قومی

سپریم کورٹ نے این اے 131 میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم معطل کردیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے لاہورکے حلقہ این اے 131 میں ووٹوں کی گنتی سے متعلق لاہورہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کردیا۔

لاہورہائی کورٹ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 131 پرخواجہ سعد رفیق کی درخواست پر ووٹوں کی گنتی کا حکم دیا تھا تاہم حلقے میں غیرسرکاری طورپرکامیاب قرار دیئے گئے عمران خان نے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے عمران خان کی درخواست کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ حلقے کا نتیجہ آچکا ہے، اس صورت میں حلقے کی نمائندگی کیسے روک سکتے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کے معاملات میں ہائی کورٹ کیسے مداخلت کرسکتی ہے۔

سعد رفیق کے وکیل نے عدالت کے روبروموقف اختیار کیا کہ عمران خان نے نشست برقرار رکھی تو ٹربیونل سے رجوع کریں گے، جیت کا مارجن 5 فیصد سےکم ہو تو دوبارہ گنتی ہوسکتی ہے، ریٹرننگ افسر کو دوبارہ ووٹوں کی گنتی کرنے کا اختیارہے۔ عمران خان نے بھی تمام حلقے کھولنے کا کہا تھا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ سیاسی تقریر ہے اور اس کا سیاسی طور پر جائزہ لیں گے۔ سپریم کورٹ نے عمران خان کی درخواست باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کردیا۔

واضح رہے کہ این اے 131 میں عمران خان نے خواجہ سعد رفیق کو انتہائی کم مارجن سے شکست دی تھی۔ لاہور ہائی کورٹ نے سعد رفیق کی درخواست پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم دیا تھا اور تاحکم ثانی حلقے سے عمران خان کی کامیابی کا نوٹی فکیشن جاری کرنے سے روک دیا تھا۔

اسلام آباد کے ایف نائن پارک میں لڑکی سے زیادتی، 4 سی ڈی اے ملازمین گرفتار

 اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے ایف نائن پارک میں 4 سی ڈی اے ملازمین نے لڑکی کو زیادتی کا نشانا بنایا تاہم ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

اسلام آباد کے ایف نائن پارک میں سی ڈی اے کے 4 ملازمین نے لڑکی کو زیادتی کا نشانا بنا ڈالا، پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ 2 اگست کو پیش آیا تھا تاہم متاثرہ لڑکی کی درخواست پرمقدمہ درج کرکے چاروں ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

تھانہ مارگلہ پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی نے اپنے بیان میں بتایا کہ چاروں سی ڈی اے ملازموں نے دھمکیاں دے کر اس کو زیادتی کا نشانہ بنایا

ایف نائن پارک میں زیادتی کے واقعے پر سپریم کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس میں کہا کہ ایف نائن پارک اسلام آباد کا سب سے بڑا پارک ہے، وہاں لائٹس کیوں نہیں لگائی گئیں، سب سے بڑے پارک میں لڑکی کےساتھ زیادتی ہوگئی اور آپ کہتے ہیں بلب خراب ہیں، شام تک تمام لائٹس ٹھیک کروا کر رجسٹرار کو رپورٹ پیش کی جائے۔

الیکشن کمیشن نے 2 حلقوں سے عمران خان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روک دیا

اسلام آباد: الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) نے عام انتخابات 2018 میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر کامیاب ہونے والے اراکین کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی 2 حلقوں سے کامیابی کا نوٹیفکیشن روک دیا گیا۔

خیال رہے کہ عمران خان نے اسلام آباد، کراچی، لاہور، بنوں، میانوالی سے عام انتخابات 2018 میں حصہ لیا تھا، جہاں وہ تمام حلقوں سے کامیاب ہوئے تھے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق این اے 53 اسلام آباد سے عمران خان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے مقدمے کے باعث جاری نہیں کیا گیا جبکہ این اے 131 لاہور سے کامیابی کا نوٹیفکیشن عدالتی حکم پر روکا گیا۔

اس کے علاوہ این اے 35 بنوں، این اے 95 میانوالی اور این اے 243 کراچی سے عمران خان کی کامیابی کے نوٹیفکیشن ضابطہ اخلاق کے معاملے سے مشروط رکھ کر جاری کیے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ملک بھر میں کل 840 جنرل نشستوں پر انتخابات ہوئے جبکہ قومی اسمبلی کے 7 حلقوں کے نوٹیفکیشن روکے گئے ہیں اور 5 حلقوں کے مشروط نوٹیفکیشن جاری کیے گئے۔

ادارے کے مطابق یہ نوٹیفکیشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور عدالتوں میں نتائج چیلنج ہونے کے باعث جاری نہیں کیے گئے۔

اس کے علاوہ الیکشن کمیشن کی جانب سے این اے 90 سرگودھا، این اے 91 سرگودھا، این اے 108 فیصل آباد، این اے 112 ٹوبہ ٹیک سنگھ، این اے 31 لاہور، این اے 140 قصور، این اے 215 سانگھڑ کے نوٹیفکیشن روکے گئے۔

اسی طرح این اے 25 نوشہرہ، این اے 129 لاہور، این اے 243 کے مشروط نوٹیفکیشن جاری کیے گئے۔

این اے 60 راولپنڈی اور این اے 103 فیصل آباد میں انتخابات منعقد نہیں ہوئے تھے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے خیبرپختونخوا اسمبلی کے 5 حلقوں کے بھی نوٹیفکیشن روکے گئے ہیں، جن میں پی کے 4 سوات، پی کے 23 شانگلہ، پی کے 38 ایبٹ آباد، پی کے 61 نوشہرہ، پی کے 64 نوشہرہ شامل ہے جبکہ پی کے 78 پشاور اور پی کے 99 ڈی آئی خان میں انتخابات نہیں ہوئے تھے۔

قومی اسمبلی کے کامیاب اراکین

پنجاب اسمبلی کے کامیاب اراکین

سندھ اسمبلی کے کامیاب اراکین

خیبرپختونخوا اسمبلی کامیاب اراکین

بلوچستان اسمبلی کے کامیاب اراکین

آرمی چیف سے روسی نائب وزیر دفاع کی ملاقات

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے روسی نائب وزیر دفاع کرنل جنرل الیگزینڈر نے ملاقات کی ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پاکستان کے دورے پر آئے روسی نائب وزیر دفاع کرنل جنرل الیگزینڈر جی ایچ کیو راولپنڈی پہنچے جہاں انہوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ سے ون آن ون ملاقات کی۔

ملاقات میں علاقائی سلامتی کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جب کہ  پاکستان اور روس کے درمیان سیکیورٹی اور دفاعی تعاون بڑھانے پر بھی بات چیت کی گئی۔

روسی نائب وزیر دفاع نے پاک فوج کی دہشت گردی کے خلاف کامیابیوں کو سراہتے ہوئے  کہا کہ  دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے عالمی سطح پر مربوط تعاون کی ضرورت ہے۔

پاکستانیوں کا پیسہ بیرونی ممالک سے واپس لانے کی کوشش ہے، چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں بیرون ملک پاکستانیوں کے اکاؤنٹس اور جائیدادوں سے متعلق کیس کی سماعت میں چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’میری معلومات کے مطابق پاکستانیوں کے 1 ہزار ارب روپے بیرونی ممالک میں ہیں، ہماری کوشش ہے کہ اس میں سے 600 ارب روپے واپس آجائیں۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے بیرون ملک اکاؤنٹس اور جائیدادوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پاکستان کا بہت زیادہ پیسہ باہر چلا گیا ہے، پاکستانیوں نے دبئی، سوئٹزرلینڈ اور دیگر ممالک میں اکاؤنٹس اور جائیدادیں بنا رکھی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ’ہماری کوشش ہے کہ یہ رقم واپس آجائیے، کیا عدالت اتنی مجبور ہوگئی ہے کہ ملک سے بایر جو پیسہ چلا گیا ہے اس کا پوچھ نہ سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کی اعلیٰ بیوروکریسی عدالت میں آکر اپنی مجبوری کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں کر سکتے ہم ایسا نہیں ہونے دینگے ملک کا پیسہ واپس لائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے نے جن لوگوں کی نشاندہی کی ہے ان میں سے ایک ہزار لوگوں کو بلا کر پوچھ لیتے ہیں، یہ پتہ چل جائے گا کہ جس نے ایمنسٹی سکیم سے فائدہ نہیں اٹھایا اس نے ضرور گڑھ بڑھ کی ہوگی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ’ہم ان افراد کے لیے بیان حلفی کی شرط رکھ لیتے ہیں جیسے ہم نے انتخابی امیدواروں کے لئے رکھی تھی۔

عدالت میں گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے بتایا کہ جو ڈیٹا ہمیں ملا ہے اس سے کافی امید ملی ہے عدالت کچھ وقت دے ہم باقاعدہ ایک لائحہ عمل دینگے۔

چیف جسٹس نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’ایف آئی اے نےاچھا کام کرتے ہوئے بہت سی بیرون ملک جائدادوں کی معلومات اکٹھی کی ہے جسے خفیہ رکھ رہے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے 3 ستمبر تک کی مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

کراچی: تنخواہ نہ ملنے پر ساتھیوں کو یرغمال بنانے والے ملزم نے ہتھیار ڈال دیے

کراچی میں سپرہائی وے پر واقع نجی کمپنی میں مسلح ملازم نے 4 گھنٹے تک اپنے ساتھیوں کو یرغمال بنانے کے بعد ہتھیار ڈال دیے۔

سلیم شہزاد نامی مسلح ملازم نے فیکٹری کے انتظامی امور کے کمرے میں لوگوں کو 4 گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھا، اس کے پاس ایک بیگ بھی تھا جس میں اس نے بارودی مواد موجود ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔

ملزم نے ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اس کی بات آرمی چیف یا چیف جسٹس سے نہیں کرائی گئی تو وہ خود کو دھماکے سے اڑالے گا۔

پولیس نے موقع پر پہنچ کر فیکٹری کو گھیرے میں لیا اور ملزم سے مذاکرات شروع کیے۔

ملزم سلیم نے اپنے ویڈیو بیان میں اس ہی فیکٹری سے ملازمت سے نکالے جانے کا ذکر کیا تھا اور بتایا تھا کہ فیکٹری مالکان نے اس کی واجب الادا رقم نہیں دی ہے۔

اس کے مطابق وہ 9 ماہ سے فیکٹری میں ملازمت پر تھا اور اسے فیکٹری مالکان کی جانب سے 2 ماہ کی تنخواہ نہیں دی گئی تھی۔

سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ملیر، منیر شیخ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملزم کے حراست میں لیے جانے کی تصدیق کی اور بتایا کہ گرفتار ملزم کے بیگ میں بارودی مواد نہیں بلکہ کپڑے ہیں اور دیگر ذاتی استعمال کی چیزیں تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فیکٹری مالکان نے سلیم کو بقایاجات کی ادائیگی کی یقین دہانی کرائی ہے۔

انہو ں نے دعویٰ کیا کہ گرفتار ملزم سلیم شہزاد کا ذہنی توازن درست نہیں ہے اور فیکٹری مالکان نے اسے نقصان کرنے پر نکالا تھا۔

اس سے قبل ڈی ایس پی گڈاپ ٹاؤن نے ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملزم سلیم پولیس کو ڈرانے کے لیے 3 سے 4 فائر کیے تھے۔

ملزم سلیم شہزاد کا تعلق راجن پور کے علاقہ فاضل پور سے ہے۔

ملزم کے اہل خانہ نے ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سلیم شہزاد کراچی کی مذکورہ فیکٹری میں ملازم تھا۔

انہوں نے سلیم شہزاد کے دعوے کی تصدیق کی کہ سلیم شہزاد کو کٸی ماہ سے تنخواہ نہیں دی جارہی تھی جس کی وجہ سے ان کے گھر میں فاقے چل رہے تھے۔

اہل خانہ کا کہنا تھا کہ سلیم شہزاد نے فیکٹری مالک سے تنخواہ کے بارے میں کئی بار اپیل کی تھی تاہم فیکٹری مالکان کی جانب سے کوئی جواب نہ ملنے پر اس نے انتہاٸی قدم اٹھایا۔

پشین: لڑکیوں کے 2 اسکولوں کو آگ لگا دی گئی

بلوچستان کے علاقے پشین کی تحصیل خانوزئی پشین میں نامعلوم ملزمان نے لڑکیوں کے لیے قائم 2 اسکولوں کو آگ لگا دی۔

سیکریٹری تعلیم بلوچستان کا کہنا تھا کہ آگ لگانے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اسکو ل میں آگ لگانے کا واقعہ چھٹی کے بعد پیش آیا اور کسی جانی نقصان کی بھی تاحال کوئی اطلاع نہیں ہے۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر پشین اورنگزیب بادینی نے اسکول میں آگ لگانے کے واقعے تردید کرتے ہوئے کہا کہ اسکول کے کلاس روم میں موجود دستاویزات میں آگ لگانے سے فرنیچر اور دیگر سامان متاثر ہوئے ہیں اس ضمن میں متعلقہ لیویز انکوائری کررہی ہے۔

یاد رہے کہ3 اگست کو گلگت بلتسان کے ضلع چلاس کی ایک تحصیل میں نامعلوم شرپسندوں نے رات کے اندھیرے میں لڑکیوں کے لیے قائم متعدد اسکولوں کو نذر آتش کیا تھا۔

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمٰن نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے شرپسندوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی تھی اور اسکولوں کی دوبارہ تعمیر کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین رحمٰن ملک نے چلاس و دیامر میں اسکولوں کو نذر آتش کیے جانے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکریٹری گلگت بلتستان سے رپورٹ طلب کی تھی۔

دیامر میں اس واقعے کے دو روز بعد سیشن جج ملک عنایت الرحمٰن کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی تاہم وہ اس حملے میں محوظ رہے تھے لیکن شرپسندوں کے خلاف کارروائی کے دوران ایک پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے۔

نواز شریف کی نیب ریفرنسز دوسری عدالت منتقلی کی درخواست منظور

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست منظور کرلی۔ 

اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس عامر فاروق اور میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل بینچ نے مسلم لیگ (ن) کے  تاحیات قائد نوازشریف کی جانب سے العزیزہ اورفلیگ شپ ریفرنس منتقلی کی درخواست پر سماعت کی۔

العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز دوسری عدالت منتقل

نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کی طرف سے جواب الجواب مکمل ہونے اور ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو کچھ ہی دیر بعد سنایا گیا، عدالت نے دونوں ریفرنسز دوسری عدالت منتقلی کی درخواست منظور کرلی جس کے تحت اب نوازشریف کے خلاف یہ ریفرنسز احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نہیں سنیں گے۔

اس سے قبل دوران سماعت ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر کا کہنا تھا کہ میرا موقف ہے کہ چارج فریم ہونے کے بعد کیس دوسری عدالت منتقل نہیں کیا جاسکتا۔

نواز شریف کا اس جائیداد سے تعلق نہیں

نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ استغاثہ نے کیس ثابت نہیں کیا، استغاثہ بار ثبوت منتقل کرنے میں کامیاب ہوگا تو ہم دفاع پیش کریں گے جب کہ نواز شریف کا موقف ہے کہ ان کا اس جائیداد سے تعلق ہی نہیں۔

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ جائیداد ان کے بچوں کی ہے جو نہ عدالت پیش ہوئے نہ دفاع پیش کیا، سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی میں بھی دستاویزات بچوں نے پیش کیں، بچوں کی پیش کی گئی ان دستاویزات کی بنیاد پر نواز شریف کو سزا سنائی گئی جب کہ قطری خط تینوں ریفرنسز کے مشترکہ شواہد میں سے ایک ہے۔

کیپٹن (ر) صفدر کی درخواست پر سماعت آج ہوگی 

جسٹس میاں گل حسن نے خواجہ حارث سے مکالمہ کیا کہ آپ ہمیں ایک چارٹ بنا کر دیں، جس سے ظاہر ہو کہ کون سے الزامات مشترک ہیں اور ان سے متعلق ایون فیلڈ ریفرنس میں فیصلہ آچکا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا بنچ آج کیپٹن (ر) صفدر کی سزا معطل کرنے کی درخواست پر سماعت کرے گا۔

Google Analytics Alternative