قومی

نگراں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس (ر) دوست محمد خان نے حلف اٹھالیا

پشاور: نگراں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ دوست محمد خان نے حلف اٹھالیا ہے۔

جسٹس ریٹائرڈ دوست محمد نے نگراں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا حلف اٹھالیا۔ حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس پشاور میں ہوئی، گورنر خیبر پختونخوا نے نگراں وزیراعلیٰ سے حلف لیا۔ اس موقع پرسبکدوش وزیر اعلیٰ پرویز خٹک ، اہم سیاسی و سماجی شخصیات، ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اورسرکردہ وکلا نے شرکت کی۔

حلف برداری کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے نگراں وزیراعلیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن اور آئین پاکستان نے انہیں جو مشن سونپا ہے اسے پورا کریں گے، وقت پرصاف، شفاف اور غیر جانبدار طریقے سے الیکشن کا انعقاد ممکن بنائیں گے۔ اس کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کومساوی مواقع فراہم کریں گے۔ ہماری کابینہ مختصرہوگی اور کابینہ کے ارکان کو میرٹ پرمنتخب کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کوشش کریں گے مختصر دور حکومت میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں۔

کالا باغ ڈیم پر سندھ کے تحفظات جائز ہیں، چیرمین واپڈا

 اسلام آباد: واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے چیرمین نے کالا باغ ڈیم پر سندھ کے تحفظات کو بالکل درست قرار دے دیا۔

سینیٹر شمیم آفریدی کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اسلام آباد میں اجلاس ہوا۔ چیئرمین واپڈا مزمل حسین نے شرکا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جب تک اتفاق رائے نہیں ہوگا کالا باغ ڈیم پر کام شروع نہیں کریں گے، اگر کالا باغ ڈیم بنتا ہے تو اس کا آپریشن سندھ کے حوالے کردیا جائے، سندھ کے تحفظات درست ہیں، سندھ کو خدشہ ہے کالا باغ ڈیم سے پنجاب کو پانی دیا جائے گا۔

چیرمین واپڈا نے کہا کہ دیامیر بھاشا ڈیم پر کام کا آغاز کرنے میں زمین کے مالکان کی جانب سے مشکلات کا سامنا ہے، ڈیم کی زمین خیر پختونخواہ اور گلگت بلتستان دونوں میں تقسیم ہے، جب بھی کام شروع کرتے ہیں تو دونوں طرف سے لوگ فائرنگ شروع کردیتے ہیں، اب تک ہمارے 12 افراد مارے جاچکے ہیں، حکومتیں بھی ہم سے تعاون نہیں کررہیں، اب تک اس منصوبے کے لئے 80 ارب روپے دے چکے ہیں، 2006 میں آبادی کی منتقلی کا منصوبہ غلط بنایا گیا، ہم نے آبادکاری کی تجاویز دی ہیں مگر ہماری تجاویز مانی نہیں جانی رہیں۔

چیرمین واپڈا نے ملک میں گنے کی فصل لگانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ گنا اور دیگر زیادہ پانی استعمال کرنے والی فصلوں کی کاشت کم کرنی چاہئے، پنجاب اور سندھ میں آبپاشی کے لئے استعمال کیا جانے والا 50 فیصد پانی ضائع ہوجاتا ہے، پانی ناپنے کے لئے لگایا جانے والا ٹیلی میٹری سسٹم بھی توڑ دیا گیا ہے، پاکستان کے پاس 30 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے، بھارت 170 دنوں کے لئے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مزمل حسین نے مزید کہا کہ بھارت کے پاس 943 ڈیمز ہیں پاکستان کے پاس محض 155 چھوٹے بڑے ڈیمز ہیں، پانی کی چوری سب سے بڑا مسئلہ ہے ، نو لاکھ 60 ہزار ٹیوب ویلز ملک میں چل رہے ہیں جس کے باعث زیر زمین پانی کم ہو گیا، نیسپاک میں 921 سفارشی بھرتے کئے گئے ہیں، سیاسی بھرتیوں کی وجہ سے یہ ادارہ تباہ ہوچکا ہے۔

کاغذات نامزدگی بحال؛ امیدواروں کو دیگر معلومات بیان حلفی پر جمع کرانے کا حکم

 اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نئے کاغذات نامزدگی بحال کرتے ہوئے امیدواروں کو فارم میں غیر موجود باقی تمام معلومات الگ سے بیان حلفی پر جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ میں کاغذات نامزدگی فارم سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ نئے کاغذات نامزدگی برقرار رہیں گے لیکن تمام امیدواروں کو اپنی مکمل معلومات فراہم کرنی ہوں گی، معلومات بیان حلفی پر اوتھ کمشنر سے تصدیق کروا کر جمع کرائی جائیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ الیکشن کمیشن آج رات تک بیان حلفی ڈیزائن کر کے جمع کرائے، عدالت بیان حلفی کا فارمیٹ بنا کر حکم نامے کا حصہ بنا دے گی، نئے کاغذات نامزدگی چھاپنے کی ضرورت نہیں، تین دن میں امیدوار معلومات دینے کے پابند ہوں گے، اگر جھوٹ بولا تو توہین عدالت اور جعلسازی کی کاروائی ہوگی۔

ایاز صادق کے وکیل شاہد حامد کے وکیل پیش ہوئے۔  چیف جسٹس نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل دائر نہ کرنے کی وجہ سے ایاز صادق کی اپیل ایک منٹ میں خارج ہو سکتی ہے، ہم لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھ سکتے ہیں۔ شاہد حامد نے کہا کہ وقت کی کمی کے باعث اپیل دائر نہیں کی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ کو بچوں کے اور اپنے غیر ملکی اثاثے اور اکاوٴنٹس بتانے میں کیا مسئلہ ہے، آخر معلومات دینے میں شرم کیوں آرہی ہے، ووٹر کو معلوم ہونا چاہیے کہ لیڈر کس قسم کے لوگ ہیں، اپ اثاثے اور تعلیم چھپا کر کہتے ہیں آئینی نکتہ ہے، کاغذات نامزدگی کیساتھ باقی معلومات کا بیان حلفی بھی دیں، قانون بنانے والوں نے چالاکیاں کر کے قوم کو مصیبت میں ڈالا ہے۔

چیف جسٹس نے حکم دیا کہ عوام سے آخر کیوں معلومات چھپائی جا رہی ہیں، عوام کو امیدوار کی ایمانداری اور دیانتداری کا علم ہونا چاہیے، آخر کیا ظاہر نہیں کرنا کس بات کی شرم ہے، کون سا مال چھپا رکھا ہے جو ظاہر نہیں کرنا، کیا زیر کفالت افراد کی جائیداد بتانے میں مسئلہ ہے، کیا معلوم زیر کفالت کے نام پر کتنی بے نامی دار جائیداد یا اکاوٴنٹس ہوں۔

چیف جسٹس نے پنجابی کہاوت دہرائی کہ ’’اپ کھادا اپے ہی پیتا۔ اپے ہی واہ واہ کیتا ہی“ نہیں چلے گا، سپریم کورٹ کسی صورت الیکشن ملتوی نہیں کریگی، ملک چلانے کے لیے شفاف لوگ چاہئیں، ووٹر کے انکھوں پر پٹی نہیں باندھ سکتے، الیکشن پر کروڑوں روپے عوام کے خرچ ہوتے ہیں، بڑے بڑے جلسوں پر لاکھوں خرچ ہوتے ہیں، دنیا میں کہیں اتنے بڑے پینا فلیکس نہیں لگتے، الگ بینچ بنائیں گیے جو دیکھے گا الیکشن کیسے کروانا ہے۔

شاہد حامد نے کہا کہ ایاز صادق کو معلومات فراہم کرنے پر اعتراض نہیں، معاملہ پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون کا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر اعتراض نہیں ہے تو معلومات جمع کروائیں، الیکشن کمیشن کے اختیارات کم کیوں کروانا چاہتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت ملتوی کرتے ہوئے قرار دیا کہ کیس کا حکم نامہ آج ہی جاری کردیا جائے گا۔

جانئے آج آپ کا دن کیسا رہے گا

حمل:

21مارچ تا21اپریلشادی کا امکان روشن ہے بس ذرا اپنے بزرگان کو بھی ہمنوا بنا لیں، مقصد کی تکمیل لازمی ہو سکے گی، بفضل خدا آپ کو منشاء کے مطابق ملازمت مل سکتی ہے، صحت جسمانی گاہے بگاہے خراب ہو سکتی ہے۔

ثور:
22اپریل تا20مئی

یہ عرصہ گھریلو ماحول کو مزید خوشگوار بنانے میں آپ کا معاون و مددگار ثابت ہو سکتا ہے، آپ کی کاوش اور ہمت قابل داد ہے، بفضل خدا آپ اپنے نیک اور پرخلوص جذبوں کا صلہ توقع سے بڑھ کر پا سکیں گے۔

جوزا:
21مئی تا21جون

آپ خواہ کوئی کاروبار کرتے ہیں بہتر ثابت ہو سکتا ہے بس ذرا ضرورت غیر معمولی ذہانت کی ہے اس حقیقت سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آپ ایک باصلاحیت انسان ہیں۔

سرطان:
22جون تا23جولائی

اگر سوچ بچار کے بعد اپنی کسی سکیم کو عملی شکل دیں تو لازمی کامیابی ہو سکتی ہے البتہ جلد بازی سے گریز کریں اپنے شریک کار پر بھی خصوصی نظر رکھیں تاکہ نقصان سے محفوظ رہا جا سکے۔

اسد:
24جولائی تا23اگست

اپنے دوستوں سے بھی مشورہ ضرور کرتے رہئے جو کہ آپ کے برے وقتوں میں بھی کام آتے رہے ہیں، آپ اپنے اخلاق کو کبھی نہ بگڑنے دیں آپ کی مالی پوزیشن بہت مضبوط ہو سکتی ہے۔

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

بنائی ہوئی ہر سکیم کامیابی سے ہمکنار ہو سکتی ہے اور آپ ان سکیموں کی بدولت بہتر مستقبل کی ضمانت حاصل کر سکیں گے، غیر ملکی سفر کا پروگرام عملی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

آپ کی سب سے بڑی خامی تو یہ ہے کہ آپ خود کو سب سے زیادہ عقلمند سمجھ کر ہر معاملے کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کاش آپ اگر ایسا نہ کریں تو بڑی خوشگوار زندگی بسر ہو سکتی ہے۔

عقرب:
24اکتوبر تا22نومبر

دوسروں کو حتی الامکان خوش رکھیں تاکہ دوسرے بھی آپ کی مرضی کے مطابق آپ کو خوش رکھیں، شریک حیات اور سسرال سے غلط قسم کی توقعات وابستہ نہ کریں۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

آپ نے ہمارے مشوروں کو نظرانداز نہیں کیا بلکہ ان پر عمل پیرا ہو کر کچھ نہ کچھ استفادہ بھی کر لیا ہو گا اب بھی آپ اس حقیقت سے انکار کر سکتے ہیں کہ گزشتہ ہونے والی ناکامیوں کے پیچھے آپ ہی کا ہاتھ ہے۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

چند ایسے رشتہ داروں سے تعلقات استوار ہونے کی امید ہے جو کہ پہلے آپ کی مخالفت ہی پر آمادہ رہا کرتے تھے لہٰذا اگر ایسا ہونے لگے تو آپ بھی ان کی سابقہ غلطیوں کو نظرانداز کر دیجئے۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

ایک ایسا پرانا دشمن جس کے ساتھ بسلسلہ جائیداد آپ کا جھگڑا بھی ہے آپ سے صلح کی کوشش کر سکتا ہے اس چانس سے فائدہ ضرور حاصل کریں۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

بفضل خدا حالات موافق ہو سکتے ہیں آپ آگے بڑھنے کا مضبوط ارادہ کریں تمام دشواریاں یکے بعد دیگرے آپ کے راستے سے ہٹتی چلی جائیں گی۔

چیف جسٹس کا خدیجہ صدیقی کے حملہ آور کی رہائی پرازخود نوٹس

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے قانون کی طالبہ پر چھریوں کے وار کرنے کے مقدمے میں بری ہونے والے ملزم کی رہائی کا ازخود نوٹس لے لیا۔

چیف جسٹس نے مقدمے کا ریکارڈ 10 جون 2018 کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں طلب کرلیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سردار احمد نعیم نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد مختصر فیصلہ ملزم کے حق میں سنایا تھا۔

واضح رہے کہ خدیجہ صدیقی کو ان کے ساتھی طالب علم شاہ حسین نے 3 مئی 2016 کو شملہ ہلز کے قریب اس وقت چھریوں کے وار سے زخمی کر دیا تھا جب وہ اپنی چھوٹی بہن کو اسکول چھوڑنے جارہی تھی۔

خدیجہ اپنی سات سالہ بہن صوفیہ کو اسکول سے گھر واپس لانے کے لیے گئی تھی اور ابھی اپنی گاڑی میں بیٹھنے ہی والی تھی کہ ہیلمٹ پہنے شاہ حسین ان کی جانب بڑھے اور خدیجہ کو 23 بار خنجر سے تشدد کا نشانہ بنایا۔

واقعے کے ایک ہفتے کے اندر لاہور ہائی کورٹ میں ملزم کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ دائر کیا گیا، عدالت کے سامنے شواہد پیش کیے گئے اور شاہ حسین کی شناخت یقینی بنانے کے لیے ویڈیو فوٹیج بھی پیش کی گئی۔

تاہم لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ستمبر 2016 میں ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست خارج کیے جانے کے باوجود دوماہ بعد شاہ حسین کو سیشن کورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری مل گئی۔

بعد ازاں 29 جولائی 2017 کو جوڈیشل مجسٹریٹ نے شاہ حسین کو 7 برس کی سزا سنادی تھی تاہم رواں سال مارچ میں سیشن کورٹ نے ان کی اپیل پر سزا کم کرکے 5 سال کردی تھی جس پر مجرم نے دوسری اپیل دائر کردی تھی۔

سینئر وکیل کے بیٹے شاہ حسین نے سیشن عدالت کے پانچ سال قید کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی جس پر لاہور ہائی کورٹ جسٹس نے ان کی بریت کا فیصلہ سنا دیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد خدیجہ صدیقی نے ڈان ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ہائی کورٹ سے اس فیصلے کی توقع نہیں کررہی تھیں کہ ان پر حملہ کرنے والے ملزم کو ثبوت کے باوجود شک بنیاد پر رہا کردیا جائے گا۔

پی ٹی آئی کے الزامات دن رات برداشت کیے اور صرف کام کیا، شہباز شریف

لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے الزامات دن رات برداشت کیے اور بدلے میں صرف کام کیا۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ برے کو برا کہنے اور اچھے کی تعریف کرنے سے ہی ملک آگے بڑھے گا، سزا اور جزا کا نظام صاف اور شفاف ہونا چاہیے لیکن پسند ناپسند کے باعث خرابیاں مزید بڑھیں گی۔

شہباز شریف نے تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے الزامات دن رات برداشت کیے اور بدلے میں صرف کام کیا، قوم نے 5 سال بعد ہر الزام کا موازنہ کرلیا اور دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوگیا۔

ان کا کہنا تھاکہ اورنج لائن میں 22 ماہ کی تاخیر تحریک انصاف نے کرائی، ساڑھے چار سال جنگلا جنگلا بولتے رہے لیکن اب پشاور میں جنگلا بس بنا رہے ہیں جس کی وجہ سے پورا شہر کھودا ہوا ہے اور آج یہی میٹرو منصوبہ پی ٹی آئی کے گلے کا پھندا بن گیا ہے۔

سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے کہاکہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پنجاب دیگر صوبوں سے بازی لے گیا اور نوازشریف کی قیادت میں بجلی کی منصوبے لگانا 5 سال کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

شہبازشریف کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بہت براحال تھا اور 20، 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی تھی، وفاقی حکومت نے بلوکی اور حویلی بہادرشاہ میں 1200، 1200 میگاواٹ کےبجلی پیداوارکے پلانٹ لگائے ہیں جب کہ کے الیکٹرک کو دی جانے والی 300 میگاواٹ بجلی پنجاب کو ملنی تھی جو نہیں ملی۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 19 یونیورسٹیاں اور 200 نئے کالج بنائے گئے جب کہ 4 لاکھ مفت لیپ ٹاپ بانٹے گئے، پنجاب کےتمام اضلاع کوصحت کے معاملے پر اپ گریڈ کیا گیا  ہے  اور کئی اضلاع میں ڈرگ ٹیسٹنگ لیبز بنائی ہیں، 17 اضلاع میں ہیلتھ انشورنس کارڈمتعارف کرایاجاچکا ہے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دیامیر بھاشا ڈیم کی زمین 100 ارب روپے میں خرید لی ہے اور موقع ملا تو اگلے دور میں ڈیم بھی بنائیں گئے۔

نگراں وزیراعظم کا توانائی شعبے کی بہتری کیلیے جامع منصوبہ مرتب کرنے کا حکم

 اسلام آباد: نگراں وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے توانائی کے شعبے کی بہتری کے لیے جامع منصوبہ مرتب کرنے کا حکم دیا ہے۔

نگراں وزیراعظم جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری توانائی، ایم ڈی پیپکو اور ایم ڈی این ٹی ڈی سی نے شرکت کی اور نگراں وزیراعظم کو شعبہ توانائی کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ میں نگراں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ ملک میں 28 ہزار 704 میگاواٹ بجلی کی پیداوار کی گنجائش موجود ہے، مئی میں پن بجلی کی پیداوار کم ہو کر 3090 میگاواٹ ہوگئی ہے۔

اس موقع پر نگراں وزیراعظم نے کئی ڈسٹری بیوشن کمپنیز میں بھاری لاسز پر تشویش کا اظہار کیا اور وزارت توانائی کو خسارے میں کمی کے لئے اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کے شعبے کی بہتری کے لیے جامع پلان مرتب کیا جائے۔

جسٹس (ر) دوست محمد خان نگراں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا مقرر

اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے جسٹس ریٹائرڈ دوست محمد خان کونگراں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا مقرر کردیا۔

الیکشن کمیشن اسلام آباد میں خیبر پختونخوا میں نگراں وزیراعلی کے لئے اسپیکر صوبائی اسمبلی کی جانب سے بھجوائے گئے ناموں پرغورکیا گیا۔ الیکشن کمیشن نے غورکے بعد جسٹس ریٹائرڈ دوست محمد خان کو نگراں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا مقرر کردیا۔

الیکشن کمیشن حکام کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 224 اے کے تحت صوبائی اسمبلی میں قائد ایوان اورقائد حزب اختلاف نگراں وزیراعلیٰ کے لئے کسی نام پر متفق نہ ہوسکے جس کے بعد پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی، کمیٹی بھی کسی نتیجے پرنہ پہنچ سکی تو اسپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر نے الیکشن کمیشن کو 4 نام اعجاز قریشی، حمایت اللہ خان، منظور آفریدی اور جسٹس (ر) دوست محمد ریفر کیے تھے۔

واضح رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ دوست محمد خان پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس جب کہ سپریم کورٹ کورٹ کے فاضل جج بھی رہ چکے ہیں ، وہ سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے چند ماہ قبل ہی ریٹائرہوئے ہیں۔

Google Analytics Alternative