صحت

بہت کم عرصے میں سکس پیک ایبس بنانے کے لیے بہترین ورزش

بولی وڈ اسٹار عامر خان نے کچھ عرصے اس وقت سب کو حیران کردیا تھا جب یہ بات سامنے آئی کہ انہوں نے چند ماہ کے اندر اپنا جسمانی وزن بڑھایا اور پھر دوبارہ 25 کلو وزن کم کرکے سکس پیک ایبس بنائے۔

تو اگر آپ بھی اپنی توند سے نجات پاکر اسے سکس پیک میں بدلنا چاہتے ہیں تو اس کا آسان ترین طریقہ سامنے آگیا ہے۔

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

ہارورڈ میڈیکل اسکول کی تحقیق کے مطابق بس آپ کو ایک آسان سی ورزش کو عادت بنانا ہوگا اور یہ ورزش ہے پلانک۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ پلانک صرف پیٹ ہی نہیں بلکہ کمر، سامنے اور اطراف کے مسلز کے لیے بھی فائدہ مند ورزش ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ سٹ اپس یا کرنچز چند مسلز گروپس کو ہی مضبوط بناتے ہیں، مگر پلانک اس کے مقابلے میں زیادہ بہتر ورزش ہے۔

اس ورزش کے لیے فرش پر پیٹ کے بل لیٹ جائیں اور اپنے ہاتھوں کو آپس میں جڑ کر جسم کے اگلے حصے کو کہنیوں کی مدد سے اوپر اٹھائیں جبکہ ٹانگوں کو پاﺅں کی انگلیوں سے، بالکل کسی پل کی طرح۔

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اپنے پیٹ کو اندر کھینچ کر رکھیں اور اس پوزیشن میں جتنی دیر رہ سکتے ہیں، رہیں۔

تحقیق کے مطابق یہ ورزش جسم کے مسلز کو مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہے اور توند کی چربی گھلا کر سکس پیک بناتی ہے، تاہم اس کے لیے دورانیہ بتدریج بڑھانا پڑتا ہے۔

اچھی بات یہ ہے کہ اس ورزش کے لیے کسی قسم کے آلات کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وقت نکالنا ہوگا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ جب مسلز مضبوط ہونے لگتے ہیں تو اس پوزیشن میں دیر تک رہنا آسان ہوجاتا ہے جو جسم بنانے کا عمل تیز کردیتا ہے۔

السی کے تیل صحت کے لیے کتنا فائدہ مند؟

السی کے بارے میں تو آپ کو علم ہوگا ہی مگر کیا جانتے ہیں کہ اس کا تیل صحت کے لیے کتنا فائدہ مند ہے؟

جی ہاں السی کا تیل دل، جلد، دماغ غرض مجموعی صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

ویسے تو اس کے فوائد کے حصول کے متعدد طریقے موجود ہیں مگر آسان اور تیزترین اس تیل کے کیپسول کا استعمال کرنا ہے۔

درج ذیل میں آپ اس تیل کے چند فوائد جان سکیں گے۔

کولیسٹرول لیول

السی کے تیل کے کیپسول اومیگا تھری فیٹی ایسڈ اور اومیگا سکس سے بھرپور ہوتے ہیں جو کہ جسم میں کولیسٹرول لیول کو ریگولیٹ کرنے میں مدد دیتے ہیں اور یہ دونوں جسم میں نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح بھی کم کرتے ہیں۔

دل کے لیے فائدہ مند

اس تیل کے کیپسول دل کو صحت مند رکھنے میں بھی مدد دیتے ہیں، فیٹی ایسڈز سے بھرپور ہونے کی وجہ سے یہ کیپسول شریانوں کے افعال صحت مند بناتے ہیں اور دل سے جڑے مسائل جیسے ہارٹ اٹیک اور فالج وغیرہ کی روک تھام کرتے ہیں۔ اسی طرح یہ کیپسول جسمانی ورم اور بلڈ کلاٹ کو کم کرنے کے لیے بھی مددگار ہیں۔

کینسر کا خطرہ کم کریں

یہ تیل اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہے جو کہ صحت مند خلیات کو کینسر زدہ ہونے سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔ ورم کش خصوصیات ہونے کی وجہ سے بھی اس تیل کے کیپسول مختلف اقسام کے کینسر میں مبتلا ہونے کا خطرہ کم کرتے ہیں۔

نظام ہاضمہ بہتر کرے

فائبر سے بھرپور ہونے کی وجہ سے السی کا تیل نظام ہاضمہ کو نیوٹریشن کے جذب ہونے کے عمل کو بہتر کرکے ریگولیٹ کرنے میں مدد دیتا ہے، اس کی جلاب کش خصوصیاب ہاضمے کے عمل کو ہموار کرتے ہیں جبکہ اس کے کیپسول کا استعمال پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھنے کا احساس دلاتا ہے۔

دماغی صحت میں بہتری

اومیگا تھری فیٹی ایسڈ سے بھرپور ہونے کی وجہ سے السی کا تیل مجموعی دماغی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ اس میں موجود الفا لینولینک ایسڈ کو دماغ کی اچھی صحت کے لیے مفید مانا جاتا ہے۔

جلد اور بالوں کے لیے بھی فائدہ مند

اومیگا تھری فیٹی ایسڈز بالوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ گرتے بالوں کے مسئلے پر قابو پانے میں بھی مدد دیتے ہیں، یہ ایسڈز جلد کی نمی برقرار رکھ کر اس ہمواری اور مجموعی صحت کو بہتر بناتے ہیں جبکہ آلودگی کے اثرات سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

تیز انٹرنیٹ کا یہ نقصان دنگ کردے گا

انٹرنیٹ کی رفتار تیز ہونا ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے مگر اس کا ایک بہت بڑا نقصان سامنے آیا ہے جو دنگ کردینے والا ہے۔

درحقیقت جن لوگوں کے گھروں میں تیز انٹرنیٹ ہوتا ہے، وہ نیند کی کمی کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔

یہ دعویٰ اٹلی میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

Bocconi یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ تیز براڈ بینڈ اور فائبر آپٹک کیبلز اب عام ہوتے جارہے ہیں اور اس ٹیکنالوجی کے ساتھ لوگوں کی نیند بھی اڑتی جارہی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ جن لوگوں کے گھر میں براڈبینڈ انٹرنیٹ ہوتا ہے وہ اوسطاً ان افراد کے مقابلے میں ہر رات 25 منٹ کم سوتے ہیں جن تک براڈ بینڈ کی رسائی نہیں ہوتی۔

تحقیق کے مطابق براڈبینڈ انٹرنیٹ تک رسائی لوگوں کی نیند میں کمی کا باعث بن کر ان کے اندر تھکاوٹ بڑھاتا ہے۔

محققین کے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ جب انٹرنیٹ بہتر ہو تو لوگ آن لائن وقت زیادہ گزارنے لگتے ہیں اور رات گئے تک سوشل میڈیا، ویڈیو گیمز یا ویڈیوز وغیرہ میں مصروف رہتے ہیں۔

درحقیقت ڈیوائسز کو استعمال کرنے کا اشتیاق لوگوں کو بستر سے دور رکھتا ہے، چاہے انہیں صبح جلد اسکول یا دفتر ہی کیوں نہ جانا ہو۔

محققین نے کہا کہ صبح کا سخت شیڈول اور رات کو برقی ڈیوائسز کے استعمال کرنے کی عادت کے نتیجے میں وہ 7 گھنٹے کی نیند سے محروم ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے اور انہیں دن بھر کی مصروفیات کے بعد آرام نہیں ملتا۔

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ 13 سے 30 سال کی عمر کے افراد انٹرنیٹ زیادہ استعمال کرتے ہیں، اس کے مقابلے میں 31 سے 59 سال کی عمر کے افراد میں بھی یہ رجحان بڑھ رہا ہے تاہم وہ عام طور پر انٹرنیٹ براﺅزنگ کرتے ہوئے گزارتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف اکنامک بی ہیوئیر اینڈ آرگنائزیشن میں شائع ہوئے۔

وزن کم کرنے سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خاتمہ ممکن

لندن: ایک نئے سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ وزن کم کرنے سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کو روکا جاسکتا ہے، ماہرین اس انکشاف کے بعد پورے معاملے کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ٹائپ ون ذیابیطس میں لبلبہ انسولین نہیں بنا پاتا اور اس کے لیے انسولین کے ٹیکے لگانے پڑتے ہیں۔ دوسری جانب ذیابیطس کا معاملہ زندگی بھر کا ہوجاتا ہے لیکن سائنسی طبی جریدے لینسٹ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق وزن کم کرنے سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خاتمہ ممکن ہے تاہم یہ خاتمہ وقتی اور ہمیشہ کے لیے بھی ہوسکتا ہے۔

ٹائپ ٹو ذیابیطس کے لیے شروع کیے جانے والے سروے ’دی ڈائبیٹس ریمیشن کلینکل ٹرائل (ڈائریکٹ)‘ کے اختتام پر معلوم ہوا ہے کہ جن افراد نے اس کے لیے اپنا وزن کم کیا تھا ان کی شوگر جڑ سے ختم ہوگئی اور سروے کے آخر تک ان میں مرض کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیئے۔

اگرچہ کہا جاتا ہے کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس زندگی بھر ساتھ رہتی ہے لیکن نئے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ طرزِ زندگی اور خوراک ایسے ہتھیار ہیں جو ٹائپ ٹو ذیابیطس کو ختم کرسکتے ہیں۔ یہی بات نیوکاسل یونیورسٹی کے سائنس داں رائے ٹیلر اور ان کے ساتھیوں نے کی ہے جو ڈائریکٹ پروگرام کا بغور مطالعہ کررہے ہیں۔

اس پروگرام میں ایسے لوگوں کو شامل کیا گیا جو سب کے سب ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریض تھے۔ چھ برس تک انہیں ڈاکٹروں نے اپنی نظر میں رکھا اور جنہوں نے اپنا وزن کم کیا تھا ان کی 46 فیصد تعداد میں ایک سال کے اندر اندر خون میں شکر کی مقدار معمول پر آگئی جسے صحت مند بلڈ شوگر لیول کہا جاتا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر شوگر کے مریض اپنا وزن کم کرلیں تو اس سے لبلبے کے خاص بی ٹا خلیات اچھی طرح کام کرنے لگتے ہیں۔ یہ خلیات انسولین بنانے، جمع رکھنے اور خارج کرنے کا کام کرتے ہیں۔ اس تحقیق سے ایک اور بات غلط ثابت ہوتی ہے کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس میں بی ٹا خلیات بالکل تباہ ہوجاتے ہیں جیسا کہ پہلے تصور کیا جاتا رہا ہے بلکہ بی ٹا خلیات بے عمل ہوجاتے ہیں اور وزن کم کرنے پر دوبارہ فعال ہوجاتے ہیں۔

کیا آپ لپ اسٹک کے یہ طبی فائدے جانتے ہیں؟

خواتین اور میک ایک دوسرے کےلیے بالکل ایسے ہی لازم و ملزوم ہیں جیسے کسی پیاسے کےلیے پانی۔ خواتین مشرقی ہوں یا مغربی ممالک سے تعلق رکھتی ہوں، میک اپ لازمی استعمال کرتی ہیں اور میک اپ خریدنے کےلیے ہزاروں روپے خرچ کرنے کی بھی پرواہ نہیں کرتیں۔

میک اپ کی سب سے ضروری چیز ہے ’’لپ اسٹک‘‘ جسے میک اپ میں مرکزی حیثیت بھی حاصل ہے۔ خواتین چاہے جتنا میک اپ کرلیں، اگر لپ اسٹک نہیں لگائیں گی تو ان کا میک اپ بالکل پھیکا لگتا ہے۔ کبھی کبھی خواتین کا میک اپ کرنے کا دل نہیں چاہ رہا ہوتا لہٰذا وہ صرف لپ اسٹک لگا کر ہی کام چلالیتی ہیں۔ لپ اسٹک نہ صرف میک اپ کو مزید دلکش بناتی ہے بلکہ اس کے بہت سے دوسرے فوائد بھی ہیں جن سے یقیناً بہت سی خواتین لاعلم ہوں گی۔

طبی فوائد

لپ اسٹک کے بہت سے طبی فوائد ہیں اورہمیں یقین ہے خواتین لپ اسٹک لگاتے وقت کبھی ان فوائد کے متعلق سوچتی بھی نہیں ہوں گی۔

  • اچھی اورمعیاری برانڈز کی لپ اسٹک میں ایسے اجزاء شامل کیے جاتے ہیں جو ہونٹوں کو سورج کی روشنی میں شامل، مضر صحت الٹراوائیلٹ شعاعوں (یو وی ریز) سے محفوظ رکھتے ہیں، جس سے ہونٹوں کا رنگ کالا نہیں پڑتا اوران کی قدرتی خوبصورتی برقرار رہتی ہے۔
  • لپ اسٹک میں شامل ایلوویرا اور وٹامن ای کے باعث ہونٹوں کی قدرتی نمی برقرار رہتی ہے، تاہم اگر پرانی اور زائد المعیاد لپ اسٹک استعمال کی جائے تو اس کا بالکل الٹا اثر پڑتا ہے۔ زیاہ پرانی ہونے کی وجہ سے لپ اسٹک میں شامل اجزا خراب ہوجاتے ہیں جو ہونٹوں کی نمی چھین کر ان کا رنگ بھی تبدیل کردیتے ہیں۔
  • اچھی اورمعیاری برانڈ کی لپ اسٹک بڑھاپے میں ہونٹوں کی بناوٹ اور ساخت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار اداکرتی ہے۔
  • قدرت نے ہونٹوں کو جسم کی نسبت زیادہ حساس بنایا ہے۔ ہونٹوں میں میلانن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو ہونٹوں کو یو وی ریز سے بچاتا ہے۔ لہٰذا سورج کی روشنی سے بچانے والی لپ اسٹک (جس میں ایس پی ایف 15 شامل ہو) لگانے سے جلد کے کینسر کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ تاہم گلوسی لپ اسٹک اس کے بالکل الٹ کام کرتی ہے۔ گلوسی لپ اسٹک مضر صحت شعاعوں کو ہونٹوں کی جانب مائل کرتی ہے جس سے ہونٹوں کو نقصان پہنچتا ہے۔

پرکشش شخصیت

  • لپ اسٹک نہ صرف خواتین کے چہرے پر بھلی لگتی ہے بلکہ یہ خواتین کی مسکراہٹ کو بھی نہایت دلکش بناتی ہے۔ لپ اسٹک لگانے سے خواتین کے اعتماد میں اضافہ ہوتاہے اور وہ اپنے مقابل سے زیادہ خوداعتمادی کے ساتھ مخاطب ہوتی ہیں۔
  • صحیح لپ اسٹک کا انتخاب آپ کی جلد کے رنگ پر بھی اثرانداز ہوتا ہے اور اگر اپنی جلد کے حساب سے لپ اسٹک لگائی جائے تو اس سے آپ کا رنگ مزید نکھرجاتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ کو اپنی جلد کی رنگت کا بالکل صحیح اندازہ ہو۔
  • لپ اسٹک انسانی شخصیت کی بہترین عکاس ہوتی ہے، تمام خواتین کے پاس لپ اسٹک کی بڑی کلیکشن موجود ہوتی ہے جس میں ہر رنگ کی لپ اسٹک شامل ہوتی ہے لیکن ان میں سے صرف 3 یا4 رنگ ہی روزمرہ میں لگائے جاتے ہیں۔

ہیئر کنڈیشنر کے 11 حیرت انگیز استعمال جانتے ہیں؟

بالوں کی خوبصورتی کے لیے تو آپ نے ہیئر کنڈیشنر کا استعمال کیا ہی ہوگا مگر یہ آپ کے لیے کتنا مددگار ثابت ہوسکتا ہے یہ معلوم ہے؟

جی ہاں بالوں سے ہٹ کر بھی یہ روزمرہ کے معمولات میں سامنے آنے والی مشکلات سے نجات دلانے والا محلول ہے جس کے بارے میں اکثر افراد کو علم ہی نہیں ہوتا۔

یہاں اس کے چند حیرت انگیز استعمال بتائے جارہے ہیں جو آپ کی زندگی میں کافی آسانیاں لاسکتے ہیں۔

میک اپ ہٹانا

مہنگے میک اپ ریموور کی اس وقت کیا ضرورت ہے جب اس کا بہترین متبادل آپ کے گھر میں ہی موجود ہو؟ جی ہاں ہیئر کنڈیشنر فوری طور پر اور انتہائی آسانی سے میک اپ کو چہرے سے ہٹانے میں مدد دیتا ہے۔

انگلی میں پھنس جانے والی انگوٹھی کو نکالنا

اگر آپ کی انگلی میں کوئی انگوٹھی پھنس جائے تو کیا کریں گے؟ ہیئر کنڈیشنر کی بوتل کو اٹھائیں اور کچھ مقدار میں انگلی پر لگالیں، انگوٹھی خود پھسل کر نکل آئے گی۔

زپ کو ٹھیک کرنا

اگر تو جیکٹ کی زپ پھنس گئی ہے یعنی بند یا کھل نہیں رہی تو آپ ہیئر کنڈیشنر کی کچھ مقدار کو زپ کے دانوں پر ملیں تاکہ اگلی بار اس مسئلے کا سامنا نہ ہوسکے۔

آلات کو زنگ لگانے سے بچائیں

اپنے ٹول باکس میں موجود اوزاروں اور آلات کی نگہداشت کے لیے ان پر ہیئر کنڈیشنر کو لگا کر رکھ دیں، ان پر زنگ نہیں لگے گا۔

اسٹین لیس اسٹیل کو چمکائیں

مہنگی اسٹین لیس اسٹیل پالش کو بھول جائیں، بس ہیئر کنڈیشنر کو اپنے نلکوں یا کسی بھی چیز پر لگائیں جسے چمکانا چاہتے ہیں، پھر نرم کپڑے سے رگڑیں اور آپ نتیجہ دیکھ کر دنگ رہ جائیں گے۔

ریشمی کپڑوں کو صاف کریں

کیا آپ نے ریشمی کپڑوں پر لگے ڈرائی کلین کے لیبل کو دیکھا ہے؟ تو اس کا سستا متبادل ہیئر کنڈیشنر کی شکل میں موجود ہے، بالٹی کو گرم پانی (سفید کپڑوں کے لیے) یا ٹھنڈے پانی (رنگدار کپڑوں کے لیے) سے بھریں اور اس میں ایک چمچ ہیئر کنڈیشنر کو شامل کردیں، اس کے بعد کپڑوں کو پانی میں بھگو کر چند منٹ کے لیے چھوڑ دیں، پھر باہر نکال کر دھولیں اور سوکھنے کے لیے چھوڑ دیں۔

چمڑے کے جوتوں کو تحفظ دیں

سردیوں کے ایام میں خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں برفباری ہوتی ہو وہاں جوتے خراب ہونے کا امکان ہوتا ہے، تو چمڑے کے جوتوں کو تحفظ دینے کے لیے کچھ مقدار میں کنڈیشنر ان پر مل دیں۔

سکڑ جانے والے سویٹر کو اصل شکل میں واپس لائیں

آپ کا پسندیدہ اونی سویٹر دھونے کے نتیجے میں سکڑ گیا ہے؟ ان حالات میں ہیئر کنڈیشنر مدد دے سکتا ہے، بس بالٹی کو گرم پانی سے بھریں اور ایک چمچ ہیئرکنڈیشنر کو اس میں شامل کردیں، اب سویٹر کو اس میں کچھ گھنٹوں کے لیے بھگو دیں، اس کے بعد سویٹر کو نکال کر نچوڑ کر کسی سپاٹ جگہ پر رکھ دیں اور نرمی سے اصل شکل میں لے آئیں۔

جسم سے اسٹیکرز، بینڈیج اور عارضی ٹیٹوز ہٹائیں

کچھ مقدار میں ہیئر کنڈیشنر کو ان چیزوں پر ملنا انہیں ڈھیلا کرنے میں مدد دیتا ہے اور پھر انہیں ہٹایا جاسکتا ہے جس سے تکلیف بھی زیادہ نہیں ہوتی۔

پائپ یا ڈرین کو کھولیں

اگر تو پائپ یا ڈرین میں کچرا پھنس گیا ہے تو کچھ مقدار میں اس کچرے کو نکالنے کے لیے ہیئرکنڈیشنر کی کچھ مقدار کو ڈرین میں ڈالیں اور فوری طور پر گرم پانی بھی انڈل دیں۔ یہ سیال بلاک پائپ یا ڈرین کو کھول دے گا۔

دروازوں کی چڑچڑاہٹ ختم کریں

اگر تو آپ کے دروازے میں سے بہت زیادہ آواز آرہی ہے تو اس پر قابو پانے کے لیے ہیئر کنڈیشنر سے مدد لیں، کچھ مقدار میں کنڈیشنر کو دروازوں کے قبضے میں ڈال دیں اور آپ اثر دیکھ کر حیران رہ جائیں گے۔

5 عام عادتیں جو بینائی کے لیے تباہ کن

جب تک آنکھوں میں درد اور بینائی دھندلانے نہ لگے، اس بات کے امکانات زیادہ ہیں کہ آپ اس پر توجہ نہیں دیں گے۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ چند عام عادتیں آنکھوں کی تکلیف اور بینائی کی کمزوری کا باعث بنتی ہیں ؟

لیٹ کر پڑھنا

اگر آپ سیدھا لیٹ کر کتاب کھولے بیٹھے ہیں تو آنکھوں کو الفاظ پڑھنے کے لیے بہت زیادہ سخت محنت کرنا پڑتی ہے، جس کا نتیجہ پہلے درد اور بعد ازاں بینائی کی کمزوری کی شکل میں نکلتا ہے، اس سے بچنے کے لیے زیادہ روشن کمرے میں کتاب کو گود میں رکھ کر بیٹھ کر پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔ اگر مطالعے کے دوران آنکھوں میں درد ہوتا ہے تو ڈاکٹر سے رجوع کیا جانا چاہئے۔

اسمارٹ فونز کی اسکرین کو زیادہ گھورنا

جیب میں موجود یہ چھوٹا سا کمپیوٹر ہمیں دوستوں سے جوڑنے میں مدد دیتا ہے اور بیشتر کام آسان بنا دیتا ہے مگر یہ ہماری آنکھوں کے لیے بہت زیادہ تباہ کن ڈیوائس ہے، اس کی چھوٹی اسکرین کا مطلب چھوٹا ٹیکسٹ ہوتا ہے، جو آنکھوں کو دیکھنے اور پڑھنے کے لیے دباﺅ کا شکار بنا دیتا ہے، اس کے نتیجے میں جوانی میں ہی چشمہ لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

بہت زیادہ دورانیے تک کمپیوٹرز کا استعمال

اگر آپ کا دفتر میں زیادہ تر وقت کمپیوٹر کے سامنے گزرتا ہے تو بینائی کی کمزوری کوئی حیرت انگیز بات نہیں، کیونکہ اس ڈیوائس کا استعمال آنکھوں کا تناﺅ بڑھاتا ہے جو بینائی کی کمزوری کے علاوہ آنکھوں کے دیگر مسائل کا باعث بی بن سکتا ہے، طبی ماہرین کے مطابق اس کی وجہ بہت زیادہ وقت تک اسکرینز کو گھورنا نہیں بلکہ مانیٹر کا اینگل بھی ہوتا ہے جبکہ کام سے وقفہ نہ لینا بھی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

پانی کم پینا

ہماری آنکھیں پانی سے محبت کرتی ہیں اور یہ صحت مند آنکھوں کے لیے بہت ضروری جز ہے، جب آپ پانی کم پیتے ہیں تو جسم ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہوتا ہے اور آنکھیں سب سے زیادہ تماثر ہوتی ہیں، ایک تحقیق کے مطابق پانی آنسوﺅں کے ذریعے آنکھوں کو نمی فراہم کرتا ہے، اس کی شدید ترین کمی کی پہلی علامات میں سے ایک آنسو خشک ہوجانا ہے، آنکھوں کی خشکی اور مسلز کی کمزوری کا باعث بنتا ہے۔

سن گلاسز سے دوری

بہت زیادہ روشن دن صرف جلد کو نہیں آنکھوں کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے، طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سن گلاسز کا استعمال نقصان دہ الٹرا وائلٹ شعاعوں سے آنکھوں کو تحفظ دیتا ہے، اس طرح کو زیادہ روشنی کے باعث آنکھوں کو سکیڑنا نہیں پڑتا جو آنکھوں کے مسلز کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

نہار منہ پانی پینا صحت کے لیے فائدہ مند

خالی پیٹ یا نہار منہ پانی پینا صحت کے لیے کس حد تک فائدہ مند ہے؟

درحقیقت یہ جاپانی روایت ہے جس میں صبح اٹھتے ہی خالی پیٹ پانی پیا جاتا ہے۔

اس حوالے سے کئی طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ عام سی عادت صحت کے لیے کافی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

تو یہاں جانیں کہ ایک مہینے تک اس عادت کو اپنانا کس حد تک فائدہ مند ہے۔

زیادہ تازہ دم اور صحت مند

ایک تجربے کے دوران ایک شخص کو روزانہ نہار منہ پانی کا استعمال کرایا گیا تو وہ خود کو زیادہ تازہ دم اور صحت مند سمجھنے لگا کیونکہ اس کے نتیجے میں جسم میں موجود زہریلے مواد میں کمی آئی۔

میٹابولزم میں بہتری

ایک اور تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اس کے نتیجے میں لوگوں کو ہر تھوڑی دیر بعد بھوک نہیں لگتی جبکہ جسمانی توانائی بھی بڑھ جاتی ہے۔

وزن میں کمی

کم بھوک لگنے کے ساتھ ساتھ نظام ہاضمہ سست اور بھاری ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں ملنے والی توانائی جسمانی سرگرمیوں مددگار ثابت ہوتی ہے جبکہ وزن کم ہوتا ہے۔

سینے میں جلن کی شکایت ختم

اگر تو اکثر سینے میں جلن کی شکایت رہتی ہے تو نہار منہ پانی پینا اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بہترین ہے جبکہ ہر کھانے کے بعد تیزابیت بھی نہیں ہوتی۔

جلد میں بہتری

اس عادت کو اپنانے کے نتیجے میں کچھ عرصے بعد چہرے پر نمودار ہونے والی جھریاں غائب ہوجاتی ہیں جبکہ جلد صحت مند، سرخی مائل اور جگمگانے لگتی ہے۔

بالوں میں بہتری

نہار منہ پانی پینے سے نہ صرف بالوں کی صحت مند نشوونما ہوتی ہے بلکہ وہ چمکدار بھی ہوجاتے ہیں۔

امراض کا خطرہ کم

یہ عام سی عادت جسمانی دفاعی نظام کو بہتر بناتی ہے، جس کے نتیجے میں عام امراض جیسے نزلہ، زکام اور بخار وغیرہ کا امکان کم ہوجاتا ہے، جبکہ قبض بھی لاحق نہیں ہوتا۔

کس طرح اس پر عمل کریں؟

صبح اٹھنے کے بعد دانت صاف کرنے سے پہلے دو سے چار گلاس پانی پی لیں، اگر اتنا پانی پینا مشکل ہو تو ایک گلاس سے آغاز کریں اور بتدریج اس میں اضافہ کریں۔

پانی پینے کے بعد 45 منٹ تک کچھ نہ کھائیں، اس کے بعد ناشتہ کرلیں۔

ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانے کے دو گھنٹے بعد تک کچھ کھانے پینے سے گریز کریں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Google Analytics Alternative