صحت

’سندھ میں مہلک ٹائیفائیڈ کی وبا پر قابو پانے کی کوششیں جاری’

کراچی: سندھ کے وزیر صحت نے ڈرگ انسپکٹرز، متعلقہ حکام اور اداروں کو ٹائیفائیڈ کی وبا پر قابو پانے والی 2 اہم ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔

واضح رہے کہ صوبہ سندھ میں بڑی تعداد میں لوگ معمول کی ادویات سے صحت یاب نہ ہونے والے ٹائیفائیڈ کی وبا میں مبتلا ہوگئے ہیں جس سے درجنوں افراد ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔

صوبے کے چیف ڈرگ انسپکٹر نے صوبے کے تمام اضلاع کے ڈرگ انسپکٹرز، پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچرز ایسوسی ایشن فارما بیورو، پاکستان کیمسٹ اینڈ ڈرگ ایسوسی ایشن، سندھ اور ہول سیل کراچی فارما آرگنائزیشن کو ہدایت کی کہ زندگیاں بچانے کے لیے مناسب مقدار میں 2 اہم ترین اینٹی بائیوٹکس کی دستیابی یقینی بنائیں۔

وزارت صحت کے سینئر حکام کا کہنا تھا کہ ’یہ 2 ادویات اس خطرناک بیماری کے علاج میں نہایت موثر ہیں جس نے سندھ کے اضلاع میں بربادی مچا رکھی ہے اور جس کی وجہ سے دارالحکومت میں چند اموات بھی ہوئی ہیں‘۔

انہوں نے ان ادویات کے نام بھی بتائے تاہم انہوں نے درخواست کی کہ ان کی تشہیر نہ کی جائے کیونکہ ملک میں کئی افراد خود سے دوائیں کھانے کو ترجیح دیتے ہیں اور بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے غیر قانونی فارمیسیز سے ادویات حاصل کرلیتے ہیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ ’سندھ میں ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ کی وبا پھیل گئی ہے جس کے حوالے سے صوبائی حکام عالمی ادارہ صحت اور دیگر غیر ملکی ایجنسیوں سے مشاورت کر رہے ہیں تاکہ اس پر قابو پایا جاسکے’۔

واضح رہے کہ چند ممالک میں سندھ کو خطرناک جگہ تصور کیا جاتا ہے جہاں شہریوں کو صحت کے مسائل کا سامنا ہے۔

حکام کا کہنا تھا کہ ٹائیفائیڈ کی وبا پر معمول کی اور تھرڈ جنریشن اینٹی بائیوٹکس کا اثر نہیں ہوتا تاہم 2 ادویات ان کے علاج میں نہایت موثر ثابت ہوئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بیماری 2016 میں سندھ کے چند اضلاع میں سامنے آئی تھی اور اب تک 8 ہزار افراد اس کا شکار ہوچکے ہیں جن میں کراچی کے شہری بھی شامل ہیں‘۔

اس بیماری کی علامات عام ٹائیفائیڈ جیسی ہی ہیں جس میں متلی، تیز بخار اور سینے کا انفیکشن وغیرہ شامل ہے۔

گندہ پانی ٹائیفائیڈ اور دیگر بیماریوں کی اہم وجہ ہے جس کی وجہ سے خیال کیا جارہا ہے کہ کراچی سے اگر ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ سے جلد چھٹکارا حاصل نہ کیا گیا تو اس کے نقصانات بڑھتے جائیں گے۔

سبزیاں اور ریشے دار غذائیں، ڈپریشن بھی بھگائیں

لندن: ہم جان چکے ہیں کہ غذا اور دماغی صحت کا براہِ راست تعلق ہوتا ہے۔ اب خبر یہ ہے کہ سبزیوں کے جہاں بےحساب فائدے ہیں وہیں یہ ہری نعمتیں اور فائبر والی غذائیں ڈپریشن، اداسی اور دماغی تناؤ دور کرنے میں بہت مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

اس بات کا انکشاف ایک مطالعے سے ہوا ہے جو یونیورسٹی آف مانچسٹر کے پروفیسر جوزف فرتھ اور ان کے ساتھیوں نے کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ناقص غذا دماغی صحت کو متاثر ضرور کرتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ درست غذا کھانے سے ازخود ڈپریشن دور ہوجاتی ہے۔

اس ضمن میں 46 ہزار افراد کا ڈیٹا لیا گیا ہے جس کا تجزیہ کرتے ہوئے ماہرین نے سائیکوسومیٹک میڈیسن میں اس کی تفصیلات شائع کرائی ہیں۔ اس تحقیق میں انہوں نے کہا ہے کہ بعض غذائیں ڈپریشن کے علامات تبدیل کرتی ہیں اور ان کے بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

اچھی بات یہ ہے کہ جو غذائیں ڈپریشن کم کرتی ہیں وہ چربی کم کرنے اور وزن گھٹانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ غذا میں معمولی تبدیلی سے دماغی و اعصابی صحت میں بہتری ہوتی ہے۔ اگر اس کے ساتھ ورزش کو بھی شامل کرلیا جائے تو اس کے فوائد دوچند ہوجاتے ہیں۔

اس سروے سے ایک انکشاف یہ بھی ہوا کہ ڈپریشن زیادہ تر خواتین پر حملہ آور ہوتا ہے اور اگر خواتین سبزیوں اور ریشے دار غذاؤں کا استعمال بڑھائیں تو مردوں کے مقابلے میں خواتین کو اس کا زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔

کیا انسولین کے انجیکشن ماضی کا قصہ بننے والے ہیں؟

دہائیوں سے ذیابیطس کے بیشتر مریضوں کو دن بھر میں اپنے بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے انسولین کے انجیکشن استعمال کرنا پڑتے ہیں۔

مگر مستقبل قریب میں ایک گولی انجیکشن کی ضرورت کو ختم کردے گی۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

برگھم اینڈ ویمن ہاسپٹل اور میساچوسٹس انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی کی مشترکہ تحقیق میں ایسا کیپسول جس میں ایک ننھی سوئی موجود ہوگی جو کہ مکمل طور پر منجمد خشک انسولین پر مشتمل ہوگی اور معدے میں جاکر جب وہ پانی پگھلے گا تو اس میں ایک اسپرنگ حرکت میں آئے گا جو کہ سوئی کو معدے میں انسولین لگانے میں مدد دے گا۔

محققین کا کہنا تھا کہ یہ طریقہ کار بہت آسان اور روایتی انجیکشن کے مقابلے میں کم قیمت ہوگا۔

ذیابیطس کے مرض میں لبلبہ انسولین بنانے سے قاصر ہوجاتا ہے یا ناکافی مقدار بناتا ہے، یہ وہ ہارمون ہے جو کہ دوران خون میں موجود خلیات سے گلوکوز کی سطح کم کرتا ہے۔

اگر علاج نہ کرایا جائے تو ذیابیطس سنگین طبی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے جیسے گردوں کو نقصان، بینائی متاثر ہونا، امراض قلب اور فالج وغیرہ۔

اب اس نئی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ معدہ جسم کا وہ حصہ ہے جو کہ انجیکشن کے حوالے سے زیادہ قوت برداشت رکھتا ہے اور غذائی نالی میں تیز دھار چیز کے حوالے سے برداشت بہت زیادہ ہے۔

محققین نے اس حوالے سے ایسے کیپسول تیار کیے جو کہ مٹر کے دانے کے حجم کے تھے جو کہ گھل جانے والے پولیمر سے بنتے ہیں اور ان میں معمولی مقدار میں اسٹیل ہوتا ہے۔

اس میں ننھی سوئی کو استعمال کرنے کے لیے ایک شوگر ڈسک کی مدد لی گئی جو کہ اسپرنگ سے جڑی ہوتی ہے۔

جب مریض کیپسول نگلتا ہے تو شوگر ڈسک گھل کر اسپرنگ کو حرکت میں لاتی ہے۔

اس حوالے سے تحقیقی ٹیم نے جانوروں پر ابتدائی تجربات کیے اور 300 مائیکرو گرام انسولین جسم کا حصہ بنانے میں کامیاب رہے۔

حالیہ تجربات میں اس مقدار میں 5 ملی گرام کا اضافہ کردیا گیا اور یہ مقدار اتنی زیادہ ہوگئی جو کہ ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریض عام طور پر انجیکٹ کرتے ہیں۔

اب محققین ایک کمپنی کے ساتھ مل کر انسانوں پر تجربات کے لیے گولی کی تیاری میں مصروف ہیں اور اگلے 3 سال میں تجربات کے لیے پرامید ہیں۔

یہ مزیدار ‘پانی’ پینا صحت کے لیے فائدہ مند

ناریل ذائقے میں بہت مزے کا ہوتا ہے اور مختلف فوائد کا حامل بھی ہوتا ہے مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ اس کا پانی بھی کیا کچھ کرسکتا ہے؟

ناریل کا پانی یا عرق قدرتی طور پر تازہ دم کردینے والا مشروب ہے جو کہ آسانی سے ہضم بھی ہوجاتا ہے۔

اس میں ایسے متعدد وٹامنز اور منرلز ہوتے ہیں جو کہ جسم میں پانی کی مقدار بررار رکھنے میں دینے کے ساتھ دیگر فوائد پہنچاتے ہیں جو درج ذیل ہیں۔

موٹاپے اور توند سے جلد نجات

سافٹ ڈرنکس اور دیگر میٹھے مشروبات کی جگہ ناریل پانی کا استعمال موٹاپے سے بچاﺅ کے لیے فائدہ مند ہے، درحقیقت یہ صرف 14 دن میں توند میں نمایاں کمی لانے میں مدد دیتا ہے۔ یہ کم کیلوریز مشروب پیٹ کو دیر تک بھرے رکھنے کا احساس دیتا ہے، کھانے سے قبل ایک گلاس اس مشروب کا استعمال آپ کو زیادہ کھانے نہیں دے گا۔

انرجی ڈرنک کا قدرتی متبادل

ناریل کا پانی ایسا مشروب ہے جو ورزش یا کھیل کود کے دوران الیکٹرولائٹ کا توازن بحال کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اسے کسی بھی کھیل سے قبل اور بعد میں پیا جاسکتا ہے جبکہ اس میں موجود پوٹاشیم کی مقدار بھی کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ اسے کسی اسپورٹس یا انرجی ڈرنک سے زیادہ بہتر بناتی ہے۔

نظام ہاضمہ بہتر کرے

بائیو ایکٹیو اجزاءکی موجودگی اور فائبر کا اجتماع اس مشروب کو بدہضمی سے بچاﺅ کے لیے مددگار بناتے ہیں جبکہ معدے میں تیزابیت کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔ اگر آپ کو پیٹ پھولنے یا معدے میں تیزابیت کا سامنا ہو، تو ایک گلاس ناریل کا پانی پینا اس احساس کو کم کردیتا ہے۔

ہائیڈریشن بڑھائے

اس مشروب کی جسم میں نمی کو برقرار رکھنے کی خوبی جسم کے لیے درکار سیال فراہم کرتا ہے، یہ تازہ دم کرنے کے ساتھ کچھ میٹھا ہوتا ہے جو کہ منہ کا ذائقہ بھی بہتر کرتا ہے۔

بلڈ پریشر کم کرے

اس میں موجود وٹامن سی، میگنیشم اور پوٹاشیم جیسے اجزاءناریل کے پانی کو بلڈ پریشر کی سطح کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ روزانہ ایک گلاس اس کا استعمال مطلوبہ نتائج میں مدد دے سکتا ہے۔

ہموار جلد

اینٹی آکسائیڈنٹس کا اچھا ذریعہ ہونے کی وجہ سے ناریل کا پانی جسم میں موجود زہریلے مواد کو نکال باہر کرتا ہے اور ضروری غذائیت فراہم کرتا ہے۔ پینے کے علاوہ اسے روزانہ چہرے پر لگانا بھی فائدہ مند ہوتا ہے جو کہ جلد کو صحت مند اور خوبصورت بناتا

مزاج خوشگوار بنائے

اس مشروب میں کئی اقسام کے وٹامنز موجود ہیں، ان میں سے بی کمپلکیکس وٹامنز ذہنی تناؤ میں کمی لانے میں مدد دیتے ہیں اور مزاج کا چڑچڑا پن کم ہوتا ہے۔ اس میں موجود مگنیشیم ڈپریشن میں کمی لانے میں مدد دیتا ہے۔

عمر کے اثرات کو سست کرنا

ناریل کا پانی ایک نباتاتی ہارمون cytokinins کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے جو کہ صحت پر جادوئی اثرات مرتب کرتا ہے، یہ ہارمون نہ صرف خلیات کو ریگولیٹ کرتا ہے بلکہ عمر بڑھنے کے جسم پر مرتب ہونے والے اثرات کو بھی سست کرتا ہے۔اسی طرح اس کا استعمال کینسر جیسے مرض سے بچانے میں بھی ممکنہ طور پر مدد دیتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

انجیکشن کی جگہ باریک سوئیوں والے کیسپول تیار

بوسٹن: سوئی لگوانے سے ڈرنے والوں کے لیے ایک خوشخبری ہے کہ ماہرین نے ایسا کیپسول تیار کیا ہے جس میں موجود باریک سوئیاں کوئی درد پیدا کئے بغیر معدے کے اندر دوا پہنچاتی ہے جس کے جانوروں پر ابتدائی ٹیسٹ انتہائی کارآمد رہے ہیں۔

ہارورڈ سمیت کئی جامعات کے اشتراک سے کام کرنے والی ڈنمارک کی نووو نورڈِسک کمپنی نے جدید کیپسول بنائے ہیں جن میں خشک دوا بھری گئی ہے اور اس کے سرے پر باریک سوئیوں والے انجیکٹر لگائے گئے ہیں جو پیٹ کے اندر جاکر معدے کی سطح پر چپک کر دوا خارج کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ انجیکشن ایک طرح کے کچھوے ’لیپرڈ ٹورٹوئز‘ کے پیروں کو دیکھتے ہوئے بنائے گئے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ پیٹ میں جاتے ہی یہ ایک سیکنڈ کے دسویں حصے میں سیدھے ہوجاتے ہیں یعنی سوئیاں نیچے کی جانب ہوجاتی ہیں اور معدے میں چبھ کر دوا اندرجانا شروع ہوجاتی ہے۔

کیپسول کے نیچے باریک سوئیاں لگی ہے اور ہرسوئی کی جڑ پر باریک اسپرنگ دبایا گیا ہے اور اسے روکنے کے لیے ایک قسم کی شکر کا ٹکڑا لگایا گیا ہے۔ جیسے ہی کیپسول پیٹ میں جاتا ہے اور تو معدے میں شکر گھل جاتی ہے، اس سے اسپرنگ کھتا ہے اور سوئی جھٹکے سے نکل پر معدے کی سطح میں ایک ملی میٹر گہرائی تک چلی جاتی ہے۔ سوئی اندر جاتے ہی دوا خارج کرتی ہے اور یوں دوا خون میں شامل ہوجاتی ہے۔

ہم جانتے ہے کہ معدے کے اندر استر کی موٹائی 4 سے 6 ملی میٹر تک ہوتی ہے اور ضروری ہے کہ انجیکشن ایک حد تک ہی اندر جائے ۔ تاہم یہ اچھی بات ہے کہ معدے دیواروں میں تکلیف کا احساس بتانے والے اعصاب نہیں ہوتے۔

ماہرین نے تجرباتی طور پر خنزیروں کو کیپسول کی بجائے براہ راست باریک سوئیاں دیں جو معدے میں پہنچی اور بہت کامیابی سے معدے کے اندر انسولین جذب کرائی جس کے بعد وہ خون میں پہنچ گئیں۔ سوؤروں کو نہ ہی درد ہوا اور نہ ہی کوئی بے چینی پیدا ہوئی۔ اس کے بعد ماہرین نے ایک ہفتے بعد اینڈواسکوپی سے ان کے پیٹ کا معائنہ کیا تو وہاں کسی قسم کی کوئی خرابی نظر نہیں آئی۔ تاہم زیادہ بہتر نتائج خالی پیٹ کی صورت میں ہی برآمد ہوئے۔ اس طرح سوئیوں والے کیپسول صبح کے وقت کھانا ہی بہتر ہوگا۔

ماہرین پرامید ہیں کہ کیپسول کے ذریعے نہ صرف انسولین بلکہ ہرقسم کی دوا کو پیٹ کے ذریعے خون تک پہنچانا ممکن ہوگا۔ ہمارے معدے میں طرح طرح کے تیزاب اور دیگر مائعات ہوتے ہیں جو کئی دواؤں کو بے اثر کردیتے ہیں ۔ اسی لیے مریضوں کے لیے انجیکشن سے دوا دینے کی ضرورت پیش آتی ہے۔

اچار کھانے کے یہ فائدے جانتے ہیں؟

کھانے کے ساتھ اچار پسند کرتے ہیں اور اس کا جوس یا عرق بھی استعمال کرتے ہیں؟ اگر ہاں تو وہ آپ کی صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔

جی ہاں اچار اور اس کا عرق صحت کے لیے کئی متاثرکن فوائد کے حامل ثابت ہوتے ہیں مگر کچھ احتیاط کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

جیسے ہائی بلڈ پریشر یا نمک کے حوالے سے حساس ہیں تو اس سے گریز کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔

یہاں اس کے چند فوائد درج ذیل ہیں۔

سانس کی بو سے نجات

سانس کی بو کس کو پسند آسکتی ہے ؟ منہ میں بیکٹریا کی مقدار بڑھنا اس کا باعث بنتا ہے اور اچار اور اس کا عرق ان بیکٹریا سے نجات میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اچار میں موجود سرکہ جراثیم کش ہوتا ہے جو کہ منہ کی صفائی کے ساتھ سانس کی بو ختم کرتا ہے، اچار کے عرق کے چند قطرے پینا اور اس سے کلی کرنا سانس کو مہگانے کے لیے کافی ہے۔

مسلز کی اکڑن سے تحفظ

اچار کا عرق نمک سے بھرپور ہوتا ہے اور یہ جسم کے لیے سیال یا پانی کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، یہ اس صورت میں بہت فائدہ مند ہے جب آپ ایک گھنٹہ یا اس سے زیادہ وقت تک کے لیے ورزش یا کوئی جسمانی مشقت کرتے ہیں جس کے دوران پسینے کی صورت میں پانی کا اخراج ہوتا ہے اور ڈی ہائیڈریشن مسلز اکڑنے کا باعث بنتی ہے۔ ایک امریکی تحقیق کے مطابق اچار کا عرق مسلز کے اکڑنے کے مسئلے کی روک تھام میں عام پانی کے مقابلے مین زیاہد فائدہ مند ہوتا ہے۔ یہ عرق اکڑن کی تکلیف میں ریلیف بھی 37 فیصد تیزی سے دیتا ہے۔

نظام ہاضمہ میں بہتری

حالیہ برسوں کے دوران معدے سے متعلق امراض میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، اگر آپ کے پاس خمیری اچار موجود ہے تو اس کا عرق پینا نظام ہاضمہ کے مسائل سے بچاﺅ میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق اس عرق میں موجود پرو بائیوٹیکس معدے میں موجود صحت کے لیے فائدہ مند بیکٹریا کی نشوونما اور صحت مند توازن کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

اینٹی آکسائیڈنٹس کا حصول

اچار کے عرق سے وٹامن سی اور ای جیسے اینٹی آکسائیڈنٹس جسم کو ملتے ہیں، ایک ہسپانوی تحقیق کے مطابق یہ اینٹی آکسائیڈنٹس بیکٹریا، وائرس اور پیرا سائٹ وغیرہ سے لاحق ہونے والے انفیکشن سے تحفظ دیتے ہیں جبکہ یہ جسم میں موجود فری ریڈیکلز سے ہونے والے نقصان سے بھی مالیکیولز کو بچاتے ہیں۔

جسمانی وزن میں کمی

ایک طبی تحقیق کے مطابق اچار کا عرق جسمانی وزن میں کمی کے ہدف کے حصول میں مدد دے سکتا ہے جس کی وجہ اس میں موجود سرکہ ہے۔ سرکے میں موجود ایسٹیک ایسڈ جسم کی نشاستہ کو ہضم کرنے کی صلاحیت میں مداخلت کرتا ہے اور وہ کم کیلوریز کی شکل میں دوران خون کا حصہ بنتا ہے، جس سے موٹاپے سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

بلڈ شوگر لیول کو بہتر کرے

ہائی بلڈ شوگر لیول ذیابیطس ٹائپ ٹو کا باعث بن سکتا ہے جبکہ دیگر امراض کا خطرہ الگ لاحق ہوتا ہے۔ سرکہ بلڈ شوگر لیول کو کم کرنے میں فائدہ مند ثابت ہوا ہے جو کہ انسولین کے لیے جسمانی ردعمل کو بہتر کرکے بلڈ شوگر لیول کو کھانے کے بعد ڈرامائی حد تک کم کرتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق کھانے سے پہلے کچھ مقدار میں سرکہ پینا بلڈ شوگر لیول کو ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار افراد میں کھانے کے بعد مستحکم رکھتا ہے۔

کولیسٹرول میں کمی

ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اچار کا اجوائن مسالہ نہ صرف بدہضمی، پیٹ میں درد، گیس اور ہاضمے کے دیگر مسائل میں کمی لاتا ہے بلکہ یہ خون میں چربی کی مقدار میں کم کرتا ہے۔

ہچکیوں سے نجات

ویسے تو اس کے حوالے سے سائنسی شواہد موجود نہیں مگر متعدد افراد کا دعویٰ ہے کہ تھوڑی سے مقدار میں اچار کا عرق پینا ہچکیوں سے نجات دلانے کا اچھا علاج ہے، ہچکیاں آرہی وہں تو آدھا چائے کا چمچ ہر چند سیکنڈ بعد اس وقت پینا جاری رکھیں جب تک ہچکیاں تھم نہیں جاتیں۔

ڈی ہائیڈریشن سے تحفظ

اچار کے جوس میں موجود سوڈیم اور پوٹاشیم جسمانی ڈی ہائیڈریشن سے مقابلہ کرنے میں مدد دیتے ہیں، سوڈیم اور پوٹاشیم جسم کو وہ الیکٹرولیٹس فراہم کرتے ہیں جو پسینے کے ذریعے خارج ہوجاتے ہیں، ویسے تو پانی بھی ڈی ہارئیڈریشن دور کرنے کے لیے موثر ہے مگر اچار کا جوس زیادہ تیز ریکوری میں مدد دیتا ہے۔

گلے کی تکلیف کا علاج

سننے میں تو عجیب لگے گا کہ گلے کا درد کا علاج کسی ترش چیز سے کیا جائے مگر اچار کا جوس ممکنہ طور گلے کے مسلز کو سکون پہنچا سکتا ہے جس سے تکلیف سے نجات میں مدد ملتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

نمونیا کی شناخت میں مدد کرنے والی اسمارٹ اسٹیتھو اسکوپ

نیویارک: امریکی ماہرین نے مصنوعی ذہانت کے بل پر نمونیا کی پیشگوئی کرنے والی ایسی اسٹیتھو اسکوپ بنائی ہے جو اس جان لیوا مرض کی بڑی حد تک پیشگوئی کرسکتی ہے۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی کی ذیلی کمپنی سوناووی لیبس نے 1800 سے اب تک کبھی نہ بدلنے والی اسٹیتھواسکوپ کو ایک نیا روپ دے کر اسے اسمارٹ بنایا ہے۔ اب یہ سینے سے اٹھنے والی آوازوں کو پڑھ کر ان کا بہتر انداز میں تجزیہ کرسکتی ہے۔

مریض کے سینے کے بعض مقامات کی آوازوں کا موازنہ ایک ایسے ٖبیس سے کیا جاتا ہے جس میں نمونیا کے مریضوں کے سینے کی آوازیں محفوظ ہیں۔ اس بنا پر اسٹیتھو اسکوپ اور اس سے وابستہ سافٹ ویئر نمونیا کی بہت درستی سے شناخت کرتا ہے۔

حساس اسٹیتھو اسکوپ کسی بھی ماحول میں پھیپھڑوں کی معمولی آواز بھی سن لیتی ہے۔ اس پر کام کرنے والے پروفیسر جیمز ویسٹ نے بتایا کہ ڈاکٹروں کی مدد کے بغیر یہ ٹیکنالوجی نہ صرف نمونیا بلکہ دیگر امراض کی شناخت بھی کرسکتی ہے۔

نمونیا شناخت کرنے والی اسٹیتھو اسکوپ الگورتھم ، ڈیٹا بیس اور پروسیسر کی مدد سے کام کرتی ہے۔ ابتدائی درجے میں یہ 87 فیصد درستی سے نمونیا کی پیشگوئی کرسکتی ہے۔ اب سوناوی کمپنی فیلکس اور فیلکس پرو کے نام سے دو جدید ترین اسٹیتھو اسکوپ فروخت کے لیے پیش کررہی ہے۔

شادی کے لیے مثالی عمر کونسی ہے؟

کہا جاتا ہے کہ شادی کا لڈو جو کھائے وہ بھی پچھتائے اور جو نہ کھائے وہ بھی پچھتائے، مگر زندگی بھر کے اس رشتے کے لیے بہترین عمر کیا ہے؟

اس کا واضح تعین کرنا تو ممکن نہیں مگر سائنس نے دریافت کیا ہے کہ 20 سال کے بعد شادی کرلینا درمیانی عمر میں نیند کا معیار بہتر اور ذہنی تناﺅ سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

مینیسوٹا یونیورسٹی کی تحقیق میں عندیہ دیا گیا ہے کہ شادی کرنا قبل از وقت موت سے تحفظ میں مدد دیتا ہے۔

شادی کے مختلف فوائد کئی طبی تحقیقی رپورٹس میں سامنے آچکے ہیں مگر اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ نوجوانی میں شادی کرنا درمیانی عمر میں ذہنی بے چینی، تناﺅ سے تحفظ دیتا ہے۔

تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ میاں بیوی کا تعلق خوشگوار اور اچھا ہو۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ جلد شادی کرنے سے 37 سال کی عمر میں نیند کا معیار بھی بہتر ہوتا ہے ورنہ اس عمر میں نیند کا معیار خراب ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ شادی کے بعد جوڑے کے رویے کافی حد تک مشترک ہوجاتے ہیں جبکہ ان کی صحت پر بھی طویل المعیاد بنیادوں پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جب ذہنی تناﺅ کا کم سامنا ہو اور نیند کا معیار اچھا ہو تو جسم کی مشین کام بھی بہتر کرتی ہے جس کا نتیجہ اچھی صھت کی شکل میں نکلتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل پرسنل ریلیشن شپ میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل امریکا کی یوٹاہ یونیورسٹی کی تحقیق میں محققین نے جاننے کی کوشش کی کہ آخر وہ کونسی عمر ہے جب شادی کرنا جوڑے کے لیے بہترین اور تعلق کو دیرپا بناتا ہے۔

تحقیق میں ہزاروں افراد کی شادیاں ٹوٹنے کی عادت کا جائزہ لے کر دریافت کیا گیا کہ 28 سے 32 سال وہ بہترین عمر ہے جب شادی کے رشتے میں بندھنا اس تعلق کو دیرپا بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران محققین نے 2006 سے 2013 تک امریکا کے خاندانی امور سے متعلق قومی سروے کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا اور اس کے نتائج نے 28 سے 32 سال کی عمر شادی کے لیے مثالی قرار دیا۔

محققین کے خیال میں جلد شادی کرنا اس تعلق کے ٹوٹنے کا خطرہ بڑھاتا ہے جبکہ اڈھیر عمری میں زندگی بھر کا تعلق بھی کچھ اس قسم کے خطرے کی زد میں ہوتا ہے۔

Google Analytics Alternative