قومی

چھوٹے کاروباری اداروں پر ٹیکس آدھا، متوسط طبقے کیلیے قرض حسنہ اسکیم جب کہ شادی ہال پر ٹیکس میں کمی

 اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر رواں مالی سال کا دوسرا منی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا ہے۔

اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں اپوزیشن کے شور شرابے میں وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے رواں مالی سال کا دوسرا منی بجٹ پیش کیا۔

اسد عمر نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ بجٹ نہیں اصلاحات کا پیکج پیش کررہا ہوں، اپوزیشن نے حکومتیں کیں اور دل کھول کر غلطیاں بھی کیں۔ ہمیں عوام نے مسائل کے حل اور ان کے ادراک کے لیے ایوان میں بھیجا ہے، ہمیں ایسی معیشت بنانی ہے کہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہو۔ ایسا نہ ہو اگلی حکومت آکر آئی ایم ایف کو فون کرے کہ ہم تباہی کے دہانے پر آگئے ہیں ہماری مدد کیجیے۔ موجودہ اپوزیشن کے پاس 10سال حکومت رہی وہ کیا معیشت چھوڑ کر گئے؟۔ گزشتہ مالی سال ختم ہوا تو بجٹ خسارہ 6.6 فیصد تھا۔ یہ ملک کو ڈھائی سے 3 ہزار ارب روپے کا مقروض کرکے چلے گئے، خسارہ ڈیڑھ سو ارب روپے تک پہنچا دیا گیا۔ یہ لوگ بجلی کا نظام ٹھیک کرنے آئےتھے  لیکن عوام پر مزید قرضوں کا بوجھ ڈال دیاگیا، قرضہ عوام نے ادا کرنا ہوتا ہے۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ ہم عوام کو اپنا حکمران سمجھتے ہیں، ہم خادم اعلیٰ بولتے نہیں بلکہ سمجھتے بھی ہیں، جنہوں نے الیکشن خریدنے کی کوشش کی ان کو عوام نے گھر بھیج دیا، آئندہ عوام ہمیں ہماری کارکردگی پر ووٹ دے گی۔ کسی کو انتخابات خریدنے نہیں پڑیں گے۔

چھوٹے کاروباری اداروں پر ٹیکس آدھا

وزیر خزانہ نے کہا کہ ایس ایم ای سیکٹر کے بغیر روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہوسکتے، ایس ایم ای سیکٹر کے بینک قرضوں پر آمدن کا ٹیکس20 فیصد کررہے ہیں۔ چھوٹے کاروباری اداروں پر ٹیکس آدھا کیا جارہا ہے۔

فائلر کی بینکنگ ٹرانزیکشن پر ودہولڈنگ ٹیکس ختم

اسد عمر نے بتایا کہ بینک ڈیپازٹس پر ودہولڈنگ لگا ہوا ہے، ہم فوری طور پر فائلر کی بینکنگ ٹرانزیکشن پر ودہولڈنگ ٹیکس ختم کیا جارہا ہے۔

غریبوں کے لیے گھر

وزیر خزانہ نے کہا کہ ہمیں غریبوں کے لیے گھر بنانے ہیں، جس کے لئے ہم مراعات دے رہے ہیں، چھوٹے گھروں پر بینک قرض آمدنی کا ٹیکس 39 سے کم کرکے 20 فیصد کررہے ہیں۔

شادی ہال پر ٹیکس میں کمی

اسد عمر نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ چھوٹے شادی ہالز پر ٹیکس 20 ہزار سے کم کرکے 5 ہزار کردیا گیا ہے۔

نان فائلر پر نئی گاڑی خریدنے پر پابندی ختم

اسد عمر نے کہا کہ بجٹ میں نان فائلر پر نئی گاڑی خریدنے پر پابندی تھی تاہم اب نان فائلر800 سے 13 سو سی سی تک گاڑی خریدسکے گا۔ اس کے علاوہ نان فائلرز کو پچاس لاکھ روپے تک کی پراپرٹی کی خریداری پر بھی اجازت دی جارہی ہے۔

نیوز پرنٹ پر امپورٹ ڈیوٹی ختم

وزیر خزانہ نے بتایا کہ حقیقی جمہوریت کیلیے آزاد صحافت چاہیے، اس لئے نیوز پرنٹ پر امپورٹ ڈیوٹی ختم کی جارہی ہے۔

خام مال پر ڈیوٹیز میں کمی

اسد عمر نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ حکومت کچھ صنعتی خام مال پر ڈیوٹیز میں کمی جب کہ کچھ پر ختم کی جارہی ہے۔ کیمیکل کے شعبے کے لیے خام مال پرسیلز ٹیکس ختم کردیا گیا ہے۔

موبائل پر سیلز ٹیکس

حکومت نے درآمدی موبائل فون پر عائد 3 ٹیکسوں کو ایک ٹیکس میں ضم کردیا ہے، منی بجٹ میں مہنگے درآمدی موبائل اور سیٹلائٹ فون پر سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد 30 ڈالر سے کم قیمت کے موبائل پر سیلز ٹیکس 150 روپے ہوگا جب کہ 30 سے 100 ڈالر قیمت کے درآمدی موبائل پر 1470 روپے سیلز ٹیکس عائد کردیا گیا ہے۔ 350 سے 500 ڈالر قیمت کے درآمدی موبائل پر سیلز  ٹیکس 6000 روپے سیلز ٹیکس ہوگا۔

گھر کیلیے قرض حسنہ اسکیم

اسد عمر نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ 5 ارب کی قرض حسنہ کی اسکیم لارہے ہیں ، قرض حسنہ کی رقم متوسط طبقے کو گھروں کی تعمیر کے لیے فراہم کی جائے گی۔

گاڑیوں پر ٹیکس میں اضافہ

1800 سی سی سے زائد انجن کی کاروں، جیپوں اور گاڑیوں کی درآمد پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح بڑھا کر 25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

قابل تجدید توانائی پر ٹیکس کی چھوٹ

اسد عمر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سولر پینل اور ونڈ ٹربائن پاکستان میں ہی بنے، اس لئے دوسرے ضمنی بجٹ میں قابل تجدید توانائی اور مینوفیکچرنگ یونٹ کے قیام پر 5 سال کے لئے ٹیکس سے چھوٹ دینے کی تجویز ہے۔

بینکنگ آمدن پر سپر ٹیکس ختم

وفاقی وزیر نے بتایا کہ یکم جولائی سے بینکنگ آمدن پر سپر ٹیکس ختم کیا جارہاہے، کارپوریٹ اِنکم ٹیکس پر ایک فیصد سالانہ کمی برقرار رہے گی۔

سانحہ ساہیوال پر اپوزیشن سیاست نہ چمکائے، شاہ محمود قریشی

اسلام آباد: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ سانحہ ساہیوال کے قصورواروں کو سخت سزا دی جائے گی تاہم اپوزیشن اس معاملے پر سیاست نہ چمکائے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت ہوا جس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آج چونکہ بجٹ پیش ہونے جارہا ہے اس لیے آج ساہیوال واقعے کو اٹھانا مناسب نہیں تھا لیکن اپوزیشن لیڈر نے اس معاملے کو اٹھایا تو اب ہماری بھی سن لیں، ساہیوال واقعہ دل دہلا دینے والا  ہے، دو دن سے اس افسوسناک واقعے پر ایوان میں بحث ہورہی ہے جب کہ ساہیوال واقعے کی فوری طور پر مذمت کی گئی اور وزیراعلیٰ صاحب موقع پر پہنچے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وزیراعلی نے ساہیوال واقع کی فوری رپورٹ طلب کی ، وزیراعظم نے بھی 72 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کی، اور یہ یقین دہانی کروائی گئی کہ اس واقعے میں ملوث افراد کو سزا دی جائے گی، کسی قصور وارکو نہیں چھوڑا جائے واقعے کا فیئرٹرائل ہوگا جب کہ حکومت نے ماضی کی حکومتوں کی طرح چیزوں کو دبانے کی کوشش نہیں کی، جے آئی ٹی نے اپنا کام مکمل کیا اور یہ ثابت ہوا کہ خلیل اور اس کا خاندان بے گناہ تھا۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ تحقیقات کے نتیجے میں کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے، ایف آئی آر درج کردی گئی اور سرکاری افسران کیخلاف کارروائی کرکے معطل اورعہدوں سے ہٹادیا گیا جب کہ منتخب وزیراعلیٰ کے بارے میں نامناسب ریمارکس دینا درست نہیں اور واقعے پرسیاسی پوائنٹ اسکورننگ نہ کی جائے جب کہ اپوزیشن سانحہ ساہیوال پر سیاست نہ چمکائے۔

اپوزیشن کے مطالبے پر سانحہ ساہیوال پر جوڈیشل کمیشن بنانے کو تیار ہیں، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے مطالبے پر سانحہ ساہیوال کا جوڈیشل کمیشن بنانے کو تیار ہیں۔

پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کے مطالبہ پر سانحہ ساہیوال کا جوڈیشل کمیشن بنانے کو تیار ہیں، اپوزیشن چاہے تو جوڈیشل کمیشن کے لیے اپنے لوگ بھی نامزد کرسکتی ہے، یہ انسانی المیہ ہے، ہم اسے مثال بنائیں گے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ساہیوال واقعے کے حوالے سے قطر میں بھی اپ ڈیٹس لیتا رہا، ساہیوال واقعے میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے جب کہ پنجاب حکومت کو پولیس اصلاحات کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔

اجلاس میں ارکان اسمبلی کا کہنا تھا کہ 48گھنٹوں میں جے آئی ٹی رپورٹ سامنے آگئی، پنجاب حکومت نے محنت سے کام کیا، اجلاس میں ارکان اسمبلی نے حلقوں کے حوالے سے شکایات بھی کیں جب کہ منی بجٹ کے حوالے سے سوالات کے جوابات نہیں دیے گئے۔

دوسری وزیراعظم عمران خان کو پنجاب حکومت کی سانحہ ساہیوال پر رپورٹ بھی پیش کردی گئی ہے جس میں جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں حکومت پنجاب کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں سی ٹی ڈی افسران کو قتل کا ذمہ دار قراردیتے ہوئے سانحہ ساہیوال میں مقتول میاں بیوی اور ان کی بیٹی کو بے گناہ قرار دیا گیا ہے جب کہ سی ٹی ڈی کے سربراہ سمیت 3 افسران کو تبدیل اور 2 کو معطل کردیا گیا ہے۔

قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا سانحہ ساہیوال پر وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ

اسلام آباد: قومی اسمبلی قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے سانحہ ساہیوال پر وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے استعفے کا مطالبہ کردیا۔ 

اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کو منظر عام پر نہیں لایا گیا، پنجاب حکومت کو غلط بیانی پر وضاحت پیش کرنی چاہیے، اس سانحے میں ملوث بعض افسران کو علیحدہ کردیا گیا جب کہ پنجاب کے موجودہ وزیراعلیٰ اجازت کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے۔

شہباز شریف نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ماڈل ٹاؤن واقعے پر مجھےاستعفیٰ دینا چاہیے، اس میں کوئی شک نہیں کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن بہت دل خراش واقعہ تھا، اس واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا تھا لہذا اب وزیر اعظم سانحہ ساہیوال پر استعفیٰ دیں۔

سانحہ ساہیوال پر اپوزیشن سیاست نہ چمکائے، شاہ محمود 

قائد حزب اختلاف کے جواب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ساہیوال واقعہ دل دہلا دینے والا  ہے، دو دن سے اس افسوسناک واقعے پر ایوان میں بحث ہورہی ہے، ساہیوال واقعے کی فوری طور پر مذمت کی گئی، وزیراعلیٰ صاحب موقع پر پہنچے، وزیراعظم اوروزیر اعلیٰ نے کہا کہ قصوروار کو سزا دی جائے گی، حکومت نے ماضی کی حکومتوں کی طرح چیزوں کو دبانے کی کوشش نہیں کی، جے آئی ٹی نے اپنا کام مکمل کیاہے۔ تحقیقات کے نتیجے میں کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے، ایف آئی آر درج کردی گئی ہے، سانحہ ساہیوال پر اپوزیشن سیاست نہ چمکائے۔

 

سپریم کورٹ کا آصف زرداری کی نااہلی کیلیے درخواست پراعتراض

 اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سابق صدر آصف زرداری کی نااہلی درخواست پر اعتراضات عائد کرکے واپس کردی۔

سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے پی ٹی آئی کی سابق صدر اور شریک چیئرمین پیپلزپارٹی آصف زرداری کی نااہلی سے متعلق درخواست پر اعتراضات عائد کرکے واپس کردی، رجسٹرار آفس کی جانب سے اعتراض لگایا گیا ہے کہ درخواستیں متعلقہ فورم پر دائر نہیں کی گئیں جب کہ براہ راست سپریم کورٹ میں درخواست دائر نہیں کی جاسکتی۔

واضح رہے کہ شریک چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی اور سابق صدر آصف علی زرداری کی نااہلی کے لیے تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار اور خرم شیر زمان کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ آصف علی زرداری نے اپنے تمام اثاثہ جات کو ظاہر نہیں کیا لہذا انہیں آئین کے آرٹیکل 62،63 کے تحت نااہل کیاجائے۔

وفاقی کابینہ نے منی بجٹ کی منظوری دے دی

اسلام آباد: وفاقی حکومت آج رواں مالی سال کا دوسرا منی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کرے گی جس کی کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا، جس میں وزیر خزانہ اسد عمر نے ضمنی بجٹ میں دی گئی تجاویز پر بریفنگ دی۔ اسد عمر نے کہا کہ ضمنی بجٹ لانا وقت کی ضرورت ہے، اس سے عام آدمی پر بوجھ نہیں پڑے گا، وفاقی کابینہ کے ارکان نے اسد عمر کی بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کیا۔

وفاقی حکومت کی جانب سے آج دوسرا منی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا جس میں سگریٹ اورگاڑیوں سمیت کئی درآمدی اشیاء مہنگی ہونے کا امکان ہے جب کہ تنخواہ داروں کے لیے قابل ٹیکس آمدنی کی حد 6 سے 8 لاکھ روپے، جی ایس ٹی کی شرح 17 سے بڑھا کر ساڑھے 17 فیصد ہونے کا امکان ہے جب کہ نان فائلر زائد ٹیکس دے کر گاڑی اور جائیداد خرید سکیں گے۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ آج کا دن اہم ہے، تحریک انصاف کی حکومت اپنا اقتصادی ایجنڈا عوام کے سامنے رکھنے جارہی ہے، مالیاتی ایمرجنسی سے نمٹ لیا ہے اب اپنا اقتصادی وژن دے رہے ہیں، 2019ء اصل اہداف کے حصول کا سال ہے۔

منی بجٹ پر اپوزیشن نے بھی کمر کس لی اور حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی پوری تیاری کرلی ہے۔ اس حوالے سے شہباز شریف کی زیر صدارت اپوزیشن رہنماؤں کا اجلاس ہوا۔  متحدہ اپوزیشن نے منی بجٹ کے خلاف قومی اسمبلی میں شدید احتجاج اور بجٹ اجلاس سے واک آؤٹ کا فیصلہ کیا ہے۔

اپوزیشن اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں رہنما پرپیپلز پارٹی خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں انوکھا بجٹ پیش کیا جارہا ہے، تیسرے بجٹ میں عوام پر مزید بوجھ ڈالا جائے گا، عوام پر نئے ٹیکس نہیں لگنے دیں گے، ایک اور منی بجٹ حکومت کی معاشی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، اس حکومت نے ادھار کا کشکول اٹھا کر ملک کی ناک کٹوا دی ہے۔

سانحہ ساہیوال میں ہلاک ذیشان کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے، پنجاب حکومت

لاہور: ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب کا کہنا ہے کہ ساہیوال سانحہ میں ہلاک ہونے والے ذیشان کاتعلق کالعدم تنظیم سے ہے۔

لاہور میں میڈیا بریفنگ کے دوران ایڈیشنل چیف سیکرٹری فضیل اصغر کا کہنا تھا کہ ساہیوال سانحہ میں ہلاک ہونے والے ذیشان کاتعلق کالعدم تنظیم سے ہے، 15 جنوری کو ذیشان کے دو ساتھیوں عثمان اور عدیل کو فیصل آباد میں سی ٹی ڈی نے ہلاک کر دیا، آپریشن انٹیلی جنس کی اطلاع پر کیا گیا، ذیشان کے ساتھیوں کے خلاف ایجنسیاں 2017 سے کام کر رہی تھیں، اس گروپ نے امریکی شہری سمیت متعدد افراد کو اغوا کیا تھا۔

ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے بتایا کہ انسپکٹر یاسر اور عمر کو مارنے کے لیے ان کی گاڑی استعمال ہوئی، عدیل حفیظ اور عثمان ہارون کے قبضہ سے بھاری مقدار میں بارودی مواد برآمد ہو تھا، ذیشان کے پاس دہشت گرد عدیل حفیظ کا آنا جانا تھا،18 جنوری کو ذیشان کی گاڑی کا پیچھا کیا گیا، ذیشان نے دہشت گرد عثمان کے ساتھ سیلفیاں بھی بنوائیں۔

ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے میڈیا کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ ذیشان کے دہشت گردوں کے ساتھ گہرے روابط تھے، سارے آپریشن انٹیلی جنس کی معلومات پر ہوتے ہیں، سی ٹی ڈی کی وجہ سے دہشت گردی میں 82 فیصد کمی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ذیشان دہشت گرد گروپ کا حصہ تھا، پنجاب داعش چھوٹے چھوٹے گروپوں سے کام کرواتی ہے، بریفنگ میں ذیشان کی آڈیو سنائی گئی جس میں وہ فیصل آباد میں مارے جانے والے عدیل حفیظ سے بات کررہا ہے۔

ایڈیشنل چیف سیکرٹری فضیل اصغر نے کہا کہ ہر ساتویں اور آٹھویں روز ایسے دہشت گرد پکڑے گئے یا مارے گئے جب کہ ذیشان کا اس واقعہ سے پہلے کوئی پولیس ریکارڈ نہیں اور نہ ہی کوئی مقدمہ ہے، ابتدائی معلومات تھیں کار میں 4 دہشت گرد سوار ہیں، دہشت گرد عدیل حفیظ کے مارے جانے پر ذیشان کا پتہ چلا، ذیشان کا فون فرانزک ٹیسٹ کے لیے بھیجا جائے گا۔

خدیجہ صدیقی کیس میں مجرم شاہ حسین کی بریت کا فیصلہ کالعدم، قید کی سزا بحال

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے قانون کی طالبہ خدیجہ صدیقی اقدام قتل کیس میں ملزم شاہ حسین کو مجرم قرار دیتے ہوئے اس کی بریت کا فیصلہ کالعدم کردیا اور 5 سال قید کی سزا بحال کردی۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے خدیجہ صدیقی حملہ کیس کی سماعت کی۔ خدیجہ صدیقی پر ناکام قاتلانہ حملے کا ملزم شاہ حسین عدالت میں پیش ہوا۔

خدیجہ صدیقی کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ نے مقدمہ کے مکمل شواہد کو نہیں دیکھا اور ثبوت کا درست جائزہ نہیں لیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہائیکورٹ کا نتیجہ شواہد کے مطابق ہے یا نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ خدیجہ صدیقی ملزم کو جانتی تھی وہ کلاس فیلو بھی تھے، اس کے باوجود ملزم کو 5 دن کی تاخیر سے مقدمے میں نامزد کیوں کیا گیا۔

خدیجہ کے وکیل نے کہا کہ حملے کے وقت خدیجہ صدیقی حواس میں نہیں تھی، اس نے ڈاکٹر کو بھی اجنبی قرار دیا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ خدیجہ کی گردن کے اگلے حصے پر کوئی زخم نہیں تھا، وہ بول سکتی تھی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیس میں ہائی پروفائل کا لفظ کئی مرتبہ استعمال ہوا، کیا ہائی پروفائل کیلئے قانون بدل جاتا ہے، جرم جرم ہوتا ہے ہائی ہو یا لو پروفائل ہو۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ملزم آخر خدیجہ کو کیوں مارنا چاہتا تھا، وہ چاہتا تو خدیجہ کو ایسی جگہ مار سکتا تھا جہاں کوئی نہ ہوتا، گولی مارنا آسان لیکن خنجرمارنا شدید اشتعال پرہوتا ہے، عام طور پر قتل کی وجہ ہوتی ہے کہ میری نہیں تو کسی کی نہیں، دوسری عمومی وجہ لڑکی کی طرف سے بلیک میلنگ ہوتی ہے، خدیجہ کے کیس میں دونوں وجوہات سامنے نہیں آئیں۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ کسی کلاس فیلو نے کیس میں گواہی نہیں دی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ گاڑی سے دو بال بھی ملے تھے کیا ان کا ڈی این اے ہوا؟۔ خدیجہ کے وکیل نے کہا کہ بالوں کو فرانزک لیب بھجوانے کا کہا گیا تھا لیکن فرانزک لیب کے بقول انہیں بال موصول نہیں ہوئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ خطے کی بہترین اور دنیا کی دوسری بہترین فرانزک لیب لاہور میں ہے، پنجاب فرانزک لیب پر ہمیں فخر ہونا چاہیے۔

سپریم کورٹ نے سماعت مکمل ہونے کے بعد خدیجہ کی اپیل منظور کرتے ہوئے شاہ حسین کو مجرم قرار دے دیا اور 5 سال قید کی سزا برقرار رکھی۔ پولیس نے شاہ حسین کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا۔

پس منظر

لاہور میں مئی 2016 میں قانون کی طالبہ خدیجہ صدیقی پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا لیکن خوش قسمتی سے ان کی جان بچ گئی تھی۔ خدیجہ کے کلاس فیلو شاہ حسین کو گرفتار کرکے اس کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ دائر کیا گیا جس کے مطابق اس نے گردن اور دیگر اعضا پر خنجر کے 23 وار کرکے خدیجہ کو شدید زخمی کیا۔ واقعے کی ویڈیو فوٹیج بھی پیش کی گئی۔

جوڈیشل مجسٹریٹ نے شاہ حسین کو مجرم ثابت ہونے پر 7 برس قید کی سزا سنائی پھر سیشن کورٹ نے اس کی سزا کم کرکے 5 سال کردی۔ اس کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے اسے بری کردیا۔

ملزم کی رہائی پر اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے معاملے کا از خود نوٹس لیا تھا۔ شاہ حسین کے والد لاہور کے بااثر وکیل ایڈووکیٹ تنویر ہاشمی ہیں جنہوں نے چیف جسٹس کے از خود نوٹس کے خلاف لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن میں قرارداد پیش کی جو منظور کرلی گئی تھی۔

Google Analytics Alternative