صحت

کھجور کھانے کے یہ اہم فوائد ضرور جان لیں

کھجور کھانا سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ پھل چھ ہزار قبل مسیح سے کاشت کیا جارہا ہے۔

یہ چند سب سے میٹھے پھلوں میں سے ایک ہے اور اس کی متعدد اقسام ہوتی ہیں تاہم یہ صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔

کھجور میں فائبر، پوٹاشیم، کاپر، مینگنیز، میگنیشم اور وٹامن بی سکس جیسے اجزاءشامل ہوتے ہیں جو کہ متعدد طبی فوائد کا باعث بنتے ہیں۔

یہاں طبی سائنس کے تسلیم شدہ وہ فوائد جانیں جو کھجور کھانے سے آپ کو حاصل ہوسکتے ہیں۔

نظام ہاضمہ کو بہتر اور قبض سے نجات دلائے

فائبر آنتوں کی صحت کے لیے انتہائی ضروری جز ہے اور قبض کی روک تھام کرتا ہے، کھجور میں جذب ہونے والا اور جذب نہ ہونے والا فائبر موجود ہوتا ہے جو کہ آنتوں کے نظام کی صفائی میں مدد دیتا ہے اور اسے اپنا کام موثر طریقے سے کرنے دیتا ہے۔

دل کی صحت کے لیے بہترین

اسرائیل کے ٹیکینو انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی کی تحقیق کے مطابق روزانہ انار کے جوس اور 3 کھجوروں کا استعمال دل کے امراض کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ انار اور کھجوریں اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہیں جو دل کی شریانوں کے سخت ہونے اور سکڑنے کا خطرہ ایک تہائی یا 33 فیصد تک کم کردیتے ہیں۔

ورم کش

کھجور میگنیشم سے بھرپور ہوتی ہے اور یہ ایسا منرل ہے جو ورم کش خصوصیات رکھتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق جب میگنیشم کا استعمال بڑھتا ہے تو کئی طرح کے ورم کی سطح میں کمی آتی ہے، جس سے خون کی شریانوں کے امراض، جوڑوں کے امراض، الزائمر اور دیگر بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

خون کی کمی دور کرنے میں مددگار

کھجور بے وقت کھانے کی لت پر قابو پانے میں مدد دینے والا موثر ذریعہ ہے جبکہ یہ آئرن کی سطح بھی بڑھاتی ہے، جس سے خون کی کمی جلد دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔ تاہم کھجور کے استعمال کے حوالے سے بھی ذیابیطس کے مریضوں کو احتیاط کی ضرورت ہے۔

بلڈ پریشر میں کمی

کھجور میں شامل میگنیشم بلڈ پریشر میں کمی لانے میں بھی مدد دینے والا جز ہے، جبکہ اس میں موجود پوٹاشیم بھی جسم کے لیے فائدہ مند ہے جو دل کو مناسب طریقے سے کام کرنے اور بلڈ پریشر میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

فالج سے بچاﺅ

امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ سو ملی گرام میگنیشم کا استعمال فالج کا خطرہ 9 فیصد تک کم کردیتا ہے اور جیسا بتایا جاچکا ہے کہ یہ جز کھجوروں میں کافی مقدار میں پایا جاتا ہے۔

ہڈیوں کی مضبوطی

کھجوریں میں موجود مینگنیز، کاپر اور میگنیشم ایسے اجزاءہیں جو ہڈیوں کو صحت مند رکھنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں اور یہ بھربھرے پن کے مرض سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

دماغی صحت بہتر بنائے

طبی جریدے جاما انٹرنل میڈیسین میں شائع ہوئے والی ایک تحقیق کے مطابق جسم میں وٹامن بی سکس کی مناسب مقدار دماغی کارکردگی میں بہتری اور اچھے امتحانی نتائج کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔zxx

کینسر جیسے مرض کو ہمیشہ خود سے دور رکھنا چاہتے ہیں؟

کینسر جیسے جان لیوا مرض کو ہمیشہ خود سے رکھنا چاہتے ہیں؟ تو جسمانی فٹنس کو یقینی بنالیں۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

جان ہوپکنز یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ جسمانی طور پر فٹ رہنا کینسر کے مرض سے بچنے یا اس سے موت کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کرتا ہے۔

اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جسمانی طور پر متحرک رہنا پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ 77 فیصد تک کم کرتا ہے جبکہ یہ عادت آنتوں کے کینسر سے موت کا خطرہ 89 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق جسمانی طور پر متحرک رہنا دل، پھیپھڑوں اور جسمانی مدافعتی نظام کی صحت بہتر کرتا ہے جبکہ کینسر کا خطرہ کم کرتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ورزش کو معمول بنالینے سے جسمانی ورم بھی کم ہوتا ہے جو اکثر مختلف اقسام کے کینسر کا باعث بن جاتا ہے۔

محققین نے مزید بتایا کہ یہ اپنی طرز کی پہلی، سب سے بڑی اور مختلف پہلوﺅں کو مدنظر رکھنے والی تحقیق تھی جس میں جسمانی فٹنس اور کینسر کے درمیان تعلق کو دیکھا گیا۔

پھیپھڑوں کا کینسر دنیا بھر میں اس مرض سے ہونے والی اموات میں سرفہرست ہے جبکہ آنتوں کا کینسر تیسرے نمبر پر ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ جسمانی طور پر متحرک رہنا غذا کو غذائی نالی سے کم وقت میں گزرنے میں مدد دیتا ہے جس سے آنتوں کے کینسر کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ورزش کرنے یا جسمانی طور پر متحرک رہنے کے فوائد کے باوجود کروڑوں افراد ہفتہ بھر میں ڈھائی گھنٹے کی جسمانی سرگرمیوں سے گریز کرتے ہیں اور ہر وقت بیٹھے رہنے کی عادت لاتعداد امراض کا باعث بن جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ مستقبل میں مزید تحقیقی رپورٹس سامنے آنے سے لوگوں کے اندر جسمانی فٹنس کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے میں مدد ملے گی جس سے کینسر جیسے مرض پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

ذیابیطس کے مریض روزہ رکھتے ہوئے ان باتوں کا لازمی خیال رکھیں

رمضان میں لگ بھگ ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ روزہ رکھے چاہے وہ بیماری کا ہی شکار کیوں نہ ہو اور ان میں ذیابیطس کے مریض سرفہرست ہوتے ہیں۔

چونکہ یہ میٹابولک مرض ہوتا ہے لہذا اس کے شکار افراد میں کھانے اور پینے کے اوقات میں تبدیلی سے پیچیدگیوں کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے جبکہ ڈی ہائیڈریشن اور بلڈ شوگر میں کمی سمیت کئی خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

ذیابیطس کا مرض پاکستان میں بھی بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس مرض کے دوران جسم کی انسولین بنانے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور یہ ہارمون بلڈ گلوکوز لیول کو صحت مند سطح پر رکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ رمضان میں ہر مسلمان کا دل روزہ رکھنے کو کرتا ہے جس کے دوران گھنٹوں تک کچھ کھا پی نہیں سکتے تو اسی لیے ذیابیطس کے مریضوں کو کافی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔

خصوصاً ایسے افراد جو انسولین کا استعمال کرتے ہوں یا مخصوص ادویات کھاتے ہوں۔

یہی وجہ ہے کہ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے شکار افراد روزہ رکھنے کی صورت میں پورے مہینے اپنے شوگر لیول کو مسلسل مانیٹر کرتے رہیں۔

دبئی ہیلتھ اتھارٹی کے اسمارٹ کلینک کے ماہرین کا کہنا تھا کہ ذیابیطس ٹائپ 1 کے مریضوں کو روزہ نہیں رکھنا چاہئے اور اس حوالے سے مختلف فتوے بھی موجود ہیں جبکہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مریضوں کو روزے رکھنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہئے تاکہ اس کے اثرات پر قابو پانے میں مشکل کا سامنا نہ ہو۔

ڈاکٹر زیادہ بہتر بتاسکے گا کہ اتنے طویل وقت تک کچھ فاقے سے ذیابیطس کے مریضوں کو کسی قسم کے خطرے کا سامنا تو نہیں ہوگا اور کم خطرے والے مریض آسانی سے روزہ رکھ سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ذیابیطس کے شکار افراد کا شوگر لیول اگر 70 سے نیچے آجائے تو انہیں روزہ توڑ دینا چاہئے ” شوگر لیوم میں اضافے کے مقابلے میں کمی زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے، جن لوگوں کا شوگر لیول 70 سے نیچے گر جائے انہیں فوری طور پر روزہ توڑ دینا چاہئے، اسی طرح جن کی گلوکوز ریڈنگ 300 سے تجاوز کرجائے وہ بھی روزہ توڑ کر بہت زیادہ پانی استعمال کریں اور ڈاکٹر سے رجوع کریں”۔

شوگر لیول میں کمی کی صورت میں لوگوں کو بہت زیادہ پسینہ آنے، سردی لگنے، انتہائی شدید بھوک، بینائی دھندلانے، دل کی دھڑکن کی رفتار میں تیزی اور سر چکرانے جیسی علامات کا سامنا ہوسکتا ہے دوسری جانب شوگر لیول میں اضافے کی صورت میں مریض کو خشکی اور بار بار پیشاب کی علامات کا سامنا ہوتا ہے۔

طبی ماہرین نے ایسے افراد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پروٹین اور فائبر سے بھرپور غذا کا استعمال کریں جبکہ میٹھے کھانوں اور کیفین سے گریز کریں” ذیابیطس کے مریض رمضان کے دوران ہر قسم کی غذا کا استعمال کرسکتے ہیں بس یہ خیال رکھیں کہ وہ متوازن غذا ہو”۔

تاہم ماہرین نے اس بات پر بہت زور دیا ہے کہ روزے کے دوران بلڈ شوگر کی سطح کو مسلسل مانیٹر کرتے رہیں کیونکہ یہ بہت ضروری ہے۔

گرم موسم میں کھجور کھانا نقصان دہ تو نہیں؟

رمضان میں افطار کھجور کے بغیر نامکمل سمجھی جاتی ہے اور اسے کھانا سنت نبوی ہے جو کہ جسم میں خون کی کمی کو دور کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتی ہے۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس کی تاثیر گرم ہوتی ہے یا یہ جسم میں حرارت بڑھانے والی چند بڑی غذاﺅں میں سے ایک ہے۔

تو کیا کھجور کو گرم موسم میں کھانا چاہئے یا کھائیں تو کتنی مقدار میں؟

مگر اس سے پہلے جان لیں کہ انسانی صحت کے لیے کتنی فوائد کا حامل ہے۔

افطار اس سے کیوں کرنا چاہیے؟

جسمانی توانائی فراہم کرے : کیلوریز اور شکر سے بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ کھجوریں آسانی سے جذب ہوجاتی ہے جس سے طویل روزے کے بعد آنے والی نقاہت سے نجات ملتی ہے جبکہ جسمانی توانائی میں فوری اضافہ ہوتا ہے۔

اہم غذائی اجزا سے بھرپور : کھجوروں میں 6 وٹامنز اور 15 منرلز موجود ہوتے ہیں، خصوصاً کیلشیئم، فاسفورس، آئرن، میگنیشم اور پوٹاشیم۔ یہ سب صحت کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں۔

فائبر : فائبر سے بھرپور ہونے کی وجہ سے کھجور رمضان میں نظام ہاضمہ کو درست رکھنے میں مدد دیتی ہے جبکہ آنتوں کے افعال بہتر کرتی ہے جس سے قبض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

دیگرفوائد

کھجور ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے بھی فائدہ مند ہے جس کی وجہ اس میں موجود متعدد منرلز کی موجودگی ہے۔

خون کی کمی دور کرنے کے لیے بہترین ذریعہ۔

دل کی صحت بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔

ہیضے کے علاج میں ممکنہ مددگار۔

اور یہ تو بس چند فوائد ہیں، یہ صحت کے لیے اور بھی متعدد فوائد کا حامل پھل ہے۔

کیا ذیابیطس کے مریض کھجور سے افطار کرسکتے ہیں؟

اگرچہ ذیابیطس کے مریضوں کو اپنی غذا سے میٹھے کو مکمل طور پر نکالنے کی ضرورت نہیں مگر اس کی ایک حد ضرور ہوتی ہے۔

کھجور ایسا پھل ہے جو میٹھاس سے بھرپور پوتا ہے اور حیران کن طور پر اس میں گلیسمک انڈیکس کی شرح بہت کم ہوتی ہے۔

اس کی تفصیل میں جانے سے پہلے یہ جان لیں کہ کسی پھل میں مٹھاس ذیابیطس کے لیے اتنی اہم نہیں ہوتی جتنی اس میں موجود گلیسمیک انڈیکس (جی آئی)۔

جی آئی ایک پیمانہ ہے کہ جو بتاتا ہے کہ کاربوہائیڈریٹ والی غذا کا کتنا حصہ کھانے کے بعد اس میں موجود مٹھاس (گلوکوز) مخصوص وقت میں خون میں جذب ہوسکتی ہے اور یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔

ذیابیطس کے مریضوں کو اپنا بلڈ گلوکوز لیول کنٹرول میں رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کی غذا ایسی ہونی چاہئے جو اس لیول کو کنٹرول میں رکھ سکے۔ تو ایسے مریضوں کے لیے 15 گرام کاربوہائیڈریٹ کسی پھل کے ذریعے جسم کا حصہ بننا نقصان دہ نہیں۔

مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق کھجور کھانے سے بلڈ شوگر لیول نہیں بڑھتا بلکہ یہ جسم کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہے کیونکہ اس میں اہم غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں۔

مگر ایک یا 2 کھجوروں سے زیادہ کھانا ضرور نقصان پہنچاسکتا ہے اور کھجور کھانے کے ساتھ ساتھ صحت بخش متوازن غذا کا استعمال بھی ضروری ہے۔

تو کیا اسے گرمیوں میں کھانا چاہئے؟

ماہرین طب کے مطابق یقیناً کھجور کھانے سے جسم میں حرارت پیدا ہوتی ہے اور اسی لیے یہ سردیوں میں زیادہ فائدہ مند ہوتی ہے، تاہم گرمیوں میں بھی اسے کھایا جاسکتا ہے مگر دن بھر میں 2 یا 3 سے زیادہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پھل گرمیوں کے لیے بھی بہترین ہے مگر اعتدال اس کے استعمال کے لیے کنجی ہے، اسے کھانے کے حوالے سے متوازن سوچ کو اپنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

زیادہ مقدار میں کھجور کھانے سے نہ صرف جسمانی درجہ حرارت بڑھتا ہے بلکہ دیگر مسائل جیسے معدے میں درد وغیرہ کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔

تو افطار میں 2 یا 3 سے زیادہ کھجور کھانے سے گریز کریں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

کیا چاول کھانا موٹاپے سے بچا سکتا ہے؟

چاول کھانا اکثر افراد کو بہت پسند ہوتا ہے اور پاکستان میں بھی ان کا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے۔

مگر کم کاربوہائیڈریٹس والی یہ غذا موٹاپے سے نجات میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے؟

تو اس کا جواب جاپان میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں دیا گیا ہے، جس میں بتایا گیا کہ ایشیائی یا جاپانی انداز کے کھانوں (جن میں چاولوں کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے)کو ترجیح دینے والے ممالک میں موٹاپے کی شرح کم ہوتی ہے۔

اس تحقیق کے دوران 136 سے زائد ممالک اور چاول کھانے سمیت کیلوریز کے استعمال کی شرح کا تجزیہ کیا گیا جبکہ جسمانی وزن کے ڈیٹا کو بھی دیکھا گیا۔

کیوٹو کی ڈوشیھا ویمنز کالج آف لبرل آرٹس کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ چاول زیادہ کھانے کی عادت رکھنے والے ممالک میں موٹاپے کی شرح مغربی ممالک سے کم ہے جہاں چاول کھانے کی شرح کم ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ چاول میں چربی کی مقدار کم ہونا جبکہ فائبر، نباتاتی کمپاﺅنڈز اور دیگر اجزا کی موجودگی ہے جو پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھنے میں مدد دیتے ہیں اور بسیار خوری سے بچنا ممکن ہوجاتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ دنیا بھر میں موٹاپے کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس سے بچنے کے لیے چاول کھانا موثر عادت ثابت ہوسکتی ہے۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اعتدال میں رہ کر چاول کھانا ہی فائدہ مند ہے اس کو بہت زیادہ کھانا ذیابیطس اور میٹابولک سینڈروم کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

اس سے قبل امریکا کی آرسیرو یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ نشاستہ کی مزاحمت کرنے والے کاربوہائیڈریٹس کا استعمال موٹاپے کے کنٹرول میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

یہ کاربوہائیڈریٹس بیج، اجناس، سفید چاول اور پاستا وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ کاربوہائیڈریٹس دیر سے ہضم ہوتے ہیں اور معدے میں فیٹی ایسڈز میں تبدیل ہوجاتے ہیں، جنھیں ہمارا جسم توانائی کے طور پر جلاتا ہے۔

یہ کاربوہائیڈریٹس سفید ڈبل روٹی یا میٹھی اشیا میں پائے جانے والے کاربوہائیڈریٹس سے مختلف ہوتے ہیں جو فوری طور پر جسم میں جذب ہوکر جلنے کی بجائے چربی کا ذخیرہ کرتے ہیں اور موٹاپے کا باعث بنتے ہیں۔

اس تحقیق میں پہلی بار یہ بات سامنے آئی ہے کہ سفید چاول اور پاستا میں موٹاپے سے تحفظ دینے والے کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں اور سادہ چاول کا اکثر استعمال موٹاپے سے تحفظ میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ جب نشاستہ کی مزاحمت کرنے والی غذا کا استعمال کیا جاتا ہے تو پیٹ جلد بھر جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ زیادہ کھانے سے قاصر رہتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

دل کے مریضوں کیلیے خوشخبری، بیٹری کے بغیر چلنے والا پیس میکر ایجاد

بیجنگ: سائنس دانوں نے دل کے امراض میں حیرت انگیز نتائج دینے والے آلے ’پیس میکر‘ کو بیٹری کے بغیر چلانے کا کامیاب تجربہ کرلیا ہے جس کے بعد مریضوں کو بار بار پیس میکر کی بیٹری تبدیل کرنے کی جھنجھٹ سے جان چھوٹ جائے گی اور دل کی کارکردگی میں بھی کوئی رکاوٹ یا تنزلی نہیں آئے گی۔ 

سائنسی جریدے نیچر کمیونیکیشن میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی مقالے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دل کے مریضوں کے لیے ایک ایسا پیس میکر ایجاد کرلیا گیا ہے جو بغیر بیٹری کے اپنا کام جاری رکھ سکے گا۔ چینی سائنس دانوں نے چوہوں اور ایک بڑے جانور پر کامیاب تجربے کے بعد اس پیس میکر کو ’انرجی ہاروَیسٹر‘ کا نام دیا ہے جسے مارکیٹ میں آنے میں ابھی چند برس اور لگیں گے۔

چین کی سائنسی علوم کی اکیڈمی کے ماہر اور اس تحقیق کے مرکزی محقق ژُولی نے میڈیا کو بتایا کہ انتہائی جدید پیس میکر ’انرجی ہارویسٹر‘ کی سب سے نمایاں خصوصیت مریض  کی نقل و حرکت اور اس کے دل کی دھڑکن سے پیدا ہونے والی حرکی توانائی سے اپنی برقی توانائی کی ضروریات پوری کرنا ہے جس کے بعد اس آلے کو روایتی آلوں کی نسبت بیٹری کی ضرورت نہیں رہتی۔

سائنس دان ژولی اپنی ایجاد کی کامیابی کے لیے کافی پُر امید نظر آتے ہیں، اس ایجاد سے ناصرف مریضوں کے علاج میں اخراجات میں کمی واقع ہوگئی بلکہ بار بار بیٹری کی تبدیلی سے آلے کی کارکردگی پر پڑنے والے اثرات سے بھی بچا جا سکے گا۔ یوں دل کے پٹھوں کو مسلسل ایک ردھم میں حرکت جاری رکھنے کا موقع میسر آئے گا جس سے پورے جسم کو خون کی سپلائی جاری رہ پائے گی۔

واضح رہے کہ پیس میکر وہ آلہ ہے جو مریض کے سینے میں دل سے کچھ اوپر لگایا جاتا ہے اور وہ مریض کے دل کی دھڑکن کو کنٹرول میں رکھتا ہے جس کے لیے یہ آلہ بیٹری سے برقی توانائی لیکر دل کے پٹھوں کو منتقل کرتا ہے جس کی مدد سے دل کے خانے بند ہوتے اور کُھلتے ہیں اور اس طرح دل کی دھڑکن مسلسل ردھم کے ساتھ جاری رہتی ہے۔

ہڈیوں کو ہر عمر میں کمزور ہونے سے بچانا چاہتے ہیں؟

ہڈیوں کی کمزوری یا آسٹیو پوروسز کو خاموش مرض کہا جاتا ہے جس کا احساس ہونا لگ بھگ ناممکن ہوتا ہے۔

اس مرض کے دوران ہڈیوں کی کثافت کم ہوجاتی ہے اور وہ کمزوری کا شکار ہوجاتی ہیں۔

ہر دو میں سے ایک خاتون اور ہر چار میں سے ایک مرد اس کا شکار ہوتا ہے اور ہڈیاں ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

مزید پڑھیں : ہڈیوں کو کمزور ہونے سے بچانے میں مددگار نکات

روزمرہ کی زندگی میں چند عادات کا استعمال اس مسئلے کا شکار بھی بنا سکتا ہے جبکہ کچھ فوڈز کا استعمال اس سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

عمر بڑھنے کے ساتھ ہڈیوں میں آنے والی کمزوری سے بچنا چاہتے ہیں تو یہ نکات ضرور جان لیں۔

بہت زیادہ نمک

بہت زیادہ نمک کھانے کے نتیجے میں جسم سے کیلشیئم کا اخراج زیادہ ہونے لگتا ہے جو ہڈیوں کی کمزوری کا باعث بنتا ہے۔ جنک فوڈ میں نمک کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جبکہ عام غذاﺅں میں بھی اس کا زیادہ استعمال نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

ٹی وی کے سامنے زیادہ وقت گزارنا

ایسا نہیں کہ ٹیلیویژن کو دیکھنا ہی چھوڑ دیں مگر لاتعداد گھنٹے اسکرین کے سامنے بیٹھے رہنا اگر عادت بن جائے اور جسمانی طور پر کم متحرک ہوجائیں تو ہڈیوں کے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ورزش کرنا جسم کو مضبوط بناتا ہے جبکہ ہڈیاں بھی مضبوط ہوتی ہیں۔

سورج کی روشنی سے دور رہنا

جسم سورج کی روشنی سے وٹامن ڈی بناتا ہے جو کہ ہڈیوں کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے، ہفتہ بھر میں کچھ وقت سورج کی روشنی میں گزارنا ہڈیوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے، اس کے علاوہ غذا سے بھی وٹامن ڈی حاصل کیا جاسکتا ہے جیسے فورٹیفائیڈ ملک اور انڈے وغیرہ، ڈاکٹر کے مشورے سے وٹامن ڈی سپلیمنٹ کا بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

سافٹ ڈرنکس سے دور رہیں

ویسے تو ان مشروبات کا استعمال متعدد طبی عوارض کا خطرہ بڑھاتا ہے اور ہڈیاں بھی ان میں سے ایک وجہ ہے، روزانہ صرف ایک بار اس مشروب کو پینا کولہے کے فریکچر کا خطرہ خواتین میں 14 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ یہ تو واضح نہیں کہ اس کی وجہ کیا ہے مگر ممکنہ طور پر ان مشروبات میں موجود کیفین، فاسفورس یا چینی کیلشیئم کی سطح کو متاثر کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

ڈائٹنگ بھی نہ کریں

نوجوان افراد خصوصاً خواتین اگر مناسب مقدار میں غذا کا استعمال نہیں کرتیں تو ان کی ہڈیوں کو نقصان پہنچتا ہے جو درمیانی عمر میں جاکر جوڑوں کے امراض یا فریکچر وغیرہ کا باعث بن سکتا ہے۔ خالی پیٹ گھومنا خواتین میں ہارمونز کے نظام کو متاثر کرتا ہے جو ہڈیوں کی صحت پر بھی اثرانداز ہوتا ہے۔

تمباکو نوشی بھی نقصان دہ

اگر آپ تمباکو نوشی کے عادی ہیں تو اس عادت کے نتیجے میں ہڈیوں کے لیے نئے صھت مند ٹشوز آسانی سے نہیں بنتے، بلکہ تمباکو نوشی کے عادی افراد میں ہڈیاں ٹوٹنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جبکہ اس کے جڑنے میں بھی زیادہ وقت لگتا ہے۔

ہڈیوں کو مضبوط رکھنے میں درج ذیل غذائیں فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہیں۔

دہی

دہی پروبایوٹیکس، کیلشیئم، پوٹاشیم اور وٹامن ڈی، اے اور فولیٹ کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے، طبی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ روزانہ دہی کو کھانا ہڈیوں کی کمزوری اور فریکچر کے خطرے کی روک تھام کرتا ہے، اگر آپ کو لگتا ہے کہ ہڈیاں کمزور ہوچکی ہیں تو دہی کھانا عادت بنالیں۔

دودھ

دودھ بھی کیلشیئم، فاسفورس اور وٹامنز اے اور ڈی کے حصول کا چھا ذریعہ ہے، گائے کا دودھ ہڈیوں کو مضبوط بنانے کے لیے فائدہ مند ہے، اس کے لیے فورٹیفائیڈ ملک پینا بھی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

سبز پتوں والی سبزیاں

سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک اور ساگ وغیرہ کیلشیئم، اینٹی آکسائیڈنٹس اور وٹامن کے اور سی کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے، ان سبزیوں کو اکثر کھانا ہڈیوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ جسمانی مدافعتی نظام بھی طاقتور کرتا ہے۔

خشک میوہ جات

بادام، کاجو اور مونگ پھلی وغیرہ میگنیشم کے حصول کا اچھا ذریعہ ہیں، جو ہڈیوں کی ساخت کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے، جبکہ یہ کیلشیئم جذب کرنے کے لیے بھی ضروری ہے۔

آلو بخارہ

ہڈیوں کو 20 فیصد زیادہ مضبوط بناتا ہے مگر پھر بھی اکثر افراد اس کی خوبی سے لاعلم ہوتے ہیں۔ ایک طبی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ خشک آلو بخارے بھی ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں اور یہ ہڈیوں کو ریڈی ایشن سے تحفظ بھی فراہم کرتے ہیں۔

پنیر

پنیر کو دودھ سے بنایا جاتا ہے اور اسی لیے کیلشیئم کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے، جبکہ اس سے جسم کو وٹامن اے، وٹامن بی 12، زنک اور فاسفورس بھی ملتے ہیں، اسے کھانا معمول بنانا نہ صرف منہ کا ذائقہ بہتر بناتا ہے بلکہ ہڈیوں کو بھی کمزور ہونے سے بچاتا ہے۔

مچھلی

وٹامن ڈی کے سپلیمنٹ کے ساتھ ساتھ اس سے بھرپور غذائیں جیسے مچھلی کو کھانا بھی عادت بنانا چاہیئے اور ہر ہفتے ایک سے دو بار مچھلی کھانا وٹامن ڈی کی فراہمی میں مدد دیتا ہے۔

انڈے

انڈے کی زردی وٹامن اے، ڈی، کے اور ای کے حصول میں مدد دیتی ہے، وٹامن ڈی کیلشیئم جذب کرنے کے لیے ضروری عنصر ہے جس سے ہڈیوں کی صحت بہتر ہوتی ہے۔

دالیں

دالوں سے جسم کو صرف پروٹین ہی نہیں ملتا بلکہ یہ کیلشیئم ، فاسفورس، پوٹاشیم اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سے بھی بھرپور ہوتی ہیں، محققین نے تصدیق کی ہے کہ دالوں کو کھانے کی عادت ہڈیوں کی کثابت میں کمی کی روک تھام کرتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

قبض جیسے مسئلے کو دور رکھنے میں مددگار چائے

قبض ایک ایسا عام عارضہ ہے جو لوگوں کے لیے بہت تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔

اور یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ غذاؤں میں زیادہ چربی اور آئل کی موجودگی کے باعث پاکستان بھر میں نظام ہاضمہ بری طرح متاثر ہوا ہے اور قبض کے شکار افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

نظام ہاضمہ کمزور ہونے پر آنتوں کی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں قبض کا سامنا ہوتا ہے جبکہ پانی کم پینا، مخصوص ادویات، تناﺅ اور کچھ امراض بھی اس کی وجہ ہوسکتے ہیں۔

قبض کی بھی کئی اقسام ہیں جیسے عام سے لے کر دائمی۔

دائمی قبض کے شکار افراد کو اس حوالے سے فوری ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ علاج میں تاخیر اس مرض کو زیادہ بدتر بنادیتی ہے جبکہ عام قبض پر گھریلو ٹوٹکوں کی مدد سے قابو پایا جاسکتا ہے۔

پانی زیادہ پینا یا مشروبات کو غذا میں شامل کرنا بھی اس مسئلے کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے۔

جہاں تک گھریلو ٹوٹکو کی بات ہے تو السی کے بیجوں کی چائے ایسا نسخہ ہے جو قبض کو دور رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

چائے کو بنانے کا طریقہ

رات کو ایک کھانے کا چمچ السی کے بیج کو ایک کپ پانی میں 2 سے 3 منٹ تک ابال لیں اور پھر بیجوں سمیت ہی اسے پی لیں۔

السی کے بیج نظام ہاضمہ کے لیے بہترین ہوتے ہیں اور جلاب کش اثر رکھتے ہیں۔

ان بیجوں میں فائبر کی قمدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو قبض کے مسئلے پر قابو پانے میں مدد دینے والا جز ہے جبکہ اس میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کولیسٹرول سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں اور دل کو صحت مند رکھتے ہیں۔

اس کے علاوہ پروٹین کی موجودگی ان بیجوں کو جسمانی وزن میں کمی لانے میں مدد دیتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Google Analytics Alternative