قومی

جس کی نوکری کی مدت 3 سال ہو اسے قوم کے فیصلے کرنے کا کیا حق ہے، آصف زرداری

حیدر آباد: سابق صدر آصف زرداری کا کہنا ہے کہ جس کی نوکری کا ٹینور تین سال ہو اسے قوم کے فیصلے کرنے کا کیا حق ہے۔

حیدرآباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کا کہنا تھا کہ 50 لاکھ گھر دینے کے وعدے کرنے والوں نے کراچی میں تجاوزات کے نام پر5 لاکھ  لوگوں کو روزگار سےمحروم کردیا، یہ لوگ لائے گئے ہیں ان سے کوئی کام نہیں ہوسکتا، انہیں مرغی انڈے کے علاوہ کوئی کام نہیں آتا۔

آصف زرداری کا کہنا تھا کہ کٹھ پتلی حکمران عوام کے مسائل نہیں سمجھ سکتے، میں غریب عوام کی تکلیف محسوس کرتا ہوں، ملک میں غیر ملکیوں کے بجائے مقامی سرمایہ کاروں کو مواقع فراہم کرنے چاہیئں، بیرونی سرمایہ کار ایک ڈالر لگا کر 10 ڈالر لے جاتا ہے۔

سابق صدر نے کہا کہ اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے، جس کی نوکری کا ٹینور تین سال ہو اسے قوم کے فیصلے کرنے کا کیا حق ہے، بڑی تعداد میں کیسز زیر التواء ہیں اُن کو حل کریں۔

آصف زرداری کا کہنا تھا کہ مجھے کرکٹ کھیلنا نہیں آتا مگر سیاست کرسکتا ہوں، سوات کودہشت گردوں سے آزاد کروایا، ہم نے پہلے 100دن میں مشرف کی چھٹی کی، اب ہو دبئی میں جاکر رو رہے ہیں، پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا سہرا بھی پیپلزپارٹی کو جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو پینے کا پانی فراہم کرناہماری اولین ترجیح ہے، ہمیں اپنے مستقبل کے لئے آج کام کرنا ہے، پانی کے حصول کے لیے نئے طریقےلانے پڑیں گے، پورے سندھ میں پانی کی بڑی کمی ہے ، سندھو دریا کو ہم نے سنبھالنا ہے۔

وزیراعظم کی زیرصدارت کابینہ کا خصوصی اجلاس، وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کابینہ اجلاس میں 6 وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس بنی گالہ میں ہورہا ہے، جس میں وزیراعظم 6 وزارتوں کی کارکردگی پر بریفنگ لیں گے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان وزارت صنعت، وزارت تجارت، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے، وزارتوں میں ایم کیوایم سمیت اتحادیوں کی وزارتیں بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا تھا جو ریکارڈ 9 گھنٹے تک جاری رہا تھا جس میں وزارتوں اورڈویژن کوکارکردگی بیان کرنے کا موقع دیا گیا اور وزیراعظم نے فرداً فرداً ہر وزیر کی کارکردگی کا جائزہ لیا تھا۔ آج کارکردگی پر وزارتوں کو بریفنگ کے لئے گزشتہ اجلاس سے دوگنا زیادہ وقت ملے گا۔

کابل میں پاک چین افغان مذاکرات، دہشتگردی کیخلاف تعاون کی یادداشت پر دستخط

کابل: پاکستان، چین اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان سہہ ملکی مذاکرات ہوئے جس میں افغانستان میں امن کے لیے سیاسی معاونت کی ضرورت پر زور دیا گیا اور دہشت گردی کیخلاف تعاون کی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔

کابل میں پاک چین افغانستان سہ فریقی مذاکرات ہوئے جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، چینی وزیر خارجہ وانگ ژی اور افغانستان کے وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی نے شرکت کی۔ تینوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سیاسی معاونت کو بروئے کار لا کر افغانستان میں قیام امن کی راہ ہموار کی جائے۔

مذاکرات میں افغانستان کی ترقی کے لئے پاکستان اور چین کی جانب سے مختلف شعبوں میں تکنیکی معاونت کی فراہمی سے متعلق امور زیر بحث آئے۔ تینوں وزرائے خارجہ نے سہہ فریقی مذاکرات کے اختتام پر دہشت گردی کے خاتمے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کیے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کے لئے عسکری حل کی بجائے بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کا حامی رہا ہے، اب دنیا ہمارے اس موقف کی تائید کر رہی ہے، ہم کابل میں جناح اور لوگر میں ہسپتالوں کا جلد افتتاح کرنے جا رہے ہیں، یہ دونوں اسپتال پاکستان کی جانب سے افغان عوام کے لئے تحفہ ہیں۔

اس دورے میں شاہ محمود قریشی کے ہمراہ سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور وزارت خارجہ کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ شاہ محمود قریشی  افغانستان میں قیام امن کے لیے منعقدہ سہ ملکی مذاکرات میں شرکت کے ساتھ چین اور افغانستان کی اعلیٰ قیادت سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کابل روانہ ہونے سے پہلے کہنا تھا کہ چین کے سہ ملکی مذاکرات کا آغاز خوش آئند ہے، خطے میں ترقی کے لیے امن واستحکام ضروری ہے، افغانستان میں امن، خوشحالی، ترقی اور استحکام چاہتے ہیں، چین اور پاکستان دونوں افغانستان کی بہتری چاہتے ہیں۔

شہبازشریف ایماندارہیں تو (ن) لیگ میں کوئی کرپٹ نہیں ہے، شیخ رشید

اہور: وزیر ریلوے شیخ رشید کا کہنا ہے کہ اگر شہباز شریف ایماندار ہیں تو پھر مسلم لیگ (ن) میں کوئی کرپٹ نہیں ہے۔

لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے شیخ رشید نے شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنانے کے حکومتی فیصلے پر کہا کہ عمران خان چاہتے ہیں کہ تمام چور، ڈاکو اور کرپٹ لوگ جیلوں میں چلے جائیں، اگر ایسا نہیں ہوتا تو وہ کیا کریں، دودھ کی رکھوالی پر بلا بٹھانے سے ہمیں کوئی پزیرائی نہیں ملی، اگر شہباز شریف دیانتدار ہیں تو پھر مسلم لیگ (ن) میں کوئی کرپٹ نہیں۔ مارچ کے آخر تک جھاڑو پھر جائے گا پھر صرف اللہ کا نام ہی رہے گا۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ دنیا میں سب سے مشکل کام وزارت اطلاعات چلانا، مجھے اس کا اندازہ ہے کیونکہ میں 4 مرتبہ اس کا وزیر رہا ہوں۔ خواجہ سعد رفیق کے والد کا مرتے دم تک احترام کروں گا یہ بڑے باپ کے چھوٹے بیٹے ہیں، ہمارا تو کسی نے پروڈکشن آرڈر نہیں کیا، میری ماں کا جنازہ تھا اور مجھے کلاشنکوف کیس میں گرفتار کر لیا گیا۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ریلوے کا محکمہ عوام کی امیدوں پر پورا اترے گا،شدید دھند میں راولپنڈی سےلاہورٹرین چلانےکامنصوبہ ہے، اس کے لیے کنٹرول ہیڈروم کو جدید بنانے کے لئے اقدامات کررہے ہیں، ہم اپنے پٹرول پمپ بنا کر ایک ارب روپے بچانے کی کوشش کریں گے، اس کے لیے ہم نے 25 کروڑ کے ایندھن کو محفوظ کرلیا ہے،ٹکٹ کے بغیر سفر کرنے والوں کے خلاف کارروائی تیز کریں گے، رحمان بابا ایکسپریس 23 دسمبر کو پشاور سے کراچی کے لئے روانہ ہوگی۔

آئی ایم ایف سے پیکج لینے کی کوئی جلدی نہیں، وزیرخزانہ

وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ حکومت کو آئی ایم ایف پروگرام لینے کی کوئی جلدی نہیں اور یہ پیکج صرف پاکستان کے مفاد کو مدنظر رکھ کر لیا جائے گا۔

عرب نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹریو میں وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت آئی ایم ایف پروگرام لینے کے لیے اکتوبر سے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے مذاکرات کررہی ہے تاہم ہمیں یہ پیکج لینے کی کوئی جلدی نہیں ہے البتہ مذاکرات جاری ہیں اور تب تک اس پروگرام پر دستخط نہیں کریں گے جب تک ہمیں یہ یقین نہ ہوجائے کہ آئی ایم ایف سے لیا جانے والا امدادی پیکج پاکستان کے بہتر مفاد میں ہے۔

وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ دوست ممالک کی جانب سے مدد کے بعد آئی ایم ایف پرگروام لینے کے دباو میں کمی آئی اور حکومت کے ابتدائی 100 دنوں کے معاشی اقدمات کی وجہ سے ہمیں کچھ بچت ہوئی جس سے رواں مالی سال کے دوران معیشت چلانے میں مدد ملے گی۔

اسد عمر نے کہا کہ حکومت کے ابتدائی 100 دنوں کے اقدامات کی وجہ سے 6 سے 7 ارب ڈالر کی بچت ہوئی اور دوست ممالک کی جانب سے فنڈنگ کے بعد کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مزید کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ 6 ارب ڈالر کے پیکج پر اتفاق ہوا اور چین اور متحدہ عرب امارات سے بھی امداد ملنے کی توقع ہے جس سے ملک کے فارن ایکسچینج ریزرو میں اضافہ ہوگا جو اس وقت گزشتہ 4 سال کے مقابلے میں کم ترین سطح 7.3 ارب ڈالر پر آگئے ہیں۔

افغانستان کو سی پیک سے فائدہ اٹھانا چاہیے، وزیر خارجہ

کابل: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان کو سی پیک سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

کابل میں پاک چین افغانستان سہ فریقی مذاکرات کے بعد میڈیا بریفنگ میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمیں داعش سمیت دوسرے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا ہے، ہم مل کر کر ہی دہشت گردی کو شکست دے سکتے ہیں، سی پیک جیسے مواقع کئی دہائیوں میں ایک بار ملتے ہیں، پاکستان اس سے فائدہ اٹھا رہا ہے افغانستان کو اٹھانا چاہیے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں یہاں علاقائی روابط بڑھانے آیا ہوں ، ہمیں باہمی تجارت کو بڑھانا ہوگا، افغانستان میں حالات میں بہتری سے سب سے زیادہ پاکستان کو فائدہ ہوگا، پاکستان مختلف افغان گروپوں کو قریب لانے میں تعاون کرے گا، حتمی فیصلہ افغانستان نے کرنا ہے کہ وہ کس طرح امن چاہتے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کو قریب لانے میں چین کے کردار کو سراہتے ہیں، بہت اچھے مذاکرات ہوئے ہم مستقبل کی راہ ہموار کر رہے ہیں، میں یہاں عوام کے درمیان فاصلے ختم کرنے اور اعتماد میں کمی کے خاتمے کے لئے آیا ہوں۔

سندھ بھر میں 6 روز بعد سی این جی اسٹیشنز کھل گئے

کراچی: سندھ بھر میں چھ روز سے بند سی این جی اسٹیشنز کھل گئے۔

 وزیر پیٹرولیم غلام سرور کی جانب سے 8 بجے شب سے سندھ بھر میں سی این جی سیکٹر کو گیس کی سپلائی بحال کرنے کے اعلان کے بعد کراچی سمیت صوبے بھر میں سی این جی اسٹیشنز کھل گئے ہیں۔

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کراچی میں کھلنے والے سی این جی اسٹیشنز کا دورہ کیا اور گیس بحالی کا جائزہ لیا، گورنر سندھ نے سی این جی اسٹیشنز پر گیس بھروانے کے لیے آنے والے افراد سے ملاقاتیں بھی کیں۔

سی این جی کھلنے کے اعلان سے قبل ہی شہر بھر کے اسٹیشنز پر گیس بھروانے کے لیے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں جس میں رکشا کی تعداد زیادہ ہے، گیس اسٹیشنز پر گاڑیوں کے رش کے باعث قطاریں سڑکوں تک پہنچ رہی ہیں جس کے باعث جگہ جگہ ٹریفک کی روانی متاثر ہورہی ہے۔

سندھ میں گیس کا بحران پیدا کیا گیا، وزیر پیٹرولیم

قبل ازیں گورنر ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر پیٹرولیم و قدرتی وسائل غلام سرور نے کہا تھا کہ سندھ میں گیس کا بحران پیدا نہیں ہوا بلکہ پیدا کیا گیا، گیس بحران میں ملوث عناصر کی نشاندہی کے لیے وزیراعظم کی ہدایت پر تحقیقات جاری ہے، گیس بحران کی وجہ سے نہ صرف سی این جی اور عوام کو نقصان ہوا بلکہ برآمدی نقصان بھی ہوا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کی گیس کے حوالے سے اولین ترجیح گھریلو صارفین ہیں تاہم سی این جی سکیٹر کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں گے، سندھ میں سی این جی سیکٹر کی گیس آج رات 8 بجے بحال کردی جائے گی جب کہ سندھ کی دوفیلڈز کی کم ہونے والی پیداوار ایک دو دن میں بحال ہوجائے گی۔

وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ سی این جی اسٹیشنز کی ہفتے میں 3 دن لوڈ شیڈنگ ضرور ہوگی اور کیپٹیو پاور پلانٹس کی حامل صنعتوں کو موسم سرما کے 3 ماہ میں 50 فیصد گیس سپلائی کی جائے گی، کپیٹیو انڈسٹری کو کل سے 50 فیصد گیس فراہم کریں گے جب کہ کیپٹیوپاورصنعتی یونٹس اپنی بجلی فروخت نہیں کرسکیں گے۔

غلام سرور کا مزید کہنا تھا کہ 6،6 بار حکومتوں میں آنے والوں نے کراچی کوتباہ کردیا پی ٹی آئی کی حکومت سندھ کے مسائل کو دیگر صوبوں کی طرح یکساں انداز میں حل کرے گی۔

جو وزیر کام نہیں کرے گا اُس کے خلاف کارروائی ہوگی، وزیراعظم

پشاور: وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ جو وزیر دفتر نہیں جائے گا اُس کے خلاف کارروائی ہوگی اور پھر وہ شکوہ نہ کریں کہ وزارت چلی گئی۔ 

پشاور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے لوگ سیاسی شعور رکھتے ہیں، خیبرپختونخوا کے لوگ دوسری باری نہیں دیتے لیکن ہمیں دی۔ یہاں کے لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی آئی اس لیے تحریک انصاف کو دوسرا مینڈیٹ ملا، 2018 کے الیکشن صاف اور شفاف ہوئے، ہم نے مینڈیٹ لینے کے لیے کوئی روایتی حربہ استعمال نہیں کیا، ہم نے الیکشن سے قبل فنڈز جاری نہیں کیے تھے، اگر کوئی بھی حلقہ کھلوانا چاہتے ہیں تو ہم تیار ہیں۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی تعریف کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ محمود خان کی ایمانداری پر پورا یقین ہے، وہ سادہ اورسچے انسان ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ محمود خان کسی کے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ پنجاب میں عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ بنایا تو ہمارا مذاق اڑایا گیا، عثمان بزدار بھی ایماندار اور دلیر شخص ہیں، انہوں نے پیسے ضائع نہیں کیے، وہ مافیا کا مقابلہ کرنے کے لیے کھڑے ہوگئے ہیں جب کہ شہباز شریف وزیراعظم کا طیارہ استعمال کرتے تھے، انہوں نے انٹرٹینمنٹ کی مد میں 35 کروڑ روپے خرچ کیے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ماضی میں چھوٹے سے طبقے کے لیے پالیسیاں بنتی رہیں، کسی نے نچلے طبقے کو اوپر لانے کے لیے نہیں سوچا، ملک میں امیر اورغریب میں فرق ختم ہونا چاہیے، جہاں امیر اورغریب میں فرق ہو وہ کیسے فلاحی ریاست بن سکتی ہے، حکومت کو ریکارڈ ملکی خسارہ ورثے میں ملا۔ بیوروکریسی کی سوچ ہے کہ سرمایہ کاری اچھی چیز نہیں، ہمیں سرمایہ کاروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنی ہیں۔ وزیراعظم ہاؤس کی گاڑیاں اور بھینسیں بیچنے پر ہمارا مذاق اڑایا گیا حالانکہ ہم عوام کے پیسے پر بادشاہت کے نظام کا خاتمہ کررہے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں اب فارورڈ بلاک بننے اور حکومت گرنے کا کوئی خطرہ نہیں، وزراء کو شام تک اپنے دفاتر میں بیٹھنا چاہیے، مجھے پتہ چل جائے گا کہ کون سا وزیر آفس نہیں جارہا اور جو وزیر دفتر نہیں جائے گا اُس کے خلاف کارروائی ہوگی ، پھر وہ شکوہ نہ کریں کہ وزارت چلی گئی۔ آپ منتخب لوگ ہیں، اگرکام نہیں کیا تو لوگ آپ کو ڈنڈے ماریں گے، لوگ یہ نہیں سنیں گے کہ بیوروکریٹ نے کام نہیں کرنے دیا، اگر کوئی بیورو کریٹ رکاوٹ پیدا کرتا ہے تو اس کے خلاف ایکشن لیں، اگر کوئی بیورو کریٹ کام نہیں کرتا تو اس کو نکال دیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں دنیا کے دیگر ملکوں کے مقابلے میں سب سے کم ٹیکس دیا جاتا ہے، 21 کروڑ پاکستانیوں میں 72 ہزار لوگ ماہانہ 2 لاکھ روپے کی آمدنی ظاہر کرتے ہیں، ایک وقت تھا کہ بیوروکریٹ کی ماہانہ تنخواہ سے 70 تولہ سونا خریدا جاسکتا تھا لیکن اب وزیر اعظم کو جو تنخواہ ملتی ہے اس سے بنی گالہ کا خرچہ بھی نہیں نکل سکتا۔ ماضی میں ڈومور کا مطالبہ کرنے والا امریکا اب کہتا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کراؤ، پاکستان نے امریکا اور طالبان کی بات چیت کرائی ہے۔

Google Analytics Alternative