قومی

پاک فوج کے جرنیل نے بھی خیبرپختونخوا حکومت کی تعریف کردی

لاہور کے علاقے جوہر ٹا ون میں حملہ

لاہور کے علاقے جوہر ٹا ون میں کریکر حملہ ہوا ہے ۔ تفصیلات کے مطا بق حملہ جوہر ٹا ون کے تھانہ نواب ٹاون میں ادارہ منہاج الحسین کے قریب ہوا ہے

نثار علی خان لال مسجد کے خطیب کے حق میں بو ل پڑے

وفاقی وزیر داخلہ نثار علی خان نے کہا کہ مولانا عبد العزیز کیخلاف جب کوئی کیس نہیں ہے تو پھر انہیں کیوں گرفتار کیا جائے‘ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے چودھری نثار علی خان نے کہا کہ عبد العزیز کو پکڑ بھی لیں تو زیادہ دیر تک اندر نہیں رکھ سکتے۔ اسلام آباد میں2007ء کے آپریشن کا نتیجہ دیکھ لیا گیا ہے‘ اگر کوئی قانون توڑے گا تو ہم سختی سے نمٹیں گے۔ چودھری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں علما اور مدارس ہمارے معاون ہیں‘ اسلام آباد گرین بیلٹ پرون دیہاڑے مدرسوں کی تعمیر ہوئی‘ مدرسہ رجسٹریشن اور اس کے فارم پر علما سے اتفاق ہو گیا ہے مدرسہ نصاب میں دوررس تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ مدرسوں میں کون سی دہشت گردی کی کہ ہم ان کے خلاف کاروائی کریں ۔

عمران خان نے نوازشریف کو”کریڈٹ “دے دیا

چوہدری نثار سچ اور جھوٹ میں تمیز کی صلاحیت رکھتے ہیں،شیخ رشید

سعودی اتحاد میں پاکستان کی شمولیت پر تحریک انصاف کو اعتراض

لاہور: پاکستان تحریک انصاف نے سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والے فوجی اتحاد میں پاکستان کی شمولیت پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قوم کو فوری طور پر اس اتحاد کے محرکات سے آگاہ کرے۔تحریک انصاف کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پارٹی ترجمان ڈاکٹر شیریں مزاری کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ “34 اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد میں پاکستان کی شمولیت کی اطلاعات تشویشناک ہیں.پی ٹی آئی ترجمان نے حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ قوم کو سعودی اتحاد کے قیام کے محرکات سے فوری طور پر آگاہ کرے۔خیال رہے کہ سعودی عرب نے 3 روز قبل یہ اعلان کیا تھا کہ اس نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ کے لیے 34 اسلامی ریاستوں پر مشتمل اتحاد قائم کیا ہے، جس میں پاکستان بھی شامل ہے، جبکہ ایران کا نام اس فہرست میں شامل نہیں تھا۔

ناصرجنجوعہ کا پاکستان اور بھارت کو اہم مشورہ

وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ نے اپنے ہندوستانی ہم منصب اجیت دیول سے ملاقات کو دوطرفہ تعلقات کے لیے اچھی شروعات قرار دیا ہے۔پڑوسی ملک کے اخبار ہندوستان ٹائمز کو دیئے گئے ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ہندوستان کو ماضی میں پھنسے رہنے کے بجائے مستقبل کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں مستقبل کے حوالے سے خود سوچنا ہوگا، ہم اپنے بچوں کے لیے یہ نہیں چھوڑ سکتے.خیال رہے کہ رواں ماہ 6 دسمبر کو ناصر جنجوعہ کی بنکاک میں ہندوستان کے نیشل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت دیول سے ملاقات ہوئی تھی جس کے بعد ہندوستان کی وزیر خارجہ نے پاکستان میں ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں شرکت کی، اسی دورے میں انہوں نے وزیراعظم نواز شریف اور مشیر امور خارجہ سے ملاقاتوں کے بعد پریس بریفنگ میں دونوں ممالک میں مذاکرات کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔بنکاک میں ہونے والی ملاقات کے حوالے سے انٹرویو میں ناصرجنجوعہ نے کہا کہ “ہم نے آگے بڑھنے پر اتفاق کیا اور محسوس کیا کہ ہم ایک ساتھ کام کر سکتے ہیں۔”یاد رہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے ناصر خان جنجوعہ کو رواں سال اکتوبر کے آخر میں ہی قومی سلامتی کا مشیر مقرر کیا ہے، حالیہ تقرری سے صرف 3 ہفتے قبل ہی وہ فوج سے لیفٹیننٹ جنرل کے رینک پر ریٹائر ہوئے، ریٹائرمنٹ سے پہلے وہ سدرن کمانڈ (بلوچستان) کے کور کمانڈر تھے.تجزیہ کاروں نے ناصر خان جنجوعہ کو قومی سلامتی کا مشیر مقرر کیے جانے کو ہندوستان کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت دیول کے مقابلے میں اہم پیشرفت قرار دیا.واضح رہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے سیکریٹری خارجہ آئندہ ماہ ملاقات کریں گے جس میں دونوں ممالک کے ‘دوطرفہ جامع مذاکرات’ کا طریقہ کار طے کیا جائے گا۔پاکستان اور ہندوستان کے مابین مذاکرات دونوں جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کے الزامات کے باعث جنوری 2014 سے معطل ہیں.اس حوالے سے دونوں رہنماؤں نے متعدد بار کوششیں کیں، جس میں وزیراعظم نواز شریف کی مئی 2014 میں نریندرا مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت، دونوں رہنماؤں کے مابین نومبر 2014 میں کھٹمنڈو میں سارک کانفرنس کے موقع پر خفیہ ملاقات اور رواں برس جولائی میں شنگھائی تعاون تنظیم کے موقع پر روس کے شیر اوفا میں سائیڈ لائن ملاقات بھی شامل ہے.اس کے ساتھ ساتھ دونوں رہنماؤں کے مابین مختلف مواقعوں پر ٹیلیفونک اور خطوط کے ذریعے بھی رابطہ ہوتا رہا، تاہم پیرس میں ہونے والی مختصر ملاقات سے پہلے ہونے والی یہ تمام کوششیں رائیگاں ہوتی ہوئی نظر آئیں اور دونوں ممالک کے مابین تعلقات معمول پر آتے ہوئے نظر نہیں آئے.

دہشت گردی کے خطرات ابھی ختم نہیں ہوئے،وزیر داخلہ

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا جس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ گزشتہ اجلاس میں وزارت داخلہ کی کارکردگی پر بحث کرنے کی پیشکش کی، ہر وزیر ایوان کے سامنے جواب دہ ہے اور چاہتا ہوں کہ ایوان وزارت داخلہ کی کارکردگی پر بحث کرے۔
انہوں نے کہا کہ ایوان میں ہر وزیر کی کارکردگی کی غلطیوں کی نشاندہی کرنی چاہیے، وزارت داخلہ کی ڈھائی سالہ کارکردگی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی اور میں وزرا کی ایوان کے سامنے احتساب کی روایت قائم کرنا چاہتا ہوں، جبکہ رینجرز کی ڈھائی سال کی کارکردگی کی رپورٹ بھی تیار کرلی گئی ہے۔
چوہدری نثار نے کہا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ ڈھائی سال میں سب کچھ ٹھیک ہوگیا، یہ نہیں کہتا کہ کرپشن ختم ہوگئی لیکن وزارت میں خوف خدا لے آئے ہیں اور وزارت داخلہ اور ماتحت اداروں نے کرپشن کے خلاف سخت کارروائی کی۔
انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ نے سب سے زیادہ کارروائی اپنے محکمے میں کی، جعلی شناختی کارڈ بنانے اور انسانی اسمگلنگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی گئی اور جعلی شناختی کارڈ پر نادرا اہلکاورں کو صرف معطل ہی نہیں بلکہ گرفتار کیا گیا.
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال کئی گنا بہتر ہوئی ہے لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، پہلے روز کئی دھماکے ہوتے تھے لیکن اب ہفتے مہینے گزر جاتے ہیں ایک دھماکا نہیں ہوتا۔

Google Analytics Alternative