قومی

کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے، آرمی چیف

 راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پاک فوج کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کا ساتھ دیتی رہے گی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کشمیر کی صورتحال پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت کورکمانڈرز کانفرنس ہوئی جس میں بھارت کے مقبوضہ کشمیر سے متعلق غیر آئینی اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور لائن آف کنٹرول کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس میں حکومت کی جانب سے بھارتی اقدام مسترد کرنے کے فیصلے کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان نے کبھی بھی جموں و کشمیر پر بھارتی تسلط کو قانونی بنانے والے آرٹیکل 370 یا 35 A کو تسلیم نہیں کیا تاہم اب بھارت نے خود ہی اس کھوکھلے بہانے کو ختم کر دیا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاک فوج کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کا ساتھ دیتی رہے گی، ہم ہر طرح کے حالات کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور پاک فوج اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔واضح رہے کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرتے ہوئے ریاست کو 2 حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

ہماری شہہ رگ پر ہاتھ ڈالنے والے مودی کے ہاتھ کاٹ دینے چاہیئں، شہباز شریف

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارت نے پاکستان کی شہ رگ پر ہاتھ ڈالا ہے ہمیں اس کے ہاتھ کاٹ دینے چاہیں۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے کہا کہ 71 سال میں کسی کی جرات نہیں تھی کہ  کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرے لیکن مودی نے یہ کردیا، مودی سرکار نے صرف  کشمیر میں نہ صرف حقوق نہیں چھینے بلکہ پاکستان کی غیرت اور عزت کو للکارا ہے، اور اقوام متحدہ کے منہ پر طمانچہ رسید کیا ہے اور پوری مہذب دنیا کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔

شہبازشریف نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں  نسل کشی کا خطرہ ہے،مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کو گھروں میں نظر بند کردیا گیاہے، کشمیر کی صورتحال پر خاموش تماشائی نہیں بنیں گے،کشمیر میں جو کچھ ہوچکا ہے اس پر روایتی مذمت اور متفقہ اور قرارداد سے کام نہیں چلے گا، ہمیں  ٹھوس فیصلہ کرنا ہوگا تاکہ دشمن کو پتہ چل سکے کہ ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے، ہم نے چوڑیاں نہیں پہن رکھیں، ہم نے بہت قربانیاں دی ہیں، اب ہمیں کشمیر پر ڈٹ جانا چاہیے، بھارت نے پاکستان کی شہ رگ پر ہاتھ ڈالا ہے ہمیں اس کے ہاتھ کاٹ دینے چاہیں۔

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ کشمیر کے وجود کے ساتھ پاکستان کا تعلق ہے، پاکستان کشمیریوں کا ہے اور کشمیری پاکستان کے ہیں، وزیراعظم نے تاریخی حوالے سے بات کی لیکن پی ٹی آئی کی حکومت نے 48 گھنٹے گزرنے کے باوجود بھارتی اقدام پر حکومت کی پالیسی اور اس کا جواب کہاں ہے؟ اپوزیشن صبح 11 بجے سے ایوان میں ہے لیکن وزیراعظم عمران خان تاخیر سے آئے، یہ بتائیں کہ اپوزیشن سنجیدہ نہیں یا عمران خان ؟

شہباز شریف نے مزید کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں ہمسایہ ممالک کے ساتھ عزت و وقار کے ساتھ تعلقات قائم کرنے ہیں ، ہماری ہندوستان سے 3 جنگیں ہوئیں،  وزیراعظم کی جب ٹرمپ سے ملاقات ہوئی جس میں امریکی صدر نے کہا کہ مودی نے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کا کہا ہے، بھارت نے خاموشی سے نہ صرف ثالثی کی نفی کی بلکہ جو اس نے کشمیر میں کرنا تھا وہ انجام دے دیا۔

عمران خان نے کشمیر کو ٹرمپ کے ہاتھوں بیچ دیا ہے، مولانا فضل الرحمان

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ عمران خان نے کشمیر کو ٹرمپ کے ہاتھو بیچ دیا ہے، اور امریکا سے بھی خالی ہاتھ آگئے۔

اسلام آباد میں کشمیر کی صورتحال پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے سربراہ جمعیت علماء اسلام (ف)  مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مودی سرکار نے جو کچھ بھی کیا یہ اچانک نہیں ہوا، نریندرا مودی نے انتخابی مہم میں کشمیر کی حیثیت ختم کرنے کا کہا تھا اور گزشتہ انتخابات میں مودی کی پارٹی بی جے پی کا یہ واضح منشور بھی تھا۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کشمیر کا معاملہ اب عالمی فورم سے نکل گیا ہے، بھارت عالمی قراردادوں کو رد کرتے ہوئے یکطرفہ طور پر کشمیر کو ہندوستان کے جغرافیہ میں داخل کرلیا اور ہمارے حکمران تماشہ دیکھتے رہے، اب بھی مسئلہ کشمیر پر ہماری حکومت سنجیدہ نہیں نظر آرہی، کور کمانڈر کانفرنس میں بھی مسئلہ کشمیر پر حکومت کی پالیسی کی حمایت کی گئی حالانکہ حکومت کی ابھی تک کوئی پالیسی واضح نہیں ہے، سلیکٹیڈ وزیراعظم بھی مسئلہ کشمیر پر خاموش ہیں۔

سربراہ جے یو آئی نے وزیراعظم عمران خان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے کشمیر کو ٹرمپ کے ہاتھو بیچ دیا ہے، سلیکٹیڈ وزیراعظم ٹرمپ کے پاس سے بھی خالی ہاتھ واپس لوٹ کر آئے، سر نڈر ہونا عمران خان کے خاندان کا خاندانی معاملہ ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ یہ عوام کی نمائندہ حکومت نہیں ہے اس لئے ان سے امید کی بھی توقع نہیں ہے، میں قوم سے گزارش کروگا یہْ ہماراہ متحد ہونے کا وقت ہے، آزادی کی جنگ میں ہمیں کشمیریوں کی مدد کرنی چاہئے، قوم نے براہ راست کشمیریوں کو یقین دلانا ہے کہ ہم ان کے ساتھ ہے۔

کشمیر تنازع: راہول گاندھی نے بھارتی تباہی کی پیش گوئی کردی

نئی دہلی: بھارتی آئین میں کشمیر سے متعلق آرٹیکلز 370 اور 35 اے کی صدارتی حکم نامے سے منسوخی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے اپنے مذمتی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ اس حرکت کے بھارتی قومی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

راہول گاندھی نے اپنے تازہ ٹویٹ میں لکھا: ’’جموں و کشمیر کے ٹکڑے کرنے، منتخب نمائندوں کو قید کرنے اور ہمارے آئین کی خلاف ورزی سے قومی یکجہتی کو آگے نہیں بڑھایا جاسکتا۔ یہ قوم عوام سے بنی ہے، زمین کے پلاٹوں سے نہیں۔ انتظامی اختیار کا یہ غلط استعمال ہماری قومی سلامتی کےلیے سنگین مضمرات کا حامل ہے۔‘‘

واضح رہے کہ کشمیر کے بارے میں مودی سرکار کے اس فیصلے پر قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس جاری ہے جس میں پاکستان کی جانب سے ردِعمل کا لائحہ عمل طے کیا جارہا ہے۔

کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنا صورتحال مزید خراب کرنے کے مترادف ہے، وزیرخارجہ

جدہ: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کئے گئے اقدامات جنوبی ایشیا میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کو مزید خراب کرنے کے مترادف ہے۔

سعودی عرب میں او آئی سی رابطہ کمیٹی برائے جموں وکشمیر کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں  سعودی عرب، پاکستان، آذربائیجان، ترکی اور نائجیرسے کمیٹی کے نمائندے شریک ہوئے جب کہ پاکستانی وفدکی قیادت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کی۔

او آئی سی کنٹکٹ گروپ کے اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے 1989 سے اب تک ایک لاکھ کشمیریوں کو شہید کیا جا چکا ہے، 22 ہزار سے زائد خواتین بیوہ، 1 لاکھ 8 ہزار بچے یتیم ہوئے، 12 ہزار سے زائد خواتین کی عصمت دری کی گئی، اور اب کشمیر کی خصوصی حیثیت بھی چھین لی گئی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیرمیں بھارت کی جانب سے مزید فورس بھجوانا، تعلیمی اداروں کو بند کروانا اور ایمرجنسی کی کیفیت بھارت کے ارادوں کا پتہ دے رہے تھے، بھارت کی طرف سے لوک سبھا کا اجلاس بلا کر مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کا تعین کرنے والے 370 آرٹیکل اور 35 اے کا خاتمہ بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بھارت کے اقدامات کے پیشِ نظر، خطرے کو بھانپا اور اقوام متحدہ سلامتی کونسل، جنرل سیکرٹری او آئی سی کو پاکستان کے خدشات سے آگاہ کر دیا تھا، بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کئے گئے اقدامات جنوبی ایشیا میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کو مزید خراب کرنے کے مترادف ہے جو پوری دنیا بالخصوص او آئی سی کی فوری توجہ کی متقاضی ہے۔

بھارت کا مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم اور 2 حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان

نئی دہلی: بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرتے ہوئے ریاست کو 2 حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کردیا۔

مودی سرکار نے صدارتی فرمان جاری کرتے ہوئے بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے کوختم کردیا جس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی علاقہ کہلائے گی جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔

مودی سرکار نے مقبوضہ وادی کو 2 حصوں میں بھی تقسیم کرتے ہوئے وادی جموں و کشمیر کو لداخ سے الگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لداخ کو وفاق کا زیر انتظام علاقہ بنادیا گیا جس کی قانون ساز اسمبلی نہیں ہوگی۔

 بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ راجیہ سبھا میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرنے کا بل بھی پیش کردیا۔ اجلاس کے دوران بھارتی اپوزیشن نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر شدید احتجاج کیا۔

بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں اسرائیل جیسے ہتھکنڈے اختیار کررہی ہے۔ آرٹیکل 370 ختم ہونے سے فلسطینیوں کی طرح کشمیری بھی بے وطن ہوجائیں گے، کیونکہ کروڑوں کی تعداد میں غیرمسلم آبادکار کشمیر میں آباد ہوجائیں گے، جو ان کی زمینوں، وسائل اور روزگار پر قابض ہوجائیں گے۔

کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت ختم ہونے کا خطرہ

بھارت کے آئین کی دفعہ 370 کے تحت ریاست جموں کشمیر کو وفاق میں ایک خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے کی اجازت ہے اور متعدد معاملات میں بھارتی وفاقی آئین کا نفاذ جموں کشمیر میں منع ہے۔

آرٹیکل کے تحت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے سوا بھارت کا کوئی بھی شہری یا ادارہ جائیداد نہیں خرید سکتا جبکہ سرکاری نوکریوں، ریاستی اسمبلی کے لیے ووٹ ڈالنے اور دوسری مراعات کا قانونی حق صرف کشمیری باشندوں کو حاصل تھا۔

دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی سے مقبوضہ کشمیر کی آبادیاتی، جغرافیائی اور مذہبی صورتحال یکسر تبدیل ہوجائے گی۔ مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت ختم ہوجائے گی اور وہاں غیر مسلموں اور غیر کشمیریوں کو بسایا جائے گا۔

بھارت کشمیرمیں مزید کارروائی سے اجتناب کرے ورنہ سنگین نتائج سامنے آئیں گے، پاکستان

 اسلام آباد: بھارتی ہائی کمشنر کو دفترخارجہ طلب کرکے کشمیر سے متعلق قانون سازی پر شدید احتجاج کیا گیا۔

دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ سیکرٹری خارجہ سہیل محمود  نے بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو دفتر خارجہ طلب کیا اور کشمیر سے متعلق قانون سازی پر شدید احتجاج کیا۔

سیکرٹری خارجہ سہیل محمود نے بھارتی ہائی کمشنر سے کہا کہ بھارت نے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی خلاف ورزی کی، بھارت کشمیر میں مزید کسی کارروائی سے اجتناب کرے ورنہ ایسے اقدامات کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔ سیکرٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی سیاسی سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

سہیل محمود نے مزید کہا ہے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں ایک لاکھ  80 ہزار مزید بھارتی فوج کی تعیناتی اور وادی میں مکمل لاک ڈاون کی مذمت کرتا ہے، کشمیری رہنماؤں کی گرفتاری اور کرفیو کا نفاذ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ، مزید 70 ہزار فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ

سرینگر: مقبوضہ کشمیر میں دفعہ 144 نافذ کرکے غیرمعینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کردیا گیا ہے جب کہ وادی میں مزید 70 ہزار فوجیوں کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بھارتی حکومت کے ظالمانہ اقدامات نے مقبوضہ کشمیر میں حالات کو انتہائی کشیدہ کردیا ہے، مقبوضہ وادی میں دفعہ 144 نافذ کرکے غیرمعینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کردیا گیا ہے، وادی میں تمام تعلیمی اداروں کو بھی تاحکم ثانی بند کرکے کشمیر کی تمام  جامعات میں امتحانات ملتوی کردیے گئے ہیں جب کہ  موبائل فون اور لینڈ لائن سمیت انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔

کٹھ پتلی انتظامیہ نے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کے لیے حریت رہنماؤں، سابق وزرائے اعلیٰ مقبوضہ کشمیر عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی سمیت سجاد لون کو ان کے گھروں میں نظر بند کردیا ہے۔

بھارتی حکومت نے مقبوضہ وادی کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کرکے ہزاروں اضافی فوجیوں کی تعینات کردیا ہے، خبرایجنسی کے مطابق بھارت مقبوضہ کشمیر میں مزید 70 ہزار فوجی لا رہا ہے جب کہ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مزید 8 ہزار فوجیوں کو تعینات کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب مودی سرکار نے صدارتی فرمان جاری کرتے ہوئے بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے کوختم کردیا جس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی علاقہ کہلائے گی جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔

Google Analytics Alternative