قومی

کسی مائی کے لعل کو رسول اللہ کی شان میں گستاخی نہیں کرنے دینگے، فضل الرحمن

جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ کسی مائی کے لعل کو رسول اللہ کی شان میں گستاخی کی اجازت نہیں دیں گی اگر کوئی ایسی کوشش کرتا ہے تو ہر شخص غازی علم دین بن کر دکھائے گا۔

آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا یہ دھرنا سیرت النبیؐ کانفرنس میں تبدیل ہوگیا ہے اور ہم نے اس سے بڑی سیرت النبیؐ کانفرنس کبھی نہیں دیکھی، دنیا دیکھ رہی ہے کہ ہم رسول اللہ ؐ سے کتنی محبت کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین پر کسی بھی شخص کو ناموس رسالتؐ سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، یہ مجمع ناموس رسالتؐ پر مرمٹے گا، یہ عوام ناموس رسالتؐ پر قربان ہونے کو تیار ہے، ہم نے گزشتہ نومبر میں بھی احتجاج کیا تھا جس کی وجہ ایک ملعونہ کی رہائی تھی جسے بیرونی دباؤ پر رہا کیا گیا، ہم اداروں کو ناموس رسالتؐ سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

فضل الرحمن نے کہا کہ ہم ہرسال جشن آزادی مناتے ہیں لیکن ہم آزاد نہیں، ملک کو ایک کالونی بنادیا گیا ہے، حدیث شریف کے مطابق ہم یہود و نصاریٰ کے غلام ہیں، من حیث القوم ہم کس کی پیروی کررہے ہیں؟ آج ہمیں اللہ کے حضور عہد کرنا ہے کہ آج کے بعد ہم نے پاکستان میں کسی مائی کے لعل کو رسول اللہ کی شان میں گستاخی کی اجازت نہیں دے گا اگر کوئی ایسی کوشش کرتا ہے تو ان پر یہ مجمع واضح کرتا ہے ہر شخص غازی علم دین بن کر دکھائے گا، آج کا اجتماع حکومت کو چیلنج کرتا ہے کہ ختم نبوت کے قانون میں تبدیلی کرکے دکھادو۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ یہودیت، نصرانیت اور منافقت سب کفر کے درجے ہیں، مسلمان نہ کافر ہوتا ہے نہ مشرک، نہ منافق ہوتا ہے نہ کافر لیکن یہ خصوصیات ان میں آسکتی ہیں، ہمارے حکمرانوں میں ایسی ہی خصوصیات ہیں، ہم آئین سے بہت دور چلے گئے پاکستان جن مقاصد کے لیے حاصل کیا گیا وہ مقاصد پورے نہیں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ملک میں جائز اور آئینی حکومت چاہتے ہیں تاکہ عوام سکون سے رہیں، لیکن یہاں قدم قدم پر مغرب کی غلامی کی جارہی ہے، پاکستان کے مستقبل کو روشن کرنا ہے تو ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ہم اس ملک میں غلام بن کر زندگی نہیں گزاریں گے۔

دیواربرلن گرسکتی ہے توکنٹرول لائن کی عارضی حد بندی بھی کھل سکتی ہے، وزیرخارجہ

ناروال: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ دیواربرلن گرسکتی ہے تو کنٹرول لائن کی عارضی حد بندی بھی کھل سکتی ہے۔

کرتارپورراہدرای کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کرتارپورکے دروازے سکھ یاتریوں کیلئے کھول دیئے گئے، دنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتریوں کو جی آیا نوں، آج کے دن کو تاریخی دن کے طور پر دیکھ رہا ہوں، محبت کی راہداریوں کا افتتاح عمران خان کر رہے ہیں۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ سوچنا ہوگا امن کوخطرہ کہاں سے ہے،غورکرنا ہوگا برصغیرمیں نفرت کے بیج کون بورہا ہے، کاش آج کا محبت کا پیغام مقبوضہ کشمیرتک بھی پہنچ جائے، محبت ہوتی تو منموہن سنگھ کو کرتارپور آنےمیں 72 سال نہ لگتے، کشمیری 72 سال سے بھارتی وزیراعظم کے وعدے کی تکمیل کے منتظر ہیں، جس طرح ہم نے آج گوردوارہ کھولا، نریندرمودی بھی اسی طرح سرینگرکی جامع مسجد کھولیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کیا مودی کشمیرسے کرفیو اٹھا کرعمران خان کو شکریہ کا موقع دے سکتے ہیں، دیواربرلن گرسکتی ہے توکنٹرول لائن کی عارضی حد بھی ختم ہوسکتی ہے۔

قائد اعظم کا ہندوتوا کے بارے میں نظریہ پھر صحیح ثابت ہوگیا، ترجمان پاک فوج

روالپنڈی: پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ آج ایک بار پھر عظیم قائد محمد علی جناح کا ہندو شدت پسندی کے بارے میں نظریہ درست ثابت ہوگیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے لکھا کہ آج ہندوستان کی تمام اقلیتوں کو ایک بار پھر احساس ہو جانا چاہئے کہ ہندوتوا کے بارے میں ہمارے عظیم قائد محمد علی جناح کا نظریہ بالکل ٹھیک تھا اور یقینی طور پر بھارت میں موجود اقلیتوں کو اب ہندستان کا حصہ بننے پر افسوس ہو رہا ہوگا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے اپنی ٹویٹ کے ساتھ میڈیا بریفنگ کی اپنی ایک ویڈیو بھی شیئر کی ہے جس میں انہوں کہا تھا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اور ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ہمیں کس طرح اپنا ملک چلانا ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے ویڈیو بریفنگ میں مزید کہا کہ بھارت خود کو ایک سیکولر ملک کہتا ہے ،لیکن کیا وہ حقیقی طور پر ایک سیکولر ملک ہے؟ کیا وہاں کروڑوں مسلمان اور دیگر اقلیتیں محفوظ ہیں؟ پاکستان نے تو سکھ مذہب کے ماننے والوں کے لیے کرتار پور راہداری بنادی۔

نواز شریف علاج کیلیے آئندہ ہفتے لندن روانہ ہوں گے

لاہور: مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف علاج معالجے کے لیے آئندہ ہفتے لندن روانہ ہوں گے۔ 

ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف، شہباز شریف اورمریم نوازکا لندن جانے کا امکان ہے جس کے لئے اسحاق ڈار نے لندن میں انتظامات مکمل کرلئے ہیں۔ شریف خاندان اور(ن) لیگی رہنماؤں کا اہم اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ نوازشریف کا علاج لندن سے کرایا جائے گا۔

(ن) لیگی ذرائع کے مطابق نوازشریف کے علاج کے لئے سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈارنے لندن میں انتظامات مکمل کرلئے ہیں، نوازشریف کے ساتھ شہبازشریف بھی جائیں گے اور بیرون ملک علاج کے لئے پنجاب حکومت کو بھی آگاہ کیا جائے گا۔

خاندانی ذرائع کے مطابق مریم نوازکا بھی نوازشریف کے ہمراہ بیرون ملک روانہ ہونے کا امکان ہے۔ مریم نوازکے پاسپورٹ کی واپسی کے لئے درخواست عدالت کے روبرو جمع کروائی جائے گی۔ وہ اپنے والد کی دیکھ بھال کے لئے بیرون ملک ہی قیام کریں گی۔

نواز شریف کے معالج ڈاکٹرعدنان نے بھی بیرون ملک علاج کے لئے جانے کا مشورہ دیا اور شریف خاندان کوبریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کی طبیعت سے متعلق رپورٹس ٹھیک نہیں۔

والدہ شمیم اختر نے نوازشریف سے کہا کہ بیرون ملک علاج کروایا جائے جب کہ شہبازشریف نے کہا کہ آپ کی صحت کے حوالے سے بہت فکر مند ہیں، علاج کروانا بہت ضروری ہے۔

نوازشریف کی بیماری کا معلوم ہوتے ہی وزیراعظم انہیں باہر بھجوانے کا فیصلہ کرچکے تھے، نعیم الحق

اسلام آباد: معاون خصوصی وزیراعظم نعیم الحق کا کہنا کہ نوازشریف کی بیماری کا معلوم ہوتے ہی وزیراعظم عمران خان انہیں باہر بھجوانے کا فیصلہ کرچکے تھے۔ 

وزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو نوازشریف کے باہرجانے پر کوئی اعتراض نہیں، نوازشریف کی بیماری کا معلوم ہوتے ہی حکومت ان کو باہر بھجوانے کا فیصلہ کرچکی تھی۔

نعیم الحق کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے خود نوازشریف کی بیماری سے متعلق تمام رپورٹس دیکھی ہیں، نوازشریف شدید بیمار ہیں، ان کے علاج اولین ترجیح ہونی چاہیئے، دعا ہے کہ نواز شریف صحتیاب کو ہو کر واپس آئیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نوازشریف کی ضمانت کا فیصلہ عدالتوں نے کرنا تھا، اب جب کہ عدالت نے انہیں ضمانت پر رہا کردیا ہے تو حکومت نے ان کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ کیا۔

نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے وزارت داخلہ میں درخواست جمع

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے وزارت داخلہ میں درخواست جمع کرادی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے وزارت داخلہ میں درخواست جمع کرادی گئی ہے، درخواست بیماری اور ملک سے باہرعلاج کرانے کی بنیاد پر دی گئی ہے۔ درخواست شہبازشریف کی جانب سے جمع کرائی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف علاج کے لیے ملک سے باہر جانا چاہتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست سیکرٹری داخلہ کو موصول ہوگئی ہے جس کے بعد وزارت داخلہ حکام درخواست کا قانونی پہلوؤں سے جائزہ لے رہے ہیں۔

دوسری جانب نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے نیب سے رابطہ کیا ہے، اس حوالے سے نیب اور محکمہ داخلہ میں طبی بنیادوں پر ای سی ایل سے نکالنے کے لیے مشاورت جاری۔

واضح رہے کہ رواں برس اگست میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کی روشنی میں وزارت داخلہ نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحب زادی مریم نواز کا نام ای سی ایل میں شامل کیا تھا۔

پس منظر؛

العزیزیہ ریفرنس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی ضمانت منظور کی تھی، عدالت نے اپنے فیصلے سابق وزیراعظم کی طبی بنیادوں پر 8 ہفتے کے لیے مشروط ضمانت منظور کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف 8 ہفتے میں علاج کروالیں، عدالت نے انہیں 20، 20 لاکھ کے 2 مچلکے جمع کرانے کی بھی ہدایت کی تھی۔

قبل ازیں لاہور ہائی کورٹ نے بھی سابق وزیراعظم نوازشریف کی طبی بنیاد پر درخواست ضمانت منظور کی تھی جب کہ نیب کی جانب سے ضمانت کی مخالفت نہیں کی گئی۔

استعفیٰ کا مطالبہ غیر آئینی ہے، سنجیدہ مذاکرات کیے جائیں، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے مذاکراتی کمیٹی کو اپوزیشن سے مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت کردی۔

وزیراعظم عمران خان سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے ملاقات کی جس میں وفاقی وزیرداخلہ اعجاز شاہ اور بابر اعوان بھی شریک ہوئے، وزیر داخلہ نے وزیراعظم کو حکومتی حکمت عملی اور انتظامی اقدامات سے آگاہ کیا۔

ملاقات کے دوران حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے وزیراعظم کو بتایا کہ احتجاج جمہوری حق ہے حکومت کو اس سے خطرہ نہیں، خطرہ ہوتا تو دھرنے والوں کو اسلام آباد نہ آنے دیا جاتا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی مذاکراتی کمیٹی کو اپوزیشن سے مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ استعفیٰ کا مطالبہ غیر آئینی ہے، سنجیدہ مذاکرات کیے جائیں۔

کچھ قوتیں دباؤ ڈالنا چاہتی ہیں لیکن اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کروں گا، بلاول

مظفرگڑھ: چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کچھ قوتیں مجھ پر دباؤ ڈالنا چاہتی ہیں لیکن میں اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کروں گا۔ 

مظفر گڑھ میں خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ حکومت نے ایک سال میں معیشت کا بیڑا غرق کر دیا ہے، نااہل ٹولہ ملک سنبھال سکتا ہے نہ معیشت، احتساب کے نام پر سیاسی انتقام کی حد کر دی گئی ہے، یہ کیسا احتساب ہے جو صرف اپوزیشن کا ہو رہا ہے، کیس سندھ میں ہوتا ہے لیکن چلتا پنڈی میں ہے، کچھ قوتیں مجھ پر دباؤ ڈالنا چاہتی ہیں لیکن میں اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کروں گا، عوام کو حکومت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے، عوام کے حقوق کے لیے لڑتا رہوں گا۔

چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ پہلے بھی خبردار کیا تھا اس ملک میں کٹھ پتلی کو مسلط کرنے کی تیاری کی جارہی ہے، پھر وہی ہوا 25 جولائی کو سلیکشن ہوئی اور بدترین دھاندلی کی گئی، پولنگ ایجنٹس کو پولنگ اسٹیشن سے باہر پھینکا گیا اور عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈالا گیا، کسی جماعت نے انتخابات کو تسلیم نہیں کیا۔

بلاول زرداری نے کہا کہ میں نے پہلی تقریر میں عمران خان کو کہا تھا کہ انہوں نے عوام سے کئے اپنے وعدے پورے کیے تو تعریف کریں گے لیکن وعدے پورے نہ کیے تو بھرپور مخالفت ہوگی، یہ حکومت پچھلے10 سال کارونا رو رہی ہے اور ہر قسم کا الزام لگا رہی ہے، لیکن ان سے کوئی پوچھے 10 سال پہلےسونے کی قیمت کیا تھی اور آج کیا ہے، 10 سال قبل پیٹرول، آٹا، گھی،چینی اور دیگر اشیائے خورو نوش کس قیمت پر دستیاب تھے، گیس اور بجلی کی قیمتیں کیا تھیں، میں اس سلیکٹڈ حکومت کو بے نقاب کررہا ہوں، اور اگر عوام نے کہا تو پیپلزپارٹی دھرنے کی سیاست بھی کرے گی۔

Google Analytics Alternative