قومی

اسد عمر کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا چیئرمین لگانے کا فیصلہ

اسلام آباد: حکومت نے سابق وزیرخزانہ اسد عمر کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا چیئرمین لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پی ٹی آئی قیادت نے اسد عمر کو کابینہ میں واپسی پر زور دیا مگر وہ نہ مانے اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سابق وزیرخزانہ اسد عمر سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔

ذرائع کے مطابق اسد عمر نے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی چیئرمین شپ پر رضا مندی ظاہر کردی ہے، وزیراعظم عمران خان نے چیف وہیپ عامر ڈوگر کو ہدایات جاری کر دیں جب کہ چیف وہیپ عامر ڈوگر نے قائمہ کمیٹی خزانہ کے چیئرمین فیض اللہ کو صورتحال سے آگاہ کر دیا، عامر ڈوگر اور اسد عمرنے ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اس خبر کی تصدیق کردی۔

پارلیمانی اجلاس؛ پی ٹی آئی ارکان غیرمنتخب لوگوں کی کابینہ میں شمولیت پر پھٹ پڑے

اسلام آباد: تحریک انصاف کے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں ارکان اسمبلی کابینہ میں غیرمنتخب لوگوں کی شمولیت پر پھٹ پڑے۔

تحریک انصاف کے پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی کہانی  سامنے آگئی، ذرائع کے مطابق ارکان اسمبلی غیرمنتخب لوگوں کی کابینہ میں شمولیت پر پھٹ پڑے، اجلاس میں ارکان اسمبلی کی جانب سے موقف سامنے آیا کہ پیراشوٹرزکی کابینہ میں شمولیت کا فیصلہ نامناسب ہے، حکومتی پالیسیوں میں عوام کے نمائندوں کا کوئی کردار نظر نہیں آرہا، پارلیمنٹ میں اہل لوگ موجود ہیں تاہم غیرمنتخب لوگوں کو مسلط کرنا ناقابل قبول ہے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ معیشت کو ٹھیک کرنا ہے، اپنے فیصلوں کی ذمہ داری لیتا ہوں، آپ کے تحفظات اپنی جگہ ٹھیک ہیں لیکن کچھ سخت فیصلے کرنا پڑتے ہیں، اسد عمر کو تبدیل کرناسخت فیصلہ تھا، اسد عمر آج بھی میرا رائٹ ہینڈ ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے ارکان کو اجلاس ختم ہوتے ہی حلقوں میں جانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اپنے حلقوں میں جائیں اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر رمضان پیکج پرعملدرآمد کرائیں۔

ذرائع کے مطابق ارکان قومی اسمبلی نے نیا بلدیاتی نظام لانے پر وزیراعظم کی تعریف کی، اس موقع پر وزیر دفاع پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ پنجاب کا بلدیاتی نظام اچھا ہے تاہم خیبرپختونخوا کے بلدیاتی نظام میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔

سینہ تان کر، بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر جیل میں پیش ہونے والا صرف نواز شریف ہے، مریم نواز

لاہور: مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ سینہ تان کر، بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر، اہلیہ کو قبر میں اتار کر پیش ہونے والا صرف نوازشریف ہے۔

نوازشریف کی ضمانت ختم ہونے اور جیل واپس جانے پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا تھا کہ گرفتاری کے ڈر سے بھاگتے ہوئے پاکستانی تاریخ نے بہت دیکھے ہیں، لیکن سینہ تان کر، بیٹی کا ہاتھ پکڑے ہوئے، اہلیہ کو قبر میں اتار کر جیل میں خود پیش ہونے والا صرف نوازشریف ہے۔

مریم نواز نے نوازشریف کے جیل جاتے ہوئے کی ویڈیو اور جیو نوازشریف کا ٹیگ لگاتے ہوئے کہا کہ  خود چل کر، پیش ہوکر قانون کو سر بلند رکھنے والا بھی صرف نوازشریف ہی ہے۔

صوبے وفاق کی ناکامی کی وجہ سے دیوالیہ ہو رہے ہیں، بلاول بھٹو زرداری

اسلام آباد: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ صوبے وفاق کی ناکامی کی وجہ سے دیوالیہ ہو رہے ہیں۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ آج معیشت پر بات کروں گا، عام آدمی کی زندگی تنگ ہورہی ہے جب کہ حکومت کی نااہلی کا بوجھ عام آدمی پر پڑ رہا ہے، وزیر خزانہ، گورنر اسٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آر کو ہٹایا جاتا ہے، پوچھتے ہیں کہ یہ فیصلے کون کر رہا ہے، کیا یہ فیصلے آئی ایم ایف کر رہا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ حکومت آئی ایم ایف کے سامنے جھکی ہوئی ہے جب کہ کنفیوژن کی وجہ سے معیشت پر برے اثرات پڑ رہے ہیں اور حکومت کوئی قدم نہیں اٹھا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ خان صاحب کا ہر نعرہ اور دعوی جھوٹ ہوتا ہے، کہتے ہیں وفاق اٹھارویں ترمیم کی وجہ سے دیوالیہ ہو گیا، صوبے وفاق کی ناکامی کی وجہ سے دیوالیہ ہو رہے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ وہ واحد صوبہ ہے جس میں ٹیکس وصولی سب سے زیادہ ہے، حکومت کو سندھ سے سیکھنا چاہیے، عمران خان کی ناکامی کی وجہ سے صوبے متاثر ہو رہے ہیں، عوام مہنگائی کی صورت میں حکومت کی ناکامی کا بوجھ اٹھا رہی ہے، پیپلز پارٹی نے بھی آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل کی مگر تنخواہوں میں اضافہ بھی کیا، لوگ خود فیصلہ کریں کہ تبدیلی سے پہلے حالات بہتر تھے یا اب بہتر ہیں۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ احتساب کے قانون پر ہمارا موقف واضح ہے، آج بھی کہتے ہیں یہ کالا قانون ہے، سمجھتے ہیں نیب خود منی لانڈرنگ کا ادارہ نہیں ہو سکتا، سینیٹ اور قومی اسمبلی میں خود ترمیم لائیں گے، تمام پارٹیز کو چیلنج کریں گے کہ احتساب سب کے لیے ہونا چاہیے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم آج اجلاس میں آئے تھے مگر کوئی جواب نہیں دیا، یہ کیسا بزدل وزیراعظم ہے جو آدھے اجلاس میں اٹھ کر بھاگ گیا، جہانگیر ترین کو ڈپٹی وزیراعظم بننے پر مبارکباد دیتا ہوں۔

اسٹاک ایکسچینج میں مندی؛ ایک دن میں 120 ارب سے زائد ڈوب گئے

کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز بھی مندی کے سبب 85 اعشاریہ 67 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں اور سرمایہ کاروں کے 1 کھرب 20 ارب 96 کروڑ، 26 لاکھ 30 ہزار 950 روپے ڈوب گئے۔

مزید ڈی ویلیوایشن اور شرح سود میں اضافے کےخدشات پر سرمائے کے وسیع پیمانے پر انخلا کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں بدھ کو بھی معمولی تیزی کے بعد بڑی نوعیت کی مندی رونما ہوئی، جس سے انڈیکس کی 35600، 35500، 35400، 35300، 35200اور35100 پوائنٹس کی 6 حدیں بیک وقت گرگئیں۔

انڈیکس 3 سال 5 ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا، مندی کے سبب 85 اشاریہ 67 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جب کہ سرمایہ کاروں کے 1کھرب 20ارب 96کروڑ 26لاکھ 30ہزار 950روپےڈوب گئے۔

ماہرین اسٹاک کا کہنا ہے کہ اقتصادی حالات، آئی ایم ایف بیل آوٹ پیکیج کی شرائط اور نئے بجٹ میں سخت اقدامات کے خدشات پر مارکیٹ میں غیریقینی کیفیت حاوی ہے اورسرمایہ کاروں کا اعتماد بھی مجروح ہے جو مارکیٹ میں تازہ سرمایہ لگانے کے بجائےحصص فروخت کرنے میں اپنی عافیت سمجھ رہے ہیں۔

کاروباری دورانیئے میں ایک موقع پر67 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن میوچل فنڈز سمیت سرمایہ کاری کے دیگر مقامی شعبوں کی جانب سے دھڑا دھڑ فروخت نے تیزی کو بڑی نوعیت کی مندی میں تبدیل کردیا اورحصص کی فروخت میں شدت بڑھنے سے ایک موقع پر 781 پوائنٹس کی مندی بھی رونما ہوئی لیکن اختتامی لمحات میں نچلی قیمتوں پرخریداری سرگرمیاں بڑھنے سے مندی کی شدت میں کمی واقع ہوئی، نتیجتا کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس596 اعشاریہ 03 پوائنٹس کی کمی سے 35035 اعشاریہ 03 ہوگیا، جب کہ کے ایس ای30 انڈیکس 273 اعشاریہ 09 پوائنٹس کی کمی سے 16551 اعشاریہ 62 ، کے ایم آئی 30 انڈیکس 1279 اعشاریہ 02 پوائنٹس کی کمی سے 54750 اعشاریہ 55 اور پی ایس ایکس کے ایم آئی انڈیکس 340 اعشاریہ 94 پوائنٹس کی کمی سے 16524 اعشاریہ 39 ہوگیا۔

کاروباری حجم منگل کی نسبت 73 اعشاریہ 24 فیصد زائد رہا اورمجموعی طور پر11 کروڑ 32 لاکھ 35 ہزار730حصص کے سودے ہوئے، جب کہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 328 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا، جن میں 38 کے بھاؤ میں اضافہ 281 کے داموں میں کمی اور9 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں کولگیٹ  پامولیوکے بھاؤ 110 روپے 09 پیسے بڑھ کر 2311 روپے 94 پیسے اور فیصل اسپننگ کے بھاؤ 12 روپے 02 پیسے بڑھ کر 252 روپے 55 پیسے ہوگئے، جب کہ رفحان میظ کے بھاؤ 340 روپے کم ہوکر 6510 روپے اور فلپس مویس پاکستان کے بھاؤ 183 روپے 50 پیسے کم ہوکر 3486 روپے50 پیسے ہوگئے۔

شاداب خان کی ورلڈ کپ اسکواڈ میں دوبارہ شمولیت کا امکان

راولپنڈی: قومی کرکٹر شاداب خان کی صحت کے حوالے سے پیش رفت  ہوگئی.

ہپٹائٹس سی کا شکار شاداب خان علاج کے ذریعے وائرس کنٹرول کرنے میں کامیاب ہو گئے اور اب ورلڈ کپ سے قبل شاداب خان کی قومی اسکواڈ میں  دوبارہ شمولیت کا قوی امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈاکٹر پیٹرک کینیڈی کی ایڈوئس پر شاداب خان کا راولپنڈی میں علاج جاری  ہے آئندہ ہفتے شاداب خان کے ٹیسٹ دوبارہ لئے جائیں گے جب کہ ٹیسٹ رپورٹ کی روشنی میں ڈاکٹرز اپنی آراسے کرکٹ بورڈ کو آگاہ کریں گے اور رپورٹ آنے کے بعد شاداب خان دوبارہ ٹریننگ شروع کریں گے۔

آسیہ بی بی بیرون ملک چلی گئی، ذرائع

 اسلام آباد: توہین رسالت کیس میں بری ہونے والی آسیہ بی بی بیرون ملک چلی گئی۔

ذرائع کے مطابق توہین رسالت کیس میں بری ہونے والی آسیہ بی بی پاکستان سے باہر چلی گئی ہے اور اس کے کینیڈا منتقل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ آسیہ بی بی آزاد شہری ہے اور وہ اپنی مرضی سے ملک چھوڑگئی ہے۔

اس سے قبل بھی آسیہ بی بی کے بیرون ملک روانگی کی خبریں زیرگردش تھیں جس پر ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرفیصل نے آسیہ بی بی کی بیرون ملک روانگی کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پاکستان میں ہی موجود ہے۔

آسیہ مسیح پر الزام تھا کہ اس نے جون 2009 میں ایک خاتون سے جھگڑے کے دوران حضرت محمد ﷺ کی شان میں توہین آمیزجملے استعمال کیے تھے۔

واضح رہے آسیہ بی بی کو توہین رسالت کے الزام میں 2010 میں لاہور کی ماتحت عدالت نے سزائے موت سنائی تھی، لاہور ہائی کورٹ نے بھی آسیہ بی بی کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج کر دی تھی جس کے بعد ملزمہ نے عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کی تھی۔  گزشتہ ماہ 31 اکتوبرکو سپریم کورٹ نے سزا کالعدم قراردے کرآسیہ بی بی کورہا کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

نواز شریف کی ضمانت کی مدت ختم؛ جیل حکام جاتی امرا میں موجود

لاہور: سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) نواز شریف کی ضمانت کی مدت ختم ہوگئی ہے جس کے بعد کوٹ لکھ پت جیل کی انتظامیہ انہیں دوباری جیل لے جانے کے لیے جاتی امرا پہنچ گئی ہے۔ 

سپریم کورٹ نے 26 مارچ کو نواز شریف کی طبی بنیادوں پر 6 ہفتوں کے لیے عبوری ضمانت منظور کی تھی، جس کے بعد سابق وزیر اعظم کی ضمانت کی مدت 7 مئی کو ختم ہوگئی ہے۔

کوٹ لکھپت جیل کا عملہ اسسٹنٹ سپرنٹینڈنٹ جیل شہزاد کی سربراہی میں جاتی امرا میں موجود ہے، اس موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات ہیں، اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل  جاتی امرا سے نکلنے والی ہر گاڑی کی خود چیکنگ کررہے ہیں۔

خصوصی افطار

نواز شریف نے جیل جانے سے قبل اپنے اہل خانہ اور سیاسی رفقا کے ہمراہ افطار کیا، اس سلسلے میں جاتی امرا میں نواز شریف کی پسندیدہ کھانے تیار کئے گئے، افطار کے دسترخوان پر کھجوریں، پلاؤ، سفید چاول اور قورمہ خصوصی طور پر رکھا گیا۔

نواز شریف کا سامان جیل پہنچادیا گیا ہے جب کہ وہ قافلے کی صورت میں جیل پہنچیں گے ، ان کے ہمراہ مریم نواز کے علاوہ اہل خانہ اور پارٹی رہنما اور کارکن بھی ہوں گے، جو مختلف مقامات پر پارٹی رہنماؤں کی جانب سے لگائے گئے کیمپوں میں مختصر خطاب کریں گے۔

نواز شریف ’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے پر قائم ہیں

جاتی امرا کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان تباہی کے راستے پر ہیں، انہیں اگر یہ منظور ہے تو چلتے رہیں، نواز شریف کے بیانیے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، اب بھی نواز شریف ووٹ کو عزت دو کے نعرے پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو جیل عملہ لینے کے لیے آیا ہے تو کیا ہوا ہم اپنے وقت کے مطابق ہی کوٹ لکھپیت جیل جائیں گے، قانون کے مطابق نواز شریف آج رات بارہ بجے سے پہلے کسی بھی وقت جا سکتے ہیں۔

جیل ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ جیل قوانین پر عمل کیا جائے گا، نواز شریف لاک اپ بند ہونے سے پہلے جیل پہنچیں، جیل میں انہیں نیا قیدی نمبر الاٹ کیا جائے گا۔  نواز شریف کو پہلے والی بیرک میں ہی رکھا جائےگا، اور انہیں بی کلاس دی جائے گی، جہاں انہیں اخبار، ٹی وی، دو کرسیاں، چارپائی، میٹرس، فریج وغیرہ کی سہولت فراہم ہوگی۔ نواز شریف کو نیا مشقتی بھی فراہم کیا جائے گا جو جیل قیدیوں میں سے ہوگا۔

دوسری جانب مریم نواز کا کہنا ہے کہ جتنا کٹھن فیصلہ ایک باپ کا بیٹی کا ہاتھ تھامے جیل جانے کا تھا، اتنا ہی کٹھن ایک بیٹی کا اپنے محبوب والد کو جیل چھوڑ کر آنا ہے، مگر میں جاؤں گی کیونکہ مقصد قومی ہے اور باپ بیٹی کے رشتوں سے کہیں بڑا ہے، قومی مقاصد قربانی مانگتے ہیں، انشاءاللہ میں کارکنوں کے ساتھ ہوں گی۔

Google Analytics Alternative