قومی

عمران خان چار روزہ نجی دورے پر لندن روانہ

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان چار روزہ نجی دورے پر لندن روانہ ہوگئے۔ پیر کو تحریک انصاف کے ترجمان نے عمران خان کے دورے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان لندن میں بچوں سے ملنے گئے ہیں۔

بینظیر قتل کیس نے نیا موڑ لے لیا : ناہید خان نے فریق بننے کی درخواست خصوصی عدالت میں جمع کروا دی

راولپنڈی: سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی چیئر پرسن بینظیر بھٹو کی سابقہ پولیٹیکل سیکریٹری ناہید خان نے بینظیر قتل کیس میں فریق بننے کے لیے مقدمے کی نقول حاصل کرنے کی درخواست راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں جمع کروا دی۔

انسداد دہشت گردی عدالت نے درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے فریقین کو 14 ستمبر کے لیے نوٹس جاری کردیئے۔

عدالت کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ناہید خان کا کہنا تھا کہ انھوں نے بینظیر بھٹو قتل کیس کے ریکارڈ تک رسائی کی درخواست دی ہے اور اب کیس پر جو بھی بات ہوگی وہ عدالت میں ہوگی۔

ناہید خان نے ایک بار پھر تصدیق کی کہ وہ وقوع کے وقت بینظیر بھٹو کے ساتھ گاڑی میں موجود تھیں۔

ایک سوال کے جواب میں ناہید خان کا کہنا تھا کہ جس قسم کا رویہ ان کے ساتھ روا رکھا جارہا ہے اس پر ان کا حق ہے کہ وہ اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں۔

انھوں نے مزید کہا کہ وہ اپنی وکلاء کی ٹیم کی تجویز کے بعد فیصلہ کریں گی کہ اس مقدمے میں کس طرح شامل ہونا ہے۔

اس موقع پر ناہید خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ بینطیر بھٹو قتل کیس میں ناہید خان کی درخواست عدالت نے سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے سرکار، درخواست گزار اور خصوصی پراسیکیوٹر کو نوٹسز جاری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ عدالت نے 14 ستمبر تک کیس کا تمام ریکارڈ بھی طلب کرلیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں بیان دیتے ہوئے زرداری ہاؤس کے ڈرائیور جاوید رحمان نے بتایا تھا کہ ناہید خان نے سابق وزیراعظم اور پی پی پی چیئر پرسن بے نظیر بھٹو کو 27 دسمبر 2007 کے روز لیاقت باغ میں جلسے کے بعد گاڑی کی چھت سے شرکاء کی جانب ہاتھ ہلانے کا مشورہ دیا تھا۔

ڈرائیور نے بے نظیر قتل کیس میں بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ناہید خان نے بے نظیر بھٹو کے ملازم رزاق میرانی کو گاڑی کا سن روف کھولنے کو کہا تھا۔

جاوید نے عدالت کو بتایا کہ جلسے کے اختتام پر بے نظیر بھٹو کے لیاقت باغ سے روانہ ہونے سے پہلے ہی ان کے اسکواڈ کی چار بیک اپ گاڑیاں جا چکی تھیں اور ان میں سے ایک گاڑی میں سابق وزیر داخلہ رحمان ملک بھی موجود تھے۔

جاوید نے جرح کے دوران مزید کہا کہ ان کے بھائی خضر حیات رحمان ملک کی گاڑی چلا رہے تھے۔ جاوید کے مطابق، بے نظیر بھٹو پر حملے کے 20 منٹ بعد خضر کا ٹیلی فون آیا کہ رحمان ملک پوچھ رہے ہیں کہ وہ(جاوید) ابھی تک زرداری ہاؤس کیوں نہیں پہنچے۔

اس پر جاوید نے خضر کو بتایا کہ بے نظیر بھٹو حملے میں زخمی ہیں اور وہ اس وقت چاندی چوک کے آس پاس ہیں۔ جاوید نے بتایا کہ بے نظیر کے زخمی ہونے پر ناہید نے انہیں جلدی ہسپتال پہنچنے کو کہا تھا۔

زرداری ہاؤس کے ڈرائیور جاوید رحمان کے بیان پر ناہید خان نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے نا تو بے نظیر بھٹو کو ہاتھ ہلانے کا مشورہ دیا اور نا ہی کسی کو سن روف کھولنے کو کہا تھا۔

ناہید نے کہا تھا کہ انہیں سمجھ نہیں آرہی بے نظیر بھٹو کے قتل کے آٹھ سال بعد اس طرح کی چیزیں عدالت میں کیوں کہی جا رہی ہیں۔

’یہ دعوے ایک ایسے عینی شاہد کے ہیں جو آج بھی آصف علی زرداری کا ذاتی ملازم ہے۔ میں بیان کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یقیناً اپنا ردعمل دوں گی‘۔

ناہید نے بے نظیر قتل کیس کی تحقیقات اور عدالتی کارروائی پر شبہات ظاہر کرتے ہوئے اسے ایک غیر معمولی کیس قرار دیا کیونکہ استغاثہ نے بے نظیر کے ساتھ گاڑی میں سوار افراد کا کوئی بیان ریکارڈ نہیں کیا۔

ناہید خان کا کہنا تھا کہ حملے کے وقت ان کے علاوہ مخدوم امین فہیم اور صفدر عباسی بھی گاڑی میں سوار تھے، لیکن تفتیش کرنے والوں نے کبھی ان کا بیان لینے کیلئے رابطہ نہیں کیا۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن(پی ایچ ایف) میں ایک اور بحران کا خدشہ

کراچی: پاکستان ہاکی فیڈریشن(پی ایچ ایف) میں ایک نیا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہو چکا ہے جہاں میر ظفراللہ جمالی کی جانب سے نئے سیکریٹری شہباز سینئیر کی تعیناتی پر تحفظات کا اظہار کیے جانے کے بعد کا عہدہ خطرے میں پڑتا نظر آ رہا ہے۔

پاکستان ہاکی کی تاریخ میں پہلی بار اولمپکس تک رسائی میں ناکامی کے بعد باوجود پی ایچ ایف کے صدر، کوچ اور متعلقہ حکام نے استعفے دینے کی زحمت گوارا نہ کی لیکن ٹیم کی بدترین کارکردگی پر وزیر اعظم اور پاکستان ہاکی کے پیٹرن ان چیف نواز شریف کے نوٹس اور اس کی تحقیقات کیئے کمیٹی کے قیام کے بعد استعفوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔

ٹیم کی کارکردگی کے حوالے سے مرتبہ کردہ رپورٹ وزیر اعظم ہاؤس پہنچنے کے ساتھ ہی پی ایچ ایف کے سابق صدر اختر رسول اور پھر ہیڈ کوچ شناز شیخ نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا جس کے ساتھ ہی ہاکی فیڈریشن کی کمان بریگیڈیئر ریٹائرڈ سجاد کھوکھر نے سنبھالی۔

لیکن اس فیڈریشن ایک بار پھر بحرانی کیفیت سے اس وقت دوچار ہوئی جب سابق سیکریٹری رانا مجاہد نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا اور نئے صدر نے 1994 کا ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے کپتان اور سابق اولمپیئن شہباز سینئر کو سیکریٹری مقرر کیا جس پر میر ظفراللہ جمالی نے شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم نے پی ایچ ایف میں نئے سیٹ اپ کی تشکیل کی ذمہ داری میرظفراللہ جمالی کو سونپتے ہوئے سیکریٹری وزارت بین الصوبائی رابطہ اعجاز چوہدری کو ہدایت کی تھی کہ قومی ہاکی سے متعلق تمام فیصلے میرظفراللہ جمالی کی مشاورت سے کیے جائیں گے۔

تاہم میرظفراللہ جمالی نے سیکریٹری اور دیگر عہدوں پر ہونے والی تقرریوں کے سلسلے میں انہیں نظرانداز کیے جانے پر وزیراعظم ہاؤس فون کر کے پیٹرن ان چیف سے سخت ناراضی کا اظہار کیا۔

نواز شریف نے اس کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر خالد کھوکھر کو میرظفراللہ جمالی سے فوری طور پر ملنے کی ہدایت کی تھی۔

ڈان نیوز سے گفتگو میں میر ظفراللہ جمالی نے تصدیق کی کہ ہفتے کو صدر اور نئے سیکرٹری ہاکی فیڈریشن نے ان سے ملاقات کی تاہم انہوں نے واضح کردیا کہ نئی تقرریاں ان سے بغیر مشاورت اور جلد بازی میں کی گئی ہے جس پر انہیں تحفظات ہیں۔

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ایک دو روز میں اسلام آباد جاکر وہ صدر ہاکی فیڈریشن سے ملاقات کریں گے جس میں وزیراعظم کی نمائندگی ملٹری سیکرٹری کریں گے۔

اس ملاقات میں پاکستان ہاکی فیڈریشن میں کی گئی حالیہ تقرریوں پر بات چیت ہوگی اور ان تبدیلیوں میں مزید تبدیلی کے امکانات موجود ہیں جس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر شہباز سینئر اپنے عہدے سے محروم ہو سکتے ہیں۔

الطاف حسین کی تقاریر، تصاویر کی نشرو اشاعت پر پابندی

لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل نصیر احمد بھٹہ کو الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم ) الطاف حسین کی تقاریر اور تصاویر کی نشر و اشاعت پر پابندی عائد کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں.

پیر کو لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس مظہر اقبال سدھو اور جسٹس ارم سجاد گل پر مشتمل 3 رکنی فل بینچ نے ایم کیو ایم قائد پر تقریروں کے ذریعے انتشار پھیلانے کے الزام سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی.

الطاف حسین کے خلاف درخواستیں ایڈووکیٹ عبداللہ ملک، ایڈووکیٹ آفتاب، ایڈووکیٹ مقصود اور دیگر کی جانب سے دائر کی گئی تھیں، جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایم کیو ایم قائد نے اپنی تقاریر میں پاک فوج اورریاستی اداروں کے خلاف انتشار آمیز بیان بازی کی، لہذا ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ درج کیا جائے.

واضح رہے کہ آئین کے آرٹیکل 5 کے تحت مملکت پاکستان سے وفاداری ہر شہری کا بنیادی فرض ہے اور دستور اور قانون کی اطاعت ہر شہری خواہ وہ کہیں بھی ہو اور ہر اس شخص کی جو فی الوقت پاکستان میں ہو، واجب التعمیل ذمہ داری ہے جبکہ آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی کرنے پر کسی بھی شخص پر آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ چلایا جاسکتا ہے.

مذکورہ کیس کی گذشتہ سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ نے الطاف حسین کی تقاریر کی لائیو کوریج پر تاحکم ثانی پابندی عائد کردی تھی.

مزید پڑھیں:الطاف حسین کی تقاریرکی لائیو کوریج پر پابندی

درخواست گزار کا موقف تھا کہ الطاف حسین برطانوی شہری ہیں اور کوئی بھی غیر ملکی شہری پاکستان میں کسی سیاسی جماعت کا سربراہ نہیں ہوسکتا،جبکہ انھیں پاکستانی ٹی وی چینلز پر تقاریر کرنے کا بھی کوئی حق نہیں ہے.

پیر کو مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو ہدایات جاری کیں کہ تمام ٹی وی چینلز، کیبل نیٹ ورک کو الطاف حسین کی تصویر یا تقریر جاری یا نشر نہ کرنے پر پابند کیا جائے.

بعد ازاں عدالت نے 18 ستمبر کو سیکریڑی داخلہ سے الطاف حسین کی شہریت کے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل آپریشنز پیمرا کو بھی ہدایات جاری کی ہیں کہ اسی دن اس حوالے سے بھی رپورٹ پیش کی جائے کہ الطاف حسین کی تقاریر و تصاویر کی نشر و اشاعت پر پابندی پر عملدرآمد کیا جارہا ہے یا نہیں.

بعد ازاں کیس کی سماعت رواں ماہ 18 ستمبر تک ملتوی کردی گئی

ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی اسمگلنگ,بلوچستان کے ایک سینیئر پولیس افسر کے ملوث ہونے کا انکشاف

اسلام آباد:بلوچستان حکومت کے محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن (ایس اینڈ جی اے ڈی) کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ ڈپارٹمنٹ کو لکھے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) اشفاق انور اپنے ماتحتوں کے ذریعے ایرانی تیل کی پاکستان میں اسمگلنگ سے ہر ماہ کروڑوں روپے کمارہے ہیں.

بلوچستان حکومت نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکرٹری سے ایس ایس پی کو معطل کرکے اس کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے ایس ایس پی اشفاق انور کے خلاف بنائی جانے والی چارج شیٹ کے مطابق وہ اپنے ماتحتوں کے ذریعے فی کس آئل ٹینکر سے 27000 روپے اور فی کس مسافر کوچ سے 7000 سے 8000 روپے رشوت وصول کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ ایس ایس پی پر الزام ہے کہ وہ پولیس کے کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل کے ٹرانسفر اور پوسٹنگ پر 8 سے 10 ہزار روپے رشوت بھی وصول کرتے ہیں۔

بلوچستان حکومت کی چارج شیٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایس ایس پی اشفاق انور نے اپنے علاقے میں امن وامان کی صورت حال کو کنٹرول میں دکھانے کے لیے تمام اسٹیشن ہاؤس افسران (ایس ایچ اوز) کو اُس وقت تک کسی بھی جرم کی ایف آئی آر درج کرنے سے منع کیا ہے جب تک اُن سے اجازت نہ لی جائے.

وفاقی حکومت کے ایک سینیئر عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران سے اسمگل کیا جانے والا تیل جعفر آباد کے ذریعے سندھ میں داخل ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس غیر قانونی تجارت میں سندھ پولیس کے افسران بھی ملوث ہیں، جن کی نشاندہی کی جاچکی ہے اور ان کے خلاف انکوئری کا آغاز ہوچکا ہے۔

ایس ایس پی اشفاق انور، جنھیں مذکورہ الزامات کے بعد معطل کردیا گیا ہے، نے خود پر لگنے والے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔

اشفاق انور کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف محکمہ جاتی انکوائری کا حکم دیا جاچکا ہے اور وہ انکوائری کمیٹی کے سامنے اپنا دفاع کریں گے.

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں یومیہ استعمال ہونے والے تیل کا 7 لاکھ لیٹر ایران سے اسمگل ہوتا ہے۔

دوسری جانب پیٹرولیم ڈیلرز کے مطابق پاکستان میں استعمال ہونے والے پیٹرول کا 15 سے 20 فیصد ایران سے اسمگل ہوتا ہے جبکہ اسمگل شدہ پیٹرول اور ڈیزل اکثر بلوچستان اور سندھ کے بعض علاقوں میں فروخت ہوتا ہے، جن میں کراچی بھی شامل ہے۔

پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالسمیع خان نے ڈان کو بتایا کہ ایران سے اسمگل کیا جانے والا پیٹرول اور ڈیزل لگائے گئے اندازوں سے کہیں زیادہ فروخت ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ گاڑیوں میں استعمال کے علاوہ اسمگل شدہ تیل گھروں، فیکٹریوں اور دفاتر میں لوڈشیڈنگ کے دوران جنریٹروں میں بھی استعمال کیا جارہا ہے۔

عبدالسمیع کا کہنا تھا کہ اسمگل ہونے والا تقریباً آدھا تیل بلوچستان میں ہی استعمال ہوجاتا ہے جبکہ باقی کا تیل ڈیرہ غازی خان کے ذریعے کراچی منتقل کیا جاتا ہے۔

انھوں نے الزام لگایا کہ اس سارے معاملے میں قانون نافذ کرنے والے اہلکار ملوث ہیں۔

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک سیکیورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سرحدی علاقوں کے قریب رہنے والے پاکستانیوں کو ایرانی حکومت کی جانب سے ایران میں داخلے کی اجازت ہے اور یہ پاکستانی ایران سے واپسی پر اپنے ساتھ تیل بھی لاتے ہیں۔

اہلکار نے بتایا کہ تربت کے علاقے میں یہ اسمگل شدہ تیل آئل ٹینکروں میں منتقل کیا جاتا ہے تاکہ دیگر علاقوں کو بھیجا جاسکے۔ ’اسمگلرز سرحدی علاقوں پر قائم چیک پوسٹوں اور شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر رشوت دیتے ہیں تاکہ تیل کو اس کے مقام پر منتقل کیا جاسکے۔‘

پاکستانی ڈرون حرکت میں ، ۳ دہشتگرد ہلاک

پشاور: وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پاکستان کے تیار کردہ براق ڈرون کی پہلی کارروائی کے نتیجے میں 3 ہائی پروفائل مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے.

پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کے ٹوئٹر پیغام کے مطابق پیر کو شمالی وزیرستان کی تحصیل شوال میں پاکستانی براق ڈرون نے مبینہ دہشت گردوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا.

ترجمان آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کے تیار کردہ پہلے براق ڈرون کی مدد سے کی گئی کارروائی میں 3 ہائی پروفائل مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے.

یاد رہے کہ وفاق کے زیرِ انتظام پاک افغان سرحد پر واقع شمالی وزیرستان، خیبر ایجنسی اوراورکزئی ایجنسی سمیت سات ایجنسیوں کو عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے۔

حکومت اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان امن مذاکرات کی ناکامی اور کراچی ایئرپورٹ پر حملے کے بعد پاک فوج نے 15 جون 2014 کو شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب کا آغازکیا تھا۔

علاقے میں آزاد میڈیا کی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے تمام تر تفصیلات آئی ایس پی آر کی جانب سے فراہم کی جاتی ہیں، اس لیے عمومی طور پر ان تفصیلات کی تصدیق نہیں ہو پاتی۔

تاہم فوج کی جانب سے آپریشن کے آغاز کے بعد ایک مرتبہ ملکی اور غیرملکی میڈیا کو تحصیل میرعلی کا دورہ کروایا گیا تھا۔

شمالی وزیرستان کی تحصیل میرعلی کو دہشت گردوں سے خالی کروانے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کا دائرہ کار شمالی وزیرستان کے دوردراز علاقوں تک بڑھا دیا، بعد ازاں اکتوبر 2014 میں خیبر ایجنسی میں آپریشن خیبر-ون اور مارچ 2015 میں آپریشن خیبر-ٹو کا آغاز کیا گیا.

شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب اب اپنے حتمی مراحل میں داخل ہوچکا ہے.

دشمن کو جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، سربراہ پاک فضائیہ

اسلام آباد: پاک فضائیہ کے سربراہ ایئرچیف مارشل سہیل امان کا کہنا ہے کہ قوم ہر چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے لیےتیار ہے اور دشمن کو جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ اسلام آباد میں پاک فضائیہ کے ہیڈ کوارٹر میں یوم دفاع کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران ایئرچیف مارشل نے کہا کہ 1965 کی جنگ نے جوش و جذبے کی مثال قائم کی، 1965 کے جذبے کو آگے لے کرچل رہے ہیں، پاکستانی قوم ہر چیلنج کاڈٹ کرمقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے، دشمن کو جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ پاک فضائیہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم ہرچیلنج کا ڈٹ کرمقابلہ کرنے کے لیے متحد ہوکرکھڑی ہے، آپریشن ضرب عضب میں تمام اہداف حاصل کئے ہیں اور دہشت گردوں کی کمرتوڑدی ہے، کچھ دنوں میں دہشت گردوں کا مکمل صفایا ہوجائے گا۔

چیئر مین نیب نے شرجیل میمن کیخلاف تحقیقات شروع کرنیکی منظوری دیدی

اسلام آباد(نیوزڈیسک)سندھ حکومت کے اہم وزیر شرجیل میمن سخت مشکلات میں ہیں کیونکہ چیئر مین نیب نے ان کے خلاف تحقیقات شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔اگرچہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی حیثیت تک کا آدمی یہ کہہ چکا ہے کہ میمن ممکنہ طور پر پیپلزپارٹی کی مبینہ کرپشن کے خلاف سلطانی گواہ کی حیثیت سے سامنے آسکتا ہے لیکن نیب کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔نیب ہیڈ کوآرٹر کے ذرائع نے بتایا ہے کہ نیب سندھ نے باضابطہ طور پر شرجیل میمن کے خلاف وزارت اطلاعات میں بدعنوانی کی تحقیقات کیلیے درخواست دی تھی۔نیب کے ذرائع کا دعوی ہے کہ چند ماہ قبل سندھ کے سیکرٹری اطلاعات ذوالفقار علی شاہوانی کی گرفتاری کے بعدسے 180ملین روپے کی بدعنوانی میں شرجیل میمن کے کردار کا پتہ چلاہے۔شرجیل میمن سے جب اس حوالے سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے دوٹوک انداز میں بدعنوانی کے کسی مقدمے میں ملوث ہونے کی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی کے حوالے سے کیس تھا جس کا مالک پہلے ہی رضاکارانہ طور پر متعلقہ رقم لوٹا رہا ہے۔یوسف رضاگیلانی کے بیان کے حوالے سے میمن نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ گیلانی کے خلاف بھلا کیسے سلطانی گواہ بن سکتے ہیں کیونکہ انہوں نے تو کبھی وفاقی حکومت میں خدمات انجام ہی نہیں دیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے پی پی قیادت یا سندھ حکومت کے خلاف سلطانی گواہ بننے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ وہ اس طرح کے کسی اقدام سے اپنا سیاسی مستقبل تباہ نہیں کر سکتے۔نیب کے ذرائع کا البتہ اصرار ہے کہ شرجیل انعام میمن کے حکومت سندھ کے محکمہ اطلاعات کے کردار اور میسرز کنیکٹ کمیونی کیشن پرائیویٹ لمیٹڈ میں ان کے اور دیگر کے کرادار کے حوالے سے شکایات ہیں ۔شرجیل میمن کے علاوہ جو مبینہ طور پر معاملے میں ملوث ہین ان میں سیکرٹری اطلاعات سندھ ذوالفقار علی شاہوانی، سابق ڈائریکٹر انفارمیشن (اشتہارات) منصور احمد راجپوت اور میسرز کنیکٹ مارکیٹنگ کمیونی کیشن پرائیویٹ لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عبدالقادر شاہ شامل ہیں۔ان الزامات میں سرکاری رقوم میں گھپلے، سرکاری اتھارٹی کا غلط استعمال، سندھ کے پیپرا رولزو کی خلاوف ورزی اور بدعنوانی کی دیگر صورتیں ہیں۔نیب زرائع کا کہنا ہے کہ ایک ملزم عبدالقادر شاہ پہلے ہی نیب کو رضاکارانہ طور پر 74ملین روپے کی رقم لوٹانے کی درخواست کرچکا ہے۔چند ماہ قبل نیب ہیڈ کوآرٹر نے سیکرٹر ی انفارمیشن سندھ ذوالفقار علی شاہوانی کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے تھے جس کے بعد انہیں حفاظتی تحویل میں ضمانت دے دی گئی اور وہ نیب کراچی کے سامنے پیش ہوچکے ہیں۔سیکرٹری انفارمیشن نے تحقیقات میں 180ملین روپے کی مبینہ کرپشن کی ذمہ داری میمن پر ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ نیب کو اس امر کے ٹھوس شواہد ملے ہیں ۔اس کے بعد نیب نے ٹھوس شواہد کیلیے سندھ کے بڑبولے وزیر اطلاعات سے چھان بین کیلیے اجازت نامہ طلب کیا تھا۔میمن جو سندھ کابینہ کے سب سے نمایاں وزیر ہیں وہ چند ماہ قبل منظر سے غائب ہوگئے۔ وہ نہ تو ٹی وی شوز میں آرہے ہیں اور نہ ہی پریس ٹاکس سے خطاب کررہے ہیں جو پہلے ہی روزمرہ روایت تھی۔نیب کے علاوہ ، رینجرز اور ایف آئی اے نے بھی سندھ کی کرپشن مافیا کے خلاف مہم تیز کر دی ہے۔ رینجرز کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ انہوں نے سندھ کے وزیر اعلی کو 24ساستدانوں، بیوروکریٹس، پولیس حکام اور دیگر کی فہرست دی ہے جو مبینہ طور پر براہ راست یا بالواسطہ طور پر کرپشن میں ملوث تھے اوریہ سندھ اور کراچی میں مجرمانہ سرگرمیوں اور دہشت گردی کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔

Google Analytics Alternative