قومی

وزیراعظم سے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی ملاقات

 اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے ملاقات کی ہے جس میں پلوامہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے قبل آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ملکی سلامتی اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال سمیت افغان امن عمل میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں مقبوضہ کشمیر کی صورت حال اور پلوامہ خودکش حملے کے بعد بھارتی دھمکیوں سے متعلق معاملات بھی زیر غور آئے۔

آغا سراج درانی یکم مارچ تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

کراچی: احتساب عدالت نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو یکم مارچ تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔

نیب نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو کراچی کی احتساب عدالت میں پیش کیا، نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ آغا سراج پرآمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کا الزام ہے، معاملہ انکوائری اسٹیج پر ہے اس لیے تفتیش کے لیے آغا سراج درانی کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔

فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے آغا سراج درانی کو 8 روز کے لیے نیب کی تحویل میں دے دیا۔

دوران سماعت آغا سراج درانی نے گھر کے کھانے، ادویات اور اہلِ خانہ سے ملاقات کی درخواست دے دی جس پرعدالت نے ریمارکس دیئے کہ جن ادویات کی آپ کوضرورت ہے وہ لکھ کردے دیں، عدالت آرڈر جاری کردے گی۔

پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کے دوران سراج درانی نے کہا کہ میں بینظیر بھٹو کا جیالا ہوں، مجھے نہیں پتا کہ یہ کیا ڈرامہ تھا، مجھے انکوائری میں بلایا ہی نہیں تو کہاں سے تعاون کروں، میرے گھر میں میرے بچوں کو بند کرکے 6 گھنٹے کارروائی کی گئی، میرے گھر کی بے حرمتی کی گئی۔

واضح رہے کہ آغا سراج درانی کو گزشتہ روز اسلام آباد کے ایک ہوٹل سے گرفتار کیا گیا تھا ، مقامی عدالت سے نیب نے ان کا 3 روزہ راہداری ریمانڈ لیا تھا۔ انہیں گزشتہ رات اسلام آباد سے کراچی منتقل کیا گیا تھا۔

اسپیکر اور ان کے خاندان کو نیب کی دہشتگردی سے نہیں بچاسکا، وزیراعلیٰ سندھ

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ افسوس ہے کہ صوبے کا وزیراعلیٰ ہوتے ہوئے بھی اسپیکر اور ان کے خاندان کو نیب کی دہشت گردی سے نہیں بچاسکا۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو کل اسلام آباد کے ہوٹل سے گرفتار کیا گیا، جہاں وہ ایک تقریب میں شرکت میں گئے تھے اور کل شام میں ان کی واپسی تھی اور انہیں گرفتار کرنے کے بعد اسلام آباد میں نیب عدالت میں پیش کیا گیا۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ نیب نے آغا سراج درانی کا 7 دن کا راہداری ریمانڈ طلب کیا جو سمجھ سے باہر ہے لیکن جج نے انہیں صرف 3 دن کے راہداری ریمانڈ کی اجازت دی جس کے بعد انہیں کراچی لے کر آگئے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ ’یہ کہا جاتا ہے کہ آغا صاحب کے اوپر اختیارات سے تجاوز کے الزامات ہیں کہ انہوں نے سندھ اسمبلی میں نوکریاں دیں اور بھی مختلف الزامات ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ نیب کے پاس اتنے ثبوت موجود تھے کہ سراج درانی واقعی کرپشن میں ملوث ہیں تو انہیں گرفتار کرکے شام 5 بجے کے بعد نیب نے آغا سراج درانی کے گھر پر دھاوا کیوں بولا ،ان کے ملازمین کو زد وکوب کیا، دیواریں پھیلانگ کر دروازے توڑ کر گھر میں داخل ہوئے۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ گھر میں کوئی مرد موجود نہیں تھا، ان کی اہلیہ، بہو اور 3 بیٹیاں گھر میں موجود تھیں،جنہیں گھر سے نکال کر لان میں کھڑا کیا گیا، ہمارے وزرا نے احتجاج کیا کہ اگر ان کی ضرورت نہیں ہے تو انہیں چھوڑ دیں لیکن نیب کے اہلکار اس بات پر نہیں مانے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ خواتین نے ہمیں بتایا کہ 3،4 گھنٹے سے ہم یہاں محصور ہیں ہم نہیں جانتے کہ اندر کیا ہورہا ہے، ہم نے ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ آغا سراج درانی کے گھر والوں سے بات ہوئی، مجھے یہ کہتے ہوئے نہایت افسوس ہے کہ اس صوبے کا وزیراعلیٰ ہوتے ہوئے بھی اسپیکر اور ان کے خاندان کوہم نیب کی دہشت گردی سے نہیں بچاسکے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہمیں بتایا گیا کہ خواتین سے انتہائی بدتمیزی کی گئی، ان سے پوچھا گیا کہ تہہ خانہ کہاں ہے جبکہ گھروالوں نے کہا کہ گھر میں تہہ خانہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب کے افسران سگریٹ پی رہے تھے،ایک بچی نے منع کیا کہ سگریٹ نہیں پیئں مجھے تکلیف ہورہی ہے تو اس کے منہ پر دھواں چھوڑا کہ تمہیں پتہ نہیں ہے کہ ہم کیا کرسکتے ہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ دنیا بھر میں روایت ہے کہ دشمن بھی قبضے میں آئے تو ان کے بھی حقوق ہوتے ہیں، لیکن نیب کے لوگ 6،7 گھنٹے ان کے گھر میں رہے،عجیب عجیب فقرے کستے رہے، کافی دیر صوفوں پر بیٹھ کر سگریٹ پیتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین گھرمیں اندر تھیں، ہمارا ان سے کوئی رابطہ نہیں تھا، ان کے موبائل فون چھین لیے گئے تھے، آغا سراج درانی کے گھر والوں سے دستاویزات پر زبردستی دستخط کروائے گئے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ میں چیئرمین نیب سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے ماتحتوں کے اس کام کا سخت نوٹس لیں، انہیں سزا دیں جنہوں نے خواتین کے ساتھ ایسا سلوک کیا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے چیئرمین نیب سے بات کی کوشش کی میں کامیاب نہیں ہوسکا، کہا گیا کہ 5 منٹ میں نکل رہے ہیں اس میں بھی ڈیڑھ گھنٹہ لگا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی بیٹی سے ایک دستاویز پر دستخط کروائے گئے کہ دستخط نہیں کریں گے تو ہم نہیں جائیں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں چیئرمین نیب سے درخواست کروں گا کہ ان کے ماتحت ان کا اور ادارے کا نام خراب کررہے ہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ چیئرمین نیب سپریم کورٹ کے جج رہ چکے ہیں انہیں قانون کا علم ہے، قانون کو، چادر اور چار دیواری کو ایسے پامال کیا گیا تو انہیں سب سے پہلے اپنا گھر درست کرنا چاہیے اور ان افراد کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ ان کہ جہاں تک آغا سراج درانی پر الزامات کی بات ہے ہم ان الزامات کا مقابلہ کریں گے،آصف زرداری 11 سال کسی الزام ثابت ہوئے بغیر جیل میں رہے، شرجیل میمن جیل میں ہیں ان پر بھی الزامات ثابت نہیں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ قائم مقام اسپیکر شہلا رضا نے قومی اسمبلی کا اجلاس کل 2 بجے طلب کیا ہے جس میں آغا سراج درانی کی گرفتاری اور خواتین کے ساتھ جو نازیبا سلوک کیا گیا ہم اس کے خلاف احتجاج کریں گے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں کہوں گا کہ کم از کم اگر میرا کوئی ماتحت کچھ کرے گا تو میں کارروائی کروں گا، پولیس نے ایک غلط اقدام کیا تھا جس پر میں نے ایکشن لیا، اس صوبے میں کچھ بھی ہوتا ہے، میں ذمہ دار ہوں۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ قائم مقام اسپیکر نے آغا سراج درانی کے پروڈکشن آرڈر جاری کردیے ہیں، نیب، آئینی تقاضوں کو پورا کرے اور آغا سراج درانی کو کل اجلاس میں آنے کی اجازت دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم مقدمات یا احتساب سے نہیں ڈرتے، ہم احتجاج کا حق رکھتے ہیں لیکن کسی کی تذلیل کرنا خاص طور پر فیملی کی تذلیل کرنا یہ انسانیت سے گری ہوئی حرکت ہے جو نیب کے افسران نے کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے علم ہوا کہ نیب کے افسران کے ساتھ 2 خواتین بھی تھیں جن میں سے ایک خاتون کی طبیعت خراب ہوئی وہ بیٹھ گئیں تو آغا صاحب کی اہلیہ نے اپنی بیٹی سے کہا کہ ان کی شوگر لو ہوگئی ہے کوئی میٹھی چیز یا کولڈ ڈرنک دے دو۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ یہ فرق ہوتا ہے عزت دار لوگوں میں اور ان میں جو نیب کا نام خراب کرنے والے لوگ ان کے گھر میں گھسے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر نیب کے پاس آغا صاحب کے لیے اتنا مواد موجود تھا کہ انہیں گرفتار کرنے پہنچ گئے تو پھر چھاپے کی کیا ضرروت تھی۔

مراد علی شاہ نے تحریک انصاف کے وزیر علیم خان کا نام لیے بغیر کہا کہ پنجاب میں بھی ایک وزیر کو گرفتار کیا گیا ان کے گھر تو چھاپہ نہیں مارا گیا، ان پر بھی یہی الزامات عائد ہیں ان کے لیے قانون الگ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپوزیشن سے بھی رابطہ کررہے ہیں،ان سے درخواست کررہے ہیں کہ وہ ہمارا ساتھ دیں کیونکہ یہ پوری اسمبلی کا معاملہ ہے ، ہمیں امید ہے وہ ہمارا ساتھ دیں گے خاص طور پر جو آغا سراج درانی کے خاندان کے ساتھ ہوا، اس کی مذمت کریں۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ یہ واقعہ چیئرمین نیب کے علم میں ہوگا،میں التجا کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ چیئرمین نیب فی الفور قدم اٹھائیں گے۔

حکومت سندھ کے تمام الزامات بے بنیاد اور جارحانہ پروپیگنڈے کا حصہ ہیں، نیب

اسلام آباد: نیب اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نیب کا ہرقدم قانون کے مطابق ہوتا ہے جب کہ حکومت سندھ  کے تمام الزامات بے بنیاد اور جارحانہ پروپیگنڈے کا حصہ ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اسپیکر سندھ اسمبلی  کی گرفتاری اور ان کے گھر پر چھاپہ مارنے پر قومی احتساب بیورو کو شدید  تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ نیب اہلکار دیواریں کود کر سراج درانی کے گھر میں داخل ہوئے اور چادر و چادر دیواری کا تقدس پامال کیا،  سراج درانی کے خلاف کرپشن کے ثبوت تھے تو گرفتاری کے بعد نیب ٹیم کو ان کے گھر پر چھاپا نہیں مارنا چاہیے تھا۔

نیب نے حکومت سندھ کی جانب سے لگائے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت سندھ کے تمام الزامات بے بنیاد اورجارحانہ پروپیگنڈے کاحصہ ہیں اور نیب پر دہشت گردی کا الزام افسوسناک ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نیب کا ہرقدم قانون کے مطابق ہوتا ہے، مجازعدالت سے اجازت لی جاتی ہے، گرفتاری کی ٹھوس وجوہات پرعدالت ریمانڈ دیتی ہے۔ نیب بھی ہر شخص کی عزت نفس پر مکمل یقین رکھتا ہے، چادر اور چار دیواری کا تقدس اولین ترجیح ہے، کسی کے اہل خانہ کے ساتھ بدسلوکی یا چادر چاردیواری پامال کرنے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ نیب نے مجاز عدالت سے سرچ وارنٹس حاصل کرنے کے بعد خواتین اہلکاروں کے ہمراہ آغا سراج درانی کے گھر کارروائی کی، نیب کی کارروائی اور اختیارات کا استعمال قانون کے مطابق تھا۔

 

ثاقب نثار قوم کو ڈیم کے نام پر بیوقوف بناکر چلے گئے، مسلم لیگ (ن)

اسلام آباد: رہنما مسلم لیگ (ن) احسن اقبال کا کہنا ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار قوم کو ڈیم کے نام پر بے وقوف بنا گئے لہذا ان پیسوں کی وصولی سابق چیف جسٹس سے کرنی چاہیے۔

پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں (ن) لیگ کے رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ہر روز ایوان میں وزیر نامناسب باتیں کرتے ہیں، گیس اور بجلی کی قیمت میں اضافے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، ملکی معیشت پر ہفتہ اور اتوار کو بھی اجلاس بلانا چاہیے، عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ حکومت معاشی طور پر ظلم کررہی ہے۔

سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے اپنے ارکان کو کہا اتنا جھوٹ بولو کہ عوام کو سچ نظر آئے، وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ ہر مسئلے کی وجہ گزشتہ حکومت پر ڈال دیں، وزیراعظم کی انا ہمالیہ سے بھی اونچی ہے، وزیراعظم کی میڈیا ٹیم سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہے، عمران خان کی حکومت کی عمارت صرف جھوٹ پر کھڑی ہے۔

اس موقع پر رہنما مسلم لیگ (ن) احسن اقبال  کا کہنا تھا کہ نئے پاکستان کےدھوکے میں اس حکومت کومسلط کیاگیا، نئے پاکستان کی فلم میں جنت کا وعدہ کرکےعوام کو جہنم میں دھکیلا گیا ہے، اسٹیٹ بینک کی رپورٹ حکومت کے خلاف چارج شیٹ ہے، یہ لوگ تو خرچے گھٹانے آئے تھے، بتایا جائے تین ماہ میں 100 ارب کا گھاٹا کیوں ہوا۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ہم نے بغیر چندہ مانگے 122 ارب روپے خرچ کرکے ڈیم کی زمین خریدی، 13 ارب روپے خرچ کرکے 9 ارب روپے اکھٹے کیے گئے، ڈیم کے لیے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر ڈاکہ ڈال کر پیسہ اکھٹا کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مطالبہ کرتا ہوں کہ سابق چیف جسٹس قوم کے سامنے پیش ہوں، بابائے ڈیم قوم کو ڈیم کے نام پر بھی بے وقوف بنا گئے، جب تک آپ کے پاس 8 ارب ڈالر نہیں ہوں گے کوئی ٹھیکیدار اپنی بڈ جمع نہیں کرائے گا، ان پیسوں کی وصولی سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے کرنی چاہیے۔

پاکستانی مصنوعات پر ڈیوٹی بڑھانے کا نقصان خود بھارت کو ہوگا، وزیر خزانہ

اسلام آباد: وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستانی مصنوعات پر 200 فیصد ڈیوٹی لگانے کا نقصان خود بھارت کو ہوگا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا تھا کہ جب تک پیشہ ور ماہرین کو موقع نہیں دیں گے ترقی نہیں ہوگی، نجی شعبوں میں بھی پروفیشنلز کو موقع دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ  لیڈرکے پاس وژن ہوتا ہے، وہ آنے والے کل کے بارے میں سوچتا ہے۔

وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت جاری ہے، آئی ایم ایف کے جائزہ مشن کو باضابطہ اس وقت بلائیں گے جب پروگرام حتمی ہوجائے گا، آئی ایم ایف کے ساتھ ہر ہفتے بات چیت ہوتی ہے اور مذاکرات کامیابی کے قریب ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کا کل باقاعدہ اعلامیہ جاری ہوگا جب کہ بھارت نے 200 فیصد ڈیوٹی لگائی اس کا نقصان خود بھارت کو ہوگا۔

پاک فوج کی اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مخالفت

 اسلام آباد: پاک فوج نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مخالفت کردی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ پاک فوج نے جنرل اسد درانی کے خلاف بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے سربراہ کے ساتھ مل کر کتاب لکھنے پر انکوائری کی۔

وزارت دفاع کے نمائندے بریگیڈیئر فلک ناز نے انکوائری کی سربمہر رپورٹ عدالت میں پیش کردی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے رپورٹ پڑھ کر وزارت دفاع کے نمائندے کو واپس کردی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کیا انکوائری مکمل ہوگئی ہے؟۔ بریگیڈیئر فلک ناز نے جواب دیا کہ جی انکوائری مکمل ہوگئی ہے اور رپورٹ میں تجاویز درج ہیں۔ رپورٹ کی روشنی میں جنرل اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نہ نکالا جائے۔

اسد درانی کے وکیل عمر فرخ آدم نے کہا کہ کیا اب کتاب لکھنے پر کورٹ مارشل کریں گے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ایسی تو کوئی بات رپورٹ میں نہیں لکھی گئی۔

اسد درانی نے کہا کہ کیا میری کتاب قومی سلامتی کا مسئلہ ہے، اس طرح تو پھر سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے بھی کتاب لکھی ہے، 1993 میں ریٹائر ہوا اب 2018 میں تجزیے کی بنیاد پر کتاب لکھنے میں کیا غلط ہے۔

اسد درانی کے وکیل نے دلائل دیے کہ جنرل مشرف پر غداری کا مقدمہ ہونے کے باوجود سندھ ہائی کورٹ نے ان کا نام ای سی ایل سے نام نکالا، اس کے بعد سپریم کورٹ نے بھی سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا، اصغر خان کیس میں 153 سیاست دانوِں، سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ کے نام بھی شامل ہیں، لیکن ان میں سے کسی کا بھی نام ای سی ایل میں نہیں ڈالا گیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکلوانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

بھارت نے حملہ کیا تو بھرپور جواب دیں گے، وزیراعظم

 اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کی کسی بھی کارروائی کا بھرپور جواب دے گا۔

پلوامہ حملے پر قوم سے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ چند دن پہلے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں واقعہ ہوا،بھارت نے بغیرسوچے سمجھے پاکستان پر الزام لگادیا، ہم سعودی ولی عہد کے دورے کی تیاری کررہے تھے،  اس لئے اب بھارتی حکومت کو جواب دے رہاہوں۔ بھارت نے شواہد کے بغیر پاکستان پرالزام لگایا اور نہ ہی یہ سوچا گیا کہ اس میں پاکستان کا کیا فائدہ ہے، کوئی احمق ہی ہوگا جو ایسا موقع خود سبوتاژ کرے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ میں بھارتی حکومت کو پلوامہ واقعے کی تحقیقات کی پیشکش کرتاہوں، بھارت واقعے کا ثبوت دے میں خود ایکشن لوں گا، میں یہ بات واضح طور پر کہتا ہوں یہ نیا پاکستان اور نئی سوچ ہے، ہم استحکام چاہتے ہیں، بھارت میں بھی ایک نئی سوچ آنی چاہیے، بھارت کو اگر ماضی میں ہی پھنسے رہنا ہے تو آگے بڑھنا مشکل ہوگا۔ ہم دہشت گردی پر بھارت سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں،  پاکستان نے  دہشت گردی کی وجہ سے 100 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان اٹھایا ہے۔ 70 ہزار سے زائد لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اگر کسی نے پاکستان کی سرزمین استعمال کی ہے تو وہ پاکستان کا ہی دشمن ہے۔

بھارت کی جانب سے جنگ کی دھمکیوں پر وزیر اعظم نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ جنگ شروع کرنا آسان ہے لیکن اسے ختم کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ اگر بھارت نے کچھ کیا تو پاکستان سوچے گا نہیں بلکہ بھرپور جواب دے گا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ بھارت کو یہ سوچنا ہوگا کہ کشمیری نوجوانوں میں موت کا خوف نکل گیا ہے ،اس کی کوئی تو وجہ ہے، افغانستان میں 17 سال بعد دنیا یہ تسلیم کرچکی ہے کہ مذاکرات ہی واحد راستہ ہے، افغان مسئلے کی طرح مسئلہ کشمیر مذاکرات اور بات چیت سے حل ہوگا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر خودکش حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں کم از کم 46 سیکیورٹی اہلکار ہلاک جب کہ متعدد زخمی ہوگئے تھے، بھارت نے واقعے کا الزام پاکستان پر لگایا تھا۔

Google Analytics Alternative