قومی

شمالی وزیرستان; فضائی کارروائی میں 25 مبینہ دہشت گرد ہلاک.

پشاور: وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے فاٹا کی ایجنسی شمالی وزیرستان میں فورسز کی فضائی کارروائی کے نتیجے میں 25 مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک افغان سرحد کے قریب شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل میں پاک فضائیہ کے جیٹ طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں 25 دہشت گرد ہلاک ہوئے.سیکورٹی ذرائع کے مطابق دتہ خیل کے علاقے الوارا منڈی میں جیٹ طیاروں کی کارروائی میں مبینہ دہشت گردوں کے 5 ٹھکانے بھی تباہ ہوگئے.یاد رہے کہ وفاق کے زیرِ انتظام پاک افغان سرحد پر واقع شمالی وزیرستان، خیبر ایجنسی اوراورکزئی ایجنسی سمیت سات ایجنسیوں کو عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے۔حکومت اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے درمیان امن مذاکرات کی ناکامی اور کراچی ایئرپورٹ پر حملے کے بعد پاک فوج نے 15 جون کو شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب شروع کیا تھا۔علاقے میں آزاد میڈیا کی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے تمام تر تفصیلات آئی ایس پی آر کی جانب فراہم کی جاتی ہیں، تاہم فوج کی جانب سے آپریشن کے آغاز کے بعد ایک مرتبہ ملکی اور غیرملکی میڈیا کو تحصیل میرعلی کا دورہ کروایا گیا تھا۔شمالی وزیرستان کی تحصیل میرعلی کو دہشت گردوں سے خالی کروانے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کا دائرہ کار شمالی وزیرستان کے دوردراز علاقوں تک بڑھا دیا اور خیبر ایجنسی میں اکتوبر 2014 میں آپریشن خیبر-ون جبکہ مارچ 2015 میں آپریشن خبیر-ٹو شروع کیا گیا.آپریشن خیبر ون اختتام پذیر ہوچکا ہے جبکہ خیبر ٹو بھی اپنے اختتام کے قریب ہے.

رینجرز کا عوام سے رابطہ بڑھانے کے لیے ریڈیو پر پروگرام شروع کرنے کا اعلان.

کراچی: سندھ کے دارالحکومت کراچی میں ستمبر 2013 سے ٹارگٹڈ آپریشن میں مصروف پیرا ملٹری فورس رینجرز نے عوام سے رابطہ بڑھانے کے لیے ریڈیو پر پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ترجمان رینجرز کی جانب سے جاری کیے گئے آڈیو پیغام کے مطابق ’’رینجرز آور‘‘ کے نام سے شروع کیا جانے والا پروگرام ہفتے میں 5 روز پیر سے جمعہ تک ایف ایم 101 ریڈیو چینل پر نشر ہوگا۔پیغام میں بتایا گیا ہے کہ پروگرام کا باقاعدہ آغاز 2 اکتوبر 2015 جمعہ کے روز سے کیا جا رہا ہے۔مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ صبح کے اوقات میں 8:30 سے 9:30 جبکہ شام کے اوقات میں 5:00 سے 6:00 بجے کے درمیان پروگرام نشر کیا جائے گا۔ریڈیو پروگرام کے مقاصد کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ نشریات کے دوران شہر میں ہونے والی رینجرز کی کارروائیوں کے حوالے سے بتایا جائے گا جبکہ آپریشن کی تفصیلات عوام تک پہنچائی جائیں گی۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ کارروائیوں کے دوران جاں بحق ہونے والے اہلکاروں کی داستانیں بھی عوام تک پہنچائی جائیں گی۔آڈیو پیغام کے مطابق پروگرام میں شہر قائد کراچی کے احوال شامل کرنے کے ساتھ ساتھ شہریوں کی لائیو کالز بھی لی جائیں گی جن میں اُن سے تجاویز اور رائے معلوم کی جائے گی۔ترجمان کی جانب سے جاری آڈیو پیغام میں کہا گیا ہے کہ کراچی آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے شہریوں کی رائے بہت اہم ہے۔خیال رہے کہ رینجرز اور عوام میں پہلی بار یہ باقاعدہ رابطہ ہو گا جس میں فون کال کے ذریعہ شہری اپنی آراء رینجرز تک پہنچائیں گے۔ 1989 میں سیاسی جماعتوں کی طلبہ تنظیموں کے درمیان کراچی یونیورسٹی میں بدترین جھگڑے کے بعد سرحد پر تعینات مہران فورس کو کراچی بلایا گیا تھا۔ابتداء میں رینجرز صرف یونیورسٹی تک محدود تھی بعد ازاں کراچی کے حالات بگڑنے پر مہران فورس کی سیکیورٹی کا دائرہ پورے شہر تک بڑھا دیا گیا۔ابتداء میں مہران فورس کراچی میں فوج کے کرنل کی نگرانی میں کام کرتی تھی، البتہ 1991 سے اس کا سربراہ بریگیڈیئر مقرر کیا جانے لگا۔مہران فورس کو 1995 میں سندھ رینجرز کا درجہ دے دیا گیا جس کے بعد سے اس کا سربراہ پاک فوج کے میجر جنرل رینک کا افسرہوتا ہے۔اس وقت سندھ رینجرز کے سربراہ میجر جنرل بلال اکبر ہیں جبکہ انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر، بلال اکبر سے قبل سندھ رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل تھے، 2013 میں جس وقت کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا تھا اس وقت سندھ رینجرز کے سربراہ رضوان اختر ہی تھے۔آپریشن کو 2 سال مکمل ہونے پر رینجرز اور پولیس حکام کی مشترکہ بریفنگ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ آپریشن کے نتیجے میں جرائم کی شرح میں 60 سے 70 فیصد کمی آئی ہے۔

15سال کی عمر میں قتل کرنے والے کو 16برس بعد پانسی۔

لاہور: ڈسٹرکٹ جیل سرگودھا میں سزائے موت کے قیدی انصر اقبال کو پھانسی دے دی گئی، جن کا دعویٰ تھا کہ گرفتاری کے وقت ان کی عمر 15 برس تھی.خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مجرم انصر کا کہنا تھا کہ اسے اور اس کے دوست کو 16 سال قبل اپنے پڑوسی صفدر علی کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، جسے 9 جون 1994 کو قتل کیا گیا۔انصر اقبال کا دعویٰ تھا کہ جس وقت انھیں گرفتار کیا گیا تھا ان کی عمر 15 سال تھی جبکہ ان پر لگائے جانے والا قتل کا الزام بھی جھوٹا ہے۔مقتول کے خاندان کا کہنا تھا کہ انصر نے کرکٹ میچ میں جھگڑے کے دوران صفدر علی کو قتل کیا تھا جبکہ انصر کاموقف تھا کہ پولیس نے اس کے گھر سے اسلحہ برآمد کرکے اسے جھوٹے کیس میں پھنسایا تھا۔برطانیہ کی قانونی مدد فراہم کرنے والے ادارے کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ عدالت کو وہ تمام دستاویزات فراہم کر دی گئی تھیں جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ جس وقت انصر سے مبینہ جرم سرزد ہوا اُس وقت وہ کم عمر تھا،تاہم عدالت نے پولیس افسر کے اس بیان کو فوقیت دی جس میں کہا گیا کہ وہ تقریباً 20 سال کا تھا۔ایڈیشنل سیشن جج بھلوال نے قتل کے جرم میں 27 مئی 2015 کو انصر اقبال کو پھانسی دینے کی تاریخ مقرر کی تھی، تاہم مجرم کے اہلخانہ کی جانب سے دائر درخواست پر عدالت نے پھانسی عارضی طور پر موٴخر کردی تھی۔بعد ازاں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی جانب سے مجرم کو پھانسی دینے کے لیے 29 ستمبر کی تاریخ مقرر کی گئی۔خیال رہے کہ رواں برس 4 اگست کو بھی اسی طرح کے ایک اور کیس میں مجرم شفقت حسین کو پھانسی دی جا چکی ہے۔

2004 میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے شفقت کو سات سالہ عمیر کو قتل کرنے کا جرم ثابت ہونے پرپھانسی کی سزا سنائی تھی۔عدالتی کارروائی کے دوران استغاثہ کا کہنا تھا کہ ایک رہائشی عمارت ندیم آرکیڈ کے چوکیدار شفقت نے تاوان کیلئے عمیر کو اغوا کرنے کے بعد اسے قتل کر دیا۔سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے شفقت کی سزائے موت کے خلاف اپیلیں مسترد کر دی تھیں۔دسمبر، 2007 میں سپریم کورٹ نے ان کی نظر ثانی درخواست جبکہ صدر نے جولائی ، 2012 میں ان کی رحم کی اپیل مسترد کی۔شفقت حسین 2012 سے سزائے موت سے بچتے آ رہے تھے کیونکہ ان کے اہل خانہ کا دعوی تھا کہ قتل کے وقت شفقت کی عمر صرف 14 برس تھی اور نابالغ ہونے کے باعث سزائے موت پر عمل درآمد نہیں ہوسکتا۔تاہم ، بعد میں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے جیل ڈاکٹر کے حوالے سے بتایا تھا کہ شفقت حسین قتل کے وقت بالغ تھے اور کسی بھی مرحلے پر ان کی کم عمری کا نکتہ نہیں اٹھایا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ شفقت حسین کے کیس کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے اور نہ ہی اس معاملے پر سیاست کی جانی چاہیے۔اس تنازع کی وجہ سے شفقت کے ڈیتھ وارنٹ چار مرتبہ معطل کیے گئے اور بلا آخر جیل حکام کی درخواست پر اے ٹی سی-تھری نے 27 جولائی کو پانچویں مرتبہ ڈیتھ وارنٹ جاری کیے، جس کے بعد انہیں 4 اگست کی صبح پھانسی دی گئی۔واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت (13-2008) نے سزائے موت پر غیراعلانیہ پابندی عائد کررکھی تھی تاہم سانحہ پشاور کے بعد اس پر ایک مرتبہ پھر عمل درآمد شروع ہوا۔پہلی پھانسی 19 دسمبر 2014 کو فیصل آباد کی ڈسٹرکٹ جیل میں 2 مجرموں عقیل احمد عرف ڈاکٹر عثمان اور ارشد مہربان کو دی گئی، دونوں مجرموں پر سابق صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کا الزام تھا۔خیال رہے کہ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان کی جانب سے سزائے موت کی بحالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعدد بار پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔دسمبر 2014 میں حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں اعداد و شمار جمع کروائے گئے تھے جس کے مطابق پاکستان میں سزائے موت کے7 ہزار 135 قیدی موجود ہیں، جن میں سے پنجاب کے 6 ہزار 424، سندھ کے 355، خیبر پختونخوا کے 183، بلوچستان کے 79 اور گلگت بلتستان کے 15 سزائے موت کے قیدی شامل ہیں۔سزائے موت پر عمل درآمد کے بعد سے ملک کی مختلف جیلوں میں اب تک 200 سے زائد مجرموں کو پھانسی دی جاچکی ہے۔

کوئٹہ ایک تین سالہ بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوگئی.

کوئٹہ:بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک تین سالہ بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔ بلوچستان محکمہ صحت کے ذرائع نے بتایا کہ مشرقی بائی پاس کے رہائشی تین سالہ نقیب اللہ میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔نیا کیس سامنے آنے کے بعد بلوچستان میں اس سال پولیو کیسز کی تعدا چھ ہوگئی ہے۔ذرائع کے مطابق اب تک کوئٹہ میں چار جبکہ قلعہ عبداللہ اور لورالای سے ایک ایک پولیو کیس رپورٹ ہوا ہے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بچے کو انسداد پولیو ٹیموں کی جانب سے سات مرتبہ ویکسین دی گئی تھی۔ذرائع کے مطابق کوئٹہ میں نیا کیس سامنے آنے کے بعد ملک بھر میں پولیو کیسز کی تعداد چونتیس ہوگئی ہے۔ بلوچستان ایمرجنسی آپریشن سیل کے چیف سید سیف الرحمان نے پولیو کیسز کی مرکزی وجہ والدین کی جانب سے پولیو ویکسین سے انکار قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ صرف کوئٹہ بلاک میں 4000 سے زائد والدین نے پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا۔ اس بلاک میں پشین اور قلعہ عبداللہ کے اضلاع بھی شامل ہیں۔یہ کیس ایک ایسے موقع پر منظر عام پر آیا ہے جب گزشتہ ہفتے بلوچستان کے 32 اضلاع میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے۔حکام کے مطابق پانچ سال سے کم عمر 24 لاکھ بچوں کو مہم کے دوران پولیو کے قطرے پلائے گئے۔

پاکستانی ہیکرز نے انڈین کی نیند یں اڑا دی۔

چھتیس گڑھ:  پاکستان سے تعلق رکھنے والے ہیکرز نے بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کی حکومت کی 22 سرکاری ویب سائٹس ہیک کر لی ہیں۔ بھارت میڈیا کے مطابق پاکستان سے تعلق رکھنے والے ہیکرز نے جن 22 ویب سائٹس کو ہیک کیا ان میں چھتیس گڑھ پولیس کی ویب سائٹس بھی شامل ہے۔ ان ویب سائٹس کو ہیک کرنے کے بعد ہیکرز نے ان کے ہوم پیج پر پاکستان کا پرچم لگا دیا جب کہ کچھ دیر بعد ہی چھتیس گڑھ کی حکومت نے ان تمام ویب سائٹس کو بند کردیا۔ واضح رہے کہ پہلی بار ایسا نہیں ہوا کہ پاکستانی ہیکرز نے بھارتی سرکاری ویب سائٹس ہیک کی ہوں بلکہ رواں سال جولائی میں بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کی جانب سے چھتیس گڑھ میں افتتاح کی جانے والی سرکاری ویب سائٹس نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کو صرف ایک ہفتے بعد ہی پاکستانی ہیکرز نے ہیک کر لیا تھا۔

بدہضمی کی وجہ سے5000 لاہوریے ہسپتالوں میں پہنچ گئے۔

لاہور: صوبائی دارالحکومت میں ہزاروں لاہوریے عید کے دنوں میں زیادہ گوشت کھانے اور جانوروں کو ذبح کرنے کے دوران چھریاں لگنے اور ٹریفک حادثات کے پیش نظر ہسپتالوں میں پہنچ گئے۔ بتایا گیا ہے کہ درجنوں نوجوان لڑکے تیز رفتاری اور ون ویلنگ کی وجہ سے زخمی ہوگئے۔ 5 ہزار سے زائد شہری مختلف پرائیویٹ ہسپتالوں میں بھی گیسٹرو‘ ہائی بلڈ پریشر اور بدہضمی کی وجہ سے داخل ہوئے۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق مختلف ہسپتالوں میں زیادہ تر مریض قربانی کے جانوروں کا گوشت کھانے کی وجہ سے بلڈ پریشر ہائی ہونے کی وجہ سے اور زیادہ مصالحے استعمال کرنے کی وجہ سے آئے۔400 کے قریب ایسے افراد ہسپتالوں میں آئے جو کہ قربانی کے جانوروں کو آبح کرتے وقت چھریاں چاقو لگنے سے معمولی زخمی ہوئے۔ انہیں طبی امداد دے کر ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔ مشروبات کے استعمال سے مریضوں کا مختلف ہسپتالوں کا ایمرجنسی میں علاج جاری ہے۔ بڑے پیمانے پر مختلف ہسپتالوں میں مریضوں کے رش بڑھنے کی وجہ سے سینئر ڈ اکٹروں کی غیر حاضری ہے۔ بیشتر مریضوں کے لواحقین وارڈ میں ڈاکٹروں نرسوں اور سٹاف کو ڈھونڈتے رہے۔ ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق ڈاکٹروں کی غیر حاضری اور ہسپتالوں میں مریضوں کے رش بڑھنے کی وجہ سے انکوائری لگا دی گئی اور مریضوں کے لواحقین کی طرف سے شکایات کو دور کرنے کی کوششیں کی جارہی ہے۔

گجرات میں ٹرین کی زد میں آکر 40 بکرے ہلاک

گجرات: ٹرین کی زد میں آکر 40 بکرے ہلاک ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق گجرات میں سستا بکرا نہ دینے پر ایک پولیس اہلکار نے بکروں کا ریوڑ ریلوے ٹریک کی جانب دھکیل دیا۔ ریلوے ٹریک پر دھکیلے جانے کے بعد ٹرین کی زد میں آکر 40 بکرے ہلاک ہوگئے۔ پولیس اہلکار کی جانب سے بیوپاریوں کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ اس واقعے کے بعد علاقہ مکینوں کی جانب سےپولیس اہلکار کیخلاف شدید احتجاج کیا جارہا ہے

آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا نام پاکستان کے ہر شہری کی زباں پر

اسلام آباد : آرمی چیف جنرل راحیل شریف اپنی بلا امتیاز کارروائیوں اور دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کے جاری آپریشن ضرب عضب کے باعث عوام میں خاصی مقبولیت حاصل کر گئے ہیں. آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو کراچی آپریشن پر بھی عوام کی جانب سے خوب سراہا گیا۔ عوام نے اپنے گلی محلوں میں شکریہ راحیل شریف کے پو سٹرزبنوا کران کو خراج تحسین پیش کیا۔

Google Analytics Alternative