قومی

حالات کے مطابق یوٹرن نہ لینے والا لیڈر نہیں ہوتا، عمران خان

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حالات کے مطابق یوٹرن نہ لینے والا کبھی کامیاب لیڈر نہیں ہوتا، تاریخ میں نپولین اور ہٹلر نے یوٹرن نہ لے کر تاریخی شکست کھائی۔

وفاقی دارالحکومت میں سینئر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ یوٹرن نہ لینے والا کبھی کامیاب لیڈر نہیں ہوتا، جو یوٹرن لینا نہیں جانتا، اس سے بڑا بے وقوف لیڈر نہیں، تاہم نوازشریف نے عدالت میں یوٹرن نہیں لیا بلکہ جھوٹ بولا تھا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو کسی صورت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کا چیئرمین نہیں بنائیں گے،کرپشن کے الزامات کا سامنا کرنے والے شخص کو پی اے سی کی چیئرمین شپ نہیں دے سکتے۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کو چیئرمین پی اے سی بنانے سے دنیا بھر میں ملک کا مذاق بنے گا۔

اپنی گفتگو کے دوران عمران خان نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ احتساب قوانین میں ترمیم کی ضرورت ہے، نیب چھوٹے چھوٹے مقدمات میں الجھ چکا ہے، جس سے اس کی کارکردگی متاثر ہورہی ہے، نیب کو چاہیے کہ چھوٹے مقدمات کی بجائے بڑے مگر مچھوں پر ہاٹھ ڈالے۔

وزیر اعظم نے بتایا کہ دورہ چین توقعات سے زیادہ کامیاب رہا، ماضی میں کسی وزیر اعظم کا دورہ چین اتنا کامیاب نہیں رہا، حالیہ دوے کے دور رس نتائج ہوں گے، تاہم چین کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی تفصیل عام نہیں کرسکتے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ چین کی امداد سے پاکستان کی ادائیگیوں کا توازن بہتر ہوگا، چین سے ہر قسم کی امداد مل رہی ہے، جس سے تجارت و سرمایہ کاری بڑھے گی۔

اپنی گفتگو کے دوران وزیر اعظم نے منی لانڈرنگ کے معاملے کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ منی لانڈرنگ کے خلاف مہم کامیابی سے جاری ہے اور صرف دبئی میں پاکستانیوں کی 15 ارب ڈالرز کی جائیدادوں کا سراغ لگالیا۔

انہوں نے کہا کہ بیرون ملک جائیدادوں کے انکشاف کے ساتھ ہی اپوزیشن کی تنقید بڑھ گئی ہے، تاہم ہم لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کے لیے مختلف ممالک سے معاہدے کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے بتایا کہ سوئزرلینڈ اور برطانیہ کے ساتھ معاہدے ہوچکے ہیں، معاہدوں سے ملک کی قومی دولت واپس لانے میں مدد ملے گی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر من و عن عملدرآمد کیا جائے گا جبکہ سیرت النبی ﷺ کانفرنس بھرپور طریقے سے منعقد کی جائے گی اور اس کانفرنس کے افتتاحی سیشن کی صدارت میں خود کروں گا۔

انہوں نے بتایا کہ کانفرنس کے اختتامی سیشن میں صدر مملکت شریک ہوں گے، اس کے علاوہ دنیا بھر سے اسلامی اسکالرز اور علماء بھی شرکت کریں گے، اس کانفرنس کے ذریعے اسلام مخالف بیانیے کا موثر جواب دیا جائے گا۔

وزیراعظم عمران خان ہٹلر بننا چاہتے ہیں، خورشید شاہ

سکھر: پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما خورشید شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان ہٹلر بننا چاہتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے 51ویں یوم تاسیس کے حوالے سے سکھر میں ہونے والے اجلاس میں خورشید شاہ نے کہا کہ عمران خان نے ثابت کردیا کہ وہ خود بھی ہٹلر ہیں اور عمران خان نے خود کہا ہے کہ وہ یوٹرن لے کر نقصان سے بچنا چاہتے ہیں، وہ یوٹرن لینے کے بیان سے کیا تاثر دینا چاہتے ہیں۔

اس موقع پر سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ  اس سال پارٹی کی یوم تاسیس کی مرکزی تقریب سکھر میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں ایک سے ڈیڈھ لاکھ لوگوں کی آمد متوقع ہے، اس سلسلے میں پارٹی چیئرمین کے احکامات پر 11 رکنی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد میں سینیئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ جو لیڈر یوٹرن نہ لے وہ لیڈر ہی نہیں، نیپولین اور ہٹلر نے یوٹرن نہ لیکر بہت بڑا نقصان کیا جب کہ نواز شریف نے عدالت میں یوٹرن نہیں لیا بلکہ جھوٹ بولا ہے۔

وزیراعظم کو بے لگام اختیارات حاصل نہیں ہیں، چیف جسٹس

لاہور: زلفی بخاری اہلیت کیس میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ وزیراعظم کو بے لگام اختیارات نہیں ہیں جب کہ اعلیٰ عہدوں پر اقربا پروری نظر نہیں آنی چاہیے۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں زلفی بخاری کے بطور معاون خصوصی وزیراعظم تقرری کی نااہلی کے لیے درخواستوں پر چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں سماعت ہوئی، زلفی بخاری سماعت کے دوران عدالت میں وکیل اعتزاز احسن کے ساتھ پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ ملکی اہم عہدوں پر تقرر کرنا اہم قومی فریضہ ہے، یہ معاملات دوستی پر نہیں قومی مفاد پر چلیں گے۔  چیف جسٹس نے عدالت میں زلفی بخاری کے رویہ پر سخت برہی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنا غصہ گھر چھوڑ کر آئیں، آپ کسی اور کے دوست ہوں گے، سپریم کورٹ کے دوست نہیں، اٹارنی جنرل زلفی بخاری کو ان کے رویہ کے بارے میں آگاہ کریں۔

وکیل زلفی بخاری اعتزاز احسن نے کہا کہ معاون خصوصی کا تقرر کرنا وزیر اعظم کا اختیار ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم کو بے لگام اختیارات نہیں ہیں، وزیراعظم عوام کا ٹرسٹی ہے، وزیر اپنی من اور منشا کے مطابق معاملات نہیں چلائے گا بلکہ ہم طے کرینگے کہ معاملات آئین کے تحت چل رہے ہیں یا نہیں، اعلیٰ عہدوں پر اقربا پروری نظر نہیں آنی چاہیے اور نہ ہی بندر بانٹ ہو۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ زلفی بخاری کا کس اہلیت کی بنیاد پر تقرر کیا گیا، کس کے کہنے پر سمری تیار ہوئی، اعتزاز احسن نے کہا کہ زلفی بخاری کو آئینی عہدہ نہیں دیا گیا، ان کا تقرر رولز آف بزنس کے تحت کیا گیا ہے، زلفی بخاری کابینہ کے رکن نہیں، اوورسیز پاکستان کے لیے دہری شہریت کے حامل فرد کو ہی عہدہ ملنا چاہیے، ایسے شخص کے پاس برطانیہ اور پاکستان کا ویزہ ہو تو آسانی رہتی ہے، وزیراعظم تو باراک اوباما سے بھی مشورہ کرسکتے ہیں۔

عدالت نے زلفی بخاری کا تمام بائیو ڈیٹا، تقرر کاعمل اور اہلیت کے بارے میں رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 5 دسمبر تک ملتوی کردی۔

سی ڈی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان نے لاپتہ ہونے کی تردید کردی

اسلام آباد سے پراسرا طور پر لاپتہ ہونے والے سی ڈی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز محسود کی ویڈیو منظر عام پر آگئی جس میں انہوں نے اپنی گمشدگی کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ڈی آئی خان میں رشتہ داروں سے ملنے آئے ہیں۔

ایاز خان کی اہلیہ نے پولیس کو درخواست دی تھی کہ  ان کے شوہر آبپارہ کے قریب اپنے دفتر سے جمعرات کی شام جی 13 گھر جانے کے لیے نکلے مگر گھر نہ پہنچے اور بعد میں رات 8 بجے فون پر بتایا کہ کورنگ ٹاؤن میں ہیں۔

اہلیہ کے مطابق ایاز خان نے فون پر بات کرتے ہوئے تین غیر متعلقہ افراد کے ساتھ ہونے اور پریشانی کا ذکر کیا،اس  کے بعدسے ان کا فون مسلسل بند ہے ، ایاز خان کی بیٹی کی ہفتہ کو شادی ہے ، اہلیہ نے ایاز خان کے اغوا کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

میڈیا پر خبریں نشر ہونے کے بعد ایاز خان کا ایک ویڈیو پیغام سامنے آیا جس میں وہ اپنی خیریت سے ہونے کی اطلاع دے رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں اور ڈی آئی خان میں رشتہ داروں کے پاس ہیں۔

ایاز خان نے کہا کہ ان کا موبائل فون خراب تھا جس کی وجہ سے وہ گھر والوں سے رابطہ نہیں کرسکے۔

انور مجید کو کراچی سے لاہور منتقل کرنے کی تیاریاں مکمل

کراچی: اومنی گروپ کے مالک انور مجید کو راہداری ریمانڈ پر کراچی سے لاہور منتقل کرنے کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق صدر آصف زرداری کے قریبی ساتھی اور اومنی گروپ کے مالک انور مجید کو راہداری ریمانڈ پر کراچی سے لاہور منتقل کئے جانے کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔

انور مجید کو کل سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پیش کیا جائے گا، ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے حوالات کی سکیورٹی کے لیے 10 ٹیمیں تشکیل دیدی ہیں، ہر ٹیم کی سربراہی اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے  کا افسر کرے گا، تمام افسران کا ڈیوٹی روسٹر بھی جاری کر دیا گیا ہے جب کہ ہر ٹیم 4 افسران پر مشتمل ہوگی۔

واضح رہے کہ انور مجید کا تعلق سابق صدر آصف زرداری کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے جب کہ انور مجید کے خلاف 74 ارب کی منی لانڈرنگ کا کیس چل رہا ہے۔

 

نیب کی حمزہ اور سلمان شہباز کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش

 اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے وزارتِ داخلہ سے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز اور ان کے بھائی سلمان شہباز کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی ہے۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز اور ان کے بھائی سلمان شہباز کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی ہے۔ اور اس حوالے سے نیب نے وزارت داخلہ کو مراسلہ بھی بھجوا دیا ہے۔

نیب ترجمان کے مطابق حمزہ شہبازاورسلمان شہباز کےخلاف کرپشن تحقیقات جاری ہیں، تاہم سلمان شہباز طلبی کے باوجود حاضر نہیں ہورہے اور تحقیقات میں تاخیر ہورہی ہے، اس لئے نیب نے حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کانام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ جمعہ کے روز نیب لاہور میں گرفتار شہباز شریف کے آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں ان کے دونوں بیٹوں سلمان شہباز اور حمزہ شہباز کو تحقیقات کے لئے طلب کیا تھا۔ سلمان شہباز بیرون ملک ہونے کے باعث نیب میں پیش نہ ہوئے تاہم  حمزہ شہباز نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے روبرو پیش ہوگئے۔

 

طاہرداوڑ کا قتل اورافغان حکام کا رویہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے، ترجمان پاک فوج

اسلام آباد: ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ ایس پی طاہر داوڑ کا اغوا، قتل اور اس کے بعد افغان حکام کا رویہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ٹویٹر پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایس پی طاہر داوڑ کا افغانستان میں بہیمانہ قتل انتہائی قابل مذمت ہے، ہم ایک بہادر پولیس افسر سے محروم ہوگئے ہیں۔ ان کا اغوا، افغانستان منتقلی، قتل اور اس کے بعد افغان حکام کا رویہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ یہ صورتحال افغانستان میں دہشت گرد تنظیم سے بڑھ کر ملوث ہونے کا اشارہ دیتی ہے۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام کی جانب سے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں، ہم ایک مرتبہ پھر اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ افغان سیکیورٹی فورسز سرحدوں پر باڑ لگانے اور دو طرفہ بارڈر سیکیورٹی میں تعاون کریں تاکہ پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال کو روکا جاسکے۔

نوازشریف کا قطری شہزادے کے خطوط سے لاتعلقی کا اظہار

 اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف نے احتساب عدالت میں  قطری شہزادے کے خطوط سے لاتعلقی کا اظہار کردیا۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کی۔ نواز شریف کو مجموعی طور پر 151 سوالات کے جواب دینے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ روز 45 سوالات کے تحریری جواب دیئے تھے جب کہ جمعرات کو مزید 44 سوالات کے جواب جمع کروا دیئے۔

نواز شریف نے احتساب عدالت کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں کہا کہ میں 10 دسمبر 2000 سے 2007 تک جلاوطن رہا، 1999 کے مارشل لاء کے بعد ہمارے کاروبار کا ریکارڈ قبضے میں لیا گیا اور اس حوالے سے شکایت بھی درج کرائی لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ ہمارے ساتھ یہ صرف 1999 میں نہیں ہوا، یہ ہمیشہ ہوتا آیا ہے، ہمارے خاندان کی درد بھری کہانی ہے۔

فاضل جج نے استفسار کیا کہ جب یہاں سے گئے تو آپ کی جیب خالی تھی،اکاؤنٹس منجمد کر دیئے گئے تھے۔ سابق وزیر اعظم نے اپنے جواب میں کہا کہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا اس سے قبل 2 جنوری 1972 میں بھی ایسا ہو چکا تھا، ہماری اتفاق فاؤنڈری کوقومیا لیا گیا تھا، اتفاق فاوٴنڈری کے بدلے کوئی کمپنسیشن بھی نہیں دی گئی۔ یہ کہنا درست نہیں کہ سعودی عرب میں ہمارے پاس وسائل یا پیسہ نہیں تھا ، حقیقت یہ ہے کہ میرے والد نے پیسوں کا انتظام کیا اور خاندان کے افراد کی ضروریات کو پورا کیا۔

نواز شریف نے کہا کہ میں نے گلف اسٹیل کے بینیفشل ہونے کا کبھی دعویٰ نہیں کیا، 1980 کے معاہدے سے میرا کوئی تعلق نہیں، نہ میری موجودگی میں تیار ہوا، معاہدے میں جس شخص نے حصہ لیا اس کو بطور گواہ پیش نہیں کیا گیا، شہباز شریف اور طارق شفیع کو جے آئی ٹی نے شامل تفتیش کیا لیکن اس کیس میں وہ گواہ نہیں.

مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نے کہا کہ 1999 کے مارشل لاء کی الگ کہانی ہے، موقع ملا تو بتائیں گے، مارشل لاء کے بعد شریف خاندان کے کاروبار کا تمام ریکارڈ ایجنسیوں نے غیرقانونی تحویل میں لے لیا، ریکارڈ اٹھائے جانے کیخلاف متعلقہ تھانے میں شکایت درج کرائی گئی لیکن متعلقہ تھانے کی طرف سے ہماری شکایت پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا، میری جلاوطنی کے دنوں میں نیب نے غیر قانونی طریقے سے ہماری خاندانی رہائش گاہ کو تحویل میں لے لیا، نیب نے صبیحہ عباس اور شہباز شریف کے نام جائیداد کے کاغذات بھی قبضے میں لیے، رمضان شوگر ملز اور چوہدری شوگر ملز کو مذموم مقاصد کے تحت کام کرنے کی اجازت دی گئی، چوہدری شوگر ملز سے 110ملین اور رمضان شوگر ملز 5ملین روپے نکلوا لیے گئے، نکلوائی گئی رقم واپس نہیں کی گئی۔ جلاوطنی کے بعد واپسی پر نیب کے اقدامات کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ، لاہور ہائیکورٹ نے نیب کے اقدامات کو کالعدم قرار دیا۔

نوازشریف نے سوالات کے جواب میں کہا کہ ریکارڈ پر ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ مختصر نام ہے، اس کا پورا نام ہل انڈسٹری فارمیٹل اسٹیبلشمنٹ ہے، جے آئی ٹی رپورٹ کوئی قابل قبول شہادت نہیں، اس کے دس والیم محض ایک تفتیشی رپورٹ ہے، میرے ٹیکس ریکارڈ کے علاوہ جے آئی ٹی کی طرف سے پیش کی گئی کسی دستاویز کا میں گواہ نہیں جو میں نے خود جے آئی ٹی کو فراہم کیا تھا۔ میرے خلاف شواہد میں ایم ایل ایز پیش کئے گئے ، سعودی عرب سے ایم ایل اے کا کوئی جواب ہی نہیں آیا تھا، یو اے ای سے آنے والا ایم ایل اے کا جواب درست مواد پر مبنی نہیں،حسن نواز کا انٹرویو اور متفرق درخواستیں بطور شہادت نہیں پڑھی جاسکتیں۔

Google Analytics Alternative