قومی

سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی مقامی عدالت نے لال مسجد آپریشن کیس میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

ایڈیشنل سیشن جج پرویز القادر میمن نے لال مسجد آپریشن کیس میں سابق صدر کی استثنیٰ کی درخواست پر 13 فروری کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے ان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کردی۔

عدالت نے سابق صدر کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔

کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہداء فاونڈیشن کے وکیل طارق اسد نے کہا کہ پرویز مشرف کو آئندہ سماعت میں پیش ہونا پڑے گا، جب تک وہ پیش نہیں ہوں گے ان کے خلاف وارنٹ برقرار رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت نے سابق صدر کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست تو مسترد کر دی مگر میرے تحفظات برقرار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فوجداری مقدمات میں اتنی لمبی تاریخیں دینا اور ایک درخواست پر فیصلہ کے لیے سات ماہ کا وقت گزر گیا، اس کا مطلب پیچهے کچھ نہ کچھ تو ہے تاہم آئندہ سماعت پر پرویز مشرف کی حاضری یقینی بنانا ضروری ہے۔

یاد رہے کہ 2007 میں جنرل (ر) پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں اسلام آباد میں قائم لال مسجد اور اس سے ملحقہ جامعہ حفصہ میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے نتیجے میں لال مسجد کے نائب خطیب عبدالرشید غازی اور ان کی والدہ سمیت 100 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مشرف حکومت کا موقف تھا کہ لال مسجد میں شدت پسندوں نے پناہ لے رکھی تھی جو ریاستی قوانین کی عملداری کو قبول نہیں کرتے تھے۔

عبدالرشید غازی کے بیٹے حافظ ہارون رشید نے سابق فوجی صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

واضح رہے کہ پرویز مشرف کے خلاف اس کیس کی سماعت بھی دیگر کئی کیسز کی طرح گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے۔

سابق صدر کیس کی سماعت سے ہر بار استثنیٰ لیتے رہے ہیں جبکہ ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہوئے، تاہم انہوں نے مچلکے جمع کرانے کے بعد ضمانت حاصل کرلی۔

تقریباً دو ہفتے قبل مولانا عبدالعزیز نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف سمیت لال مسجد آپریشن کے تمام کرداروں کو معاف کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔

ریحام خان،KPK حکومت کی ناکامیاں چن چن کر سامنے لا رہی ہیں

لاہور : تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی اہلیہ ریحام خان خیبر پختونخواہ میں حکومت کی ناکامیاں چن چن کر سامنے لا رہی ہیں۔ نجی ٹی وی کے شو ’’تبدیلی‘‘ میں میزبانی کرتے ہوئے انہوں نے کے پی کے کے ایک اہسپتال میں اسٹاف کی غیر حاضری اور ناکافی وسائل سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ ریحام خان نے ڈیرہ اسماعیل خان کے تحصیل ہیڈ کواٹر اسپتال میں اچانک پہنچ کر کمروں کی حالت اور آلات جراحی کی بدترین صورتحال کے مناظر کی ریکارڈنگ کی۔ اسپتال میں 8ڈاکٹرز کی جگہ صرف ایک ڈاکٹر جبکہ ایک لیڈیز اسٹاف میں صرف ایک خاتون تھی جو کہ گزشتہ تین ماہ سے غیر حاضر ہیں۔ یا د رہے کہ کے پی کے میں تحریک انصاف کی حکومت ہے جبکہ چیئرمین عمران خان نے اسپتالز میں اصلاحات کی تعریفوں کے پل باندھ رکھے ہیں۔

جرائم پیشہ افراد کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے”قائم علی شاہ”

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ سمیت 23 مجرمان کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں (جے آئی ٹیز) کی تشکیل کی منظوری دے دی۔

واضح رہے کہ عزیر جان بلوچ کو چند ہفتے قبل ہی کراچی کے نواحی علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔

جے آئی ٹیز کی منظوری کے علاوہ وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز اور بینک ڈکیتیوں کا بھی نوٹس لیا اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس کو ان کی روک تھام کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق سید قائم علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت صوبے سے دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد ہمارے اور ملک کے دشمن ہیں، ہم ان کے عزائم سے پوری طرح واقف ہیں اور ان سے نمٹنا بھی جانتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) پر اعتماد رکھتے ہیں جبکہ سندھ حکومت عوام کی خوشحالی اور تحفظ کے لیے کوشاں ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کا جے آئی ٹیز کے حوالے سے کہنا تھا کہ ٹیموں کی تحقیقات کی روشنی میں ملزمان پر مناسب طریقے سے مقدمہ چلایا جائے گا جس کے لیے ٹھوس اقدامات کیے گئے ہیں۔

جن 23 مجرمان کے خلاف جے آئی ٹیز تشکیل دی گئی ہیں ان میں مسعود عالم عرف بھولا چاچا، محمد ایاز ولد عبد القیوم، محمد حامد عرف پپو، سید عظمت حسین عرف عظمت، محمد ارشد عرف اسد چھوٹا، محمد نعیم، شعیب اختر، محمد ناصر عرف مُچھڑ، عبد الرشید عرف کاشف بیچ والا، محمد سعید بلوچ، محمد محسن، محمد عدنان، محمد فاروق عرف لانڈی، دل مراد، محمد دانش، سلیم، محسن عرف لمبا، ریحان عرف شانا، سید عمران رضا، مہر بخش، عدنان عرف اے ڈی عرف دانش، محمد اسلم عرف مُنا اور عزیر بلوچ شامل ہیں۔

جن مجرمان کے خلاف جے آئی ٹیز زیرِ غور ہیں، اُن میں محمد خرم عرف موٹا، محمد فرحان عرف فنٹر، محمد نوید، محمد شفیق، محمد سہیل اور منہاج قاضی شامل ہیں۔

پنجاب، محکمہ تعلیم نے اسکول مالکان کو ایک ماہ کی ڈیڈی لائن دے دی

لاہور : پاکستان کے صوبہ پنجاب میں محکمہ تعلیم نے اسکول مالکان کو ایک ماہ کی ڈیڈی لائن دے دی ۔ مقامی میڈیا کے مطابق جمعرات کے روز محکمہ تعلیم پنجاب نے مالکان کو ایک ماہ کے اندر اسکول کی رجسٹریشن کروانے کا نوٹس جاری کردیا ہے ۔ جاری کیے گئے نوٹس کے مطابق رجسٹریشن ناکروانے کی صورت میں اسکول بند کردیے جائینگے ۔محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد وشمار کے مطابق صوبے بھر میں غیر رجسٹر ڈ اسکولز کی تعداد 3000 ہے

پشاور،8 ماہ کا بچہ چوہے کے کاٹنے سے ہلاک

پشاور: صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ایک 8 ماہ کا بچہ چوہے کے کاٹنے سے ہلاک ہوگیا.

بچے کے والد قاری خالد نے بتایا کہ چوہے نے اُن کے بیٹے حذیفہ کے چہرے اور ناک پر اُس وقت کاٹا، جب وہ رات کو گہری نیند سو رہے تھے. انھوں نے بتایا، ‘صبح جب میری آنکھ کھلی تو میں نے ایک بڑے چوہے کو کمرے سے نکل کر بھاگتے ہوئے دیکھا، جبکہ میرا بیٹا خون میں لت پت پڑا تھا’. قاری خالد کے مطابق وہ فوری طور پر اپنے بیٹے کو لے کر قریبی ہسپتال بھاگے، جہاں ڈاکٹروں نے حذیفہ کی موت کی تصدیق کردی. انھوں نے بتایا کہ دن بھر مزدوری کے بعد وہ اتنی گہری نیند سوئے تھے کہ برابر میں ہی موجود اپنے بیٹے کو چوہے کے کاٹے جانے کا بھی انھیں علم نہ ہوسکا.

ایک مقامی رہائشی مالک کے مطابق 2010 میں آنے والے سیلاب کے بعد سے یہاں چوہوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے اور اب تب تک 5 بچے چوہے کے کاٹنے کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں.

انھوں نے مزید بتایا کہ علاقے میں پائے جانے والے چوہے اتنے بڑے ہیں کہ وہ بلیوں سے بھی خوفزدہ نہیں ہوتے، علاقے کے لوگ ان چوہوں کی وجہ سے بہت پریشان ہیں اور بچوں کو گھر میں اکیلا نہیں چھوڑ سکتے.

مالک کا کہنا تھا کہ انھوں نے مقامی حکومت کو اس حوالے سے متعدد درخواستیں دی ہیں، لیکن اب تک اس مسئلے کا نوٹس نہیں لیاگیا.

نیب کے بارے میں وزیراعظم کے بیان پر حیرت ہوئی” خورشید شاہ”

اسلام آباد:  قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ نیب نے پنجاب میں قدم بڑھایا تو نوازشریف نے بیان دیا جس سے حالات بتارہے ہیں کہ بہت کچھ ہونے والا ہے۔
ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا کہ نیب نے پنجاب میں قدم بڑھایا تو نوازشریف نے بیان دیا جس سے حالات بتارہے ہیں کہ بہت کچھ ہونے والا ہے، نیب کے بارے میں وزیراعظم کے بیان پر حیرت ہوئی، وزیراعظم نے بیان پر تنقید کے لیے ٹائمنگ اور جگہ مناسب نہیں چنی، اگر انہیں ایسی بات کرنا تھی تو پارلیمنٹ میں آکر کہتے اور اسے اعتماد میں لیتے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پارلیمنٹ کو کچھ نہیں سمجھتے البتہ کنٹینر سیاست جاری رہتی تو پارلیمنٹ کی اہمیت بھی برقرار رہتی۔
خورشید شاہ نے کہا کہ جب دوسرے صوبوں میں نیب کام کررہی تھی تو حکومت خاموش تھی لیکن جب پنجاب کا نمبر آیا تو وزیراعظم کا بیان سامنے آیا اور جب چھوٹے صوبوں میں کارروائی ہورہی تھی تو حکومت کے وزرا کو زیادتی نظر نہیں آرہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے صرف نیب کے طریقہ کار پر اعتراض ہے اور کچھ نہیں، نیب بس اپنا طریقہ ٹھیک کرے ، نیب بغیر تفتیش کے لوگوں کو ملزم ٹھہراتی ہے جب کہ ہونا یہ چاہیے کہ مکمل تفتیش کے بعد چارج شیٹ ہو اور ثبوت سامنے آنے کے بعد کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ نیب پر اعتراض سے نوازشریف سے متفق ہوں لیکن نیب کے بارے میں ہماری اپنی رائے ہے اس پر (ن) لیگ کو اس بیان پر سپورٹ نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب کو چننے میں میرا بھی کردار ہے کیونکہ چیئرمین کا انتخاب اپوزیشن کی مشاورت سے ہوا ہے ایسا لگتا ہےکہ ہم نے غلط بندہ چن لیا ہے۔
اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہم نے پچھلے 7 سالوں میں کوئی کرپشن نہیں کی، اس سے یہ لگتا ہےکہ انہوں نے پہلے کرپشن کی ہے لہٰذا اب ہم کرپشن کرپشن کھیلنا نہیں چاہتے، احتساب سب کے لیے ہونا چاہیے، حکومتیں گرانے کا نیا طریقہ احتساب آگیا ہے جو ہمارے خلاف استعمال ہوا۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف کی تنقید کے بعد نیب ریفارمز متنازع ہوجائیں گی اور اب اچھی اصلاحات بھی بری لگیں گی لہٰذا نوازشریف اگر ایسی باتیں نہ کرتے تو ریفارمز پر اچھا کام ہوتا لیکن اب ان ریفارمز پر تنقید ہوگی کہ سیاستدان اپنے آپ کو بچانے کے لیے طریقہ کار تبدیل کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی کام کے لیے اپوزیشن کے ساتھ بات کرنے پر ماحول بنانا پڑتا ہے لیکن نوازشریف کے دوست اس ماحول کو بگاڑ رہے ہیں، ان کے دوست اتنے قد آور نہیں، نوازشریف کو ہر مرتبہ اپنے ہی دوستوں سے خطرہ رہا جب کہ ان کے دوست کسی کو کچھ بھی کہتے ہیں تو نوازشریف اس پر چپ رہتے ہیں۔
خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے بیان کے بعد لوگوں میں کھلبلی مچ گئی ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ وزیراعظم نے کس خطرے کی بو سونگھی۔ انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں نے ایک دوسرے کو چور چور کہہ کر بڑا کمزور کیا، یہ ساری باتیں حکومت بھی کہتی ہے لیکن جب کوئی جواب دیتا ہو توحکومت کہتی ہے زیادتی ہورہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کہا کہ اب ان کے پاس 91 والے اختیارات نہیں جب کہ بظاہرایسا کوئی نہیں جو وزیراعظم کی طاقت چھینے کیونکہ صدر ممنون حسین تو بیچارے خود وزیراعظم کے ممنون ہیں ان میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ نوازشریف سے اختیارات چھینیں۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ بظاہر نوازشریف اور آرمی چیف کے اچھے تعلقات ہیں تو پھر آخر کون ہے جو نوازشریف کے اختیارات چھیننا چاہتا ہے، میں حیران ہوں کہ نوازشریف سے ان کے 91 والے اختیارات کس نے چھینے اور کس نے انہیں دھمکی دی جب ملک کا وزیراعظم اس قسم کی باتیں کرے تو اس کا کچھ نہ کچھ مطلب ہوتا ہے تاہم نوازحکومت کو اندر سے کوئی خطرہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف اگر جمہوریت کو پامال کریں گے اور سسٹم کو خطرہ پہنچائیں گے تو سب سے پہلے ہم ان کے آگے کھڑے ہوں گے لیکن نوازشریف کے لوگ جمہوریت کو خطرے میں ڈالنے کے حالات پیدا کررہے ہیں۔خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ برے وقت میں ہم نے (ن) لیگ پر کوئی احسان نہیں کیا، ہم نے حکومت کو نہیں بلکہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کو بچایا ہے جس کا ہم کوئی احسان نہیں جتاتے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چوہدری نثار نے ایف آئی اے کی کارکردگی پر کمیشن بنانے کی بات کی تو پھر انہیں نیب کی کارکردگی پر بھی کمیشن بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں صبر اور تحمل لازمی ہے، اگر کوئی جذباتی ہوجائے تو سیاست نہیں کی جاسکتی جب کہ دم پر پاو¿ں والی سیاست مناسب نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل راحیل شریف ایک دلیر سپہ سالار ہیں جس ملک کے دلیر سپہ سالار ہوں وہ خوفزدہ نہیں ہوتے، راحیل شریف پہلے دن سے حالت جنگ میں آئے ہیں وہ مدت ملازمت میں توسیع لے کر اپنا نام تاریخ سے ختم نہیں کریں گے۔

پاکستان اور ہندوستان کے وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات کا امکان

واشنگٹن:  امریکا، پاکستان اور ہندوستان نے دبے لفظوں میں آئندہ ماہ واشنگٹن میں پاکستان اور ہندوستان کے وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات کا امکان ظاہر کیا ہے۔واضح رہے کہ وزیراعظم نواز شریف اور ان کے ہندوستانی ہم منصب نریندر مودی نے امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے 31 مارچ سے یکم اپریل تک ہونے والے ‘نیوکلیئر سمٹ’ میں شرکت کی دعوت کو قبول کیا ہے۔ایک سینیئر سفارتی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘پاک ہند وزرائے اعظم کی ملاقات کے بہت زیادہ امکانات موجود ہیں، لیکن چونکہ دونوں ممالک میں مذاکرات کی تاریخ سب جانتے ہیں، اس لیے جب تک یہ منعقد نہ ہوجائیں، امریکا میں ہونے والی ملاقات کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا’۔خیال رہے کہ امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے 2010 میں آغاز کیے جانے والے جوہری سمٹ میں پہلی بار دونوں ممالک کے وزرائے اعظم ایک ساتھ شریک ہوں گے۔سمٹ کا ایک مخصوص ایجنڈا ہے، یعنی جوہری ہتھیاروں کو دہشت گردوں کی پہنچ سے دور رکھنا اور اس حوالے سے دنیا بھر کی قیادت مختلف تجاویز پر بحث میں شرکت کے لیے واشنگٹن میں جمع ہوگی۔واضح رہے کہ اس حوالے سے پہلا سمٹ واشنگٹن میں 12 سے 13 اپریل 2010 میں منعقد ہوا تھا۔ دوسرا سمٹ جنوبی کوریا میں 2012 اور تیسرے سمٹ کا انعقاد ہیگ میں 2014 میں کیا گیا تھا۔یاد رہے کہ رواں سال براک اوباما کا امریکی صدر کے طور پر آخری سال ہے، اس لیے اوباما انتظامیہ چوتھے سمٹ میں واضح نتائج حاصل کرنا چاہتی ہے۔ادھر امریکی حکام کی جانب سے جاری ایک بیان میں جنوبی ایشیا میں چھوٹے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاو¿ پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے.امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے نائب ترجمان مارک ٹونر نے پاکستان کی جانب سے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں میں ممکنہ اضافے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر کہا کہ ‘ہم ان جوہری ہتھیاروں کی سیکیورٹی کے حوالے سے تشویش کا شکار ہیں، جو ہماری اور پاکستان کے درمیان ہونے والی ہر بحث کا حصہ ہوتے ہیں’۔انھوں نے کہا ‘لیکن ہمیں خطے میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان موجود کشیدگی کے حوالے سے بھی تشویش ہے اور ہم ان دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں، تاکہ ، واضح طور پرکشیدگی میں کچھ کمی لائی جاسکے

اپریل میں دما دم مست قلندر ہو گا “شیخ رشید”

Google Analytics Alternative