قومی

ریحام خان نے عمران سے علیحدگی کی اصل وجہ بیان کر دی

عمران خان سے علیحدگی کے بعد ریحام خان نے پہلی مرتبہ کسی پاکستانی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیاہے جس میں انہوں نے انکشاف کیاہے کہ جنریشن گیپ بھی دونوں کے درمیان علیحدگی کا باعث بنا،ہمارے گھر میں میاں بیوی کے ’کتوں‘ کی بھی آپس میں نہیں بنی تھی۔ برطانیہ میں موجودسینئر صحافی مبین رشید کو دیئے گئے انٹرویو میں ریحام خان نے بتایاکہ عمران خان کو پرانے ماڈل کا بلیک بیری جبکہ انہیں آئی فون 6پسند ہے ، ایک کتاوہ اپنے ساتھ لائی تھیں جبکہ ایک خان صاحب کے گھر میں پہلے ہی موجود تھا، وہ دونوں بھی آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ بنی گالہ میں پاکستان تحریک انصاف کی خواتین کا کافی آنا جانا بھی تھا ، انہوں نے سمجھوتہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور بالآخرعلیحدگی کا سبب بن گیا۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سینئر صحافی مبین رشید کو دیئے گئے تین گھنٹوں پر محیط انٹرویو میں ریحام خان نے کئی سنسنی خیز انکشافات کیے گئے ہیں ، مبین رشید اب تک مختلف چینلزپر 1500سے زائد پروگرام کرچکے ہیں اور گزشتہ دوسال سے برطانیہ میں ہی مقیم ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مارچ 2015ءمیں پہلی انٹرنیشنل لیگل کانفرنس کا انعقاد بھی مبین رشید نے ہی ممکن بنائی اور پھر رواں سال اکتوبر کے آخر میں انٹرنیشنل میڈیا کانفرنس کا میلہ سجایا، انہی کی دعوت پر ریحام خان انگلینڈ آئی تھیںجہاں انہیں طلاق کی افسوس ناک اطلاع ملی۔مبین رشید اردو، صحافت، تاریخ اور سیاسیات میں ماسٹرز رکھنے کے ساتھ لائ گریجوایٹ اور چار کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ ان کی کتابوں میں کالموں کا مجموعہ ”پاکستان زندہ رہے گا“، اگر ایران پر حملہ ہوا اور سفر نامہ شیکسپیئر کے دیس میں خاص طور پر قابل ذکر ہیں

سخت ترین حالات میں بھی ایس کے نیازی نے حق وسچ کا علم بلند رکھا

اسلام آباد(وقائع نگار،نیوزرپورٹر)معروف ٹی وی اینکر مطیع اللہ جان نے کہا ہے کہ خطرات سے کھیل کر سردار خان نیازی نے اپنا صحافتی علم بندکررکھا ہے ۔نہایت کڑے اور سخت ترین حالات میں بھی انہوں نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے حق اور سچ کا دامن نہیں چھوڑا اور دلیری کے ساتھ بڑی بڑی خبریں بریک کرتے چلے آئے ۔یہ بات انہوں نے گذشتہ روز چوتھی میڈیا کانفرنس میں اپنے خطاب کے دوران کہی ۔انہوں نے کہا کہ سردار خان نیازی کے بارے میں یہ کہنامشکل ہے کہ وہ میڈیا ہاﺅس کے مالکان ہیں یا ورکنگ جرنلسٹ کیونکہ انہوں نے اپنے کالموں اورخبروں کے حصول کیلئے عملی طور پر کام کرکے دکھایا ۔

آزاد میڈیا کے ہوتے ہوئے اب خبر کو عوام سے زیادہ دیر تک پوشیدہ نہیں رکھا جاسکتا

اسلام آباد(وقائع نگار،نیوزرپورٹر)پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز ٹی وی کے چیئرمین سردار خان نیازی نے کہا ہے کہ آزاد میڈیا کے ہوتے ہوئے اب خبر کو عوام سے زیادہ دیر تک پوشیدہ نہیں رکھا جاسکتا ۔پرائیویٹ چینلز کے آنے سے مقابلے کارجحان بڑھا ہے ۔اس لیے ہر وقت بریکنگ نیوز کی کوشش رہتی ہے ۔مالکان اور ورکنگ جرنلسٹ ایک دوسرے کیلئے لازم وملزوم ہیں ۔یہ بات انہوں نے گذشتہ روز چوتھی سالانہ میڈیا کانفرنس کے اختتامی سیشن سے اپنے خطاب کے دوران کہی ۔انہوں نے کہا کہ بعض ٹی وی چینلز ریٹنگ بڑھانے کے چکر میں پیمرا کے ضابطہ اخلاق اور قواعد وضوابط کی پرواہ نہیں کررہے اورکھلم کھلا خلاف ورزی کررہے ہیں ۔پیمرا کوچاہیے کہ وہ اس امر کانوٹس لے ۔انہوںنے کہا کہ ریاستی میڈیا اپنی غیرجانبدارانہ حیثیت کو برقراررکھنے کے بجائے حکومت کا پبلسٹی ونگ دکھائی دیتا ہے ۔نجی میڈیا کے آنے سے ایک نئی دنیا پیدا ہوئی ہے ۔پرائیویٹ میڈیا نے ملک وقوم کو بہت کچھ دیا ہے انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے ادارے ڈیلی پیٹریاٹ میں مسنگ پرسن کے حوالے سے ایک خبر چھاپی جس دور میں یہ خبر شائع ہوئی کوئی دوسرا ادارہ اسے چھاپنے کی جرات تک نہیں کرسکتا تھا ۔چنانچہ میرے ادارتی سٹاف کو بھی 8دن حوالات میں گزارنا پڑے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز اور روز ٹی وی نے ہمیشہ قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے صحافت کی ہے ہم نے عوامی مفادات کو سب سے پہلے رکھا ۔انہوں نے کہا کہ بعض عناصر میڈیا ہاﺅس کے مالکان اور کارکنان کے درمیان تفرقہ پیدا کرتے ہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ دونوں ایک ہی چیز ہیں اور ایک دوسرے کیلئے ناگزیر ہیں اگر جرنلسٹ نہ ہوں تو مالکان کیلئے مشکلات پیدا ہوتی ہیں اور اگر مالکان نہ ہوں تو جرنلسٹ معاشی مسائل کا شکار رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ پبلشر وہ ہونا چاہیے جسے حالات و واقعات کا مکمل پتہ ہونا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ عوامی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے ملٹی پروفیشنل اور سی ڈی اے کی آپس کی ملی بھگت کی خبر بریک کی جس پر قوم کے 70ارب روپے ڈوبنے سے بچ گئے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے میڈیا گروپ نے پہلی بار ملکی تاریخ میں صحافتی ضابطہ اخلاق مرتب کیا جس کی عدلیہ ،پارلیمنٹ کے مبران،حزب اختلاف نے کھل کر تعریف کی اور دوسرے میڈیا ہاﺅسز کے مالکان کو بھی کہا کہ وہ اس کی تقلید کریں انہوں نے کہا کہ میں نے اور میرے کارکن ساتھیوں نے جان جوکھوں میں ڈال کر عوامی مفاد میں خبریں شائع کیں جس پر مجھے اور میرے کارکنان کو حراساں کیا گیا ہمیں دھمکیاں بھی دی گئیں مگر ہم نے اپنے ضابطہ اخلاق سے باہر نکلنے کی کوشش نہ کی ۔انہوں نے کہا کہ اخبارات ،ریڈیو ،ٹی وی چینلز،رسالوں ،میگزین کو مانیٹر کرنا حکومت کا کام ہے جب حقیقی مانیٹرنگ ہوگی تو سب کو پتہ چلے گا کہ ملک میں کیا ہورہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں اب اتنا اندھیرا بھی نہیں ہے کہ سچ بات کو پردوں میں چھپایا جاسکے ۔100سے زیادہ ٹی وی چینلز کام کررہے ہیں اگر کوئی ایک خبر پر پردہ ڈالتا ہے تو دوسرا چینل اسے نمایاں کرکے چلا دیتا ہے ۔معروف صحافی مطیع اللہ جان نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت عوامی پیسے کے بل بوتے پر اپنی پبلسٹی مہم چلاتی ہے ۔یہ بدعنوان حکومت کا وطیرہ رہا ہے ۔نیب کے ڈائریکٹر میڈیا نوازش علی خان عاصم نے کہا کہ پاکستانی میڈیا اپنا کردارنہایت ذمہ داری سے ادا کررہا ہے اور کرپشن کیخلاف عوام میں آگاہی پیدا کررہا ہے ۔ریڈیو پاکستان کے سابق ڈا ئریکٹر جنرل مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ اس وقت ایسے آزاد میڈیا کی ضرورت ہے جو حکومت کا محتاج نہ ہو انہوں نے کہا کہ تیسری دنیا میں آزاد صحافت کا تصور بہت مشکل ہے ۔ایڈ گروپ کے چیف ایگزیکٹو آصف صلاح الدین نے اپنے خطاب میں کہا کہ میڈیا کو اپنی ثقافتی اور مذہبی روایات کی پاسداری کرنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ مال ودولت سے اخلاقیات زیادہ قیمتی ہے ۔

ڈاکٹر عاصم کی تفتیش نے ایک نیا ڈرامائی رخ اختیار کر لیا

کراچی:ڈاکٹر عاصم کی تفتیش نے ایک نیا ڈرامائی رخ اختیار کر لیا ہے ،نجی ٹی وی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا جس میں تفتیشی افسر ر ذولفقار نے 14کو 04کر دیا تھا ،جبکہ اصل رپورٹ میں 9دسمبر تک 14روزہ ریمانڈ مانگا گیا تھا ،ایس آئی ذولفقار کو رات و رات نارتھ ناظم آباد تعینات کر دیا گیا ، ذولفقار ایسٹ کے مختلف تھانوں میں ایس آئی تعینات رہ چکے ہیں ،انسپیکٹر ذولفقار کو ڈسٹرکٹ ایسٹ سے ویسٹ لایا گیااور ڈاکٹر عاصم حسین کو گلبرگ تھانے منتقل کر دیا گیا۔یاد رہے سابق وزیر پٹرولیم اور پی پی راہنما ڈا کٹر عاصم کو انسداد دہشت گردی عدالت نے 4روزہ جسمانی ریمانڈ پے پولیس کے حوالے کر دیا ،ڈاکٹر عاصم انسداد دہشت گردی عدالتوں کے منتظم جج نعمت اللہ پھلپو ٹو کی عدالت میں پیش کیا گیا ، کورٹ روم میں حکومت کے وکیل اور رینجرز کے وکیل میں ریمانڈ کی مدت پر اختلاف بھی دیکھا گیا۔رینجرز وکیل کی جانب سے کہا گیا کہ ریمانڈ کی مدت 14روز رکھی جائے جبکہ حکومتی وکیل کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عاصم کو 4روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا جائے۔رینجرز وکیل نے کہا کہ سینئر افسر ہوں دلائل دینے کی اجازت دی جائے اس پر پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ تفتیش پولیس کے پاس ہے،رینجرز مداخلت نہیں کر سکتی۔

عمران خان پر ریحام خان کی پشتو میں تنقید

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان علیحدگی کے بعد بھی خبروں میں ان ہیں اور اب کی بار ان کے ایک ٹوئیٹ نے تہلکہ مچادیا۔
ریحام خان نے پشتوکا ایک مشہورٹپہ شیئرکیاہے جس کا مطلب کچھ یوں ہے۔
”میں نے تو تجھے ٹوپی سرپر دھرے ایک معزز مرد سمجھا
لیکن اے لڑکیوں کی خصلت والے تونے تو مجھے یہ صلہ دیا“
ریحام خان پہلے بھی ٹوئیٹر پر اپنے دل کا حال لکھتی رہی ہیں اور اِسی ہینڈل سے ہی خبروں کی تردید یاوضاحت بھی کرتی رہی ہیں لیکن اب کی بار نہایت متنازع قسم کا ٹوئیٹ کردیاتاہم اس ٹوئیٹ پر ان کی کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی۔

مزارقائد پر دہشت گردی کا خطرہ لوگوں کا مزار میں داخلہ بند

کراچی :مزارقائد پر دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر لوگوں کو مزار سے باہر نکال دیا‘ مزار قائد کے اطراف سیکورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات ہے۔ اس سے پہلے بھی مزار قائد پر دہشت گردی کا خطرہ تھا جس کے بعد لوگوں کا مزار قائد پر داخلہ بند کر دیا گیا تھا۔ آج بھی مزار قائد کو عوام کے داخلے کے لیے بند کر دیا گیا ہے

پرانے سیاستدانوں نے نئی سیاسی جماعت بنانے کیلئے رابطے شروع کردیئے

موجودہ حالات میں خاموش پرانے سیاستدان نے نئی سیاسی جماعت بنانے کیلئے رابطے شروع کردیئے ہیں اس جماعت میں پاکستان مسلم لیگ ن پاکستان پیپلز پارٹی مسلم لیگ ق تحریک انصاف اور مذہبی جماعتوں کے ناراض رہنماوں اور متحرک کارکنوں کو شامل کرکے ایک پلیٹ فارم پر لایا جائے گا جبکہ ریٹائرڈ ججوں سابق جرنیلوں کو بھی اس پارٹی میں شامل کیا جائے گا قبل ازیں اس کیلئے متحدہ مسلم لیگ کا نام سوچا گیا تھا تاہم بعض رہنماوں کی طرف سے اس نام پر اتفاق نہ ہونے پارٹی نام رکھنے کا فیصلہ آنے والے وقت پر چھوڑ دیا گیا ہے

مشاہد اللہ خان نے عمران خان بھارت کوایک نیاپاکستان بنانے کی تجویز دے دی

پاکستان مسلم لیگ کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان کے پاس اچھا موقع ہے کہ وہ بھارت میں ایک نیا پاکستان بنائیں کیوں کہ وہاں پر اس طرح کے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ پاکستان ایک سنجیدہ اور ذمہ دار ملک ہے‘ کھیل کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ جمعرات کو پارلیمنٹ ہاوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام نے پی ٹی آئی کے منشور اور اس کے دھرنے سیاست کا برا منایا ہے اس لئے پی ٹی آئی کو چاہئے کہ وہ اپنی سیاست پر نظرثانی کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور سنجیدہ ملک ہے جبکہ بھارت میں مودی حکومت اپنی انتہا پسندانہ پالیسیوں کی وجہ سے اس پورے خطے کو بدحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ بھارتی وزیراعظم مودی اور وزیراعظم نواز شریف کس طرح کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں امتیازی سلوک اور تعصب کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک میں جو کرپشن ہوئی ہے اس میں صرف سیاست دان نہیں بلکہ جج اور صحافی بھی ملوث رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس معاشرے میں انصاف نہیں ہو گا وہاں پر نظام صحیح طریقے سے کام نہیں کرتا ہے۔

Google Analytics Alternative