قومی

ڈی آئی خان میں پولیس وین پر فائرنگ سے 4 اہلکار شہید

ڈیرہ اسماعیل خان: تھانہ پروا کی حدود میں نامعلوم افراد کی پولیس وین پر فائرنگ کے نتیجے میں 4 پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔    

ڈیرہ اسماعیل خان میں تھانہ پروا کی حدود میں ماھڑہ اڈہ کے قریب نامعلوم افراد نے پولیس وین پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ڈرائیور موقع پر ہی شہید ہوگیا جب کہ ایس ایچ او طاہر نواز سمیت دیگر اہلکار شدید زخمی ہوگئے جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا، بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے مزید 3 اہلکار دم توڑ گئے۔

شہید ہونے والے اہلکاروں میں سپاہی میرباز، سپاہی آصف، سپاہی سرفراز اور سپاہی جاوید شامل ہیں، پولیس کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار 2 افراد نے پولیس وین اندھا دھند فائرنگ کی اور فرار ہوگئے، حملہ اتنا اچانک تھا کہ پولیس کو جوابی کارروائی کا موقع ہی نہیں مل سکا۔

واقعہ کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نےعلاقے کو گھیرے میں لیکر حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی ہے جب کہ علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران کچھ مشکوک افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے اور ان سے تفتیش جاری ہے۔

سعودی ولی عہد کی 16 فروری کو پاکستان آمد، 20 ارب ڈالر کے معاہدے ہوں گے

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورۂ پاکستان سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آگئیں، جس کے مطابق ولی عہد 16 فروری کو پاکستان آئیں گے۔

سعودی سفارتخانے کے ذرائع کا کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان 16 سے 17 فروری تک پاکستان کا دورہ کریں گے، اس دورے کے دوران پاکستان اور سعودی عرب میں 20 ارب ڈالر کے معاہدے ہوں گے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ اس دورے سے 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان آئے گی جبکہ سعودی ولی عہد وزیر اعظم ہاؤس میں قیام کریں گے۔

سعودی سفارتخانے کے ذرائع کا کہنا تھا کہ محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان دونوں ممالک کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔

سفارتی ذرائع کا کہنا تھا کہ دورہ پاکستان کے بعد سعودی ولی عہد ملائیشیا کے درالحکومت کوالالمپور روانہ ہوں گے۔

اس سے قبل گزشتہ روزسعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی پاکستان آمد کی تیاریوں کے سلسلے میں ان کا ضروری سامان پاکستان پہنچایا گیا تھا۔

ذرائع نے بتایا تھا کہ محمد بن سلمان کی آمد کے پیش نظر اسلام آباد کے 2 بڑے ہوٹل مکمل طور پر جبکہ 2 جزوی طور پر بک کر لیے گئے ہیں اور سعودی عرب کے میڈیا نمائندے بھی پاکستان پہنچ گئے۔

سعودی ولی عہد کی سیکیورٹی اور ڈاکٹرز کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی اور دو روز پاکستان میں قیام کے سلسلے میں محمد بن سلمان کی ورزش کا سامان، فرنیچر، ضروری اشیا کے 5 ٹرک مقامی ہوٹل پہنچ چکے ہیں۔

واضح رہے کہ محمد بن سلمان کے دورے کے دوران سعودی وفود اسلام آباد کے نجی ہوٹلوں میں قیام کریں گے جبکہ سعودی ولی کا وزیراعظم ہاؤس میں قیام متوقع ہے۔

محمد بن سلمان پہلی مرتبہ پاکستان کے دورے پر آئیں گے جہاں انہیں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے دورے کی دعوت دی تھی۔

سعودی ولی عہد کی آمد پر سیکیورٹی پلان

وفاقی حکومت نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی پاکستان امد پر سیکورٹی پلان تیار کرلیا۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سعودی سفارتخانے کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں سعودی ولی عہد کی آمد سے قبل سیکیورٹی ٹیم کی ریہرسیل کیے جانے کا فیصلہ کیا۔

علاوہ ازیں پولیس رینجرز کے 2 ہزار سے زائد اہلکار سیکیورٹی پر تعینات کئے جائے گئے اور پولیس اہلکاروں کو بھی خصوصی پاسیز جاری کیے جائیں گے۔

سعودی ولی عہد کی آمد سے قبل بم ڈسپوزل اسکواڈ اور سیکیورٹی کو کلیئر کروایا جائے گا۔

شہباز شریف کو پی اے سی سے ہٹایا توپارلیمنٹ نہیں چلنے دیں گے، خورشید شاہ

 اسلام آباد: پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا ہے کہ اگر شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیرمین شپ سے ہٹایا گیا تو اسمبلی نہیں چلنے دیں گے۔

پیپلز پارٹی نے شہباز شریف کو چیرمین پی اے سی سے ہٹانے کے ممکنہ حکومتی اقدام کے خلاف سخت ردعمل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسلام آباد میں خورشید شاہ نے ایک بیان میں کہا کہ اگر شہباز شریف کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تو حکومت قومی اسمبلی کی کارروائی بھی نہیں چلا سکے گی، عمران خان اسمبلی کو کنٹینر کی طرح چلانے کی کوشش کر رہے ہیں، حکومت نے اسپیکر اسد قیصر کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے، جبکہ اسپیکر کو خود سے کمیٹی ارکان کی ردو بدل کا کوئی اختیار نہیں بلکہ صرف پارٹی کی درخواست پر وہ ردو بدل کرسکتے ہیں۔

پی پی پی رہنما نے کہا کہ ماضی میں تحریک انصاف کے اراکین ایوان میں رقص کرتے رہے اور ٹیبل پر کھڑے ہو جاتے تھے، حکومت نے ڈگر نہ بدلی تو اپوزیشن کو بھی ایسا ہی کرنا پڑے گا، اپوزیشن جماعتوں نے صرف اسپیکر، شاہ محمود قریشی اور پرویز خٹک کی وجہ سے پارلیمنٹ کو چلانے کی کوشش کی لیکن اسمبلی کو بے توقیر طریقے سے چلانے نہیں دیں گے، حکومت عوام کو ڈلیور کرنے میں ناکام ہوگئی ہے اور لڑائیوں میں الجھانا چاہتی ہے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ وزیراعظم کی آئی ایم ایف سربراہ سے ملاقات پاکستان کی تذلیل ہے، ماضی میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی، عمران خان پاکستان کی تذلیل کرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے، کشکول توڑنے اور خود کشی کا اعلان کرنے والا خود آئی ایم ایف کے سامنے پیش ہوا۔

خورشید شاہ نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم حکومت کو بلیک میل کر کے فائدہ لے گی، اس کی تاریخ ہے کہ موقع سے فائدہ اٹھاتی ہے، ایم کیو ایم کو اپوزیشن کا حصہ سمجھتے نہ سمجھیں گے۔

حج پالیسی 2019 کا اعلان ، بغیرقربانی کے اخراجات 4 لاکھ 36 ہزار975 روپے ہوں گے

 اسلام آباد: حکومت نے حج پالیسی 2019 کا اعلان کردیا جس کے بعد حج درخواستیں 25 فروری سے 6 مارچ تک وصول کی جائیں گی۔

حکومت نے حج پالیسی 2019 کا اعلان کردیا۔ حج پالیسی کے تحت رواں برس ایک لاکھ 84 ہزار210 پاکستانی فریضہ حج ادا کرسکیں گے۔ جنوبی ریجن کیلیے حج اخراجات بغیرقربانی 4 لاکھ 26 ہزار975 روپے، شمالی ریجن کیلیے اخراجات بغیر قربانی 4 لاکھ 36 ہزار975 روپے ہوں گے۔

حج پالیسی کے تحت سرکاری اسکیم کے تحت ایک لاکھ 7 ہزارافراد حج کرسکیں گے، حج پالیسی نجی اسکیم کےتحت 71 ہزار610 پاکستانی حج کرسکیں گے جب کہ حج پالیسی حج درخواستیں 25 فروری سے 6 مارچ تک وصول کی جائیں گی اوردرخواستوں کی قرعہ اندازی 8 مارچ کوہوگی۔

حج پالیسی کے تحت رواں سال کسی کومفت حج نہیں کروایا جائے گا، حج پالیسی مشین ریڈیبل پاسپورٹ، قومی شناختی کارڈ، میڈیکل سرٹیفکیٹ لازم ہوگا اور پاسپورٹ، شناختی کارڈ کی کم ازکم میعاد 10 فروری 2022 تک ہو۔

حج پالیسی نجی حج اسکیم کا جائزہ بھی وزارت مذہبی امورلے گی، حج پالیسی 80 سال سے زائد عمرکے افراد کیلیے 10 ہزارحج کوٹہ ہوگا، حج قرعہ اندازی میں مسلسل 3 سال سے ناکام رہنے والوں کیلیے بھی کا 10 ہزارکوٹہ محنت کشوں اورکم تنخواہ والے سرکاری ملازمین کیلیے 500 سیٹیں مختص کی گئیں جب کہ سعودی عرب کی طرف سے پاکستان کو 5 ہزارکا اضافی کوٹہ دیا گیا ہے۔

حج پالیسی سعودی کوٹہ نئی رجسٹرڈ نان کوٹہ ہولڈرکمپنیوں کو دیا جائے گا، حج کیلیے کسی بھی عمرکی خاتون کے ساتھ محرم کا ہونا لازم ہے، حج پالیسی 50 فیصد عازمین حج کوبراہ راست مدینہ منورہ پہنچایا جائے گا۔ سرکاری اسکیم کےتحت قربانی کےلیے 19451 روپے الگ دینا ہوں گے ، ہرحاجی کوواپسی پر5 لیٹرآب زم زم ایئرپورٹ پرفراہم کیا جائے گا۔

آئی ایم ایف سے معاہدے کے قریب آگئے ہیں، اسد عمر

پشاور: وزیرخزانہ اسد عمرنے کہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے قریب آگئے ہیں اورضرورت اس بات کی ہے کہ اس معاہدے کو آخری بنائیں۔

پشاورمیں چیمبر آف کامرس میں اپنے خطاب میں وزیر خزانہ اسد عمرنے دعوی کیا ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے قریب آگئے ہیں، آئی ایم ایف اور پاکستان کے اعدادو شمار کے فرق میں کمی آئی ہے، آئی ایم ایف نے اپنی پوزیشن بدلی ہے، ان سے اچھا معاہدہ ہوگا اورضرورت اس بات کی ہے کہ اس معاہدے کو آخری بنائیں۔

اسد عمر نے کہا کہ ٹیکس نیٹ بڑھائے بغیرملک ترقی نہیں کرسکتا، پاکستان کو باہر سے آکر کوئی ٹھیک نہیں کرے گا، ہم ہی اسے ٹھیک کریں گے، ہم بہتر فیصلے کریں گے تو معیشت بہتر ہو گی اور یہ صرف سرمایہ کاری سے ہوگا، باتیں بہت ہوگئیں اب کام شروع کرنا ہے، ٹیکس نیٹ کا دائرہ وسیع کرنا ضروری ہے اس کے بغیرملک آگے نہیں بڑھے گا، ایف بی آرکے چھاپوں اور اور آڈٹ سے ٹیکس نہیں بڑھے گا۔

اسد عمر نے کہا کہ حکومت نہ کسی کے ساتھ ڈیل کررہی ہے اور نہ کسی کو ڈھیل دینی ہے اور یہ بات لبنانی وزیراعظم سعد حریری کو بھی بتادی ہے جبکہ سعد حریری نے بھی کہا ہے کہ اس معاملے پر اب کوئی بات نہیں ہوگی۔  پے پیل مجھ سمیت کسی حکومتی ادارے کی ڈیسک پر نہیں رکا ہوا، ہم نے تو اس حوالے سے اقدامات اٹھائے ہیں۔ جو نوجوان گھر بیٹھے کام کرتے ہیں ان کے لیے یہ روزگار کا زبردست ذریعہ ہے، پے پیل یا کوئی اچھا آن لائن پیمنٹ سسٹم نہ ہونے سے انہیں مشکلات ہورہی ہیں۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تجارت کے ذریعے تعلقات بہتر ہوسکتے ہیں، ایران اورافغانستان کے ساتھ تجارت کو ہر صورت بڑھانا ہے، افغانستان میں امن کے لئے پاکستان جو کچھ کرسکتا ہے اس کو کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں مزید بجلی کے منصوبے شروع کرنے کی ضرورت ہے، قبائلی علاقوں میں اصلاحات لارہے ہیں، صوبوں کواس کے حقوق ملنے چاہیں،  جس چیمبر میں بھی جاتاہوں وہاں یہ گلہ رہتا ہے کہ یہاں اس سے پہلے کوئی وزیرخزانہ نہیں آیا،  ایسے چیمبرز بھی گیا ہوں جہاں سات سال سے وزیرخزانہ نہیں گیا ہے۔

اسد عمرنے کہا کہ خیبر پختونخوا میں بجلی اور گیس کی زیادہ پیداوار ہے، وزیراعظم نے ان دو شعبوں پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی ہے، تیسرا شعبہ یہاں سیاحت ہے جس کو فروغ دینا ہے، اگر کسی کو ان کے گھر کے پاس نوکری دینی ہے تو وہاں سیاحتی مقامات پر کام کرنا ہوگا، چوتھی خوبی پشاور کی یہ ہے کہ یہ وسطی ایشیاء کا مرکزی خطہ ہے جو ہماری خوش قسمتی ہے۔ اسد عمرنے خیبر پختونخوا میں سیاحت کو فروغ دینے کے ساتھ ہمسایہ ممالک سے تجارت بڑھانے کی ضرورت پربھی زوردیا۔

نیب نے آصف زرداری کیخلاف غیر قانونی اثاثہ جات کیس دوبارہ کھلوادیا

راولپنڈی: نیب راولپنڈی نے سابق صدر کے خلاف اثاثہ جات کیس میں بریت کے خلاف اپیل ری اوپن کرادی۔

آصف علی زرداری کے خلاف شکنجہ سخت ہوگیا، نیب راولپنڈی نے سابق صدر کے خلاف اثاثہ جات کیس میں بریت کے خلاف اپیل ری اوپن کرادی۔ نیب نے اپنی اپیل میں موقف اختیار کیا کہ آصف زرداری کے خلاف ریفرنس مضبوط ہے اور اس میں مزید شواہد بھی مل چکے لہذا بریت ختم کرکے ملزم کو کڑی سزا اور نااہل قرار دیا جائے۔

دوسری جانب جسٹس قاسم خان نے نیب کی درخواست منظور کرتے ہوئے اپیل 6 مارچ کو سماعت کے لئے مقرر کردی جب کہ ہائی کورٹ نے احتساب عدالت کو نوٹس کرتے ہوئے ریکارڈ بھی طلب کر لیا۔

واضح رہے کہ راولپنڈی کی احتساب عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری  کو غیر قانونی اثاثہ جات ریفرنس کیس میں بری کردیا تھا۔

آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ راحیل شریف کی ملاقات

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ راحیل شریف نے جی ایچ کیو میں ملاقات کی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجو ہ سے اسلامی فوجی اتحاد کے کمانڈر انچیف جنرل (ر) راحیل شریف نے ملاقات کی، ملاقات جی ایچ کیو میں ہوئی، جس میں علاقائی امن واستحکام سمیت باہمی دلچسپی کے امور پرتبادلہ خیال کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے علاقائی امن و استحکام کے لئے اسلامی فوجی اتحاد کی کوششوں کو سراہا۔

 

عمران خان میثاق جمہوریت پر دستخط کرکے پی اے سی لے لیں، وزیراعلیٰ سندھ

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وزیراعظم عمران خان کو میثاق جمہوریت کی پیش کش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان آئیں بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف کے ساتھ میثاق جمہوریت پر دستخط کریں، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی سربراہی دینے کو تیار ہیں۔

سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ عمران خان آئیں، بلاول بھٹو زرداری اور شہبازشریف کے ساتھ میثاق جمہوریت پردستخط کریں ہم ان کو پی اے سی کی سربراہی دینے کو تیار ہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ ‘سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر جس طرح مطالبات کررہے ہیں وہ غیرجمہوری ہے اور پی اے سی کی سربراہی رکن اسمبلی کا استحقاق ہے’۔

وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ سندھ حکومت پی اے سی کی سربراہی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو نہیں دے گی کیونکہ انہوں نے میثاق جمہوریت میں دستخط نہیں کیے۔

وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو پہلے میثاق جمہوریت پر دستخط کرنا چاہیے اور اس پر اعتماد بھی کرنا چاہیے جس کے بعد ہی اس طرح کے مطالبات کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 2008 میں میثاق جمہوریت پر دستخط کیے تھے جبکہ پاکستان مسلم لیگ فنگشنل (ایف) اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) نے دستخط نہیں کیے تھے اس لیے ہم پی اے سی کی چیئرمین شپ ان کو دینے کے پابند نہیں ہیں۔

‘پولیس کا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے’

وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کے علاقے بھینس کالونی میں یوسی چیئرمین رحیم شاہ کے ہاتھوں قتل ہونے والے ارشاد رانجھانی کے واقعے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ارشادرانجھانی کو 5 گولیاں بہت قریب سے ماری گئیں اور اس قتل کیس میں پولیس بھی ملوث ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس گولیاں لگے شخص کوہسپتال پہنچانے کے بجائے تھانے لے جاتی ہے، پولیس کا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور اگر واقعے کا مقدمہ درج نہ ہوا تو میں خود مقدمہ درج کراؤں گا۔

انہوں نے کہا کہ ارشاد رانجھانی قتل کے واقعے نے مجھے ہلا دیا ہے اور آئی جی سندھ کو واقعے کی تحقیقات کے لیے سخت احکامات دیے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ آج کل آئی جی کوعدالتی احکامات کاحوالہ دے کرتبدیل کیاجاتا ہے لیکن ہم پولیس میں اصلاحات کے لیے کام کررہے ہیں۔

آئی جی سندھ کو لکھے گئے خط میں وزیراعلیٰ سندھ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی تفتیش جلد مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ پولیس نےغیرذمہ دارانہ رویہ دکھایا اور وقت پرجائے وقوع پرنہیں پہنچ سکی جس کے باعث حکومت پر جان ومال کی حفاظت کاعوامی اعتماد متاثرہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ واقعے سے عوام کا ریاست پر اعتماد مجروح ہوا ہے، یوسی چیئرمین رحیم شاہ کا دعویٰ درست بھی مان لیا جائے تو قانون قتل کا لائسنس نہیں دیتا۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ رحیم شاہ نے خود جج بن کرسزا دینے کا عمل کیا اور حکومت کی رٹ کوچیلنج کیا، سوشل میڈیا پرموجود فوٹیج دکھا رہی ہے کہ یہ غیرانسانی اورظالمانہ رویہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ رحیم شاہ نے قومی شاہراہ پربھینس کالونی کے قریب ارشادرانجھانی کو قتل کیا۔

یاد رہے کہ یہ ارشاد رانجھانی کے قتل کا معاملہ 8 فروری 2019 کو سامنے آیا تھا جب جئے سندھ تحریک کراچی کے صدر ارشاد رانجھانی کے لواحقین نے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کرتے ہوئے کہا تھا کہ شاہ لطیف ٹاؤن کے قریب نیشنل ہائی وے پر 2 روز قبل بھینس کالونی کے یونین کونسل کے چیئرمین کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے تھے۔

یوسی چیئرمین نے دعویٰ کیا تھا کہ 6 فروری کو بھینس کالونی موڑ کے قریب 2 مشتبہ افراد نے انہیں لوٹنے کی کوشش کی اور اسی دوران انہوں نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک مشتبہ شخص ہلاک اور دوسرا فرار ہوا، بعد ازاں ہلاک شخص کی شناخت ارشاد رانجھانی کے نام سے ہوئی۔

ارشاد رانجھانی کے لواحقین اور رشتے داروں کا موقف ہے کہ وہ بے گناہ تھے۔

کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج میں شامل آفتاب شاہ کا کہنا تھا کہ مقتول ارشاد رانجھانی ان کی جماعت جئے سندھ تحریک کراچی کے صدر تھے۔

مقتول کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ ضلع دادو میں اپنے اہل خانہ سے ملنے کے لیے 15 روز قبل دبئی سے آئے تھے اور 2 روز قبل دادو سے واپس کراچی کے علاقے کورنگی میں اپنی رہائش گاہ پہنچے تھے۔

9 فروری 2019 کو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک روز قتل کیے جانے والے ارشاد احمد رانجھانی کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس کو واقعے کی تحقیقات کرانے کا حکم دیا تھا۔

Google Analytics Alternative