قومی

پاکستان نے افغان دفتر خارجہ کا پشاور مارکیٹ سے متعلق بیان مسترد کردیا

اسلام آباد: پاکستان نے افغان دفتر خارجہ کی جانب سے پشاور مارکیٹ سے متعلق بیان مسترد کردیا۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان افغان دفتر خارجہ کی جانب سے پشاور مارکیٹ سے متعلق بیان کو مسترد کرتا ہے، پشاور کی مارکیٹ کا معاملہ توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، افغان دفتر خارجہ کی جانب سے واقعے کو گمراہ کن انداز میں پیش کرنا قابل افسوس ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پشاور مارکیٹ کا معاملہ ایک شہری اور ایک بینک کے درمیان تھا، 1998ء میں معاملے سے متعلق شہری کے حق میں فیصلہ ہوا، افغان فریقین کی جانب سے برعکس اقدامات پر لوکل انتظامیہ نے ایکشن لیا، اس حوالے سے پاکستان کے عدالتی نظام سے متعلق بیانات مسترد کرتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ افغان حکومت کی جانب سے اجتجاجاً قونصلیٹ جنرل کی بندش قابل افسوس ہے، پاکستان امید کرتا ہے کہ افغان حکومت اس فیصلے پر نظر ثانی کرے گی اور یہ بھی امید کرتے ہیں کہ نجی کیس کے باعث 2 برادر ممالک کے تعلقات خراب نہیں ہوں گے۔

جتنے بھی ظلم کرلیں میں اور میرا خاندان سرخرو ہو گا، نواز شریف

لاہور: سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ مجھ پر اور میرے خاندان پر جتنے بھی ظلم کر لیں لیکن ہم سرخرو ہوں گے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کو گزشتہ روز عدالت نے جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں دیا تھا، انہوں نے نیب کے ڈے کئیر سینٹر میں پہلی رات گزاری۔ نواز شریف نے رات کو گھر سے آئے دال چاول کھائے، وہ رات دیر تک جاگتے رہے، دیر تک جاگنے پر سیکورٹی تعینات افسر نے ان سے خیریت دریافت کی۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہمیشہ قوم کی خدمت نیک نیتی سے کی ہے اللہ تعالی اپنا کرم کرے گا، آپ لوگ میرے اور میرے خاندان پر جتنے بھی ظلم کر لیں میں اور میرا خاندان سرخرو ہو گا۔

گزشتہ روز نواز شریف کو چوہدری شوگر مل کیس میں کوٹ لکھپت جیل سے گرفتار کر کے احتساب عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں انہوں نے عدالت کے روبرو بیان دیا تھا کہ نیب نے مجھ سے جیل میں بھی تفتیش کی، یہ آئے اور مجھ سے مختلف سوالات پوچھے، جو مجھے معلوم تھا بتا دیا اور جو معلوم نہیں تھا کہہ دیا مجھے علم نہیں لیکن مجھے جیل میں وکلاء سے بھی نہیں ملنے دیتے۔

عمران خان نے جنرل اسمبلی میں امت کی صحیح ترجمانی کی، طیب اردوان

استنبول: ترک وزیر اعظم طیب اردوان نے کہا ہے کہ عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امت اور کشمیریوں کی صحیح معنوں میں ترجمانی کی۔

ترک صدر رحب طیب اردوان سے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے استنبول میں ملاقات کی۔ ملاقات میں مختلف امور پر بات چیت ہوئی۔ اس موقع پر ترک صدر نے کہا کہ ترکی پاکستان کو اپنا بھائی اور دوست سمجھتا ہے، ترک عوام مسئلہ کشمیر کے حل تک اپنی حمایت جاری رکھیں گے، عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امت اور کشمیریوں کی صحیح معنوں میں ترجمانی کی۔

طیب اردوان نے مزید کہا کہ بھارت نے غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدام اٹھایا، کشمیر سے کرفیو اور ظلم کا فوری خاتمہ کیا جائے۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ پاکستان کو ترکی کے ساتھ بےمثال دوستی پر فخر ہے،  مسلم اُمہ کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مسلم ممالک میں اتحاد اور ہم آہنگی ضروری ہے۔

جیل سے لکھے گئے خطوط کا انجام بھی قطری خط جیسا ہوگا، فردوس عاشق اعوان

لاہور: وزیراعظم کی معاون برائے اطلاعات ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان نے کہا ہےمسلم لیگ (ن) کا بیانیہ کھل کرسامنے آگیا، جیل سے لکھے گئے خطوط کا انجام بھی قطری خط جیسا ہوگا۔

لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹرفردوس عاشق نے کہا وزیراعظم کے ویژن پر دنیا کا اعتماد ہمارے لیے حوصلہ افزا بات ہے،اس وقت دنیا کے معروف برانڈز پاکستان کے ساتھ کاروبار کرنا چاہتے ہیں،بین الاقوامی سرمایہ کاری سے ناصرف معیشت بہترہورہی ہے بلکہ ملازمت کے مواقع بھی میسر آ رہے ہیں۔

معاون خصوصی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے بیانہ سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ ن لیگ موروثی سیاست پر یقین رکھتی ہے، ان کے پاس اگر عوامی طاقت ہوتی تو انھیں مدرسوں کے بچوں کو سیاسی ایندھن نہ بنانا پڑتا،ایک بھائی کوٹ لکھپت اور ایک ماڈل ٹاؤن  میں ہے اور رابطہ چٹھیوں کے ذریعے ہورہا ہے، ان چٹھیوں کا حال بھی قطری خط جیساہوگا۔

ڈاکٹرفردوس عاشق نے یہ بھی کہا کہ  تین دہائیوں کے بعد ایک ایسی حکومت آئی ہے جو ڈیزل کے بغیر چل رہی ہے اورچلتی رہے گیْ، ن لیگ کو جمہوریت صرف اس وقت چاہیے جب یہ اقتدار میں ہوں،یہ اقتدار سے باہر ہوں تو انھیں کچھ بھی نہیں چاہیے۔

مولانا فضل الرحمان کا ایک بندہ جلد اندر ہونے والا ہے، شیخ رشید

لاہور: وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ جن 6 افراد کی بات کرتا ہوں تو ان میں سے 4 گرفتار ہوچکے اور جلد پکڑے جانے والوں میں سے ایک مولانا فضل الرحمان کا بندہ ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران شیخ رشید احمد نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کس ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں یہ اللہ کو پتا ہے، ان کے آگے کنواں پیچھے کھائی ہے، پہلے بھی مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن کو مروایا اب بھی مروائیں گے، 26 اکتوبر کو بتاؤں گا مولانا فضل الرحمان کس ایجنڈے پر کام کررہے ہیں ، شہباز شریف کبھی ادھر ہیں تو کبھی اُدھر ہے، مولانا فضل الرحمان اور شہبازشریف کی کوئی چیز فائنل نہیں، سیاست، جنگ اور محبت میں وقت کا بہت اہم کردار ہے، نوازشریف کو مروانے میں مریم نواز کا کلیدی کردار ہے، اب دیکھیں حسن اور حسین نواز کیا کرتے ہیں۔ عمران خان 6 آدمی رہا کردیں تو اپوزیشن کی ساری تحریک ٹھس ہوجائے گی۔ جن 6 افراد کی بات کرتا ہوں تو ان میں سے 4 گرفتار ہیں اور 2 ہونے والے ہیں۔ ان 2 میں ایک مولانا فضل الرحمان کا بندہ بھی شامل ہے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ سابق حکمران مہنگائی حق مہر میں چھوڑ گئے، عمران خان نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا ہے اور روپے کی قدر کو استحکام دیا ہے۔ عمران خان نے مودی کو پھنسا دیا، اب مودی کی نہ جان چھوٹ سکتی ہے نہ بچ سکتی ہے، پاکستان جنگ نہیں چاہتا لیکن اگر جنگ ہوئی تو آخری ہوگی، دنیا کو سمجھ ہونی چاہیے ہمارے پاس گنوانے کو کچھ نہیں لیکن بھارت کے پاس کھونے کو بہت کچھ ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے، مقبوضہ وادی میں کرفیو اٹھے گا تو کشمیری جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلیں گے، عمران خان نے جس طرح چین میں کشمیر کا مقدمہ لڑا کسی نے نہیں لڑا، چین نے برملا کہا کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے.

وزیراعظم کے دورہ چین سے50ارب ڈالرکی رکی ہوئی سرمایہ کاری بحال ہونےکاامکان

کراچی: وزیراعظم عمران خان کے دورہ چین اور سی پیک اتھارٹی کے قیام سے50 ارب ڈالرکی رکی ہوئی سرمایہ کاری بحال ہونےکےامکانات پیدا ہوگئے ہیں۔

سی پیک منصوبہ پاکستانی معیشت کی تیزرفتار ترقی میں اہم کردارکا حامل ہے جس سے مکمل استفادہ کرکے پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری اور صنعتکاری کووسیع پیمانے پر توسیع دی جاسکتی ہے۔اس ضمن میں آل پاکستان شپنگ ایسویسی ایشن کے سابق چیئرمین عاصم عظیم صدیقی نےایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے کہاہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے کیے جانے والےاقدامات باالخصوص وفاقی وزیربحری امور علی زیدی اور وزیرریونیوحماداظہر کی سی پیک منصوبوں اور گوادر پورٹ کی ترقیاتی سرگرمیوں کی تیز رفتار مانیٹرنگ اور ورکنگ لیول کے اجلاسوں سے گوادرپورٹ کا جمپ اسٹارٹ ہونےکی امید ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ اب چین کی جانب سے گوادرپورٹ پر کنسٹریشن شروع ہوجائے گی اورچائنیزکی فری زون میں سرمایہ کاری بھی شروع ہوجائے گی جس سے نئی انڈسٹریاں قائم ہوں گی کیونکہ جب انڈسٹری لگ جاتی ہے تواس منسلک دیگرانڈسٹریاں بھی قائم ہوجاتی ہے جس سے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ روزگارملے گااورحکومت کومحصولات بھی ملنا شروع ہوجائیں گے۔

عاصم عظیم صدیقی  نے بتایا کہ وزیراعظم کے حالیہ دورہ میں چین کے حکام نےاس بات کی یقین دہانی کرادی ہے کہ گوادر کے منصوبوں میں وہاں کے مقامی افراد کوروزگار کی فراہمی میں ترجیح دی جائے گی۔ چین کے حکام نے یہ دعوی بھی کیا ہے کہ گوادر ترقیاتی صنعتی وسرمایہ کاری سرگرمیوں کی وجہ سے مستقبل میں امیرترین شہر بن جائے گا۔

شپنگ ایسویسی ایشن کے سابق چیئرمین  نے کہا کہ حکومت کی جانب اٹھائے جانے والے حالیہ اقدامات کے باعث محسوس ہوررہاہے کہ سی پیک کا منصوبہ تیزی سے مکمل ہوجائے گااورملکی معیشت بہترہوجائے گی۔انہوں نے بتایاکہ اس سلسلے میں صدرپاکستان کی جانب سے ایک آرڈینینس جاری کردیاگیاہے جس کے تحت گوادر پورٹ کے ذریعےدرآمدہونے والی مختلف اشیاءکے کنسائمنٹس پر ڈیوٹی وٹیکسوں کی مکمل چھوٹ دیدی گئی ہے بالکل اسی طرح جیسے کہ ایکیسپورٹ پروسیسنگ زون کا اسٹیٹس تھااوراب ہمیں امیدہے کہ اب تیزی سے برآمدی نوعیت کی کمپنیاں گوادرمیں آکرسرمایہ کاری کریں گی اورگوادرمیں نئی صنعتیں لگیں گی جس سے مقامی لوگوں کو روزگارملے گا۔انہوں نے بتایاکہ بلوچستان حکومت کو خدشات تھے کے مقامی لوگوں کوگوادر میں روزگار کی فراہمی نہیں ہوگی لیکن چین نےاس بات کی واضع طورپریقین دہانی کرادی ہے کہ گوادرمیں قائم ہونے والے انڈسٹریوں میں زیادہ سے زیادہ نوکریاں مقامی لوگوں کو ہی فراہم کی جائیں گی جس سے مقامی لوگوں کے حالات بہترہیں گے اورانشاءاللہ کچھ ہی عرصہ میں بلوچستان بلکہ پاکستان کے معاشی حالات میں بھی بہتری آجائے گی۔

عاصم صدیقی نے بتایاکہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے سی سی پی آئی ٹی میں ایک انویسمنٹ کانفرنس بھی کی ہے جہاں وزیراعظم پاکستان نے چین کے سرمایہ کاروں کو یقین دہانی کرائی گئی ہےکہ اب گوادرمیں تمام کام تیزی سے سرانجام دیئے جائیں گے۔انہوں نے بتایاکہ ایک اتھارٹی بھی قائم کردی گئی ہے جس کے تحت چائنیزسرمایہ کارکام کریں گے۔انہوں نے کہاکہ یہ ایک خوش آئندبات ہے کہ اب حکومت کی جانب سے سی پیک منصوبہ کی تکمیل کے لئے دلچسپی ظاہرکی جارہی تاکہ منصوبہ جلدازجلدمکمل ہواورملک کے معاشی حالات میں بہتری آئے۔

’معیشت کیلئے کیے گئے مشکل فیصلوں کے ثمرات آنا شرو ع ہوگئے‘

وزیراعظم کے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے مالی سال 20-2019 کی پہلی سہ ماہی کے دوران حکومتی معاشی کارکردگی سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ معاشی صورتحال کے باعث حکومت نے جو مشکل فیصلے کیے اس کے نتائج آنا شروع ہوگئے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)، عالمی بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) کے ساتھ اچھے پروگرام شروع کیے اور ان اداروں سے 10 سال کے لیے اضافی رقوم حاصل کرکے مالیاتی ذخائر کی صورتحال کو بہتر بنایا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ معاشی صورتحال بہتر بنانے کے لیے رواں مالی سال کے بجٹ میں حکومتی اخراجات کم کیے گئے، کابینہ کی تنخواہوں میں کٹوتی کی گئی، اعلیٰ سول و عسکری عہدیداروں کی تنخواہیں منجمد کی گئیں، پاک فوج کے بجٹ کو منجمد کیا گیا اور سولین حکومت کے بجٹ میں بھی 40 ارب روپے سے زائد کی کٹوتی کی گئی۔

اس کے ساتھ وزیراعظم آفس کے اخراجات میں بھی کمی کر کے یہ کوشش کی گئی کہ امیر طبقے سے ٹیکس وصول کرکے حکومت کی آمدن میں اضافہ کیا جائے۔

مشیر خزانہ نے بتایا کہ 55 کھرب روپے کا ہدف مقرر کرکے تقریباً 8 لاکھ مزید افراد کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا گیا ہے اور نوکریاں فراہم کرنے کے لیے برآمدات اور پیداوار بڑھانے کی کوششیں کی گئیں جس کے لیے برآمدات کے شعبے کو گیس، بجلی اور قرضوں میں سبسڈی دی جارہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کے پہلی سہ ماہی میں حکومت نے 2 اہم اور بڑے خساروں پر قابو پالیا جس میں 9 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ 30 فیصد کمی کے بعد 5 ارب 70 کروڑ روپے کی سطح پر لایا گیا جبکہ حکومتی آمدن و اخراجات کے فرق میں 36 فیصد کمی کی گئی۔

مشیر خزانہ کے مطابق گزشتہ مالی سال کی ابتدائی سہ ماہی میں مالی خسارہ 7 کھرب 38 ارب روپے تھا جسے آمدن میں اضافہ اور اخراجات کم کر کے 35 فیصد کمی کے بعد 4 کھرب 76 ارب روپے کی سطح پر لایا گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت کی آمدن میں 16 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ 3 ماہ کے دوران اسٹیٹ بینک سے بھی کوئی قرض نہیں لیا گیا کیوں کہ اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ اخراجات کو کنٹرول کرتے ہوئے کوئی سپلیمنٹری گرانٹ بھی نہیں دی گئی۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ان 2 بڑے خساروں پر قابو پانے کے علاوہ حکومت کی نان ٹیکس آمدن میں خاصہ اضافہ ہوا اور پہلی سہ ماہی کے دوران 4 کھرب 6 ارب روپے حاصل کیے گئے جو پچھلے سال کے مقابلے 140 فیصد زائد ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بجٹ میں 12 کھرب روپے کا ہدف رکھا گیا تھا لیکن میں یہ خوش خبری دینا چاہتا ہو کہ ہم اس ہدف سے 4 کھرب روپے زائد یعنی 16 کھرب روپے کی نان ٹیکس آمدن حاصل کرلیں گے۔

عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ ماضی میں ایکسچینج ریٹ کو ایک سطح پر رکھنے کے لیے کئی ارب ڈالر ضائع کیے گئے لیکن ہم نے عوام کے پیسے کو محفوظ کرتے ہوئے ایکسچینج ریٹ کو مارکیٹ کی سطح پر رکھ کر برآمدات میں معاون بنانے کی کوشش کی جس کی وجہ سے گزشتہ 3 ماہ سے ایکسچینج ریٹ مستحکم ہے۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر بھی مستحکم ہوگئے ہیں اور بیرونِ ملک سے پاکستان میں کی گئی سرمایہ کاری میں 3 سال کے بعد 30 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

برآمدات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 5 سال کے عرصے میں کوئی بہتری نہیں آئی تاہم اب حکومت کی جانب سے برآمدات کے شعبے کی مدد کرنے کے ثمرات سامنے آرہے ہیں اور برآمدات کی پیداوار میں خاصہ اضافہ ہوا جس سے نوکریوں میں بھی اضافہ ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ نوکریوں کے لیے بیرونِ ملک جانے والے پاکستانیوں کی تعداد میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے،گزشتہ سال جنوری سے اگست تک کے عرصے میں یہ تعداد 2 لاکھ 24 ہزار تھی جبکہ رواں سال اسی عرصے کے دوران 3 لاکھ 73 ہزار لوگ بیرونِ ملک گئے جس سے معیشت اور زر مبادلہ کے ذخائر میں بھی بہتری آئے گی۔

مشیر خزانہ نے بتایا کہ اسٹاک مارکیٹ میں بھی بہتری آئی ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا ہے جس کے باعث اگست سے اب تک اسٹاک مارکیٹ 28ہزار سے بڑھ کر 34 ہزار پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گئی یوں اس میں 22 فیصد اضافہ ہوا۔

چھوٹے کاروبار کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ یہ بہت اہم شعبہ ہے جس کے بارے میں آئندہ 2 ہفتوں میں مکمل پالیسی آنے والی ہے جس سے انہیں مراعات، کاروبار میں آسانی اور منظوری میں تیزی آجائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ ہر صنعت کی مدد کی جائے لہٰذا ہماری پالیسی رہی کہ 5 اہم برآمداتی شعبوں کی معاونت کی جائے تاہم اس شعبے کو وسیع کرنے کے حوالے سے خود حکومت میں بھی رائے پائی جارہی ہے اور جو ماضی میں ان فوائد سے محروم رہے انہیں بھی اس کا فائدہ پہنچایا جائے۔

مشیر خزانہ نے مالیاتی فوائد کے اعداد و شمار سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کو گزشہ برس پہلی سہ ماہی میں 51 ارب کا منافع ہوا تھا جبکہ اس برس ایک کھرب 85 ارب روپے منافع حاصل ہوا۔

اسی طرح پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی (پی ٹی اے) کا منافع پہلی سہ ماہی میں 6 ارب روپے تھا جو اس برس 70 ارب روپے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں آمدن کا ہدف 12 کھرب ہونے کے باوجود 16 کھرب روپے کی امید اس وجہ سے ہے کہ ٹیلی کام سیکٹر کا منافع 30 کھرب 38 ارب روپے جبکہ اسٹیٹ بینک کو منافع 2 کھرب کا اضافی ہونے کی توقع ہے جبکہ مائع قدرتی گیس کے پلانٹ کی نجکاری سے 30 کھرب روپے حاصل ہونے کی امید ہے۔

کشمیریوں کے حقوق کی تحریک سمندر بن جائے گی، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کشمیریوں کے حقوق کی تحریک سمندر بن جائے گی اور کشمیریوں کی آزادی کا راستہ نظر آرہا ہے۔

اسلام آباد میں وزیراعظم آفس کے سامنے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کیخلاف انسانی زنجیر بنائی گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی اس تقریب میں شرکت کی اور قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں 80 لاکھ انسانوں کو 2 ماہ سے زائد عرصے سے بند کیا ہوا ہے، عورتیں، بچے اور بیمار سمیت سب بند ہیں، عالمی میڈیا ہانگ کانگ میں احتجاج کو نمایاں کرکے دکھاتا ہے لیکن کشمیر کی کوریج نہ ہونے کے برابر ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ عالمی میڈیا کا مقبوضہ کشمیر پر دہرا معیار ہے، اتنے بڑے ظلم پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے، دنیا بھارت کو تجارت کی نظر سے دیکھتی ہے، عالمی برادری اور ملکوں کے لیے انسانوں سے زیادہ پیسہ اہم ہے، پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے، ان کے حقوق کے لیے پوری کوشش کرتے رہیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ کشمیریوں کے حقوق کی تحریک سمندر بن جائے گی، عالمی رہنماؤں کو پہلے مسئلہ کشمیر نہیں معلوم تھا لیکن اب سمجھ آنا شروع ہوگیا ہے، میں نے ان سے ملاقاتوں میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا ہے، کبھی امریکی سینیٹرز نے اس طرح کا بیان نہ دیا جو اب دیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے مودی نے بڑی حماقت کی اور آخری پتہ کھیل دیا، کشمیریوں کا موت کا خوف ختم ہوگیا، کرفیو اٹھنے کے بعد لاکھوں کشمیری سڑکوں پر نکلیں گے، جو راستہ مجھے نظر آ رہا ہے وہ کشمیریوں کی آزادی کا ہے۔

Google Analytics Alternative