قومی

ایل اوسی: بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے ایک کشمیری جاں بحق

آزاد کشمیر میں سرحد کے قریبی گاوں میں بھارتی فوج کی جانب سے کی گئی بلااشتعال فائرنگ سے ایک مقامی شہری جاں بحق ہوگیا۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق پاکستان اور بھارت کے اعلیٰ عسکری حکام کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر مکمل عمل درآمدر پر اتفاق کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور ضلع پونچھ کی تحصیل عباس پور کے گاوں تروتی دھرمسال کے رہائشی محمد شکیل بھارتی فائرنگ کا نشانہ بنے۔

پولیس افسر حسن وزیر آفریدی کا کہنا تھا کہ ’جاں بحق ہونے والے 45 سالہ شخص اپنے گھر کے قریبی مویشیوں کو چرا رہے تھے کہ بلااشتعال فائرنگ سے ایک گولی ان پر لگی اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے’۔

یاد رہے کہ 29 مئی 2018 کو پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹڑ جنرل ملٹری آپریشنز نے ہاٹ لائن میں رابطے میں ایل اوسی اور ورکنگ باونڈری میں شہری آبادی کو نشانہ نہ بنانے اور 2003 کے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری پر اتفاق کیا تھا۔

دونوں ڈی جی ایم اوز کے رابطے کے دو روز بعد ہی بھارت کی جانب سے ایل او سی کے قریبی ضلع پونچھ میں یکم جون کو فائرنگ کی گئی تھی۔

دو روز بعد سیالکوٹ میں ورکنگ باونڈری میں کی گئی شیلنگ سے معمر خاتون اور ایک کم سن بچی جاں بحق اور 24 دیگر افراد زخمی ہوگئے تھے۔

آزاد کشمیر میں ایل او سی کے قریب کوٹلی میں فائرنگ سے دو شہری زخمی ہوئے تھے جس کے بعد بھارتی فوجیوں نے گھروں کے قریب ایک مارٹر شیل پھینکا تھا۔

آزاد کشمیر کے سنیئر وزیر چوہدری طارق فاروق کا کہنا تھا کہ ‘یہ بدقمستی ہے کہ بھارتی فوجی شہریوں کو نشانے بنانے کی اپنی عادت سے احتراز نہیں کررہے ہیں حالانہ 29 مئی کو دونوں فریقین کے درمیان اتفاق ہوا تھا’۔

ریاستی ڈیزاسٹر منیجنمنٹ اتھارٹی (ایس ڈی ایم اے) کے مطابق رواں سال ایل او سی میں بھارتی فوج کی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے دوران فائرنگ سے کم از کم 22 افراد جاں بحق اور 122 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔

یاد رہے کہ بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے 2017 میں 46 افراد جاں بحق اور 262 زخمی ہوئے تھے جبکہ 2016 میں یہ تعداد بالترتیب 41 اور 142 تھی۔

الزام تراشی کا کھیل نہیں کھیلیں گے، نگراں وزیراطلاعات

اسلام آباد: نگراں وفاقی وزیر اطلاعات علی ظفرنے کہا ہے کہ ہمارا مینڈیٹ واضح ہے کہ ہم الزام تراشی کا کھیل نہیں کھیلیں گے، جو حقائق ہیں وہ سب کے سامنے پیش کریں گے اور آئندہ حکومت کے لیے گائیڈ لائن بھی دیں گے۔

وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کے دوران نگراں وزیر اطلاعات علی ظفر کا کہنا تھا کہ آزادی اظہار رائے کے بغیر جمہوریت نہیں چل سکتی، ہم ملک میں شفاف انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی ) کی مدد کریں گے۔

لوڈشیڈنگ کے معاملے پر بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 28 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے لیکن فنی خرابی کے باعث بجلی کی پیداوار نہیں ہورہی۔

انہوں نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کی 4 وجوہات ہیں، جن میں پہلی وجہ طلب اور رسد کا فرق ہے, دوسری وجہ پانی کی قلت ہے، تیسری وجہ ترسیل کے نظام میں خرابی ہے جبکہ چوتھی وجہ بجلی چوری والے علاقوں میں حکومتی پالیسی کے تحت لوڈ شیڈنگ ہونا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈیمز میں پانی کی مقدار پوری ہو اور پلانٹس بھی درست کام کر رہے ہوں تو ملک میں بجلی بنانے کی صلاحیت 28 ہزار میگا واٹ تک ہے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ تمام چیزیں ایک وقت میں درست ہوں۔

نگراں وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ اس وقت جو صلاحیت موجود ہے اس کے مطابق 21 سے 22 ہزار میگا واٹ تک بجلی کی پیداوار ہورہی ہے جبکہ اس کی طلب 23 سے 24 ہزار میگا واٹ ہے لیکن صرف 2 ہزار میگا واٹ کے فرق میں اتنی زیادہ لوڈشیڈنگ نہیں ہونی چاہیے۔

علی ظفر نے کہا کہ نگراں حکومت کے آنے کے بعد اچانک زیادہ لوڈشیڈنگ کی کئی وجوہات تھیں، جن میں ڈیمز میں پانی کی کمی پہلی وجہ تھی، جس کے باعث ہائیڈل پیداوار صرف 3 ہزار میگاواٹ ہوگئی تھی جو گزشتہ برس کے مقابلے میں نصف تھی۔

پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ اضافی لوڈشیڈنگ کی دوسری وجہ پورٹ قاسم کے 2 حصوں میں فنی خرابی تھی، جس کی وجہ سے بجلی کی پیداوار میں کمی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ جہاں پیداواری صلاحیت بڑھائی گئی ہے وہاں ترسیل اور تقسیم کا نظام بہتر نہیں کیا گیا، اس کے علاوہ ہم نے 40 برس میں کوئی نیا ڈیم تعمیر نہیں کیا جبکہ ہمارا آبپاشی کا نظام بھی 100 سالہ پرانا ہے اور ہم نے کبھی پانی اور بجلی کے ذخائر پر کام نہیں کیا۔

’پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی فارمولے کے تحت ہوتی ہے’

اس موقع پر نگراں وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان میں کافی عرصے سے قیمتوں کے حوالے سے ایک نظام رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی ایک فارمولے اور نظام کے تحت ہوتی ہے جبکہ کچھ آرڈیننس ہیں جو اسے گورننس کرتے ہیں۔

شمشاد اختر کا کہنا تھا کہ ہماری پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بین الاقوامی خلیجی مارکیٹوں سے منسلک ہوتی ہیں، لہٰذا اس میں رد و بدل ایک حقیقت ہے، جسے دیکھتے ہوئے اس میں تبدیلی کرنا پڑتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مئی میں یہ مشاہدہ کیا گیا کہ خلیجی مارکیٹوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا لیکن گزشتہ حکومت نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ 7 جون تک اس کی قیمتیں برقرار رکھی جائیں جبکہ اس میں تبدیلی یا اضافے کا فیصلہ نگراں حکومت کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا۔

نگراں وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے معاملے پر ہماری حکومت نے اجلاس بلایا اور ماہ رمضان کی وجہ سے قیمتوں میں رد و بدل میں تاخیر کی کوشش کی گئی لیکن عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے اضافے کے باعث صرف 50 فیصد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو بڑھایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مقامی مارکیٹ کی قیمتیں عالمی مارکیٹ سے کم رکھنا اس وقت کافی مشکل ہے کیونکہ اس سے حکومت کو کافی مالی نقصان ہوتا ہے، تاہم اس کے باوجود بھی پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں دنیا کے دیگر ممالک سے کافی کم ہیں۔

ڈاکٹر شمشاد اختر کا کہنا تھا کہ بھارت میں اس وقت پیٹرول کی قیمت فی لیٹر 140، ڈیزل 126 روپے سے زائد ہے جبکہ پاکستان میں پیٹرول 91 اور ڈیزل 105 روپے سے زائد فی لیٹر ہے۔

انٹرنیشل مانیٹری فنڈ ( آئی ایم ایف ) کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم کوئی بھی نئے معاہدے یا بڑے پیمانے پر مذاکرات نہیں کرسکتے لیکن یہ ضروری ہے کہ میکرو اکنامک فریم ورک پر توجہ دیں اور اس کے چیلنجز کا سامنا کریں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی اقتصادی صورتحال سب کے سامنے ہے لیکن ہمارا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ ہم آئی ایم ایف کے رسمی مذاکرات اور معاہدے میں شامل ہوں۔

شہبازشریف نے عمران خان سے 26 سوالات کے جوابات مانگ لیے

لاہور: مسلم لیگ(ن) کے صدرشہباز شریف نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ نیازی صاحب اپنے کُتے کو ٹائیگر کہتے ہیں اور کارکنوں کو بھی ٹائیگرز کہتے ہیں۔

سابق وزیراعلیٰ پنجاب اورمسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے عمران خان سے 26 سوالات پوچھتے ہوئے کہا ہے کہ  یہ سوالات تحریک انصاف کو اس کے وعدے اور دعوے یاد دلانے کے لئے کر رہا ہوں۔

شہباز شریف نے سوال کیا کہ کہاں ہیں وہ 350 ڈیمز، 250کالجز، ایک ہزارا سٹیڈیم اورپورے پاکستان کی بجلی؟ کیا کے پی میں 90 دن میں کرپشن ختم ہوگئی؟یا پوری تحریک انصاف ہی کرپٹ نکلی؟ بتایا جائے کہ کہا ں ہیں وہ آپ کے کے پی کو 100 سال تک فائدہ دینے والے منصوبے؟۔

(ن) کے صدر نے پوچھا کہ کے پی کے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں بننے والی یونیورسٹی کو کون سے راستے جاتے ہیں؟ کیا آپ بتائیں گے کہ پشاور دنیا کا دوسرا گندا ترین شہر کیسے بنا؟ آپ بتانا پسند کریں گے کہ آپ کے ٹرین منصوبے کا کیا ہوا؟ غیر ممالک سے نوکریوں کے لیے آنے والے غیر ملکی کہاں چھپے ہوئے ہیں؟

شہباز شریف نے سوال اٹھایا کہ کیا خیبر پختونخوا میں اقربا پروری اورمیرٹ کی دھجیاں اُڑنا بند ہو گئیں؟ کیا پی ٹی آئی الیکٹیبلز کی بجائے مخلص کارکنوں کو ٹکٹ دیے؟ کیاعمران نیازی نے جھوٹ کی بجائے قوم سے سچ بولا اور یُوٹرن لینا بند کردیے؟عمران نیازی جس پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتے رہے، پھر اسی سے تنخواہ کیوں لیتے رہے؟ کیا عمران خان قوم کو بتائیں گے کہ آپ کا ذریعہ آمدنی کیا ہے؟۔

نیب ریفرنسز؛ نواز شریف کو وکیل مقرر کرنے کیلئے 19 جون تک کی مہلت

اسلام آباد:احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو اپنے پرانے وکیل کو منانے یا نیا وکیل مقرر کرنے کے لیے 19 جون تک کی مہلت دے دی ہے۔

جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد میں احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت جاری ہےجہاں نواز شریف اپنے وکیل خواجہ حارث کے بغیر پیش ہوئے۔ سماعت کے آغاز سے قبل نوازشریف  نے مریم نواز کے وکیل امجد پرویز سے مشاورت کی۔

سماعت کے آغاز پر ہی فاضل جج نے نوازشریف کو روسٹرم پر طلب کرلیا۔ فاضل جج نے نواز شریف سے استفسار کیا کہ آپ نے سپریم کورٹ کا حکم نامہ پڑھا ہے؟  کیا آپ نے خواجہ حارث سے بات کی ہے؟ یا نیا وکیل رکھیں گے، جس پر نواز شریف نے کہا کہ میں نے بات کی ہے، ابھی فیصلہ نہیں کیا، یہ اتنا آسان فیصلہ نہیں، خواجہ حارث نے اتنی محنت سے کام کیا۔ فاضل جج نے نواز شریف سے کہا کہ ابھی تک خواجہ حارث کی کیس سے دستبرداری کی درخواست منظور نہیں کی گئی، خواجہ حارث کو راضی کر لیں یا نیا وکیل کریں، جس کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ اس مرحلے میں نیا وکیل کرنا آسان نہیں ہے۔

مریم نوازاور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے وکیل امجد پرویز نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ عدالتی آرڈر شیٹ میں کوئی ایسا آرڈر نہیں جس میں دفاع کے بارے میں ایسا لکھا گیا ہو، ہمیں ہفتے کے روز لاہور اور کراچی کی عدالتوں میں کیسز میں پیش ہونا ہوتا ہے، دفاع نے عدالت کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تعاون کیا، میاں نواز شریف کا بنیادی حق ہے کہ ان کو ان کی مرضی کا وکیل ملے، خواجہ حارث کو راضی کرنے کے لئے وقت ملنا چاہیے۔

پراسکیوٹر نیب نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے مہلت احتساب عدالت کو دی ہے، استغاثہ یا وکیل صفائی کے لیے نہیں، خواجہ حارث کا ایسے وقت دستبردار ہونا مناسب نہیں، آج ایون فیلڈ میں حتمی دلائل ہونا ہیں، خواجہ حارث نہیں ہیں توامجد پرویزآج حتمی دلائل دے سکتےہیں، جس پر فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ پہلے اس معاملہ کو دیکھنے دیں، پھر آگے بڑھیں گے۔ پہلے سپریم کورٹ کا حکم پڑھ لیتے ہیں۔

سپریم کورٹ کا حکم نامہ پڑھنے کے بعد فاضل جج نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم نامے میں چار ہفتوں کا کہا گیا ہے، ہفتے کے روز سماعت کا اختیار اس عدالت کو دیا گیا، ہفتے کے روز کچہری لگتی ہے، جس پر نواز شریف نے کہا کہ اسے عدالت پر چھوڑا ہے تو پھر انہیں چار ہفتوں کا نہیں کہنا چاہئے، خواجہ حارث کی بات سے متفق ہوں کہ دباؤ کے حالات میں مقدمے نہیں لڑے جاتے۔   احتساب عدالت نے نواز شریف کو وکیل مقرر کرنے کے لیے 19 جون تک کی مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اتور کے روز احتساب عدالت کو حکم دیا تھا کہ شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کو ایک ماہ میں نمٹا دیا جائے، جس پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث مقدمے سے الگ ہوگئے تھے۔

عدالتی مفرور پرویز مشرف کی نااہلی کیخلاف درخواست خارج کی جائے، اٹارنی جنرل

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں پرویزمشرف کی نااہلی کیخلاف درخواست پر اٹارنی جنرل نے جواب جمع کرادیا۔

اٹارنی جنرل نے عدالتی مفرور ہونے کی بنیاد پر پرویز مشرف کی درخواست خارج کرنے کی استدعا کی۔ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی نے موقف اختیار کیا کہ قانون کی نظر میں عدالتی بھگوڑے کے کوئی حقوق نہیں ہوتے، سرنڈر کرنے تک عدالتی مفرور کے حقوق نہیں ہوتے اور وہ کسی عدالتی ریلیف کا اہل نہیں ہوتا۔

جواب میں کہا گیا کہ پرویز مشرف پر ججوں کو گھروں میں قید کرنے، میڈیا پر پابندی، عدالتی نظام کو تباہ کرنے کے الزامات ہیں، پشاور ہائیکورٹ کا مشرف کی تاحیات نااہلی کا فیصلہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے عین مطابق ہے، سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے مطابق آرٹیکل 62 کے تحت نااہلی تاحیات رہے گی، لہذا عدالتی ڈیکلیریشن کی موجودگی تک تاحیات نااہلی برقرار رہے گی۔

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی نے کہا کہ پرویز مشرف کی تاحیات نااہلی کیخلاف درخواست ناقابل سماعت ہے، عدالتی مفرور پرویز مشرف کی درخواست کے میرٹ کو دیکھے بغیر خارج کیا جائے۔

الیکشن کمیشن کا چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور آئی جیز کے تبادلے کا حکم

اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور آئی جیز کے تبادلے کا حکم دے دیا ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو باضابطہ طور پر مراسلہ جاری کیا گیا ہے جس میں چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور آئی جیز کے تبادلے کا حکم دیتے ہوئے نئے چیف سیکریٹریوں اور آئی جیز کی کل تک تقرری کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے کل عام انتخابات کی سیکیورٹی کے حوالے سے اجلاس بھی ہونا تھا تاہم چیف سیکریٹریز اور آئی جیز کے تبادلوں کے پیش نظر اجلاس اب 14 جون کو ہوگا اور اسی حوالے سے نئے چیف سیکریٹریوں اور آئی جیز کو پرسوں کے سکیورٹی اجلاس میں شریک ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

کپتان کے مدمقابل 100 سالہ خاتون کے کاغذات نامزدگی واپس

پشاور: عام انتخابات میں بنوں سے عمران خان کے مدمقابل 100 سالہ خاتون امیدوار کے کاغذات نامزدگی رقم نہ ہونے کے باعث واپس ہوگئے۔

انتخابی میدان میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے مقابلے میں بنوں سے 100 سالہ خاتون حضرت بی بی سامنے آئیں اور انہوں نے عمران خان کے مقابلے میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 35 اور پی کے 89 کے لیے کاغذات جمع کرائے۔

آج حضرت بی بی کے پاس فیس کی رقم نہ ہونے کے سبب ان کے کاغذات نامزدگی الیکشن کمیشن نے واپس کردیے، خاتون کے پاس فیس جمع کرانے کے لیے 30 ہزار روپے کے بجائے صرف 3 ہزار روپے تھے۔ کاغذات واپس ہونے کے بعد اب وہ انتخاب لڑنے کی اہلیت سے محروم ہوگئیں۔

قبل ازیں خاتون 5 بار الیکشن میں حصہ لے چکی ہیں، اس بار بھی انہوں ںے آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر وہ الیکشن میں کامیاب ہوئیں تو لڑکیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دیں گی اور حلقے کے عوام کی خدمت کریں گی۔

 

جانئے آج آپ کا دن کیسا رہے گا

حمل:
21مارچ تا21اپریل

خوشیاں منایئے کہ خطرات ٹل گئے آسمان مسرت پر چھائے ہوئے سیاہ بادل خود بخود چھٹ گئے اور اب امیدوں بھرا سورج ہر طرف اجالا ہی اجالا بکھیر دے گا، تعلیم کے سلسلہ میں مایوسی کا دور ختم ہو سکتا ہے۔

ثور:
22اپریل تا20مئی

نئی ملازمت کے سلسلے میں ہونے والی کاوشیں کامیاب ہو سکتی ہیں مکان یا پلاٹ کا الجھا ہوا مسئلہ حسب مرضی حل ہو سکتا ہے، اپنے جذبات کو کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کریں۔

جوزا:
21مئی تا21جون

ہمیں یقین ہے کہ آپ کی کوشش رائیگاں نہیں جائے گی اور آپ اپنے گھریلو نظام کو درست رکھنے میں کامیاب ہو جائیںگے، ملازمت کرنے والے حضرات محتاط رہ کر اپنے فرائض انجام دیں۔

سرطان:
22جون تا23جولائی

چند اہم گھریلو امور کے سلسلے میں مایوسی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اگر آپ کی اولاد جوان ہے تو ان پر سیاسی انداز سے قابو پانے کی کوشش کریں ،سخت گیری کا مظاہرہ انہیں آپ سے بدظن کر سکتا ہے۔

اسد:
24جولائی تا23اگست

ہم حالات کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ رائے ضرور دیں گے کہ واقعات اگر کوئی غلط رخ بھی اختیار کر جائیں پھر بھی صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں حالات بفضل خدا بہتر ہو سکیں گے۔

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

قریبی عزیزوں کے ساتھ بھی تعلقات بہتر رہیں گے، اخراجات کی زیادتی کے سبب مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، شریک حیات کے ساتھ بھی تھوڑا سا اختلاف کسی بھی بنا پر ہو سکتا ہے۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

مزاج کی بے مقصد اور ہر وقت بھڑکتی ہوئی آگ کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کریں وگرنہ باقی رہ جانے والی خوشیاں بھی راکھ ہو سکتی ہیں، آپ کو اندازہ لگا لینا چاہئے کہ یہ آتش جی آپ کے لئے نقصان دہ ہے۔

عقرب:
24اکتوبر تا22نومبر

مکان کی تبدیلی خوشگوار نتائج کی حامل بن سکتی ہے، بہت زیادہ احتیاط کرنے کی کوشش کریں کوئی شخص آپ کو غلط راستے پر چلنے کی ترغیب دے سکتا ہے۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

اپنی سکیم کا ایک بار پھر اچھی طرح سے جائزہ لے لیں تاکہ کوئی خامی نہ رہے اگر کاروبار میں آپ کا کوئی ساتھی بننا چاہے تو بے دھڑک بنا لیں، سفر نزدیکی شوق سے کریں۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

صلاحیتوں پر حسب سابق زنگ چڑھا رہے گا ، آپ خواہ مخواہ دوسروں سے الجھنے کی کوششوں میں مصروف رہیں گے، بہتر یہی ہے کہ خود کو قابو میں رکھنے کی کوشش کریں۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

گھریلو ماحول خاصا خوشگوار رہے گا غلط فہمیوں کا ازالہ کافی حد تک ہو سکے گا، محبت کے سلسلے میں کوئی اہم تبدیلی ہو سکتی ہے، کسی سے لڑائی جھگڑا ہرگز نہ کریں۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

ابھی اپنے دوستوں کو قابل اعتبار نہ سمجھیں ان معاملات کو راز ہی رہنے دیں جن کا راز رہنا ضروری ہے بسلسلہ اولاد خوشی حاصل ہو سکتی ہے، نزدیکی سفر وسیلہ ظفر ثابت ہو سکتا ہے۔

Google Analytics Alternative