قومی

سکھ برادری نے بھی عامر خان کی حمایت کر دی

پاکستان میں بابا گرونانک کی مذہبی رسومات میں شرکت کیلئے آنے والے سکھ زائرین نے بالی وڈ اسٹار عامر خان کے خلاف انتہا پسندوں کی جانب سے دھمکیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان کی انتہا پسند جماعت شیوسینا اور طالبان میں کوئی فرق نہیں مودی آر ایس ایس دھشت گرد تنظیم کا ایجنٹ ہے۔ لاہور میں سکھوں کے روحانی پیشوا بابا گرونانک کی مذہبی تعلیمات کے حوالے سے منعقدہ گورنر ہاس میں جاری ایک تقریب کے دوران ورلڈ سکھ مسلم فیڈریشن کے چیئرمین سردار منموہن سنگھ کا کہنا تھا کہ بھارتی ریاست نے کبھی بھی پاکستان کی 1947ءکی آزادی کو تسلیم نہیں کیا۔ شیو سینا کی جانب سے موجود صورتحال دراصل مودی کو دوبارہ طاقت میں لانے کیلئے بنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم کمیونٹی کو گائے کا گوشت کھانے پر بھارت چھوڑنے کی بات کی جا رہی ہے یہ قابل مذمت ہے۔ سردار منموہن سنگھ کا کہنا تھا کہ عامر خان اور شاہ رخ خان کو انتہا پسندوں کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کی مذمت کرتے ہیں۔ سکھ زائرین کے ڈپٹی گروپ لیڈر سردار امر جیت سنگھ نے کہا کہ بھارتی جنتا پارٹی الیکشن میں ہمدریاں حاصل کرنے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان اور شیوسینا میں کوئی فرق نہیں ہے ہاں گرونانک نے ہمیشہ امن‘ محبت اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کی تعلیمات دی ہیں۔ مودی حکومت نے یہی پالیسیاں جاری رکھیں تو آئندہ انتخابات میں بی جے پی کو منہ کی کھانی پڑے گی۔

قیمتی گاڑیوں کی سمگلنگ،قومی خزانے کو اربوں ڈالر کا نقصان

پاکستان سمگلنگ کی روک تھام نہ کرنے کے باعث ہر سال 13 ارب ڈالر سے محروم ‘ کپڑے کی مد میں چھ ارب ڈالر کا نقصان۔ ان خیالات کا اظہار ایک سینئر صحافی اور اینکرپرسن نے نجی ٹی وی چینل میں بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ گاڑیوں کی سمگلنگ کی روک تھام نہ کرنے کے باعث ہر سال پاکستان 13 ارب ڈالر سے محروم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سگریٹ‘ چائے‘ سپیئر پارٹس‘ ڈیزل‘ پٹرول‘ کاسمیٹکس سمیت ہر چیز پاکستان میں سمگل ہو کر آتی ہے۔ سمگلنگ کا ناسور ہماری تباہ حال معیشت کو برباد کئے جا رہا ہے۔ اپٹما کی رپورٹ کے مطابق کپڑے کی مد میں چھ ارب ڈالر کا ہر سال نقصان ہوتا ہے۔ ہر سال پاکستانی بندرگاہوں اور ایئرپورٹس پر تین ارب ڈالر کی انڈر انوائسنگ کی جاتی ہے اور یہ سارا نقصان پاکستانی عوام کو پہنچ رہا ہے۔ پاکستان میں ہر سال پچاس ہزار گاڑیاں سمگل ہو کر آتی ہیں جن میں 80فیصد لگڑری گاڑیاں ہیں اور کسی کی مالیت ایک کروڑ سے کم نہیں ہوتی۔

ایم کیو ایم کے رہنما کے قتل کی سازش پاکستان میں تیار ہوئی’ تحقیقاتی ٹیم

عمران فاروق قتل کیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی رپورٹ مکمل کرلی جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کے رہنما کے قتل کی سازش پاکستان میں تیار ہوئی۔ایک نجی ٹی وی چینل کے مطابق عمران فاروق قتل کیس کے لیے بنائی گئی جے آئی ٹی نے اپنی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ وزارت داخلہ کو بھجوادی۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں ایف آئی اے کا ایک ڈائریکٹر، رینجرز اور آئی ایس آئی کے افسران شامل تھے جب کہ جے آئی ٹی کا مینڈیٹ سازش ہونے یا نہ ہونے کا تعین کرنا تھا۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے بینک اکاونٹس اور ٹیلی فون کالز کے ریکارڈ کا جائزہ لیا جب کہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کے رہنما کے قتل کی سازش پاکستان میں ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد عمران فاروق قتل کیس کے 3 ملزمان معظم علی، محسن اور خالد شمیم کو سازش کے الزام میں مقدمے کا سامنا کرنا ہوگا۔جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں عمران فاروق قتل کیس میں مزیدگرفتاریاں ہونے کاامکان ہے۔

بھارت کا پاکستانی خفیہ ادارے پرجھوٹا الزام

بھارتی ریاست اتر پردیش کی سپیشل ٹاسک فورس نے علاقے سے پاکستانی حساس ادارے کے ایک ایجنٹ کو مبینہ طورپر گرفتار کر نے اور اس سے بھارتی فوج سے حساس دستاویزات برآمد کا دعویٰ کیا ہے۔ٹاسک فورس کے آئی جی سجیت پانڈے نے صحافیوں کو بتایا کہ محمد اعزاز عرف محمد کلام اسلام آبادکا رہائشی ہے جسے مروٹ کینٹ کے علاقے میں اس وقت گرفتار کیاگیا جب وہ نئی دہلی جارہا تھا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس سے جعلی شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات بھی بر آمد ہوئی ہیں۔افسر نے دعویٰ کیا کہ ہمیں اطلاع ملی تھی کہ ایک پاکستانی بنگلہ دیش کے راستے اتر پردیش پہنچا ہے جو بھارتی فوج کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کر نا چاہتا ہے اسی اطلاع پر ہم نے کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کیا۔

پی آئی اے کے اہلکار سے ڈھائی کروڑ روپے مالیت کے قیمتی موبائل فون برآمد

کراچی:ایڈیشنل کلکٹر کسٹمز کراچی ڈاکٹر طاہر قریشی نے کہا ہے کہ کھیپ کا کام کرنے والوں نے بلوچستان کے چھوٹے ایئر پورٹس کو استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی ایئر پورٹ پر امجد امان لغاری کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ دبئی اور شارجہ سے تربت اور دیگر ایئر پورٹس پر آنے والی فلائٹس کو اسمگلنگ کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ گزشتہ روز کسٹمز نے ایک اطلاع ملنے پر شارجہ سے بذریعہ تربت کراچی آنے والے پی آئی اے کے اہلکار سے ڈھائی کروڑ روپے مالیت کے قیمتی موبائل فون ضبط کئے اور ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔اس اسمگلنگ میں پی آئی اے کے دیگر اہلکار بھی ملوث ہونے کے امکان ہیں کیونکہ ملزم کا اضافی بیگیج کسی چارجز کے بغیر لوڈ کیا گیا ہے۔یقیناً یہ اہلکار اکیلا نہیں گروہ کی شکل میں کام کرتا ہوگا، تاہم تفتیش کے بعد صورتحال سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم کے قبضے سے ڈھائی کروڑ مالیت کے موبائل فون کے ساتھ 9شراب کی بوتلیں بھی برآمد ہوئیں ہیں۔

ممتاز قادری نے خودکشی کی دھمکی دے دی

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سزائے موت کے منتظر ممتاز قادری کی سزا کو سپریم کورٹ نے برقرار رکھا تھا۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ممتاز قادری کے، ان کے اہلخانہ سے ملاقات کے مقام کو تبدیل کردیا گیا تھا۔عدالتی فیصلے کے بعد ممتاز قادری کو سیکیورٹی وجوہات اور خطرناک قیدی ہونے کی وجہ سے اپنے اہلخٓانہ سے صرف ’لوہے کی باڑ‘ کے پیچھے سے ملنے کی اجازت ہے۔سیکیورٹی حکام کے مطابق ممتاز قادری نے اہلخانہ سے ملاقات کے حوالے سے نئے قوانین کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اس کے خلاف احتجاج خودکشی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو اس کی ذمہ دار جیل انتظامیہ ہوگی۔حکام کا کہنا تھا کہ اس دھمکی کے بعد جیل انتظامیہ نے ممتاز قادری کو ان کی مرضی کے مطابق اہلخانہ سے ملاقات کی اجازت دے دی۔

خیبر ایجنسی میں فضائی کارروائی کے نتیجے میں 21 مبینہ دہشت گرد ہلاک

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے فاٹا کی خیبر ایجنسی میں فضائی کارروائی کے نتیجے میں 21 مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے.سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جمعے کو پاک فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ کے علاقے کوکی خیل میں دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا.ذرائع کے مطابق کاروائی میں 21 مبینہ دہشت گرد ہلاک جبکہ ان کے متعدد ٹھکانے تباہ ہوگئے.تاہم انتہائی دورافتادہ مقام ہونے اورعلاقے تک میڈیا کو رسائی نہ ہونے کی وجہ سے ہلاکتوں کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق مشکل ہے.یاد رہے کہ وفاق کے زیرِ انتظام پاک افغان سرحد پر واقع شمالی وزیرستان، خیبر ایجنسی اور اورکزئی ایجنسی سمیت سات ایجنسیوں کو عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے۔حکومت اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان امن مذاکرات کی ناکامی اور کراچی ایئرپورٹ پر حملے کے بعد پاک فوج نے 15 جون کو شمالی وزیرستان میں ا?پریشن ضربِ عضب شروع کیا تھا۔شمالی وزیرستان کی تحصیل میرعلی کو دہشت گردوں سے خالی کروانے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کا دائرہ کار شمالی وزیرستان کے دوردراز علاقوں تک بڑھا دیا۔بعد ازاں خیبر ایجنسی اور ملحقہ علاقوں میں آپریشن ’خیبر ون‘ اور ‘خیبر ٹو’ کے تحت سیکیورٹی فورسز نے کارروائیوں کا آغاز کیا، جن کا اب اختتام ہوچکا ہے.تاہم 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حملے کے نتیجے میں معصوم بچوں سمیت 150 سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کردی ہیں.

پاکستان نیوکلیئر سپلائرزگروپ میں شامل ہونے کا وہ برابرکاحقدار ہے

اسلام آباد: چین نے پاکستان کویقین دلایا ہے کہ اگر بھارت کونیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت حاصل کرنے کی اجازت ملی تووہ پاکستان کوبھی رکنیت دلانے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔پاکستان کو یہ یقین دہانی صدر ممنون حسین کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفدکے دورہ بیجنگ کے دوران کرائی گئی۔ دونوں ممالک نے اس معاملے پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا اور پاکستان نے اپنا نکتہ نظرواضح کیا۔پاکستان کا موقف ہے کہ نیوکلیئر سپلائرزگروپ میں شامل ہونے کا وہ برابرکاحقدار ہے اور ایٹمی ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کی تمام شرائط پوری کرتا ہے۔سفارتی ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کا موقف ہے کہ اسے گروپ کی رکنیت سے محروم رکھ کر بھارت کو اجازت دینے کامطلب تفریق برتنا ہے جس سے خطے میں عدم توازن پیدا ہوگا۔ چین اس گروپ کا رکن ہے اور ویٹوکااختیار بھی رکھتا ہے۔ ان ذرائع نے بتایا چین نے پاکستان کونیوکلیئر سپلائرزگروپ کی رکنیت دلانے کیلیے ہر ممکن اقدامات کا یقین دلایا ہے، اگر پاکستان کومحروم رکھ کر بھارت کوگروپ کی رکنیت دینے کی کوشش کی گئی تو چین اس اقدام کو ویٹوکر دے گا۔ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں بھارت کوچپکے سے شامل کرنے کی سفارتی کوششوں سے آگاہ ہے اورچین کو بتا دیا ہے کہ جنوبی ایشیا کی دونوں جوہری ریاستوں میں تناومیں کمی اور خطے میں استحکام لانے کے بجائے بھارتی لابی تناو میں اضافہ کی کوشش کر رہی ہے۔سیکیورٹی تجزیہ کارکے مطابق پاکستان نیوکلیئر سپلائرزگروپ میں شامل ہونا چاہتا ہے لیکن بڑی طاقتوں کی مخالفت کی وجہ سے مشکلات درپیش ہیں تاہم چین کی حمایت کرنے سے امیدکی کرن نظر آ رہی ہے۔ پاکستان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے پر چین بھارت کی رکنیت روکنے پربھی مجبور ہوسکتا ہے۔ یہ امر دلچسپ ہے کہ سوا ارب آبادی کے ملک بھارت کو ایٹم بم کا دھماکا کرنے کے 41 سال بعد 48 رکنی گروپ کی رکنیت مل سکتی ہے لیکن اس اقدام سے خطے میں اسلحہ کی خطرناک دوڑ بھی شروع ہو سکتی ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں نے ابھی تک ایٹمی عدم پھیلاﺅکے معاہدہ این پی ٹی پر دستخط نہیں کئے۔ نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے سربراہ امریکا اورکچھ خفیہ ہاتھ پاکستان کونظر انداز کرتے ہوئے بھارت کو رکنیت دلانے کیلئے سرگرم ہیں۔

Google Analytics Alternative