قومی

عمران خان کا میانوالی کی نشست برقرار رکھنے کا فیصلہ

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان نے قومی اسمبلی کی میانوالی کی نشست کو نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں قومی اسمبلی کی پانچ نشستوں سے الیکشن میں حصہ لیا تھا اور وہ تمام نشستوں پر کامیاب ہوگئے تھے۔

عمران خان نے میانوالی، کراچی، لاہور، اسلام آباد اور بنوں میں قومی اسمبلی کی نشستوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کراچی، لاہور، اسلام آباد اور بنوں کی نشست چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ این اے 95 میانوالی کی نشست پر برقرار رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے نتائج جاری کر دیے، جن کے مطابق تحریک انصاف قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت بن گئی ہے۔

قومی اسمبلی کی 270 میں سے 115 نشستیں تحریک انصاف کے نام رہیں۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو اپنے قریبی ساتھیوں سمیت قومی اسمبلی کی کم سے کم 7 یا 6 نشستیں ہرحال میں چھوڑنا پڑیں گی۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی کے 5 حلقوں سے انتخابات لڑے تھے اور تمام میں انہوں نے کامیابی حاصل کی۔

یوں وہ ملکی تاریخ کے پہلے سیاست دان ہیں جنہوں نے تمام حلقوں سے وائٹ واش کیا۔

عمران خان نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے- 35 بنوں، این اے-53 اسلام آباد، این اے-95 میانوالی، این اے -131 لاہور اور این اے -243 کراچی سے انتخاب لڑا تھا اور تمام میں کامیابی حاصل کی۔

تحریک انصاف کے سربراہ کی چھوڑی ہوئی باقی 4 نشستوں پر دوبارہ انتخابات منعقد ہوں گے، جس کے حوالے سے یہ کہنا مشکل ہے کہ چھوڑی ہوئی نشستوں پر دوبارہ تحریک انصاف کامیابی حاصل کرلے گی۔

 

عمران خان کو لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے خواجہ سعد رفیق سے کڑے مقابلے کے بعد 600 ووٹ سے فتح حاصل ہوئی تھی، تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ عمران خان کے علاوہ دوسرے پی ٹی آئی کے امیدوار کو مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سے شکست ہوسکتی ہے۔

ایسی ہی صورتحال کراچی کی بھی ہے جہاں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کو تحریک انصاف کے مقابلے میں عمران خان کی چھوڑی ہوئی نشست پر فیورٹ قرار دیا جارہا ہے۔

دوسری جانب سے اسلام آباد اور بنوں کی نشستوں کی صورتحال مختلف ہے، جہاں تحریک انصاف کو فیورٹ قرار دیا جارہا ہے۔

ترک صدر کا عمران خان کو فون، انتخابات میں کامیابی پر مبارک باد

انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردوان نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو انتخابات میں کامیابی پر مبارک باد پیش کی ہے۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو ترک صدر رجب طیب اردوان نے ٹیلی فون کیا اور انہیں انتخابات میں کامیابی پر دلی مبارک باد پیش کی۔

رجب طیب اردوان نے چیئرمین تحریک انصاف اور آئندہ حکومت کے لیے نیک تمناؤں اور خواہشات کا اظہار کیا جب کہ مبارک باد دینے پر عمران خان نے ترک صدر کا شکریہ ادا کیا اور دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ترکی کے مابین تعلقات کے نئے دور کے آغاز پر اتفاق کیا۔

واضح رہے گزشتہ روز بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی عمران خان کو ٹیلی فون کرکے انہیں عام انتخابات میں کامیابی پر مبارک باد دی اور عمرن خان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کے نئے دور کے آغاز کے لیے تیار ہیں۔

نواز شریف پمز اسپتال سے اڈیالہ جیل منتقل

اسلام آباد: پمز اسپتال میں زیرعلاج سابق وزیر اعظم نواز شریف کو طبیعت بہتر ہونے اور ان کے اصرار پر اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔

نواز شریف کو سخت سیکیورٹی میں  پمز اسپتال کے کارڈیک وارڈ سے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا جس کے بعد اسپتال کا کارڈیک وارڈ عام افراد کے لیے بھی کھول دیا گیا۔

ڈاکٹروں کے مطابق نواز شریف کی حالت پہلے سے بہتر ہے، علاج کے لیے ماہرین پر مشتمل ڈاکٹروں کی ٹیم نے نواز شریف کے خون اور یورین کی تازہ ترین ٹیسٹ رپورٹس کا دوبارہ جائزہ لیا۔ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ  نواز شریف کی طبیعت پہلے سے بہتر ہے اور ان کا اصرار تھا کہ انہیں اڈیالہ جیل واپس منتقل کردیا جائے۔

واضح رہے کہ نواز شریف کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے پمز اسپتال منتقل کرنے کے بعد کارڈیک کے پرائیویٹ وارڈ میں رکھا گیا  جسے سب جیل قرار دیا گیا تھا۔ نوازشریف کو خون میں کلاٹس بننے اوردونوں بازوؤں کی رگوں میں خون کی گردش متاثر ہونے سے شدید درد محسوس کرنے پر اسپتال منتقل کیا گیا۔

دوسری جانب نگراں وزیر داخلہ پنجاب شوکت جاوید  نے نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک منتقل کرنے کے امکان مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی صحت بہتر ہے، فکرمندی کی کوئی بات نہیں، انہیں حفظ ماتقدم کے طور پر ذاتی معالج کے کہنے پر لایا گیا تھا، پاکستان میں دل کے امراض کا بہترین علاج کیا جاتا ہے، تمام سہولیات موجود ہے، ایسا کچھ نہیں کہ نواز شریف کا پاکستان میں علاج ممکن نہ ہوسکے۔

نگراں وزیر داخلہ پنجاب کا کہنا تھا کہ مرض کی ہسٹری کا لندن سے منگوانا یا بھجوانا 5 منٹ کا کام ہے، نوازشریف کے کھانے میں کوئی بدپرہیزی نہیں کی گئی بلکہ ہدایات کے مطابق ان کے گھر سے کھانا آ رہا ہے، بیٹی مریم نواز کی طرف سے والد کی تیمار داری کی کوئی درخواست نہیں کی گئی۔

ملزمان کی گرفتاری کیلئے کسی امتیازی پالیسی پر یقین نہیں رکھتے، چیئرمین نیب

 اسلام آباد: چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب ملزمان کی گرفتاری کیلئے کسی امتیازی پالیسی پر یقین نہیں رکھتا۔

چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاویداقبال کی زیرصدارت اجلاس ہوا جس میں بدعنوانی میں ملوث مبینہ ملزمان کی گرفتاری کیلئے بنائی گئی پالیسی کا جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پر چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ ملزمان کی گرفتاری کیلئے کسی امتیازی پالیسی پر یقین نہیں رکھتے، بلا امتیاز، ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق مبینہ ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی جاتی ہے۔

 

جسٹس (ر) جاویداقبال نے کہا کہ نیب بدعنوانی میں مبینہ ملزم کی گرفتاری کے وقت الزامات کی سنگین نوعیت ،بدعنوانی میں مبینہ کردار سمیت تمام پہلووٴں کا جائزہ لے کر ملزم کو گرفتار کرتا ہے اور ملزم کی گرفتاری کے بعد اس کو متعلقہ احتساب عدالت میں پیش کرتا ہے۔

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ نیب ملزم پر لگائے گئے الزامات کی مکمل تفصیلات سے احتساب عدالت کوآگاہ کرتا ہے اور مزید تحقیقات کیلئے ملزم کو احتساب عدالت کی جانب سے ریمانڈر پر نیب کے حوالے کیا جاتا ہے جب کہ نیب اس دوران ملزم سے سائنسی بنیادوں پر ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق تحقیقات کرتا ہے۔

نوازشریف، مریم نواز، کیپٹن (ر) صفدرکی درخواست پر سماعت ملتوی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے احتساب عدالت سے ریفرنسز کی منتقلی پر جاری دلائل میں طوالت کے باعث نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی ایون فیلڈ ریفرنس فیصلے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت 2 اگست تک ملتوی کر دی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور میاں گل حسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے احتساب عدالت کے فیصلے اور العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کی منتقلی کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے نیب عدالت سے ریفرنسز منتقلی پر دلائل دیے اور دلائل کی طوالت کے باعث نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی ضمانتوں کی درخواستوں کی سماعت نہیں ہوسکی۔

خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ احتساب عدالت ایون فیلڈ کا فیصلہ سنا چکی ہے جبکہ فلیگ شپ اور العزیزیہ ریفرنسز زیر التوا ہیں اور تینوں ریفرنسز میں ہمارا دفاع مشترک ہے، کیسز میں قانونی نکات اور حقائق بھی ملتے جلتے ہیں۔

انھوں نے عدالت سے کہا کہ احتساب عدالت پہلے فیصلے میں کہہ چکی ہے کہ عام طور پر بچے والد کی زیر کفالت ہوتے ہیں اور اب اسی معاملے پر وہ دوبارہ کیسے سماعت کریں گے۔

جسٹس میاں گل حسن نے استفسار کیا کہ کیا ماضی میں ایسی نوعیت کے کسی مقدمے میں ٹرائل ٹرانسفر کرنے کی کوئی روایت موجود ہے جس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ بالکل اسی نوعیت کی کوئی روایت موجود نہیں، یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد معاملہ ہے تاہم اس سے ملتی جلتی نظیر ضرور موجود ہے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ جج جن باتوں پر اپنا ذہن ظاہر کر چکے ہوں تو اس پر کیسے فیصلہ کریں گے۔

جسٹس میاں گل نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جج کو وکلا کو اپنے دلائل سے قائل کرنا ہوتا ہے کیونکہ کئی بار میں عدالت آنے سے پہلے کیس کی فائل پڑھ کر سمجھتا ہوں اس میں کچھ بھی نہیں لیکن وکلا اپنے دلائل سے میرا ذہن بدل دیتے ہیں۔

جسٹس عامر فاروق نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ دو ریفرنسز اسلام آباد میں کسی اور احتساب عدالت میں منتقل کر دیے جائیں، کیسز منتقل ہونے سے زیرالتوا کیسز موجودہ اسٹیج پر شروع ہوں گے، جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ جی بالکل اسی اسٹیج سے شروع ہوں گے۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ فلیگ شپ ریفرنس میں شامل کمپنیوں میں سے پانچ کے نام کا آغاز کوئینٹ لفظ سے ہوتا ہے، کوئینٹ کوئی کونسیپٹ ہے یا ا نسپائریشن؟ جس پر خواجہ حارث نے بتایا کہ بظاہر ایسی کوئی خاص وجہ نہیں ہے اسی دوران عدالت کا وقت ختم ہوگیا جس کے بعد سماعت 2 اگست تک ملتوی کردی گئی۔

خواجہ حارث 2 اگست کو اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

علی صدیقی کی امریکی سیکریٹری دفاع سے ملاقات

امریکا میں پاکستانی سفیر علی جہانگیر صدیقی نے امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس سے پینٹاگون میں ملاقات کی۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں میں دوطرفہ تعلقات سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

علی جہانگیر صدیقی کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک دوطرفہ تعلقات کی بحالی کی طرف کام کررہے ہیں۔

علی جہانگیر صدیقی اور جیمز میٹس کی ملاقات میں جنوبی ایشیا میں علاقائی سلامتی کے امور بھی زیر بحث آئے۔

واضح رہے کہ یہ نو منتخب سفیر علی جہانگیر صدیقی کی امریکا کے کسی بھی اعلیٰ حکام سے پہلی ملاقات تھی۔

اس سے قبل علی جہانگیر صدیقی نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے معاون خصوصی برائے معاشی و تجارتی امور کے فرائض سر انجام دیے تھے جس کے بعد انہیں رواں سال مارچ کے مہینے میں امریکا میں پاکستانی سفیر کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔

ان کی یہ ملاقات افغان صدر اشرف غنی کی پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے ٹیلی فونک رابطے کے بعد سامنے آئی جس میں دونوں رہنماؤں نے ماضی کو بھولتے ہوئے سماجی و معاشی مستقبل کے لیے ایک نئی اور مستحکم بنیاد رکھنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

وفاق، صوبے میں بی اے پی کا پی ٹی آئی سے اتحاد، جام کمال وزیراعلیٰ کے امیدوار

بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) نے وفاق میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کردیا جبکہ پی ٹی آئی وزیراعلیٰ بلوچستان کے امیدوار جام کمال کو ووٹ دے گی۔

اسلام آباد میں بی اے پی کے سربراہ جام کمال نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم وفاق میں غیرمشروط حمایت کریں گے۔

جام کمال نے کہا کہ بی اے پی بلوچستان اور پاکستان کی ترقی کے لیے وفاق میں جس جماعت کے ساتھ چل سکتی ہے تو وہ پی ٹی آئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور بی اے پی کے وژن میں بہت ساری باتیں مشترک ہیں،ہم بلوچستان کی ترقی کے لیے پی ٹی آئی کے ساتھ مل کام کریں گے۔

جام کمال نے کہا کہ بی اے پی نے پی ٹی آئی کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا ہے ،اس طرح ہم بلوچستان کی حکومت کا بھی حصہ بنیں گے اور بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے بھی ایک طریقہ کار بنائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اچھا پیغام لے کر بلوچستان جارہے ہیں، پی ٹی آئی اور بی اے پی ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہوئے ترقی کے سفر میں آگے جائیں گے۔

بی اے پی کے سربراہ نے کہا کہ بلوچستان میں ہماری جماعت سادہ اکثریت سے بھی آگے جا چکی ہے۔

اس موقع پر پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے بلوچستان عوامی پارٹی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ بی اے پی کی جانب سے یکجہتی کے اظہار پر شکر گزار ہیں، پی ٹی آئی نے بلوچستان میں بی اے پی کے ساتھ ملنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاق میں پی ٹی آئی تسلی بخش اکثریت حاصل کرچکی ہے اور اس میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ترقی کے لیے کام کریں گے جس کے لیے مرکز اور صوبے کے درمیان تعاون جاری رہے گا۔

پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیرترین نے کہا کہ بی اے پی کو اکثریت حاصل ہوئی ہے اس لیے ان کا حق ہے کہ وزیراعلیٰ ان کا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بی اے پی نے جام کمال کو بلوچستان کے وزیراعلیٰ کے لیے نامزد کیا ہے اور ہم ان کی حمایت کریں گے۔

جہانگیر ترین نے دعویٰ کیا کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)، پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ تعاون کرے گی۔

پریشر گروپ بنانے کی خبر بے بنیاد ہے، پرویز خٹک

سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا (کے پی) پرویز خٹک نے کہا کہ پریشر گروپ ٹی وی چینلز نے بنایا ہے، ہم نے نہیں بنایا اور میں اس پروپیگنڈے کو مسترد کرتا ہوں کیونکہ یہ بے بنیاد اور جھوٹی خبر ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان ہم سب کے لیڈر ہیں وہ جو فیصلہ کریں گے ہم آنکھیں بند کرکے قبول کریں گے۔

جسٹس شوکت صدیقی کیخلاف ریفرنس کی کارروائی روکنے کی درخواست مسترد

اسلام آباد: سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کیخلاف ریفرنس کی کارروائی روکنے کی درخواست مسترد کردی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں پانچ رکنی سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کیخلاف ریفرنس کی سماعت کی۔  اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان نے کارروائی روکنے کی درخواست دائر کرتے ہوئے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا کل کا حکم سپریم کورٹ میں چیلنج کرنا چاہتے ہیں، عدالت ہماری درخواست کے فیصلے تک کونسل کی کارروائی روک دے۔

جوڈیشل کونسل نے کارروائی روکنے کی استدعا مسترد کردی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آج گواہوں کا بیان ریکارڈ کرنے دیں پھر آپ کی درخواست کو دیکھ لیں گے، اگر اس پر رجسٹرار کو اعتراض نہ ہو تو ایک آدھ دن میں سماعت کے لیے لگا دیں گے۔ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی گئی۔

گزشتہ روز سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی تین درخواستوں کو مسترد کردیا تھا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اعلی عدلیہ کے بعض ججز کو ملنے والے فنڈز کی تفصیلات مانگی تھیں جنہوں نے سرکاری رہائشگاہوں کے ساتھ ساتھ اپنے نجی گھروں کو بھی سرکاری رہائشگاہ قرار دیا ہوا ہے۔ ساتھ ہی وہ سرکاری خزانے سے ان گھروں کی دیکھ بھال کے لیے ہزاروں روپے کا الاؤنس بھی لے رہے ہیں۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر الزام ہے کہ انھوں نے اسلام آباد میں اپنی سرکاری رہائش گاہ کی تزئین و آرائش کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا اور مختص کردہ بجٹ سے زیادہ رقم خرچ کرائی۔

Google Analytics Alternative