قومی

پاکستان کشمیری عوام کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا، وزیرخارجہ

اسلام آباد: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا موقف انتہائی واضح اور دو ٹوک ہے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کشمیر کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن روانہ ہوگئے، جہاں وہ کل برطانوی پارلیمنٹ میں منعقدہ انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس سے خطاب کریں گے۔

اس موقع پر وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ لندن میں یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر نہتے کشمیریوں پر ہونے والے بھارتی مظالم اور جبر استبداد کے خلاف بھر پور آواز اٹھائیں گے، مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا موقف انتہائی واضح اور دو ٹوک ہے، کشمیر ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے ۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادوں کی روشنی میں کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول تک ان کی بھرپور سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا جب کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے لئے ہائی کمشنر کے دفتر (اوایچ سی ایچ آر) اوربرطانوی پارلیمانی گروپ کی حالیہ رپورٹس نے پاکستانی موقف کی تائید کی ہے۔

دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے لندن روانگی سے قبل آل پارٹیز حریت کانفرنس کی سینیئر قیادت سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے لندن میں ہونے والے پروگرام کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔

حمزہ شہباز ای سی ایل سے نام خارج ہونے کے بعد لندن روانہ

لاہور: مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما حمزہ شہباز لندن روانہ ہوگئے۔

پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز لاہور کے علامہ اقبال ائر پورٹ سے قطر ایئرویز کی فلائٹ نمبر 629 کے ذریعے لندن روانہ ہوئے۔ وہ پہلے دوحہ جائیں گے جہاں سے برطانیہ پہنچیں گے۔حمزہ شہباز 10 روز بعد 13 فروری کو قطر ایئرویز کی فلائٹ 628 سے وطن واپس آئیں گے۔

حمزہ شہباز کے خلاف نیب کی جانب سے کرپشن مقدمات میں تحقیقات جاری ہیں جس کی وجہ سے انہیں 11 دسمبر کو لندن جانے سے روک دیا گیا تھا۔ انہوں نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کا اقدام لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جس کے بعد ان کا نام ای سی ایل سے نکالا گیا۔

حمزہ شہباز نے لاہور ہائی کورٹ کو بیرون ملک روانگی سے متعلق آگاہ کردیا ہے اور ان کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے اپنے موکل کی 10 روز میں واپسی کی یقین دہائی کرائی ہے۔

ورلڈ بینک سے بھی 40 کروڑ ڈالر قرضے کیلیے مذاکرات

اسلام آباد: موجودہ حکومت نے ملک کے ٹیکس سسٹم میں اصلاحات کے نام پر ورلڈ بینک سے 40 کروڑ ڈالر قرضہ لینے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔

اس نئے قرضے کیلیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور ورلڈ بینک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور چند ماہ کے دوران اس ضمن میں خاصی پیش رفت بھی ہو چکی ہے تاہم اکنامک افیئر ڈویژن کی طرف سے ابھی باضابطہ درخواست نہیں کی گئی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ورلڈ بینک نے اس نئے قرضے کے لیے وفاق اور صوبوں میں ریونیو تنازعات حل کرنے کے لیے آئینی ادارہ ’’نیشنل ٹیکس کونسل‘‘  تشکیل دینے کی شرط لگائی ہے۔

ورلڈ بینک ایگریکلچر سیکٹر کے ٹیکس ڈھانچے میں بھی تبدیلی چاہتا ہے جس کی حکومت میں شامل بااثر جاگیرداروں کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا ہو سکتا ہے، ان مذاکرات کے ابتدائی ادوار میں قرضے کا حجم ساڑھے 28 کروڑ ڈالر رکھا تھا، اگر ورلڈ بینک کا بورڈ اس قرضے کی منظوری دے دیتا ہے تو گزشتہ 14 برسوں کے دوران عالمی بینک کی پاکستان کے ٹیکس نظام میں اصلاحات کی یہ دوسری کوشش ہوگی، ماضی میں 15 کروڑ ڈالر سے شروع کی گئی ٹیکس اصلاحات کی کوششیں بری طرح ناکام ہوگئی تھیں اور مطلوبہ نتائج نہ ملنے کی وجہ سے یہ رقم ضائع ہوگئی تھی، حالیہ مذاکرات میں ورلڈ بینک ٹیکس انتظامیہ اور ٹیکس پالیسی میں بیک وقت اصلاحات لانا چاہتا ہے، مذاکرات میں شریک ذرائع کاکہنا ہے کہ اگر ورلڈ بینک کی بات مان لی گئی تو ایف بی آر ہیڈکوارٹرز میں کام کرنے والے ملازمین میں سے 20 فیصدکی چھانٹیاں کرنا پڑیں گی، گزشتہ 2 برسوں کے دوران ورلڈ بینک پاکستان کے میکرو اکنامک اعشاریوں کی خراب صورت حال کی وجہ سے کسی بھی قسم کے قرضے کی منظوری سے انکار کرتا رہا ہے، ورلڈ بینک کی اہم شرائط میں ایک یہ بھی ہے کہ پاکستان کو قرضہ کیلیے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کم ازکم ڈھائی ماہ کی درآمدات کے برابر رکھنا ہوں گے لیکن پاکستان ایسا نہیں کر سک

ورلڈ بینک چاہتا ہے کہ پاکستان ٹیکسوں کے معاملے میں کوئی پالیسی فریم ورک تیار کرے جو صوبائی ٹیکسوں سے بھی ہم آہنگ ہو، اس کے علاوہ نیشنل ٹیکس کونسل قائم کی جائے جو وفاق اور صوبوں میں تنازعات کا تصفیہ کرے، ورلڈ بینک سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی ایک جیسی پالیسی اور انتظامیہ چاہتا ہے، وفاقی کابینہ ایف بی آر ٹیکس انتظامیہ سے الگ ٹیکس پالیسی کی منظوری دے چکی ہے، ورلڈ بینک کا خیال ہے کہ پاکستان کا ٹیکس گیپ جی ڈی پی کے 10 فیصد یا 3.8 ٹریلین روپوں کے برابر ہے جو گزشتہ سال کی مجموعی ٹیکس کلیکشن کے 100 فیصد کے برابر ہے، پاکستان کی موجودہ ٹیکس کلیکشن شرح جی ڈی پی کا صرف 12.6 فیصد ہے جو ورلڈ بینک کے مطابق 23 فیصد ہونا چاہیے، غیر جانبدار اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر ورلڈ بینک کی بات سے اتفاق نہ بھی کیا جائے تو پاکستان کی ٹیکس کلیکشن جی ڈی پی کے 17 فیصد تک ہوسکتی ہے، پاکستان کا 1.7 ٹریلین روپے کا سالانہ ریونیو کرپشن اور نااہلی کی نذر ہورہا ہے، ذرائع کے مطابق ورلڈ بینک منافع کی بنیاد پرانکم ٹیکس (پرافٹ بیسڈ انکم ٹیکس) کو ٹرن اوور ٹیکسیشن میں بدلنا چاہتا ہے، ورلڈ بینک کے خیال میں اس طرح کارپوریٹ سیکٹر میں دوتہائی ٹیکس چوری پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

ورلڈ بینک زرعی شعبے پر جائیداد کی ملکیت یا انکم ٹیکس کے بجائے ٹرن اوور کی بنیاد پر ٹیکس لگانا چاہتا ہے، ورلڈ بینک کی یہ بھی تجویز ہے کہ سیلز ٹیکس کو بھارتی ماڈل کی طرح اشیا اور خدمات پر لگایا جائے لیکن پاکستان میں صوبوں کی طرف سے اس کی مزاحمت کے خدشات موجود ہیں۔دنیا کے 13 وفاقی ملکوں میں پاکستان صوبوں کی ٹیکس کلیکشن میں آخری پوزیشنوں میں دوسرے نمبر پرہے، پاکستان کا سروسز سیکٹر جی ڈی پی کا 56 فیصد ہے لیکن اس سیکٹر سے ٹیکس کلیکشن کی شرح جی ڈی پی کا صرف 0.5 فیصد ہے، 11 فیصد ریونیو سیلزٹیکس سے حاصل ہوتا ہے، ورلڈ بینک سے مذاکرات میں سیلزٹیکس پر دی گئی چھوٹ واپس لینے پر بھی بات ہورہی ہے، ورلڈ بینک کے خیال میں پاکستان کا ٹیکس سسٹم بہت ہی پیچیدہ ہے جس میں 70 قسم کے ٹیکس 37 سرکاری ایجنسیاں اکٹھے کرتی ہیں، ذرائع کے مطابق ورلڈ بینک 40 کروڑ ڈالر کے قرضہ کیلیے طویل المیعاد ٹیکس پالیسی کی تیاری میں پاکستان کی مدد کرنا چاہتا ہے لیکن اسے خدشہ ہے کہ کہیں یہ رقم بھی ماضی کی طرح عمارتوں کی تعمیر، نئے دفاتر اور ان کیلیے فرنیچر کی خریداری میں ہی خرچ نہ ہو جائے، ورلڈ بینک چاہتا ہے کہ ایسا تنظیمی ڈھانچہ تیار کیا جائے جس کی مدد سے ایف بی آر میں موجود خامیوں پر قابو پایا جا سکے۔

پارلیمنٹ نے کیسے برداشت کرلیا کہ کوئی دوسرا ادارہ ٹیکس لگائے، بلاول بھٹو

کراچی: چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ نے کیسے برداشت کرلیا کہ کوئی اور ادارہ عوام پر ٹیکس لگائے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی پریس کلب کا دورہ کیا جہاں انہوں نے نئی گورننگ باڈی  اور سینئر صحافیوں سے ملاقات  کی،  اس موقع پر بلاول بھٹو کو پریس کلب کی اعزازی رکنیت بھی دی گئی۔

پریس کلب میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ کراچی پریس کلب سمیت ملک بھر کے پریس کلبز نے ہمیشہ سے جمہوریت کی جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے اور جمہوریت کی مضبوطی میں اپنا کردار ادا کیا ہے، تمام پریس کلبوں کا دورہ کروں اورکوشش کروں گا کہ  ملک بھر کے پریس کلبوں کو سیاست کا مرکز بناؤں، ہم  نے آزادی اظہار رائے کے لیے جدوجہد کرنی ہے  اور آزادی اظہار رائے پر ہونے والے حملوں کا دفاع کرنا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ  پی پی پی نے 18ہویں ترمیم کی صورت میں 1973 کا آئین بحال کیا، حکومت اور دیگر قوتوں کی طرف سے جمہوریت، انسانی حقوق اور 18ہویں ترمیم پر حملے ہورہے ہیں، پی پی پی یہ حملے برداشت نہیں کرے گی اور بھرپور سیاسی جدوجہد کے لیے تیار ہے، 18ہویں ترمیم کو کمزور کرنے والےعدالتی فیصلوں کے خلاف نظر ثانی کے لیے جائیں گے، اگر اس کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی تو ملک کے کونے کونے میں جاؤں گا اور لانگ مارچ کے لیے تیار ہوں لیکن 18ہویں ترمیم اور آئین پر آنچ نہیں آنے دوں گا۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ عدالتوں کی طرف سے عجیب عجیب فیصلے آرہے ہیں، تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ مختصر اور تفصیلی فیصلوں میں اتنا اختلاف ہو، عدالتوں کے متضاد فیصلوں پر عوام سوال اٹھائیں گے، عدالتیں اس کی کیا منطقی دلیل دیں گی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پچھلے ایک سال میں پارلیمنٹ نے اپنا اختیار بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے، حکومت اور اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ کا کھویا ہوا اختیار واپس لینا ہے، قومی اسمبلی نے کیسے برداشت کرلیا کہ کوئی دوسرا ادارہ عوام پر ٹیکس لگائے، سپریم کورٹ سمیت کسی بھی عدالت کو عوام پر ٹیکس نافذ کرنے کا کوئی اختیار نہیں، یہاں تک سینیٹ کو بھی یہ اختیار حاصل نہیں، یہ صرف قومی اسمبلی کا اختیار ہے، ان کے پاس یہ اختیار کیسے گیا اس پر قومی اسمبلی میں بحث ہونی چاہیے، ایگزیکٹیو اختیارات وزیراعظم کو حاصل ہیں جنہیں کوئی دوسرا ادارہ استعمال نہیں کرسکتا، کب تک پارلیمنٹ خاموش بیٹھ کر اس تماشے کو دیکھے گی۔

چیرمین پی پی پی نے کہا کہ اگر باقی اداروں کا ایکٹوازم (فعالیت) ہوسکتی ہے تو پارلیمانی ایکٹوازم کیوں نہیں ہوسکتی، باقی ادارے خود کو طاقتور بناسکتے ہیں تو پارلیمنٹ خود کو طاقتور کیوں نہیں بناسکتی، اگر حکومت پارلیمنٹ کو سنجیدہ لے اور عوام کے مسائل حل کرے تو کامیاب بھی ہوسکتی ہے، ایک بنیادی فلسفہ ہونا چاہیے کہ پہلے انسان بنو پھر سیاست دان، حکمران یا جج بنو، انسداد تجاوزات کے خلاف عدالتوں اور حکومت کے فیصلے انسانی بنیادوں پر نہیں ہیں، میئر کراچی کو غریب لوگوں کی دکانیں اور گھر گراتے دیکھ کر پریشان ہوجاتا ہوں۔

نریندر مودی کے دورہ کشمیر سے پہلے بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہے، پاکستان

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کے دورہ مقبوضہ کشمیر سے پہلے بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہوگیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر اظہار مذمت کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد فیصل کا ٹوئٹر پر کہنا تھا کہ نریندر مودی کے دورہ مقبوضہ کشمیر سے پہلے بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہوگیا ہے اور بھارتی فورسز نے نہتے کشمیریوں پر مظالم مزید تیز اور بڑھا دیئے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی فورسز کی جانب سے وادی میں گھر گھر تلاشی اور محاصرے کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے اور اس آڑ میں کشمیری نوجوانوں پر ظلم  کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں لیکن بھارت یاد رکھے کہ ایسی بزدلانہ کارروائیوں سے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبایا نہیں جاسکتا۔

نواز شریف کوٹ لکھپت جیل سے سروسز اسپتال منتقل

 لاہور: سابق وزیراعظم نواز شریف کو کوٹ لکھپت جیل سے سروسز اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

کوٹ لکھپت جیل کی انتظامیہ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو سروسز اسپتال لاہور منتقل کردیا ہے جہاں ان کے لیے اسپتال کا وی آئی پی روم مختص کیا گیا ہے جسے محکمہ داخلہ پنجاب نے سب جیل قرار دے دیا ہے۔ سروسز اسپتال میں 3 رکنی میڈیکل بورڈ نواز شریف کا معائنہ کرے گا۔

دوسری جانب وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو کھانے پینے اور ملنے جلنے سمیت تمام سہولیات دی گئیں لیکن مریم نواز اور آل شریف پروپیگنڈا کر رہے تھے کہ نواز شریف سے بہتر سلوک نہیں کیا جا رہا، مسلم لیگ (ن) کے رہنما سروسز اسپتال پر بھی اعتراض اٹھا رہے ہیں۔ سروسز اسپتال میں نواز شریف کے تمام ٹیسٹ کیے جائیں گے،  پی آئی سی سروسز اسپتال کے بالکل ساتھ ہے، ضرورت پڑنے پر انہیں وہاں منتقل کیا جا سکتا ہے، نواز شریف کو رو بصحت ہونے پر دوبارہ جیل منتقل کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف مختلف امراض میں مبتلا ہیں۔ ان کے طبی معائنے کے لیے پنجاب حکومت کی جانب سے امراض قلب کے ماہرین پر مشتمل خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا۔ جس نے 30 جنوری کو 2 گھنٹے تک کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف کا طبی معائنہ کیا تھا۔ میڈیکل بورڈ نے میڈیکل رپورٹس کی روشنی میں نواز شریف کو اسپتال منتقل کرنے کی سفارش کی تھی۔

نواز شریف کو کچھ ہوا تو ذمہ دار عمران خان ہوں گے، حمزہ شہباز

لاہور: پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ نواز شریف کی صحت سے متعلق اہل خانہ کو کچھ آگاہ نہیں کیا جا رہا اگر نواز شریف کو کچھ ہوا تو ذمہ دار وزیر اعظم ہوں گے۔

پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ میں دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ نیازی صاحب نے وعدہ کیا تھا کہ ہم نئے صوبے بنائیں گے، حکومت جنوبی پنجاب اور بہاولپور کو صوبہ بنائے ہم غیر مشروط حمایت کریں گے۔

حمزہ شہباز نے کہا کہ سانحہ ساہیوال پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور جب تک متاثرہ خاندان کو انصاف نہیں ملتا حکومت کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے، گالیاں دینے اور الزام تراشی سے 22 کروڑ عوام کا پیٹ نہیں بھرتا، انضما م پلس وزیر اعلیٰ پنجاب نے دو آئی جیز کو چپڑاسی کی طرح فارغ کیا ، مانگے تانگے کے ڈالروں سے معیشت کا بیڑہ غرق کیا جارہا ہے، نیازی صاحب نے پانچ ماہ بعد تسلیم کر لیا ہے کہ معاشی حالات بہتر نہیں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ (ن) لیگ مشترکہ اپوزیشن کا حصہ ہے، مولانا فضل الرحمن اور اتحادیوں سے مشاورت کے بعد لانگ مارچ سمیت کسی بھی طرح کا فیصلہ کریں گے۔

غریب اور امیر کا قانون ایک ہونے تک حکومت کامیاب نہیں ہوسکتی، فواد چوہدری

گوجرانوالہ: وفاقی وزیراطلاعات و نشریات بیرسٹر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ جس طرح کی جیل نوازشریف، شہبازشریف اور سعدرفیق کو ملی ہوئی ہے عوام کو پتہ چل جائے تو آدھے پاکستانی جیل میں جانے کی خواہش کریں گے۔ 

گوجرانوالہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا حال ایسے ہے جیسے جیل میں ہونے والی نماز کا ہوتا ہے، قاتل اذان دیتا ہے، ڈاکو امامت کراتے ہیں، اور چور سب نمازی ہوتے ہیں، یہی ہماری اپوزیشن ہے۔ پہلے ہمیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کو الگ الگ بتانا پڑتا ہے، یہ سب شروع سے ہی ایک تھے لیکن اب اچھا ہوگیا ہے کہ یہ دونوں جماعتیں اعلانیہ بھی ایک ہوگئی ہیں، چور پہلے بھی اکٹھے تھے اب بھی اکٹھے ہیں۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معشیت بہت اچھی تھی، اربوں روپے ملک میں آتے تھے، لیکن دونوں جماعتوں نے جو پیسہ گوجرانوالہ، جہلم، رحیم یارخان، پنڈدادن خان، لودھراں، لاڑکانہ میں لگانا تھا وہ پیسہ دبئی اور لندن سے برآمد ہوا، 90 ارب روپے لاڑکانہ پیکج کا اعلان ہوا اور اس پیسے سے دبئی میں محلات خرید لئے گئے، سندھ کا پیسہ کراچی سے نکلتا ہے، کراچی سے لاڑکانہ کے لئے نکالا جاتا ہے اور پھر لاڑکانہ سے لانچوں کے ذریعے دبئی پہنچ جاتا ہے، پنجاب کا پیسہ لاہور میں آتا ہے اور لاہور سے لندن میں ایون فیلڈ اپارٹمنس کی صورت برآمد ہوتا ہے، اور جب ان سے پوچھوکہ پیسے کہاں سے لائے تھے توکہتے ہیں جمہوریت خطرے میں پڑگئی ہے۔

وزیراطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان وزیراعظم ہاؤس کے بجائے اپنے گھر بنی گالہ میں رہتے ہیں اور تمام اخراجات خود برداشت کرتے ہیں، وفاقی وزرا بھی عیاشیاں نہیں کررہے، پوری حکومت خود کو عوام کی جوابدہ سمجھتی ہے، اس کے برعکس جب شہبازشریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے تو ان کے 11 دفاتر تھے، ہر دفترمیں سرکار بیٹھی ہوئی تھی، جاتی امرا میں قائم اپنے ذاتی گھر کی دیوار بنانے کے لئے عوام کے  27 کروڑ روپے لگا دیئے گئے۔ نوازشریف جو آج مجبوراً پاکستان کے اسپتالوں میں علاج کرانا پڑ رہا ہے انہیں پاکستان کا اسپتال ہی پسند نہیں آرہا، جب کہ 30 سال تک یہی لوگ حکمران رہے، ان کے بھائی شہبازشریف پنجاب کے وزیراعلیٰ رہے لیکن پھر انہیں اپنے ہی اسپتال پسند نہیں آرہے، حالانکہ انہیں ابھی بھی وی وی آئی پی سہولیات ملی ہوئی ہیں، انہیں پاکستان کے عام عوام کا احساس ہونا چاہے جو انہی اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ جس طرح کی جیل نوازشریف، شہبازشریف اور سعدرفیق کو ملی ہوئی ہے عوام کو پتہ چل جائے تو آدھے پاکستانی جیل میں جانے کی خواہش کریں گے، جب چاہتے ہیں پروڈکشن آرڈر لیتے ہیں اور ریمانڈ کے 90 دن منسٹر انکلیو میں جاکر بیٹھ جاتے ہیں، یہ ہماری حکومت ہے اور سچ یہ ہے کہ غریب کے لئے قانون اور اور امیر کے لئے قانون اور ہے، جب تک غریب اور امیر کا قانون ایک نہیں ہوگا تحریک انصاف کا مشن بھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ نوازشریف شہبازشریف جیل جائیں تو پوری جیل ہی 5 اسٹار ہوٹل میں بدل جاتی ہے، وہاں سے 5 اسٹار اسپتالوں میں چلے جاتے ہیں، اور اگر غریب ٹانگے والا پکڑا جائے تو ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے سب جانتے ہیں، جب تک قانون کی عملداری برابر نہیں ہوگی اور جب تک نوازشریف اور آصف زرداری کے ساتھ جیل میں عام عوام جیسا سلوک نہیں ہوگا تحریک انصاف کی حکومت کامیاب نہیں ہوسکتی۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے پاکستان کو مذاق بنا رکھا ہے، پاکستانی عوام کے پیسے کا بے دریغ ضیاع کیا گیا اور ملک کی حالت خراب کردی گئی، اب کہتے ہیں کہ حاجیوں کو سبسڈی نہیں دی گئی، ہم حج سبسڈی کیا دیتے؟ آپ نے غریب کی جیبوں میں چھوڑا کیا ہے جو ہم نکال کر دوسرے لوگوں کو سبسڈی دے سکیں۔

 

Google Analytics Alternative