صحت

آلو کے بھرتے کا دنگ کر دینے والا فائدہ

آلو کا شمار ایک ایسی سبزی میں ہوتا ہے جسے دنیا بھر میں سب سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔

آلو کو استعمال فرنچ فرائز سے لے کر چپس بنانے تک ہوتا ہے اور اسے تقریبا دنیا کے ہر ملک میں عام سبزی کے طور پر بھی پکایا جاتا ہے۔

تاہم آلو کے حوالے سے خیال کیا جاتا ہے کہ وہ وزن بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس خیال میں کسی حد تک صداقت بھی ہے۔

لیکن ساتھ ہی آلو کے بہت سارے فوائد بھی ہیں، کیوں کہ اس میں کاربوہائیڈریٹ کی وافر مقدار ہوتی ہے جو بلڈ پریشر کو بہتر بنانے، بہتر نیند کرانے، کمزوری کو دور کرنے، پر رونق جلد اور ذہنی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے۔

لیکن اب آلو کا ایک اور فائدہ سامنے آیا ہے جو یقینا کئی افراد کو دنگ کردے گا۔

جی ہاں، ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ آلو کا بھرتہ دوڑنے کی صلاحیت بہتر بنانے میں مددگار ہوتا ہے۔

سائنس جرنل ’اپلائڈ سائیکولاجی‘ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق امریکی ماہرین کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق سے ثابت ہوا کہ آلو کا بھرتہ دوڑنے کی صلاحیت بہتر بناتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی یونیورسٹی کے ماہرین نے مختصر ’سائیکلسٹ‘ رضاکاروں پر چند سال تک کی تحقیق کی، جس کے نتائج حال ہی میں جاری کیے گئے۔

تحقیق کے دوران ماہرین نے 31 برس کی عمر کے 12 سائیکلسٹ کو تین مختلف گروپ میں تقسیم کرکے انہیں مختلف غذائیں دے کرہفتہ وار 267 کلو میٹر تک سائیکل چلانے کا کہا۔

ماہرین نے ایک گروپ کو صرف سادہ پانی جب کہ دوسرے گروپ کو آلو کا بھرتہ اور تیسرے گروپ کو کاربوہائیڈریٹ پر مبنی خوراک دی اور تمام رضاکاروں کے بلڈ ٹیسٹ سمیت دیگر طرح کے ٹیسٹ کیے گئے۔

رضاکاروں کو سائیکلنگ کرنے سے 24 گھنٹے قبل خوراک دے کر انہیں ریس میں حصہ لینے کا کہا جاتا تھا اور مختلف اوقات میں ان کے مختلف بلڈ ٹیسٹ کیے جاتے رہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ آلو کا بھرتہ کھانے اور کاربوہائیڈریٹ استعمال کرنے والے رضاکاروں میں جہاں دوڑنے کی صلاحیت بہتر ہوئی، وہیں ان کی توانائی میں بھی اضافہ ہوا۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ کاربوہائیڈریٹ پر مشتمل مہنگی غذائیں، جوس اور ڈرنک اور صرف آلو کے بھرتے کھانے میں کوئی فرق نہیں، دونوں طرح کی غذاؤں سے ایک جیسی توانائی حاصل ہوتی ہے۔

ماہرین نے تجویز دی کہ ایتھلیٹس کو آلو کے بھرتے کی غذا کو معمول بنانا چاہیے۔

ذیابیطس کی شکار خواتین کے لیے صحت بخش غذائیں

لندن: دنیا میں ذیابیطس کا مرض عام ہوچکا ہے اور بالخصوص خواتین میں یہ کئی امراض کا پیش خیمہ بھی ہوسکتا ہے جن میں امراضِ قلب، بلڈ پریشر اور فالج وغیرہ شامل ہیں۔ اسی لیے غذا کا خیال رکھتے ہوئے درمیانی اور عمررسیدہ ذیابیطس کی مریضاؤں میں خوراک اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

ٹائپ ٹو ذیابیطس پورے بدن پر منفی اثر ڈالتے ہوئے مزید امراض کی راہ ہموار کرتی ہے لیکن ایک طرح کی ڈیش ڈائٹ سے مزید امراض کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ ڈی اے ایس ایچ یا ڈیش ڈائٹ کا مطلب ہے غذا کے ذریعے ہائی بلڈ پریشر میں کمی اور اس میں پہلے نمک کو کم کرتے ہوئے غیر چکنائی والی ڈیری مصنوعات، مکمل اناج، پھل اور سبزیاں، مچھلی یا مرغی، پھلیاں اور گریاں یعنی بادام اور پستے وغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔

اس وقت کئی ویب سائٹ پر ڈیش ڈائٹ کی تفصیلات پڑھی جاسکتی ہیں اور ان غذائی اجزا سے مزیدار اور صحت افزا کھانا بنانے کے طریقے بھی موجود ہیں۔

صرف امریکا میں ہی 5000 سے زائد خواتین کا مطالعہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ شوگر کی مریض خواتین آگے چل کر دل کی مریضہ بن سکتی ہیں اور اس موقع پر ڈیش غذائیں انہیں جان لیوا امراض سے بچاتی ہیں۔

غذائی ماہرین کا خیال ہے کہ ڈیش طریقے میں سبزیوں کو غیر معمولی طور پر بڑھایا جائے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رکھا جاتا ہے تو اس سے وزن کو قابو میں رکھنا آسان ہوتا ہے۔

بلڈ پریشر کی بعض ادویات کھانے والوں میں خودکشی کا رجحان پیدا ہونے کا انکشاف

گزشتہ ماہ ہی یہ خبر سامنے آئی تھی کہ معدے میں تیزابیت کے لیے استعمال ہونے والی دوا ‘رینیٹیڈائن’ سے تیار ہونے والی تمام ادویات پر ان کے سائیڈ افیکٹس کی وجہ سے پاکستان بھر میں پابندی لگادی گئی تھی۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) اس دوا پر اس وقت پابندی لگائی جب امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (یو ایس ایف ڈی اے) کی جانب سے کہا گیا تھا کہ یہ دوا کینسر کا سبب بن سکتی ہے۔

اور اب خبر سامنے آئی ہے کہ بلڈ پریشر، گردوں اور دل کے فیل ہونے کے علاج میں استعمال ہونے والی بعض ادویات استعمال کرنے والے افراد میں خودکشی کا رجحان پیدا ہوتا ہے۔

کینیڈا میں کی جانے والی تحقیق سے ثابت ہوا کہ بلڈپریشر، ذیابیطس، گردوں اور دل کے فیل ہونے کے لیے استعمال ہونے والی دوا ’ انجیوٹنسن’ کو استعمال کرنے والے افراد میں خودکشی کے رجحانات پیدا ہوتے ہیں۔

سائنس جرنل ’جاما نیٹ ورک اوپن‘ میں شائع رپورٹ کے مطابق کینیڈا کی ’یونیورسٹی آف اونٹاریو‘ کے ماہرین کی جانب سے ’انجیوٹنسن’ دوا لینے والے افراد کے امراض کا جائزہ لینے سے یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ دوا استعمال کرنے والے افراد میں خودکشی کے رجحانات پیدا ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ماہرین نے مذکورہ دوا لینے والے 3 ہزار 856 افراد کی بیماریوں اور مسائل کا جائزہ لیا، جس سے یہ بات سامنے آئی کہ اس دوا کے بعض افراد پر خطرناک نتائج ہوتے ہیں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ڈاکٹروں کی جانب سے بلڈ پریشر، گردوں اور دل کی بیماریوں سمیت ذیابیطس کی وجہ سے دی گئی دوا ’انجیوٹنسن’ سے تیار ہونے والی بعض ادویات استعمال کرنے والے 964 افراد نے خودکشی کی۔

ماہرین کے مطابق خودکشی کرنے والے افراد نے دوا کے استعمال کے ابتدائی 100 دنوں کے اندر خودکشی کی، جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان پر دوا کے غلط اثرات مرتب ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگرچہ حتمی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ بلڈ پریشر اور ذیابیطس کے لیے استعمال ہونے والی دوا کھانے سے ہی لوگوں میں خودکشی کے رجحانات پیدا ہوئے۔

تاہم اس بات کا نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس دوا کے خطرناک منفی اثرات نہیں ہوتے۔

ماہرین نے ’انجیوٹنسن’ سے تیار ہونے والی تمام ادویات پر مزید تحقیق کے لیے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ دوا کے نتائج پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

ماہرین نے جن افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا انہوں نے 1995 سے 2015 تک بلڈ پریشر، ذیابیطس، گردوں اور دل کی بیماریوں کی وجہ سے مذکورہ دوا استعمال کی تھی۔

تاہم رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ’انجیوٹنسن’ دوا لینے والے افراد نے کس سال میں خودکشی کی۔

کینسر کیسے ہوتا ہے؟

کینسر کو اس وقت دنیا میں تیزی سے پھیلنے والے موذی امراض میں شمار کیا جاتا ہے اور ماہرین صحت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ اس کی بروقت تشخیص ہے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ طریقہ کار کے تحت کینسر کی تشخیص اس وقت ہوتی ہے جب وہ شروع ہوچکا ہوتا ہے اور وہ پہلی یا دوسری اسٹیج پر پہنچ چکا جاتا ہے۔

عام طور پر ’بریسٹ کینسر‘ کی تشخیص اس وقت ہوتی ہے جب وہ دوسری یا تیسری اسٹیج پر پہنچ چکا ہوتا ہے، اسی طرح دیگر طرح کے کینسر بھی تاخیر سے تشخیص ہوتے ہیں۔

کینسر کی تشخیص کے بعد اگرچہ ماہرین اس کے ہونے کی وجوہات بھی جان لیتے ہیں،تاہم اب ماہرین نے ایک نئی تحقیق پر کام شروع کیا ہے جس کا مقصد کینسر کے پیدا ہونے کی وجوہات جاننا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے مطابق امریکا و برطانیہ کے ماہرین صحت نے مشترکہ طور پر ایک نئی تحقیق پر کام شروع کردیا۔

رپورٹ کے مطابق ’کینسر ریسرچ یوکے‘ برطانوی یونیورسٹی آف کیمبرج، یونیورسٹی کالج آف لندن اور امریکا کی ’اسٹین فورڈ اور اوریگن یونیورسٹی کے ماہرین کے ساتھ کینسر کے پیدا ہونے کی وجوہات پر تحقیق کرنے کا خیال شیئر کیا، جس کے بعد تمام اداروں کے ماہرین اس معاملے پر تحقیق کریں گے۔

نئی تحقیق کے دوران ماہرین اس بات کا پتہ لگائیں گے کہ کینسر کیسے ہوتا ہے اور وہ پہلے دن انسانی جسم پر کس طرح نمودار ہوتی ہے۔

اس نئی تحقیق کے دوران ماہرین خون، سانس اور پیشاب کے ٹیسٹ سمیت دیگر طریقہ کار کے تحت اس بات کو معلوم کرنے کی کوشش کریں گے کہ کینسر کیسے ہوتا ہے۔

ماہرین اس دوران ایسے مشکوک افراد کو جدید آلات کے ذریعے معائنہ بھی کریں گے جن میں کینسر ہونے کے امکانات کے شکوک و شبہات موجود ہوں۔

اس منفرد تحقیق پر پہلی بار مرتبہ امریکی و برطانوی ماہرین مل کر کام کریں گے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ ماہرین کو اس تحقیق میں کم سے کم تین دہائیاں لگ سکتی ہیں۔

اس وقت دنیا بھر میں کوئی ایسا طریقہ موجود نہیں، جس کے تحت یہ معلوم کیا جا سکے کہ کینسر کیسے ہوتا ہے اور اس کے پیدا ہونے کے ابتدائی دن میں انسانی جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

کینسر کیسے ہوتا ہے پر تحقیق کرنے والی ٹیم میں شامل ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں عام طور پر اس وقت کینسر کی تشخیص ہوتی ہے جب وہ پروان چڑھ چکا ہوتا ہے اور بعض اوقات تو کینسر کی تشخیص آخری اسٹیج میں ہوتی ہے۔

خیال رہے کہ کینسر اس وقت تیزی سے بڑھنے والا موذی مرض ہے اور حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق 2024 تک دنیا بھر میں کینسر کے کیسز کی تعداد 60 فیصد تک بڑھنے کا خدشہ ہے۔

حال ہی میں ہونے والی ورلڈ کینسر لیڈر کانفرنس کے دوران ماہرین نے کہا کہ دنیا بھر میں کینسر بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس کی بڑی وجوہات تمباکو نوشی، ناقص غذا اور دنیا بھر بیٹھے رہنا ہیں، جو اس کا خطرہ بڑھانے کا باعث بنتی ہیں اور 2024 تک ایسے کیسز کی تعداد 60 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے۔

سردیوں میں موسمی نزلہ زکام دور رکھنے میں مددگار غذائیں

موسم سرما کے ساتھ ہی نزلہ زکام، فلو اور بخار کا سیزن بھی شروع ہوجاتا ہے اور لوگ بہت تیزی سے ادویات اور سیرپ وغیرہ خریدنا شروع کردیتے ہیں۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ کچن میں موجود چند چیزیں اس حوالے سے ادویات سے زیادہ موثر فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں اور مضر اثرات کا امکان بھی نہیں ہوتا۔

ویسے تو سوپ کا استعمال بھی فائدہ پہنچا سکتا ہے مگر کچھ سبزیاں، پھل اور مشروبات آپ کو موسم سرما میں بھی ان عام بیماریوں سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔

جڑوں والی سبزیاں

وٹامن سی وہ اہم غذائی جز ہے جو سرد موسم میں موسمی نزلہ زکام کا دورانیہ کم کرنے کے ساتھ حالت کو بھی بہتر بناتا ہے، مالٹے اس کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے مگر جڑوں والی سبزیاں جیسے چقندر، گاجریں اور دیگر بھی یہ فائدہ پہنچاتی ہیں، گاجر کو تو آپ ایسے بھی کھاسکتے ہیں، ورنہ سالن یا سوپ میں ان کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

سبزچائے

سبز چائے سردیوں کے لیے بہترین گرم مشروب ہے، یہ ایسے منرلز اور وٹامنز فراہم کرتا ہے جو مدافعتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق سبز چائے دیگر کیفین والی چائے کے مقابلے میں صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے، اس میں موجود ایک اینٹی آکسائیڈنٹس وائرس کو مارتا ہے۔

جو کا دلیہ

جو کا دلیہ سردیوں کے لیے ایک صحت بخش انتخاب ثابت ہوسکتا ہے، اس میں زنک اور حل پذیر فائبر ہوتا ہے، زنک سے مدافعتی نظام کو مدد ملتی ہے جبکہ فائبر جسم کو گرمائش کا احساس دینے کے ساتھ پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھتا ہے۔

انار

سردیوں کا یہ پھل بہت کم عرصے تک ہی دستیاب ہوتا ہے اور اس کو چھیلنا کافی مشکل لگ سکتا ہے، یہ پھل اینٹی آکسائیڈنٹس اور ورم کش ہوتا ہے جو نزلہ زکام کو دور رکھنے میں مدد دیتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ یہ دل کو تحفظ فراہم کرتا ہے جبکہ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح کم کرتا ہے۔

آلو

سردیوں میں جسم گرمائش مانتا ہے اور آلو جسم کو گرمی فراہم کرسکتے ہیں، آلو کھانے سے دوران خون کا نظام بہتر ہوتا ہے اور جسمانی کاموں کے لیے ایندھن بھی ملتا ہے۔

میٹھا کدو

نارنجی رنگ کا یہ کدو بیٹا کیروٹین سے بھرپور ہوتا ہے اور فائبر کے حصول کا بہترین ذریعہ بھی ہے جو سردیوں کی طویل راتوں میں بے وقت منہ چلانے کی عادت کو کنٹرول کرنے میں بھی مدد دیتا ہے جبکہ موسمی نزلہ زکام سے بھی تحفظ ملتا ہے۔

لہسن

جراثیم کش خاصیت سے بھرپور یہ سبزی موسم سرما کے مخصوص بیکٹریا اور وائرسز وغیرہ کے خلاف بھرپور مزاحمت کرتی ہے۔ اس میں شامل جز الیسین انفیکشنز کو بلاک کرتا ہے اور چکن سوپ کے ساتھ اسے استعمال کریں آپ کو اس کے فوائد یقیناً حیران کرکے رکھ دیں گے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

طرز زندگی کی خراب عادات کینسر کے خطرے میں اضافے کی وجہ

آبادی اور بوڑھے افراد کے اضافے کے نتیجے میں دنیا بھر میں کینسر کیسز کی تعداد 2040 تک 60 فیصد تک بڑھنے کا خدشہ ہے مگر طرز زندگی کی خراب عادات اس اضافے کو زیادہ بڑھانے کا باعث بن سکتی ہے۔

یہ بات ورلڈ کینسر لیڈر کانفرنس کے دوران کینسر اٹلس کے نئے ایڈیشن میں سامنے آئی ہے۔

درحقیقت دنیا بھر میں کینسر بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس کی بڑی وجوہات تمباکو نوشی، ناقص غذا اور دنیا بھر بیٹھے رہنا ہیں، جو اس کا خطرہ بڑھانے کا باعث بنتی ہیں۔

اس اٹلس میں دنیا بھر میں کینسر کا جائزہ لیا گیا جو کہ امریکن کینسر سوسائٹی، یونین فار انٹرنیشنل کینسر کنٹرول اور انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر نے تیار کیا۔

کینسر اس وقت دنیا بھر کے 91 ممالک میں 70 سال سے کم عمر افراد کی اموات کی دوسری بڑی وجہ ہے اور کینسر کی روک تھام میں پیشرفت ممکن ہے۔

اس اٹلس یا رپورٹ میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں تمباکو نوشی کینسر سے ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے جس کی روک تھام کی جاسکتی تھی۔

صرف 2017 میں تمباکو نوشی کے نتیجے میں 23 لاکھ اموات ہوئیں اور ان میں سے 24 فیصد کینسر کی وجہ سے ہوئیں۔

انفیکشن ایجنٹ دنیا بھر میں 15 فیصد نئے کیسز کی وجہ بنتے ہیں جن میں ہیپاٹائٹس بی اور ہیپاٹائٹس سی وغیرہ نمایاں ہیں۔

موٹاپا اور جسمانی وزن زیادہ بڑھ جانے سے 13 اقسام کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جبکہ یہ 2012 میں کینسر کے 3.6 فیصد کیسز کی وجہ بنا۔

رپورٹ کے مطابق موٹاپے، ناقص غذا اور سست طرز زندگی سے جڑے کینسر کیسز کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے جبکہ الکحل سے پوری دنیا میں کینسر سے ہونے والی اموات کی شرح 4.2 فیصد ہے۔

لگ بھگ ہر ملک میں بریسٹ کینسر خواتین میں سب سے عام کینسر ہے اور ہر 4 میں سے ایک کیس ان میں ہی سامنے آتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر مٰں ہر سال 2 لاکھ 70 کینسر کیسز بچوں میں تشخیص ہوتے ہیں اور اس حوالے سے 80 فیصد کیسز ترقی یافتہ ممالک میں رپورٹ ہوتے ہیں۔

بڑی عمر میں ورزش کرنے کے خطرناک نتائج بھی ہوسکتے ہیں، تحقیق

لندن: سائنس دانوں نے 36 ہزار عمر رسیدہ افراد کے مشاہدے کے بعد انکشاف کیا ہے کہ بڑی عمر کے افراد کے خود کو فٹ رکھنے کے لیے غیر محتاط ورزش کا معمول ان کی صحت کے لیے خطرناک بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

برطانوی تحقیقی جریدے میں شائع ہونے والے مقالے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نوجوانی کی عمر میں ورزش کو معمول بنا لینا چاہیئے اس سے صحت مند رہا جا سکتا ہے اور لمبی عمر بھی پائی جا سکتی ہے تاہم غفلت میں گزاری جوانی کے بعد بڑی عمر میں خود پر ورزش کے بوجھ لاد لینے سے مثبت کے بجائے منفی نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ بزرگوں کو ورزش کے لیے مستند اور ماہر انسٹرکٹر یا ڈاکٹر سے مشاورت کے بعد ورزش کرنی چاہیئے۔

امریکی اور برطانوی تحقیق کاروں نے وزن میں اضافے اور عمر بڑھنے کے ساتھ موت کے تعلق کا مشاہدہ کیا اور نتائج کے طور پر وزن کم کرنے سے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں اور قبل از وقت موت کے خدشے کو بیان کیا گیا ہے جس میں سب سے زیادہ امراض قلب میں مبتلا افراد کو غیر محتاط ورزش کے باعث قبل از وقت اموات کے خطرے کا سامنا رہتا ہے۔

پروفیسر آن پین کا کہنا تھا کہ وہ افراد جو عمر بھر موٹے رہے ہوتے ہیں ایسے افراد کی قبل از وقت موت کے امکانات بھی کئی گنا زیادہ ہوتے ہیں، اسی طرح 20 سال کی عمر کے بعد وزن بڑھنے اور درمیانی عمر تک یہی کیفیت رہنے سے ان افراد کی موت کے امکانات ان لوگوں کے مقابلے میں بڑھ جاتے ہیں جن کا وزن کم یا متوازن ہوتا ہے۔

پروفیسر آن پین نے مزید بتایا کہ عمر کے درمیانی حصے یا اس کے بعد غیر ارادی طور پر وزن کا کم ہونا کسی مرض کی علامت بھی ہو سکتا ہے کیوں کہ عمومی طور پر ذیابطیس یا سرطان کے باعث لوگوں کا وزن تیزی سے کم ہوتا ہے۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ ورزش کو بچپن سے ہی معمول بنایا جائے اور نوجوانی میں زیادہ اور بھرپور ورزش کی جائے تاہم ڈھلتی عمر کے ساتھ ورزش کو کم اور آسان کیا جائے۔

جوڑوں کے درد سننے والا مائیکروفون

لندن: پوری دنیا میں پلوں اور تعمیرات میں ٹوٹ پھوٹ نوٹ کرنے والے مائیکروفون عام استعمال ہوتے ہیں۔ یہ چھوٹے مائیکروفون کسی بھی قسم کی شکست و ریخت کو نوٹ کرتے ہیں۔

اب برطانوی ماہرین نے دعویٰ کیا ہےکہ عین اسی ٹیکنالوجی سے ہڈیوں کے جوڑوں کی ٹوٹ پھوٹ کا جائزہ لیا جاسکتا ہے کیونکہ ہڈیوں اور گٹھیا کے مرض کے شکار افراد سے اس فری کوئنسی کی آواز خارج ہوتی ہے جو سنائی نہیں دیتی لیکن دیگر آلات سے انہیں محسوس کیا جاسکتا ہے۔

لنکاسٹر یونیورسٹی کے پروفیسر جان گڈایسر اور ان کے ساتھیوں نے پلوں پر لگنے والا مائیکروفون مریض کے گٹھنے پر لگایا ہے اور اندر کی آواز بتاتے ہیں کہ اندر کے جوڑوں میں اینٹھن ہے یا پھر سوجن موجود ہے۔

اسی بنیاد پر انہوں نے گٹھیا اور جوڑوں کے درد کی شناخت کے لیے اسے استعمال بھی کیا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ خصوصاً گھٹنوں پر نرم کرکی ہڈی رگڑ کر خراب ہوجاتی ہے اور اس کے بعد وہاں سوزش اور درد شروع ہوجاتا ہے۔ اس عمل میں جوڑوں سے آوازیں بھی خارج ہوتی ہیں اور خود ایسی فری کوئنسی والی آوازیں بھی نکلتی ہیں جو ہمیں سنائی نہیں دیتیں۔

اسی لیے گھٹنوں پر حساس مائیکروفون لگا کر اس کا جائزہ لیا گا اور اس وقت گٹھیا کے دیگر ماہرین بھی موجود تھے۔ اس عمل میں 89 کے قریب مریضوں کے گھٹنوں پر مائیکروفون لگا کر ان کی آوازوں کو جمع کرکے اس کا کمپیوٹر سے جائزہ لیا گیا۔ مریضوں کو پہلے کھڑا کیا گیا اور اس کے بعد انہیں بٹھایا گیا ۔ اس طرح ہاتھ اور پیر ہلانے کے دوران آوازوں کو نوٹ کیا گیا۔

اس طرح تجزیہ کرنے میں بہت آسانی ہوئی کہ کونسا مریض جوڑوں کے درد کی کس شدت میں مبتلا ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس نئی تکنیک کو ایکس رے کے ساتھ ملاکرمرض کی مزید بہتر تشخیص کی جاسکتی ہے۔

Google Analytics Alternative