قومی

سارے سیاسی چوہدری مرجائیں تو بھی فضل الرحمان کو اقتدار نہیں ملے گا، شیخ رشید

لاہور: وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا کہ ملک کے سارے سیاسی چوہدری مرجائیں تو بھی فضل الرحمان کو اقتدار نہیں ملے گا۔

لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران شیخ رشید احمد نے کہا کہ وقت بہت نازک ہے، ملک میں سیاست زور و شور پر ہے، کشمیر کا محاذ گرم ہے لیکن ملک میں دھرنا دھرنا ہورہا ہے۔ جے یو آئی نے ابھی تک دھرنے کی کوئی بات نہیں کی، اس کا مطلب دھرنا ابھی گرے لسٹ میں ہے۔ مولانا فضل الرحمان کو فیس سیونگ دی جاسکتی ہے۔ ممکن ہے دھرنا نہ ہو،زیادہ پردے کھولنے پر مولانا مجھ سے خفا ہوجائیں گے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ مولانا ڈنڈا برداروں کو دکھا رہےہیں جیسے دہشت گرد تیار ہو رہے ہیں، اسلام آباد پر چڑھائی کرنے سے مسائل حل ہونے کا سوچنے والے عقل کے اندھے ہیں مذاکرات کے دروازے بند کرنا جمہوریت کےخلاف ہے، مولانا فضل الرحمان جن کے اشاروں پر کھیلنے جارہے ہیں ان کی سیاست تباہ ہو جائے گی، سارے چوہدری مر جائیں تب بھی مولانا کو اقتدار نہیں ملے گا۔

وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف ایک ہی گاڑی کے دو پہیے ہیں، قومی سلامتی کے اداروں نے پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھایا ہواہے، نیشنل ایکشن پلان ان ایکشن ہے، اس بار جمہوریت کو شب خون لگا تو فیصلے جلد ہوں گے اور 400 سے 600 لوگ اندر ہوں گے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ دینی مدرسے ہماری آنکھ کے ستارے اور جھومر ہیں، مدرسے دین کے مینار ہیں اور میں ان کے ساتھ کھڑا ہوں، مولانا فضل الرحمان گولڈن ٹیمپل تو گئے لیکن کبھی قائد اعظم کے مزار پر حاضری نہیں دی۔ سیاست میں کوئی چیز آخری نہیں ہوتی، آج کے دوست کل کے دشمن اور کل کے دشمن آج کے دوست ہیں، یہی پاکستان کی سیاست کا حسن ہے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی کے ذمہ دار سابق حکمران ہیں، نواز شریف اور آصف زرداری نے اس ملک کو نوچا ہے، پاکستان معاشی گاڑی پر چل چکا ہے، آئندہ 3 سال میں حالات بہتر ہوجائیں۔

حکومت کا جے یو آئی کی ملیشیا فورس انصارالاسلام کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

اسلام آباد: حکومت کا جمیعت علمائے اسلام (ف) کی ملیشیا فورس انصارالاسلام کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت کی جانب سے جے یو آئی ف کی ذیلی جماعت کے خلاف کارروائی کے سلسلے میں وزارت داخلہ نے انصار الاسلام کو کالعدم قرار دینے کی سمری الیکشن کمیشن اور وزارت قانون کو بھجوائی تھی جس میں کہا گیا کہ باوردی فورس نے خاردار تاروں سے لیس لاٹھیاں اٹھاکر پشاور میں مارچ کیا اور باوردی فورس بظاہر حکومتی رٹ چیلنج کرنا چاہتی ہے۔

دوسری جانب وزارت داخلہ نے کارروائی کے لیے وفاقی کابینہ سے بھی منظوری لے لی ہے، وفاقی حکومت نے آرٹیکل 146 کے تحت وزارت داخلہ کو صوبوں سے مشاورت کا اختیار دے دیا جب کہ وفاقی کی ہدایت پر عملدرآمد کے لیے صوبوں کو ہر قسم کی کارروائی کا اختیار ہوگا، قانون کے مطابق انصارالاسلام پر پابندی عائد کی جائے گی۔

ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ انصار الاسلام نامی کوئی جماعت الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہی نہیں اور کسی بھی جماعت کو الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کرنا وزارت داخلہ کا صوابدید ہے جب کہ الیکشن کمیشن نے کسی جماعت کو کالعدم قرار دینا ہوتو معاملہ وزارت داخلہ کو ریفر کیا جاتا ہے، کسی بھی سیاسی جماعت کو ممنوعہ غیر ملکی فنڈنگ، ملکی سالمیت و خود مختاری کیخلاف اقدام اور دہشتگردی میں ملوث ہونے پر کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے۔

ذرائع وزارت قانون            کے مطابق ایکشن ایکٹ کی شق 212 کے تحت وزارت داخلہ کو نوٹیفکیشن کے ذریعہ ڈیکلیریشن جاری کرنا ہوگا، ڈیکلیریشن جاری ہونے کے 15 روز کے اندر وزارت داخلہ جماعت کو کالعدم قرار دینے کا معاملہ سپریم کورٹ بھیجے گی اور سپریم کورٹ کی جانب سے ڈیکلیریشن کو برقرار رکھے جانے کے فیصلہ جماعت کالعدم قرار ہوجائے گی۔

جے یو آئی (ف) کے مارچ سے نمٹنے کے لیے حکومت کی منصوبہ بندی شروع

اسلام آباد: مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ سے نمٹنے کے لیے حکومت نے منصوبہ بندی شروع کردی۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ سے نمٹنے کے لیے حکومت نے منصوبہ بندی شروع کردی۔ ذرائع کے مطابق آرٹیکل 245 کے تحت سول انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج طلب کی جا سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق امن و امان کی صورتحال کے پیش نظرسرکاری عمارتوں اور اہم تنصیبات پر فوج تعینات کرنے پر غوربھی کیا جارہا ہے جب کہ فوج طلبی کا حتمی فیصلہ وزارت داخلہ کرے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روزمارچ سے متعلق وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر وزیر دفاع پرویز خٹک نے 7 رکنی حکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دے دی تھی، کمیٹی مولانا فضل الرحمان سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کرے گی۔

فضل الرحمان کے دھرنے کی فنڈنگ کرنے والوں کے کوائف جمع

لاہور: قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ اوردھرنے کے لئے فنڈنگ کرنے والوں کے کوائف جمع کرنے شروع کردیئے ہیں جبکہ پنجاب میں جے یوآئی (ایف) کے اہم رہنماؤں کی نقل وحرکت پرنظربھی رکھی جارہی ہے۔

جمعیت علما اسلام (ف) کے آزادی مارچ اوردھرنے کے لیے  پارٹی کارکنوں سمیت تاجروں اورکاروباری طبقے سے بھی فنڈزلئے جارہے ہیں۔ حساس اداروں سمیت دیگرمحکموں نے آزادی مارچ اوردھرنے کے لئے بڑے پیمانے پرفنڈنگ کرنیوالے تاجروں ، کاروباری شخصیات کا سراغ لگانا شروع کردیا ہے۔ حساس اداروں کوشبہ ہے کہ پنجاب میں چند بڑی کاروباری شخصیات جو مسلک کی بنیاد پر مولانا فضل الرحمان کے حامی ہیں ان کی طرف سے آزادی مارچ اوردھرنے کے لئے لاکھوں روپے کے فنڈزاوردیگرسہولیات فراہم کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ کئی تاجراوربڑے دکاندار بھی آزادی مارچ اوردھرنے کے لئے فنڈنگ کررہے ہیں لیکن ان کی تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آسکی ہیں جب کہ جے یوآئی (ف) بھی ان کے نام ظاہرنہیں کررہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اگرحکومتی کمیٹی اورمولانا فضل الرحمن کے درمیان مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے اورمولانا فضل الرحمن مارچ اوردھرنے کی ضد پرقائم رہتے ہیں تو پھرجماعت کے اہم رہنماؤں کو حراست میں لے کرنظربند کیا جاسکتا ہے۔

حساس ادارے اس بات کا بھی سراغ لگارہے ہیں کہ تاجروں ، کاروباری شخصیات اورجے یوآئی (ف) کے اہم رہنماؤں کے علاوہ مسلم لیگ (ن) ،پیپلزپارٹی  سمیت مولانا فضل الرحمان کی ہم نوا دیگرجماعتوں کی طرف سے مارچ اوردھرنے کی لئے کس قدر فنڈنگ کی جاتی ہے اوروسائل مہیا کیے جاتے ہیں۔

جمعیت علما اسلام (ف) پارٹی کارکنوں ، دینی مدارس کے طلبا اورعام شہریوں سے ختم نبوت آزادی مارچ کے نام پرفنڈزجمع کررہی ہے۔ اس مقصد کے لئے باقاعدہ کوپن چھپوائے گئے تھے اوریہ سلسلہ تقریبا دوماہ پہلے شروع ہواتھا جوابھی تک جاری ہے۔ جے یوآئی (ف) کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مارچ اوردھرنے کے لئے کسی سے غیرقانونی فنڈنگ نہیں لی جارہی ہے ، ہرضلع کے کارکن اورقافلے اپنے اخراجات  خودبرداشت کرتے ہوئے مارچ  اوردھرنے میں شریک ہوں گے،مرکزی پروگرام کے اخراجات جمعیت اوراس کی ذمہ داران خود کرررہے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری اپنی کرپشن زدہ اداؤں پر غور کریں، فردوس عاشق اعوان

سیالکوٹ: معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری ہوش کے ناخن لیں اور اپنی کرپشن زدہ اداؤں پر غور کریں۔

لاڑکانہ میں سندھ اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں پیپلز پارٹی کو شکست پر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری ہوش کے ناخن لیں اور اپنی کرپشن زدہ اداؤں پر غور کریں۔ ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچیں کہ بھٹو اب لاڑکانہ میں زندہ کیوں نہیں رہا؟، اپنی حکومت میں سرکاری وسائل کے بے دریغ استعمال سے کیے گئے جلسے عوام کے جذبات اور احساسات کی عکاسی نہیں کرتے۔ دو دن پہلے عوام نے اپنے ووٹ کی طاقت سے آپ کے اداروں کو نشانہ بنانے کے بیانیہ کو زمین بوس کیا۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ہمارے ادارے ہمارا فخر، دفاع اور سلامتی کے ضامن ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری پاکستان دشمنوں کے بیانیے سے مرعوب ہونے والے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے کن آقاؤں کی خوشنودی حاصل کر رہے ہیں؟ انہیں ملک اور ریاست کا احساس ہوتا تو غیر ذمہ دارانہ بیانات کی فلم نہ چلاتے۔ آپ کو صرف ابو اور پھوپھو کی کرپشن بچانے کی فکر ہے۔

شہریار آفریدی کا رانا ثنا اللہ کے خلاف کیس راولپنڈی منتقل کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے رانا ثنا اللہ کے خلاف مقدمے کو لاہور سے راولپنڈی منتقل کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران شہریار آفریدی نے کہا کہ میکسیکو کا ڈرگ ڈیلر لارڈ ایل چیپوہے جب کہ پاکستان کا رانا ثنااللہ ہے، اے این ایف نے رانا ثنا کو 15 کلو ہیروئن سمیت گرفتار کیا، رانا ثنا اللہ کے خلاف ثبوت اور گواہ موجود ہیں، دفعہ 342 کے تحت ملزمان کے بیانات قلمبند کیے گئے،اے این ایف اور دیگر ادارے ملزموں کو سزا نہیں دے سکتے، ان کے خلاف ثبوت عدالت میں پیش کر دیے، راناثنا اللہ کی ذرائع آمدنی کا کچھ پتہ نہیں، انہوں نے تو اپنے اثاثوں کو بھی کلیئر نہیں کرایا، رانا ثنااللہ کے پاس اربوں روپے کہاں سے آئے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ جب سے سیاسی ڈرگ ڈیلر پر اے این ایف نے ہاتھ ڈالا ہے ، اے این ایف جیسے ادارے کا میڈیا ٹرائل کیا جارہا ہے، اے این ایف کا ٹرائل ہورہا ہے لیکن ملزم کا نہیں ہو رہا، روزانہ کی بنیادوں پر ان کیسز کی سماعت ہونی چاہیے، چالان پیش ہوتے ہی ملزمان پر فرد جرم عائد کی جاتی ہے لیکن یہ ملک کا پہلا ٹرائل ہو گا جس میں ایک بھی گواہ کو طلب نہیں کیا گیا، آئین کے مطابق وردی پہننے والی فورس کو پارلیمنٹ میں بھی تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جاسکتا، رانا ثنااللہ اے این ایف حکام کو دھمکیاں دے رہے ہیں، ہمارے گواہان کی زندگیوں کو خطرات ہیں۔

شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ رانا ثنااللہ کا کیس ہمارے لیے ٹیسٹ کیس ہے، وہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ گواہان کے تحفظ کے لئے کیس کو لاہور سے راولپنڈی منتقل کیا جائے یا ٹرائل جیل میں کیا جائے، چیف جسٹس عدالت کو آرڈر کریں کہ استغاثہ کو ثبوت پیش کرنے کی اجازت دیں، رانا ثنااللہ کا ٹرائل روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے، اے این ایف اہل کاروں کو دی جانے والی دھمکیوں کا نوٹس لیا جائے، آئی جی پنجاب فوری طور پر گواہان کو تحفظ فراہم کریں۔

مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے حکومتی کمیٹی تشکیل

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر مولانا فضل الرحمان سمیت اپوزیشن جماعتوں سے مذاکرات کے لیے حکومت کی 7 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔

وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر وزیر دفاع پرویز خٹک نے 7 رکنی حکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، کمیٹی مولانا فضل الرحمان سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کرے گی۔

کمیٹی میں پرویز خٹک سمیت اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری، اسد عمر، شفقت محمود اور اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومتی پالیسیوں کے خلاف اسلام آباد میں آزادی مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، پیپلز پارٹی پہلے ہی دھرنے کی حمایت کرچکی ہے اور اب مسلم لیگ (ن) نے بھی دھرنے میں جے یو آئی کا ساتھ دینے کا اعلان کردیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا ذخیرہ اندوزوں کے خلاف فوری کریک ڈاوٴن کا حکم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاوٴن کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام صوبائی حکومتیں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر کڑی نظر رکھیں۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا جائزہ لینے اور افراط زر پر قابو پانے کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔  اجلاس میں وزیراعظم کو اشیائے خوردونوش خصوصاً گندم، چینی، گھی، دالیں، پیاز اور ٹماٹر کی قیمتوں کا جائزہ اور ذخیرہ اندوزی کے خاتمے کے حوالے سے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

گندم کی فراہمی، دستیابی اور قیمتوں میں اتار چڑھاوٴ کو منظم رکھنے کے حوالے سے صوبہ پنجاب، صوبہ خیبر پختونخوا اور سندھ کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور بتایا گیا کہ گندم کے مناسب ذخیرے کو یقینی بنانے اور قیمت کو قابو میں رکھنے کے ضمن میں صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومتوں کی جانب سے اطمینان بخش انتظامات کیے گئے ہیں۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ کی جانب سے اس سال گندم کی خریداری نہ کرنے کے باعث طلب اور رسد میں فرق پیدا ہو گیا، اس اقدام کے باعث نہ صرف گندم اور آٹے کی قیمتیں بڑھیں بلکہ عوام کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوا، پاسکو اپنے موجود اسٹاک سے صوبہ سندھ کو ایک لاکھ ٹن اور صوبہ خیبرپختونخوا کو ڈیڑھ لاکھ ٹن گندم فوری طور پر ریلیز کرے تاکہ مارکیٹ میں گندم اور آٹے کی قیمت کو مستحکم رکھا جا سکے۔

وزیراعظم نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف فوری کریک ڈاوٴن کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ تمام صوبائی حکومتیں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر کڑی نظر رکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کاشتکار اور کسان کا استحصال نہ ہو اور آڑھتی ناجائز منافع خوری نہ کریں، مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت ایکشن لیاجائے۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ تحصیل کی سطح پر مارکیٹ کمیٹیاں تشکیل دے کر ان کو مکمل طور پر فعال بنایا جائے، منافع خور عناصر کی اجارہ داری پر موثر طور پر قابو پایا جاسکے اور قیمتوں کو قابو میں رکھا جاسکے، اس ضمن میں صوبائی حکومتیں ایک ہفتے میں مربوط نظام وضع کریں۔

عمران خان نے کہا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی گندم اور آٹے کی قیمت کو مستحکم رکھنے کے لیے فی الفور تجاویز مرتب اور موثر فیصلے کرے، اور گندم کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ضرورت کے تحت درآمد سمیت تمام انتظامی اقدامات ترجیحی بنیادوں پر لیے جائیں۔

جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے اشیائے ضروریہ کے لیے ’’درست قیمت‘‘ ایپلی کیشن پر مبنی نظام متعارف کرایا جائے تاکہ عوام کو اشیائے خوردو نوش کی اصل قیمتوں کے بارے میں روزانہ کی بنیاد پر آگاہی میسر آسکے، منڈی سے مارکیٹ کے تمام عمل کو شفاف، سہل اور آسان بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔

وزیراعظم آفس میں ہونے والے اجلاس میں وزیر برائے منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار، مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داوٴد، وزیراعلیٰ پنجاب سر دار عثمان بزدار، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی یوسف بیگ مرزا، وزیر خوراک پنجاب سمیع اللہ چوہدری، وزیر زراعت پنجاب نعمان لنگڑیال اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔

Google Analytics Alternative