قومی

سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ آئی ایس آئی ہو ججز یا اٹارنی جنرل سب ریاست کے ملازم ہیں۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل انور منصور کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل سہیل محمود نے کہا کہ اٹارنی جنرل اقتصادی رابطہ کمیٹی میں گئے ہیں، وزیراعظم نے انہیں طلب کر لیا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اٹارنی جنرل کا ای سی سی سے کیا تعلق، کیا وزیر اعظم سپریم کورٹ سے اہم ہیں، کیوں نہ اٹارنی جنرل کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا جائے، ان کے کہنے پر ہم نے کیس 11 بجے رکھا، آپ عدالت کی بے توقیری کر رہے کیا یہ مذاق ہے، اٹارنی جنرل کے فرائض میں عدالتی کام ہیں وزیر اعظم کے نہیں، عدالتی حکمنامے میں اٹارنی جنرل کیخلاف آبزرویشن دیں گے، سمجھ نہیں آتی ریاستی عہدیدار اقتدار میں ہوتے ہوئے کسی کے ملازم کیوں بن جاتے ہیں، انہیں عوام کے پیسے سے تنخواہیں دی جاتی ہیں، حکومت کو پاکستان کا خیال نہیں۔

جسٹس مشیر عالم کے استفسار پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ فیض آباد دھرنا کیس میں عدالتی حکم کے مطابق پیمرا، آئی ایس آئی اور الیکشن کمیشن کی رپورٹس جمع کروا دی ہیں۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ کیا آئی ایس آئی کا مینڈیٹ خفیہ ہے، سیکرٹری دفاع کیوں پیش نہیں ہوتے، وہ ریاست کے ملازم ہیں، آئی ایس آئی، ججز اور اٹارنی جنرل سب ریاست کے ملازم ہیں۔ جسٹس مشیر عالم نے چیرمین پیمرا سے پوچھا کہ کیا ابھی تک کسی آپریٹر کا لائسنس منسوخ کیا گیا؟۔

جسٹس قاضی فائز نے بھی ریمارکس دیے کہ دسویں بار پوچھ رہا ہوں کیا پیمرا نے کیبل آپریٹرز کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی کی، ہم ایک ایسی ریاست میں رہ رہے ہیں جہاں میڈیا کنٹرول ہے، دن رات چینلز بند رہے سب کو پتہ ہے لیکن پیمرا کو نہیں پتہ، کیا ہم جھوٹ بولنے والوں کی ریاست میں رہ رہے ہیں، کسی کو شرمندگی بھی محسوس نہیں ہوتی، چیئرمین پیمرا صاحب دھوکہ دینے پر آپکو خود پر فخر کرنا چاہیے، میں خوف میں نہیں رہ سکتا سب خوف میں بیٹھے ہوئے ہیں، کیا اس مقصد کے لیے آزادی حاصل کی تھی، آدھا ملک ہم نے کھو دیا، یہ پولیس ریاست ہے یا کیا ہے، پیمرا کو آج ہی ہدایت جاری کررہے ہیں۔

سماعت میں وقفے کے بعد اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک نے 2014 میں دھرنے دیے اور الیکشن میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کا کہا، اس وقت کے چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن بنا جس نے کہا کہ دھاندلی نہیں ہوئی، کیا پی ٹی آئی نے اس پر معافی مانگی، کیا ججز کو روکنے پر دھرنے والوں کو معافی مانگنی چاہیے؟ یہ عوام اور ملک کا نقصان ہوا، ہر ملک میں خفیہ ایجنسیوں کا مینڈیٹ ہوتا ہے، کیا آئی ایس آئی اپنے میںڈیٹ سے ہٹ کر کام کر سکتی ہے ؟ آئی ایس آئی کا بھی تو کوئی مینڈیٹ ہو گا؟۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایف بی آئی بھی اپنے مینڈیٹ پر عمل نہیں کرتی۔ سماعت مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

ٹرمپ کے غلط بیانات زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں، وزیر اعظم

وزیرِ اعظم عمران خان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان کے خلاف ایک بار پھر ہرزہ سرائی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر کے غلط بیانات پاکستان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہرزہ سرائی کا جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ‘ڈونلڈ ٹرمپ کے غلط بیانات زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں، ہم نے دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کا خمیازہ جانوں کے ضیاع اور معاشی عدم استحکام کی شکل میں بھگتا ہے۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘ٹرمپ کو تاریخی حقائق سے آگاہی درکار ہے، ہم امریکی جنگ میں پہلے ہی کافی نقصان اٹھا چکے ہیں لیکن اب وہی کریں گے جو ہمارے مفاد میں ہوگا۔’

امریکی صدر نے دو روز میں دوسری بار پاکستان کے خلاف بات کرتے ہوئے دھمکی دی تھی ‘ہم اب پاکستان کو مزید اربوں ڈالرز نہیں دیں گے، پاکستان ہم سے رقم لے کر بھی ہمارے لیے کچھ نہیں کرتا، اس کی بڑی مثالیں اسامہ بن لادن اور افغانستان ہیں’۔

قبل ازیں وزیرِ اعظم عمران خان نے امریکی صدر کے پاکستان مخالف بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ‘ستمبر 2001 کے حملے میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا لیکن پھر بھی پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں امریکا کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔’

انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے 75 ہزار جانیں قربان کیں اور معیشت کو ایک سو 23 ارب ڈالر کا نقصان بھی ہوا جبکہ امریکی امداد صرف 20 ارب ڈالر تھی۔

وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے قبائلی علاقے تباہ ہوئے جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، دہشت گردی کے خلاف اس جنگ نے پاکستانی عوام کی زندگیوں پر بدترین اثرات مرتب کیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان زمینی اور فضائی مواصلاتی راستوں تک مفت رسائی فراہم کرتا رہا، کیا ڈونلڈ ٹرمپ کسی ایسے اتحادی کا نام بتاسکتے ہیں جس نے ایسی قربانیاں دی ہوں؟

وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ اپنی ناکامیوں پر پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کے بجائے امریکا اپنی کارکردگی کا ایک سنجیدہ جائزہ لے کہ آخر کیوں ایک لاکھ 40 ہزار نیٹو افواج، ڈھائی لاکھ افغان فوج اور افغانستان میں جنگ میں ایک کھرب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود طالبان پہلے سے زیادہ طاقت ور ہیں۔

خیال رہے کہ ایک روز قبل امریکی نشریاتی ادارے ‘فوکس نیوز’ کو خصوصیانٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے لیے امریکی امداد روکے جانے کا دفاع کیا اور کہا کہ پاکستان نے اب تک امریکا کے لیے کچھ نہیں کیا۔

انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے وضاحت دی تھی کہ امریکا پاکستان کو سالانہ کی بنیاد پر ایک ارب 30 کروڑ ڈالر امداد دیتا رہا ہے، جو انہیں اب بالکل نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے انٹرویو پر وزیرِ انسانی حقوق اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری اور مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد حسین سید نے بھی سخت ردِ عمل کا اظہار کیا تھا۔

سعودی عرب نے مالیاتی پیکیج کے تحت ایک ارب ڈالر پاکستان منتقل کردیئے

 کراچی: پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے ایک ارب ڈالر کی رقم موصول ہوگئی اسٹیٹ بینک نے اس بات کی تصدیق کردی۔

سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو مالی مشکلات سے نکالنے کے لیے پیکیج کا آغاز ہوگیا، سعودی عرب نے وزیر اعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے دوران اپنے کیے گئے اعلان پر عمل درآمد کرتے ہوئے حکومت پاکستان کے اکاؤنٹ میں ایک ارب ڈالر منتقل کردیے جب کہ مزید دو ارب ڈالر کی رقم جلد منتقل کی جائے گی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے رقم موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ رقم ملنے کے بعد پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مزید مستحکم ہوگئے اور یہ ذخائر بڑھ کر 14.8 ارب ڈالر ہوگئے ہیں۔

یاد رہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کو مالی مشکلات سے نکالنے کے لیے 12 ارب ڈالر کے اقتصادی پیکیج کا اعلان کیا ہے جس میں تین سال تک تین تین ارب ڈالر کا تیل دیا جائے گا جب کہ بیرونی ادائیگیوں کے لیے سعودی عرب نے تین ارب ڈالر کی رقم پاکستان کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

بھارتی جارحیت کا منہ توڑجواب دیا جائے گا، ترجمان پاک فوج

راولپنڈی: ترجمان پاک فوج میجرجنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے لیکن جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

آئی ایس پی آرکے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل آصف غفورسے گلگت بلتستان، آزادکشمیر اورہزارہ کے صحافیوں کی ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں صحافیوں نے اپنے علاقوں کی سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے بتایا۔

ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل آصف غفورنے صحافیوں کوبھارتی فورسزکی سیزفائرکی خلاف وزریوں سے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف کشمیری رہائش پذیرہیں جنہیں جان بوجھ کرنشانہ بنایا جارہا ہے، ایسی صورتحال کے باوجود بھارتی خلاف ورزیوں کا بھرپورجواب دیا جاتا ہے، ہماری فورسزصرف بھارتی پوسٹوں کو نشانہ بناتی ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ کنٹرول لائن کے دونوں اطراف کشمیری بھائیوں کی موجودگی کے باعث محتاط ردعمل دیتے ہیں، امن کے خواہشمند ہیں مگرجارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

 

شہید ایس پی طاہر داوڑ کی فرض شناسی باعث افتخار ہے، وزیراعظم

وزیر اعظم عمران خان سے افغانستان میں قتل ہونے والے خیبر پختونخوا (کے پی) کے ایس پی طاہر داوڑ کے بھائی اور بیٹے نے ملاقات کی جہاں وزیر اعظم نے شہید ایس پی کی خدمات کو سراہا۔

وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد میں عمران خان سے شہید ایس پی کے بھائی اور بیٹے کی ملاقات کے دوران وزیرِ مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی، وزیر اعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس کے پی بھی موجود تھے۔

اس موقع پر وزیرِ اعظم نے شہید ایس پی طاہر داوڑ کے غم زدہ خاندان سے اظہار ہمدردی کیا اور شہید کے ایصال ثواب اور درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘ایس پی طاہر داوڑ ایک نڈر اور فرض شناس افسر تھے، ان کی فرض شناسی اور بہادری محکمہ پولیس کے لیے باعث افتخار ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ایس پی طاہر داوڑ کی شہادت سے پولیس کا محکمہ ایک ذمہ دار اور فرض شناس افسر سے محروم ہو گیا’۔

وزیراعظم نے ایس پی طاہر داوڑ کے خاندان کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

یاد رہے کہ دیہی پشاور کے ایس پی طاہر خان داوڑ کو 26 اکتوبر کو اسلام آباد سے اغوا کیا گیا تھا جس کے بعد 13نومبر کو افغانستان کے صوبہ ننگرہار سے ان کی لاش ملی تھی اور ایک دن بعد افغان حکام نے تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس سپرنٹنڈنٹ کو قتل کرنے سے قبل انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

وزیراعظم عمران خان نے ایس پی طاہر خان داوڑ کی لاش افغانستان سے ملنے کے معاملے پر کے پی حکومت اور اسلام آباد پولیس کو فوری طور پر مشترکہ تحقیقات شروع کرنے کا حکم دیا تھا۔

جس کے بعد 16 نومبر کو چیف کمشنر اسلام آباد نے وفاقی پولیس کی سفارش پر تفتیش کے لیے (ایس پی) انوسٹی گیشن اسلام آباد کی سربراہی میں 7 رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی تھی۔

تاہم (ایس پی) طاہر خان داوڑ کے بھائی احمدالدین داوڑ نے بہیمانہ قتل کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی 7 رکنی جے آئی ٹی کو مسترد کر دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میرے بھائی حساس شہر سے لاپتہ ہوئے اور ان کی لاش افغانستان میں ملی، اس لیے اس کیس میں ایک ملک نہیں بلکہ دو ممالک ملوث ہیں۔’

احمدالدین داوڑ کا کہنا تھا کہ ‘جب دو ممالک کا معاملے سے تعلق ہو تو فیصلہ بھی عالمی سطح پر کیا جانا چاہیے اور کیس کی نوعیت کو نظر میں رکھتے ہوئے تحقیقات کے لیے بین الاقوامی جے آئی ٹی تشکیل دی جانی چاہیے۔’

پاکستان کو گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف خطرات کاسامنا رہا، آرمی چیف

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف خطرات کاسامنا رہا جب کہ قوم کوملک کے خلاف منفی پروپیگنڈے سے باخبر رہنے کی ضرورت ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کے شرکا نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا،  پاکستان میں سیکیورٹی کی صورت حال، چیلنجز پر بریفنگ کے بعد شرکا نے آرمی چیف سے بھی بات چیت کی۔

شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف خطرات کاسامنا رہا، لیکن پاکستانی قوم اور فورسز نے بڑی بہادری اور کامیابی سے ان چیلنجز کا مقابلہ کیا، اور ان خطرات کو مؤثر انداز سے شکست دی۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ ہماری ذمےداری مزید بڑھ گئی ہے، اب ہمیں آگے بڑھنا ہے اور ترقی کرنی ہے، قوم کوملک کے خلاف منفی پروپیگنڈے سے باخبر رہنے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنی قوم بالخصوص نوجوانوں میں شعور اجاگر کرنا ہے کہ وہ دشمن کے پھیلائے گئے پروپیگنڈے سے نبرد آزما ہو سکیں، اس معاملے پر مشترکہ اور جامع قومی جواب کی ضرورت ہے۔

 

میرے بچے باہر جا کر کاروبار نہ کرتے تو کیا بھیک مانگتے، نواز شریف

اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف نے احتساب عدالت میں بیان قلم بند کرایا ہے کہ پاناما جے آئی ٹی نے تحقیقات کے دوران جو بیانات ریکارڈ کئے وہ قابل قبول شہادت نہیں اور جے آئی ٹی کی تحقیقات تعصب پر مبنی اور ثبوت کے بغیر تھیں۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کی تو سابق وزیراعظم نواز شریف پیش ہوئے اور 342 کا بیان قلم بند کرایا۔ نواز شریف کو مجموعی طور پر 151 سوالات کے جواب دینے ہیں۔ انہوں نے 147 کے جوابات قلمبند کروادیے ہیں اور صرف 4 سوال باقی رہ گئے ہیں جو وہ جمعرات کو ریکارڈ کرائیں گے۔

نواز شریف نے روسٹرم پر سوالات کے جواب قلمبند کرواتے ہوئے کہا کہ میرے اکاؤنٹ میں بیرون ملک سے آنے والی رقوم درست ظاہر کی گئی ہیں، جے آئی ٹی نے تحقیقات کے دوران جو بیانات ریکارڈ کئے وہ قابل قبول شہادت نہیں، تفتیشی ایجنسی کے سامنے دیا گیا بیان عدالت میں بطور شواہد پیش نہیں کیا جاسکتا اور جے آئی ٹی کی تحقیقات تعصب پر مبنی اور ثبوت کے بغیر تھیں۔

نواز شریف نے بیان میں کہا کہ سپریم کورٹ میں حسن اور حسین نواز کا کیس میں نے نہیں لڑا، ان کا بیان میرے خلاف بطور شواہد پیش نہیں کیا جاسکتا، جے آئی ٹی کی طرف سے قلمبند کئے گئے بیان کی قانون کی نظر میں کوئی وقعت نہیں۔

نواز شریف بیان لکھواتے لکھواتے جذباتی ہوگئے اور تحریری بیان پڑھنا چھوڑ کر براہ راست جج سے مخاطب ہوگئے اور کہا کہ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ یہ کیس کیوں بنایا گیا، استغاثہ کو بھی پتہ نہیں ہو گا کہ کیس کیوں بنایا، دنیا بھر کے بچے باہر پڑھتے اور کاروبار کرتے ہیں، میرے بچوں نے اگرمجھے پیسے بھیج دیے تو کون سا عجوبہ ہو گیا، میں وزیراعظم رہا ہوں میرے بچے یہاں کاروبار کریں تب مصیبت، باہر کریں تب مصیبت، میرے بچوں نے اچھا کیا بیرون ملک کاروبار کیا، میں سیاست میں تھا اور وزیراعظم ہونے کی وجہ سے مجھے اپنے کام کےلیے فرصت نہیں تھی۔

نیب پراسیکیوٹر نے نواز شریف کے مکالمے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کیس یہ نہیں کہ آپ بیرون ملک کیوں کاروبار کرتے ہیں، کیس یہ ہے کہ بیرون ملک کیسے کاروبار کرتے ہیں۔

نواز شریف نے کہا کہ ہمیں حکومت دھکے نہ دیتی تو بچے یہاں کاروبار کر رہے ہوتے، ہمیں پہلے 1971 میں دھکے دے کر نکالا گیا، پھر 1999 میں نکال دیا گیا، حالانکہ 1971 میں تو میں سیاست میں بھی نہیں تھا، ہم خوشی سے بیرون ملک نہیں گئے، میرے بچے باہر جا کر کاروبار نہ کرتے تو کیا بھیک مانگتے، ہمارے خلاف کرپشن یا کک بیک کا کوئی ثبوت نہیں ہے، بچوں کے کاروبار سے متعلق سرکاری رقم کی خرد برد نہیں کی، میں خود سمجھنے سے قاصر ہوں کہ میرے خلاف یہ کیا کیس ہے؟۔

پتا نہیں نیا پاکستان بننا بھی ہے کہ نہیں، چیف جسٹس

لاہور: چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے دریائے راوی میں گندہ پانی ڈالنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ پتا نہیں نیا پاکستان بننا بھی ہے کہ نہیں۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے گندہ پانی دریائے راوی میں ڈالنے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ اس دوران عدالتی حکم پر وزیر منصوبہ بندی محمود الرشید عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ سارے شہر کا گندہ پانی دریائے راوی میں پھینکا جارہا ہے، آج تک واٹر فلٹریشن کا کام ہی نہیں ہوا، یہ کام کس نے کرنے ہیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ رشید صاحب پنجاب میں کس کی حکومت ہے، جس پر محمود الرشید نے کہا کہ تحریک انصاف، نئے پاکستان کی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ پتا نہیں نیا پاکستان بننا بھی ہے کہ نہیں، ایک محکمہ دوسرے پر اور دوسرا محکمہ تیسرے پر ذمہ داری ڈال دیتا ہے، یہ بہت اہم مسئلہ ہے، واٹر فلٹریشن کا کام ہنگامی حالت میں ہونا چاہیے، کمیٹی بنائیں اور رپورٹ دیں، ایک ہفتے میں واٹر فلٹریشن سے متلعق رپورٹ پیش کریں۔

سپریم کورٹ نے ایک ہفتے تک رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

Google Analytics Alternative