قومی

متحدہ کے مؤقف کی تعریف نہ کی تو غلط ہوگا،اراکین سندھ اسمبلی

پیپلز پارٹی کے رہنما نثار کھوڑو نے کہا کہ اپنی برادری کی لاتعلقی سے بڑی سزا کیا ہوگی،ایم کیو ایم والے بانی سے لاتعلقی اور مذمت کررہےہیں ، پتا نہیں انہیں احساس ہے یا نہیں ،قوم نے جواب دےدیا، ساری قوم کو نشانہ بنانے کی ضرورت نہیں ۔

رکن پی ٹی آئی خرم شیر زمان نے کہاہے کہ ایم کیو ایم کی قرارداد پر سلام پیش کرتے ہیں ۔ بانی کی سوچ کو ایک طرف رکھ کر چلیں تو تحریک انصاف سب سے پہلے ساتھ دے گی ۔

ان کا مزید کہناتھاکہ ریاست سے غلطیاں ہوئی ہیں ، پہلے بانی ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی کیوں نہ کی ،دلی میں پاکستان مخالف تقریر کے باجود آمر نے گلے لگایا ۔

خرم شیرزمان نے کہا کہ یہ فیصلہ اداروں نے کرنا ہے کہ پاکستان کے غدار سے کیسے نمٹنا ہے،ایسی کسی جماعت کو نہیں چلنا چاہیے جس کا عسکری ونگ ہو۔

ان کا کہناتھاکہ بھتا خوری ، ٹارگٹ کلنگ اور قربانی کی کھالوں کی سیاست کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے ۔

جنگ کا خطرہ یا کچھ اور ۔۔۔؟ پروازیں منسوخ کر دی گئیں

اسلام آباد  (مانیٹرنگ ڈیسک) پی آئی اے کا آج گلگت ، اسکردو اور چترال جانے اور آنے والی پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ترجمان کے مطابق پروازیں سول ایوی ایشن کی جانب سے نادرن ایریا پر فضائی حدود بند کرنے کے باعث منسوخ کی گئیں ہیں ۔اس موقع پر مسافروں سے معذرت بھی کی گئی ہے ۔ترجمان سول ایوی ایشن کے مطابق اسلام آباد سے اسکردو جانے والے پرواز پی کے 451 منسوخ کردی گئی ، اسکردو اسلام آباد پرواز پی کے 452 بھی منسوخ کردی گئی ہے۔اسلام آباد گلگت پرواز پی کے 605اور گلگت اسلام آباد پرواز پی کے 606 بھی منسوخ کی گئی ، اسلام آباد گلگت پرواز پی کے 607 اور گلگت اسلام آباد 608 بھی منسو خ کی گئی ۔اسلام آباد گلگت پرواز پی کے 609 اور گلگت اسلام آباد پرواز پی کے 610بھی منسوخ کی گئی ، اسلام آباد چترال، پشاور پرواز پی کے 660اور پشاور چترال آسلام آباد پرواز 661 بھی منسوخ کی گئی ہیں ،، پی آئی اے ترجمان نے پروازوں کی منسوخی پر مسافروں سے معذرت کی ہے ۔

ایم کیوایم کا کوئی قائد نہیں سربراہ فاروق ستارہیں، رؤف صدیقی

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما رؤف صدیقی نے کہا ہے کہ قائد کوئی نہیں اب ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار ہیں۔

سندھ اسمبلی کے احاطے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے رؤف صدیقی نے کہا کہ ایم کیوایم کا کوئی قائد نہیں ، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ فاروق ستارہیں۔ الطاف حسین کے خلاف قراردادوں سے متعلق فیصلہ سندھ اسمبلی کی پارلیمانی پارٹی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ جیل میں سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کے لئے کوئی دباؤنہیں۔

اس سے قبل رؤف صدیقی کوپولیس کی سخت سیکیورٹی میں بکتربند گاڑی میں کراچی سینٹرل جیل سے سندھ اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے لایا گیا۔

پشاورموٹروے پرپاک فضائیہ کے جنگی طیاروں کی لینڈنگ اورٹیک آف مشقیں

پشاور: موٹروے پرپاک فضائیہ کی جانب سے جنگی طیاروں کی ہنگامی لینڈنگ اورٹیک آف کی مشقیں جاری ہیں۔

پاک فضائیہ نے گزشتہ دنوں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پرمشقوں کا فیصلہ کیا تھا جس کے تحت پہلے مرحلے پرپاک فضائیہ کے جنگی طیارے اسلام آباد پشاورموٹروے پر ہنگامی لینڈنگ اورٹیک آف کی مشقیں کررہے ہیں، جس کی وجہ سے موٹروے کو ہر قسم کی گاڑیوں کے لیے بند کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب موٹروے پولیس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد پشاورموٹروے کو مرمتی کام کی وجہ سے بند کیا گیا ہے جب کہ جلد ہی موٹر وے پر آمد و رفت کو بحال کردیا جائے گا۔

اسلام آباد پشاورموٹروے کے بعد جمعرات کو اسلام آباد لاہورموٹروے پر پاک فضائیہ کے جنگی طیارے اسی نوعیت کی مشقیں کریں گے۔

الطاف حسین کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی قراردادیں متفقہ طور پر منظور

کراچی: سندھ اسمبلی میں ملک کے خلاف اشتعال انگیز تقریر، نعرے بازی اور میڈیا ہاؤسز پر حملے پر الطاف حسین کے خلاف مختلف جماعتوں کی جانب سے پیش کی جانے والی قراردادیں متفقہ طور پر منظور کرلی گئیں۔

سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے سید سردار احمد ، مسلم لیگ فنکشنل کی نصرت سحر عباسی اور تحریک انصاف کے خرم شیر زمان نے 22 اگست کی اشتعال انگیز تقریر کے خلاف قراردادیں پیش کیں، قراردادوں میں کہا گیا کہ دہشت گردی ،پاکستان مخالف نعروں، ہر قسم کے جرائم اورتشدد کی مذمت کرتے ہیں، پاکستان مخالف نعرے لگانے والوں کو آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت سخت سزا دی جائے۔

کارروائی کے دوران پاکستان کےغداروں کےخلاف ایوان کی گیسٹ گیلری سےنعرے بازی کی گئی تاہم اسپیکر نے مہمانوں کو نعرے بازی سے روک دیا۔ قراردادوں پر اظہار خیال کے بعد ایوان نے متفقہ طور پر قراردادیں منظور کرلیں۔

مذمتی قراردادوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رؤف صدیقی نے کہا کہ وہ اسلام اور پاکستان پر کوئی سمجھوتا نہیں کرسکتے، پاکستان بنانے کے لئے لاکھوں مسلمانوں نے قربانی دی، پاکستان کی سلامتی کے لئے جتنی بھی قربانی چاہئے دینے کے لیے تیار ہیں، پاکستان کےخلاف اس شخص نے بات کی جس سے وہ سب سے زیادہ عقیدت رکھتے تھے لیکن جب محبت اورعقیدت ٹوٹتی ہے تو ایک المیہ ہوتا ہے۔ جس پریس کلب کے باہر پاکستان کے خلاف نعرے لگے، اسی پریس کلب کے باہر ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں نے آواز اٹھائی۔

مسلم لیگ فنکشنل کی مہتاب اکبر راشدی نے کہا کہ سندھ پر تمام حکمران جماعتوں نے کوتاہی کی، آج ہم سب اپنے حقوق کا مطالبہ کررہے ہیں، آج ہمیں اپنے آپ کو دیکھنے کی ضرورت ہے، سسٹم کو ٹھیک کیا جائے، ہمارا نصاب ہمارے جدید کردار کا ذکر نہیں کرتا، صولت مرزا کی پھانسی کے وقت ایم کیو ایم نے اس سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا ، اس وقت انہوں نے اسی ایوان میں کہا تھا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب ایم کیو ایم اپنے قائد سے لاتعلقی اختیار کرے گی اور وہ وقت آگیا۔

ایم کیو ایم کے فیصل سبزواری نے کہا کہ 22اگست کو جو ہوا وہ ایم کیو ایم کی بھوک ہڑتال کا نتیجہ نہیں تھا لیکن 22 اگست کے بعد مہاجروں کی پہچان پر بحث شروع ہوگئی، ہم اپنے معاملات میں بالکل واضح ہیں، ہم پر جو قرض ہے ہم نے وہ قرض اتارنے کے لئےانتہائی تلخ فیصلہ کیاہے۔ کہا جاتا ہے کہ خوف کے باعث ایم کیو ایم پاکستان بنائی گئی، ہم قائد ایم کیو ایم سے علیحدہ کسی خوف کے باعث نہیں ہوئے، اگر ہم خوفزدہ ہوتے تو خاموش ہو کر بیٹھ جاتے پاکستان نہ آتے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ملک میں ایک وفاقی کوٹہ ہے لیکن سندھ میں ایک صوبائی کوٹہ بھی ہے۔ وہ مہاجر نہیں، وہ تو پاکستان میں پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں درسی نصاب میں سندھی پڑھ رکھی ہے اور وہ ایوان میں بولی جانے والی سندھی کو بھی سمجھتے ہیں۔

فیصل سبزواری نے کہا کہ وزیراعلی سندھ کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے خواجہ اظہار کی گرفتاری پر صحیح قدم اٹھایا، ہم نے ذمے دارانہ سیاست کا بیڑہ اٹھایا ہے اور مشکل وقت میں سیاست کرتے رہیں گے، ہمیں سوشل میڈیا پر گالیاں دی جارہی ہیں اور غدار قرار دیا جارہا ہے، زخم پر نمک لگانا آسان ہے اور مرہم رکھنا مشکل۔ مہاجر غدار نہ تھے، نہ ہیں اور نہ ہوں گے، ہم اس ریاست کے شہری ہیں، ریاست اور حکومت سے شکوہ کریں گے، ہمیں دیوار سے نہ لگایا جائے، ہمارا ساتھ دیا جائے۔ سندھ میں کئی بار اکثریت ہونے کے باوجود ایم کیوایم کا وزیراعلیٰ نہیں بنایا گیا۔ کسی کو اچھا لگے یا برا ہمارے بڑوں نے ملک کے لیے جدوجہد کی اور قربانیاں دی ہیں، ہمارے پاس بھوک ہڑتال کےعلاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ بھوک ہڑتال میں ہمارے ساتھ یہ ہوجائے گا اندازہ نہیں تھا۔  وہ ایم کیو ایم کے بانی کی نہیں اس قرارداد کی حمایت کرتے ہیں لیکن انصاف سب کے لیے ہونا چاہیے، نجی چینل پر حملے پر آرٹیکل 6 لگایا جائے اور پی ٹی وی پرحملہ کرنےوالوں کو چھوڑ دیا جائے۔ بانی ایم کیو ایم کہے تو آرٹیکل 6 اور کوئی ایسی بات کرے تو اسے چھوڑ دیا جائے۔

اس سے قبل اسپیکر آغا سراج درانی کی سربراہی میں سندھ اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تاہم اجلاس کے ابتدا میں کئی برسوں کی روایات کے برعکس ایم کیو ایم کے ارکان کی جانب سے اپنی جماعت کے بانی کی درازی عمر کے لیے دعا نہیں کرائی گئی۔ اجلاس کے باقاعدہ آغاز پر اسپیکر نے نومنتخب اراکین اسمبلی اورنگزیب پنہور اور مرتضیٰ بلوچ سے حلف لیا۔

اجلاس کے دوران مسلم لیگ فنکشنل کی نصرت سحر عباسی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج امن کا عالمی دن ہے، ہم بھارت کےعزائم اور حملے کےارادے کی مذمت کرتے ہیں، اللہ بھارت کے ناپاک عزائم کو نیست و نابود فرمائے۔ فنکشنل لیگ کے نند کمار نے شکار پور کی زینب کے ساتھ زیادتی سے متعلق تحریک التوا پیش کی، جس کے جواب میں نثار کھوڑو نے کہا کہ زیادتی میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے اور اب یہ مقدمہ قانون کے مطابق عدالت میں زیر سماعت ہے۔

اس دوران اسپیکر آغاسراج درانی نے رؤف صدیقی سے خیریت دریافت کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا وزن بہت بڑھ گیاہے۔ اللہ کسی کو جیل نہ بھیجے،آپ کو جیل کا بھی تجربہ ہوگیا۔ اسپیکر نے رؤف صدیقی سے شعر کی فرمائش کی جس پر رؤف صدیقی نے اپنی اسیری پر شعر کہا۔

 

انڈیا میں غیر ضروری سیاسی پناہ کے اثرات ٹھیک نہیں ہوں گے-

بلوچ قوم پرست رہنما حربیار مری کا کہنا ہے کہ وہ بلوچ جن کی زندگی کو خطرہ ہے انھیں کسی بھی ملک میں اگر پناہ ملتی ہے تو لینی چاہیے لیکن اگر بلوچ غیر ضروری طور پر انڈیا میں سیاسی پناہ لیں تو اس کے اثرات ٹھیک نہیں ہوں گے۔

 حربیار مری کا کہنا تھا کہ بلوچوں کے غیر ضروری طور پر انڈیا میں سیاسی پناہ لینے کا فائدہ جہادی گروپ اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پہلے ان بلوچوں کے لیے آواز اٹھانی چاہیے جو مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

لندن میں مقیم جلا وطن قوم پرست رہنما کا کہنا تھا کہا کہ فی الحال نہ تو ان کا انڈیا میں سیاسی پناہ لینے کا اردارہ ہے اور نہ ہی انھوں نے اس بارے میں کوئی فیصلہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ انھیں برطانیہ میں سیاسی پناہ ملی ہوئی ہے تو وہ انڈیا کیوں جائیں؟

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر مسقبل میں برطانیہ میں حالات مشکل ہوئے تو وہ پھر ساتھیوں کے مشورے سے ہی فیصلہ کریں گے۔‘

کچھ بلوچ قوم پرست یہ سمجھتے ہیں کہ جنیوا میں مقیم بلوچ ریپبلیکن پارٹی کے جلاوطن سربراہ براہمداغ بگٹی کی طرف سے انڈیا میں سیاسی پناہ کی درخواست کے فیصلے کا بلوچوں کی آزادی کی تحریک پر منفی اثر پڑے گا اور یہ کہ اس سے پاکستان کے ان الزامات کو شاید تقویت ملے کہ بلوچستان میں آزادی کی کوئی تحریک نہیں بلکہ انڈیا بلوچستان میں مداخلت کر رہا ہے؟

اس سوال کے جواب میں حربیار مری کا کہنا تھا کہ ’برہمداغ بگٹی کی اپنی سوچ ہے اور وہ اس سوال کا جواب خود دیں گے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ بلوچ رہنماؤں کو ان عام بلوچوں کے بارے میں پہلے سوچنا چاہیے جن کی زندگیوں کو پاکستان میں خطرہ ہے اور ان لوگوں کے بارے میں بھی جن کی سیاسی پناہ کے کیسز یورپ میں مسترد ہو چکے ہیں۔‘

 

 

جنرل اسمبلی سے خطاب کشمیر پر مرکوز

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف بدھ کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے جو اس ایوان سے ان کا تیسرا خطاب ہے۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے خطے کی موجودہ صوتحال کے پیشِ نظر بدھ کو بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ٹیلی فون پر تبادلہ خیال بھی کیا ہے۔

نواز شریف متوقع طور پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران ’انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے مسئلے کو جلد حل کرنے اور وہاں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جانب دنیا کی توجہ دلائیں گے۔‘

 

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اپنی تقریر میں مطالبہ کریں گے کہ انڈیا کو کشمیریوں کے خلاف جاری جارحیت سے روکنے کے لیے عالمی برادری ٹھوس اقدامات کرے۔

اس کے علاوہ وزیراعظم عالمی برادری کو یہ بھی باور کرائیں گے اگر بھارت کو جارحیت سے نہ روکا گیا تو نہ صرف یہ خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔

دریں اثنا وزیر اعظم نواز شریف نے بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے فون پر بات کی اور ان سے خطے میں جاری صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف کل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریئ‍ں گے

وزیر اعظم نواز شریف 21 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کر رہے ہیں، خطے کی صورتحال کے تناظر میں وزیر اعظم کا خطاب انتہائی اہمیت کا حامل ہے،پاکستان عالمی برادری کو اپنے مؤقف کی حمایت کے لیے قائل کرے گا۔

مقبوضہ کشمیر میں جارحیت،انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیاں، پاکستان میں مداخلت اور دہشت گردی کو ہوا دینا، خطے کا امن غیر مستحکم کرنے کا گٹھ جوڑ، بھارت کی پاکستان کے خلاف سازشوں کا پردہ پوری دنیا کے سامنےچاک کرنا ہےاور تمام نظریں اس حوالے سے وزیر اعظم نواز شریف کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب پر لگی ہیں ۔

سیاسی ماہرین اس خطاب کی اہمیت سے آگاہ ہیں تاہم کچھ اور اقدامات بھی تجویز کر رہے ہیں،بعض سیاسی رہنما سمجھتے ہیں کہ موجودہ حالات میں بھارتی پراپیگنڈے کا مؤثر توڑ کرنا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

سیاسی رہنما سمجھتے ہیں کہ حالیہ پاک بھارت کشیدگی اور عالمی طاقتوں کے بھارت کی طرف جھکاؤ کے باعث مشکلات ضرور ہیں تاہم وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب عالمی برادری کے سامنے پاکستان کا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کرنے کا سنہری موقع ہے۔

Google Analytics Alternative