قومی

“نیا پاکستان ہاوٴسنگ پروگرام” کے رجسٹریشن فارم نادرا ویب سائٹ پرجاری

اسلام آباد: نیا پاکستان ہاوٴسنگ پروگرام کے رجسٹریشن فارم نادرا ویب سائٹ پر جاری کردیئے گئے۔

گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی جانب سے”نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی” کے اعلان کے بعد رجسٹریشن فارم نادرا ویب سائٹ پرجاری کردیا گیا ہے۔ فارمز22 اکتوبرسے 21 دسمبر تک جمع کروائے جا سکیں گے، پہلے مرحلہ میں 7 اضلاع میں پراجیکٹ شروع کیا جا رہا ہے، جن میں اسلام آباد، سکھر، گلگت، مظفر آباد، کوئٹہ، سوات اور فیصل آ باد شامل ہیں۔

فارمزجمع کروانے کے لیے 250 روپے فیس بھی جمع کروانا ہوگی، فارم نادرا اور ڈی سی کے دفاتر میں جمع کروائے جا سکیں گے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روزپانچ سالوں میں 50 لاکھ گھروں کی تعمیرکیلیے ’’نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی‘‘ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

سکھر میں گھر کی دیوار گرنے سے 9 بچے جاں بحق، 3 زخمی

سکھر: صالح پٹ میں گھر کی دیوار گرنے سے 9 بچے جاں بحق جب کہ  3 زخمی ہوگئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سے 9 بچے جاں بحق جب کہ 3 زخمی ہوگئے، واقعے کے بعد اہل علاقہ نے امدادی کارروائیاں شروع کردیں اور ملبہ ہٹاکر لاشوں اور زخمیوں کو باہر نکالا۔

حادثے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے بچوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے، جاں بحق ہونے والوں میں 7 بچے اور 2 بچیاں شامل ہیں جب کہ اہل علاقہ کے مطابق گھر کی دیوار خستہ حالی کے باعث گری

دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صالح پٹ کے قریب دیوار گرنے سے بچوں کی ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر سکھر کو زخمی بچوں کو بہتر علاج کی سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

وزیراعظم کا 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کیلیے ’’نیاپاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی‘‘ قائم کرنے کا اعلان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے پانچ سالوں  میں  50 لاکھ گھروں کی تعمیر کیلیے ’’نیاپاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی‘‘ قائم کرنے کا اعلان کردیا۔

اسلام آباد میں نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ منصوبے پر عملدرآمد کرانے کے لیے ’ نیا پاکستان ہاوسنگ ‘اتھارٹی قائم کی جائے گی جہاں ’ون ونڈو‘ سسٹم کے تحت تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی اور اس اتھارٹی کی نگرانی بذات خود کروں گا، یہ اتھارٹی 90 دن میں قائم کی جائے گی تاہم جب تک اتھارٹی قائم نہیں ہوتی اس دوران ٹاسک فورس ہاؤسنگ اسکیم پر کام کرے گی۔

وزیراعظم نے  کہا کہ گھروں کی تعمیر پرائیویٹ ادارے کریں گے جب کہ رکاوٹیں ختم کرنا اور تعاون کرنا حکومت کا کام ہوگا، کنسٹرکشن انڈسٹری کی راہ میں قانونی رکاوٹوں کوبھی دور کریں گے،ہم عام لوگوں کو گھربنا کردیں گے،نوجوان کنسٹرکشن کمپنی خود شروع کریں اور انڈسٹری میں شامل ہوں ہماری کوشش ہے کہ بیروزگار نوجوان ہاؤسنگ اسکیم سے روزگار لیں۔

عمران خان نے کہا  کہ پاکستان کے 7 شہروں میں پائلٹ پراجیکٹ شروع کررہے ہیں، گھروں کے لیے60 دنوں میں رجسٹریشن مکمل کرنی ہے جب کہ اسٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر نیشنل فنانشل ریگولٹری باڈی تشکیل دیں گے یہ ریگولٹری باڈی کا قیام 60 دنوں میں ہوجائےگا۔

وزیراعظم نے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اسکیم شروع کرنے کا بھی اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کل سے ایک ہاؤسنگ اسکیم سرکاری ملازمین کیلیے شروع کررہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا  کہ  موجودہ بحران سے نکلنے اور قرضے کی قسطیں ادا کرنے کے لیے ہمیں مزید قرضے چاہیئں ،ماضی کی حکومتوں نے بےدردی سے قرضہ لیا اور اس وقت ملکی قرضہ 30ہزار ارب ہے یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ ہے  جب کہ ہر سال 10 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے اگر منی لانڈرنگ روک دی جاتی تو آج ہمیں ڈالر کی کمی سامنا نہ ہوتا۔

الیکشن کمیشن نے آئی جی پنجاب کا تبادلہ غیر قانونی طور پرروکا، فواد چوہدری

اسلام آباد: وفاقی وزیراطلاعات بیرسٹر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے غیر قانونی طور پر آئی جی کے تبادلے کو روکا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو جو سہولت دی جاسکتی ہے ان کا ساتھ دے رہے ہیں اور ان کے جائز مطالبات پورے کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم ان کے مطالبات کچھ  زیادہ  ہیں، اپوزیشن سے لوٹے ہوئے پیسوں کا نہ پوچھا جائے تو حکومت اچھی ہے، ان کی جمہوریت کا مطلب سب کرپٹ لوگ مل جائیں۔

وفاقی وزیرنے کہا کہ  اپوزیشن کا شور شرابے کا مقصد ہے کہ ان سے پیسوں کے بارے میں نہ پوچھا جائے، لیکن احتساب کا سلسلہ نہیں رکے گا اور اس کو چلنا ہے، تحریک انصاف کو مینڈیٹ اس نظام کےخلاف ملا ہے، عوام سے کئے وعدوں کو پورا کیا جائے گا۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے آئی جی پنجاب کے تبادلے کو غیر قانونی طور پر روکا، ضمنی انتخابات محدود حلقوں میں ہو رہے ہیں اس لئے پورے صوبے میں تبادلوں پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی ، الیکشن کمیشن کو خط لکھا ہےکہ آئی جی کے تبادلے سے متعلق حکم واپس لیں۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن تحقیقات سے متعلق پیش رفت نہ ہونے پرآئی جی کا تبادلہ کیا، سانحہ ماڈل ٹاؤن پر آزادانہ تحقیقات کرائیں گے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ بیوروکریسی پر منتخب نمائندوں کا احترام لازم ہے، کوئی ایم این اے یا ایم پی اے آپ کو فون کریں، جواباً آپ ان کو فون نہ کریں ایسا نہیں ہو سکتا، بیوروکریسی کا کام پالیسی بنانا نہیں، پالیسی پر عملدرآمد کرنا ہے، جو ہماری پالیسی پر عملدرآمد نہیں کرے گا اس کو گھر جانا ہوگا۔

 

(ن) لیگ کا پنجاب اسمبلی کے باہر شہباز شریف کی گرفتاری کیخلاف دھرنا، شدید احتجاج

لاہور: مسلم لیگ (ن) نے پنجاب اسمبلی کے باہر شہباز شریف کی گرفتاری کیخلاف دھرنا دیا اور شدید احتجاج کیا۔

مسلم لیگ (ن) کے ارکان پنجاب اسمبلی پارٹی کے صدر شہباز شریف کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے پنجاب اسمبلی پہنچے تو حکومت نے احتجاج کو ناکام بنانے کے لیے پنجاب اسمبلی کے مرکزی گیٹ کو خاردار تاریں لگا کر مکمل طور پر بند کردیا اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی۔

لیگی ارکان اسمبلی نے مل کر دروازے کو کھولنے کی کوشش کی تاہم پولیس اہلکاروں نے ان کی کوشش ناکام بنادی۔ لیگی ارکان اسمبلی خاردار تاریں پھلانگ کر اور رکاوٹیں توڑتے ہوئے اسمبلی کے احاطے میں داخل ہوگئے۔PML-N protest outside Punjab assembly pic.twitter.com/Vd0PKg1iza

اپوزیشن رہنماؤں نے اسمبلی کے داخلی دروازے پر دھرنا دے کر احاطے میں ہی اپنی اسمبلی سجالی اور احتجاجی اجلاس منعقد کیا۔ لیگی رہنماؤں نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور شہباز شریف کی گرفتاری پر سخت احتجاج کیا۔ لیگی ارکان اسمبلی نے پلے کارڈز اٹھا رہے تھے جن پر انتقامی سیاست بند کرو اور شہباز شریف کو رہا کرو کے نعرے درج تھے۔

سعد رفیق

خواجہ سعد رفیق نے احتجاجی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کا جمہوریت سے کوئی تعلق نہیں یہ فسطائی حکمران ہیں، پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی بار اراکین اسمبلی پر دروازے بند کئے گئے ہیں، عمران خان اپوزیشن کے ساتھ گتھم گتھا ہونا چاہتے ہیں اور اسمبلی کے دروازے بند کرنا آمرانہ اقدام ہے۔

حمزہ شہباز

حمزہ شہباز شریف نے احتجاجی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  عمران خان میں منتخب اراکین اسمبلی کی بات سننے کا حوصلہ نہیں ہے، پنجاب اسمبلی کو نہیں بلکہ جمہوری نظام پر تالہ لگایا گیا ہے، ایسا نیا پاکستان صرف آپ کو مبارک ہو، ہم میدان میں نکلیں گے جلسے کریں گے اور اسمبلیوں کے دروازے بھی کھلیں گے۔

حمزہ شہباز نے کہا کہ عمران خان پہلے بنی گالا کی تجاوزات کا حساب دو پھر غریب ریڑھی والوں کے خلاف کارروائی کرنا ، آپ کے سینئر وزیر نے اربوں کا غبن کیا، اسپیکر پنجاب اسمبلی کا بیٹا این آئی سی ایل کیس میں اندر رہا، وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے قتل کے مقدمے میں پیسے دے کر جان چھڑوائی ، کیا پاکپتن کیس نیا پاکستان کی مثال ہے۔

مریم اورنگزیب

مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اپنے بیان میں صوبائی حکومت کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے باہر رکاوٹیں کھڑی کرکے راستے بند کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ
ارکان پارلیمان کو روکنا حکومت کی گھبراہٹ اور غیرجمہوری رویے کا واضح ثبوت ہے، کسی بھی منفی صورتحال کے ذمہ دار اسپیکر پنجاب اسمبلی اور حکومت ہوگی۔

سعد رفیق، اسحاق ڈار، انوشہ رحمان اورمنظوروسان کیخلاف نیب انکوائریوں کی منظوری

قومی احتساب بیورو(نیب ) نے سعد رفیق، اسحاق ڈار، انوشہ رحمان، ثناء اللہ زہری اور منظور وسان سمیت دیگر کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کی منظوری دے دی۔

نیب سے جاری اعلامیے کے مطابق چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں کرپشن کے 22 مقدمان کی باقاعدہ تحقیقات کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں  اسحاق ڈار، انوشہ رحمان، خواجہ سعد رفیق،سلمان رفیق، منظور وٹو، منظور وسان، نواب وسان اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کی منظوری دی گئی۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ایگزیکٹو بورڈ نے 5 مقدمات کے باقاعدہ ریفرنسز احتساب عدالتوں میں دائر کرنے کی منظوری دی جب کہ سابق وفاقی سیکرٹری شہزاد ارباب اور عمران چوہدری کے خلاف انکوائری بند کرنے کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ احتساب سب کے لیے کی پالیسی پر سختی سے عمل جاری رہے گا اور بلاتفریق و امتیاز کارروائی کی جائے گی۔

قومی اسمبلی نے شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر جاری کر دیے

 اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی نے 17 اکتوبر کے اجلاس کے لیے شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر جاری کر دیے۔     

قومی اسمبلی نے 17 اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں شہباز شریف کو طلب کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف کے پروڈکشن آرڈر جاری کردیے ہیں جس کے بعد شہباز شریف بطور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

پروڈکشن آرڈر ایڈیشنل سیکرٹری قومی اسمبلی محمد مشتاق نے جاری کیے جس میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس 17 اکتوبر دن 11 بجے بلایا گیا ہے اور اسپیکر اجلاس میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی شرکت ضروری سمجھتے ہیں لہذا شہباز شریف کی اجلاس میں شرکت یقینی بنائی جائے۔

پروڈکشن آرڈر کی نقل چیئرمین نیب، ڈی جی نیب لاہور، وفاقی سیکرٹری داخلہ، چیف سیکرٹری و آئی جی پنجاب کو بھی بجھوائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل نیب نے آشیانہ ہاؤسنگ کرپشن کیس میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو گرفتار کیا جب کہ احتساب عدالت نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب کو 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا تھا۔

ناموس رسالت سے متعلق سائبر الیکٹرانک کرائم ایکٹ میں ترمیم کے بل کی مخالفت

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے اجلاس میں جمعیت علماء اسلام (ف) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکین نے ناموس رسالت سے متعلق سائبر الیکٹرانک کرائم ایکٹ میں ترمیم سے متعلق بل کی مخالفت کردی۔

سینیٹر روبینہ خالد کی سربراہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کا اجلاس ہوا جس میں پاکستان الیکٹرانک سائبر کرائم ایکٹ کا ترمیمی بل وفاقی وزیر برائے آئی ٹی کی عدم موجودگی کی وجہ سے مکمل طور پر زیر غور نہیں آسکا۔

اجلاس میں جمیعت علماء اسلام (ف) کے سینیٹر عبدالغفور حیدری نے الیکٹرونک کرائمز ترمیمی بل سے متعلق موقف اختیار کیا کہ الیکٹرانک کرائمز بل کی شق نمبر 27 جی کو ترمیمی بل سے حذف کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بل کی شق 27 جی کے مطابق توہین مذہب کا جھوٹا الزام لگانے والے کو وہی سزا ہوگی جو اس جرم کی ہے جو دیگر قوانین کے منافی ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کے اجلاس میں جمعیت علماء اسلام (ف) اور پی ٹی آئی کے ممبران نے سائبر الیکٹرانک کرائم ایکٹ میں ناموس رسالت کے حوالے سے ترمیم کے بل کی مخالفت کی۔

انہوں نے مزید سوال اٹھایا کہ توہین مذہب قانون سے ہی امتیازی سلوک کیوں کیا جاتا ہے؟ دیگر قوانین کا بھی غلط استعمال ہوتا ہے وہاں تو کسی کو فکر لاحق نہیں ہوتی۔

سینیٹر رحمٰن ملک نے اظہارِ خیال کیا کہ توہین مذہب کا الزام لگانے والے شخص کی سزا کے معاملے کو ان کیمرا اجلاس میں زیر بحث لایا جانا چاہیے۔

جس پر سینیٹر عبدالغفور حیدری اور سینیٹر فدا محمد نے کمیٹی اجلاس سے واک آؤٹ کرتے ہوئے کہا کہ توہین مذہب قانون میں ترمیم کی اجازت نہیں دیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ توہین مذہب کے حوالے سے قوانین پہلے سے بنے ہوئے ہیں، ہم اس قانون میں ترمیم کے حق میں نہیں کیونکہ یہ ملک میں افراتفری کا باعث بنے گی۔

چیئرپرسن قائمہ کمیٹی سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ کوشش کریں گے کہ حکومت بل سے متنازع شق نکال کر بل دوبارہ پیش کرے۔

تاہم اجلاس سے اراکان کے واک آؤٹ کے بعد سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کا اجلاس ملتوی کردیا گیا۔

خیال رہے کہ 16 فروری 2018 کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران انسداد الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016 کا ترمیمی مسودہ پیش کیا گیا تھا جس کے مطابق توہین مذہب کا جھوٹا الزام لگانے والے اور مرتکب ملزم کو ایک ہی سزا ملے گی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے مقننہ سے موجودہ قوانین میں ترمیم کرنے کی بھی سفارش کی تھی تاکہ گستاخی کے جھوٹے الزامات لگانے والوں کو بھی گستاخی کرنے والے کے برابر سزا دی جاسکے۔

سینیٹر مفتی عبدالستار نے کمیٹی کی جانب سے دی جانے والی سفارشات کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ توہین مذہب کے قانون پر بات نہ کی جائے اور ساتھ ہی الزام لگایا کہ توہین مذہب کے قانون کے خلاف سازش کی جا رہی ہے۔

مفتی عبدالستار نے سوال کیا کہ کیا صرف توہین مذہب کا غلط استعمال ہو رہا ہے؟ کیا ملک میں قتل سے متعلق قانون کا غلط استعمال نہیں ہو رہا؟

Google Analytics Alternative