قومی

دہشتگری کا خدشہ،جامعہ کراچی کی سیکیورٹی کے انتظامات مزید سخت

کراچی:  انٹیلی جنس ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مختلف شہروں کے تعلیمی اداروں اور دفاعی تنصیبات پر دہشتگردوں کے حملے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ نجی ٹی وی چینل کے مطابق خفیہ اداروں کی جانب سے وفاقی وزارت داخلہ کو بھجوائے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ افغانستان سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے 13 خود کش حملہ آور ملک میں داخل ہوئے ہیں جن کا مقصد ملک کے مختلف شہروں میں دفاعی تنصیبات اور تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا ہے۔ اس لئے متعلقہ محکمے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لئے موثر انتظامات کئے جائیں۔دوسری جانب محکمہ تعلیم سندھ نے کراچی کے سرکاری کالجز میں سیکیورٹی خدشات کے باعث سیکیورٹی پلان جاری کردیا ہے جس کے تحت اب کالجز کی چھٹی کے اوقات روزانہ کی بنیاد پر تیدیل کئے جائیں گے جب کہ کالجز میں طلبا اور اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کی تعداد کے حوالے سے متعلقہ تھانے اور ڈپٹی کمشنر کو بتانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ سیکیورٹی خدشات کے باعث جامعہ کراچی کی سیکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کردئے گئے ہیں جبکہ رینجرز کی جانب سے جامعہ کے داخلی اور خارجی راستوں پر چیکنگ کو انتہائی سخت کردیا گیا ہے۔

این اے 122 میں ووٹوں کی تصدیق کا معاملہ حل نہ ہوا تو پھر دھرنا ہوگا”عمران خان”

لاہور: چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ این اے 122 میں ووٹوں کی تصدیق کا معاملہ حل نہ ہوا تو سڑکوں پر نکلنے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں ہوگا جب کہ نادرا بتائے کہ 21 ہزار ووٹ کہاں سے آئے جو 2013 میں نہیں تھے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک قرضوں پرچل رہا ہے، موجودہ حکومت نے پاکستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ قرضہ لیا جب کہ ڈیزل کی قیمت پر بھی دگنا ٹیکس وصول کیا جارہا ہے حالانکہ اس کی قیمت میں 20 روپے کمی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 2018 کا الیکشن شفاف بنانے کے لیے دھاندلی کے خلاف آواز اٹھائی، اگر دھاندلی کرنے والے لوگوں کو سزا نہیں ملے گی تو دھاندلی کو روکا نہیں جاسکتا، نادرا بتائے کہ 21 ہزار ووٹ کہاں سے آئے جو 2013 میں نہیں تھے۔

عمران خان نے کہا کہ این اے 122 میں ووٹوں کی تصدیق کا معاملہ حل نہ ہوا تو سڑکوں پر نکلنے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں ہوگا اور احتجاج میں جو بھی جماعت ہمارے ساتھ ہوگی اسے خوش آمدید کہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال میں خیبرپختونخوا میں 87 فیصد دہشت گردی کم ہوئی ہے جب کہ باچا خان یونیورسٹی کے گارڈز نے زبردست مقابلہ کیا تاہم صوبے میں 64 ہزار تعلیمی ادارے ہیں سب کو سیکیورٹی فراہم کرنا مشکل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان صرف سیکیورٹی پلان نہیں بلکہ ایک جامع پلان ہے جب کہ کراچی میں دہشت گردی میں کمی کی وجہ ٹارگٹ کلرز کا پیچھا کرنا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ پشاور فلائی اوور 6 ماہ میں صرف ساڑھے6 کروڑ لاگت سے بنایا گیا جو لاہور فلائی اوور کے مقابلے میں دُگنے کم خرچ پر بنا۔

کراچی آپریشن ہر صورت کامیاب بنایا جائے گا”جنرل راحیل شریف”

کراچی:  آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ کراچی آپریشن ہر صورت کامیاب بنایا جائے گا، کراچی کو دہشت گردی سے پاک کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جائیں گے‘کراچی میں بے خوف معمول کی زندگی کی بحالی کو یقینی بنائیں گے ‘ شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کے افراسٹرکچر کی تباہی سے کراچی میں امن آیا ہے۔ وہ بدھ کوکور ہیڈ کوارٹر زکے موقع پر منعقدہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔اس موقع پر آرمی چیف نے کراچی میں قیام امن پر رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو سراہا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق کور فائیو ہیڈکواٹرز کراچی میں سیکیورٹی صورت حال اور کراچی آپریشن سے متعلق آرمی چیف جنرل راحیل کے زیر صدارت اہم اجلاس ہوا۔ اجلاس میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر‘ ڈی جی ملٹری انٹیلیجنس‘ کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر سمیت اعلی عسکری قیادت نے شرکت کی۔اجلاس میں کراچی آپریشن میں اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جبکہ امن وامان سے متعلق آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی غور کیا گیا۔ اس موقع پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ایک بار پھر بھرپور مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ کراچی کو دہشت گردی سے پاک کرنے کیلئے ہر حد تک جائیں گے، آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ کراچی کے عوام کے جان ومال کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا، اس موقع پر آرمی چیف نے کراچی آپریشن میں رینجرز کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔آرمی چیف نے کہاکہ کراچی میں بے خوف معمول کی زندگی کی بحالی کو یقینی بنائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کے افراسٹرکچر کی تباہی سے کراچی میں امن آیا ہے۔ترجمان پاک فوج کے مطابق اجلاس میں آرمی چیف کو کراچی آپریشن پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ آرمی چیف کے زیر صدارت ہونے والا اہم اجلاس 6گھنٹے سے زائد مدت تک جاری رہا۔

کراچی، فوج کے زیر انتظام تعلیمی اداروں کو تین دن کے لیے بند کر دیا گیا

کراچی: شہرِ قائد سمیت ملک بھر میں فوج کے زیر انتظام تعلیمی اداروں کو تین دن کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

27 سے 29 جنوری کے لیے آرمی پبلک اسکول اور کالجز کی بندش کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے، جبکہ اسکول انتظامیہ نے والدین کو پہلے ہی تین دن کی تعطیلات سے آگاہ کر دیا تھا۔

انتظامیہ کے مطابق اسکول اس وجہ سے بند کیے گئے تاکہ آرمی پبلک اسکولوں میں نصاب کی مطابقت رہے کیونکہ ملک بھر کے آرمی پبلک اسکولوں میں یکساں نصاب پڑھایا جاتا ہے.

دوسری جانب سیکیورٹی ذرائع نے بتایا  ہےکہ اسکولوں کی بندش کا اعلان سیکیورٹی خدشات کی بنا پر کیا گیا.

یاد رہے کہ 2 روز قبل اچانک رات گئے پنجاب کے اسکولوں کو بھی بند کرنے کا فیصلہ سامنے آیا تھا، اس حوالے سے صوبائی حکومت کا کہنا تھا کہ اسکول سردی کی سخت لہر کی وجہ سے بند کیے گئے۔

اس فیصلے کے ایک ہی دن بعد اسکولوں پر دہشت گردی کے خطرے کا الرٹ بھی جاری ہوا تھا۔

پنجاب کے کچھ تعلیمی اداروں پر چارسدہ طرز کے حملوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا اور محکمہ داخلہ اور سیکریٹری اسکولز ایجوکیشن کو ارسال مراسلے میں سرکاری، نیم سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی بہتر بنانے کی سفارش کی گئی تھی۔

رواں ماہ 20 جنوری کو چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد سے ملک بھر کے تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے، اس حملے میں دہشت گردوں نے 18 طلبہ سمیت 21 افراد کو قتل کر دیا تھا جبکہ پولیس نے آپریشن کرکے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کیا تھا۔

یہ پاکستان میں کسی تعلیمی ادارے پر پہلا حملہ نہیں تھا، بلکہ گزشتہ کچھ سالوں میں تعلیمی اداروں پر دہشت گردوں کے حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

16 دسمبر 2014 کو پشاور میں فوج کے زیر انتظام چلنے والے اسکول آرمی پبلک اسکول اینڈ کالج پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں 132 بچوں سمیت 150 کے قریب افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔

چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی اور پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملوں کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے طالبان گیدڑ گروپ نے قبول کی تھی۔

طالبان کے گیدڑ گروپ کو عمر منصور عرف عمر نرے افغانستان سے کنٹرول کرتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان نے افغان حکام سے پاکستان میں تعلیمی اداروں پر حملوں میں ملوث گروہ کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے.

ڈاکٹر عاصم کے ریمانڈ میں احتساب عدالت نے توسیع کردی

کراچی: کرپشن کیس میں ڈاکٹر عاصم حسین کے جسمانی ریمانڈ میں 9 فروری تک توسیع کردی گئی۔ڈاکٹر عاصم کے ریمانڈ میں احتساب عدالت نے توسیع کی۔عدالت نے حکم دیا ہے کہ ڈاکٹر عاصم کی سیکیورٹی پر نیب کے اہلکار تعینات کیے جائیں۔عدالت کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عاصم کی سیکیورٹی پر مامور سیکیورٹی اہلکار وردی میں ہونےچاہئیں۔عدالت نے ڈاکٹر عاصم کے ساتھ فیملی ممبر کورہنے کی اجازت دینےسے انکار کردیا۔ڈاکٹر عاصم کو آج جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔کیس کے تفتیشی افسر نے پیش رفت رپورٹ عدالت میں جمع کرادی۔جس کے مطابق 4 مزید گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرلئے گئے۔

انتہا پسندی اور دہشت گردی نے مسائل میں اضافہ کیا ہے”صدر ممنون حسین”

اسلام آباد: صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ پاکستانی قوم اور مسلح افواج آخری دہشت گرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گی۔

اسلام آباد میں پاک فوج کے بیچلر آف ملٹری آرٹ اینڈ سائنس اور نسٹ انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ کنفلکٹ اسٹڈیز کے جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب کے دوران صدر مملکت نے کہا کہ موجودہ دور میں دفاعی سائنس پیچیدہ شکل اختیار کر چکی ہے اب سیاسی، سفارتی، اقتصادی حتی کہ مواصلات جیسے امور بھی دفاعی امور سے منسلک ہو گئے ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران جنم لینے والی انتہا پسندی اور دہشت گردی نے مسائل میں اضافہ کیا ہے۔ اس پس منظر میں یہ ناگزیر ہوگیا ہے کہ مسلح افواج کے افسروں اور جوانوں کی تربیت جدید تقاضوں کے مطابق کی جائے تاکہ وہ مسلسل بدلتے ہوئے حالات کے تقاضوں پر پورا اتر سکیں۔

صدر مملکت نے کہاکہ پاکستانی قوم نے اپنے عزم سے دنیا پر واضح کیا ہے کہ وہ اور مسلح افواج اندرونی اور بیرونی ہر طرح کے حالات میں مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ دہشت گرد اور ان کے سرپرست کسی غلط فہمی میں نہ رہیں، قوم اور مسلح افواج آخری دہشت گرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گی۔

صدر ممنون حسین نے کہا کہ ماضی میں ملک کے وسائل کو ضائع کیا گیا جس سے پاکستان اقتصادی مسائل سے دوچار ہوگیا، لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے بروقت منصوبے شروع نہیں کئے گئے، کرپشن اور بدعنوانی سے پاکستان کو شدید نقصان پہنچا۔ اس صورت حال سے نکلنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ملک سے بدعنوانی کا مکمل طور پر خاتمہ کردیا جائے۔

سیکیورٹی فورسز کی پشاور میں کارروایئاں بڑی تعداد میں اسلحہ برامد

پشاور: پشاور میں سیکیورٹی فورسز اور حساس اداروں نے کارروائیاں کرکے بڑی تعداد میں اسلحہ برآمدکرلیا۔سیکیورٹی فورسز اور حساس اداروں نے کارروائیاں جی ٹی روڈ اور کوہاٹ روڈ پر کیں،جن کے دوران اسلحہ گوداموں سے بڑی تعداد میں اسلحہ برآمد جبکہ متعدد افراد گرفتار کرلیا ہے۔برآمد کیے گئے اسلحے میں ایم 4، ایم 6 رائفل ، ٹیلی اسکوپ اور دیگر اسلحہ شامل ہے۔

جنرل راحیل شریف اپنے مقررہ مدت پر ریٹائر ہو جائیں گے

اسلام آباد:  آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اپنے اہل خانہ اور رفقائے کار کے ساتھ مشورہ کے ساتھ اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہ لینے کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد ملک بھر میں پھیلی قیاس آرائیوں کا خاتمہ کرنا اور آپریشن ضرب عضب کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔ مستند ذرائع کے مطابق جنرل راحیل شریف کبھی بھی مدت ملازمت میں توسیع لینے کے خواہشمند نہیں رہے جبکہ انکی اہلیہ خاص طورپر توسیع لینے کی مخالف تھیں۔ جب کراچی سمیت ملک بھر میں ”قدم بڑھاوؑ راحیل شریف‘ ہم تمہارے ساتھ ہیں“ کے بینر آویزاں کئے گئے اور سوشل میڈیا پر بھی انہیں آرمی چیف برقرار رکھنے کی مہم چلائی گئی تو جنرل راحیل شریف نے اس پر ناصرف ناراضی کا اظہار کیا بلکہ ایسے تمام بینرز ہٹانے کی ہدایات جاری کیں۔ جنرل راحیل شریف پاکستان کی عسکری تاریخ کے پہلے فوجی سربراہ بن گئے جنہوں نے 10 ماہ پہلے ہی اعلان کر دیا کہ وہ مقررہ مدت پر ریٹائر ہو جائیں گے۔ گزشتہ ڈیڑھ دہائی کے دوران معمول کے مطابق مدت ملازمت پوری کر کے سبکدوش ہونے والے وہ واحد فوجی سربراہ ہوں گے۔ ان سے پہلے جنرل پرویز مشرف 10 سال سے زائد اور جنرل اشفاق پرویز کیانی 6 برس تک آرمی چیف کے منصب پر فائز رہے۔ جنرل راحیل شریف نے جہاں ایک طرف صحافت اور سیاست کے کوچے میں پھیلی قیاس آرائیوں کا خاتمہ کر دیا وہیں فوج کے اندر بھی اب واضح ہو گیا ہے کہ کمانڈ کی تبدیلی مقررہ وقت پر ہو جائے گی۔ اس ذریعے کے مطابق فوج کے اندر جہاں ایک ڈاکٹرائن یہ بنائی گئی کہ سول حکومتوں کا اب تختہ نہیں الٹا جائے گا وہاں اس ڈاکٹرائن پر بھی اتفاق ہے کہ آرمی چیف اسی افسر کو بننا چاہئے جو ملکی داخلی اور بیرونی سلامتی کے حوالے سے فوج کے جاری آپریشنوں کا حصہ رہا ہو اور ان آپریشنوں کی حکمت عملی اور ترجیحات سے بخوبی واقف بھی ہو۔ آرمی چیف کی تعیناتی اگرچہ وزیراعظم کا استحقاق ہے تاہم انہیں نئے آرمی چیف کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت اس ڈاکٹرائن کو بھی مدنظر رکھنا ہو گا۔ جنرل راحیل شریف کی طرف سے رواں سال ریٹائرمنٹ کے اعلان کے بعد ممکنہ نئے آرمی چیف کا تذکرہ بھی زبان زد عام ہے۔ سنیارٹی کے مطابق اقوام متحدہ کے چیف ملٹری ایڈوائزر لیفٹیننٹ جنرل مقصود احمد پہلے نمبر پر ہیں۔ فوج کے چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات دوسرے جبکہ ہیوی انڈسٹری ٹیکسلا کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل سید واجد حسین تیسرے نمبر پر ہیں۔ ماضی کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو 4 نمبر پر موجود لیفٹیننٹ جنرل نجیب اللہ خان‘ 5 نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم‘ 6 نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الحسن شاہ اور 7 نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال رمدے بھی زیر غور آ سکتے ہیں۔ نئے آرمی چیف کے بارے میں 10 ماہ پہلے شروع ہونے والی یہ بحث اگرچہ قبل از وقت ہے تاہم فوجی اور سول حلقوں میں آئندہ آرمی چیف کے نام کے بارے میں تبادلہ خیالات چل رہا تھا۔ مقتدر حلقوں کی نجی مجالس میں چیف آف جنرل سٹاف زبیر محمود حیات کو اس عہدے کیلئے نمایاں افسر قرار دیا جاتا رہا ہے۔

Google Analytics Alternative