیونکہ اس سے معاملہ بدتر بھی ہوسکتا ہے۔

پیٹ دبائیں

اگر آس پاس کوئی نہ ہو تو اپنے ایک ہاتھ کی مٹھی بنائیں اور اسے ناف پر اس طرح رکھیں کہ کہنیاں پسلیوں سے ٹکرائے، اس کے بعد دوسرا ہاتھ اس کے اوپر رکھیں اور جتنی قوت سے ہوسکتا ہے دبائیں، اس سے جو دباﺅ پیدا ہوگا وہ پھیھپڑوں میں موجود ہوا کو کمپریس کرے گا اور اسے باہر نکالے گا، جس سے پھنسی ہوئی غذا اپنی جگہ سے ہٹ جائے گی۔

کرسی سے مدد لیں

فوٹو بشکریہ مایو کلینک
فوٹو بشکریہ مایو کلینک

اگر اوپر والا طریقہ کارآمد ثابت نہ ہو، تو اپنے ہاتھ اسی پوزیشن میں رکھیں اور کرسی کے پیچھے کھڑے ہوکر ہاتھوں اور پیٹ کو اس کے اوپری حصے پر ٹکا کر زیادہ طاقت سے ہاتھوں کو دھکا دیں، جس سے اتنا دباﺅ ہوگا جو ہوا کو باہر کی جانب نکالے گا، جس سے پھنسی ہوئی غذا بھی نکل آئے گی۔

فرش پر گرجائیں

گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھے جائے اور اپنے ہاتھوں کو زمین پر ٹکا دیں۔ اس کے بعد تیزی سے اپنے ہاتھوں کو اوپر اٹھالے اور پیٹ کے بل زور سے فرش پر گرجائیں، سینے کے لگنے سے تیز جھٹکا ہوا کی بڑی مقدار پھیپھڑوں میں پہنچانے میں کامیاب ہوسکے جبکہ اس کے ساتھ دم گھونٹنے کا سبب بننے والی چیز کو بھی نکال دے گا۔

طبی امداد لیں

اگر کوئی کوشش کام نہ کرے تو پھر دیر مت کریں اور فوری ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی کوشش کریں تاکہ معاملہ زیادہ سنگین نہ ہوسکے۔

انسانی جسم کے 8 عجیب افعال جو بہت ضروری ہیں

انسانی جسم کا نظام کافی پیچیدہ ہے جسے سمجھنا ہمارے لیے کافی مشکل ہوتا ہے۔

درحقیقت اکثر افراد جسم کے دفاعی میکنزم کو مکمل طور پر سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں، جیسے انہیں معلوم نہیں کہ انگڑائی یا جمائی لینے کا مقصد کیا ہے۔

یہ دفاعی نظام انسان کی پیدائش کے بعد سے تحفظ فراہم کرتا ہے مگر وہ کس طرح جسم کا تحفظ کرتے ہیں؟

چھینک

آپ کو چھینک اس وقت آتی ہے جب ناک کی گزرگاہ کسی چیز سے الرجی کا شکار ہو یا کچرہ بھر گیا ہو، درحقیقت یہ اس کچرے کو باہر نکالنے کے لیے انسانی جسم کا ذریعہ ہے۔

انگڑائی لینا

صبح اٹھتے ہی اکثر افراد انگڑائی لیتے ہیں، ایسا کرنے سے دوران طویل وقت تک لیٹنے رہنے کے بعد اٹھنے سے خون بحال ہوتا ہے اور مسلز کام کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔

جمائی لینا

اس کے بارے میں متعدد خیالات موجود ہیں کہ لوگ جمائیاں کیوں لیتے ہیں، مگر اس کا بنیادی مقصد دماغ کو بہت زیادہ گرم ہونے سے بچاتا ہے۔

رونگٹے کھڑے ہونا

جب موسم ٹھنڈا ہوتا ہے تو جسم رونگٹے کھڑے کرکے جسم سے حرارت کے اخراج کی شرح کو کم کرتا ہے، اس طرح سرد موسم میں گرم رہنا آسان ہوجاتا ہے۔

یاداشت کھونا

کئی بار اس وقت لوگ یاداشت سے عارضی طور پر محروم ہوجاتے ہیں جب وہ کسی ناخوشگوار واقعے سے گزرتے ہیں، یہ دماغ کی جانب سے آپ کو ٹراما سے بچانے کے لیے ضروری ہے۔

آنسو

آنسوﺅں کے 2 مقاصد ہوتے ہیں، یہ آنکھوں کو بیرونی اشیاءسے تحفظ فراہم کرتے ہیں جبکہ یہ جذباتی دفاعی ڈھال بھی ثابت ہوتے ہیں۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ انسان اس وقت روتے ہیں جب وہ اپ سیٹ ہوتے ہیں تاکہ خود کو جذباتی تکلیف سے بچاسکیں۔

ہاتھوں میں جھریاں

نم ماحول میں انسانی ہاتھوں پر جھریاں نمودار ہوجاتی ہیں، جس کی وجہ یہ جسم پھسلنے والے ماحول سے مطابقت پیدا کرسکے، یہ جھریاں ہاتھوں کی گرفت بہتر کرتی ہے اور گرنے یا چوٹ لگنے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : [گیلےہاتھوں پر جھریاں کیوں پڑتی ہیں؟

ہچکیاں

ہچکیاں اس وقت آتی ہیں جب لوگ بہت تیزی سے کچھ کھالیں، اس عمل سے جسم آپ کو تیزی سے کھانے سے روکتا ہے تاکہ غذا ہضم کرنا آسان ہوجائے۔

پہلی بار چوہوں سے انسان میں ہیپاٹائٹس وائرس منتقلی کا انکشاف

دنیا میں پہلی بار چوہے سے انسان میں ہیپاٹائٹس ای کے منتقل ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

ہانگ کانگ کے رہائشی ایک شخص کے بارے میں یہ انکشاف اس وقت سامنے آیا جب اس نے بیماری کے بعد ڈاکٹروں سے رجوع کیا۔

فکرمند طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ وہ شخص ہیپاٹائٹس ای کا شکار اس لیے ہوا کیونکہ اس نے چوہے کے فضلے سے آلودہ غذا کو استعمال کیا تھا۔

طبی ماہرین کے مطابق یہ انسانی صحت کے لیے انتہائی تشویشناک خبر ہے کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ چوہے انسانوں میں وائرس منتقل کرسکتے ہیں۔

ہانگ کانگ یونیورسٹی کے ماہرین نے 56 سالہ شخص (اس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا) کے گھر میں ایسے آثار دریافت کیے جن سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہاں چوہے کافی زیادہ ہیں۔

اس سے پہلے یہ شخص جگر کے غیرمعمولی افعال کے باعث جگر کی پیوندکاری کے عمل سے گزرا تھا۔

اس کے بعد کیے گئے ٹیسٹوں سے انکشاف ہوا کہ چوہوں میں پائے جانے والا ہیپاٹائٹس ای وائرس اس شخص کے اندر تھا، یہ وائرس انسانوں میں جان لیوا جگر کے فیلیئر کا باعث بن سکتا ہے۔

اس سے قبل کبھی ایسے شواہد سامنے نہیں آئے تھے کہ چوہوں کے اندر موجود وائرس انسانوں میں منتقل ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کی جانب سے جاری بیان کے مطابق تحقیق سے دنیا میں پہلی بار چوہوں کا ہیپاٹائٹس ای مرض انسان میں منتقل ہونا ثابت ہوا ہے۔

ان کا خیال ہے کہ اس شخص نے کوئی ایسی چیز کھائی تھی جس میں چوہوں کے فضلے کی آلودگی شامل تھی، جس سے وائرس جسم میں داخل ہوگیا۔

وہ مریض علاج کے بعد اب صحت یابی کے عمل سے گزر رہا ہے۔

امراض قلب سے بچانے میں مددگار غذائیں

امراض قلب دنیا بھر میں اموات کی چند بڑی وجوہات میں سے ایک ہیں جس کے دوران دل کے پٹھوں، والو یا دھڑکن میں مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ امراض قلب کی روک تھام کے لیے ہر سال 29 ستمبر کو دل کے امراض کی روک تھام کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔

خون کی شریانوں میں مسائل جیسے ان کا اکڑنا، ناقص غذا، جسمانی سرگرمیوں سے دوری اور تمباکو نوشی کو امراض قلب کی عام وجوہات سمجھا جاتا ہے جبکہ ہائی بلڈ پریشر، انفیکشن وغیرہ بھی یہ خطرہ بڑھاتے ہیں۔

تاہم اچھی خبر یہ ہے کہ صحت مند طرز زندگی اور غذا کے استعمال سے آپ امراض قلب کو خود سے دور رکھ سکتے ہیں۔

تو اپنی غذا میں درج ذیل غذائیں شامل کرنا درمیانی عمر یا بڑھاپے میں امراض قلب سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔

مچھلی

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ایسٹرن فن لینڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ چربی والی مچھلی کو ہفتہ بھر میں 4 دفعہ کھانا جسم میں صحت کے لیے فائدہ مند کولیسٹرول کی شرح بڑھانے اور امراض قلب کا خطرہ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس سے قبل بھی یہ بات سامنے آچکی ہے کہ مچھلی میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈز دل کی دھڑکن کی رفتار میں غیرمعمولی تبدیلی، شریانوں میں زہریلا مواد جمع ہونے وغیرہ خطرہ کم کرتا ہے۔

دلیہ

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

دلیہ کا استعمال معمول بنانا نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں پانچ سے دس فیصد تک کمی لانے میں مدد دیتا ہے جس سے امراض قلب کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق دلیہ میں فائبر کی ایک قسم بیٹا گلوکینز موجود ہوتی ہے جو دفاعی نظام کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے ساتھ امراض و انفیکشن کے خلاف جسمانی ردعمل کے لیے فائدہ مند ہے۔ بازار میں ملنے والے cereals کا استعمال اس حوالے سے فائدہ مند نہیں ہوتا، کیونکہ ان میں چینی کو شامل کیا جاتا ہے ، تاہم خام جو کے دلیے کو دودھ میں بھگو کر اس میں سیب، کشمش وغیرہ کے ذریعے مٹھاس پیدا کرکے اسے صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند بنایا جاسکتا ہے۔

بیریز

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

بلیو بیری اور اسٹرابیری کا استعمال بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے جو کہ ہارٹ اٹیک کا باعث بننے والا بڑا خطرہ ہے، اسی طرح یہ مزیدار پھل خون کی شریانوں کو بھی کشادہ کرنے میں مدد دیتے ہیں، جس سے امراض قلب سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

ڈارک چاکلیٹ

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

کئی طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ ڈارک چاکلیٹ دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے، اس کی وجہ اس میں موجود کیمیکل فلیونوئڈز ہے جو کہ شریانوں کو لچکدار رہنے میں مدد دیتا ہے۔ اس میٹھی سوغات کے نتیجے میں خون جمنے کا امکان بھی کم ہوتا ہے جبکہ نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح بھی نہیں بڑھتی۔

ترش پھل

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

جو خواتین زیادہ مقدار میں مالٹے اور گریپ فروٹ کھانے کی عادی ہوتی ہیں، ان میں خون جمنے سے ہونے والے فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے، اس سے ہٹ کر بھی ترش پھل وٹامن سی سے بھرپور ہوتے ہیں جو کہ امراض قلب کا خطرہ کم کرنے والا جز ہے۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ایک مالٹا روزانہ کھانا فالج اور امراض قلب کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، خصوصاً اگر آپ تمباکو نوشی کے عادی ہیں۔

آلو

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

آلو پوٹاشیم سے بھرپور ہوتے ہیں جو کہ بلڈپریشر کو کم کرنے میں مدد دینے والا جز ہے، اس کے علاوہ آلو میں فائبر کی مقدار بھی کافی زیادہ ہوتی ہے، جس سے بھی امراض قلب کا خطرہ کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ بس آلوﺅں کو بہت زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہئے۔

ٹماٹر

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

آلوﺅں کی طرح ٹماٹر میں بھی دل کے لیے فائدہ مند پوٹاشیم کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جبکہ یہ اینٹی آکسائیڈنٹ لائیکوپین کے حصول کا بھی اچھا ذریعہ ہے۔ یہ اینٹی آکسائیڈنٹ نقصان دہ کولیسٹرول سے نجات میں مدد دے سکتا ہے، جس سے خون کی شریانیں کشادہ رہتی ہیں اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

بادام

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

روزانہ کچھ مقدار میں بادام کھانا خون کی شریانوں سے جڑے امراض کے ایک بڑے خطرے dyslipidemia (خون میں لائی پائید چربی کی خرابی) کو کم کرتا ہے۔ dyslipidemia ایسا عارضہ ہے جس میں نقصان دہ ایل ڈی ایل کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈ کی سطح بڑھ جاتی ہے جبکہ فائدہ مند کولیسٹرول کی سطح کم ہوجاتی ہے، جس کے نتیجے میں امراض قلب کا خطرہ بڑھتا ہے۔

دالیں

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

دالیں دل کے لیے بہت فائدہ مند ہیں جبکہ ان میں اینٹی آکسائیڈنٹس، پروٹین اور فائبر کی مقدار بھی کافی زیادہ ہوتی ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ ہفتے میں 4 بار دالوں کو اپنی غذا کا حصہ بناتے ہیں، ان میں امراض قلب کا خطرہ 22 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

زیتون کا تیل

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

کولیسٹرول کی دو اقسام ہوتی ہیں، ایک ایل ڈی ایل (نقصان دہ) اور دوسری ایچ ڈی ایل (فائدہ مند)، امراض قلب سے بچنے کے لیے ایل ڈی ایل کی سطح کو کم رکھنا ضروری ہوتا ہے جبکہ دوسری کی سطح بڑھانا ہوتی ہے، اس کا ایک ذریعہ زیتون کا تیل، سبزیاں، پھل اور اجناس پر مشتمل غذا کا استعمال ہے۔

سبز چائے

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

سبز چائے کا صرف ایک کپ ہی کولیسٹرول کے نتیجے میں خون کے جمنے کا عمل کی روک تھام کرنے کے لیے کافی ہے، اس کے علاوہ یہ گرم مشروب میٹابولزم کو بہتر کرکے اضافی وزن میں کمی لانے میں بھی مدد دیتا ہے، جس سے بھی امراض قلب اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

سبز پتوں والی سبزیاں

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک، ساگ وغیرہ دل کو زیادہ صحت مند بناتی ہیں، ان میں موجود کیروٹین اینٹی آکسائیڈنٹس کا کام کرکے جسم کو نقصان دہ مرکبات سے بچاتے ہیں۔ اسی طرح یہ سبزیاں فائبر اور مختلف وٹامنز اور منرلز سے بھی بھرپور ہوتی ہیں جو کہ دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔

کافی

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

دن بھر میں تین سے پانچ کپ کافی کا استعمال شریانوں میں خون کے جمنے کا خطرہ کم کردیتا ہے جو کہ دل کے دورے کا باعث بنتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق معتدل مقدار میں کافی کا استعمال شریانوں کے اندر اس نقصان دہ کیلشیئم کا امکان کرتا ہے جو کہ امراض قلب کا باعث بنتا ہے۔ اس کیلشیم کی مقدار بڑھنے سے خون کی شریانیں سخت اور تنگ ہوجاتی ہیں اور لوتھڑے بننے لگتے ہیں جس سے دل کے دورے یا فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

انار

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپوریہ پھل بلڈ پریشر کو کم کرتا ہے جبکہ خون کی گردش کو معمول پر لاتا ہے، جس سے امراض قلب اور ہارٹ اٹیک سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

کیلے

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

الاباما یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ پوٹاشیم سے بھرپور غذائیں خون کی شریانوں کو سکڑنے یا خون گاڑھا ہونے کے جان لیوا عمل سے تحفظ دینے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ اس تحقیق میں بتایاگیا کہ پوٹاشیم ان جینز کو ریگولیٹ کرتا ہے جو کہ شریانوں کی لچک کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ محققین کا کہنا تھا کہ روزانہ صرف ایک کیلا کھانے کی عادت بھی فالج اور ہارٹ اٹیک سے بچاﺅ میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

دہی

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

بوسٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین کی تحقیق میں بتایا گیا کہ دہی کھانا عادت بناکر خون کی شریانوں سے جڑے امراض بشمول امراض قلب اور بلڈ پریشر کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے ایسے اہم شواہد سامنے آئے ہیں جن کے مطابق دہی دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے اور اسے غذا کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہئے۔ دہی کا زیادہ استعمال خواتین میں تیس فیصد جبکہ مردوں میں 19 فیصد تک خون کی شریانوں کے امراض کا خطرہ کم کردیتا ہے۔

پانی میں ان 6 چیزوں کا اضافہ ہاضمہ بہتر کرے

جسم میں پانی کی مناسب مقدار کی موجودگی نظام ہاضمہ کی صحت کے لیے لازمی ہے۔

جب نظام ہاضمہ میں مناسب مقدار میں پانی موجود نہیں ہوگا تو ہماری آنتوں کے افعال سست ہوجائیں گے جس کے نتیجے میں فضلہ سخت ہوگا اور اخراج مشکل ہوگا۔

آسان الفاظ میں دائمی قبض کے شکار ہوجائیں گے۔

ہوسکتا ہے کہ آپ کہیں کہ مناسب مقدار میں پانی پینے کی اہمیت سے واقف ہیں مگر پانی کا ذائقہ آپ کو اس سے دور رکھتا ہے؟

اگر ہاں تو کچن میں موجود چند چیزوں کو پانی میں شامل کرکے آپ پینے کے پانی کو مزید بیزارکن نہیں رہنے دیں گے۔

پانی میں ان اجزاءکا اضافہ فروٹ جوس سے زیادہ بہتر آپشن ہے جو کہ نظام ہاضمہ کے لیے کچھ زیادہ بہتر نہیں کیونکہ اس میں شکر کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔

مثال کے طور پر ایک گلاس اورنج جوس 9 کھانے کے چمچ شکر کے ساتھ ہوتا ہے جو کہ ایک بالغ شخص کی روزانہ درکار مقدار کا زیادہ سے زیادہ حصہ ہے۔

لیموں

پانی میں لیموں کا اضافہ فائدہ مند ہوتا ہے کیونکہ لیموں وٹامن سی سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ ہاضمے میں مدد دینے والے انزائمے بننے میں مدد دیتا ہے، اس مقصد کے لیے لیموں کو پانی میں نچوڑ دیں یا پتلے ٹکڑوں میں کاٹ کر پانی میں ڈال دیں۔

سیب کا سرکہ

2 یا 3 کھانے کے چمچ سیب کے سرکے کو پانی میں شامل کرکے پینا جسم سے زہریلے مواد کے اخراج، ہاضمہ بہتر کرنے اور میٹابولزم کو تیز کرتا ہے۔

پودینے کے پتے

پانی میں پودینے کے چند پتوں کا اضافہ بائل کی روانی کو بہتر کرکے پتے کے افعال کو بہترین بناتا ہے۔ یہ پتے ایسے انزائمے بھی فراہم کرتے ہیں جو کہ جسم کو غذا میں موجود وٹامنز اور غذائی اجزاءجذب کرنے میں مدد دیتے ہیں، پودینہ بدہضمی سے ریلیف کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔

کھیرے

کھیرے فائبر اور پانی سے بھرپور ہوتے ہیں جو کہ نظام ہاضمہ کو مدد فراہم کرنے کے ساتھ آنتوں کے افعال کو صحت مند بناتے ہیں۔ کھیرے کا ایک ٹکڑا پانی میں شامل کرکے آپ یہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔

دار چینی

دار چینی کی ایک اسٹک کو پانی میں شامل کرکے پینا ہاضمہ بہتر کرتا ہے جبکہ بیکٹریا کو مار کر پیٹ کے مختلف امراض سے بھی ریلی فراہم کرتا ہے۔

ادرک

گیس، پیٹ پھولنے یا بدہضمی کے شکار ہیں؟ تو ادرک کو چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر رات بھر کے لیے پانی میں بھگو دیں اور نہار منہ پی لیں۔

زندگی سے مایوسی بن سکتی ہے موت کا باعث

اگر لوگوں کے اندر زندگی کی خواہش ختم ہوجائے تو وہ چند دنوں کے اندر ہی جہان فانی سے کوچ کرسکتے ہیں۔

یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

پورٹس ماﺅتھ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ‘زندگی سے امید ختم ہوجانا’ ایک حقیقی طبی عارضہ ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ زندگی میں کسی المناک واقعے کے محض 3 دن بعد کسی شخص کا انتقال اس صورت میں ہوسکتا ہے، جب وہ ماننے لگے کہ وہ اس کے اثرات سے باہر نہیں نکل سکے گا۔

محققین کے مطابق جب کسی شخص کے اندر زندگی کی خواہش ختم ہوجاتی ہے تو دماغ کے اس حصے میں سرگرمیاں تبدیل ہوتی ہیں، جو کسی کے اندر اپنا خیال رکھنے کا عزم جگاتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ خودکشی نہیں اور نہ ہی یہ ڈپریشن ہے، مگر زندگی سے ہار مان لینے پر چند دنوں میں موت واقع ہوجاتی ہے اور یہ ایک ایسا عارضہ ہے جس کا تعلق شدید ٹراما سے جڑا ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران دریافت کیا گیا کہ اس عارضے کے 5 مراحل ہوتے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی فرد کی زندگی میں آگے کیا ہوسکتا ہے۔

اس عارضے کا آغاز معاشرے سے الگ تھلک ہوجانے سے ہوتا ہے، جس کے بعد خود کو دیکھنے یا خیال رکھنے کی خواہش بھی جلد ختم ہوجاتی ہے۔

تیسرے مرحلے میں مریض کے اندر فیصلہ کرنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے جبکہ چوتھے مرحلے میں دماغی طور پر ایسے بے خبر ہوجاتے ہیں کہ اپنے فضلے پر بھی بیٹھ جاتے ہیں۔

آخری مرحلہ ذہنی موت کو قرار دیا گیا ہے جب کسی شخص کے اندر زندگی کی خواہش مکمل طور پر ختم ہوجاتی ہے۔

محققین نے بتایا کہ کوئی بہت زیادہ المناک واقعہ دماغ میں اس طرح کی تبدیلیاں لاتا ہے اور اس موقع پر رشتے داروں کی ہمدردی اور دیکھ بھال کسی کی حالت میں بہتری لانے میں مدد دے سکتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل میڈیکل Hypotheses میں شائع ہوئے۔

اس پھل کو کھانے کی عادت بنانا صحت کیلئے ضروری

اس موسم میں گلی کوچوں میں ایک سوغات عام ملتی ہے جس کی شکل اکثر افراد کو زیادہ پسند نہیں آتی اور یہی وجہ ہے کہ انہیں زیادہ کھایا بھی نہیں جاتا اور وہ ہے سنگھاڑے۔

یہ پھل یا سوغات سارا سال ہی دستیاب ہوتی ہے مگر سردیوں میں اسے زیادہ کھایا جاتا ہے۔

سنگھاڑے سردیوں میں منہ چلانے کے لیے بہترین چیز ہے۔ چونکہ یہ ہلکے بہتے پانیوں پر اگتا ہے اس لیے پھل میں اس وقت کچھ نقصان دہ مواد ہوسکتا ہے جب اسے تازہ تازہ فروخت کیا جائے مگر مناسب طریقے سے دھونے کے بعد اس کا توازن بحال ہوجاتا ہے۔

اس پھل کو خام یا ابال کر کھایا جاتا ہے۔ اس کے خشک پھل کو چکی میں ڈال کر آٹا بھی بنایا جاتا ہے جسے سنگھاڑے کا آٹا کہا جاتا ہے۔

ٹھنڈی تاثیر

سنگھاڑے تاثیر میں ٹھںڈے ہوتے ہیں تو معدے کی گرمی دور کرنے کے لیے فائدہ مند ثابتے ہوتے ہیں، جبکہ انہیں کھانے سے پیاس زیادہ محسوس ہوتی ہے، جس سے جسم میں پانی کی کمی کودور کرنے میں مدد ملتی ہے۔

کم کیلوریز

یہ صحت مند طرز زندگی کے لیے بہترین غذا ہے جس میں غذائی اجزاءکی مقدار زیادہ جبکہ کیلوریز لگ بھگ نہ ہونے کے برابر ہے، آدھا کپ سنگھاڑوں میں محض 0.1 فیٹ ہوتا ہے۔

یرقان کے خلاف مفید

جسم سے زہریلے مواد کے اخراج کے باعث یہ یرقان کے مریضوں کے لیے بہترین سوغات ہے، مریض اسے خام شکل میں کھائیں یا جوس کی صورت میں استعمال کریں، یہ جسم سے زہریلے مواد کے اخراج کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے۔

بلڈ پریشر کم کرے

سنگھاڑے پوٹاشیم سے بھرپور ہوتے ہیں، جس سے بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے اور ایسا ہونے سے امراض قلب کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے، 5 سنگھاڑوں میں روزانہ درکار پوٹاشیم کی مقدار کا 5 فیصد حصہ موجود ہوتا ہے۔

دل متلانے کی کیفیت دور کرے

سنگھاڑے کا جوس پینا دل متلانے کی کیفیت کو دور کرتا ہے یا یوں کہہ لیں متلی کی شکایت ختم ہوتی ہے۔

اچھی نیند میں مددگار

اس میں موجود وٹامن بی سکس اچھی نیند کے حصول میں مدد دیتا ہے اور بے خوابی کی شکایت دور کرتا ہے، اس کے علاوہ یہ وٹامن مزاج پر بھی خوشگوار اثرات مرتب کرتا ہے۔

بالوں کی نشوونما

چونکہ اس میں پوٹاشیم، وٹامن بی اور ای جیسے اجزاءموجود ہیں جو کہ صحت مند بالوں کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ سنگھاڑے کھانا بالوں کی نشوونما بہتر کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

جراثیم کش

سنگھاڑے پولی فینولک اور فلیونوئڈ اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں، جو بیکٹریا اور وائرس کش ہونے کے ساتھ ساتھ کینسر کی روک تھام کا کام بھی کرتے ہیں۔

حاملہ خواتین کے لیے بھی مفید

سنگھاڑے کے آٹے سے بنائے جانے والا دلیہ زیادہ کریم والا ہوتا ہے اور بچے کی پیدائش کے بعد ماں کو جریان خون کو کنٹرول کرنے کے لیے اسے دیا جاتا ہے۔ اس کے خشک بیج خون کے بہاؤ کو روک دیتے ہیں اور خواتین میں اسقاط حمل کے مسائل پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ سنگھاڑے کا دلیہ انتڑیوں کے لیے مفید ہے اور اندرونی حرارت کو دور کرتا ہے۔

جسمانی وزن میں کمی

سنگھاڑے میں چونکہ کیلوریز نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے تو یہ جسمانی وزن میں کمی کے لیے بھی فائدہ مند ہے، اس میں موجود اجزاءکھانے کی اشتہا کی روک تھام کرتے ہیں اور بے وقت منہ چلانے کی عادت کو کنٹرول کرنے کا موقع ملتا ہے۔

کھانسی کو کنٹرول کریں

سنگھاڑے کا سفوف کھانسی سے ریلیف کے لیے موثر ثابت ہوتا ہے، سنگھاڑے کو پیس کر سفوف بنالیں اور پانی کے ساتھ دن میں دوبار استعمال کریں، یہ کھانسی سے فوری ریلیف دینے والا ٹوٹکا ثابت ہوگا۔

خون صاف کرے

سنگھاڑے کا استعمال جسمانی ورم دور کرنے کے ساتھ خون کو بھی صاف کرتا ہے، جس سے جلد بھی جگمگانے لگتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ جسمانی توانائی بڑھانے کے لیے بہترین سوغات ہے۔

سنگھاڑے کے حوالے سے چند احتیاطیں

ان تمام تر فوائد کے برعکس کچھ احتیاطبی تدابیر کو اپنانے کی ضرورت ہوتی ہے، جس کا انحصار کسی فرد کے نظام ہاضمہ پر ہوتا ہے۔ ایک صحت مند شخص دس سے پندرہ گرام سنگھاڑے روزانہ کھا سکتا ہے مگر اس سے زیادہ گیس پیدا ہونے یا معدے میں درد کا باعث بن سکتا ہے، وہ لوگ جو قبض کے شکار ہو انہیں اس سے دور رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

اسے کھانے کے آدھے گھنٹے بعد تک پانی پینے سے گریز کرنا چاہئے۔ ذیابیطس کے مریض اس کی معتدل مقدار استعمال کریں کیونکہ تازہ پھل میں نشاستہ اور کاربوہائیڈیٹ کافی زیادہ ہوتا ہے۔

سنگھاڑوں کو خریدتے ہوئے خیال رکھیں کہ وہ مضبوط، جھریاں نہ ہو اور کہیں سے نرم نہ پڑ چکا ہے ورنہ جب آپ چھلکے اتاریں گے تو آپ کو نرم اور نرم گودا ملے گا۔ ایسے سنگھاڑوں کو نہ کھائیں جو دیکھنے میں ناکارہ لگ رہا ہو یا اس کا ذائقہ خراب ہو۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

بالوں کو جگمگانے میں مدد دینے والے گھریلو ٹوٹکے

کیا آپ کو اکثر صبح منہ دھونے یا نہانے کے بعد پانی کی نالی میں رکاوٹ کا سامنا ہوتا ہے جس کی وجہ آپ کے گرنے والے بال ہوتے ہیں؟ جی ہاں یہ بالکل ٹھیک ہے کہ بالوں سے محروم ہونا سچ مچ دل کو توڑ دیتا ہے اور خود کو گنجا ہوتے دیکھنا کسی بھیانک خواب سے کم نہیں ہوتا۔

بالوں کا گرنا موجودہ دور کے لوگوں کا ایک عام مسئلہ ہے، آج کے عہد میں بالوں کے گرنے کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں، جیسا کہ ہمارا مصروف ترین شیڈول ہمیں بالوں کی صحت کو برقرار رکھنے میں مدد نہیں دیتا، اسی طرح ہمارا مضرصحت طرز زندگی اور خراب غذائی عادات بھی اس مسئلے کی شدت کو بڑھا دیتی ہیں۔

تاہم خشک اور خراب ہوجانے والے بالوں کو ٹھیک کرنے کے لیے ایسے سستے گھریلو نسخے موجود ہیں جو بالوں کی چمک دمک واپس لوٹا دیتے ہیں۔

ایک چمچ چینی

کیا آپ کو معلوم ہے کہ کچن میں موجود ایک عام چیز جسے کھانا ہوسکتا ہے آپ کو بہت پسند ہو عام معمول کے مقابلے میں بالوں کو زیادہ چمکدار، لہراتے، بل کھاتے اور صاف کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟یہ چیز بہت عام اور اسے استعمال کرنے کا طریقہ بہت آسان ہے جس پر یقین کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ تو آخر یہ ہے کیا؟ یہ ہے چینی۔ ماہر امراض جلد ڈاکٹر فرانسیسا فیوسکو کے مطابق ایک چمچ چینی کو اپنے پسندیدہ شیمپو میں شامل کرکے بالوں کو دھونا انہیں معمول کے مقابلے میں زیادہ صاف اور چمکدار بنا سکتا ہے۔اور کون ہوگا جو صاف اور جگمگاتے بالوں کو پسند نہیں کرے گا؟ تاہم یہ طریقہ کار ہر بار استعمال نہیں کرنا چاہئے بلکہ مہینے میں ایک سے دو بار سے زیادہ نہ آزمائیں۔

مکھن سے مالش

اگر بال خشک اور بھربھرے ہوچکے ہیں تو معمولی مقدار میں مکھن کی مالش انہیں چمکدار اور صحت مند بناسکتی ہے، خشک بالوں پر مکھن سے مالش کریں اور پھر بالوں کو ٹوپی سے آدھے گھنٹے تک ڈھک کر رکھیں، اس کے بعد شیمپو سے بال دھو لیں۔

زیتون کا تیل

اپنے خشک بالوں میں نمی واپس لانا چاہتے ہیں تو آدھا کپ زیتون کا تیل گرم کریں گے (مگر ابلنے مت دیں) اور پھر اس سے سر پر مالش کریں۔ مالش کے بعد بالوں کو پلاسٹک میں لپیٹ کر اوپر تولیہ باندھ لیں۔ 45 منٹ شیمپو سے بال اچھی طرح دھو لیں۔

انڈہ

ایک انڈے کو کچھ مقدار شیمپو میں ملائیں اور پھر اپنے بالوں پر پانچ منٹ کے لیے لگا رہنے دیں، جس کے بعد دھولیں۔ یہ ٹوٹکا بالوں کے لیے پروٹین کو بڑھا کر ان کی زندگی واپس لوٹائے گا۔

بادام کا تیل

بادام کا تیل بھی بے جان بالوں کے لیے بہترین ثابت ہوسکتا ہے، اپنے بالوں پر اس کی معمولی مقدار کو لگائیں اور پھر اسے ڈھانپ لیں۔ اس کے آدھے گھنٹے کے بعد سر کو شیمپو سے دھولیں۔

اسپرین

بالوں کو بھی اسپرین سے فائدہ ہوتا ہے، صحت مند اور چمکدار بالوں کے لیے اسپرین کی دس گولیاں ایک کپ گرم پانی میں ملائیں اور سر پر لگائیں، خیال رہے کہ اس سے پہلے بال دھونا ضروری ہے۔ اس مکسچر کو پندرہ منٹ کے لیے لگا رہنے دیں اور پھر پانی سے دھولیں۔

کیلے

اگر تو بال خشک اور روکھے ہوگئے ہیں اور مڑ رہے ہیں تو کیلوں کا ہیئر ماسک مددگار ثابت ہوسکتا ہے، ایک سے تین کیلوں کو لیں اور ان کا مساج پورے سر پر کریں، اس کے بعد پندرہ منٹ کے لیے چھوڑ دیں اور پھر شیمپو سے دھولیں۔

شہد

دو چمچ شہد کو دو کپ گرم پانی میں ملائیں اور بالوں کو شیمپو سے دھونے کے بعد اس پانی سے ایک بار پھر دھولیں، اس سے سورج کی روشنی اور دیگر پراڈکٹس کے استعمال سے بالوں میں پیدا ہونے والے روکھے پن اور چنج ماند پڑجانے کے اثرات ختم کرکے انہیں جگمگا دیتا ہے۔

چائے

خشک بالوں کو قدرتی چمک دینے کے لیے چوتھائی کپ نیم گرم (جتنی برداشت کرسکیں)مگر مٹھاس سے پاک چائے سے شیمپو کرنے کے بعد دھوئیں۔ چائے بالوں کی رنگت کو بہتر کرتی ہے اور اگر آپ بالوں کو رنگتے ہین تو اس کے لیے بہترین ہے، خاص طور پر سیاہ یا گہرے براﺅن رنگ کے بال رکھنے والے افراد سیاہ چائے کا استعمال کریں۔

سیب کا سرکہ

اپنے تباہ شدہ بالوں میں زندگی واپس لانے کے لیے اس بہترین گھریلو نسخے کا استعمال کریں، ایک چائے کا چمچ سیب کا سرکہ، دو چائے کے چمچ زیتون کے تیل اور تین انڈوں کی سفیدی میں مکس کرکے اپنے بالوں پر اس کی مالش کریں۔ اس کے بعد اپنے بالوں کو کسی چیز سے آدھے گھنٹے تک ڈھانپ کر رکھیں اور پھر شیمپو سے دھولیں۔

صندل کی لکڑی

صندل کی لکڑی کے تیل کے کچھ قطرے زیتون کے تیل کے کچھ قطروں کے ساتھ اپنی ہتھیلی میں مکس کرلیں اور پھر اپنے بالوں کے سروں پر لگالیں جس سے ان میں ایک نئی جان آجائے گی۔

Google Analytics Alternative