قومی

وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کی درخواست مسترد

اسلام آباد: ہائیکورٹ نے وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کی درخواست مسترد کردی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کے لیے دائر درخواست پر چیف جسٹس اطہرمن اللہ اورجسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ وزیراعظم عمران خان نے کاغذات نامزدگی میں اپنی بیٹی کو ظاہر نہیں کیا، عمران خان نے اپنی بیٹی ٹیریان سے متعلق جھوٹ بولا لہذا وہ صادق و امین نہیں رہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ آرٹیکل 63 ایچ اخلاقی معاملات کے بارے میں ہے کیا وہ آپ نے دیکھا، اسلام کا پہلا اصول ہے کہ کسی کی ذاتی زندگی پرپردہ ڈالا جائے۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد درخواست گزار پر برہمی کا ظہار کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کی درخواست مسترد کردی، عدالت نے ریمارکس دیے کہ آئندہ ایسی درخواست آئی توجرمانہ بھی کریں گے۔

بےقصور بھائی کو حکومت نے دہشت گرد قرار دے دیا، بھائی ذیشان

لاہور: 

سانحہ ساہیوال میں جاں بحق ہونے والے ذیشان کے بھائی احتشام کا کہنا ہے کہ میرا بھائی بے قصور تھا لیکن حکومت نے دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔

 

کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے ہاتھوں مبینہ مقابلے میں مارے جانے والے ذیشان کے بھائی احتشام نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا بھائی بے قصور تھا انہوں نے دہشت گرد قرار دے دیا، میرے بھائی نے کار میں سے کوئی فائر نہیں کیا نہ کبھی اس کے پاس کوئی اسلحہ رہا ہے، میں ایک سال قبل ڈولفن فورس میں بھرتی ہوا تمام تر ویری فکیشن ہوئی اس وقت تمام ادارے کہاں تھے، ذیشان کی جب کار میں لاش ملی تو سیٹ بیلٹ لگی اور دایاں ہاتھ اسٹیئرنگ پر تھا اس حالت میں کوئی کیسے اندر سے فائرنگ کرسکتا ہے۔

ذیشان کے بھائی احتشام کا کہنا تھا کہ میں بھی ڈولفن اسکواڈ کا حصہ ہوں میں نے بھی پولیس ٹریننگ لی ہیں کبھی اس طرح کار روک کر ڈائریکٹ فائرنگ کی تربیت نہیں دی جاتی، پولیس کی کون سی ٹریننگ میں سکھایا جاتا ہے کہ سیٹ بیلٹ پہنے نہتے ڈرائیور پر فائرنگ کردی جائے، پولیس کا کہنا ہے کہ پہلے فائرنگ ذیشان نے کی پھر جوابی فائرنگ میں کار میں موجود تمام افراد مارے گئے، کار کے شیشے پر 3 فائر باہر سے لگے، اندر سے شیشہ پر فائر کا کوئی نشان نہیں ہے، نہ کار میں کوئی خول برآمد ہوا۔

ذیشان کے بھائی کا کہنا تھا کہ اگر کوئی دہشت گرد پکڑا جائے تو خوف کے مارے فائرنگ شروع کردیتا ہے، نہ ذیشان نے فائر کیا نہ کوئی خول اور اسلحہ برآمد ہوا، اگر کار سے فائر ہوا تو شیشہ پر گولی کا نشان کیوں نہیں ہے، کار کے اندر سے گولی چلنے کا کوئی ثبوت یا شیشے پر کوئی سوراخ موجود نہیں ہے۔

حکومت 3 کروڑ روپے لے لے لیکن ہمیں انصاف دے، لواحقین سانحہ ساہیوال

ساہیوال: سی ٹی ڈی کے ہاتھوں جعلی مقابلے میں مارے جانے والے خلیل کے بھائی عمران کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے 2 کروڑ روپے امداد دینے کا کہا جا رہا ہے تاہم میں 3 کروڑ دیتا ہوں مجرموں کو سزا دیں۔

سانحہ ساہیوال میں سی ٹی ڈی کے ہاتھوں جعلی مقابلے میں مارے جانے والے خلیل کے بھائی عمران کا کہنا ہے کہ کسی حکومتی نمائندہ نے رابطہ نہیں کیا، مجھے انصاف چاہیے قصوواروں کو قرار واقعی سزا دیں، حکومت کی جانب سے دو کروڑ امداد دینے کا کہا جا رہا ہے، میں 3 کروڑ دیتا ہوں مجرموں کو سزا دیں۔

خلیل کے بھائی عمران کا کہنا تھا کہ کیا ان پیسوں سے میرا بھائی، بھابھی اور بھتیجی واپس آجائے گی، دوسری جانب لواحقین کا کہنا ہے کہ گاڑی میں موجود تمام سامان پولیس والے ساتھ لے گئے، حکومت انصاف فراہم کرے نہیں تو پھر احتجاج کیا جائے گا۔

سانحہ ساہیوال میں ملوث 16 سی ٹی ڈی اہلکاروں کیخلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج

لاہور / ساہیوال: مبینہ پولیس مقابلے میں 4 افراد کی ہلاکت میں ملوث سی ٹی ڈی اہلکاروں کیخلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے تاہم ورثا کا لاہور میں دھرنا اور احتجاج جاری ہے۔

ساہیوال میں مبینہ پولیس مقابلے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کے پوری رات دھرنے اور شدید احتجاج کے بعد تھانہ یوسف والا پولیس نے مقابلے میں ملوث محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں کے خلاف دہشت گردی اور قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔

ایف آئی آر 16 نامعلوم اہلکاروں کے خلاف درج کی گئی ہے جنہیں گزشتہ روز ہی حراست میں لے لیا گیا تھا۔ مقتول خلیل کے بھائی کی مدعیت میں درج کردہ مقدمہ نمبر 33/19 میں دہشت گردی اور قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

جاں بحق افراد کے لواحقین نے ساہیوال میں جی ٹی روڈ پر چاروں لاشیں رکھ کر گزشتہ شام سے لے کر آج صبح تک شدید احتجاج کرتے ہوئے لاشیں رکھ کر دھرنا دیا۔ ورثاء نے حکومت کے خلاف سخت نعرہ بازی اور شدید احتجاج کیا۔ ایف آئی آر کے اندارج کے بعد ساہیوال میں دھرنا ختم کردیا گیا اور لاشوں کو لاہور پہنچادیا گیا ہے۔

گزشتہ شب وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے لواحقین سے ملاقات کرکے انہیں تسلیاں تو دی تھیں تاہم مقدمہ درج نہیں کیا گیا جس کے باعث ورثاء مطمئن نہیں ہوئے تھے۔

ادھر لاہور میں بھی مظاہرین نے چونگی امر سدھو کے مقام پر فیروز پور روڈ کو دونوں طرف سے بند کردیا جس کے نتیجے میں ٹریفک کی روانی متاثر ہوگئی جبکہ میٹرو بس سروس بھی بند ہوگئی۔

 

مقتول خلیل کے بھائی جلیل نے کہا کہ انصاف ملنے تک لاشوں کی تدفین نہیں ہوگی۔ ہماری ایف آئی آر متعلقہ تھانہ میں دینے کی بجائے لاہور میں درج کروانے کا کہا جا رہا ہے، جبکہ پولیس نے ہماری ایف آئی آر کاٹنے کی بجائے مرنے والوں پر ہی مقدمہ درج کردیا۔

واضح رہے کہ تھانہ سی ٹی ڈی لاہور میں واقعے میں جاں بحق افراد پر بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

سانحہ ساہیوال؛ حکومت پنجاب نے ملبہ ذیشان پر ڈال دیا

لاہور: حکومت پنجاب نے سانحہ ساہیوال میں ملبہ ذیشان پر ڈالتے ہوئے واقعے کو کولیٹرل ڈمیج (جنگ میں عام شہریوں کا جانی نقصان) قرار دے دیا۔

صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے پنجاب کابینہ ارکان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ذیشان داعش کا دہشتگرد تھا، جب سی ٹی ڈی نے اسے روکنے کی کوشش کی تو اس نے فائرنگ کی اور جوابی کارروائی میں وہ 4 افراد سمیت ہلاک ہوگیا، اس کے گھر پر موجود دہشت گرد خبر ملتے ہی فرار ہوگئے، سیکیورٹی فورس نے ان کا تعاقب کیا اور گوجرانوالہ میں دہشتگردوں نے خود کو دھماکے سے اڑالیا۔

راجہ بشارت نے کہا کہ آئی ایس آئی اور سی ٹی ڈی نے انٹیلی جنس معلومات پر یہ مشترکہ آپریشن کیا جس سے بہت سارے معصوم لوگوں کی جانیں بچ گئیں، اگر ان دہشت گردوں کا پیچھا نہ کیا جاتا تو وہ پنجاب میں بہت بڑی تباہی پھیلا سکتے تھے، متاثرہ خاندان سے دلی ہمدردی ہے، اس معاملے میں پورا پورا انصاف کیا جائے اور کسی سے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔

صحافیوں نے جب راجہ بشارت سے سوال کیا کہ آپ نے سی ٹی ڈی کا موقف دہراتے ہوئے ملبہ ذیشان پر ڈال دیا حالانکہ عینی شاہدین کے مطابق کار سواروں کی جانب سے کوئی فائرنگ نہیں ہوئی۔ اس کے جواب میں راجہ بشارت نے کہا کہ حکومت کسی کے موقف کی تائید نہیں کررہی اور جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں حتمی بات کی جائے گی۔

راجہ بشارت نے بتایا کہ ساہیوال واقعے میں ملوث سی ٹی ڈی ٹیم کو گرفتار اور اس کے سپروائز کو مطل کردیا گیا ہے،  حکومت جاں بحق افراد کے لواحقین کو 2 کروڑ روپے کی مالی امداد دے گی اور بچوں کے تعلیمی اخراجات بھی اٹھائے گی جبکہ طبی سہولیات بھی مفت فراہم کی جائیں گی، ذمہ دار افراد کو نہیں چھوڑا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں راجہ بشارت نے کہا کہ ذیشان نے خودکش جیکٹ پہنی ہوئی نہیں تھی بلکہ گاڑی میں رکھی تھی، اس واقعے میں کولیٹرل ڈمیج ہوا، جے آئی ٹی تعین کرے گی کہ ذیشان اور خلیل میں کیا گٹھ جوڑ تھا، سی ٹی ڈی خلیل کی فیملی کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتی تھی لیکن غیر ارادی طور پر کولیٹرل ڈیمیج ہوگیا، جے آئی ٹی رپورٹ پر من و عن عمل کیا جائے گا۔

فوجی عدالتوں کو توسیع دینے کے حق میں نہیں ہیں، شاہد خاقان عباسی

گوجر خان: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ فوجی عدالتوں کو توسیع دینے کے حق میں نہیں ہیں۔

گوجرخان میں میڈیا سے گفتگو میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے فوجی عدالتوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتوں کی پاکستان میں کوئی ضرورت نہیں، فوجی عدالتوں کو توسیع دینے کے حق میں نہیں ہیں جب کہ اپوزیشن کا اتحاد کرپشن کیسوں کی وجہ سے نہیں ملکی مفاد میں ہوا، نااہل حکومت نے ملک کا ستیاناس کردیا ہے۔

رہنما مسلم لیگ (ن) شاہد خاقان عباسی نے ساہیوال میں سی ٹی ڈی کی فائرنگ سے جاں بحق افراد کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ ساہیوال افسوسناک اور قابل مذمت ہے، حقائق سامنے لا کر ذمہ داروں کو نشان عبرت بنایا جائے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پیپلزپارٹی بھی فوجی عدالتوں کی مخالفت کرچکی ہے، پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ملک میں ہونے والی دہشت گردی میں کمی آئی ہے، اب فوجی عدالتوں کی کوئی ضرورت نہیں، فوجی عدالتوں کی حمایت ہوگی نہ اٹھارویں ترمیم پرکوئی سمجھوتہ ہوگا۔

ساہیوال مقابلہ؛ بچوں کو سکتے کی کیفیت میں دیکھ کر صدمے میں ہوں، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ساہیوال واقعے پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو سکتے میں بیٹھا دیکھ کر صدمے کی کیفیت میں ہوں۔

وزیراعظم عمران خان نے ساہیوال واقعے پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ساہیوال میں بچوں کے سامنے ان کے والدین کو گولیاں مارنے کے واقعے پر ابھی تک صدمے میں ہوں، ان بچوں نے اپنے والدین کو آنکھوں کے سامنے گولیوں کا نشانہ بنتے دیکھا، ریاست ان بچو ں کی مکمل دیکھ بھال کی ذمہ داری پوری کرے گی، واقعہ دیکھ کر تمام والدین کو اپنے بچوں کا خیال آجاتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے مزید کہا سی ٹی ڈی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھرپور کردار ادا کیا، لیکن ہر کوئی قانون کے سامنے جوابدہ ہے، جے آئی ٹی رپورٹ آنے پر فوری کارروائی کی جائے گی اور سخت ایکشن لیا جائے گا، تمام شہریوں کی حفاظت حکومت کی ترجیح ہے۔

واضح رہے گزشتہ روز ساہیوال میں سی ڈی ٹی نے مشکوک مقابلے میں 4 افراد کو قتل کردیا تھا جن میں خاتون، ان کا شوہر، کم عمر بیٹی اور ڈرائیور شامل تھا۔ سی ٹی ڈی نے تمام افراد کو مارنے کے بعد انہیں داعش کا دہشت گرد قرار دے دیا۔

نئے پاکستان میں شہری بال بچوں کے ساتھ گھروں سے نہ نکلیں، بلاول بھٹو

لاہور: چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سانحہ ساہیوال پیغام ہے کہ نئے پاکستان میں شہری بال بچوں کے ساتھ گھروں سےباہر نہ نکلیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے سی ٹی ڈی کے ہاتھوں شہریوں کےقتل کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف نےپنجاب کوپولیس اسٹیٹ میں تبدیل کردیا، بچوں کےسامنے والدین کاقتل گڈگورننس کے جھوٹےدعویداروں کےمنہ پرطمانچہ ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اتنےبڑے سانحےکے بعد حکومت لاپتا ہوگئی اور ریاست مدینہ کی پیروی کےدعویدار آج کے حکمران بتائیں سانحہ ساہیوال کا ذمے دارکون ہے؟ انہوں نے کہا کہ  نیازی سرکار کی تحقیقات پرکسی کواعتماد نہیں اور نہ ہی ایس ایس پیزاورآئی جیز کا تبادلہ کرنے والوں سےانصاف کی امید ہے۔

چیئرمین پی پی نے کہا کہ ٹوئٹروالی سرکار دروغ گوئی اورمخالفین پرالزام بازی کےعلاوہ کچھ نہیں کرسکتی جب کہ نیاپاکستان کے نام پرملک میں جنگل کا قانون لاگوکردیا گیا ہےاور سانحہ ساہیوال پیغام ہے کہ نئے پاکستان میں شہری بال بچوں کیساتھ گھروں سےباہرنہ نکلیں۔

Google Analytics Alternative