قومی

لاہور ہائی کورٹ نے نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیدیا

لاہور ہائی کورٹ نے نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا جب کہ عدالت کی جانب سے فریقین کو دیے گئے بیان حلفی میں نواز شریف کو بیرون ملک علاج کیلئے 4 ہفتے کا وقت دیا ہے اور ساتھ یہ بھی کہا گیا اگر نواز شریف کی صحت بہتر نہیں ہوتی تو اس مدت میں توسیع ہوسکتی ہے اور حکومتی نمائندہ سفارتخانے کے ذریعے نواز شریف سے رابطہ کرسکے گا۔ 

جسٹس علی باقرنجفی اورجسٹس سرداراحمد نعیم پر مشتمل لاہورہائی کورٹ کا 2 رکنی بنچ سابق وزیر اعظم نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے حکومتی شرائط کے خلاف شہباز شریف کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران صدرمسلم لیگ (ن) شہباز شریف کے علاوہ پارٹی کے کئی رہنما بھی موجود تھے۔

عدالت کے فریقین سے سوالات 

سماعت کے آغاز پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ای سی ایل سے نام نکالنے کے لیے شرائط لگائی جا سکتی ہیں؟ کیا لگائی گئی شرائط علیحدہ کی جا سکتی ہیں؟ کیا میمورنڈم انسانی بنیادوں پر جاری کیا گیا؟  ضمانت کے بعد شرائط لاگو ہوں تو کیا عدالتی فیصلے کو تقویت ملے گی ؟ کیا درخواست گزار ادائیگی کے لیے کوئی اور طریقہ ڈھونڈنے کو تیار ہے ؟ حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنا چاہتی ہے یا نہیں ؟ کیا فریقین نواز شریف کی واپسی سے متعلق یا کوئی رعایت کی بات کر سکتے ہیں؟  کیا فریقین اپنے انڈیمنٹی بانڈز میں کمی کر سکتے ہیں؟

’نواز شریف جانا چاہتے ہیں تو اعتراض نہیں‘

سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ نواز شریف علاج کیلئے باہرجانا چاہتے ہیں تو حکومت کو کوئی اعتراض نہیں لیکن نواز شریف کو باہر جانے سے پہلے عدالت کو مطمئن کرنا ہوگا، ان کے پاس یہ آپشن ہے کہ اینڈیمنٹی یا شورٹی بانڈ کی رقم عدالت کے اکاونٹ پاس جمع کرادیں اگر یہ تمام چیزیں پوری کردیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا، اس موقع پر انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے انڈیمنٹی بانڈ لاہور ہائی کورٹ میں جمع کروانے کی پیشکش کردی۔

عدالت نے شہبازشریف سے استفسارکیا کہ کیا نوازشریف واپس آئیں گے، جس پرشہبازشریف نے کہا کہ  انشاءاللہ واپس لائیں، عدالت نے مزید استفسار کیا کہ آپ کا انہیں ملک واپس لانے میں کیا کردار ہوگا، جس پرانہوں نے کہا کہ میں ان کے ساتھ بیرون ملک جارہا ہوں وہ علاج کے بعد واپس آئیں گے۔

لاہورہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ قانون اپنی روح کے مطابق کام کرتا ہے، جو حلف یہ دینا چاہتے ہیں ان سے لکھ کرپوچھ لیتے ہیں، ہم درخواست گزارسے لکھ کرحلف لے لیتے ہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے عدالت نے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ انڈرٹیکنگ عدالت کو جمع کرائی جائے گی۔ عدالت نے وفاق سے استفسار کیا کہ اگرآپ انسانی بنیادوں پر نواز شریف کو جانے کی اجازت دے رہے ہیں تو پھرشرائط لگانے کی کیا ضرورت ہے، عدالت چاہ رہی ہے کہ یہ معاملہ حل ہو۔

نواز، شہباز شریف سے انڈرٹیکنگ لے لیتے ہیں

عدالت نے کہا کہ ہم نواز شریف اور شہباز شریف سے لکھ کر انڈرٹیکنگ لے لیتے ہیں وفاق اس انڈر ٹیکنگ کو دیکھ لے، یہ انڈر ٹیکنگ عدالت میں دی جائے گی اگرانڈرٹیکنگ پر پورا نہیں اترا جاتا تو توہین عدالت کا قانون موجود ہے۔

نواز شریف کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ جو شرائط بھی عائد کی گئی ہیں وہ عدالت کے ذریعے ہونا چاہیے تھیں،اگر عدالت کو مطمئن کرنے کی بات ہے تو جو عدالت حکم دے گی ہمیں قبول ہوگا۔

وکیل نواز شریف نے کہا کہ جب عدالت میں کیس زیرسماعت ہو تو ریاست کا اختیار نہیں کہ سزا ختم کرے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے 6 ہفتے کی سزا معطل کی لیکن بیرون ملک جانے پر پابندی لگائی، عدالتی اورسیاسی تاریخ میں ایسی مثال نہیں کہ سزا یافتہ شخص واپس آئے اور سزا کاٹ رہا ہو۔

’سزا یافتہ کو باہر بھیجنے کا اختیار حکومت کو بھی نہیں‘

نوازشریف کے ایک اور وکیل اشتر اوصاف نے کہا کہ آرٹیکل 4 کے مطابق کسی شہری پر شرط عائد نہیں کی جا سکتی جس پر جسٹس باقر نجفی نے ریمارکس دیئے کہ قانون تو سزا یافتہ کو باہر بھیجنے کا اختیار حکومت کو بھی نہیں دیتا، ہم چاہتے ہیں یہ معاملہ اتفاق رائے سے طے ہو، لکھ کر دیں کہ نوازشریف اور شہبازشریف وطن واپس آئیں گے۔

“حکومتی شرط غیر قانونی ہے”

درخواست کی سماعت کے دوران شہباز شریف نے ٹیلی فون پر نواز شریف، مریم نواز اور اپنی والدہ سے مشاورت کی۔ اس دوران نواز شریف نے کہا کہ ای سی ایل سے ان کا نام نکالنے کے لئے حکومتی شرط غیر قانونی ہے، عدالت کا ہر فیصلہ سر آنکھوں پر ہوگا، عدالتی احکامات پر من و عن عمل کیا جائے گا۔

بیان حلفی کا مسودہ جمع

عدالتی ہدایت کی روشنی میں امجد پرویز ایڈووکیٹ نے نواز شریف اور شہباز شریف کے بیان حلفی کا مسودہ لاہور ہائی کورٹ کے معاون کے حوالے کر دیا۔ بیان حلفی کا ڈرافٹ 2 صفحات پر مشتمل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف صحت یاب ہوتے ہی وطن واپس آئیں گے اور عدالتی کیسز کا سامنا کریں گے۔

ایسا بیان حلفی بیان قبول نہیں کرسکتے، حکومت

 دوسری جانب ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق احمد خان نے شہبازشریف کا بیان حلفی مسترد کردیا، انہوں نے موقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے خاص مدت کے لیے نواز شریف کی ضمانت منظور کی ہے، اس بیان حلفی میں کسی قسم کی ضمانت نہیں دی گئی، ایسی صورت میں ہم اس کو کیسے تسلیم کرسکتے ہیں۔ 25نومبرکو اسلام آباد ہائیکورٹ میں نواز شریف کیس کی اپیل بھی مقرر ہے،  اگر نواز شریف نہیں آتے تو کیا ہو گا اس لیے اینڈیمنٹی بانڈ مانگے ہیں۔
اشتیاق احمد خان نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے ڈرافٹ کے جواب میں حکومت نے بھی ایک ڈرافٹ تیار کیا ہے، حکومت جب سمجھے گی کہ نواز شریف کی حالت ٹھیک ہے تو حکومت اپنا بورڈ ملک سے باہر چیک اپ کے لیے بھیج سکتی ہے، بورڈ یہ چیک کرے گا کہ نواز شریف سفر کر کے ملک میں واپس آ سکتے ہیں یا نہیں،  عدالت کی جانب سے ضمانت مقررمدت کے لیے دی گئی ہے۔

دونوں جانب سے ڈرافٹ کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے کہا کہ عدالت اپنا ڈرافٹ تیارکرکے فریقین کے وکلا کو دے گی، عدالتی ڈرافٹ پر فریقین متفق ہوئے تو فیصلہ کیا جائے گا۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت میں تیسری مرتبہ وقفہ کر دیا۔

 عدالتی ڈرافٹ

عدالت کی جانب سے تیار کردہ مجوزہ ڈرافٹ وفاقی حکومت اور شہباز شریف کے وکلاء کو فراہم کیے گئے۔ شہباز شریف اور احسن اقبال نے بھی ڈرافٹ کا جائزہ لیا۔

عدالتی ڈرافٹ کے متن میں کہا گیا کہ نواز شریف کو بیرون ملک علاج کے لیے 4 ہفتے کا وقت دیا گیا ہے لیکن اگر نواز شریف کی صحت بہتر نہیں ہوتی تو اس مدت میں توسیع ہو سکتی ہے جب کہ حکومتی نمائندہ سفارت خانے کے ذریعے نوازشریف سے رابطہ کرسکے گا۔

بعد ازاں مسلم لیگ (ن) کے وکلا نے عدالتی ڈارفٹ منظور کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں عدالتی ڈرافٹ منظورہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ عدالتی ڈرافٹ پرمکمل عملدرآمد کریں گے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالتی ڈرافٹ پراعتراض کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی ڈرافٹ میں معمولی ترامیم کے لیے تجاویز ججزکو چیمبرمیں بھجوادی۔

کیس کا پس منظر؛

حکومت نے نواز شریف کو 4 ہفتوں کے لیے ایک بار بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دی تھی تاہم اس کے لیے ان کی جانب سے 80 لاکھ پاؤنڈ، 2 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر، 1.5 ارب روپے جمع کرانے کی شرط رکھی گئی تھی۔ گزشتہ روز نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے حکومتی شرائط کے خلاف شہبازشریف کی جانب سے دائر درخواست کو قابل سماعت قرار دیا تھا۔

حکومتی تاخیری حربے آج ختم ہوگئے ہیں، شہبازشریف

لاہور: مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف نے کہا ہے کہ عدالت عالیہ نے انسانی بنیادوں پر فیصلہ سنایا جس پر ہم ان کے مشکور ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف کا کہنا تھا کہ قوم کی دعائیں اور والدہ کی التجائیں رنگ لے آئیں اللہ تعالی نے دعائیں قبول کیں اور عدالت نے نوازشریف کو بیرون ملک علاج کرانے کی اجازت دی ہے، عدالت عالیہ نے انسانی بنیادوں پر فیصلہ سنایا جس پر ہم ان کے مشکور ہیں۔

شہبازشریف نے کہا کہ عدالت نے زرضمانت کے بغیر جانے کی اجازت دی ہے، نوازشریف کے علاج میں جو رکاوٹیں حائل تھیں وہ اب دور ہو چکی ہیں اور حکومتی تاخیری حربے آج ختم ہوگئے ہیں، نوازشریف علاج کروا کر وطن واپس آئیں گے۔

نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت ملی ہے 7 ارب جرمانہ معاف نہیں ہوا، اٹارنی جنرل

اسلام آباد: اٹارنی جنرل انور منصور نے کہا ہے کہ نواز شریف کو صرف باہر جانے کی اجازت ملی ہے انکی سزا معطل نہیں ہوئی اور نہ ان کا جرمانہ معاف ہوا، ان پر تاحال سات ارب روپے کا جرمانہ عائد ہے۔

اسلام آباد میں معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف پر ایک فیصلے میں سات ارب روپے ہرجانہ عائد کیا گیا ہے اور انہوں نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی ہوئی ہے سزا صحیح ہے یا نہیں، یا تو وہ فیصلہ کالعدم ہوگا یا درست تاہم فیصلہ ابھی برقرار ہے۔

انور منصور نے کہا کہ  نواز شریف نے ضمانت مانگی تو سوالات اٹھے کہ ضمانت دی جائے یا نہیں؟ کیوں کہ نیب لا کے تحت ملزم کی سزا معطل نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی ضمانت دی جاسکتی ہے تاہم دیگر لاز میں ضمانت ممکن ہے۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ معاملہ عدالت میں آنے پر حکومت نے باہر جانے پر اعتراض نہیں کیا تاہم وہ کوئی نہ کوئی ضمانت چاہتی ہے کیوں کہ پہلے بھی نواز شریف نے دیے گئے بانڈز پر عمل درآمد نہیں کیا، ضمانت کے بعد وہ ہاسپٹل کے بجائے گھر چلے گئے اور اسے آئی سی یو بنالیا بعد ازاں بیرون ملک جانے کی درخواست فائل کردی جس پر ہم نے اعتراض عائد کیا کہ جس عدالت میں مقدمہ ہو درخواستیں اسی عدالت میں جانی چاہئیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم نے آج کے فیصلے کے خلاف کوئی اپیل فائل نہیں کی ہمیں ان کے باہر جانے پر نہیں بلکہ بغیر بانڈز کے باہر جانے پر اعتراض ہے جس کی ہم نے لاہور ہائی کورٹ میں بھی مخالفت کی تاہم ہائی کورٹ نے انہیں باہر جانے کی اجازت دے دی جو کہ صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی ہے تاہم سزا و جرمانہ برقرار ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کو انڈر ٹیکنگ دینا معمولی بات نہیں اس کا ذکر فیصلہ میں بھی ہوگا، خلاف ورزی پر نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف 61 (2) بی کی کارروائی ہوسکتی ہے، آج کی درخواست کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد اپنے رائے کابینہ کے سامنے پیش کروں گا فیصلے کے خلاف اپیل کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ کابینہ کی صوابدید پر منحصر ہے۔

شریف فیملی کا ماضی ٹھیک نہیں اس لیے ضمانتی بانڈز مانگے، فردوس عاشق

قبل ازیں پریس کانفرنس میں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ بدقسمتی سے حکومت کی نیک نیتی کا مذاق اڑایا گیا جب کہ حکومت نے ہر مرحلے پر نواز شریف کے لیے راہ ہموار کی، انہیں میڈیکل بورڈ کی سہولت دی اور ترجمانوں کو نواز شریف کی صحت کے بارے میں بیان بازی سے روکا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نواز شریف کے باہر جانے کی مخالف نہیں، زرضمانت کا بانڈ وفاقی کابینہ نے اس لیے مانگا کہ انہوں نے ماضی میں جھوٹے معاہدے کیے، شریف خاندان ماضی میں اپنے معاہدوں سے مکرا، قول و فعل میں تضاد رہا، انڈیمنٹی بانڈ شریف خاندان کے گزشتہ ٹریک ریکارڈ کو دیکھ کر مانگا گیا لیکن مسلم لیگ (ن) کا رویہ قابل مذمت اور افسوس ناک تھا اور اپوزیشن نے حکومت پر بلاجواز الزام تراشی کی۔

نواز شریف اور شہباز نے بیان حلفی دیا ہے کہ واپس آئیں گے، شاہ محمود قریشی

ملتان: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ شہباز شریف نے بیان حلفی دیا ہے کہ نواز شریف کو 4 ہفتے کے لیے باہر لے جا رہے ہیں اور واپس لے آنے کے پابند ہوں گے جب کہ نواز شریف نے بھی اس بیان کی تائید کی ہے۔

ملتان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے اختلافات کی وجہ مسئلہ کشمیر ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں جو مظالم ڈھا رہا ہے وہ کسی سے برداشت نہیں ہوسکتے، آج یورپی یونین میں بھی کشمیر پر بھارتی مظالم کے حوالے سے بحث چلی اور یورپی یونین نے بھی بھارتی جارحیت کی مخالفت کی ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ عدالتی فیصلوں کو مانا ہے، جب ڈاکٹرز اور میڈیکل بورڈ  نے فیصلہ کیا کہ نواز شریف کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں تو ہم نے بھی کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کی، وزارت قانون نے پچھلے کیس سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کیا اور عدالت نے انسانی تقاضوں اور قانونی پہلو دیکھتے ہوئے فیصلہ دے دیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے بیان حلفی دیا ہے کہ نواز شریف کو چار ہفتے کے لیے باہر لے جا رہے ہیں اور واپس لے آنے کے پابند ہوں گے، نواز شریف نے بھی بیان حلفی دیا کہ جو ان کے بھائی نے کہا اس کی تائید کرتے ہیں، وزیر اعظم نے کور کمیٹی سے مشاورت شروع کر دی ہے کہ نواز شریف کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا یا نہیں۔

جے یو آئی کے آزادی مارچ اور دھرنوں سے متعلق وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم نے دھرنے والوں کے لیے سہولتیں پیدا کیں اور ماضی کی حکومت کے برعکس کوئی گرفتاریاں اور تشدد نہیں کیا، جمعیت علمائے اسلام کا پلان بی سب کے سامنے ہے جہاں ان کے لوگوں نے راستے میں بندش کی لوگوں نے اسے پسند نہیں کیا بلکہ عوام کی جانب سے شاہراہوں کی بندش پر بھرپور مخالفت کی گئی۔

نئے سال میں حکومت کی گڈ گورننس کی شروعات ہوجائے گی، شیخ رشید

لاہور: وزیرریلوے شیخ رشید کا کہنا ہے کہا نئے سال میں عمران خان حکومت کی گڈ گورننس کی شروعات ہو جائے گی۔

لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران وزیر ریلوے نے کہا کہ عمران خان پاکستان کی سیاست کو بہتری کی جانب لے جارہے ہیں، آصف زرداری اور فریال تالپور سمیت تمام کے معاملات  بارگینگ کی جانب جارہے ہیں، عمران خان مہنگائی کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، نئے سال میں عمران خان حکومت کی گڈ گورننس کی شروعات ہو جائے گی۔

شیخ رشید نے کہا کہ انسان لندن میں ہو یا کہیں اور موت کے فرشتے سے فائل گم نہیں ہوتی، نوازشریف کا باہر جانا دونوں کے مفاد میں ہے، عمران خان کے کارکن نہیں چاہتے کہ چوروں کو کوئی رعایت دی جائے، معاملہ عدالتوں میں جانا اچھا ہے اس سے دونوں پارٹیوں کے لیے درمیانی راستہ نکل آیا، اس طرح نواز شریف کے  جانے سے ڈیل یا ڈھیل کا تصور ختم ہو جائے گا۔

مولانا فضل الرحمان کی سیاست دم توڑ چکی ہے، اب ان کی پارلیمنٹ میں نشستیں بڑھنے کے بجائے کم ہی ہوں گی، ان کی وجہ سے کشمیریوں کو نقصان پہنچا، ان  کا دھرنا ناکام رہا کیونکہ وہ غلط موسم میں اسلام آباد آئے، ان کے پلان بی کو پشتون  ٹرانسپورٹر خود ہی ناکام بنائیں گے، دھرنا سیاست بڑی مہنگی سیاست ہے، اس میں مولانا فضل الرحمان کے بڑے پیسے لگ گئے، معلوم نہیں اتنا پیسہ کہاں سے آیا ۔

اتحادی جماعتوں کے اختلافات سے متعلق شیخ رشید نے کہا کہ ایم کیو ایم اور (ق) لیگ عمران خان سے کہیں نہیں جاتی، یہ سمجھ دار لوگوں کی جماعتیں ہیں.

ای سی ایل سے نام نکالنے کے لئے حکومتی شرط غیر قانونی ہے، نواز شریف

لاہور: مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ای سی ایل سے ان کا نام نکالنے کے لئے حکومتی شرط غیر قانونی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ میں نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے دائر درخواست کی سماعت کے دوران شہباز شریف نے ٹیلی فون پر نواز شریف، مریم نواز اور اپنی والدہ سے مشاورت کی۔

اس دوران نواز شریف نے کہا کہ ای سی ایل سے ان کا نام نکالنے کے لئے حکومتی شرط غیر قانونی ہے، عدالت کا ہر فیصلہ سر آنکھوں پر ہوگا، عدالتی احکامات پر من و عن عمل کیا جائے گا۔

نوازشریف واپس نہیں آئیں گے، فواد چوہدری

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حلف نامہ میں صرف یہی یقین دہانی ہے کہ میاں صاحب واپس نہیں آئیں گے۔

وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ نوازشریف کے وکلاء نے جو حلف نامہ جمع تجویزکیا ہے، اس میں صرف ایک یقین دہانی ہے کہ میاں صاحب نے واپس نہیں آنا جب کہ وفاقی حکومت کے وکلاء کا موقف بالکل جائز اور قانونی طور پر درست ہے۔

واضح رہے کہ نواز شریف کے وکیل نے علاج کے بعد وطن واپس آنے اور مقدمات کا سامنا کرنے کے بیان حلفی کا مسودہ ہائی کورٹ میں جمع کرادیا ہے۔

برآمدات بڑھانے کے لیے 200 ارب کی سبسڈی دے رہے ہیں، حفیظ شیخ

کراچی: مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ ملکی برآمدات بڑھانے کے لیے 200 ارب روپے کی سبسڈی دے رہے ہیں، عوام پر ممکنہ بوجھ بڑھنے کی وجہ سے حکومت نے گزشتہ 4 ماہ سے پیٹرولیم نرخوں میں اضافہ نہیں کیا۔

ہفتے کو اوورسیز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  انہوں نے کہا کہ شعبہ توانائی میں بھی 250 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے، ملک کی ترقی ٹیکس دیئے بغیر ممکن نہیں یہی وجہ ہے کہ ہمیں مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔

انہوں نے تاجر برادری کومشورہ دیا کہ وہ شناختی کارڈ دینے کی شرط سے نہ گھبرائیں جب تک وہ اعداد و شمار کو دستاویز پر نہیں لائیں گے ٹیکس نظام میں بہتری نہیں آسکتی، تاجر، صنعتکار اور کاروباری افراد ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور وزیر اعظم ملکی معیشت کی بہتری کے لیے دن رات کوشاں ہیں

حفیظ شیخ نے کہا کہ حکومت معاشی صورتحال کی بہتری کے لیے صنعت کاروں اور ایکسپورٹرز کو سبسڈی دے رہی ہے، مشکل معاشی صورتحال پر قابو پا لیا ہے، ٹیکس نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے ایف بی آر میں اصلاحات کی جا رہی ہیں

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے ہمارے اصلاحات کے پلان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے جس سے دنیا بھر میں ہماری کوشش کو سراہا جائے گا، حکومت نے گزشتہ چار ماہ سے اسٹیٹ بینک سے کوئی قرض نہیں لیا اور اس کے ساتھ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو بھی کم کیا ہے ساتھ ہی اسٹاک ایکس چینج میں بھی بہتری آئی ہے۔

حفیظ شیخ نے مزید کہا کہ پاکستان میں کروڑوں روپے کمانے والے سرمایہ کاروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹیکس ڈاکیومنٹیشن میں اپنا کردار ادا کریں کرے، 72 برس میں گروتھ ٹرینڈ سیٹ تبدیل نہیں ہوا جبکہ ہر چار سال میں ترقی کی شرح میں تبدیلی آتی ہے۔

Google Analytics Alternative