قومی

منی بجٹ پیش؛ موبائل فونز، سگریٹ اور بڑی گاڑیاں مہنگی

 اسلام آباد:  تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں منی بجٹ پیش کردیا گیا جس میں موبائل فونز، سگریٹ اور بڑی گاڑیاں مہنگی کرنے جبکہ وزیراعظم، وزرا اور گورنرز کو حاصل ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا۔  وزیر خزانہ اسد عمر نے فنانس بجٹ میں ترامیم پیش کرتے ہوئے کہا کہ غریب اور متوسط طبقے کو بچانا ہے، بجٹ میں تبدیلی نہ کی گئی تو مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں اور خسارہ 27 سو ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔

سگریٹ، موبائل فون، بڑی گاڑیاں مہنگی

اسد عمر نے وزیراعظم، وزرا اور گورنرز کو ٹیکس سے حاصل استثنیٰ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب ان اعلیٰ حکام سے بھی ٹیکس لیا جائے گا، پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے اور کم از کم پنشن 10 ہزار روپے ہوگی، مہنگے موبائل فونز پر ڈیوٹی عائد کی جارہی ہے، بجٹ میں سگریٹ پر بھی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے، 1800 سی سی سے زیادہ کی گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح 10 سے بڑھا کر 20 فیصد کردی گئی۔

ایکسپورٹ انڈسٹری کو 5 ارب کا ریلیف

وزیر خزانہ نے کہا کہ ریگولٹری ڈیوٹی کی مد میں ایکسپورٹ انڈسٹری کو 5 ارب روپے کا ریلیف دے رہے ہیں، پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی ٹیکس میں حالیہ اضافہ واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ پٹرولیم ٹیکس کی مد میں 300 ارب روپے اکٹھے کیے جائیں گے، نان فائلرز کے لیے بینکنگ ٹرانزیکشن پر 0.4 فیصد ٹیکس کو 0.6 فیصد کیا جارہا ہے اور اب ان پر ملک میں جائیداد خریدنے پر پابندی بھی ختم کردی گئی ہے۔

تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح

وزیر خزانہ نے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح کے بارے میں بتایا کہ چار لاکھ روپے سالانہ آمدن والے افراد کو ٹیکس سے مستثنیٰ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، چار سے آٹھ لاکھ آمدن پر ایک ہزار روپے ٹیکس، 8 سے بارہ لاکھ پر دو ہزار روپے ٹیکس، بارہ لاکھ سے 24 لاکھ سالانہ آمدن پر 5 فیصد ٹیکس، 24 سے 30 لاکھ روپے آمدن پر 60 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ 30 لاکھ سے زائد آمدن پر 15 فیصد ٹیکس، 40 سے 50 لاکھ آمدن پر 25 فیصد اور 50 لاکھ سے زائد آمدن پر 29 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

کراچی کیلئے 50 ارب روپے مختص

اسد عمر نے کہا کہ یوریا کی ترسیل بڑھانے کے لیے 1 لاکھ ٹن کھاد درآمد کی جائے جس میں سبسڈی دی جائے گی، دیامر اور بھاشا ڈیمز  کو 6 سال میں تعمیر کیا جائے گا، مالی سال 2018 میں ترقیاتی منصوبوں پر 6 سو 61 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، جسے اس سال بڑھا کر 725 ارب روپے کردیا گیا ہے، اس میں سے 50 ارب کراچی کی ترقی کے لیے مختص کیے گئے ہیں، مزدوروں کے 8276 گھروں کی تعمیر کیلیے ساڑھے 4 ارب روپے جاری کیے جائیں گے، خیبر پختونخوا میں متعارف کروائے گئے صحت پروگرام کو قبائلی علاقوں اور اسلام آباد میں بھی شروع کیا جائے گا

پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس

اسد عمر نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ چوروں کے خلاف کارروائی کے لیے فوری اقدامات کرنے ہوں گے، حکومت نے نان فائلرز پر بوجھ ڈالا ہے، تمام اقدامات کے نتائج آنے میں تھوڑا وقت لگے گا، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا تخمینہ 18 سے 21 ارب ڈالرز ہے، تنخواہ دارطبقے کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیکس 25 فیصد کردیا ہے۔

وزیراعظم نے مدینہ کی سرزمین پر قدم رکھنے سے پہلے ہی جوتے اتاردیے

وزیراعظم عمران خان نے مدینہ منورہ کی سرزمین پر قدم رکھنے سے پہلے ہی اپنے جوتے اتاردیئے۔

وزیراعظم عمران خان مدینہ منورہ ایئرپورٹ پر طیارے سے نکلے تو انہوں نے جوتے نہیں پہن رکھے تھے وہ ننگے پاؤں ہی ایئرپورٹ کے لاؤنج تک گئے۔

یہاں تک کہ لاؤنج میں سعودی حکام کے ساتھ چلتے ہوئے  جو تصاویر منظر عام پر آئیں  ان میں دیگر افراد نے  جوتے پہن رکھے ہیں جب کہ وزیراعظم عمران خان ننگے پاؤں چل رہے ہیں۔

انتخابات سے قبل بھی عمران خان جب اپنی اہلیہ کے ہمراہ مدینہ منورہ گئے تھے تب بھی انہوں نے جوتے نہیں پہنے تھے۔

این آراو کیس؛ آصف زرداری نے سپریم کورٹ کا فیصلہ چیلنج کردیا

 اسلام آباد: سابق صدر آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ کا 29 اگست کا فیصلہ چیلنج کردیا ہے۔

این آر او کیس میں سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے سپریم کورٹ کا 29 اگست کا فیصلہ چیلنج کرتے ہوئے نظرثانی درخواست دائر کردی ہے، نظر ثانی درخواست فاروق ایچ نائیک نے دائر کی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آصف زرداری نیب کے کیسز سے پہلے ہی بری ہوچکے ہیں، قانون کے تحت کسی شخص کے ماضی کے اثاثوں کی تفصیلات نہیں مانگی جاسکتی، لیکن عدالت نے29 اگست کو آصف زرداری، ان کے بچوں اور اہلیہ کے اثاثوں کی تفصیلات مانگی ہے، اثاثوں سے متعلق پرانا ریکارڈ دستیاب نہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ انکم ٹیکس قانون پانچ سالوں کے اثاثوں کے جائزے کی اجازت دیتا ہے اور الیکشن ایکٹ کے تحت صرف تفصیلات مانگی جاسکتی ہیں جب کہ سپریم کورٹ نے ماضی میں ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا لیکن 29 اگست کو سپریم  کورٹ کی جانب سے دیا گیا حکم کسی قانون کی بنیاد پر نہیں تھا، اثاثوں کی تفصیلات مانگنا بینادی حقوق اور آرٹیکل 4، 175 اور 187 کی خلاف ورزی ہے۔

درخواست میں استدعا کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ  عدالتی حکم سے معصومیت ثابت کرنے کا بوجھ آصف زرداری پر ڈال دیا گیا ہے جب کہ سابق صدر نیب کے مقدمے سے بری ہو کر اپنی معصومیت ثابت کرچکے ہیں، اور ان پر کرپشن کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوسکا،  ان کے  خلاف جھوٹے مقدمے کوئی نئی بات نہیں، سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔

حکومت نیک نیتی سے کالا باغ ڈیم پر خدشات دور کرے، سپریم کورٹ

 اسلام آباد: سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ صوبے قومی مفاد میں کالاباغ ڈیم کے حوالے سے اختلافات ختم کریں اور حکومت نیک نیتی سے ڈیم کے حوالےسے خدشات دور کرے۔

سپریم کورٹ نے پانی کی کمی اور ڈیمزکی تعمیر سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے جب کہ ڈیمزکی تعمیر اورکام کی نگرانی کے لیےعملدرآمد کمیٹی بھی  قائم کردی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کے تفصیلی فیصلے کے مطابق عملدرآمد کمیٹی کےسربراہ چیئرمین واپڈا ہوں گے اوراس میں ماہرین، وفاق اور خیبرپختون خوا حکومت کے حکام شامل ہوں گے، عملدرآمد کمیٹی 3 ہفتوں کے دوران جامع رپورٹ دے گی۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کالاباغ ڈیم کی پہلی فزیبیلٹی رپورٹ 1956 میں بنائی گئی، 16 ستمبر 1991 کو مشترکہ مفادات کونسل نے کالاباغ  ڈیم کی تعمیر کا فیصلہ کیا، اور پھر ڈیم کے حق میں دوسرا فیصلہ 9 مئی 1998 کو کیا گیا، لیکن مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں پر آج تک عمل نہیں کیا گیا، وفاقی حکومت کالا باغ ڈیم سے متعلق آرٹیکل 154 کے تحت مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں پر عملدرآمد کرے۔

فیصلے میں تحریر ہے کہ مقامی اور بین الاقوامی ماہرین نے کالاباغ  ڈیم کو بہترین قرار دیا ہے، ڈیمز کی عدم تعمیر کے باعث پانی کی قلت کا سامنا ہے اور ہر سال سیلاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن ڈیم کی تعمیر میں رکاوٹیں ڈالی گئیں، کالاباغ ڈیم مخالفین کے خدشات غلط فہمیوں پر مبنی ہیں۔ صوبے قومی مفاد میں کالاباغ ڈیم کے حوالے سے اختلافات ختم کریں اور حکومت نیک نیتی سے ڈیم کے حوالےسے خدشات دور کرے۔

نواز شریف، مریم، صفدر کی سزا معطلی کیس کا فیصلہ کل آنے کا امکان

اسلام آباد: نواز شریف کی سزا معطلی کیس کی سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے جسٹس اطہر من اللہ پر سابق وزیراعظم کے ساتھی ہونے کا اعتراض اٹھادیا جب کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ تحریری دلائل کی بنیاد پر کل فیصلہ سنایا جاسکتا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بنچ نے نواز شریف، مریم اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی سزا معطلی کی درخواستوں کی سماعت کی۔

نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر اکرم قریشی نے جسٹس اطہر من اللہ سے کہا کہ آپ ایسے ریمارکس دیتے ہیں جس سے پریس میں طرح طرح کی باتیں آتی ہیں، آپ کے بارے میں بھی لکھا جاتا ہے کہ آپ عدلیہ تحریک کا حصہ اور نواز شریف کے قریبی ساتھی تھے.

جسٹس اطہر من اللہ نے نیب پراسیکیوٹر سے کہا کہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں، کیا آپ میری غیر جانبداری پر سوال اٹھا رہے ہیں؟، میں نے تو اس حکومت کے خلاف بھی فیصلے دیئے ہیں، آپ دونوں فریقین نے ہم پر اعتماد کیا پھر ہم نے سماعت شروع کی تھی۔ جسٹس میاں گل حسن نے کہا کہ قریشی صاحب ہم یہاں صرف درخواستیں سننے بیٹھے ہیں، آپ پلیز کیس تک محدود رہیں۔

اکرم قریشی کے بنچ پر اعتراضات پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہم نے شروع میں ہی پوچھا تھا کہ ہم پر اعتماد ہے یا نہیں؟، لوگ کیا کہتے ہیں ہمیں اس سے تعلق نہیں ہے۔ نیب کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ ان درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ دیں تاہم عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کی استدعا مسترد کردی۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ مفروضہ ہے کہ جائیداد بچوں کے قبضے میں ہے لیکن ملکیت نوازشریف کی ہے، کیا مفروضے پر فوجداری قانون میں سزا سنادیں، کوئی ایک کنکشن دکھا دیں جس سے نوازشریف کا اس پراپرٹی سے تعلق ثابت ہو۔ میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اگر یہ جائیداد نوازشریف کی ہے تو مریم نواز کو 9 اے 5 میں سزا کیسے ہوگئی؟۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ میں تفصیلی چارٹ پیش کردوں گا جس میں تعلق ظاہر ہوجائے گا، اگر سارے ٹرائل پر بات کریں گے تو زیادہ وقت لگے گا۔ جسٹس میاں گل حسن نے کہا کہ آپ کے تحریری دلائل مل چکے ہیں، اگر کل آپ کسی وجہ سے دلائل مکمل نہیں کر پاتے تو ہم تحریری دلائل کی بنیاد پر فیصلہ سنا دیں گے۔

شراب برآمدگی کیس میں شرجیل انعام میمن شریک ملزم قرار

کراچی: سابق صوبائی وزیر اور پیپلزپارٹی کے رہنما شرجیل میمن کو شراب برآمدگی کیس میں شریک ملزم قرار دے دیا گیا۔

کراچی کی سٹی کورٹ میں ضیاالدین اسپتال میں شرجیل میمن کے کمرے سے شراب برآمدگی کیس کی سماعت ہوئی۔ تفتیشی افسر نے کیس سے متعلق چالان پیش کیا۔ چالان میں انکشاف ہوا ہے کہ شرجیل میمن کے کمرے کی تلاشی کے دوران 3 بوتلیں ملی تھیں جن میں سے ایک بوتل میں 2 انچ شراب موجود تھی۔

چالان میں بتایا گیا ہے کہ شرجیل انعام میمن ضیاالدین اسپتال کے وی آئی پی کمرہ نمبر 4013 میں زیرِعلاج تھے، یکم اگست کو معلوم ہوا کہ کمرہ میں غیر قانونی حرکات ہورہی ہیں اور سی سی ٹی وی کے مطابق نامزد ملزمان کی مشکوک سرگرمیاں نظرآئیں۔

ملزمان شکردین، مشتاق علی اور محمد جام نے برآمد مال میں ردو بدل کا اعتراف کیا۔ ملزم شکردین نے اعتراف کیا کہ شراب کی بوتلیں میں نے ڈسٹ بن میں پھینکیں، ایک بند اور ایک کھلا ہوا سگریٹ کا پیکٹ برآمد ہوا، سی سی ٹی وی کے مطابق ملزمان نے برآمد مالِ میں ردو بدل کیا اور جان بوجھ کر شہادتیں ضائع کیں۔

چالان کے مطابق مقدمے میں 15 گواہان کے نام شامل ہیں اور شرجیل انعام میمن کو گرفتار شریک ملزم قرار دیا گیا ہے ۔ چالان کے مطابق شکر دین، مشتاق علی اور محمد جام ضمانت پر ہیں۔

پاناما ریفرنسزمنتقلی معاملہ ؛ نیب نے سپریم کورٹ سے غلط بیانی پرمعافی مانگ لی

اسلام آباد: پاناما ریفرنسزمنتقلی کے معاملے پرنیب نے سپریم کورٹ سے غلط بیانی پرغیرمشروط معافی مانگ لی۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمرعطاء بندیال اورجسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل بنچ نے نیب کی جانب سے دائرکی گئی درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف فلیگ شپ اورالعزیزیہ ریفرنسزکی منتقلی کے معاملے پرایڈیشنل پراسیکیوٹر حیدرعلی نے کہا کہ ریفرنسزایک عدالت سے دوسری عدالت میں منتقلی کے خلاف معاملہ 11 ستمبرکو سماعت کے لیے مقررتھا اور ریفرنسزمنتقلی کا تفصیلی فیصلہ آنے تک سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی۔

ان کا کہنا تھا کہ تفصیلی فیصلہ نہ آنے کا بیان انچار ج پراسیکیوٹر کے ساتھ ہونے والی مشاورت کی بنیاد پردیا، ہائی کورٹ 7 اگست کو تفصیلی فیصلہ لکھ چکی تھی اورنیب نے 18 اگست کو مقدمہ کی مصدقہ نقول حاصل کرلی تھی۔

ایڈیشنل پراسیکیوٹرکا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے بنچ سے بھی اپنی غلطی پرمعافی مانگ چ

وزیراعظم نے قریبی دوست زلفی بخاری کو معاون خصوصی بنادیا

 اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے زلفی بخاری کو معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی مقرر کر دیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے قریبی دوست زلفی بخاری کو معاون خصوصی مقرر کر دیا ہے ۔ زلفی بخاری اوورسیز پاکستانیوں سے متعلق وزیراعظم کی معاونت کریں گے اور وزارت برائے سمندر پار پاکستانیز کے منسٹر انچارج ہوں گے۔ زلفی بخاری کی تقرری کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے جب کہ ان کا عہدہ وزیر مملکت کے برابر ہوگا۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان کے سابق پولیٹکل سیکریٹری عون چوہدری کو بھی وزیراعلیٰ پنجاب کا مشیر مقرر کردیا گیا تھا۔ عون چوہدری کا شمار بھی وزیراعظم عمران خان کے قریبی دوستوں میں ہوتا ہے۔

Google Analytics Alternative