قومی

مویشی منڈی جانے سے قبل کیا احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں؟

کراچی: محکمہ صحت سندھ نے کانگو وائرس سے بچاؤ کے لیے الرٹ جاری کردیا۔

محکمہ صحت کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہےکہ عوام الناس مویشی منڈی جانے سے قبل احتیاطی تدابیر اختیار کریں، کانگو وائرس جان لیوا مرض ہے جس سے بچاؤ انتہائی آسان ہے۔

ایڈوائزری میں ہدایت کی گئی ہے کہ مویشی منڈی میں ہلکے رنگ اور کھلے کپڑے پہن کر جائیں، منڈی جانےکے لیے جسم کو مکمل طور پر ڈھانپ کر رکھیں۔

فوٹو: آن لائن

ایڈوائزری میں بتایا گیا ہےکہ کانگو وائس رس کی چھچڑ جانور کی کھال پر موجود ہوتی ہے، عوام جانور کو ہاتھ لگانے سے قبل دستانے ضرور استعمال کریں، کانگو کامرض ایک انسان سے دوسرے میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

فوٹو: آن لائن

ماہرین کے مطابق پیٹ میں درد، تیز بخار اور جسم میں درد کانگو کی علامات ہیں، ہڈیوں میں درد اور جسم کے کسی بھی حصے سے خون آنا بھی کانگو کی علامات ہیں۔

ذوالحجہ کا چاند نظر آگیا، عید الاضحیٰ 22 اگست کو ہوگی

کراچی: ذوالحجہ کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کراچی میں شروع ہوگیا۔

چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان محکمہ موسمیات کے دفتر میں اجلاس کی صدارت کررہے ہیں۔

محکمہ موسمیات نے امکان ظاہر کیا ہے کہ پاکستان میں ذوالحجہ کا چاند آج نظر آسکتا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق ذوالحجہ کا چاند گزشتہ رات 2 بج کر59 منٹ پر پیدا ہوا ، غروب آفتاب تک چاند کی عمر 28 گھنٹے 18منٹ ہوگی، چاند غروب آفتاب کے بعد 56 منٹ تک دیکھاجاسکے گا۔

ڈپٹی ڈائریکٹرمحکمہ موسمیات کے مطابق مطلع آبرآلود ہونے کے باعث اسلام آباد میں چاند دکھائی دینےکا امکان کم ہے، جنوبی پنجاب اور سندھ کے علاقوں میں چاند دکھائی دینے کا قوی امکان ہے۔

محکمہ موسمیات نے آج ملک کے بیشتر حصوں میں مطلع کبھی صاف اور کبھی جزوی طور پر ابر آلود رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔

چاند کی رویت کا حتمی اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی شہادتوں کا جائزہ لینے کے بعد کرے گی۔

اگر آج چاند نظر آگیا تو پاکستان میں عیدالاضحیٰ 22 اگست بروز بدھ ہوگی۔

عید الاضحیٰ ذوالحجہ کی 10 تاریخ کو منائی جاتی ہے، اس دن مسلمان حج بھی کرتے ہیں جبکہ سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے جانوروں کی قربانی کا فریضہ بھی سرانجام دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سعودی عرب میں ذو الحج کا چاند نظر آگیا تھا۔

حج کا رکن اعظم وقوف عرفات پیر 20 اگست کو جبکہ سعودی عرب میں عید الاضحیٰ منگل 21 اگست کو ہوگی۔

سعودی عرب نے پہلے ہی عید الاضحیٰ کے لیے 11 روزہ سرکاری تعطیلات کا اعلان کردیا ہے۔

عمران خان کی تقریب حلف برداری میں شہبازشریف،بلاول بھٹو کو مدعو کرنےکا فیصلہ

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ترجمان فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ عمران خان کی حلف برداری کی تقریب میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت پارلیمانی رہنماؤں کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ‘قانون کے مطابق عمران خان کو جیتی گئیں پانچ میں سے چار نشستیں چھوڑنی ہوں گی، لہٰذا انہوں نے میانوالی کی آبائی نشست رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔’

انہوں نے کہا کہ ‘جمہوریت کا سب سے اہم ادارہ پارلیمنٹ ہے جسے مضبوط بنانے کے لیے اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے، عمران خان اپنے پالیسی بیان میں پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اپوزیشن کے مطالبات پر غور و فکر کیا جائے گا۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کے لیے تین نام شارٹ لسٹ کر لیے گئے ہیں جن میں سے ایک نام اتوار کی صبح تک فائنل کر لیا جائے گا، خیبر پختونخوا کے گورنر کے لیے ابھی باضابطہ نامزدگی نہیں کی گئی ہے، جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے بھی آئندہ چوبیس سے 48 گھنٹے میں ایک نام فائنل کر لیا جائے گا۔’

مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری: تحریک انصاف 158 اراکین کے ساتھ سب سے آگے

الیکشن کمیشن نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کے ساتھ پارٹی پوزیشن جاری کر دی ہے جس کے تحت تحریک انصاف 158 اراکین کے ساتھ سب سے آگے نکل گئی ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق تحریک انصاف نے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی 116 جنرل نشستیں جیتیں اور 9 آزادا اراکین پی ٹی آئی میں شامل ہوئے جس کے بعد ان کی تعداد 125 ہو گئی۔

پاکستان مسلم لیگ ن نے انتخابات میں قومی اسمبلی کی 64 نشستیں جیتیں اور کوئی بھی آزاد رکن ان کے ساتھ شامل نہیں ہوا۔

متحدہ مجلس عمل نے 12 نشستیں جیتیں اور کوئی بھی آزاد رکن ان کے ساتھ شامل نہیں ہوا۔

ایم کیو ایم پاکستان نے قومی اسمبلی کی 6 نشستیں جیتیں اور کوئی بھی آزاد رکن ان کے ساتھ شامل نہیں ہوا۔

پاکستان مسلم لیگ (ق) اور بلوچستان عوامی پارٹی نے قومی اسمبلی کی 4، 4 نشستیں جیتیں اور کوئی بھی آزاد رکن دونوں جماعتوں کے ساتھ شامل نہیں ہوا۔

بلوچستان نیشنل پارٹی قومی اسمبلی کی تین نشستیں حاصل کر سکی اور کوئی بھی آزاد رکن ان کے ساتھ شامل نہیں ہوا۔

گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس نے قومی اسمبلی میں دو نشستیں جیتیں اور کوئی بھی آزاد رکن ان کے ساتھ شامل نہیں ہوا۔

عوامی نیشنل پارٹی، عوامی مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی نے بھی قومی اسمبلی کی ایک ایک نشست جیتی۔

قومی اسمبلی کی 13 نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب قرار پائے جن میں سے 9 نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور 4 نے اپنی آزاد حیثیت کو برقرار رکھا جب کہ تین نشستوں پر انتخابات ملتوی ہوئے یا ان کے نتائج رکے ہوئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق تحریک انصاف کو 5 اقلیتی اور خواتین کی 28 نشستیں ملیں اس طرح ان کا مجموعی نمبر 158 تک پہنچ گیا ہے۔

مسلم لیگ ن کو مخصوص اقلیتی دو اور خواتین کی 16 نشسیتیں ملیں جس کے بعد ان کی تعداد 82 ہو گئی ہے۔

پیپلز پارٹی نے 42 نشستوں پر کامیابی حاصل کی، اس طرح انہیں دو اقلیتی اور 9 خواتین کی مخصوص نشستیں ملیں جس کے بعد ان کا نمبر 53 تک پہنچ گیا ہے۔

ایم ایم اے ایک اقلیتی اور دو خواتین کی نشستوں کے ساتھ 15 کے نمبر پر پہنچ گئی ہے جب کہ خواتین کی ایک نشست ملنے کے بعد قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ق کے اراکین کی تعداد 5 ہو گئی ہے۔

خواتین کی ایک نشست ملنے کے بعد قومی اسمبلی میں جی ڈی اے کے اراکین کی تعداد 3 ہو گئی ہے جب کہ خواتین کی ایک نشست ملنے کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی کا نمبر 5 ہو گیا ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کو بھی خواتین کی ایک نشست ملی ہے جس کے بعد ان کے اراکین کی تعداد 7 ہو گئی ہے جب کہ بلوچستان نیشنل پارٹی نے بھی خواتین کی ایک نشست جیتی جس کے بعد قومی اسمبلی میں ان کے اراکین کی تعداد 4 ہو گئی ہے۔

پی ٹی آئی کا عمران اسماعیل کو گورنر سندھ بنانے کا فیصلہ

اسلام آباد: چیئرمین تحریک انصاف  عمران خان  نے کراچی سے پارٹی کے سینئر رہنما عمران اسماعیل کو گورنرسندھ بنانے کی منظوری دے دی۔

پی ٹی آئی نے عمران اسماعیل کوصوبہ سندھ کا گورنر بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس کی باقاعدہ منظوری چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے دے دی ہے۔

بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نامزد گورنرسندھ عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ اعتماد کرنے پرعمران خان اور پارٹی کا شکر گزار ہوں، کوشش ہوگی سندھ کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلوں، حریف جماعتوں سے کہتا ہوں آپ ایک قدم آگے بڑھائیں ہم دس قدم بڑھائیں گے جب کہ اسپیکر، وزیراعلیٰ سمیت سندھ اسمبلی کے تمام عہدوں کے چناؤ پر مقابلہ کریں گے۔

یاد رہے کہ 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں عمران اسماعیل ڈیفنس کی نشست سے رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے تھے تاہم اب گورنر سندھ بننے کی صورت میں انہیں یہ نشست چھوڑنی پڑے گی۔

عمران اسماعیل 1966میں کراچی میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم کنٹونمنٹ پبلک اسکول سے حاصل کی ، جس کے بعد انہوں نے گورنمنٹ نیشنل کالج سے گریجویشن کیا۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف اس سے قبل گورنر پنجاب کے لیے چوہدری سرور کے نام کی بھی منظوری دے چکی ہے۔

سندھ اسمبلی: ایم کیو ایم نے اپوزیشن لیڈر کیلئے حلیم عادل کی حمایت کا اعلان کردیا

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کیلئے تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ کی حمایت کا اعلان کردیا۔

حلیم عادل شیخ کی قیادت میں پی ٹی آئی کا وفد ایم کیوایم کے مرکز بہادرآباد آیا اور ایم کیو ایم کی قیادت سے ملاقات کی۔

ذرائع کے مطابق حلیم عادل شیخ نے بطور اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی نامزدگی پر ایم کیو ایم سے حمایت مانگی۔

ملاقات کے بعد ایم کیو ایم رہنماؤں نے حلیم عادل شیخ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ اسمبلی میں اپوزیش لیڈرکے لیے حلیم عادل شیخ کی حمایت کا اعلان کیا۔

اس سے قبل سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کیلئے پی ٹی آئی کے رہنما فردوس شمیم کا نام سامنے آیا تھا تاہم ایم کیو ایم نے ان کی حمایت سے انکار کردیا تھا۔ فردوس شمیم نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وفاق میں حکومت سازی کیلئے ایم کیو ایم سے مجبوری میں اتحاد کیا۔

فردوس شمیم کے اس بیان پر رہنما ایم کیو ایم فیصل سبزواری نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی اپنی مجبوری بتائے جس کے بعد پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے فردوس شمیم کی سرزنش کی تھی۔

خیال رہے کہ قائم مقام گورنر سندھ آغا سراج درانی 13 اگست کو صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلا چکے ہیں جس میں نو منتخب اراکین حلف اٹھائیں گے۔

سندھ میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت پیپلز پارٹی نے وزیراعلیٰ کے عہدے کیلئے مراد علی شاہ اور اسپیکر سندھ اسمبلی کیلئے آغا سراج درانی کو دوبارہ نامزد کردیا ہے جبکہ وفاق میں اکثریت حاصل کرنے والی پی ٹی آئی نے عمران اسماعیل کو گورنر سندھ نامزد کیا ہے۔

مراد علی شاہ وزیراعلیٰ، آغا سراج اسپیکر سندھ اسمبلی باضابطہ طور پر نامزد ویب ڈیسک ہفتہ 11 اگست 2018

کراچی: چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مراد علی شاہ کو وزیراعلیٰ سندھ جب کہ آغا سراج درانی کو صوبائی اسمبلی کا اسپیکر نامزد کردیا ہے۔

بلاول ہاؤس کراچی میں چیئرمین پی پی پی کی زیرِصدارت پیپلزپارٹی سندھ کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا۔ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے مراد علی شاہ کو وزیراعلیٰ سندھ نامزد کیا گیا ہے جب کہ صوبائی اسمبلی کے  اسپیکر کے لئے آغا سراج درانی اور ڈپٹی اسپیکر کے لئے ریحانہ لغاری کا نام دیا ہے۔ مراد علی شاہ 18 اگست کو وزیر اعلی سندھ کا حلف اٹھائیں گے۔

آغا سراج درانی تاحال اسپیکر سندھ اسمبلی ہیں اور ان کے پاس قائم مقام گورنر کا چارج بھی ہے۔ ضلع ٹھٹھہ سے تعلق رکھنے والی ریحانہ لغاری پیپلزپارٹی کی ٹکٹ پر خواتین کی مخصوص نشستوں پر منتخب ہوئی ہیں اور پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں۔

ہم 14 اگست منائیں گے، مولانا فضل الرحمٰن نے درست کہا، عبدالغفور حیدری

جمعیت علما اسلام (جے یو آئی ف) کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے یوم آزادی کے حوالے سے مولانا فضل الرحمٰن کے بیان پر ہونے والی تنقید کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایک ادارہ حدود سے نکل کر سیاست کرے گا تو پھر ایسا کہا جائے گا۔

سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے 14 اگست کے حوالے سے غلط بات نہیں کی اور یوم آزادی منانے سے منع نہیں کیا بلکہ جو کچھ کہا درست ہی کہا ہے اور ہم 14 اگست منائیں گے۔

انتخابات میں دھاندلی کی بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ چیف جسٹس کو انتخابات سے متعلق معاملے کا بھی نوٹس لینا چاہیے تھا کیونکہ دھاندلی ہوئی ہے۔

مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ اس عمل میں ایف سی، رینجرز اور الیکشن کمیشن ملوث تھا اور ہمیں ہروا کر آپ نے ملک کا نقصان کیا۔

انھوں نے کہا کہ ہم سیاسی لوگ ہیں، ہم نے مشرف کا مقابلہ کیا اور آج پرویز مشرف ملک واپس نہیں آرہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن پر تنقید ہو رہی ہے کہ انہوں نے فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس طرح نہ کریں، مولانا نے بالکل درست کہا ہے کیونکہ ادارے ہر لحاظ سے قابل احترام ہیں اور ہم آرمی کا جتنا احترام کرتے ہیں شاید ہی کوئی کرتا ہو۔

انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم کسی شخص یا ادارے کے مخالف نہیں لیکن اگر یہ ادارہ ایک جماعت کو جتوا رہا ہے تو اس ادارے نے خود اختیارات سے تجاوز کیا ہے، اگر ادارے حدود سے نکل کر سیاست کریں گے تو پھر ایسا کہا جائے گا۔

مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ ماضی میں ہونے والے الیکشن بھی دیکھے ہیں، ماضی میں ادارہ یا اسٹیبلشمیںٹ ایسے کھل کے سامنے آکر تعاون نہیں کرتی تھی اور اس طرح کھل کسی جماعت کو تعاون کا عمل پہلے نہیں دیکھا۔

انھوں نے کہا کہ الیکشن کے روز 4 بجے کے قریب ووٹرز کے نہ آنے کا بہانہ بنا کر پولنگ ایجنٹس کو اسٹیشن سے باہر جانے کا کہہ دیا گیا، ایف سی براہ راست الیکشن کے اس عمل میں شامل تھی اورایف سی والے ہاتھ پکڑ کر مہر لگانے کا کہہ رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ من پسند شخصیات کو جتوانے کا کام ایف سے کے ذمہ لگایا گیا تھا۔

انتخابات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بھی سندھ میں تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ دیگرتمام جماعتوں نے مل کر انتخابات کو مسترد کیا ہے تو ایسی صورت حال میں اس الیکشن کی بنیاد پر بننے والی حکومت کی کیا پوزیشن ہوگی۔

خیال رہے کہ دو روز قبل اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے سامنے الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے خلاف اپوزیشن اتحاد کے احتجاج کے دوران مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ ہم 14 اگست کو یوم آزادی کے بجائے یوم جدوجہد منائیں گے جس پر چند حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تھی۔

Google Analytics Alternative