صحت

دانتوں سے ٹارٹر کے داغ مٹانا بہت آسان

دانتوں پر جما میل یا ٹارٹر کس کو پسند ہوسکتا ہے بلکہ اس کا نظر آنا خوفزدہ کردیتا ہے۔

یہ پلاک کی بدترین قسم ہے اور یہ اس وقت دانتوں پر نظر آتی ہے جب 3 سنہرے اصولوں برش، خلال اور صفائی کو نظرانداز کردیا جاتا ہے۔

جب آپ اس ٹارٹر کو دانتوں سے ہٹاتے نہیں تو یہ وقت کے ساتھ سخت ہوتا جاتا ہے جبکہ مسوڑوں کے امراض کا باعث بنتا ہے اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ایسے داغ منہ کھولنے پر شخصیت کو کتنا بدنما بناتے ہیں۔

اگر ایسا ہے تو ہمارے ارگرد موجود چند عام چیزیں آپ کی مسکراہٹ کو روشن کرسکتی ہیں یا یوں کہہ لیں دانتوں کو جگمگا سکتی ہیں۔

بیکنگ سوڈا اور نمک

یہ بہت سادہ مگر ٹارٹر کو ہٹانے کا موثر ٹوٹکا ہے، ایک کھانے کے چمچ بیکنگ سوڈا میں ایک چٹکی نمک کو ملائیں اور اس مکسچر کی کچھ مقدار ٹوتھ برش پر چھڑک دیں یا ٹوتھ پیسٹ میں شامل کردیں۔ اس ٹوٹکے کو ہفتے میں ایک بار سے زیادہ نہ آزمائیں۔

امرود

یہ پھل اور اس کے پتے بھی قدرتی طور پر پلاک اور ٹارٹر کو ختم کرنے میں مدد دیتے ہیں، ان دونوں میں اینٹی پلاک ایجنٹ موجود ہیں اور یہ مسوڑوں کی سوجن میں بھی کمی لاتے ہیں۔ بس امرود کے صاف پتوں کی کچھ مقدار کو روز چبا کر تھوک دیں، جس سے دانتوں پر میل جمنے کا خطرہ کم ہوتا ہے، جبکہ ایک کچے امرود پر نمک چھڑک کر دن میں ایک یا دو بار چبانا بھی مدد دیتا ہے۔

سفید سرکہ

سفید سرکہ جراثیم کش خصوصیات رکھتا ہے جو کہ دانتوں پر داغ اور ٹارٹر کو ہٹانے کے ساتھ دوبارہ نمودار ہونے سے روکنے میں مدد دیتا ہے۔ سرکے میں موجود تیزابیت دانتوں کی سطح کو نقصان پہنچاسکتی ہے تو اس کے لیے آدھے کپ پانی میں دو چائے کے چمچ سفید سرکہ اور آدھا چائے کا چمچ نمک ملائیں کر دن میں دو بار اس محلول سے کلیاں کریں۔

ایلو ویرا جیل

یہ کچھ کڑوا ضرور ہوسکتا ہے مگر ٹارٹر کو ہٹانے کے لیے جادو اثر ثابت ہوسکتا ہے، ایک چائے کا چمچ ایلو ویرا جیل، چار چائے کے چمچ گلیسرین، پانچ کھانے کے چمچ بیکنگ سوڈا، لیموں کا تیل اور ایک کپ پانی لیں، ان سب کو اچھی طرح مکس کریں اور اس محلول سے دانتوں کو صاف کریں۔ یہ عمل روزانہ اس وقت تک دہرائیں جب تک ٹارٹر ختم نہیں ہوجاتا۔ اس کے بعد ہر تین یا چار روز بعد اس عمل کو دہرائیں۔

مالٹے کے چھلکے

ترش پھل عام طور پر پلاک سے بننے والے داغوں کی صفائی کے لیے بہترین ثابت ہوتے ہیں جس کی وجہ ان میں موجود ایسڈ ہے۔ تو مالٹے کے چھلکوں کو اپنے دانتوں پر 2 سے تین منٹ تک رگڑیں یا اس کا پیسٹ بناکر دانتوں پر لگائیں، اس کے بعد نیم گرم پانی سے کلی کریں، یہ عمل ہفتے میں کئی بار دہرائیں۔

تل

ایک کھانے کے چمچ تلوں کو منہ میں ڈالیں اور اچھی طرح چبائیں، چبا کر اس کا پیسٹ بنانے کی کوشش کریں اور نگلنے سے گریز کریں۔ اس کے بعد دانتوں پر اس پیسٹ سے برش کرلیں، یہ عمل ہفتے میں دو بار دہرائیں۔

لونگ

یہ مصالحہ دانتوں کے درد سے تو نجات دلاتا ہی ہے مگر دانتوں کی صفائی کے لیے بھی فائدہ مند ہے، لونگ کو پیش کر پاﺅڈر بنالیں، اس میں تھوڑا سا زیتون کا تیل شامل کریں اور اس مکسچر کو داغوں سے متاثرہ حصے میں لگائیں۔ اسی طرح لونگوں کو چبانا سانس کی بو سے نجات دلاتا ہے جبکہ بیکٹریا کو مارتا ہے۔

پاکستان میں ایچ آئی وی، ایڈز کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 50 ہزارہوگئی، سروے

پشاور: ایک سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً ایک لاکھ پچاس ہزار ایچ آئی وی اور ایڈز کے مریض موجود ہیں۔

پریس کلب پشاور میں نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے زیر اہتمام آگاہی پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں خیبرپختونخوا کے ماہر ڈاکٹر سعید ، ڈاکٹر جمیل اور دیگر ڈاکٹرز سمیت یو این ایڈز کنٹرول پروگرام کی ٹیم نے شرکت کی، اس موقع پر مقررین کا کہنا تھا کہ ایچ آئی وی ایڈز جنسی تعلقات، استعمال شدہ انجیکشن کا دوبارہ استعمال، خون کی منتقلی اور ماﺅں سے بچوں کو منتقل ہوتا ہے خیبرپختونخوا میں 2005سے لے کراب تک 4622رجسٹرڈایڈزکے مریضوں کو مفت ادویات دی گئیں ہیں جن سے وہ مکمل طور پر صحت یاب ہوچکے ہیں جبکہ حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں کی  جانب سے صوبے کی مختلف جگہوں پر سینٹرز بنائے گئے ہیں ، جس کا مقصد لوگوں میں اس بیماری کے حوالے سے شعور بیداری پیدا کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں جس شخص کو ایچ آئی وی ایڈزلاحق ہوتا ہے تو نہ ہی اس کا خیال رکھا جاتا ہے بلکہ اس کو اپنے گھر سے باہر نکال دیا جاتا ہے جبکہ صوبے میں سینٹرز قائم کرنے کا مقصد لوگوں میں ایچ آئی وی ایڈز کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے تاکہ اس کی روک تھام اور علاج بروقت ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں ایڈز ناسور کی طرح پھیل رہا ہے جس کی وجہ سے سے ایشیامیں پاکستان دوسرے نمبر پر ہے اس وقت پاکستان میں تقریباً ایک لاکھ پچاس ہزار ایڈز کے مریض موجود ہیں جس میں صوبہ پنجاب میں پچاس فیصد، سندھ 43 فیصد، خیبرپختونخوا بشمول قبائلی اضلاع 5 فیصد اور بلوچستان میں 2 فیصد مریض موجود ہیں جبکہ خیبرپختونخوا میں 16 ہزار رجسٹرڈ کیسز ہیں جبکہ ملک میں غیر رجسٹرڈ ایک لاکھ 74 ہزار خواتین، 8 لاکھ 35 ہزار مرد اور53 ہزار خواجہ سرا کو ایڈز کا مرض لاحق ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں رجسٹرڈ مرد مریضوں کی تعداد 11 ہزار تین سو38، خواتین تین ہزارایک سو 71، خواجہ سرا 210 ، لڑکے 274 اور لڑکیوں کی تعداد 297 ہے۔

وفاقی حکومت نے ایڈز کی روک تھام کیلئے رواں سال 14ملین روپے مختص کیے ہیں انہوں نے کہا کہ ایڈز ایک ایسا مرض ہے جس کا علاج ممکن ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اس کو شرم اور دیگر مسائل کی وجہ سے لوگ ظاہر نہیں کرتے جس کی وجہ سے یہ بیماری پھیل رہی ہے انہوں نے کہاکہ ایڈز کی بیماری سے بچاﺅ اور روک تھام کیلئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

ڈپریشن کی دوائیں بھی بیکٹیریا میں اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت بڑھا رہی ہیں

برسبین: آسٹریلوی سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ ڈپریشن کے علاج میں عام استعمال ہونے والی دوائیں بھی جرثوموں میں اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت بڑھا کر انہیں غیرمعمولی طور پر مضبوط بنا رہی ہیں۔ اگرچہ ماضی میں ڈپریشن کی دواؤں (اینٹی ڈپریسینٹس) کے مختلف منفی اثرات سامنے آتے رہے ہیں مگر اِن کا تعلق انسان کی دماغی اور جسمانی صحت ہی سے تھا۔ لیکن یہ پہلا موقعہ ہے کہ جب ان کا تعلق جرثوموں (بیکٹیریا) میں اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت سے بھی دیکھنے میں آیا ہے۔

برسبین، آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف کوینزلینڈ میں ’’ایڈوانسڈ واٹر مینیجمنٹ سینٹر‘‘ سے وابستہ جیانہوا گوو اور ان کے ساتھیوں نے ’’ای کولائی‘‘ نامی جرثومے پر تحقیق کے دوران یہ تشویشناک دریافت کی ہے۔ کئی ماہ تک جاری رہنے والی اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ ڈپریشن کی عام اور مقبول دواؤں میں شامل ایک اہم مرکب ’’فلوکسیٹائن‘‘ (fluoxetine) سے صرف تیس دن تک سامنا ہونے پر جرثوموں میں انتہائی مؤثر اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت میں 5 کروڑ گنا تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ یقیناً یہ بہت خطرے کی بات ہے۔

البتہ، تجربہ گاہ کے ماحول میں یہ تحقیق صرف ای کولائی بیکٹیریا پر کی گئی ہے جبکہ ابھی اسے دیگر اقسام کے جرثوموں پر، خاص کر بیماریاں پھیلانے والے جراثیم پر آزمایا جانا باقی ہے۔

واضح رہے کہ قبل ازیں ماہرین کی یہی ٹیم ہینڈ واش اور ٹوتھ پیسٹ کے ایک عام جزو ’’ٹرائی کلوسان‘‘ پر تحقیق کرکے ثابت کرچکی ہے کہ اس کے باقاعدہ استعمال سے جراثیم میں اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت بڑھ جاتی ہے۔ البتہ، تازہ تحقیق کہیں زیادہ تشویشناک ہے کیونکہ اس سے ایک طرف تو یہ پتا چلتا ہے کہ فلوکسیٹائن کی حامل 11 فیصد دوائیں ہمارے جسم میں پہنچنے کے بعد بالکل بھی تبدیل نہیں ہوتیں تو دوسری جانب یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جتنے لمبے عرصے تک جرثوموں کا سامنا فلوکسیٹائن سے رہے گا، جرثوموں میں اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت بھی اسی قدر بڑھتی جائے گی۔

اس تحقیق کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’اینوائرونمنٹ انٹرنیشنل‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

سردیوں میں خشک جلد سے چھٹکارہ پانے کا آسان سا نسخہ

موسمِ سرما کا آغاز ہوتے ہی جلد کی خشکی میں بہت زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے بعض حالات میں جلد پر پپڑیاں سی بھی جمنے لگتی ہیں, خاص کر خشک جلد والوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جس کا نتیجہ مہنگے ترین موئسچرائزر، کریم اورلوشن کی صورت میں نکلتا ہے لیکن وہ بھی بعض حالات میں وقتی اثر انگیز ثابت ہوتے ہیں۔

ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہم آپ کو آسان سا نسخہ بتا رہے ہیں جس سے سردیوں میں بھی آپ کی جلد نرم و ملائم رہے گی اور آپ کی جیب پر غیر ضروری بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔

زیتون کے تیل کا استعمال

منفرد اور اہم خصوصیات کے حامل زیتون کے تیل کے بیش بہا فائدے ہیں، اسے نہ صرف کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے بلکہ درد کی شکایت میں اس کا مساج بھی آرام پہنچاتا ہے۔

لیکن یہاں ہم نرم و ملائم اور چمکدار جلد کے حصول کے لیے اس تیل کے استعمال کے بارے میں بتا رہے ہیں، اس کے لیے آپ کو صرف ایک سے 2 چائے کے چمچ زیتون کے تیل کی ضرورت پڑے گی۔

رات میں سونے سے قبل ہلکے سے نیم گرم زیتون کے تیل سے روزانہ اپنے چہرے اور ہاتھ پیروں پر مساج کرنے کی عادت بنالیں آپ کی سردیاں جلد کی خشکی کے مسائل کے بغیر آرام سے گزر جائیں گی۔

اس کے علاوہ آپ نہانے سے قبل زیتون کے تیل سے کمر اور جسم کے دیگر حصوں کا مساج بھی کرسکتے ہیں جس سے نہ صرف خون کی روانی بہتر ہوگی بلکہ سردیوں میں جلد کی نمی بھی برقرار رہے گی۔

لیکن اگر آپ کی جلد زیادہ خشک ہے تو زیتون کے تیل میں تھوڑا سا کھوپرے کا تیل شامل کرلیں اور کچھ دن تک روزانہ اپنی جلد پر استعمال کریں اس سے جلد کو بہتر نمی ملے گی۔

موسم سرما میں چہرے کی جلد مرجھا سی جاتی ہے، اس مرجھائی ہوئی جلد کو ترو تازہ بنانے کے لیے تھوڑا سا زیتون کا تیل اور کافی کے بیجوں کا پاؤڈر لےکر پیسٹ بنالیں اور دائرے میں اس کا مساج کریں، اس سے نہ صرف مرجھائی ہوئی جلد نکھر جائے گی بلکہ جلد میں قدرتی نمی بھی بحال رہے گی۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

ہیئر کلر کے استعمال نے خاتون کو موت کے منہ میں پہنچادیا

آج کل نوجوانوں میں بالوں کو رنگنا بہت عام ہوچکا ہے مگر کبھی کبھار اس کا انجام کافی برا بھی ہوسکتا ہے جیسا فرانس سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ طالبہ کے ساتھ ہوا۔

ایسٹیلا نامی طالبہ کو ہیئر کلر میں پائے جانے والے ایک جز paraphenylenediamine سے ہونے والی شدید الرجی کے باعث ہسپتال میں داخل ہونا پڑا جبکہ اس کا چہرہ غبارے کی طرح پھول کر کسی فٹبال جیسا ہوگیا۔

درحقیقت بالوں کو کلر کرانے کے باعث اسٹیلا موت کے منہ میں پہنچ گئی تھی اور جس جز کی وجہ سے یہ حال ہوا وہ لگ بھگ تمام ہیئر کلرز میں موجود ہوتا ہے، جس کے بعد سے اس لڑکی نے ان مصنوعات کے استعمال کے حوالے سے مہم شرع کی ہے۔

اب بھی اس کے چہرے پر الرجی کے آثار موجود ہیں اور وہ کافی حد تک پھولا ہوا ہے۔

اسٹیلا کے مطابق ‘آپ میرے چہرے پر اس کا اثر دیکھ سکتے ہیں’۔

اسٹیلا نے ایک سپرمارکیٹ سے معروف برانڈ کا ہیئر کلر خریدا تھا اور اسے بالوں پر استعمال کیا۔

اس نے بتایا کہ کلر لگانے کے چند گھنٹے بعد ہی خارش شروع ہوگئی مگر اس وقت طالبہ نے زیادہ پروا نہیں کی اور اس کے لیے بازار سے چند کریمیں لے آئی، مگر بدترین صورتحال تو اس کے بعد سامنے آئی۔

2 دن بعد جب اس نے آئینے میں خود کو دیکھا تو اسے جو نظر آیا وہ کسی دھچکے سے کم نہیں تھا، اس کا سر پھول چکا تھا اور چہرہ ناقابل شناخت ہوگیا تھا۔

طالبہ نے فرانسیسی سائٹ لی پراسین کو بتایا ‘ میرا سر لائٹ بلٹ جیسا ہوچکا تھا’۔

اسٹیلا نے اس کے بعد ہسپتال کا رخ کیا اور ڈاکٹروں نے دریافت کیا کہ اسے paraphenylenediamine کے باعث الرجی ری ایکشن کا سامنا ہوا ہے اور یہ ایسا جز ہے جو کہ 90 فیصد ہیئر کلرز میں پایا جاتا ہے اور الرجی کا خطرہ بڑھانے کی وجہ سے بھی جانا جاتا ہے۔

اس الرجی کے نتیجے میں طالبہ کے سر کا گول دائرہ 22 سے 24 انچ تک سوج گیا تھا۔

ڈاکٹروں نے اسٹیلا کو ہسپتال میں داخل کرلیا اور اسے لگا کہ وہ مرنے والی ہے ‘ ہسپتال پہنچنے سے قبل آپ اندازہ نہیں کرسکتے کہ مجھے دم گھونٹنے کی کیسی تکلیف کا سامنا ہوا’۔

طالبہ نے اپنے چہرے کے پھولنے کی تصاویر فیس بک پر اس انتباہ کے ساتھ پوسٹ کیں کہ دیگر اس طرح کی مصنوعات کے استعمال سے گریز کریں ‘ اب میں ٹھیک ہوں، بلکہ اپنے چہرے کی عجیب ساخت پر ہنستی ہوں’۔

اس کا مزید کہنا تھا ‘ مگر میرا لوگوں کے لیے پیغام ہے کہ وہ ایسی مصنوعات کے حوالے سے بہت زیادہ احتیاط کریں کیونکہ نتائج جان لیوا بھی ثابت ہوسکتے ہیں، اور میں چاہتی ہوں کہ ایسی مصنوعات فروخت کرنے والی کمپنیاں وارننگ کو زیادہ واضح کریں’۔

نیند کی کمی بھی غصیلے مزاج کی وجہ قرار

آئیووا: صرف چند راتوں تک کچھ گھنٹے کم نیند لینے سے آپ کو طیش میں لانے اور چڑچڑابنانے کے لیے کافی ہے۔

ایک نئی تحقیق کے معطابق اگرچہ یہ ابتدائی نتائج ہیں لیکن نیند کی کمی اور اشتعالی کیفیت کے درمیان ایک تعلق دریافت ہوا ہے۔ اس ک مطابق ایک رات بھی نیند پوری نہ ہونے سے ڈپریشن اور موڈ خراب ہوسکتا ہے۔

اگرچہ نیند اور چڑچڑے پن کے درمیان تعلق ماہرِ نفسیات پہلے بھی بیان کرچکے ہیں۔ تاہم یہ اب تک معلوم نہیں ہوسکا تھا کہ نیند کی کمی کی وہ کونسی حد ہے جو نارمل انسان کو ہیجان میں مبتلا کرسکتی ہے؟ اسی سوال کے جواب کے لیے امریکہ میں آئیووا اسٹیٹ یونیورسٹی کے ڈاکٹر زلاٹن کریزن اور ان کے ساتھیوں نے ایک نئی تحقیق کی ہے۔

یہ تحقیق ایک جرنل ’ایکسپیریمینٹل سائیکالوجی‘ میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں ماہرین نے ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کی ہے جو غصے اور نیند کی کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔

کریزن نے کہا کہ نیند کی کمی کے شکار افراد ناموافق حالت میں تحمل کا دامن چھوڑ دیتے ہیں اور انہیں معمولی باتوں پر بھی غصہ آنے لگتا ہے۔ اس کے لیے ماہرین نے رضاکاربھرتی کئے اور انہیں دو گروہوں میں تقسیم کیا۔ ایک گروپ نے تو معمول کے مطابق نیند لی اور دوسرے گرون کو مسلسل دو راتوں تک صرف چار اور دو دو گھنٹے تک ہی سونے دیا۔

اس کے بعد تجربہ گاہ  میں انہیں ایسی آوازیں سنائی گئیں جو غصہ دلانے والی ہوتی ہیں۔ اب جن افراد کی نیند کم تھی انہوں نے اس پر غصیلے ردِ عمل کا اظہار کیا۔ جبکہ پرسکون اور پوری نیند لینے والوں میں ایسا رویہ نہ تھا۔ حیرت انگیز طور پر نیند کی کمی کے شکار افراد کا موڈ پورے دن خراب دیکھا گیا۔

اس بنیاد پر ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا کہ کسی فرد میں غصے کی 50 فیصد تک وجہ نیند کی کمی بھی ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد انہی ماہرین نے کالج میں زیرِ تعلیم 200 طلبا و طالبات کو اپنے سونے کے دورانئے اور  نیند ڈائری اور معمولات مرتب کرنے کا کام سونپا  جو ایک ماہ تک جاری رہا۔

ان میں سے بھی جن جن افراد نے نیند نہیں لی تھی ان میں غصے اور اشتعال کی کیفیت ذیادہ نوٹ کی گئی۔ اسی بنا پر ماہرین مکمل اور پرسکون نیند کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ اس کے برخلاف عمل سے افسردگی، چڑچڑاپن، غصہ اور اداسی جنم لیتی ہے۔

گاجر کا حلوہ صحت کے لیے فائدہ مند یا نقصان دہ؟

موسم سرما میں پاکستان کے مختلف مقامات میں جو سوغات ہر گھر میں سب کو پسند ہوتی ہے وہ گاجر کا حلوہ ہے۔

انتہائی لذیذ ہونے کے باعث یہ لگ بھگ موسم سرما کی روایت بن چکی ہے۔

ویسے ہوسکتا ہے کہ لوگ گاجر کا حلوہ میٹھا ہونے کے باعث اسے صحت کے لیے نقصان دہ سمجھیں مگر سردیوں میں خود کو صحت مند رکھنے کے لیے اس سوغات کو کھانا فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔

اس کے فوائد درج ذیل ہیں۔

وٹامن اے کا حصول

یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس حلوے کا سب سے اہم جز گاجر ہے، گاجریں وٹامن اے، وٹامن سی، وٹامن کے اور فائبر سے بھرپور سبزی ہے، گاجروں میں موجود وٹامن اے بینائی کو بہتر کرتا ہے اور حلوے کی شکل میں اسے کھانا بھی یہ فائدہ پہنچاسکتا ہے۔

کیلشیئم کا حصول

گاجر کے حلوے میں اکثر افراد دودھ کو بھی شامل کرتے ہیں اور اس وجہ سے یہ سوغات کیلشیئم سے بھرپور ہوجاتی ہے جبکہ اس میں شامل کیے جانے والے خشک میوہ جات کی بدولت پروٹین اور اینٹی آکسائیڈنٹس بھی جسم کو حاصل ہوتے ہیں۔ اس حلوے میں شامل دودھ انسولین کے صحت مند سطح کو سپورٹ کرتا ہے جس سے خلیات کے لیے بلڈگلوکوز کو جذب کرنا آسان ہوتا ہے جبکہ میٹھے کی خواہش کم ہوتی ہے۔

انفیکشن سے تحفظ

گاجر کے حلوے میں صحت کے لیے فائدہ مند فیٹ بھی جسم کو ملتا ہے جو کہ سردیوں میں ہونے والے جسمانی درد کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے، تاہم بہت زیادہ گھی شامل کرنے سے گریز کرنا چاہئے بلکہ دیسی گھی کا استعمال زیادہ بہتر ہے۔ اسی طرح گاجر میں موجود وٹامن اے جسمانی مدافعتی نظام کو بھی بہتر کرکے مختلف انفیکشنز سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

جلد کی صحت کے لیے بھی فائدہ مند

گاجر بیٹا کیروٹین سے بھرپور سبزی ہے جو کہ سورج کی نقصان دہ شعاعوں سے بچانے میں مدد دیتا ہے اور یو وی ریز سردیوں میں زیادہ متحرک ہوتی ہیں، تو گاجر کا حلوہ اس مسئلے سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

بس یہ ذہن میں رکھیں کوئی بھی غذا اسی وقت صحت بخش ثابت ہوتی ہے جب اسے اعتدال میں رہ کر کھایا جائے تو گاجر کا حلوہ بہت زیادہ کھانا نقصان پہنچا سکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

وہ غذا جس کا استعمال نہ کرنا گنج پن کا شکار بنادے

روزانہ 50 سے 100 بال ٹوٹنا غیرمعمولی نہیں بلکہ نارمل بات ہے مگر جب یہ تعداد اس سے زیادہ ہو تو فکرمند ضرور ہونا چاہئے۔

خصوصاً مردوں کو جن میں گنج پن کے اثرات بہت تیزی سے نمایاں ہوتے ہیں۔

ایسی صورتحال میں لوگ مہنگے ترین شیمپو اور دیگر طریقوں کو آزماتے ہیں مگر سب سے اہم پہلو کو بھول جاتے ہیں اور وہ ہے غذا۔

یعنی اکثر بالوں کے تیزی سے گرنے کی وجہ غذائی انتخاب بھی ہوتا ہے۔

درحقیقت جینیاتی مسائل اور جلدی عوارض سے ہٹ کر جسم میں آئرن کی کمی بھی گنج پن کا باعث بن سکتی ہے۔

جرنل آف دی امریکن اکیڈمی آف ڈرماٹولوجی میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ آئرن کی کمی توقعات سے زیادہ بالوں کے گرنے کا باعث بن سکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق گنج پن کا علاج آئرن کی مقدار کے زیادہ استعمال سے ممکن ہے۔

ایک بالغ خاتون کو روزانہ 18 ملی گرام جبکہ مردوں کو 8 ملی گرام آئرن کی ضرورت ہوتی ہے۔

مگر اچھی بات یہ ہے کہ آئرن ایسا جز ہے جو مختلف غذاﺅں میں آسانی سے مل جاتا ہے خصوصاً سرخ گوشت، چکن اور سی فوڈ میں آئرن کی دونوں اقسام پائی جاتی ہیں جبکہ سبزیوں میں ایک قسم ہوتی ہے۔

تحقیق کے مطابق اگر لوگ اپنی غذا کو سبزیوں تک محدود کردیں یا گوشت بہت کم کھائیں تو ان میں گنج پن کا عمل تیز ہوجاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق مردوں کی غذا میں گوشت کا ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ وہ صحت مند بالوں کے لیے ضروری اجزاءسے بھرپور ہوتا ہے۔

تاہم آئرن سپلیمنٹ لینے کا فیصلہ ڈاکٹروں کے مشورے کے بغیر نہیں کرنا چاہئے۔

Google Analytics Alternative