صحت

تھری ڈی پرنٹر سے پردہ چشم کی تیاری میں کامیابی

سائنسدانوں نے پہلی بار تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے انسانی پردہ چشم یا قرینے کو بنانے میں کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔

برطانیہ کی نیوکیسل یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق منفرد ‘بائیو انک’ اور پردہ چشم کے اسٹیم سیلز کے امتزاج سے 10 منٹ کے اندر تھری ڈی انسانی قرینے پرنٹ کیے گئے۔

اگر اس طریقہ کار کو طبی منظوری مل جاتی ہے تو تھری ڈی پرنٹڈ قرینے ایسے لاکھوں، کروڑوں افراد کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے جنھیں پردہ چشم کی پیوندکاری کی ضرورت ہوتی ہے یا قرینے کی انجری کے باعث بینائی متاثر ہوتی ہے۔

قرنیہ آنکھ کا اگلا صاف پردہ ہوتا ہے جو کہ نقصان دہ مادے سے بینائی کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ آنکھ کو کسی چیز پر توجہ مرکوز کرنے کی طاقت دیتا ہے۔

قرنیہ کافی سخت جان ہوتا ہے مگر انجری کی صورت میں درد اور بینائی متاثر ہوسکتی ہے، اسی طرح مختلف آنکھوں کے امراض سے بھی اس کے متاثر ہونے کا خطرہ ہوتا ہے جو کہ نابینا پن کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

نیوکیسل یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک بائیو انک الحجی نیٹر اور کولاجن کے امتزاج سے تیار کی، جس میں قرینے کے اسٹیم سیلز کو شامل کیا گیا، اس کے بعد قرینے کو ہم مرکز دائروں میں پرنٹ کیا گیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں متعدد ٹیمیں اس مقصد کے لیے بہترین بائیو انک تیار کرنے کی کوشش کررہی ہیں، مگر ہمارا منفرد یعنی الحجی نیٹر اور کولاجن کا امتزاج، اسٹیم سیلز کو زندہ رکھنے میں کامیاب رہا جبکہ میٹریل کو اتنا سخت کردیا کہ وہ اپنی شکل لینے کے قابل ہوگیا اور اتنا نرم بھی رہا کہ تھری ڈی پرنٹر کے منہ سے باہر آگیا۔

تاہم ان کہنا تھا کہ مریضوں کے لیے ان تھری ڈی پرنٹڈ قرینوں کے استعمال مین ابھی برسوں درکار ہوں گے، ابھی یہ تحقیق کانسیپٹ کو حقیقی شکل دینے کی جانب پہلا قدم ہے۔

بڑھاپا سے بچنے کا طریقہ دریافت؟

بیشتر افراد بڑھاپے کے ساتھ آنے والی جسمانی کمزوریوں اور بیماریوں سے بچنے کی خواہش رکھتے ہیں اور لگتا ہے کہ بہت جلد ایسا ممکن ہوسکے گا۔

سائنسدانوں نے بڑھاپے کے جسمانی اثرات پر قابو پانے کا طریقہ کار ڈھونڈنے کا دعویٰ کیا ہے جن کی مدد سے جھریوں کی روک تھام خلیات کے ممکن سے ہوسکے گی۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ورجینیا یونیورسٹی کی تحقیق کے دوران جگر پر چربی چڑھنے کے مرض کے حوالے سے تفتیش کے دوران خلیات کی بدولت جھریاں بدلنے کے درمیان تعلق دریافت کیا گیا۔

تحقیق کے مطابق ایک پروٹین کی کمی کے نتیجے میں عمر بڑھنے سے جھریوں کی تعداد بڑھنے لگتی ہے ، جبکہ جگر پر چربی چڑھنے سے اس پروٹین کی مناسب سطح برقرار رکھنے کی جسمانی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

تاہم سائنسدانوں کے خیال میں اس پروٹین کا اضافہ کرکے جھریوں سے نجات پانا ممکن ہے اور اس سے جسم پر عمر بڑھنے کے اثرات کو روکنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

محققین نے دریافت کیا کہ جگر پر چربی چڑھنے اور جھریوں کے نمودار ہونے کے درمیان تعلق موجود ہے جو کہ خلیات کی وجہ سے ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہر خلیے میں ایک جیسا ڈی این اے ہوتا ہے مگر ہر خلیہ مختلف ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بات کی امید ہے کہ اس عمل کو ریورس کیا جاسکتا ہے اور اس سے جگر کو زیادہ صحت مند رکھنے میں مدد مل سکے گی۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل ایجنگ سیل میں شائع ہوئے۔

زیادہ چکن کھانے کا یہ نقصان جانتے ہیں؟

اگر تو آپ کو جسمانی فٹنس برقرار رکھنے کا شوق ہے تو غذا میں پروٹین کی موجودگی کی اہمیت سے ضرور واقف ہوں گے، یہ غذائی جز پورے جسم بشمول بالوں، جلد، ناخنوں، ہڈیوں، خون اور دیگر کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔

پروٹین سے بھرپور غذائیں جیسے گوشت، مرغی، مچھلی، انڈے، گریاں اور بیج وغیرہ روزمرہ کی غذائی عادات کے لیے بہترین ہے مگر اب ایک طبی تحقیق میں یہ انتباہ سامنے آیا ہے بہت زیادہ پروٹین کا استعمال درمیانی عمر کے افراد میں ہارٹ فیلیئر کا خطرہ 33 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ درمیانی عمر میں غذائی پروٹین جیسے دودھ، مرغی، مکھن اور پنیر وغیرہ سے ہارٹ فیلیئر کا خطرہ 49 فیصد بڑھا دیتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ مچھلی اور انڈوں میں موجود پروٹین سے یہ خطرہ نہیں بڑھتا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ حیوانی پروٹین کے زیادہ استعمال یہ خطرہ 43 فیصد جبکہ نباتاتی پروٹین کے استعمال سے 17 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

فن لینڈ کی ایسٹرن فن لینڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ بیشتر غذائی ذرائع سے حاصل ہونے والی پروٹین کا زیادہ استعمال ہارٹ فیلیئر کا خطرہ کسی حد تک بڑھا سکتا ہے، صرف مچھلی اور انڈے اس خطرے کا باعث نہیں بنتے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے یہ بات سامنے آچکی ہے کہ پروٹین سے بھرپور غذائیں خصوصاً حیوانی ذرائع سے ملنے والی پروٹین سے ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بڑھتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران ڈھائی ہزار کے قریب درمیانی عمر کے افراد کی غذائی عادات کا جائزہ 22 سال تک لیا گیا۔

ان افراد کو روزانہ پروٹین کی مقدار کے حوالے سے 4 گروپس میں تقسیم کیا گیا اور پھر زیادہ پروٹین اور کم پروٹین والے گروپس کے نتائج کا تجزیہ کیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ زیادہ پروٹین کھانے والے افراد میں ہارٹ فیلیئر کے 334 کیسز دیکھنے میں آئے اور ان میں یہ خطرہ حیوانی پروٹین کے استعمال سے 70 فیصد جبکہ نباتاتی پروٹین سے 27.7 فیصد تک بڑھا۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل سرکولیشن میں شائع ہوئے۔

نیند پوری نہ ہونے سے دماغ خود کو ’کھانا‘ شروع کردیتا ہے

روم، اٹلی: نیند کی کمی سے نہ صرف روزمرہ کے معمولات متاثر ہوتے ہیں بلکہ اس سے دماغ کے اندر پیدا ہونے والے فاسد مادے اور دماغی تھکاوٹ بھی دور ہوجاتی ہے۔ لیکن نیند کی مسلسل کمی سے نیورون کم ہونے لگتے ہیں اور ان کے درمیان باہمی روابط بھی کمزور ہوجاتے ہیں اوربعد کی نیند بھی اس نقصان کا ازالہ نہیں کرپاتی۔

اس ضمن میں اٹلی میں مارشے پولی ٹیکنک یونیورسٹی کے پروفیسر مائیکل بیلیسے نے چوہوں پر بے خوابی اور مکمل نیند کے تجربات کیے ہیں اور اس کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے۔

واضح رہے کہ دماغی خلیات یا نیورونز دو طرح کے ذیلی گلائیل خلیات سے مسلسل تازہ ہوتے رہتے ہیں جنہیں اعصابی نظام کا گوند بھی کہا جاتا ہے۔ مائیکروگلائیل خلیات دماغ سے ٹوٹے پھوٹے خلیات کو باہر نکالتے رہتے ہیں اور یہ عمل فیگوسائٹوسِس کہلاتا ہے۔

نیند اس ضمن میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور دماغ سے فالتو مواد اور ٹوٹ پھوٹ کو دور کرتی رہتی ہے۔ لیکن نیند کی کمی سے دماغ متاثر ہوتا ہے اور یوں خود اپنے آپ کو نقصان پہنچانا شروع کردیتا ہے۔ ماہرین نے حیرت انگیز طور پر دیکھا کہ نیند کی کمی سے دماغی خلیات کے رابطے یا کنکشنز شدید متاثر ہونے لگے۔ اس شے کی مزید کھوج کےلیے انہوں نے چوہوں کے دماغ کے اسکین لینے شروع کیے۔

ان چوہوں کو چار گروہوں میں بانٹا گیا: چھ سے آٹھ گھنٹے سونے والے چوہے، دوسرے گروہ کو اچانک بار بار نیند سے اٹھایا گیا، تیسرے گروپ کے چوہوں کو آٹھ گھنٹے تک نیند کے بجائے جگایا گیا اور جبکہ آخری گروہ کو مسلسل پانچ روز تک سونے نہیں دیا گیا یعنی ان میں نیند کی شدید کمی پیدا کی گئی۔

ان میں سے آٹھ گھنٹے جاگنے والے اور مسلسل پانچ روز نہ سونے والے دونوں طرح کے چوہوں میں ایک ایسی سرگرمی پیدا ہوئی جس میں مائیکروگلائیل نے رابطہ خلیات کو عین اسی طرح کھانا شروع کردیا جس طرح وہ نیند میں دماغ کے فاسد مواد کو تلف کرتے تھے اور ان میں یہ شرح 14 فیصد تک نوٹ کی گئی جو حیرت انگیز ہے۔

بری خبر یہ ہے کہ ماہرین نے کہا کہ اس طرح بہت سی بیماریوں کا راستہ کھل سکتا ہے جن میں اعصابی انحطاط اور الزائیمر بھی شامل ہیں۔ یعنی نیند کی مسلسل کمی ہمیں الزائیمر جیسے مرض کی جانب لے جاسکتی ہے۔ تاہم اب تک ہم حتمی طور پر نہیں کہہ سکتے ہیں انسانوں پر بھی یہی کچھ گزرتا ہے لیکن چوہوں پر ماضی میں کی گئی اہم تحقیق انسانوں پر ثابت ہوتی رہی ہیں اور ایک دن شاید ان کے درمیان کوئی مماثلت سامنے آسکتی ہے۔

اپنی نوعیت کی یہ اہم تحقیق جرنل آف نیوروسائنس میں شائع ہوئی ہے۔

رمضان میں زیادہ کھانے سے بچنے کے 9 طریقے

رمضان المبارک کے آغاز کے بعد اکثر افراد معمول سے زیادہ غذا استعمال کرنے لگتے ہیں اور ایسا کیوں نہ ہو اتنے طویل روزے کے بعد بھوک اور پیاس سے بے تاب لوگوں کا دل کچھ زیادہ ہی کھانے کو کرنے لگتا ہے۔

سارا دن بھوکا رہنے کے بعد میز پر منہ میں پانی بھر دینے والے کھانے ہاتھ روکنا ناممکن بنا دیتے ہیں مگر کیا پیٹ بھرنے کے بعد آپ کو شرمندگی کا احساس ہوتا ہے؟

ایک منٹ کے لیے بہت زیادہ کھانے کے نتائج کے بارے میں سوچیں جیسے کھانے کا ہضم نہ ہونا، معدے میں گڑبڑ اور جلن کا احساس، پیٹ میں گیس اور توانائی کی کم مقدار وغیرہ۔

تو ان سب کے بعد بھی زیادہ بہتر سوچ کون سی لگتی ہے زیادہ کھانا یا معتدل مقدار میں غذا کا استعمال؟

اس رمضان میں اگر آپ کے لیے بھی کھانے کی میز پر ہاتھ روکنا مشکل ثابت ہورہا ہے تو اس پر قابو پانے کے لیے یہ چند طریقہ کار آزما کر دیکھیں جو معتدل افطاری سے آپ کو بھرپور انداز سے لطف اندوز ہونے کا موقع بھی فراہم کریں گے۔

پانی کا زیادہ استعمال

اگر تو آپ واقعی حد سے زیادہ کھانے سے بچنا چاہتے ہیں تو زیادہ سے زیادہ مقدار میں پانی کے استعمال کو عادت بنالیں، اس گرم موسم میں پانی کا زیادہ استعمال نہ صرف ضروری ہے بلکہ اس کے نتیجے میں آپ غذا کی زیادہ مقدار کا استعمال نہیں کرسکیں گے۔ اکثر ہمارا جسم پیاس اور بھوک کے احساسات میں الجھ جاتا ہے اور رمضان کے دوران ہمیں دونوں کا شدت سے احساس ہوتا ہے۔ مگر بہت زیادہ بھوک درحقیقت پیاس کی شدت کا نتیجہ بھی ہوتی ہے۔ پانی کے گلاس کا کھانے سے پہلے استعمال زیادہ بہتر ثابت ہوتا ہے کیونکہ کھانے کے دوران اس کا استعمال نظام ہاضمہ کو متاثر کرسکتا ہے۔ تاہم غذا کے ایک گھنٹے بعد آپ پانی سے زیادہ اچھے طریقے سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔

کسی چھوٹی چیز سے کھانے کا آغاز

افطار کا آغاز کسی چھوٹی چیز جیسے کھجور سے کریں اور پھر دیگر چیزوں کی جانب ہاتھ بڑھانے سے قبل کچھ وقفہ کریں۔ کھجور آپ کی بھوک کے احساس کو کم کردیتی ہے اس دوران اگر نماز مغرب کی ادائیگی کرلی جائے تو پھر جسمانی ضروریات کے مطابق غذا کا استعمال بھی آسان ہوجاتا ہے۔

آہستگی سے کھانا

طویل روزے کے بعد افطار کے وقت آپ کچھ زیادہ تیزی سے ہی خوراک کو کھانے لگتے ہیں تاہم ہر نوالے کو آہستگی سے پوری طرح چبا کر کھانے سے آپ اس طویل فاقے کے احساس کے بعد ملنے والی راحت سے زیادہ بہتر طریقے سے لطف اندوز ہوسکیں گے۔ اسی طرح آہستگی سے چبانے کے باعث آپ کو اسے سالم نگلنا نہیں پڑے گا اور جسم کو بھی بھوک پر قابو پاکر پیٹ بھرنے کے سگنلز موثر طریقے سے بھیجنے میں مدد ملے گی۔

بیٹھ کر کھائیں

کھڑے ہوکر کچھ نہ کھائیں بلکہ جب بھی غذا سامنے ہو تو اسے بیٹھ کر کھائیں۔ اس سے آپ اس کے ذائقے سے زیادہ لطف اندوز ہوسکیں گے اور پیٹ بھرنے کا احساس بھی جلد ہونے لگے گا۔

افطار سے پہلے کھانے کے ارگرد نہ رہے

دسترخوان پر کافی مقدار میں مزیدار کھانا موجود ہو اور ان کی مہک قوت ارادی کو صفر پر لے جارہی ہو تو وہاں سے ہٹ جائیں۔ کھانے سے قربت اکثر آپ کے کم کھانے کے فیصلے کی دھجیاں اڑانے میں اہم کردار ثابت ہوتی ہے۔ اگر قوت ارادی کمزور ہورہی ہو تو کھانے سے کچھ دور ہوجائیں تاہم گھروالوں کے قریب ہو تاکہ بات چیت جاری رکھی جاسکے۔

متوازن سحری

سحری میں متوازن غذا کا استعمال افطار کے موقع پر بہت زیادہ کھانے سے روکتا ہے۔ متوازن سحری آپ کے جسمانی ضروریات کے درکار توانائی کو بھی برقرار رکھتی ہے اور بھوک کے احساس کو بھی کم کرتی ہے یہاں تک کہ افطار کے موقع پر بھی۔ فائبر، پروٹین، کرب اور صحت کے لیے فائدہ مند چربی سے بھرپور سحری آپ کے میٹابولزم یا نظام ہاضمہ کو بھی بہتر بناتی ہے۔

ورزش

رمضان سست زندگی گزارنے کا بہانہ نہیں ہوتا، اگر آپ کے پاس افطار کے بعد ورزش کا منصوبہ موجود ہو تو آپ کے اندر زیادہ کھانے کی خواہش بھی خودکار طور پر کم ہوجاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آپ کو بہت زیادہ محنت کی بھی ضرورت نہیں بس آدھے گھنٹے کی چہل قدمی ہی کافی ثابت ہوتی ہے جبکہ اس سے صحت بخش غذا کے استعمال کی خواہش بھی بڑھتی ہے۔ اسی طرح ورزش سے آپ کو افطار کے بعد توانائی سے بھرپور ہونے کا احساس بھی ہوتا ہے۔

مناسب نیند

لوگوں کے اندر رمضان کے دوران زیادہ سونے یا تاخیر سے سونے کا رجحان بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ نیند میں کمی نہ آئے بلکہ اس کا شیڈول بنالیں۔ دیر سے سونے کا موقع ملیں تو کوشش کریں کہ دیر تک سوئیں یا دوپہر کو قیلولہ کی عادت ڈالیں، بہترین حل تو بہرحال تراویح کے بعد سو جانا ہے۔ جیسا آپ کو معلوم ہی ہوگا کہ نیند اور کھانے کی خواہش کے درمیان ایک تعلق موجود ہے اور اگر ہماری نیند پوری نہ ہو تو جسم کے اندر بھوک بڑھانے والے ہارمونز کی مقدار بڑھتی ہے جس کے نتیجے میں افطار کے وقت کھانا دیکھ کر ہاتھ کو کنٹرول کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

وزن میں کمی کا ہدف

روحانی مقاصد کے حصول کے ساتھ ساتھ رمضان جسمانی وزن میں کمی لانے کا بھی مثالی موقع ہوتا ہے۔ وزن میں کمی کا ہدف طے کرنے سے بھی افطار کے دوران آپ کے اندر معتدل حد کے اندر رہ کر کھانے کا عزم بڑھتا ہے۔

بیریاں اور انگور پھیپھڑوں کےلیے نہایت مفید قرار

بروکلن، نیویارک: اپنے روزمرہ معمولات میں طرح طرح کی بیریاں اور انگور کھانے سے پھیپھڑے تندرست رہتے ہیں اور نظامِ تنفس کو قوت ملتی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق اینتھوسائنِنس نامی ایک فلیوینوئیڈ عمررسیدگی کے باوجود پھیپھڑوں کو بہترین حالت میں رکھتا ہے۔ یہ مرکب گہری رنگت کے پھلوں اور سبزیوں میں پایا جاتا ہے جن میں سرخ انگور،جامنی آلو، بلیو بیریز اور دیگر بیریاں شامل ہیں۔

یہ تحقیق جان ہاپکنز یونیورسٹی کی وینیسا گارشیا لارسن نے کی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ سبزیوں اور پھلوں سے بھرپور غذا پھیپھڑوں کو تندرست رکھتی ہے اور زندگی میں آگے چل کر ان سے وابستہ امراض سے بھی بچاتی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ 30 سال کے بعد پھیپھڑوں کی کارکردگی میں کمی ہونے لگتی ہے اور طرح طرح کے امراض پیدا ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں پہلے سے غذائی تدابیر پھیھپڑوں کو توانا اور تندرست رکھتی ہیں۔

اسی بنا پر ماہرین نے شوخ اور گہرے رنگوں والی سبزیاں اور پھل کھانے پر زور دیا ہے جن میں سرخ انگور اور بلیو بیری سرِفہرست ہیں۔

تمباکو نوشی جسمانی طور پر کمزور بھی کرتی ہے

لندن: سگریٹ نوشی درجنوں لحاظ سے جسم کےلیے نقصاندہ ہے اور اب تازہ خبر یہ ہے کہ سگریٹ نوشی سے خون میں آکسیجن کی کمی ہوتی ہے اور اہم غذائی اجزا پٹھوں اور عضلات تک نہیں پہنچ پاتے جس کا نتیجہ جسمانی کمزوری کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

تمباکو نوشی سانسوں کے امراض کے علاوہ پورے جسم کے پٹھے کمزورکرتی ہے۔ اس تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تمباکو نوشی براہِ راست ٹانگوں میں خون کی رگیں کم کرتی ہے اور اس سے پٹھے کمزور پڑنے لگتے ہیں۔

امریکہ، برازیل اور جاپانی ماہرین نے اپنی نوعیت کی یہ پہلی تحقیق کی ہے جس میں انہوں نے سگریٹ نوشی کے پٹھوں پر منفی اثرات کو نوٹ کیا ہے۔ سائنسدانوں نے 8 ہفتوں تک چوہوں کو تمباکو نوشی کی کیفیت میں رکھا جس میں چوہوں میں تمباکو کا دھواں داخل کیا گیا یا پھر ان میں سگریٹ کے دھویں سے بھرپور ایک محلول شامل کیا گیا تھا۔

آٹھ ہفتوں کے بعد سگریٹ پینے والے چوہوں کی پنڈلیوں میں خون کی باریک رگوں  (کیپلریز) سے پٹھوں کی تعداد 34 فیصد تک کم ہوگئیں۔ خون کی باریک رگیں پٹھوں کے اندر سماکر وہاں خون اور دیگر اہم اجزا پہنچاتی ہیں اور رگوں کے غائب ہونے سے خون، آکسیجن اور غذائی اجزا وہاں نہ پہنچ سکے اور ان کے پیروں کے پٹھے کمزور ہونے لگے۔

ڈاکٹروں کے مطابق پٹھوں اور ان سے وابستہ رگوں میں 43 فیصد تک کمی کا مطلب یہ ہے کہ چوہے جلد تھکاوٹ، تکلیف اور کمزوری کے شکار ہوتے ہیں اور یہ صرف اور صرف 8 ہفتوں کو سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہوا۔ تاہم ماہرین یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ سگریٹ کا کونسا مضر کیمیکل اس کی وجہ بنا ہے کیونکہ تمباکو میں ہزاروں مضر اجزا اور کیمیکلز موجود ہوتے ہیں۔

اپنی نوعیت کا یہ پہلا تحقیقی مطالعہ ہے جس سے ظاہر ہوا ہے کہ تمباکو نوشی پٹھوں کے عضلات کےلیے بھی بہت خطرناک ہوتی ہے۔

کھانے کے بعد کچھ ‘میٹھے’ کی خواہش کیوں ہوتی ہے؟

کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ اکثر کھانے کے بعد کچھ میٹھا کھانے کو دل کرنے لگتا ہے یا چینی کی طلب محسوس ہوتی ہے؟

برصغیر میں تو یہ کافی عام رجحان ہے کہ بچپن اور نوجوانی میں کھانے کے بعد کچھ میٹھا لازمی کھایا جاتا ہے۔

تو میٹھے کی یہ طلب کیوں ستاتی ہے؟ خاص طور پر اگر آپ صحت مند رہنا چاہتے ہیں تو اس کا جواب جاننا ضروری ہے۔

پیدائشی رجحان

اگر تو آپ کو میٹھا کھانا زیادہ ہی پسند ہے تو ہوسکتا ہے کہ یہ آپ کی غلطی نہ ہو، درحقیقت لوگوں کے اندر پیدائش سے ہی میٹھی غذاﺅں کو ترجیح دینے کا رجحان ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تلخ اور ترش غذائیں اکثر معدے کے لیے بھاری ثابت ہوتی ہیں، تو قدرتی طور پر انسان کے اندر اس سے بچنے کے لیے میٹھے سے محبت پیدا ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ توانائی والی غذا، جیسے چینی، غذائی قلت کے دوران بقاء فراہم کرتی ہے۔

بچپن کی غذائی عادات

عام طور پر لوگوں کے اندر جس کھانے کی خواہش زیادہ ہوتی ہے، اس کی وجہ بچپن کی غذائی عادات ہوتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق عام طور پر بچوں کو انعام کے طور پر جو غذائیں دی جاتی ہیں وہ بڑے ہونے کے بعد بھی لوگوں کو اچھا محسوس کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر ماں یا باپ اکثر کچھ میٹھا جیسے بسکٹ، ٹافیاں یا چاکلیٹ دیتے ہو تو آپ کے اندر یہ احساس جڑ پکڑ لیتا ہے کہ یہ غذائیں خوشی کا احساس پیدا کرتی ہیں۔

زیادہ کاربوہائیڈریٹس کا استعمال

پاکستانی پکوان اکثر کاربوہائیڈریٹس یا نشاستہ دار غذا پر مشتمل ہوتے ہیں، یہ نقصان دہ نہیں مگر یہ ایک بڑی وجہ ہے جو ہر کھانے کے بعد میٹھا کھانے کی خواہش بھڑکاتی ہے۔ درحقیقت نشاستہ دار غذائیں بلڈ شوگر کی سطح کو بڑھاتی ہیں اور اس کے نتیجے میں کچھ میٹھا کھانے کی خواہش بڑھ جاتی ہے۔

نمکین غذائیں

اگر آپ کو غذاﺅں میں زیادہ نمک پسند ہے تو یہ جان لیں کہ توازن برقرار رکھنے کے لیے جسم کے اندر نمکین کھانے کے بعد کچھ میٹھا کھانے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فاسٹ فوڈ یا فرنچ فرائز کے ساتھ سافٹ ڈرنک کی خواہش یا استعمال ہوتا ہے۔

نفسیاتی وجوہات

میٹھے کی خواہش کے پیچھے نفسیاتی مسائل بھی ہوسکتے ہیں، جب ہم کچھ کھاتے ہیں تو اس کے ہمارے مزاج پر اثرات مرتب ہوتے ہیں خصوصاً میٹھا کھانے کے بعد، ایسا کرنے پر دماغ کو لت پیدا ہوتی ہے کیونکہ میٹھا کھانے سے ایک کیمیکل سیروٹونین کا اخراج ہوتا ہے جو خوشی، سکون اور آرام کا احساس دلاتا ہے۔

پانی کی کمی

میٹھا کھانے کی خواہش بڑھنے کی ایک وجہ کمزور نظام ہاضمہ بھی ہوتا ہے، ایسا عام طور پر ڈی ہائیڈریشن کی وجہ سے ہوتا ہے، کھانے کے آدھے گھنٹے بعد پانی نہ پینے سے غذا کا مناسب طریقے سے ہضم ہونے کا امکان کم ہوجاتا ہے، جس سے میٹھی غذاﺅں کی خواہش بڑھتی ہے۔

Google Analytics Alternative