قومی

سردار ممتاز علی خان بھٹو نے (ن) لیگ کو خیر آباد کہ دیا۔

کراچی: پاکستان مسلم لیگ(ن)کے مرکزی رہنماء سردار ممتاز علی خان بھٹو نے (ن) لیگ کی قیادت کی جانب سے مسلسل نظر انداز کرنے اور سندھ نیشنل فرنٹ کے انضمام والے چار نکاتی ایجنڈے کی خلاف ورزیوں پر اپنی سابقہ جماعت سندھ نیشنل فرنٹ کا اہم اجلاس کراچی کے مقامی ہوٹل میں آج( اتوار) کو طلب کرلیا ہے ،اجلاس میں (ن)لیگ سے باقاعدہ علیحدگی اور پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان متوقع ہے،جبکہ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت عمران خان سردار ممتاز علی خان بھٹو سے مسلسل رابطے میں ہے ،زرائع نے بتایا کہ ممتاز علی خان بھٹو کو پی ٹی آئی کی قیادت کی طرف سے پارٹی کا مرکزی صدر اور امیر بخش بھٹو کو سندھ کی صدارت کی پیش کش کی گئی ہے،جس کا حتمی فیصلہ 13ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں کیا جائے گا،پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان بھٹوخاندان کے حلقہ انتخاب نو ڈیرو میں ایک بڑا جلسہ عام کر کے شمولیت کا اعلان کریں گے،جوکہ اگلے ماہ متوقع ہے،جس میں ممتاز بھٹو کے ہمراہ (ن) لیگ کے اہم رہنماء شامل ہوں گے،زرائع کے مطابق عمران خان نے فیصلہ کیا ہے کہ سردار ممتاز علی خان بھٹو کا چناوٴ سندھ میں تحریک انصاف کی مقبولیت اور پارٹی کو سندھ میں سرگرم کرنا ہے۔

پی آئی اے کا نیا میگا اسکینڈل،لندن روٹ پر4ارب کا نقصان

کراچی: قومی ایئرلائن پی آئی اے میں صرف لندن کے ایک روٹ پر قومی ا ئیرلائن کو 4 ارب روپے کا نقصان پہنچانے کا میگا اسکنڈل سامنے آیا ہے ۔ ایوی ایشن ڈویژن نے ایف آئی اے کو فوری تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کیلئے خط لکھ دیا ہے۔ پی آئی اے کی داخلی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ اس میگا اسکینڈل کے تین مرکزی کردار ہیں ۔ا ئیرلائن ذرائع کے مطابق جنرل منیجر ریونیو مینجمنٹ اور شعبہ مارکیٹنگ کے روٹ انالسٹ رات گئے خفیہ پاس ورڈ کے زریعہ لندن کی مخصوص ٹریول ایجنسی کیلئے کم قیمت ٹکٹ کی بکنگ کھول دیتے اور لندن سے پاکستان کیلئے پروازوں کے سینکڑوں مہنگے ٹکٹ کم قیمت میں فروخت کرکے پی آئی اے کو ہر ایک پرواز پر لاکھوں روپے نقصان پہنچاتے ۔ایوی ایشن ڈویژن نے اس میگا اسکنڈل پر ایف آئی اے کو کارروائی کیلئے خط لکھ دیا ہے ۔ اسکینڈل کا مرکزی کردار علی طاہر قاسم پہلے سے ہی جعلی کمپنی کے ذریعے 2 لاکھ 6ہزار ڈالر کے غبن کے الزام میں ایف آئی اے کے زیر حراست ہے

قا ئم علی شاہ اور دیگر جیل پہنچ گے۔

قا ئم علی شاہ اور پاکستان پیپلزپارٹی کے دیگر ہنماو¿ںجیل پہنچ گے۔
کراچی (این این آئی)وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ ،قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ اور پاکستان پیپلزپارٹی کے دیگر ہنماو¿ں نے جمعہ کو کراچی سینٹرل جیل کا دورہ کیا اور جیل میں اسیر رکن سندھ اسمبلی سید علی نواز شاہ سے ملاقات کی ہے ۔ذرائع کے مطابق اس موقع پر نیب کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے پر مشاورت بھی کی گئی ہے ۔وزیراعلیٰ سندھ کے احکامات پر سید علی نواز شاہ کو جیل میں اے کلاس دے دی گئی ہے ۔وزیراعلیٰ سندھ نے علی نواز شاہ کی ضمانت کے لئے محکمہ قانون کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ علی نواز شاہ کے کیس کی پیروی میں کوئی سستی نہ کی جائے ۔انہوں نے جیل انتظامیہ کو احکامات دیئے کہ علی نواز شاہ کو تمام طبی سہولیات مہیا کی جائیں ۔ادھر وزیراعلیٰ ہاو¿س کے ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے جیل میں اسیر سید علی نواز شاہ سے ذاتی حیثیت میں ملاقات کی ہے ۔وزیراعلیٰ سندھ اور علی نواز شاہ پرانے دوست ہیں اور دونوں نے ماضی میں پیپلزپارٹی کے لیے مشترکہ جدوجہد کی ہے ۔

نندی پور پاور پراجیکٹ آخر ناکام کیوں ہوا؟

اسلام آباد(خبرنگار)نندی پور پاور پراجیکٹ کی ناکامی سے متعلق سنسنی خیز انکشافات سامنے آگئے۔ پراجیکٹ کو چلانے کیلئے ٹریننگ شدہ تمام انجینئرز نے ٹرانسفر آبائی علاقوں میں کرا لی ۔نئی مشینری چلانے میں واپڈا اہلکارناکام ہوگئے ۔ٹریننگ چائنا میں کرائی گئی ۔تفصیلات کے مطابق باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حکومت کی جانب سے نندی کے پاور پراجیکٹ سے متعلق مزید سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں جن کے مطابق حکومت نے 425میگا واٹ بجلی کا پاور پراجیکٹ لگایا تو واپڈا کے پاس وہ جدید مشینری چلانے کی حکمت عملی موجود نہیں تھی ۔ذرائع نے بتایا کہ واپڈا کے انجینئرز کی ناکامی کی وجہ سے 24انجینئرز کو چین میں ٹریننگ کے لیے بھجوایا گیا لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ متعلقہ 24انجینئرز نے ٹریننگ کرنے کے بعد اپنے گھروں کے نزدیک شہروں میں ٹرانسفر کروا لی ۔جس کی وجہ سے حکومتی خزانے کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ۔ذرائع نے بتایا کہ ان تمام انجینئرز کو فیصل آباد اورملتان میں ٹرانسفر کیا گیا جن کے ٹرانسفر احکامات جنکو تھری کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے جاری کیے ۔ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ان ٹریننگ شدہ انجینئرز کو واپس نندی پور پاورپراجیکٹ میں ٹرانسفر کیا جائے تو اس پراجیکٹ سے 300میگا واٹ تک کی بجلی پیدا کی جاسکے گی ۔جس سے ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں واضح کمی ہوگی ۔

NTSکے بارے میں ایک تشویشناک خبر!

اسلام آباد: سینیٹ قائمہ کمیٹی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے اجلاس میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ این ٹی ایس کی ملکیت کا پہلے بھی سوال اٹھایا گیا تھا جامع اور تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا۔2012میں آمدن صفر تھی، اچانک 2013میں 19کروڑ 2014میں ا ارب 10کروڑ ہو گئی، اتنی زیادہ آمدن اور منافع بڑی بڑی پرائیویٹ کمپنیاں بھی نہیں کما رہیں اور اعتراض اٹھایا کہ این ٹی ایس کا 27فیصد خالص منافع الائیڈ بنک میں ٹی ڈی آر میں جمع کرا کر 9.5فیصد اضافہ لیا جا رہا ہے ،کمیٹی نے بتایا کہ ملک کے کونے کونے سے این ٹی ایس کے ٹیسٹ اور پیپر ریچکنگ ، زیادہ فیس کے حوالے سے چیئر مین سینیٹ کو عوامی عرضداشتوں کی بھر مار ہے کہ ٹیسٹ میں غریب اور زہین طلبائ کو نا بلوایا جاتا ہے اور نہ ہی پیپر ریچیک ہوتے ہیں اور سوال اٹھایا کہ این ٹی ایس کا فنانشل آڈٹ کیوں نہیں ہوتا اور اگر ہوتا ہے تو ان کا آڈٹ کون کر رہا ہے اور کہا کہ این ٹی ایس نے شکایات اکاو¿نٹس کے معاملات صرف پیسے کمانے والی کمپنی کے تاثر کی وجہ سے این ٹی ایس کے لئے مصیبت بنا دی ہے۔چیئر مین کمیٹی سینیٹر عثمان سیف اللہ خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاو¿س میں منعقد ہوا جس میں این ٹی ایس کی کارکردگی کے حوالے سے عوامی عرضداشتوں کے ذریعے این ٹی ایس کی ملکیت اس کے شراقت داروں ،ایس سی سی پی کیساتھ رجسٹریشن اور مالکان میں منافع تقسیم کرنے اور پچھلے تین سال کی آڈٹ اکاو¿نٹ رپورٹس کا ایجنڈا زیر بحث آیا۔چیئر مین کمیٹی نے کہا کہ این ٹی ایس کی ملکیت کا پہلے بھی سوال اٹھایا گیا تھا جامع اور تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا۔2012میں آمدن صفر تھی اچانک 2013میں 19کروڑ 2014میں ا ارب 10کروڑ ہو گئی۔ اتنی زیادہ آمدن اور منافع بڑی بڑی پرائیویٹ کمپنیاں بھی نہیں کما رہیں اور اعتراض اٹھایا کہ این ٹی ایس کا 27فیصد خالص منافع الائیڈ بنک میں ٹی ڈی آر میں جمع کرا کر 9.5فیصد اضافہ لیا جا رہا ہے۔چیئر مین کمیٹی نے بتایا کہ ملک کے کونے کونے سے این ٹی ایس کے ٹیسٹ اور پیپر ریچکنگ ، زیادہ فیس کے حوالے سے چیئر مین سینیٹ کو عوامی عرضداشتوں کی بھر مار ہے کہ ٹیسٹ میں غریب اور زہین طلباءکو نا بلوایا جاتا ہے اور نہ ہی پیپر ریچیک ہوتے ہیں اور سوال اٹھایا کہ این ٹی ایس کا فنانشل آڈٹ کیوں نہیں ہوتا اور اگر ہوتا ہے تو ان کا آڈٹ کون کر رہا ہے اور کہا کہ این ٹی ایس نے شکایات اکاو¿نٹس کے معاملات صرف پیسے کمانے والی کمپنی کے تاثر کی وجہ سے این ٹی ایس کے لئے مصیبت بنا دی ہے۔سینیٹر اعتزاز احسن نے بھی سوال اٹھایا کہ 13سالوں میں 5ارب اور صرف ایک سال 1ارب 10کروڑ روپے کی کمائی کے بارے میں آگاہ کیا جائے کہ وہ کیا اقدامات تھے کہ اچانک سالانہ اضافہ بڑگیا۔ 7ہزار امید واروں کا ٹیسٹ لینے کی صلاحیت یک دم ایک کروڑ تک پہنچ گئی۔۔کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ این ٹی ایس 2002میں بنا جس کی گورننگ باڈی کے کل 23ممبران ہیں این ٹی ایس کے پاس 3ہزار ماہر اساتذہ کام کر رہے ہیں اور مختلف 68مضامین کا ٹیسٹ لیا جاتا ہے بین الاقوامی ٹیسٹنگ سروس کے کیساتھ بھی منسلک ہیں روزانہ کی بنیاد پر ایک لاکھ نتائج تیار کئے جا سکتے ہیں۔صاف اور شفاف طریقے سے ٹیسٹ کا طریقہ کار وضح کیا گیا ہے 2011میں ای پی اے ایوارڈ ملا ہے کل 5052ٹیسٹ لے چکے ہیں ہمارے 360شراکت دار ٹیسٹ کرواتے ہیں کل امیدواروں ،ایک کروڑ 50لاکھ کا ٹیسٹ لے چکے ہیں۔ضرورت مند مستحق زہین طلباءکو وضائف بھی تقسیم کئے جاتے ہیں۔ 2002سے 2015تک پانچ ارب کی آمدن ہوئی ،ادارے کی ترقی کیلئے 60کروڑ اور انتظامی اخراجات 3ارب 81کروڑ ہوئے۔سیکریٹری وزارت اور این ٹی ایس حکام سے پوچھا گیاکہ ایڈیشنل ممبرز نے 60کروڑ روپے دیے اور 40کروڑ الائیڈ بنک میں جمع کروا کر اضافہ لیا جا رہا ہے۔کمیٹی نے سفارش کی کہ ایلیٹ کلاس کے بچے این ٹی ایس ٹیسٹ نہیں دیتے۔ غریب طلباءٹیسٹ دیتے ہیں اس لئے فیس میں 20فیصد تک کمی کی جائے۔الائیڈ بنک میں جمع شدہ 40کروڑ روپیہ نیشنل بنک میں جمع کروا یا جائے یا یہ رقم زہین طلبائ میں وضائف کی شکل میں تقسیم کر دی جائے۔ کمیٹی نے این ٹی ایس کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے۔وزارت کو ہدایت دی کہ این ٹی ایس کے معاملات میں مداخلت نہ کرے اور لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر بھی من و عن عمل کیا جائے۔لمز یونیورسٹی کے وی سی کو بھی گورننگ باڈی میں شامل کیا جائے تاکہ اعتماد میں اضافہ ہو اور فیصلہ کیا گیا کہ این ٹی ایس کے بارے میں کمیٹی اجلاس منعقد ہوتے رہیں گے۔اجلاس میں قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر چوہدری اعتزاز احسن ، سینیٹرز محمد اعظم خان سواتی ،پروفیسر ساجد میر ، مومن خان آفریدی کے علاوہ سیکریٹری وزارت فضل عباس میکن ، کامسیٹ کے ایس ایم جنید زیدی ،سی ای او این ٹی ایس ڈاکٹر ہارون الرشید ، ایس ای سی پی کے عبدالرحمان قریشی نے شرکت کی۔

پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت کالعدم تنظیم کی دھمکیوں کا شکار

لاہور: کالعدم تنظیم کی جانب سے تحریک انصاف کے رہنماءشاہ محمود قریشی، چودھری سرور اور دیگر رہنماوں کو دھمکیاں ملنے کا انکشاف ہوا ہے۔ تحریک انصاف نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور سیکیورٹی اداروں کو خط لکھ دیا۔ تحریک انصاف کے رہنماءچوہدری محمد سرور کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کو لکھے جانے والے خط میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے رہنماو¿ں کو سیکیورٹی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ تحریک انصاف کے رہنماو¿ں شاہ محمود قریشی، چودھری سرور، محمود الرشید، عبدالعلیم خان، میاں اسلم اقبال اور ملک تیمور کو کالعدم تنظیم کی جانب سے نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی تھی۔ چودھری سرور نے وزیر اعلیٰ کو لکھے جانے والے خط کی کاپی وزارت داخلہ، ڈی جی آئی ایس آئی اورڈی جی آ بی کو بھی ارسال کر دی ہے۔

ممتاز لغاری کا اپنے ساتھیوں سمیت تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان

کراچی: پاکستان تحریک انصاف سندھ کے چیف آرگنائزر و رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ سندھ میں حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی ہے۔ سندھ میں حکومت اس چڑیا کا نام ہے جو صرف نوٹ بنانے کی مشین ہے۔ پوری حکومت لوٹ مار اور کرپشن کی دوڑ میں لگی ہوئی ہے۔ پیپلز پارٹی والے گرفتاریوں کے خوف سے راہِ فرار اختیار کر رہے ہیں ۔ سندھ کے مستقبل کے فیصلے دبئی میں ہو رہے ہیں جو سندھ کے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ یہ باتیں انہو ں نے سندھ کے ضلع دادو ، ضلع نواب شاہ اور ضلع حیدر آباد کے تنظیمی دورے سے واپسی پر صحافیوں کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہیں ۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ سندھ کے ڈپٹی آرگنائزر افتخار سومرو ، دیوان سچل ، افتخار فاروقی ، قادری بھائی اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے مزید کہا کہ 10سال پہلے جس کے پاس موٹر سائیکل تک نہیں تھی آج وہ لینڈ کروزر اور اربوں کے مالک بن چکے ہیں۔جمہوریت کے چیمین بننے کے دعویدارخود ملک سے فرار ہو چکے ہیں۔ سندھ کے لوگ ان کی کرپشن اور لوٹ مار سے عاجز آ چکے ہیں ۔سندھ میں غربت اور بے روز گاری انتہا پر ہے ۔ ہسپتال اور تعلیمی نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے ۔ اسکول اور ڈسپنسریوں کی عمارتیں پیپلز پارٹی کے وزراء ایم پی ایز اور دیگر عہدیداروں کے اوطاق بن چکے ہیں ۔لوگ اس ظلم کے نظام کا خاتمہ چاہتے ہیں اس لئے تحریک انصاف کی طرف دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ضلع دادو سے پیپلز پارٹی کے سابق ایم این اے عالم خان لغاری مرحوم کے بیٹے ممتاز لغاری نے اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلع دادو کے مختلف تعلقوں میں پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ن، شہید بھٹو،جسقم اور ابڑو برادری کے سینکڑوں خاندانوں نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور تحریک انصاف کے چیئر میں عمران خان پر بھر پور اعتماد کا اظہار کیا۔ ملک کی ترقی و خوشحالی اور کرپشن کے خاتمے کے لئے تحریک انصاف کے پلیٹ فارم پر متحد ہو رہے ہیں ۔وہ دن دور نہیں کہ سندھ میں بھی انصاف کا سور ج طلوع ہوگا۔

پاکستان انٹر نیٹ کی دنیا کا دوسرا بڑا ملک بن گےا۔

اسلام آباد : اگرچہ ہمارے ہاں غربت، مہنگائی اور لوڈشیڈنگ جیسے مسائل نے عوام کو بے حال کررکھا ہے لیکن سب معاملات خراب نہیں ہیں بلکہ بعض شعبوں میں تو ہم دنیا کے امیرترین ممالک سے بھی بہتر پوزیشن میں ہیں۔ ایک ایسا ہی شعبہ موبائل انٹرنیٹ کا بھی ہے کہ جس میں سستی سروس کے لحاظ سے پاکستان دنیا بھر میں دوسری پوزیشن حاصل کر چکا ہے۔ روسی تجزیاتی ایجنسی Content Review کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا میں صرف 8 ممالک ایسے ہیں کہ جہاں موبائل انٹرنیٹ کی قیمت 3 ڈالر (تقریباً 300 پاکستانی روپے) فی گیگا بائٹ سے کم ہے اور ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔ سستے موبائل انٹرنیٹ کی فہرست میں پہلا نمبر ایران کا ہے جہاں انٹرنیٹ سروس سخت حکومتی نگرانی میں طے شدہ ریٹ پر فراہم کی جاتی ہے۔ دوسرا نمبر پاکستان کا جبکہ تیسرا روس کا ہے۔ ایران میں ایک گیگابائٹ موبائل انٹرنیٹ کی اوسط قیمت تقریباً 0.2 ڈالر (تقریباً 20 روپے) بتائی گئی ہے۔ پاکستان میں یہ قیمت ایک ڈالر (تقریباً 100 روپے) فی گیگابائٹ ہے۔ روس میں 1.7 ڈالر، انڈونیشیا میں 1.8 ڈالر جبکہ سویڈن میں 2 ڈالر فی گیگا بائٹ ہے۔ برطانیہ 16.1 ڈالر، وینز ویلا 21.2 ڈالر اور الجیریا میں 29.4 ڈالر تقریباً (3500 روپے) فی گیگا بائٹ پر موبائل انٹرنیٹ پر فراہم کیا جارہا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں موبائل انٹرنیٹ کی قیمت 14 ڈالر (تقریباً 1400 روپے) فی گیگا بائٹ ہے۔

Google Analytics Alternative