قومی

حکومت مریم نواز سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کرے گی، فردوس عاشق

 اسلام آباد: معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ حکومت مریم نوازسےمتعلق الیکشن کمیشن کافیصلہ چیلنج کرےگی۔

وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں19 نکاتی ایجنڈےپر غور کیا گیا، الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل دائرکرنے کا فیصلہ کیا ہے، حکومت مریم نواز کی نائب صدارت برقرار رکھنے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کرے گی۔

معاون خصوصی نے کہا کہ سپریم کورٹ کا واضح فیصلہ ہے کہ سزا یافتہ شخص کسی عہدے پر فائز نہیں ہو سکتا، اس فیصلے میں مانا گیا ہے کہ مریم نواز سزا یافتہ ہیں، اور وہ کسی جلسے جلوس اور سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لےسکتیں، الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ کے فیصلےکی خلاف ورزی ہے، فیصلےمیں نائب صدر کےعہدے کو غیرفعال کہا گیا ہے۔

فردوس عاشق نے بتایا کہ حکومت میڈیاکی خودمختاری پریقین رکھتی ہے، اجلاس میں میڈیا کے معاملات پر غور کیا گیا ہے، میڈیا کو ذمہ دار بنانے اور میڈیا کے شفاف کردار کو فعال بنانے اور احتسابی عمل کا آغاز کیا جارہا ہے، اس کے لئے حکومت نے خصوصی میڈیا ٹریبونلز بنانے کا فیصلہ کیا ہے، میڈیا کے حوالے سے جو بھی شکایت ہے وہ عدلیہ کے ماتحت میڈیا ٹربونل سنے گا، اگر میڈیا کسی پر الزام لگاتا ہے وہ معاملہ میڈیا ٹرائبیونلز دیکھیں گے، اور میڈیا ٹریبونل 90 روزمیں فیصلے کرنے کا پابند ہوگا، میڈیا ٹرائبیونلز کی نگرانی اعلی عدلیہ کرے گی۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کابینہ کو مجوزہ دورہ امریکا پر اعتماد میں لیا، وزیراعظم عمران خان کشمیریوں کے سفیر بن کرامریکا جا رہے ہیں، اپنے دورے میں اہم رہنماؤں سےملاقاتیں کریں گے۔

 

عمران فاروق قتل کیس؛ برطانیہ پاکستان کو شواہد دینے پر رضامند

رطانیہ نے عمران فاروق قتل کیس کے تمام شواہد پاکستان کو فراہم کرنے کے لیے رضامندی ظاہر کردی ہے۔

عمران فاروق قتل کیس میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، برطانیہ اس قتل کیس کے شواہد پاکستان کو دینے پر رضامند ہوگیا ہے جب کہ پاکستان نے برطانیہ کو ملزمان کو سزائے موت نہ دینے کی یقین دہانی کرادی ہے۔

برطانوی سینٹرل اتھارٹی کے مطابق پاکستان کی جانب سے ملزمان کو سزائے موت نہ دینے کی یقین دہانی کے بعد برطانیہ نے شواہد فراہمی کا فیصلہ کیا گیا۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق 16 ستمبر 2010ء کو لندن میں اپنے دفتر سے گھر جارہے تھے کہ انہیں علاقے ایج ویئر کی گرین لین کے قریب واقع ان کے گھر کے باہر حملہ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔

مریم نواز مسلم لیگ (ن) کی نائب صدارت کے لیےاہل قرار

 اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے مریم نواز کو پارٹی کی نائب صدارت کے لیے اہل قرار دے دیا۔ 

چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا کی سربراہی میں 3 رکنی کمیشن نے مریم نواز کو پارٹی کی نائب صدارت سے ہٹانے کے لیے تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی کی درخواست پر گزشتہ روز محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔

الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں  درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مریم نوازنائب صدارت کاعہدہ مشروط طور پر رکھ سکتی ہیں، مسلم لیگ (ن) کی صدارت کا عہدہ خالی ہونے پر مریم نواز پارٹی صدراورجنرل سیکرٹری کاعہدہ نہیں لے سکیں گی۔

کیس کا پس منظر؛

مئی 2019 کو مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شريف نے پارٹی کی تنظيم نو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مريم نواز کو مقرر کیا تھا۔ تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی فرخ حبیب،ملیکہ بخاری اور جویریہ ظفر نے درخواست دائر کی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا مریم نواز کی بطور پارٹی نائب صدر تقرری آئین و قانون سے متصادم ہے، وہ کسی بھی سیاسی و عوامی عہدے کے لیے نااہل ہیں۔

گزشتہ روز درخواست کی سماعت میں مریم نواز کے وکیل بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا تھا کہ پارٹی کا حصہ بننا یا عہدہ رکھنا کسی شخص کا بنیادی حق ہے، پرویز مشرف دور میں سزا یافتہ شخص پر پارٹی عہدہ رکھنے پر پابندی تھی تاہم ترمیم شدہ الیکشن ایکٹ میں سزا یافتہ شخص پر پارٹی عہدہ رکھنے کی کوئی پابندی نہیں، نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ پارٹی صدارت کے علاوہ کسی اور عہدے کے لیے نہیں ہے، کسی بھی عدالت کے پرانے فیصلوں کے مطابق فیصلے کرنا الیکشن کمیشن کے لیے لازم نہیں ہے۔

کابینہ اجلاس؛ بے نامی ایکٹ کے تحت خصوصی بینچ بنانے کی منظوری

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے بے نامی ایکٹ کے تحت خصوصی بینچ بنانے کی منظوری دے دی.

وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں 19نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی کابینہ نے بے نامی ایکٹ کے تحت خصوصی بینچ بنانے کی منظوری دے دی۔ اس کے علاوہ محکمہ موسمیات کے ملازمین پر لازمی سروس ایکٹ لاگو کرنے اور سول سروس ملازمین کے لیے پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم لانے کی بھی منظوری دے دی۔

کابینہ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی تازہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا، اس موقع پر وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں تقریر سے متعلق نکات پر کابینہ ارکان سے مشاورت کی جب کہ وزیراعظم کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت عالمی رہنماؤں سےشیڈول ملاقاتوں پر بھی بات چیت کی گئی۔

کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کے دوران معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ  وزیراعظم کشمیریوں کے سفیر بن کر امریکا جارہے ہیں، وزیر اعظم جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر کو بھرپور طریقے سے اجاگر کریں گے، وزیراعظم نے کابینہ  کو اپنے مجوزہ دورہ امریکا پر اعتماد میں لیا ہے۔

خصوصی میڈیا ٹربیونلز

معاون خصوصی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ریاست کا چوتھا ستون میڈیا ہے، وزیر اعظم پاکستان اور موجودہ حکومت میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتی ہے، کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ خصوصی میڈیا ٹربیونلز قائم کیے جائیں۔ ٹربیونلز کا مقصد میڈیا سے متعلق شکایات کا جلد ازالہ کرنا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا سعودی ولی عہد سے ٹیلی فونک رابطہ

ریاض: وزیراعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور سعودی عرب میں تیل تنصیبات پر حملے کی مذمت کی ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، وزیر اعظم نے سعودی ولی عہد سے سعودی عرب میں تیل تنصیبات پر حملے کی مذمت کی اور کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔ دونوں رہنماؤں میں سعودی عرب میں حالیہ تخریب کاری کے واقعات پر تبادلہ خیال ہوا۔

عمران خان نے شہزاد محمد بن سلمان سے گفتگو میں کہا کہ تخریب کاری سے سعودی عرب کی سیکیورٹی اور عالمی معیشت کو خطرہ ہے جب کہ ولی عہد کا کہنا تھا کہ سعودی عرب تخریب کاروں کا مقابلہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل سعودی عرب کے شہر بقیق میں تخریب کاروں کی جانب سے تیل کے کنوؤں اور پراسسنگ پلانٹ پر ڈرون حملے کیے گئے تھے جس کے نتیجے میں شدید مالی نقصان ہوا جب کہ امریکا نے اس حملے کا الزام ایران پر لگایا تھا تاہم ایرانی حکومت نے یہ الزام مسترد کردیا۔

بھارتی سپریم کورٹ کا مقبوضہ کشمیر میں حالات معمول پر لانے کا حکم

نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے نریندر مودی حکومت کو مقبوضہ کشمیر میں حالات معمول پر لانے کا حکم دیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ میں بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی کارکن اناکشی گنگولی کی مقبوضہ کشمیر میں پابندیوں کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔

اناکشی گنگولی نے درخواست میں کہا کہ مودی حکومت نے جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 منسوخ کرنے کے بعد سے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اور مکمل لاک ڈاؤن ہے، اس کے نتیجے میں کشمیری  بچے اور کم عمر لڑکے انتہائی مشکلات اور پریشانیوں کا شکار ہیں۔

بھارتی چیف جسٹس رانجن گوگوئی نے کہا کہ یہ معاملہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ سے متعلق ہے اور وہی اس پر کوئی فیصلہ کرے گی۔ اس پر اناکشی گنگولی نے جواب دیا کہ پابندیوں کی وجہ سے جموں و کشمیر ہائی کورٹ پہنچنا تو ناممکن ہے۔

بھارتی چیف جسٹس رانجن گوگوئی نے ریمارکس دیے کہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ پہنچنا کیوں مشکل ہے، کیا کوئی راستہ روک رہا ہے، ہم ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے صورتحال جاننا چاہتے ہیں، اگر لوگ ہائی کورٹ نہیں پہنچ پارہے تو یہ بہت ہی سنگین معاملہ ہے، ضرورت پڑنے پر میں خود سری نگر جاؤں گا۔

سپریم کورٹ نے حکومت کو حکم دیا کہ جموں و کشمیر کی صورتحال فی الفور معمول پر لائی جائے، فون اور انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی ہے، کشمیریوں کو طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے، تعلیمی اداروں کو کھولا جائے تاہم قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر ہر قدم اٹھایا جائے، جبکہ جموں کشمیر ہائی کورٹ ریاست میں جاری لاک ڈاؤن اور پابندیوں کے معاملے پر فیصلہ دے سکتی ہے۔

سپریم کورٹ نے کانگریس کے رہنما غلام نبی کو بھی وادی کا دورہ کرنے اور وہاں کشمیریوں سے ملاقات کی اجازت دے دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ غلام نبی مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں سے ملاقاتیں کرسکیں گے تاہم انہیں جلسے جلوس کی اجازت نہیں ہوگی۔

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے سے متعلق کیس کی سماعت 30 ستمبر تک ملتوی کردی۔

پشاور میں طالبات کیلیے عبایہ لازمی قرار دینے کا نوٹی فکیشن واپس لینے کی ہدایت

پشاور: وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شوکت یوسف زئی نے کہا ہے کہ جن اسکولوں نے عبایا پہننے کے حوالے سے نوٹی فکیشن جاری کیا ہے انہیں فوری طور پر نوٹی فکیشن واپس لینے کی ہدایت کردی ہے۔

میڈیا کو جاری بیان میں شوکت یوسف زئی کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت  نے سرکاری اسکولوں میں طالبات  کے لیے عبایا پہننا لازمی قرار نہیں دیا، صرف ایک ضلع کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے  وہاں کے والدین کی مرضی سے عبایا پہننے کے لیے نوٹی فکیشن جاری کیا تاہم صوبے کے دیگر اسکولوں میں عبایا پہننے کے لیے کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی عبایا پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ ضلع ہری پور میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سے وضاحت طلب کی گئی ہے جس پر انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ انہوں نے بچوں کے والدین کی مشاورت سے کیا ہے تاہم یہ لازمی نہیں ہے۔

شوکت یوسفزئی نے کہا کہ  پردہ کرنا ہمارے مذہب اور کلچر کا حصہ بھی ہے اور یہ کوئی بری بات بھی نہیں تاہم زبردستی لاگو نہیں کیا جا سکتا، بچیوں کوعبایا پہننے یا نہ پہننے کا اختیار دیا گیا ہے ۔

شوکت یوسفزئی نے کہا کہ حکومت کے پاس عبایا کو لازمی قرار دینے کی کوئی تجویز زیرغور نہیں، پردہ مذہبی معاملہ ہے اور حکومت اسے  سیاست کا رنگ نہیں دے گی، اسکولوں میں بچیوں کو اسلامیات پڑھائی جاتی ہے جس میں نماز، روزہ، زکوۃٰ اور پردے کے حوالے سے پڑھایا جاتا ہے اس سے زیادہ حکومت مداخلت نہیں کرسکتی، کے پی میں پہلے ہی پردے کا رواج زیادہ ہے۔

اسی ضمن میں وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ نے طالبات کے لیے عبایا لازمی قرار دینے کے معاملے کا نوٹس لے لیا، اسپیشل سیکریٹری تعلیم ارشد خان کا کہنا ہے کہ ڈی ای او فی میل نے اجازت لیے بغیر اعلامیہ جاری کیا، حکومت نے ایسی کوئی پالیسی نہیں بنائی جس میں طالبات کے لیے چادر لازمی ہو، کسی افسر کو کوئی اختیار نہیں کہ وہ اپنے طور پر فیصلہ کرلے، کل صبح نوٹی فکیشن واپس لیا جائے گا۔

احتساب کےعمل پر کوئی ڈیل یا سمجھوتہ نہیں ہوگا، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پہلی مرتبہ احتساب کا عمل سیاسی مداخلت سے آزاد ہے لہذا کوئی ڈیل نہیں ہوگی۔

وزیراعظم عمران خان سے بابر اعوان نے ملاقات کی جس میں حکومت کے آئینی اور قانونی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور وزیراعظم کی امریکہ اور سعودی عرب کے دورے پر بھی مشاورت ہوئی۔

ملاقات کے حوالے سے بابر اعوان کی جانب سے بیان جاری کیا گیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ڈیل کی خبریں پھیلانے والوں کو مایوسی ہو گی، احتساب کا عمل جلد قوم کے سامنے مثبت ثمرات لائے گا جب کہ کشمیر کے معاملے پر حکومت کی جارحانہ حکمت عملی درست اقدام ثابت ہوا۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پوری توجہ کشمیر کاز پر مورکوز ہے، جنرل اسمبلی میں خطاب اہم ہوگا جب کہ پہلی مرتبہ احتساب کا عمل سیاسی مداخلت سے آزاد ہے، احتساب کے عمل پر کوئی ڈیل یا کمپرومائز نہیں ہوگا۔

Google Analytics Alternative