قومی

سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریوں سے حکومت کے عزائم بے نقاب ہو رہے ہیں، آصف زرداری

کراچی: سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف زرداری کا کہنا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریوں سے حکومت کے عزائم بے نقاب ہو رہے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں خواجہ سعدرفیق اور سلمان رفیق کی گرفتاری پر ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کا کہنا تھا کہ انتقامی کارروائیوں سے سیاسی قیادت اور سیاسی پارٹیاں ہرگز کمزور نہیں ہوں گی بلکہ سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریوں سے حکومت کے عزائم بے نقاب ہو رہے ہیں۔

آصف زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی خواہش ہے کہ  ہرحکومت اپنی مدت پوری کرے لیکن اپنے مخالفین کو جیلوں میں ڈال کر کوئی بھی حکومت مضبوط اور پائیدار نہیں ہوگی، سلیکٹڈ وزیراعظم نہیں چاہتے کہ پارلیمنٹ مضبوط ہو اور ہر فیصلہ پارلیمنٹ میں ہو۔

نیب نے غیر قانونی بھرتیوں پر مریم اورنگزیب کے خلاف کارروائی شروع کردی

اسلام آباد: نیب نے مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہیں۔

نواز  شریف، شہباز شریف، خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کے بعد اب نیب نے مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کے خلاف شکنجہ سخت کردیا اور انکوائری شروع کردی ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق وزیرِ مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب پر اپنے دور میں اختیارات کے غلط استعمال اور پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا الزام ہے۔

شہباز شریف نے غیر ملکی دوروں پر قومی خزانہ سے ایک پیسہ خرچ نہیں کیا

لاہور: پنجاب حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے غیر ملکی دوروں پر قومی خزانہ سے ایک پیسہ خرچ نہیں کیا۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے غیر ملکی دوروں سے متعلق رپورٹ پنجاب اسمبلی میں پیش کردی گئی ہے۔ پنجاب حکومت نے اعتراف کیا کہ سابق وزیراعلی شہباز شریف نے غیر ملکی دوروں پر سرکاری پیسہ خرچ نہیں کیا بلکہ تمام اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے۔

تحریک انصاف کی رکن مسرت چیمہ نے صوبائی اسمبلی کے سوال جواب کے سیشن میں یہ تفصیلات پوچھی تھیں جس کے جواب میں یہ بات سامنے آئی۔ رپورٹ کے مطابق شہباز شریف نے پانچ سال میں 40 غیر ملکی دورے کیے جن کے اخراجات انہوں نے خود برداشت کیے، تاہم ان کے ساتھ جانے والے سرکاری افسروں کے اخراجات قومی خزانے سے ادا کیے گئے۔

تم لوگ اپنی حدود سے باہر نکل رہے ہو، چیف جسٹس کی ڈی جی نیب کی سرزنش

کراچی: چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ڈی جی نیب کراچی کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا ہے کہ تم لوگ اپنی حدود سے باہر نکل رہے ہو، لوگوں کو بلا کر ذلیل کرتے ہو۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سینئر وکیل سلمان حامد کو نیب کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹس کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ڈی جی نیب کراچی نصیر اعوان کی سخت سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ شرم نہیں آتی لوگوں کو تنگ کرتے ہو؟ تم لوگ اپنی حدود سے باہر نکل رہے ہو آج ڈانٹ سن کر نظریں جھک گئیں مگر شرم نہیں آتی۔

ڈی جی نیب نے عدالت کو بیان دیا کہ ایک کیس کے ملزم نے بیان دیا تھا کہ وکیل سلمان حامد نے اجازت کے بغیر کیس دائر کیا، جس پر نیب نے تفتیش کے لئے وکیل سلمان حامد کو نوٹس جاری کیا۔

چیف جسٹس نے ایک بار پھر سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی پیشہ وارانہ کام کرے تو اسے نوٹس جاری کرتے ہو؟ لوگوں کے ذاتی جھگڑے میں تمہارا کیا کام ؟  لوگوں کو بلا کر ذلیل کرتے ہو کیا اللہ نے تمہیں اس کام کے لئے مقرر کیا ہے؟ لوگوں کو بلا کر پگڑیاں اچھالتے ہو کیا تفتیش کا یہی طریقہ ہے؟ افراد کو بلا کر تھانہ دکھاتے ہو اور6 ماہ تک سپریم کورٹ کو بھی پتا نہیں چلتا بندہ کہاں گیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ڈی جی نیب تمہیں پہلے بھی خبردار کیا تھا یہ سب چھوڑ دو، سلمان حامد کو تفتیش کے لیے صرف سوالنامہ بھجوایا جاسکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے نیب کو سلمان حامد کو طلب کرنے سے روک دیا۔

قبل ازیں سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے باہر وکلاء نے سابق جج اور سینئر وکیل سلمان حامد سے انکوائری پر نیب کے خلاف شدید نعرے بازی کی، وکلاء نے چیف جسٹس سے ملاقات کرنے کی درخواست کی جس پر چیف جسٹس نے  احتجاجی وکلا کو کورٹ روم نمبر 1 میں بلا لیا۔

وکلا نے چیف جسٹس کو بتایا کہ وکیل سلمان حامد نے اپنے پیشہ وارانہ طریقے سے کیس دائر کیا جس پر نیب نے جسٹس (ر) سلمان حامد کے خلاف سیکشن 19 کے تحت نوٹس جاری کیا، جو سراسر ناانصافی ہے۔ چیف جسٹس نے وکلا سے کہا کہ آپ عدالت میں آئیں، تحمل سے سب کی بات سنی جائے گی، اور نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی نیب کراچی نصیر اعوان اور سینئر وکیل سلمان حامد کو بھی پیش ہونے کا حکم دیا۔

حمزہ شہباز کو قطر جانے سے روک دیا گیا، پاسپورٹ ضبط

 لاہور: ایف آئی اے نے حمزہ شہباز کو قطر جانے سے روکتے ہوئے ان کا پاسپورٹ بھی تحویل میں لے لیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو قطر ایئرلائن کی پرواز کے ذریعے دوحہ جانے سے روک دیا گیا۔ وہ قطر سے لندن جانا چاہتے تھے اور ایف آئی اے امیگریشن نے ان کا پاسپورٹ بھی ضبط کرلیا ہے۔

ایف آئی اے زرائع کے مطابق حمزہ شہباز کا نام ای سی ایل میں شامل ہونے کی وجہ سے انہیں روکا گیا۔ وہ قطر ایئر لائن کی پرواز کیو آر 621 کے ذریعے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے دوحہ جارہے تھے جہاں سے انہوں نے لندن روانہ ہونا تھا۔

ان کے ساتھ دو افراد بھی تھے اور حمزہ شہباز شریف کو آف لوڈ کیے جانے کے بعد وہ بھی روانہ نہیں ہوئے۔ ایف آئی اے زرائع کے مطابق حمزہ شہباز کا پاسپورٹ قانونی کارروائی کرنے کے بعد واپس دے دیا جائے گا۔

مسکرانا کیسا ہم تو کھل کر رو بھی نہیں سکتے، نواز شریف

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف کا اپنی خاموشی پر کہنا ہے کہ اب مسکرانا کیسا ہم تو کھل کر رو بھی نہیں سکتے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف جو جلسوں میں سیاسی مخالفین پر گرجتے اور برستے رہے تاہم مقدمات میں پھنسنے کے بعد انہیں چپ لگ گئی ہے، سابق وزیراعظم کی یہ خاموشی کسی سیاسی حکمت عملی کی وجہ سے ہے یا پھر وہ پریشان ہیں۔

سابق وزیراعظم کی خاموشی کی وجہ کو جاننے کے لیے احتساب عدالت کے باہر صحافی نے سوال کر ہی ڈالا جس پر نواز شریف نے انتہائی جذباتی سا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اب مسکرانا کیسا ہم تو کھل کر رو بھی نہیں سکتے۔

کراچی تجاوزات کیس؛ ہم نے گھر توڑنے کا حکم نہیں دیا، چیف جسٹس

کراچی: چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کراچی تجاوزات کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ ہم نے گھر توڑنے کا حکم نہیں دیا۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں تجاوزات کے خلاف آپریشن سے متعلق نظرثانی درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قانون پر عمل درآمد ہورہا ہے اور آپ کو اور وفاقی حکومت کو پریشانی لگ گئی ہے، آپ کو اندازہ نہیں میئر کراچی نے اپنا سیاسی مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے، ہمیں ہرحال میں قانون کی بالادستی چاہیے۔ ہم کراچی کو بہتر بنانا چاہتے ہیں مگر آپ لوگوں کی مصلحت آڑے آرہی ہے۔ ہمیں ہرحال میں قانون کی بالا دستی چاہیے۔ اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ ہم کراچی والے ہیں ہم بھی بہتری چاہتے ہیں۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ایڈوکیٹ جنرل سندھ سے مکالمہ کے دوران ریمارکس دیئے کہ کراچی میں بڑے مسائل ہیں، سرکاری مکانوں پر لوگوں نے قبضہ کیا ہوا ہے، ہم نے خالی کرانے کا حکم دیا تو یہاں ہنگامہ شروع ہوگیا، گورنر صاحب نے کال کرکے کہا کہ یہاں امن و امان کی صورت حال خراب ہوگئی، کیا اس طرح غیر قانونی قابضین کو چھوڑدیں ؟، لوگ احتجاج شروع کردیں اور ہم ریاست کی رٹ ختم کردیں، کیا قبضہ مافیا کے سامنے سرجھکا دیں؟ کراچی کو اسی طرح چھوڑدیں ؟، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہم کارروائی روک دیں گے تو اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ متاثرین کی بحالی اور متبادل جگہ کا انتظام حکومت خود کرے،ایڈوکیٹ جنرل نے استدعا کی کہ چار ہفتے کا وقت دے دیں مسئلے کا حل نکالیں گے۔

میئر کراچی نے کہا کہ ہم عمل درآمد کررہے ہیں بس گھروں کو نہ توڑا جائے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے گھروں کو توڑنے کا حکم تو نہیں دیا، آپ خود کررہے ہیں تو ہمارا مسئلہ نہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہم نے دیکھا تھا نالے پر عمارت بنی ہوئی ہے، اس کا کیا ہوا؟، ڈی جی ایس بی سی اے نے کہا کہ نہرِ خیام پر ایک عمارت بنی ہوئی ہے، میئر کراچی نے عدالت کو بتایا کہ باغ ابنِ قاسم میں ایک عمارت ہے، وہاں مسلح لوگ بیٹھے ہیں اور شاید معاملہ ہائی کورٹ میں ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میئر صاحب آپ کو کسی نے نہیں روکا کام جاری رکھیں، کون ہے قبضہ کرنے والا بتائیں ، ابھی ہائی کورٹ سے فائل منگواتے ہیں، اچھی طرح سن لیں غیر قانونی عمارت اور قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔

عدالت میں ایڈوکیٹ جنرل اور میئر کراچی کے درمیان اس وقت سخت جملوں کا تبادلہ ہوا جب ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ میئر کراچی کو فٹ پاتھوں اور پارکوں کا ٹاسک ملا ہے لیکن دکانوں سے کہیں آگے جا چکے ہیں۔ پہلے متبادل کا سوچنا ہوگا دو ہفتے میں منصوبہ بنالیں گے، آپ مئیر کراچی کو 4 ہفتوں کے لیے آپریشن سے روکیں۔ جس پر وسیم اختر نے کہا کہ میں خود مانیٹر کررہا ہوں کوئی ایک مکان بتا دیں جو توڑا گیا ہو۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم کیوں روکیں، آپ مل کر بیٹھیں اور خود طے کریں، میئر کہہ رہے ہیں انہوں نے کوئی گھر نہیں توڑا، وہ چھجے اور غیرقانونی دکانیں توڑ رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے وفاقی و صوبائی حکومت اور مئیر کراچی کو مل بیٹھ کر جائزہ لینے کا حکم دے دیا، انہوں نے ریمارکس دیئے کہ کل صبح ہم تھر جا رہے ہیں، ہم رات یہیں بیٹھے ہیں، آج رات12 بجے یہاں آجائیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ یہ کارروائی جاری رہنی چاہیے، اگر تسلسل ٹوٹ گیا تو پھر کام ہونا مشکل ہے، تینوں حکام ٹھنڈے دل سے فیصلہ کرکے آئیں۔

عدالت میں ’اویس ٹپی‘ کی گونج

دوران سماعت ایک شہری نے پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر اویس مظفر ٹپی کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو بتایا کہ شاہ لطیف ٹاؤن میں بڑے پیمانے پر ناجائز قبضہ ہے، بیوائیں روتی ہیں، اور یہ قبضے اویس مظفر ٹپی نے کرائے ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کون ہے یہ ٹپی ؟ کہاں ہے یہ ٹپی؟ اسے کل پیش کیا جائے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایڈوکیٹ جنرل صاحب کی حکومت یا کسی وزیر نے کہیں قبضہ کیا ہوا ہے تو فوری خالی کریں، میئر صاحب آپ بھی کان کھول کرسن لیں دو دن میں کسی رہنما یا کسی نے قبضہ کیا ہے تو خالی کردے، آپ صفائی گھر سے شروع کریں اور لوگوں کیلئے مثال بنائیں، کسی کے قبضے کی نشاندہی ہوگئی تو ہم نہیں چھوڑیں گے۔

مسلم لیگ (ن) شہباز شریف کو پی اے سی چیئرمین بنانے کے موقف پر قائم

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے بجائے کسی اور رہنما کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کا چیئرمین بنانے کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے چئیرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی کے نام سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ’10 سال سے روایت ہے کہ چیئرمین پی اے سی اپوزیشن لیڈر ہی بنتا ہے، اس روایت کا احترام مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) نے کیا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘چیئرمین پی اے سی کے لیے مسلم لیگ (ن) کا اصولی موقف ہے اور شہباز شریف کے نام پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا’،۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ ‘حکومت نے پنجاب اور خیبر پختونخوا (کے پی) میں اپنے چیئرمین پی اے سی بنا کر اپنی بدنیتی ظاہر کردی ہے’۔

احسن اقبال نے کہا کہ ‘صاف ظاہر ہے کہ حکومت احتساب کے عمل سے راہ فرار اختیار کرنا چاہتی ہے، حکومت اپوزشن کا تو احتساب چاہتی ہے مگر اپنا احتساب کرنا نہیں چاہتی’ ۔

خیال رہے کہ ڈان اخبار کی ایک رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت پی اے سی کی چیئرمین شپ کے لیے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، خواجہ آصف اور پرویز ملک کے ناموں پر غور کررہی ہے۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر ایوان کی کمیٹیوں کے قیام کے معاملے اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ پر اپوزیشن سے جاری ڈیڈلاک کو توڑنے کی حکمت عملی سے متعلق نے وزیر اعظم عمران خان سمیت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات کی تھی۔

اسپیکر نے امید ظاہر کی تھی کہ پارلیمنٹ کی کمیٹیاں قومی اسمبلی کے 10 دسمبر کو ہونے والے اجلاس کے دوران قائم کردی جائے گی۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے پبلک اکاؤئنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ شہباز شریف کو نہ دینے سے قطعی انکار کرتے ہوئے سینئر صحافیوں کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اپوزیشن نے اپنے فیصلے پر غور نہیں کیا تو ہم ایوان کی کمیٹیاں تشکیل دے دیں گے۔

سینئر صحافیوں کو اپنے انٹرویو میں وزیر اعظم نے کہا تھا اگر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی صدارت کرپشن کیسز میں گرفتار شخص کو دیں گے تو دنیا، پاکستان پر ہنسے گی۔

اپوزیشن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘وہ شہباز شریف کو چیئرمین بنانا چاہتے ہیں وہ نیب کی جیل میں ہیں ان پر 56 کمپنیوں کا کیس ہے، اب کیا ہم اپنی جمہوریت کا مذاق نہیں اڑانے لگے کہ ایک آدمی جیل سے آکر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنے گا، کیا یہ دنیا میں پاکستان اور ہماری جمہوریت کا مذاق نہیں اڑایا جائے گا، ہم کہہ رہے ہیں کسی اور کو بنادیں کیونکہ ایک صاف آدمی احتساب کرسکتا ہے’۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے دوسری کمیٹیوں کا بھی بائیکاٹ کیا ہوا ہے اب ہم فیصلہ کر رہے ہیں ہم اپنی کمیٹیاں بنا دیں گے اگر وہ نہیں آئیں گے تو ہم نے بنا دینا ہے’۔

Google Analytics Alternative