قومی

نواز شریف کو ریلیف ملنے پر دیگر قیدی بھی علاج کے لیے سہولت مانگنے لگے

اسلام آباد: اڈیالہ جیل میں سزائے موت کے قیدی نے آنکھوں کی بینائی کا مسئلہ بتا کر عدالت سے علاج کی سہولت طلب کرلی۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کو بیماری پر ریلیف ملنے کے بعد دیگر بیمار قیدی بھی عدالت سے رجوع کرنے لگے۔ اڈیالہ میں سزائے موت کے قیدی خادم حسین نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو خط لکھا ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ بینائی کا مسئلہ ہے آنکھوں کے علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہرمن اللہ نے قیدی کی درخواست رٹ پٹیشن میں تبدیل کرنے کا حکم دیتے ہوئے فوری انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے قیدی کی درخواست کل سماعت کے لیے مقرر کردی اور درخواست پر سماعت بھی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ خود کریں گے۔

چیف جسٹس نے چیمبر سماعت میں قیدی کی درخواست پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کر لیا اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔

بلوچستان حکومت، چیئرمین سینیٹ اور گورنر کے پی کے کی پیشکش ہوئی ہے، فضل الرحمان

ڈیرہ اسماعیل خان: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ ہمیں بلوچستان حکومت، چیئرمین سینٹ اور گورنر کے پی کے عہدوں کی پیشکش ہوئی جسے ہم نے مسترد کر دیا ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں پریس کانفرنس کے دوران جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت کے خلاف ہماری تحریک برقرار رہے گی، نئے الیکشن اور حکومت کےخاتمے کی جلد نوید عوام کو ملے گی، عوامی قوت سے ملکی نظام بند کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مارچ اب ملک کےدیگر حصوں تک پھیل چکا ہے، ازسرنو عام انتخابات ہوں گے اور عوامی نمائندہ حکومت تشکیل دی جائے گی لہذا وزیراعظم کے پاس کوئی راستہ نہیں استعفیٰ دینا ہی پڑے گا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے، وزیراعظم کی تقریر میں جو الفاظ استعمال ہوئے وہ ان کے شایان شان نہیں، ہم ملکی ترقی چاہتے ہیں تاہم موجودہ حکومت میں ترقی سکڑ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی قوت خرید بالکل ختم ہوگئی ہے، ایسی حکومت کو مزید وقت نہیں دیاجائے گا جب کہ اوروں کو چور کہنے والے اب احتساب سے ڈر رہے ہیں۔

سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت، چئیرمین سینیٹ اور گورنر خیبر پختونخوا کا عہدہ دینے کی پیشکش ہوئی، جسے ہم نے مسترد کر دیا ہے کیونکہ ہم اس جعلی حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

شبہ ہے پی ٹی آئی کی فنڈنگ کے پیچھے پاکستان دشمن قوتوں کا پیسہ ہے، احسن اقبال

اسلام آباد: سابق وزیرداخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت الیکشن کمیشن کو کام سے روک رہی ہے۔ 

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ عمران خان نواز شریف کو باہر بھجوانے پر مکر کررہے تھے اور اپنی سیاست کے لئے شورٹی بانڈ کی شرط رکھی جب کہ حکومت نواز شریف کو تضحیک کے ساتھ بیرون ملک بھیجنا چاہتی تھی لیکن عدالت نے آبرومندانہ اجازت دی جس پر حکومت نے عمل کیا۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف سوچے سمجھے منصوبے کے تحت الیکشن کمیشن کو کام سے روک رہی ہے، اب سمجھ آرہا ہے کہ کیونکر تحریک الیکشن کمیشن کے دوممبران کی تقرری پر بہانے کررہی تھی، عمران نیازی اپنی چوری کا حساب دیں، ہمیں شبہ ہے کہ آپ کی فنڈنگ کے پیچھے پاکستان دشمن قوتوں کا پیسہ شامل ہے۔

سابق وزیرداخلہ نے کہا کہ تحریک انصاف کے 23 بے ناکامی اکاونٹس پکڑے جاچکے ہیں،  کیوں یہ اربوں روپے کی خوربرد قوم سے چھپائی گئی یہ ناقابل معافی جرم ہے، عمران خان کو قوم کو اس کا جواب دینا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ 15 ماہ گزر چکے ہیں عمران صاحب آپ کی اکنامک ٹیم کہاں ہے، عمران احمد نیازی اپ 20 سال سے قوم کو الو بنا رہے تھے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ابھی عوام سے اس حکومت نے مزید تیل نچوڑنا ہے اور مہنگائی میں اگلے 6 ماہ میں مزید اضافہ ہونا ہے، جتنا فرق ٹماٹر کی قیمت میں ہے اتنا ہی فرق حکومت کی معیشت میں ہے، حکومت کے وزیر 17 روپے کلو ٹماٹر بیچتے رہے، اس فیک لیڈرشپ کو ختم کرے اصل لیڈرشپ کو لایا جائے۔

وزیراعظم نے حکومتی ترجمانوں کو چیف جسٹس کے بیان پر تبصرے سے روک دیا

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے حکومتی ترجمانوں کو چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف کھوسہ کے بیان پر کسی بھی قسم کے تبصرے سے روک دیا ہے۔ 

وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت پارٹی اور حکومتی ترجمانوں کا اجلاس ہوا، اجلاس میں ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور نواز شریف کے باہر جانے کے حوالے سے پارٹی بیانیہ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعظم نے ترجمانوں کو معیشت اور سیاست سے متعلق پارٹی بیانیے پر ہدایات جاری کیں جب کہ معاشی ٹیم نے نئے معاشی اعشاریوں پر بریفنگ دی۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ترجمانوں کو چیف جسٹس کے بیان پر تبصرے سے منع کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی صحت پر اب بھی کوئی سیاست نہیں کریں گے، حکومت نے نواز شریف کو ڈاکٹرز کی رپورٹس اور انسانی ہمدردی کے تحت باہر بھیجنے کی اجازت دی تھی، شریف فیملی پاکستانی عوام کے سامنے مکمل بے نقاب ہو گئی ہے، نواز شریف نے لندن جس فلیٹ پر قیام کیا اس کی ملکیت نہ ثابت کر سکے، تاہم عدالت نے جو فیصلہ دیا اسے تسلیم کیا۔

اس سے قبل  وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی معاشی ٹیم کا بھی اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر، وزیر بحری امور سید علی حیدر زیدی، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وزیرِ توانائی عمرا یوب خان، مشیر تجارت عبدالرزاق داوٴد، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، مشیر ڈاکٹر عشرت حسین، معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر، معاون خصوصی ندیم بابر، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ سید زبیر گیلانی، گورنر اسٹیٹ بنک رضا باقر، سابق وزیر خزانہ شوکت ترین، متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹریزبھی شریک تھے۔

اجلاس میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر میں اضافے اور ان کو مراعات دینے سے متعلق امور پرغور کیا گیا، پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی، پاکستان بناوٴ سرٹیفیکیٹس کی تشہیر، بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا جب کہ نقصان اٹھانے والے بیمار سرکاری اداروں (سک یونٹس) کی بحالی کے لئے اقدامات جیسے اہم امور پر غور کیا گیا۔

وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ترسیلات زر میں گزشتہ تین سالوں میں شرح نمو صفر رہی ہے اور تین سال کے بعد ترسیلات زر میں 09 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو کہ مالی سال 2019 میں 21.8 ارب ڈالر ہیں، برطانیہ، ملائیشیا، کینیڈا اور آسٹریلیا سے ترسیلات زر میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، برطانیہ سے ترسیلات زر میں 09 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ترسیلات زر میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

اجلاس میں وزارتِ خزانہ اور اسٹیٹ بنک کی جانب سے ترسیلات زر کے حوالے سے مراعات دینے پر مختلف تجاویز وزیرِ اعظم کو پیش کی گئیں، جس پر وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ترسیلات زر کے حوالے سے حکومت کی جانب سے سہولت کاری اور مراعات سے متعلق تجاویزکو ایک ہفتے میں حتمی شکل دی جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں اور خصوصاً بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے جاری منصوبوں پر پیش رفت تیز کی جائے، ترقیاتی منصوبوں پر بروقت عمل درآمدسے جہاں معاشی عمل تیز ہوگا وہاں نوجوانوں کے لئے نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے، ان ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے وزیرِ اعظم آفس کو باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے اور کسی بھی مشکل کو دور کرنے کے سلسلے میں وزیرِ اعظم آفس سے رجوع کیا جائے۔

سابق وزیرخزانہ شوکت ترین نے بتایا کہ غیر سرکاری فلاحی تنظیم اخوت کی جانب سے لوگوں کے گھروں سے کھانے کی اشیاء اکٹھی کرکے مستحق اور ضرورتمند افراد کو پہنچانے کے منصوبے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور یہ عمل ایک ہفتے میں مکمل کر لیا جائے گا۔ جس پر وزیراعظم نے کہا کہ یہ اقدام حکومتی فلاحی سرگرمیوں سے مطابقت رکھتا ہے لہذا حکومت اس ضمن میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔

پاکستان یونیسکو کے ایگزیکٹو بورڈ کا دوبارہ رکن منتخب ہوگیا

اسلام آباد: پاکستان نے پیرس میں ہونے والے انتخابات میں 154ووٹ حاصل کئے۔ 

دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان یونیسکو ایگزیکٹو بورڈ کا دوبارہ رکن منتخب ہوگیا ہے، اور پیرس میں ہونے والے انتخابات میں پاکستان کو 154 ووٹ حاصل ہوئے۔

ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرمحمد فیصل نے کہا ہے کہ پاکستان کا انتخاب ایک بار پھر عالمی برادری کے اعتماد اور یونیسکو کے اہم کام میں پاکستان کی اعانت کا مظہر ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اس سے قبل 2015 میں بھی یونیسکو ایگزیکٹو بورڈ کا رکن منتخب ہوچکا ہے اور یہ دوسرا موقع ہے کہ پاکستان کو دوبارہ رکن منتخب کیا گیا ہے، یونیسکو ایگزیکٹو بورڈ کا رکن ہونے کے بعد پاکستان کو ایشیا پیسفک خطے میں تعلیمی، ثقافتی، معاشرتی ارتقاء، صحافیوں کے تحفظ اور آزادی اظہار کے میدان میں اپنی پالیسیوں پر عملدرآمد کے لیے منفرد اور خصوصی مواقع میسر ہوں گے۔

وزیراعظم ہمیں طعنہ نہ دیں باہر جانے کی اجازت انہوں نے خود دی، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے خود کسی کو باہر جانے کی اجازت دی تھی، ہائی کورٹ نے صرف جزئیات طے کیں۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیراعظم کا عدلیہ سے متعلق بیان پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے جس کیس کا طعنہ دیا اس پر بات نہیں کرنا چاہتا، ججز پر تنقید اور طاقتور کا طعنہ ہمیں نہ دیں، ججز پر اعتراض کرنے والے تھوڑی احتیاط کریں۔ انہوں نے سابق وزیراعظم نوازشریف کا نام لیے بغیر کہا کہ وزیراعظم نے خود کسی کو باہر جانے کی اجازت دی تھی، ہائی کورٹ نے صرف جزویات طے کیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آج کی عدلیہ کا تقابلی جائزہ 2009 سے پہلے والی عدلیہ سے نہ کریں، ہمارے سامنے طاقتور صرف قانون ہے، ایک وزیراعظم کو ہم نے سزا دی، دوسرے کو نااہل کیا اور سابق آرمی چیف کے مقدمے کا فیصلہ ہونے جا رہا ہے، کوئٹہ کے کیس کا 3 ماہ میں سپریم کورٹ سے فیصلہ ہوا، 2 دن پہلے ایک قتل کیس کا ویڈیو لنک کے ذریعے فیصلہ کیا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں 3100 ججز نے گذشتہ سال 36 لاکھ مقدمات کے فیصلے کیے، سپریم کورٹ میں 25 سال سے زیرالتواء فوجداری اپیلیں نمٹائی گئیں، جن لاکھوں افراد کو عدلیہ نے ریلیف دیا انہیں بھی دیکھیں، 36 لاکھ مقدمات میں سے صرف تین چار ہی طاقتور لوگوں کے ہوں گے۔

وزیراعظم نے جس کیس کی بات کی وہ ابھی زیرالتواء ہے اس لیے اس پر بات نہیں کروں گا، وزیراعظم نے طاقتور اور کمزور کی بھی بات کی، اب ہمیں وسائل کی کمی محسوس ہو رہی تھی، وزیراعظم جب وسائل دیں گے تو مزید اچھے نتائج بھی سامنے آئیں گے، محترم وزیراعظم نے دو دن پہلے خوش آئند اعلان کیا کہ عدلیہ کو وسائل دیں گے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ماڈل کورٹس نے تمام نتائج صرف 187 دنوں میں دیے، فیملی مقدمات طاقتور لوگوں کے نہیں ہوتے، 20 اضلاع میں کوئی سول اور فیملی اپیل زیرالتواء نہیں، منشیات کے 23 اضلاع میں کوئی زیرالتواء مقدمات نہیں، ماڈل کورٹس کی وجہ سے 116 اضلاع میں سے 17 میں کوئی قتل کا مقدمہ زیر التواء نہیں، تمام اپیلوں کے قانون کے مطابق فیصلے کیے گئے، تمام اپیلیں ناتواں لوگوں کی ہیں طاقتور اور کمزور میں کوئی فرق نہیں کیا گیا۔

حکومت کی ایم کیوایم کے تمام تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی

فیڈرل کوآرڈینیشن کمیٹی نے کراچی پیکج پر توجہ سمیت سندھ میں وفاقی ترقیاتی اسکیموں کے حوالے سے ایم کیو ایم اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے تمام تحفظات کو دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ 

وزیر اعظم آفس میں فیڈرل کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں کوآرڈینیشن کمیٹی کے ممبران بشمول وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر اعظم کے مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ محمد شہزاد ارباب اور جہانگیر ترین جب کہ ایم کیو ایم کا وفد ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، وفاقی وزیر برائے آئی ٹی، کنور نوید جمیل، عامر خان اور سیدامین الحق پر مشتمل تھا۔

اجلاس میں ایم کیو ایم کے ساتھ باہمی معاملات اور سندھ بالخصوص کراچی کے ترقیاتی مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا، اجلاس میں باہمی امور، ایم کیو ایم کے 13 نکاتی ایجنڈے اور تمام نکات پر تیزی کے ساتھ عملدرآمد کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

کمیٹی نے ایم کیو کیو کے وفد کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہنا تھا کہ حکومت کراچی کی ترقی کیلئے پْرعزم ہے اور کراچی پیکج پر توجہ سمیت سندھ میں وفاقی ترقیاتی اسکیموں کے حوالے سے ایم کیو ایم اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے تمام تحفظات کو دور کرنے کیلئے اقدامات کررہی ہے۔

اجلاس میں آئندہ پیر کو صدر ہاؤس میں ایک اور اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا جس کی صدارت صدر ڈاکٹر عارف علوی کریں گے۔ اجلاس میں گورنر سندھ، وزارت خزانہ، پلاننگ اور ڈویلپمنٹ ، ایچ ای سی اور دیگر متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے اعلی حکام شرکت کریں گے۔

 

 

اپوزیشن ہو یا حکومت؛ احتساب کا حامی ہوں، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اپنے موقف اور نظریہ پر ڈٹ کر کھڑا ہوں اور اکیلا بھی ہوا تو مافیا کا مقابلہ کروں گا۔ 

پارٹی ترجمان کے اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے نواز شریف کو ڈاکٹرز کی رپورٹس اور انسانی ہمدردی کے تحت باہر بھیجنے کی اجازت دی تھی، عدالت نے جو فیصلہ دیا اسے تسلیم کیا، نواز شریف کی صحت پر اب بھی کوئی سیاست نہیں کریں گے، نواز شریف نے لندن جس فلیٹ پر قیام کیا اس کی ملکیت نہ ثابت کر سکے، جن بیٹوں نے استقبال کیا وہ پاکستان میں اشتہاری ہیں شریف فیملی پاکستانی عوام کے سامنے مکمل بے نقاب ہو گئی۔ میں اپنے موقف اور نظریہ پر ڈٹ کر کھڑا ہوں۔

’نیب جس کا چاہے احتساب کرے‘

چئیرمین نیب کے بیانات پر وزیر اعظم نے کہا کہ میں خواہ اپوزیشن ہو یا حکومت، احتساب کا حامی ہوں، نیب آزاد ادارہ ہے، جس کا چاہے بلاتفریق احتساب کرے، احتساب کے راستے میں حکومت رکاوٹ نہیں بنے گی، جس نے اس ملک کے پیسے کھائے اس کو حساب دینا ہو گا۔

اس سے قبل اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم بنا تو ملک کو ساڑھے 19 ارب ڈالرکا خسارہ تھا، بھارت گروتھ ریٹ میں ہم سے آگے نکل گیا ہے، بنگلا دیش بھی آج پاکستان سے آگے نکل گیا ہے، چین طویل مدتی پالیسی کے تحت ترقی کررہا ہے لیکن پاکستان میں کوئی طویل مدتی پالیسی نہیں دیکھی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اب تجارت سمیت دیگرشعبوں میں طویل مدتی پالیسیاں اپنائی جا رہی ہیں، اب روپے کی قدرمستحکم ہوگئی ہے اور سرمایہ کاری بڑھی ہے تاہم سب سے اہم چیز کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہے، 4 سال میں پہلی بارکرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سرپلس ہوگیا ہے، مہنگائی کی وجہ سےغربت بڑھتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب اوردیگردوست ملکوں نے ہماری مدد کی جس پر مشکور ہیں لیکن دوسرے ملکوں سے قرضے لینا ملک کی ساکھ کے لیے ٹھیک نہیں، ہمیں ٹیکس اکھٹا کرنا اورغریبوں پرخرچ کرنا ہوگا، ہماری ٹیکس وصولی اوپرجارہی ہے، شبرزیدی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جب کہ کرپشن نے ملک کو نقصان پہنچایا، کرپشن نہ ہوتی تو نکلنے والی معدنیات سے ملک کو بہت فائدہ ہوتا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اللہ نے اس ملک کوہرقسم کی صلاحیت عطا کی ہے، ریکوڈک کی بات چلی توعلم ہوا کہ پاکستان میں تو سونے اور تانبے کے بڑے ذخائرہیں، ریکوڈک کیس میں ہم پر170 ارب روپے کا جرمانہ ہوا، جرمانہ ختم کرنے پر صدراردوان کا شکر گزارہوں، ہم پرسے بوجھ کم ہوا۔

Google Analytics Alternative